زمرہ جات کے محفوظات: غزل

رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 38
تیغِ قاتل پہ ادا لوٹ گئی
رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی
ہنس پڑے آپ، تو بجلی چمکی
بال کھولے، تو گھٹا لوٹ گئی
اس روش سے وہ چلے گلشن میں
بِچھ گئے پھول صبا لوٹ گئی
خنجرِ ناز نے کشتوں سے امیر
چال وہ کی کہ قضا لوٹ گئی
امیر مینائی

خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 37
چاند سا چہرہ، نور سی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
خوب نکالا آپ نے جوبن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
گُل رُخِ نازک، زلف ہے سنبل، آنکھ ہے نرگس، سیب زنخداں
حُسن سے تم ہو غیرتِ گلشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
ساقیِ بزمِ روزِ ازل نے بادۂ حسن بھرا ہے اس میں
آنکھیں ہیں ساغر، شیشہ ہے گردن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
قہر غضب ظاہر کی رکاوٹ، آفتِ جاں درپردہ لگاوٹ
چاہ کے تیور، پیار کی چتون، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
غمزہ اچکّا، عشوہ ہے ڈاکو، قہر ادائیں، سحر ہیں باتیں
چور نگاہیں، ناز ہے رہزن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
نور کا تن ہے، نور کے کپڑے، اس پر کیا زیور کی چمک ہے
چھلے، کنگن، اِکّے، جوشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
جمع کیا ضدّین کو تم نے، سختی ایسی، نرمی ایسی
موم بدن ہے، دل ہے آہن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
واہ امیرؔ، ایسا ہو کہنا، شعر ہیں یا معشوق کا گہنا
صاف ہے بندش، مضموں روشن، ماشاء اللہ! ماشاء اللہ!
امیر مینائی

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 36
سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو
کہیں فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ
سوالِ وصل پر ان کو خدا کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ
ہمارے اور تمہارے پیار میں بس فرق ہے اتنا
اِدھر تو جلدی جلدی ہے اُدھر آہستہ آہستہ
وہ بے دردی سے سر کاٹے امیر اور میں کہوں ان سے
حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ
امیر مینائی

غم سے بے اختیار سا ہے کچھ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 35
دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ
غم سے بے اختیار سا ہے کچھ
رخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیں
جامۂ مستعار سا ہے کچھ
چشم نرگس کہاں وہ چشم کہاں
نشہ کیسا خمار سا ہے کچھ
نخل اُمید میں نہ پھول نہ پھل
شجرِ بے بہار سا ہے کچھ
ساقیا ہجر میں یہ ابر نہیں
آسمان پر غبار سا ہے کچھ
کل تو آفت تھی دل کی بیتابی
آج بھی بے قرار سا ہے کچھ
مردہ ہے دل تو گور ہے سینہ
داغ شمع مزار سا ہے کچھ
اِس کو دنیا کی اُس کو خلد کی حرص
رند ہے کچھ نہ پارسا ہے کچھ
پہلے اس سے تھا ہوشیار امیر
اب بے اختیار سا ہے کچھ
امیر مینائی

کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 34
ہم لوٹتے ہیں، وہ سو رہے ہیں
کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں
پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت
جو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں
پیری میں بھی ہم ہزار افسوس
بچپن کی نیند سو رہے ہیں
روئیں گے ہمیں رُلانے والے
ڈوبیں گے وہ جو ڈبو رہے ہیں
کیوں کرتے ہیں غمگسار تکلیف
آنسو مرے مُنہ کو دھو رہے ہیں
زانو پہ امیر سر کو رکھے
پھر دن گزرے کہ رو رہے ہیں
امیر مینائی

نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 33
ملا کر خاک میں بھی ہائے شرم اُنکی نہیں جاتی
نگہ نیچی کیئے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں
بڑے ہی قدر داں کانٹے ہیں صحرائے مُحبت کے
کہیں گاہک گریباں کے، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں
وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
اُدھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، اِدھر ہم تن کے بیٹھے ہیں
امیر ، اچھی غزل ہے داغ کی، جسکا یہ مصرع ہے،
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
امیر مینائی

اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 32
دل جُدا، مال جدا، جان جدا لیتے ہیں
اپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں
مجلسِ وعظ میں جب بیٹھتے ہیں ہم مے کش
دخترِ رز کو بھی پہلو میں بٹھا لیتے ہیں
دھیان میں لا کے ترا سلسلۂ زلف دراز
ہم شبِ ہجر کو کچھ اور بڑھا لیتے ہیں؟
ایک بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوب
جی میں سوچیں تو وہ کیا دیتے ہیں کیا لیتے ہیں؟
اپنی محفل سے اُٹھاتے ہیں عبث ہم کو حضور
چُپ کے بیٹھے ہیں الگ، آپ کا کیا لیتے ہیں؟
امیر مینائی

یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 31
خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیں
یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں
خدا کے ہاتھ ہم چشموں میں ہے اب آبرو اپنی
بھرے بیٹھے ہیں دیکھیں آج وہ کس پر برستے ہیں
ڈبو دیں گی یہ آنکھیں بادلوں کو ایک چھینٹے میں
بھلا برسیں تو میرے سامنے کیونکر برستے ہیں
جہاں ان ابروؤں پر میل آیا کٹ گئے لاکھوں
یہ وہ تیغیں ہیں جن کے ابر سے خنجر برستے ہیں
چھکے رہتے ہیں‌ مے سے جوش پر ہے رحمتِ ساقی
ہمارے میکدے میں غیب سے ساغر برستے ہیں
جو ہم برگشتۂ قسمت آرزو کرتے ہیں پانی کی
زہے بارانِ رحمت چرخ سے پتھر برستے ہیں
غضب کا ابرِ خوں افشاں ہے ابرِ تیغِ قاتل بھی
رواں ہے خون کا سیلاب لاکھوں سر برستے ہیں
سمائے ابرِ نیساں خاک مجھ گریاں کی آنکھوں میں
کہ پلکوں سے یہاں بھی متصل گوہر برستے ہیں
وہاں ہیں سخت باتیں، یاں امیر آنسو پر آنسو ہیں
تماشا ہے اِدھر، موتی اُدھر پتھر برستے ہیں
امیر مینائی

اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 30
لیا میں نے تو بوسہ خنجرِ قاتل کا مقتل میں
اجل شرما گئی سمجھی کہ مجھ کو پیار کرتے ہیں
مرا خط پھینک کر قاتل کے مُنہ پر طنز سے بولے
خلاصہ سارے اس طومار کا یہ ہے کہ مرتے ہیں
ابھی اے جاں تو نے مرنے والوں کو نہیں دیکھا
جیئے ہم تو دکھا دیں گے کہ دیکھ اس طرح مرتے ہیں
قیامت دور، تنہائی کا عالم، روح پر صدمہ
ہمارے دن لحد میں دیکھیئے کیوں کر گزرتے ہیں
جو رکھ دیتی ہے شانہ آئینہ تنگ آ کے مشاطہ
ادائیں بول اُٹھتی ہیں کہ دیکھو یوں سنورتے ہیں
چمن کی سیر ہی چھوٹی تو پھر جینے سے کیا حاصل؟
گلا کاٹیں مرا صیاد ناحق پر کترتے ہیں
قیام اس بحرِ طوفاں خیز دنیا میں کہاں ہمدم؟
حباب آ سا ٹھہرتے ہیں تو کوئی دم ٹھہرتے ہیں
امیر مینائی

ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 29
وا کردہ چشم دل صفتِ نقش پا ہوں میں
ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
مطلب جو اپنے اپنے کہے عاشقوں نے سب
وہ بُت بگڑ کے بول اُٹھا ، کیا خدا ہوں میں
اے انقلابِ دہر، مٹاتا ہے کیوں مجھے
نقشے ہزاروں مٹ گئے ہیں تب بنا ہوں میں
محنت یہ کی کہ فکر کا ناخن بھی گھِس گیا
عقدہ یہ آج تک نہ کھُلا مجھ پہ کیا ہوں میں
رسوا ہوئے جو آپ تو میرا قصور کیا؟
جو کچھ کیا وہ دل نے کیا، بے خطا ہوں میں
مقتل ہے میری جاں کو وہ جلوہ گاہِ ناز
دل سے ادا یہ کہتی ہے تیری قضا ہوں میں
مانندِ سبزہ اُس چمنِ دہر میں امیر
بیگانہ وار ایک کنارے پڑا ہوں میں
امیر مینائی

ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 28
قاضی بھی اب تو آئے ہیں بزمِ شراب میں
ساقی ہزار شکر خدا کی جناب میں
جا پائی خط نے اس کے رخِ بے نقاب میں
سورج گہن پڑا شرفِ آفتاب میں
دامن بھرا ہوا تھا جو اپنا شراب میں
محشر کے دن بٹہائے گئے آفتاب میں
رکھا یہ تم نے پائے حنائی رکاب میں
یا پھول بھر دئیے طبقِ آفتاب میں
تیرِ دعا نشانے پہ کیونکر نہ بیٹھتا
کچھ زور تھا کماں سے سوا اضطراب میں
وہ ناتواں ہوں قلعۂ آہن ہو وہ مجھے
کر دے جو کوئی بند مکانِ حباب میں
حاجت نہیں تو دولتِ دنیا سے کام کیا
پھنستا ہے تشنہ دام فریبِ سراب میں
مثلِ نفس نہ آمد و شد سے ملا فراغ
جب تک رہی حیات، رہے اضطراب میں
سرکش کا ہے جہاں میں دورانِ سر مآل
کیونکر نہ گرد باد رہے پیچ و تاب میں
چاہے جو حفظِ جان تو نہ کر اقربا سے قطع
کب سوکھتے ہیں برگِ شجر آفتاب میں
دل کو جلا تصور حسنِ ملیح سے
ہوتی ہے بے نمک کوئی لذت، کباب میں
ڈالی ہیں نفسِ شوم نے کیا کیا خرابیاں
موذی کو پال کر میں پڑا کس عذاب میں
اللہ رے تیز دستیِ مژگانِ رخنہ گر
بے کار بند ہو گئے ان کی نقاب میں
چلتا نہیں ہے ظلم تو عادل کے سامنے
شیطاں ہے پردہ در کہ ہیں مہدی حجاب میں
کچھ ربط حسن و عشق سے جائے عجب نہیں
بلبل بنے جو بلبلہ اٹھّے گلاب میں
چومے جو اس کا مصحفِ رخ زلف میں پھنسے
مارِ عذاب بھی ہے طریقِ ثواب میں
ساقی کچھ آج کل سے نہیں بادہ کش ہیں بند
اس خاک کا خمیر ہوا ہے شراب میں
جب نامہ بر کیا ہے کبوتر کو اے امیر
اس نے کباب بھیجے ہیں خط کے جواب میں
امیر مینائی

کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 27
جب خوبرو چھپاتے ہیں عارض نقاب میں
کہتا ہے حُسن میں نہ رہوں گا حجاب میں
بے قصد لکھ دیا ہے گِلہ اِضطراب میں
دیکھوں کہ کیا وہ لکھتے ہیں خط کے جواب میں
دو کی جگہ دئیے مجھے بوسے بہک کے چار
تھے نیند میں، پڑا اُنہیں دھوکا حساب میں
سمجھا ہے تو جو غیبتِ پیر مغاں حلال،
واعظ، بتا یہ مسئلہ ہے کس کی کتاب میں؟
دامن میں اُن کے خوں کی چھینٹیں پڑیں امیر
بسمل سے پاس ہو نہ سکا اضطراب میں
امیر مینائی

تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 26
یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں
تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں
وصل کیسا تیرے نادیدہ خریداروں میں ہوں
واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گناہ گاروں میں ہوں
ناتوانی سے ہے طاقت ناز اٹھانے کی کہاں
کہہ سکوں گ کیونکر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں
ہائے رے غفلت نہیں ہے آج تک اتنی خبر
کون ہے مطلوب میں کس کے طلب گاروں میں ہوں
دل جگر دونوں کی لاشیں ہجر میں ہیں سامنے
میں کبھی اس کے کبھی اس کے عزا داروں میں ہوں
وقت آرائش پہن کر طوق بولا وہ حسین
اب وہ آزادی کہاں ہے میں بھی گرفتاروں میں ہوں
آ چکا تھا رحم اس کو سن کے میری بے کسی
درد ظالم بول اٹھا میں اس کے غم خواروں میں ہوں
پھول میں پھولوں میں ہوں، کانٹا ہوں کانٹوں میں امیر
یار میں یاروں میں ہوں، عیار ، عیاروں میں ہوں
امیر مینائی

ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 25
اس کی حسرت ہے ، جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
ڈھونڈ نے اس کو چلا ہوں جسے پا ہی نہ سکوں
وصل میں چھیڑ نہ اتنا اسے اے شوق وصال
کہ وہ روئے تو کسی طرح منا بھی نہ سکوں
ڈال کر خاک مرے خوں پہ، قاتل نے کہا
کچھ یہ مہندی نہیں میری کہ چھپا بھی نہ سکوں
کوئی پوچھے تو محبت سے یہ کیا ہے انصاف
وہ مجھے دل سے بہلا دے میں بہلا بھی نہ سکوں
ہائے کیا سحر ہے یہ حسن کی مانگیں جو حسیں
دل بچا بھی نہ سکوں جان چھڑا بھی نہ سکوں
ایک نالے میں جہاں کو تہہ و بال کر دوں
کچھ تیرا دل یہ نہیں ہے کہ ہلا بھی نہ سکوں
امیر مینائی

کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 24
وہ تو سنتا ہی نہیں میں داد خواہی کیا کروں؟
کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الٰہی کیا کروں؟
مجھ گدا کو دے نہ تکلیف حکومت اے ہوس!
چار دن کی زندگی میں بادشاہی کیا کروں؟
مجھ کو ساحل تک خدا پہنچائے گا اے ناخدا!
اپنی کشتی کی بیاں تجھ سے تباہی کیا کروں؟
وہ مرے اعمال روز و شب سے واقف ہے امیر
پیش خالق ادعائے بے گناہی کیا کروں؟
امیر مینائی

اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 23
شمشیر ہے سناں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
اِک جانِ ناتواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
مہمان اِدھر ہما ہے اُدھر ہے سگِ حبیب
اِک مشتِ استخواں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
درباں ہزار اس کے یہاں ایک نقدِ جاں
مال اس قدر کہاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
بلبل کو بھی ہے پھولوں کی گلچیں کو بھی طلب
حیران باغباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
سب چاہتے ہیں اس سے جو وعدہ وصال کا
کہتا ہے اک زباں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
شہزادے دختِ رز کے ہزاروں ہی خواستگار
چپ مرشدِ مغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
یاروں کو بھی ہے بوسے کی غیروں کو بھی طلب
ششدر وہ جانِ جاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
دل مجھ سے مانگتے ہیں ہزاروں حسیں امیر
کتنا یہ ارمغاں ہے کسے دوں کسے نہ دوں
امیر مینائی

چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 22
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ
میلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ
ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھ
غربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ
کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ
تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ
شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیر
آرام چاہتا ہے تو مشقِ سخن کو چھوڑ
امیر مینائی

سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 21
خنجرِ قاتل نہ کر اتنا روانی پر گھمنڈ
سخت کم ظرفی ہے اک دو بوند پانی پر گھمنڈ
شمع کے مانند کیا آتش زبانی پر گھمنڈ
صورتِ پروانہ کر سوز نہانی پر گھمنڈ
ہے اگر شمشیر قاتل کو روانی پر گھمنڈ
بسملوں کو بھی ہے اپنی سخت جانی پر گھمنڈ
ناز اُٹھانے کا ہے اس کے حوصلہ اے جانِ زار
اب تلک تجھ کو ہے زور ناتوانی پر گھمنڈ
نوبت شاہی سے آتی ہے صدا شام و سحر
اور کر لے چار دن اس دار فانی پر گھمنڈ
دیکھ او نادان کہ پیری کا زمانہ ہے قریب
کیا لڑکپن ہے کہ کرتا ہے جوانی پر گھمنڈ
چار ہی نالے ہمارے سن کے چپکی لگ گئی
تھا بہت بلبل کو اپنی خوش بیانی پر گھمنڈ
عفو کے قابل مرے اعمال کب ہیں اے کریم
تیری رحمت پر ہے تیری مہربانی پر گھمنڈ
شمع محفل شامت آئی ہے تری خاموش ہو
دل جلوں کے سامنے آتش زبانی پر گھمنڈ
طبع شاعر آ کے زوروں پر کرے کیوں کر نہ ناز
سب کو ہوتا ہے جوانی میں جوانی پر گھمنڈ
چار موجوں میں ہماری چشم تر کے رہ گیا
ابر نیساں کو یہی تھا ڈر فشانی پر گھمنڈ
دیکھنے والوں کی آنکھیں آپ نے دیکھی نہیں
حق بجانب ہے اگر ہے لن ترانی پر گھمنڈ
عاشق و معشوق اپنے اپنے عالم میں ہیں مست
واں نزاکت پر تو یاں ہے ناتوانی پر گھمنڈ
تو سہی کلمہ ترا پڑھوا کے چھوڑوں اے صنم
زاہدوں کو ہے بہت تسبیح خوانی پر گھمنڈ
سبزہ خط جلد یارب رخ پر اُس کے ہو نمود
خضر کو ہے اپنی عمر جاودانی پر گھمنڈ
گور میں کہتی ہے عبرت قیصر و فغفور سے
کیوں نہیں کرتے ہو اب صاحب قرانی پر گھمنڈ
ہے یہی تاثیر آبِ خنجر جلّاد میں
چشمۂ حیواں نہ کر تو اپنے پانی پر گھمنڈ
حال پر اجداد و آبا کے تفاخر کیا امیر
ہیں وہ ناداں جن کو ہے قصے کہانی پر گھمنڈ
امیر مینائی

دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 20
اے ضبط دیکھ عشق کی اُن کو خبر نہ ہو
دل میں ہزار درد اُٹھے آنکھ تر نہ ہو
مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب
دو چار سو برس تو الہٰی سحر نہ ہو
اک پھول ہے گلاب کا آج اُن کے ہاتھ میں
دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو
ڈھونڈھے سے بھی نہ معنی باریک جب ملا
دھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اُس کی کمر نہ ہو
فرقت میں یاں سیاہ زمانہ ہے مجھ کو کیا
گردوں پہ آفتاب نہ ہو یا قمر نہ ہو
دیکھی جو صورتِ ملک الموت نزع میں
میں خوش ہوا کہ یار کا یہ نامہ بر نہ ہو
آنکھیں ملیں ہیں اشک بہا نے کے واسطے
بیکار ہے صدف جو صدف میں گُہر نہ ہو
الفت کی کیا اُمید وہ ایسا ہے بے وفا
صحبت ہزار سال رہے کچھ اثر نہ ہو
طول شب وصال ہو، مثل شب فراق
نکلے نہ آفتاب الٰہی سحر نہ ہو
منہ پھیر کر کہا جو کہا میں نے حالِدل
چُپ بھی رہو امیر مجھے درد سر نہ ہو
امیر مینائی

پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 19
لٹکاؤ نہ گیسوئے رسا کو
پیچھے نہ لگاؤ اس بلا کو
ظالم تجھے دل دیا، خطا کی
بس بس میں پُہنچ گیا، سزا کو
اے حضرتِ دل بتوں کو سجدہ
اتنا تو نہ بھولئیے خدا کو
اتنا بکئے کہ کچھ کہے وہ
یوں کھولیئے قفل مدعا کو
کہتی ہے امیر اُس سے شوخی
اب مُنہ نہ دکھائیے حیا کو
امیر مینائی

یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 18
تیرے جور و ستم اُٹھائیں ہم
یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہم
دل کی طاقت بھی آزمائیں ہم
نالے کرتے نہیں یہ الفت میں
باندھتے ہیں تری ہوائیں ہم
اب لب یار کیا ترے ہوتے
لب ساغر کو منہ لگائیں ہم
دل میں تم، دل ہے سینہ سے خود گم
کوئی پوچھے تو کیا بتائیں ہم
آب شمشیر یار اگر مل جائے
اپنے دل کی لگی بجھائیں ہم
اب جو منہ موڑیں بندگی سے تری
اے بت اپنے خدا سے پائیں ہم
زندگی میں ہے موت کا کھٹکا
قصر کیا مقبرہ بنائیں ہم
توبۂ مے سے کیا پشیماں ہیں
زاہد و دیکھ کر گھٹائیں ہم
دل میں ہے مثل ہیزم و آتش
جو گھٹائے اُسے بڑھائیں ہم
زار سے زار ہیں جہاں میں امیر
دل ہی بیٹھے جو لطف اٹھائیں ہم
امیر مینائی

تب ہم نہ رہے وفا کے قابل

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 17
جب یار ہوا جفا کے قابل
تب ہم نہ رہے وفا کے قابل
ہے خوف سے سارے تن میں رعشہ
اب ہاتھ کہاں دعا کے قابل
آئے مجھے دیکھنے اطبّا
جب میں نہ رہا دوا کے قابل
بولے مرے دل پہ پیس کر دانت
یہ دانہ ہے آسیا کے قابل
کلفت سے امیر صاف کر دل
یہ آئینہ ہے جلا کے قابل
امیر مینائی

ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 16
جادۂ راہِ عدم ہے رہِ کاشانۂ عشق
ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق
مرکزِ خاک ہے دُردِ تہِ پیمانۂ عشق
آسماں ظرف بر آوردۂ میخانۂ عشق
کم بلندی میں نہیں عرش سے کاشانۂ عشق
دونوں عالم ہیں دو مصراع درِ خانۂ عشق
ہے جو واللیل سرا پردۂ کاشانۂ عشق
سورۂ شمس ہے قندیل درِ خانۂ عشق
دل مرا شیشہ ہے آنکھیں مری پیمانۂ عشق
جسم با جوشِ محبت سے ہے میخانۂ عشق
ہم تھے اور پیشِ نظر جلوۂ مستانۂ عشق
جس زمانے میں نہ محرم تھا نہ بیگانہ عشق
ہم وہ فرہاد تھے کاٹا نئی صورت سے پہاڑ
حسن کا گنج لیا کھود کے ویرانۂ عشق
کچھ گرہ میں نہیں گرمی کے سوا مثلِ سپند
برگ و بر دود و شرر ہوں جو اُگے دانۂ عشق
عین مستی میں ملے ہیں مجھے گوشِ شنوا
سن رہا ہوں میں صدائے لبِ پیمانۂ عشق
آ رہے باغِ جناں سے جو زمیں پر آدم
فی الحقیقت تھی وہ اِک لغزشِ مستانۂ عشق
معتقد کون نہیں کون نہیں اس کا مرید
پیر ہفتاد و دو ملت کا ہے دیوانۂ عشق
دل نے تسبیح بنا کر وہ کئے زیبِ گُلو
ہاتھ آئے جو کوئی گوہرِ یک دانۂ عشق
زلفِ معشوق نہ گھٹ جائے ادب کا ہے مقام
بڑھ چلیں اتنے نہ موئے سرِ دیوانۂ عشق
سننے والوں کے یہ ڈر ہے نہ جلیں پردۂ گوش
کیا سناؤں کہ بہت گر ہے افسانۂ عشق
خاکِ درکار ہے وہ لوثِ خطا سے جو ہو پاک
ورنہ ہر خاک سے اگتا ہے کوئی دانۂ عشق
کہتے ہیں مرگِ جوانی جسے سب اہلِ جہاں
اپنے نزدیک ہے وہ بازیِ طفلانۂ عشق
آہ! عاشق سے ہوئی غفلتِ معشوق نہ کم
خواب تھا حسنِ فسوں ساز کو افسانۂ عشق
بختِ برگشتہ ہوں تب بھی نہیں جاتا یہ مزہ
نہ گرے بادہ جو واژوں بھی ہو پیمانۂ عشق
طور پر کہتی ہے یہ شمع تجلّی کی زباں
سرمۂ حسن ہے خاکسترِ پروانۂ عشق
طالبِ درد ہے اس درجہ مرا طائرِ دل
ٹوٹ پڑتا ہے یہ جس دام میں ہو دانۂ عشق
ہوں وہ دیوانہ کہ قدموں سے لگا ہے مرے حسن
ہے مرے پانوں میں زنجیر پری خانۂ عشق
مر کے دے روح کو میری یہ الٰہی قدرت
ہنس بن بن کے چُگے گوہرِ یک دانۂ عشق
کیا فلاطوں کو ہے نسبت ترے دیوانے سے
آشنا ہے یہ محبت کا وہ بے گانۂ عشق
ہم تھے اور چہرۂ محبوب کا نظّارہ امیر
شعلۂ حسن تھا جس روز نہ پروانۂ عشق
امیر مینائی

جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 15
یوں دل مرا ہے اُس صنمِ دلرُبا کے پاس
جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس
بولا وہ بُت سرہانے مرے آ کے وقتِ نزع
فریاد کو ہماری چلے ہو خدا کے پاس؟
توفیق اتنی دے مجھے افلاس میں خدا
حاجت نہ لے کے جاؤں کبھی اغنیا کے پاس
رہتے ہیں ہاتھ باندھے ہوئے گلرخانِ دہر
یارب ہے کس بلا کا فسوں اس حنا کے پاس
پیچھے پڑا ہے افعیِ گیسو کے دل ، امیر
جاتا ہے دوڑ دوڑ کے یہ خود قضا کے پاس
امیر مینائی

دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 14
کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر
دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
گرا میں ضعیف اُس کے کوچے کو چل کر
زمیں رحم کر تو ہی پہنچا دے ٹل کر
نئی سیر دیکھو سوئے قاف چل کر
سرِ راہ بیٹھی ہیں پریاں نکل کر
اِدھر کی نہ ہو جائے دنیا اُدھر کو
زمانے کو بدلو نہ آنکھیں بدل کر
وہ کرتے ہیں باتیں عجب چکنی چکنی
یہ مطلب کہ چوپٹ ہو کوئی پھسل کر
وہ مضطر ہوں، میں کیا مرے ساتھ گھڑیوں
تڑپتا ہے سایہ بھی کروٹ بدل کر
یہ کہتی ہے وہ زلف عمر خضر سے
کہ مجھ سے کہاں جائے گی تو نکل کر
گلستاں نہیں ہے یہ بزم سخن ہے
کہو شاعروں سے کہ پھولیں نہ پھل کر
غضب اوج پر ہے مری بے قراری
زمین آسماں بن گئی ہے اُچھل کر
پڑا تیر دل پر جو منہ تو نے پھیرا
نشانہ اُڑایا ہے کیا رخ بدل کر
نہ آئیں گے وہ آج کی شب بھی شاید
کہ تارے چھپے پھر فلک پر نکل کر
چلو وحشیو بزم گلزار مہکے
گل آئے ہیں پوشاک میں عطر مل کر
چھپا کب ، بہت خاک ظالم نے ڈالی
شفق بن گیا خون میرا اُچھل کر
کمر بال سی ہے ، نہ لچکے یہ ڈر ہے
جوانی پر اے ترک اتنا نہ بل کر
حضور اس کی باتیں جو کیں ڈرتے ڈرتے
کھڑا ہو رہا دور مطلب نکل کر
چھپے حرف گیری سے سب عیب میرے
ہوئی پردہ ہر بات میں تہ نکل کر
وہ ہوں لالہ ساں سوختہ بخت میکش
کہ مے ہو گئی داغ ساغر میں جل کر
کہے شعر امیر اُس کمر کے ہزاروں
مگر رہ گئے کتنے پہلو نکل کر
امیر مینائی

گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 13
ایک ہے میرے حضر اور سفر کی صورت
گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت
چشمِ عشاق سے پنہاں ہو نظر کی صورت
وصل سے جان چراتے ہو کمر کی صورت
ہوں وہ بلبل کہ جو صیاد نے کاٹے مرے پر
گر گئے پھول ہر اک شاخ سے پر کی صورت
تیرے چہرے کی ملاحت جو فلک نے دیکھی
پھٹ گیا مہر سے دل شیرِ سحر کی صورت
جھانک کر روزنِ دیوار سے وہ تو بھاگے
رہ گیا کھول کے آغوش میں در کی صورت
تیغ گردن پہ کہ ہے سنگ پر آہیں دمِ ذبح
خون کے قطرے نکلتے ہیں شرر کی صورت
کون کہتا ہے ملے خاک میں آنسو میرے
چھپ رہی گرد یتیمی میں گہر کی صورت
نہیں آتا ہے نظر، المدد اے خضر اجل
جادۂ راہِ عدم موئے کمر کی صورت
پڑ گئیں کچھ جو مرے گرم لہو کی چھینٹیں
اڑ گئی جوہرِ شمشیر شرر کی صورت
قبر ہی وادیِ غربت میں بنے گی اک دن
اور کوئی نظر آتی نہیں گھر کی صورت
خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت
آفت آغازِ جوانی ہی میں آئی مجھ پر
بجھ گیا شام سے دل شمعِ سحر کی صورت
جلوہ گر بام پہ وہ مہرِ لقا ہے شاید
آج خورشید سے ملتی ہے قمر کی کی صورت
دہنِ یار کی توصیف کڑی منزل ہے
چست مضمون کی بندش ہو کمر کی صورت
نو بہارِ چمنِ غم ہے عجب روز افزوں
بڑھتی جاتی ہے گرہ دل کی ثمر کی صورت
ہوں بگولے کی طرح سے میں سراپا گردش
رات دن پاؤں بھی چکر میں ہیں سر کی صورت
امیر مینائی

سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 12
ایک دلِ ہمدم، مرے پہلو سے، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے، جوانی کیا گئی
وہ اُمنگیں مِٹ گئیں، وہ ولوَلا جاتا رہا
درد باقی، غم سلامت ہے، مگر اب دل کہاں
ہائے وہ غم دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا
آنے والا، جانے والا، بیکسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم، غریب آتا رہا جاتا رہا
آنکھ کیا ہے، موہنی ہے، سحر ہے، اعجاز ہے
اک نگاہِ لطف میں سارا گِلا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ، دل تھا شکووں سے بھرا
تم گَلے سے مِل گئے، سارا گلا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا، امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 11
ایک دل ہم دم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا
سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے ، جوانی کیا گئی
وہ امنگیں مٹ گئیں وہ ولولہ جاتا رہا
آنے والا جانے والا، بے کسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم غریب، آتا رہا جاتا رہا
مرگیا میں جب ، تو ظالم نے کہا کہ افسوس آج
ہائے ظالم ہائے ظالم کا مزہ جاتا رہا
شربت دیدار سے تسکین سی کچھ ہو گئی
دیکھ لینے سے دوا کے ، درد کیا جاتا رہا
مجھ کو گلیوں میں جو دیکھا ، چھیڑ کر کہنے لگے
کیوں میاں کیا ڈھونڈتے پھرتے ہو، کیا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ دل تھا شکووں سے بھرا
جب گلے سے مل گئے، سارا گلہ جاتا رہا
ہائے وہ صبحِ شبِ وصل، ان کا کہنا شرم سے
اب تو میری بے وفائی کا گلہ جاتا رہا
دل وہی آنکھیں وہی، لیکن جوانی وہ کہاں
ہائے اب وہ تاکنا وہ جھانکنا جاتا رہا
گھورتے دیکھا جو ہم چشموں کو جھنجھلا کر کہا
کیا لحاظ آنکھوں کا بھی او بے حیا جاتا رہا
کیا بری شے ہے جوانی رات دن ہے تاک جھانک
ڈر توں کا ایک طرف ، خوف خدا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 10
وہ کون تھا جو خرابات میں خراب نہ تھا
ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا
شبِ فراق میں کیوں یارب انقلاب نہ تھا
یہ آسمان نہ تھا یا یہ آفتاب نہ تھا
لحاظ ہم سے نہ قاتل کا ہو سکا دمِ قتل
سنبھل سنبھل کے تڑپتے وہ اضطراب نہ تھا
اُسے جو شوقِ سزا ہے مجھے ضرور ہے جرم
کہ کوئی یہ نہ کہے قابلِ عذاب نہ تھا
شکایت اُن سے کوئی گالیوں کی کیا کرتا
کسی کا نام کسی کی طرف خطاب نہ تھا
نہ پوچھ عیش جوانی کا ہم سے پیری میں
ملی تھی خواب میں وہ سلطنت شباب نہ تھا
دماغ بحث تھا کس کو وگر نہ اے ناصح
دہن نہ تھا کہ دہن میں مرے جواب نہ تھا
وہ کہتے ہیں شبِ وعدہ میں کس کے پاس آنا
تجھے تو ہوش ہی اے خانماں خراب نہ تھا
ہزار بار گلا رکھ دیا تہِ شمشیر
میں کیا کروں تری قسمت ہی میں ثواب نہ تھا
فلک نے افسرِ خورشید سر پہ کیوں رکھا
سبوئے بادہ نہ تھا ساغرِ شراب نہ تھا
غرض یہ ہے کہ ہو عیش تمام باعث مرگ
وگرنہ میں کبھی قابلِ خطاب نہ تھا
سوال وصل کیا یا سوال قتل کیا
وہاں نہیں کے سوا دوسرا جواب نہ تھا
ذرا سے صدمے کی تاب اب نہیں وہی ہم میں
کہ ٹکڑے ٹکڑے تھا دل اور اضطراب نہ تھا
کلیم شکر کرو حشر تک نہ ہوش آتا
ہوئی یہ خیر کہ وہ شوق بے نقاب نہ تھا
یہ بار بار جو کرتا تھا ذکر مے واعظ
پئے ہوئے تو کہیں خانماں خراب نہ تھا
امیر اب ہیں یہ باتیں جب اُٹھ گیا وہ شوخ
حضور یار کے منہ میں ترے جواب نہ تھا
امیر مینائی

تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 9
کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا
تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا
شب وصال بھی وہ شوخ بے حجاب نہ تھا
نقاب اُلٹ کے بھی دیکھا تو بے نقاب نہ تھا
لپٹ کے چوم لیا منہ، مٹا دیا انکار
نہیں کا اُن کے سوا اس کے کچھ جواب نہ تھا
مرے جنازے پہ اب آتے شرم آتی ہے
حلال کرنے کو بیٹھے تھے جب حجاب نہ تھا
نصیب جاگ اُٹھے سو گئے جو پانوں مرے
تمہارے کوچے سے بہتر مقام خواب نہ تھا
غضب کیا کہ اسے تو نے محتسب توڑا
ارے یہ دل تھا مرا شیشۂ شراب نہ تھا
زمانہ وصل میں لیتا ہے کروٹیں کیا کیا
فراق یار کے دن ایک انقلاب نہ تھا
تمہیں نے قتل کیا ہے مجھے جو تنتے ہو
اکیلے تھے ملک الموت ہم رکاب نہ تھا
دعائے توبہ بھی ہم نے پڑھی تو مے پی کر
مزہ بھی ہم کو کسی شے کا بے شراب نہ تھا
میں روئے یار کا مشتاق ہو کے آیا تھا
ترے جمال کا شیدا تو اے نقاب نہ تھا
بیاں کی جو شبِ غم کی بے کسی، تو کہا
جگر میں درد نہ تھا، دل میں اضطراب نہ تھا
وہ بیٹھے بیٹھے جو دے بیٹھے قتل عام کا حکم
ہنسی تھی اُن کی کسی پر کوئی عتاب نہ تھا
جو لاش بھیجی تھی قاصد کی ، بھیجتے خط بھی
رسید وہ تو مرے خط کی تھی ، جواب نہ تھا
سرور قتل سے تھی ہاتھ پانوں کو جنبش
وہ مجھ پہ وجد کا عالم تھا، اضطراب نہ تھا
ثبات بحر جہاں میں نہیں کسی کو امیر
اِدھر نمود ہوا اور اُدھر حباب نہ تھا
امیر مینائی

آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 8
رو برو آئینے کے، تو جو مری جاں ہو گا
آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا
اے جوانی، یہ ترے دم کے ہیں، سارے جھگڑے
تو نہ ہو گی، تو نہ یہ دل ، نہ یہ ارماں ہو گا
دستِ وحشت تو سلامت ہے، رفو ہونے دو
ایک جھٹکے میں نہ دامن نہ گریباں ہو گا
آگ دل میں جو لگی تھی، وہ بجھائی نہ گئی
اور کیا تجھ سے، پھر اے دیدۂ گریاں ہو گا
اپنے مرنے کا تو کچھ غم نہیں، یہ غم ہے، امیر
چارہ گر مفت میں بیچارہ پشیماں ہو گا
امیر مینائی

عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 7
میری تربت پر اگر آئیے گا
عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا
سب کی نظروں پہ نہ چڑھیے اتنا
دیکھیے دل سے اُتر جائیے گا
آئیے نزع میں بالیں پہ مری
کوئی دم بیٹھ کے اُٹھ جائیے گا
وصل میں بوسۂ لب دے کے کہا
مُنہ سے کچھ اور نہ فرمائیے گا
ہاتھ میں نے جو بڑھایا تو کہا
بس، بہت پاؤں‌ نہ پھیلائیے گا
زہر کھانے کو کہا، تو، بولے
ہم جلا لیں گے جو مر جائیے گا
حسرتیں نزع میں‌بولیں مُجھ سے
چھوڑ کر ہم کو کہاں جائیے گا
آپ سنیے تو کہانی دل کی
نیند آ جائے گی سو جائیے گا
اتنی گھر جانے کی جلدی کیا ہے؟
بیٹھیے ، جائیے گا، جائیے گا
کہتے ہیں، کہہ تو دیا، آئیں گے
اب یہ کیا چِڑ ہے کہ کب آئیے گا
ڈبڈبائے مرے آنسو تو کہا
روئیے گا تو ہنسے جائیے گا
رات اپنی ہے ٹھہرئیے تو ذرا
آئیے بیٹھئے، گھر جائیے گا
جس طرح عمر گزرتی ہے امیر
آپ بھی یونہی گزر جائیے گا
امیر مینائی

