زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

توقع

جب ہوا

دھیمے لہجوں میں کُچھ گنگناتی ہُوئی

خواب آسا، سماعت کو چُھو جائے ، تو

کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا!

بجتے رہیں ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا!

تم موج موج مثل صبا گُھومتے رہو

کٹ جائیں میری سوچ کے پر ،تُم کو اس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو ، انھیں راستہ دکھاؤ

میں بُھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا

ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض

سیپی میں بن نہ پائے گُہر،تم کو اس سے کیا!

لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو

تم نے تو ڈال دی ہے سپر، تم کو اس سے کیا!

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے

تنہا کٹے کسی کا سفر ، تم کو اس سے کیا!

پروین شاکر

تنقید اور تخلیق

’’آپ کی شاعری صرف خوشبو ہے

دل میں اُترتی ہُوئی

رُوح پر شبنمی ہاتھ رکھتی ہُوئی

یہ مگر۔۔۔۔ذہن کو ہلکے سے چُھو کر گُزر جائے گی

آپ اِسے رنگ کا پیرہن دیجئے

کوئی آدرش اُونچا ،انوکھا عقیدہ،کوئی گنجلک فلسفہ

سخت ناقابلِ فہم الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کریں

آپ کی سوچ میں کچھ تو گہرائی ہو__!‘‘

آپ سچ کہہ رہے ہیں

مگر ۔۔دیکھیے نا۔۔۔ابھی میرا فن کچی عمروں میں ہے

(آپ اسے خواب ہی دیکھنے دیجئے

اتنی گھمبیر دانشوری میں نہ اُلجھائیے)

میں نہیں چاہتی۔۔کہ میرا فن

جواں ہونے سے قبل ہی بوڑھا ہو جائے

اور فلسفے کا عصا لے کے چلنے لگے

پروین شاکر

تُمھارا رویہ

تُمھارا رویہ

مرے ساتھ ایسا رہا ہے

کہ جو

ایک کہنہ سیاسی مُدبر کا

کمسن صحافی کے ہمراہ ہوتا ہے ا۔

ہر حرف اپنے عواقب سے ہشیار

ہر نقط تولا ہوا

(مسئلہ فقرے بازی میں الجھا ہوا )

کوئی بات ایسی نہ ہوپائے ، جوبعد میں

اُس کے حق میں

خود اُس کی زباں سے چلایا ہُوا تیر بن جائے

(اور وہ پشیمان ہو)

پروین شاکر

تعبیر

سیہ راتوں کے آگے سُرخرو ہوں

چاند سے آنکھیں ملا کر بات کرتی ہوں

کہ میں نے عمر میں دیکھا ہے پہلی بار یہ منظر

مری نیندیں مرے خوابوں کے آگے سر اُٹھا کر چل رہی ہیں

پروین شاکر

تشکر

دشتِ غُربت میں جس پیڑ نے

میرے تنہا مُسافر کی خاطر گھنی چھاؤں پھیلائی ہے

اُس کی شادابیوں کے لیے

میری سب اُنگلیاں

ہَوا میں دُعا لِکھ رہی ہیں !

پروین شاکر

ترانہ

میرا بدن لہو لہو

مرا وطن لہو لہو

مگر عظیم تر

یہ میری ارض پاک ہو گئی

اسی لہو سے

سرخرو

وطن کی خاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

بجھا جو اک دیا یہاں

تو روشنی کے کارواں

رواں دواں رواں دواں

یہاں تلک کے ظلم کی

فصیل چاک ہو گئی

عظیم تر یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

غنیم کس گماں میں تھا

کہ اس نے وار کر دیا

اسے خبر نہ تھی ذرا

کہ جب بھی ہم بڑھے

تو پھر رکے نہیں

یہ سر اٹھے تو کٹ مرے

مگر جھکے نہیں

اسی ادا سے رزمگاہ تابناک ہو گئی

عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو

مرا وطن لہو لہو

ہر ایک زخم فتح کا نشان ہے

وہی تو میری آبرو ہے آن ہے

جو زندگی وطن کی راہ میں ہلاک ہو گئی

عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

پروین شاکر

پیشہ ور قاتلو

میں نے اکثر تمہارے قصیدے لکھے

اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں

پا بہ زنجیر یاروں سے نادم ہوں میں

اپنے گیتوں کی عظمت سے شرمندہ ہوں

سرحدوں نے کبھی جب پکارا تمہیں

آنسووں سے تمہیں الوداعیں کہیں

تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے

ہار کر بھی نہ جی سے اتارا تمہیں

جس جلال و رعونت سے وارد ہوئے

کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے

تیغ در دست و کف در دہاں آئے تھے

طوق در گردنوں پا بہ جولاں گئے

سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے

جن کا خوں منہ کو ملنے کو تم آئے تھے

مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے

یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے

انکی تقدیر تم کیا بدلتے مگر

انکی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

جیسے برطانوی راج میں ڈوگرے

جیسے سفاک گورے تھے ویتنام میں

تم بھی ان سے ذرا مختلف تو نہیں

حق پرستوں پہ الزام انکے بھی تھے

وحشیوں سے چلن عام انکے بھی تھے

رائفلیں وردیاں نام انکے بھی تھے

آج سرحد سے پنجاب و مہران تک

تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو

اتنی غارتگری کس کے ایما پر ہے

کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو

کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے

کس کے آگے ہو تم سرنگوں غازیو

آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے

اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں۔

آج تم آئینہ ہو میرے سامنے

پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں

(نامکمل)

پروین شاکر

پوربی پردیسی کب آؤ گے؟

سُورج ڈوباشام ہو گئی

تن میں چنبیلی پُھولی،

من میں آگ لگانے والے

میں کب تجھ کو بُھولی

کب تک آنکھ چراؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

سانجھ کی چھاؤں میں تیری چھایا

ڈھونڈتی جائے داسی

بھرے ماگھ میں کھوجے تجھ کو

تن درشن کی پیاسی

جیون بھر ترساؤگے

پردیسی کب آؤ گے؟

بھیروں ٹھاٹھ نے انگ بتایا

وادی سُر___گندھار

سموا دی کو نکھادرنگ دے

شدھ مدھم سنگھار

تم کب تلک لگاؤ گے؟

پردیسی ،کب آؤ گے؟

ہاتھ کا پُھول ، گلے کی مالا

مانگ کا سُرخ سیندور

سب کے رنگ ہیں پھیکے پرانے

ساجن جب تک دُور

روپ نہ میرا سجاؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

ہر آہٹ پر کھڑکی کھولی

ہر دستک پر آنکھ

چاند نہ میرے آنگن اترا

سپنے ہو گئے راکھ

ساری عمر جلاؤ گے؟

پردیسی ، کب آؤ گے؟

پروین شاکر

پہلے پہل

شِکن چُپ ہے

بدن خاموش ہے

گالوں پہ ویسی تمتماہٹ بھی نہیں ،لیکن،

میں گھر سے کیسے نکلوں گی،

ہَوا ،چخچل سہیلی کی طرح باہر کھڑی ہے

دیکھتے ہی مُسکرائے گی!

مجھے چُھوکر تری ہر بات پالے گی

تجھے مجھ سے چُرالے گی

زمانے بھر سے کہہ دے گی،میں تجھ سے مِل کے آئی ہوں !

ہَوا کی شوخیاں یہ

اور میرا بچپنا ایسا

کہ اپنے آپ سے بھی میں

تری خوشبو چُھپاتی پھر رہی ہوں

پروین شاکر

پہرے

پسِ شہرِ گُل

سُرخ پتّھر کی دیوار پر

آ کے موجِ صبا

عُمر بھر دستکیں دے تو کیا

صرف یہ ہے کہ ہاتھ اُس کے تھک جائیں گے

پروین شاکر

پکنک

سکھیاں میری

کُھلے سمندر بیچ کھڑی ہنستی ہیں

اور میں سب سے دُور،الگ ساحل پر بیٹھی

آتی جاتی لہروں کو گنتی ہوں

یا پھر

گِیلی ریت پہ تیرا نام لکھے جاتی ہوں

پروین شاکر

پروردہ

لوگ کہتے ہیں ان دنوں چپ ہے

میرا قاتل_______

کہ اُس کے خنجر کو

دھونے والی کنیز

چُھپ چُھپ کر

اب لُہو کو زباں سے چاٹتی ہے!

پروین شاکر

پرزم

پانی کے اِک قطرے میں

جب سُورج اُترے

رنگوں کی تصویر بنے

دھنک کی ساتوں قوسیں

اپنی بانہیں یُوں پھیلائیں

قطرے کے ننھے سے بدن میں

رنگوں کی دُنیا کِھنچ آئے!

میرا بھی اِک سورج ہے

جو میرا تَن چُھوکر مُجھ میں

قوسِ قزح کے پُھول اُگائے

ذرا بھی اُس نے زاویہ بدلا

اور مَیں ہو گئی

پانی کا اِک سادہ قطرہ

بے منظر،بے رنگ

پروین شاکر

بے نسب ورثے کا بوجھ

گہرے پانی کی چادر پہ لیٹی ہُوئی جل پری

اپنے آئینہ تن کی عریانیوں کے تکلم سے ناآشنا

موجۂ زلفِ آب رواں سے لپٹ کر

ہواؤں کی سرگوشیاں سُنتے رہنے میں مشغول تھی!

ناگہاں

نیلگوں آسمانوں میں اُڑتے ہوئے دیوتا نے

زمیں پر جو دیکھا

تو پرواز ہی بُھول بیٹھا

نظر جیسے شل ہو گئی

اُڑنا چاہا____مگر

خواہشِ بے اماں نے بدن میں قیامت مچا دی

مگر وصل کیسے ہو ممکن

کہ وہ دیوتا___آسمانوں کا بیٹا ہُوا!

