زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

خاک زادوں کے بس میں کہاں

اِس سے پہلے تو ہر سُو جھلستی ہوئی زندگی

ظلمتوں کے بدن میں دھڑکتی تھی اور دُور گرتی تھیں

سہمے ہوئے وقت کے تھال پر سسکیاں

اُٹھ رہا تھا کہیں ضبط گر آنکھ کی پُتلیوں سے دھواں

کانپتی تھی زمیں، زرد تھا آسماں

اور فضاؤں پہ چھایا ہوا خوف کا سائباں

اس سے پہلے کہیں گُل مہکتے نہ تھے، دل چہکتے نہ تھے

اور بھٹکتے تھے صحرا نوردوں کے بے سمت و در کارواں، الاماں، الاماں

پھر مگر اِس تپکتے ہوئے آسماں کے تلے ایک جھونکا چلا

ایک جھونکا چلا تو بدلنے لگا ہے سماں

چھٹ گئیں ظلمتیں، مٹ گیا گدلی ، بے رنگ آنکھوں سے سہمے ہوئے

خوف کا ہر نشاں …

خاک زادوں کے بس میں کہاں

چھو سکیں رفعت بندگی

کہہ سکیں حرف بھی ذات ارفع کے شایان شاں، لڑکھڑاتی زباں

ہم خطاکار، بے دست، بھٹکے ہوئے

خاک زادوں کے بس میں کہاں

ریگ زاروں پہ کُھل کے برستی ہوئی … رحمتوں کا بیاں

خاک زادوں کے بس میں کہاں

گلناز کوثر

رات ہر بار لیے

رات ہر بار لیے

خوف کے خالی پیکر

خوں مرا مانگنے

بے خوف چلی آتی ہے

اور جلتی ہوئی آنکھوں کے

تحیر کے تلے

ایک سناٹا

بہت شور کیا کرتا ہے

کچھ تو کٹتا ہے،

تڑپتا ہے

بہاتا ہے لہو

اور کھل جاتے ہیں

ریشوں کے پرانے بخیے

رات ہر بار مری

جاگتی پلکیں چُن کر

اندھے ، گمنام دریچوں پہ

سجا جاتی ہے

اور دھندلائے ہوئے

گرد زدہ رستوں میں

ایک آہٹ کا سرا ہے

کہ نہیں ملتا ہے

آسماں گیلی چٹانوں پہ

ٹکا ئے چہرہ

سسکیاں لیتا ہے

سہمے ہوئے بچے کی طرح

اور دریچوں پہ دھری

کانپتی پلکیں میری

گل زمینوں کے نئے

خواب بُنا کرتی ہیں

گلناز کوثر

شام

سرخ سفینہ ڈوب گیا ہے

دھیرے دھیرے

دور اُفق پر

سرخ سفینہ ڈوب گیا ہے

نارنجی بل کھاتی لہریں

کب سے ساکت پیڑوں پر

دم توڑ چکی ہیں

پنچھی کب کے لوٹ گئے ہیں

گہرے نیلے مرغولوں نے

سرد فضا کو گھیر لیا ہے

تنہائی کا گم صم سایا

سناٹے میں گونج رہا ہے

سینے میں اِک پیاس کا صحرا

جاگ اُٹھا ہے

دیر سے پچھلی یاد کے جھونکے

دل کی خالی دِیواروں کو

چھید رہے ہیں

سانس کا ریشم الجھ گیا ہے

اور کسی بے چین گھڑی نے

رات کا رستہ روک لیا ہے

بنجر آنکھ میں شام کا منظر

ٹھہر گیا ہے …

گلناز کوثر

عافیت

اسی میں عافیت ہے ہم

صبح سے شام تک پتلے ورق

ان پتلیوں میں گاڑتے جائیں

اُچٹتی کوری تحریریں

ادق حرفوں کو دہرائیں

سویرے سے ہی اپنے خالی چہرے پر

کسی بھی تمتماتے جوش کو کس کے چڑھائیں

اور لکڑی سے بنے تختے کے نیچے ٹانگیں جوڑیں

سر جھکائیں

اجنبی بے صوت سی دنیا میں کھو جائیں

اسی میں عافیت ہے جو وہ کہتے ہیں

ہم اپنے آپ کی جانب

کبھی بھی لوٹ نہ پائیں …

گلناز کوثر

قوس

قوس پھوٹی ہے یوں

شاعر وقت کے دست تخلیق سے

جیسے تپتے ، جھلستے تھپیڑوں کے

آنچل سے لپٹی ہوئی

دھیمے احساس کی نرم کونپل کہ جو

سر اُٹھاتے ہی موسم کا رُخ پھیر دے

جذب کے ایک مدھم بہاؤ پہ احساس کی ڈولتی ناؤ

اور وقت کی تال پر رقص کرتی ہوئی

اپسرا کے بدن سے اُمڈتی ہوئی کوئی انمٹ ادا

قوس پھوٹی ہے یوں

جیسے سانسوں کی تازہ حرارت تلے

پھر سے سہمے ہوئے دل دھڑکنے لگیں

خواب پلکوں کے گیلے کناروں پہ

چپکے سے آ کے بسیرا کریں

تو نگاہوں میں پھر سے وہی

زندگی کی چمک جاگ اُٹھے

کھو گئی جو زمانے کے اس پھیر میں

قوس تیرے مرے جذب کی ترجماں

خواہشوں کا بیاں

آرزو کی زباں

دوستو ہم تو لمحوں کی دیوار پر

شام سرما کی ڈھلتی ہوئی دھوپ ہیں

جانے کل ہوں نہ ہوں

پر ہماری سبک چاہتوں کے نشاں

قوس کے زندہ حرفوں میں سمٹے ہوئے

دُور تک جائیں گے

آنے والے زمانوں کے احساس کا

رنگ کہلائیں گے!!!

گلناز کوثر

کیوں آئے ہو

کیوں آئے ہو

بجھتے ہوئے تاروں کی

چھاؤں میں دھیرے دھیرے

گیت سناتے

خواب جگاتے

لفظوں سے تصویر بناتے

ابھی پرانے درد کا ماتم بپا ہے

دِل میں

شور بہت ہے

جان بھی الجھی ہے

کچھ منظر پگھلانے میں

جیون کا بوسیدہ ریشم

سلجھانے میں

پچھلی یاد بھلانے میں

کیوں آئے ہو

نینوں میں تاروں کو سجائے

پھول اُٹھائے

من دہکائے

وقت کہاں باقی ہے

چاند کے بجھنے میں،

ڈھل جانے میں

خواب ڈھونڈنے جانا پڑے گا

ذہن کے مردہ خانے میں …

گلناز کوثر

تِیتری تُو نے کیا بات کی

تِیتری …

تُو نے کیا بات کی

اَدھ کِھلی پنکھڑی کا نویلا بدن

یک بیک چونک کر کپکپانے لگا

رات سے پھول کے

نرم بستر پہ مدہوش

شبنم کے قطرے

جواں سال پتوں کی ڈھلوان پر سے

لُڑھکنے لگے …

غُل مچاتے پرندے

ٹھٹک کر

بڑی دیر تک

گول ، حیران آنکھیں گھماتے رہے

اُجلے جھونکے

لچکتے ، لپکتے ہوئے

اجنبی پیڑ کے

سبز آنچل میں

چہرہ چھپانے لگے

تِیتری …

تُو نے ایسی بھی کیا بات کی

اِک عجب سنسنی سی

ہواؤں کے ہونٹوں پہ

ٹھہری رہی

اور چمن کا چمن

خوف کے کالے، خاموش

پنجوں میں جکڑا رہا

پر اِدھر

ایک معصوم ، سہما ہوا

زرد غنچہ

بڑی دیر تک

مسکراتا رہا …

گلناز کوثر

لوٹ آؤ

رُکو دوست … کہاں چلے

سرما کی نرم دھوپ کو پیڑوں پر کھیلتا نہ دیکھو گے

رنگ بدلتے پیڑ ، دھوپ ، بارش اور کہرے سے کبھی خالی نہ ہوں گے

تمہارا پسندیدہ گیت تمہارے لیپ ٹاپ پر بجتا رہے گا

تمہارے سر پھرے دوست نفاست سے سجے تمہارے کمرے کو

بکھیرنے کے لیے ہر دم تیار رہیں گے

قہقہے گونجتے رہیں گے

چائے کے کپ بجتے رہیں گے

سب کچھ ویسا ہی رہے گا

جیسا کہ تم چاہتے رہے ہو

بس تم ان سب کو ایک آخری موقع دو

اپنی خوابوں ، کتابوں سے بھری دنیا میں

لوٹ آؤ …

گلناز کوثر

کلاس فیلو

بڑی مدتوں میں ملے ہیں تو

مجھے یوں لگا تجھے دیکھ کر

کہیں ڈھلتی شام کی اوٹ سے

ابھی جھانکتی ہے کرن کوئی

ابھی خیمہ زن ہیں

مرے وجود میں راحتیں

مہ و سال کے

کسی پھیر میں

جو گنوائیں میں نے

وہ لذتیں

مجھے یوں لگا

وہی ذائقے

مرے دل میں پھر سے مہک اُٹھے

کسی تمتماتے خیال سے

مرے سرد جمتے لہو میں

نغمے لہک اُٹھے

مرے جسم کے

سبھی برف زار دہک اُٹھے

مجھے یوں لگا

ابھی دوڑ کر

تُو کہے گی آؤ

گداز لمحوں سے

پیڑ کی

کسی شاخ پر

کوئی خواب لکھیں

بہار کا یونہی گنگنائیں

حسین سا کوئی گیت

فصل خزاں کے آنے میں

دیر ہے

ابھی دیر ہے …

گلناز کوثر

بہ جانب دل حزیں

یہ سن رسیدہ مکڑیوں

کے کُلبلاتے قافلے

لچکتے ، رینگتے ، لپکتے

آ رہے ہیں دُور سے

کراری سبز پُتلیاں

اِک آنچ سے تپی ہوئی

لبوں میں تیز دھار کے

مہین بے قرار تار

بڑھے ہیں کیسے شوق سے

بُنیں گے آج واہموں کے

دل نشیں حسین جال

سو گرد بے حساب سے

اُٹھے گی آج پھر صدا

وہ اپنی خلدِ بے رخی میں

تا بہ سر گڑا ہوا

تُو آگ میں گھرا ہوا

توُخاک پر پڑا ہوا

اسے کوئی سُنے گا کیا؟

گلناز کوثر

تمہاری آنکھوں کے لیے ایک نظم

کھوئی کھوئی سبک تتلیاں

دھیرے دھیرے بہت کپکپاتے ہوئے

اور لرزتے ہوئے

اُجلے حیراں کٹوروں کے نمناک گوشوں کو

چھُوتی ہیں … ڈرتی ہیں … ڈر کے پلٹتی ہیں

بے تاب … دھڑ دھڑ دھڑکتی ہوئی

جھالروں کے تلے

لمحہ لمحہ سلگتی ہوئی … بدلیاں

کھوجتی ہیں نئے آسماں … تتلیاں

کھوئی کھوئی، پریشان، گُم صُ، بھٹکتی ہوئی

قطرہ قطرہ پگھلتی ہوئی کرچیاں

وقت کی راکھ سے

ادھ بُنے خواب چُنتی ہیں

چپکے سے لکھتی ہیں … سہمی ہوئی … درد کی داستاں

اُلجھی اُلجھی ہوئی بے زباں تتلیاں

سوچتی ہیں بہت

کچھ بھی کہتی نہیں

ڈوبتی ہیں، اُبھرتی ہیں

برفاب ساحل پہ ٹوٹی ہوئی … کشتیاں

تیز سرکش ہواؤں کے دھارے پہ بہتی ہوئی

پر شکستہ، بہت ہولے ہولے سنبھلتی ہوئی … تتلیاں

چوری چوری اُترتی ہیں گمنام رستوں پہ

کب سے بھڑکتے ہوئے اِک الاؤ کو چھوتی ہیں

جلتے ہوئے سرد، بے چین دل پر مرے

ہاتھ رکھتی ہیں پر

کچھ بھی کہتی نہیں

دھیرے دھیرے … بہت کپکپاتے ہوئے

اور لرزتے ہوئے

کھوئی کھوئی سبک تتلیاں

گلناز کوثر

سوکھا پتا

ہریالی کی قید میں اکثر

یوں لگتا ہے

میں بھی سوکھا پتا ہوتا

ہوا کی ہلکی سی تھپکی پر

زنداں کا دروازہ کھلتا

دھوپ کے اُجلے منظر

میرا تن سہلاتے

رنگ مہکتی ، کچی مٹی کا میری بھی

روح میں گُھلتا

ہوا کی مدھم لہروں پر

ہلکورے لیتا بہتا جاتا

سوکھی چٹخی آنکھیں کوئی

خواب نہ بُنتیں

مُرجھانے کا، جھڑ جانے کا

دل میں کوئی خوف نہ ہوتا

ننھی ننھی جگمگ آنکھیں،

مڑی مڑی سی پلکیں

چھوٹے چھوٹے پاؤں

حیرانی سے بڑھتے میری جانب

اور میں بہتا جاتا

آتے جاتے قدموں کی

آوازیں سنتا

قدموں کی آوازیں

جیسے دَھڑ دَھڑ کوئی

دھرتی کُوٹے

اور پھر وہ آوازیں

جن میں سُر گاتے ہوں

یا کچھ جھجکی ، گرتی پڑتی ،

مدھم چاپیں

دن بھر جاگتی گلیوں میں

یوں خاک اُڑاتا

رات گئے پھر سُونی، ویراں

سڑکوں پر آوارہ پھرتا

اور پیڑوں کی اوٹ میں

ملنے والوں کی سرگوشی سنتا

ہریالی کی قید میں اکثر

یوں لگتا ہے

آزادی کا اِک دن

ساری عمر کی قید سے

اچھا ہوتا

میں بھی سوکھا پتا ہوتا …

گلناز کوثر

ابھی کچھ دن

اداسی آج بھی …

بے صَوت حرفوں کے

گھنے جنگل سے

خاموشی کی بس اِک

کنکری چُن کر

ہمارے دِل کے

ساکت ساحلوں پر

پھینک جائے گی

دُبکتی چاندنی

آنکھیں نہ کھولے گی

سُلگتی موج سے اب بھی

تلاطم کی کوئی صورت

نہ نکلے گی

ابھی کچھ دن اُجالے دھند کے

صحرا سے گزریں گے

پرندے اپنے دم سادھے رہیں گے

گھونسلوں کے در نہ کھولیں گے

ابھی کچھ دن …

ابھی کچھ اور دن ہم بھی

کسی سے کچھ نہ بولیں گے …

گلناز کوثر

پاگل عورت کے لیے ایک نظم ؎

انجانی بے درد مسافر

بارہ برسوں سے سڑکوں پہ بھٹک رہی ہے

جیسے ہوش کے آخری لمحے

اُس نے سفر کی ٹھانی ہو

پھر اِک اندھی بہری منزل

اُس کی آنکھ سے چپک گئی ہو

پھر اِک گم صم گونگا رستہ

اُس کے پیڑ سے لپٹ گیا ہو

پھر اِک پتھر جیسا وعدہ

اُس کی رُوح پہ آن دھرا ہو

اور وعدے کی سل پر جیسے

بارہ برس کی گرد کے نیچے

سہما سا اِک خواب پڑا ہو

روکھے سوکھے بالوں میں اب

وقت کی چاندی پھیل رہی ہے

بوسیدہ کپڑوں کی درزیں

روزن بنتی جاتی ہیں

لیکن دھول بھری آنکھوں سے

آس کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں

لیکن میل بھرے ہاتھوں نے

زادِ سفر کو تھام رکھا ہے

اور خالی دل سوچ رہا ہے

آج تو اُس کو آنا ہو گا …

(بارہ طویل برسوں تک لاہور کی سڑکوں پر مال روڈ، جی پی او اور سکرٹریٹ کے بس سٹاپس پر اکثر ایک پاگل عورت کاندھے پر بیگ لٹکائے انتظار میں کھڑی نظر آیا کرتی تھی … سنا ہے شاید کالج کے زمانے میں اسے کسی ایسے لڑکے سے محبت ہوئی جس سے شادی ممکن نہ تھی … نتیجتاً دونوں نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا … کسی بس سٹاپ پر ملنا طے تھا مگر لڑکا نہیں آیا … اور وہ بھی لوٹ کر گھر نہیں گئی … بارہ برسوں نے اس عورت کے ظاہری حلیے کو کافی حد تک بدل دیا لیکن آنکھوں میں ٹھہرا انتظار ویسے کا ویسا ہی رہا ۔)

