ٹیگ کے محفوظات: تصویر

دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں

مجھ سے غفلت ہو گئی شاید کہیں تدبیر میں
دوسروں کو مِل گیا جو تھا مری تقدیر میں
رشک سے آنکھوں نے بھی حلقے بنائے اپنے گرد
جب سے دل رہنے لگا ہے خانۂ زنجیر میں
کس قدر باتیں ہوا پر خرچ ہوتی ہیں مگر
بات رہتی ہے وہی آ جائے جو تحریر میں
جانبِ دشتِ فنا کچھتے چلے جاتے ہیں لوگ
وقت نے باندھا ہے سب کو ایک ہی زنجیر میں
میں رعایت کا نہیں طالب مگر اے زندگی
کوئی نسبت چاہیے تقصیر اور تعزیر میں
دل کو اُکسایا ہے جب سے خواہشِ تعمیر نے
جل رہا ہوں آتشِ اندیشۂ تعمیر میں
آیتیں تو ٹھیک ہی پڑھنی تھیں واعظ نے مگر
مدعا اپنا بھی شامل کر دیا تفسیر میں
من کو ایسی بھا گئی ہے اک تصور کی چمک
آنکھ کا جی ہی نہیں لگتا کسی تصویر میں
ہم کو بیداری نے باصرِؔ یہ سزا دی نیند کی
خواب میں پایا تھا جو کچھ کھو دیا تعبیر میں
باصر کاظمی

تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ساتھ ہَوا کے اڑنا چاہا اور ہوئے زنجیر ہمیں
تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں
دُکھ جاتے ہیں جُھوٹ ریا کاروں کا ننگا کر کے بھی
دل کا زہر اُنڈیل کے بھی ہو جاتے ہیں دِلگیر ہمیں
حد سے بڑھ کر بھرنے لگ پڑتے ہیں پھُونک غبارے میں
پھٹ جائے تو بچّوں جیسے بن جائیں تصویر ہمیں
قادرِ مطلق پر بھی دعویٰ ہر لحظہ ایقان کا ہے
اور نجومی سے بھی پوچھیں نِت اپنی تقدیر ہمیں
آئینہ بھی، جیسے ہوں، دِکھلائے خدوخال وُہی
سوچیں تو اپنے ہر خواب کی ہیں ماجدؔ، تعبیر ہمیں
ماجد صدیقی

اب کے جھونکے نئی زنجیر لیے پھرتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
یار کے قُرب کی تاثیر لیے پھرتے ہیں
اب کے جھونکے نئی زنجیر لیے پھرتے ہیں
گل، صبا، ابر، شفق، چاند، ستارے، کرنیں
سب اُسی جسم کی تفسیر لیے پھرتے ہیں
ایک سے کرب کا منظر ہے سبھی آنکھوں میں
آئنے ایک ہی تصویر لیے پھرتے ہیں
شاخ ٹُوٹے تو نہ پھولے کبھی ماجدؔ صاحب!
آپ کس خواب کی تعبیر لیے پھرتے ہیں
ماجد صدیقی

کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 74
مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں
وطن سے دُور بھی آزادیاں نصیب کسے
قدم کہیں بھی ہوں زنجیر گھر کی دیکھتے ہیں
اگرچہ جسم کی دیوار گرنے والی ہے
یہ سادہ لوح کی تعمیر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی تو زخم اسے بھولنے نہیں دیتا
کوئی تو یاد عناں گیر، گھر کی دیکھتے ہیں
ہم ایسے خانہ بر انداز، کنج غربت میں
جو گھر نہیں تو تصاویر گھر کی دیکھتے ہیں
بنائے دل ہے کسی خوابگاہ زلزلہ پر
سو اپنی آنکھوں سے تقدیر گھر کی دیکھتے ہیں
فراز جب کوئی نامہ وطن سے آتا ہے
تو حرف حرف میں تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
احمد فراز

بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 17
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر، تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا
رات کیا سویا کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا
جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
میں نے وہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا
کس طرح پایا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا
عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ
جوئے خوں کو نام دے دیتے ہیں جوئے شیر کا
جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا
احمد فراز

دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 141
جوں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے
دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے
وہ میرا نام لکھتے وقت روئے ہوں گے اے قاصد
یہاں آنسو گرے ہوں گے جہاں تحریر بگڑی ہے
مصور اپنی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی
میں ایسا ہو گیا ہوں یا مری تصویر بگڑی ہے
چلا میں توڑ کر جب بابِ زنداں غل مچا ڈالے
متی باتوں پہ کیا کیا پاؤں کی زنجیر بگڑی ہے
لٹا ہے کارواں جب آ چکی ہے سامنے منزل
کہاں ٹوٹیں امیدیں اور کہاں تقدیر بگڑی ہے
کیا ہے ہر کڑی کو میں نے ٹیڑھا جوشِ وحشت میں
مرے ہاتھوں ہی میرے پاؤں کی زنجیر بگڑی ہے
قمر اچھا نہیں گیسو رخِ روشن پہ آ جانا
گہن جب بھی لگا ہے چاند کی تنویر بگڑی ہے
قمر جلالوی

آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 66
ایک جا رہنا نہیں لکھا میری تقدیر میں
آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں
اقربا نا خوش وہ بزمِ دشمنِ بے پیر میں
موت ہی لکھی ہی کیا بیمار کی تقدیر میں
بات کر میری لحد پر غیر ہی سے بات کر
یہ سنا ہے پھول جھڑتے ہیں تری تقریر میں
سیکھ اب میری نظر سے حسن کی زیبائشیں
سینکڑوں رنگینیاں بھر دیں تری تصویر میں
پاسِ آدابِ اسیری تیرے دیوانے کو ہے
ورنہ یہ زنجیر کچھ زنجیر ہے زنجیر میں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ان کو وہ قمر ملتے نہیں
شام کی رنگینیوں میں، صبح کی تنویر میں
قمر جلالوی

تصویر

’’بچے کہاں ہیں؟‘‘

’’مر گئے ہیں‘‘

سب کے سب؟‘‘

’’ہاں، سب کے سب۔ آپ کو آج ان کے متعلق پوچھنے کا کیا خیال آگیا۔ میں اُن کا باپ ہوں‘‘

’’آپ ایسا باپ خدا کرے کبھی پیدا ہی نہ ہو‘‘

’’تم آج اتنی خفا کیوں ہو۔ میری سمجھ میں نہیں آتا‘گھڑی میں رتی گھڑی میں ماشہ ہو جاتی ہو۔ دفتر سے تھک کر آیا ہوں اور تم نے یہ چخ چخ شروع کردی ہے۔ بہتر تھا کہ میں وہاں دفتر ہی میں پنکھے کے نیچے آرام کرتا۔ ‘‘

’’پنکھا یہاں بھی ہے۔ آپ آرام طلب ہیں۔ یہیں آرام فرما سکتے ہیں‘‘

’’تمہارا طنز کبھی نہیں جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ چیز تمہیں جہیز میں ملی تھی‘‘

’’میں کہتی ہوں، کہ آپ مجھ سے اس قسم کی خرافات نہ بکا کیجیے۔ آپ کے دیدوں کا تو پانی ہی ڈھل گیا ہے‘‘

’’یہاں تو سب کچھ ڈھل گیا ہے۔ تمہاری وہ جوانی کہاں گئی؟۔ میں تو اب ایسا محسوس کرتا ہوں جیسے سو برس کا بڈھا ہوں‘‘

’’یہ آپ کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ میں نے تو خود کو کبھی عمر رسیدہ محسوس نہیں کیا‘‘

’’میرے اعمال اتنے سیاہ تو نہیں۔ اور پھر میں تمہارا شوہر ہوتے ہوئے کیا اتنا بھی محسوس نہیں کر سکتا کہ تمہارا شباب اب روبہ تنزل ہے‘‘

’’مجھ سے ایسی زبان میں گفتگو کیجیے جس کو میں سمجھ سکوں۔ یہ تروبہ نزل کیا ہوا‘‘

چھوڑو اسے۔ آؤ محبت پیار کی باتیں کریں!‘‘

آپ نے ابھی ابھی تو کہا تھا کہ آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سو برس کے بڈھے ہیں‘‘

بھئی دل تو جوان ہے‘‘

آپ کے دل کو میں کیا کہوں۔ آپ اسے دل کہتے ہیں مجھ سے کوئی پوچھے تو میں یہی کہوں گی کہ پتھر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس شخص نے اپنے پہلو میں دبا رکھا ہے اور دعویٰ یہ کرتا ہے کہ اس میں محبت بھری ہوئی ہے۔ آپ محبت کرنا کیا جانیں۔ محبت تو صرف عورت ہی کر سکتی ہے‘‘

’’آج تک کتنی عورتوں نے مردوں سے محبت کی ہے۔ ذرا تاریخ کا مطالعہ کرو۔ ہمیشہ مردوں ہی نے عورتوں سے محبت کی اور اسے نبھایا۔ عورتیں تو ہمیشہ بے وفا رہی ہیں‘‘