جل پری کا تعلّق زمیں سے

سو خواہش کے عفریت نے

آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں سرزمینوں کی مخلوق کا رُوپ دھارا

بہت کھولتی خواہشوں کے تلاطم سے سرشار نیچے اُترنے لگا

پروین شاکر

بے بسی

بارش نے زمین پر پاؤں دھرا

خوشبو کھنکی ، گھنگھرو چھنکا

لہرائی ہَوا ، بہکی برکھا

کیا جانیے کیا مٹّی سے کہا

در آئی شریر میں اِک ندیا

کس اور چلی ، دیّا دیّا!

کس گھاٹ لگوں رے پرویّا

سارا جگ جل اور میں نیّا

پروین شاکر

بنفشے کا پُھول

وہ پتھر پہ کِھلتے ہُوئے خُوبصورت بنفشے کا ننھا سا ایک پُھول بھی

جس کی سانسوں میں جنگل کی وحشی ہوائیں سمائی ہُوئی تھیں

اُس کے بے ساختہ حُسن کو دیکھ کر

اک مُسافر بڑے پیار سے توڑ کر،اپنے گھر لے گیا

اور پھر

اپنے دیوان خانے میں رکھے ہُوئے کانچ کے خُوبصورت سے گُل دان میں

اُس کو ایسے سجایا

کہ ہر آنے والے کی پہلی نظر اُس پہ پڑنے لگی

دادوتحسین کی بارش میں وہ بھیگتا ہی گیا

کوئی اُس سے کہے

گولڈ لیف اور شنبیل کی نرم شہری مہک سے

بنفشے کے ننھے شگوفے کا دَم گُھٹ رہا ہے

وہ جنگل کی تازہ ہَوا کو ترسنے لگاہے

پروین شاکر

بسنت بہار کی نرم ہنسی

بسنت بہار کی نرم ہنسی

آنگن میں چھلکی

بھیگ گئی مری ساری

پھر___پروا کی شوخی!

کیسے اپنا آپ سنبھالوں

آنچل سے تن ڈھانپوںِ__تو

زُلفیں کُھل جائیں

زُلف سمیٹوں

تن چھلکے گا

پروین شاکر

بس اِتنا یاد ہے

دُعاتو جانے کون سی تھی

ذہن میں نہیں

بس اِتنا یاد ہے

کہ دو ہتھیلیاں ملی ہُوئی تھیں

جن میں ایک میری تھی

اور اِک تمھاری!

پروین شاکر

بائیسویں صلیب

صبح کے وقت ، اذاں سے پہلے

اب سے بائیس برس قبل اُدھر

عمر میں پہلی دفعہ روئی تھی میں

کر ب میں ڈوبی ہُوئی چیخ کو سُن کر مری ماں ہنس دی تھی

مری آواز نے اُس کو شاید

اُس کے ہونے کا یقیں بخشا تھا

دُکھ کے اک لمبے سفر اور اذیّت کی کئی راتیں بسر کرنے پر

اُس نے تخلیق کیا تھا مجھ کو

میری تخلیق کے بعد اُس نے نئی زندگی پائی تھی جسے

آنسوؤں نے مرے بپتسمہ دیا!

ہر نئے سال کے چوبیس نومبر کی سحر

دُکھ کا اِک رنگ نیا لے کے مرے گھر اُتری

اور میں ہر رنگ کے شایان سواگت کے لیے

نذر کرتی رہی

کیا کیا تحفے!

کبھی آنگن کی ہر ی بیلوں کی ٹھنڈی چھایا

کبھی دیوار پہ اُگتے ہُوئے پُھولوں کا بنفشی سایا

کبھی آنکھوں کا کوئی طفلکِ معصوم

کبھی خوابوں کا کوئی شہزادہ کہ تھاقاف کا رہنے والا

کبھی نیندوں کے مسلسل کئی موسم

تو کبھی

جاگتے رہنے کی بے انت رُتیں !

(رس بھیگی ہُوئی برسات کی کاجل راتیں

چاندنی پی کے مچلتی ہُوئی پاگل راتیں !)

وقت نے مجھ سے کئی دان لیے

اُس کی بانہیں ، مری مضبوط پناہیں لے لیں

مجھ تک آتی ہُوئی اس سوچ کی راہیں لے لیں

حد تو یہ ہے کہ وہ بے فیض نگاہیں لے لیں

رنگ تو رنگ تھے ، خوشبوئے حنا تک لے لی

سایہ ابر کا کیا ذکر ، ردا تک لے لی

کانپتے ہونٹوں سے موہوم دُعا تک لے لی

ہر نئے سال کی اِک تازہ صلیب

میرے بے رنگ دریچوں میں گڑی

قرضِ زیبائی طلب کرتی رہی

اور میں تقدیر کی مشاطہ مجبور کی مانند ادھر

اپنے خوابوں سے لہو لے لے کر

دستِ قاتل کی حنا بندی میں مصروف رہی___

اور یہاں تک___کہ صلیبیں مری قامت سے بڑی ہونے لگیں !

ہاں کبھی نرم ہَوا نے بھی دریچوں پہ مرے ، دستک دی

اورخوشبو نے مرے کان میں سرگوشی کی

رنگ نے کھیل رچانے کوکہا بھی،لیکن

میرے اندر کی یہ تنہا لڑکی

رنگ و خوشبو کی سکھی نہ بن سکی

ہر نئی سالگرہ کی شمعیں

میرے ہونٹوں کی بجائے

شام کی سَرد ہَوا نے گل کیں

اور میں جاتی ہُوئی رُت کے شجر کی مانند

تنِ تنہا وتہی دست کھڑی

اپنے ویران کواڑوں سے ٹکائے سرکو

خود کو تقسیم کے نا دیدہ عمل میں سے گُزرتے ہُوئے بس دیکھا کی !

آج اکیسویں صلیبوں کو لہو دے کے خیال آتا ہے

اپنے بائیسویں مہمان کی کِس طرح پذیرائی کروں

آج تو آنکھ میں آنسو بھی نہیں !

ماں کی خاموش نگاہیں

مرے اندر کے شجر میں کسی کونپل کی مہک ڈھونڈتی ہیں

اپنے ہونے سے مرے ہونے کی مربوط حقیقت کا سفر چاہتی ہیں

خالی سیپی سے گُہر مانگتی ہیں

میں تو موتی کے لیے گہرے سمندر میں اُترنے کو بھی راضی ہوںِ_مگر

ایسی برسات کہاں سے لاؤں

جو مری رُوح کو بپتسمہ دے

پروین شاکر

بارش میں

زمین ہے

یا کہ کچّے رنگوں کی ساری پہنے

گھنے درختوں کے نیچے کوئی شریر لڑکی

شریر تر پانیوں سے اپنا بدن چُرائے___چُرا نہ پائے

پروین شاکر

ایکسٹیسی

سبز مدّھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک

سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک

بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن

سلوٹیں ملبوس پر،آنچل بھی کُچھ ڈھلکا ہُوا

گرمی رخسار سے دہکی ہُوئی ٹھنڈی ہوا

نرم زُلفوں سے مُلائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ

سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس

ریشمیں باہوں میں چُوڑی کی کبھی مدّھم کھنک

شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات

دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی اِک صدا

کانپتے ہونٹوں پہ تھی اللہ سے صرف اِک دُعا

کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ،ذرا

پروین شاکر

ایک ننّھی سی اُمیّد

اب تو شہر میں لَوٹ آئے ہو

اب تو سب لمحے اپنے ہیں

کیا اب بھی کم فرصت ہو؟

ہاںِ_لمحوں کی تیز روی نے مجھ کو بھی سمجھایا ہے

دن کے شور میں اپنی صدا گم رہتی ہے

لیکن شام کا لہجہ تو سرگوشی ہے

جِم خانے کی گہر ی رات کی انگوری بانہوں میں آنے سے پہلے

جب وہسکی آنکھوں میں ستارے بھر دے

اورسرشاری

بُھولے بھٹکے رستوں کے وہ سارے چراغ جلا دے

جو تم ہوا سے لڑ کر روشن رکھّا کرتے تھے

کیا کوئی کرن__ننھّی سی کرن___میری ہو گی؟

پروین شاکر

ایک مشکل سوال

ٹاٹ کے پردوں کے پیچھے سے

ایک بارہ تیرہ سالہ چہرہ جھانکا

وہ چہرہ

بہار کے پہلے پھول کی طرح تازہ تھا

اور آنکھیں

پہلی محبت کی طرح شفاف!

لیکن اس کے ہاتھ میں

ترکاری کاٹتے رہنے کی لکیریں تھیں

اور اُن لکیروں میں

برتن مانجھنے والی راکھ جمی تھی

اُس کے ہاتھ

اُس کے چہرے سے بیس سال بڑے تھے!

پروین شاکر

ایک دوست کے نام

لڑکی!

یہ لمحے بادل ہیں

گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے

ان کے لمس کو پیتی جا

قطرہ قطرہ بھیگتی جا

بھیگتی جا تُو جب تک اِن میں نم ہے

اور تیرے اندر کی مٹی پیاسی ہے

مُجھ سے پوچھ

کہ بارش کوواپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہُوا

بال سُکھانے کے موسم اَن پڑھ ہوتے ہیں

پروین شاکر

ایک بُری عورت

ایک بُری عورت

وہ اگرچہ مطربہ ہے

لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ

شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے

وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمالِ آزری سے پہلوی تراش پانے والا جسم

جس کو آفتاب کی کرن جہاں سے چُومتی ہے

رنگ کی پھوار پھوٹتی ہے!

ا س کے حسنِ بے پناہ کی چمک

کسی قدیم لوک داستان کے جمال کی طرح

تمام عُمر لاشعور کو اسیرِ رنگ رکھتی ہے!

گئے زمانوں میں کسی پری کو مُڑکے دیکھنے سے لوگ

باقی عُمر قیدِ سنگ کاٹتے تھے

یاںِ__سزائے باز دید آگ ہے!

