ٹیگ کے محفوظات: دوری

دوری

ن م راشد

مجموعہ کلام ایران میں اجنبی

مُجھے موت آئے گی، مَر جاؤں گا میں

تُجھے موت آئے گی، مَر جائے گی توُ

وہ پہلی شبِ مہ شبِ ماہِ نیم بن جائے گی

جس طرح سازِ کُہنہ کے تارِ شکستہ کے دونوں سِرے

دو اُفق کے کناروں کے مانند

بس دُور ھی دُور سے تھرتھراتے ھیں اور پاس آتے نہیں ھیں

نہ وہ راز کی بات ھونٹوں پہ لاتے ھیں

جس نے مُغنّی کو دورِ زماں و مکاں سے نکالا تھا،

بخشی تھی خوابِ ابد سے رھائی!

یہ سچ ھے تو پھر کیوں

کوئی ایسی صوُرت، کوئی ایسا حِیلہ نہ تھا

جس سے ھم آنے والے زمانے کی آھٹ کو سُن کر

وھیں اُس کی یورش کو سینوں پہ یوُں روک لیتے:

کہ ھم تیری منزل نہیں، تیرا ملجا و ماویٰ نہیں ھیں

یہ سوچا تھا شاید

کہ خود پہلے اِس بُعد کے آفرینندہ بن جائیں گے

اب جو اِک بحرِ خمیازہ کش بن گیا ھے!

تو پھر اَزسرِ نو مسّرت سے، نورس نئی فاتحانہ مسّرت سے

پائیں گے بھوُلی ھوُئی زندگی کو

وھی خوُد فریبی، وھی اَشک شوئی کا ادنیٰ بہانہ!

مگر اَب وھی بُعد سرگوشیاں کر رھا ھے:

کہ توُ اپنی منزل کو واپس نہیں جا سکے گا،

نہیں جا سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔

مُجھے موت آئے گی، مَر جاؤں گا میں،

تُجھے موت آئے گی، مَر جائے گی توُ

یہ عفریت پہلے ہزیمت اُٹھائے گا، مِٹ جائے گا!

ن م راشد

دنیا غیر ضروری تو ہو جاتی ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 44
عشق میں یہ مجبوری تو ہو جاتی ہے
دنیا غیر ضروری تو ہو جاتی ہے
چہرے کو بےچہرہ کر کے، بدلے میں
چلئے کچھ مشہوری تو ہو جاتی ہے
سچ کہتے ہو، روز کی دنیا داری میں
اپنے آپ سے دوری تو ہو جاتی ہے
جزیہ ہے جو روز کے زندہ رہنے کا
ہم سے وُہ مزدوری تو ہو جاتی ہے
سچ وہ مرشد، جس کی ایک سفارش سے
عرضی کی منظوری تو ہو جاتی ہے
اہلِ جنوں آسودہ ہوں جس مٹی میں
وہ مٹی کستوری تو ہو جاتی ہے
الف انا کے پوری قد میں چلتا ہوں
شرطِ فقیری پوری تو ہو جاتی ہے
آفتاب اقبال شمیم

کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 9
بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی
کیا کیا جائے غزل پہ بھی ادھوری رہ گئی
رزق سے بڑھ کر اُسے کچھ اور بھی درکار تھا
کل وُہ طائر اُڑ گیا پنجرے میں چُوری رہ گئی
تھی بہت شفاف لیکن دن کی اُڑتی گرد میں
شام تک یہ زندگی رنگت میں بھُوری رہ گئی
کیوں چلے آئے کھلی آنکھوں کی وحشت کاٹنے
اُس گلی میں نیند کیا پوری کی پوری رہ گئی؟
بس یہی حاصل ہوا ترمیم کی ترمیم سے
حاصل و مقصود میں پہلی سی دوری رہ گئی
کس قرینے سے چھپا یا بھید لیکن کُھل گیا
غالباً کوئی اشارت لاشعوری رہ گئی
آفتاب اقبال شمیم