ذرا سی بات میں ہوتا ہے فیصلہ دل کا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 6
اُٹھو گلے سے لگا لو، مٹے گلہ دل کا
ذرا سی بات میں ہوتا ہے فیصلہ دل کا
دم آ کے آنکھوں میں اٹکے تو کچھ نہیں کھٹکا
اٹک نہ جائے الٰہی معاملہ دل کا
تمہارے غمزوں نے کھوئے ہیں ہوش و صبر و قرار
انہیں لٹیروں نے لوٹا ہے قافلہ دل کا
خدا ہی ہے جو کڑی چتونوں سے جان بچے
ہے آج دل شکنوں سے مقابلہ دل کا
امیر بھُول بھُلیاں ہے کوچۂ گیسو
تباہ کیوں نہ پھرے اس میں قافلہ دل کا
امیر مینائی

حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 5
دامنوں کا نہ پتہ ہے نہ گریبانوں کا
حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا
گھر ہے اللہ کا گھر بے سر و سامانوں کا
پاسبانوں کا یہاں کام نہ دربانوں کا
گور کسری و فریدوں پہ جو پہنچوں پوچھوں
تم یہاں سوتے ہو کیا حال ہے ایوانوں کا
کیا لکھیں یار کو نامہ کہ نقاہت سے یہاں
فاصلہ خانہ و کاغذ میں ہے میدانوں کا
دل یہ سمجھا جو ترے بالوں کا جوڑ دیکھا
ہے شکنجے میں یہ مجموعہ پریشانیوں کا
موجیں دریا میں جو اٹھتی ہوئی دیکھیں سمجھا
یہ بھی مجمع ہے تیرے چاک گریبانوں کا
تیر پہ تیر لگاتا ہے کماندار فلک
خانہ دل میں ہجوم آج ہے مہمانوں کا
بسملوں کی دم رخصت ہے مدارات ضرور
یار بیڑا تیری تلوار میں ہو پانو ں کا
میرے اعضا نے پھنسایا ہے مجھے عصیاں میں
شکوہ آنکھوں کا کرو یا میں گلہ کانوں کا
قدر داں چاہئے دیوان ہمارا ہے امیر
منتخب مصحفی و میر کے دیوانوں کا
امیر مینائی

مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 4
جب تلک ہست تھے، دشوار تھا پانا تیرا
مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا
نہ جہت تیرے لیئے ہے نہ کوئی جسم ہے تو
چشم ظاہر کو ہے مشکل نظر آنا تیرا
شش جہت چھان چُکے ہم تو کھُلا ہم پہ حال
رگِ گردن سے ہے نزدیک ٹھکانا تیرا
اب تو پیری میں نہیں پوچھنے والا کوئی
کبھی اے حسن جوانی! تھا زمانہ تیرا
اے صدف چاک کرے گا یہی سینہ اک دن
تو یہ سمجھی ہے کہ گوہر ہے یگانا تیرا
دور اگلے شعراء کا تھا کبھی، اور امیرؔ
اب تو ہے ملک معانی میں زمانہ تیرا
امیر مینائی

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 3
ان شوخ حسینوں پہ بھی مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
کچھ وصل کے وعدے سے بھی حاصل نہیں ہوتا
خوش اب تو خوشی سے بھی میرا دل نہیں ہوتا
گردن تن بسمل سے جدا ہو گئی کب سے
گردن سے جدا خنجر قاتل نہیں ہوتا
دنیا میں پری زاد دئیے خلد میں حوریں
بندوں سے وہ اپنے کبھی غافل نہیں ہوتا
دل مجھ سے لیا ہے تو ذرا بولیے ہنسئے
چٹکی میں مسلنے کے لئے دل نہیں ہوتا
عاشق کے بہل جانے سے کو اتنا بھی ہے کافی
غم دل کا تو ہوتا ہے اگر دل نہیں ہوتا
فریاد کروں دل کے ستانے کی اسی سے
راضی مگر اس پر بھی مرا دل نہیں ہوتا
مرنے کے بتوں پر یہ ہوئی مشق کہ مرنا
سب کہتے ہیں مشکل، مجھے مشکل نہیں ہوتا
جس بزم میں وہ رخ سے اٹھا دیتے ہیں پردہ
پروانہ وہاں شمع پہ مائل نہیں ہوتا
کہتے ہیں کہ دل کے تڑپتے ہیں جو عاشق
ہوتا ہے کہاں درد اگر دل نہیں ہوتا
یہ شعر وہ فن ہے کہ امیر اس کو جو برتو
حاصل یہی ہوتا ہے کہ حاصل نہیں ہوتا
آتا ہے جو کچھ منہ میں وہ کہہ جاتا ہے واعظ
اور اُس پہ یہ طرّہ ہے کہ قائل نہیں ہوتا
جب درد محبت میں یہ لذّت ہے تو یارب
ہر عضو میں، ہر جوڑ میں، کیوں دل نہیں ہوتا
دیوانہ ہے، دنیا میں جو دیوانہ نہیں ہے
عاقل وہی ہوتا ہے جو عاقل نہیں ہوتا
تم کو تو میں کہتا نہیں کچھ، حضرتِ ناصح
پر جس کو ہو تک ایسی وہ عاقل نہیں ہوتا
امیر مینائی

یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 2
میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا
وہ سر مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں‌ خمار ہوتا
مرے اتقا کا باعث تو ہے مری ناتوانی
جو میں توبہ توڑ سکتا تو شراب خوار ہوتا
میں ہوں‌ نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا
نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا ہو گلے کا ہار ہوتا
وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب
مرے دونوں پہلوؤں میں دل بیقرار ہوتا
دمِ نزع بھی جو وہ بُت مجھے آ کے منہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا
نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لحد فِشار دیتی
سر راہِ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا
جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا
میں زباں سے تم کو سچا کہوں لاکھ بار کہہ دوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا
مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا
امیر مینائی

تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 1
پرسش کو مری کون مرے گھر نہیں آتا
تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا
تم لاکھ قسم کھاتے ہو ملنے کی عدو سے
ایمان سے کہو دوں مجھے بارو نہیں آتا
ڈرتا ہے کہیں آپ نہ پڑ جائے بلا میں
کوچے میں ترے فتنہ محشر نہیں آتا
جو مجھ پر گزرتی ہے کبھی دیکھ لے ظالم
پھر دیکھوں کے رونا تجھے کیونکر نہیں آتا
کہتے ہیں یہ اچھی ہے تڑپ دل کی تمھارے
سینے سے ٹرپ کر کبھی باہر نہیں آتا
دشمن کو کبھی ہوتی ہے دل پہ مرے رقت
پر دل یہ ترا ہے کہ کبھی بھر نہیں آتا
کب آنکھ اٹھاتا ہوں کہ آتے نہیں تیور
کب یہ بیٹھ کے اٹھتا ہوں کہ چکر نہیں آتا
غربت کدۂ دہر میں صدمے سے ہیں صدمے
اس پر بھی کبھی یاد ہمیں گہر نہیں آتا
ہم جس کی ہوس میں ہیں امیر آپ سے باہر
وہ پردہ نشین گھر سے باہر نہیں آتا
امیر مینائی