یہ آزمائشِ شکیبِ ناصحاں و امتحانِ زُہدِ واعظاں

دریچۂ مُراد کھول کر ذرا جُھکے

تو شہرِ عاشقاں کے سارے سبز خط

خدائے تن سے،

شب عذار ہونے کی دُعا کریں

جواں لُہو کا ذکر کیا

یہ آتشہ تو

پیرِ سال خوردہ کو صبح خیز کر دے

شہر اس کی دلکشی کے بوجھ سے چٹخ رہا ہے

کیا عجیب حُسن ہے،

کہ جس سے ڈر کے مائیں اپنی کوکھ جائیوں کو،

کوڑھ صورتی کی بد دُعائیں دے رہی ہیں

کنواریاں تو کیا

کہ کھیلی کھائی عورتیں بھی جس کے سائے سے پناہ مانگتی ہیں

بیاہتا دِلوں میں اس کا حُسن خوف بن کے یوں دھڑکتا ہے

کہ گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو

وفاشعار بیبیاں دُعائے نور پڑھنے لگتی ہیں !

کوئی برس نہیں گیا

کہ اس کے قرب کی سزا میں

شہر کے سبہی قدر داں

نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے

وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے

اُسے فقیہِ شہر نے نجس قرار دے دیا

تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں

اگر بکارِ خسروی

کبھی کسی کو اس کی راندۂ جہاں گلی سے ہوکے جانا ہو

تو سب کلاہ دار،

اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں ،

کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں

زنانِ مصر کی طرح سے

اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں

یہ گئی اماوسوں کا ذکر ہے

کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی

مری تلاش مجھ کو جنگلوں میں لا کے تھک گئی

میں راہ کھوجتی ہی رہ گئی

اس ابتلا میں چاند سبز چشم ہو چکا تھا

جگنوؤں سے اُمید باندھتی

مہیب شب ہر اس بن کے جسم و جاں پہ یوں اُتر رہی تھی

جیسے میرے روئیں روئیں میں

کسی بلا کا ہاتھ سرسرا رہا ہو

زندگی میں ۔۔۔ خامشی سے اِتنا ڈر کبھی نہیں لگا!

کوئی پرند پاؤں بھی بدلتا تھا تو نبض ڈوب جاتی تھی

میں ایک آسماں چشیدہ پیڑ کے سیہ تنے سے سرٹکائے

تازہ پتّے کی طرح لرز رہی تھی

ناگہاں کسی گھنیری شاخ کو ہٹا کے

روشنی کے دو الاؤ یوں دہک اُٹھے

کہ ان کی آنچ میرے ناخنون تک آ رہی تھی

ایک جست۔۔۔

اور قریب تھا کہ ہانپتی ہُوئی بلا

مری رگ گلو میں اپنے دانت گاڑتی

کہ دفعتاً کسی درخت کے عقب میں چوڑیاں بجیں

لباس شب کی سلوٹوں میں چرمرائے زرد پتّوں کی ہری کہانیاں لیے

وصالِ تشنہ کا گلال آنکھ میں

لبوں پہ ورم ، گال پر خراش

سنبلیں کُھلے ہُوئے دراز گیسوؤں میں آنکھ مارتا ہُوا گُلاب

اور چھلی ہُوئی سپید کہنیوں میں اوس اور دُھول کی ملی جلی ہنسی لیے

وہی بلا ، وہی نجس، وہی بدن دریدہ فاحشہ

تڑپ کے آئی___اور__

میرے اور بھیڑیے کے درمیان ڈٹ گئی

پروین شاکر

ایک اداس نظم

یہ حسین شام اپنی

ابھی جس میں گھل رہی ہے

ترے پیرہن کی خوشبو

ابھی جس میں کھل رہے ہیں

میرے خواب کے شگوفے

ذرا دیر کا ہے منظر!

ذرا دیر میں افق پہ

کھلے گا کوئی ستارہ

تری سمت دیکھ کر وہ

کرے گا کوئی اشارہ

ترے دل کو آئیگا پھر

کسی یاد کا بلاوا

کوئی قصۂ جدائی

کوئی کار نا مکمل

کوئی خواب نا شگفتہ

کوئی بات کہنے والی

کسی اور آدمی سے !

ہمیں چاہیے تھا ملنا

کسی عہد مہرباں میں

کسی خواب کے یقیں میں

کسی اور آسماں میں

کسی اور سر زمیں میں !

پروین شاکر

ایسا نہیں ہونے دینا

میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے

پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے

میرے سینے میں میرا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا

پھر وہی عام وہ ہی اہل رِیا کی باتیں

نعرہ حبِ وطن مالِ تجارت کی طرح

جنسِ ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی

صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح

اس سے پہلے بھی تو عہد و پیمانِ وفا ٹوٹے تھے

شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح

پھر کہاں ہیں مری ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئے

پھر کہاں شبنمی چہروں پہ رفاقت کی وِداع

صندلی پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی

ململی ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا

شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا

مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے

جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا ندیم

نوکِ دشتاں سے کھنچی تھی میری مٹی کی لکیر

آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

اے میری سوختہ جانوں، میرے پیارے لوگو

اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہو گی

میرے دلگیر، میرے درد کے مارے لوگو

کیسی غاصب، کسی ظالم، کسی قاتل کے لیے

خود کو تقسیم نہ کرنا میرے پیارے لوگو

نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

پروین شاکر

اے عشق جنوں پیشہ

عمروں کی مسافت سے

تھک ہار گئے آخر

سب عہد اذیّت کے

بیکار گئے آخر

اغیار کی بانہوں میں

دلدار گئے آخر

رو کر تری قسمت کو

غمخوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی

تا چند وفا کیشا

وہ وادیِ الفت تھی

یا کوہ الَم جو تھا

سب مدِّ مقابل تھے

خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے

خونابہ بہم جو تھا

رستوں میں لُٹایا ہے

وہ بیش کہ کم جو تھا

نے رنجِ شکستِ دل

نے جان کا اندیشہ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کچھ اہلِ ریا بھی تو

ہمراہ ہمارے تھے

رہرو تھے کہ رہزن تھے

جو روپ بھی دھارے تھے

کچھ سہل طلب بھی تھے

وہ بھی ہمیں پیارے تھے

اپنے تھے کہ بیگانے

ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نَس نَس میں

گھائل تھے رگ و ریشہ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جو جسم کا ایندھن تھا

گلنار کیا ہم نے

وہ زہر کہ امرت تھا

جی بھر کے پیا ہم نے

سو زخم ابھر آئے

جب دل کو سیا ہم نے

کیا کیا نہ مَحبّت کی

کیا کیا نہ جیا ہم نے

لو کوچ کیا گھر سے

لو جوگ لیا ہم نے

جو کچھ تھا دیا ہم نے

اور دل سے کہا ہم نے

رکنا نہیں درویشا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یوں ہے کہ سفر اپنا

تھا خواب نہ افسانہ

آنکھوں میں ابھی تک ہے

فردا کا پری خانہ

صد شکر سلامت ہے

پندارِ فقیرانہ

اس شہرِ خموشی میں

پھر نعرۂ مستانہ

اے ہمّتِ مردانہ

صد خارہ و یک تیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

اے عشق جنوں پیشہ

پروین شاکر

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا

جن میں وفورِ رنج سے

کچھ دیر کو تیرے لیئے

آنسو اگر لہرا گئے

یہ چند لمحوں کی چمک

جو تجھ کو پاگل کر گئ!

ان جگنوؤں کے نور سے

چمکی ہے کب وہ زندگی

جس کے مقدر میں رہی

صبحِ طلب سے تیرگی

کس سوچ میں گم سم ہے تو

اے بے خبر! ناداں نہ بن

تیری فسردہ روح کو

چاہت کے کانٹوں کی طلب

اور اس کے دامن میں ‌فقط

ہمدردیوں کے پھول ہیں

پروین شاکر

اوتھیلو

اپنے فون پہ اپنا نمبر

بار بار ڈائل کرتی ہوں

سوچ رہی ہوں

کب تک اُس کا ٹیلی فون انگیج رہے گا

دل کُڑھتا ہے

اِتنی اِتنی دیر تلک

وہ کس سے باتیں کرتا ہے

پروین شاکر

آنے والی کل کا دُکھ

مِری نظر میں اُبھر رہا ہے

وہ ایک لمحہ

کہ جب کسی کی حسین زُلفوں کی نرم چھاؤں میں آنکھ مُوندے

گئے دنوں کا خیال کر کے

تم ایک لمحے کو کھو سے جاؤ گے اور شاید

نہ چاہ کر بھی اُداس ہو گے

تو کوئی شیریں نوایہ پُوچھے گی

’’میری جاں ! تم کو کیا ہُوا ہے؟

یہ کس تصور میں کھو گئے ہو؟

تمھارے ہونٹوں پہ صبح کی اوّلیں کرن کی طرح سے اُبھرے گی مُسکراہٹ

تم اُس کے رُخسار تھپتھپا کے

کہو گے اُس سے

میں ایک لڑکی کو سوچتا تھا

عجیب لڑکی تھی۔۔۔کِتنی پاگل!‘‘

تُمھاری ساتھی کی خُوبصورت جبیں پہ کوئی شکن بنے گی

تو تم بڑے پیار سے ہنسو گے

کہو گے اُس سے

’’ارے وہ لڑکی

وہ میرے جذبات کی حماقت

وہ اس قدر بے وقوف لڑکی

مرے لیے کب کی مر چکی ہے!

پھر اپنی ساتھی کی نرم زُلفوں میں اُنگلیاں پھیرتے ہوئے تم

کہو گے اُس سے

چلو، نئے آنے والی کل میں

ہم اپنے ماضی کو دفن کریں

پروین شاکر

اندیشہ ہائے دُور دراز

اُداس شام دریچوں میں مُسکراتی ہے

ہَوا بھی،دھیمے سُروں میں ،کوئی اُداس گیت

مرے قریب سے گُزرے تو گنگناتی ہے

مری طرح سے شفق بھی کسی کی سوچ میں ہے

میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں

مری نگاہ دھندلکوں میں اُلجھی جاتی ہے

نہ رنگ ہے،نہ کرن ہے،نہ روشنی، نہ چراغ

نہ تیرا ذکر، نہ تیرا پتہ، نہ تیرا سُراغ

ہَوا سے ،خشک کتابوں کے اُڑ رہے ہیں ورق

مگرمیں بُھول چُکی ہُوں تمام ان کے سبق

اُبھر رہا ہے تخیلُ میں بس ترا چہرہ

میں اپنی پلکیں جھپکتی ہوں اُس کو دیکھتی ہوں

میں اس کو دیکھتی ہوں اور ڈر کے سوچتی ہوں

کہ کل یہ چہرہ کسی اور ہاتھ میں پہنچے

تو میرے ہاتھوں کی لکھی ہُوئی کوئی تحریر

جو اِن خطوط میں روشن ہے آگ کی مانند

نہ ان ذہین نگاہوں کی زد میں آ جائے!