’’جھوٹ۔ اس کا اوّل جھوٹ ‘ اس کا آخر جھوٹ۔ بیوفائی تو ہمیشہ مردوں نے کی ہے‘‘

اور وہ جو انگلستان کے بادشاہ نے ایک معمولی عورت کے لیے تخت و تاج چھوڑ دیا تھا؟۔ وہ کیا جھوٹی اور فرضی داستان ہے‘‘

’’بس ایک مثال پیش کر دی اور مجھ پر رعب ڈال دیا‘‘

’’بھئی تاریخ میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ مرد جب کسی عورت سے عشق کرتا ہے تو وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹتا‘ کم بخت اپنی جان قربان کر دیگا مگر اپنی محبوبہ کو ذرا سی بھی ایزا پہنچنے نہیں دے گا‘ تم نہیں جانتی ہو مرد میں جبکہ وہ محبت میں گرفتار ہو کتنی طاقت ہوتی ہے‘‘

’’سب جانتی ہوں۔ آپ سے تو کل الماری کا جما ہوا دروازہ بھی نہیں کھل سکا۔ آخر مجھے ہی زور لگا کر کھولنا پڑا‘‘

’’دیکھو‘ جانم۔ تم زیادتی کر رہی ہو۔ تمھیں معلوم ہے کہ میرے داہنے بازو میں ریح کا درد تھا‘ میں اُس دن دفتر بھی نہیں گیا تھا اور سارا دن اور ساری رات پڑا کراہتا رہا تھا۔ تم نے میرا کوئی خیال نہ کیا اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ سنیما دیکھنے چلی گئیں‘‘

’’آپ تو بہانہ کر رہے تھے‘‘

’’لا حول و لا۔ یعنی میں بہانہ کر رہا تھا‘ درد کے مارے میرا بُرا حال ہو رہا ہے اور تم کہتی ہو کہ میں بہانہ کر رہا تھا۔ لعنت ہے ایسی زندگی پر‘‘

’’یہ لعنت مجھ پر بھیجی گئی ہے!‘‘

’’تمہاری عقل پر تو پتھر پڑ گئے ہیں۔ میں اپنی زندگی کا رونا رو رہا تھا‘‘

’’آپ تو ہر وقت روتے ہی رہتے ہیں‘‘

’’تم تو ہنستی رہتی ہو۔ اس لیے کہ تمھیں کسی کی پرواہ ہی نہیں۔ بچے جائیں جہنم میں‘ میرا جنازہ نکل جائے۔ یہ مکان جل کر راکھ ہو جائے مگر تم ہنستی رہو گی۔ ایسی بے دل عورت میں نے آج تک اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی‘‘

’’کتنی عورتیں دیکھی ہیں آپ نے اب تک؟‘‘

’’ہزاروں‘ لاکھوں۔ سڑکوں پر تو آج کل عورتیں ہی عورتیں نظر آتی ہیں‘‘

’’جھوٹ نہ بولیے۔ آپ نے کوئی نہ کوئی عورت خاص طور پر دیکھی ہے‘‘

’’خاص طور پر سے تمہارا مطلب کیا ہے؟‘‘

’’میں آپ کے راز کھولنا نہیں چاہتی۔ میں اب چلتی ہوں‘‘

’’کہاں؟‘‘

’’ایک سہیلی کے یہاں۔ اس سے اپنا دکھڑا بیان کروں گی ‘ خود روؤں گی‘ اُس کو بھی رلاؤں گی۔ اس طرح کچھ جی ہلکا ہو جائے گا‘‘

وہ دکھڑا جو تمھیں اپنی سہیلی سے بیان کرنا ہے‘ مجھے ہی بتا دو۔ میں تمہارے غم میں شریک ہونے کا وعدہ کرتا ہوں۔

’’آپ کے وعدے؟۔ کبھی ایفا ہوئے ہیں؟‘‘

’’تم بہت زیادتی کر رہی ہو۔ میں نے آج تک تم سے جو بھی وعدہ کیا پورا کیا۔ ابھی پچھلے دنوں تم نے مجھ سے کہا کہ چائے کا ایک سیٹ لا دو۔ میں نے ایک دوست سے روپے قرض لے کر بہت عمدہ سیٹ خرید کر تمھیں لا دیا۔

