زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

اب تک خیام دشت میں برپا ہمارے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 188
سب داغ ہائے سینہ ہویدا ہمارے ہیں
اب تک خیام دشت میں برپا ہمارے ہیں
وابستگان لشکر صبر و رضا ہیں ہم
جنگل میں یہ نشان و مصلیٰ ہمارے ہیں
نوک سناں پہ مصحف ناطق ہے سربلند
اونچے علم تو سب سے زیادہ ہمارے ہیں
یہ تجھ کو جن زمین کے ٹکروں پہ ہے غرور
پھینکے ہوئے یہ اے سگ دنیا، ہمارے ہیں
سر کر چکے ہیں معرکۂ جوئے خوں سو آج
’’روئے زمیں پہ جتنے ہیں دریا ہمارے ہیں‘‘
آخری شعر کا مصرع ثانی میر مونس کا ہے
عرفان صدیقی

روشنی روزنِ دیوار بھی کر سکتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 187
جشنِ مہتاب گرفتار بھی کر سکتے ہیں
روشنی روزنِ دیوار بھی کر سکتے ہیں
یوسفِ شہر، تجھے تیرے قبیلے والے
دام لگ جائیں تو بازار بھی کر سکتے ہیں
ایک شکل اور بھی ہے چپ کھڑے رہنے کے سوا
آپ اس جرم کا اقرار بھی کر سکتے ہیں
دفن کردی گئی جس خاک میں بستی میری
شہر اسی خاک سے آثار بھی کر سکتے ہیں
فتح کے نشے میں یہ بات نہ بھولو کہ وہ لوگ
پھر پلٹ آئیں تو یلغار بھی کر سکتے ہیں
جی دکھایا ترے لہجے نے تو معلوم ہوا
کس طرح لفظ کو تلوار بھی کر سکتے ہیں
عرفان صدیقی

پر اسے معرکۂ عشق سے کم جانتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 186
سخت ہے مرحلۂ رزق بھی ہم جانتے ہیں
پر اسے معرکۂ عشق سے کم جانتے ہیں
آج تک ان کی خدائی سے ہے انکار مجھے
میں تو اک عمر سے کافر ہوں‘ صنم جانتے ہیں
ان کمندوں میں گرفتار نہ ہوں گے کہ غزال
زخم خوردہ ہیں مگر شیوۂ رم جانتے ہیں
یہی اک دھوپ کا ٹکڑا‘ یہی اک کوزۂ خاک
ہم اسے دولتِ اسکندر و جم جانتے ہیں
جانتے سب ہیں کہ ہم رکھتے ہیں خم طرفِ کلاہ
اور کیوں رکھتے ہیں، یہ اہلِ ستم جانتے ہیں
عرفان صدیقی

ہم کو سب مہربان ملتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 185
در پئے جسم و جان ملتے ہیں
ہم کو سب مہربان ملتے ہیں
زندگی ہے تو دشمنان عزیز
پھر تہہ آسمان ملتے ہیں
حرج کیا ہے ہمارے ملنے میں
رات دن بھی تو آن ملتے ہیں
کیوں نہ تم میرے دل میں بس جاؤ
اس گلی میں مکان ملتے ہیں
سارے آئندگاں کو رستے ہیں
رفتگاں کو نشان ملتے ہیں
کشتیوں کا تو نام ہوتا ہے
شوق کو بادبان ملتے ہیں
عرفان صدیقی

کہ ہم دستِ کرم دُنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 184
فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں
کہ ہم دستِ کرم دُنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں
درِ روحانیاں کی چاکری بھی کام ہے اپنا
بتوں کی مملکت میں کارِ سلطانی بھی کرتے ہیں
جنوں والوں کی یہ شائستگی طرفہ تماشا ہے
رفو بھی چاہتے ہیں چاک دامانی بھی کرتے ہیں
مجھے کچھ شوقِ نظّارہ بھی ہے پھولوں کے چہروں کا
مگر کچھ پھول چہرے میری نگرانی بھی کرتے ہیں
جو سچ پوچھو تو ضبطِ آرزو سے کچھ نہیں ہوتا
پرندے میرے سینے میں پر افشانی بھی کرتے ہیں
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا
کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
بہت نوحہ گری کرتے ہیں دل کے ٹوٹ جانے کی
کبھی آپ اپنی چیزوں کی نگہبانی بھی کرتے ہیں
عرفان صدیقی

یہ کون ہیں جو لہو کو کتاب کرتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 183
سجے سجائے صحفیے خراب کرتے ہیں
یہ کون ہیں جو لہو کو کتاب کرتے ہیں
پرند جھیلوں پہ آتے ہیں لوٹنے کے لیے
سبھی رکے ہوئے لشکر رکاب کرتے ہیں
بہت غرور ہے اے آبجو‘ تو آج تجھے
ہم اپنی تشنہ لبی سے سراب کرتے ہیں
اسی زمین سے آتی ہے اپنے خوں کی مہک
سنو، یہیں کہیں خیمے طناب کرتے ہیں
چراغ آخرِ شب ہیں سو اپنے بچوں کو
ہم آنے والی سحر انتساب کرتے ہیں
عرفان صدیقی

فریاد ہم بہت پسِ دیوار کرتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 182
عرضِ وفا تو فرض ہے ناچار کرتے ہیں
فریاد ہم بہت پسِ دیوار کرتے ہیں
دو چار حرف لکھ کے ہم اپنے گمان میں
اس کو شریکِ لذت آزار کرتے ہیں
میرے خیال‘ اب ترا بچنا محال ہے
لوگوں کے لفظ ذہن پہ یلغار کرتے ہیں
اپنے سوا بھی رنج تماشا کریں‘ تو چل
کچھ دیر سیرِ کوچہ و بازار کرتے ہیں
خود ہی اسے ضرورتِ بیعت نہیں رہی
اب آپ کیا ارادۂ انکار کرتے ہیں
تجھ سے ملے تو ہم نے یہ جانا کہ آجکل
آہو شکاریوں کو گرفتار کرتے ہیں
کچھ دن پرند پرورشِ بال و پر کریں
بے صرفہ کیوں ہواؤں سے پیکار کرتے ہیں
آشفتگاں کو رمز و اشارت کا کیا دماغ
یہ لوگ کس زبان میں گفتار کرتے ہیں
عرفان صدیقی

چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 181
ذرا سا وقت کہیں بے سبب گذارتے ہیں
چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں
تو اک چراغِ جہانِ دگر ہے کیا جانے
ہم اس زمین پہ کس طرح شب گذارتے ہیں
ہمارا عشق ہی کیا ہے‘ گذارنے والے
یہاں تو نذر میں نام و نسب گذارتے ہیں
خراج مانگ رہی ہے وہ شاہ بانوئے شہر
سو ہم بھی ہدیۂ دستِ طلب گذارتے ہیں
سنا تو ہو گا کہ جنگل میں مور ناچتا ہے
ہم اس خرابے میں فصلِ طرب گذارتے ہیں
عرفان صدیقی

سخن یہ بے خبری میں کہاں سے آتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 180
پرند نامہ بری میں کہاں سے آتے ہیں
سخن یہ بے خبری میں کہاں سے آتے ہیں
ہمیں بھی یاد نہیں ہے کہ ہم شرر کی طرح
ہوا کی ہم سفری میں کہاں سے آتے ہیں
مسافتیں کوئی دیکھے کہ ہم سرابوں تک
گمانِ خوش نظری میں کہاں سے آتے ہیں
گھروں میں آنکھیں‘ دروں میں چراغ جلتے ہوئے
یہ خواب دربدری میں کہاں سے آتے ہیں
یہ کون جادۂ گم گشتگاں اجالتا ہے
فرشتے دشت و تری میں کہاں سے آتے ہیں
اگر تراوشِ زخم جگر نہیں کوئی چیز
تو رنگ بے ہنری میں کہاں سے آتے ہیں
عرفان صدیقی

اب تو پہچان کہ ہم شام کو گھر آگئے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 179
خانۂ درد ترے خاک بہ سر آگئے ہیں
اب تو پہچان کہ ہم شام کو گھر آگئے ہیں
جان و دل کب کے گئے ناقہ سواروں کی طرف
یہ بدن گرد اڑانے کو کدھر آگئے ہیں
رات دن سوچتے رہتے ہیں یہ زندانیِ ہجر
اس نے چاہا ہے تو دیوار میں در آگئے ہیں
اس کے ہی ہاتھ میں ہے شاخِ تعلق کی بہار
چھو لیا ہے تو نئے برگ و ثمر آگئے ہیں
ہم نے دیکھا ہی تھا دُنیا کو ابھی اس کے بغیر
لیجئے بیچ میں پھر دیدۂ تر آگئے ہیں
اتنا آسان نہیں فیصلۂ ترکِ سفر
پھر مری راہ میں دو چار شجر آگئے ہیں
نیند کے شہر طلسمات میں دیکھیں کیا ہے
جاگتے میں تو بہت خواب نظر آگئے ہیں
عرفان صدیقی

ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 178
ہم تو زنجیر سفر شوق میں ڈالے ہوئے ہیں
ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں
جان و تن عشق میں جل جائیں گے‘ جل جانے دو
ہم اسی آگ سے گھر اپنا اجالے ہوئے ہیں
کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے
کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوئے ہیں
اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو
بھائی‘ ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں
ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انہیں کیا معلوم
لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوئے ہیں
کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی
یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوئے ہیں
دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آجا کہ ابھی
ہم یہ گرتی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
عرفان صدیقی

عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 177
ہم اپنے ذہن کی آب و ہوا میں زندہ ہیں
عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں
گزرنے والے جہازوں کو کیا خبر ہے کہ ہم
اسی جزیرۂ بے آشنا میں زندہ ہیں
گلی میں ختم ہوا قافلے کا شور‘ مگر
مسافروں کی صدائیں سرا میں زندہ ہیں
مجھے ہی کیوں ہو کسی اجنبی پکار کا خوف
سبھی تو دامنِ کوہِ ندا میں زندہ ہیں
خدا کا شکر‘ ابھی میرے خواب ہیں آزاد
مرے سفر مری زنجیر پا میں زندہ ہیں
ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں
عرفان صدیقی

لامسہ، شامہ، ذائقہ، سامعہ، باصرہ سب مرے راز دانوں میں ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 176
تیرے تن کے بہت رنگ ہیں جانِ من، اور نہاں دل کے نیرنگ خانوں میں ہیں
لامسہ، شامہ، ذائقہ، سامعہ، باصرہ سب مرے راز دانوں میں ہیں
اور کچھ دامنِ دل کشادہ کرو، دوستو، شکرِ نعمت زیادہ کرو
پیڑ، دریا، ہوا، روشنی، عورتیں، خوشبوئیں سب خدا کے خزانوں میں ہیں
ناقۂ حسن کی ہم رکابی کہاں، خیمۂ ناز میں باریابی کہاں
ہم تو اے بانوئے کشورِ دلبری، پاسداروں میں ہیں ساربانوں میں ہیں
میرے اندر بھی ہے ایک شہرِ دگر، میرے مہتاب اک رات ادھر سے گزر
کیسے کیسے چراغ ان دریچوں میں ہیں، کیسے کیسے قمر ان مکانوں میں ہیں
اک ستارہ ادا نے یہ کیا کردیا، میری مٹی سے مجھ کو جدا کر دیا
ان دنوں پاؤں میرے زمیں پر نہیں اب میری منزلیں آسمانوں میں ہیں
عرفان صدیقی

معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 175
خیمۂ نصرت بپا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دیکھتا ہوں آسمانوں پر غبار اُٹھتا ہوا
دلدلِ فرخندہ پا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دُور اُفق تک ہر طرف روشن چراغوں کی قطار
داغ دل کا سلسلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آئنے خوش ہیں کہ اُڑ جائے گی سب گردِ ملال
شہر میں رقصِ ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
میں تو چپ تھا پھر زمانے کو خبر کیسے ہوئی
میرے چہرے پر لکھا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
ہو رہا ہے قید و بندِ رہزناں کا بند و بست
عاملوں کو خط ملا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آج تک ہوتا رہا ظالم ترا سوچا ہوا
اب مرا چاہا ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جب اِدھر سے ہوکے گزرے گا گہر افشاں جلوس
میرا دروازہ کھلا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
چاکر دُنیا سے عرضِ مدّعا کیوں کیجیے
خسروِ دوراں سے کیا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
لفظ نذر شاہ کر دینے کی ساعت آئے گی
خلعتِ معنی عطا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جان فرشِ راہ کر دینے کی ساعت آئے گی
زندگی کا حق ادا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
عرفان صدیقی

کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 174
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں
کوئی آکے ہمیں زنجیر کرے
ہم رقصِ جنوں فرمانے کو ہیں
جو بادل بستی چھوڑ گئے
کسی بن پہ بھرن برسانے کو ہیں
اب جاؤ ہمارے دھیان سے تم
ہم پل بھر جی بہلانے کو ہیں
جس شہر سے اس نے کوچ کیا
ہم کون وہاں رہ جانے کو ہیں
دل کیسے ریت میں ڈوب گیا
آنکھیں تو دھوکا کھانے کو ہیں
اب ہونٹوں پر کوئی ہاتھ نہیں
ہم دل کی بات بتانے کو ہیں
عرفان صدیقی

یاد وہ بھی نہیں آتا ہے پریشان جو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 173
کچھ نہ کچھ بھول تو ہوجاتی ہے انسان جو ہیں
یاد وہ بھی نہیں آتا ہے پریشان جو ہیں
صرف اتنا کہ بڑی چیز ہے ملنا دل کا
ہم کوئی بات سمجھتے نہیں ناداں جو ہیں
رونقِ شہر سے مایوس نہ ہو بانوئے شہر
خاک اڑانے کو ترے بے سرو سامان جو ہیں
خیر دُنیا مری وحشت کے لیے تنگ سہی
اور یہ عرصۂ باطن میں بیابان جو ہیں
اے شبِ دربدری آنکھ میں روشن کیا ہے
کچھ ستارے کہ سرِ مطلعِ امکان جو ہیں
اگلے موسم میں ہماری کوئی پہچان تو ہو
ان کو محفوظ رکھیں تارِ گریبان جو ہیں
رات کی رات فقیروں کی بھی دلداری کر
دائم آباد زمیں، ہم ترے مہمان جو ہیں
عرفان صدیقی

یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 172
سخن میں رنگ تمہارے خیال ہی کے تو ہیں
یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں
کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب
سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
ذرا سی بات ہے دل میں اگر بیاں ہوجائے
تمام مسئلے اظہارِ حال ہی کے تو ہیں
یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں
ختن میں رہ کے بھی چشمِ غزال ہی کے تو ہیں
جسارتِ سخنِ شاعراں سے ڈرنا کیا
غریب مشغلۂ قیل و قال ہی کے تو ہیں
ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر
چراغ ہم کسی شامِ زوال ہی کے تو ہیں
عرفان صدیقی

ہم اپنی خاک سے پھر گنجِ زر نکالتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 171
ملالِ دولتِ بردہ پہ خاک ڈالتے ہیں
ہم اپنی خاک سے پھر گنجِ زر نکالتے ہیں
میں اپنے نقدِ ہنر کی زکات بانٹتا ہوں
مرے ہی سکے مرے ہم سخن اچھالتے ہیں
بڑھا کے میرے معانی پہ لفظ کا زنگار
مرے حریف مرے آئنے اجالتے ہیں
سجا کے آئنہ حرف پیشِ آئینہ
ہم اک کرن سے ہزار آفتاب ڈھالتے ہیں
عذابِ جاں ہے عزیزو خیالِ مصرعِ تر
سو ہم غزل نہیں لکھتے عذاب ٹالتے ہیں
عرفان صدیقی

کچھ اور بات کرو سب کے حال دوسرے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 170
کہاں کے شعر و سخن ماہ و سال دوسرے ہیں
کچھ اور بات کرو سب کے حال دوسرے ہیں
چراغ بجھ گئے دل کی لویں بچائے رکھو
کہ اب کے موج ہوا کے خیال دوسرے ہیں
کہاں سے آئے ہو جنس وفا خریدنے کو
میاں، یہاں کی دُکانوں پہ مال دُوسرے ہیں
مری غزل کی زمیں ہے بدن سے آگے بھی
اسیر حلقۂ ہجر و وصال دُوسرے ہیں
بچھڑنے ملنے کا قصہ تو چلتا رہتا ہے
نہیں نہیں مرے عیش و ملال دوسرے ہیں
یہ میرا عکس دروں ہے یقیں نہیں آتا
اس آئینے میں مرے خط و خال دُوسرے ہیں
تمہارے ساتھ ہے دل کا مکالمہ کچھ اور
کہ دوسروں سے ہمارے سوال دوسرے ہیں
ستم سوا ہو تو اپنی طرف ہی لوٹتا ہے
ابھی تو خیر یہاں پائمال دوسرے ہیں
عرفان صدیقی

آج اُس شخص کو نزدیک بلا کر دیکھیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 169
وہ خدا ہے کہ صنم، ہاتھ لگاکر دیکھیں
آج اُس شخص کو نزدیک بلا کر دیکھیں
ایک جیسے ہیں سبھی گل بدنوں کے چہرے
کس کو تشبیہ کا آئینہ دِکھا کر دیکھیں
کیا تعجب کوئی تعبیر دِکھائی دے جائے
ہم بھی آنکھوں میں کوئی خواب سجا کر دیکھیں
جسم کو جسم سے ملنے نہیں دیتی کمبخت
اَب تکلف کی یہ دیوار گراکر دیکھیں
خیر، دلّی میں تو اوراقِ مصور تھے بہت
لاؤ، اُس شہر کی گلیوں میں بھی جا کر دیکھیں
کون آتا ہے یہاں تیز ہواؤں کے سوا
اپنی دہلیز پہ اِک شمع جلا کر دیکھیں
وہ سمجھتا ہے یہ اندازِ تخاطب کہ نہیں
یہ غزل اُس غزل آراء کو سناکر دیکھیں
عرفان صدیقی

مرے دل کی گواہی درج کریں، مرے ہونٹوں کا اقرار لکھیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 168
مرے شانوں پہ دو لکھنے والے، تحریر سرِ دیوار لکھیں
مرے دل کی گواہی درج کریں، مرے ہونٹوں کا اقرار لکھیں
میں نے تو یہ جنگ نہیں چھیڑی، مرا کام تو لڑتے رہنا ہے
آنے والے مرے کھاتے میں، کل جیت لکھیں یا ہار لکھیں
وہی نوحہ بیتی باتوں کا، وہی نغمہ آتی راتوں کا
جب کوچ کریں ہر بار سنیں، جب خیمہ لگے ہر بار لکھیں
میں ضدی لڑکا ماضی کے گرتے ہوئے گھر سے بھاگا ہوا
مجھے پچھلے موسم خط بھیجیں، مجھے گزری راتیں پیار لکھیں
یہ تپتا دشت بسانے میں، اوپر والے مرا ہاتھ بٹا
کچھ سایہ مرے اشعار بنیں کچھ سایہ ترے اشجار لکھیں
عرفان صدیقی

پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 167
بہت دنوں تو رہا اپنا نکتہ چین بھی میں
پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں
مری طرف ہی دواں ہے مری کمندِ ہوس
یہاں غزال بھی میں ہوں سبکتگین بھی میں
عذاب مجھ سے مجھی پر اترتے رہتے ہیں
فرازِ عرش بھی میں‘ پستیِ زمین بھی میں
اب اپنے آپ کو کس طرح بے بہا کہیے
نگیں شناس بھی میں‘ دانۂ نگین بھی میں
گدا و شاہ سے میرا تپاک ایک سا ہے
کہ کج کلاہ بھی میں‘ بوریا نشیں بھی میں
مجھے وہ آنکھ نہ دیکھے تو میں ہی سب سے خراب
وہ انتخاب جو کر لے تو بہترین بھی میں
عرفان صدیقی

میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 166
تول مت مجھ کو کہ پاسنگ بہت ہے مجھ میں
میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں
آؤ میں تم کو تمہارے کئی چہرے دکھلاؤں
آئنہ خانہ ہوں‘ نیرنگ بہت ہے مجھ میں
میرا دشمن مرے سینے سے اترتا ہی نہیں
غالباً حوصلۂ جنگ بہت ہے مجھ میں
اس نے کیا سوچ کے چھیڑا تھا‘ میں کیا بول اٹھا
تار کوئی غلط آہنگ بہت ہے مجھ میں
اتنی افسردہ نہ ہو کوچۂ قاتل کی ہوا
چھو کے تو دیکھ‘ ابھی رنگ بہت ہے مجھ میں
عرفان صدیقی

مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 165
پھر کسی نام کا مہتاب نہ نکلا مجھ میں
مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں
روز و شب جسم کی دیوار سے ٹکراتا ہے
قید کر رکھا ہے کس نے یہ پرندہ مجھ میں
ایک مدت سے مری بیعت جاں مانگتی تھی!
آج خاموش ہے کیا دیکھ کے دنیا مجھ میں
ویسے میرے خس و خاشاک میں کیا رکھا ہے
آگ دکھلاؤ تو نکلے گا تماشا مجھ میں
ریت اُڑتی ہے بہت ساحل احساس کے پاس
سوکھتا جاتا ہے شاید کوئی دریا مجھ میں
اب میں خود سے بھی مخاطب نہیں ہونے پاتا
جب سے چپ ہو گیا وہ بولنے والا مجھ میں
عرفان صدیقی

آخر کسی افق سے اُبھارا گیا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 164
جب بھی صلیب شام پہ وارا گیا ہوں میں
آخر کسی افق سے اُبھارا گیا ہوں میں
چاروں طرف گھٹی ہوئی چیخوں کا شور ہے
بول اے ہوا، کدھر سے پکارا گیا ہوں میں
ٹوٹے ہوئے دلوں کی مناجات ہوں مگر
بہری سماعتوں پہ اُتارا گیا ہوں میں
عرفان صدیقی

کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 163
بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں
کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
تجھی پہ ختم ہے جاناں مرے زوال کی رات
تو اب طلوع بھی ہوجا کہ ڈھل رہا ہوں میں
بلا رہا ہے مرا جامہ زیب ملنے کو
تو آج پیرہنِ جاں بدل رہا ہوں میں
غبارِ راہ گزر کا یہ حوصلہ بھی تو دیکھ
ہوائے تازہ ترے ساتھ چل رہا ہوں میں
میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ وہ پکارتا ہے
اور اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں میں
عرفان صدیقی

ہوائے تازہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 162
در و دیوار کی زد سے نکلنا چاہتا ہوں میں
ہوائے تازہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں
وہ کہتے ہیں کہ آزادی اسیری کے برابر ہے
تو یوں سمجھو کہ زنجیریں بدلنا چاہتا ہوں میں
MERGED نمو کرنے کو ہے میرا لہو قاتل کے سینے سے
وہ چشمہ ہوں کہ پتھر سے ابلنا چاہتا ہوں میں
بلند و پستِ دُنیا فیصلہ کرنے نہیں دیتے
کہ گرنا چاہتا ہوں یا سنبھلنا چاہتا ہوں میں
محبت میں ہوس کا سا مزا ملنا کہاں ممکن
وہ صرف اک روشنی ہے جس میں جلنا چاہتا ہوں میں
عرفان صدیقی