پروین شاکر

آنچل اور بادبان

ساحل پر اِک تنہا لڑکی

سرد ہَوا کے بازو تھامے

گیلی ریت پر گُھوم رہی ہے

جانے کس کو ڈھونڈ رہی ہے

بِن کاجل، بیکل آنکھوں سے

کھلے سمندر کے سینے پر

فراٹے بھرتی کشتی کے بادبان کے لہرانے کو

کس حیرت سے دیکھ رہی ہے!

کس حسرت سے اپنا آنچل مَسل رہی ہے!

پروین شاکر

امَر

ہم میں بھی نہیں وہ روشنی اب

اور تم بھی تمام جل بُجھے ہو

دونوں سے بچھڑ گئی ہیں کرنیں

ویران ہیں شہرِ دل کی راتیں

اب خواب ہیں چاندنی کی باتیں

جنگل میں ٹھہر گئی ہیں شامیں

پروین شاکر

الوداعیہ

وہ جا چکا ہے

مگر جدائی سے قبل کا

ایک نرم لمحہ

ٹھہر گیا ہے

مِری ہتھیلی کی پشت پر

زِندگی میں

پہلی کا چاند بن کر !

پروین شاکر

اُلجھن

رات ابھی تنہائی کی پہلی دہلیز پہ ہے

اور میری جانب اپنے ہاتھ بڑھاتی ہے

سوچ رہی ہوں

ان کو تھاموں

زینہ زینہ سناٹوں کے تہہ خانوں میں اُتروں

یا اپنے کمرے میں ٹھہروں

چاند مری کھڑکی پر دستک دیتا ہے

پروین شاکر

اعتراف

جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہی

ہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتے

میں نے پھر تیرے تصّور کے کسی لمحے میں

تیری تصویر پہ لب رکھ دیئے آہستہ سے !

پروین شاکر

آشیر باد

پھر مسیحائی دستگیر ہُوئی

چُن رہی ہے تمھارے اشکوں کو

کِس محبت سے یہ نئی لڑکی

میرے ہاتھوں کی کم سخن نرمی

دُکھ تمھارے نہ بانٹ پائی مگر

اس کے ہاتھوں کی مہربانی کو

میری کم ساز آرزو کی دُعا

اور یہ بھی کہ اس کی چارہ گری

عمر بھر ایسے سر اُٹھا کے چلے

میری صُورت کبھی نہ کہلائے

زخم پر ایک وقت کی پٹّی

پروین شاکر

اِسم

بہت پیار سے

بعد مّدت کے

جب سے کسی شخص نے چاند کہ کر بُلایا

تب سے

اندھیروں کی خُوگر نِگاہوں کو

ہر روشنی اچھی لگنے لگی !

پروین شاکر

اُس وقت

جب آنکھ میں شام اُترے

پلکوں پہ شفق پُھولے

کاجل کی طرح ،میری

آنکھوں کو دھنک چُھولے

اُس وقت کوئی اس کو

آنکھوں سے مری دیکھے

پلکوں سے مری چُومے!

پروین شاکر

اس کے مسیحا کے لیے ایک نظم

اجنبی!

کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو

اور درد حد سے گزر جائے

آنکھیں تری

با ت بے بات رو پڑیں

تب کوئی اجنبی

تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے

تیری قامت کا سایہ بنے

تیرے زخموں کا سایہ بنے

تیری پلکوں سے شبنم چُنے

تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!

پروین شاکر

آزمائش

ڈیڑھ برس کے بعد

اچانک

وقت نے اپنا آئینہ پن دِکھلایا

بچھڑے ہوؤں کو مدِّ مقابل لے آیا

بہتی ہَوا کے عکس بنانے والا ساحر

گونگی تصویروں کو اب آواز بھی دے!

پروین شاکر

احساس

گہرے نیلم پانی میں

پُھول بدن لہریں لیتے تھے

ہَوا کے شبنم ہاتھ انھیں چُھو جاتے تو

پور پور میں خنکی تیرنے لگتی تھی

شوخ سی کوئی موج شرارت کرتی تو

نازک جسموں ،نازک احساسات کے مالک لوگ

شاخِ گلاب کی صُورت کانپ اُٹھتے تھے!

اُوپر وسط اپریل کا سُورج

انگارے برساتا تھا

ایسی تمازت!

آنکھیں پگھلی جاتی تھی!

لیکن دِل کا پُھول کِھلا تھا

جسم کے اندر رات کی رانی مہک رہی تھی

رُوح محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی

گیلی ریت اگرچہ دُھوپ کی حدت پاکر

جسموں کو جھلسانے لگی تھی

پھر بھی چہروں پہ لکھا تھا

ریت کے ہر ذرے کی چُبھن میں

فصلِ بہار کے پہلے گُلابوں کی ٹھنڈک ہے

پروین شاکر

احتیاط

سوتے میں بھی

چہرے کو آنچل سے چُھپائے رہتی ہوں

ڈر لگتا ہے

پلکوں کی ہلکی سی لرزش

ہونٹوں کی موہوم سی جنبش

گالوں پر وہ رہ رہ کے اُترنے والی دھنک

لہومیں چاند رچاتی اِس ننھی سی خوشی کا نام نہ لے لے

نیند میں آئی ہُوئی مُسکان

کِسی سے دل کی بات نہ کہہ دے

پروین شاکر

اِحتساب

ہواِ_جو گندم کی پہلی خوشبو کے لمس سے لے کے

کڑوے بارُود کی مہک تک

زمیں کے ہمراہ رقص میں تھی

گماں یہ ہوتا ہے

اس رفاقت سے تھک چکی ہے

اور اپنی پازیب اُتار کر

اجنبی زمینوں کی سرد بانہوں میں سورہی ہے

فضا میں سنّاٹا دم بخود ہے

ہوا کی خفگی ہی بے سبب ہے

کہ ابِن آدم نے اپنے نیپام سے بھی بڑھ کر

کوئی نیا بم بنا لیا ہے؟

پروین شاکر

اجنبی

کھوئی کھوئی آنکھیں

بکھرے بال

شکن آلود قبا

لُٹا لُٹا انسان !

سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا لیکن

کِسی جگہ مل جائے تو

گبھرا کر مُڑ جاتا ہے

اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے

کون ہے یہ

پروین شاکر

آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!

رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی

میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی

میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی

میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے

تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے

تیری بانہیں ،ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے

سب سے بڑھ کر، مری جاں !تو ہے ابھی میرے لیے

زیست کرنے کو مرے پاس بہت کُچھ ہے ابھی

آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!

آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہو گا

عشق حیراں ہے سرِ شہرِ سبا کی ہو گا

میرے قاتل! ترا اندازِ جفا کیا ہو گا!

آج کی شب تو بہت کچھ ہے ، مگر کل کے لیے

ایک اندیشہ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں

دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد

رنگِ اُمید کِھلے گا کہ بکھر جائے گا!

وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا!

جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا

خواب کا شہر رہے گا کہ اُجڑ جائے گا!

پروین شاکر

اتنے اچھے موسم میں

اتنے اچھے موسم میں

روٹھنا نہیں اچھا

ہار جیت کی باتیں

کل پہ ہم اُٹھا رکھیں

آج دوستی کر لیں !!!

پروین شاکر

اِتنا معلوم ہے!

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز

سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا

میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ وبُو میں

روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہ وگا

اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا!؟

آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟

میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا

کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر

خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا

کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا

وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا

راہداری میں ، ہرے لان میں ،پُھولوں کے قریب

اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا

نام بُھولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا

ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا

بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بُھولا ہو گا

یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں

اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا

جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا

کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے

اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا

چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر

دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا

یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں

’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا

اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا

جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر

اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا

سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانی دل

یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!

اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی

مَیں نے پُوچھا کہ سنو۔آئے تھے وہ۔کیسے تھے؟

مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈُھونڈا تھا چاروں جانب؟

اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی

اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن

اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا

پروین شاکر

اِتنا دھیان رکھنا

اُجلے آج کی سّچائی کو

مَیلی کل کی دُھندلاہٹ میں

کیا اوروں کی صُورت تم بھی پرکھو گے ؟

خیر___تمھاری مرضی

لیکن اِتنا دھیا ن میں رکھنا

سُور ج پر بھی رات کی ہم آغوشی کا الزام رہا ہے

پروین شاکر

اپنی زمین کے لیے ایک نظم

خواب،آنکھوں کی عبادت ہیں

گئی رات کے سناٹے میں

اپنے ہونے کا یقیں بھی ہیں

گُل و نغمہ کا اثبات بھی ہیں

خواب کے رنگ دھنگ سے بڑھ کر

کبھی پلکوں پہ ستارہ،کبھی آنکھوں میں سحاب

کبھی رُخسار پہ لالہ،کبھی ہونٹوں پہ گلاب

کبھی زخموں کا،کبھی خندۂ گل کا موسم

کبھی تنہائی کا چاند اور کبھی پچھلے پہر کی شبنم

خواب،جو تجزیۂ ذات ہوئے

ان کو جب فرد کی نیندوں کی نفی کر کے لکھا جائے

تو اک قوم کا ناقابل تردید تشخص بن جائیں !

