زمرہ جات کے محفوظات: ماجد صدیقی

زاغ جُتے دیکھے، پس خوردہ کھانے میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
فرق نہ سمجھیں کچھ دھُتکارے جانے میں
زاغ جُتے دیکھے، پس خوردہ کھانے میں
پیڑ بحالِ ضعف بھی ہے مسرور لگا
خشک زبانوں کے پرچم لہرانے میں
پر ٹُوٹے اور ساتھ ہوا نے چھوڑ دیا
سطر بڑھا دو یہ بھی اب افسانے میں
لو اس کو بھی تکڑی تول جو رکھتا تھا
وقت نے دیر نہ کی عادل ٹھہرانے میں
اپنی جگہ امید سے پیروکار سبھی
رہبر محو ہے ماجد، مال بنانے میں
ماجد صدیقی

کس نے کس کو کتنا نیچا دِکھلانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
عہد یہی اب اِنسانوں نے ٹھہرانا ہے
کس نے کس کو کتنا نیچا دِکھلانا ہے
چڑیوں نے ہے اپنی جان چھپائے پھرنا
شہبازوں نے اپنی دھونس پہ اِترانا ہے
دھوپ کے ہاتھوں اِن سے اوس کی نم چھننے پر
گرد نے پھولوں کو سہلانے آ جانا ہے
سورج کے ہوتے، جب تک محتاجِ ضیا ہے
چاند نے گھٹنا بڑھنا ہے اور گہنانا ہے
جانبِ تشنہ لباں پھر بڑھنے لگا مشکیزہ
جبر نے جِس پر تیر نیا پھر برسانا ہے
عاجز ہم اور قادر اور کوئی ہے ماجد
جیون بھر بس درس یہی اِک دہرانا ہے
ماجد صدیقی

چِڑا رہے ہیں مرا منہ، مرے سخن کے گلاب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
شرف مآب ہوئے سے جب سے مکر و فن کے گلاب
چِڑا رہے ہیں مرا منہ، مرے سخن کے گلاب
بناتِ شہر کی پژمردگی وہ کیا جانے
بہم ہر آن جسے ہوں، بدن بدن کے گلاب
ملے نہ جس کا کہیں بھی ضمیر سے رشتہ
گراں بہا ہیں اُسی فکرِ پر فتن کے گلاب
سخن میں جس کے بھی اُمڈی ریا کی صنّاعی
ہر ایک سمت سے برسے اُسی پہ دَھن کے گلاب
یہاں جو قصر نشیں ہے، یہ جان لے کہ اُسے
نظر نہ آئیں گے ماجد، تجھ ایسے بن کے گلاب
ماجد صدیقی

سورج نے کھُلی آنکھ سے ہے کم ہمیں دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
شاخیں یہی کہتی ہیں، نہ بے دم ہمیں دیکھا
سورج نے کھُلی آنکھ سے ہے کم ہمیں دیکھا
ژالوں سے بچے ہیں تو ہوا نوچنے آئی
اِس خاک نے ہر حال میں برہم ہمیں دیکھا
ہر دیکھنے والے نے دھند لکوں میں حسد کے
مہتابِ سرِ صبح سا، مدّھم ہمیں دیکھا
ماجد ہوئے ہم اوس ، گیاہِ لبِ جو کی
ہر شخص نے ندیا ہی میں مدغم ہمیں دیکھا
ماجد صدیقی

آگے انت اُس کا دیکھا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
شاخ پہ پھول کھِلا دیکھا ہے
آگے انت اُس کا دیکھا ہے
زور رہا جب تک سینے میں
تھا نہ روا جو، روا دیکھا ہے
فریادی ہی رہا وہ ہمیشہ
جو بھی ہاتھ اُٹھا دیکھا ہے
ہم نے کہ شاکی، خلق سے تھے جو
اب کے سلوکِ خدا دیکھا ہے
سنگدلوں نے کمزوروں سے
جو بھی کہا ، وُہ کِیا ، دیکھا ہے
جس سے کہو، کہتا ہے وُہی یہ
کر کے بَھلا بھی ، بُرا دیکھا ہے
اور نجانے کیا کیا دیکھے
ماجد نے ، کیا کیا دیکھا ہے
ماجد صدیقی

جبر نے بخشی ہمیں کیا گونجتی تنہائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
سُر اداسی کے بکھیریں سانس کی شہنائیاں
جبر نے بخشی ہمیں کیا گونجتی تنہائیاں
منتظر رہ رہ کے آنکھیں اِس قدر دھندلا گئیں
فرقِ روز و شب تلک جانیں نہ اب بینائیاں
رنگ پھیکے پڑ گئے کیا کیا رُتوں کے پھیر سے
گردشوں سے صورتیں کیا کیا نہیں گہنائیاں
جاگنے پر، تخت سے جیسے چمٹ کر رہ گئے
ہاتھ جن کے، سو کے اُٹھنے پر لگیں دارائیاں
لے کے پیمانے گلوں کی مسکراہٹ کے رُتیں
ناپنے کو آ گئیں پھر درد کی گہرائیاں
اُس سے ہم بچھڑے ہیں ماجد ابکے اِس انداز سے
پت جھڑوں میں جیسے پتوں کو ملیں رُسوائیاں
ماجد صدیقی

جہاں کے ہم مکیں ہیں، اُس نگر کی بات اور ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
سجل حویلیوں کی ، بام و در کی بات اور ہے
جہاں کے ہم مکیں ہیں، اُس نگر کی بات اور ہے
محال ہو گیا ہے، دھُند سے جسے نکالنا
چمن میں آرزو کے اُس شجر کی، بات اور ہے
صدف سے چشمِ تر کے، دفعتاً ٹپک پڑا ہے جو
گراں بہا نہیں ، پہ اُس گہر کی بات اور ہے
ہُوئی ہے روشنی سی، جگنوؤں کے اجتماع سے
لگی نہیں جو ہاتھ، اُس سحر کی بات اور ہے
کوئی کوئی ہے شہر بھر میں، تجھ سا ماجدِ حزیں
ہُوا جو تجھ پہ ختم ، اُس ہنر کی بات اور ہے
ماجد صدیقی

حبس پہنچا ہے کس اَوج پر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
سانس روکے کھڑے ہیں شجر دیکھنا
حبس پہنچا ہے کس اَوج پر دیکھنا
خرمنوں میں ہوئیں جن کی بیجائیاں
پھولنے کو ہیں اب وہ شرر دیکھنا
لیس کر کے ہمیں رختِ بارود سے
بھیجتا ہے کدھر؟ رہبر دیکھنا
کھور ہی دے بدن کو نہ آنکھوں کی نم
دیکھنا ماجدِ بے خبر دیکھنا
ماجد صدیقی

وہ ستمگر پھر ڈگر پہلی سی اپنانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
زچ ہوئے پر جو ذرا سا تھا بدل جانے لگا
وہ ستمگر پھر ڈگر پہلی سی اپنانے لگا
بچ کے پچھلے دشت میں نکلے تھے جس کے سِحر سے
پھر نگاہوں میں وہی اژدر ہے لہرانے لگا
کر کے بوندوں کو بہ فرطِ سرد مہری منجمد
دیکھ لو نیلا گگن پھر زہر برسانے لگا
جُود جتلانے کو اپنی شاہ ہنگامِ سخا
عیب کیا کیا کچھ نہ ناداروں کے دِکھلانے لگا
سُرخرُو اس نے بھی زورآور کو ہی ٹھہرا دیا
حفظِ منصب کو ستم عادل بھی یہ ڈھانے لگا
دل میں تھا ماجدؔ جو سارے دیوتاؤں کے خلاف
اب زباں پر بھی وہ حرفِ احتجاج آنے لگا
ماجد صدیقی

ختم ہونے ہی نہیں پاتا شجر کا انتظار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
رگ بہ رگ پیہم لئے برگ و ثمر کا انتظار
ختم ہونے ہی نہیں پاتا شجر کا انتظار
کوئی منزل ہو ٹھہرتی ہے وہ کیوں مل کر سراب
ہر مسافر کو ہے کیوں تازہ سفر کا انتظار
رزق تک بھی روٹھنے کو جیسے ہم ایسوں سے ہے
جو بھی ہے کھلیان اُس کو ہے شرر کا انتظار
کاوشِ اظہارِ حق سے کب بہم ہو گا اِنہیں
اہلِفن کو جانے کیوں ہے سیم و زر کا انتظار
تشنہ لب خوشوں کی آنکھیں بوندیوں پر ہیں لگی
بحر کو بہرِ تموّج ہے قمر کا انتظار
اک سے اک بے جان سُورج اپنے پہلو میں لیے
ہر سحر سونپے ہمیں، اگلی سحر کا انتظار
کرب کے آنسو طرب کے آنسوؤں میں کب ڈھلیں
آنکھ کو ماجدؔ ہے کیوں پھر بھی گہر کا انتظار
ماجد صدیقی

رگوں سے شہر کی، فاسد لہو نکلنے دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
ریا کی زد پہ ہے کب سے اسے سنبھلنے دو
رگوں سے شہر کی، فاسد لہو نکلنے دو
جو اُن کے جسم پہ سج بھی سکے مہک بھی سکے
رُتوں کو ایسا لبادہ کوئی بدلنے دو
کسی بھی بام پہ اب لَو کسی دئیے کی نہیں
چراغِ چشم بچا ہے اسے تو جلنے دو
بچے گا خیر سے شہ رگ کٹے پہ بسمل کیا
ذرا سی ڈھیل اِسے دو، اِسے اُچھلنے دو
چلن حیات کا ماجدؔ بدل بھی لو اپنا
جو سر سے ٹلنے لگی ہے بلا وہ ٹلنے دو
ماجد صدیقی