لشکروں کی آہٹیں تو رات بھر سنتا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 161
دیکھیے کس صبح نصرت کی خبر سنتا ہوں میں
لشکروں کی آہٹیں تو رات بھر سنتا ہوں میں
خیر‘ اب میری فصیلِ شہر بھی کیا دور ہے
جنگلوں تک آچکا پیکِ سحر سنتا ہوں میں
اے پرندو‘ یاد کرتی ہے تمہیں پاگل ہوا
روز اک نوحہ سرِ شاخِ شجر سنتا ہوں میں
کوئی نیزہ سرفرازی دے تو کچھ آئے یقیں
خشک ٹہنی پر بھی آتے ہیں ثمر سنتا ہوں میں
لاؤ، اس حرفِ دُعا کا بادباں لیتا چلوں
سخت ہوتا ہے سمندر کا سفر سنتا ہوں میں
عرفان صدیقی

چراغوں کے بدن کو پارہ پارہ دیکھتا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 160
زوالِ شامِ ہجراں کا اشارہ دیکھتا ہوں میں
چراغوں کے بدن کو پارہ پارہ دیکھتا ہوں میں
متاعِ جاں لٹا دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا
تو کیوں سود و زیاں کا گوشوارہ دیکھتا ہوں میں
تمنا کا نتیجہ اپنے سر لینا نہیں اچھا
ذرا ٹھہرو عزیزو‘ استخارہ دیکھتا ہوں میں
مری خاکِ بدن آخر اسی مٹی کا حصہ ہے
سو کشتی کھولتا ہوں اور کنارہ دیکھتا ہوں میں
غبارِ شب کے پیچھے روشنی ہے لوگ کہتے ہیں
اگر یوں ہے تو یہ منظر دوبارہ دیکھتاہوں میں
اندھیروں میں کچھ ایسے خواب بھی دکھلائی دیتے ہیں
کہ جیسے آسماں پر اک ستارہ دیکھتا ہوں میں
عرفان صدیقی

یہ ایک سینہ کہاں تک سپر کروں گا میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 159
تمام معرکے اب مختصر کروں گا میں
یہ ایک سینہ کہاں تک سپر کروں گا میں
وہی عصا کا خدا ہے‘ وہی سمندر کا
وہ مرحلہ کوئی دے گا تو سر کروں گا میں
کوئی دُعا ہوں‘ کسی اور سے معاملہ ہے
صدا نہیں کہ سماعت میں گھر کروں گا میں
پرانی خوشبوؤ! اب میرے ساتھ ساتھ نہ آؤ
یہاں سے اگلی رتوں کا سفر کروں گا میں
وہ اک کھنڈر ہے‘ مگر راستے میں پڑتا ہے
سو ایک رات وہاں بھی بسر کروں گا میں
اجاڑ دشت میں کچھ زندگی تو پیدا ہو
یہ ایک چیخ یہاں بھی شجر کروں گا میں
عرفان صدیقی

یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 158
اب اپنے زخم کو اپنی زباں بناؤں گا میں
یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں
اسی سفر کا شجر ہے وہ پھر ملے گا مجھے
اسی زمین کا موسم ہوں لوٹ آؤں گا میں
کبھی کبھی تجھے دیکھوں گا تیری آنکھوں سے
کبھی کبھی ترے ہونٹوں سے مسکراؤں گا میں
کبھی کبھی کسی دُھن میں تجھے پکاروں گا
کبھی کبھی کسی بن میں الکھ جگاؤں گا میں
غرورِ جاں میں بھی رکھوں گا چاہتوں کا بھرم
کبھی کبھی ترے احسان بھی اٹھاؤں گا میں
مرے لہو کو یہی موجِ تشنگی ہے بہت
کنارِ جو ابھی خیمہ نہیں لگاؤں گا میں
اب ایک سنگ اس آئینے سے تراشوں گا
تجھے پھر اک ہنر رائیگاں دکھاؤں گا میں
یہی رہے گا تماشا مرے چراغوں کا
ہوا بجھاتی رہے گی جلائے جاؤں گا میں
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہوجائیں
کہ اس کے بعد یہ دُنیا کہاں سے لاؤں گا میں
عرفان صدیقی

نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 157
بچے گا اب نہ کوئی بادباں سفینے میں
نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں
فضا میں اڑتے ہوئے بادلوں سے یاد آیا
کہ میں اسیر ہوا تھا اسی مہینے میں
وہ رک گیا تھا مرے بام سے اترتے ہوئے
جہاں پہ دیکھ رہے ہو چراغ زینے میں
نکال دی ہے خدا نے نباہ کی صورت
ہمارے سنگ میں اور تیرے آبگینے میں
بدن کی خاک میں کب سے دبا تھا شعلۂ عشق
عجیب چیز ملی ہے مجھے دفینے میں
عرفان صدیقی

کوئی تعبیر رکھ دو میرے بچوں کی کتابوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 156
مجھے اُلجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں
کوئی تعبیر رکھ دو میرے بچوں کی کتابوں میں
طلسم ایسا تو ہو جو خوُبصورت ہو حقیقت سے
ہنر یہ بھی نہیں ہے آج کے افراسیابوں میں
تعلق اِک تعارف تک سمٹ کر رہ گیا آخر
نہ وہ تیزی سوالوں میں نہ وہ تلخی جوابوں میں
مکاں کیسے بھی ہوں، خوابوں کی خاطر کون ڈھاتا ہے
کم اَز کم اِس قدر ہمّت تو تھی خانہ خرابوں میں
ذرا سوچو تو اِس دُنیا میں شاید کچھ نہیں بدلا
وہی کانٹے ببولوں میں، وہی خوُشبو گلابوں میں
عرفان صدیقی

مگر آج تک کوئی شہ سوار چھپا ہواہے غبار میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 155
یہ چراغ کشتہ نہ جانے کب سے پڑے ہیں راہ گزار میں
مگر آج تک کوئی شہ سوار چھپا ہواہے غبار میں
میں کہاں گلاب شجر کروں‘ میں کشادہ سینہ کدھر کروں
کوئی نیزہ میرے یمین میں‘ کوئی تیغ میرے یسار میں
مجھے اس طلسم سرائے شب میں عجیب کام دیے گئے
نہ جلوں شکستہ فصیل پر، نہ بجھوں ہوا کے حصار میں
انہیں کیا خبر کہ دلاوری کوئی شرطِ فتح و ظفر نہیں
کہ بکھرتی صف کے پیادگاں، نہ شمار میں، نہ قطار میں
عرفان صدیقی

آؤ کہ اجر کار رسالت ادا کریں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 154
جاں نذر دے کے نصرت آل عبا کریں
آؤ کہ اجر کار رسالت ادا کریں
برپا کریں تو حشر کریں کربلا کے بعد
روشن اگر کریں تو چراغ عزا کریں
صدیوں سے سینہ زن ہے بدن میں لہو کی لہر
آج اس کو پیش تیغ ستم گر رہا کریں
صرف ایک سر ملا تھا سو نذرانہ کر دیا
اب ناصران معرکۂ صبر کیا کریں
صحرا میں شور کرتی ہیں موجیں فرات کی
زنداں میں جیسے اہل سلاسل صدا کریں
اس شاہ بے کساں پہ دل و روح و جاں نثار
مقدور ہو تو نذر کچھ اس سے سوا کریں
یاد آوران تشنہ دہانان کربلا
اس تشنگی کو چشمۂ آب بقا کریں
گریہ نشان جاں ہے مگر اس کے باوجود
مقتل مقام صبر و رضا ہے رضا کریں
تیرا قلم ولا کا علم ہے سو مجرئ
عباس تجھ کو ظل حمایت عطا کریں
عرفان صدیقی

شمع گل ہوتے ہی سب چلنے کی تیاری کریں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 153
روشنی میں لوگ اعلانِ وفاداری کریں
شمع گل ہوتے ہی سب چلنے کی تیاری کریں
جب ہمیں بے مول ہاتھ آنے لگیں سچائیاں
کیا ضرورت ہے کہ خوابوں کی خریداری کریں
یہ زمیں پھر پاؤں کی زنجیر ہوجانے کو ہے
وحشتیں اب کوئی فرمانِ سفر جاری کریں
تو میسر ہے تو تجھ پر شعر کیوں لکھیں کوئی
تجھ سے فرصت ہو تو ہم یہ شغلِ بیکاری کریں
عرفان صدیقی

لمبا سفر ہے زاد سفر کیسے چھوڑ دیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 152
راہ ستم میں سوز جگر کیسے چھوڑ دیں
لمبا سفر ہے زاد سفر کیسے چھوڑ دیں
آندھی میں چھوڑتے ہیں کہیں آشیاں پر ند
ہم اس ہوا کے خوف سے گھر کیسے چھوڑ دیں
چندن کے بن میں سانپ نکلتے ہی رہتے ہیں
اس ڈر سے خوشبوؤں کے شجر کیسے چھوڑ دیں
جب کچھ نہ تھا تو ہم نے دیا تھا زمیں کو خوں
اب فصل پک چکی تو ثمر کیسے چھوڑ دیں
اے دل وہ دیکھ خیمہ، فردا قریب ہے
تجھ کو فصیل شب کے ادھر کیسے چھوڑ دیں
مانا کہ ایک عمر سے ٹھہری ہوئی ہے رات
انسان ہیں اُمید سحر کیسے چھوڑ دیں
عرفان صدیقی

گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 151
کوئلیں پھر بھولے بسرے غم جگانے آگئیں
گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں
ٹھنڈے دالانوں میں پھر کُھلنے لگی دِل کی کتاب
جلتی دوپہریں سرا پردے گرانے آگئیں
ڈھک گئیں پھر صندلیں شاخیں سنہری بور سے
لڑکیاں دَھانی دوپٹے سر پہ تانے آگئیں
پھر دَھنک کے رَنگ بازاروں میں لہرانے لگے
تتلیاں معصوم بچوں کو رِجھانے آگئیں
کھل رہے ہوں گے چھتوں پر سانولی شاموں کے بال
کتنی یادیں ہم کو گھر واپس بلانے آگئیں
دُھول سے کب تک کوئی شفاف جذبوں کو بچائے
خواہشوں کی آندھیاں پھر خاک اُڑانے آگئیں
عرفان صدیقی

اُٹھتے ہوئے تیشوں سے کہو دَھار بچائیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 150
ہم سوکھے ہوئے پیڑوں کو بیکار بچائیں
اُٹھتے ہوئے تیشوں سے کہو دَھار بچائیں
شاید کہ اُتر آئے سوا نیزے پہ سورج
کل کے لیے کچھ سایۂ دیوار بچائیں
خنجر کی طرح کاٹ بھی ہے تند ہوا میں
اَب سر کی کریں فکر کہ دَستار بچائیں
نفرت کے خزانے میں تو کچھ بھی نہیں باقی
تھوڑا سا گزارے کے لیے پیار بچائیں
اولوں کی طرح ہم پہ برستا رہے موسم
ہم جھومتی شاخوں کی طرح وار بچائیں
عرفان صدیقی

دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 149
دیکھ لے، خاک ہے کاسے میں کہ زر ہے سائیں
دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں
تو مجھے اس کے خم و پیچ بتاتا کیا ہے
کوئے قاتل تو مری راہ گزر ہے سائیں
یہ جہاں کیا ہے بس اک صفحۂ بے نقش و نگار
اور جو کچھ ہے ترا حسنِ نظر ہے سائیں
شہر و صحرا تو ہیں انسانوں کے رکھے ہوئے نام
گھر وہیں ہے دلِ دیوانہ جدھر ہے سائیں
ہم نے پہلے بھی مآلِ شبِ غم دیکھا ہے
آنکھ اب کے جو کھلے گی تو سحر ہے سائیں
پاؤں کی فکر نہ کر بارِ کم و بیش اتار
اصل زنجیر تو سامانِ سفر ہے سائیں
آگے تقدیر پرندے کی جہاں لے جائے
حدِّ پرواز فقط حوصلہ بھر ہے سائیں
شاعری کون کرامت ہے مگر کیا کیجے
درد ہے دل میں سو لفظوں میں اثر ہے سائیں
عشق میں کہتے ہیں فرہاد نے کاٹا تھا پہاڑ
ہم نے دن کاٹ دیئے یہ بھی ہنر ہے سائیں
عرفان صدیقی

پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 148
دل پہ یہ مشقِ ستارہ نظری آخر کیوں
پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں
میں ہی کیوں حلقۂ زنجیرِ تعلق میں اسیر
تو ہر الزامِ تعارف سے بری آخر کیوں
شاعری میں تو بہت دشت و بیابان کا ذکر
زندگی میں گلۂ دربدری آخر کیوں
اب کہیں کوئی تقاضا نہ کوئی شرطِ وصال
مجھ سے آگے مری شوریدہ سری آخر کیوں
دشتِ ہجراں کے کڑے کوس تو سب کے لیے ہیں
میں ہی ارمان کروں ہم سفری آخر کیوں
دل اگر لہر میں آئے تو اڑا کر لے جائے
عشق میں شکوۂ بے بال و پری آخر کیوں
عرفان صدیقی

سو منتظر اسی لمس ہنر کا میں بھی ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 147
ہوں مشتِ خاک مگر کوزہ گر کا میں بھی ہوں
سو منتظر اسی لمس ہنر کا میں بھی ہوں
کبھی ہوائے سرِ شاخسار ادھر بھی دیکھ
کہ برگِ زرد ہوں لیکن شجر کا میں بھی ہوں
یہ تیز روشنیوں کا دیار ہے‘ ورنہ
چراغ تو کسی تاریک گھر کا میں بھی ہوں
تمہارے زخموں سے میرا بھی ایک رشتہ ہے
لہو نہیں ہوں مگر چشمِ تر کا میں بھی ہوں
مجھے کھنچی ہوئی تلوار سونپنے والے
میں کیا کروں کہ طرفدار سر کا میں بھی ہوں
اب آگئی ہے سحر اپنا گھر سنبھالنے کو
چلوں‘ کہ جاگا ہوا رات بھر کا میں بھی ہوں
عرفان صدیقی

میں تیرے فیصلۂ معتبر پہ راضی ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 146
جہانِ گم شدگاں کے سفر پہ راضی ہوں
میں تیرے فیصلۂ معتبر پہ راضی ہوں
ابھی مرا کوئی پیکر نہ کوئی میری نمود
میں خاک ہوں ہنرِ کوزہ گر پہ راضی ہوں
یہی خیال مجھے جگمگائے رکھتا ہے
کہ میں رضائے ستارہ نظر پہ راضی ہوں
عجیب لوگ تھے مجھ کو جلا کے چھوڑ گئے
عجب دیا ہوں طلوعِ سحر پہ راضی ہوں
نہ جانے کیسے گھنے جنگلوں کا دکھ ہے کہ آج
میں ایک سایۂ شاخِ شجر پہ راضی ہوں
مجھے اداس نہ کر اے زوالِ عمر کی رات
میں اس کے وعدۂ شامِ دگر پہ راضی ہوں
عرفان صدیقی

ستم گروں کی مدارات کرتا رہتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 145
انہیں کی شہ سے انہیں مات کرتا رہتا ہوں
ستم گروں کی مدارات کرتا رہتا ہوں
یہاں کوئی نہیں سنتا حدیثِ دل زدگاں
مگر میں اور طرح بات کرتا رہتا ہوں
بھلا یہ عمر کوئی کاروبارِ شوق کی ہے
بس اک تلافیِ مافات کرتا رہتا ہوں
یہ کائنات مرے بال و پر کے بس کی نہیں
تو کیا کروں سفرِ ذات کرتا رہتا ہوں
یہیں پہ وارِ حریفاں اٹھانا پڑتا ہے
یہیں حسابِ مساوات کرتا رہتا ہوں
عجب نہیں کسی کوشش میں کامراں ہوجائیں
محبتوں کی شروعات کرتا رہتا ہوں
ہمیشہ کاسۂ خالی چھلکتا رہتا ہے
فقیر ہوں سو کرامات کرتا رہتا ہوں
عرفان صدیقی

میں اس کے خواب میں بیدار رہنا چاہتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 144
عجیب نشّہ ہے ہشیار رہنا چاہتا ہوں
میں اس کے خواب میں بیدار رہنا چاہتا ہوں
یہ موجِ تازہ مری تشنگی کا وہم سہی
میں اس سراب میں سرشار رہنا چاہتا ہوں
سیاہ چشم‘ مری وحشتوں پہ طنز نہ کر
میں قاتلوں سے خبردار رہنا چاہتا ہوں
یہ درد ہی مرا چارہ ہے تم کو کیا معلوم
ہٹاؤ ہاتھ میں بیمار رہنا چاہتا ہوں
ادھر بھی آئے گی شاید وہ شاہ بانوئے شہر
یہ سوچ کر سرِ بازار رہنا چاہتا ہوں
ہوا گلاب کو چھوکر گذرتی رہتی ہے
سو میں بھی اتنا گنہگار رہنا چاہتا ہوں
عرفان صدیقی

تماشا کر کہ میں کشکول گنجینے میں رکھتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 143
تجھے پاکر بھی تیری ہی طلب سینے میں رکھتا ہوں
تماشا کر کہ میں کشکول گنجینے میں رکھتا ہوں
اسی رستے سے وہ خورشیدِ فردا گھر میں اترے گا
سو آنکھوں کے دیئے اس رات کے زینے میں رکھتا ہوں
مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی
میں آنے والی دُنیا کو بھی تخمینے میں رکھتا ہوں
عزیزو تم سے رازِ خوش نوائی کیا چھپانا ہے
میں دل کے چند ٹکڑے اپنے سازینے میں رکھتا ہوں
مرا رنگِ ہنر تو ایک تصویرِ خیالی ہے
میں اک سادہ سا چہرہ دل کے آئینے میں رکھتا ہوں
عرفان صدیقی

آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 142
اب تو باقی ہے یہی سمت سفر چلتا ہوں
آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں
سوچنا کیا ہے اگر دشت زمیں ختم ہوا
میرے دل میں بھی تو صحرا ہے اُدھر چلتا ہوں
آخری رنگ ہواؤں سے بنا ہے کب تک
رخصت اے موسم بے رنگ و ثمر، چلتا ہوں
راہ میں چھوٹتے جاتے ہیں ملاقات کے بوجھ
جانے کیوں لے کے یہ سامان سفر چلتا ہوں
گھر سے نکلا تھا کہ صحرا کا تماشا دیکھوں
جب یہاں بھی وہی نقشہ ہے تو گھر چلتا ہوں
عرفان صدیقی

تنگ آیا ہوں سو پیراہن جاں کھولتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 141
لو، میں راز ہنر چارہ گراں کھولتا ہوں
تنگ آیا ہوں سو پیراہن جاں کھولتا ہوں
یہ بھی دیکھوں ترے افلاک میں رکھا کیا ہے
آج میں بال و پر وہم و گماں کھولتا ہوں
بھولتا بھی نہیں، نام اس کا بتاتا بھی نہیں
بند کرتا ہوں نہ یہ دل کی دُکاں کھولتا ہوں
MERGED تو بھی دیکھے ترے افلاک کی وسعت کیا ہے
آج میں بال و پر، ہم و گماں کھولتا ہوں
بھولتا بھی نہیں نام اس کا بتاتا بھی نہیں
نہ بڑھاتا ہوں نہ یہ دل کی دکاں کھولتا ہوں
عرفان صدیقی

میں پھر سے گمشدگاں کے علم اُٹھاتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 140
زیاں کی راہ میں اگلا قدم اُٹھاتا ہوں
میں پھر سے گمشدگاں کے علم اُٹھاتا ہوں
نیاز مند یہ دنیا نہیں کسی کی مگر
اسے خبر ہے کہ میں ناز کم اُٹھاتا ہوں
نہ کوئی حشر زمیں کے علاوہ اُٹھتا ہے
نہ میں ہی سر پس خواب عدم اُٹھاتا ہوں
عرفان صدیقی

میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 139
دیکھ لے، آج تری بزم میں بھی تنہا ہوں
میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں
جانے کیا ٹھان کے اُٹھتا ہوں نکلنے کے لیے
جانے کیا سوچ کے دروازے سے لوٹ آتا ہوں
میرے ہر جزو کا ہے مجھ سے الگ ایک وجود
تم مجھے جتنا بگاڑو گے میں بن سکتا ہوں
مجھ میں رَقصاں کوئی آسیب ہے آوازوں کا
میں کسی اُجڑے ہوئے شہر کا سنّاٹا ہوں
اپنا ہی چہرہ اُنہیں مجھ میں دِکھائی دے گا
لوگ تصویر سمجھتے ہیں میں آئینہ ہوں
لمحۂ شوق ہوں، میری کوئی قیمت ہی نہیں
میں میسر تجھے آجاؤں تو مہنگا کیا ہوں
میں جھپٹنے کے لیے ڈُھونڈھ رہا ہوں موقع
اور وہ شوخ سمجھتا ہے کہ شرماتا ہوں
عرفان صدیقی

آنکھ کے جسم پہ خوابوں کی رِدا تان سکوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 138
کاش میں بھی کبھی یاروں کا کہا مان سکوں
آنکھ کے جسم پہ خوابوں کی رِدا تان سکوں
میں سمندر ہوں، نہ توُ میرا شناور، پیارے
توُ بیاباں ہے نہ میں خاک تری چھان سکوں
رُوئے دِلبر بھی وہی، چہرۂ قاتل بھی وہی
توُ کبھی آنکھ ملائے تو میں پہچان سکوں
وقت یہ اور ہے، مجھ میں یہ کہاں تاب کہ میں
یاریاں جھیل سکوں، دُشمنیاں ٹھان سکوں
جب ستم ہے یہ تعارف ہی تو کیسا ہو، اگر
میں اُسے جاننے والوں کی طرح جان سکوں
عرفان صدیقی

غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 137
ہوائے دشت کو زیر قدم کریں دونوں
غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں
ذرا سا رقص شرر کر کے خاک ہو جائیں
جو رفتگاں نے کیا ہے وہ ہم کریں دونوں
یہ شام عمر، یہ خواہش کی تیز روشنیاں
لویں اب اپنے چراغوں کی کم کریں دونوں
اکیلا شخص کسے حال دل سنانے جائے
کبھی ملیں تو بچھڑنے کا غم کریں دونوں
خطوں میں کچھ تو قرینہ ہو دل نوازی کا
کوئی تو حرف شکایت رقم کریں دونوں
عرفان صدیقی

اے چاند، دکھائی دے تو جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 136
جلنے سے رہائی دے تو جانوں
اے چاند، دکھائی دے تو جانوں
تنہا نہیں نواحِ شب میں
آہٹ ہی سنائی دے تو جانوں
کیا زندہ ہے زخم کھانے والا
اک بار دہائی دے تو جانوں
دکھ دل سے بڑا نہیں ہے‘ معبود
تو دل کو سمائی دے تو جانوں
اوروں کا لہو لٹانے والے
کچھ اپنی کمائی دے تو جانوں
اے ذہن میں بسنے والی دُنیا
آنکھوں کو دکھائی دے تو جانوں
عرفان صدیقی