وہ خزاں زاد تھا

اور بنتِ بہار

اُس کی آنکھوں کے لیے خوابِ حیات

اپنے اس خواب کی تقدیس بچانے کے لئے

وہ اماوس کی گھنی راتوں میں

رت جگا کرتا رہا

اورایسے،کہ نیا موسمِ گُل آیاتوسب نے دیکھا

جھلملاتے ہُوئے اِک تارے کی اُنگلی تھامے

چاند پرچم پہ اُتر آیا ہے

سنگریزوں میں گلاب اُگتے ہیں

شہرِ آذر میں اذاں گونجتی ہے

خوشبو آزاد ہے

جنگل کی ہَوا بن کے سفر کرتی ہے

نئی مٹی کا،نئی خواب زمینوں کا سفر

یہ سفر____رقصِ زمیں ،رقصِ ہَوا،رقصِ محبت ہے

جواَب لمحہ موجود تک آ پہنچاہے

پروین شاکر

اب کس کا جشن مناتے ہو

اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا

اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا

اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا

اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا

اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی

اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی

اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں

اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں

اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا

اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا

اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا

اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا

ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں

یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں

اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں

اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں

ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں

ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں

ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں

یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں

یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے

یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے

اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں

کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں

آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے

پروین شاکر

متفرق اشعار

آفتاب اقبال شمیم ۔

متفرق اشعار
حیران ہوں کرشمۂ خطاط دیکھ کر
یہ چشم و لب ہیں یا کوئی آیت لکھی ہوئی
سر پھوڑیے ضرور مگر احتیاط سے
دیوار پر یہی ہے ہدایت لکھی ہوئی

ایّام کی کتاب میں مرقوم کچھ نہیں
کیا مقصدِ وجود ہے معلوم کچھ نہیں
رہ جائے گا سماں وہی میلے کی شام کا
یہ سب ہجوم اور یہ سب دھوم کچھ نہیں

تم ابھی چُپ رہو صبر خود بولتا ہے
نشۂ خون میں ، جبر خود بولتا ہے
شرط ہے تن پہ اک تازیانہ لگے
زیرِ زورِ ہوا ابر خود بولتا ہے
آفتاب اقبال شمیم

مکاں کو راس نہ آئے مکیں تو کیا کیجے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 111
یہ فرش و بام یہ دیوار و در سوال کریں
مکاں کو راس نہ آئے مکیں تو کیا کیجے
سمجھ میں آئے اگر شک پہ شک کیا جائے
اگر یقین پہ نہ آئے یقیں تو کیا کیجے
یہی ہے قصد و قضا، وقت کرتا رہتا ہے
نہیں کو ہاں کبھی ہاں کو نہیں تو کیا کیجے
آفتاب اقبال شمیم

بوزنہ سا رہ گیا ہے ، قامت و قد کے بغیر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 110
کل جو آمر تھا اس ے اب دیکھ مسند کے بغیر
بوزنہ سا رہ گیا ہے ، قامت و قد کے بغیر
آدمی کو اک ذرا انسان ہو لینے تو دو
تم کو ہر بستی نظر آئے گی سرحد کے بغیر
خواب میں یہ بھی کرشمہ ہے اسی کے خواب کا
یعنی دن نکلا ہوا ہے اس کی آمد کے بغیر
تم بتاؤ وہ بڑے آدرش والے کیا ہوئے
کیا برا ہے ہم اگر زندہ ہیں مقصد کے بغیر
آفتاب اقبال شمیم

میرے تلخاب کو وہ جام بنا دیتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 109
عرض سنتے ہی مرا کام بنا دیتا ہے
میرے تلخاب کو وہ جام بنا دیتا ہے
خاک و افلاک میں رشتہ ہے، شعور اتنا ہی
خاص کو ہم نسبِ عام بنا دیتا ہے
چھاؤں بھر دھوپ کی مہلت میں شجر میرے لئے
ایک خس خانۂِ آرام بنا دیتا ہے
ثبت و محکم بھی تغیّر کی حد و زد میں ہے
جب بھی چاہے وہ اسے خام بنا دیتا ہے
تجربہ جیسے کوئی نسخۂِ بینائی ہو
میرے دکھ کو مرا انعام بنا دیتا ہے
جو یہاں اایا یہاں سے کبھی نکلا ہی نہیں
شہر، رستوں کا عجب دام بنا دیتا ہے
اپنی قامت بھی ضروری ہے کہ پہچانے جاؤ
یوں تو نقاد بڑا نام بنا دیتا ہے
آفتاب اقبال شمیم

واقعہ پردۂ ساعت سے نکلتا ہی نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 108
یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے، بدلتا ہی نہیں
واقعہ پردۂ ساعت سے نکلتا ہی نہیں
آگ سے تیز کوئی چیز کہاں سے لاؤں
موم سے نرم ہے وہ اور پگھلتا ہی نہیں
یہ مری خمس حواسی کی تماشا گاہیں
تنگ ہیں ، ان میں مرا شوق بہلتا ہی نہیں
پیکرِ خاک ہیں اور خاک میں ہے ثقل بہت
جسم کا وزنِ طلب ہم سے سنبھلتا ہی نہیں
غالباً وقت مجھے چھوڑ گیا ہے پیچھے
یہ جو سکہ ہے میری جیب میں چلتا ہی نہیں
ہم پہ غزلیں بھی نمازوں کی طرح فرض ہوئیں
قرضِ ناخواستہ ایسا ہے کہ ٹلتا ہی نہیں
آفتاب اقبال شمیم

زرِ تہذیب کے بدلے اسے تہذیبِ زر دیں گے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 107
وہ شہرِ بے انا کو کثرتِ اشیا سے بھر دیں گے
زرِ تہذیب کے بدلے اسے تہذیبِ زر دیں گے
کبھی تعبیر سے انکی کھلا تھا باغ دنیا کا
اگر یہ خواب سچے ہیں تو دوبارہ ثمر دیں گے
ترا پیغام برحق ہے، مگر تعمیل مشکل ہے
زیادہ سے زیادہ ہم تجھے دادِ ہنر دیں گے
کرشمے دیکھتے جاؤ خداوندانِ مغرب کے
کہ وہ انسان کو آخر میں نا انسان کر دیں گے
شکوہِ سبزِ بے موسم صلہ ہے سخت جانی کا
تمہیں اس کی گواہی برف زاروں کے شجر دیں گے
آفتاب اقبال شمیم

خدا والا ہوں لیکن دہریوں سے یاریاں بھی ہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 106
تضادوں کے سمجھنے میں مجھے دشواریاں بھی ہیں
خدا والا ہوں لیکن دہریوں سے یاریاں بھی ہیں
کہیں سوتے نہ رہ جائیں زنِ خواہش کے پہلو میں
ہمیں درپیش کل کے کوچ کی تیاریاں بھی ہیں
بجا ہے اور بڑھ جاتی ہے زیر پائے لنگ آ کر
مگر اس راہ صد جادہ میں ناہمواریاں بھی ہیں
یہ خالی پن کہاں پیمانۂ مقدار میں آئے
مزے کے انت میں بے انت کی بیزاریاں بھی ہیں
میں سوتے جاگتے کی داستاں دہراتا رہتا ہوں
مری بیداریوں میں خواب کی سرشاریاں بھی ہیں
آفتاب اقبال شمیم

وہ ہستی اپنے ہونے کے نشاں پوشیدہ رکھتی ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 105
بدن میں جاں ، زمیں میں آسماں پوشیدہ رکھتی ہے
وہ ہستی اپنے ہونے کے نشاں پوشیدہ رکھتی ہے
شئے نازک ذرا سی ضرب سے تقسیم ہو جائے
کہ آئینے کی وحدت کرچیاں پوشیدہ رکھتی ہے
ذرا پرہیز ہے مجھ کو زرِ دنیا کی نعمت سے
یہ میرے سود میں میرا زیاں پوشیدہ رکھتی ہے
جسے بانٹوں تو سب ناداریاں دنیا کی مٹ جائیں
زمیں اپنا وہ گنجینہ کہاں پوشیدہ رکھتی ہے
ہے اپنی ذات میں جو رنگ و نسلِ لفظ سے بالا
خموشی اپنے اندر وہ زباں پوشیدہ رکھتی ہے
یہ اولاد مسیحا اصل میں آلِ سکندر ہے
دکھاوے کی صلیبوں میں سناں پوشیدہ رکھتی ہے
آفتاب اقبال شمیم

مانگ جن کی ہے میں اُن چیزوں کا بیوپاری نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 104
نام کی خواہش مرے وجدان پر بھاری نہیں
مانگ جن کی ہے میں اُن چیزوں کا بیوپاری نہیں
سوچتا ہوں کس سے لکھواؤں سند پہچان کی
شہر کے شہرت نویسوں سے میری یاری نہیں
دے خداوندا مجھے بعدِ بصیرت کا سراغ
آنکھ کا یہ زخم گہرا ہے مگر کاری نہیں
شعرِ مشکل کی سماعت نا پسند آئے انہیں
اور آساں ہو تو کہتے ہیں کہ تہ داری نہیں
مشکلیں سہنے کا جینے میں سلیقہ آ گیا
اب تو مر جانے میں مجھ کو کوئی دشواری نہیں
خیر ہو اے یار! تیری دلبری کی خیر ہو
عاشقوں نے ہار کر بازی ابھی ہاری نہیں
آفتاب اقبال شمیم

ہو گیا جزوِ زمین و آسماں ، کیا پوچھئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 103
مردِ نسیاں بُرد کا نام و نشاں کیا پوچھئے
ہو گیا جزوِ زمین و آسماں ، کیا پوچھئے
نامقرر راستوں کی سیرِ ممنوعہ کے بعد
کیوں ہنسی کے ساتھ آنسو ہیں رواں، کیا پوچھئے
ہر نئے ظاہر میں پوشیدہ ہے اک ظاہر نیا
ایک حیرت ہے نہاں اندر نہاں کیا پوچھئے
خود کو نامشہور کرنے کے یہی تو ڈھنگ ہیں
آفتاب اقبال کا طرزِ بیاں کیا پوچھئے
کیوں اُسے پرتوں کی پرتیں کھو جنا اچھا لگے
کیوں کئے جاتا ہے کارِ رائیگاں کیا پوچھئے
لیکھ ہی ایسا تھا یا آدرش میں کچھ کھوٹ تھی
زندگی ہم سے رہی کیوں بدگماں کیا پوچھئے
ہم نے سمجھا یا تو تھا لیکن وہ سمجھا ہی نہیں
آج کا یہ سود ہے کل کا زیاں کیا پوچھئے
ہم سبھی جس داستاں کے فالتو کردار ہیں
زندگی ہے ایک ایسی داستاں ، کیا پوچھئے
آفتاب اقبال شمیم

