زمرہ جات کے محفوظات: شعراء

اردو ادب کے نام ور شعراء

زندگی، جوانی، عشق، حسن

م___

مری ندیم کھلی ہے مری نگاہ کہاں

ہے کس طرف کو مری زیست کا سفینہ رواں

وطن کے بحر سے دور، اُس کے ساحلوں سے دور؟

ہے میری چار طرف بحرِ شعلہ گوں کیسا؟

ہے میرے سینے میں ایک ورطہ ءِ جنوں کیسا؟

مری ندیم کہاں ایسا شعلہ زار میں ہم

جہاں دماغ میں چھپتی ہوئی ضیائیں ہیں

مہیب نور میں لپٹی ہوئی فضائیں ہیں!

کہاں ہے آہ، مرا عہدِ رفتہ، میرا دیار

مرا سفینہ کنارے سے چل پڑا کیسے؟

یہ ہر طرف سے برستے ہیں ہم پہ کیسے شرار

ہماری راہ میں یہ آتشیں خلا کیسے؟

وہ سامنے کی زمیں ہے مگر جزیرہ ءِ عشق

جو دور سے نظر آتی ہے جگمگاتی ہوئی

کہ سر زمینِ عجم کے کہیں قریب ہیں ہم

ترے وطن کے نواحی میں اے حبیب ہیں ہم؟

یہ کیا طلسم ہے، کیا راز ہے، کہاں ہیں ہم؟

کہ ایک خواب میں بے مدعا رواں ہیں ہم؟

ع____

یہ ایک خواب ہے، بے مدعا رواں ہیں ہم

یہ ایک فسانہ ہے کردارِ داستاں ہیں ہم

ابھی یہاں سے بہت دور جہانِ عجم

تصورات میں جس خلد کے جواں ہیں ہم

وہ سامنے کی زمیں ہے مگر جزیرہ ءِ عشق

جو دور سے نظر آتی ہے جگمگاتی ہوئی

فضا پہ جس کی درخشاں ہے اک ستارہ ءِ نور

شعاعیں رقص میں ہیں زمزمے بہاتی ہوئی‘‘

م____

اگر یہاں سے بہت دور ہے جہانِ عجم

مری ندیم چل اس سرزمیں کی جانب چل

ع____

اُسی کی سمت رواں ہیں، سفینہ راں ہیں ہم

یہیں پہنچ کے ملے گی مگر نجات کہیں

ہمیں زمان ومکاں کے حدودِ سنگیں سے

نہ خیروشر ہے نہ یزداں واہرمن ہیں یہاں

کہ جاچکے ہیں وہ اس سرزمینِ رنگیں سے‘‘

م____

مری ندیم چل اس سرزمیں کی جانب چل!

ع____

اُسی کی سمت رواں ہیں، سفینہ راں ہیں ہم

یہاں عدم ہے نہ فکرِ وجود ہے گویا

یہاں حیات مجسم سرود ہے گویا

ن م راشد

زندگی میری سہ نیم

میں سہ نیم اور زندگی میری سہ نیم

دوست داری، عشق بازی، روزگار

زندگی میری سہ نیم!

دوستوں میں دوست کچھ ایسے بھی ہیں

جن سے وابستہ ہے جاں،

اور کچھ ایسے بھی ہیں، جو رات دن کے ہم پیالہ، ہم نوالہ

پھر بھی جیسے دشمنِ جانِ عزیز!

دوستی کچھ دشمنی اور دشمنی کچھ دوستی

دوستی میری سہ نیم!

عشق محبوبہ سے بھی ہے اور کتنی اور محبوباؤں سے،

ان میں کچھ ایسی بھی ہیں

جن سے وابستہ ہے جاں

اور کچھ ایسی بھی ہیں جو عطرِ بالیں، نورِ‌بستر

پھر بھی جیسے دشمنِ جانِ عزیز!

اِن میں کچھ نگرانِ دانہ اور کچھ نگرانِ دام

عشق میں‌کچھ سوز ہے، کچھ دل لگی، کچھ انتقام

عاشقی میری سہ نیم!

روزگار اِک پارہء نانِ جویں کا حیلہ ہے

گاہ یہ حیلہ ہی بن جاتا ہے دستورِ حیات

اور گاہے رشتہ ہائے جان و دل کو بھول کر

بن کے رہ جاتا ہے منظورِ حیات

پارہء ناں کی تمنّا بھی سہ نیم

میں سہ نیم اور زنگی میری سہ نیم!‌

ن م راشد

زندگی سے ڈرتے ہو؟

زندگی سے ڈرتے ہو؟

زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں!

آدمی سے ڈرتے ہو؟

آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں!

آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے،

اس سے تم نہیں ڈرتے!

حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے، آدمی ھے وابستہ

آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ

اس سے تم نہیں ڈرتے!

ان کہی سے ڈرتے ہو

جو ابھی نہیں آئی، اس گھڑی سے ڈرتے ہو

اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!

پہلے بھی تو گزرے ہیں،

دور نارسائی کے، بے ریا خدائی کے

پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزو مندی

یہ شب زباں بندی، ہے رہِخداوندی!

تم مگر یہ کیا جانو،

لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں

ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر

نور کی زباں بن کر

ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو؟

روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں،

روشنی سے ڈرتے ہو!

شہر کی فصیلوں پر

دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر

رات کا لبادہ بھی

چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر

اژدہامِانساں سے فرد کی نوا آئی

ذات کی صدا آئی

راہِ شوق میں جیسے، راہرو کا خوں لپکے

اک نیا جنوں لپکے!

آدمی چھلک اٹّھے

آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو

تم ابھی سے ڈرتے ہو؟

ن م راشد

زندگی اک پیرہ زن!

جمع کرتی ھے گلی کوچوں میں روز و شب پرانی دھجیاں!

تیز، غم انگیز، دیوانہ ہنسی سے خندہ زن

بال بکھرے، دانت میلے، پیرہن

دھجیوں کا ایک سونا اور نا پیدا کراں، تاریک بن!

لو ہوا کے ایک جھونکے سے اڑی ہیں ناگہاں

ہاتھ سے اس کے پرانے کاغذوں کی بالیاں

اور وہ آپے سے باہر ہو گئی

اس کی حالت اور ابتر ہو گئی

سہہ سکے گا کون یہ گہرا زیاں

اب ہوا سے ہار تھک کر جھک گئی ھے پیرہ زن

جھک گئی ہے پاؤں پر، جیسے دفینہ ہو وہاں!

زندگی، تو اپنے ماضی کے کنوئیں میں جھانک کر کیا پائے گی

اس پرانے اور زہریلی ہواؤں سے بھرے، سونے کنویں میں

جھانک کر اس کی خبر کیا لائے گی

اس کی تہہ میں سنگریزوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جز صدا کچھ بھی نہیں!

ن م راشد

زنجیر

گوشہ ءِ زنجیر میں

اک نئی جنبش ہویدا ہو چلی،

سنگِ خارا ہی سہی، خارِ مغیلاں ہی سہی،

دشمنِ جاں، دشمنِ جاں ہی سہی،

دوست سے دست و گریباں ہی سہی

یہ بھی تو شبنم نہیں___

یہ بھی تو مخمل نہیں، دیبا نہیں، ریشم نہیں___

ہر جگہ پھر سینہ ءِ نخچیر میں

اک نیا ارماں، نئی امید پیدا ہو چلی،

حجلہ ءِ سیمیں سے تو بھی پیلہ ءِ ریشم نکل،

وہ حسیں اور دور افتادہ فرنگی عورتیں

تو نے جن کے حسنِ روز افزوں کی زینت کے لیے

سالہا بے دست و پا ہو کر بُنے ہیں تار ہائے سیم و زر

اُن کے مردوں کے لیے بھی آج اک سنگین جال

ہو سکے تو اپنے پیکر سے نکال!

شکر ہے دنبالہ ءِ زنجیر میں

اک نئی جنبش، نئی لرزش ہویدا ہو چلی

کوہساروں، ریگزاروں سے صدا آنے لگی:

ظلم پروردہ غلامو! بھاگ جاؤ

پردہ ءِ شب گیر میں اپنے سلاسل توڑ کر،

چار سُو چھائے ہوئے ظلمات کو اب چیر جاؤ

اور اس ہنگامِ باد آورد کو

حیلہ ءِ شب خوں بناؤ!

ن م راشد

زنجبیل کے آدمی

مجھے اپنے آپ سے آ رہی ہے لہو کی بُو

کبھی ذبح خانے کی تیز بُو

کبھی عورتوں کی ابلتی لاشوں کی تیز بُو

کبھی مرگھٹوں میں کباب ہوتے ہوئے سروں کی

دبیز بُو

وہ دبیز ایسی کہ آپ چاہیں تو

تیغِ تیز سے کاٹ دیں

مجھے اپنے آپ سے آ رہی ہے لہو کی بُو،

کہ مجھی کو قتل کیا ہو جیسے کسی نے

شہر کے چوک میں!

یہی چوک تھا۔۔

یہی وہ مقام تھا، ناگہاں

کسی خوف سے میں جسد سے اپنے لپٹ گیا

(کہیں تھا بھی میرا جسد مگر؟)

مرے آنسوؤں کی لڑی زمیں پہ بکھر گئی

مری ہیک ہیک نہ تھم سکی ۔۔

کبھی سائے آ کے سکڑ گئے

کبھی اور بڑھتے چلے گئے

کہ وہ اپنے جبر کے محوروں کے سوا نہ تھے

کسی اور راہ سے باخبر؛

مری سسکیاں کسی بے صدائی کے ناگہاں میں

اتر گئیں ۔۔

ابھی چاند دفن تھا بادلوں کے مزار میں

وہیں میں نے نفسِ فریب کار کا سر، بدن

سے اڑا دیا

وہیں میں نے اپنی خودی کی پیرہ زنِ خمیدہ کمر

کی جان دبوچ لی

وہ کوئی برہنہ و مرگ رنگ صدا تھی

جس کا سراغ پا کے میں چل پڑا ۔۔۔

وہ صدا جو مسخرہ پن میں مجھ سے کبیر تر

وہ صدا جو مجھ سے شریر تر

کسی فلسفے میں رچی ہوئی وہ چڑیل ۔۔۔

احمق و تند و خو ۔۔

نئے ریگ زاروں میں، فاتحوں کے جہانِ پیر میں

گھومتی ہوئی سُو بہ سو

نئے استخوانوں کے آستانوں کی راہ جو ۔۔۔

(سرینوں کو ڈھانپو کہ اِن پر ابھی زندگی کی لکدکوب کے اُن ہزاروں

برس کے نشاں ہیں، جو گزرے نہیں ہیں، کہ ننگے سُرینوں کی دعوت

سے پڑتے رہے ہیں ہمیشہ سے اُن پر روایات کے بعد کے تازیانے

اور اُن کے سواُن جواں تر نکیلے دماغوں کی کرنوں کے نیزے، جو

معقول و منقول دونوں سے خود کو الگ کر چکے ہیں؛ سُرینوں کو

ڈھانپو کہ اب تک وہ کو دن بھی موجود ہیں جن کا ایماں ہے

غوغا و کشتارو امرد پرستی سے وہ بادشاہت ملے گی کہ جس کو وہ برباد

کرنے میں مختار ہوں گے ؛ یہ وہ لوگ ہیں جن کی جنت کے الٹے

چھپرکھٹ میں کابوس کی مکڑیاں اُن کی محرومیاں بُن رہی ہیں، وہ جنت

کہ جس میں کسالت کے دن رات نعروں کی رونق سے زندہ رہیں گے ۔۔)

کئی بار میں نے ۔۔ نکل کے چوک سے ۔۔ سعی کی

کی میں اپنی بھوتوں کی میلی وردی اتاروں

نئے بولتے ہوئے آدمی کے نئے الم میں شریک ہُوں

میں اسی کے حُسن میں، اُس کے فن میں، اُسی کے دم میں

شریک ہُوں

میں اُسی کے خوابوں، انھی کے معنیِ تہہ بہ تہہ میں

انھی کے بڑھتے ہوئے کرم میں شریک ہُوں ۔۔

وہ تمام چوہے ۔۔ وہ شاہ دولا کے ارجمند ۔۔

ہرایک بار اُچھل پڑے ۔۔ مرے خوف سے

مرے جسم و جاں پہ اُبل پڑے!

تو عجیب بات ہے، مَیں اگر

ہمہ تن نشاطِ غرور ہوں؟

شبِ انتقام کی آگ میں ہوں جلا ہوا؟

کہ فنا پرست کدورتوں میں رچا ہوا؟

سُنو! جنگ جوؤ، سپاہیو

مری آرزو کی شرافتوں کو دغا نہ دو

میں لڑھک کے دامنِ کوہ تک جو پہنچ گیا

تو یہ ڈر ہے ۔۔

زندہ چبا نہ لوں تمھیں ۔۔ کہ تم

ہو تمام شیرہ ءِ زنجبیل کے آدمی!

مری بے بسی پہ ہنسو گے تم تو ہنسا کرو ۔۔

میں دعا کروں گا:

خدائے رنگ و صدا و نُور

تُو اِن کے حال پہ رحم کر!

(خدا،

رنگِ نَو، نور و آوازِ نَو کے خدا!

خدا،

وحدتِ آب کے، عظمتِ باد کے

رازِ نَو کے خدا!

قلم کے خدا، سازِ نو کے خدا!

تبسّم کے اعجازِ نَو کے خدا!۔۔)

ن م راشد

زمانہ خدا ہے

زمانہ خدا ہے، اسے تم برا مت کہو

مگر تم نہیں دیکھتے ۔۔۔ زمانہ فقط ریسمانِ خیال

سبک مایہ، نازک، طویل

جدائی کی ارزاں سبیل

وہ صبحیں جو لاکھوں برس پیشتر تھیں

وہ شامیں جو لاکھوں برس بعد ہوں گی

انھیں تم نہیں دیکھتے، دیکھ سکتے نہیں

کہ موجود ہیں، اب بھی موجود ہیں وہ کہیں

مگر یہ نگاہوں کے آگے جو رسی تنی ہے

اسے دیکھ سکتے ہو، اور دیکھتے ہو

کہ یہ وہ عدم ہے

جسے ہست ہونے میں مدت لگے گی

ستاروں کے لمحے، ستاروں کے سال!

مرے صحن میں ایک کم سن بنفشے کا پودا ہے

طیّارہ کوئی کبھی اس کے سر پر سے گزرے

تو وہ مسکراتا ہے اور لہلہاتا ہے

گویا وہ طیارہ، اُس کی محبت میں

عہدِ وفا کے کسی جبرِ طاقت ربا ہی سے گزرا

وہ خوش اعتمادی سے کہتا ہے:

لو، دیکھو، کیسے اسی ایک رسی کے دونوں کناروں

سے ہم تم بندھے ہیں!

یہ رسی نہ ہو تو کہاں ہم میں تم میں

ہو پیدا یہ راہِ وصال؟

مگر ہجر کے ان وسیلوں کو وہ دیکھ سکتا نہیں

جو سراسر ازل سے ابد تک تنے ہیں!

جہاں یہ زمانہَ۔۔۔۔۔ ہنوزِ زمانہ

فقط اِک گرہ ہے!

ن م راشد

ریگِ دیروز

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

وقت کے طولِ المناک کے پروردہ ہیں

ایک تاریک ازل، نورِ ابد سے خالی!

ہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا

اپنی تہذیب کی پاکوبی کا حاصل پایا!

ہم محبّت کے نہاں خانوں میں بسنے والے

اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے

ہم سمجھتے ہیں نشانِ سرِ منزل پایا!

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

کنجِ ماضی میں ہیں باراں زدہ طائر کی طرح آسودہ

اور کبھی فتنہ ءِ ناگاہ سے ڈر کر چونکیں

تو رہیں سدِّ نگاہ نیند کے بھاری پردے

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں!

ایسے تاریک خرابے کہ جہاں

دور سے تیز پلٹ جائیں ضیا کے آہو

ایک، بس ایک، صدا گونجتی ہے

شبِ آلام کی یا ہو! یا ہو!

ہم محبت کے خرابوں کے مکیں

ریگِ دیروز میں خوابوں کے شجر بوتے رہے

سایہ ناپید تھا، سائے کی تمنّا کے تلے سوتے رہے!

ن م راشد

رقص کی رات

رقص کی رات کسی غمزہ ءِ عریاں کی کرن

اس لیے بن نہ سکی راہِ تمنا کی دلیل

کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ

جس سے تنویر مرے سینہ ءِ غمناک میں ہے

ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے

اور کوئی لوٹ کے آ ہی نہ سکے!

رقص کی رات کوئی دَورِ طرب

بن نہ سکتا تھا ستاروں کی خدائی گردش؟

محورِ حال بھی ہو، جادہ ءِ آئندہ بھی

اور دونوں میں وہ پیوستگیِ شوق بھی ہو

جو کبھی ساحل و دریا میں نہ تھی،

پھر بھی حائل رہے یوں بُعدِ عظیم

لب ہلیں اور سخن آغاز نہ ہو

ہاتھ بڑھ جائیں مگر لامسہ بے جان رہے؟

تجھے معلوم نہیں،

اب بھی ہر صبح دریچے میں سے یوں جھانکتا ہوں

جیسے ٹوٹے ہوئے تختے سے کوئی تِیرہ نصیب

سخت طوفان میں حسرت سے افق کو دیکھے:

____کاش ابھر آئے کہیں سے وہ سفینہ جو مجھے

اس غمِ مرگِ تہِ آب سے آزاد کرے____

رقص کی شب کی ملاقات سے اتنا تو ہوا

دامنِ زیست سے میں آج بھی وابستہ ہوں،

لیکن اس تختہ ءِ نازک سے یہ امید کہاں

کہ یہ چشم و لبِ ساحل کو کبھی چوم سکے!

ن م راشد

رقص

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں

ڈر سے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہو

رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی

ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے مرا

اور جرم عیش کرتے دیکھ لے!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

رقص کی یہ گردشیں

ایک مبہم آسیا کے دور ہیں

کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا ہوں میں!

جی میں کہتا ھوں کہ ہاں،

رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر

کلفتوں کا سنگریزہ ایک بھی رہنے نا پائے!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

زندگی میرے لیے

ایک خونیں بھیڑ یے سے کم نہیں

اے حسین و اجنبی عورت اسی کے ڈر سے میں

ہو رہا ہوں لمحہ لمحہ اور بھی تیرے قریب

جانتا ھوں تو مری جاں بھی نہیں

تجھ سے ملنے کا پھر امکاں بھی نہیں

تو مری ان آرزوؤں کی مگر تمثیل ھے

جو رھیں مجھ سے گریزاں آج تک!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

عہد پارینہ کا میں انساں نہیں

بندگی سے اس در و دیوار کی

ہو چکی ہیں خواہشیں بے سوز و رنگ و ناتواں

جسم سے تیرے لپٹ سکتا تو ہوں

زندگی پر میں جھپٹ سکتا نہیں!

اس لیے اب تھام لے

اے حسین و اجنبی عورت مجھے اب تھام لے!

ن م راشد

رفعت (سانیٹ)

کوئی دیتا ہے بہت دور سے آواز مجھے

چھپ کے بیٹھا ہے وہ شاید کسی سیارے میں

نغمہ و نور کے اک سرمدی گہوارے میں

دے اجازت جو تری چشمِ فسوں ساز مجھے

اور ہو جائے محبت پرِ پرواز مجھے

اڑ کے پہنچوں میں وہاں روح کے طیارے میں

سرعتِ نور سے یا آنکھ کے پلکارے میں

کہ فلک بھی نظر آتا ہے درباز مجھے!

سالہا سال مجھے ڈھونڈیں گے دنیا کے مکیں

دوربینیں بھی نشاں تک نہ مرا پائیں گی

اور نہ پیکر ہی مرا آئے گا پھر سوئے زمیں

عالمِ قدس سے آوازیں مری آئیں گی

بحر خمیازہ کش وقت کی امواجِ حسیں

اک سفینہ مرے نغموں سے بھرا لائیں گی!

ن م راشد

رخصت

ہے بھیگ چلی رات، پر افشاں ہے قمر بھی

ہے بارشِ کیف اور ہوا خواب اثر بھی

اب نیند سے جھکنے لگیں تاروں کی نگاہیں

نزدیک چلا آتا ہے ہنگامِ سحر بھی!

میں اور تم اس خواب سے بیزار ہیں دونوں

اس رات سرِ شام سے بیدار ہیں دونوں

ہاں آج مجھے دور کا در پیش سفر ہے

رخصت کے تصور سے حزیں قلب و جگر ہے

آنکھیں غمِ فرقت میں ہیں افسردہ و حیراں

اک سیلِ بلا خیز میں گم تار نظر آتا ہے

آشفتگیِ روح کی تمہید ہے یہ رات

اک حسرتِ جاوید کا پیغام سحر ہے

میں اور تم اس رات ہیں غمگین و پریشاں

اک سوزشِ پیہم میں گرفتار ہیں دونوں!

گہوارہ ءِ آلامِ خلش ریز ہے یہ رات

اندوہِ فراواں سے جنوں خیز ہے یہ رات

نالوں کے تسلسل سے ہیں معمور فضائیں

سرد آہوں سے، گرم اشکوں سے لبریز ہے یہ رات

رونے سے مگر روح تن آساں نہیں ہوتی

تسکینِ دل و دیدہ ءِ گریاں نہیں ہوتی!

میری طرح اے جان، جنوں کیش ہے تُو بھی

اک حسرتِ خونیں سے ہم آغوش ہے تُو بھی

سینے میں مرے جوشِ تلاطم سا بپا ہے!

پلکوں میں لیے محشرِ پُر جوش ہے تُو بھی

کل تک تری باتوں سے مری روح تھی شاداب

اور آج کس انداز سے خاموش ہے تو بھی

وارفتہ و آشفتہ و کاہیدہ ءِ غم ہیں

افسردہ مگر شورشِ پنہاں نہیں ہوتی

میں نالہ ءِ شب گیر کے مانند اٹھوں گا

فریادِ اثر گیر کے مانند اٹھوں گا

تو وقتِ سفر مجھ کو نہیں روک سکے گی

پہلو سے تیرے تیر کے مانند اٹھوں گا

گھبرا کے نکل جاؤں گا آغوش سے تیری

عشرت گہِ سر مست و ضیا پوش سے تیری!

ہوتا ہوں جدا تجھ سے بصد بیکسی و یاس

اے کاش، ٹھہر سکتا ابھی اور ترے پاس

مجھ سا کوئی ہو گا سیہ بخت جہاں میں

مجھ سا بھی کوئی ہو گا اسیرِ الم و یاس

مجبور ہوں، لاچار ہوں کچھ بس میں نہیں ہے

دامن کو مرے کھینچتا ہے ’’فرض‘‘ کا احساس

بس ہی میں نہیں ہے مرے لاچار ہوں مَیں بھی

تو جانتی ہے ورنہ وفا دار ہوں میں بھی!

ہو جاؤں گا مَیں تیرے طرب زار سے رخصت

اس عیش کی دنیائے ضیا بار سے رخصت

ہو جاؤں گا اک یادِ غم انگیز کو لے کر

اس خلد سے، اس مسکنِ انوار سے رخصت

تو ہو گی مگر بزمِ طرب باز نہ ہو گی

یہ ارضِ حسیں جلوہ گہِ راز نہ ہو گی

مَیں صبح نکل جاؤں گا تاروں کی ضیا میں

تُو دیکھتی رہ جائے گی سنسان فضا میں

کھو جاؤں گا اک کیف گہِ روح فزا میں

آغوش میں لے لے گی مجھے صبح درخشاں

او میرے مسافر، مرے شاعر، مرے راشدؔ

تُو مجھ کو پکارے گی خلش ریز نوا میں!

اُس وقت کہیں دور پہنچ جائے گا راشدؔ

مرہونِ سماعت تری آواز نہ ہو گی!

ن م راشد

رات عفریت سہی

رات عفریت سہی،

چار سو چھائے ہوئے موئے پریشاں جس کے

خون آلودہ نگاہ و لب و دنداں جس کے

ناخنِ تیز ہیں سوہانِ دِل و جاں جس کے

رات عفریت سہی،

شکرِ للہ کہ تابندہ ہے مہتاب ابھی

چند میناؤں میں باقی ہے مئے ناب ابھی

اور بے خواب مرے ساتھ ہیں احباب ابھی

رات عفریت سہی،

اسی عفریت نے سو بار ہزیمت پائی

اس کی بیداد سے انساں نے راحت پائی

جلوہ ءِ صبحِ طرب ناک کی دولت پائی

رات عفریت سہی،

آؤ احباب کہ پھر جشنِ سحر تازہ کریں

پھر تمناؤں کے عارض پہ نیا غازہ کریں

ابنِ آدم کا بلند آج پھر آوازہ کریں

13، فروری 1953ء

ن م راشد

رات شیطانی گئی

رات شیطانی گئی ۔۔۔

ہاں مگر تم مجھ کو الجھاؤنہیں

میں نے کچل ڈالے ہیں کتنے خوف

اِن پاکیزہ رانوں کے تلے

(کر رہا ہوں عشق سے دھوئی ہوئی

رانوں کی بات!)