گلناز کوثر

ستارہ

ستارہ سر شام پھر بند کھڑکی کے پیچھے

پرانے درختوں کی ناکارہ شاخوں پہ سجنے لگا تھا

بہت ننھے روزن سے کرنوں کا ہالہ

کسی ویراں ، آسیب تن سے

اُلجھنے لگا تھا

ستارہ رُوپہلے شبستاں کے منظر سے

آنکھیں چرائے

لُٹے گھر کے تنہا و تاریک کمرے کی

بوسیدہ کھڑکی پہ

کرنیں بچھائے

بہت خشک وحشت بھری

اُس کی بے بس نگاہوں کو چھونے لگا تھا

وہ روزن سے پھوٹی ہوئی

تیز کرنوں سے بچتا بچاتا

اسی اُونچی دِیوار کے ایک کونے میں

بیٹھا رہا تھا

وہ بیٹھا رہا تھا

وہ اپنے بہت میلے ہاتھوں کی

ادھڑی رگوں کو چھپائے

پریشاں نگاہوں سے

کرنوں کے ہالے کو

تکتا رہا تھا

ستارہ کہیں بند کھڑکی کے پیچھے

بہت منتظر تھا

گلناز کوثر

ڈر لگتا ہے

تم کیسے سمجھو گے

لیکن

ہم نے تو

دیکھا ہے

جیون بھر کا حاصل

ایک یہی لمحہ ہے

پل ہے

تارے جیسا

جھلمل جھلمل،

شیتل،کومل

ورنہ اس بے کار

سفر میں رکھا کیا ہے

وقت کے سینے پر

بے مقصد بہتے جاؤ

ہچکولے اور تنہا کشتی

ہاں تو …

ایک یہی پل ہے جو

لیکن …

جیسے …

ہاں پر تم

کیا جان سکو گے؟

کیسی کیسی گانٹھیں

دھول، نکیلے پتھر

ہچکولے اور تنہا کشتی

کومل پل بھی

جھوٹ نہیں ہے

اس سے پہلے

لمحے کے

چھونے سے پہلے

تم تو نہیں سمجھو گے لیکن

آؤ کہیں چھپ جائیں

کتنا ڈر لگتا ہے …

گلناز کوثر

میں نہیں ہوں مگر

میں نہیں ہوں مگر

اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف

پھول بل کھائی، اُلجھی ہوئی بیل پر

زندگی کے اہم فیصلے کی گھڑی سے الجھتے ہوئے

میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن

جمی ہے یہاں آج تک

ننھے دھبے میں اِک بے کلی میرے احساس کی

اور قالین پر میری پیالی سے چھلکی ہوئی

چائے کا اِک پرانا نشاں

اب بھی تکتا ہے مٹیالی آنکھوں سے

چھت کی طرف

آج بھی ہیں پڑی شیلف پر

جو کتابیں خریدی تھیں

میں نے بہت پیار سے

آج بھی ہیں جڑے

کاغذوں کے حسیں آئینوں میں

مری سوکھی پوروں سے پھوٹے ہوئے

کالے حرفوں کے چہرے عجب شان سے

میں تو حیران ہوں …

مجھ سے منسوب ہر ایک شے

جوں کی توں ہے تو کیا ایک میں ہی تھا جو

ایک میں ہی تھا پانی کے سینے پہ رکھا ہوا نقش جو

پل دو پل کو بنا اور مٹ بھی گیا …

گلناز کوثر

ڈھلمل قطرہ

بارش کب سے تھمی ہوئی ہے

سرد ہوا سے ٹھٹھری بیلیں

سن سن کرتی دیواروں سے چپک رہی ہیں

پیپل کا یہ پیڑ پرانا

پیڑ کے چوڑے چوڑے پتے

تیز ہوا سے تھراتے ہیں

اور پھر پچھلی جانب جھک کر

لہراتے ہیں

اور اِدھر اِک ننھا پتا

حیراں حیراں ، ساکت، گم صم

تیز ہوا کے آگے کیسی خاموشی سے

ڈٹا کھڑا ہے

جھومتے اور لہراتے چوڑے پتو

تم جو غور کر و تو

اِس کی چونچ پہ

بارش کا اک ڈھلمل قطرہ

رُکا ہوا ہے …

گلناز کوثر

سنبل

سنبل اُجلے شانوں والی کومل تتلی

پیڑوں کی شاخوں سے ہاتھ چھڑا کے یوں نکلی ہے جیسے

برف کے گالے

رات کی خوابیدہ پلکوں پر

بے آواز اُتر آتے ہیں

جھونکوں کے رتھ پر سے دنیا

کیسی سندر دِکھتی ہے

کھیتوں کے یہ ہرے سمندر

شیتل جھرنے

کھَن کھَن کرتے پیتل کی چمکیلی

گاگر جیسی دھرتی

پر دیکھو یہ جگمگ سونے جیسی دھرتی

مٹی کے بے صورت لَوندوں

خاک کے بے مایہ تودوں سے

اٹی پڑی ہے

سنبل

اُجلے شانوں والی کومل تتلی

کل تک جو آوارہ جھونکوں کی باہوں میں

ڈول رہی تھی

اب اس سڑک کنارے خاک سے اٹی پڑی ہے

سنبل ریشم کی شہزادی

میرے دل میں

دو کومل لچکیلے ہاتھوں

کا اِک لمس جگا جاتی ہے

پر یہ گدلے ، بے مایہ، بے صورت لَوندے

پر یہ میرے تن کی خاک اُڑاتی دھرتی …

گلناز کوثر

رقص گریہ

ابھی ابھی تو کھُلا تھا اِک بھید آئینوں پر

لرزتی شبنم کے پاؤں ٹھہرے ہی تھے گلوں پر

ابھی کہیں گہری شام کا اِک حسین جھونکا

سجل سی خوشبو کو رمز نغمہ سکھا رہا تھا

ابھی تو خوابوں کادر بھی دل پر نہیں کھلا تھا

ابھی تو ٹوٹے ہوئے کھلونوں کا بکس

یونہی دھرا ہوا تھا

ستم گروں نے یہ کیا کیا ہے

کہ آرزو کی سجیلی موجوں کو

رقص گریہ سکھا دیا ہے

وہ دل وفا کا دیا تھا جس کو

چراغ محفل بنا دیا ہے …

گلناز کوثر

یاد رُکتی نہیں

یاد رُکتی نہیں

ٹوٹتی ہے بجھی آنکھ سے

قطرۂ آب بن کر پھسلتی ہے

رخسار کی نرم ڈھلوان پر

سسکیوں کی صدا سے

اُلجھتی ہے

گاتی ہے

دل کے حسیں تار کو

چھیڑتی ہے

مچلتے ، سلگتے ہوئے

گرم جذبوں کو چھوتی ہے دھیرے سے

لیکن کبھی یاد رُکتی نہیں

مجھ سے کہتی ہے

چھو لو مجھے ، تھام لو ،

میں کہیں گُم زمانوں کے اندھے تسلسل

سے لپٹی ہوئی

ایک زنجیر ہوں

اور میں حیرت سے تکتی ہوں

کیسے مرے سرد پہلو میں

ہر پل دھڑکتی ہے

بہتی ہے سانسوں کے دھارے میں

رہتی ہے جیون سفر میں مرے ساتھ

میں جو کبھی رُک بھی جاؤں مگر

یاد رُکتی نہیں

سرسراتی ہے پتوں کے پیچھے

حسیں چاند کی اوٹ سے

جھانکتی ہے ، جھلکتی ہے

شبنم کی شفاف بوندوں میں

جھونکوں کی باہوں میں

ہلکورے لیتی ہوئی

ڈولتی ہے ، مچلتی ہے

چھو لے گی جیسے

کسی ان کہی کو

مچلتے ہوئے درد کے

ایک سیلاب میں

بہتی جاتی ہے ان دیکھے

برفیلے رستوں پہ

پلکوں کے پیچھے

کہیں جھلملاتی ہے

بجھتی ہوئی راکھ سے

اِک دھواں بن کے اٹھتی ہے

اور تیرتی ہے کہیں

ڈبڈبائی ہوئی آنکھ کے پانیوں میں

سلگتی ہوئی پتلیوں کے تلے

ڈگمگاتی ہے

دُکھ کی کوئی موج

اندھا تلاطم ہو

طوفاں ہو، جھکتی نہیں

یاد رُکتی نہیں …

گلناز کوثر

بارش

یہ بوندیں ہتھیلی پر

رہ رہ کے لرزتی ہیں

تھم تھم کے مچلتی ہیں

اور آہنی ریکھائیں

گم نام حرارت سے

جلتی ہیں ، سنبھلتی ہیں

چپ چاپ پگھلتی ہیں

نمناک فضاؤں کے

حیران دریچوں سے

کرنیں سی جھلکتی ہیں

کچھ کہہ کے دبے قدموں

یکبار پلٹتی ہیں

آوازوں کے جنگل سے

کچھ کانچ بھری کلیاں

کچھ سر بفلک شاخیں

کھڑکی کے بدن تک بھی

مشکل سے پہنچتی ہیں

آوازوں کے جنگل سے

خاموشی کی بیلیں جو

اِک دل سے نکلتی ہیں

اِک دل میں اترتی ہیں

گلناز کوثر

رات کے دو …پہر

لڑکھڑائی ہوئی رات کے دو …پہر

جیسے بیکار لمحوں کی

اُجلی گزرگاہ سے

آج گزرے نہیں

جھینگروں کی سَنن سَن کے آگے

کسی یاد کا قافلہ

جیسے ٹھہرا نہیں

چاند بس دو فریبی سی

شاخوں کی باہوں میں

ہلکورے لیتا رہا

اور تارے کسی

غیر ممکن تصور کو تکتے رہے

دھیمی سرگوشیوں سے بھرے

سبز پتے یوں جیسے ہلے ہی نہیں

لمبی ویران سڑکوں پہ

جھونکوں کی آہٹ کا کچھ

شائبہ تک نہ تھا

اور کھوئی ہوئی

سوچ کے کارواں

دل کی خالی فصیلوں پہ

اُترے نہیں

رات کے دو … پہر

زندگی کی کسی رہ سے

گزرے نہیں …

گلناز کوثر

اِقرار

کہو جب ایک ڈولتی پکار نے

دبیز آسمان کی

خموش، خشک سلوٹوں کو چُھو لیا

گھنیری سبز شاخ سرد رات کی منڈیر پر

جو جُھک گئی

تو کائنات رُک گئی

کبھی کسی اُداس دل کی

دھڑکنیں مچل گئیں

تو کیسی اندھے فیصلوں کی ساعتیں

بھی آہنی گرفت سے پھسل گئیں

کہو سمے کی آنکھ میں رُکے ہوئے

لہو نے سرسراتے سوکھے بادلوں سے کیا کہا

کہ حبس رات میں کہیں سے جھوم کر گھٹا چلی

گھٹا چلی تو دیر سے

تپکتے گرد راستے مہک اُٹھے

وہ حرف تھے کہ تتلیوں کے قافلے

رُکے کسی اجاڑ زرد پیڑ پر

سسکتے سرد راستوں سے

اِک کرن گزر گئی

تو رنگ پھیلتے رہے

تو رنگ پھیلتے رہے تھے دیر تک

ہواؤں میں ، فضاؤں میں

کوئی صدا رُکی رہی

کہو وہ کوئی

گنگناتے ساز تھے

کہ روشنی کے سلسلے

کہ پتھروں سے پھوٹنے لگی تھی

کوئی آبجُو

وہ رنگ تھے کہ پھول تھے

کہ چاندنی کی نرم لَو

کہو کہو …

گلناز کوثر

اسے میں بھول جاؤں گی

کسی کی یاد کا چہرہ

مرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑ کی سے

جو مجھ کو بلاتا ہے

سمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارا

جو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہے

اُسے میں بھول جاؤں گی

ملائم کاسنی لمحہ

کہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہے

کوئی بھولا ہوا نغمہ فضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہے

بہت دن سے کسی امید کا سایہ

کٹھن راہوں میں میرے ساتھ آتا ہے

اسے میں بھول جاؤں گی

پرانی ڈائری کی شوخ تحریروں میں

جو اِک نام باقی ہے

کسی منظر کی خوشبو میں رچی

جو راحتِ گمنام باقی ہے

ادھورے نقش کی تکمیل کا

جتنا بھی ، جو بھی کام باقی ہے

یہ جتنے دید کے لمحے

یہ جتنی شام باقی ہے

اسے میں بھول جاؤں گی

کسی کی یاد کا چہرہ

اسے میں بھول جاؤں گی

اسے میں بھول جاؤں گی

میں اکثر سوچتی تو ہوں

مگر وہ یاد کا چہرہ

مگر وہ ادھ کھلی کھڑکی

گلناز کوثر

کوئی نہیں ہے

ادھر آج کوئی نہیں ہے

تھکا ہارا منظر

یونہی بے خیالی سے

بہتے ہوئے وقت کو

دیکھتا ہے

کبھی کوئی لمحہ