خیال کی باغبانیاں کر اُگا یہ نظمیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 102
بدل بھی سکتی ہیں اس چمن کی فضا یہ نظمیں
خیال کی باغبانیاں کر اُگا یہ نظمیں
یہ رات مانگے جنوں سے نذرانہ روشنی کا
جلا جلا کر سروں سے اونچی اُڑا یہ نظمیں
مجھے بہت ہے یہ میری گمنامیوں کی خلوت
مگر کسی دن قبول کر لے خدا یہ نظمیں
سخی صلے میں کسی سے کچھ مانگتا نہیں ہے
یہ لوگ بہرے ہیں ان کو اکثر سنا یہ نظمیں
تمام اوصاف ان میں جیسے ہوں دلبروں کے
حسین و خودبیں ، وفا سے نا آشنا یہ نظمیں
میں غیب و حاضر کا نامہ بر ہوں ، یہ میرا منصب
یہاں وہاں بانٹتا رہوں گا سدا یہ نظمیں
آفتاب اقبال شمیم

جیتوں نہ جیت سے کبھی ہاروں نہ ہار سے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 101
اِس درجہ ہو گیا ہوں سبک غم کے بار سے
جیتوں نہ جیت سے کبھی ہاروں نہ ہار سے
جب چاہے جس کو پھینک دے، منہ زور ہے بہت
وہ دیکھو! زین ہو گئی خالی سوار سے
خوش ہوں کہ تجھ سے ایک تعلق بنا رہا
ٹوٹا کبھی نہ ربط مرا انتظار سے
بیکار ہی سہی ولے شعروں کے شغل نے
مجھ کو بچا لیا ہے مرے انتشار سے
قربت کے ساتھ خواہشِ دیگر بھی چاہئے
باہر ہے لطفِ لمس مرے اختیار سے
خوشبوئیں لڑکیوں کی طرح گھومتی پھریں
کیا مشورہ ہے، آؤ نا پوچھیں بہار سے
آفتاب اقبال شمیم

میں ڈھونڈتا ہوں جِسے غالباً وہ ہے ہی نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 100
وہ کون اور کہاں ہے ابھی یہ طے ہی نہیں
میں ڈھونڈتا ہوں جِسے غالباً وہ ہے ہی نہیں
بغیر اُس کے کہاں کثرتیں اکائی بنیں
کہ سا زِ ہفتِ نوا میں وہ ایک لے ہی نہیں
فریبِ نشّہ بھی نشّے کی ایک صورت ہے
کہ پی رہا ہوں پیالے میں گرچہ مے ہی نہیں
نکال دے جو سمندر کو اپنے ساحل سے
سرِشتِ آب میں وہ موج پے بہ پے ہی نہیں
میں کائنات ہوں اپنے وجود کے اندر
مرے قریب یہ دنیا تو کوئی شے ہی نہیں
آفتاب اقبال شمیم

ترے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 99
نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا
ترے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا
یہ انتظار مگر اختیار میں بھی نہیں
پتہ تو ہے کہ اُسے عمر بھر نہیں آنا
بس ایک اشک پسِ چشم تم چھپائے رکھو
بغیر اس کے سخن میں اثر نہیں آنا
ذرا وہ دوسری کھڑکی بھی کھول کمرے کی
وگرنہ تازہ ہوا نے ادھر نہیں آنا
یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی
جو جا چکا ہے اُسے لوٹ کر نہیں آنا
ہر آنے والا نیا راستہ دکھاتا ہے
اسی لئے تو ہمیں راہ پر نہیں آنا
کروں مسافتیں نا افریدہ راہوں کی
مجھ ایسا بعد میں آوارہ سر نہیں آنا
آفتاب اقبال شمیم

کہ میں تو اپنے ہی گھر میں سدا پرایا رہا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 98
وہ اختلاف نظر درمیاں میں آیا رہا
کہ میں تو اپنے ہی گھر میں سدا پرایا رہا
وہاں کی روشنیاں بھی مثالِ ظلمت تھیں
جہاں جہاں مری نادیدنی کا سایا رہا
یہی کہ نذرِ تب و تابِ زر ہوئیں آنکھیں
غبارِ بے بصری بستیوں پہ چھایا رہا
یہ معجزہ تھا سرِ چشم ایک آنسو کا
تمام منظرِ شب دھوپ میں نہایا رہا
بنامِ عشق اِسے قرض جاریہ کہئے
کہ نقدِ جاں بھی ادا کر کے جو بقایا رہا
آفتاب اقبال شمیم

یادوں کا تعویذ ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 97
وقت کی ہر آفت کو اپنے سر سے ٹالے رکھتا ہوں
یادوں کا تعویذ ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتا ہوں
خواب کے روزن سے در آئی روشنیوں کا کیا کہنا
گھور اندھیرے میں بھی اپنے پاس اُجالے رکھتا ہوں
ہر مایوسی سہہ لیتا ہوں شاید اس کی برکت سے
یہ جو انہونی کا سپنا دل میں پالے رکھتا ہوں
کیا معلوم کہ جانے والا سمت شناس فردا ہو
تھوڑی دُور تو ہر مرکب کی باگ سنبھالے رکھتا ہوں
اپنے اس انکار کے باعث دین کا ہوں نہ ہی دنیا کا
ہر خواہش کو پاؤں کی ٹھوکر پہ اچھالے رکھتا ہوں
زہر کا پیالہ، سوکھا دریا اور صلیب و دار و رسن
میں بھی اپنے ہونے کے دو چار حوالے رکھتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

اے میرے مستِ ہمہ وقت، سدا جیتا رہ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 96
بادۂ شعر سے تُو مفت کی مے پیتا رہ
اے میرے مستِ ہمہ وقت، سدا جیتا رہ
کارِ بیگارِ تمنّا سے رہائی کیسی
زخم جو سل نہیں سکتا ہے اُسے سیتا رہ
کیا تصّور میں بھی پینے کی سرا ہوتی ہے
جو نہیں ہے تو سرِ عام اِسے پیتا رہ
خاکِ نسیاں سے بھلا کون اٹھائے گا تجھے
تُو کہ اک واقعہ تھا، بیت چکا، بِیتا رہ
آفتاب اقبال شمیم

منجمد ہوتی ہوئی اور پگھلتی ہوئی شام

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 95
اپنی کیفیتیں ہر آن بدلتی ہوئی شام
منجمد ہوتی ہوئی اور پگھلتی ہوئی شام
ڈگمگاتی ہوئی ہر گام سنبھلتی ہوئی شام
خواب گاہوں سے اِدھر خواب میں چلتی ہوئی شام
گوندھ کر موتیے کے ہار گھنی زلفوں میں
عارض و لب پہ شفق سرخیاں ملتی ہوئی شام
اک جھلک پوشش بے ضبط سے عریانی کی
دے گئی، دن کے نشیبوں سے پھسلتی ہوئی شام
ایک سناٹا رگ و پے میں سدا گونجتا ہے
بجھ گئی جیسے لہو میں کوئی جلتی ہوئی شام
وقت بپتسمہ کرے آبِ ستارہ سے اِسے
دستِ دنیا کی درازی سے نکلتی ہوئی شام
آفتاب اقبال شمیم

میں جانتا ہوں فلک میرے رہ گزار میں ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 94
زمیں کے ساتھ میری آنکھ بھی مدار میں ہے
میں جانتا ہوں فلک میرے رہ گزار میں ہے
سفر ہے پیشِ قدم صد ہزار صدیوں کا
تمہاری شہرتِ دو گام کس شمار میں ہے
بندھی ہوئی ہیں اکائی میں کثرتیں ساری
ہر ایک اور کسی اور کے حصار میں ہے
خرد تو آج کا زنداں ہے اس سے باہر بھی
یہ آنکھ وہم و تصور کے اختیار میں ہے
انا کے نشے میں ورنہ خدا ہی بن جاتا
یہی تو جیت ہے جو آدمی کی ہار میں ہے
کبھی جو دھیان میں لاؤں تو ڈگمگا جاؤں
عجیب نشّہ تری آنکھ کے خمار میں ہے
بلا سے، آج کسی نے اگر نہ پہچانا
وُہ دیکھ! کل کا جہاں میرے انتظار میں ہے
آفتاب اقبال شمیم

ایسے ابنائے زمانہ سے مجھے وحشت ہو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 93
وقت کے ساتھ بدلنے کی جنہیں عادت ہو
ایسے ابنائے زمانہ سے مجھے وحشت ہو
جیسے دیوار میں در وقفۂ آزادی ہے
کیا خبر جبر و ارادہ میں وہی نسبت ہو
روزمرہ کے مضافات میں ہم گھوم آئیں
اتنی فرصت ہو، مگر اتنی کسے فرصت ہو
آدمی روز کی روٹی پہ ہی ٹل جاتا ہے
اور بیچارے پہ کیا اِس سے بڑی تہمت ہو
ایک رفتار میں یوں وقفہ بہ وقفہ چلنا
کیا عجب، وقت کو چلنے میں کوئی دقّت ہو
سرخ منقار کا میں سبز پرندہ تو نہیں
کیوں نہ تکرار کی خُو میرے لئے زحمت ہو
آفتاب اقبال شمیم