رات شیطانی گئی تو کیا ہوا؟

لاؤ، جو کچھ بھی ہے لاؤ

یہ نہ پوچھو

راستہ کے گھونٹ باقی ہے ابھی

آج اپنے مختصر لمحے میں اپنے اُس خدا کو

رُوبرو لائیں گے ہم

اپنے ان ہاتھوں سے جو ڈھالا گیا۔۔۔

آج آمادہ ہیں پی ڈالیں لہو۔۔۔۔

اپنا لہو۔۔۔۔

تابکے اپنے لہو کی کم روائی تابکے؟

سادگی کو ہم کہیں گے پارسائی تابکے؟

دست ولب کی نارسائی تابکے؟

لاؤ، جو کچھ بھی ہے لاؤ

رات شیطانی گئی تو کیا ہوا؟

صَوت و رنگ و نور کا وہ رجز گاؤ

جو کبھی گاتے تھے تم

رات کے حجرے سے نکلو

اور اذانوں کی صدا سننے کی فرصت دو ہمیں۔۔۔

رات کے اس آخری قطرے سے جو اُبھری ہیں

اُن بکھری اذانوں کی صدا۔۔۔

رات۔۔۔شیطانی گئی تو کیا ہوا؟

ن م راشد

رات خیالوں میں گُم

پھول کی پتّی ٹھہر، رات کے دل پر ہے بار

رات خیالوں میں گُم

طائرِ جاں پر نہ مار،

رات خیالوں میں گُم

کونسی یادوں میں گُم ہے شبِ تاریدہ مُو؟

رنجِ مسافت کا طُول

(جس کی ہے تُو خود رسول!)

وقت کے چہرے کا رنگ؟

جو کبھی قرمز، کبھی زرد، کبھی لاجورد

(تو کہ سیاہی میں فرد

کوریِ میداں کی مرد!)

راہ کی مہماں سرا؟ (سانس سے پستاں ترے کیسے ہمکتے رہے!)

تاجروں کا قافلہ ، ایک نظر باز تھے

حیلوں سے تکتے رہے!

راہ کی مہماں سرا، خوف سے بستر بھی سنگ

وہم سے رویا بھی دنگ

نالہ ءِ درویش سے صبح کے پیکر پہ ضرب

(ختمِ تمنّا کا کرب!)

عشق کا افسانہ گو ہرزہ گری سے نڈھال

ظلم کی شاخوں سے ژولیدہ زمانوں کی فال

حاشیہ ءِ مرگ پر رہروؤں کے نشاں

ریت کے جالوں میں گم

ریت سوالوں میں گُم

رات خیالوں میں گُم!

(سر جو اٹھائے ذرا ہم تری دعوت منائیں

جشنِ ارادت رچائیں!)

کونسی یادوں میں گُم ہے شبِ تاریدہ مُو؟

ایک جزیرہ کہیں عیش وفا کا عدن!

سحر زدہ مر د و زن رقص کناں کُو بکُو

ننگے بدن، تشنہ جاں!

کہنے لگے: دہ خدا کا ہمیں فرماں یہی،

سرد رگوں میں ہو خوں، رقص کریں پھر بھی ہم

جشن ہے کیوں۔۔۔؟

بجھتے گئے سب چراغ، زندہ رہا اِک الاؤ

جس کی دہک سے زمیں اور ہوئی آتشیں

اور ہوئی عنبریں!

اور وہ تنہا دیار چاند سے بھی دُور دست

جس میں اذاں زیرِ لب جس میں فغاں غم سے پست

ایک ہی ہُو کا کھنڈر، جبرِ ریا راد بست

فکر کے مجذوب چُب، حرف کے دیوانے مست

(تجھ کو رہی نور بھر سطحِ خدا کی تلاش

جس کو کوئی چھو سکے: اب تو ہٹا آنکھ سے

بارِ جہاں کی سلیں!)

سطحِ خدا آئنہ اور رخ نیستی

محض ہیولائے ہست!

رات ذرا سر اٹھا، فرش سے چسپیدہ تو

جیسے کنویں سے نبات!

رات ذرا سر اٹھا، ہم کہ نہیں دشتِ صفر

ہم کہ عدم بھی نہیں!

سیر تری بے بہا اور ترا ہفت خواں

تاب میں کم بھی نہیں!

ہاتھ مگر شل ترے، تیرے قدم بھی نہیں!

اور اگر ہوں تو کیا؟

صبح کے بلّور پر کس کو میّسر ثبات؟

رات ذرا سر اٹھا

اور نہ کوتاہ کر اپنی مسافت کی راہ

کیوں ہے خیالوں میں گُم؟

کیسے خیالوں میں گُم؟

ن م راشد

دوری

ن م راشد

مجموعہ کلام ایران میں اجنبی

مُجھے موت آئے گی، مَر جاؤں گا میں

تُجھے موت آئے گی، مَر جائے گی توُ

وہ پہلی شبِ مہ شبِ ماہِ نیم بن جائے گی

جس طرح سازِ کُہنہ کے تارِ شکستہ کے دونوں سِرے

دو اُفق کے کناروں کے مانند

بس دُور ھی دُور سے تھرتھراتے ھیں اور پاس آتے نہیں ھیں

نہ وہ راز کی بات ھونٹوں پہ لاتے ھیں

جس نے مُغنّی کو دورِ زماں و مکاں سے نکالا تھا،

بخشی تھی خوابِ ابد سے رھائی!

یہ سچ ھے تو پھر کیوں

کوئی ایسی صوُرت، کوئی ایسا حِیلہ نہ تھا

جس سے ھم آنے والے زمانے کی آھٹ کو سُن کر

وھیں اُس کی یورش کو سینوں پہ یوُں روک لیتے:

کہ ھم تیری منزل نہیں، تیرا ملجا و ماویٰ نہیں ھیں

یہ سوچا تھا شاید

کہ خود پہلے اِس بُعد کے آفرینندہ بن جائیں گے

اب جو اِک بحرِ خمیازہ کش بن گیا ھے!

تو پھر اَزسرِ نو مسّرت سے، نورس نئی فاتحانہ مسّرت سے

پائیں گے بھوُلی ھوُئی زندگی کو

وھی خوُد فریبی، وھی اَشک شوئی کا ادنیٰ بہانہ!

مگر اَب وھی بُعد سرگوشیاں کر رھا ھے:

کہ توُ اپنی منزل کو واپس نہیں جا سکے گا،

نہیں جا سکے گا ۔۔۔۔۔۔۔

مُجھے موت آئے گی، مَر جاؤں گا میں،

تُجھے موت آئے گی، مَر جائے گی توُ

یہ عفریت پہلے ہزیمت اُٹھائے گا، مِٹ جائے گا!

ن م راشد

دوئی کی آبنا (کتاب ورژن)

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اِک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آرپار اتر گئی

وہ عشق جس کی عمر

آدمی سے بھی طویل تر

وہ محض اشتہانہیں

وہ محض کھیل بھی نہیں

وہ آب ونان کا رُکا ہوا سوال بھی نہیں

وہ اپنے ہی وجود کا حسد نہیں

جو موت نے بچھا رکھا ہو ایسا

ناگزیر جال بھی نہیں

یہ ہم،

جوحادثے کے لائے و گل سے یا

نصیب کے غبار سے نہیں اٹھے

ازل کے حافظے کے درد سے اٹھے

جوہوش کے شگاف سے۔۔۔۔

جواستوائے جسم وروح سے اٹھے۔۔۔۔

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آرپار اتر گئی

۔۔۔۔اوراس صدا سے ایک ایسا مرحلہ برس پڑا

جوبے نیازِ بُعدتھا

جومشرقِ وجود تھا

وہ مرحلہ برس پڑا!

ہماری ایک جراْتِ نگاہ سے

تمام لوگ جاگ اٹھے

صداکی شمع ہاتھ میں لیے ہوئے

دوئی کی آبنا کے آرپارڈھونڈنے لگے

اُسی طلوع کی خبر

جووقت کی نئی کرن کے پھوٹتے ہی

ساحلَ نمود پر

کم التفات انگلیوں کے درمیاں پھسل گیا!

صدا پکارتی ہے پھر

وہی طلوع جس کوروچکے تھے تم

ابھی ابھی

دوئی کی آبنا کے ساحلوں کی مرگ ریت پر

جھلک اُٹھا!

ن م راشد

دوئی کی آبنا (پرانا ورژن)

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

ٍصدا دوئی کی آبنا کے آر پار اُتر گئی

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

نہیں کہ میں غذا نہیں

مجھے نہ کھا سکو گے تم

میں آب و نان سے بندھا ہوا نہیں

میں اپنے آپ سے بھرا ہوا نہیں

ہیں میرے چار سو وہ آرزو کے تار

تارِ خار دار

جن کو کھا نہیں سکو گے تم

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

ابھی نہ کھا سکو گے تم!

یہ سانپ دیکھتے ہو کیا؟

تمہارے جسم و جاں میں کھا رہا ہے بل

تمام دن، تمام رات

(وہ سانپ جس سے سب سے پہلی مرتبہ بہشت میں ملے تھے تم)

کبھی یہ اپنے زہر ہی میں جل کے خاک ہو گیا

کبھی یہ اپنے آپ کو نگل کے پاک ہو گیا

کبھی یہ اپنے آپ ہی میں سو گیا

تو پھر کھلیں گے سب کے ہاتھ

اب کے پاؤں اس نئے الاپ کی طرف بڑھیں گے

جس سے ہر وصال کی نمود ہے

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

یہ جانتے نہیں ہو تم

نہنگ مچھلیوں کو کھا رہے تھے۔۔۔

کھا رہے تھے

آخر اک بڑا نہنگ رہ گیا

ہزار من کا اک بڑا نہنگ (اکیلی جان) زندہ رہ گیا

اور اپنے اس اکیلے پن سے تنگ آ کے

اپنے آپ ہی کو کھا گیا!!

کہ نان و آب سے بندھے ہوؤں کا۔۔۔

اپنے آپ سے بھرے ہوؤں کا۔۔۔۔۔

بس یہی مآل ہے

یہ آخری وصال ہے!

مگر وہ عشق۔۔۔ جس کی عُمر ہم سے بھی طویل تر

وہ محض اشتہا نہیں

وہ محض کھیل بھی نہیں

وہ آب و نان کا رکا ہوا سوال بھی نہیں

وہ اپنے ہی وجود کا حسد نہیں

جو موت نے بچھا رکھا ہو

ایسا نا گزیر جال بھی نہیں

یہ ہم

جو حادثے کے لائے گِل سے یا

نصیب کے غبار سے نہیں اٹھے

ازل کے حافظے کے درد سے اٹھے

جو ہوش کے شگاف سے

جو استوائے جسم و روح سے اٹھے

ہمیں نہ کھا سکو گے تم

ہمیں ہیں وہ کہ جن کی اک نگاہ سے

صدا دوئی کی آبنا کے آر پار اُتر گئی

اور اس صدا سے ایک ایسا مرحلہ برس پڑا

جو بے نیازِ بُعد تھا

جو مشرقِ وجود تھا

وہ مرحلہ برس پڑا

تو کس طرح کہوں کہ ہم

تمام آب و نان کا رکا ہوا سوال ہیں؟

تمام اپنی بھوک کا جواب ہیں؟

نہیں مجھے نہ کھاؤ تم

کہ ایک میری جرأت نگاہ سے

تمام لوگ جاگ اٹھے

صدا کی شمع ہاتھ میں لیے ہوئے

دوئی کی آبنا کے آر پار ڈھونڈھنے لگے

اُسے طلوع کی خبر

جو وقت کی نئی کرن کے پھوٹتے ہی، ساحلِ نمود پر

کم التفات انگلیوں کے درمیاں سے نا گہاں پھسل گیا

کہ وہ طلوع جس کو رو چکے تھے ہم

پھر آج ان کے ساحلوں کی ریت سے

جھلک اٹھے

ن م راشد

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل

نغمہ در جاِ رقص برپا، خندہ بر لب

دل، تمنّاؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریب!

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل

ریگ کے دل شاد شہری، ریگ تُو

اور ریگ ہی تیری طلب

ریگ کی نکہت ترے پیکر میں، تیری جاں میں ہے!

ریگ صبحِ عید کے مانند زرتاب و جلیل،

ریگ صدیوں کا جمال،

جشنِ آدم پر بچھڑ کر ملنے والوں کا وصال،

شوق کے لمحات کے مانند آزاد و عظیم!

ریگ نغمہ زن

کہ ذرے ریگ زاروں کو وہ پازیبِ قدیم

جن پہ پڑ سکتا نہیں دستِ لئیم،

ریگِ صحرا زرگری کی ریگ کی لہروں سے دُور

چشمہ ءِ مکر و ریا شہروں سے دُور!

ریگ شب بیدار ہے، سنتی ہے ہر جابر کی چاپ

ریگ شب بیدار ہے، نگراں ہے مانندِ نقیب

دیکھتی ہے سایہ ءِ آمر کی چاپ

ریگ ہر عیّار، غارت گر کی موت

ریگ استبداد کے طغیاں کے شور و شر کی موت

ریگ جب اٹھتی ہے، اڑ جاتی ہے ہر فاتح کی نیند

ریگ کے نیزوں سے زخمی، سب شہنشاہوں کے خواب!

(ریگ، اے صحرا کی ریگ

مجھ کو اپنے جاگتے ذروں کے خوابوں کی

نئی تعبیر دے!)

ریگ کے ذرّو ، ابھرتی صبح تم،

آؤ صحرا کی حدوں تک آ گیا روزِ طرب

دل، مرے صحرا نوردِ پیرِ دل،

آ چوم ریگ!

ہے خیالوں کے پری زادوں سے بھی معصوم ریگ!

ریگ رقصاں، ماہ و سالِ نور تک رقصاں رہے

اس کا ابریشم ملائم، نرم خُو، خنداں رہے!

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل

یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ

راہ گم کردوں کی مشعل، اس کے لب پر’ آؤ، آؤ!‘

تیرے ماضی کے خزف ریزوں سے جاگی ہے یہ آگ

آگ کی قرمز زباں پر انبساطِ نو کے راگ

دل، مرے صحرا نوردِ پیر دل،

سرگرانی کی شبِ رفتہ سے جاگ!

کچھ شرر آغوشِ صرصر میں ہیں گُم،

اور کچھ زینہ بہ زینہ شعلوں کے مینار پر چڑھتے ہوے

اور کچھ تہہ میں الاؤ کی ابھی

مضطرب، لیکن مذبذبِ طفل کمسن کی طرح!

آگ زینہ، آگ رنگوں کا خزینہ

آگ اُن لذّات کا سرچشمہ ہے

جس سے لیتا ہے غذا عشاق کے دل کا تپاک!

چوبِ خشک، انگور اس کی مے ہے آگ

سرسراتی ہے رگوں میں عید کے دن کی طرح!

آگ کا ہن، یاد سے اُتری ہوئی صدیوں کی یہ افسانہ خواں

آنے والے قرنہا کی داستانیں لب پہ ہیں

دل، مرا صحرا نوردِ پیر دل سن کر جواں!

آگ آزادی کا، دلشادی کا نام

آگ پیدائش کا، افزائش کا نام

آگ کے پھولوں میں نسریں، یاسمن، سنبل، شفیق و نسترن

آگ آرائش کا، زیبائش کا نام

آگ وہ تقدیس، دھُل جاتے ہیں جس سے سب گناہ

آگ انسانوں کی پہلی سانس کے مانند اِک ایسا کرم

عمر کا اِک طول بھی جس کا نہیں کافی جواب!

یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو

اس لق و دق میں نکل آئیں کہیں سے بھیڑیے

اس الاؤ کو سدا روشن رکھو!

(ریگِ صحرا کو بشارت ہو کہ زندہ ہے الاؤ،

بھیڑیوں کی چاپ تک آتی نہیں!)

آگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیم

آگ سے صحرا کے ٹیڑھے، رینگنے والے

گرہ آلود، ژولیدہ درخت

جاگتے ہیں نغمہ درجاں، رقص برپا، خندہ برلب

اور منا لیتے ہیں تنہائی میں جشنِ ماہتاب

ان کی شاخیں غیر مرئی طبل کی آواز پر دیتی ہیں تال

بیخ و بُن سے آنے لگتی ہے خداوندی جلاجل کی صدا!

آگ سے صحرا کا رشتہ ہے قدیم

رہروؤں، صحرانوردوں کے لیے ہے رہنما

کاروانوں کا سہارا بھی ہے آگ

اور صحراؤں کی تنہائی کو کم کرتی ہے آگ!

آگ کے چاروں طرف پشمینہ و دستار میں لپٹے ہوئے

افسانہ گو

جیسے گرد چشمِ مژگاں کا ہجوم

ان کے حیرتناک، دلکش تجربوں سے

جب دمک اُٹھتی ہے ریت

ذرّہ ذرّہ بجنے لگتا ہے مثالِ سازِجاں

گوش برآواز رہتے ہیں درخت

اور ہنس دیتے ہیں اپنی عارفانہ بے نیازی سے کبھی!

یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو

ریگ اپنی خلوتِ بے نور و خودبیں میں رہے

اپنی یکتائی کی تحسیں میں رہے

اس الاؤ کو سدا روشن رکھو!

یہ تمنّاؤں کا بے پایاں الاؤ گر نہ ہو

ایشیا، افریقہ پہنائی کا نام

(بے کار پہنائی کا نام)

یوروپ اور امریکہ دارائی کا نام،

(تکرارِ دارائی کا نام!)

میرا دلِ صحرا نورد پیر دل

جاگ اٹھا ہے، مشرق و مغرب کی ایسی یک دلی

کے کاروانوں کا نیا رویا لیے،

یک دلی ایسی کہ ہو گی فہمِ انساں سے ورا

یک دلی ایسی کہ ہم سب کہہ اٹھیں:

اس قدر عجلت نہ کر

اژدہامِ گل نہ بن!

کہہ اٹھیں ہم :

تُو غمِ کُل تو نہ تھی

اب لذّتِ کل بھی نہ بن

روزِ آسائش کی بے دردی نہ بن

یک دلی بن، ایسا سنّاٹا نہ بن،

جس میں تابستاں کی دوپہروں کی

بے حاصل کسالت کے سوا کچھ بھی نہ ہو!

اس جفاگر یک دلی کے کارواں یوں آئیں گے

دستِ جادو گر سے جیسے پھوٹ نکلے ہوں طلسم،

عشقِ حاصل خیز سے، یا زورِ پیدائی سے جیسے ناگہاں

کھُل گئے ہوں مشرق و مغرب کے جسم،

۔۔ جسم، صدیوں کے عقیم!

کارواں فرخندہ پَے، اور اُن کا بار

کیسہ کیسہ تختِ جم اور تاجِ کَے

کوزہ کوزہ فرد کی سطوت کی مے

جامہ جامہ روز و شب محنت کا خَے

نغمہ نغمہ حریّت کی گرم لَے!

سالکو، فیروز بختو، آنے والے قافلو

شہر سے لوٹوگے تم تو پاؤ گے

ریت کی سرحد پہ جو روحِ ابد خوابیدہ تھی

جاگ اٹھی ہے، شکوہ ہائے نَے سے وہ

ریت کی تہہ میں جو شرمیلی سحر روئیدہ تھی

جاگ اٹھی ہے حریّت کی لَے سے وہ!

اتنی دوشیزہ تھی، اتنی مردِ نادیدہ تھی صبح

پوچھ سکتے تھے نہ اس کی عمر ہم!

درد سے ہنستی نہ تھی،

ذرّوں کی رعنائی پہ بھی ہنستی نہ تھی،

ایک محجوبانہ بے خبری میں ہنس دیتی تھی صبح!

اب مناتی ہے وہ صحرا کا جلال

جیسے عزّ و جل کے پاؤں کی یہی محراب ہو!

زیرِ محراب آ گئی ہو اس کو بیداری کی رات

خود جنابِ عزّ و جل سے جیسے امیدِ زفاف

(سارے ناکردہ گناہ اس کے معاف!)

صبحِ صحرا، شاد باد!

اے عروسِ عزّ و جل، فرخندہ رُو، تابندہ خُو

تُو اک ایسے حجرہ ءِ شب سے نکل کر آئی ہے

دستِ قاتل نے بہایا تھا جہاں ہر سیج پر

سینکڑوں تاروں کا رخشندہ لہو، پھولوں کے پاس!

صبحِ صحر، سر مرے زانو پہ رکھ کر داستاں

اُن تمنا کے شہیدوں کی نہ کہہ

ان کی نیمہ رس امنگوں، آرزوؤں کی نہ کہہ

جن سے ملنے کا کوئی امکاں نہیں

شہد تیرا جن کو نوشِ جاں نہیں!

آج بھی کچھ دُور، اس صحرا کے پار

دیو کی دیوار کے نیچے نسیم

روز و شب چلتی ہے مبہم خوف سے سہمی ہوئی

جس طرح شہروں کی راہوں پر یتیم

نغمہ بر لب تاکہ ان کی جاں کا سناٹا ہو دُور!

آج بھی اس ریگ کے ذروں میں ہیں

ایسے ذرّے، آپ ہی اپنے غنیم

آج بھی اس آگ کے شعلوں میں ہیں

وہ شرر جو اس کی تہہ میں پر بریدہ رہ گئے

مثلِ حرفِ ناشنیدہ رہ گئے!

صبحِ صحرا، اے عروسِ عزّ و جل

آ کہ ان کی داستاں دہرائیں ہم

ان کی عزّت، ان کی عظمت گائیں ہم

صبح، ریت اور آگ، ہم سب کا جلال!

یک دلی کے کارواں اُن کا جمال

آؤ!

اس تہلیل کے حلقے میں ہم مل جائیں

آؤ!

شاد باغ اپنی تمناؤں کا بے پایاں الاؤ!

ن م راشد

دل سوزی

یہ عشقِ پیچاں کے پھول پتے جو فرش پر یوں بکھر رہے ہیں

یہ مجھ کو تکلیف دے رہے ہیں، یہ مجھ کو غمگین کر رہے ہیں

انھیں یہاں سے اٹھا کے اک بار پھر اسی بیل پر لگا دو

وگرنہ مجھ کو بھی ان کے مانند خواب کی گود میں سلا دو!

خزاں زدہ اک شجر ہے، اُس پر ضیائے مہتاب کھیلتی ہے

اور اُس کی بے رنگ ٹہنیوں کو وہ اپنے طوفاں میں ریلتی ہے

کوئی بھی ایسی کرن نہیں جو پھر اس میں روحِ بہار بھر دے

تو کیوں نہ مہتاب کو بھی یا رب تو یونہی بے برگ و بار کر دے!

ندیم، آہستہ زمزموں کے سرودِ پیہم کو چھوڑ بھی دے

اُٹھا کے ان نازک آبگینوں کو پھینک دے اور توڑ بھی دے

وگرنہ اک آتشیں نوا سے تو پیکر و روح کو جلا دے

عدم کے دریائے بیکراں میں سفینہ ءِ زیست کو بہا دے!

ن م راشد

دستِ ستمگر

یہاں اس سرائے سرِپُل میں یوں تو،

رہی ہر ملاقات تنہائیِ سخت تر کا ہیولا،

مگر آج کی یہ جدائی

سپاہی کے دل کی کچھ ایسی جراحت ہے

جو اس کو بستر میں آسودہ رکھے گی، لیکن

کبھی اس کے ہونٹوں پہ

ہلکی سی موجِ تبسم بھی اٹھنے نہ دے گی!

خدا حافظ، اے گل عذارِ لہستان،

مبارک کہ تو آج دنیائے نو کو چلی ہے!

جہاں تیرا ہمسر تجھے آج لے جا رہا ہے،

لہستاں تو بےشک وہاں بھی نہ ہو گا،

مگر اس ولایت میں

جو حرّیت کیش جمہور کی آنکھ کا ہے درخشندہ تارا

تجھے بے حقیقت سہاروں سے،

غیروں کی خاطر شب و روز کی اس مشقّت سے،

کچھ تو ملے گی رہائی!

وہاں تجھ کو آہنگِ رنگ و زباں

کچھ تو تسکین دے گا،

اور اِس غم سے پامال ہجرت گزینوں کے

سہمے ہوئے قافلے سے

الگ ہو کے منزل کا دھوکا تو ہو گا!

یہ مانا کہ تو شاخسارِ شکستہ ہے

اور شاخسارِ شکستہ رہے گی؛

مگر اس نئی سرزمیں میں

تجھے سبز پتوں کی، شاداب پھولوں کی، امید پیدا تو ہو گی!

تجھے کیسے روندا گیا ہے،

تجھے دربدر کیسے راندا گیا ہے،

میں سب جانتا ہوں کہ شاکی ہے تو جس الم کی

وہ تنہا کسی کا نہیں ہے،

وہ بڑھتا ہوا

آج ذرّے سے عفریت بنتا چلا جا رہا ہے!

