ٹیگ کے محفوظات: روزگار

دل درد سے ہمکنار بھی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
آنکھوں میں ترا دیار بھی ہے
دل درد سے ہمکنار بھی ہے
پت جھڑ کا سکوت ہے لبوں پر
ہمراہ مرے بہار بھی ہے
تو میری نظر میں اجنبی بھی
مِلنا ترا یادگار بھی ہے
مَیں تیرے لئے ہوں مانتا ہوں
مجھ کو غمِ روزگار بھی ہے
جیتا ہوں کہ جی رہا ہوں ماجدؔ
جینا ہے کہ ناگوار بھی ہے
ماجد صدیقی

کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 53
نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو
کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب
مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو
کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے
کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو
یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو
یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو
سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو
جو نہیں عدو تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو
احمد فراز

مجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 11
سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا
مجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کا
تھا کیا ہجوم بہرِ زیارت ہزار کا
گل ہو گیا چراغ ہمارے مزار کا
جور و جفا بھی غیر پر اے یارِ دل شکن
کچھ بھی خیال ہے دلِ امیدوار کا
کھلنے لگے ہیں از سرِ نو غنچہائے زخم
یہ فیض ہے صبا کے دمِ مشک بار کا
گر چاہتے ہو جامہ نہ ہو چاک ناصحو
منگوا دو پیرہن مجھے اس گل عذار کا
ہر کوچہ میں کھلی ہے جو دکانِ مے فروش
کیا فصل ہے شراب کی، موسم بہار کا؟
گھبرا کے اور غیر کے پہلو سے لگ گئے
دیکھا اثر یہ نالۂ بے اختیار کا
وہ آتے آتے غیر کے کہنے سے تھم گئے
اب کیا کروں علاج دلِ بے قرار کا
آزاد ہے عذابِ دو عالم سے شیفتہ
جو ہے اسیر سلسلۂ تاب دار کا!
مصطفٰی خان شیفتہ

اک عبث یہ شمار ہے اماں ہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 86
ایک ہی بار بار ہے اماں ہاں
اک عبث یہ شمار ہے اماں ہاں
ذرّہ ذرّہ ہے خود گریزانی
نظم ایک انتشار ہے اماں ہاں
ہو وہ یزداں کہ آدم و ابلیس
جو بھے خود شکار ہے اماں ہاں
وہ جو ہے جو کہیں نہیں اس کا
سب کے سینوں پہ بار ہے اماں ہاں
اپنی بے روزگارئ جاوید
اک عجب روزگار ہے اماں ہاں
شب خرابات میں تھا حشر بپا
کہ سخن ہرزہ کار ہے اماں ہاں
کیا کہوں فاصلے کے بارے میں
رہگزر ، رہگزر ہے اماں ہاں
بُھولے بُھولے سے ہیں وہ عارض و لب
یاد اب یادگار ہے اماں ہاں
جون ایلیا

یاد تھے یادگار تھے ہم تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 64
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یادگار تھے ہم تو
پردگی! ہم سے کیوں رکھا پردہ
تیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو
وقت کی دھوپ میں تمہارے لیے
شجرِ سایہ دار تھے ہم تو
اُڑتے جاتے ہیں دُھول کے مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو
ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو
شرم ہے اپنی بار باری کی
بے سبب بار بار تھے ہم تو
کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو
تم نے کیسے بُلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو
جانِ من جاں نثار تھے ہم تو
خود کو دورانِ حال میں اپنے
بے طرح ناگوار تھے ہم تو
تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد
نادرِ روزگار تھے ہم تو
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو
جون ایلیا

وضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایک

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 154
دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک
وضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایک
ہم سخن اور ہم زباں، حضرتِ قاسسم و طباں
ایک تپش@ کا جانشین، درد کی یادگار ایک
نقدِ سخن کے واسطے ایک عیارِ آگہی
شعر کے فن کے واسطے، مایۂ اعتبار ایک
ایک وفا و مہر میں تازگئِ بساطِ دہر
لطف و کرم کے باب میں زینتِ روزگار ایک
گُلکدۂ تلاش کو، ایک ہے رنگ، اک ہے بو
ریختہ کے قماش کو، پود ہے ایک، تار ایک
مملکتِ کمال میں ایک امیرِ نامور
عرصۂ قیل و قال میں، خسروِ نامدار ایک
گلشنِ اتّفاق میں ایک بہارِ بے خزاں
مے کدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک
زندۂ شوقِ شعر کو ایک چراغِ انجمن
کُشتۂ ذوقِ شعر کو شمعِ سرِ مزار ایک
دونوں کے دل حق آشنا، دونوں رسول (ص) پر فِدا
ایک مُحبِّ چار یار، عاشقِ ہشت و چار ایک
جانِ وفا پرست کو ایک شمیمِ نو بہار
فرقِ ستیزہ مست کو، ابرِ تگرگِ بار ایک
لایا ہے کہہ کے یہ غزل، شائبۂ رِیا سے دور
کر کے دل و زبان کو غالب خاکسار ایک
@نسخے میں اگرچہ ‘طپش’ ہے لیکن صحیح تپش ہی درست ہونا چاہئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 99
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا
اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میں
جاں دادۂ ہوائے سرِ رہگزار تھا
موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 63
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاا
اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست نا صح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
غم اگر چہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غم روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
یہ مسائل تصّوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے ،جو نہ بادہ خوار ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب

ایسی طرح روزگار دیکھیے کب تک رہے

دیوان ششم غزل 1910
چرخ پر اپنا مدار دیکھیے کب تک رہے
ایسی طرح روزگار دیکھیے کب تک رہے
سہرے کہاں تک پڑیں آنسوئوں کے چہرے پر
گریہ گلے ہی کا ہار دیکھیے کب تک رہے
ضعف سے آنکھیں مندیں کھل نہ گئیں پھر شتاب
غش یہ ہمیں اب کی بار دیکھیے کب تک رہے
لب پہ مرے آن کر بارہا پھر پھر گئی
جان کو یہ اضطرار دیکھیے کب تک رہے
اس سے تو عہد و قرار کچھ بھی نہیں درمیاں
دل ہے مرا بے قرار دیکھیے کب تک رہے
اس سرے سے اس سرے داغ ہی ہیں صدر میں
ان بھی گلوں کی بہار دیکھیے کب تک رہے
آنکھیں تو پتھرا گئیں تکتے ہوئے اس کی راہ
شام و سحر انتظار دیکھیے کب تک رہے
آنکھ ملاتا نہیں ان دنوں وہ شوخ ٹک
بے مزہ ہے ہم سے یار دیکھیے کب تک رہے
روے سخن سب کا ہے میری غزل کی طرف
شعر ہی میرا شعار دیکھیے کب تک رہے
گیسو و رخسار یار آنکھوں ہی میں پھرتے ہیں
میر یہ لیل و نہار دیکھیے کب تک رہے
میر تقی میر

تو کیا رہیں گے جیتے ہم اس روزگار میں

دیوان ششم غزل 1856
گر روزگار ہے یہی ہجران یار میں
تو کیا رہیں گے جیتے ہم اس روزگار میں
کچھ ڈر نہیں جو داغ جنوں ہو گئے سیاہ
ڈر دل کے اضطراب کا ہے اس بہار میں
کیا بیقرار دل کی تسلی کرے کوئی
کچھ بھی ثبات ہے ترے عہد و قرار میں
بیتاب دل نہ دفن ہو اے کاش میرے ساتھ
رہنے نہ دے گا لاش کوئی دن مزار میں
وہ سنگ دل نہ آیا بہت دیکھی اس کی راہ
پتھرا چلی ہیں آنکھیں مری انتظار میں
تھمتا نہیں ہے رونا علی الاتصال کا
کیا اختیار گریۂ بے اختیار میں
مربوط کیسے کیسے کہے ریختے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زباں اس دیار میں
تھی بزم شعر رات کو شاعر بہت تھے جمع
دو باتیں ہم نے ایسے نہ کیں چار چار میں
دنبالہ گردی قیس نے بہتیری کی ولے
آیا نظر نہ محمل لیلیٰ غبار میں
اب ذوق صید اس کو نہیں ورنہ پیش ازیں
اودھم تھا وحش و طیر سے اس کے شکار میں
منھ چاہیے جو کوئی کسو سے حساب لے
ناکس سے گفتگو نہیں روز شمار میں
گنتی کے لوگوں کی وہاں صف ہووے گی کھڑی
تو میر کس شمار میں ہے کس قطار میں
میر تقی میر