ہم نے بدل لیا ہے پیالہ گلاس میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 92
وہ عطرِ خاک اب کہاں پانی کی باس میں
ہم نے بدل لیا ہے پیالہ گلاس میں
کل رات آسمان میرا میہماں رہا
کیا جانے کیا کشش تھی مِرے التماس میں
ممنون ہوں میں اپنی غزل کا، یہ دیکھئے
کیا کام کر گئی میرے غم کے نکاس میں
میں قیدِ ہفت رنگ سے آزاد ہو گیا
کل شب نقب لگا کے مکانِ حواس میں
پھر یہ فسادِ فرقہ و مسلک ہے کس لئے
تو اور میں تو ایک ہیں اپنی اساس میں
آفتاب اقبال شمیم

اور دولتِ دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 91
اک چادرِ بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں
اور دولتِ دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں
آنکھوں کو ٹکاتا ہوں ہنگامہ دنیا پر
اور کان سخن ہائے خاموش پہ رکھتا ہوں
کیفیتِ بے خبری کیا چیز ہے کیا جانوں
بنیاد ہی ہونے کی جب ہوش پہ رکھتا ہوں
میں کون ہوں ! ازلوں کی حیرانیاں کیا بولیں
اک قرض ہمیشہ کا میں گوش پہ رکھتا ہوں
جو قرض کی مے پی کر تسخیر سخن کر لے
ایماں اُسی دلی کے مے نوش پہ رکھتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

یا قلم کی ہمت سے واقعہ بڑا ہے کیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 90
ذات کی نظربندی میں ادب پڑا ہے کیا
یا قلم کی ہمت سے واقعہ بڑا ہے کیا
بھر گیا ہے لاشوں سے ،آئینہ خراشوں سے
اپنے آپ سے کوئی رات بھر لڑا ہے کیا
عین ہیں اکائی میں خط و قوس ابجد کے
اُس نے عین فرصت میں وہ بدن گھڑا ہے کیا
اپنے آپ کو دیکھوں اور دیکھتا جاؤں
آئینے کے اندر بھی آئینہ جڑا ہے کیا
عزم لے کے جاتا ہوں اور لوٹ آتا ہوں
سنگِ میل قسمت کا راہ میں گڑا ہے کیا؟
اس سپاہِ پسپائی، سے سوال کیا پوچھوں
جان سے گزرنے کا مرحلہ کڑا ہے کیا؟
آفتاب اقبال شمیم

وہ شہ گلاب میری زندگی کے باغ میں آئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 89
اسی گماں کا سراپا دل و دماغ میں آئے
وہ شہ گلاب میری زندگی کے باغ میں آئے
پڑھوں تو صبح تلک ہچکیوں میں پڑھتا ہی جاؤں
کشید حرف کچھ ایسی مرے ایاغ میں آئے
خلا بھی خالی نہیں ہے ادھر نگاہ کروں تو
پلٹ کے روشنی سی دل کے داغ داغ میں آئے
عذابِ کارِ جہاں سے اُسے نکلنا سکھاؤں
اُسے کہو کہ مرے حجلۂ فراغ میں آئے
میں شب کے طاقچۂ لامکاں میں رکھا گیا ہوں
میری ہی چشم نما روشنی چراغ میں آئے
کرن کی تابِ فزودہ سے جو بنایا گیا ہو
وہ مہر زادہ کہاں آنکھ کے سراغ میں آئے
آفتاب اقبال شمیم

اک اشکِ فراموش مرے دھیان میں آیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 88
لرزہ سا کبھی تن میں کبھی جان میں آیا
اک اشکِ فراموش مرے دھیان میں آیا
خوں ہو کہ یہ دل طاق ہوا عرضِ ہنر میں
یہ ساز سدا ٹوٹ کے ہی تان میں آیا
تھا خواب بھی اک کرمکِ شب تاب کی صورت
جو روز میرے تیرہ شبستان میں آیا
کچھ یوں بھی مجھے عمر کے گھٹنے کا قلق تھا
کچھ سخت خسارہ میرے ارمان میں آیا
اے ربِ سخن! میں کوئی ایسا تو نہیں تھا
کیا جانئے، کیسے تیری پہچان میں آیا
وہ دید بھی کیا دید تھی، پر کیسے بتاؤں
اک عمر ہوئی میں نہیں اوسان میں آیا
آفتاب اقبال شمیم

زمین ایک خلل ہے مری اکائی میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 87
میں کائنات کے مانند ہوں خدائی میں
زمین ایک خلل ہے مری اکائی میں
میں دل کا اتنا سخی ہوں، خدا معاف کرے
کہ ڈھونڈ سکتا ہوں نیکی، تری برائی میں
یہ جسم شخص لگے روح کے علاقے کا
عجیب لطفِ دو عالم ہے آشنائی میں
رکا ہوا کوئی لمحہ نہ مجھ کو روک سکے
خدا کرے کہ رہوں رات دن رہائی میں
ملا تھا نقدِ سرِ راہ اس کے جلوے کا
گزر بسر ہوئی اپنی اسی کمائی میں
میں روز جیتا رہا اور روز مرتا رہا
مرا بھی نام لکھو کل کی کارروائی میں
آفتاب اقبال شمیم

بقا بھی آئینہ دارِ بقا کی بخشش ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 86
اُسی کا عکس ہے مجھ میں ، خدا کی بخشش ہے
بقا بھی آئینہ دارِ بقا کی بخشش ہے
میں کس عذاب میں یہ بار سر اٹھائے ہوئے
جیا ہوں اور یہ میری انا کی بخشش ہے
یہ اُس کی پُرسشِ یک لفظ اس زمانے میں
میرے خیال میں تو انتہا کی بخشش ہے
نظیر اس کی زمیں پر کہیں نہیں ملتی
یہ شاعری اِسی آب و ہوا کی بخشش ہے
آفتاب اقبال شمیم

نیلی چھتری تھام کے تار پہ چلتا آدمی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 85
پاؤں پاؤں ڈولتا، اور سنبھلتا آدمی
نیلی چھتری تھام کے تار پہ چلتا آدمی
آتی جاتی کثرتیں کارگہِ ایّام کی
قالب جیسی روح پہ، جسم بدلتا آدمی
جسم دہکتا کوئلہ پھونک بناتی سانس سے
عمر کے آتش دان کی آگ میں جلتا آدمی
مٹی کے باغات میں تیز ہوا کا شور ہے
گر ہی نہ جائے شاخ سے پھولتا پھلتا آدمی
آفتاب اقبال شمیم

دلیلِ شعر میں تھوڑا سا کشف ڈالتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 84
میں اپنے واسطے رستہ نیا نکالتا ہوں
دلیلِ شعر میں تھوڑا سا کشف ڈالتا ہوں
بہت ستایا ہوا ہوں لئیم دنیا کا
سخی ہوں، دل کی پرانی خلش نکالتا ہوں
زمانہ کیا ہے؟ کبھی من کی موج میں آؤں
تو نوکِ نقش پہ اپنی اسے اچھالتا ہوں
یہ میرا کنج مکاں، میرا قصرِ عالی ہے
میں اپنا سکۂِ رائج یہیں پہ ڈھالتا ہوں
مری غزل میں زن و مرد جیسے باہم ہوں
اِسے جلالتا ہوں، پھر اُسے جمالتا ہوں
ذرا پڑھیں تو مری اختیار میں نہ رہیں
یہ نونہال جنہیں مشکلوں سے پالتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

وہ کہ جو کل نہ ہوا، کل نہیں ہونے والا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 83
مسئلہ آدمی کا حل نہیں ہونے والا
وہ کہ جو کل نہ ہوا، کل نہیں ہونے والا
ایک تعمیر جو ہر دم زدِ تخریب میں ہے
اس جگہ کچھ بھی مکمل نہیں ہونے والا
جھیل ہے آنکھ مری، ایک پرت پانی کی
جس سے جلوہ ترا اوجھل نہیں ہونے والا
اس عنایت میں کوئی اس کی غرض بھی ہو گی
یہ کرم تم پہ مسلسل نہیں ہونے والا
شوق سے بوجھ مصائب کا بڑھاتے جاؤ
یہ جو ہے دوش مرا، شل نہیں ہونے والا
آفتاب اقبال شمیم

ہمیں بنامِ وفا اُس نے آزمانا بہت ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 82
اُسے تو وعدۂِ فردا کا ہی بہانہ بہت ہے
ہمیں بنامِ وفا اُس نے آزمانا بہت ہے
نئے سفر پہ چلے ہو، اسے اتارتے جاؤ
تمہارا پیرہنِ زندگی پرانا بہت ہے
دیارِ غیر میں کیوں خفتیں سمیٹنے جاؤں
مرے لئے مری مٹی کا یہ ٹھکانا بہت ہے
میں اپنی ارضِ حسیں سے سلوک جیسا کروں
مجھے ہے اس سے محبت، یہی بہانہ بہت ہے
عدو سے دوستی کر لی تو کیا برائی ہے اس میں
مگر یہ کارِ سیاست منافقانہ بہت ہے
مجھے بھی عرش کے آدرش سے اترنا پڑے گا
کہ میری وقت کا معیار درمیانہ بہت ہے
میں اس سے صلح بھی کر لیتا، کچھ بعید نہیں
مگر وہ اپنے رویّے میں درمیانہ بہت ہے
آفتاب اقبال شمیم

عشق کو حسن بنا دے وہ کرشمہ ہے بہت

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 81
دار پر اس کی گواہی کا ہے حوالہ ہے بہت
عشق کو حسن بنا دے وہ کرشمہ ہے بہت
ناتوانی کو توانائی کا یہ معجزہ ہے
ہر ہلاکو کے لئے ایک فلوجہ ہے بہت
اے انا الوقت! محبت کے کسی روپ میں آ
خود کو برباد نہ کر لوں، مجھے خطرہ ہے بہت
حسن دریا ہے میری آنکھ میں گرنے والا
پھر بھی پیاسا ہوں اگرچہ تجھے دیکھا ہے بہت
اتنا سادہ ہوں تو کچھ وجہ بھی ہو گی شاید
ضبط میں میری انا نے مجھے رکھا ہے بہت
اور اس وہم سے بھی جا کے نمٹ لے پیارے
شہرِ فردا میں سنا ہے ترا چرچا ہے بہت
زندگی جیسے سبھی موسموں کا میلہ ہو
سیر کے واسطے یہ گلشنِ دنیا ہے بہت
آفتاب اقبال شمیم