جشن ہے صبح کہ پیکار ہے میں کیا جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 135
شہر کیوں رات میں بیدار ہے میں کیا جانوں
جشن ہے صبح کہ پیکار ہے میں کیا جانوں
ایک قطرہ بھی مرے کوزۂ خالی میں نہیں
ہر طرف ابرِ گہر بار ہے میں کیا جانوں
عاشقوں کے سرِ تسلیم کو تسلیم سے کام
اب یہ ابرو ہے کہ تلوار ہے میں کیا جانوں
صید کرتا ہے کسی اور کی مرضی سے مجھے
خود بھی صیاد گرفتار ہے میں کیا جانوں
میں تو اک درد کا سرمایہ لیے بیٹھا ہوں
یہ مری جان کا آزار ہے میں کیا جانوں
عرفان صدیقی

کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 134
میں تو اک بکھری ہوئی صف کا پیادہ ٹھہرا
کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں
تو فرستادۂ سرکار نہیں ہے نہ سہی
ہاتھ میں محضرِ سرکار ہے میں کیا جانوں
شحنۂ شہر کی خدمت میں لگے ہیں سب لوگ
کون غالب کا طرفدار ہے میں کیا جانوں
اک نیا رنگ ہویدا ہے مری آنکھوں میں
آج کیا سرخئ اخبار ہے میں کیا جانوں
تجھ کو سیلاب کے آنے کی خبر دے دی ہے
تیرا در ہے تری دیوار ہے میں کیا جانوں
میں نمو کرنے پہ راضی نہیں بے موجِ بہار
موسمِ دَرہم و دِینار ہے میں کیا جانوں
سرِ پندار تو مجھ کو بھی نظر آتا ہے
اور کیا کیا تہہِ دستار ہے میں کیا جانوں
قحط میں کب سے دکاں میری پڑی ہے خالی
عشق سے گرمئ بازار ہے میں کیا جانوں
ہے کہیں صبحِ خوش آثار بھی لیکن فی الحال
میرے آگے تو شبِ تار ہے میں کیا جانوں
مجھ کو آتی ہے ترے حرف سے احساس کی آنچ
سب تری گرمئ گفتار ہے میں کیا جانوں
عرفان صدیقی

اور اب وہاں بھی نہیں ہے نشانِ گمشدگاں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 133
گیا تھا دل کی طرف کاروانِ گمشدگاں
اور اب وہاں بھی نہیں ہے نشانِ گمشدگاں
ابھی ابھی جو ستارے مرے کنار میں تھے
چمک رہے ہیں سرِ آسمانِ گمشدگاں
سرائے وہم میں کس کو پکارتا ہوں میں
یہ نیم شب‘ یہ سکوت مکانِ گمشدگاں
عجب خلائے سخن ہے سماعتوں کے ادھر
یہ کون بول رہا ہے زبانِ گمشدگاں
میں اپنی کھوئی ہوئی بستیوں کو پہچانوں
اگر نصیب ہو سیرِ جہانِ گمشدگاں
عرفان صدیقی

ساتھ ہے کوئی تو عمر گزراں ہے جاناں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 132
موج گل ہے نہ کہیں آب رواں ہے جاناں
ساتھ ہے کوئی تو عمر گزراں ہے جاناں
ابھی آتا ہے نظر چاند میں چہرہ تیرا
ایک دو پل میں یہ منظر بھی دھواں ہے جاناں
تو جو بولے تو سنوں میں تری آواز کا سچ
ہر طرف خاموشی وہم و گماں ہے جاناں
موسم ہجر سے اس درجہ سبک سار ہے دل
اس پہ اب حرف محبت بھی گراں ہے جاناں
آج تک جو نہ کیا اس کی تلافی کے لیے
اب یہ ذکر لب و رخسار بتاں ہے جاناں
ہم کچھ اس طرح سناتے ہیں کہانی اپنی
کوئی سمجھے کہ حدیث دگراں ہے جاناں
جو کبھی تونے کہا اور نہ کبھی ہم نے سنا
وہی اک لفظ تو سرنامۂ جاں ہے جاناں
عرفان صدیقی

ورنہ تو یہ شئے میں بھی رگ تاک سے لے آؤں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 131
یاراں، مجھے ان چیزوں سے نشہ نہیں ہوتا
ورنہ تو یہ شئے میں بھی رگ تاک سے لے آؤں
تم نے کبھی دیکھا نہیں آہوئے تتاری
اچھا، تو میں اس صید کو فتراک سے لے آؤں
بس یوں ہے کہ کچھ گرمئ محفل کا نہیں شوق
میں آگ تو اپنے خس و خاشاک سے لے آؤں
گمراہ سہی پھر بھی عجب کیا ہے کہ دل کو
تیری ہی طرف اس رہ کاواک سے لے آؤں
عرفان صدیقی

مضمون اگر کم ہوں تو افلاک سے لے آؤں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 130
اے فکر سخن کیوں زر گل خاک سے لے آؤں
مضمون اگر کم ہوں تو افلاک سے لے آؤں
پھر کام ہیں کچھ اور بھی لیکن دل ناداں
پہلے تو تجھے زلف کے پیچاک سے لے آؤں
کیا گنج گہر کی مرے دامن کو کمی ہے
چاہوں تو ابھی دیدۂ نمناک سے لے آؤں
دکھلاؤں تمہیں اپنے قبیلے کی نشانی
کچھ تار کسی پیرہن چاک سے لے آؤں
چمکے تو اندھیرے میں مرا طرۂ دستار
دوچار ستارے تری پوشاک سے لے آؤں
عرفان صدیقی

اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 129
موجِ خوں بن کر کناروں سے گزر جائیں گے لوگ
اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ
قاتلوں کے شہر میں بھی زندگی کرتے رہے
لوگ شاید یہ سمجھتے تھے کہ مر جائیں گے لوگ
اَن گنت منظر ہیں اور دِل میں لہو دو چار بوُند
رَنگ آخر کتنی تصوِیروں میں بھر جائیں گے لوگ
جسم کی رعنائیوں تک خواہشوں کی بھیڑ ہے
یہ تماشا ختم ہو جائے تو گھر جائیں گے لوگ
جانے کب سے ایک سنّاٹا بسا ہے ذہن میں
اَب کوئی اُن کو پکارے گا تو ڈر جائیں گے لوگ
بستیوں کی شکل و صوُرت مختلف کتنی بھی ہو
آسماں لیکن وہی ہو گا جدھر جائیں گے لوگ
سُرخ رو ہونے کو اِک سیلابِ خوُں دَرکار ہے
جب بھی یہ دَریا چڑھے گا پار اُترجائیں گے لوگ
عرفان صدیقی

بجھے چراغ تو ٹھہرے ستارہ جوُ ہم لوگ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 128
اسی کمال کی کرتے تھے آرزو ہم لوگ
بجھے چراغ تو ٹھہرے ستارہ جوُ ہم لوگ
تو شانِ شعلہ گراں‘ میں نشانِ سوختگان
ہیں اپنے اپنے قبیلے کی آبرو ہم لوگ
ابھی سے راستہ کیوں روکنے لگی دُنیا
کھڑے ہوئے ہیں ابھی اپنے رُوبرو ہم لوگ
دریدہ پیرہنِ جاں ہے دیکھیے کیا ہو
نفس کے تار سے کرتے تو ہیں رفوُ ہم لوگ
جنوں کے فیض سے چرچا بتوں میں وحشت کا
خدا کے فضل سے موضوعِ گفتگو ہم لوگ
عرفان صدیقی

اڑتی ہے خانۂ دل کے در و دیوار پہ خاک

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 127
جب یہ عالم ہو تو لکھیے لب و رخسار پہ خاک
اڑتی ہے خانۂ دل کے در و دیوار پہ خاک
تو نے مٹّی سے اُلجھنے کا نتیجہ دیکھا
ڈال دی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک
ہم نے مدت سے الٹ رکھا ہے کاسہ اپنا
دستِ دادار ترے درہم و دینار پہ خاک
پتلیاں گرمیِ نظارہ سے جل جاتی ہیں
آنکھ کی خیر میاں‘ رونقِ بازار پہ خاک
جو کسی اور نے لکھا ہے اسے کیا معلوم
لوحِ تقدیر بجا‘ چہرۂ اخبار پہ خاک
چار دیوارِ عناصر کی حقیقت کتنی
یہ بھی گھر ڈوب گیا دیدۂ خوں بار پہ خاک
پائے وحشت نے عجب نقش بنائے تھے یہاں
اے ہوائے سرِ صحرا تری رفتار پہ خاک
یہ غزل لکھ کے حریفوں پہ اڑا دی میں
جم رہی تھی مرے آئینہ اشعار پہ خاک
یہ بھی دیکھو کہ کہاں کون بلاتا ہے تمہیں
محضرِ شوق پڑھو‘ محضر سرکار پہ خاک
آپ کیا نقدِ دو عالم سے خریدیں گے اسے
یہ تو دیوانے کا سر ہے سر پندار پہ خاک
عرفان صدیقی

نیلا موسم، پیلی پیلی دُھوپ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 126
ٹھنڈی گلیوں میں چمکیلی دُھوپ
نیلا موسم، پیلی پیلی دُھوپ
آنسو ٹپکے، بھیگ گئے رُخسار
بادل برسے، ہو گئی گیلی دُھوپ
دِلکش لہجے، ٹھنڈے رسمی بول
سُرخ مکانوں پر برفیلی دُھوپ
بڑھتے ہوئے دُشمن جیسی دوپہر
نیزوں جیسی تیز نکیلی دُھوپ
اُجلی برف پہ کھیلے گوری صبح
گہری جھیل میں تیرے نیلی دُھوپ
سیج پہ لیٹی شوخ، سلونی شام
بدن چرائے گئی لَجِیلی دُھوپ
عرفان صدیقی

جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 125
وہی ہیں مرجعِ لفظ و بیاں علیؑ سے کہو
جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو
شکایتِ ہنر چارہ گر علیؑ سے کرو
حکایتِ جگر خونچکاں علیؑ سے کہو
بدل چکا ہے یہی آفتاب سمتِ سفر
سو حالِ گردش سیارگاں علیؑ سے کہو
تمہارے غم کا مداوا انہیں کے ہاتھ میں ہے
نہ جاؤ روبروئے خسرواں علیؑ سے کہو
اُنہیں کے سامنے اپنا مرافعہ لے جاؤ
اُنہیں کے پاس ہے اذنِ اماں علیؑ سے کہو
کرے کمند تعاقب تو ان کو دو آواز
بنے عذاب جو بندِ گراں علیؑ سے کہو
پہاڑ راستہ روکے تو اُن سے عرض کرو
رُکے اگر کوئی جوُئے رواں علیؑ سے کہو
پھر اب کے طائرِ وحشی نہ ہو سکا آزاد
یہ فصلِ گل بھی گئی رائیگاں علیؑ سے کہو
تمہیں مصاف میں نصرت عطا کریں مولاؑ
سبک ہو تم پہ شبِ درمیاں علیؑ سے کہو
پھرے تمہارے خرابے کی سمت بھی رہوار
اُٹھے تمہاری طرف بھی عناں علیؑ سے کہو
اُنہیں خبر ہے کہ کیا ہے ورائے صوت وصدا
لبِ سکوت کی یہ داستاں علیؑ سے کہو
عرفان صدیقی