تو نازی نہ تھی،

تجھ کو فاشی تخیّل سے کوئی لگاؤ نہ تھا

بس ترا جرم یہ تھا، تجھے عافیت کی طلب تھی،

وطن کی محبت بھری سرزمیں کی

شبِ ماہ، بزمِ طرب، جام و مینا کی

منزل کی آسودگی کی طلب تھی،

طلب تھی سحرگاہ، محبوب کے گرم، راحت سے لبریز

بالش پہ خوابِ گراں کی!

اور اس جرم کی یہ سزا، (اے خدا)

سامنے تیری بے بس نگاہوں کے محبوب کی لاش،

پھر اجنبی قید میں

روس کے برف زاروں میں بیگار

روٹی کے شب ماندہ ٹکڑوں کی خاطر؟

اور اب سال بھر سے

یہ فوجی سراؤں میں خدمت گزاری

یہ دریوزہ کوشی،

یہ دو نیم، بے مدعا زندگی

جس کا ماضی تو ویران تھا،

آئندہ و حال بھی بے نشاں ہو چکے ہیں!

حقیقت کی دنیا تو ہے ہی،

مگر اک خیالوں کی، خوابوں کی دنیا بھی ہوتی ہے

جو آخرِ کار بنتی ہے تقدیر کا خطِ جادہ!

مگر یہ ستم کی نہایت،

کہ تیرے خیالوں پہ خوابوں پہ بھی

توبہ تو یاس کائی کے مانند جمنے لگی تھی!

کہاں بھول سکتا ہوں، اے عندلیبِ لہستاں

وہ نغمے، لہستاں کے دہقانی نغمے

جو فوجی سرائے کی بے کار شاموں میں

تیری زباں سے سنے ہیں ۔۔

وہ جن میں سیہ چشم ہندی کی خاطر

لہستاں کی عورت کا دل یوں دھڑکتا ہے

جیسے وہ ہندی کی مشکینہ رعنائیوں تک پہن کر رہے گا!

جنھیں سن کے محسوس ہوتا رہا ہے

کہ مغرب کی وہ روحِ شب گرد

جو پے بہ پے وسوستوں میں گھری ہے،

تعاقب کیا جا رہا ہے دبے پاؤں جس کا

اب آخر شبستانِ مشرق کے اجڑے ہوئے آشیانوں کے اوپر

لگاتار منڈلا رہی ہے!

اسی روحِ شب گرد کا

اک کنایہ ہے شاید

یہ ہجرت گزینوں کا بکھرا ہوا قافلہ بھی

جو دستِ ستمگر سے مغرب کی، مشرق کی پہنائیوں میں

بھٹکتا ہوا پھر رہا ہے!

خدا حافظ، اے ماہتابِ لہستاں!

یہ اِک سہارا ہے باقی ہمارے لیے بھی

کہ اس اجنبی سرزمیں میں

ہے یہ ساز و ساماں بھی گویا

ہوا کی گزرگاہ میں اک پرِکاہ!

بکھر جائے گا جلد

افسردہ حالوں کا، خانہ بدوشوں کا یہ قافلہ بھی

اور اِک بار پھر عافیت کی سحر

اس کا نقشِ کفِ پا بنے گی!

ن م راشد

دریچے کے قریب

جاگ اے شمعِ شبستانِ وصال

محفلِ خواب کے اس فرشِ طرب ناک سے جاگ!

لذتِ شب سے ترا جسم ابھی چور سہی

آ مری جان، مرے پاس دریچے کے قریب

دیکھ کس پیار سے انوارِ سحر چومتے ہیں

مسجدِ شہر کے میناروں کو

جن کی رفعت سے مجھے

اپنی برسوں کی تمنا کا خیال آتا ہے!

سیمگوں ہاتھوں سے اے جان ذرا

کھول مَے رنگ جنوں خیز آنکھیں!

اسی مینار کو دیکھ

صبح کے نور سے شاداب سہی

اسی مینار کے سائے تلے کچھ یاد بھی ہے

اپنے بیکار خدا کی مانند

اونگھتا ہے کسی تاریک نہاں خانے میں

ایک افلاس کا مارا ہوا ملّائے حزیں

ایک عفریت____ اُداس

تین سو سال کی ذلت کا نشاں

ایسی ذلت کہ نہیں جس کا مداوا کوئی!

دیکھ بازار میں لوگوں کا ہجوم

بے پناہ سَیل کے مانند رواں!

جیسے جنات بیابانوں میں

مشعلیں لے کر سرِ شام نکل آتے ہیں،

ان میں ہر شخص کے سینے کے کسی گوشے میں

ایک دلہن سی بنی بیٹھی ہے

ٹمٹماتی ہوئی ننھی سی خودی کی قندیل

لیکن اتنی بھی توانائی نہیں

بڑھ کے ان میں سے کوئی شعلہ ءِ جوّالہ بنے!

ان میں مفلس بھی ہیں بیمار بھی ہیں

زیرِ افلاک مگر ظلم سہے جاتے ہیں!

ایک بوڑھا سا تھکا ماندہ سا رہوار ہوں میں!

بھوک کا شاہ سوار

سخت گیر اور تنومند بھی ہے؛

میں بھی اس شہر کے لوگوں کی طرح

ہر شبِ عشق گزر جانے پر

بہرِ جمع خس و خاشاک نکل جاتا ہوں

چرخ گرداں ہے جہاں

شام کو پھر اسی کاشانے میں لوٹ آتا ہوں

بے بسی میری ذرا دیکھ کہ میں

مسجدِ شہر کے میناروں کو

اس دریچے میں سے پھر جھانکتا ہوں

جب انہیں عالمِ رخصت میں شفق چومتی ہے!

ن م راشد

در ویش

زمستان کی اس شام

نیچے خیابان میں،

میرے دریچے کے پائیں،

جہاں تِیرگی منجمند ہو گئی ہے

یہ بھاری یخ آلود قدموں کی آواز

کیا کہہ رہی ہے:

خداوند!

کیا آج کی رات بھی

تیری پلکوں کی سنگیں چٹانیں

نہیں ہٹ سکیں گی؟

خیابان تو ہے دور تک گہری ظلمت کا پاتال،

اور میں اس میں غوطہ زنی کر رہا ہوں

صداؤں کے معنی کی سینہ کشائی کی خاطر چلا ہوں!

یہ درویش،

جس کے اب وجد،

وہ صحرائے دیروز کی ریت پر

تھک کر مر جانے والے،

اس کی طرح تھے

تہی دست اور خاکِ تِیرہ میں غلطاں،

جو تسلیم کو بے نیازی بنا کر

ہمیشہ کی محرومیوں ہی کو اپنے لئے

بال و پَر جانتے تھے،

جنھیں تھی فروغِ گدائی کی خاطر

جلالِ شہی کی بقا بھی گوارا

جو لاشوں میں چلتے تھے

کہتے تھے لاشوں سے:

سوتے رہو!

صبح فردا کہیں بھی نہیں ہے!

وہ جن کے لئے حُریت کی نہایت یہی تھی

کی شاہوں کا اظہارِ شاہنشہی

حد سے بڑھنے نہ پائے!

بھلا حد کی کس کو خبر ہے؟

مگر آج کا یہ گدا،

یہ ہمیشہ کا محروم بھی

اُن اب و جد کے مانند

گو وقت کے شاطروں کی سیاست کا مارا ہوا ہے،

ستم یہ کہ اس کے لئے آج،

مُلّائے رومی کے،

مجذوبِ شیراز کے

زنگ آلود اوہام بھی

دستگیری کو حاضر نہیں ہیں!

خداوند!

کیا آج کی رات بھی

تیری پلکوں کی سنگیں چٹانیں

نہیں ہٹ سکیں گی؟

تجھے، اے زمانے کے روندے ہوئے،

آج یہ بات کہنے کی حاجت ہی کیوں ہو؟

تو خوش ہو

کہ تیرے لئے کھل گئی ہیں ہزاروں زبانیں

جو تیری زباں بن کے

شاہوں کے خوابیدہ محلوں کے چاورں طرف

شعلے بن کے لپٹتی جا رہی ہے!

سیاست نے سوچا ہے

تیری زبان بند کر دے،

سیاست کو یہ کیوں خبر ہو

کہ لب بند ہوں گے

تو کھل جائیں گے دست و بازو؟

وہ بھاری یخ آلود قدموں کی آواز

یک لخت خاموش کیوں ہو گئی ہے؟

نو آموز مشرق کے

نو خیز آئین کے تازیانو،

سکوتِ گدا سے

گدائی تو ساکت نہ ہو گی!

ن م راشد

داشتہ

میں ترے خندہ ءِ بے باک سے پہچان گیا

کہ تری روح کو کھاتا سا چلا جاتا ہے،

کھوکھلا کرتا چلا جاتا ہے، کوئی المِ زہرہ گداز

میں تو اس پہلی ملاقات میں یہ جان گیا!

آج یہ دیکھ کے حیرت نہ ہوئی

کہ تری آنکھوں سے چپ چاپ برسنے لگے اشکوں کے سحاب؛

اس پہ حیرت تو نہیں تھی، لیکن

کسی ویرانے میں سمٹے ہوئے خوابیدہ پرندے کی طرح

ایک مبہم سا خیال

دفعتاً ذہن کے گوشے میں ہوا بال فشاں:

کہ تجھے میری تمنا تو نہیں ہو سکتی

آج، لیکن مری باہوں کے سہارے کی تمنا ہے ضرور،

یہ ترے گریہ ءِ غمناک سے میں جان گیا

تجھ سے وابستگیِ شوق بھی ہے،

ہو چلی سینے میں بیدار وہ دل سوزی بھی

مجھ سے مہجورِ ازل جس پہ ہیں مجبورِ ازل!

نفسِ خود بیں کی تسلی کے لیے

وہ سہارا بھی تجھے دینے پہ آمادہ ہوں

تجھے اندوہ کی دلدل سے جو آزاد کرے

کوئی اندیشہ اگر ہے تو یہی

تیرے ان اشکوں میں اک لمحے کی نومیدی کا پرتو ہو تو کہیں،

اور جب وقت کی امواج کو ساحل مل جائے

یہ سہارا تری رسوائی کا اک اور بہانہ بن جائے!

جس طرح شہر کا وہ سب سے بڑا مردِ لئیم

جسم کی مزدِ شبانہ دے کر

بن کے رازق تری تذلیل کیے جاتا ہے

میں بھی باہوں کا سہارا دے کر____

تیری آئندہ کی توہین کا مجرم بن جاؤں!

ن م راشد

خود کشی

کرچکا ہوں آج عزمِ آخری____

شام سے پہلے ہی کر دیتا تھا میں

چاٹ کر دیوار کو نوکِ زباں سے ناتواں

صبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلند؛

رات کو جب گھر کا رخ کرتا تھا میں

تیرگی کو دیکھتا تھا سرنگوں

منہ بسورے، رہگزاروں سے لپٹتے، سوگوار

گھر پہنچتا تھا میں انسانوں سے اُکتایا ہوا

میرا عزمِ آخری یہ ہے کہ میں

کود جاؤں ساتویں منزل سے آج!

آج میں نے پا لیا ہے زندگی کو بے نقاب!

آتا جاتا تھا بڑی مدت سے میں

ایک عشوہ ساز و ہرزہ کار محبوبہ کے پاس

اُس کے تختِ خواب کے نیچے مگر

آج میں نے دیکھ پایا ہے لہو

تازہ و رخشاں لہو،

بوئے مَے میں بوئے خوں الجھی ہوئی!

وہ ابھی تک خواب گہ میں لوٹ کر آئی نہیں

اور میں کر بھی چکا ہوں اپنا عزمِ آخری!

جی میں آئی ہے لگا دوں ایک بے باکانہ جست

اس دریچے میں سے جو

جھانکتا ہے ساتویں منزل سے کوئے بام کو!

شام سے پہلے ہی کردیتا تھا میں

چاٹ کر دیوار کو نوکِ زباں سے ناتواں

صبح ہونے تک وہ ہو جاتی تھی دوبارہ بلندہ

آج تو آخر ہم آغوشِ زمیں ہو جائے گی!

ن م راشد

خود سے ہم دور نکل آئے ہیں

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی تھی

سالہا دشت نوردوں سے، جہاں گردوں سے

اپنا ہی عکسِ رواں تھی گویا

کوئی روئے گزراں تھی گویا

ایک محرومیِ دیرینہ سے شاداب تھے

آلام کے اشجار وہاں

برگ و بار اُن کا وہ پامال امیدیں جن سے

پرسیِ افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں،

کبھی ارمانوں کے آوارہ، سراسیمہ طیّور

کسی نادیدہ شکاری کی صدا سے ڈر کر

ان کی شاخوں میں اماں پاتے تھے، سستاتے تھے،

اور کبھی شوق کے ویرانوں کو اڑ جاتے تھے،

شوق، بے آب و گیاہ

شوق، ویرانہ ءِ بے آب و گیاہ،

ولولے جس میں بگولوں کی طرح ہانپتے تھے

اونگھتے ذرّوں کے تپتے ہوئے لب چومتے تھے

ہم کہ اب میں سے بہت دور نکل آئے ہیں

دور اس وادی سے اک منزلِ بے نام بھی ہے

کروٹیں لیتے ہیں جس منزل میں

عشقِ گم گشتہ کے افسانوں کے خواب

ولولوں کے وہ ہیولے ہیں جہاں

جن کی حسرت میں تھے نقّاش ملول

جن میں افکار کے کہساروں کی روحیں

سر و روبستہ ہیں،

اوّلیں نقش ہیں ارمانوں کے آوارہ پرندوں کے جہاں

خواہشوں اور آمیدوں کے جنیں!

اپنی ہی ذات کے ہم سائے ہیں

آج ہم خود سے بہت دور نکل آئے ہیں!

ن م راشد

خواب کی بستی (سانیٹ)

مرے محبوب، جانے دے، مجھے اُس پار جانے دے

اکیلا جاؤں گا اور تیر کے مانند جاؤں گا

کبھی اس ساحلِ ویران پر میں پھر نہ آؤں گا

گوارا کر خدارا اس قدر ایثار جانے دے!

نہ کر اب ساتھ جانے کے لیے اصرار جانے دے!

میں تنہا جاؤں گا، تنہا ہی تکلیفیں اٹھاؤں گا

مگر اُس پار جاؤں گا تو شاید چین پاؤں گا

نہیں مجھ میں زیادہ ہمتِ تکرار جانے دے!

مجھے اُس خواب کی بستی سے کیا آواز آتی ہے؟

مجھے اُس پار لینے کے لیے وہ کون آیا ہے؟

خدا جانے وہ اپنے ساتھ کیا پیغام لایاہے

مجھے جانے دے اب رہنے سے میری جان جاتی ہے!

مرے محبوب! میرے دوست اب جانے بھی دے مجھ کو

بس اب جانے بھی دے اس ارضِ بے آباد سے مجھ کو!

ن م راشد

خوابِ آوارہ

مجھے ذوقِ تماشا لے گیا تصویر خانوں میں

دکھائے حسن کاروں کے نقوشِ آتشیں مجھ کو

اور ان نقشوں کے محرابی خطوں میں اور رنگوں میں

نظر آیا ہمیشہ ایک رویائے حسیں مجھ کو

سرود و رقص کی خاطر ہو گیا ہوں رقص گاہوں میں

تو اہل رقص کے ہونٹوں پہ آوارہ تبسم میں

شباب و شعر سے لبریز اعضا کے ترنم میں

تھرکتے بازوؤں میں، شوق سے لرزاں نگاہوں میں

ہمیشہ جھانکتا پایا وہی خوابِ حسیں میں نے

گزارے ہیں بہت دن حافظ و خیام سے مل کر

بہت دن آسکر و وائیلڈ کی مدہوش دنیا میں

گزاری ہیں کئی راتیں تیاتر میں، سنیما میں

اسی خوابِ فسوں انگیز کی شیریں تمنا میں

بہت آوارہ رکھتا ہے یہ خوابِ سیم گوں مجھ کو

لیے پھرتا ہے ہر انبوہ میں اس کا جنوں مجھ کو

مگر یہ خواب کیوں رہتا ہے افسانوں کی دنیا میں

چھپا رہتا ہے رقص و نغمہ کے سنگیں حجابوں میں

ملا رہتا ہے نقاشوں کے بے تعبیر خوابوں میں؟

مرا جی چاہتا ہے ایک دن اس خوابِ سیمیں کو

حجابِ فن و رقص و نغمہ سے آزاد کر ڈالوں

ابھی تک یہ گریزاں ہے محبت کی نگاہوں سے

اسے اک پیکرِ انسان میں آباد کر ڈالوں!

ن م راشد

خلوت میں جلوت

حَسن، اپنا ساتھی

جو اُس رات، نوروز کے ہاں

جمالِ عجم کے طِلسمات میں بہہ گیا تھا

پھر اِک بار مستی میں جلوت کو خلوت سمجھ کر

بڑی دیر تک رُوبرُو آئنے کے

کھڑا جُھولتا مُنہ چڑاتا رہا تھا،

وہ بّلور کی بے کراں جھیل کے دیو کو گالیاں دے کر ہنستا رہا تھا،

حَسن اپنی آنکھوں میں رقت کا سیلاب لا کر

زمستان کی اس شام کی تازہ مہمان سے

اُس شہرِ آشوبِ طہراں سے

کہتا چلا جا رہا تھا :

تُو میری بہن ہے،

تُو میری بہن ہے،

اُٹھ اے میری پیاری بہن میری زہرا!

ابھی رات کے دَر پردستک پڑے گی،

تجھے اپنے کاشانہ ءِ ناز میں چھوڑ آؤں!

اور اِس پر برافروختہ تھے،

پریشان تھے سب ہم!

جونہی اُس کو جعفر نے دیکھا نگاہیں بدل کر

وہ چِلّا کے بولا:

درندو

اسے چھوڑ دو،

اِس کے ہاتھوں میں

انگشتری کا نشان تک نہیں ہے!

حَسن مردِ میداں تو تھا ہی

مگر نارسائی کا احساس

مستی کے شباب لمحوں میں اُس سے

کراتا تھا اکثر

یہ عہدِ سلاطیں کے گزرے ہُوئے

شہسواروں کے عالم کی باتیں!

مگر جب سحر گاہ اُردو میں قرنا ہوئی

اور البرز کی چوٹیوں پر بکھرنے لگی پھر شعائیں

تو آنکھیں کھُلی رہ گئیں ساتھیوں کی،

حَسن کے رُخ و دست و بازو

خراشوں سے یوں نیلگوں ہو رہے تھے

کہ جیسے وہ جِنّوں کے نرغوں میں شب بھر رہا ہو

ہم سب کو جعفر پہ شک تھا

کہ شاید اُسی نے نکالا ہو یہ اپنے بدلے کا پہلُو!

مگر جب حسن اور جعفر نے

دونوں نے

کھائیں کئی بار قسمیں

تو ناچار لب دوختہ ہو گئے ہم

وہاں اب وہ جانِ عجم بھی نہ تھی

جس سے ہم پوچھ سکتے؛

ذرا اور کاوش سے پوچھا حَسن سے

تو بے ساختہ ہنس کر کہنے لگا : بس، مجھے کیا خبر ہو؟

اگر پوچھنا ہو تو زہرا سے پُوچھو

مری رات بھر کی بہن سے!

ن م راشد

خرابے

اک تمنا تھی کہ میں

اک نیا گھر، نئی منزل کہیں آباد کروں،

کہ مرا پہلا مکاں

جس کی تعمیر میں گزرے تھے مرے سات برس

اک کھنڈر بنتا چلا جاتا تھا۔

یہ تمنا تھی کہ شوریدہ سری

خشت اور سنگ کے انبار لگاتی ہی رہے

روز و شب ذہن میں بنتے ہی رہیں

دَر و دیوار کے خوش رنگ نقوش!

مجھ کو تخیل کے صحرا میں لیے پھرتا تھا

ایک آفت زدہ دیوانے کا جوش،

لے گئے میرے قدم آخرِ کار

ایک دن اپنے نئے گھر میں مجھے

خیر مقدم کو تھیں موجود جہاں

میری گل چہرہ کنیزیں، مرے دل شاد غلام،

دیکھ کر اپنی تمناؤں کی شادابی کو

میرے اندیشے کی دہلیز سے معدوم ہوئے

میرے ماضی کے سیہ تاب، الم ناک نشاں!

یہ مگر کیا تھا؟ خیالات تھے، اوہام تھے دیوانے کے

نہ وہ گل چہرہ کنیزیں تھیں، نہ دل شاد غلام

در و دیوار کے وہ نقش، نہ دیواریں تھیں

سنگ اور خشت کے ڈھیروں پہ تھا کائی کا نزول

اور وہ ڈھیر بھی موجود نہ تھے!

کھل گئے تھے کسی آئندہ کی بیداری میں

میرے خود ساختہ خواب

میں اُسی پہلے خرابے کے کنارے تھا نگوں

جس سے شیون کی شب و روز صدا آتی ہے!

کس لیے ہے مری محرومی کی حاسد اب بھی

کسی منحوس ستارے کی غضب ناک نگاہ

اور اِدھر بندہ ءِ بدبخت کی تنہائی کا یہ رنگ___ کہ وہ

اور بھی تیرہ و غمناک ہوئی جاتی ہے!

ن م راشد

حیلہ ساز

کئی تنہا برس گزرے

کہ اس وادی میں، ان سر سبز اونچے کوہساروں میں،

اٹھا لایا تھا میں اُس کو،

نظر آتا ہے گاڑی سے وہ سینے ٹوریم اب بھی

جہاں اُس سے ہوئی تھیں آخری باتیں:

تجھے اے جان، میرے بے وفائی کا ہے غم اب بھی؟

محبت اُس بھکارن سے؟

وہ بے شک خوبصورت تھی،

مگر اُس سے محبت، آہ نا ممکن!

محبت گوشت کے اُس کہنہ و فرسودہ پیکر سے؟

ہوسناکی؟

میں اک بوسے کا مجرم ہوں

فقط اک تجربہ منظور تھا مجھ کو

کہ آیا مفلسی کتنا گرا دیتی ہے انساں کو!

نہ آیا اعتماد اُس کو مری اس حیلہ سازی پر،

بس اپنی ناتواں، دلدوز آنکھوں سے

پہاڑوں اور اُن تندور سر افروختہ ؟؟؟ کو وہ تکتی رہی پیہم:

یہ دیکھو ایک اونچے پیڑ کا ٹہنا

پہاڑی میں بنا لی اس نے اپنی راہ یوں جیسے

چٹان اس کے لیے کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی!

زمانے بھر پہ تاریکی سی چھائی ہے

مگر وہ یاد کے روزن سے آتی ہے نظر اب بھی

مجھے بھولی نہیں وہ بے بسی اُس کی نگاہوں کی

اور اُس کی آخری باتیں ہیں یاد اب تک!

مگر میں اس لیے تازہ افق کی جستجو میں ہوں

کہ اُس کی یاد تک روپوش ہو جائے؟

ن م راشد

حَسَن کوزہ گر ۔ ۴

جہاں زاد، کیسے ہزاروں برس بعد

اِک شہرِ مدفون کی ہر گلی میں

مرے جام و مینا و گُلداں کے ریزے ملے ہیں

کہ جیسے وہ اِس شہرِ برباد کا حافظہ ہوں!

(حَسَن نام کا اِک جواں کوزہ گر ۔۔۔ اِک نئے شہر میں ۔۔۔۔

اپنے کوزے بناتا ہوا، عشق کرتا ہوا

اپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہے

ہمیں میں (کہ جیسے ہمیں ہوں) سمویا گیا ہے

کہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سے،

(ہزاروں برس رینگتی رات بھر)

اِک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریں

بناتے رہے ہیں،

اور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلے

یہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گر

ایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیں! )

جہاں زاد ۔۔۔۔۔۔

یہ کیسا کہنہ پرستوں کا انبوہ

کوزوں کی لاشوں میں اُترا ہے

دیکھو!

یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں

کبھی جام و مینا کی لِم تک نہ پہنچیں

یہی آج اس رنگ و روغن کی مخلوقِ بے جاں

کو پھر سے اُلٹنے پلٹنے لگے ہیں

یہ اِن کے تلے غم کی چنگاریاں پا سکیں گے

جو تاریخ کو کھا گئی تھیں؟

وہ طوفان، وہ آندھیاں پا سکیں گے

جو ہر چیخ کو کھا گئی تھیں؟

انہیں کیا خبر کِس دھنک سے مرے رنگ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مرے اور اِس نوجواں کُوزہ گر کے؟)

انہیں کیا خبر کون سی تتلیوں کے پروں سے؟

انہیں کیا خبر کون سے حُسن سے؟

کون سی ذات سے، کس خد و خال سے

میں نے کُوزوں کے چہرے اُتارے؟

یہ سب لوگ اپنے اسیروں میں ہیں

زمانہ، جہاں زاد، افسوں زدہ برج ہے

اور یہ لوگ اُس کے اسیروں میں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

جواں کوزہ گر ہنس رہا ہے!