کِیا ہے چاک ہواؤں نے بادباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
رہِ سفر میں ہوئیں ہم پہ سختیاں کیا کیا
کِیا ہے چاک ہواؤں نے بادباں کیا کیا
نہ احتساب ہی بس میں، نہ احتجاج اُن کے
عوام اپنے یہاں کے ہیں بے زباں کیا کیا
فساد و فتنہ و شر کے ہم اہلِ مشرق کو
دِکھا رہا ہے نئے رنگ آسماں کیا کیا
وہ جسکے ہاتھ میں کرتب ہیں اُس کی چالوں سے
لٹیں گے اور بھی ہم ایسے خوش گماں کیا کیا
ہم ایسے اڑتے پرندوں کو کیا خبر ماجدؔ
دکھائے اور ہنر حرص کی کماں کیا کیا
ماجد صدیقی

ہم تم پائے تخت کے ہیں اور تخت نشیں کوئی اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
ذرّوں سے پہچان ہے ضو کی، ماہِ مبیں کوئی اور
ہم تم پائے تخت کے ہیں اور تخت نشیں کوئی اور
بال یہ پُوچھے منکرِ یزداں ہیں جو ہیں اور کثیر
اُنکے نصیبوں میں بھی ہے کیا فردوسِ بریں کوئی اور
آتی جاتی سانسوں کا بھی رکھ نہ سکیں جو حساب
دشمن ہیں تو ایک ہمِیں اپنے ہیں ،نہیں کوئی اور
چاند کو بس گھٹتا ہی دیکھیں اور رہیں رنجور
اِس دنیا میں شاید ہی ہو ہم سا حزیں کوئی اور
دل جس کو دینا تھا دیا اور اب ہے کہاں یہ تاب
دل کی لگن میں دیکھ لیا ہے جیسے حسیں کوئی اور
ہم ذی جوہر ہیں، یہ گماں ماجدؔ تھا گمانِ محض
اوج کی انگوٹھی میں سجا ہے دیکھ! نگیں کوئی اور
ماجد صدیقی

پسِ خیال عجب سنسنی سی شہر میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
دھڑکتی گونجتی اِک خامشی سی شہر میں ہے
پسِ خیال عجب سنسنی سی شہر میں ہے
لب و زباں پہ نہیں ہے، نظر نظر میں تو ہے
کوئی تو بات ہے جو اَن کہی سی شہر میں ہے
چھپا سکے نہ جسے کوئی بھی اَپَھل جوڑا
کچھ اِس طرح کی حزیں بیدلی سی شہر میں ہے
جھٹک رہے ہوں جسے آہوانِ رم خوردہ
وفورِ خوف میں وہ کھلبلی سی شہر میں ہے
ہُوا جو اُس کی خبر بھی ہے اور خبر بھی نہیں
چہار سُو یہی ناآگہی سی شہر میں ہے
دہک رہے ہیں گلابوں سے بام و در ماجد
جو آنچ میں ہو وہی تازگی سی شہر میں ہے
ماجد صدیقی

وہ بڑوں کو جو بڑا کچھ اور کر گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
دوسروں کے واسطے جیا تھا مر گیا
وہ بڑوں کو جو بڑا کچھ اور کر گیا
جگنوؤں تلک کی روشنی لگے فریب
رہبروں سے ہُوں کچھ اِس طرح کا ڈر گیا
ناز تھا کہ ہم سفیرِ انقلاب ہیں
پر یہ زعم بھی نشہ سا تھا اُتر گیا
خانۂ خدا سے بُت جہاں جہاں گئے
بار بار میں نجانے کیوں اُدھر گیا
پاؤں کے تلے کی خاک نے نگل لیا
میں تو تھا کنارِ آب باخبر گیا
لعل تھا اٹا تھا گرد سے، پہ جب دھُلا
ماجدِ حزیں کچھ اور بھی نکھر گیا
ماجد صدیقی

چراغ بجھنے پہ آئے تو پھڑپھڑائے بہت

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دمِ زوال ، رعونت زباں پہ لائے بہت
چراغ بجھنے پہ آئے تو پھڑپھڑائے بہت
یہی تو ڈُوبتے سُورج کا اِک کرشمہ ہے
بڑھائے قامتِ کوتاہ تک کے، سائے بہت
قلم کے چاک سے پھوٹے وہ، مثل بیلوں کے
جو لفظ ہم نے زباں کے تلے دبائے بہت
ستم ستم ہے کوئی جان دار ہو اُس کو
نگل کے آب بھی اِک بار تھرتھرائے بہت
ہمارے گھر ہی اُترتی نہ کیوں سحر ماجد
تمام رات ہمِیں تھے جو کلبلائے بہت
ماجد صدیقی

آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
دستِ شفقت کیوں بہ حقِ جور بن جانے لگا
آسماں کیوں ٹوٹ کر نیچے نہیں آنے لگا
کھیت جلنے پر بڑھا کر عمر، اپنے سود کی
کس طرح بنیا، کسانوں کو ہے بہلانے لگا
جانے کیا طغیانیاں کرنے لگیں گھیرے درست
گھونسلوں تک میں بھی جن کا خوف دہلانے لگا
خون کس نے خاک پر چھڑکا تھا جس کی یاد میں
اِک پھریرا سا فضاؤں میں ہے لہرانے لگا
مہد میں مٹی کے جھونکا برگِ گل کو ڈال کر
کس صفائی سے اُسے رہ رہ کے سہلانے لگا
ماجد صدیقی

ابکے یُوں بھی کھیتیاں سیراب ہونے لگ پڑیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
خونِ مظلوماں سے ہیں شاداب ہونے لگ پڑیں
ابکے یُوں بھی کھیتیاں سیراب ہونے لگ پڑیں
غاصبانِ تخت کی خود ساختہ آفات سے
جانے کیا کیا ہستیاں، غرقاب ہونے لگ پڑیں
حق طلب ہیں جس قدر خاموش رکھنے کو اُنہیں
اجتماع گاہیں تلک برقاب ہونے لگ پڑیں
حرص زادوں کے تدّبر کی تہِ شیریں لئے
گالیاں بھی شاملِ آداب ہونے لگ پڑیں
جب سے ماجدؔ مکر کا غلبہ مناصب پر ہُوا
دیکھ کیا کیا حرمتیں بے آب ہونے لگ پڑیں
ماجد صدیقی

پر شہِ بے پیرہن کو میں نے عریاں کہہ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
خلق نے تو اس کو ایسے میں بھی ذی شاں کہہ دیا
پر شہِ بے پیرہن کو میں نے عریاں کہہ دیا
رزق نے جس کے مجھے پالا ہے جس کا رزق ہوں
کہہ دیا اس خاک کو میں نے رگِ جاں کہہ دیا
اِس تمنّا پر کہ ہاتھ آ جائے نخلستاں کوئی
خود غرض نے دیکھ صحرا کو گلستاں کہہ دیا
ہمزبانِ شاہ وہ بھی تھے جنہوں نے آز میں
رات تک کو، یار کی زلفِ پریشاں کہہ دیا
میں وہ خوش خُو جس نے دو ٹانگوں پہ چلتا دیکھ کر
شہر کے بن مانسوں تک کو بھی انساں کہہ دیا
کیا کہوں کیوں میں نے سادہ لوح چڑیوں کی طرح
وقفۂ شب کو بھی تھا صبحِ درخشاں کہہ دیا
اس کے ناطے، درگزر جو محض عُجلت میں ہوئی
گرگ کو بھی بھیڑ نے ماجدؔ پشیماں کہہ دیا
ماجد صدیقی

لوگ تماشا بننے سے کترانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
حق طلبی سے اب کے دھیان ہٹانے لگے ہیں
لوگ تماشا بننے سے کترانے لگے ہیں
نرم ہوا کانٹوں سے الجھنا سیکھ رہی ہے
اور بگولے پھولوں کو سہلانے لگے ہیں
مہلتِ شر کو دیکھ کے جو ابلیس نے پائی
خیر کے جتنے قصّے ہیں افسانے لگے ہیں
صاحبِ قامت، اور بلندیِ فرق کی خاطر
سب کوتاہ قدوں کو پاس بلانے لگے ہیں
زردیِ رنگ پہ شور مچانے والے پتّے
ابر کے ہاتھوں ماجد خوب ٹھکانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

کس زباں سے کسی سے کہیں وہ ہیں مسافر وہ کن دلدلوں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
حرص و نخوت کے اندھے نگر میں باپ ہیں جو جواں بیٹیوں کے
کس زباں سے کسی سے کہیں وہ ہیں مسافر وہ کن دلدلوں کے
شاخچوں کا جو اندوختہ تھا رس وہ چوسا ہے حبسِ زمیں نے
دھوپ ابکے چھتوں پر وہ اُتری پھول کملا گئے آنگنوں کے
خون میں خوف کی آہٹیں ہیں جسم در جسم کھولاہٹیں ہیں
ایک ہلچل سی اعصاب میں ہے ذہن مرکز ہیں یوں زلزلوں کے
شہرِ خفتہ کی گدلی فضا میں جانے کیا کیا دکھائی دیے ہیں
چشمِ بیدار میں چبھنے والے تُند کنکر نئے رتجگوں کے
زندگی دشتِ تاریک میں ہے جیسے بھٹکا ہوا شاہزادہ
جس کے ہر کُنج میں ایستادہ دیو ہیں نو بہ نو الجھنوں کے
وہ خودی ہو کہ خود انحصاری محض خوش فہمیاں ہیں کہ ہم نے
ہاتھ مصروف دیکھے ہیں جو بھی اُن میں پائے تھے بیساکھیوں کے
اِن مکینانِ فردوس پر بھی جیسے دوزخ کے در کھُل چلے ہوں
دِن بُرے آنے والے ہیں ماجد باغ میں سارے کچّے پھلوں کے
ماجد صدیقی

بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
چہرۂ سرو قداں پر داغِ ندامت ٹھہرے
بَونے بانس لگا کر صاحبِ قامت ٹھہرے
اُس کے لیے جو خود شامت ہے بستی بھر کی
جانے کونسی ساعت، ساعتِ شامت ٹھہرے
جس کے طلوع پہ خود سورج بھی شرمندہ ہے
اور وہ کون سا دن ہو گا جو قیامت ٹھہرے
اہلِ نشیمن کو آندھی سے طلب ہے بس اتنی
پیڑ اکھڑ جائے پر شاخ سلامت ٹھہرے
کون یزید کی بیعت سے منہ پھیر دکھائے
کون حسین ہو، دائم جس کی امامت ٹھہرے
خائف ہیں فرعون عصائے قلم سے تیرے
اور بھلا ماجد کیا تیری کرامت ٹھہرے
ماجد صدیقی

کہ دم بہ دم ہے بہاروں کا انتظار ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
چمن پہ ہے تو بس اِتنا سا اختیار ہمیں
کہ دم بہ دم ہے بہاروں کا انتظار ہمیں
مچلتی لُو کا فلک سے برستے ژالوں کا
نہ جانے کون سا موسم ہو ساز گار ہمیں
ہر اِک قدم پہ وہی تجربہ سکندر سا
کسی بھی خضر پہ کیا آئے اعتبار ہمیں
ذرا سا سر جو اٹھا بھی تو سیل آلے گا
یہی خبر ہے سُنائے جو، اِنکسار ہمیں
مہک تلک نہ ہماری کسی پہ کھُلنے دے
کِیا سیاستِ درباں نے یوں شکار ہمیں
جو نقش چھوڑ چلے ہم اُنہی کے ناطے سے
عزیز، جان سے جانیں گے تاجدار ہمیں
بپا جو ہو بھی تو ہو بعدِ زندگی ماجد
یہ حشر کیا ہے جلائے جو، بار بار ہمیں
ماجد صدیقی

لا دوا ہونے لگے آزار میرے شہر کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
جب سے اندر سے بِکے اخبار میرے شہر کے
لا دوا ہونے لگے آزار میرے شہر کے
اَنٹیوں کے مول بِکتے ہیں کئی یوسف یہاں
مصر کے بازار ہیں بازار، میرے شہر کے
لُوٹ کر شب زادگاں نے جگنوؤں کی پُونحیاں
چہرہ چہرہ مَل لئے انوار، میرے شہر کے
جانچیے تو لوگ باہم نفرتوں میں غرق ہیں
دیکھیے تو فرد ہیں تہوار، میرے شہر کے
کُو بہ کُو پسماندگی کا ہے تعفّن چار سو
اور بہت ذی شان ہیں دربار، میرے شہر کے
چوس لینے پر نمِ زر، جس کسی کے پاس ہے
کر چکے ایکا سبھی زر دار، میرے شہر کے
مکر کیا کیا لوریاں ماجد اُنہیں دینے لگا
لوگ جتنے بھی مِلے بیدار، میرے شہر کے
ماجد صدیقی

یہاں اہلِ نظر تو ہیں بہت، بیدار کم کم ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
جو آنکھیں دیکھتی ہوں دھُند کے اُس پار، کم کم ہیں
یہاں اہلِ نظر تو ہیں بہت، بیدار کم کم ہیں
بھسم کرنے کو آہن، کام میں لایا گیا کیا کیا
فلاحت اور زراعت کے مگر اوزار کم کم ہیں
سمجھ بیٹھے ہیں جب سے اصلِ حرصِ خوش خصالاں ہم
کسی بھی صورتِ حالات سے بے زار کم کم ہیں
شکم جب سے بھرا رہنے لگا ہے چھِینا جھپٹی سے
وہ کہتے ہیں یہی ، نگری میں اب نادار کم کم ہیں
فروغِ تیرگی بھی دم بہ دم ماجِد فراواں ہے
نگر میں جگنوؤں کے پاس بھی انوار کم کم ہیں
ماجد صدیقی

اور شور اٹھے جن گلیوں سے وہ گلیاں خون سے تر کر دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
جو حق میں تمہارے بند رہیں وہ لب گنجینۂ زر کر دو
اور شور اٹھے جن گلیوں سے وہ گلیاں خون سے تر کر دو
جو سادہ منش ہیں ان سب کو تم دین کے نام پہ دھوکا دو
جو کھولے ڈھول کا پول اُسے اسلام آباد بدر کر دو
جو رات وطن پر چھائی ہے تم سب کے بھاگ جگانے کو
کچھ جگنو چھوڑ کے وعدوں کے اُس میں اعلانِ سحر کر دو
جو کھیت ترستے ہیں نم کو اُن کھیتوں کے اِک کونے کو
خِفّت کے عرق سے تر کر کے وقفِ تشہیرِ ہُنر کر دو
جو ہاتھ اُٹھیں وہ کٹ جائیں جو آنکھ اٹھے وہ پھوٹ بہے
ہر چلتی سانس کچلنے کو پیمانۂ فتح و ظفر کر دو
ہاں پیڑ پہ بیٹھی چڑیوں پر، کاہے کو کرو تم وار بھلا
ہاں ان کا شور دبانے کو شاہو! تو بیِخ شجر کر دو
ماجد صدیقی

اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
ٹھہرے جو بھسم ، مِلکِ ستم گار نہیں تھے
اِنساں تھے ، سرِ کوہ کے اشجار نہیں تھے
اب کے بھی پرندے وُہی ، ژالوں میں سڑے ہیں
جو ابر کی خصلت سے خبردار نہیں تھے
الزام محافظ پہ بھی تھا کچھ تو ، نقب کا
افراد اگر شہر کے بیدار نہیں تھے
رکھتے تھے مہک پاس جو ماجد کے ہنر کی
جھونکے تھے ، کچھ اُس کے وہ طرفدار نہیں تھے
ماجد صدیقی

شجر پہ پات تھے جتنے ، وہ زرد ہونے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
تھے جتنے ذائقے وہ اپنا لطف کھونے لگے
شجر پہ پات تھے جتنے ، وہ زرد ہونے لگے
وہی جو کھینچ کے لائے تھے کشتیوں سے ہمیں
بھنور کے بیچ وہ ناؤ ہیں اب ڈبونے لگے
کٹے ہیں جن کے بھی رشتے، کہ تھے جو جزوِ بدن
سکوں کی نیند بھلا، وہ کہاں ہیں سونے لگے
ہیں جتنے دل بھی غرض کی تپش سے بنجر ہیں
یہ ہم کہاں ہیں محبت کے بیج بونے لگے
یہ واقعہ ہے کہ وہ حبسِ دم سے ہو آزاد
بحالِ کرب کوئی، جب بھی کھُل کے رونے لگے
ملے جو شاہ بھی ، تقلیلِ رزقِ خلق سے وُہ
رگوں میں جبر کے نشتر نئے چبھونے لگے
ترے یہ حرف کہ جگنو ہیں ، ا شک ہیں ماجد
ہیں سانس سانس میں، کیا کیا گہر پرونے لگے
ماجد صدیقی

زوالِ عمر کے دن، ٹُوٹتے خمار کے دن

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
پڑے ہیں دیکھنے کیا کربِ آشکار کے دن
زوالِ عمر کے دن، ٹُوٹتے خمار کے دن
بنامِ کم نظراں، لطفِ لمحۂ گزراں
ہمارے نام نئی رُت کے انتظار کے دن
بدن سے گردِ شرافت نہ جھاڑ دیں ہم بھی
لپک کے چھین نہ لیں ہم بھی کچھ نکھار کے دن
طویل ہوں بھی تو آخر کو مختصر ٹھہریں
چمن پہ رنگ پہ، خوشبو پہ اختیار کے دن
نئے دنوں میں وہ پہلا سا رس نہیں شاید
کہ یاد آنے لگے ہیں گئی بہار کے دن
فلک کی اوس سے ہوں گے نم آشنا کیسے
زمین پر جو دھوئیں کے ہیں اور غبار کے دن
یہ وقت بٹنے لگا ناپ تول میں کیونکر
یہ کس طرح کے ہیں ماجدؔ گِنَت شُمار کے دن
ماجد صدیقی

دھجی دھجی برگ و شجر ہیں، حال بُرا ہے نہالوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
اب کی بہار بھی چلتے دیکھا زور چمن پہ وہ ژالوں کا
دھجی دھجی برگ و شجر ہیں، حال بُرا ہے نہالوں کا
جبر کے ہاتھوں جسم تلک وہ سادہ منش کٹوا بیٹھے
تیغ زنی سے بھی کچھ بڑھ کر زعم جنہیں تھا ڈھالوں کا
دشت و دمن میں ایسا تو دہلاتی چپ کا راج نہ تھا
لفظ و معانی تک پہ گماں ہے ٹھٹھکے ہوئے غزالوں کا
اِتنے چلے پر بھی نہیں پہنچے جس کی خنک فضاؤں میں
اُس بگیا تک اور سفر ہے جانے کتنے سالوں کا
ماجد اب دُرّوں کی جگہ وہ ہاتھ میں پرچم رکھتے ہیں
دھندا راس جنہیں آیا جسموں سے اتری کھالوں کا
ماجد صدیقی