اس سے کیا جانوں کیا قرار ہوا

دیوان ششم غزل 1804
دل جو ناگاہ بے قرار ہوا
اس سے کیا جانوں کیا قرار ہوا
شب کا پہنا جو دن تلک ہے مگر
ہار اس کے گلے کا ہار ہوا
گرد سر اس کے جو پھرا میں بہت
رفتہ رفتہ مجھے دوار ہوا
بستر خواب سے جو اس کے اٹھا
گل تر سوکھ سوکھ خار ہوا
مجھ سے لینے لگے ہیں عبرت لوگ
عاشقی میں یہ اعتبار ہوا
روز و شب روتے کڑھتے گذرے ہے
اب یہی اپنا روزگار ہوا
روؤں کیا اپنی سادگی کو میر
میں نے جانا کہ مجھ سے یار ہوا
میر تقی میر

گل کو دیکھا بھی نہ ہزار افسوس

دیوان پنجم غزل 1632
آنکھ کھلتے گئی بہار افسوس
گل کو دیکھا بھی نہ ہزار افسوس
جس کی خاطر ہوئے کنارہ گزیں
نہ ہوئے اس سے ہم کنار افسوس
نہ معرف نہ آشنا کوئی
ہم ہیں بے یار و بے دیار افسوس
بے قراری نے یوں ہی جی مارا
اس سے نے عہد نے قرار افسوس
خوں ہوئی دل ہی میں امید وصال
مر رہے جی کو مار مار افسوس
چارۂ اشتیاق کچھ نہ ہوا
وہ نہ ہم سے ہوا دوچار افسوس
اک ہی گردش میں اس کی آنکھوں کی
پھر گیا ہم سے روزگار افسوس
گور اپنی رہی گذرگہ میں
نہ ہوا یار کا گذار افسوس
منتظر ہی ہم اس کے میر گئے
یاں تک آیا کبھو نہ یار افسوس
میر تقی میر

دل وہی بے قرار ہے تا حال

دیوان چہارم غزل 1428
حال تو حال زار ہے تا حال
دل وہی بے قرار ہے تا حال
بڑھتی ہے حال کی خرابی روز
گرچہ کچھ روزگار ہے تا حال
خستہ جانی نے ننگ خلق کیا
پر اسے مجھ سے عار ہے تا حال
حال فکر سخن میں کچھ نہ رہا
شعر میرا شعار ہے تا حال
حال مستی جوانی تھی سو گئی
میر اس کا خمار ہے تا حال
آنکھیں بدحالی سے ٹھہرتیں نہیں
شوق دیدار یار ہے تا حال
غم سے حالانکہ خون دل سوکھا
چشم تر اشکبار ہے تا حال
میر تقی میر

منھ کرے ٹک ادھر بہار اے کاش

دیوان چہارم غزل 1403
نکلے پردے سے روے یار اے کاش
منھ کرے ٹک ادھر بہار اے کاش
کچھ وسیلہ نہیں جو اس سے ملوں
شعر ہو یار کا شعار اے کاش
کہیں اس بحر حسن سے بھر جائے
موج ساں میری بھی کنار اے کاش
برق ساں ہو چکوں تڑپ کر میں
یوں ہی آوے مجھے قرار اے کاش
اعتمادی نہیں ہے یاری غیر
یار سے ہم سے ہووے پیار اے کاش
آوے سررشتۂ جنوں کچھ ہاتھ
ہو گریبان تار تار اے کاش
میر جنگل تمام بس جاوے
بن پڑے ہم سے روزگار اے کاش
میر تقی میر

دل کا بیٹھا نہیں غبار ہنوز

دیوان چہارم غزل 1398
خاک ہوکر اڑیں ہیں یار ہنوز
دل کا بیٹھا نہیں غبار ہنوز
نہ جگر میں ہے خوں نہ دل میں خوں
درپئے خوں ہے روزگار ہنوز
دست بر دل ہوں مدتوں سے میر
دل ہے ویسا ہی بے قرار ہنوز
میر تقی میر

دل ہمارا ہے بے قرار عبث

دیوان چہارم غزل 1367
عہد اس کا غلط قرار عبث
دل ہمارا ہے بے قرار عبث
ہم گلا کاٹتے ہی تھے اپنا
تو گلے کا ہوا ہے ہار عبث
لوہو رونے نے سب نچوڑ لیا
اب پیے خون روزگار عبث
آہ وہ کس قدر ہے مستغنی
لوگ اس کے ہوئے شکار عبث
ہم تو آگے ہی مر رہے ہیں میر
تیغ کھینچے پھرے ہے یار عبث
میر تقی میر