یہ معصوم وحشی کہ اپنے ہی قامت سے ژولیدہ دامن

ہیں جویا کسی عظمتِ نارسا کے ۔۔۔۔۔۔۔

انہیں کیا خبر کیسا آسیبِ مبرم مرے غار سینے پہ تھا

جس نے مجھ سے (اور اِس کوزہ گر سے) کہا:

اے حَسَن کوزہ گر، جاگ

دردِ رسالت کا روزِ بشارت ترے جام و مینا

کی تشنہ لبی تک پہنچنے لگا ہے!

یہی وہ ندا، جس کے پیچھے حَسَن نام کا

یہ جواں کوزہ گر بھی

پیا پے رواں ہے زماں سے زماں تک،

خزاں سے خزاں تک!

جہاں زاد میں نے ۔۔۔۔۔ حَسَن کوزہ گر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔

بیاباں بیاباں یہ دردِ رسالت سہا ہے

ہزاروں برس بعد یہ لوگ

ریزوں کو چُنتے ہوئے

جان سکتے ہیں کیسے

کہ میرے گِل و خاک کے رنگ و روغن

ترے نازک اعضا کے رنگوں سے مل کر

ابد کی صدا بن گئے تھے؟

میں اپنے مساموں سے، ہر پور سے،

تیری بانہوں کی پنائیاں

جذب کرتا رہا تھا

کہ ہر آنے والے کی آنکھوں کے معبد پہ جا کر چڑھاؤں ۔۔۔۔۔

یہ ریزوں کی تہذیب پا لیں تو پا لیں

حَسَن کوزہ گر کو کہاں لا سکیں گے؟

یہ اُس کے پسینے کے قطرے کہاں گن سکیں گے؟

یہ فن کی تجلی کا سایہ کہاں پا سکیں گے؟

جو بڑھتا گیا ہے زماں سے زماں تک

خزاں سے خزاں تک

جو ہر نوجواں کُوزہ گر کی نئی ذات میں

اور بڑھتا چلا جا رہا ہے!

وہ فن کی تجلی کا سایہ کہ جس کی بدولت

ہمہ عشق ہیں ہم

ہمہ کوُزہ گر ہم

ہمہ تن خبر ہم

خُدا کی طرح اپنے فن کے خُدا سر بسر ہم!

(آرزوئیں کبھی پایاب تو سَریاب کبھی،

تیرنے لگتے ہیں بے ہوشی کی آنکھوں میں کئی چہرے

جو دیکھے بھی نہ ہوں

کبھی دیکھے ہوں کسی نے تو سراغ اُن کا

کہاں سے پائے؟

کِس سے ایفا ہوئے اندوہ کے آداب کبھی

آرزوئیں کبھی پایاب تو سَریاب کبھی!)

یہ کوزوں کے لاشے، جو اِن کے لئے ہیں

کسی داستانِ فنا کے وغیرہ وغیرہ

ہماری اذاں ہیں، ہماری طلب کا نشاں ہیں

یہ اپنے سکوتِ اجل میں بھی یہ کہہ رہے ہیں:

وہ آنکھیں ہمیں ہیں جو اندر کھُلی ہیں

تمہیں دیکھتی ہیں، ہر ایک درد کو بھانپتی ہیں

ہر اِک حُسن کے راز کو جانتی ہیں

کہ ہم ایک سنسان حجرے کی اُس رات کی آرزو ہیں

جہاں ایک چہرہ، درختوں کی شاخوں کے مانند

اِک اور چہرے پہ جھُک کر، ہر انسان کے سینے میں

اِک برگِ گُل رکھ گیا تھا

اُسی شب کا دزدیدہ بوسہ ہمیں ہیں

ن م راشد

حَسَن کوزہ گر ۔ ۳

جہاں زاد،

وہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوت

جس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے

محیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زن

تمام رات تیرتے رہے تھے ہم

ہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کے

تیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سے

کہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہے

ہم ایک دوسرے سے مطمئن زوالِ عمر کے خلاف

تیَرتے رہے

تو کہہ اٹھی؛ “حَسَن یہاں بھی کھینچ لائی

جاں کی تشنگی تجھے!“

(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا مَیں

کہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوں

سے شاد کام ہو گیا!)

مگر یہ وہم دل میں تَیرنے لگا کہ ہو نہ ہو

مرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیاِ__

نہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیں

کہ اب بھی ربطِ جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھے

یہی وہ اعتبار تھا

کہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیاِ__

مَیں سب سے پہلے “آپ“ ہُوں

اگر ہمیں ہوںِ__ تُو ہو او مَیں ہوںِ__ پھر بھی مَیں

ہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!

اگر مَیں زندہ ہوں تو کیسے “آپ“ سے دغا کروں؟

کہ تیری جیسی عورتیں، جہاں زاد،

ایسی الجھنیں ہیں

جن کو آج تک کوئی نہیں “سلجھ“ سکا

جو مَیں کہوں کہ مَیں “سلجھ“ سکا تو سر بسر

فریب اپنے آپ سے!

کہ عورتوں کی وہ ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پر

جواب جس کا ہم نہیںِ___

(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکر

تیرے لب پہ تھاِ___

وہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہا

لبوں کو نوچتا رہا

جو مَیں کبھی نہ کر سکا

نہیں یہ سچ ہےِ___میں ہوں یا لبیب ہو

رقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاطِ ناب کا

جو صدا نوا و یک نوا خرامِ صبح کی طرح

لبیب ہر نوائے سازگار کی نفی سہی!)

مگر ہمارا رابطہ وصالِ آب و گِل نہیں، نہ تھا کبھی

وجودِ آدمی سے آب و گِل سدا بروں رہے

نہ ہر وصالِ آب و گِل سے کوئی جام یا سبو ہی نہ بن سکا

جو اِن کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!

جہاں زاد،

ایک تو اور ایک وہ اور ایک مَیں

یہ تین زاویے کسی مثلثِ قدیم کے

ہمیشہ گھومتے رہے

کہ جیسے میرا چاک گھومتا رہا

مگر نہ اپنے آپ کا کوئی سراغ پا سکےِ___

مثلثِ قدیم کو مَیں توڑ دوں، جو تو کہے، مگر نہیں

جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اِس مثلثِ قدیم کا

نگاہیں میرے چاک کی جو مجھ کو دیکھتی ہیں

گھومتے ہوئے

سبو و جام پر ترا بدن، ترا ہی رنگ، تیری نازکی

برس پڑی

وہ کیمیا گری ترے جمال کی برس پڑی

مَیں سَیلِ نُورِ اندروں سے دھُل گیا!

مرے دروں کی خلق یوں گلی گلی نکل پڑی

کہ جیسے صبح کی اذاں سنائی دی!

تمام کوزے بنتے بنتے “تُو“ ہی بن کے رہ گئے

نشاط اِس وصالِ رہ گزر کی ناگہاں مجھے نگل گئیِ__

یہی پیالہ و صراحی و سبو کا مرحلہ ہے وہ

کہ جب خمیرِ آب و گِل سے وہ جدا ہوئے

تو اُن کو سمتِ راہِ نَو کی کامرانیاں ملیںِ___

(مَیں ایک غریب کوزہ گر

یہ انتہائے معرفت

یہ ہر پیالہ و صراحی و سبو کی انتہائے معرفت

مجھے ہو اس کی کیا خبرِ؟)

جہاں زاد،

انتظار آج بھی مجھے ہی کیوں وہی مگر

جو نو برس کے دورِ نا سزا میں تھا؟

اب انتظار آنسوؤں کے دجلہ کا

نہ گمرہی کی رات کا

(شبِ گُنہ کی لذّتوں کا اتنا ذکر کر چکا

وہ خود گناہ بن گئیں!)

حلب کی کارواں سرا کے حوض کا، نہ موت کا

نہ اپنی اس شکست خوردہ ذات کا

اِک انتظارِ بے زماں کا تار ہے بندھا ہوا!

کبھی جو چند ثانیے زمانِ بے زماں میں آکے رک گئے

تو وقت کا یہ بار میرے سر سے بھی اُتر گیا

تمام رفتہ و گزشتہ صورتوں، تمام حادثوں

کے سست قافلے

مِرے دروں میں جاگ اُٹھے

مرے دروں میں اِک جہانِ بازیافتہ کی ریل پیل جاگ اُٹھی

بہشت جیسے جاگ آُٹھے خدا کے لا شعور میں!

مَیں جاگ اٹھا غنودگی کی ریت پر پڑا ہُوا

غنودگی کی ریت پر پڑے ہوئے وہ کوزے جو

___مرے وجود سے بروں____

تمام ریزہ ریزہ ہو کے رہ گئے تھے

میرے اپنے آپ سے فراق میں،

وہ پھر سے ایک کُل بنے (کسی نوائے ساز گار کی طرح)

وہ پھر سے ایک رقصِ بے زماں بنے

وہ روئتِ ازل بنے!

ن م راشد

حَسَن کوزہ گر ۔ ۲

اے جہاں زاد،

نشاط اس شبِ بے راہ روی کی

میں کہاں تک بھولوں؟

زورِ مَے تھا، کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی

کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیاِ____

تجھے حیرت نہ ہوئی!

کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئ شیشوں پر

اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہتِ_

تجھے حیرت نہ ہوئی!

اے جہاں زاد،

میں کوزوں کی طرف، اپنے تغاروں کی طرف

اب جو بغداد سے لوٹا ہوں،

تو مَیں سوچتا ہوںِ____

سوچتا ہوں: تو مرے سامنے آئینہ رہی

سرِ بازار، دریچے میں، سرِبسترِ سنجاب کبھی

تو مرے سامنے آئینہ رہی،

جس میں کچھ بھی نظر آیا نہ مجھے

اپنی ہی صورت کے سوا

اپنی تنہائیِ جانکاہ کی دہشت کے سوا!

لکھ رہا ہوں تجھے خط

اور وہ آئینہ مرے ہاتھ میں ہے

اِس میں کچھ بھی نظر آتا نہیں

اب ایک ہی صورت کے سوا!

لکھ رہا ہوں تجھے خط

اور مجھے لکھنا بھی کہاں آتا ہے؟

لوح آئینہ پہ اشکوں کی پھواروں ہی سے

خط کیوں نہ لکھوں؟

اے جہاں زاد،

نشاط اس شبِ بے راہ روی کی

مجھے پھر لائے گی؟

وقت کیا چیز ہے تو جانتی ہے؟

وقت اِک ایسا پتنگا ہے

جو دیواروں پہ آئینوں پہ،

پیمانوں پہ شیشوں پہ،

مرے جام و سبو، میرے تغاروں پہ

سدا رینگتا ہے

رینگتے وقت کے مانند کبھی

لوٹ آئے گا حَسَن کوزہ گرِ سوختہ جاں بھی شاید!

اب جو لوٹا ہوں جہاں زاد،

تو میں سوچتا ہوں:

شاید اس جھونپڑے کی چھت پہ یہ مکڑی مری محرومی کی___

جسے تنتی چلی جاتی ہے، وہ جالا تو نہیں ہوں مَیں بھی؟

یہ سیہ جھونپڑا مَیں جس میں پڑا سوچتا ہوں

میرے افلاس کے روندے ہوئے اجداد کی

بس ایک نشانی ہے یہی

ان کے فن، ان کی معیشت کی کہانی ہے یہی

مَیں جو لوٹا ہوں تو وہ سوختہ بخت

آکے مجھے دیکھتی ہے

دیر تک دیکھتی رہ جاتی ہے

میرے اس جھونپڑے میں کچھ بھی نہیںِ___

کھیل اِک سادہ محبّت کا

شب و روز کے اِس بڑھتے ہوئے کھوکلے پن میں جو کبھی

کھیلتے ہیں

کبھی رو لیتے ہیں مل کر، کبھی گا لیتے ہیں،

اور مل کر کبھی ہنس لیتے ہیں

دل کے جینے کے بہانے کے سواِ__

حرف سرحد ہیں، جہاں زاد، معانی سرحد

عشق سرحد ہے، جوانی سرحد

اشک سرحد ہیں، تبسّم کی روانی سرحد

دل کے جینے کے بہانے کے سوا اور نہیںِ___

(دردِ محرومی کی،

تنہائی کی سرحد بھی کہیں ہے کہ نہیں؟)

میرے اِس جھونپڑے میں کتنی ہی خوشبوئیں ہیں

جو مرے گرد سدا رینگتی ہیں

اسی اِک رات کی خوشبو کی طرح رینگتی ہیںِ___

در و دیوار سے لپٹی ہوئی اِس گرد کی خوشبو بھی ہے

میرے افلاس کی، تنہائی کی،

یادوں، تمنّاؤں کی خوشبو ئیں بھی،

پھر بھی اِس جھونپڑے میں کچھ بھی نہیںِ__

یہ مرا جھونپڑا تاریک ہے، گندہ ہے، پراگندہ ہے

ہاں، کبھی دور درختوں سے پرندوں کے صدا آتی ہے

کبھی انجیروں کے، زیتونوں کے باغوں کی مہک آتی ہے

تو مَیں جی اٹھتا ہوں

تو مَیں کہتا ہوں کہ لو آج نہا کر نکلا!

ورنہ اِس گھر میں کوئی سیج نہیں، عطر نہیں ہے،

کوئی پنکھا بھی نہیں،

تجھے جس عشق کی خو ہے

مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں!

تو ہنسے گی، اے جہاں زاد، عجب بات

کہ جذبات کا حاتم بھی مَیں

اور اشیا کا پرستار بھی مَیں

اور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی مَیں!

تو جو ہنستی رہی اس رات تذبذب پہ مرے

میری دو رنگی پہ پھر سے ہنس دے!

عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟

اے جہاں زاد،

ہے ہر عشق سوال ایسا کہ عاشق کے سوا

اس کا نہیں کوئی جواب

یہی کافی ہے کہ باطن کے صدا گونج اٹھے!

اے جہاں زاد

مرے گوشہء باطن کی صدا ہی تھی

مرے فن کی ٹھٹھرتی ہوئی صدیوں

کے کنارے گونجی

تیری آنکھوں کے سمندر کا کنارا ہی تھا

صدیوں کا کنارا نکلا

یہ سمندر جو مری ذات کا آئینہ ہے

یہ سمندر جو مرے کوزوں کے بگڑے ہوئے،

بنتے ہوئے سیماؤں کا آئینہ ہے

یہ سمندر جو ہر اِک فن کا

ہر اِک فن کے پرستار کا

آئینہ ہے

ن م راشد

حَسَن کوزہ گر ۔ ۱

جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے

یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!

تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف

کی دکّان پر میں نے دیکھا

تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی

تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں

جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!

یہ وہ دور تھا جس میں میں نے

کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب

پلٹ کر نہ دیکھا

وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے

گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں

وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے

حسن کوزہ گر اب کہاں ھے

وہ ہم سے خود اپنے عمل سے

خداوند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!

جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا

کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے

تغاروں میں مٹی

کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میں

سنگ بستہ پڑی تھی

صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں

مری ہیچ مایہ معیشت کے، اظہار فن کے سہارے

شکستہ پڑے تھے

میں خود، میں حسن کوزہ گر پا بہ گِل خاک بر سر برہنہ

سر چاک ژولیدہ مو، سر بزانو

کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے

گل و لا سے خوابوں کے سیّال کوزے بناتا رہا تھا

جہاں زاد، نو سال پہلے

تو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی

کہ میں نے، حسن کوزہ گر نے

تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں

میں دیکھی ھے وہ تابناکی

کہ جس سے مرے جسم و جاں، ابرو مہتاب کا

رہگزر بن گئے تھے

جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات

وہ رود دجلہ کا ساحل

وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں

کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے

ایک ہی رات وہ کہربا تھی

کہ جس سے ابھی تک ھے پیوست اسکا وجود

اس کی جاں اس کا پیکر

مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا

حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!

جہاں زاد اس دور میں روز، ہر روز

وہ سوختہ بخت آکر

مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گِل سر بزانو

تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی

(وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)

وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی

حسن کوزہ گر ہوش میں آ

حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر

یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے

حسن، اے محبّت کے مارے

محبّت امیروں کی بازی،

حسن، اپنے دیوار و در پر نظر کر

مرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسے

کسی ڈوبتے شخص کو زیرگرداب کوئی پکارے!

وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاں

مگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے ان

خرابوں کا مجذوب تھا جن

میں کوئی صدا کوئی جنبش

کسی مرغ پرّاں کا سایہ

کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!

جہاں زاد، میں آج تیری گلی میں

یہاں رات کی سرد گوں تیرگی میں

ترے در کے آگے کھڑا ہوں

سرد مو پریشاں

دریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاہیں

مجھے آج پھر جھانکتی ہیں

زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہے جس پہ مینا و جام و سبو

اور فانوس و گلداں

کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں

میں انساں ہوں لیکن

یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!

حسن کوزہ گر آج اک تودہِخاک ہے جس

میں نم کا اثر تک نہیں ہے

جہاں زاد بازار میں صبح عطّار یوسف

کی دکّان پر تیری آنکھیں

پھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیں

ان آنکھوں کی تابندہ شوخی

سے اٹھی ہے پھر تودہ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزش

یہی شاید اس خاک کو گِل بنا دے!

تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ھے جہاں زاد لیکن

تو چاھے تو بن جاؤں میں پھر

وہی کوزہ گر جس کے کوزے

تھے ھر کاخ و کو اور ہر شہر و قریہ کی نازش

تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں

تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن

تو چاھے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب

گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب

معیشت کے اظہارِ فن کے سہاروں کی جانب

کہ میں اس گل و لا سے ، اس رنگ و روغن

سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے

دلوں کے خرابے ھوں روشن!

ن م راشد

حزنِ انسان (افلاطونی عشق پر ایک طنز)

جسم اور روح میں آہنگ نہیں،

لذت اندوز دلآویزیِ موہوم ہے تو

خستہ ءِ کشمکشِ فکر و عمل!

تجھ کو ہے حسرتِ اظہارِ شباب

اور اظہار سے معذور بھی ہے

جسم نیکی کے خیالات سے مفرور بھی ہے

اس قدر سادہ و معصوم ہے تو

پھر بھی نیکی ہی کیے جاتی ہے

کہ دل و جسم کے آہنگ سے محروم ہے تُو

جسم ہے روح کی عظمت کے لیے زینہ ءِ نُور

منبعِ کیف و سرور!

نارسا آج بھی ہے شوقِ پرستارِ جمال

اور انساں ہے کہ ہے جادہ کشِ راہِ طویل

(روحِ یونان پہ سلام!)

اِک زمستاں کی حسیں رات کا ہنگامِ تپاک

اُس کی لذّات سے آگاہ ہے کون؟

عشق ہے تیرے لیے نغمہ ءِ خام

کہ دل و جسم کے آہنگ سے محروم ہے تُو!

جسم اور روح کے آہنگ سے محروم ہے تُو!

ورنہ شب ہائے زمستاں ابھی بے کار نہیں

اور نہ بے سود ہیں ایامِ بہار!

آہ انساں کہ ہے وہموں کا پرستار ابھی

حسن بے چارے کو دھوکا سا دیے جاتا ہے

ذوقِ تقدیس پہ مجبور کیے جاتا ہے!

ٹوٹ جائیں گے کسی روز مزامیر کے تار

مسکرا دے کہ ہے تابندہ ابھی تیرا شباب

ہے یہی حضرتِ یزداں کے تمسخر کا جواب!

ن م راشد

حرفِ ناگفتہ

حرفِ ناگفتہ کے آزار سے ہشیار رہو

کوئے و برزن کو،

دروبام کو،

شعلوں کی زباں چاٹتی ہو،

وہ دہن بستہ و لب دوختہ ہو

ایسے گنہ گار سے ہشیار رہو!

شحنہء شہر ہو، یا بندہء سلطاں ہو

اگر تم سے کہے: لب نہ ہلاؤ

لب ہلاؤ، نہیں، لب ہی نہ ہلاؤ

دست و بازو بھی ہلاؤ،

دست و بازو کو زبان و لبِ گفتار بناؤ

ایسا کہرام مچاؤ کہ سدا یاد رہے،

اہلِ دربار کے اطوار سے ہشیار رہو!

اِن کے لمحات کے آفاق نہیں –

حرفِ ناگفتہ سے جو لحظہ گزر جائے

شبِ وقت کا پایاں ہے وہی!

ہائے وہ زہر جو صدیوں کے رگ و پے میں سما جائے

کہ جس کا کوئی تریاق نہیں!

آج اِس زہر کے بڑھتے ہوئے

آثار سے ہشیار رہو

حرفِ ناگفتہ کے آزار سے ہشیار رہو!

ن م راشد

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سے

کئ لذّتوں کا ستم لئے

جو سمندروں کے فسوں میں ہیں

مرا ذہن ہے وہ صنم لیے

وہی ریگ زار ہے سامنے

وہی ریگ زار کہ جس میں عشق کے آئینے

کسی دست غیب سے ٹوٹ کر

رہ تار جاں میں بکھر گئے!

ابھی آ رہا ہوں سمندروں کی مہک لیے

وہ تھپک لیے جو سمندروں کی نسیم میں

ہے ہزار رنگ سے خواب ہائے خنک لیے

چلا آرہا ہوں سمندروں کا نمک لیے

یہ برہنگی عظیم تیری دکھاؤں میں

(جو گدا گری کا بہانہ ہے)

کوئی راہرو ہو تو اس سے راہ کی داستاں

میں سنوں، فسانہ سمندروں کا سناؤں میں

(کہ سمندروں کا فسانہ عشق کی گسترش کا فسانہ ہے)

یہ برہنگی جسے دیکھ کر بڑہیں دست و پا، نہ کھلے زباں

نہ خیال ہی میں رہے تواں

تو وہ ریگ زار کہ جیسے رہزن پیر ہو

جسے تاب راہزنی نہ ہو

کہ مثال طائر نیم جاں

جسے یاد بال و پری نہ ہو

کسی راہرو سے امّید رحم و کرم لیے

میں بھرا ہوا ہوں سمندروں کے جلال سے

چلا آرہا ہوں میں ساحلوں کا حشم لیے

ھے ابھی انہی کی طرف مرا درِدل کھلا

کہ نسیم خندہ کو رہ ملے

مری تیرگی کو نگہ ملے

وہ سرور و سوز صدف ابھی مجھے یاد ہے

ابھی چاٹتی ہے سمندروں کی زباں مجھے

مرے پاؤں چھو کے نکل گئ کوئی موج ساز بکف ابھی

وہ حلاوتیں مرے ہست و بود میں بھر گئ

وہ جزیرے جن کے افق ہجوم سحر سے دید بہار تھے

وہ پرندے اپنی طلب میں جو سر کار تھے

وہ پرندے جن کی صفیر میں تھیں رسالتیں

ابھی اس صفیر کی جلوتیں مرے خوں میں ہیں

ابھی ذہن ہے وہ صنم لیے

جو سمندروں کے فسوں میں ہے

چلا آ رھا ہوں سمندروں کے جمال سے

صدف و کنار کا غم لیے

ن م راشد

جہاں ابھی رات ہے ۔۔

جہاں ابھی رات ہے، ہوا کے سوا

کوئی زندہ تو نہیں ہے

ابھی ہَوا ساحلوں کے بے تاب ہمہموں سے

گزر کے اپنی طلب کے سونے

چہار راہوں میں رک گئی ہے ۔۔

اگر وہ چاہے،

تو دُودِ ماضی کے بام و دیوار پھاند جائے

(وہ دست و پا کے پرانے زخموں

کی ریزشِ خوں سے ڈر رہی ہے)

ہوا کشوں کی نگہ سے بچ کر

اگر وہ چاہے،

غموں کی بے صرفہ کھڑکیوں کے

سیاہ شیشوں کو توڑ ڈالے

دلوں کی افسردہ جلوتوں کا سراغ پا لے

(وہ ناتوانوں کے زورِ بازو کے

رازِ پنہاں سے کانپتی ہے)

اگر وہ چاہے،

شگافِ در سے

(جو رات بھر سے

ہماری بے التفاتیوں سے

کھلے رہے ہیں)

ہمارے صحنوں کو روند ڈالے

ہمارے صحنوں کے چار گوشوں میں پھیل جائے

(مگر وہ ہر صحن کی اداسی کو بھانپتی ہے)

جہاں ابھی رات ہے، وہاں ہم ۔۔

وہا ں ابھی لوگ

بہتے پانی کو بوڑھے دانتوں سے کاٹتے ہیں

اور ایسے روتے ہیں خواب میں

جیسے ایک بے جان جسد سے لگ کے

وہ سو رہے ہوں!

ہوا کو اس کی خبر نہیں ہے

ہوا کا ان ہول کے پلوں پر

گزر نہیں ہے!

جہاں ابھی رات ہے، وہاں ہم ۔۔

وہاں ابھی لوگ

آرزؤں کے نرد بانوں پہ چل رہے ہیں

قدم قدم پر پھسل رہے ہیں

کہ جیسے صحرا سمندروں میں پھسل رہا ہو!