بہاؤ میں اٹکے ہوئے

خشک پتے کو چھو کر

ذرا دیر تھمتا ہے تو

جاگتی ہے کہیں کوئی دھڑکن

مگر وہم ہے یہ

ادھر آج کوئی نہیں ہے

دسمبر کی ساکت فضا میں

فقط سرسراتا ہے بے سمت، الجھا ہوا

اِک بہاؤیا پھر ایک جانب دھرا

یہ تھکا ہارا منظر

گلناز کوثر

کون رُکے گا

دیکھو دُور ہرے بھرے

اُن پیڑوں کے چمکیلے پتے

ہولے ہولے ،

لچک لچک کر

اُچک اُچک کر

کوری اُجلی کرنوں کو

تکتے ہیں

کیسے حیرانی سے

چاہو تو چھو لو

ان نازک پتوں کی

آغوش میں

ایسا پھول کھلا ہے

دیکھو تو یہ سارا منظر

کتنا بھلا ہے

تمہیں پتہ ہے؟

منظر کے پیچھے

اِک منظر

چھپا ہوا ہے

جیسے نیچے بہنے والی

گدلی نہر میں

گھومتی لہریں

جنگلی گھاس کی نوکیں

چھدرے پیڑوں میں

اِک حبس بھری خاموشی

مریل کرنیں

اُونچی گھاس کے اندر

سڑتے ہوئے پانی میں

کچھ بے صورت پودے

ہمیں پتہ ہے

کون اُن اُجلے پیڑوں کو

دیکھے گا

اور پھر کون جھکے گا

گھاس کی تیز نکیلی دھار کے پیچھے

اِن بے صورت پودوں

کو تکنے کی خاطر

آخر کون رُکے گا؟

گلناز کوثر

درد

سرسراہٹ ہے

نہ آہٹ ہے

نہ ہلچل ،

نہ چبھن

درد چپ چاپ

کسی دھیمی ندی کے جیسے

سانس لیتی ہوئی

گانٹھوں میں

اُتر آیا ہے

کتنے برسوں کی

ریاضت سے

ہنر مندی سے

ایسے بکھرے ہوئے

ریشوں کو سمیٹا ہے مگر

اور ہر بار

ہر اِک بار

بہت جتنوں سے

جسم کو جان سے

جوڑا ہے مگر

گانٹھ در گانٹھ

کہیں سانس کی کٹتی ڈوری

کب سے تھامے ہوئے

بیٹھے ہیں مگر

آج نہیں …

یا کہیں درد تھمے

اور سکوں مل جائے

یا کوئی گانٹھ کھلے

اور قرار آ جائے …

گلناز کوثر

سن رائیگاں

وہی رنجشیں، وہی رغبتیں

وہی سلسلہ کسی یاد کا

وہی راستے ، وہی فاصلے

وہی رفتگان گریز پا

کبھی جذب و شوق کے درمیاں

کبھی رنج و درد کے امتحاں

وہی رنگ و رقص حیات و جاں

وہی ابتلا، وہی مبتلا

کسی رات چاند کو پا لیا

تو اُداس گھر کو سجا لیا

کسی شام دردِ فراق نے

یونہی دل سے ہاتھ اُٹھا لیا

پس حرف اب بھی رُکی رہی

مرے دل کی سہمی ہوئی ندا

وہی التفات کی التجا

وہی بے نوا ، وہی بے صدا

اُسی التماس کے ماسوا

سن رائیگاں سے ملا ہے کیا …

گلناز کوثر

قیدی چڑیاں

سائیکل کے پیچھے

اِک پنجرے میں چکراتی

نازک چڑیو

صبح کے گم صم سناٹے میں

کیسا شور اُٹھاتی ہو

اُونگھتے اور ٹھٹھرتے

رہ گیروں کے دل میں

چیخ چیخ کر

برسوں سے سوئے ، سمٹے

اِک درد کا تار ہلاتی ہو

چڑیو! ایسے ہُمک ہُمک کر

غُل کرتی تو ہو پر دیکھو

ان کانوں میں

لوؤں تلک سیسہ بہتا ہے

اور پلکوں کے پیچھے پتھر

اور قدموں کے نیچے تختے

ہر دم ڈولتے رہتے ہیں

تم تو پنجرے میں بھی اپنے

پر پھیلائے رکھتی ہو

تم اچھی ہو

کم سے کم

اِک ہوک اُٹھائے رکھتی ہو …

گلناز کوثر

ایندھن

ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر

کہرے کی وادی سے چل کر

شہر کے برفیلے چہرے پر …

آن رُکا ہے

سرد ہوائیں

پیڑوں کی گیلی باہوں سے

پھوٹ رہی ہیں

ایسے عالم میں کم سن ، محنت کش لڑکی

ناکافی کپڑوں میں سُکڑی بیٹھی ہے

قدموں میں تنکوں کی ڈھیری

ڈھیری پر اٹھلاتے شعلے

اکڑے ہاتھوں کو اِک بوند حرارت دیں گے

پر یہ سَن سَن کرتا لمحہ

پل دو پل میں تھم جائے گا

قطرہ قطرہ خون رگوں میں جم جائے گا

ایک ٹھٹھرتی صبح کا منظر

شب خانے کی اس کھڑکی سے دیکھ رہی ہوں

سوچ رہی ہوں

میرے اپنے کمرے میں بھی

صدیوں سے برفیلا موسم رُکا ہوا

جمی ہوئی اک سوچ کی ڈھیری

برسوں سے حرفوں کا ایندھن نگل رہی ہے

سوچ رہی ہوں

جمی ہوئی ڈھیری سے چنگاری نہ نکلی

تو بھی کیا ہے

یہ انبار کتابوں کے ایندھن کی خاطر

کم سن لڑکی کو دے ڈالوں

گلناز کوثر

کیا لگتا ہے

دیکھو کیا لگتا ہے

جیسے کبھی کبھی

ان ہری بھری آنکھوں کے پیچھے

جالا بننے لگتا ہے

کچھ کڑوے منظر

پتھر کی پتلی پر یونہی

پھدک پھدک کر

رہ جاتے ہیں

کیا لگتا ہے

آخر کسی بھی شے سے

میری کیا نسبت ہے

جیسے دو ٹانگوں پر چلنے والے پُتلے

جن کا چہرہ

میرے اپنے چہرے سے

ملتا جُلتا ہے

اس سے علاوہ کیا ہے

جو اِک دھیرے دھیرے

بننے والے

جالے کے اس پار سے

دل کو چھونے لگا ہے …

گلناز کوثر

عید

بھیڑ میں مکانوں کی

ایک بند دروازہ

سُونے سُونے آنگن میں

ڈھیر سوکھے پتوں کا

خشک پیڑ سے لپٹی

بے حساب تنہائی

سرد، خالی کمروں میں

سانس لیتا سناٹا

منتظر ہیں مدت سے

بے پناہ شدت سے

پر اُجاڑ سے گھر کے

بے چراغ آنگن میں

ٹوٹ کر شبستاں سے

عید کس طرح اترے

گلناز کوثر

نائٹ میئر

بہت کالی راتوں کے گرداب سے

ایک آہٹ نکل کر

دبے پاؤں بڑھتی ہے

کھڑکی سے لگ کر

کوئی اجنبی شکل رونے لگی ہے

مجھے وہم ہے

میں اگر اس کے رونے پہ

رونے لگوں تو

یہ فوراً پگھل کر مرے ساتھ

بہنے لگے گی

کوئی لجلجاتی ہوئی چیز

سہمے حلق سے اُترتی ہے

اور تھرتھراتی ہوئی سانس

جمنے لگی ہے

یہ پتھرائی دھڑکن کی

آواز ہے یا کوئی دھپ سے

بستر میں کُودا ہے

اور خرخراتی ہوئی ایک مدھم صدا

یہ صدا ہے کہ پھر میری سوئی

نگاہوں کو دھڑکا لگا ہے

لرزتی ہوئی رات کی آنکھ

کھلتی نہیں ہے

کسی طور پتھرائی ساعت

پگھلتی نہیں ہے

مجھے وہم ہے پھر اگر یہ

پگھلنے لگی تو مرے ساتھ

بہنے لگے گی

اُچٹتی ہوئی سسکیاں

لے رہا ہے کوئی

جیسے میں اپنے بستر میں

تنہا نہیں ہوں

ابھی میں نے چاہا تو ہے

چیخ کر اُٹھ پڑوں

پر کسی نے

مری سانس باندھی ہوئی ہے

مرے پاؤں جکڑے ہوئے ہیں

کوئی اجنبی چیز ہے جو

مرے ایسے بے جان تن کو

دُھنکنے لگی ہے

مری سانس رُکنے لگی ہے

گلناز کوثر

بس ایک بوند زندگی

سو چپ رہو، سو مان لو

وہ کہہ رہے ہیں تم سے گر

تمہاری نرم سانس

اُن کی زندگی پہ بوجھ ہے

تو اپنی سانس گھونٹ لو

ابھی تمہارے ان بُنے وجود میں

دھرا بھی کیا ہے

ننھی ننھی دھڑکنیں

چلیں تو کیا

رُکیں تو کیا

سو چپ رہو، سو مان لو

ٹھہر نہیں سکے گی

تیز آندھیوں کے سامنے

یہ جگنوئوں سی روشنی

اٹل چٹان فیصلوں کی زد میں

ایک پھوٹتی ہوئی کلی

پکارتے ، چنگھاڑتے کڑے بھنور

کی راہ میں

بس ایک بوند زندگی

مجھے پتہ ہے ظلم ہے

مگر تمہیں خبر نہیں

تمہیں ابھی سے کیا خبر

کسی بھی ظلم ، درد ، گھاؤ،

موت اور زندگی کے ذائقے

تمہاری نرم دھڑکنوں نے

کچھ بھی تو سہا نہیں

حسین تتلیاں ، بہار ، پھول ، پیڑ ،

چھاؤں ، دھوپ،

پتیوں کے ، پانیوں کے سلسلے

تمہاری کوری سانس نے

کسی کو بھی چھوا نہیں

سو چپ رہو، سو مان لو

یہی وہ چاہتے ہیں گر

تمہیں مٹانے کے سوا

کوئی بھی راستہ نہیں

تو اُن کی بات مان لو …

گلناز کوثر

کرسمس ٹری کو سجاتے ہوئے بچے سے

دِیے جل رہے ہیں

تمہاری چمکدار

ننھی نگاہوں میں

روشن ہے خوشیوں بھرا ایک لمحہ

دمکتی ہوئی نقرئی گیند ان سبز پتوں میں

ہلکی سی لرزاں ہے

جس کو ابھی چھو کے تم نے

الُوہی مسرت کے رنگین پل کو جیا ہے

مگر ننھے بچے

تمہیں یہ پتہ ہے

یہاں سے بہت دور

نیلے سمندر سے آگے

یہی ایک لمحہ ہے جس میں کسی نے

اُدھڑتے ہوئے جسم کے

کانپتے چند ریشوں سے

کیسے ابھی زہرِ جاں کو پیا ہے

دھڑکتی ہوئی سانس لیتی زمیں پر

تمہاری طرح کتنے روشن دِیے تھے

جنہیں چند سفاک ہاتھوں نے گُل کر دیا ہے

مری سوہنی دھرتی کی

شفاف پیالی میں قدرت نے جیسے

بس اک پل میں تازہ لہو بھر دیا ہے …

گلناز کوثر

شاعرِ وقت

جگمگاتے ہوئے خواب سب

تیری بے تاب پلکوں پہ سایہ کریں

حرف کی جھلملاتی ہوئی تتلیاں

تیری انمول پوروں کو چھو کر چلیں

پھوٹتی ہی رہیں

شاعرِ وقت تیرے کسی

نخلِ احساس سے کونپلیں

اپنی مٹی کی نمناک خوشبو میں

سمٹا ہوا

تُو مہکتا رہے

زندگی کے کسی بحر ظلمات میں

ایک دل کی طرح

تُو دھڑکتا رہے

شعر کہتا رہے

گیت لکھتا رہے

شعر کہتا رہے

گیت لکھتا رہے

گیت ایسے لکھے

کہ نہ صرف اس صدی کا ہی

حصہ بنے

شاعر وقت تُو

آنے والے زمانوں کا حصہ بنے

گلناز کوثر

چوراہے کا ڈھولچی

بے یقینی کے بے کل سمندر میں اُتری ہوئی

دو سیہ کشتیاں

موج در موج پھیلے ہوئے پانیوں میں

سلگتی ہوئی

دو عجب بستیاں

سُونی آنکھوں میں دو

ڈولتی پُتلیاں

ڈولتی پُتلیاں

عکس لہروں پہ محروم سی آس کا

خشک چہرے کی اُن سلوٹوں میں مچلتا ہوا

بے کراں انتظار

شہر کے اس حسیں موڑ پر

سانولی سوکھی ٹانگوں پہ رکھا ہوا

اک زمانے کا بار

خشک ہاتھوں میں تھامی ہوئی ایک امید

گاڑی کی آواز

جیسے کہیں

کوئی آ کے رُکا

اور تصور میں مہکی ہوئی

سوندھی روٹی کا چہرہ سا لہرا گیا

ڈھول پر تھاپ دیتے ہوئے کانپتے ہاتھ

اور اس طرف جھومتے لوگ آسودہ تن

رنگ اور روشنی میں نہائے بدن

کوئی کیسے سُنے

ڈھول کی تھاپ میں

لڑکھڑاتی، تڑپتی ہوئی سسکیاں

روشنی میں نہاتی ہوئی

بھوک سے بلبلاتی ہوئی

