ٹیگ کے محفوظات: قہقہے

پاؤں ہیں بے چین لیکن راستے ممنوع ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 370
جنگلوں میں جگنوں کے قافلے ممنوع ہیں
پاؤں ہیں بے چین لیکن راستے ممنوع ہیں
صرف پروانے کو جلنے کی اجازت بزم میں
رونے پر پابندیاں ہیں ، قہقہے ممنوع ہیں
دشت کی تپتی زمیں پرمعجزہ کوئی کریں
ننگے پاؤں چلنا ہے اور آبلے ممنوع ہیں
بام پر اب دل جلائیں اورمژہ پر دھڑکنیں
روشنی بھی کرنی ہے اور قمقمے ممنوع ہیں
موج کومنصورہے چلنا ہوا کے ساتھ ساتھ
ساحلوں پرپانیوں کے بلبلے ممنوع ہیں
منصور آفاق

کیسے وہ پھر رہی ہے جدا مجھ سے بے سبب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 135
شاید وہ مانگتی ہے ملن کے نئے سبب
کیسے وہ پھر رہی ہے جدا مجھ سے بے سبب
کچھ اس کے کار ہائے نمایاں بھی کم نہیں
دل نے بھی کچھ بگاڑے ہیں بنتے ہوئے سبب
روشن ہے میرے صحن میں امید کا درخت
پچھلی گلی میں جلتے ہوئے بلب کے سبب
دیکھی کبھی نہیں تھیں یہ گلیاں بہار کی
جب چل پڑا تو راہ میں بنتے گئے سبب
کیا کیا نکالتی ہو بہانے لڑائی کے
آنسو کبھی سبب تو کبھی قہقہے سبب
منصور اتفاق سے ملتی ہیں منزلیں
بے رہروی کبھی تو کبھی راستے سبب
منصور آفاق