جہاں ابھی رات ہے

ہوا کے سوا کوئی پردہ در نہیں ہے ۔۔

مگر ہوا جب طلب کی راہوں کو چھوڑ کر پھر

ہمارے دیوار و در پہ جھپٹی

ہمیں پھر اپنی برہنگی کا یقین ہو گا

اور اپنے جسموں کے چاک ہم

رات کی سیاہی میں دیکھتے ہی

بہت ہنسیں گے!

ن م راشد

جرأتِ پرواز

بجھ گئی شمع ضیا پوشِ جوانی میری!

آج تک کی ہے کئی بار محبت میں نے

اشکوں اور آہوں سے لبریز ہیں رومان مرے

ہو گئی ختم کہانی میری!

مٹ گئے میری تمناؤں کے پروانے بھی

خوفِ ناکامی و رسوائی سے

حسن کے شیوہ ءِ خود رائی سے

دلِ بے چارہ کی مجبوری و تنہائی سے!

میرے سینے ہی میں پیچاں رہیں آہیں میری

کر سکیں روح کو عریاں نہ نگاہیں میری!

ایک بار اور محبت کر لوں

سعیِ ناکام سہی

اور اک زہر بھرا جام سہی

میرا یا میری تمناؤں کا انجام سہی

ایک سودا ہی سہی، آرزوئے خام سہی

ایک بار اور محبت کر لوں؟

ایک انسان سے الفت کر لوں؟

میرے ترکش میں ہے اک تیر ابھی

مجھ کو ہے جرأتِ تدبیر ابھی

بر سرِ جنگ ہے تقدیر ابھی

اور تقدیر پہ پھیلانے کو اک دام سہی؟

مجھ کو اک بار وہی کوہ کنی کرنے دو

اور وہی کاہ بر آوردن بھی___؟

یا تو جی اٹھوں گا اس جرأتِ پرواز سے میں

اور کر دے گی وفا زندہ ءِ جاوید مجھے

خود بتا دے گی رہِ جادہ ءِ امید مجھے

رفعتِ منزلِ ناہید مجھے

یا اُتر جاؤں گا میں یاس کے ویرانوں میں

اور تباہی کے نہاں خانوں میں

تاکہ ہو جائے مہیا آخر

آخری حدِ تنزل ہی کی ایک دید مجھے

جس جگہ تیرگیاں خواب میں ہیں

اور جہاں سوتے ہیں اہریمن بھی

تاکہ ہو جاؤں اسی طرح شناسا آخر

نور کی منزلِ آغاز سے میں

اپنی اس جرأتِ پرواز سے میں

ن م راشد

تمنّا کے تار

۔۔۔ تمنّا کے ژولیدہ تار،

گرہ در گرہ ہیں تمنّا کے نادیدہ تار

۔۔۔ ستاروں سے اترے ہیں کچھ لوگ رات

وہ کہتے ہیں:

’’اپنی تمنّا کے ژولیدہ تاروں کو سلجھاؤ،

سلجھاؤ اپنی تمنا کے ژولیدہ تار،

ستاروں کی کرنوں کے مانند سلجھاؤ

مبادہ ستاروں سے برسیں وہ تیر

کہ رہ جائے باقی تمنّا نہ تار!‘‘

۔۔۔ تمنّا کے ژولیدہ تار ۔۔۔

ستاروں سے اترے ہوئے راہگیر،

کہ ہے نور ہی نور جن کا خمیر،

تمنّا سے واقف نہیں ۔۔ نہ اُن پر عیاں

تمنّا کے تاروں کی ژولیدگی ہی کا راز!

تمنّا ہمارے جہاں کی، جہانِ فنا کی متاعِ عزیز

مگر یہ ستاروں سے اترے ہوئے لوگ

سر رشتہ ءِ ناگزیرِ ابد میں اسیر!

۔۔۔ ہم اُن سے یہ کہتے ہیں:

’’اے اہلِ مرّیخ ۔۔۔‘‘

(جانے وہ کن کن ستاروں سے ہیں!)

ادب سے خوشامد سے کہتے ہیں:

’’اے محترم اہلِ مرّیخ،

کیا تم نہیں دیکھتے ان تمنّا کے ژولیدہ تاروں کے رنگ؟‘‘

مگر ان کو شاید کہ رنگوں سے رغبت نہیں

کہ رنگوں کی اُن کو فراست نہیں!

ہے رنگوں کے بارے میں ان کا خیال اور ۔۔۔

اُن کا فراق و وصال اور ۔۔۔

اُن کے مہ و سال اور ۔۔۔۔

۔۔۔ بڑی سادگی سے یہ کہتے ہیں ہم:

’’محترم اہلِ مرّیخ، دیکھے نہیں

کبھی تم نے ژولیدہ باہوں کے رنگ؟

محبت میں سر خوش نگاہوں کے رنگ؟

گناہوں کے رنگ؟ ۔۔۔۔‘‘

ن م راشد

تماشا گہہِ لالہ زار

تماشا گہہِ لالہ زار،

’’تیاتر‘‘ پہ میری نگاہیں جمی تھیں

مرے کان ’’موزیک‘‘ کے زیر و بم پر لگے تھے،

مگر میرا دل پھر بھی کرتا رہا تھا

عرب اور عجم کے غموں کا شمار

تماشا گہہِ لالہ زار!

تماشا گہہِ لالہ زار،

اب ایراں کہاں ہے؟

یہ عشقی کا شہکار۔۔ ’’ایران کی رستخیز!‘‘

اب ایراں ہے اک نوحہ گر پیرِ زال

ہے مدت سے افسردہ جس کا جمال،

مدائن کی ویرانیوں پر عجم اشک ریز،

وہ نوشیرواں اور زردشت اور دار یوش،

وہ فرہاد شیریں، وہ کیخسرو و کیقباد

ہم اک داستاں ہیں وہ کردار تھے داستاں کے!

ہم اک کارواں ہیں وہ سالار تھے کارواں کے!

تہہِ خاک جن کے مزار

تماشا گہہِ لالہ زار!

تماشا گہہِ لالہ زار،

مگر نوحہ خوانی کی یہ سر گرانی کہاں تک؟

کہ منزل ہے دشوار غم سے غمِ جاوداں تک!

وہ سب تھے کشادہ دل و ہوش مند و پرستارِ ربِّ کریم

وہ سب خیر کے راہ داں، رہ شناس

ہمیں آج محسن کُش و نا سپاس!

وہ شاہنشہانِ عظیم

وہ پندارِ رفتہ کا جاہ و جلالِ قدیم

ہماری ہزیمت کے سب بے بہا تار و پو تھے،

فنا ان کی تقدیر، ہم اُن کی تقدیر کے نوحہ گر ہیں،

اسی کی تمنّا میں پھر سوگوار

تماشا گہہِ لالہ زار!

تماشا گہہِ لالہ زار،

عروسِ جواں سالِ فردا، حجابوں میں مستور

گرسنہ نگہ، زود کاروں سے رنجور

مگر اب ہمارے نئے خواب کابوسِ ماضی نہیں ہیں،

ہمارے نئے خواب ہیں، آدمِ نو کے خواب

جہانِ تگ و دو کے خواب!

جہانِ تگ و دو، مدائن نہیں،

کاخِ فغفور و کسریٰ نہیں

یہ اُس آدمِ نو کا ماویٰ نہیں

نئی بستیاں اور نئے شہر یار

تماشا گہہِ لالہ زار!

ن م راشد

تعارف

اجل، ان سے مل،

کہ یہ سادہ دل

نہ اہلِ صلوٰۃ اور نہ اہلِ شراب،

نہ اہلِ ادب اور نہ اہلِ حساب،

نہ اہلِ کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ اہلِ کتاب اور نہ اہلِ مشین

نہ اہلِ خلا اور نہ اہلِ زمین

فقط بے یقین

اجل، ان سے مت کر حجاب

اجل، ان سے مل!

بڑھو تُم بھی آگے بڑھو،

اجل سے ملو،

بڑھو، نو تونگر گداؤ

نہ کشکولِ دریوزہ گردی چھپاؤ

تمہیں زندگی سے کوئی ربط باقی نہیں

اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنساؤ!

بڑھو، بندگانِ زمانہ بڑھو بندگانِ درم

اجل، یہ سب انسان منفی ہیں،

منفی زیادہ ہیں، انسان کم

ہو اِن پر نگاہِ کرم!

ن م راشد

تصوّف

ہم تصوّف کے خرابوں کے مکیں

وقت کے طولِ المناک کے پروردہ ہیں

ایک تاریک ازل، نورِ ابد سے خالی!

ہم جو صدیوں سے چلے ہیں

تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایا

اپنی دن رات کی پاکوبی کا حاصل پایا

ہم تصوّف کے نہاں خانوں میں بسنے والے

اپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والے

ہم سمجھتے ہیں نشانِ سرِ منزل پایا

ن م راشد

تسلسل کے صحرا میں

تسلسل کے صحرا میں ریگ و ہوا، پاؤں کی چاپ

سمت و صدا

تغیر کا تنہا نشاں؛

تسلسل کے صحرائے جاں سوختہ میں

صدائیں بدلتے مہ و سال

ہوائیں گزرتے خدوخال

تنہا نشانِ فراق و وصال

تسلسل کے صحرا میں

اک ریت ٹیلے کی آہستہ آہستہ ریزش

کسی گھاس کے نامکمل جزیرے میں اک جاں بلب

طائرِ شب کی لرزش

کسی راہ بھٹکے عرب کی سحر گاہ حمد و ثنا

تسلسل کے بے اعتنا رات دن میں تغیر کا

تنہا نشاں۔۔۔ محبت کا تنہا نشاں!

صبا ہو کہ صرصر کہ بادِ نسیم

درختوں کی ژولیدہ زلفوں میں بازی کناں

اور ذرّوں کے تپتے ہوئے سرخ ہونٹوں

سے بوسہ ربا

جب گزرتی ہے، بیدار ہوتے ہیں اس کی صدا

سے بدلتے ہوئے حادثوں کے نئے سلسلے

نئے حادثے جن کے دم سے تسلسل کا رویا یقیں

نئے حادثے جن کے لطف و کرم کی نہایت نہیں!

تسلسل کے صحرا میں میرا گزر کل ہوا

تو یادیں نگاہوں کے آگے گزرتے ہوئے رہگزر

بن گئیں:

پہاڑوں پہ پانی کے باریک دھارے

فرازوں سے اترے، بہت دور تک دشت و در

میں مچلتے رہے، پھر سمندر کی جانب بڑھے

اور طوفاں بنے،

اُن کی تاریک راتیں سحر بن گئیں!

ازل کے درختوں میں سیبوں کے رسیا

ہمارے جہاں دیدہ آبا

درختوں سے اُترے، بہت دُور تک دشت و در

میں بھٹکتے رہے، پھر وہ شہروں کی جانب بڑھے

اور انساں بنے، ہر طرف نور باراں بنے

وہ سمت و صدا جو سفر

کا نشاں تھیں

وہی منتہائے سفر بن گئیں!

تسلسل کے صحرا میں ریگ و ہوا، پاؤں کی چاپ

سمت و صدا

تسلسل کا رازِ نہاں، تغیر کا تنہا نشاں

محبت کا تنہا نشاں

ن م راشد

پہلی کرن

کوئی مجھ کو دُور زمان و مکاں سے نکلنے کی صورت بتا دو

کوئی یہ سجھا دو کہ حاصل ہے کیا ہستیِ رائیگاں سے؟

کہ غیروں کی تہذیب کی استواری کی خاطر

عبث بن رہا ہہے ہمارا لہو مومیائی

میں اُس قوم کا فرد ہوں جس کے حصے میں محنت ہی محنت ہے، نانِ

شبینہ نہیں ہے

اور اس پر بھی یہ قوم دل شاد ہے شوکتِ باستاں سے

اور اب بھی ہے امیدِ فردا کسی ساحرِ بے نشاں سے

مری جاں، شب و روز کی اس مشقت سے تنگ آ گیا ہوں

میں اس خشت کوبی سے اُکتا گیا ہوں

کہاں ہیں وہ دنیا کی تزئین کی آرزوئیں

جنھوں نے تجھے مجھ سے وابستہ تر کر دیا تھا؟

تری چھاتیوں کی جوئے شیر کیوں زہر کا اک سمندر نہ بن جائے

جسے پی کے سو جائے ننھی سی جاں

جو اِک چھپکلی بن کے چمٹی ہوئی ہے تیرے سینہ ءِ مہرباں سے

جو واقف نہیں تیرے دردِ نہاں سے؟

اسے بھی تو ذلت کی پایندگی کے لیے آلہ ءِ کار بننا پڑے گا

بہت ہے کہ ہم اپنے ابا کی آسودہ کوشی کی پاداش میں

آج بے دست و پا ہیں

اس آئیندہ نسلوں کی زنجیر پا کو تو ہم توڑ ڈالیں

مگر اے مری تیرہ راتوں کی ساتھی

یہ شہنائیاں سُن رہی ہو؟

یہ شاید کسی نے مسرت کی پہلی کرن دیکھ پائی

نہیں، اس دریچے کے باہر تو جھانکو

خدا کا جنازہ لیے جا رہے ہیں فرشتے

اُسی ساحرِ بے نشاں کا

جو مغرب کا آقا تھا مشرق کا آقا نہیں تھا

یہ انسان کی برتری کے نئے دور کے شادیانے ہیں، سُن لو

یہی ہے نئے دور کا پرتوِ اولیں بھی

اٹھو اور ہم بھی زمانے کی تازہ ولادت کے اس جشن میں

مل کے دھومیں مچائیں

شعاعوں کے طوفاں میں بے محابا نہائیں

ن م راشد

پرانی سے نئی پود تک

رات جب باغ کے ہونٹوں پہ تبسّم نہ رہا

رات جب باغ کی آنکھوں میں

تماشا کا تکلّم نہ رہا

غنچے کہنے لگے:

’’رکنا ہے ہمیں باغ میں ’’لا سال‘‘ ابھی‘‘

صبح جب آئی تو لا سال کے

جاں کاہ معمّا کا فسوں بھی ٹوٹا!

صبح کے نام سے اب غنچے بہت ڈرتے ہیں

صبح کے ہاتھ میں

جرّاح کے نشتر سے بہت ڈرتے ہیں

وہ جو غنچوں کے مہ و سال کی کوتاہی میں

ایک لمحہ تھا بہت ہی روشن

وہی اب ان کے پگھلتے ہوئے جسموں میں

گُلِ تازہ کے بہروپ میں

کِن زخموں سے دل گیر ہے، آشفتہ ہے!

رات میں خواب بھی تھے

خوابوں کی تعبیر بھی تھی

صبح سے غنچے بہت ڈرتے ہیں!

غنچے خوش تھے کہ یہ پھول

ہوبہو اُن کے خد و خال لیے

اُن کا رنگ، ان کی طلب،

ان کے پر و بال لیے

اُن کے خاموش تبسّم ہی کی پنہائی میں ۔۔

کیا خبر تھی انہیں وہ کیسے سمندر سے

ہوئے ہیں خالی!

جیسے اک ٹوٹے ہوئے دانت سے

یہ ساری چٹانیں اٹھیں

جیسے اک بھولے ہوئے قہقہے سے

سارے ستارے اُبھرے

جیسے اک دانہ ءِ انگور سے

افسانوں کا سیلاب اُٹھا

جیسے اِک بوسے کے منشور سے

دریا جاگے

اور اک درد کی فریاد سے

انساں پھیلے

اُنھیں (اُن غنچوں کو) امید تھی

وہ پھول بھی اُن کے مانند

ان کی خودفہمی کی جویائی سے

پیدا ہوں گے

اُن کے اُس وعدہ ءِ مبرم ہی کا

ایفا ہوں گے

پھول جو اپنے ہی وہموں کے تکبّر کے سوا

کچھ بھی نہیں

اُن کی (اُن غنچوں کی)

دلگیر صدا سنتے ہیں،

ہنس دیتے ہیں!

ن م راشد

بے کراں رات کے سناٹے میں

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بے کراں رات کے سناٹے میں

جذبہ ءِ شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش

اور لذت کی گراں باری سے

ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی

اور کہیں اس کے قریب

نیند، آغازِ زمستاں کے پرندے کی طرح

خوف دل میں کسی موہوم شکاری کا لیے

اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے

بے کراں رات کے سناٹے میں!

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں

ظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!

ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آتا ہے

تُو مری جان نہیں

بلکہ ساحل کے کسی شہر کی دوشیزہ ہے

اور ترے ملک کے دشمن کا سپاہی ہوں میں

ایک مدت سے جسے ایسی کوئی شب نہ ملی

کہ ذرا روح کو اپنی وہ سبک بار کرے!

بے پنہ عیش کے ہیجان کا ارماں لے کر

اپنے دستے سے کئی روز سے مفرور ہوں میں!

یہ مرے دل میں خیال آتا ہے

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بے کراں رات کے سناٹے میں!

ن م راشد

بے مہری کے تابستانوں میں

بے مہری، بے گانہ پن کے تابستانوں میں

ہر سو منڈلانے لگتے ہیں زنبورِ اوہام

اور ساتھ اپنے اک ابدیت لاتے ہیں

شہروں پر خلوت کی شب چھا جاتی ہے

غم کی صرصر تھرّاتی ہے ویرانی میں

اونچے طاقتور پیڑوں کے گرنے کی آوازیں آتی ہیں

میدانوں میں!

بے مہری بے گانہ پن کے تابستانوں میں

جس دم منڈلانے لگتے ہیں زنبورِ اوہام

جب ہم اپنی روحوں کو

لا ڈالتے ہیں یوں غیریت کے دو راہوں میں

روحیں رہ جاتی ہیں جسموں کے نم دیدہ پیراہن

یا جسموں کے بوسیدہ اترن

ہر بے مہری کے ہنگام!

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

انساں سب سے بیش بہا ہے،

کیوں اُس کی رسوائی ہو

بے بصری کے بازاروں کی بے مایہ دکانوں میں؟ ۔۔۔

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

ہم سب فرد ہیں، ہم پر اپنی ذات سے بڑھ کر

کس آمر کی دارائی ہو؟ ۔۔۔

کیا یہ کہنا جھوٹ تھا، اے جاں:

۔۔۔ ہم سب ہست ہیں، ہم کیوں جاں دیں

مذہب اور سیاست کے نابودوں پر؟

موہوموں کی فوقیت دیں

آگاہی کی آنکھوں سے، موجودوں پر؟

بے مہری کے زنبور گئے تو

ذہنِ اوہامِ باطن کی

شوریدہ فصیلوں سے نکلے

غم کے آسیب ایذا کے

نادیدہ وسیلوں سے نکلے

پھر ہم لحنِ آب و زمیں کی

قندیلوں سے سرشار ہوئے

ہم نے دیکھا، ہم تم گویا تاک سے پُر ہیں

ہم تم اس خورشید سے پر ہیں

آہنگِ حرف و معنی کے

ذرّے جس کے دامن میں

ہم تم شیوہ ءِ باراں سے پر ہیں

آہنگِ حرف و معنی کے

نغمے جس کے دامن میں

ہم دریا سے پُر ہیں

ہم ساحل سے پر ہیں

ہم موجوں سے پر ہیں

ہم ایک بشارت سے پر ہیں!

ن م راشد

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے،

ہیں ابھی رہگزرِ خواب میں اندیشے

گداؤں کی قطار

سرنِگوں، خیرہ نگاہ، تیرہ گلیم

گزرے لمحات کا انبار لگائے

شب کی دریوزہ گری کا حاصل!

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے

ریزشِ آب سرِ برگ سنائی دی ہے

اور درختوں پہ ہے رنگوں کی پکار

کتنے زنبور مرے کمرے میں در آئے ہیں

نوشِ جاں! بزمِ سحر گاہ کی ہو

ایک ہنگامہ پلٹ آیا ہے!

(خواب کا چہرہ ءِ زیبا کبھی لوٹ آئے گا

لبِ خنداں بھی پلٹ آئیں گے!)

عشق ہو، کام ہو، یا وقت ہو یا رنگ ہو

خود اپنے تعاقب میں رواں

اپنی ہی پہنائی تک

کیسے اِک دائرہ بن جاتا ہے

تاک کی شاخ سے تا لرزشِ مَے

لرزشِ مَے سے تمناّؤں کی رعنائی تک

اور تمنّاؤں کی گلریزی سے

صبحِ انگور کی دارائی تک

کیسے اِک دائرہ بن جاتا ہے

بے صدا صبح پلٹ آئی ہے،

پاؤں کی چاپ لباسوں کی صریر

اور بڑھتی ہوئی کوچوں کی نفیر

نوشِ جاں! کام کا ہنگامہ

یہی عشق بھی ہے، چہرہ ءِ زیبا بھی یہی

یہی پھولوں کا پر و بال بھی ہے

رنگِ لب ہائے مہ و سال بھی ہے!

ن م راشد

بے سُرا الاپ

وہ صحن جن سے پلٹ گئی تھی

دھنک کی خوشبو

وہاں ابھی تک درخت اپنی برہنگی میں

پکارتے ہیں۔۔

پکارتے ہیں:

’’دھنک کی خوشبو

وہ خواب لا دے

کہ جن سے بھر جائیں رات بھر میں

سبو ہمارے‘‘

وہ چاند، کل شب،

جسے ہم اپنے دلوں کے پیالوں

میں قطرہ قطرہ

انڈیلتے رہ گئے تھے، اُس کو

ہنسی ہنسی میں

ابھی کوئی شخص، لمحہ پہلے،

چڑھا کے پیالہ پٹک گیا ہے ۔۔

یہ دیکھتے ہی

گلی کا ملّا بہت ہی رویا:

’’خلا سے کچھ عرش کی خبر بھی؟‘‘

(نفی میں کیسے نفی کا جویا!)

’’وہ چاند کے آر پار۔۔ گویا ۔۔

کہیں نہیں تھا؟

عجیب! گویا کہیں نہیں تھا!‘‘

وہ صحن جن سے پلٹ گئی ہے

دھنک کی خوشبو

وہ اُن میں فردا کی نا رسائی کے اشک

چپ چاپ بو رہا ہے ۔۔۔

وہ ہنس رہا ہے:

’’اگر زمیں گھومتی ہے، کیونکر

یہ لوگ صحنوں کو لوٹ آئے سحر سے پہلے

کوئی پرندہ نہ راہ بھولا سفر سے پہلے؟‘‘

وہ صحن جن سے پلٹ گئی تھی

دھنک کی خوشبو

خلا سے آتی ہوئی صدائیں

اب اُن کے دیوار و بام کو

تھپتھپا رہی ہیں،

ہمارے بوڑھے نزار چہروں پہ لطمہ زن ہیں

کہ رات کے دل فریب رویا

ہمارے سینوں میں

بے سُرا الاپ بن کر

اٹک گئے ہیں!

ن م راشد

بے چارگی

میں دیوارِ جہنم کے تلے

ہر دوپہر، مفرور طالب علم کے مانند

آ کر بیٹھتا ہوں اور دزدیدہ تماشا

اس کی پراسرار و شوق انگیز جلوت کا

کسی رخنے سے کرتا ہوں!

معرّی جامِ خوں در دست، لرزاں

اور متبنّیٰ کسی بے آب ریگستاں

میں تشنہ لب سراسیمہ

یزید اِک قلّہ ءِ تنہا پر اپنی آگ میں سوزاں

ابوجہل اژدہا بن کر

خجالت کے شجر کی شاخ پر غلطاں

بہأاللہ کے جسمِ ناتواں کا ہر

رواں اِک نشترِ خنداں

زلیخا، ایک چرخِ نور و رنگ آرا

سے پابستہ

وہیں پہیم رواں، گرداں

ژواں، حلّاج، سرمد

چرسی انسان کی طرح ژولیدہ مو، عریاں

مگر رقصاں

ستالن، مارکس، لینن روئے آسودہ

مگر نارس تمنّاؤں کے سوز و کرب سے شمع تہِ داماں

یہ سب منظور ہے یارب

کہ اس میں ہے وہ ہاؤ ہو، وہ ہنگامہ وہ سیمابی

کہ پائی جس سے ایسی سیمیائی صورتوں نے

روحِ خلاّقی کی بے تابی

مگر میرے خدا، میرے محمدؐ کے خدا مجھ سے

غلام احمد کی برفانی نگاہوں کی

یہ دل سوزی سے محرومی

یہ بے نوری یہ سنگینی

بس اب دیکھی نہیں جاتی

غلام احمد کی یہ نا مردمی دیکھی نہیں جاتی

نیویارک ۔ 16، دسمبر 1953

ن م راشد

بے پر و بال

جب کسی سلطنتِ گم شدہ کے خواب

کبھی اشک، کبھی قہقہہ بن کر دلِ رہرو کو لبھاتے جائیں،

(نیم شب کون ہے آوارہ دعاؤں کی طرح

لو چلے آتے ہیں وہ عقدہ کشاؤں کی طرح)

اور وہ راہروِ سادہ کسی اشک، کسی قہقہے کی تہہ میں

سینہ خاک نشینوں کی نوا سُن نہ سکے ۔۔۔

ہم ہیں وہ جن پہ نظر ڈالی ہے سلطانوں نے

ہیں کہاں اور گدا ہم سے گداؤں کی طرح؟

جن سے ہیں آج بھی گلیوں کے شبستاں روشن

کسی جبّار کے کوَڑوں کی صدا سن نہ سکے

(بندگی کام ہے اور بندہ ءِ دولت ہم ہیں ۔۔۔)

منہ پہ اوڑھے ہوئے دستور کا کوتہ دامن

(تُو خداوند ہے کرامر خداؤں کی طرح)

اور اجڑے ہوئے سینوں کا خلا سن نہ سکے

سنسناتے ہوئے ارمانوں کے جن میں ۔۔۔

(شبِ تنہائی در و بام ڈراتے ہیں مجھے

دل میں اندیشے اترتے ہیں بلاؤں کی طرح

ہم سے کیوں خانہ خرابی کا سبب پوچھتے ہو؟

کس نے اس دور میں ڈالی ہے جفاؤں کی طرح)

گو زمانے کا ہر اک نقش، ہر اک چیز سرِ رہگزرِ باد سہی

یاد اِک وہم سہی، یاد تمناؤں کی فریاد سہی

سر سے ڈھل جائے کہیں راحتِ رفتہ کا خمار

شامِ دارائی کا آسودہ غبار؟

جب کسی سلطنتِ گم شدہ کے خواب

کبھی اشک، کبھی قہقہہ بن کر دلِ رہرو کو لبھاتے جائیں

وہ کبھی سرخیِ دامن میں

کبھی شوقِ سلاسل میں

کبھی عشق کی للکار میں لوٹ آتے ہیں

بے پر و بالیِ انساں کی شبِ تار میں لوٹ آتے ہیں

جی کے آزار میں لوٹ آتے ہیں

ن م راشد

بیکراں رات کے سنّاٹے میں

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بیکراں رات کے سنّاٹے میں

جذبہء شوق سے ہو جاتے ہیں اعضا مدہوش

اور لذّت کی گراں باری سے

ذہن بن جاتا ہے دلدل کسی ویرانے کی

اور کہیں اس کے قریب

نیند، آغازِ زمستاں کے پرندے کی طرح

خوف دل میں کسی موہوم شکاری کے لیے

اپنے پر تولتی ہے، چیختی ہے

بیکراں رات کے سنّاٹے میں!