جان کی

آخری ہچکیاں

گلناز کوثر

یہی بہت ہے

یہی بہت ہے

آج وہ مدھم چاپیں

اس رستے سے اُبھری تھیں

تم جس پر

لحظہ بھر کو

رُک سے گئے ہو

پیڑ سے لپٹا جھونکا

گھاس میں اُلجھی خوشبو

اور دِیوار پہ

نادیدہ سا دھبہ

جس کو تم نے اپنی

پور پہ اب محسوس کیا ہے

جل تھل ایک ہوا ہو جس میں

ایسی مست، نرالی رُت کا

ذکر ہی کیا ہے

یہی بہت ہے

آسمان پر اُڑتا بادل

دھرتی کے شانوں کو

چھو کر

گزر گیا ہے …

گلناز کوثر

دو دِیے

ظلمت شب کی چشم پریشان میں

کسمساتے ہوئے

دو دِیے

ایک سہمے ہوئے طاق پر

ٹمٹماتے ہوئے

ملگجی ، ماند پڑتی ہوئی روشنی

زرد رُو ، بے اماں

ایستادہ ستوں سے

الجھتا ، لپٹتا

لرزتا دھواں

دو نگاہیں مگر

آنچ دیتی ہوئی

بے زباں سسکیاں

روح میں دفعتاً

تھرتھراتی ہوئی

سانس کی ڈوریاں

تیرتی ہیں کسی ڈبڈبائی ہوئی

آنکھ میں

دو لَویں … مستقل

اور کہیں تیز جھونکوں کی آہٹ پہ بھی

کانپ اٹھتا ہے دل …

گلناز کوثر

مردہ کبوتر

اُونچی شاخوں سے اُلجھی ہوئی ڈور

کچھ مردہ تنکوں کے

اندھے سہارے پہ

لٹکا ہوا یہ کبوتر

خدا جانے کب سے

ہواؤں کے دھارے پہ

بہنے لگا ہے

ادھ کھلے پر میں جکڑی ہوئی

ڈور کا یہ سرا ہی

کبوتر کا اس پیڑ سے

آخری واسطہ ہے

پر یہ ننھی خمیدہ سی گردن جھکائے

بڑی بے نیازی سے بس

ڈولتا جا رہا ہے

نیچے جلتی ہوئی اِک سڑک پر

وہ ہنگام ہستی ہے جس کو بھی دیکھو

وہی اپنے پیروں کے چھالے چھپائے

پریشاں نگاہوں میں خوابوں کی

بے تابیوں کو سجائے

کسی اندھی منزل کی جانب

بڑھا جا رہا ہے

جو دیکھو تو سانسوں کا تاوان

خلق خدا پر کڑا ہے

بصد شکر معصوم، ننھے سے دل کو

قرار آ گیا ہے …

گلناز کوثر

صبح بس میں …

ڈھیلے فیتوں والے نیلے سینڈلوں میں ننھے پیر

بیٹھے ہیں یہ سانولے قیدی بڑے چُپ چاپ سے

اِن سے کیا جانے ہوئی ایسی خطا

لازمی ہے اِن پہ گردش میں رہیں

جانے کیسے جُرم کی پاداش میں

پل دو پل کا یہ سفر اور چلچلاتی زندگی

اُونگھتے ہیں دو کبوتر بس ذرا سی دیر کو

ایک جھپکی اور صدیوں کی تھکن کے کارواں

صف بہ صف اترے چلے آتے ہیں سُونی راہ پر

جانتے ہیں بس ابھی رُک جائے گی

اور سڑکوں ،راستوں ، فٹ پاتھ پر

شام تک چلتے رہیں گے گردشوں کے سلسلے

پھر بھی خوابوں کو بلانے سے

یہ باز آتے نہیں …

گلناز کوثر

اجل کے لمحو

یہ کِشت اُلفت کی زرد مٹی

یہ سہمی شب کے اُداس تارے

سوال دستِ اجل کی جانب

ہزار حیرت سے تک رہے ہیں

ابھی لہو سے کسی بھی چہرے کا

نقش بننے میں دن پڑے تھے

زمیں کے آنچل سے بیج باندھے ہی تھے صبا نے

کہ جن سے زندہ دھڑکتی کونپل کو پھوٹنا تھا

سنہری ، نوخیز ، نرم کونپل

جو دلبری کے حسیں مناظر کا آئینہ تھی

جو چاند راتوں سے گزرے لمحوں کا نقش پا تھی

وہ ننھی ، معصوم ، بند پلکیں

کسی بھی روشن ، حسین ساعت

کسی بھی تیرہ ، اداس لمحے

سے بے خبر تھیں …

ادھورے ہونٹوں کی نغمہ گہ سے

نکلتی بے صوت ان صداؤں سے

گیت بننے میں

دن پڑے تھے

بہ نوکِ نشتر ہیں

آرزوئوں کے سارے ریشے

ستم نوازی کی داستاں بھی

بدن کی سلوٹ سے پھوٹتی

شاخِ بے اماں بھی

کہ جس پہ چاہت کے پھول آنے میں

دن پڑے تھے

اجل کے لمحو

بدن کی گٹھڑی سے

زندگی کا سراغ پانے

میں دن پڑے تھے

گلناز کوثر

شام سے ذرا پہلے

شام سے کہیں پہلے

اضطراب کی کلیاں

شاخِ جاں سے پھوٹی تھیں

آرزو کے ہرکارے

دلفریب بستی سے

رنگ اور مستی کے

سب پیام لائے تھے

شوق سے لدی ڈالی

جھوم جھوم چلتی تھی

کیسی اجنبی خواہش

خون میں مچلتی تھی

اور رگوں میں ہر لحظہ

اک فشار رہتا تھا

دُور کے مسافر کا

انتظار رہتا تھا

شام سے ذرا پہلے

صحن گل میں خوشبو نے

دھوم کیا مچائی تھی

سرخ سرخ پھولوں نے

دلگداز راہوں میں

آگ سی لگائی تھی

ڈھلتی دھوپ کا سایہ

شاخ سے لپٹنے کو

بے قرار رہتا تھا

اجنبی مسافر کا انتظار رہتا تھا

شام کے دریچوں سے

دلفریب بستی کا

رنگ اور مستی کا

کچھ نشاں نہیں ملتا

رخصتی کے سب منظر

در بہ در اترتے ہیں

ٹنڈ منڈ شاخوں پر

لمحے بین کرتے ہیں

شام ڈھلتی رہتی ہے

پھیلتے اندھیرے سے

چپکے چپکے کہتی ہے

دل نہ جانے کیوں ہر دم

سوگوار رہتا ہے

دُور کے مسافر کا

انتظار رہتا ہے

آفٹر بلاسٹ

نہیں نہیں

یہ جھوٹ ہے

دھڑک رہے تھے ہم یہاں

یہیں کہیں

یہیں کہیں پہ ان حسین پتیوں سے

کھیلتی رہی تھیں شوخ تتلیاں

اسی جگہ جھکی ہوئی تھی شاخ گل

کہ کھولتی ہو پیچ و خم

ہوائے مشک بار پر

ابھی ابھی تو بُن رہے تھے خواب ہم

حسین زندگی کے خواب

تیرتے تھے دیر تک

فضاؤں میں ، ہواؤں میں

یقیں نہ ہو

یقیں نہ ہو تو نیلگوں

ہوا کو چھو کے دیکھ لو

دھڑک رہے تھے ہم یہاں

یہیں کہیں …

گلناز کوثر

فون کال

دھوپ اور میں

یہاں دیر سے

یونہی چُپ

اوندھے لیٹے ہوئے

کہ اچانک ہوا اپنے ہاتھوں پہ

لائی ہے مانوس دستک

مہکتا ہوا دھیما لہجہ

بس اِک آن میں کھل اُٹھے

پھول سے خواب

خالی نگاہوں میں

اُترے ہیں رنگین منظر

کھنکتی ہوئی

ایک مدھم ہنسی

دل مرا رقص کرنے لگا

دل مرا رقص کرنے لگا

اور میں نے کہا

آج تو چھو ہی لوں گی

بہت نرم لفظوں میں

بہتے ہوئے ایک احساس کو

میں نے چاہا

بڑھی میں

مگر کچھ نہ تھا

گلناز کوثر

لائبریری میں

خاک آلود جلدوں میں رکھی ہوئی زرد رُو پُتلیاں

مجھ کو حیرت سے تکتی ہیں جیسے کہ میں

جیسے میں ان کے غرفوں میں اُمڈے ہوئے

خواب کا کوئی حصہ نہیں

پیلے اوراق کے مُردہ خانوں کے پیچھے

کہیں کوئی خواہش چھپی ہے …

جو … اب چاہنے پر مرے ہاتھ آتی نہیں

مجھ سے کہتی ہے اے اجنبی کون ہو

اب میں کیسے کہوں

میں انہی زرد آنکھوں سے دیکھے ہوئے

خواب کی ایک تعبیر ہوں

کیسے جوڑوں میں اوراق کے

کند حرفوں سے کوئی تعلق کہ میں تو فقط

میں فقط اک تسلسل کی

موجودہ کڑیوں سے اُلجھی ہوئی

کوئی تحریر ہوں

گلناز کوثر

سلِیپ ڈِس آرڈر

تو پھر سے سرد رات نے

پٹخ دیا ہے نیند کو

پھٹی پھٹی نگاہ میں

خمار کا

ذرا بھی شائبہ نہیں

نہ گرد خواب کا گماں

کسی خیال کا دھواں

یہ میں ہوں اور

وقت کی منڈیر سے

تھکے تھکے خموش پل

پھسل رہی ہیں ساعتیں

سکوتِ دل کو راحتیں

نہ رنج کی شکایتیں

سمیٹتی ہے رات کچھ

مسافتوں کی بے بسی

بہت سپاٹ زندگی

اُچاٹ دل میں خیمہ زن

کوئی ملال بھی نہیں

شب سیاہ کی نظر سے جھانکتا

کوئی سوال بھی نہیں

ملال کوئی ہے اگر

پسِ شعور

وقت کی صلیب پر

جھکا ہوا

سوال کوئی ہے اگر

برونِ سطح آب کو

ابھی سے اس کی کیا خبر …

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

کیسا حیلہ کروں

رات کٹتی نہیں

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

اندھی اُلفت کی بے تاب سی سرخوشی

دوڑتی ہے مرے جسم میں

بے بیاں وصل کی لذتیں

میرے احساس میں گل کھلاتی ہیں

شب کچھ ڈھلکتی ہے

اور ساتھ ہی

میری پلکیں بھی

خواب اور خواہش کی آغوش میں

ڈھلکی ڈھلکی سی ہیں

پر اچانک کہیں جاگتی ہے کوئی کپکپی

خوف کی زد میں آئے ہوئے

جان و دل

اِک کماں ایسے کھنچتے چلے جاتے ہیں

ایک سایہ کھرچتی ہوں اپنے بدن سے مگر

ایسا ممکن نہیں

کیسا حیلہ کروں

رات کٹتی نہیں

مجھ سے آ کے یہ کہتی ہے

اترو مری تیرگی میں جہاں

کوئی روزن نہیں

کوئی رستہ نہیں

ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں

رات کٹتی نہیں

کیسا حیلہ کروں

گلناز کوثر

راہِ آشوب

رخت جاں باندھنے سے پہلے کچھ

بے نشاں، سرمئی مناظر نے

ڈبڈبائی اُداس آنکھوں سے

آخری بار مڑ کے دیکھا ہے

شام کی سرخ رُو حسیں دلہن

کاسنی رات کی پیالی میں

گھولتی جا رہی ہے رنگِ فراق

چل پڑے سست رو، تھکے ماندے

نیم خوابیدہ بادلوں کے مزار

اُن کے سائے میں اک دلِ ناسُود

لمبی، ویراں، کڑی مسافت سے

آرزو کی شکستگی سے چُور

ڈوب جائیں گے یونہی کچھ پل میں

پھر سے اِک دن کی روشنی کے سراغ

بادلوں کے سیہ مزاروں پر

ٹمٹمائیں گے ننھے ننھے چراغ

اور ہر بار کی طرح پھر سے

وقت کے تیرہ بخت سینے میں

گھُٹ کے رہ جائے گی صدائے نجات

راہِ آشوب سے تنِ خستہ

چاہ کر بھی کبھی نہ لوٹے گا …

گلناز کوثر

وہم نہیں ہے

ڈھلتے ڈھلتے

ایک رُوپہلے منظر نے کچھ سوچا …پلٹا

پگڈنڈی سنسان پڑی تھی

مٹیالی اور سرد ہوائیں

ہاتھ جھُلاتی شاخیں

رُوکھے سوکھے پتے

تنہا پیڑ پہ بیٹھے بیٹھے

چٹخ رہے تھے

ٹوٹ رہے تھے

خاک اُڑاتی پگڈنڈی پر

شام سمے کا دھندلا بادل

جھکنے لگا تھا

ڈھلتے ڈھلتے

ایک رُوپہلے منظر کی اُن بھید بھری

آنکھوں میں کوئی

جگنو چمکا …تارا ٹوٹا …وہم نہیں ہے

آج اُن کھوئی کھوئی

بوجھل آنکھوں میں

کوئی جگنو چمکا

تارا ٹوٹا

لحظہ بھر کو

وہم نہیں ہے …

گلناز کوثر

ایک سوال (رقیب سے)