مکر ہے عہد سب قرار فریب

دیوان چہارم غزل 1359
یار میرا بہت ہے یار فریب
مکر ہے عہد سب قرار فریب
راہ رکھتے ہیں اس کے دام سے صید
ہے بلا کوئی وہ شکار فریب
عہدے سے نکلیں کس طرح عاشق
ایک ادا اس کی ہے ہزار فریب
التفات زمانہ پر مت جا
میر دیتا ہے روزگار فریب
میر تقی میر

چشم پرخوں فگار کے سے رنگ

دیوان سوم غزل 1162
چاک دل ہے انار کے سے رنگ
چشم پرخوں فگار کے سے رنگ
کام میں ہے ہواے گل کی موج
تیغ خوں ریز یار کے سے رنگ
تاب ہی میں رہے ہے اس کی زلف
افعی پیچ دار کے سے رنگ
کیا جو افسردگی کے ساتھ کھلا
دل گل بے بہار کے سے رنگ
برق ابر بہار نے بھی لیے
اب دل بے قرار کے سے رنگ
کنج نخچیرگہ میں ہیں مامون
ہم بھی لاغر شکار کے سے رنگ
عمر کا بھی سرنگ جاتا ہے
ابلق روزگار کے سے رنگ
برگ گل میں نہ دل کشی ہو گی
کف پاے نگار کے سے رنگ
اس بیاباں میں میر محو ہوئے
ناتواں اک غبار کے سے رنگ
میر تقی میر

ٹک سوچ بھی ہزار ہیں دشمن ہزار دوست

دیوان سوم غزل 1114
مانند مرغ دوست نہ کہہ بار بار دوست
ٹک سوچ بھی ہزار ہیں دشمن ہزار دوست
کھڑکے ہے پات بھی تو لگا بیٹھتا ہے چوٹ
رم خوردہ وہ غزال بہت ہے شکار دوست
سب کو ہے رشک مجھ میں جو تجھ میں ہے اختلاط
دشمن ہوئے ہیں دوستی سے تیری یار دوست
تجھ سے ہزار ان نے بنا کر دیے بگاڑ
مت جان سادگی سے کہ ہے روزگار دوست
یہ تو کچھ آگے دشمن جانی سے بھی چلا
میں جانتا تھا ہو گا دل بے قرار دوست
بیگانگی خلق جہاں جاے خوف ہے
سو دشمنوں میں کیا ہے جو نکلے بھی چار دوست
مجھ بے نوا کی یاد رہے میر یہ صدا
اس میکدے میں رہیو بہت ہوشیار دوست
میر تقی میر

کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار

دیوان دوم غزل 804
اے صبا گر شہر کے لوگوں میں ہو تیرا گذار
کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار
خاک دہلی سے جدا ہم کو کیا یک بارگی
آسماں کو تھی کدورت سو نکالا یوں غبار
منصب بلبل غزل خوانی تھا سو تو ہے اسیر
شاعری زاغ و زغن کا کیوں نہ ہووے اب شعار
طائر خوش زمزمہ کنج قفس میں ہے خموش
چہچہے چہیاں کریں ہیں صحن گلشن میں ہزار
برگ گل سے بھی کیا نہ ایک نے ٹک ہم کو یاد
نامہ و پیغام و پرسش بے مراتب درکنار
بے خلش کیونکر نہ ہو گرم سخن گلزار میں
میں قفس میں ہوں کہ میرا تھا دلوں میں خارخار
بلبل خوش لہجہ کے جائے پہ گو غوغائیاں
طرح غوغا کی چمن میں ڈالیں پر کیا اعتبار
طائران خوش لب و لہجہ نہیں رہتے چھپے
شور سے ان کے بھرے ہیں قریہ و شہر و دیار
شہر کے کیا ایک دو کوچوں میں تھی شہرت رہی
شہروں شہروں ملکوں ملکوں ہے انھوں کا اشتہار
کیا کہوں سوے چمن ہوتا جو میں سرگرم گشت
پھول گل جب کھلنے لگتے جوش زن ہوتی بہار
شور سن سن کر غزل خوانی کا میری ہم صفیر
غنچہ ہو آتے جو ہوتا آب و رنگ شاخسار
خوش نوائی کا جنھیں دعویٰ تھا رہ جاتے خموش
جن کو میں کرتا مخاطب ان کو ہوتا افتخار
بعضوں کو رشک قبول خاطر و لطف سخن
بعضوں کا سینہ فگار و بعضوں کا دل داغدار
ایکوں کے ہونٹوں کے اوپر آفریں استاد تھا
ایک کہتے تھے رسوخ دل ہے اپنا استوار
ربط کا دعویٰ تھا جن کو کہتے تھے مخلص ہیں ہم
جانتے ہیں ذات سامی ہی کو ہم سب خاکسار
نقل کرتے کیا یہ صحبت منعقد جب ہوتی بزم
بیٹھ کر کہتے تھے منھ پر میرے بعضے بعضے یار
بندگی ہے خدمت عالی میں ہم کو دیر سے
کر رکھی ہے جان اپنی ہم نے حضرت پر نثار
سو نہ خط ان کا نہ کوئی پرچہ پہنچا مجھ تلک
واہ وا ہے رابطہ رحمت ہے یہ اخلاص و پیار
رفتہ رفتہ ہو گئیں آنکھیں مری دونوں سفید
بسکہ نامے کا کیا یاروں کے میں نے انتظار
لکھتے گر دو حرف لطف آمیز بعد از چند روز
تو بھی ہوتا اس دل بے تاب و طاقت کو قرار
سو تو یک ننوشتہ کاغذ بھی نہ آیا میرے پاس
ان ہم آوازوں سے جن کا میں کیا ربط آشکار
خط کتابت سے یہ کہتے تھے نہ بھولیں گے تجھے
آویں گے گھر بار کی تیرے خبر کو بار بار
جب گیا میں یاد سے تب کس کا گھر کاہے کا پاس
آفریں صد آفریں اے مردمان روزگار
اب بیاباں در بیاباں ہے مرا شور و فغاں
گو چمن میں خوش کی تم نے میری جاے نالہ وار
ہے مثل مشہور یہ عمر سفر کوتاہ ہے
طالع برگشتہ بھی کرتے ہیں اب امداد کار
اک پر افشانی میں بھی ہے یہ وطن گلزار سا
سامعوں کی چھاتیاں نالوں سے ہوویں گی فگار
منھ پہ آویں گے سخن آلودئہ خون جگر
کیونکہ یاران زماں سے چاک ہے دل جوں انار
لب سے لے کر تا سخن ہیں خونچکاں شکوے بھرے
لیک ہے اظہار ہر ناکس سے اپنا ننگ و عار
چپ بھلی گو تلخ کامی کھینچنی اس میں پڑے
بیت بحثی طبع نازک پر ہے اپنی ناگوار
آج سے کچھ بے حسابی جور کن مردم نہیں
ان سے اہل دل سدا کھینچے ہیں رنج بے شمار
بس قلم رکھ ہاتھ سے جانے بھی دے یہ حرف میر
کاہ کے چاہے نہیں کہسار ہوتے بے وقار
کام کے جو لوگ صاحب فن ہیں سو محسود ہیں
بے تہی کرتے رہیں گے حاسدان نابکار
میر تقی میر

ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا

دیوان دوم غزل 747
ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا
ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا
خدا جانے ہمیں اس بے خودی نے کس طرف پھینکا
کہ مدت ہو گئی ہم کھینچتے ہیں انتظار اپنا
ذلیل اس کی گلی میں ہوں تو ہوں آزردگی کیسی
کہ رنجش اس جگہ ہووے جہاں ہو اعتبار اپنا
اگرچہ خاک اڑائی دیدئہ تر نے بیاباں کی
ولے نکلا نہ خاطر خواہ رونے سے غبار اپنا
کہا بد وضع لوگوں نے جو دیکھا رات کو ملتے
ہوا صحبت میں ان لڑکوں کی ضائع روزگار اپنا
کریں جو ترک عزلت واسطے مشہور ہونے کے
مگر شہروں میں کم ہے جیسے عنقا اشتہار اپنا
دل بے تاب و بے طاقت سے کچھ چلتا نہیں ورنہ
کھڑا بھی واں نہ جاکر ہوں اگر ہو اختیار اپنا
عجب ہم بے بصیرت ہیں کہاں کھولا ہے بار آکر
جہاں سے لوگ سب رخت سفر کرتے ہیں بار اپنا
نہ ہو یوں میکدہ مسجد سا پر واں ہوش جاتے ہیں
ہوا ہے دونوں جاگہ ایک دو باری گذار اپنا
سراپا آرزو ہم لوگ ہیں کاہے کو رندوں میں
رہے ہیں اب تلک جیتے ولے دل مار مار اپنا
گیا وہ بوجھ سب ہلکے ہوئے ہم میر آخر کو
مناسب تھا نہ جانا اس گلی میں بار بار اپنا
میر تقی میر