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں

ظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں!

ایک لمحے کے لیے دل میں خیال آتا ہے

تو مری جان نہیں

بلکہ ساحل کے کسی شہر کی دوشیزہ ہے

اور ترے ملک کے دشمن کا سپاہی ہوں مَیں

ایک مدّت سے جسے ایسی کوئی شب نہ ملی

کہ ذرا روح کو اپنی وہ سبک بار کرے!

بے پناہ عیش کے ہیجان کا ارماں لے کر

اپنے دستے سے کئی روز سے مفرور ہوں مَیں!

یہ مرے دل میں خیال آتا ہے

تیرے بستر پہ مری جان کبھی

بیکراں رات کے سنّاٹے میں!

ن م راشد

بوئے آدم زاد

۔۔۔ بوئے آدم زاد آئی ہے کہاں سے ناگہاں؟

دیو اس جنگلے کے سنّاٹے میں ہیں

ہو گئے زنجیر پا خود اُن کے قدموں کے نشاں!

۔۔یہ وہی جنگل ہے جس کے مرغزاروں میں سدا

چاندنی راتوں میں وہ بے خوف و غم رقصاں رہے

آج اسی جنگل میں اُن کے پاؤں شل ہیں ہاتھ سرد

اُن کی آنکھیں نور سے محروم، پتھرائی ہوئی

ایک ہی جھونکے سے اُن کا رنگ زرد

ایسے دیووں کے لیے بس ایک ہی جھونکا بہت

کون ہے بابِ نبرد؟

۔۔۔ ایک سایہ دیکھتا ہے چھپ کے ماہ و سال کی شاخوں سے آج

دیکھتا ہے بے صدا، ژولیدہ شاخوں سے انہیں

ہو گئے ہیں کیسے اُ س کی بُو سے ابتر حال دیو

بن گئے ہیں موم کی تمثال دیو!

۔۔۔ ہاں اتر آئے گا آدم زاد ان شاخوں سے رات

حوصلے دیووں کے مات!

ن م راشد

برزخ

ن م راشد

سنہ 1955

شاعر:

اے مِری رُوح تجھے

اب یہ برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں

عشق بپھرا ھوُ دریا ھے، ھوس خاک سیاہ

دست و بازوُ نہ سفینہ کہ یہ دریا ھو عبوُر

اور اس خاکِ سیاہ پر تو نشان کفِ پا تک نہیں

اُجڑے بے برگ درختوں سے فقط کاسہء سر آویزاں

کِسی سفّاک تباھی کی اَلمناک کہانی بن کر!

اے مِری رُوح، جُدائی سے حَزیں رُوح مِری

تجھے برزخ کے شب و روز کہاں راس آئیں؟

رُوح:

میرا ماوےٰ نہ جہنم، مِرا مَلجا نہ بہشت

برزخ اُن دونوں پر اِک خندہء تضحیک تو ھے

ایک برزخ ھے جہاں جوروستم، جودوکرم کچھ بھی نہیں

اس میں وہ نفس کی صَرصَر بھی نہیں

جسم کے طوُفاں بھی نہیں

مُبتلا جن میں ھم انسان سدا رھتے ھیں

ھم سیہ بخت زمیں پر ھوں، فلک پر ھوں کہیں

ایک برزخ ھے جہاں مَخمل و دیبا کی آسُودگی ھے

خوابِ سرما کی سی آسُودگی ھے

ن م راشد

بادل (سانیٹ)

چھائے ہوئے ہیں چار طرف پارہ ہائے ابر

آغوش میں لیے ہوئے دنیائے آب و رنگ

میرے لیے ہے اُن کی گرج میں سرودِ چنگ

پیغامِ انبساط ہے مجھ کو صدائے ابر

اٹھی ہے ہلکے ہلکے سروں میں نوائے ابر

اور قطر ہائے آب بجاتے ہیں جلترنگ

گہرائیوں میں روح کی جاگی ہے ہر امنگ

دل میں اُتر رہے ہیں مرے نغمہائے ابر

مدت سے لٹ چکے تھے تمنا کے بار و برگ

چھایا ہوا تھا روح پہ گویا سکوتِ مرگ

چھوڑا ہے آج زیست کو خوابِ جمود نے

ان بادلوں سے تازہ ہوئی ہے حیات پھر

میرے لیے جوان ہے یہ کائنات پھر

شاداب کر دیا ہے دل اُن کے سرود نے!

ن م راشد

بات کر

بات کر مجھ سے

مجھے چہرہ دکھا میرا کہ ہے

تیری آنکھوں کی تمازت ہی سے وہ جھلسا ہوا

بات کر مجھ سے

مرے رخ سے ہٹا پردہ

کہ جس پر ہے ریا کاری کے رنگوں کی دھنک

پھیلی ہوئی

وہ دھنک جو آرزو مندی کا آیئنہ نہیں

بامداد شوق کا زینہ نہیں!

(تو نے دیکھا تھا کہ کل میں (اک گداگر

صبح کی دیوار کے سائے تلے

ٹھٹھرا ہوا پایا گیا

تیری آنکھیں، تیرے لب تکتے رہے

ان کی گرمی پر یقیں کیسے مجھے آتا کہ میں

اپنے دل کے حادثوں کی تہہ میں تھا

یادوں سے غزلایا ہوا!

بات کر مجھ سے

کہ اب شب کے سحر بننے میں

کوئی فاصلہ باقی نہیں

بات کر مجھ سے کہ تیری بات

خطّ نسخ ہو بر روئے مرگ

اب اتر جا چشم و گوش و لب کے پار

اجڑے شہروں کی گزرگاہوں پہ

آوازوں کی قندیلیں اتار

راز کی لہریں

ابھر آئیں قطار اندر قطار!

ن م راشد

اے وطن اے جان

اے وطن، اے جان

تیری انگبیں بھی اور خاکستر بھی میں

میں نے یہ سیکھا ریاضی سے ادب بہتر بھی ہے برتر بھی ہے

خاک چھانی میں نے دانش گاہ کی

اور دانش گاہ میں بے دست و پا درویش حُسن و فہم کے جویا ملے

جن کو تھی میری طرح ہر دستگیری کی طلب

دستگیری کی تمنّا سالہا جارہی رہی

لیکن اپنے علم و دانش کا ثمر اس کے سوا کچھ بھی نہ تھا

سر تہی نقلی خدا تھے خیر و قوّت کا نشاں

اور انساں، اہلِ دل انساں شریر و ناتواں

اے وطن ترکے میں پائے تُو نے وہ خانہ بدوش

جن کو تھی کہنہ سرابوں کی تلاش

اور خود ذہنوں میں اُن کے تھے سراب

جس سے پسپائی کی ہمت بھی کبھی ان میں نہ تھی

اے وطن کچھ اہلِ دیں نے اور کچھ انساں پرستوں نے تجھے اِنشا کیا

عالمِ سکرات سے پیدا کیا

تاکہ تیرے دم سے لوٹ آئے جہاں میں عفّتِ انساں کا دَور!

دشمن اُس خواہش پہ خندہ زن رہے اور دوست اس پر بدگماں

اے وطن اے جان تُو نے دوست اور دشمن کا دل توڑا نہیں

ہم ریاضی اور ادب کو بھول کر

سیم و زر کی آز کے ریلے میں یوں بہتے رہے

جیسے ان بپھری ہوئی امواج کا ساحل نہ ہو

اُس یقیں کا اس عمل کا اس محبت کا یہی حاصل تھا کیا؟

اے وطن، اے جان ہر اک پل پہ تو استادہ ہے

بن گیا تیری گزرگاہ اک نیا دورِ عبور

یوں تو ہے ہر دورِ نَو بھی ایک فرسودہ خیال

حرف اور معنی کا جال!

آج لیکن اے وطن، اے جاں تجھے

اور بھی پہلے سے بڑھ کر حرف و معنی کے نئے آہنگ کی ہے جستجو

پھر ریاضی اور ادب کے ربطِ باہم کی طلب ہے رُوبرو!

ن م راشد

اے غزال شب!

اے غزال شب،

تری پیاس کیسے بجھاؤں میں

کہ دکھاؤں میں وہ سراب جو مری جاں میں ہے؟

وہ سراب ساحرِ خوف ہے

جو سحر سے شام کے رہ گزر میں فریبِ رہرو سادہ ہے

وہ سراب زادہ، سراب گر، کہ ہزار صورتِ نوبنو

میں قدم قدم پہ ستادہ ہے،

وہ جو غالب و ہمہ گیر دشتِ گماں میں ہے

مرے دل میں جیسے یقین بن کے سما گیا

مرے ہست و بود پہ چھا گیا!

اے غزالِ شب،

اُسی فتنہ کار سے چھپ گئے

مرے دیر و زود بھی خواب میں

مرے نزد و دُور بھی حجاب میں

وہ حجاب کیسے اٹھاؤں میں جو کشیدہ قالبِ دل میں ہے

کہ میں دیکھ پاؤں درونِ جاں

جہاں خوف و غم کا نشاں نہیں

جہاں یہ سرابِ رواں نہیں،

اے غزالِ شب!

ن م راشد

اے سمندر

اے سمندر،

پیکرِ شب، جسم، آوازیں

رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو

پتھروں پر سے گزرتے

رقص کی خاطر اذاں دیتے گئے

اور میں، مرتے درختوں میں نہاں

سنتا رہا ۔۔

ان درختوں میں مرا اک ہاتھ

عہدِ رفتہ کے سینے پہ ہے

دوسرا، اِک شہرِ آیندہ میں ہے

جویائے راہ ۔۔۔۔

شہر، جس میں آرزو کی مے انڈیلی جائے گی

زندگی سے رنگ کھیلا جائے گا!

اے سمندر

اے سمندر،

آنے والے دن کو یہ تشویش ہے

رات کا کابوس جو دن کے نکلتے ہی

ہوا ہو جائے گی

کون دے گا اُس کے ژولیدہ سوالوں کا جواب؟

کس کرن کی نوک؟

کن پھولوں کا خواب؟

اے سمندر،

میں گنوں گا دانہ دانہ تیرے آنسو

جن میں آنے والا جشنِ وصل ناآسودہ ہے

جن میں فردائے عروسی کے لیے

کرنوں کے ہار

شہرِ آیندہ کی روحِ بے زماں

چنتی رہی ۔۔

میں ہی دوں گا جشن میں دعوت تجھے

استراحت تیری لہروں کے سوا

کس شے میں ہے؟

رات اِس ساحل پہ غرّاتے رہے

غم زدہ لمحات کے ترسے ہوئے کتوں کی نظریں

چاند پر پڑتی رہیں

اُن کی عَو عَو دور تک لپکی رہی!

اے سمندر،

آج کیونکر، ابر کے اوراقِ کہنہ

بازوئے دیرینہ ءِ امید پر اڑتے رہے

دور سے لائے نرالی داستاں!

چاند کی ٹوٹی ہوئی کشتی کی بانہوں پر رواں!

شہرِ آیندہ کے دست و پا کے رنگ

جیسے جاں دینے پہ سب آمادہ ہوں

دست و پا میں جاگ اٹھے

راگ کے مانند،

میں بھی دست و پا میں جاگ اٹھا!

اے سمندر،

کل کے جشنِ نو کی موج

شہرِ آیندہ کی بینائی کی حد تک آ گئی۔۔

اب گھروں سے،

جن میں راندہ روز و شب

چار دیواری نہیں،

مرد و زن نکلیں گے

ہاتھوں میں اُٹھائے برگ و بار

جن کو چھو لینے سے لوٹ آئے گی رو گرداں بہار!

اے سمندر۔۔

ن م راشد

ایک شہر

یہ سب سے نیا، اور سب سے بڑا اور نایاب شہر

یہاں آکے رکتے ہیں سارے جہاں کے جہاز

یہاں ہفت اقلیم کے ایلچی آ کے گزرتے ہیں

درآمد برآمد کے لاریب چشموں سے شاداب شہر

یہ گلہائے شبوں کی مہکوں سے، محفل کی شمعوں سے، شب تاب شہر

یہ اک بستر خواب شہر

دیبا و سنجاب شہر

یہاں ہیں عوام اپنے فرماں روا کی محبت میں سرشار

بطبیب دلی، قید و بند سلاسل کے ارماں کے ہاتھوں گرفتار

دیوانہ وار

یہاں فکر و اظہار کی حریت کی وہ دولت لٹائی گئی

کہ اب سیم و زر اور لعل و گہر کی بجائے

بس الفاظ و معنی سے

اہل قلم کے، خطیبوں کے، اُجڑے خزانے ہیں معمور

خیالات کا ہے صنم خانہ نقش گر میں وفور

مغنی کے پیچھے فقط چند شوریدہ سر بے شعور

مسافت یہاں صدر سے تابہ نعلین بس ایک دو گام

یہاں میزباں اور مہماں ہیں، ایک ہی شہد کے جام سے شاد کام

کہ یہ شہر ہے، عدل و انصاف میں

اور مساوات میں

اور اخوت میں

مانند حمام

یہاں تخت و پیہم ہوں یا کلاہ گلیم

ہے سب کا وہی ایک رب کریم

ن م راشد

ایک زمزمے کا ہاتھ

ابھرا تھا جو آواز کے نابود سے

اک زمزمے کا ہاتھ

اس ہاتھ کی جھنکار

نئے شہروں کا، تہذیبوں کا

الہام بنے گی

وہ ہاتھ نہ تھا دھات کے اک معبدِ کہنہ

سے چرایا ہوا، تاریخ میں لتھڑا ہوا

اک ہاتھ

وہ ہاتھ خداوندستمگر کا نہیں تھا

وہ ہاتھ گدا پیشہ پیمبر کا نہیں تھا

اس ہاتھ میں [تم دیکھتے ہو]

شمع کی لرزش ہے جوکہتی ہے کہ:

’’آؤ،

شاہراہ پہ بکھرے ہوئے اوراق اٹھاؤ

اس ہاتھ سے لکّھو!‘‘

کہتی ہے کہ :’’آؤ

ہم تم کونئے زینوں کے،

آئینوں کے، باغوں کے

چراغوں کے، محلوں کے، ستونوں کے

نئے خواب دکھائیں

وہ پھول جو صحراؤں میں شبنم سے جدا

[خود سے جدا]

ہانپتے ہیں، ان کے

نئے صحنوں میں انبار لگائیں

الجھے ہوئے لمحات جوافکار

کی دیواروں سے آویختہ ہیں

ان سے نئے ہار بنائیں

سینوں میں اتر جائیں،

پھرافسردہ تمنائیں جلائیں‘‘

کہتی ہے کہ:

’’دو وقت کی روٹی کا سہارا ہے یہی ہاتھ

جینے کا اشارہ ہے یہی ہاتھ

اس ہاتھ سے پھرجام اٹھائیں

پھرکھولیں کسی صبح کی کرنوں کے دریچے،

اس ہاتھ سے آتی ہوئی خوشبوؤں کو

آداب بجا لائیں!‘‘

کہتی ہے کہ:

’’افسوس کی دہلیز پر

اک عشقِ کہن سال پڑا ہے

اس عشق کے سوکھے ہوئے چہرے

پہ ڈھلکتے ہوئے آنسو

اس ہاتھ سے پونچھیں

یہ ہاتھ ہے وہ ہاتھ

جوسورج سے گرا ہے

ہم سامنے اس کے

جھک جائیں دعا میں

کہ یہی زندگی و مرگ کی ہردھوپ میں

ہر چھاؤں میں

الفاظ و معانی کے نئے وصل

کاپیغام بنے گا

ہر بوسے کا الہام بنے گا!‘‘

ن م راشد

ایک رات

یاد ہے اک رات زیرِ آسمانِ نیلگوں

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات!

چاند کی کرنوں کا بے پایاں فسوں___ پھیلا ہوا

سرمدی آہنگ برساتا ہوا___ ہر چار سُو!

اور مرے پہلو میں تُو___!

میرے دل میں یہ خیال آنے لگا:

غم کا بحرِ بے کراں ہے یہ جہاں

میری محبوبہ کا جسم اک ناؤ ہے

سطحِ شور انگیز پر اس کی رواں

ایک ساحل، ایک انجانے جزیرے کی طرف

اُس کو آہستہ لیے جاتا ہوں میں

دل میں یہ جاں سوز وہم

یہ کہیں غم کی چٹانوں سے نہ لگ کر ٹوٹ جائے!

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات

تیرے دل میں راز کی ایک کائنات

تیری خاموشی میں طوفانوں کا غوغائے عظیم

سرخوشِ اظہار تیری ہر نگاہ

تیرے مژگاں کے تلے گہرے خیال

بے بسی کی نیند میں الجھے ہوئے!

تیرا چہرہ آبگوں ہونے کو تھا

دفعتاً، پھر جیسے یاد آ جائے اک گم گشتہ بات

تیرے سینے کے سمن زاروں میں اٹھیں لرزشیں

میرے انگاروں کو بے تابانہ لینے کے لیے

اپنی نکہت، اپنی مستی مجھ کو دینے کے لیے

غم کے بحرِ بے کراں میں ہو گیا پیدا سکوں

یاد ہے وہ رات زیرِ آسمانِ نیلگوں

یاد ہے مجھ کو وہ تابستاں کی رات!

ن م راشد

ایک دنِ__لارنس باغ میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں

افکار کا ہجوم ہے میرے دماغ میں

چھایا ہوا ہے چار طرف باغ میں سکوت

تنہائیوں کی گود میں لپٹا ہوا ہوں میں

اشجار بار بار ڈراتے ہیں بن کے بھوت

جب دیکھتا ہوں اُن کی طرف کانپتا ہوں میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں!

لارنس باغ! کیف و لطافت کے خلد زار

وہ موسمِ نشاط! وہ ایامِ نو بہار

بھولے ہوئے مناظرِ رنگیں بہار کے

افکار بن کے روح میں میری اُتر گئے

وہ مست گیت موسمِ عشرت فشار کے

گہرائیوں کو دل کی غم آباد کر گئے

لارنس باغ! کیف و لطافت کے خلد زار

ہے آسماں پہ کالی گھٹاؤں کا اِزدِحام

ہونے لگی ہے وقت سے پہلے ہی آج شام

دنیا کی آنکھ نیند سے جس وقت جھک گئی

جب کائنات کھو گئی اسرارِ خواب میں

سینے میں جوئے اشک ہے میرے رُکی ہوئی

جا کر اُسے بہاؤں گا کُنجِ گلاب میں

ہے آسماں پہ کالی گھٹاؤں کا اِزدِحام

افکار کا ہجوم ہے میرے دماغ میں

بیٹھا ہوا ہوں صبح سے لارنس باغ میں!

ن م راشد

ایک اور شہر

خود فہمی کا ارماں ہے تاریکی میں روپوش،

تاریکی خود بے چشم و گوش!

اک بے پایاں عجلت راہوں کی الوند!

سینوں میں دل یوں جیسے چشمِ آزِ صیّاد

تازہ خوں کے پیاسے افرنگی مردانِ راد

خود دیوِآہن کے مانند!

دریا کے دو ساحل ہیں اور دونوں ہی ناپید

شر ہے دستِ سیہ اور خیر کا حامل روئے سفید!

اک بارِ مژگاں، اک لبِ خند!

سب پیمانے بے صرفہ جب سیم و زر میزان

جب ذوقِ عمل کا سرچشمہ بے معنی ہذیان

جب دہشت ہر لمحہ جاں کند!

یہ سب افقی انسان ہیں، یہ ان کے سماوی شہر

کیا پھر ان کی کمیں میں وقت کے طوفاں کی اِک لہر؟

کیا سب ویرانی کے دلبند؟

ن م راشد

ایران میں اجنبی

من وسلویٰ

’’خدائے برتر،

یہ دار یوشِ بزرگ کی سر زمیں،

یہ نو شیروانِ عادل کی داد گاہیں،

تصوف و حکمت و ادب کے نگار خانے،

یہ کیوں سیہ پوست دشمنوں کے وجود سے

آج پھر اُبلتے ہوئے سے ناسور بن رہے ہیں؟‘‘

ہم اِس کے مجرم نہیں ہیں، جانِ عجم نہیں ہیں،

وہ پہلا انگریز

جس نے ہندوستان کے ساحل پہ

لا کے رکھی تھی جنسِ سوداگری

یہ اس کا گناہ ہے

جو تیرے وطن کی

زمین گل پوش کو

ہم اپنے سیاہ قدموں سے روندتے ہیں!

یہ شہر اپنا وطن نہیں ہے،

مگر فرنگی کی رہزنی نے

اسی سے ناچار ہم کو وابستہ کر دیا ہے،

ہم اِس کی تہذیب کی بلندی کی چھپکلی بن کے رہ گئے ہیں،

وہ راہزن جو یہ سوچتا ہے:

’’کہ ایشیا ہے کوئی عقیم و امیر بیوہ

جو اپنی دولت کی بے پناہی سے مبتلا اک فشار میں ہے،

اور اُس کا آغوشِ آرزو مند وا مرے انتظار میں ہے،

اور ایشیائی،

قدیم خواجہ سراؤں کی اک نژادِ کاہل،

اجل کی راہوں پہ تیز گامی سے جارہے ہیں‘‘

مگر یہ ہندی

گرسنہ و پا برہنہ ہندی

جو سالکِ راہ ہیں

مگر راہ و رسمِ منزل سے بے خبر ہیں،

گھروں کو ویران کر کے،

لاکھوں صعوبتیں سہہ کے

اور اپنا لہو بہا کر

اگر کبھی سوچتے ہیں کچھ تو یہی،

کہ شاید انہی کے بازو

نجات دلوا سکیں گے مشرق کو

غیر کے بے پناہ بپھرے ہوئے ستم سے___

یہ سوچتے ہیں:

یہ حادثہ ہی کہ جس نے پھینکا ہے

لا کے ان کو ترے وطن میں

وہ آنچ بن جائے،

جس سے پھُنک جائے،

وہ جراثیم کا اکھاڑہ،

جہاں سے ہر بار جنگ کی بوئے تند اُٹھتی ہے

اور دنیا میں پھیلتی ہے!___

میں جانتا ہوں

مرے بہت سے رفیق

اپنی اداس، بیکار زندگی کے

دراز و تاریک فاصلوں میں

کبھی کبھی بھیڑیوں کے مانند

آ نکلتے ہیں، را ہگزاروں پہ

جستجو میں کسی کے دو ’’ساقِ صندلیں‘‘ کی!

کبھی دریچوں کی اوٹ میں

ناتواں پتنگوں کی پھڑپھڑاہٹ پہ

ہوش سے بے نیاز ہو کر وہ ٹوٹتے ہیں؛

وہ دستِ سائل

جو سامنے اُن کے پھیلتا ہے

اس آرزو میں

کہ اُن کی بخشش سے

پارہ ءِ نان، من و سلویٰ کا روپ بھر لے،

وہی کبھی اپنی نازکی سے

وہ رہ سجھاتا ہے

جس کی منزل پہ شوق کی تشنگی نہیں ہے!

تو اِن مناظر کو دیکھتی ہے!