کبھی تم سسکتی صداؤں کو سُن کر

بہت زرد، مدھم سی اُمید پر

درد کی گہری دلدل میں اترے؟

تپکتے ہوئے گرد رستوں

کٹھن، سرد لمحوں سے گزرے؟

دہکتی ہوئی رات کی کروٹوں میں

کسی خواب کی دھیمی دھن پر

سلگنے کی حسرت رہی ہو

کبھی ایک چبھتی ہوئی یاد دِل کو

حزیں کر گئی ہو

کسی سرپھرے جذب نے

اندھی راتوں میں پاگل کیا ہو؟

فقط ایک پل کے لیے

جیسے روتے ہوئے دل کو

دھڑکا لگا ہو

کبھی کالی راتوں کو

مدھم سُروں سے اُجالا

کبھی ٹوٹے بالوں، بچے سگرٹوں کو

چُنا اور سنبھالا

کبھی اُن نگاہوں کو تتلی لکھا ہو؟

کبھی اُن لبوں پر فسانہ کہا ہو؟

کڑی جان لیوا جدائی کا

بس ایک موسم سہا ہو

کبھی تم نے تھاما

بہت سہمے ہاتھوں کو

جیون کی

مشکل گھڑی میں

کسی ان کہی کو سنا ہو

گزرتے ہوئے وقت کی راکھ سے

کوئی موتی چُنا ہو

کبھی عمر بھر ایک رشتہ بُنا ہو

مگر پھر بھی اُتری ہیں

کیسی حسیں، دلربا ساعتیں

تُم پہ ساتوں جہاں مہرباں ہیں

اِدھر زخمی قدموں میں اب بھی

وہی درد کی بیڑیاں ہیں

وہی خشک صحرا،

وہی پیاسے، بھٹکے، بلکتے ہوئے

دل کی زخمی صدا ہے

میں حیران ہوں گر یہی ماجرا ہے

تو پھر مجھ سے میرا خدا ہی خفا ہے

گلناز کوثر

فیصلہ تو کرنا ہے

نم زدہ نگاہوں میں

آہنی لکیروں کے

ڈولتے ہوئے سائے

پھیلتے ہوئے منظر

ڈگمگاتے قدموں سے

ٹوٹتے ہوئے تختے

سرسراتی سانسوں میں

تھرتھراتے ہونٹوں پر

ان کہی کی آہٹ ہے

جسم کے سمندر کی

موج موج کٹتی ہے

اور لہو اُچھلتا ہے

اور لہو تو اُچھلے گا

دلگداز لمحے سے

وقت کی طنابوں کو

تھام کر گزرنا ہے

زندگی کٹھن ہو گی

زندگی سے لڑنا ہے

دیر سے سہی لیکن

فیصلہ تو کرنا ہے

گلناز کوثر

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

تو حیرت زدہ شام کی زرد کرنیں

کسی گمشدہ روشنی والے لمحے کو

پلٹا کے لانے کی دُھن میں

اندھیری گُپھا کو

بڑھی جا رہی تھیں

المناک پیڑوں کے سائے

سمٹ بھی چکے تھے

سبھی سلسلے، رسم وعدہ و رخصت

نمٹ بھی چکے تھے …

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

تو لہرا کے اُٹھتے تھے گمنام جھونکے

بہت اُلجھی شاخوں پہ رکھا ہوا

بوجھ جھڑنے لگا تھا

کسی شوق رفتہ، کسی رنج تازہ کا

اُس شام کے سانولے، سرد چہرے پہ

کوئی نشاں تک نہیں تھا

وہ لمحہ تھا جب

اُس گراں بار، دیرینہ خواہش کا دل میں

گُماں تک نہیں تھا …

پھسلتی نگاہوں میں بے تابیوں کا

دھواں تک نہیں تھا

تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا

تو معمول کی ایک ساعت تھی

پر یہ ابھی تک کہیں ان زمانوں

کی آغوش میں جھولتی ہے …

گلناز کوثر

یاد نہیں ہے

دھیرے دھیرے بہنے والی

ایک سلونی شام عجب تھی

اُلجھی سلجھی خاموشی کی

نرم تہوں میں

سلوٹ سلوٹ بھید چھپا تھا

سردیلی مخمور ہوا میں

میٹھا میٹھا لمس گھُلا تھا

دھیرے دھیرے

خواب کی گیلی ریت پہ اُترے

درد کے منظر پگھل رہے تھے

خواہش کے گمنام جزیرے

ساحل پر پھیلی خوشبو کے

مرغولوں کو نگل رہے تھے

دھیرے دھیرے

جانے کون سے موسم کے

دو پھول کھلے تھے

شہد بھری سرگوشی سن کر

جھکے جھکے سے

ہونٹ ہنسے تھے

بڑھنے لگا تھا ایک انوکھا

سَن سَن کرتا

بے کل نغمہ

یاد نہیں ہے

کہاں گرے تھے

میری بالی

اس کا چشمہ

گلناز کوثر

انتظار

بوڑھے پیپل پہ بیٹھی ہوئی

ملگجی شام نے

جھک کے انگڑائی لی

ڈگمگائی ہوا

سر اُٹھایا کسی مُردہ پتے نے

شاخوں سے چمٹی ہوئی

ننھی چڑیوں کا ہنگام

تھمنے لگا

تم نہیں آئے تھے

وقت چلتا رہا

قطرہ قطرہ ٹپکتی رہی چاندنی

اور گرتے رہے

چاند کی زرد آنکھوں سے

اُلجھی ہوئی آس کے پیلے سکے

پگھلتی ہوئی رات کے …دو …پہر

لمحہ لمحہ منڈیروں پہ جمتے رہے

کچھ سلگتے ہوئے سائے

یادوں کی گدلائی الگن پہ

لٹکے رہے

ایک آہٹ تھی کیا

بڑھ کے دیکھا مگر

تم نہیں آئے تھے

کرچیوں سے بھری

دو نگاہیں لگی ہی رہیں

موڑ کے اس طرف

اَن چھوئے، اَدھ کِھلے

خواب رکھے رہے

رات ڈھلنے لگی

تم نہیں آئے تھے

گلناز کوثر

سفر

تھکے تھکے سے پاؤں

دُور منزلوں کے سلسلے عجیب سے

وہ سامنے پڑاؤ بھی

مگر نہ جانے کیوں ہر ایک بار پھیلتے رہے ہیں

سامنے نگاہ کے

یہ رنگ ہیں کہ راستے

بڑھی ہے لہر کاٹتی ہے کلبلاتی ڈوریاں

یہ لہر درد کی ہے یا کچھ اور ہے

عجیب ہے

تھکے تھکے سے پاؤں

اندھے راستوں پہ بیکراں مسافتیں

بڑھاؤ ہمتیں، کوئی بھی گیت چھیڑ دو مگر رکو نہیں

کٹے پھٹے وجود کو کسی بھی تال پر چڑھاؤ

دھڑکنوں کو جوڑ لو

یہ گیت، تال، دھڑکنیں

یہ تیرگی کا، روشنی کا فرق اور فاصلہ عجیب ہے

یہ میں ہوں میری منحنی پکار سن کے

ڈولنے لگا ہے یہ جہان کہ رہا ہے وہم دیر سے

پکارتے رہے ہیں میرے ساتھ

میرے لوگ میرے ساتھ ہیں

کہ چل رہے ہیں گرد رنگ راستے

اُمڈ رہی ہیں بدلیاں

یہ گاڑھے گاڑھے بادلوں کے غول

گرد راستوں کا میل بھی عجیب ہے

میں قید ہوں کسی گھڑی کی پھیلتی خلاؤں میں

کہ تیرتا ہے وقت ڈولتا رہا ہے زندگی کے ساتھ ساتھ جسم کی گپھاؤں میں

عجیب ہے

یہ وقت، درد، راستہ

یہ جسم بھی یہ جان بھی

یہ زندگی کا سلسلہ

عجیب ہے …

گلناز کوثر

تپش

تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے

رگوں میں لہو کی بلاخیز رفتار کیسے سنبھالے

بھلا ایسی مشکل گھڑی کون ٹالے

بہت تیز جلتی ہوئی ایک ساعت

مری سانس جُھلسا رہی ہے

کٹیلی گھڑی شام سے

بھولے بسرے زمانوں کا اندھا بدن

میرے سینے پہ دھرتی چلی جا رہی ہے

مرا جسم بے معنی حرفوں تلے

پگھلے لاوے بھرا ایک پتھر

مسلسل مری جان دہکا رہا ہے

مرا دل مگر کن زمانوں کی

ٹھنڈک کی جانب

کھنچا جا رہا ہے

سپیدی بھری، آخری، نرم ٹھنڈک

اُدھر ایک کونے میں چکرا رہی ہے

تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے …

گلناز کوثر

حیاتِ رواں

بظاہر کہیں کوئی ہلچل نہیں ہے

حیاتِ رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے

بہت عام، بیکار، اُلجھے دنوں کی

ملائم سی گٹھڑی میں رکھی ہوئی

یہ فقط ایک بے نام سی دوپہر ہے

ہوا چل رہی ہے

نہ جانے کہاں

گہرے بے چین بادل کے ٹکڑے

اُڑے جا رہے ہیں

پریشان سڑکوں پہ بہتے ہوئے زرد پتے

فضا میں بکھرتا ہوا کچھ غبارِ مسلسل

ذرا پل دو پل کو

بہت دُور پتوں پہ ہنستا ہوا

تیز سورج

مگر پھر چمکتی ہوئی اِک کرن پر

جھپٹتے ہوئے گدلے بادل

کھلے آسماں پر ٹھہرتے نہیں ہیں

ہوا چلتی رہتی ہے رُکتی نہیں ہے

درختوں پہ شاخیں

اِدھر سے اُدھر ڈولتی ہیں

اِدھر سے اُدھر

میری چشم تصور میں اڑتے ہوئے چند ٹکڑے

لپکتے، جھپکتے خیالات کے میلے بادل

کہیں سطح دل پر ٹھہرتے نہیں ہیں

بظاہر جہاں کوئی ہلچل نہیں ہے

مگر یہ غبارِ مسلسل اُڑائے چلی جا رہی ہے

ہوا چلتی رہتی ہے رُکتی نہیں ہے

حیاتِ رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے

مگر ایک بے نام سی دوپہر کے

سکوت نہاں میں

عجب بے کلی ہے …

گلناز کوثر

شب ڈوب گئی

پھر گھور اماوس

رات میں کوئی

دِیپ جلا

اِک دِھیمے دِھیمے

سناٹے میں

پھول ہلا

کوئی بھید کھلا

اور بوسیدہ

دِیوار پہ بیٹھی

یاد ہنسی

اِک ہُوک اُٹھی

اِک پتا ٹوٹا

سَر سَر کرتی ٹہنی سے

اِک خواب گرا

اور کانچ کی

درزوں سے

کرنوں کا

جال اُٹھا

کچھ لمحے سرکے

تاروں کی

زنجیر ہلی

شب ڈوب گئی …

وہم ہے یا

وہم ہے یا کل رات تمہاری

گہری آنکھوں کے پیچھے

اک جال تنا تھا

درد کے دھاگے کھنچتے تھے

شفاف فضا میں

لمحہ بھر کو

مرغولہ سا چکراتا تھا

کرب کا بادل

سسکی لے کر اُٹھتا تھا

اور پتھر کی دِیوار کو چُھو کر

لوٹ آتا تھا

خالی خالی ہاتھوں کو

تکتے تھے …

اورتنہا لگتے تھے

وہم ہے …یا

کل رات

کوئی کرچی سی حیراں پور پہ آ کے

ٹھہر گئی تھی

سانسوں کی زنجیر سے کٹ کے

مدھم سی اِک ہچکی

بوجھل رات کے دل میں اُتر گئی تھی

دیکھو تو کل رات کا منظر

کمرے کی خاموش فضا میں

گڑا ہوا ہے

وہم ہے یا کچھ اور ہے

کیا ہے …

خمار اُترے گا تو کھلے گا

ابھی تو لہروں پہ

بہتے جاؤ

سلگتے رنگوں کے زاویوں سے

بھنور اُٹھاؤ

حیات کے دوسرے سرے سے

بس ایک لمبا سا کش لگاؤ

دھواں اُڑاؤ

ابھی تو گہرے سنہرے پانی میں

کھنکھناتی ہنسی ملاؤ

نشہ بڑھاؤ

دہکتے غنچوں پہ

سبز جھیلوں پہ نظم لکھو

ابھی بہاروں کے گیت گاؤ

خمار اُترے گا تو

بلاخیز ساعتوں کی خبر ملے گی

خزاں نصیبوں کے قافلوں سے

گلاب لمحے گزر گئے تو پتہ چلے گا

اُجاڑ صحرا ہے زندگی کا

سفر کڑا ہے

خمار اُترے گا تو کھلے گا

الم زدہ، دلگداز لمحہ وہیں پڑا ہے

چاند بُجھ گیا لیکن

پورے چاند کی شب تھی

آج بھی شبستاں کے

راہ رو بھٹکتے تھے

چاندنی درختوں پر

نم گزیدہ جھونکوں کی

آہٹیں سجاتی تھی …

بہتے بہتے خوابیدہ

وقت کی نگاہیں جو

خواب کی ہتھیلی پر

اِک سوال بُنتی تھیں

اور تڑپ کے سردیلی

موج کپکپاتی تھی

دیر تک دریچوں سے

اِک صدا اُبھرتی تھی …

اِک صدا اُبھرتی تھی

اور ڈوب جاتی تھی

چاند بجھ گیا لیکن

بے نوا صداؤں کا

کھیل اب بھی جاری ہے

رات ڈھل گئی لیکن

دُور کے درختوں پر

درد کے ہیولوں کا

رقص اب بھی جاری ہے …

گلناز کوثر

رخصت

صبح کی دستک

وال کلاک نے

ٓآنکھیں ملتے ملتے سنی تھی

کمرے کے ساکت سینے میں

آخری منظر

قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا

جلتی ہوئی سانسوں کے سائے

دیواروں سے لپٹے ہوئے تھے

میز کی چکنی سطح پہ رکھی

دو آوازیں پگھل رہی تھیں

دو خوابوں کی گیلی تلچھٹ

خالی گلاس میں جمی ہوئی تھی

وقت کی گٹھڑی سے کھسکائے

سارے لمحے

اِک اِک کر کے

بیت چکے تھے

چپ تھے دونوں

لیکن پھر بھی

سادہ سی خاموش نظر کے

پیچھے کہیں ہیجان چھپا تھا

سینے کی مدھم لرزش میں

مانو کوئی طوفان بپا تھا

رُوح کے اندر جیسے کوئی

جاتے لمحے کو

جتنوں سے روک رہا تھا

اور پھر اس نے رخصت چاہی

آخری پل کی آخری مہلت میں

جب بھری بھری نگہ سے

ایک ستارہ چھلک رہا تھا

میں نے بھی پھر رخصت چاہی

گلناز کوثر

مرے پڑاؤ سے پرے

رُکے ہوئے ہیں قافلے

کوئی لپک سی دُور سے

جگا رہی ہے خوف کے

پرانے زرد سلسلے

پکارتی ہیں اُس طرف سے

وحشتوں کی بدلیاں

بچی کھچی رفاقتوں کی

جھلملاتی تتلیاں

مرے پڑاؤ سے پرے

مری حدوں کے اُس طرف

بہت اندھیری رات میں

کھلی ہوئی ہیں غم گسار

ساعتوں کی ڈوریاں

الم نواز دھڑکنوں کے درمیاں

عجیب سی لکیر ہے

تو حاشیے کے اُس طرف

رُکی ہوئی،

جھکی ہوئی،

دُکھی ہوئی …

پکارتی ہے دُور سے

مجھے مرے وجود کی

صدا …!!! …نہیں

نہیں یہ میرا وہم ہے …

گلناز کوثر

نظم اور میں