شاعری تو شعار ہے اپنا

دیوان دوم غزل 724
نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا
شاعری تو شعار ہے اپنا
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا
روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات
اب یہی روزگار ہے اپنا
دے کے دل ہم جو ہو گئے مجبور
اس میں کیا اختیار ہے اپنا
کچھ نہیں ہم مثال عنقا لیک
شہر شہر اشتہار ہے اپنا
جس کو تم آسمان کہتے ہو
سو دلوں کا غبار ہے اپنا
صرفہ آزار میر میں نہ کرو
خستہ اپنا ہے زار ہے اپنا
میر تقی میر

اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا

دیوان دوم غزل 698
پھرتا ہے زندگی کے لیے آہ خوار کیا
اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا
کیا جانیں ہم اسیر قفس زاد اے نسیم
گل کیسے باغ کہتے ہیں کس کو بہار کیا
آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید
پھر اور کوئی اس کا کرے انتظار کیا
سیکھی ہے طرح سینہ فگاری کی سب مری
لائے تھے ساتھ چاک دل ایسا انار کیا
سرکش کسو سے ایسی کدورت رکھے وہ شوخ
ہم اس کی خاک راہ ہیں ہم سے غبار کیا
نے وہ نگہ چبھی ہے نہ وے پلکیں گڑ گئیں
کیا جانیے کہ دل کو ہے یہ خار خار کیا
لیتا ہے ابر اب تئیں اس ناحیے سے آب
روئے ہیں ہم بھی برسوں تئیں زار زار کیا
عاشق کے دل سے رکھ نہ تسلی کی چشم داشت
ہے برق پارہ یہ اسے آوے قرار کیا
صحبت رہی بگڑتی ہی اس کینہ ور سے آہ
ہم جانتے نہیں ہیں کہ ہوتا ہے پیار کیا
مارا ہو ایک دو کو تو ہو مدعی کوئی
کشتوں کا اس کے روز جزا میں شمار کیا
مدت سے جرگہ جرگہ سرتیر ہیں غزال
کم ہو گیا ہے یاروں کا ذوق شکار کیا
پاتے ہیں اپنے حال میں مجبور سب کو ہم
کہنے کو اختیار ہے پر اختیار کیا
آخر زمانہ سازی سے کھویا نہ وقر میر
یہ اختیار تم نے کیا روزگار کیا
میر تقی میر

بیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی

دیوان اول غزل 465
آج کل بے قرار ہیں ہم بھی
بیٹھ جا چلنے ہار ہیں ہم بھی
آن میں کچھ ہیں آن میں کچھ ہیں
تحفۂ روزگار ہیں ہم بھی
منع گریہ نہ کر تو اے ناصح
اس میں بے اختیار ہیں ہم بھی
درپئے جان ہے قراول مرگ
کسو کے تو شکار ہیں ہم بھی
نالے کریو سمجھ کے اے بلبل
باغ میں یک کنار ہیں ہم بھی
مدعی کو شراب ہم کو زہر
عاقبت دوست دار ہیں ہم بھی
مضطرب گریہ ناک ہے یہ گل
برق ابر بہار ہیں ہم بھی
گر زخود رفتہ ہیں ترے نزدیک
اپنے تو یادگار ہیں ہم بھی
میر نام اک جواں سنا ہو گا
اسی عاشق کے یار ہیں ہم بھی
میر تقی میر

زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں

دیوان اول غزل 356
نہ کیونکے شیخ توکل کو اختیار کریں
زمانہ ہووے مساعد تو روزگار کریں
گیا وہ زمزمۂ صبح فصل گل بلبل
دعا نہ پہنچے چمن تک ہم اب ہزار کریں
تمام صید سر تیر جمع ہیں لیکن
نصیب اس کے کہ جس کو ترا شکار کریں
تسلی تو ہو دل بے قرار خوباں سے
یہ کاش ملنے نہ ملنے کا کچھ قرار کریں
ہمیں تو نزع میں شرمندہ آ کے ان نے کیا
رہا ہے ایک رمق جی سو کیا نثار کریں
رہی سہی بھی گئی عمر تیرے پیچھے یار
یہ کہہ کہ آہ ترا کب تک انتظار کریں
کریں ہیں حادثے ہر روز وار آخر تو
سنان آہ دل شب کے ہم بھی پار کریں
یہ قتل غیر ہے کیا کام ہم نشیناں آج
جو دشمنی نہ کرے وہ تو اس کو یار کریں
ہوا ہوں خاک رہ اس واسطے کہ خوباں میر
گذار گور پہ میری بھی ایک بار کریں
میر تقی میر

سرو و قمری شکار ہوتے ہیں

دیوان اول غزل 315
خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں
سرو و قمری شکار ہوتے ہیں
تیرے بالوں کے وصف میں میرے
شعر سب پیچ دار ہوتے ہیں
آئو یاد بتاں پہ بھول نہ جائو
یہ تغافل شعار ہوتے ہیں
دیکھ لیویں گے غیر کو تجھ پاس
صحبتوں میں بھی یار ہوتے ہیں
صدقے ہولیویں ایک دم تیرے
پھر تو تجھ پر نثار ہوتے ہیں
تو کرے ہے قرار ملنے کا
ہم ابھی بے قرار ہوتے ہیں
ہفت اقلیم ہر گلی ہے کہیں
دلی سے بھی دیار ہوتے ہیں
رفتہ رفتہ یہ طفل خوش ظاہر
فتنۂ روزگار ہوتے ہیں
اس کے نزدیک کچھ نہیں عزت
میرجی یوں ہی خوار ہوتے ہیں
میر تقی میر

آہ افسوس صد ہزار افسوس

دیوان اول غزل 238
مر گیا میں ملا نہ یار افسوس
آہ افسوس صد ہزار افسوس
ہم تو ملتے تھے جب اہا ہاہا
نہ رہا ووہیں روزگار افسوس
یوں گنواتا ہے دل کوئی مجھ کو
یہی آتا ہے بار بار افسوس
قتل کر تو ہمیں کرے گا خوشی
یہ توقع تھی تجھ سے یار افسوس
رخصت سیر باغ تک نہ ہوئی
یوں ہی جاتی رہی بہار افسوس
خوب بدعہد تو نہ مل لیکن
میرے تیرے تھا یہ قرار افسوس
خاک پر میر تیری ہوتا ولے
نہ ہوا اتنا اقتدار افسوس
میر تقی میر

سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب

دیوان اول غزل 174
رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب
سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب
مدت ہوئی کہ اب تو ہم سے جدا رکھے ہے
اس آفتاب رو کو یہ روزگار ہر شب
دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی
رہتی ہیں باز آنکھیں چندیں ہزار ہر شب
دھوکے ترے کسو دن میں جان دے رہوں گا
کرتا ہے ماہ میرے گھر سے گذار ہر شب
دل کی کدورت اپنی یک شب بیاں ہوئی تھی
رہتا ہے آسماں پر تب سے غبار ہر شب
کس کے لگا ہے تازہ تیر نگاہ اس کا
اک آہ میرے دل کے ہوتی ہے پار ہر شب
مجلس میں میں نے اپنا سوز جگر کہا تھا
روتی ہے شمع تب سے بے اختیار ہر شب
مایوس وصل اس کے کیا سادہ مردماں ہیں
گذرے ہے میر ان کو امیدوار ہر شب
میر تقی میر

ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا

دیوان اول غزل 44
گل و بلبل بہار میں دیکھا
ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا
جل گیا دل سفید ہیں آنکھیں
یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا
جیسا مضطر تھا زندگی میں دل
ووہیں میں نے قرار میں دیکھا
آبلے کا بھی ہونا دامن گیر
تیرے کوچے کے خار میں دیکھا
تیرہ عالم ہوا یہ روز سیاہ
اپنے دل کے غبار میں دیکھا
ذبح کر میں کہا تھا مرتا ہوں
دم نہیں مجھ شکار میں دیکھا
جن بلائوں کو میر سنتے تھے
ان کو اس روزگار میں دیکھا
میر تقی میر