تو سوچتی ہے:

____یہ سنگدل، اپنی بزدلی سے

فرنگیوں کی محبتِ ناروا کی زنجیر میں بندھے ہیں

اِنہی کے دم سے یہ شہر ابلتا ہوا سا ناسور بن رہا ہے____!

محبتِ ناروا نہیں ہے،

بس ایک زنجیر،

ایک ہی آہنی کمندِ عظیم

پھیلی ہوئی ہے،

مشرق کے اک کنارے سے دوسرے کنارے تک،

مرے وطن سے ترے وطن تک،

بس ایک ہی عنکبوت کا جال ہے کہ جس میں

ہم ایشیائی اسیر ہو کر تڑپ رہے ہیں!

مغول کی صبح خوں فشاں سے

فرنگ کی شامِ جاں ستاں تک!

تڑپ رہے ہیں

بس ایک ہی دردِ لا دوا میں،

اور اپنے آلامِ جاں گزا کے

اس اشتراکِ گراں بہانے بھی

ہم کو اک دوسرے سے اب تک

قریب ہونے نہیں دیا ہے!

ن م راشد

انقلابی

مورخ، مزاروں کے بستر کا بارِ گراں

عروس اُس کی نارس تمناؤں کے سوز سے

آہ بر لب

جدائی کی دہلیز پر، زلف در خاک، نوحہ کناں

یہ ہنگام تھا، جب ترے دل نے اس غمزدہ سے

کہا، لاؤ اب لاؤ دریوزہ ءِ غمزہ ءِ جانستاں

مگر خواہشیں اشہبِ باد پیما نہیں

جو ہوں بھی تو کیا

کو جولاں گہ ءِ وقت میں کس نے پایا ہے

کس کا نشاں؟

یہ تاریخ کے ساتھ چشمک کا ہنگام تھا؟

یہ مانا تجھے یہ گوارا نہ تھا

کہ تاریخ دانوں کے دامِ محبت میں پھنس کر

اندھیروں کی روحِ رواں کو اجالا کہیں

مگر پھر بھی تاریخ کے ساتھ

چشمک کا یہ کون ہنگام تھا؟

جو آنکھوں میں اُس وقت آنسو نہ ہوتے

تو یہ مضطرب جاں،

یہ ہر تازہ و نو بنو رنگ کی دلربا

تری اس پذیرائیِ چشم و لب سے

وفا کے سنہرے جزیروں کی شہزاد ہوتی

ترے ساتھ منزل بمنزل رواں و دواں

اسے اپنے ہی زلف و گیسو کے دامِ ازل سے

رہائی تو ملتی

مگر تُو نے دیکھا بھی تھا

دیوِ تاتار کا حجرہ ءِ تار

جس کی طرف تو اسے کر رہا تھا اشارے

جہاں بام و دیوار میں کوئی روزن نہیں ہے

جہاں چار سُو باد و طوفاں کے مارے ہوئے راہگیروں

کے بے انتہا استخواں ایسے بکھرے پڑے ہیں

ابد تک نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر فغاں؟

ن م راشد

انسان

الٰہی تیری دنیا جس میں ہم انسان رہتے ہیں

غریبوں، جاہلوں، مُردوں کی، بیماروں کی دنیا ہے

یہ دنیا بے کسوں کی اور لاچاروں کی دنیا ہے

ہم اپنی بے بسی پر رات دن حیران رہتے ہیں!

ہماری زندگی اک داستاں ہے ناتوانی کی

بنا لی اے خدا اپنے لیے تقدیر بھی تُو نے

اور انسانوں سے لے لی جرأت تدبیر بھی تُو نے

یہ داد اچھی ملی ہے ہم کو اپنی بے زبانی کی!

اسی غور و تجسس میں کئی راتیں گزری ہیں

میں اکثر چیخ اُٹھتا ہوں بنی آدم کی ذلّت پر

جنوں سا ہو گیا ہے مجھ کو احساسِ بضاعت پر

ہماری بھی نہیں افسوس، جو چیزیں ’’ہماری‘‘ ہیں!

کسی سے دور یہ اندوہِ پنہاں ہو نہیں سکتا!

خدا سے بھی علاجِ دردِ انساں ہو نہیں سکتا!

ن م راشد

اندھا کباڑی

شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ھوئے

پا شکستہ سر بریدہ خواب

جن سے شہر والے بے خبر!

گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب

کہ ان کو جمع کر لوں

دل کی بھٹی میں تپاؤں

جس سے چھٹ جائے پرانا میل

ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں

چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن

جیسے نو آراستہ دولھوں کے دل کی حسرتیں

پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!

’’خواب لے لو خواب‘‘

صبح ہوتے ہی چوک میں جا کر لگاتا ہوں صدا

’’خواب اصلی ہیں کہ نقلی‘‘

یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر

خواب داں کوئی نہ ہو!

خواب گر میں بھی نہیں

صورت گر ثانی ہوں بس

ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!

شام ھو جاتی ہے

میں پھر سے لگاتا ہوں صدا

’’مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب ‘‘

’’مفت‘‘ سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ

اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ

’’دیکھنا یہ مفت کہتا ہے‘‘

کوئی دھوکا نہ ہو!

ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو

گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں

یا پگھل جائیں یہ خواب

بھک سے اڑ جائیں کہیں

یا ہم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب

جی نہیں کس کام کے؟

ایسے کباڑی کے یہ خواب

ایسے نابینا کباڑی کے یہ خواب!

رات ہو جاتی ہے

خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر

منہ بسورے لوٹتا ہوں

رات بھر پھر بڑبڑاتا ہوں

’’یہ لے لو خواب‘‘

اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی

خواب لے لو، خواب

میرے خواب

خواب میرے خواب

خو ا ا ا ا ب

ان کے د ا ا ا ا م بھی ی ی ی

ن م راشد

انتقام

اُس کا چہرہ، اُس کے خدوخال یاد آتے نہیں

اک شبستاں یاد ہے

اک برہنہ جسم آتشداں کے پاس

فرش پر قالین، قالینوں کی سیج

دھات اور پتھر کے بت

گوشہء دیوار میں ہنستے ہوئے!

اور آتشداں میں انگاروں‌کا شور

اُن بتوں کی بے حِسی پر خشمگیں؛

اُجلی اُجلی اونچی دیواروں پہ عکس

اُن فرنگی حاکموں کی یادگار

جن کی تلواروں نے رکھا تھا یہاں

سنگِ بنیادِ فرنگ!

اُس کا چہرہ اُس کے خدوخال یاد آتے نہیں

اک برہنہ جسم اب تک یاد ہے

اجنبی عورت کا جسم،

میرے ‘ہونٹوں‘ نے لیا تھا رات بھر

جس سے اربابِ وطن کی بے بسی کا انتقام

وہ برہنہ جسم اب تک یاد ہے!

ن م راشد

اظہار اور رسائی

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں

بات کہنے کے بہانے ہیں بہت

آدمی کس سے مگر بات کرئے

بات جب حیلہء تقریب ملاقات نہ ہو

اور رسائی کہ ھمیشہ سے ھے کوتاہ کمند

بات کی غایت غایات نہ ہو!

ایک ذرّہ کف خاکستر کا

شرر جستہ کے مانند کبھی

کسی انجانی تمنّا کی خلش سے مسرور

اپنے سینے کے دہکتے ھوئے تنّور کی لو سے مجبور

ایک ذرّہ کہ ہمیشہ سے ھے خود سے مہجور،

کبھی نیرنگ صدا بن کے جھلک اٹھتا ہے

آب و رنگ و خط و محراب کا پیوند کبھی

اور بنتا ھے معانی کا خداوند کبھی

وہ خداوند جو پابستہ آنات نہ ہو!

اسے اک ذرّے کی تابانی سے

کسی سوئے ہوئے رقّاص کے دست و پا میں

کانپ اٹھتے ہیں مہ و سال کے نیلے گرداب

اسی اک ذرّے کی حیرانی سے

شعر بن جاتے ہیں اک کوزہ گر پیر کے خواب

اسے اک ذرّہ لا فانی سے

خشت بے مایہ کو ملتا ھے دوام

بام و در کو وہ سحر جس کی کبھی رات نہ ہو!

آدمی کس سے مگر بات کرئے

مو قلم، ساز، گل تازہ، تھرکتے پاؤں

آدمی سوچتا رہ جاتا ہے،

اس قدر بار کہاں، کس کے لیے، کیسے اٹھاؤں

اور پھر کس کے لیے بات کروں

ن م راشد

اظہار

کیسے میں بھی بھول جاؤں

زندگی سے اپنا ربطِ اوّلیں؟

ایک دور افتادہ قریے کے قریب

اک جنوں افروز شام

نہر پر شیشم کے اشجارِ بلند

چاندنی میں اُن کی شاخوں کے تلے

تیرے پیمانِ محبت کا وہ اظہارِ طویل!

روح کا اظہار تھے بوسے مرے

جیسے میری شاعری، میرا عمل!

روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں؟

کیسے کر ڈالوں میں جسم و روح کو

آج بے آہنگ و نور؟

تُو کہ تھی اس وقت گمنامی کے غاروں میں نہاں

میرے ہونٹوں ہی نے دی تجھ کو نجات

اپنی راہوں پر اٹھا لایا تجھے

زندہ ءِ جاوید کر ڈالا تجھے

جیسے کوئی بت تراش

اپنے بت کو زندگی کے نور سے تاباں کرے

اس کو برگ و بار دینے کے لیے

اپنے جسم و روح کو عریاں کرے!

میرے بوسے روح کا اظہار تھے

روح جو اظہار ہی سے زندہ و تابندہ ہے

ہے اسی اظہار سے حاصل مجھے قربِ حیات،

روح کا اظہار کیسے بھول جاؤں؟

ن م راشد

اسرافیل کی موت

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ

وہ خداؤں کا مقرّب، وہ خداوندِکلام

صوت انسانی کی روحِجاوداں

آسمانوں کی ندائے بے کراں

آج ساکت مثلِ حرفِ ناتمام

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاؤ!

آؤ، اسرافیل کے اس خوابِ بے ہنگام پر آنسو بہائیں

آرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاس

جیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسے

ریگ ساحل پر، چمکتی دھوپ میں، چپ چاپ

اپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہے!

اس کی دستار، اس کے گیسو، اس کی ریش

کیسے خاک آلودہ ہیں!

تھے کبھی جن کی تہیں بود و نبود!

کیسے اس کا صور، اس کے لب سے دور،

اپنی چیخوں، اپنی فریادوں میں گم

جھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زود!

مرگِ اسرافیل پر آنسو بہاوء

وہ مجسّم ہمہمہ تھا، وہ مجسّم زمزمہ

وہ ازل سے تا ابد پھیلی ھوئی غیبی صداؤں کا نشاں!

مرگِ اسرافیل سے

حلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گر،

ابن آدم زلف در خاک و نزاز

حضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تار

آسمانوں کی صفیر آتی نہیں

عالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیں!

مرگِ اسرافیل سے

اس جہاں پر بند آوازوں کا رزق

مطربوں کا رزق، اور سازوں کا رزق

اب مغنّی کس طرح گائے گا اور گائے کا کیا

سننے والوں کے دلوں کے تار چب!

اب کوئی رقاص کیا تھرکے گا، لہرائے گا کیا

بزم کے فرش و در و دیوار چپ!

اب خطیبِ شہر فرمائے گا کیا

مسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپ!

فِکر کا صیّاد اپنا دام پھیلائے گا کیا

طائرانِ منزل و کہسار چپ!

مرگِ اسرافیل ہے

گوش شنوا کی، لبِ گویا کی موت

چشمِبینا کی، دلِ دانا کی موت

تھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہو

اہل دل کی اہل دل سے گفتگو

اہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلو!

اب تنانا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گم

اب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گم!

یہ ہمارا آخری ملجا بھی گم!

مرگِ اسرافیل سے،

اس جہاں کا وقت جیسے سو گیا، پتھرا گیا

جیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیا،

ایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیں

ایسا سنّاٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں!

مرگِ اسرافیل سے

دیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھی

زباں بندی کے خواب!

جس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہو

اس خداوندی کے خواب!

ن م راشد

اجنبی عورت

ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھی

میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں

کاش اک دیوارِ ظلم

میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو

یہ عماراتِ قدیم

یہ خیاباں، یہ چمن، یہ لالہ زار

چاندنی میں نوحہ خواں

اجنبی کے دستِ غارتگر سے ہیں

زندگی کے ان نہاں خانوں میں بھی

میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں

کاش اک ’’دیوارِ رنگ‘‘

میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو

یہ سیہ پیکر برہنہ راہرو

یہ گھروں میں خوبصورت عورتوں کا زہرِخند

یہ گزرگاہوں پہ دیو آسا جواں

جن کی آنکھوں میں گرسنہ آرزوؤں کی لپک

مشتعل، بیاباک مزدوروں کا سیلاب عظیم

ارضِ مشرق، ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میں

آج ہم کو جن تمناؤں کی حرمت کے سبب

دشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہے

اُن کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں

ن م راشد

اتفاقات

آج، اس ساعتِ دزدیدہ و نایاب میں بھی،

جسم ہے خواب سے لذت کشِ خمیازہ ترا

تیرے مژگاں کے تلے نیند کی شبنم کا نزول

جس سے دھُل جانے کو ہے غازہ ترا

زندگی تیرے لیے رس بھرے خوابوں کا ہجوم

زندگی میرے لیے کاوشِ بیداری ہے؛

اتفاقات کو دیکھ

اس حسیں رات کو دیکھ

توڑ دے وہم کے جال

چھوڑ دے اپنے شبستانوں کو جانے کا خیال،

خوفِ موہوم تری روح پہ کیا طاری ہے!

اتنا بے صرفہ نہیں تیرا جمال

اس جنوں خیز حسیں رات کو دیکھ!

آج، اس ساعتِ دزدیدہ و نایاب میں بھی

تشنگی روح کی آسودہ نہ ہو

جب ترا جسم جوانی میں ہے نیسانِ بہار

رنگ و نگہت کا فشار!

پھول ہیں، گھاس ہے، اشجار ہیں، دیواریں ہیں

اور کچھ سائے کہ ہیں مختصر و تیرہ و تار،

تجھ کو کیا اس سے غرض ہے کہ خدا ہے کہ نہیں؟

دیکھ پتوں میں لرزتی ہوئی کرنوں کا نفوذ

سرسراتی ہوئی بڑھتی ہے رگوں میں جیسے

اوّلیں بادہ گساری میں نئی تند شراب

تجھ کو کیا اس سے غرض ہے کہ خدا ہے کہ نہیں

کہکشاں اپنی تمناؤں کا ہے راہگزار

کاش اس راہ پہ مل کر کبھی پرواز کریں،

اک نئی زیست کا در باز کریں!

آسماں دور ہے لیکن یہ زمیں ہے نزدیک

آ اِسی خاک کو ہم جلوہ گہِ راز کریں!

روحیں مل سکتی نہیں ہیں تو یہ لب ہی مل جائیں،

آ اِسی لذتِ جاوید کا آغاز کریں!

صبح جب باغ میں رس لینے کو زنبور آئے

اس کے بوسوں سے ہوں مدہوش سمن اور گلاب

شبنمی گھاس پہ دو پیکرِ یخ بستہ ملیں،

اور خدا ہے تو پشیماں ہو جائے!

ن م راشد

ابو لہب کی شادی

شب زفافِ ابو لہب تھی، مگر خدایا وہ کیسی شب تھی،

ابو لہب کی دلہن جب آئی تو سر پہ ایندھن، گلے میں

سانپوں کے ہار لائی، نہ اس کو مشاطّگی سے مطلب

نہ مانگ غازہ، نہ رنگ روغن، گلے میں سانپوں

کے ہار اس کے، تو سر پہ ایندھن!

خدایا کیسی شب زفافِ ابو لہب تھی!

یہ دیکھتے ھی ہجوم بپھرا، بھڑک اٹھے یوں غضب

کے شعلے، کہ جیسے ننگے بدن پہ جابر کے تازیانے!

جوان لڑکوں کی تالیاں تھیں، نہ صحن میں شوخ

لڑکیوں کے تھرکتے پاؤں تھرک رھے تھے،

نہ نغمہ باقی نہ شادیانے !

ابو لہب نے یہ رنگ دیکھا، لگام تھامی، لگائی

مہمیز، ابو لہب کی خبر نہ آئی!

ابو لہب کی خبر جو آئی، تو سالہا سال کا زمانہ

غبار بن کر بکھر چکا تھا!

ابو لہب اجنبی زمینوں کے لعل و گوہر سمیٹ کر

پھر وطن کو لوٹا، ہزار طرّار و تیز آنکھیں، پرانے

غرفوں سے جھانک اٹھیں، ہجوم، پیر و جواں کا

گہرا ہجوم، اپنے گھروں سے نکلا، ابو لہب کے جلوس

کو دیکھنے کو لپکا!

ابولہب!’’ اک شبِ زفافِ ابو لہب کا جلا‘‘

پھپھولا، خیال کی ریت کا بگولا، وہ عشق برباد

کا ہیولا، ہجوم میں سے پکار اٹھی: ’’ابو لہب!

تو وہی ہے جس کی دلہن جب آئی، تو سر پہ ایندھن

گلے میں سانپوں کے ہار لائی‘‘

ابو لہب ایک لمحہ ٹھٹکا، لگام تھامی، لگائی

مہمیز، ابو لہب کی خبر نہ آئی!

ن م راشد

آک اور حنا

کیسے بکھری پُھول نیند

کیسے شانوں پہ گِرا اِک چاند گیت،

جس سے میں ظاہر ھوُا

چاند گیت!

اُن گہری ندیوں کے فرازوں کی طرف

لے چل، جہاں

آک کے پہلو میں اُگتی ھے حِنا،

اُن درختوں کی طرف لے چل مجھے

جن کی جانب لوٹ آئے

راہ سے بھٹکے ھوُئے زنبوُر

چھتوں کی طرف

جن سے کرنا ھیں مجھے سرگوشیاں!

مجھ کو لے چل کشت زاروں کے

خزاں کجلائے چہروں کی طرف

جن پہ ماتم کی عنبریں کرنیں جھلک اُٹھی ھیں

گیت!

عشق جیسے روشنائی کا کوئی دھبہ تھا

پیراھن پہ ناگاہاں گِرا

میں نے اُس بپھری جوانی میں

وہ موسیقی کی سرشاری سُنی

میں نے خوشبوُؤں کی پُرباری سُنی

میں نے بازاروں میں گھبرائے ھجوُموں کا

وھی نغمہ، وھی شیون سُنا

جو ھر اِک زخمی سے کہتا ھے کہ :’’آ،

تیرا مزار اب میں ھی ھوُں،

میں وہ مطلع ھوُں جو اُجلا ھی سہی

نارس بھی ھے

میں وہ تصویرِ خداوندی ھوُں، دُھندلائی ھوئی

میں وہ دُنیا ھوُں کہ جس کے لَب نہیں!‘‘

لیکن اپنے زرد آج اور سُرخ کل کے درمیاں

تنگ دوراھے پہ اِک لمحہ بھی تھا

نارنج رنگ!

ھاں، اسی لمحے میں

کتنے راہ سے بھٹکے پرندے

ذہن کے بُرجوں پر آ بیٹھے کہ :’’ھم،

ھم میں کھو جا! ھم تجھے لے جائیں گے

اب اُس حِنا تک

اُگ رھی ھے، آک کے مسموُم پیمانوں کے پاس

اُن سے رس لیتی ھوُئی!‘‘

ن م راشد

آنکھیں کالے غم کی

اندھیرے میں یوں چمکیں آنکھیں کالے غم کی

جیسے وہ آیا ہو بھیس بدل کر آمر کا

آنے والے جابر کا!

سب کے کانوں میں بُن ڈالے مکڑی نے جالے

سب کے ہونٹوں پر تالے

سب کے دلوں میں بھالے!

اندھیرے میں یوں چمکے میلے دانت بھی غم کے

جیسے پچھلے دروازے سے آمر آ دھمکے

سر پر ابنِ آدم کے!

غم بھی آمر کے مانند اک دُم والا تارا

یا جلتا بجھتا شرارا،

جو رستے میں آیا سو مارا!

غم گرجا برسا، جیسے آمر گرجے برسے

خلقت سہمی دبکی تھی اک مبہم سے ڈر سے

خلقت نکلی پھر گھر سے!

بستی والے بول اٹھے! ’’اے مالک! اے باری!

کب تک ہم پہ رہے گا غم کا سایہ یوں بھاری،

کب ہو گا فرماں جاری؟‘‘

ن م راشد

آنکھوں کے جال

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال

میز کی سطحِ درخشندہ کو دیکھ

کیسے پیمانوں کا عکسِ سیمگوں

اس کی بے اندازہ گہرائی میں ہے ڈوبا ہوا

جیسے میری روح، میری زندگی

تیری تابندہ سیہ آنکھوں میں ہے

مے کے پیمانے تو ہٹ سکتے ہیں یہ ہٹتی نہیں

قہوہ خانے کے شبستانوں کی خلوت گاہ میں

آج کی شب تیرا دزدانہ ورود

عشق کا ہیجان، آدھی رات اور تیرا شباب

تیری آنکھ اور میرا دل

عنکبوت اور اس کا بےچارہ شکار

تیرے ہاتھوں میں مگر لرزش ہے کیوں؟)

کیوں ترا پیمانہ ہونٹوں سے ترے ہٹتا نہیں

خام و نو آموز ہے تُو ساحرہ

کر رہی ہے اپنے فن کو آشکار

(اور اپنے آپ پر تجھ کو یقیں حاصل نہیں

پھر بھی ہے تیرے فسوں کے سامنے مجھ کو شکست

میرے تخیلات، میری شاعری بیکار ہیں

اپنے سر پر قمقموں کے نور کا سیلاب دیکھ

جس سے تیرے چہرے کا سایہ ترے سینے پہ ہے

اس طرح اندوہ میری زندگی پر سایہ ریز

تیری آنکھوں کی درخشانی سے ہے

سایہ ہٹ سکتا ہے، غم ہٹتا نہیں

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال

دیکھ وہ دیوار پر تصویر دیکھ

یہ اگر چاہے کہ اس کا آفرینندہ کبھی

اس کے ہاتھوں میں ہو مغلوب و اسیر

کیسا بے معنی ہو یہ اس کا خیال

اس کو پھر اپنی ہزیمت کے سوا چارہ نہ ہو

تو مری تصویر تھی

میرے ہونٹوں نے تجھے پیدا کیا

آج لیکن میری مدہوشی کو دیکھ

میں کہ تھا خود آفرینندہ ترا

پابجولاں میرے جسم و روح تیرے سامنے

اور دل پر تیری آنکھوں کی گرفتِ ناگزیر

ساحری تیری خداوندی تیری

عکس کیسا بھی ہو فانی ہے مگر

یہ نگاہوں کا فسوں پایندہ ہے

ن م راشد

آگ کے پاس

پیرِ واماندہ کوئی

کوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاں

نوجوان بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوں

(اِک رقابت کی سیاہ لہر بہت تیز

مرے سینہ ءِ سوزاں سے گزر جاتی ہے)

جس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گلداں کی

مس و سیم کے کاسوں کی چمک!

اور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے

کوئلے آگ میں جلتے ہوئے

کن یادوں کی کس رات میں

جل جاتے ہیں؟

کیا انہی کانوں کی یادوں میں جہاں

سال ہا سال یہ آسودہ رہے؟

انہی بے آب درختوں کے وہ جنگل

جنہیں پیرانہ سری بار ہوئی جاتی تھی؟

کوئلے لاکھوں برس دور کے خوابوں میں الجھ جاتے ہیں

آج شب بھی وہ بڑی دیر سے

گھر لوٹا ہے

اس کے الفاظ کو

ان رنگوں سے، آوازوں سے کیا ربط

جو اس غم زدہ گھر کے خس و خاشاک میں ہیں؟

اس کو اس میز پہ بکھری ہوئی

خوشبوؤں کے جنگل سے غرض؟

آج بھی اپنے عقیدے پہ بدستور

بضد قائم ہے!

وہ درختوں کے تنومند تنے

(اپنے آئندہ کے خوابوں میں اسیر)

گرد باد آ ہی گئے

ان کی رہائی کا وسیلہ بن کر

خود سے مہجورئ ناگاہ کا حیلہ بن کر

آئے اور چل بھی دیے

طولِ المناک کی دہلیز پہ

’’رخصت‘‘ کہہ کر

اور وہ لاکھوں برس سوچ میں

آیندہ کے موہوم میں خوابیدہ رہے!

میرے بیٹے، تجھے کچھ یاد بھی ہے

میں نے بھی شور مچایا تھا کبھی

خاک کے بگڑے ہوئے چہرے کے خلاف؟

لحنِ بے رنگ ہوا سن کے

مری جاں بھی پکار اٹھّی تھی؟

میں کبھی ایک انا اور کبھی دو کا سہارا لیتا

اپنی ساتھی سے میں کہہ اٹھتا کہ ’’جاگو، اے جان!