نظم نے پہلے پہل آنگن کے ایک کونے سے ننھی کونپل کے جیسے سر اٹھایا تو میں اس کے وجود سے یکسر انجان رہی ۔۔۔۔۔ پھر آنگن بدلتے رہے لیکن وہ کونپل ساتھ ساتھ سفر کرتی رہی۔۔۔ ہمیشہ کونوں میں سمٹی ہوئی، دیواروں سے لگی ہوئی ۔۔۔۔ پھر ایک روز میں نے اسے دیکھ بھی لیا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر حیرت رہی ۔۔۔ دلچسپی بھی ۔۔۔ اور پھر میں بھول گئی ۔۔۔۔ سفر بہت کڑا تھا ۔۔۔۔ اور درد اپنی بساط سے بھی باہر ۔۔۔۔۔ سارا وقت رشتوں کا ریشم بُنتے نکل جاتا لیکن ہر بار ساری بُنت کھل کر پھر ایک ڈھیر کی صورت اختیار کر جاتی سو یہ کوشش ہی ترک کر دی ۔۔۔۔ اوندھے ، سیدھے دن بے آہٹ بیت جاتے اور کھڑکیوں پر نئے پرانے موسم اپنی تصویریں دھرتے گزر جاتے ۔۔۔ تب نظم آنگن سے نکل کر میرے کمرے میں آنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ دکھتی رگیں سہلاتی ۔۔۔۔ ادھر ادھر کونوں میں سمٹے وجود سے گرد جھاڑتی ۔۔۔۔ سرگوشیاں کرتی ۔۔۔۔ پھرکوئی بارہ برس پہلے جب کھڑکی پر چلچلاتے موسم کی تصویردھری تھی اور میرا وجود درد سے دہراہوا جاتا تھا تو نظم نے مجھے اپنا دوست بنا لیا ۔۔۔۔ یہ بہت محفوظ رشتہ تھا ۔۔۔۔ ایسا ریشم جس کی بُنت کبھی واپس ڈھیر کی صورت اختیار نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ اب کی بار باہر کی دنیا کو ایک مدت بعد دوبارہ دیکھا تو میری یہ دوست میرے ساتھ تھی ۔۔۔ بھیڑ میں کھو جانے کا کوئی خدشہ نہیں تھا کہ اسے سب راستے پتہ تھے ۔۔۔۔ بادلوں ، پیڑوں ، پھولوں ، ہوائوں اور موسموں ، رنگوں اور خوشبوئوں کی باتیں ہمیں اچھی لگتیں ۔۔۔ لیکن اکثر یہ باتیں اندر چھپے کسی خوف یا درد کی ملاوٹ سے بھیگ جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔ یہ کچھ ایسے دن تھے جب کبھی کبھی مجھے لگتا کہ نظم میرے وجود سے پھوٹی ہو گی اور کبھی میں سوچتی کہ دراصل میں نے ہی اس کے بطن سے زندگی تلاش کی ہوگی ۔۔۔۔ اس مرحلے پر ہم دونوں شاید ایک ہی تھے ۔۔۔۔ ہمارے پاس کہنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا۔۔۔ بس روز مرہ کی زندگی تھی ۔۔۔ حقیقی زندگی ۔۔۔ جہاں ہم دونوں سارا دن کام کاج کی مشقت میں گزارا کرتے اور رات دیر تک پتوں سے لپٹی ہوائوں کی سرگوشیوں میں چھوٹی چھوٹی سوچیں بنا کرتے ۔۔۔۔ اس لیے کہ ہم چھوٹے لوگ تھے جنہیں جو کرنا تھا خود ہی کرنا تھا ۔۔۔۔ ہم تنہا تھے ۔۔۔۔ پورے شہر میں یا کائنات میں یا کائنات سے ادھر ادھر کے سارے زمانوں میں تنہا ۔۔۔۔۔ ہم اداس تھے ۔۔۔۔ زندگی ہمارے لیے درد کا سب سے بڑا استعارہ تھی ۔۔۔۔ ہم خوشیاں نہیں ڈھونڈا کرتے تھے صرف یہ کوشش رہتی کہ درد کی شدت کسی طرح کم ہو جائے اور جس روز ایسا ممکن ہو جاتا ہم دونوں سیلیبریٹ کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ زندگی فضول لگتی اور اس کا نظام اس سے بھی فضول ۔۔۔۔۔اور اپنے وجود کا مسئلہ یکسر لاینجل ۔۔۔۔ کئی گتھیاں کھل کر ہی نہیں دیتی تھیں ۔۔۔۔ کتابوں میں محبت اور جذبوں کی باتیں پڑھنا عجیب لگتا تھا ۔۔۔۔ محبت ایسا پھیلا ہوا ، بہتا ہوا جذبہ کیسے قید کرتے ہوں گے لوگ۔۔۔۔ ہم دونوں نے تو اسے جب بھی گرفت میں لینا چاہا یہ ادھر ادھر پھسل جایا کرتا تھا ۔۔۔۔ اور ہمیں تو فورا ہی محبت ہو جاتی ۔۔۔ خزاں رسیدہ پتوں سے لے کر ہنستے ہوئے چہروں تک ہر شے سے ۔۔۔۔ مگر یہ کام اور بھی دردیلا تھا ۔۔۔۔ پتے پیروں تلے مسلے جاتے اور چہروں کی مسکراہٹوں میں تضحیک ابھر آتی ۔۔۔۔ ایسے میں ہم اپنی تکمیل کے لیے اندر کا رخ کیا کرتے ۔۔۔۔ وجود کے اندر کی دنیا کیسی پراسرار لگا کرتی ۔۔۔۔ سوچوں کی شکلیں بنتی بگڑتی رہتیں اور ہم بیٹھے ان سے کہانیاں بُنتے ۔۔۔۔ شعور اور نیم شعور کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے ۔۔۔۔ جسم کی سطح پر جیتے ہوئے۔۔۔۔ روح کے اندر گہرا اترتے ہوئے ۔۔۔۔۔ سب تجربے نظم نے کرنے سکھائے تھے ۔۔۔۔ ڈھیرا سا درد سہنا اوربس چلتے رہنا بھی ۔۔۔۔ فضول باتوں پر ہنسنا اور چھوٹے چھوٹے سہارے ڈھونڈنا بھی ۔۔۔۔ نظم کبھی کبھی مجھ سے روٹھ بھی جایا کرتی تھی ۔۔۔ اس کا جی چاہتا بادلوں سے پرے ایک خاص زاویے سے دنیا کو دیکھنے کا لیکن میں زیادہ تر اندر کے سناٹے سے الجھی رہتی ۔۔۔۔ درد رگوں میں گرہیں لگاتا اور میں بیٹھی انہیں کھولتی رہتی ۔۔۔۔۔ نظم کہتی کہ میں لاعلاج ہوں اورضرورت سے زیادہ قنوطیت پسند بھی۔۔۔۔ لیکن مجھے یہ سب پسند تھا ۔۔۔۔ میرے لیے یہی محفوظ راستہ تھا ۔۔۔۔ نظم اپنا آہنگ بلند کرنا چاہتی تھی آسمانوں میں پرواز کے لیے مچلا کرتی اور میں زمین میں اور گہرا دھنسنے کی کوشش کیا کرتی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ دراصل زندگی گزارنے کا کوئی نظریہ یا ڈھنگ میرے پاس تھا ہی نہیں ۔۔۔۔ بس یونہی جیسے خود رُو پودے ہوائوں کے تھپیڑے اور بارشوں کے شور سہتے سہتے پلتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ میرے ساتھ رہتے نظم کا نصیب بھی یہی تھا سو یہ بھی بغیر نظریے کے پلتی رہی ۔۔۔۔۔ سارے تھپیڑے سہتی اور شور سنتی ہوئی۔۔۔۔۔ نظم خوبصورت نہیں تھی لیکن اس کی آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی ۔۔۔۔ ظالم کا اپنا سحر تھا۔۔۔۔ چپکے چپکے دل پر ہاتھ رکھ دینے والا۔۔۔۔ بے خواب چاندنی راتوں میں رقص کرتے کرتے ۔۔۔ خود فراموشی کے لمحات میں اس کا چہرہ زندگی کی تمتماہٹ سے جگمگا اٹھتا ۔۔۔ ایسے میں مجھے یہ بہت اچھی لگا کرتی تھی۔۔۔۔ پھر کبھی کبھی اس کے طفیل خودفراموشی کے چند لمحات مجھے میسر آ جاتے تو اور بھی اچھا لگتا۔۔۔ بس ہماری یہی کائنات رہی ہے ۔۔۔ سادہ اور چھوٹی ۔۔۔ دنیا کی پیچیدہ سیاست اور بڑے لوگوں کے کارناموں سے شاید ہمیں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔۔۔۔ ہاں گلیوں ، محلوں ، دفتروں ، پارکوں ، سینما ہالوں اور سڑکوں پر بہتی ہوئی زندگی سے بارہا متاثر ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ حاشیے کے اس طرف جینے میں زیادہ مزہ تھا۔۔۔۔ یوں بارہ برس کی اس بے پناہ رفاقت کے صلے میں نظم کو دینے کے لیے میرے پاس اس سے علاوہ کیا ہے کہ میں اسے ایک جسم دے دوں یعنی یہ کتابی شکل ۔۔۔۔ ان سب چھوٹے بڑے خوابوں میں سے ایک خواب جو میں نے دیکھا نظم نے دیکھا اور ہمارے ساتھ کچھ اورآنکھیں بھی تھیں جنہوں نے بجھ جانے میں عجلت سے کام لیا۔۔
گلناز کوثر

فرد فرد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 647
گھر سے سفید داڑھی حاجی پہن کے نکلا
پھر سود خور کیسی نیکی پہن کے نکلا

امکان کے صحرا میں کہیں خیمہ نشیں ہیں
ہم سلسلۂ قیس کے سجادہ نشیں ہیں

خوشبو پہن کے نکلا میں دل کے موسموں میں
اور جنگ کی رُتوں میں وردی پہن کے نکلا

ہر روز ڈبو دیتے ہیں طوفان بسیرا
ہم دل کے جزیرے میں کہیں گوشہ نشیں ہیں

منصور آفاق

اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہیے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 646
دل کو کچھ دن اور بھی برباد رکھنا چاہیے
اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہیے
کونج کی سسکاریاں سُن کر کھلا رخصت کی شام
گھر بڑی شے ہے اسے آباد رکھنا چاہیے
ریل میں جس سے ہوئی تھی یونہی دم بھر گفتگو
خوبصورت آدمی تھا، یاد رکھنا چاہیے
موسم گل ہے کہیں بھی لڑکھڑا سکتا ہے دل
ہر گھڑی اندیشۂ افتاد رکھنا چاہیے
فربہ بھیڑوں کی چراگاہوں میں خیمہ زن نہ رہ
اک سفر جاری سفر کے بعد رکھنا چاہیے
باغ چاہے کہر میں گم ہے تجھے آنکھوں کے بیچ
بس وہی خوش قامتِ شمشاد رکھنا چاہیے
مت پکڑ منصور پتوں میں یہ چھپتی تیتری
ایسی نازک چیز کو آزاد رکھنا چاہیے
منصور آفاق

پانی میں رنگ اس نے شفق کے ملا دیے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 645
میں نے ذرا جو دھوپ سے پردے اٹھا دیے
پانی میں رنگ اس نے شفق کے ملا دیے
پوچھی پسند یار کی میں نے فراق سے
آہستگی سے رات نے مجھ کو کہا، دیے
کہہ دو شبِ سیاہ سے لے آئے کالکیں
ہاتھوں پہ رکھ کے نکلی ہے خلقِ خدا دیے
ہر دل چراغ خانہ ہے ہر آنکھ آفتاب
کتنے بجھا سکے گی زمیں پر، ہوا، دیے
بڑھنے لگی تھی دھوپ مراسم کی آنکھ میں
دریا کے میں نے دونوں کنارے ملا دیے
بالوں میں میرے پھیر کے کچھ دیر انگلیاں
کیا نقش دل کی ریت پہ اس نے بنا دیے
بھادوں کی رات روتی ہے جب زلفِ یار میں
ہوتے ہیں میری قبر پہ نوحہ سرا دیے
کافی پڑی ہے رات ابھی انتظار کی
میرا یقین چاند، مرا حوصلہ دیے
اتنا تو سوچتے کہ دیا تک نہیں ہے پاس
مٹی میں کیسے قیمتی موتی گنوا دیے
کچھ پل ستم شعار کی گلیوں میں گھوم لے
عرصہ گزر گیا ہے کسی کو دعا دیے
میں نے بھی اپنے عشق کا اعلان کر دیا
فوٹو گراف شیلف پہ اس کے سجا دیے
منصور سو گئے ہیں اجالے بکھیر کر
گلیوں میں گھومتے ہوئے سورج نما دیے
منصور آفاق

عمر بھر ہم خوابِ شب انگیز کے پیچھے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 644
گوش بر آواز، کم آمیز کے پیچھے رہے
عمر بھر ہم خوابِ شب انگیز کے پیچھے رہے
ہاتھ چھونے کا کہاں موقع فراہم ہوسکا
اک طرف وہ اک طرف ہم میز کے پیچھے رہے
اونٹنی چلتی رہی تاروں سے رستہ پوچھ کر
رات بھر ہم صبح دل آویز کے پیچھے رہے
وہ سمندر سے لپٹ جاتی رہی ہر ایک بار
بس یونہی ہم موجِ تند و تیز کے پیچھے رہے
روح کی شب زندہ داری کی بہشتیں چھوڑ کر
جسم کی ہم وحشتِ شب خیز کے پیچھے رہے
چشمۂ دل سے نکل کر آنسوئوں کے ساتھ ہم
آنکھ کو آتی ہوئی کاریز کے پیچھے رہے
دوصدی پہلے مجھے کھینچا گیا تھا باندھ کر
پھر ہمیشہ یہ قدم انگریز کے پیچھے رہے
مسئلہ کشمیرکا منصور یہ ہے ، سب قزاق
زعفراں کی وادی ء زرخیر کے پیچھے رہے
منصور آفاق

ہم وفا کے برگزیدہ فیض کے پیچھے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 643
لوگ موسیٰ جیسے دستِبیض کے پیچھے رہے
ہم وفا کے برگزیدہ فیض کے پیچھے رہے
زندگی کے اونٹ صحرائے بدن آباد میں
موت کے وحشی غضب کے غیظ کے پیچھے رہے
انگلیاں لیکن برابر ہو سکیں نہ ہاتھ کی
ہم تفاوت کی گلی میں ایض کے پیچھے رہے
جس کی آنکھیں برکتوں کی گہری نیلی جھیلیں ہیں
زندگی بھربس اُسی بے فیض کے پیچھے رہے
عمر بھر منصور دنیا دار ،کتوں کی طرح
مال کے ناپاک مردہ حیض کے پیچھے رہے
منصور آفاق

بڑے بڑے بریف کیس شانہء سروش پر پڑے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 642
مراسلے دیارِ غیب کے قلی کے دوش پر پڑے رہے
بڑے بڑے بریف کیس شانہء سروش پر پڑے رہے
پیانو پہ مچلتی انگلیوں کے بولتے سروں کی یاد میں
تمام عمر سمفنی کے ہاتھ چشم و گوش پر پڑے رہے
ہزار ہا کلائیاں بہار سے بھری رہیں ہری رہیں
نصیب زرد موسموں کے دستِ گل فروش پر پڑے رہے
برہنہ رقص میں تھی موت کی کوئی گھڑی ہزار شکر ہے
کہ سات پردے میرے دیدئہ شراب نوش پر پڑے رہے
اٹھا کے لے گئی خزاں تمام رنگ صحن سے حیات کے
کسی نے جو بنائے تھے وہ پھول میز پوش پر پڑے رہے
منصور آفاق

دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 641
موجوں کو اٹھتی بھاپ کے لالے پڑے رہے
دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے
منہ کو کلیجہ آئے جب آئے کسی کی یاد
کیا کیا حسیں چڑیلوں سے پالے پڑے رہے
پھر چاند نے بھی چھوڑ دیا رات کادیار
جب بستروں میں دیکھنے والے پڑے رہے
چیزیں تو جھاڑتا رہا جاروب کش مگر
ذہنوں پہ عنکبوت کے جالے پڑے رہے
تاریخ جھوٹ کا ہی اثاثہ بنی رہی
تحقیق کے مکانوں پہ تالے پڑے رہے
حلقے پڑے رہے مری آنکھوں کے ارد گرد
مہتاب کے نواح میں ہالے پڑے رہے
تسخیرِاسم ذات مکمل ہوئی مگر
منصوراپنے کان میں بالے پڑے رہے
منصور آفاق

سلطان صلاح الدیں ایوبی ساتھ رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 640
اعمال میں اپنے حسن و خوبی ساتھ رہے
سلطان صلاح الدیں ایوبی ساتھ رہے
یہ پیڑ شریعت کے سایہ دار ہیں لیکن
کچھ ہوش کی وادی میں مجذوبی ساتھ رہے
دلدار کے نقشِ پاپیشانی پر چہکیں
محبوب کی گلیوں میں محبوبی ساتھ رہے
پُر وجد قوالی ہو یا عشق کی باتیں ہوں
ہر ایک عمل میں خوش اسلوبی ساتھ رہے
یہ ایک بروزِحشر گواہی کافی ہے
ظلمات کی جانب سے معتوبی ساتھ رہے
منصوراکیلا چھوڑا نہیں ہے رستے میں
اس شہرِ طلب میں درد بخوبی ساتھ رہے
منصور آفاق

اس میں تُو آباد رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 639
خواہ یہ دل برباد رہے
اس میں تُو آباد رہے
شکر ہے دشتِ حسرت میں
پاؤں مسافت زاد رہے
برسوں غم کے مکتب میں
میر مرے استاد رہے
اک لمحے کی خواہش میں
برسوں ہم ناشاد رہے
ایک دعا دکھیارے کی
غم سے تُو آزاد رہے
اشکوں سے تعمیر ہوئی
درد مری بنیاد رہے
جیسا بھی ہوں تیرا ہوں
اتنا تجھ کو یاد رہے
تیری گلی میں سانس سدا
مائل بر فریاد رہے
زخم نہ چاٹے کوئی بھی
مر جائے یا شاد رہے
میں برمنگھم قید رہا
وہ اسلام آباد رہے
میرے نواحِ جاں منصور
کتنے ستم ایجاد رہے
منصور آفاق

یہ مدینے میں اپنی سلامی سے ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 638
زندگی شہرِ دل کی خرامی سے ہے
یہ مدینے میں اپنی سلامی سے ہے
اُس سراپا عنایت پہ بھیجیں دورد
اپنی آزادی جس کی غلامی سے ہے
یہ مناظر کی میٹھی حسیں دلکشی
ایک پاکیزہ اسم گرامی سے ہے
کائناتِ شبِ تیرہ و تار میں
روشنی اُس کی قرآں کلامی سے ہے
جس کے ہونے سے ظاہر خدا ہو گیا
اپنا ہونا تواُس نامِ نامی سے ہے
جوبھی اچھاہے اس کی عطاسے لکھا
جو لکھا ہے غلط میری خامی سے ہے
ان سے منصور پہلو تہی جن کا بھی
ربط ابلیس جیسے حرامی سے ہے
منصور آفاق

یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 637
تباہی ہے شبِ آئندگاں تباہی ہے
یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے
کوئی معاشرہ ممکن نہیں بجز انصاف
جہاں جہاں پہ ستم ہے وہاں تباہی ہے
میں ٹال سکتا نہیں آیتوں کی قرآت سے
لکھی ہوئی جو سرِ آسماں تباہی ہے
گزر گیا ہے جو طوفاں گزرنے والاتھا
یہ ملبہ زندگی ہے، اب کہاں تباہی ہے
بچھے ہوئے کئی بھونچال ہیں مکانوں میں
دیارِ دل میں مسلسل رواں تباہی ہے
دعا کرو کہ قیامت میں دیکھتا ہوں قریب
مرے قریب کوئی بے کراں تباہی ہے
فراز مند ہے ابلیس کا علم منصور
گلی گلی میں عجب بے نشاں تباہی ہے
منصور آفاق