تا بہ روح الامیں شکار ہوا

دیوان اول غزل 22
سنیو جب وہ کبھو سوار ہوا
تا بہ روح الامیں شکار ہوا
اس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ
ہم نے جانا کہ ہم سے یار ہوا
نالہ ہم خاکساروں کا آخر
خاطر عرش کا غبار ہوا
جو نہ کہنا تھا سو بھی میں نے کہا
دل کی بے طاقتی سے خوار ہوا
پھر گیا ہے زمانہ کیا کہ مجھے
ہوتے خوار ایک روزگار ہوا
مر چلے بے قرار ہوکر ہم
اب تو تیرے تئیں قرار ہوا
وہ جو خنجر بکف نظر آیا
میر سو جان سے نثار ہوا
میر تقی میر

شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 6
رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے
خیالِ یار، کبھی ذکرِ یار کرتے رہے
اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے
نہیں شکایتِ ہجراں کہ اس وسیلے سے
ہم اُن سے رشتہء دل استوار کرتے رہے
وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہِ انتظار نہ تھی
ہم اُن میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے
ہم اپنے راز پہ نازاں تھے ، شرمسار نہ تھے
ہر ایک سے سخنِ‌ رازدار کرتے رہے
ضیائے بزمِ جہاں بار بار ماند ہوئی
حدیثِ شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے
انہیں کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
جناح ہسپتال، کراچی
فیض احمد فیض

وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 25
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے
ویراں ہے میکدہ، خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے
دنیا نے تیری یاد سے بے گانہ کردیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
فیض احمد فیض

مطرب، کوئی ترانہ بیادِ بہار چھیڑ

مجید امجد ۔ غزل نمبر 58
آ، سازِ گلستاں کو بہ مضرابِ خار چھیڑ
مطرب، کوئی ترانہ بیادِ بہار چھیڑ
سوئے ہوئے سکوتِ چمن کو ذرا جگا
کچھ تو نواطرازِ غمِ روزگار چھیڑ
کل یہ جگہ تھی وادیِ نکہت، رباب اٹھا
کل یاں ہجومِ گل تھا، سرودِ بہار چھیڑ
قصہ کوئی بہ ماتمِ جام و سبو سنا
نغمہ کوئی بہ تعزیتِ سبزہ زار چھیڑ
کچھ بھی نہ ہو، خزاں تو ہے، اک راگنی الاپ
ہر خس ہے ایک سازِ نوا درکنار، چھیڑ
شاید پلٹ کے آ نہ سکے اب بہار، گا
پژمردہ شاخسار پہ جھک کر ستار چھیڑ
مجید امجد

ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 105
ہجوم رنج و الم میں صبر و قرار پر غور کر رہا ہوں
ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں
نظر کے سائے ذرا ہٹا لو کہ عقل کی سانس گھٹ رہی ہے
ہٹو ہٹو میں کشاکش روزگار پر غور کر رہا ہوں
بھٹک رہا ہے خیال سود و زیاں کے پر پیچ راستوں میں
کہاں کی منزل ابھی تو گردو غبار پر غور کر رہا ہوں
میں کتنا بیباک ہو گیا ہوں مجھے سزا دو چمن پرستو!
بہار کہتے ہو تم جسے اس بہار پر غور کر رہا ہوں
بدل رہا ہے کچھ اس طرح ان کے عہد و پیماں کا رنگ باقیؔ
کیا تھا کل اعتبار آج اعتبار پر غور کر رہا ہوں
باقی صدیقی

دیر تک رہگزار کو دیکھا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 58
کارواں یا غبار کو دیکھا
دیر تک رہگزار کو دیکھا
پھول سا رنگ، خار سے انداز
تجھ کو دیکھا بہار کو دیکھا
زلف و رُخ کے طلسم سے نکلے
حسنِ لیل و نہار کو دیکھا
دل آزاد کا خیال آیا
اپنے ہر اختیار کو دیکھا
ہر ستارے سے روشنی مانگی
ہر شبِ انتظار کو دیکھا
کسی لمحے پہ اپنا نام نہ تھا
گردش روزگار کو دیکھا
پھر تسلی کسی کی یاد آئی
پھر دل بے قرار کو دیکھا
ہر گل تر تھا ایک داغِ نمو
ہم نے ہر شاخسار کو دیکھا
دھیان میں آئی زندگی باقیؔ
رقص میں اک شرار کو دیکھا
باقی صدیقی