فرد فرد

لوگ دنیا میں گھٹ کے مر جاتے
کوئی بندہ اگر خدا ہوتا

جذبۂ دل کا ہے نام آزادی
ورنہ زنداں کا در نہیں ہوتا

حاصل شور سلاسل معلوم
وہی زنداں ہے وہی گھر اپنا

جھک گئی ہے نگاہ کیوں باقیؔ
ایک تہمت ہوئی کرم نہ ہوا

پرسش غم سے بھی ان کا مقصد
پرسش غم کے سوا کیا ہو گا

خود کو جکڑا ہوا پایا ہم نے
جس جگہ یاد وہ صیاد آیا

راہبر کا طلسم جب ٹوٹا
یاد ایک ایک ہم سفر آیا

ترے جمال کی آرائشیں نہ ختم ہوئیں
مرا خیال جنوں کی حدیں بھی چھو آیا

ہواؤں کا رُخ بھی کوئی چیز ہے
سفینہ جدھر بہہ گیا، بہہ گیا

در پہ دستک کسی نے دی باقیؔ
کوئی پرسان حال آ ہی گیا

میرے ذوق نظر کا کیا ہو گا
چند پھولوں میں بٹ گئی ہے بہار

روشنی میرے مقدر میں کہاں
دور سے دیکھتا جاتا ہوں چراغ

آج تک بدگماں ہیں وہ ہم سے
آ گیا تھا ذرا جہاں کا خیال

اک خرابے کا تماشا بھی دیکھ
اک نئے شہر کی آواز بھی سن

یہ حادثے یہ الم بار ہوتے جاتے ہیں
نقاب اٹھاؤ بس اب شرح کائنات کرو

پرواز کا وقت آ گیا تھا
ہم دیکھ سکے نہ بال و پر کو

آتی نہیں دل کی بات لب تک
خاموش رہیں گے پھر بھی کب تک

اپنے گھر کی خبر نہیں باقیؔ
وہ ستارہ شناس ہیں ہم لوگ

باد خزاں کا فیض ہے یا لغزش بہار
کچھ پھول ٹوٹ کر مرے داماں میں آئے ہیں

کیا آپ سے کہہ دیا کسی نے
کس سوچ میں آپ پڑ گئے ہیں

کس طرح پہنچے کوئی منزل تک
راہ میں راہنما بیٹھے ہیں

اس طرح بھی ہے اک جہاں آباد
جس طرف آپ کی نگاہ نہیں

اپنا اپنا راستہ لیں اہل ذوق
شمع محفل اور جل سکتی نہیں

سب کو احساس سے خالی نہ سمجھ
دردمندوں کو سوالی نہ سمجھ

دل کی دیوار گر گئی شاید
اپنی آواز کان میں آئی

چراغ لالہ میں جلتا رہا ہے خون بہار
یہ اور بات کہ گلشن میں روشنی نہ ہوئی

منزلوں کی کمی نہ تھی باقیؔ
زندگانی کہیں تھمی ہوتی

رات پنگھٹ پہ کون آیا تھا
بالکل آواز تھی ترے جیسی

جب جھجک کر تری نگاہ ملی
حادثات جہاں کو راہ ملی

رات بھر ہم کروٹیں لیتے رہے
رات بھر ڈھولک کہیں بجتی رہی

دل و نگاہ کا پردہ کبھی اٹھا تو سہی
تو اپنی ذات کے مدفن سے باہر آ تو سہی

کوئی کس طرح ان کو سمجھائے
بات چھیڑو تو بات کھل جائے

اے دوست مرگ و زیست کے مابین تابہ کے
بیٹھے رہو گے تم حد فاصل بنے ہوئے

ایک دیوار کی دوری ہے قفس
توڑ سکتے تو چمن میں ہوتے

ہوئے آزاد لیکن آ رہی ہے
قفس کی بو ابھی تک بال و پر سے

بات کہہ دیتے تو اچھا ہوتا
چپ کے تو سینکڑوں پہلو نکلے

خوشبو ہم تک آ نہ سکی
پھول کچھ اتنی دور کھلے

اتنے گل بھی نہیں ہیں گلشن میں
جتنے کانٹے چبھو لئے ہم نے

دیکھ کر رنگ تیری محفل کے
زخم آنکھوں میں آ گئے دل کے

جانے وہ چپ رہے ہیں کیوں ورنہ
بات کرنے کے سو بہانے تھے

اس طرح اٹھے تری محفل سے
جیسے ہم بھول کے آ بیٹھے تھے

پرسش حال بھی رہنے دیجے
اس تکلف کی ضرورت کیا ہے

ہم نے افسانہ کر دیا ہے رقم
آگے سب کچھ فسانہ خواں تک ہے

عشق اب اپنی حفاظت خود کرے
حسن اپنے آپ سے بیگانہ ہے

یوں آج خموش ہے زمانہ
جیسے کوئی بات ہو گئی ہے

محبت تھی تری پہلی نظر تک
اب آگے دشمنی ہی دشمنی ہے

اک نظر تیری مرا دل بن گئی
میرے سینے میں تو کوئی دل نہ تھا

صبح امید کا خیال نہ پوچھ
ہم نے سوچا ہے رات بھر کیا کیا

ہر سوچ کا راستہ ہے مسدود
مجبور کا اختیار ہیں ہم

گردش دنیا ہے آئنہ بدست
کس قدر حیراں نظر آتے ہیں ہم

کیا رنگ حیات پوچھتے ہو
کچھ لوگ ہیں اور کچھ مکاں ہیں

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں
ہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں

کہاں کا زاد سفر خود کو چھوڑ آئے
تمہاری راہ میں ایسے بھی موڑ آئے ہیں

تم ظلمتوں میں دل کی کرن پھینکتے رہو
اس گھر کی روشنی کا مدار آگ پر سہی

کلی تمہارا تبسم، صبا تمہارا خیال
تمہارے سامنے کیا ذکر رنگ و بو کرتے

گونجتی تھی کہیں صدائے جرس
قافلے دل سے رات بھر گزرے

کھائیں کیوں دہر کا غم دیوانے
اور دنیا میں ہیں کم دیوانے

انقلابات کے آئنے میں
صورت راہنما دیکھی ہے

وقت کے اڑتے ہوئے لمحوں میں
آج کی بات بھی فرسودہ ہے

کدھر گئی وہ محبت، کہاں گیا وہ سکوں
کوئی تو پوچھتا یہ بات شہر والوں سے

تیری رحمت کا سہارا مل گیا
ورنہ بندہ تو کسی قابل نہ تھا

آئنہ بن گئی شفق باقیؔ
یاد آیا دم سحر کیا کیا

جلتی ہے جو شہر شہر باقیؔ
اس آگ کا اک شرار ہیں ہم

روشنی راہوں کی یاد آنے لگی
دور منزل سے ہوئے جاتے ہیں ہم

جاتی نہیں تیرگی دلوں کی
رستے تو مثل کہکشاں ہیں

جب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیں
ہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں

کوئی تو محفل گل کی بہار دیکھے گا
کلی کلی پہ لہو ہم نچوڑ آئے ہیں

ہونٹوں پہ مہر بن گئیں ان کی عنایتیں
راز درون خانہ کی مجھ کو خبر سہی

ہر ایک آدمی اڑتا ہوا بگولا تھا
تمہارے شہر میں ہم کس سے گفتگو کرتے

منزلوں دل نے لی نہ انگڑائی
حادثے کیا دم سفر گزرے

سنگ منزل کی طرح بیٹھ گئے
چل کے دو چار قدم دیوانے

دل ٹھہرتا نہیں ہے سینے میں
جانے کیا بات ہونے والی ہے

مقتل زیست میں سب کا دامن
اپنے ہی خون سے آلودہ ہے

باقی صدیقی

جیسا وہ کہتے ہیں ویسا کہیے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 261
دل کے ہر داغ کو غنچہ کہیے
جیسا وہ کہتے ہیں ویسا کہیے
جذب دل کے کوئی معنی نہ رہے
کس سے عجز لب گویا کہیے
کوئی آواز بھی آواز نہیں
دل کو اب دل کی تمنا کہیے
اتنا آباد کہ ہم شور میں گم
اتنا سنسان کہ صحرا کہیے
ہے حقیقت کی حقیقت دنیا
اور تماشے کا تماشا کہیے
لوگ چلتی ہوئی تصویریں ہیں
شہر کو شہر کا نقشہ کہیے
خون دل حاصل نظارہ ہے
نگہ شوق کو پردا کہیے
شاخ جب کوئی چمن میں ٹوٹے
اسے انداز صبا کا کہیے
دیدہ ور کون ہے ایسا باقیؔ
چشم نرگس کو بھی بینا کہیے
باقی صدیقی