اب زندگی ہماری نہیں مسخروں کی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 636
ہر بزم قہقہوں سے بھرے تذکروں کی ہے
اب زندگی ہماری نہیں مسخروں کی ہے
جو خوش دماغ لوگ ہیں بستی پہ بوجھ ہیں
کچھ ہے توبات بس یہاں خالی سروں کی ہے
وہ باغِ شالامار خرید یں جو بس چلے
فطرت کچھ ایسی دیس کے سودا گروں کی ہے
گلیوں میں ایک سے ہیں مکانوں کے خدوخال
غلطی کہیں ہماری نہیں منظروں کی ہے
منصور حاکموں کی توجہ کہیں ہے اور
قسمت ابھی ہمارے عجائب گھروں کی ہے
منصور آفاق

مری تمثیل کرداروں سے خالی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 635
سحر سورج سے، شب تاروں سے خالی ہے
مری تمثیل کرداروں سے خالی ہے
نکالیں کوئی کیا ابلاغ کی صورت
خلا مصنوعی سیاروں سے خالی ہے
چھتوں پر آب و دانہ ڈال جلدی سے
فضا بمبار طیاروں سے خالی ہے
مزاجِ حرص کو دونوں جہاں کم ہیں
سرشتِ خوف انکاروں سے خالی ہے
اس آوارہ مزاجی کے سبب شاید
فضلیت اپنی، دستاروں سے خالی ہے
کہیں گر ہی نہ جائے نیلی چھت منصور
کہ سارا شہر دیواروں سے خالی ہے
منصور آفاق

گلی گلی ہیں دھماکے، فساد جاری ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 634
ستم گرو نہ کہو یہ جہاد جاری ہے
گلی گلی ہیں دھماکے، فساد جاری ہے
مری بہشت کو دوزخ بنا رہے ہیں لوگ
بنامِ دین غضب کا عناد جاری ہے
کسی قیامتِ صغریٰ میں جی رہاہوں میں
حسیں دنوں پہ مگر اعتقاد جاری ہے
غزل کی آخری ہچکی اُدھرسنائی دے
مشاعروں کا ادھر انعقاد جاری ہے
نظر میں خواب تو برفیں جمی ہے جھیلوں میں
ہر ایک شے میں کوئی انجماد جاری ہے
وہ جس کے ہجرکی وحدت ملی مجھے منصور
اُس ایک حسنِ مکمل کی یاد جاری ہے
منصور آفاق

کسی نے جنگ مری زندگی بنا دی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 633
یہ کائناتِ بدن چھاونی بنا دی ہے
کسی نے جنگ مری زندگی بنا دی ہے
دماغ اسلحہ خانہ بنا دیا ہے مرا
تمام جلد مری آہنی بنا دی ہے
یہ پانچ وقت شہادت کی بولتی انگلی
مشین گن کی سیہ لبلبی بنا دی ہے
یہ نقشِ پا نہیں بارود کی سرنگیں ہیں
بموں کی آگ مری روشنی بنا دی ہے
یہ کس نے کافری منصور کی ہے بستی میں
حلال ،ظلم بکف خود کشی بنا دی ہے
منصور آفاق

ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 632
تیرے کرنوں والے ہٹ میں رات کرنا چاہتی ہے
ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے
اپنے بنگلوں کے سوئمنگ پول کی تیراک لڑکی
میرے دریا میں بسر اوقات کرنا چاہتی ہے
وقت کی رو میں فراغت کا نہیں ہے کوئی لمحہ
اور اک بڑھیا کسی سے بات کرنا چاہتی ہے
چاہتا ہوں میں بھی بوسے کچھ لبوں کی لاٹری کے
وہ بھی ملین پونڈ کی برسات کرنا چاہتی ہے
مانگتا پھرتا ہوں میں بھی آگ کا موسم کہیں سے
وہ بھی آتشدان کی خیرات کرنا چاہتی ہے
کیسے کی اس نے نفی جوبات کرنا چاہتی ہے
جو نہیں وہ ذات کیا اثبات کرنا چاہتی ہے
منصور آفاق

شاخ پر اب بھی کوئی پنکھڑی لگ سکتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 631
آگ میں برگ وسمن کی جھڑی لگ سکتی ہے
شاخ پر اب بھی کوئی پنکھڑی لگ سکتی ہے
یہ بھی ہوسکتا ہے آنے کی خوشی میں اسکے
بام پہ قمقموں کی اک لڑی لگ سکتی ہے
اس کے وعدہ پہ مجھے پورا یقیں ہے لیکن
لوٹ آنے میں گھڑی دو گھڑی لگ سکتی ہے
رک بھی سکتی ہے یہ چلتی ہوئی اپنی گاڑی
میخ ٹائر میں کہیں بھی پڑی لگ سکتی ہے
جب کوئی ساتھ نہ دینے کا ارداہ کر لے
ایک نالی بھی ندی سے بڑی لگ سکتی ہے
دامِ ہمرنگ زمیں غیر بچھا سکتے ہیں
کوچۂ یار میں دھوکا دھڑی لگ سکتی ہے
اِس محبت کے نتائج سے ڈر آتا ہے مجھے
اِس شگوفے پہ کوئی پھلجھڑی لگ سکتی ہے
میں میانوالی سے آسکتاہوں ہر روز یہاں
خوبصورت یہ مجھے روکھڑی لگ سکتی ہے
جرم یک طرفہ محبت ہے ازل سے منصور
اِس تعلق پہ تجھے ہتھکڑی لگ سکتی ہے
منصور آفاق

تجھ کو آوارہ نظرچاند کی لگ سکتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 630
رات کی جھیل سے علت کوئی لگ سکتی ہے
تجھ کو آوارہ نظرچاند کی لگ سکتی ہے
میں کوئی میز پہ رکھی ہوئی تصویر نہیں
دیکھئے بات مجھے بھی بری لگ سکتی ہے
ایک ہی رات پہ منسوخ نہیں ہو سکتا
یہ تعلق ہے یہاں عمر بھی لگ سکتی ہے
انگلیاں پھیر کے بالوں میں دکھائیں جس نے
اس سے لگتا ہے مری دوستی لگ سکتی ہے
آپ کی سانس میں آباد ہوں سانسیں میری
یہ دعا صرف مجھے آپ کی لگ سکتی ہے
یہ خبرمیرے مسیحا نے سنائی ہے مجھے
شہرِ جاناں میں تری نوکری لگ سکتی ہے
یہ کوئی گزری ہوئی رت کی دراڑیں سی ہیں
اس جگہ پر کوئی تصویر سی لگ سکتی ہے
پارک میں چشمِ بلاخیز بہت پھرتی ہیں
تجھ کو گولی کوئی بھٹکی ہوئی لگ سکتی ہے
ہے یہی کار محبت۔۔۔۔ سو لگا دے منصور
داؤ پہ تیری اگر زندگی لگ سکتی ہے
منصور آفاق

ٹوٹے جو شیشہ تو صورت گر جاتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 629
آنکھوں سے منصور شباہت گر جاتی ہے
ٹوٹے جو شیشہ تو صورت گر جاتی ہے
روز کسی بے انت خزاں کے زرد افق میں
ٹوٹ کے مجھ سے شاخِ تمازت گر جاتی ہے
باندھ کے رکھتا ہوں مضبوط گرہ میں لیکن
پاکستانی نوٹ کی قیمت گر جاتی ہے
اک میری خوش وقتی ہے جس کے دامن میں
صرف وہی گھڑیال سے ساعت گر جاتی ہے
لیپ کے سوتا ہوں مٹی سے نیل گگن کو
اٹھتا ہوں تو کمرے کی چھت گر جاتی ہے
ہجر کی لمبی گلیاں ہوں یا وصل کے بستر
آخر اک دن عشق میں صحت گر جاتی ہے
برسوں ظلِّ الہی تخت نشیں رہتے ہیں
خلقِ خدا کی روز حکومت گر جاتی ہے
منصور آفاق

ہر ایک چشمِ تماشا سے دشمنی ہوئی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 628
یہ کیا چراغِ تمنا کی روشنی ہوئی ہے
ہر ایک چشمِ تماشا سے دشمنی ہوئی ہے
تُو چشمِ ہجر کی رنگت پہ تبصرہ مت کر
یہ انتظار کے جاڑے میں جامنی ہوئی ہے
نہ پوچھ مجھ سے طوالت اک ایک لکنت کی
یہ گفتگو کئی برسوں میں گفتنی ہوئی ہے
چمکتی ہے کبھی بجلی تو لگتا ہے شاید
یہیں کہیں کوئی تصویر سی بنی ہوئی ہے
ابھی سے کس لیے رکھتے ہو بام پر آنکھیں
ابھی تو رات کی مہتاب سے ٹھنی ہوئی ہے
ابھی نکال نہ کچھ انگلیوں کی پوروں سے
ابھی یہ تارِ رگ جاں ذرا تنی ہوئی ہے
شراب خانے سے کھلنے لگے ہیں آنکھوں میں
شعاعِ شام سیہ، ابر سے چھنی ہوئی ہے
نظر کے ساتھ سنبھلتا ہوا گرا پلو
مری نگاہ سے بے باک اوڑھنی ہوئی ہے
کچھ اور درد کے بادل اٹھے ترے در سے
کچھ اور بھادوں بھری تیرگی گھنی ہوئی ہے
کلی کلی کی پلک پر ہیں رات کے آنسو
یہ میرے باغ میں کیسی شگفتنی ہوئی ہے
اک ایک انگ میں برقِ رواں دکھائی دے
کسی کے قرب سے پیدا وہ سنسنی ہوئی ہے
جنوں نواز بہت دشتِ غم سہی لیکن
مرے علاوہ کہاں چاک دامنی ہوئی ہے
میں رنگ رنگ ہوا ہوں دیارِ خوشبو میں
لٹاتی پھرتی ہے کیا کیا، ہوا غنی ہوئی ہے
سکوتِ دل میں عجب ارتعاش ہے منصور
یہ لگ رہا ہے دوبارہ نقب زنی ہوئی ہے
منصور آفاق

اسلام ہے تو یہ ہے، کچھ دین ہے تو یہ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 627
دیکھوں میں سبز گنبد تسکین ہے تو یہ ہے
اسلام ہے تو یہ ہے، کچھ دین ہے تو یہ ہے
ان پر درود بھیجوں ان پر سلام بھیجوں
ان کی میں نعت لکھوں تحسین ہے تو یہ ہے
وقتِ قضا تب آئے جب میں مدنیہ پہنچوں
تجہیز ہے تو یہ ہے تکفین ہے تو یہ ہے
میرے نصیب میں ہوشہرِ نبیﷺ کی مٹی
تقدیر ہے تو یہ ہے تدفین ہے تو یہ ہے
چہرے پہ نور برسے،ہونٹوں سے پھول برسیں
ان کی نظر میں آؤں تزئین ہے تو یہ ہے
قرآن کہہ رہا ہے منصور ہرسخن میں
فرقان ہے تو یہ ہے یٰسین ہے تو یہ ہے
منصور آفاق

آگ میں انسانیت ہے کربلا نیزے پہ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 626
ہر قدم تلوار پر ہے ، ہر نگہ نیزے پہ ہے
آگ میں انسانیت ہے کربلا نیزے پہ ہے
دوپہر ہے موت کی گرمی ہے کالی رات میں
ظلم کا مصنوعی سورج پھرسوا نیزے پہ ہے
جاہلوں کے شہر میں ہے بے دماغوں کا خرام
علم کی دستار مٹی میں ، قبا نیزے پہ ہے
میں اسی کے راستے پر چل رہا ہوں دشت میں
ہاں وہی جس شخص کی حمدو ثنا نیزے پہ ہے
ہے محمدﷺکے نواسے سی شبیہ منصور کچھ
دیکھ کچھ نزدیک جا کر، دیکھ کیا نیزے پہ ہے
منصور آفاق

اجل کو جانتا ہوں میں ، ازل سے ساتھ ساتھ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 625
دماغِ کائنات کے خلل سے ساتھ ساتھ ہے
اجل کو جانتا ہوں میں ، ازل سے ساتھ ساتھ ہے
فلک ہے مجھ پہ مہرباں کہ ماں کی ہے دعا مجھے
زمیں مرے ہرے بھرے عمل سے ساتھ ساتھ ہے
یہ کس نے وقت کو اسیر کر لیا ہے خواب میں
یہ آج کس طرح گذشتہ کل سے ساتھ ساتھ ہے
قدم قدم پہ کھینچتی ہے مجھ کو رات کی طرف
یہ روشنی جو شاہ کے محل سے ساتھ ساتھ ہے
جو گا رہی ہے کافیاں لہو میں شاہ حسین کی
وہ مادھو لال آگ گنگا جل سے ساتھ ساتھ ہے
کہے، کہاں نظامِ زر تغیرات کا امیں ؟
وہ جدلیات جو جدل جدل سے ساتھ ساتھ ہے
کچھ اس کے ہونے کا سبب بھی ہونا چاہیے کہیں
وہ جو نمودِ علت و علل سے ساتھ ساتھ ہے
جہاں پہ پہلے علم تھا کہ کیا عمل کروں گا میں
یہ حال اُس مقامِ ماحصل سے ساتھ ساتھ ہے
ابھی فلک کی زد میں ہے سری نگر کا راستہ
یہ برف پوش رُت تراڑ کھل سے ساتھ ساتھ ہے
منصور آفاق

اب کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 624
مان لیا وہ بھی میرا یار نہیں ہے
اب کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے
جاگ رہا ہوں میں کتنے سال ہوئے ہیں
کیسے کہوں اس کا انتظار نہیں ہے
ٹوٹ گئے ہیں دو پھر امید بھرے دل
ٹکڑے ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ہے
میرا بدن برف ہے یا تیرِ نظر میں
پہلے پہل والی اب کے مار نہیں ہے
عہدِ خزاں میں ہے میرا باغ کہ جیسے
دامنِ تقدیر میں بہار نہیں ہے
سنگ اچھالے ہیں اس نے بام سے مجھ پر
جیسے گلی اس کی رہگزار نہیں ہے
ایک دعا بس ہے میرے پاس عشاء کی
رات! مرا کوئی غمگسار نہیں ہے
صرف گھٹا ہے جو دل میں روئے برس کے
اور کوئی چشمِ اشکبار نہیں ہے
سرخ ہے بے شک نمود چہرئہ تاریخ
دامنِ تہذیب داغ دار نہیں ہے
سنگ زدہ اس کے رنگ ڈھنگ ہیں لیکن
آدمی ہے کوئی کوہسار نہیں ہے
پار کروں گا میں اپنی آگ کا دریا
دیکھ رہا ہوں یہ بے کنار نہیں ہے
وقت نہیں آج اس کے پاس ذرا بھی
اور یہاں رنگِ اختصار نہیں ہے
مست ہوائیں بھی ماہتاب بھی لیکن
رات بھری زلفِ آبشار نہیں ہے
گھوم رہا ہوں فصیلِ ذات کے باہر
کوئی بھی دروازئہ دیار نہیں ہے
ایک نہیں قحط عشق صرف یہاں پر
شہر میں کوئی بھی کاروبار نہیں ہے
پھیر ہی جا مجھ پہ اپنا دستِ کرامت
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے”
درج ہے نیلی بہشتِ خواب کا منظر
آنکھ میں منصور کی غبار نہیں ہے
بنام غالب
منصور آفاق

