ٹیگ کے محفوظات: ریت

وہ رات گئی، وہ بات گئی، وہ ریت گئی، رت بیت گئی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 68
کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی، رت بیت گئی
وہ رات گئی، وہ بات گئی، وہ ریت گئی، رت بیت گئی
اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول، آنکھوں کے دیے
اک گونجتی آندھی وقت کی بازی جیت گئی، رت بیت گئی
تم آ گئے میری باہوں میں، کونین کی پینگیں جھول گئیں
تم بھول گئے، جینے کی جگت سے ریت گئی، رت بیت گئی
پھر تیر کے میرے اشکوں میں گل پوش زمانے لوٹ چلے
پھر چھیڑ کے دل میں ٹیسوں کے سنگیت گئی، رت بیت گئی
اک دھیان کے پاؤں ڈول گئے، اک سوچ نے بڑھ کر تھام لیا
اک آس ہنسی، اک یاد سنا کر گیت گئی، رت بیت گئی
یہ لالہ و گل، کیا پوچھتے ہو، سب لطفِ نظر کا قصہ ہے
رت بیت گئی، جب دل سے کسی کی پیت گئی، رت بیت گئی
مجید امجد

دل کی صورت چپ ہیں کھیت

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 7
اب کے آیا ایسا چیت
دل کی صورت چپ ہیں کھیت
پھیلا دریا کا دامن
اوپر پانی نیچے ریت
راہوں کے سناٹے میں
ڈوب گیا دل درد سمیت
اس موسم کا نام ہے کیا
دل میں ساون منہ پر چیت
نام کو آنچ نہیں باقیؔ
دل ہے یا ندی کی ریت
باقی صدیقی