کہ میرے کیسۂِ خواہش میں زر زیادہ نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 80
فقیر ہوں مجھے لٹنے کا ڈر زیادہ نہیں
کہ میرے کیسۂِ خواہش میں زر زیادہ نہیں
کرن کی قید میں ہے آئینے کی بینائی
میں اس کو دیکھ تو سکتا ہوں پر زیادہ نہیں
ہمارے دور میں تو واقعہ بھی کرتب ہے
یہ ہم جو دیکھتے ہیں، معتبر زیادہ نہیں
اور ان میں ایک درِ مے کدہ بھی شامل ہے
غمعں سے بچ کے نکلنے کے در زیادہ نہیں
میں اس کی شکل بناتا ہوں، پر نہیں بنتی
قلم کی نوک میں تابِ ہنر زیادہ نہیں
میں اہلِ دل کی ثنا خوانیوں میں رہتا ہوں
بلا سے، نام مرا مشتہر زیادہ نہیں
آفتاب اقبال شمیم

میں سوتے جاگتے کی داستاں میں رہ رہا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 79
عجب خواب و حقیقت کے جہاں میں رہ رہا ہوں
میں سوتے جاگتے کی داستاں میں رہ رہا ہوں
رواں رہتا ہوں عالم گیر ہجرت کے سفر میں
زمیں پر رہ رہاں ہوں اور زماں میں رہ رہا ہوں
ذرا پہلے گماں آبادِ فردا کا مکیں تھا
اور اب نسیاں سرائے رفتگاں میں رہ رہا ہوں
مرے پرکھوں نے جو میرے لئے خالی کیا تھا
میں اگلے وارثوں کے اس مکاں میں رہ رہا ہوں
مکاں میں لامکاں کا چور دروازہ بنا کر
ہمیشہ سے ہجومِ دلبراں میں رہ رہا ہوں
زمین و آسماں کا فاصلہ ہے درمیاں میں
میں سجدہ ہوں تمہارے آستاں میں رہ رہا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

بنانا جس کا ممکن تو نہیں ہے، پر بنانا چاہتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 78
محبت کے ابد آباد میں اک گھر بنانا چاہتا ہوں
بنانا جس کا ممکن تو نہیں ہے، پر بنانا چاہتا ہوں
یہ لامحدود آزادی مگر میرے مقدر میں نہیں ہے
کہ میں دیوار میں دیوار جتنا در بنانا چاہتا ہوں
یہ آنسو جو بہت شوریدہ سر ہے، ضبط میں رکھا ہوا ہے
میں اس کی پرورش کر کے اسے گوہر بنانا چاہتا ہوں
کہیں امکان سے باہر نہ ہو یہ خواہشِ تعمیر میری
کہ میں دنیا کو دنیا سے ذرا بہتر بنانا چاہتا ہوں
زمیں پیرانہ سالی میں جھکے افلاک سے تنگ آ گئی ہے
نیا سورج، نئے تارے، نیا امبر بنانا چاہتا ہوں
یہ دنیا ان گنت اصنام کا اک بت کدہ لگتی ہے مجھ کو
انہیں مسمار کر کے ایک ہی پیکر بنانا چاہتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

سب روشنی اسی سے منسوب سی لگے ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 77
جیسی ہے وہ ہمیں تو، محبوب سی لگے ہے
سب روشنی اسی سے منسوب سی لگے ہے
پھر موسم تمنا، باران اشک لایا
خوابوں کی ہر خیاباں مرطوب سی لگے ہے
اُس بات کا حوالہ بدلا گیا ہے شاید
ناخوب تھی جو پہلے اب خوب سی لگے ہے
نکلے کشید ہو کر، لب کی گلاہیوں سے
ایسے سخن کی تلخی مرغوب سی لگے ہے
جس رخ سے منعکس ہوں کرنیں دو چند ہو کر
ہر چیز اُس کے آگے معیوب سی لگے ہے
خود کو چھپائے رکھے آنکھوں کی اوڑھنی میں
وُہ بے حجابیوں میں محبوب سی لگے ہے
ہر وقت دھیان میں ہے اور دھیان سے پرے بھی
یہ زندگی تو ہم کو مجذوب سی لگے ہے
آفتاب اقبال شمیم

مکالمے کے لئے عصر کی زبان میں آؤ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 77
اسیرِ حافظہ ہو، آج کے جہان میں آؤ
مکالمے کے لئے عصر کی زبان میں آؤ
پئے ثبات، تغیّر پکارتے ہوئے گزرے
چھتیں شکستہ ہیں نکلو، نئے مکان میں آؤ
زمیں کا وقت سے جھگڑا ہے خود نپٹتے رہیں گے
کہا ہے کس نے کہ تم ان کے درمیان میں آؤ
یہ آٹھ پہر کی دنیا تمہیں بتاؤں کہ کیا ہے!
نکل کے جسم سے کچھ دیر اپنی جان میں آؤ
تمہیں تمہاری الف دید میں میں دیکھنا چاہوں
نظر بچا کے زمانے سے میرے دھیان میں آؤ
آفتاب اقبال شمیم

وُہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 76
خیالوں کا نگر، اُجڑے ہوئے منظر سے آگے ہے
وُہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے
نفس ۔ اک موجِ کم آواز ہے لیکن روانی میں
لہو کی ٹہنیوں کو کاٹتی حر حر سے آگے ہے
کبھی بیگانگی کا فاصلہ طے ہو نہیں پایا
ہمارے ساتھ کا گھر بھی ہمارے گھر سے آگے ہے
وہ خواب افروز منظر چشم و دل کی سیر گاہوں کا
ابھی آگے ہے اِس اقلیمِ زور و زر سے آگے ہے
کبھی حیرت، فصیل لفظ توڑے تو خبر آئے
کہ معنی کا جہاں الفاظ کی کشور سے آگے ہے
ابھی یہ ریزہ ریزہ روشنی مٹی میں گرنے دے
نمو کا مرحلہ آنکھوں کی خاکستر سے آگے ہے
آفتاب اقبال شمیم

نقش اک زنداں ہے جس میں قید ہو جاتا ہوں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 76
اس کو پیدا کر کے خود ناپید ہو جاتا ہوں میں
نقش اک زنداں ہے جس میں قید ہو جاتا ہوں میں
کیا نشانہ ہے کہ اک چشمِ غلط انداز سے
کتنی آسانی سے اس کا صید ہو جاتا ہوں میں
اک فقیرِ بےنوا ہوں اپنی جلوت میں مگر
تخلیئے میں قیصر و جمشید ہو جاتا ہوں میں
بھیڑ جیسے فرد کا مرقد ہو جس کے درمیاں
میں نہیں رہتا ہوں کوئی زید ہو جاتا ہوں میں
آفتاب اقبال شمیم

سزائے موت، سارے شہر کو اُس نے سنا دی ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 75
منادی ہے بموں کے طبلِ دہشت پر منادی ہے
سزائے موت، سارے شہر کو اُس نے سنا دی ہے
بگولا جو اٹھا ہے پھیل کر طوفاں نہ بن جائے
کسی نے خار و خس کو زورِ آتش سے ہوا دی ہے
اسے ہم عقدِ مستقبل کا ہنگامہ سمجھتے ہیں
یہ کوئی شورِ ماتم ہے نہ کوئی جشنِ شادی ہے
نہیں ،کچھ بھی نہیں خواب و شکستِ خواب سے آگے
یہی سمجھو کہ ساری عمر ہی ہم نے گنوا دی ہے
وہ کیا جانے کہ توہینِ غرورِ عاشقاں کیا ہے
ہمارے یار نے تو خیر سے گردن جھکا دی ہے
مفاد اول، مفاد آخر، یہی محور ہے رشتوں کا
یہاں جو آج کا دشمن ہے کل کا اتحادی ہے
آفتاب اقبال شمیم

یہ کیا کہ لمس میں آتے ہی دوسرے ہو جاؤ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 75
میں جب بھی چھونے لگوں تم ذرا پرے ہو جاؤ
یہ کیا کہ لمس میں آتے ہی دوسرے ہو جاؤ
یہ کارِ عشق مگر ہم سے کیسے سرزد ہو
الاؤ تیز ہے صاحب! ذرا پرے ہو جاؤ
تمہاری عمر بھی اس آب کے حساب میں ہے
نہیں کہ اس کے برسنے سے تم ہرے ہو جاؤ
یہ گوشہ گیر طبیعت بھی ایک محبس ہے
ہوا کے لمس میں آؤ، ہرے بھرے ہو جاؤ
کبھی تو مطلعِٔ دل سے ہو اتنی بارشِ اشک
کہ تم بھی کھل کے برستے ہوئے کھرے ہو جاؤ
آفتاب اقبال شمیم

کہنا اُسے، دنیا مجھے راس آئی نہیں ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 74
تخلیق سے فن کار کی باس آئی نہیں ہے
کہنا اُسے، دنیا مجھے راس آئی نہیں ہے
شاید کہ ہو اُمّید کے تاروں کا خزانہ
پاس آ کے یہ دولت میرے پاس آئی نہیں ہے
سورج کو نکلنا ہی نہ ہو مطلعِٔ شب سے
پھر کس لئے یہ شام اُداس آئی نہیں ہے
یا ذائقہ ہے تلخ کسی شے کی کمی سے
یا بھول میں موسم کی مٹھاس آئی نہیں ہے
کھوئے گئے حالات کے آشوب میں ایسے
کچھ اپنی خبر تا بہ حواس آئی نہیں ہے
آفتاب اقبال شمیم

تمہارے جبر کو میں مسترد کرتا رہوں گا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 74
یہ کارِ خیر تا روزِ ابد کرتا رہوں گا
تمہارے جبر کو میں مسترد کرتا رہوں گا
چراغِ خواب یونہی تو نہیں روشن رکھا ہے
میں کل کے آنے والوں کی مدد کرتا رہوں گا
خبر سازی کے دن ہیں اور یہ ہے کارِ مشکل
مگر میں امتیازِ نیک و بد کرتا رہوں گا
آفتاب اقبال شمیم