’’بڑا احسان کیا مجھ پر۔ وہ تو دراصل آپ اپنے دوستوں کے لیے لائے تھے۔ اس میں سے دو پیالے کس نے توڑے تھے؟ ذرا یہ تو بتائیے؟‘‘

’’ایک پیالہ تمہارے بڑے لڑکے نے توڑا۔ دوسرا تمہاری چھوٹی بچی نے‘‘

’’سارا الزام آپ ہمیشہ انھیں پر دھرتے ہیں۔ اچھا اب یہ بحث بند ہو۔ مجھے نہا دھو کر کپڑے پہننا اور جُوڑا کرنا ہے۔

’’دیکھو‘ میں نے آج تک کبھی سخت گیری نہیں کی‘ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آتا رہا ہوں مگر آج میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ باہر نہیں جا سکتیں‘‘

’’اجی واہ۔ بڑے آئے‘ مجھ پر حکم چلانے والے۔ آپ ہیں کون؟‘‘

’’اتنی جلدی بھول گئی ہو۔ میں تمہارا خاوند ہوں‘‘

’’میں نہیں جانتی ‘ خاوند کیا ہوتا ہے۔ میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ میں باہر جاؤں گی اور ضرور جاؤں گی‘ دیکھتی ہوں‘ مجھے کون روکتا ہے‘‘

’’تم نہیں جاؤ گی۔ بس یہ میرا فیصلہ ہے‘‘

’’فیصلہ اب عدالت ہی کرے گی‘‘

’’عدالت کا یہاں کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا آج تم کیسی اوٹ پٹانگ باتیں کر رہی ہو‘ تک کی بات کرو۔ جاؤ نہا لو تاکہ تمہارا دماغ کسی حد تک ٹھنڈا ہو جائے‘‘

’’آپ کے ساتھ رہ کر میں تو سر سے پیر تک برف ہو چکی ہوں‘‘

کوئی عورت اپنے خاوند سے خوش نہیں ہوتی‘ خواہ وہ بیچارہ کتنا ہی شریف کیوں نہ ہو۔ اس میں کیڑے ڈالنا اس کی سرشت میں داخل ہے۔ میں نے تمہاری کئی خطائیں اورغلطیاں معاف کی ہیں‘‘

’’میں نے خدانخواستہ کون سی خطا کی ہے؟‘‘

’’پچھلے برس تم نے شلجم کی شب دیگ بڑے ٹھاٹ سے پکانے کا ارادہ کیا۔ شام کو چولہے پر ہنڈیا رکھ کر تم ایسی سوئیں کہ اُٹھ کر جب میں باورچی خانے میں گیا تو دیکھا کہ دیگچی میں سارے شلجم کوئلے بنے ہوئے ہیں۔ ان کو نکال کر میں نے انگیٹھی سلگائی اور چائے تیار کی۔ تم سو رہی تھیں‘‘

’’میں یہ بکواس سننے کے لیے تیار نہیں‘‘

’’اس لیے کہ اس میں جھوٹ کا ایک ذرّہ بھی نہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ عورت کو سچ اور حقیقت سے کیوں چڑ ہے۔ میں اگر کہہ دُوں کہ تمہارا بایاں گال تمہارے دائیں کے مقابلے میں کسی قدر زیادہ موٹا ہے تو شاید تم مجھے ساری عمر نہ بخشو۔ مگر یہ حقیقت ہے جسے شاید تم بھی اچھی طرح محسوس کرتی ہو۔ دیکھو یہ پیپر ویٹ وہیں رکھ دو۔ اٹھا کے میرے سر پر دے مارا تو تھانہ تھنول ہو جائے گا‘‘

’’میں نے پیپر ویٹ اس لیے اُٹھایا تھا کہ یہ آپ کے چہرے کے عین مطابق ہے۔ اس کے اندر جو ہوا کے بلبلے سے ہیں وہ آپ کی آنکھیں ہیں۔ اور یہ جو لال سی چیز ہے وہ آپ کی ناک ہے جو ہمیشہ سُرخ رہتی ہے۔ میں نے جب آپ کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے ایسا لگا تھا جیسے آپ کی آنکھوں کے نیچے جو گائے کی آنکھیں ہیں‘ ایک کاکروچ اوندھے منہ بیٹھا ہے‘‘

’’تمہارا جی ہلکا ہو گیا؟‘‘

’’میرا جی کبھی ہلکا نہیں ہو گا۔ مجھے آپ جانے دیجیے۔ نہا دھو کر میں شاید یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلی جاؤں‘‘