احساس کے تلوے میں چھپا خار کہاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
آنکھوں کو نہیں سُوجھتا، آزار کہاں ہے
احساس کے تلوے میں چھپا خار کہاں ہے
جو جھاگ سا اُٹھا تھا کبھی اپنے سروں سے
اب دیکھیے وہ طرۂ پندار کہاں ہے
ہلچل سی مچا دیتا تھا جو کاسۂ خوں میں
جو دشمنِ جاں تھا وہ مرا یار کہاں ہے
شعلہ تو کہاں کا کہ دھُواں تک نہیں دیکھا
موجود پسِ لب ہے جو وہ نار کہاں ہے
تہہ دار ہے، اُلجھاؤ نہیں اُس کے سخن میں
ماجد کا لکھا ایسا پُر اسرار کہاں ہے
ماجد صدیقی

کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے
بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو
بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے
جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی
غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے
کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا
ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے
بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ
شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے
چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے
اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے
ماجد صدیقی

چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے
اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع
اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے
وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو
ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے
یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی
بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے
ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے
وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے
ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر
سنگ دلوں کو ماجد موم بنانے نکلے
ماجد صدیقی

مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا
پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما
ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا
اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا
اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا
فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن
مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا
کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا
جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا
کچھ نہیں جن میں معانی منمناہٹ کے سوا
درس کیا سے کیا ہمیں ماجد ہیں ازبر دیکھنا
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

سانپ کو ہاتھ میں پکڑا پر ڈھیلے انداز سے پکڑا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
اُس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے
سانپ کو ہاتھ میں پکڑا پر ڈھیلے انداز سے پکڑا ہے
جتنے ہم مسلک تھے اُس کے کیا کیا اُس سے دُور ہوئے
دنیا نے اک جسم کو یوں بھی ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے
زور آور نے جتنا بھی باروری بیج تھا نخوت کا
ساون رُت کی بارش جیسا اُس کی خاک میں بویا ہے
اور تو امّ الحرب کو ہم عنوان نہیں کچھ دے سکتے
ہاں خاشاک نے دریا کو چالیس دنوں تک روکا ہے
ماجد جھُکتے سروں سے آخر یہِاک بات بھی سب پہ کھلی
کھٹکا ہے تو نفقہ و نان کا ہم ایسوں کو کھٹکا ہے
ماجد صدیقی

جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے
جو کہنا ہے، پہلے کیوں نہ پرکھا جائے
مان بھی لیں، ممکن ہے، قدم اپنے ہی غلط ہوں
دُور نکل آئے ہیں بہت، اب لوٹا جائے
کھوج میں شاید شرط یہی، بار آور ٹھہرے
اور ذرا گہرے پانی میں، اُترا جائے
دریا میں کھُر جائے گھڑا کھُر جانے والا
ٹھہرا ہو جو عہد وہ عہد نہ توڑا جائے
مژدۂ عید سنانے والا چاند، ہمیشہ
بعد برس کے، پھر چاہت سے دیکھا جائے
ماجد صدیقی

ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا
ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا
یہ ہم کہ گھونسلے جن کے ہیں زد پہ طوفاں کی
لٹے گا چین ہمِیں سے خراب حالوں کا
بہم پناہ ہمیشہ جنہیں ہے غاروں کی
پھرا ہے اُن کی طرف رخ کہاں اجالوں کا
دیا تو دینا پڑے گا ہمیں بھی لمحوں میں
ہمارے نام ہے جو جو حساب سالوں کا
کھُلا تو ہاتھ لگائیں گے سارے کانوں کو
چمن میں حال ہے ماجد جو با کمالوں کا
ماجد صدیقی

دل بالک، من جائے گا بہلانے سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
دل بالک، من جائے گا بہلانے سے
ٹھہرا ہے بہتان کہاں نام اچّھوں کے
اُجڑا ہے کب چاند بھلا گہنانے سے
راس جسے دارو نہ کوئی آیا اُس کے
روگ مٹیں گے، اب تعویذ پلانے سے
چیخ میں کیا کیا درد پروئے چُوزے نے
بھوکی چیل کے پنجوں میں آ جانے سے
اب تو خدشہ یہ ہے ہونٹ نہ جل جائیں
ماجدؔ دل کی بات زباں پر لانے سے
ماجد صدیقی

نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی
نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی
شاخ سے کٹ کر کسی کالر پہ گل سج جائے گا
وُہ کہ جو ہونٹوں پہ آئے گی ہنسی، رُک جائے گی
ہوتے ہوتے خشک موسم، ہاتھ دِکھلا جائے گا
ہوتے ہوتے پیڑ کی، بالیدگی رُک جائے گی
ہم نے ماجدؔ کب یہ سوچا تھا کہ جسم و جان کو
سینچتی ہے جو وہ موجِ تازگی، رُک جائے گی
ماجد صدیقی

شام کوئی اُس کی آنکھوں میں کاجل جیسی شام

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام
شام کوئی اُس کی آنکھوں میں کاجل جیسی شام
چہرہ چہرہ سہم سے یوں بیدم ہے جیسے آج
جسم چچوڑنے آئی ہو نگری میں اُتری شام
سُکھ سپنوں کے پیڑ پہ ہے پھر چڑیوں جیسا شور
پھر پھنکار اُٹھی جیسے ناگن سی بپھری شام
کرب و الم کا نحس گہن یوں دن پر پھیل گیا
آج کی شام سے آن ملی محشر سی گزری شام
کیا کیا حدّت کس کس ذرّے نے ہتھیائی ہے
پوچھ کے آئی سورج کے پہلو سے نکلی شام
مٹتی ہے کب ہاتھوں سے لیکھوں کی یہ تحریر
ڈھلتی ہے کب جانے انگناں انگناں ٹھہری شام
لطف و کرم سے بیگانہ اور زہرِحسد سے چُور
سوتیلی ماؤں سی ماجدؔ یہ کیا آئی شام
ماجد صدیقی

خدا بھی میرے اندر آ بسا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے
خدا بھی میرے اندر آ بسا ہے
وہ جس کی دید سے ہوں سیر آنکھیں
ثمر سے بھی زیادہ رَس بھرا ہے
نگاہوں میں چھپی نجمِ سحر سی
عجب بے نام سی طُرفہ حیا ہے
اسے دیکھو بہ حالِ لطف جب بھی
مثالِ مہ، پسِ باراں دھُلا ہے
کرے وہ گل نہ ایسا تو کرے کیا
سنا ہم نے بھی ہے وہ خود نما ہے
تعلّق اُس سے ماجدؔ کیا بتائیں
معانی سا جو لفظوں میں بسا ہے
ماجد صدیقی

پھول چاہت کے کچھ ایسے بھی کھلائے جائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
وہ کہ اُجڑے ہوئے جُوڑوں میں سجائے جائیں
پھول چاہت کے کچھ ایسے بھی کھلائے جائیں
سیل کیا کیا نہ اُٹھائیں یہ کروڑوں آنکھیں
خشکیِ بخت پہ گر اشک بہائے جائیں
خشت سے چوب تلک قرض کی ہر چیز لئے
بیچ کٹیاؤں کے کچھ قصر اٹھائے جائیں
محض تائید ہی ہم نام نہ اِن کے لکھ دیں
احتجاجاً بھی کبھی ہاتھ اُٹھائے جائیں
ماجد صدیقی

خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور
جیسے کسی قیدی کو جنم دِن کا حوالہ
پنجرے میں صبا جھانک کے تڑپائے گی کچھ اور
صرصر نے جو دھارا ہے نیا روپ صبا کا
یہ فاحشہ ابدان کو سہلائے گی کچھ اور
کہہ لو اُسے تم رقص پہ طوفانِ بلا میں
کمزور ہے جو شاخ وہ لہرائے گی کچھ اور
وہ آنکھ جسے دھُن ہے فروغِ گلِ تر کی
موسم ہے گر ایسا ہی تو شرمائے گی کچھ اور
نکلی ہی نہیں گرد کے پہلو سے جو ماجدؔ
پیاسوں کو وہ بدلی ابھی ترسائے گی کچھ اور
ماجد صدیقی

سنی بھی میری کہانی تو درمیاں سے سنی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی
سنی بھی میری کہانی تو درمیاں سے سنی
اُٹھی نہ تھی جو ابھی حلق سے پرندے کے
وہ چیخ ہم نے چمن میں تنی کماں سے سنی
ملا تھا نطق اُسے بھی پہ نذرِ عجز ہُوا
کتھا یہی تھی جو ہر فردِ بے زباں سے سنی
دراڑ دُور سے اَیوان کی نمایاں تھی
زوالِ شہ کی حکایت یہاں وہاں سے سنی
زباں سے خوف میں کٹ جائے جیسے لفظ کوئی
صدائے درد کچھ ایسی ہی آشیاں سے سنی
گماں قفس کا ہر اک گھونسلے پہ ہے ماجد
خبر یہ خَیر سے ہر کنجِ گلستا ں سے سنی
ماجد صدیقی

آنکھوں کی سیپیوں میں گہر ڈھونڈنے پڑے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
موتی پئے جمال ہنر ڈھونڈنے پڑے
آنکھوں کی سیپیوں میں گہر ڈھونڈنے پڑے
جنگل میں طائروں کی چہک، آہوؤں کا رم
کیا کیا نہ ہمرہانِ سفر ڈھونڈنے پڑے
آئے گا کل کے بعد جو دن، اُس کو پاٹنے
کیا کیا جتن نہ شام و سحر ڈھونڈنے پڑے
اپنے ہی جسم و جان کی پیہم کرید سے
ماجد ہمیں خزائنِ زر ڈھونڈنے پڑے
ماجد صدیقی