گاڑی مسافروں کے پھر انتظار میں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 623
لوگوں کی بے وفائی کب اختیار میں ہے
گاڑی مسافروں کے پھر انتظار میں ہے
اعلان جا کے کردومسجد کی چھت پہ چڑھ کر
میں چاہتاہوں جس کو وہ میری کار میں ہے
اک کونج رو رہی ہے سوکھی ہوئی ندی پر
سہمی ہوئی سی لرزش اس کی پکار میں ہے
میں چاہتا ہوں اس سے وعدہ نبھانا لیکن
غم سے نجات جو ہے خود سے فرار میں ہے
بے شک ہزاروں میں نے اشعار کہہ دئیے ہیں
سچ پوچھ تو ابھی تک بات اختصار میں ہے
میرے یہ لفظ بھی تو کرلاہٹیں ہیں میری
میرا وجود شامل کونجوں کی ڈار میں ہے
تقدیر کے طلسم سے سورج نکل گیا
دیکھو کئی دنوں سے راتوں کے غار میں ہے
اٹھ چل کنارِ سندھ پہ کرتے ہیں کچھ شکار
مچھلی کی بھی ضرورت منصور جار میں ہے
منصور آفاق

مگر دماغ کسی جہل کی سپاہ میں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 622
کتاب ہاتھ میں ہے اور کج، کلاہ میں ہے
مگر دماغ کسی جہل کی سپاہ میں ہے
بلند بام عمارت کی آخرش منزل
مقامِ صفر کی بے رحم بارگاہ میں ہے
پڑی ہے ایش ٹرے میں سلگتے لمس کی راکھ
ملن کی رات ابھی عرصہء گناہ میں ہے
بھٹکتا پھرتا ہوں ظلمات کے جزیرے میں
بڑا اندھیرا کسی دیدئہ سیاہ میں ہے
پسِ فراق ہے موجود وصل کا چہرہ
چراغ صبحِ ازل سے مزارِ آہ میں ہے
ترے وصال کی راتوں کی خیر ہو لیکن
وہ بات تجھ میں نہیں ہے جو تیری چاہ میں ہے
کبھی تو ہو گا تمنا کی منزلوں سے پرے
ابھی تو تیرا مسافر طلب کی راہ میں ہے
رکا نہیں ہوں کسی ڈاٹ کام پر منصور
گلوب پاؤں تلے تو خلا نگاہ میں ہے
منصور آفاق

لبلبی پرانگلیوں کا نیلا پن ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 621
یخ ہوا ہے برف کا برفیلا پن ہے
لبلبی پرانگلیوں کا نیلا پن ہے
یہ بھی پیوستہ گزشتہ سے ہے موسم
برگِ گل میں زرد رُت کا پیلا پن ہے
میں مزاجاً دھیمے پن کا آدمی ہوں
تیرے کپڑوں میں بہت بھڑکیلا پن ہے
کینچلی ہے سانپ کی بھی خوبصورت
اس کے بھی اندر کہیں زہریلا پن ہے
اونٹی پر پیاس کا ہے ساتواں دن
آندھیاں ہیں دشت کا سوتیلا پن ہے
محوِ حیرت ہوں کہ اُس بازار میں بھی
کیسے باقی اب تلک شرمیلا پن ہے
راستے مدِ مقابل آکھڑے ہیں
کیسا میرے پاؤں کا پتھریلا پن ہے
تبصرہ اس کے رویے پر کروں کیا
خار کی پہچان ہی نوکیلاپن ہے
ہم نفس منصور برسوں سے ہے سورج
گیلے من میں کچھ ابھی تک گیلا پن ہے
منصور آفاق

یعنی خدا ، مقامِ نہیں پر مقیم ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 620
ہمسایہ ہے ہمارا ، یہیں پر مقیم ہے
یعنی خدا ، مقامِ نہیں پر مقیم ہے
ہم کیا کہ گنج بخش وہ ہجویرکا فقیر
لاہور ! تیری خاکِ بریں پر مقیم ہے
جائے نمازِ سنگ سے جس کی طلب ہمیں
وہ داغِ سجدہ اپنی جبیں پر مقیم ہے
کمپاس رکھ نہ عرشے پہ لا کر زمین کے
وہ عرشِ دل کے فرشِ حسیں پر مقیم ہے
تم آسماں نورد ہو جس کی تلاش میں
منصور مان لو وہ زمیں پر مقیم ہے
منصور آفاق

اسے کہنا بغیر اس کے مری دنیا مکمل ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 619
میں خود پہلو میں ہوں اپنے بدن اپنا مکمل ہے
اسے کہنا بغیر اس کے مری دنیا مکمل ہے
گلی کی برف پر کھنچیں لکیریں بے خیالی میں
ادھورے نقش ہیں کچھ کچھ مگر چہرہ مکمل ہے
مجھے روکا ہوا ہے جسم کی دہلیز پر اس نے
ادھوری ہے وفا اپنی، تعلق نامکمل ہے
لکیر اپنے لہو کی ہے ابھی اِن دونوں ٹکڑوں میں
خزانے تک پہنچنے کا کہاں نقشہ مکمل ہے
مجھے شہر نگاراں سے نئے کچھ زخم لینے ہیں
وہ جو دل میں رفو کا کام نکلا تھا مکمل ہے
بلا کا خوبصورت ہے کوئی اُس بالکونی میں
ہے بے مفہوم سا مکھڑا مگر کتنا مکمل ہے
محبت کا سفر بھی کیا کرشمہ ساز ہے منصور
ادھر منزل نہیں آئی ادھر رستہ مکمل ہے
منصور آفاق

زندگی کا کہیں ہو گیا قتل ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 618
اک دیے کا ہوانے کیا قتل ہے
زندگی کا کہیں ہو گیا قتل ہے
تیرے کالر پہ جو سج گیا ہے گلاب
تیلیوں کیلئے پھول کا قتل ہے
دین نے ایک انسان کے قتل کو
ساری انسانیت کا کہا قتل ہے
دل نے چاہا اسی وقت اس کاقصاص
جب کسی بے گنہ کا ہوا قتل ہے
اپنے نزدیک انسانی اعمال میں
جرم کی آخری انتہا قتل ہے
بے گناہی کا جو شخص قاتل ہوا
صرف منصور اس کا روا قتل ہے
منصور آفاق

دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 617
عشق میں کوئی کہاں معشوق ہے
دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے
جس سے گزرا ہی نہیں ہوں عمر بھر
وہ گلی وہ آستاں معشوق ہے
رفتہ رفتہ کیسی تبدیلی ہوئی
میں جہاں تھا اب وہاں معشوق ہے
ہے رقیبِ دلربا اک ایک آنکھ
کہ مرا یہ آسماں معشوق ہے
مشورہ جا کے زلیخا سے کروں
کیا کروں نامہرباں معشوق ہے
صبحِ ہجراں سے نشیبِ خاک کا
جلوۂ آب رواں معشوق ہے
ہیں مقابل ہر جگہ دو طاقتیں
اور ان کے درمیاں معشوق ہے
گھنٹیاں کہتی ہیں دشتِ یاد کی
اونٹنی کا سارباں معشوق ہے
وہ علاقہ کیا زمیں پر ہے کہیں
ان دنوں میرا جہاں معشوق ہے
میں جہاں دیدہ سمندر کی طرح
اور ندی سی نوجواں معشوق ہے
ہر طرف موجودگی منصور کی
کس قدر یہ بے کراں معشوق ہے
منصور آفاق

منحصر لوگوں کی کمک پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 616
شہر کی فتح بابِ شک پر ہے
منحصر لوگوں کی کمک پر ہے
کلمہ کا ورد کر رہے ہیں لوگ
آخری شو کا رش سڑک پر ہے
فیملی جا رہی ہے لے کے اسے
گھر کا سامان بھی ٹرک پر ہے
پڑھ رہا ہوں ہزار صدیوں سے
کیا کسی نے لکھا دھنک پر ہے
بھیج مت پرفیوم جانِ جاں
حق مرا جسم کی مہک پر ہے
چاند ہے محوِ خواب پہلو میں
یعنی بستر مرا فلک پر ہے
میری پلکوں کی ساری رعنائی
موتیوں کی چمک دمک پر ہے
آس کا شہر ہے سمندر میں
اور بنایا گیا نمک پر ہے
دل کی موجودگی کا افسانہ
بادلوں کی گرج چمک پر ہے
چاند کی ہاتھ تک رسائی بھی
دلِ معصوم کی ہمک پر ہے
کس نے ہونا ہے شہر کا حاکم
فیصلہ بوٹ پر دھمک پر ہے
کون قاتل ہے فیصلہ، منصور
فائروں کی فقط لپک پر ہے
منصور آفاق

تری توصیف اک احسان میری شاعری پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 615
مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادوگری پر ہے
تری توصیف اک احسان میری شاعری پر ہے
ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے
تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا
ترا عرفان طنزِ مستقل دانش وری پر ہے
سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے
خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے
صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آ کر
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے
مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے
منصور آفاق

مگر اب احتجاج جاں فصیلِ آخری پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 614
تری تعمیر کی بنیاد اپنی بے گھری پر ہے
مگر اب احتجاج جاں فصیلِ آخری پر ہے
جسے حاصل کیا ہے تُو نے اپنی بیچ کر لاشیں
مرا تھو ایسی صدرِ مملکت کی نوکری پر ہے
فقط میری طرف سے ہی نہیں یہ پھولوں کا تحفہ
خدا کی لعنتِ پیہم بھی تیری قیصری پر ہے
جلوس اپنا ابھی نکلے گا کالی کالی قبروں سے
نظر اپنی بھی زر آباد کی خوش منظری پر ہے
قسم مجھ کو بدلتے موسموں کے سرخ رنگوں کی
ترا انجام اب لوگوں کی آشفتہ سری پر ہے
نظامِ زر !مجھے سونے کے برتن دے نہ تحفے میں
مرا ایمان تو خالی شکم کی بوزری پر ہے
زیادہ حیثیت رکھتی ہے پانی پت کی جنگوں سے
وہ اک تصویر بابر کی جو تزکِ بابری پر ہے
فرشتے منتظر ہیں بس سجا کر جنتیں اپنی
مرا اگلا پڑاؤ اب مریخ و مشتری پر ہے
وہ جو موج سبک سر ناچتی ہے میری سانسوں میں
سمندر کا تماشا بھی اسی بس جل پری پر ہے
اسے صرفِ نظر کرنے کی عادت ہی سہی لیکن
توقع، بزم میں اپنی مسلسل حاضری پر ہے
یقینا موڑ آئیں گے مرے کردار میں لیکن
ابھی تو دل کا افسانہ نگاہِ سرسری پر ہے
عجب تھیٹر لگا ہے عرسِ حوا پر کہ آدم کی
توجہ صرف اعضائے بدن کی شاعری پر ہے
وفا کے برف پروردہ زمانے یاد ہیں لیکن
یقیں منصور جذبوں کی دہکتی جنوری پر ہے
منصور آفاق

علم بس عشق کے سبق پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 613
آنکھ کے قطرۂ عرق پر ہے
علم بس عشق کے سبق پر ہے
منزلِ ہجر سے ذرا آگے
اپنا گھر چشمۂ قلق پر ہے
کوئی آیا ہے میرے آنگن میں
ابر صحرائے لق و دق پر ہے
ایک ہی نام ایک ہی تاریخ
ڈائری کے ورق ورق پر ہے
شامِ غم کے نگار خانے میں
زخم پھیلا ہوا شفق پر ہے
سن رہا ہوں کہ میرے ہونے کی
روشنی چودھویں طبق پر ہے
دیکھ کر کارِ امت شبیر
لگ رہا ہے یزید حق پر ہے
منصور آفاق

زمیں اللہ کی ہے اور سب کا حق برابر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 612
دریچوں پر اذانِ وقت کی دستک برابر ہے
زمیں اللہ کی ہے اور سب کا حق برابر ہے
خدا پر رزق کی تقسیم کا الزام صدیوں سے
مساواتِ محمد میں مقدر تک برابر ہے
جہاں ہم خود نہیں رہتے وہ گھر اپنا نہیں ہوتا
کرایہ خاک کا اور سود کی کالک برابر ہے
تمہیں اے صاحبانِ زر ،ہے دوزخ کی وعیدِ خاص
ڈرو۔دنیا میں بھی اس کی پکڑبے شک برابر ہے
کبھی گزرے نہ وہ تجھ پرجوگزری مجھ پہ سوگزری
قیامت ہجر کی اورموت کی ٹھنڈک برابر ہے
مجھے لگتا ہے تم سوئے نہیں ہو رات بھر منصور
تمہاری چار پائی پر پڑی اجرک برابر ہے
منصور آفاق

کوہ کی بازگشتوں میں اک راز موجود ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 611
چیخ کے دائرے میں تگ و تاز موجود ہے
کوہ کی بازگشتوں میں اک راز موجود ہے
ویری سوری کہ تیری سماعت کا ہے مسئلہ
میری خاموشی میں میری آواز موجود ہے
وقت کرتالب و لہجے کی صرف کاپی نہیں
اس کے چلنے میں بھی میرا انداز موجود ہے
خواہشِ زلف دستِ بریدہ سے جاتی نہیں
ٹوٹے پیروں میں بھی شوقِ پرواز موجود ہے
خاتمہ کی کہانی فسانہ ہے امکان کا
ہر نہایت پہ اک اور آغاز موجود ہے
خاکِ منصور!تجھ پہ کوئی حرف کیا آئیگا
تیرے پہلو میں یہ تیرا جاں باز موجود ہے
منصور آفاق

لوگ سب اک چوکھٹے کے عکس میں ہیں موت ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 610
آگ کے پاگل بگولے رقص میں ہیں موت ہے
لوگ سب اک چوکھٹے کے عکس میں ہیں موت ہے
رہ رہا ہے آنکھ میں جس کی فرشتۂ اجل
سب عمل دجال کے اُس شخص میں ہیں موت ہے
ورنہ کمرے کم بہت ہی اپنی آبادی سے تھے
خوبیاں بھی کچھ مکاں کے نقص میں ہیں موت ہے
پھر بھی دل ہے کہ مسلسل مانگتا ہے اس کا قرب
کتنے خطرے صحبتِ برعکس میں ہیں موت ہے
سہل انگاری مزاجاًحضرتِمنصور میں
رقص کرتی بجلیاں ہمرقص میں ہیں موت ہے
منصور آفاق

لفظوں کا کوئی پھول تہجد کا وقت ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 609
مصرع! شبِ نزول تہجد کا وقت ہے
لفظوں کا کوئی پھول تہجد کا وقت ہے
کوئی دعا قبول ہو میرے ملال کی
ہر چیز ہے ملول تہجد کا وقت ہے
جی چاہتا ہے آنکھ کو مل جائے لمحہ بھر
اک ساعتِ رسول تہجد کا وقت ہے
دونوں جہاں کے واسطے مجھ کو چراغ کر
کرالتجا قبول تہجد کا وقت ہے
منصور آسمان سے اتریں مرے نصیب
اپنے بدل اصول تہجد کا وقت ہے
منصور آفاق