’’جانے سے پہلے یہ تو بتا جاؤ کہ یہ جانا کس بنا پر ہے؟‘‘

’’میں بتانا نہیں چاہتی۔ آپ تو اوّل درجے کے بے شرم ہیں‘‘

’’بھئی ‘ تمہاری اس ساری گفتگو کا مطلب ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔ معلوم نہیں ‘ تمھیں مجھ سے کیا شکایت ایک دم پیدا ہو گئی ہے‘‘

’’ذرا اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالیے‘‘

’’میرا کوٹ کہاں ہے؟‘‘

’’لاتی ہوں۔ لاتی ہوں‘‘

’’میرے کوٹ میں کیا ہو سکتا ہے۔ وہسکی کی بوتل تھی۔ وہ تو میں نے باہر ہی ختم کر کے پھینک دی تھی۔ لیکن ہو سکتا ہے رہ گئی ہو‘‘

’’لیجیے ‘ آپ کا کوٹ یہ رہا‘‘

’’اب میں کیا کروں؟‘‘

’’اس کی اندر کی جیب میں ہاتھ ڈالیے۔ اور اُس لڑکی کی تصویر نکالیے جس سے آپ آج کل عشق لڑا رہے ہیں‘‘

’’لا حول و لا‘‘

تم نے میرے اوسان خطا کر دیے تھے۔ یہ تصویر ‘ میری جان‘ میری بہن کی ہے جس کو تم نے ابھی تک نہیں دیکھا‘ افریقہ میں ہے۔ تم نے یہ خط نہیں دیکھا۔ ساتھ ہی تو تھا۔ یہ لو‘‘

’’ہائے‘ کتنی خوبصورت لڑکی ہے۔ میرے بھائی جان کے لیے بالکل ٹھیک رہے گی‘‘

۱۸، مئی ۵۴ء

سعادت حسن منٹو

ایک چکّر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 179
مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
ایک چکّر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں
شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو،کہ جہاں
جادہ غیر از نگہِ دیدۂِ تصویر نہیں
حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہے
جادۂ راہِ وفا جز دمِ شمشیر نہیں
رنجِ نو میدیِ جاوید گوارا رہیو
خوش ہوں گر نالہ زبونی کشِ تاثیر نہیں
سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائے
لذّتِ سنگ بہ اندازۂِ تقریر نہیں
جب کرم رخصتِ بیباکی و گستاخی دے
کوئی تقصیر بجُز خجلتِ تقصیر نہیں
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخ
’آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میر نہیں‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 82
نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیِر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے

دیوان ششم غزل 1879
جو جنون و عشق کی تدبیر ہے
سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے
وصف اس کا باغ میں کرنا نہ تھا
گل ہمارا اب گریباں گیر ہے
دیکھ رہتا ہے جو دیکھے ہے اسے
دلربا آئینہ رو تصویر ہے
پاے گیر اس کے نہ ہوں کیوں درد مند
حلقہ حلقہ زلف وہ زنجیر ہے
صید کے تن پر ہیں سب گلہاے زخم
کس قدر خوش کار اس کا تیر ہے
مدت ہجراں نے کی نے کچھ کمی
میرے طول عمر کی تقصیر ہے
خط نہ لکھتے تھے سو تاب دل گئی
دفتروں کی اکثر اب تحریر ہے
رکھ نظر میں بھی خراب آبادیاں
اے کہ تجھ کو کچھ غم تعمیر ہے
سخت کافر ہیں برہمن زادگاں
مسلموں کی ان کے ہاں تکفیر ہے
گفتگو میں رہتے تھے آگے خموش
ہر سخن کی اب مرے تقریر ہے
نظم محسنؔ کی رہی سرمشق دیر
اس مرے بھی شعر میں تاثیر ہے
مر گئے پر بھی نہ رسوائی گئی
شہر میں اب نعش بھی تشہیر ہے
کیا ستم ہے یہ کہ ہوتے تیغ و طشت
ذبح کرنے میں مرے تاخیر ہے
میر کو ہے کیا جوانی میں صلاح
اب تو سارے میکدے کا پیر ہے
میر تقی میر