کیا جانوں کیا کیا ہیں عقیدے خام مرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
مزرعۂ دین میں اُگتے ہیں اصنام مرے
کیا جانوں کیا کیا ہیں عقیدے خام مرے
لطف تو یہ ہے رہزن بھی یہ کہتا ہے
دیکھو امن نگر کا بھی ہے نام مرے
جانے کب یوسف ٹھہرایا جاؤں میں
اور زبانوں پر رقصاں ہوں دام مرے
جیسے کلمۂ خیر مخالف کے حق میں
رک جاتے ہیں بس ایسے ہی کام مرے
ہاتھ کبھی تو ہَوا کے لگے گی یہ خوشبو
بول کبھی تو ہوں گے ماجد عام مرے
ماجد صدیقی

یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی
اگر سر زد ہُوا حق مانگنے کا جرم تو اُس پر سزا کیسی
مرے دستِ طلب نے کونسی ایسی خطا کر دی
کچھ افیونی حقائق ہی کھُلے ورنہ اِن ہونٹوں پر
سخن کیا تھا کہ خلقِ شہر تک جس نے خفا کر دی
زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے
جھُکایا سر، اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی
وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی
کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی
حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں ماجد
مجھے ماں باپ نے جو دی یہی پونجی کما کر دی
ماجد صدیقی

جُگ بیتے ہیں بستی کو بیدار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
لٹ جانے کے خدشوں سے دو چار ہوئے
جُگ بیتے ہیں بستی کو بیدار ہوئے
شہرِ ستم میں حرص و ہوا کی سازش سے
کیا کیا اہلِ نظر، وقفِ دربار ہوئے
شاخ پہ کونپل بننے اور کھِل اٹھنے کے
کیا کیا سپنے آنکھوں کا آزار ہوئے
باغ میں جانے اور مہک لے آنے کے
بادِ صبا سے کیا کیا قول اقرار ہوئے
دریا میں منجدھار ہی دشمنِ جان نہ تھی
اور بھی کچھ دھاوے ہم پر اُس پار ہوئے
راہبری کا ماجد! قحط کہاں ایسا
جیسے اب ہیں، ہم کب یُوں نادار ہوئے
ماجد صدیقی

کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں
کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں
ہٹے ہیں اور نہ ہٹ پائیں خوردگاں پر سے
سرِجہان بڑوں کے دباؤ جیسے ہیں
وہ دوستی کے ہوں یا تا بہ عمر رشتوں کے
ہم آپ ہی نے کیے ہیں چناؤ جیسے ہیں
شجر شجر پہ یہی برگِ زرد سوچتے ہیں
اُڑا ہی دیں نہ ہَوا کے دباؤ جیسے ہیں
زباں کی کاٹ کے یا بّرشِ تبر کے ہیں
ہماری فکر و سماعت پہ گھاؤ جیسے ہیں
چلن دکھائیں بالآخر نہ پھر کمانوں سا
جبیں پہ اہلِ وفا کی، تناؤ جیسے ہیں
جو ہم ہوئے بھی تو کیا ، یوسفِ سخن ماجد
عیاں ہیں سب پہ ہم ایسوں کے بھاؤ جیسے ہیں
ماجد صدیقی

وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا
وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا
سہاگ جن سے تھا منسوب لطفِ فردا کا
کلائیاں ہیں کچھ ایسی بھی وہ مروڑ گیا
اُسے عزیز تھا پرچار اپنے باطل کا
سو جو بھی چشم تھی حق بِیں، اُسے وہ پھوڑ گیا
جفا پرست وہ ایسا تھا جو خلافِ ستم
دلوں میں عزم تھے جتنے اُنہیں جھنجھوڑ گیا
رہا بھی اُس سے تو بس لین دین نفرت کا
سو،لے کے لاکھ، ہمیں دے کے وہ کروڑ گیا
ماجد صدیقی

بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے
بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے
نگاہِ نا رسا تک پر کھُلا ہے
ہمارا درد ، پیوندِ قبا ہے
پہن لے دام ، لقمے کی ہوس میں
پرندہ عاقبت کب دیکھتا ہے
اثر ناؤ پہ جتلانے کو اپنا
سمندر ، ہم پہ موجیں تانتا ہے
بھنویں جس کی ، کمانوں سی تنی ہیں
قرابت دار وہ ، دربار کا ہے
کسی کے ذوق کی تسکین ٹھہرا
ہرن کا سر ، کہیں آ کر سجا ہے
دیا جھٹکا ذرا سا زلزلے نے
مکاں لیکن ابھی تک ، ڈولتا ہے
لگے سن کر سخن چاہت کا ماجد
کہیں تنّور میں ، چھینٹا پڑا ہے
ماجد صدیقی

کس کا نوحہ کون کب لکِھے یہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں
کس کا نوحہ کون کب لکِھے یہاں
ظاہری عنوان اکِ دینِ مبیں
اور اندر ہیں کئی شجرے یہاں
سب کے سب خود کو جِلا دیتے رہے
ہیں مسیحا جس قدر اُترے یہاں
اپنی قامت پر قد آور سب خفیف
ذی شرف ہیں سب کے سب بَونے یہاں
ہم سے جو کھیلے وہ ماجد اور ہے
ہم سبھی ہیں تاش کے پتّے یہاں
ماجد صدیقی

آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی
آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی
خم وہی رہ بہ رہ نا مرادوں کے سر
کُو بہ کُو ذی شرف آستانے وہی
فاختائیں دبکتی شجر در شجر
اور زور آوروں کے نشانے وہی
رام کرنے کو مرکب کا زورِ انا
دستِ راکب میں ہیں تازیانے وہی
شیر کی دھاڑ پر جستجو اوٹ کی
اور چھپنے کو ماجد ٹھکانے وہی
ماجد صدیقی

یہ کیا ہُوا کہ بجز اشک نم ہَوا میں نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں
یہ کیا ہُوا کہ بجز اشک نم ہَوا میں نہیں
لگاؤں چوٹ نہ کیوں میں بھی چوٹ کے بدلے
قصاص میں جو مزہ ہے وہ خوں بہا میں نہیں
رگوں میں دوڑتے خوں تک سے بدگمان ہیں ہم
مراد یہ کہ یقیں قربتِ خدا میں نہیں
نمو شجر کی نہ ڈھونڈو برستے ژالوں میں
کہ مسئلے کا جو حل ہے فقط سزا میں نہیں
ترے سخن میں چبھن جس طرح کی ہے ماجد
کسک یہ اور کسی بھی غزل سرا میں نہیں
ماجد صدیقی

کب کھڑی کھیتیاں پھر اُجڑنے لگیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
کب مہاجن نجانے بگڑنے لگیں
کب کھڑی کھیتیاں پھر اُجڑنے لگیں
منصفوں میں بھی ہے پھُوٹ یوں عدل پر
سوتنیں جیسے باہم جھگڑنے لگیں
کیا خبر مان لیں کیا، خداوند اور
کون سی بات پر آ کے اَڑنے لگیں
پھر نہ ماجد بدن زد پہ ژالوں کی ہوں
پھر نہ پہلی سے کھالیں اُدھڑنے لگیں
ماجد صدیقی

ساتھ نہ دے کیونکر اُس کا پٹواری بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
کھیت بھی اور حاصل ہے جسے سرداری بھی
ساتھ نہ دے کیونکر اُس کا پٹواری بھی
خرقہ پوش ہیں شہر کی جو جو شَہراہیں
دُور رہے اُن سے شہ کی اسواری بھی
جس گوشے میں چاہے حرص کا مال سجے
اُس جانب آ جاتے ہیں بیوپاری بھی
ماجد صدیقی

وقت، لگتا ہے کہ ’میرا، نہیں رہنے والا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
کھو ہی جاؤں نہ کہیں میں، کہ ہوں مہ کا ہالا
وقت، لگتا ہے کہ ’میرا، نہیں رہنے والا
جس سے زیبا ہوں، وہ زیبائی ہے اب جانے کو
ہے گلُو میں سے اُترنے کو، یہ جاں کی مالا
تن بدن میں ہے مرے، کیسی یہ کھیتی باڑی
میری رگ رگ میں اُتر آیا، یہ کیسا بھالا
میں کہ خوشہ ہوں ، دعا کیسے یہ مانگوں اُلٹی
میں نہ ،چکّی کا بنوں خاک و فلک کی ،گالا
ڈھیل شاید نہ دے اب اور مجھے، چیخنے کی
جسم میں ہے جو، پُراسرار اَلَم کا چھالا
بام پر بُوم سیہ بختی کا، اُترا جیسے
مجھ کو کرتا ہے طلب، دُور کا پانی، کالا
کیا پتہ سانس کی آری ابھی ماجد نہ رُکے
فیصلہ یہ بھی مرا، مجھ سے ہو بالا بالا
ماجد صدیقی

مردُود، بہت مقبول ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا
مردُود، بہت مقبول ہُوا
ہر طُول کو عرض کیا اُس نے
اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا
پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا
وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا
اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے
جو کام کیا، وہ اصول ہُوا
گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا
جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا
ہو کیسے سپھل پیوندوں سے
ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا
ماجد صدیقی

