ٹیگ کے محفوظات: لخت

آخر کو رُسوائی اُس کا رخت ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
جو بھی بہ زور و مکر ہے والیٔ تخت ہُوا
آخر کو رُسوائی اُس کا رخت ہُوا
اِک آمر ایسا بھی ہمِیں نے دیکھا جو
خبطِ مسیحائی کے سبب صد لخت ہُوا
مجبوروں نے جبر سہا تو جابر کا
ہوتے ہوتے اور رویّہ سخت ہُوا
ہم ٹھہرے مُحتاج تو برق و رعد ایسا
موسم کا لہجہ کُچھ اور کرخت ہُوا
خود ہی نکلے ہر مشکل ہر علّت سے
ماجد ہم سوں کا شافی کب بخت ہُوا
ماجد صدیقی

مرا سرِیر زمانے میں جب دو لخت نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 74
سیاہ زیرِ فلک اِس قدر بھی بخت نہ تھا
مرا سرِیر زمانے میں جب دو لخت نہ تھا
بہ اوجِ شاخ جُھلانے ہمیں بھی آتی تھی
وہ دن بھی تھے کہ روّیہ ہوا کا سخت نہ تھا
ہوئے شکار کسی کی حقیر خواہش کے
وگرنہ پاس کچھ ایسا گراں بھی رخت نہ تھا
یہ جانتا تھا فلک بھی کہ آشیاں کے سوا
چمن میں اپنے تصرّف میں کوئی تخت نہ تھا
اِسے یہ رنگ سلاخوں نے دے دیا ورنہ
چمن میں تو مرا لہجہ کبھی کرخت نہ تھا
گیا اجاڑ ہمیں اُس کا روٹھنا ماجدؔ
وہ شخص جو کہ بظاہر ہمارا بخت نہ تھا
ماجد صدیقی

ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 18
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا
ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی
فسانۂِ جگرِ لخت لخت ایسا تھا
ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے
چٹخ کے ٹوٹ گیا، دل کا سخت ایسا تھا
یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک
کوئی نہ سہہ سکے ، لہجہ کرخت ایسا تھا
کہاں کی سیس نہ کی توسنِ تخیّل پر
ہمیں تو یہ بھی سلیماں کے تخت ایسا تھا
ادھر سے گزرا تھا ملکِ سخن کا شہزادہ
کوئی نہ جان سکا ساز و رخت ایسا تھا
شکیب جلالی

ٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا

دیوان اول غزل 87
ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا
ٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا
سبزان تازہ رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی
اب دیکھیے تو واں نہیں سایہ درخت کا
جوں برگ ہاے لالہ پریشان ہو گیا
مذکور کیا ہے اب جگر لخت لخت کا
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انھیں
تھا کل تلک دماغ جنھیں تاج و تخت کا
خاک سیہ سے میں جو برابر ہوا ہوں میر
سایہ پڑا ہے مجھ پہ کسو تیرہ بخت کا
میر تقی میر