ظل ممدود چمن میں ہوں مگر زنجیر میں

دیوان سوم غزل 1190
کیا کروں سودائی اس کی زلف کی تدبیر میں
ظل ممدود چمن میں ہوں مگر زنجیر میں
گل تو مجھ حیران کی خاطر بہت کرتا ہے لیک
وا نہیں ہوتا برنگ غنچۂ تصویر میں
روبرو اس کے گئے خاموش ہوجاتا ہوں کچھ
کس سے اپنے چپکے رہنے کی کروں تقریر میں
تن بدن میں دل کی گرمی نے لگا رکھی ہے آگ
عشق کی تو ہے جوانی ہو گیا گو پیر میں
ہو اگر خونریز کا اپنے سبب تو کچھ کہو
وہ ستمگر ہے مقرر اور بے تقصیر میں
بے دماغی شور شب سے یار کو دونی ہوئی
دیکھی بس اس بے سرایت نالے کی تاثیر میں
کچھ نہیں پوچھا ہے مجھ سے جز حدیث روے یار
ہاتھ بلبل کے لگا ہوں باغ میں جب میر میں
میر تقی میر

لے گیا رنگ اس کے دل سے تیر یار

دیوان سوم غزل 1136
صاف غلطاں خوں میں ہے نخچیر یار
لے گیا رنگ اس کے دل سے تیر یار
کوتہی کی میرے طول عمر نے
جور میں تو کچھ نہ تھی تقصیر یار
آ کڑوں کے پائوں میں بیڑی ہوئی
ہاتھ میں سونے کی وہ زنجیر یار
ہے کشیدہ جیسے تیغ آفتاب
میان میں رہتی نہیں شمشیر یار
میر ہم تو ناز ہی کھینچا کیے
کیونکے کوئی کھینچے ہے تصویر یار
میر تقی میر

مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی

دیوان دوم غزل 952
رکھا گنہ وفا کا تقصیر کیا نکالی
مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی
رہتی ہے چت چڑھی ہی دن رات تیری صورت
صفحے پہ دل کے میں نے تصویر کیا نکالی
چپ بھی مری جتائی اس سے مخالفوں نے
بات اور جب بنائی تقریر کیا نکالی
بس تھی ہمیں تو تیری ابرو کی ایک جنبش
خوں ریزی کو ہماری شمشیر کیا نکالی
کی اس طبیب جاں نے تجویز مرگ عاشق
آزار کے مناسب تدبیر کیا نکالی
دل بند ہے ہمارا موج ہواے گل سے
اب کے جنوں میں ہم نے زنجیر کیا نکالی
نامے پہ لوہو رو رو خط کھینچ ڈالے سارے
یہ میر بیٹھے بیٹھے تحریر کیا نکالی
میر تقی میر

گئی کل ٹوٹ میرے پائوں کی زنجیر بھی آخر

دیوان دوم غزل 814
جنوں میں اب کے کام آئی نہ کچھ تدبیر بھی آخر
گئی کل ٹوٹ میرے پائوں کی زنجیر بھی آخر
اگر ساکت ہیں ہم حیرت سے پر ہیں دیکھنے قابل
کہ اک عالم رکھے ہے عالم تصویر بھی آخر
یکایک یوں نہیں ہوتے ہیں پیارے جان کے لاگو
کبھو آدم ہی سے ہوجاتی ہے تقصیر بھی آخر
کلیجہ چھن گیا پر جان سختی کش بدن میں ہے
ہوئے اس شوخ کے ترکش کے سارے تیر بھی آخر
نہ دیکھی ایک واشد اپنے دل کی اس گلستاں میں
کھلے پائے ہزاروں غنچۂ دلگیر بھی آخر
سروکار آہ کب تک خامہ و کاغذ سے یوں رکھیے
رکھے ہے انتہا احوال کی تحریر بھی آخر
پھرے ہے بائولا سا پیچھے ان شہری غزالوں کے
بیاباں مرگ ہو گا اس چلن سے میر بھی آخر
میر تقی میر

شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی

دیوان اول غزل 451
کچھ موج ہوا پیچاں اے میر نظر آئی
شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
مغرور بہت تھے ہم آنسو کی سرایت پر
سو صبح کے ہونے کو تاثیر نظر آئی
گل بار کرے ہے گا اسباب سفر شاید
غنچے کی طرح بلبل دلگیر نظر آئی
اس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یارو
کچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی
میر تقی میر