یہی ریل گاڑی بہت دِن کے بچھڑے ہوؤں کو ملاتی بھی ہے چپ رہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 124
سنو، اِتنی اَفسردہ کیوں ہو، اگر آج ہم کو چھڑاتی بھی ہے چپ رہو
یہی ریل گاڑی بہت دِن کے بچھڑے ہوؤں کو ملاتی بھی ہے چپ رہو
سبھی واقعات اور کردار اِس طرح کی داستانوں میں فرضی سہی
مگر عام سی اِس کہانی میں شاید کوئی بات ذاتی بھی ہے چپ رہو
بچھڑتے ہوئے موسموں کی قطاروں کو آواز دینے سے کیا فائدہ
کہ آتی ہوئی رُت، پرندے بہت اپنے ہمراہ لاتی بھی ہے چپ رہو
کسی شام کو پھر سنیں گے یہی منتظر کان، مانوُس قدموں کی چاپ
سڑک صرف بستی سے باہر ہی جاتی نہیں گھر تک آتی بھی ہے چپ رہو
خفا ہو کے تم سے جدا ہونے والے، اَچانک کہیں پھر ملیں گے کبھی
بہت کچھ یہاں اِختیاری سہی کچھ مگر حادثاتی بھی ہے چپ رہو
عرفان صدیقی

کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 123
تم جو عرفانؔ یہ سب دردِ نہاں لکھتے ہو
کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو
جانتے ہو کہ کوئی موج مٹا دے گی اسے
پھر بھی کیا کیا سرِ ریگِ گزراں لکھتے ہو
جس کے حلقے کا نشاں بھی نہیں باقی کوئی
اب تک اس رشتے کو زنجیرِ گراں لکھتے ہو
یہ بھی کہتے ہو کہ احوال لکھا ہے جی کا
اور یہ بھی کہ حدیثِ دگراں لکھتے ہو
یہ بھی لکھتے ہو کہ معلوم نہیں ان کا پتا
اور خط بھی طرفِ گمشدگاں لکھتے ہو
سایہ نکلے گا جو پیکر نظر آتا ہے تمہیں
وہم ٹھہرے گا جسے سروِ رواں لکھتے ہو
اتنی مدت تو سلگتا نہیں رہتا کچھ بھی
اور کچھ ہو گا جسے دل کا دھواں لکھتے ہو
کوئی دلدار نہیں تھا تو جتاتے کیا ہو
کیا چھپاتے ہو اگر اس کا نشاں لکھتے ہو
تم جو لکھتے ہو وہ دُنیا کہیں ملتی ہی نہیں
کون سے شہر میں رہتے ہو‘ کہاں لکھتے ہو
عرفان صدیقی

آخر شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 122
دل کا جو حال ہوا دشمن جانی کا نہ ہو
آخر شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو
لوگ کیا جانیں کہ گزرے ہوئے موسم کیا تھے
جب قبا پر کوئی پیوند نشانی کا نہ ہو
ہم کہاں قید میں رہ سکتے تھے لیکن ترا ہاتھ
ہے وہ زنجیر کہ احساس گرانی کا نہ ہو
مسکراتا ہوں تو اکثر یہ خیال آتا ہے
آنکھ میں نم ابھی برسے ہوئے پانی کا نہ ہو
عرض احوال پہ دنیا مرا منہ دیکھتی ہے
جیسے رشتہ کوئی الفاظ و معانی کا نہ ہو
اور کچھ دیر ابھی سیر سر ساحل کر لیں
جب تلک حکم سفینے کو روانی کا نہ ہو
عرفان صدیقی

ہاتھ بندھے ہوں سینے پر دل بیعت سے انکاری ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 121
ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو
ہاتھ بندھے ہوں سینے پر دل بیعت سے انکاری ہو
جشن ظفر ایک اور سفر کی ساعت کا دیباچہ ہے
خیمۂ شب میں رقص بھی ہو اور کوچ کی بھی تیاری ہو
اس سے کم پر رم خور دوں کا کون تعاقب کرتا ہے
یا بانوئے کوئے اودھ ہو یا آہوئے تتاری ہو
دائم ہے سلطانی ہم شہزادوں خاک نہادوں کی
برق و شرر کی مسند ہو یا تختِ بادِ بہاری ہو
ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغ
آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو
MERGED ایک طریقہ یہ بھی ہے جب جینا اک ناچاری ہو
ہاتھ بندھے ہوں سینے پر، دل بیعت سے انکاری ہو
جشنِ ظفر ایک اور سفر کی ساعت کا دیباچہ ہے
خیمۂ شب میں رقص بھی ہو اور کوچ کی بھی تیاری ہو
ہم تو رات کا مطلب سمجھیں، خواب، ستارے، چاند، چراغ
آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو
چشمِ طلب کو منظرِ شب میں اکثر ایسا لگتا ہے
خاکِ گزر کے پیچھے جیسے پیکِ سحر کی سواری ہو
عرفان صدیقی

دِل یہ چاہے ہے کہ شہرت ہو نہ رُسوائی ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 120
ہم سے شاید ہی کبھی اُس کی شناسائی ہو
دِل یہ چاہے ہے کہ شہرت ہو نہ رُسوائی ہو
وہ تھکن ہے کہ بدن ریت کی دیوار سا ہے
دشمنِ جاں ہے، وہ پچھوا ہو کہ پُروائی ہو
ہم وہاں کیا نگہِ شوق کو شرمندہ کریں
شہر کا شہر جہاں اُس کا تماشائی ہو
دَرد کیسا جو ڈبوئے نہ بہا لے جائے
کیا ندی جس میں روانی ہو، نہ گہرائی ہو
کچھ تو ہو جو تجھے ممتاز کرے اوروں سے
جان لینے کا ہنر ہو کہ مسیحائی ہو
تم سمجھتے ہو جسے سنگِ ملامت عرفانؔ
کیا خبر وہ بھی کوئی رسمِ پذیرائی ہو
عرفان صدیقی

علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 119
دِل سوزاں پہ جیسے دست شبنم رکھ دیا دیکھو
علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو
سنا ہے گرد راہِ بوترابؑ آنے کو ہے سر پر
سو میں نے خاک پر تاجِ مئے و جم رکھ دیا دیکھو
سخی داتا سے انعامِ قناعت میں نے مانگا تھا
مرے کشکول میں خوان دو عالم رکھ دیا دیکھو
ملا فرماں سخن کے ملک کی فرماں روائی کا
گدا کے ہاتھ پر آقا نے خاتم رکھ دیا دیکھو
طلسمِ شب مری آنکھوں کا دشمن تھا سو مولاؑ نے
لہو میں اِک چراغِ اِسم اعظم رکھ دیا دیکھو
کھلا آشفتہ جانوں پر علم مشکل کشائی کا
ہوائے ظلم نے پیروں میں پرچم رکھ دیا دیکھو
شہِ مرداںؑ کے در پر گوشہ گیری کا تصدق ہے
کہ میں نے توڑکر یہ حلقۂ رم رکھ دیا دیکھو
مجھے اس طرح نصرت کی نوید آئی کہ دم بھر میں
اُٹھاکر طاق پر سب دفترِ غم رکھ دیا دیکھو
عرفان صدیقی

تم ان اندھیروں میں گلیاں ہماریاں دیکھو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 118
ہوائے شب سے چراغوں کی یاریاں دیکھو
تم ان اندھیروں میں گلیاں ہماریاں دیکھو
یہ بستیاں کبھی آکر ہماریاں دیکھو
خراب خاک کی خوش اعتباریاں دیکھو
لہو کی لہر کے پیچھے نکل چلو اُس پار
کھلی ہوئی ہیں ابھی راہداریاں دیکھو
یہاں تو چشم تماشا ہے کام میں مصروف
کبھی نہ آئیں گی ہاتھوں کی باریاں دیکھو
نزول شعر کی ساعت ہے، لفظ ہیں خاموش
اُتر رہی ہیں ہماری سواریاں دیکھو
تمام رات بدن کا طواف کرتا ہے
ہمارے خون کی تب زندہ داریاں دیکھو
ہمارے بعد پڑھو صاحبو ظفر کی غزل
حدود دیکھ چکے، بے کناریاں دیکھو
عرفان صدیقی

خراب لوگوں کی خوش اعتباریاں دیکھو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 117
تم اس خرابے میں باتاں ہماریاں دیکھو
خراب لوگوں کی خوش اعتباریاں دیکھو
لہو کی لہر کے پیچھے نکل چلیں اس پار
کھلی ہوئی ہیں ابھی راہ داریاں دیکھو
پرانے لفظ نگاہیں جھکائے بیٹھے ہیں
اُتر رہی ہیں غزل کی سواریاں دیکھو
ابھی تو چشم تماشا ہے کام میں مصروف
ابھی نہ آئیں گی ہاتھوں کی باریاں دیکھو
ہم ایسے خاک نشینوں کو کر رہے ہیں سلام
مصاحبوں کی ذرا خاک ساریاں دیکھو
ہمارے بعد پڑھو صاحبو ظفرؔ کی غزل
حدیں تو دیکھ لیاں بے کناریاں دیکھو
عرفان صدیقی

کبھی مرہم کبھی تلوار بنا دے مجھ کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 116
حرف ہوں، اور پر اسرار بنا دے مجھ کو
کبھی مرہم کبھی تلوار بنا دے مجھ کو
تو نے صحرا میں اگایا ہے تو کچھ کام بھی لے
میں تنک سایہ ہوں‘ چھتنار بنادے مجھ کو
بارش سنگ ہی جب میرا مقدر ہے، تو پھر
اے خدا، شاخِ ثمردار بنا دے مجھ کو
کوئی سچ میرے سلگتے ہوئے سینے میں بھی ڈال
آگ ہی آگ ہوں‘ گلزار بنادے مجھ کو
میں کہاں تک دلِ سادہ کو بھٹکنے سے بچاؤں
آنکھ جب اٹھے گنہگار بنادے مجھ کو
باڑھ میں بہتی ہوئی شاخ کا مصرف کیا ہے
ڈوبتے ہاتھ کی پتوار بنادے مجھ کو
جیسے کاغذ پہ کوئی اسم مرادوں والا
میں بگڑ جاؤں وہ ہر بار بنادے مجھ کو
عرفان صدیقی

جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 115
اُس شناور نے بھنور سے نہ نکالا مجھ کو
جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو
ایک ہلکا سا گماں ہے کہ کہیں تھا کوئی شخص
اور کچھ یاد نہیں اس کا حوالہ مجھ کو
ایسا گمراہ کیا تھا تری خاموشی نے
سب سمجھتے تھے ترا چاہنے والا مجھ کو
عرفان صدیقی

کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 114
خوُشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو
کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو
پتھر تھے کہ گوہر تھے، اَب اِس بات کا کیا ذِکر
اِک موج بہرحال بہا لے گئی ہم کو
پھر چھوڑ دیا ریگِ سرِ راہ سمجھ کر
کچھ دُور تو موسم کی ہوا لے گئی ہم کو
تم کیسے گرے آندھی میں چھتنار درختو!
ہم لوگ تو پتّے تھے، اُڑا لے گئی ہم کو
ہم کون شناور تھے کہ یوں پار اُترتے
سوکھے ہوئے ہونٹوں کی دُعا لے گئی ہم کو
اُس شہر میں غارت گرِ اِیماں تو بہت تھے
کچھ گھر کی شرافت ہی بچا لے گئی ہم کو
عرفان صدیقی