ہر انا تیرہ بیاباں میں

بھٹکتے ہوئے پتوں کا ہجوم!

میرا ڈر مجھ کو نگل جائے گا‘‘

میرے کانوں میں مرے کرب کی آواز

پلٹ آتی تھی

’’تجھے بے کار خداؤں پہ یقیں

اب بھی نہیں؟

اب بھی نہیں؟

آج بھی اپنے ہی الحاد کی کرسی میں

پڑا اونگھتا ہوں

نوجواں بیٹے کے الفاظ پہ چونک اٹھتا ہوں:

تو نے، بیٹے،

یہ عجب خواب سنایا ہے مجھے

اپنا یہ خواب کسی اور سے ہر گز نہ کہو!‘‘

کبھی آہستہ سے دروازہ جو کھلتا ہے تو ہنس دیتا ہوں

یہ بھی اس رات کی صر صر کی

نئی چال، نیا دھوکا ہے!

’’پھول یا پریاں بنانے کا کوئی نسخہ

مرے پاس نہیں ہے بیٹے

مجھے فرداؤں کے صحرا سے بھی

افسونِ روایت کی لہک آتی ہے

آگ میں کوئلے بجھنے کی تمنا نہ کرو

ان سے آیندہ کے مٹتے ہوئے آثار

ابھر آئیں گے

ان گزرتے ہوئے لمحات کی تنہائی میں

کیسا یہ خواب سنایا ہے مجھے تو نے ابھی

نہیں، ہر ایک سے،

ہر ایک سے یہ خواب کہو

اس سے جاگ اٹھتا ہے

سویا ہوا مجذوب

مری آگ کے پاس

ایسے مجذوب کو اک خواب بہت

خواب بہت۔۔۔۔۔ خواب بہت۔۔۔

ایسے ہر مست کو

اک خواب بہت!

ن م راشد

آرزو راہبہ ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔ آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

آرزو راہبہ ہے، عمر گزاری جس نے

انہی محروم ازل راہبوں، معبد کے نگہبانوں میں

ان مہ و سالِ یک آہنگ کے ایوانوں میں!

کیسے معبد پہ ہے تاریکی کا سایہ بھاری

روئے معبود سے ہیں خون کے دھارے جاری

۔۔۔۔۔۔۔۔ راہبہ رات کو معبد سے نکل آتی ہے

جھلملاتی ہوئی اک شمع لیے

لڑکھڑاتی ہوئی، فرش و در و دیوار سے ٹکراتی ہوئی!

دل میں کہتی ہے کہ اس شمع کی لو ہی شاید

دور معبد سے بہت دور چمکتے ہوئے انوار کی تمثیل بنے

آنے والی سحرِ نو یہی قندیل بنے

۔۔۔۔۔۔ آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

ہاں مگر راہبوں کو اس کی خبر ہو کیونکر

خود میں کھوئے ہوئے، سہمے ہوئے، سرگوشی سے ڈرتے ہوئے

راہبوں کو یہ خبر ہو کیونکر

کس لیے راہبہ ہے بےکس و تنہا و حزیں!

راہب استادہ ہیں مرمر کی سلوں کے مانند

بے کراں عجز کی جاں سوختہ ویرانی میں

جس میں اُگتے نہیں دل سوزئ انساں کے گلاب

راہبہ شمع لیے پھرتی ہے

یہ سمجھتی ہے کہ اس سے درِ معبد پہ کبھی

گھاس پر اوس جھلک اٹھے گی

سنگریزوں پہ کوئی چاپ سنائی دے گی!

ن م راشد

آئینہ حسّ و خبر سے عاری

آئینہ حسّ و خبر سے عاری،

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

منحصر ہستِ تگا پوئے شب و روز پہ ہے

دلِ آئینہ کو آئینہ دکھائیں کیسے؟

دلِ آئینہ کی پہنائی بے کار پہ ہم روتے ہیں،

ایسی پہنائی کہ سبزہ ہے نمو سے محروم

گلِنو رستہ ہے بو سے محروم!

آدمی چشم و لب و گوش سے آراستہ ہیں

لطفِ ہنگامہ سے نورِمن و تو سے محروم!

مے چھلک سکتی نہیں، اشک کے مانند یہاں

اور نشّے کی تجلّی بھی جھلک سکتی نہیں

نہ صفائے دلِ آئینہِگزرگاہِ خیال!

آئینہ حسّ و خبر سے عاری

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

آئینہ ایسا سمندر ہے جسے

کر دیا دستِ فسوں گر نے ازل میں ساکن!

عکس پر عکس در آتا ہے یہ امّید لیے

اس کے دم ہی سے فسونِ دلِ تنہا ٹوٹے

یہ سکوتِ اجل آسا ٹوٹے!

آئینہ ایک پر اسرار جہاں میں اپنے

وقت کی اوس کے قطروں کی صدا سنتا ہے،

عکس کو دیکھتا ہے، اور زباں بند ہے وہ

شہر مدفون کے مانند ہے وہ!

اس کے نابود کو ہم ہست بنائیں کیسے؟

آئینہ حسّ و خبر سے عاری!

ن م راشد

آ لگی ہے ریت

آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھ

سارے دروازوں کے ساتھ

سرخ اینٹوں کی چھتوں پر رینگتی ہے

نیلی نیلی کھڑکیوں سے جھانکتی ہے

ریت ۔۔ رُک جا

کھیل تہ کر لیں

سنہرے تاش کے پتّوں سے

درزوں، روزنوں کو بند کر لیں

ریت

رُک جا

سست برساتیں کہ جن پر دوڑپڑنا،

جن کو دانتوں میں چبا لینا

کوئی مشکل نہ تھا

تُو نے وہ ساری نگل ڈالی ہیں رات ۔۔

رات ہم ہنستے رہے، اے ریت

تو دیوانی بلّی تھی جو اپنی دم کے پیچھے

گھومتی جاتی تھی

اس کو چاٹتی جاتی تھی رات!

ریت کی اِک عمر ہے اِک وقت ہے

لیکن ہمیں

خود سے جدا کرتی چلی جاتی ہےریت

ناگہاں ہم سب پہ چھا جانے کی خاطر

یہ ہماری موت بن کر تازہ کر دیتی ہے

یادیں دُور کی (یا دیر کی)

ریت کو مٹھی میں لے کر دیکھتے ہیں

اپنے پوروں سے اِسے چھنتے ہوئے

ہم دیکھتے ہیں

اپنے پاؤں میں پھسلتے دیکھتے ہیں

ریت پر چلتے ہوئے

اپنے گیسو اِس سے اٹ جاتے ہیں

بھر جاتے ہیں پیراہن

ہمارے باطنوں کو چیرتی جاتی ہے ریت

پھیلتی جاتی ہے جسم و جاں کے ہر سُو

ہم پہ گھیرا ڈالتی جاتی ہے

ریت!

ریت اِک مثبت نفی تھی

ریت سرحد تھی کبھی

ریت عارف کی اذیّت کا بدل تھی

آنسوؤں کی غم کی پہنائی تھی ریت

اپنی جویائی تھی ریت

ریت میں ’’ہر کس‘‘ تھے ہم

دوسرا کوئی نہ تھا

ریت وہ دنیا تھی جس پر

دشمنوں کی مہر لگ سکتی نہ تھی

اِس کو اپنا تک کوئی سکتا نہ تھا ۔۔۔

ریت پر ہم سن رہے ہیں آج

پیرانہ سری کی، اپنی تنہائی

کی چاپ

دن کے ساحل پر اتر کر

آنے ولی رات کے تودے لگاتی جارہی ہے

ناگہاں کے بے نہایت کو اڑا لائی ہے

ریت

دِل کے سونے پن میں در آئی ہے

ریت!

ن م راشد

’’آپ‘‘ کے چہرے

’’آپ‘‘ ہم جس کے قصیدہ خواں ہیں

وصل البتّہ و لیکن کے سوا

اور نہیں

’’آپ‘‘ ہم مرثیہ خواں ہیں جس کے

ہجر البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں

’’آپ‘‘ دو چہروں کی ناگن کے سوا اور نہیں!

روز ’’البتّہ‘‘ مرے ساتھ

پرندوں کی سحر جاگتے ارمانوں

کے بستر سے اٹھا

سیر کی، غسل کیا

اور مرے ساتھ ہی صبحانہ کیا،

بے سرے گیت بھی گائے

یونہی ’’لیکن‘‘ بھی مرے ساتھ

کسی بوڑھے جہاں گرد کے مانند

لڑھکتا رہا، لنگڑاتا رہا

شام ہوتے ہی وہ ان خوف کے پتلوں کی طرح

جو زمانے سے، کسی شہر میں مدفون چلے آتے ہوں

ناگہاں نیندوں کی الماری میں پھر ڈھیر ہوئے

ان کے خرّانٹوں نے شب بھی مجھے سونے نہ دیا

’’آپ‘‘ البتّہ و لیکن کے سوا اور نہیں

بارہا ایک ہی وہ چہرہ وہ ’’البتّہ‘‘

جسے جانتے ہو

دن کی بیہودہ تگ و تاز میں،

یا شور کے ہنگامِمن و توئی میں

نوحہ گر ہوتا ہے ’’لیکن‘‘ پہ کہ موجود نہیں

بارہا ایک ہی وہ چہرہ وہ ’’لیکن‘‘

جسے پہچانتے ہو

اپنے سنّاٹے کے بالینوں پر

اپنی تنہائی کے آئینوں میں

آپ ہی جھولتا ہے

قہقہے چیختا ہے

اپنے البتہ کی حالت پہ کہ موجود نہیں

آؤ، البتّہ و لیکن کو

کہیں ڈھونڈ نکالیں پھر سے

ان کے بستر پہ نئے پھول بچھائیں

جب وہ وصل پہ آمادہ نظر آئیں

تو (ہم آپ) کسی گوشے میں چپ چاپ سرک جائیں!

ن م راشد

ہم تو لہریں ہیں

ہم تو جیسے لہریں ہیں

آسمان کو

چھونے کی خواہش میں

ہم جست لگائیں

تو لگتا ہے

پانی سے شاخیں پھوٹ پڑی ہیں

ہم تو پل چھن میں

اپنے ہونے کا مظاہرہ کر کے

اس ہیئت میں کھو جاتے ہیں

جو ہمیں بے ہیئت کر دیتی ہے

دھرتی کے تہ در تہ رازوں میں رقصاں

اس موجود میں جو موجود ہے

سب کو اپنے جال میں جکڑے ہوئے ہے

ہم سب لاکھوں تار و پود میں گندھے ہوئے ہیں

توقیر عباس

کوئی ہے؟

کوئی ہے! کوئی ہے! کی صدائیں،

لگاتے ہوئے،

میں سراپا صدا بن گیا،

لوگ آنکھوں کے گہرے گڑھوں سے

مجھے گھورتے،

ایک کیچڑ بھری لہر اُٹھتی شناسائی کی،

میری جانب لپکتی،

مگر ایک جھپکی میں معدوم پڑتی

وہ پھر اپنی گدلی خموشی سمیٹے،

کہاں، کس طرف آتے جاتے،

خبر کچھ نہیں تھی،

برسوں پہلے اسی شہر میں،

بوڑھے پیڑوں تلے آگ روشن تھی اور،

ایک خوشبو گواہی میں موجود تھی،

وہ کہ عہدِ مقدس کی تقریب تھی،

ساتھ دینے کا اک عہد تھا،

اپنی چاہت کے اقرار میں،

کہہ کے لبیک

آواز سے دستخط کر دئیے

اور پھر ایک دن

اپنے اقرار کو بھول کر

میں اسے بھول کر،

اُن دیاروں کی جانب چلا،

جن کو دینار و درہم کی خوشبو نے جکڑا ہوا تھا،

جب میں لوٹا

کھنکتی مہک کی کئی گٹھڑیاں باندھ کر،

کوئی رستہ نہ صورت شناسا ملی،

وہ شجر بھی کہیں پر نہ تھے،

اور لکیروں سے تشکیل پاتی ہوئی،

ایک بے چہرگی تھی ۔

جہاں عقل و دانش کی باتیں فقط شور تھیں

رنگوں اور خوشبوؤں کی جگہ

ایک صحرا ابھرتا نظر آ رہا تھا

اُسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے

بے خدوخال چہرہ ہوا

میری آنکھیں کہیں بہہ گئیں

اور میں

بے صدائی کی تاریک کھائی میں گرتا گیا

اور گرتا چلا جا رہا ہوں

توقیر عباس

کہانی تونے کتنی دیر کی

کہانی تونے کتنی دیر کی

کچھ دیر پہلے

بام و در روشن تھے

آنگن جگمگاتے تھے

سلامت جگنوؤں کی روشنی تھی

تتلیوں کے رنگ قائم تھے

پرندوں کی اڑانیں تک بہت محفوظ تھیں

پیڑوں کی ساری ٹہنیاں آباد تھیں

شہزادے بھی شہزادیاں بھی جاگتی تھیں

استعارے زندگی کے ضو فشاں تھے

اور صبحوں میں بھرا تھا نور سجدوں کا

اگر تو جلد آ جاتی

ترا باطن منور

تجھے سیراب کرتے

مگر اب خاک میں سب کچھ دبا ہے

توقیر عباس

عجب مزدور ہے

عجب مزدور ہے

ہر کام کرتا ہے

گھڑی کی سوئیوں میں گھومتا ہے

بہاو بن کے بہتا ہے

زمانوں سے زمانوں تک

شکست و ریخت کرتا ہے

کہیں تعمیر کرتا ہے

خزانے برد کرتا ہے

کہیں دھرتی کی تہہ سے

کوئی گنجِ گمشدہ بھی کھینچ لاتا ہے

کسی کا ساتھ دیتا ہے

کسی کوچھوڑ جاتا ہے

پہاڑوں جنگلوں میں بھی

نظر آتا ہے اپنا کام کرتا

لٹیرا بھی ہے جابر بھی

سخی بھی مہرباں بھی ہے

وہ چاروں سمت چلتا ہے

اسے تو چلتے جانا ہے

ازل کی وادیوں سے

ابد کے سبزہ زاروں تک

عجب مزدور ہے

توقیر عباس

دور پیڑوں کے سائے میں

دور پیڑوں کے سائے میں۔۔۔

حرکت، مسلسل

مرا دھیان اس کی طرف

اوردل میں کئی واہمے

دل کی دھڑکن میں دھڑکیں

کئی گردشیں

اور میں ہشت پائے کے پنجے میں جکڑا گیا

عجب خوف پیڑوں کے سائےمیں پلتا ہوا

اک تحرک

جو کھلتا نہیں

اور میں منتظر

جو بھی ہونا ہے اب ہو

اور اب ایک آہٹ نے دہلا دیا

بہت دھیمی آہٹ

اجل نے چھوا ہو

کہ دنیا اندھیرے میں ڈوبی

کہیں دور خوشبو میں مہکا سویرا

تحرک کی ہچکی سنی

اور ہر چیز اپنی جگہ تھم گئی

سیاہی کا پردہ گرا

قمقمے جل اُٹھے

اور گھر جگمگانے لگے

توقیر عباس

بھرا شہر اس دن پریشان تھا

بھرا شہر اس دن پریشان تھا

چوبداروں کی جاں پر بنی تھی

سپاہی ہراساں تھے

راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا

رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایہ جما تھا

کہانی مکمل نہیں تھی

وزیروں کے اذہان عاجز تھے

کیسے مکمل کریں اور عنوان کیا دیں

ادھورے کو پورا بھی کرنا کوئی کار آساں نہیں

منادی کرا دی گئی

لفظ و عنواں کوئی ڈھونڈ لائے تو انعام پائے

مگر وہ کہانی نجانے کہاں کھو گئی ہے

جسے ڈھونڈنے میں بھی صدیوں سے نکلا ہوا ہوں

توقیر عباس

بکھری راکھ سے۔۔۔

اور اب دھیان میں لاؤں

وہ پل

لاکھ یگوں کے یم کا رستہ جس پر

چھدے ہوئے جسموں کی دھڑکن

نوحہ کناں تھی

ٹوٹتے جڑتے سلسلے لمحوں کے

ٹھیکریاں جب ہیروں سے مس ہو کر

تاب یاب تھیں

کتنے سورج اپنی راکھ میں غلطاں تھے

سب دھاگے ٹوٹ کے بکھر گئے تھے

جسم جلاتی گرم ہوا کی لپٹیں

رنگوں کو صحرا کے پھیکے پن میں ڈھال رہی تھیں

کوندے جھماکے لاکھ نطارے

کتنی کائناتیں جو

بود نہ بود کے ایک نظام سے جڑ کر

ایک تسلسل سے مصروف عمل تھیں

چاروں جانب اڑتی راکھ تھی

دور کہیں پربجتی بانسری

جس کی دھن میں

بکھری راکھ سے روئے زماں کی

پھر تشکیل ہوئی تھی

توقیر عباس

اس دن

اس دن تو وہ خود بھی شکستہ قابلِ رحم تھا لیکن،

کون تھا جس کے لئے

اس کی ہمدردی نہیں تھی،

جس پر اس کو ترس نہیں آیا تھا،

سو اُس نے اِس لمحے کے زیر اثر،

سب اشیا ء کو دیکھا،

دریا ندی سمندر اپنے کناروں میں سمٹے بل کھاتے ہیں،

تھل میں ویرانی رقصاں ہے،

پیڑ ہیں پاگل ہوا میں ہاتھ میں ہلاتے رہتے ہیں،

پنچھی کتنا اڑتے ہیں،

کو ہ فقط تخریب کی زد پر آ کر گرتے

زلزلےپیداکرتے رہتے ہیں،

ہوا بھی اندھی ہے،

جو سب سے مراسم رکھتی ہے،

اس جیسے سب انساں

اک کاہش میں رینگتی روحیں ہیں،

اس نے دیکھا،

سب کچھ اک مربوط نظام کی جکڑن میں ہے،

سب کچھ جدا جدا ہے،

لیکن اک دوجے سے

لاکھوں رشتے جڑے ہو ئے ہیں۔

توقیر عباس

ﺭﻧﮓ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 10
ﮐﺮﺏ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺭﻧﮓ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺑﺎﺕ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮐﯽ ﻧﮑﻞ ﺁئی
ﻋﯿﺐ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﮐﺘﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﮨﻮﻧﺎ
ﭘﺎﺅﮞ زﻧﺠﯿﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﻭﺍﺭ ﺍﺗﻨﺎ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ
زﺧﻢ ﺷﻤﺸﯿﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺍﺏ ﻭﮦ ﺗﻨﮩﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺼﻮ ﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺩﻭﺳﺖ ﻣﺤﻔﻞ ﺳﮯ ﺍٹھ ﮔئے ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺣﺒﺲ ﭨﻮﭨﺎ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺎ ﺗﻮﻗﯿﺮ
ﺷﮩﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
توقیر عباس

ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺴﺘﮧ ﻣﮑﺎﮞ ﺑﮭﯽ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 9
ﻣﺮﺗﯽ ﮨﻮئی ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺴﺘﮧ ﻣﮑﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺍﻧﺠﺎﻥ زﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﮨﻤﺮﺍﮦ ﻣﺮﮮ ﮨﮯ ﺧﺲ ﻭ ﺧﺎﺷﺎﮎ ﻭ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺍﺱ ﮨﺠﺮ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍﺅﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮈﺭ ﮨﮯ
ﺁﺳﯿﺐ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮئے ﭼﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ
ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﻮ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺑﮭﯽ
ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺼﺮﻋﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﭨﮭﺎ ﺩﻭﮞ
ﺍﮎ ﺳﺎتھ ﮔﺮﺍ ﮨﮯ ﺗﺮﺍ ﻣﻠﺒﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﺎﮞ ﺑﮭﯽ
توقیر عباس

ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺁﺯﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 8
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﺳﮯ ﺗﺮﮮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺁﺯﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﯾﮑﮫ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﺒﺰ ﮐﺠﺎﻭﮮ ﺗﯿﺎﺭ
ﮐﻮﻥ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﺮﮮ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﻮئی ﺁﻭﺍﺯ ﮨﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﺳﮯ ﺟﮍﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﻟﻔﻆ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﭘﯿﮍ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﮯ ﻧﻘﺶِ ﮐﻒِ ﭘﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺻﺎﺣﺐِ ﺷﯿﻮﮦ ﻭ ﺍﯾﺼﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
باﮨﺮ ﺁﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﮕﺮ
ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﮮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﻧﻈﺮ ﺗﮏ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎئے ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺒﮭﯽ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﭘﺮ
ﭘﮭﻮﻝ ﺁﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮨﮯ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ
ﭘﮭﺮ ﺳﺤﺮ ﺩﻡ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﻗﯿﺮ ﺗﺠﺴﺲ ﺗﻮ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﻟﮯ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺳﺎیۂِ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
توقیر عباس

ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 7
ﻣﯿﺎﻥ ﺭﻭﻧﻖ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﺑﮑﮭﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨوںﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﮔﮩﺮﺍ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺼﻠﻮﺏ ﮐﺮﻧﺎ
ﺗﺮﯼ ﺳﻮﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﯿﮍﻭﮞ ﺗﻠﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﺑﮩﺖ ﺩﻟﮑﺶ ﮨﯿﮟ ﺳﻨﮓ ﻭ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ
ﺗﺮﯼ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻄﺎ ﺳﺮ ﺯﺩ ﮨﻮئی ﺗﮭﯽ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺑﺮﺳﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
توقیر عباس

پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 6
اک وقت تو ایسا تھا کہ دن رات کڑے تھے
پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے
ھم نیند کے عالم میں کوئی موڑ مڑے تھے
دیکھا تو ابد گیر زمانے میں کھڑے تھے
معلوم ہے جس موڑ پہ بچھڑے تھے اسی جا
کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے اشجار کھڑے تھے
ہر موڑ پہ ہوتا تھا یہاں قتل وفا کا
ہر موڑ پہ ٹوٹے ہوئے آئینے پڑے تھے
ڈر تھا کہ پکارا تھا تمھیں ذر کی چمک نے
میدان سے تم لوگ کہاں بھاگ پڑے تھے
اسطورۂِ بغداد کو شب خواب میں دیکھا
وہ حسن تھا شہزادے قطاروں میں کھڑے تھے
تم نے بھی بہت اشک بہائے تھے بچھڑ کر
پیڑوں سے بھی اس رات بہت پات جھڑے تھے
اک قافلہ بھٹکا تھا کسی خواب کے اندر
اک شہر کے رستے میں بہت موڑ پڑے تھے
توقیر عباس

چھو کے ساحل لہر ہٹتی جا رہی تھی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 5
زندگی کی نبض گھٹتی جا رہی تھی
چھو کے ساحل لہر ہٹتی جا رہی تھی
زندگی کی نبض گٹھتی جا رہی تھی
اک ندی ساحل سے ہٹتی جا رہی تھی
کوئی مجھ کو یاد آتا جا رہا تھا
بیل پتھر سے لپٹتی جا رہی تھی
روح پر بھی لاکھ شکلیں پڑ رہی تھیں
دھول سے چادر بھی اٹتی جا رہی تھی
چھو رہی تھی سوئی خطرے کے نشاں کو
ایک منزل تھی سمٹتی جا رہی تھی
اس کی باتیں دوستوں پر کھل رہی تھیں
ایک چادر تھی جو پھٹتی جا رہی تھی
میں اسے اپنی محبت کہہ رہا تھا
وہ کئی رستوں میں بٹتی جا رہی تھی
روح پر بھی شکنیں پڑ رہی تھیں
دھول سے چادر بھی اٹتی جا رہی تھی
دھیرے دھیرے لوگ آگے بڑھ رہے تھے
دھیرے دھیرے دھند چھٹتی جا رہی تھی
کنکوا مغرب میں ڈوبا جارہا تھا
ڈور چرخی سے لپٹتی جا رہی تھی
لوگ بھی بے سوچے سمجھے چل رہے تھے
ذیست بھی صفحے پلٹتی جا رہی تھی
کشتیوں کے بادباں لہرا رہے تھے
ساحلوں سے دھند چھٹتی جا رہی تھی
سانس کا توقیر آرا چل رہا تھا
زندگانی اپنی کٹتی جا رہی تھی
توقیر عباس

دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 4
نجانے آگ کیسی آئنوں میں سو رہی تھی
دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی
لہو میری نسوں میں بھی کبھی کا جم چکا تھا
بدن پر برف کو اوڑھے ندی بھی سو رہی تھی
چمکتے برتنوں میں خون گارا ہو رہا تھا
مری آنکھوں میں بیٹھی کوئی خواہش رو رہی تھی
ہماری دوستی میں بھی دراڑیں پڑ رہی تھیں
اجالے میں نمایاں تیرگی بھی ہو رہی تھی
دباؤ پانیوں کا ایک جانب بڑھ رہا تھا
نجانے ساحلوں پر کون کپڑے دھو رہی تھی
کسی کے لمس کا احساس پیہم ہو رہا تھا
کہ جیسے پھول پر معصوم تتلی سو رہی تھی
توقیر عباس