کچھ ہم نے کی ہے ایسی ہی تقصیر کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 399
ہر دم وہ شوخ دست بہ شمشیر کیوں نہ ہو
کچھ ہم نے کی ہے ایسی ہی تقصیر کیوں نہ ہو
اب تو جگر کو ہم نے بلا کا ہدف کیا
انداز اس نگاہ کا پھر تیر کیوں نہ ہو
جاتا تو ہے کہیں کو تو اے کاروان مصر
کنعاں ہی کی طرف کو یہ شب گیر کیوں نہ ہو
حیراں ہیں اس قدر کہ اگر اب کے جایئے
پھر منھ ترا نہ دیکھیے تصویر کیوں نہ ہو
تونے تو رفتہ رفتہ کیا ہم کو ننگ خلق
وحشت دلا کہاں تئیں زنجیر کیوں نہ ہو
جوں گل کسو شگفتہ طبیعت کا ہے نشاں
غنچہ بھی کوئی خاطردل گیر کیوں نہ ہو
ہووے ہزار وحشت اسے تو بھی یار ہے
اغیار تیرے ساتھ جو ہوں میر کیوں نہ ہو
میر تقی میر

جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا

دیوان اول غزل 27
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا
جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار
ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا
کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر
اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر
کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم
قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے
تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک
مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے
فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا
عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں
رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میر کا
میر تقی میر

جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
وُہ ہدف ہے کہ زدِ تیر سے باہر ہی رہے
جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے
رشتۂ موجد و ایجاد کی منطق سمجھو
یہ جہاں دستِ جہاں گیر سے باہر ہی رہے
جبر مجبور ہے، چھپ کر بھی نہیں چھپ سکتا
شور زنجیر کا زنجیر سے باہر ہی رہے
یوں کہ کچھ عکس نمائی کا ہمیں شوق نہ تھا
چشمِ آئینہ ِٔ تشہیر سے باہر ہی رہے
وُہ ارادہ مجھے دے، اے مری ترکیبِ وجود!
جو عمل داریِٔ تقدیر سے باہر ہی رہے
المیے میرے زمانے کے مجھے سہنے پڑے
چشمِ غالب سے، دلِ میر سے باہر ہی رہے
آفتاب اقبال شمیم

اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیرِ دل
اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل
اپنے دل کی راکھ چن کر، کاش ان لمحوں کی بہتی آگ میں
میں بھی اک سیّال شعلے کے ورق پر لکھ سکوں تفسیرِ دل
میں نہ سمجھا، ورنہ ہنگاموں بھری دنیا میں، اک آہٹ کے سنگ
کوئی تو تھا، آج جس کا قہقہہ دل میں ہے دامن گیرِ دل
رُت بدلتے ہی چمن جُو ہم صفیر اب کے بھی کوسوں دور سے
آ کے جب اس شاخ پر چہکے، مرے دِل میں بجی زنجیرِ دل
کیا سفر تھا، بےصدا صدیوں کے پل کے اس طرف، اس موڑ تک
پے بہ پے ابھرا سنہری گرد سے اک نالۂ دلگیرِ دل
وار دنیا نے کیے مجھ پر تو امجد میں نے اس گھمسان میں
کس طرح، جی ہار کر، رکھ دی نیامِ حرف میں شمشیرِ دل
مجید امجد

پھر نہ کہنا کوئی زنجیر تمہارے لیے ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 349
جاؤ اب دشت ہی تعزیر تمہارے لیے ہے
پھر نہ کہنا کوئی زنجیر تمہارے لیے ہے
اپنے ہی دستِ تہی ظرف نے مارا تم کو
اب بکھر جانا ہی اکسیر تمہارے لیے ہے
آخرِ شب تمہیں آنکھوں کا بھرم کھونا تھا
اب کوئی خواب نہ تعبیر تمہارے لیے ہے
عکس نظارہ کرو زود پشیمانی کا
اب تمہاری یہی تصویر تمہارے لیے ہے
آج سے تم پہ درِ حرف و نوا بند ہوا
اب کوئی لفظ نہ تاثیر تمہارے لیے ہے
منصبِ درد سے دل نے تمہیں معزول کیا
تم سمجھتے تھے یہ جاگیر تمہارے لیے ہے
عرفان صدیقی

خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 6
اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ
خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ
میں بھی اَے سرخئ بے نام تجھے پہچانوں
توُ حنا ہے کہ لہو، پیکرِ تصویر میں آ
اُس کے حلقے میں تگ و تاز کی وسعت ہے بہت
آہوئے شہر، مری بانہوں کی زنجیر میں آ
چارہ گر خیر سے خوش ذوق ہے اَے میری غزل
کام اَب تو ہی مرے درد کی تشہیر میں آ
وہ بھی آمادہ بہت دِن سے ہے سننے کے لیے
اَب تو اَے حرفِ طلب معرضِ تقریر میں آ
ایک رنگ آخری منظر کی دَھنک میں کم ہے
موجِ خوں، اُٹھ کے ذرا عرصۂ شمشیر میں آ
عرفان صدیقی

سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 443
گھر لوٹنے میں اک ذرا تاخیر کیا ہوئی
سب کچھ بدل کے رہ گیا تقصیر کیا ہوئی
کمرے میں سن رہا ہوں کوئی اجنبی سی چاپ
دروازے پر لگی ہوئی زنجیر کیا ہوئی
وہ درد کیا ہوئے جنہیں رکھا تھا دل کے پاس
وہ میز پر پڑی ہوئی تصویر کیا ہوئی
جو گیت لا زوال تھے وہ گیت کیا ہوئے
وہ ریت پر وصال کی تحریر کیا ہوئی
ہر صبح دیکھتا ہوں میں کھڑکی سے موت کو
گرتے ہوئے مکان کی تعمیر کیا ہوئی
منصور اختیار کی وحشت کے سامنے
یہ جبرِ کائنات یہ تقدیر کیا ہوئی
منصور آفاق

خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 391
ایٹمی جنگ میں سوختہ خواب تسخیر کے ہیں
خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تا خیر کے ہیں
وقت کی گیلری میں مکمل ہزاروں کی شکلیں
صرف ٹوٹے ہوئے خال و خد میری تصویر کے ہیں
شہر بمبار طیارے مسمار کرتے رہیں گے
شوق دنیا کو تازہ مکانوں کی تعمیر کے ہیں
ایک مقصد بھری زندگی وقت کی قید میں ہے
پاؤں پابند صدیوں سے منزل کی زنجیر کے ہیں
ایک آواز منصور کاغذ پہ پھیلی ہوئی ہے
میرے سناٹے میں شور خاموش تحریر کے ہیں
منصور آفاق

ہے کوئی میرے علاوہ حرف کی جاگیر کا وارث

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 144
خانقاہِ غم کا سجادہ نشیں ہوں میر کا وارث
ہے کوئی میرے علاوہ حرف کی جاگیر کا وارث
نظم تلوارِ علی ہے اور مصرع لہجہء زینب
کربلائے لفظ ! میں ہوں خیمہء شبیر کا وارث
چشمِ دانش کی طرح گنتا نہیں ہوں ڈوبتے سورج
میں ابد آباد تک ہوں شام کی تحریر کا وارث
کنٹرول اتنا ہے روز و شب پہ سرمایہ پرستی کا
کہ مرا بیٹا ہے میرے پاؤں کی زنجیر کا وارث
نقش جس کے بولتے ہیں ، رنگ جس کے خواب جیسے ہیں
حضرتِ غالب وہی ہے پیکرِ تصویر کا وارث
منصور آفاق

رات بھر نعرئہ تکبیر لگا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 77
سینہء ہجر میں پھر چیر لگا
رات بھر نعرئہ تکبیر لگا
دھجیاں اس کی بکھیریں کیا کیا
ہاتھ جب دامنِ تقدیر لگا
وہ تو بے وقت بھی آسکتا ہے
خانہء دل پہ نہ زنجیر لگا
میں نے کھینچی جو کماں مٹی کی
چاند کی آنکھ میں جا تیر لگا
اس سفیدی کا کوئی توڑ نکال
خالی دیوار پہ تصویر لگا
کیوں سرِ آئینہ اپنا چہرہ
کبھی کابل کبھی کشمیر لگا
سر ہتھیلی پہ تجھے پیش کیا
اب تو آوازئہ تسخیر لگا
آسماں گر نہ پڑے، جلدی سے
اٹھ دعا کا کوئی شہتیر لگا
رہ گئی ہے یہی غارت گر سے
داؤ پہ حسرتِ تعمیر لگا
پھر قیامت کا کوئی قصہ کر
زخم سے سینہء شمشیر لگا
بند کر پاپ کے سرگم منصور
کوئی اب نغمہ دلگیر لگا
منصور آفاق

ہاتھ میں جام پاؤں میں زنجیر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 9
کس نے کھینچی حیات کی تصویر
ہاتھ میں جام پاؤں میں زنجیر
بات کرتا ہے ہنس کے جب صیاد
بھول جاتے ہیں اپنی بات اسیر
ہائے یہ راستے کے ہنگامے
اک تماشا سا بن گئے رہگیر
دیکھنا طرز پرسش احوال
بات کی بات اور تیر کا تیر
اتنے باریک تھے نقوش حیات
بنتے بنتے بگڑ گئی تصویر
وہ زمانے کی چال تھی باقیؔ
ہم سمجھتے رہے جسے تقدیر
باقی صدیقی