نظم اور میں

نظم نے پہلے پہل آنگن کے ایک کونے سے ننھی کونپل کے جیسے سر اٹھایا تو میں اس کے وجود سے یکسر انجان رہی ۔۔۔۔۔ پھر آنگن بدلتے رہے لیکن وہ کونپل ساتھ ساتھ سفر کرتی رہی۔۔۔ ہمیشہ کونوں میں سمٹی ہوئی، دیواروں سے لگی ہوئی ۔۔۔۔ پھر ایک روز میں نے اسے دیکھ بھی لیا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر حیرت رہی ۔۔۔ دلچسپی بھی ۔۔۔ اور پھر میں بھول گئی ۔۔۔۔ سفر بہت کڑا تھا ۔۔۔۔ اور درد اپنی بساط سے بھی باہر ۔۔۔۔۔ سارا وقت رشتوں کا ریشم بُنتے نکل جاتا لیکن ہر بار ساری بُنت کھل کر پھر ایک ڈھیر کی صورت اختیار کر جاتی سو یہ کوشش ہی ترک کر دی ۔۔۔۔ اوندھے ، سیدھے دن بے آہٹ بیت جاتے اور کھڑکیوں پر نئے پرانے موسم اپنی تصویریں دھرتے گزر جاتے ۔۔۔ تب نظم آنگن سے نکل کر میرے کمرے میں آنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ دکھتی رگیں سہلاتی ۔۔۔۔ ادھر ادھر کونوں میں سمٹے وجود سے گرد جھاڑتی ۔۔۔۔ سرگوشیاں کرتی ۔۔۔۔ پھرکوئی بارہ برس پہلے جب کھڑکی پر چلچلاتے موسم کی تصویردھری تھی اور میرا وجود درد سے دہراہوا جاتا تھا تو نظم نے مجھے اپنا دوست بنا لیا ۔۔۔۔ یہ بہت محفوظ رشتہ تھا ۔۔۔۔ ایسا ریشم جس کی بُنت کبھی واپس ڈھیر کی صورت اختیار نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ اب کی بار باہر کی دنیا کو ایک مدت بعد دوبارہ دیکھا تو میری یہ دوست میرے ساتھ تھی ۔۔۔ بھیڑ میں کھو جانے کا کوئی خدشہ نہیں تھا کہ اسے سب راستے پتہ تھے ۔۔۔۔ بادلوں ، پیڑوں ، پھولوں ، ہوائوں اور موسموں ، رنگوں اور خوشبوئوں کی باتیں ہمیں اچھی لگتیں ۔۔۔ لیکن اکثر یہ باتیں اندر چھپے کسی خوف یا درد کی ملاوٹ سے بھیگ جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔ یہ کچھ ایسے دن تھے جب کبھی کبھی مجھے لگتا کہ نظم میرے وجود سے پھوٹی ہو گی اور کبھی میں سوچتی کہ دراصل میں نے ہی اس کے بطن سے زندگی تلاش کی ہوگی ۔۔۔۔ اس مرحلے پر ہم دونوں شاید ایک ہی تھے ۔۔۔۔ ہمارے پاس کہنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا۔۔۔ بس روز مرہ کی زندگی تھی ۔۔۔ حقیقی زندگی ۔۔۔ جہاں ہم دونوں سارا دن کام کاج کی مشقت میں گزارا کرتے اور رات دیر تک پتوں سے لپٹی ہوائوں کی سرگوشیوں میں چھوٹی چھوٹی سوچیں بنا کرتے ۔۔۔۔ اس لیے کہ ہم چھوٹے لوگ تھے جنہیں جو کرنا تھا خود ہی کرنا تھا ۔۔۔۔ ہم تنہا تھے ۔۔۔۔ پورے شہر میں یا کائنات میں یا کائنات سے ادھر ادھر کے سارے زمانوں میں تنہا ۔۔۔۔۔ ہم اداس تھے ۔۔۔۔ زندگی ہمارے لیے درد کا سب سے بڑا استعارہ تھی ۔۔۔۔ ہم خوشیاں نہیں ڈھونڈا کرتے تھے صرف یہ کوشش رہتی کہ درد کی شدت کسی طرح کم ہو جائے اور جس روز ایسا ممکن ہو جاتا ہم دونوں سیلیبریٹ کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ زندگی فضول لگتی اور اس کا نظام اس سے بھی فضول ۔۔۔۔۔اور اپنے وجود کا مسئلہ یکسر لاینجل ۔۔۔۔ کئی گتھیاں کھل کر ہی نہیں دیتی تھیں ۔۔۔۔ کتابوں میں محبت اور جذبوں کی باتیں پڑھنا عجیب لگتا تھا ۔۔۔۔ محبت ایسا پھیلا ہوا ، بہتا ہوا جذبہ کیسے قید کرتے ہوں گے لوگ۔۔۔۔ ہم دونوں نے تو اسے جب بھی گرفت میں لینا چاہا یہ ادھر ادھر پھسل جایا کرتا تھا ۔۔۔۔ اور ہمیں تو فورا ہی محبت ہو جاتی ۔۔۔ خزاں رسیدہ پتوں سے لے کر ہنستے ہوئے چہروں تک ہر شے سے ۔۔۔۔ مگر یہ کام اور بھی دردیلا تھا ۔۔۔۔ پتے پیروں تلے مسلے جاتے اور چہروں کی مسکراہٹوں میں تضحیک ابھر آتی ۔۔۔۔ ایسے میں ہم اپنی تکمیل کے لیے اندر کا رخ کیا کرتے ۔۔۔۔ وجود کے اندر کی دنیا کیسی پراسرار لگا کرتی ۔۔۔۔ سوچوں کی شکلیں بنتی بگڑتی رہتیں اور ہم بیٹھے ان سے کہانیاں بُنتے ۔۔۔۔ شعور اور نیم شعور کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے ۔۔۔۔ جسم کی سطح پر جیتے ہوئے۔۔۔۔ روح کے اندر گہرا اترتے ہوئے ۔۔۔۔۔ سب تجربے نظم نے کرنے سکھائے تھے ۔۔۔۔ ڈھیرا سا درد سہنا اوربس چلتے رہنا بھی ۔۔۔۔ فضول باتوں پر ہنسنا اور چھوٹے چھوٹے سہارے ڈھونڈنا بھی ۔۔۔۔ نظم کبھی کبھی مجھ سے روٹھ بھی جایا کرتی تھی ۔۔۔ اس کا جی چاہتا بادلوں سے پرے ایک خاص زاویے سے دنیا کو دیکھنے کا لیکن میں زیادہ تر اندر کے سناٹے سے الجھی رہتی ۔۔۔۔ درد رگوں میں گرہیں لگاتا اور میں بیٹھی انہیں کھولتی رہتی ۔۔۔۔۔ نظم کہتی کہ میں لاعلاج ہوں اورضرورت سے زیادہ قنوطیت پسند بھی۔۔۔۔ لیکن مجھے یہ سب پسند تھا ۔۔۔۔ میرے لیے یہی محفوظ راستہ تھا ۔۔۔۔ نظم اپنا آہنگ بلند کرنا چاہتی تھی آسمانوں میں پرواز کے لیے مچلا کرتی اور میں زمین میں اور گہرا دھنسنے کی کوشش کیا کرتی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ دراصل زندگی گزارنے کا کوئی نظریہ یا ڈھنگ میرے پاس تھا ہی نہیں ۔۔۔۔ بس یونہی جیسے خود رُو پودے ہوائوں کے تھپیڑے اور بارشوں کے شور سہتے سہتے پلتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ میرے ساتھ رہتے نظم کا نصیب بھی یہی تھا سو یہ بھی بغیر نظریے کے پلتی رہی ۔۔۔۔۔ سارے تھپیڑے سہتی اور شور سنتی ہوئی۔۔۔۔۔ نظم خوبصورت نہیں تھی لیکن اس کی آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی ۔۔۔۔ ظالم کا اپنا سحر تھا۔۔۔۔ چپکے چپکے دل پر ہاتھ رکھ دینے والا۔۔۔۔ بے خواب چاندنی راتوں میں رقص کرتے کرتے ۔۔۔ خود فراموشی کے لمحات میں اس کا چہرہ زندگی کی تمتماہٹ سے جگمگا اٹھتا ۔۔۔ ایسے میں مجھے یہ بہت اچھی لگا کرتی تھی۔۔۔۔ پھر کبھی کبھی اس کے طفیل خودفراموشی کے چند لمحات مجھے میسر آ جاتے تو اور بھی اچھا لگتا۔۔۔ بس ہماری یہی کائنات رہی ہے ۔۔۔ سادہ اور چھوٹی ۔۔۔ دنیا کی پیچیدہ سیاست اور بڑے لوگوں کے کارناموں سے شاید ہمیں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔۔۔۔ ہاں گلیوں ، محلوں ، دفتروں ، پارکوں ، سینما ہالوں اور سڑکوں پر بہتی ہوئی زندگی سے بارہا متاثر ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ حاشیے کے اس طرف جینے میں زیادہ مزہ تھا۔۔۔۔ یوں بارہ برس کی اس بے پناہ رفاقت کے صلے میں نظم کو دینے کے لیے میرے پاس اس سے علاوہ کیا ہے کہ میں اسے ایک جسم دے دوں یعنی یہ کتابی شکل ۔۔۔۔ ان سب چھوٹے بڑے خوابوں میں سے ایک خواب جو میں نے دیکھا نظم نے دیکھا اور ہمارے ساتھ کچھ اورآنکھیں بھی تھیں جنہوں نے بجھ جانے میں عجلت سے کام لیا۔۔
گلناز کوثر

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s