ہمارے شہر کا موسم عجب ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے
ہمارے شہر کا موسم عجب ہے
وہ دیکھو ماہِ رخشاں بادلوں سے
لپٹ کر کس قدر محوِ طرب ہے
پئے عرفانِ منزل، گمرہوں کو
کہیں ہم جو بھی کچھ، لہو و لعب ہے
کچھار اپنی بنا لو حفظِ جہاں کو
نگر میں اب یہی جینے کا ڈھب ہے
ہمارے ہی لئے کیوں ایک ماجد
مزاجِ دہر میں رنج و تعب ہے
ماجد صدیقی

بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا
بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا
مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے
ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا
سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی
ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا
ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے
قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا
خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا
وُوں نہ کچھ ماجدؔ ہُوا ہم سے تو یوں کرنا پڑا
ماجد صدیقی

جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے
جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے
وہ پارچہ نازش کسی سر کی ہے، یہ نکتہ
قدموں میں گرائی گئی دستار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شب تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے،گھر بار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
ژالے کبھی پچھتائیں نہ چڑیوں پہ برس کے
سنگینیِ اِیذا کوئی اوزار نہ جانے
ہر غیب عیاں اُس پہ بقول اُس کے ہے ماجد
جو روگ ہمیں ہیں، کوئی اوتار، نہ جانے
ماجد صدیقی

خبروں پر مامور ہوئیں جتنی بھی زبانیں کالی ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں
خبروں پر مامور ہوئیں جتنی بھی زبانیں کالی ہیں
ساحل کو چھو لینے پر بھی سفلہ پن دکھلانے کو
دریاؤں نے کیا کیا موجیں اب کے اور اچھالی ہیں
گلیوں گلیوں دستک دیتے، امن کی بھیک نہ ملنے پر
دریوزہ گر کیا کیا آنکھیں، کیا کیا ہاتھ سوالی ہیں
اُس کا ہونا مان کے، اپنے ہونے سے انکار کریں
جابر نے کچھ ایسی ہی شرطیں ہم سے ٹھہرا لی ہیں
حرف و زبان کے برتاؤ کا ذمّہ تو کچھ میر ہی لیں
ہاں جو بایتں ہم کہتے ہیں وہ ساری ٹیکسالی ہیں
ماجد صدیقی

اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
شبِ سیہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے
ذرا سا ہے پہ نہ ہونے کا اور ہونے کا
ثبوت ہے تو فقط خواہشِ گناہ میں ہے
جو بے ضرر ہے اُسے جبر سے اماں کیسی
یہاں تو جبر ہی بس جبر کی پناہ میں ہے
زمیں کس آن نجانے تہِ قدم نہ رہے
یہی گماں ہے جو لاحق تمام راہ میں ہے
نجانے نرغۂ گرگاں سے کب نکل پائے
کنارِ دشت جو خیمہ، شبِ سیاہ میں ہے
بڑھائیں مکر سے کیا ربط، جی جلانے کو
یہ ہم کہ جن کا یقیں ہی فقط نباہ میں ہے
نہ اور کچھ بھی سہی نام ہے ہمارے ہی
جلال جتنا بھی ماجدؔ مزاجِ شاہ میں ہے
ماجد صدیقی

خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا
آئے گی کب، کہاں سے، نجانے نمِ یقیں
ہٹتا نہیں نظر سے بگولا گمان کا
اونچا اُڑا، تو سمتِ سفر کھو کے رہ گئی
رُخ ہی بدل گیا، مری سیدھی اُڑان کا
کیا جانیے، ہَوا کے کہے پر بھی کب کھلے
مشتِ خسیس سا ہے چلن، بادبان کا
ہم پَو پَھٹے بھی، دھُند کے باعث نہ اُڑ سکے
یوں بھی کھُلا کِیا ہے، عناد آسمان کا
ماجدؔ نفس نفس ہے گراں بار اِس طرح
دورانیہ ہو جیسے کسی امتحان کا
ماجد صدیقی

عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے
بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر
اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے
مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے
گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے
تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو
برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے
وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی
لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے
چھُو کے وسطِ عمر کو ہم بھی شروع عمر کے
ابّ و جدّ جیسے عجب قصّے ہیں دہرانے لگے
اینٹ سے ماجدؔ نیا ایکا دکھا کر اینٹ کا
جتنے بَونے تھے ہمیں نیچا وہ دکھلانے لگے
ماجد صدیقی

دے شرف تخت، دے رزالت بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
سرفرازی بھی دے خجالت بھی
دے شرف تخت، دے رزالت بھی
منصف و مدّعی ہے زورآور
آپ اپنی کرے وکالت بھی
چھُوٹتے ہی جو وار کر ڈالے
نام اُسی کے لگے بسالت بھی
ہم نے دیکھے ہیں بر سرِ عالم
قتل مِن جانبِ عدالت بھی
وہ کہ جو بے خطا ہے، اندر سے
خون کھولائے اُس کی حالت بھی
ضد ہو میزانِ عدل جب ماجد!
کیا کرے بحث کی طوالت بھی
ماجد صدیقی

وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے
اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے
جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے
گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے
سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے
پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں
منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے
دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو
رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے
جس کا تخت ہِلا ہے ذرا سا اپنی جگہ سے
آج نہیں جاتا وہ شخص تو کل جاتا ہے
اِس جانب سے ماجد اُس جانب کے افق تک
ساکن چاند بھی چُپ چُپ دُور نکل جاتا ہے
ماجد صدیقی

دریا میں جتنا زور تھا پل میں اُتر گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گیا
دریا میں جتنا زور تھا پل میں اُتر گیا
دیکھی جب اپنی ذات پہ آتی ذرا سی آنچ
وہ بدقماش اپنے کہے سے مُکر گیا
آخر کو کھینچ لایا وہ سورج سرِ افق
جو جیش جگنوؤں کا بسوئے سحر گیا
خود اُس کا اَوج اُس کے توازن کو لے اڑا
نکلا ذرا جو حد سے تو سمجھو شجر گیا
جس کو بقا کا راز بتانے گیا تھا میں
سائل سمجھ کے وہ مری دستک سے ڈر گیا
کربِ دروں سے، اشکِ فراواں کے فیض سے
چہرہ کچھ اب کے اور بھی ماجد نکھر گیا
ماجد صدیقی

میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
رہن جن کے عوض ہو متاعِانا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں
میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں
دیر تھی گر تو اتنی کہ نکلے نہ تھے بال و پر اور جب یوں بھی ہونے لگا
فصل کٹنے پہ کھیتوں سی اُجٹری ہوئی کیا سے کیا کچھ نہ رنجور مائیں ملیں
بخت کسبِ سعادت میں بھی کیا کہوں صیدِ اضداد ٹھہرا ہے کچھ اِس طرح
دیس ماتا کی خفگی سے رد ہو گئیں ماں کی جا نب سے جتنی دعائیں ملیں
شور ہے باد و باراں کا چاروں طرف حشر زا لمحہ لمحہ مسافت کا ہے
کاغذی جن کے ڈھانچے ہیں ماجد ہمیں سر چھپانے کو ہیں وہ سرائیں ملیں
ماجد صدیقی

آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے
جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر
سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے
بزم در بزم، کرب کا اظہار
کر نہ دے اور بھی ملول مجھے
بات کی میں نے جب مرّوت کی
وہ سُجھانے لگے اصول مجھے
دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل
گھُورتے رہ گئے ببول مجھے
جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا
بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے
ماجد صدیقی

کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
لمحے بوجھل قدموں، ٹھٹھرے سالوں جیسے
کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے
مچھلیوں جیسی سادہ منش امیدیں اپنی
عیّاروں کے ہتھکنڈے ہیں جالوں جیسے
دھُند سے کیونکر نکلے پار مسافت اُن کی
رہبر جنہیں میّسر ہوں نقالوں جیسے
اپنے یہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے
آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجد چھالوں جیسے
ماجد صدیقی

بھیڑیوں کی دھاڑ سے ہے دشت بھر دِبکا لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
ذِی نفس جو بھی ہے اُس کو جان کا کھٹکا لگا
بھیڑیوں کی دھاڑ سے ہے دشت بھر دِبکا لگا
اِس طرح کرنے سے اُٹّھے گی عمارت اور بھی
سرفرازی چاہیے تو اور بھی پیسا لگا
جان لے اخلاق سے ہٹ کر بھی کچھ آداب ہیں
مختصر یہ ہے کہ جتنا ہو سکے مسکا لگا
نرخ اِس یوسف کے اَنٹی سے بھی ارزاں ہو گئے
آدمی ہی جس طرف دیکھا ہمیں سستا لگا
لُو چلی تو، وہ کہ منکر تندیِ موسم کے تھے
چیخنا اُن کا ہم اہلِ دل کو بھی اچّھا لگا
کر کے اک قتلِ مسلسل سے ہمیں دو چار وہ
پُوچھتا ہے وار خنجر کا کہو، کیسا لگا
دیکھ کر دھندلا گیا جس کو بدکتا چاند بھی
اب کے یوں روئے سحر ماجد ہے کچھ اُترا لگا
ماجد صدیقی

خوف جاتا نہیں مچانوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
خوف جاتا نہیں مچانوں کا
ایک ہی گھر کے فرد ہیں ہم تم
فرق رکھتے ہیں پر زبانوں کا
رُت بدلنے کی کیا بشارت دے
ایک سا رنگ گلستانوں کا
کون اپنا ہے اِک خدا وہ بھی
رہنے والا ہے آسمانوں کا
بات ماجدؔ کی پُوچھتے کیا ہو
شخص ہے اِک گئے زمانوں کا
ماجد صدیقی

وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا
وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا
میں اشک ہوں، میں اوس کا قطرہ ہوں، شرر ہوں
انداز بہم ہے مجھے پانی کے سفر کا
کروٹ سی بدلتا ہے اندھیرا تو اُسے بھی
دے دیتے ہیں ہم سادہ منش، نام سحر کا
تہمت سی لئے پھرتے ہیں صدیوں سے سر اپنے
رُسوا ہے بہت نام یہاں اہلِ ہُنر کا
قائم نہ رہا خاک سے جب رشتۂ جاں تو
بس دھول پتہ پوچھنے آتے تھی شجر کا
جو شاہ کے کاندھوں کی وجاہت کا سبب ہے
دیکھو تو بھلا تاج ہے کس کاسۂ سر کا
اشکوں سے تَپاں ہے کبھی آہوں سے خنک ہے
اک عمر سے ماجد یہی موسم ہے، نگر کا
ماجد صدیقی

جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا
کچھ قطعِ رگِ جان سے، کچھ قُلقُلِ خوں سے
بجتی ہیں محلّات میں شہنائیاں کیا کیا
خود نام پہ دھبے ہیں جو، ہاں نام پہ اُن کے
ہوتی ہیں یہاں انجمن آرائیاں کیا کیا
قوسوں میں فلک کی، خمِ ابرو میں ہَوا کے
دیکھی ہیں یہاں خلق نے دارائیاں کیا کیا
جو چھید ہوئے تھے کبھی دامانِ طلب میں
دیں دستِ غضب نے اُنہیں، پہنائیاں کیا کیا
ہٹ کر بھی ہمیں پرورشِ جان سے ماجد
کرنی ہیں بہم اور توانائیاں کیا کیا
ماجد صدیقی

ہاتھ دستِ یزید میں جو نہ دے حق سرائی میں اپنا سر دے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے
ہاتھ دستِ یزید میں جو نہ دے حق سرائی میں اپنا سر دے دے
اہلِ حق کو جو فتحِ مکہ دے اے خدا تجھ سے کچھ بعید نہیں
اشک ہیں جس طرح کے آنکھوں میں دامنوں کو وہی گہر دے دے
ہوں بھسم آفتوں کے پرکالے بُوندیوں میں بدل چلیں ژالے
جو بھی واماندگانِ گلشن ہیں رُت انہیں پھر سے بال و پر دے دے
لَوث جس کونہ چھُو کے گزری ہو جس میں خُو خضرِ دستگیر کی ہو
جس کے چہرے پہ لَو ضمیر کی ہو کوئی ایسا بھی رہبر دے دے
ہو مبارک ستم عقابوں کو کرگسوں کو نصیب آز رہے
فاختاؤں کو جو بہم ہے یہاں زندہ رہنے کا وہ ہُنر دے دے
ماجد صدیقی

چاہتا تھا وہ ایسا سماں دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
خلقتِ شہر کو بے زباں دیکھنا
چاہتا تھا وہ ایسا سماں دیکھنا
تِیر ہوتا ہے دیکھیں ترازو کہاں
تن چکی پھر فلک کی کماں دیکھنا
دو ہی منظر قفس میں بہم تھے ہمیں
تِیلیاں دیکھنا۔۔۔۔آسماں دیکھنا
بچپنے سے لگی ہے یہی دھُن ہمیں
گل بہ گل آس کی تتلیاں دیکھنا
کیوں وطیرہ ہی ماجد تِرا ہو گیا
شاخِ گل سے جھڑی پتّیاں دیکھنا
ماجد صدیقی

اب کے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
اب کے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی
ایسی کیوں ہے، آنکھ نہیں بتلا سکتی
نِندیا ہے کہ گرانی سے ہے بوجھل سی
لا فانی ہے، یہ تو کتابیں کہتی ہیں
روح نجانے رہتی ہے کیوں بے کل سی
رات کا اکھوا ہے کہ نشانِ بد امنی
دور افق پر ایک لکیر ہے کاجل سی
منظر منظر تلخ رُوئی ہے وہ ماجد
اُتری ہے جو آنکھوں آنکھوں حنظل سی
ماجد صدیقی

چڑیا کے بچّوں کو سانپ، نِگل جائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
خاص ہے اُس سے جو اِک داؤ چل جائے گا
چڑیا کے بچّوں کو سانپ، نِگل جائے گا
ایک شڑاپ سے پانی صید دبوچ کے اپنا
بے دم کر کے اُس کو، دُور اُگل جائے گا
اُس کے تلے کی مٹی تک، بے فیض رہے گی
اِس دُنیا سے جو بھی درخت اَپَھل جائے گا
خوف دلائے گا اندھیارا مارِ سیہ کا
مینڈک سا، پیروں کو چھُو کے اُچھل جائے گا
سُورج اپنے ساتھ سحر تو لائے گا پر
کُٹیا کُٹیا ایک الاؤ جل جائے گا
کب تک عرضِ تمنّا پر کھائے گا طمانچے
لا وارث بچّوں سا دل بھی سبنھل جائے گا
ماجد کی جو خواہش بھی ہے بچّوں سی ہے
تتلی کو دیکھے گا اور مچل جائے گا
ماجد صدیقی

سامنا اِک عمر سے ہے اُس اندھیری رات سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے
سامنا اِک عمر سے ہے اُس اندھیری رات سے
مطمئن کیا ہو بھلا بچّوں کی نادانی سے وہ
ماں جسے فرصت نہیں اک آن بھی خدشات سے
کر لئے بے ذائقہ وہ دن بھی جو آئے نہیں
درس کیا لیتے بھلا ہم اور جھڑتے پات سے
ابنِ آدم اب کے پھر فرعون ٹھہرا ہے جسے
مل گیا زعمِ خدائی آہنی آلات سے
جس کے ہم داعی ہیں ماجد ضَو نہیں، ظلمت ہے وہ
پھوٹتی ہے جو ہمارے جسم کے ذرّات سے
ماجد صدیقی

جو بے اصول ہو، کب چاہئیں اصول اُس کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
چھلک پڑے جو، سُجھاؤ نہ عرض و طول اُس کو
جو بے اصول ہو، کب چاہئیں اصول اُس کو
کھِلا نہیں ہے ابھی پھول اور یہ عالم ہے
بھنبھوڑ نے پہ تُلی ہے، چمن کی دھول اُس کو
ذرا سی ایک رضا دے کے، ابنِ آدم کو
پڑے ہیں بھیجنے، کیا کیا نہ کچھ رسول اُس کو
ہُوا ہے جو کوئی اک بار، ہم رکابِ فلک
زمیں کا عجز ہو ماجد، کہاں قبول اُس کو
ماجد صدیقی

باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے
مسندِ انصاف جب سے گُرگ کو حاصل ہوئی
آسماں اور یہ زمیں اِک ساتھ ہیں ہلنے لگے
کیا خبر برسائے جائیں گے وہ کس نااہل پر
پھول پودوں پر بڑی خسّت سے اب کھِلنے لگے
بے بصر کرنے لگی ماجدؔ گماں کی تیرگی
خوف کی سوزن چلی ایسی کہ لب سلنے لگے
ماجد صدیقی

میں وقت کو دان دے رہا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں
میں وقت کو دان دے رہا ہوں
موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا
ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں
یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے
فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں
جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے
ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں
کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر
بے وقت اذان دے رہا ہوں
اوقات مری یہی ہے ماجد
ہاری ہوں لگان دے رہا ہوں
ماجد صدیقی

نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا
روک ڈالے مرغزاروں، پنگھٹوں کے راستے
گرگ نے کیا کیا غزالوں کا نہیں پیچھا کِیا
بچ نکلنے پر بھی اُس کے ظلم سے ہم رو دئیے
عمر بھر جو دھونس اپنی ہی تھا منوایا کِیا
کوڑھ سی مجبوریاں تھیں لے کے ہم نکلے جنہیں
نارسائی نے ہمیں کیا کیا نہیں رسوا کِیا
موسموں کے وار اِس پر بھی گراں جب سے ہوئے
پیڑ بھی ماجد ہمِیں سا جسم سہلایا کِیا
ماجد صدیقی

پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے
اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا
جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے
کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ
مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے
پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں
لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے
دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو
ازسرِ نو فضا میں پر و بال کے پھول کھِلنے لگے
ہے اِدھر آرزوئے بقا اور اُدھر بہرِ زندہ دلاں
فصل در فصل تازہ بچھے جال کے پھول کھِلنے لگے
ہم نے سوچا تھا کچھ اور ماجد، مگر تارِ انفاس پر
اب کے تو اور بے ربط سُر تال کے پھول کھِلنے لگے
ماجد صدیقی

گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں
قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا
ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں
بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی
احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں
ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو
ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں
رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے
ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں
ہم ہیں پھوار ابر کی بوچھاڑ ہم نہیں
سختی کریں کسی پہ، یہ یارا، ہمیں ہو کیوں
بِیجا ہے جو اُگے گا نہ وہ، کشتِ خیر میں!
ماجدؔ گماں جو ہو بھی تو ایسا ہمیں ہو کیوں
ماجد صدیقی

تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں
تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں
آئنے چہروں کے گرد آلود ہیں
پانیوں پر جم چلی ہیں کائیاں
مفلسی ٹھہرے جہاں پا زیبِ پا
ان گھروں میں کیا بجیں شہنائیاں
مکر سے عاری ہیں جو اپنے یہاں
عیب بن جاتی ہیں وہ دانائیاں
جو نہ جانیں بے دھڑک منہ کھولنا
ہیں اُنہی کے نام سب رسوائیاں
خلق میں ماجدؔ ہو نا مقبول اور
اور لا شعروں میں تُو پہنائیاں
ماجد صدیقی

پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی
بٹتا دیکھ کے ریزوں میں مجبوروں کو
تھپکی دینے آ پہنچے ذی شان کئی
شاہ کا در تو بند نہ ہو پل بھر کو بھی
راہ میں پڑتے ہیں لیکن دربان کئی
طوفاں میں بھی گھِر جانے پر، غفلت کے
مرنے والوں پر آئے بہتان کئی
دل پر جبر کرو تو آنکھ سے خون بہے
گم سم رہنے میں بھی ہیں بحران کئی
ہم نے خود دیکھا ہاتھوں زورآور کے
قبرستان بنے ماجد دالان کئی
ماجد صدیقی

دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
اظہار کو تھا جس کی رعُونت پہ گماں اور
دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور
کہتی ہیں تجھے تشنہ شگوفوں کی زبانیں
اے ابر کرم ! کھینچ نہ تو اپنی کماں اور
ہر نقشِ قدم، رِستے لہو کا ہے مرّقع
اِس خاک پہ ہیں، اہلِ مسافت کے نشاں اور
نکلے ہیں لئے ہاتھ میں ہم، خَیر کا کاسہ
اُٹھنے کو ہے پھر شہر میں، غوغائے سگاں اور
صیّاد سے بچنے پہ بھی ، شب خون کا ڈر ہے
اب فاختہ رکھتی ہے یہاں ، خدشۂ جاں اور
دیکھیں گے، گرانی ہے زمانے کی یہی تو
سبزے کے کچلنے کو ابھی ، سنگِ گراں اور
ماجد وُہی کہتے ہیں، تقاضا ہو جو دل کا
ہم اہلِ سیاست نہیں، دیں گے جو بیاں اور
ماجد صدیقی

ہم سے لے جائیں تمہیں دُور زمانے والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ہیں اِسی بات پہ مسرور زمانے والے
ہم سے لے جائیں تمہیں دُور زمانے والے
دیکھنا رُو بہ نمو پھر شجر امید کا ہے
شاخ سے جھاڑ نہ دیں بُور زمانے والے
دستبردار ہوں چاہت ہی سے خود اہلِجنوں
یوں بھی کر دیتے ہیں مجبور زمانے والے
ٹھوکروں سے نہ سہی ضربِ نگاہِ بد سے
آئنہ دل کا کریں چُور زمانے والے
برق باغوں پہ گرے یا کوئی تارا ٹوٹے
کس نے دیکھے کبھی رنجورزمانے والے
ماجد صدیقی

وہ لڑکی جو شرمیلے نینوں والی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہم نے بھی اب نسبت اُس سے ٹھہرا لی ہے
وہ لڑکی جو شرمیلے نینوں والی ہے
جو درد گریزاں دل سے تھا وہ جا بھی چکا
کچھ روز سے اب پنجرہ پنچھی سے خالی ہے
احوالِدَرُوں چہرے سے نہیں کُھلنے دیتے
لو ہم نے بھی ہنس کھیل کے بات بنا لی ہے
لَو دیکھ کے شاید کوئی مسافر آ پہنچے
ہم نے بھی دشت کنارے آگ جلا لی ہے
اُس شوخ کا چہر ہ شوخ گلابوں جیساہے
اور کان میں پہلی کے چندا سی بالی ہے
ماجد صدیقی

اِک نظر اے کاش مڑ کر دیکھتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہم تمہیں مہ کے برابر دیکھتے
اِک نظر اے کاش مڑ کر دیکھتے
جھانکتے اِک بار گر تم بام سے
دل میں برپا ہم بھی محشر دیکھتے
ہاں تمہارا لمس گر ہوتا بہم
سرسراتی ہاتھ میں زر دیکھتے
موج جیسے سبزۂ ساحل پہ ہو
تم ہمیں خود پر نچھاور دیکھتے
ماجد صدیقی

تم بھی اے کاش! مرے بھاگ جگانے آتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہمرہِ بادِ صبا پُھول کِھلانے آتے
تم بھی اے کاش! مرے بھاگ جگانے آتے
چاند کے قرب سے بے کل ہو سمندر جیسے
ایسی ہلچل مرے دل میں بھی مچانے آتے
جیسے بارش کی جگہ پُھول پہ شبنم کا نزول
تم بھی ایسے میں کسی اور بہانے آتے
رنگِرخسار سے دہکاتے شب و روز مرے
آتشِگل سے مرا باغ جلانے آتے
دینے آتے مجھے تم صبحِبہاراں کی جِلا
اور خوشبو سا رگ و پے میں سمانے آتے
ماجد صدیقی

ٹل جائیں تجھ نگار سے ایسے بھی ہم نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہم بدگماں ہوں پیار سے ایسے بھی ہم نہیں
ٹل جائیں تجھ نگار سے ایسے بھی ہم نہیں
پُھولوں تلک سفر ہی جب اپنا ہے مدّعا
ڈر جائیں خار زار سے ،ایسے بھی ہم نہیں
اک اور بھی جنم ہو تو دیکھیں گے رہ تری
ٹھٹکیں ہم انتظار سے ایسے بھی ہم نہیں
خُو ہے جو سر بلندیٔ سر کی ہمیں ۔۔ اِسے
بدلیں گے انکسار سے ایسے بھی ہم نہیں
جاناں !ترا وہ تیرِ نظر ہو کہ تیغِ غیر
جھجکیں کسی بھی و ار سے ،ایسے بھی ہم نہیں
ماجد صدیقی

بِن ترے کیا کیا حسیں موسم گزر جانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ندیّوں میں آسمانی رنگ بھر جانے لگے
بِن ترے کیا کیا حسیں موسم گزر جانے لگے
کِھلکھلاہٹ بھی وہی اور تمتماہٹ بھی وہی
پُھول تیرے عارضوں جیسے نکھر جانے لگے
تیری جانب تتلیوں جیسی لئے بے تابیاں
ہو کے پہلے سے زیادہ بارور جانے لگے
تشنۂ حسن اِک نظر، اور اِک دلِ ذی حوصلہ
لے کے ہم بھی ساتھ کیا رختِسفر جانے لگے
تو نہ ہو رنج آشنا جانا ں! ہمارے قرب سے
حق میں تیرے دیکھ !ہم کیا کیا نہ ڈر جانے لگے
ماجد صدیقی

ہنس ہنس کر تم ہی نے پُھول کھلانے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
موسمِ گل کے رنگ تو آنے جانے ہیں
ہنس ہنس کر تم ہی نے پُھول کھلانے ہیں
ہم نے پانے کو تیرے اقرار کی نم
کونجوں جیسے حرف زباں پر لانے ہیں
خوشبو کے مرغولے ،رنگت پُھولوں کی
بھنوروں کے ایسے ہی ٹھور ٹھکانے ہیں
تجھ سے ملنا اور پھر تیرا ہو جانا
ایک حقیقت ،باقی سب افسانے ہیں
قرب ترے کی، چھاؤں میں جا رُکنے کو
دشت کی آنچ میں ہم نے پنکھ جلانے ہیں
ماجد صدیقی

رشک میں اُس شوخ کے اب کی ادائیں شوخ ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
منظروں سپنوں ارادوں کی قبائیں شوخ ہیں
رشک میں اُس شوخ کے اب کی ادائیں شوخ ہیں
اُس کے دم سے سخت واماندہ ہیں خدشوں کے عقاب
اور سکون و امن کی سب فاختائیں شوخ ہیں
اُس کے ہونٹوں پر دمکتی مسکراہٹ دیکھ کر
آسماں پر ابر چنچل ہیں، ہوائیں شوخ ہیں
اُس بدن پر دیکھ کر پیہم مہکتا پیرہن
گل بہ گل بے نام خوشبو کی ردائیں شوخ ہیں
ہم سخن ہونے کو اُس ہر دم سراپا ناز سے
باغ میں کلیوں کے کِھلنے کی صدائیں شوخ ہیں
ماجد صدیقی

مگر اک کٹھن سا سوال ہے تجھے دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
مری آرزو کا مآل ہے تجھے دیکھنا
مگر اک کٹھن سا سوال ہے تجھے دیکھنا
کبھی ابر میں ،کبھی چاند میں، کبھی پُھول میں
سرِگردش مہ و سال ہے تجھے دیکھنا
رگ و پے میں گرچہ ہے چاشنی ترے قرب کی
تو مہک ہے کارِ محال ہے تجھے دیکھنا
کوئی عید بھی ہو سعید ہے ، تری دید کی
پئے چشم، کسبِکمال ہے تجھے دیکھنا
تجھے کیوں نہ میں یہ کہوں صنم کہ سرِ نظر
کسی اور رُت کا جمال ہے تجھے دیکھنا
ماجد صدیقی

اور پھر وہ، کہ سنی تم نے زبانی میری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کیوں رُلاتی نہ تمہیں پیار کہانی میری
اور پھر وہ، کہ سنی تم نے زبانی میری
طاقِنسیاں میں کہیں رکھ کے اُسے بھول گئے
ا نگلیوں میں جو سجائی تھی نشانی میری
آنچ سی دینے لگا ہجر کا صحرا جب سے
اور مرجھانے لگی عمر سہانی میری
برقِ فرقت کی گرج خوف دلاتی ہے یہی
راکھ کا ڈھیر نہ ہو جائے جوانی میری
مجھ کو دہرانے پہ مجبور نہ کرنا جاناں !
جاں سے جانے کی ہے جو ریت پرانی میری
ماجد صدیقی