شہر کا شہر ہی مقتول ہے مارے کس کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 113
موج خوں سوچ میں ہے پار اُتارے کس کو
شہر کا شہر ہی مقتول ہے مارے کس کو
اپنی ہی تیزئ شمشیر سے شکوہ ہے اُسے
کس کو زنجیر کرے، دار پہ وارے کس کو
ہر طرف کج کلہاں ہدیہ سر چاہتے ہیں
دست بے مایہ یہاں نذر گزارے کس کو
کوئی بستی سے نکلتا نہیں نصرت کے لیے
گھر کسے یاد کرے دشت پکارے کس کو
دیدۂ گریہ طلب، پشت فرس خالی ہے
تو نے دیکھا تھا ابھی نہر کنارے کس کو
عرفان صدیقی

کھول یہ بندِ وفا اور رہا کر اس کو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 112
ڈار سے اس کی نہ عرفانؔ جدا کر اس کو
کھول یہ بندِ وفا اور رہا کر اس کو
نظر آنے لگے اپنے ہی خط و خالِ زوال
اور دیکھا کرو آئینہ بنا کر اس کو
آخرِ شب ہوئی آغاز کہانی اپنی
ہم نے پایا بھی تو اک عمر گنوا کر اس کو
دیکھتے ہیں تو لہو جیسے رگیں توڑتا ہے
ہم تو مر جائیں گے سینے سے لگا کر اس کو
تیرے ویرانے میں ہونا تھا اجالا نہ ہوا
کیا ملا اے دلِ سفّاک جلا کر اس کو
اور ہم ڈھونڈتے رہ جائیں گے خوشبو کا سراغ
ابھی لے جائے گی اِک موج اُڑا کر اس کو
عرفان صدیقی

گم شدہ تیرو، کسی سر کی طرف لوٹ چلو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 111
اَپنے بھولے ہوئے منظر کی طرف لوٹ چلو
گم شدہ تیرو، کسی سر کی طرف لوٹ چلو
تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد
شام ہونے کو ہے، اَب گھر کی طرف لوٹ چلو
اُس سے بچھڑے تو تمہیں کوئی نہ پہچانے گا
تم تو پرچھائیں ہو، پیکر کی طرف لوٹ چلو
ریت کی ہمسفری صرف کناروں تک ہے
اجنبی موجو، سمندر کی طرف لوٹ چلو
کتنے بے مہر ہیں اِس شہر کے قاتل عرفانؔ
پھر اُسی کوچۂ دِلبر کی طرف لوٹ چلو
عرفان صدیقی

لفظ برچھی ہے اَگر تاک کے مارو یارو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 110
قرض دَم توڑتے جذبوں کا اُتارو یارو
لفظ برچھی ہے اَگر تاک کے مارو یارو
دُور ہی دُور سے آواز نہ دے کر رہ جاؤ
بڑھتے ہاتھوں سے بھی یاروں کو پکارو، یارو
اُس ستارے سے اُدھر بھی بہت آبادی ہے
اَپنے باہر بھی ذرا وقت گزارو، یارو
سروِ قامت نہ سہی، سنگِ ملامت ہی سہی
سر ملا ہے تو کسی چیز پہ وارو، یارو
لوگ اِتنے ہی وفادار ہیں جتنے تم ہو
تم نہ جیتو کبھی یہ کھیل، نہ ہارو یارو
عرفان صدیقی

ہم پہ تو دنیا کے ہر غم کا کرم ہے دوستو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 109
ان کا غم تو خیر پھر بھی ان کا غم ہے دوستو
ہم پہ تو دنیا کے ہر غم کا کرم ہے دوستو
ان سے ترک آرزو کو اک زمانہ ہو گیا
پھر بھی قائم عاشقی کا یہ بھرم ہے دوستو
کیا کسی کو بھولنا آسان ہے تم ہی بتاؤ
تم کو اپنے دلرباؤں کی قسم ہے دوستو
ہم رہے ہیں مدتوں آوارۂ دشت و چمن
پھر بھی پیروں میں وہی زنجیر رم ہے دوستو
عرفان صدیقی

یہ عجب نرگس بیمار ہے خاکم بدہن

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 108
ہر طرف کشتوں کا انبار ہے خاکم بدہن
یہ عجب نرگس بیمار ہے خاکم بدہن
کچھ نہ کچھ ہوش ہے باقی ابھی دیوانوں میں
یہ تو ابرو نہیں تلوار ہے خاکم بدہن
قیدخانے میں یہ مہتاب کہاں سے آیا
کیا کوئی روزن دیوار ہے خاکم بدہن
صید کرتا ہے کسی اور کی مرضی سے مجھے
خود بھی صیاد گرفتار ہے خاکم بدہن
یہ کوئی طنز نہیں تیری مسیحائی پر
عشق کیا جان کا آزار ہے خاکم بدہن
جب تلک گرد نہ چہرے سے ہٹائی جائے
صیقل آئنہ بے کار ہے خاکم بدہن
کوئی شے خاک پہ افتادہ ہے دستار کے ساتھ
یہ تو شاید سرپندار ہے خاکم بدہن
عرفان صدیقی

بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 107
سراب دشت تجھے آزمانے والا کون
بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون
سواد شام یہ شہزادگان صبح کہاں
سیاہ شب میں یہ سورج اُگانے والا کون
یہ ریگزار میں کس حرف لازوال کی چھاؤں
شجر یہ دشت زیاں میں لگانے والا کون
یہ کون راستہ روکے ہوئے کھڑا تھا ابھی
اور اب یہ راہ کے پتھر ہٹانے والا کون
یہ کون ہے کہ جو تنہائی پر بھی راضی ہے
یہ قتل گاہ سے واپس نہ جانے والا کون
بدن کے نقرئی ٹکڑے لہو کی اشرفیاں
اِدھر سے گزرا ہے ایسے خزانے والا کون
یہ کس کے نام پہ تیغ جفا نکلتی ہوئی
یہ کس کے خیمے، یہ خیمے جلانے والا کون
اُبھرتے ڈوبتے منظر میں کس کی روشنیاں
کلام حق سر نیزہ سنانے والا کون
ملی ہے جان تو اس پر نثار کیوں نہ کروں
تو اے بدن مرے رستے میں آنے والا کون
عرفان صدیقی

اے زمیں توُ اس اندھیرے کا ستارا ہے کہ ہم

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 106
بیکراں رات میں توُ انجمن آراء ہے کہ ہم
اے زمیں توُ اس اندھیرے کا ستارا ہے کہ ہم
اُس نے پوچھا تھا کہ سر بیچنے والا ہے کوئی
ہم نے سر نامۂ جاں نذر گزارا ہے کہ ہم
کیا خبر کون زوالِ شبِ ہجراں دیکھے
ہاں، چراغِ شبِ ہجراں کا اشارا ہے کہ ہم
تو ادھر کس کو ڈبونے کے لیے آئی تھی
دیکھ اے موج بلاخیز، کنارا ہے کہ ہم
آج تک معرکۂ صبر و ستم جاری ہے
کون جانے یہ تماشا اُسے پیارا ہے کہ ہم
عرفان صدیقی

کسی گزرے ہوئے موسم کے نمائندہ ہم

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 105
یاد آتی ہوئی خوشبو کی طرح زندہ ہم
کسی گزرے ہوئے موسم کے نمائندہ ہم
اڑ گئے آنکھ سے سب لمحۂ موجود کے رنگ
رہ گئے نقش گرِ رفتہ و آئندہ ہم
حرفِ ناگفتہ کا خواہاں کوئی ملتا ہی نہیں
اور اسی گوہرِ ارزاں کے فروشندہ ہم
ایسے آشوب میں دکھ دینے کی فرصت کس کو
ہیں بہت لذتِ آزار سے شرمندہ ہم
اس اندھیرے میں کہ پل بھر کا چمکنا بھی محال
رات بھر زندہ و رخشندہ و تابندہ ہم
اپنا اس حرف و حکایت میں ہنر کچھ بھی نہیں
بولنے والا کوئی اور نگارندہ ہم
عرفان صدیقی

اک غزل دشت کے ساربانوں کے نام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 104
ایک خط آج اگلے زمانوں کے نام
اک غزل دشت کے ساربانوں کے نام
ایک خیمہ زمیں پر کھجوروں کے پاس
ایک نیزہ بلند آسمانوں کے نام
ایک حرفِ خبر‘ ساریہ کے لیے
چشمِ بیدار کالی چٹانوں کے نام
نہر کے نام جاگیرِ خوں، دوستو
دولتِ جاں کڑکتی کمانوں کے نام
تشنگی میرے سوکھے گلے کا نصیب
دودھ کی چھاگلیں میہمانوں کے نام
میری آنکھیں مرے آشیانوں کی سمت
میرے پر میری اونچی اڑانوں کے نام
کتنی موجوں پہ میرے سفینے رواں
کتنے ساحل مرے بادبانوں کے نام
ایک پودا مرے کوئے جاں کا نشاں
ایک محراب میرے مکانوں کے نام
سلطنت‘ کھلنے والی کمندوں کا اجر
اپنے بچوں کا سکھ بے زبانوں کے نام
آج جو آگ سے آزمائے گئے
کل کی ٹھنڈک ان آشفتہ جانوں کے نام
لکھ رہی ہیں سلگتی ہوئی اُنگلیاں
دھوپ کے شہر میں سائبانوں کے نام
عرفان صدیقی

اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 103
یہ درد رات مرے بے خبر کے نام تمام
اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام
کبھی جو زحمتِ کارِ رفو نہیں کرتا
ہمارے زخم اسی چارہ گر کے نام تمام
وہ ایک خواب سہی سایۂ سراب سہی
یہ عمر بھر کی تھکن اک شجر کے نام تمام
کسی نے بند کیا ہم پہ اپنے نام کا رزق
تو ہم بھی بھول گئے خشک و تر کے نام تمام
یہ ربطِ حرف و حکایت اسے قبول نہیں
تو اب ہمارے یہ خط نامہ بر کے نام تمام
یہ پھول جس نے کھلائے ہمارے پت جھڑ میں
اسی کے موسمِ برگ و ثمر کے نام تمام
اس ایک نام نے بخشا ہے جو خزانۂ درد
وہ ہم نے وقف کیا بحر و بر کے نام تمام
عرفان صدیقی

لشکر سے شب کے شور اُٹھا ہو گئی ہے شام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 102
ایک اور دِن شہید ہوا، ہو گئی ہے شام
لشکر سے شب کے شور اُٹھا ہو گئی ہے شام
مدّت ہوئی کہ سر پہ سرابوں کی دُھوپ ہے
دشتِ طلب میں ہم سے خفا ہو گئی ہے شام
لو دے اُٹھا ہے دستِ دُعا پر شفق کا رنگ
تیری ہتھیلیوں پہ حنا ہو گئی ہے شام
میرے لبوں سے مل کے الگ کیا ہوئی وہ زُلف
جلتی دوپہریوں سے جدا ہو گئی ہے شام
عارض کی دُھوپ، زُلف کے سائے، بدن کی آنچ
ہنگامہ بن کے دِل میں بپا ہو گئی ہے شام
غربت کی دھول، کیسے کسی کو دِکھائی دے
میرے برہنہ سر کی رِدا ہو گئی ہے شام
سورج کا خوُن بہنے لگا پھر ترائی میں
پھر دستِ شب میں تیغِ جفا ہو گئی ہے شام
عرفان صدیقی

کہ آج دیر سے نکلا مرا ستارۂ شام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 101
عجب نہیں وہ سمجھ لے یہ استعارۂ شام
کہ آج دیر سے نکلا مرا ستارۂ شام
یہ کون میرے بدن میں طلوع ہونے لگا
ابھی لہو کو ملا بھی نہیں اشارۂ شام
چھپا نظر سے جو میرا ہلالِ ماہِ وصال
اتر گیا مرے دل میں سیاہ پارۂ شام
سمٹتی دھوپ ترے روپ کی سہیلی تھی
پنھا گئی ترے کانوں میں گوشوارۂ شام
ہر آفتاب کو آخر غروب ہونا ہے
سو ہم بھی ڈوب رہے ہیں سرِ کنارۂ شام
عرفان صدیقی

دل میں سناٹا تو باہر کی فضا بھی خاموش

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 100
ڈوبتی شام پرندوں کی نوا بھی خاموش
دل میں سناٹا تو باہر کی فضا بھی خاموش
دیکھتے دیکھتے دروازے نظر سے اوجھل
بولتے بولتے تقش کف پا بھی خاموش
رات کی رات وہی رنگ ترنگوں کی پُکار
صبح تک خون بھی خاموش، حنا بھی خاموش
شہر خوابیدہ میں فریاد نہ عکس فریاد
آخری سلسلۂ صوت و صدا بھی خاموش
فرض سے کوئی سبک دوش نہیں ہو پاتا
سر تسلیم بھی چپ، تیغ جفا بھی خاموش
کوئی ہے تیرگئ شام کا مجرم کہ یہاں
ہے چراغوں کی طرح موج ہوا بھی خاموش
آج تک اہل ستم ہی سے شکایت تھی مجھے
سو مرے باب میں ہیں اہل وفا بھی خاموش
اب دُعائیں نہ صحیفے سر دنیائے خراب
میں بھی خاموش ہوا میرا خدا بھی خاموش
MERGED دیکھتے دیکھتے دروازے نظر سے اوجھل
بولتے بولتے نقشِ کف پا بھی خاموش
رات کی رات وہی رنگ ترنگوں کی پکار
صبح تک خون بھی خاموش‘ حنا بھی خاموش
شہرِ خوابیدہ میں فریاد‘ نہ عکسِ فریاد
آخری سلسلۂ صوت و صدا بھی خاموش
فرض سے عہدہ بر آ کوئی نہ ہونے پایا
سرِ تسلیم بھی چپ‘ تیغ جفا بھی خاموش
کون ہے تیرگی شام کا مجرم کہ یہاں
ہے چراغوں کی طرح موجِ ہوا بھی خاموش
آج تک اہلِ ستم ہی سے شکایت تھی مجھے
اب مرے باب میں ہیں اہلِ وفا بھی خاموش
اب دُعائیں نہ صحیفے سرِ دُنیائے خراب
میں بھی خاموش ہوا‘ میرا خدا بھی خاموش
عرفان صدیقی

اِس برس بھی ہے اُسی طرح سہانی بارش

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 99
پھر جگاتی ہے وہی ٹیس پُرانی بارش
اِس برس بھی ہے اُسی طرح سہانی بارش
سسکیاں بھرتی رہی رات ہوا آنگن میں
رات بھر کہتی رہی کوئی کہانی بارش
آگ بن کر کبھی شریانوں میں بہتا ہوا خون
کبھی آنکھوں سے برستا ہوا پانی بارش
اَب تو یہ پیڑ ٹپکتا ہے مری چھت کی طرح
دو گھڑی روک ذرا اپنی روانی بارش
سبز پانی نے بدل ڈالا ہے منظر کا طلسم
رنگ کوئی ہو، کیے دیتی ہے دَھانی، بارش
چاہنے والی، مرے درد جگانے والی
میری محبوب، مری دشمنِ جانی، بارش
عرفان صدیقی

اب تو لوٹے گی پرندوں کی قطار اگلے برس

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 98
تو انہیں یاد آئے گی اے جوئبار اگلے برس
اب تو لوٹے گی پرندوں کی قطار اگلے برس
اور کچھ دن اس سے ملنے کے لیے جاتے رہو
بستیاں بس جائیں گی دریا کے پار اگلے برس
تم تو سچے ہو مگر دل کا بھروسہ کچھ نہیں
بجھ نہ جائے یہ چراغِ انتظار اگلے برس
پہلے ہم پچھلی رتوں کے درد کا کرلیں حساب
اس برس کے سارے زخموں کا شمار اگلے برس
میں نئے موسم میں برگِ تازہ بن کر آؤں گا
پھر ملیں گے اے ہوائے شاخسار اگلے برس
عرفان صدیقی

ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 97
سرِ تسلیم ہے خم اذنِ عقوبت کے بغیر
ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر
سر برہنہ ہوں تو کیا غم ہے کہ اب شہر میں لوگ
برگزیدہ ہوئے دستارِ فضیلت کے بغیر
دیکھ تنہا مری آواز کہاں تک پہنچی
کیا سفر طے نہیں ہوتے ہیں رفاقت کے بغیر
ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
عرفان صدیقی

اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 96
درد کی شب گزر گئی تیرے خیال کے بغیر
اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر
وقت کے ساتھ طے کیے ہم نے عجیب مرحلے
کچھ مہ و سال کے بہ فیض، کچھ مہ و سال کے بغیر
میرے سکوت نے عیاں رنجِ کہن کیا نہیں
میں نے سخن کیا نہیں پرسشِ حال کے بغیر
تیغِ ستم کے سامنے ہاتھ کو ڈھال کر دیا
ہم نے کمال کردیا دستِ کمال کے بغیر
چار طرف رمیدہ خو، پائے ہوا، صدائے ہو
میرے بغیر لکھنؤ، دشت غزال کے بغیر
عرفان صدیقی

یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 95
صدائے شام سر آب جو ہے کتنی دیر
یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر
بدن دریدہ شجر‘ مہربان سوزنِ برگ
مگر یہ زحمتِ دستِ رفو ہے کتنی دیر
وہ ابر پھر کبھی آیا ادھر تو کیا حاصل
میں سبزہ ہوں مری تابِ نمو ہے کتنی دیر
مرے زوال کے ساتھی‘ مرے ستارۂ ہجر
افق کے آخری منظر میں تو ہے کتنی دیر
پھر اک عجیب تماشا رہے گا صدیوں تک
یہ کارزارِ کمان و گلو ہے کتنی دیر
نکل چلو کہ یہی وقت ہے رہائی کا
ہوا کی لہر‘ بدن کا لہو ہے کتنی دیر
غبارِ شب مرے چہرے پہ چھایا جاتا ہے
یہ آئینہ بھی ترے روبرو ہے کتنی دیر
صہبا وحید کے نام
عرفان صدیقی

تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 94
بزرگِ وقت، کسی شے کو لازوال بھی کر
تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر
دَرخت ہوں تو کبھی بیٹھ میرے سائے میں
میں سبزہ ہوں تو کبھی مجھ کو پائمال بھی کر
یہ تمکنت کہیں پتھر بنا نہ دے تجھ کو
توُ آدمی ہے، خوشی بھی دِکھا، ملال بھی کر
میں چاہتا ہوں کہ اَب جو بھی جی میں آئے کروں
تجھے بھی میری اِجازت ہے جو خیال بھی کر
پگھل رہی ہیں اس آشوبِ وقت میں صدیاں
وہ کہہ رہا ہے کہ تو فکرِ ماہ و سال بھی کر
عرفان صدیقی

کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 93
روشن ہوا یہ شام کے منظر کو دیکھ کر
کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر
نہر گلو سے پیاسوں نے پہرے اُٹھا لیے
صحرا میں تشنہ کامئ خنجر کو دیکھ کر
جاں دادگان صبر کو فردوس کے سوا
کیا دیکھنا تھا سبط پیمبر کو دیکھ کر
سر کی ہوائے دشت نے گلبانگ لااِلٰہ
اوج سناں پہ مصحف اطہر کو دیکھ کر
آخر کھلا کہ بازوئے، نصرت قلم ہوئے
دوش ہوا پہ رایت لشکر کو دیکھ کر
ہے حرف حرف نقش وفا بولتا ہوا
آئینے چپ ہیں بیت ثناگر کو دیکھ کر
دل میں مرے یہ جوشِ ولا ہے خدا کی دین
حیرت نہ کر صدف میں سمندر کو دیکھ کر
عرفان صدیقی

چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 92
الٹ گیا ہے ہر اک سلسلہ نشانے پر
چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر
غزل میں اس کو ستم گر کہا تو روٹھ گیا
چلو‘ یہ حرفِ ملامت لگا نشانے پر
میں اپنے سینے سے شرمندہ ہونے والا تھا
کہ آگیا کوئی تیرِ جفا نشانے پر
خدا سے آخری رشتہ بھی کٹ نہ جائے کہیں
کہ اب کے ہے مرا دستِ دُعا نشانے پر
وہ شعلہ اپنی ہی تیزی میں جل بجھا ورنہ
رکھا تھا خیمۂ صبر و رضا نشانے پر
میں انتظار میں ہوں کون اسے شکار کرے
بہت دنوں سے ہے میری نوا نشانے پر
عرفان صدیقی

ہے ستم گرمئ بازار خریداروں پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 91
یورشِ جلوہ ہے آنکھوں کے گنہگاروں پر
ہے ستم گرمئ بازار خریداروں پر
رُوپ کی دُھوپ کہاں جاتی ہے معلوم نہیں
شام کس طرح اُتر آتی ہے رُخساروں پر
تو ہی بول، اَے مرے بے جرم لہو کی تحریر
کوئی دھبّہ نہیں چلتی ہوئی تلواروں پر
تم تو خیر آگ کے دریا سے گزر آئے ہو
اور وہ لوگ جو چلتے رہے اَنگاروں پر
شام سنولائے تو پلکوں پہ سجے دَرد کا شہر
آج یہ دُھوپ تو جم سی گئی میناروں پر
کتنا بے رَحم ہے برسات کا موسم عرفانؔ
میں نے کچھ نام لکھے تھے اُنہیں دِیواروں پر
عرفان صدیقی

شب میں حیران ہوا خون کی طغیانی پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 90
کب سے راضی تھا بدن بے سر و سامانی پر
شب میں حیران ہوا خون کی طغیانی پر
ایک چہکار نے سناٹے کا توڑا پندار
ایک نو برگ ہنسا دشت کی ویرانی پر
کل بگولے کی طرح اس کا بدن رقص میں تھا
کس قدر خوش تھی مری خاک پریشانی پر
میرے ہونٹوں سے جو سورج کا کنارہ ٹوٹا
بن گیا ایک ستارہ تری پیشانی پر
کون سا شہرِ سبا فتح کیا چاہتا ہوں
لوگ حیراں ہیں مرے کارِ سلیمانی پر
عرفان صدیقی

وہی ہوا کہ مرا تیر اُچٹ گیا آخر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 89
بہت حسیں تھے ہرن دھیان بٹ گیا آخر
وہی ہوا کہ مرا تیر اُچٹ گیا آخر
ملی نہ جب کوئی راہِ مفر تو کیا کرتا
میں ایک، سب کے مقابل میں ڈٹ گیا آخر
بس اِک اُمید پہ ہم نے گزار دی اِک عمر
بس ایک بوند سے کُہسار کٹ گیا آخر
بچا رہا تھا میں شہ زور دُشمنوں سے اُسے
مگر وہ شخص مجھی سے لپٹ گیا آخر
وہ اُڑتے اُڑتے کہیں دُور اُفق میں ڈوب گیا
تو آسمان پروں میں سمٹ گیا آخر
کھلا کہ وہ بھی کچھ ایسا وفا پرست نہ تھا
چلو، یہ بوجھ بھی سینے سے ہٹ گیا آخر
ہمارے داغ چھپاتیں روایتیں کب تک
لباس بھی تو پُرانا تھا، پھٹ گیا آخر
بڑھا کے ربطِ وَفا اَجنبی پرندوں سے
وہ ہنس اپنے وطن کو پلٹ گیا آخر
عرفان صدیقی