یہ جنس ہے گراں مگر ارزاں خریدئیے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 260
جاں دے کے اک تبسم جاناں خریدئیے
یہ جنس ہے گراں مگر ارزاں خریدئیے
نظروں کے سامنے ہیں شب غم کے مرحلے
کچھ خون ہے تو صبح درخشاں خریدئیے
یوں بھی نہ کھل سکا نہ کوئی زندگی کا راز
دل دے کے کیوں نہ دیدہ حیراں خریدئیے
مرنا ہے تو نظر رکھیں اپنے مآل پر
جینا ہے تو حیات کا ساماں خریدئیے
جو کہہ سکیں تو کیجئے یہ کاروبار زیست
جو کہہ رہا ہے یہ دل ناداں خریدئیے
جو روح کو حیات دے، دل کو سکون دے
یہ بھیڑ دے کے ایک وہ انساں خریدئیے
زخموں کی تاب ہے نہ تبسم کا حوصلہ
ہم کیا کریں گے آپ گلستاں خریدئیے
کرنا پڑے ہے جس کے لئے غیر کا طواف
وہ غم نہ لیجئے نہ وہ ارماں خریدئیے
باقیؔ اسی میں حضرت انساں کی خیر ہے
سارا جہان دے کے اک ایماں خریدئیے
باقی صدیقی

یا ہم شریک دیدہ حیراں نہیں رہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 259
شام و سحر کے رنگ نمایاں نہیں رہے
یا ہم شریک دیدہ حیراں نہیں رہے
پانی کی موج بن گیا انساں کا ہر لباس
عریاں ہوئے ہم اتنے کہ عریاں نہیں رہے
کیوں لفظ بے صدا ہوئے، کیوں حرف بجھ گئے
کیا ہم کسی فسانے کا عنواں نہیں رہے
باقیؔ قدم قدم پہ لہو مانگتے ہیں لوگ
اب مرحلے حیات کے آساں نہیں رہے
باقی صدیقی

پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 258
وہ رگ دل میں رگ جاں میں رہے
پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے
نیند کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے
گھر کہاں تھا کہ بیاباں میں رہے
رنگ دنیا پہ نظر رکھتے تھے
عمر بھر دیدۂ حیراں میں رہے
بُعد اتنا کہ تصور بھی محال
قرب ایسا کہ رگ جاں میں رہے
عمر بھر نور سحر کو ترسے
دو گھڑی تیرے شبستاں میں رہے
قافلے صبح کے گزرے ہوں گے
ہم خیال شب ہجراں میں رہے
کس قیامت کی تپش ہے باقیؔ
کون میرے دل سوزاں میں رہے
باقی صدیقی

جب تک کہ نظر نظر رہی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 257
ہر بات سے باخبر رہی ہے
جب تک کہ نظر نظر رہی ہے
مت دیکھ کہ ہے کہاں زمانہ
یہ سوچ کہ کیا گزر رہی ہے
یا بات میں بھی اثر نہیں تھا
یا کام نظر بھی کر رہی ہے
دیکھو تو ہے زخم زخم سینہ
کہنے کو کلی نکھر رہی ہے
حالات کا انتظار باقیؔ
وہ زلف ابھی سنور رہی ہے
باقی صدیقی

زیست ہر بات پہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 256
لہر حالات کی اک زیر زمیں ہوتی ہے
زیست ہر بات پہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتی ہے
زندگی بھی تو الجھتی ہے سیاست کی طرح
شعلہ ہوتا ہے کہیں آگ کہیں ہوتی ہے
روشنی رنگ بدلتی ہے تمنا کی طرح
ہم بھٹک جاتے ہیں منزل تو وہیں ہوتی ہے
فاصلہ بھی ہے نگاہوں کے لئے اک جادو
ہاتھ جو آ نہ سکے چیز حسیں ہوتی ہے
بیٹھے بیٹھے چمک اٹھتی ہیں نگاہیں باقیؔ
دور کی شمع کہیں اتنی قریں ہوتی ہے
باقی صدیقی

دل میں جب کوئی بات ہوتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 255
ہر نظر ایک گھات ہوتی ہے
دل میں جب کوئی بات ہوتی ہے
شمع بجھتی ہے، زلف کھلتی ہے
تب کہیں رات، رات ہوتی ہے
حسن سرشار، عشق وا رفتہ
کس سے ایسے میں بات ہوتی ہے
زیست لے بیٹھتی ہے اپنے گلے
غم سے جب کچھ نجات ہوتی ہے
بے رخی، اختلاف، روکھا پن
یوں بھی کیا کوئی بات ہوتی ہے
زخم کھا کر نظر جب اٹھتی ہے
حاصل کائنات ہوتی ہے
غم کا احساس تک نہیں باقیؔ
یوں بھی غم سے نجات ہوتی ہے
باقی صدیقی

کیا کوئی ان کی خبر آئی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 254
ڈوب کر نبض ابھر آئی ہے
کیا کوئی ان کی خبر آئی ہے
غمزدہ غمزدہ، لرزاں لرزاں
لو شب غم کی سحر آئی ہے
کیا کوئی اپنا ستم یاد آیا
آنکھ کیوں آپ کی بھر آئی ہے
کیا محبت سے تعلق تجھ کو
یہ بلا بھی مرے سر آئی ہے
آپ کے اٹھتے ہی ساری دنیا
لغزشیں کھاتی نظر آئی ہے
زندگی کتنی کٹھن راہوں سے
باتوں باتوں میں گزر آئی ہے
ٹمٹمانے لگے یادوں کے چراغ
شب غم دل میں اتر آئی ہے
ہر لرزتے ہوئے تارے میں ہمیں
اپنی تصویر نظر آئی ہے
ایک برسا ہوا بادل جیسے
لو شب غم کی سحر آئی ہے
میرے چہرے پہ تبسم کی طرح
اک شکن اور ابھر آئی ہے
میری قسمت میں نہیں کیا باقیؔ
جو خوشی غیر کے گھر آئی ہے
باقی صدیقی

پہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 253
دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے
پہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے
ہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغر
اس پر یہ ستم جرات انکار نہیں ہے
کچھ اٹھ کے بگولوں کی طرح ہو گئے رقصاں
کچھ کہتے رہے راستہ ہموار نہیں ہے
دل ڈوب گیا لذت آغوش سحر میں
بیدار ہے اس طرح کہ بیدار نہیں ہے
یہ سر سے نکلتی ہوئی لوگوں کی فصیلیں
دل سے مگر اونچی کوئی دیوار نہیں ہے
دم سادھ کے بیٹھا ہوں اگرچہ مرے سر پر
اک شاخ ثمر دار ہے تلوار نہیں ہے
دم لو نہ کہیں دھوپ میں چلتے رہو باقیؔ
اپنے لئے یہ سایہ اشجار نہیں ہے
باقی صدیقی

جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 252
آپ تک ہے نہ غم جہاں تک
جانے یہ سلسلہ کہاں تک ہے
اشک شبنم ہوں یا تبسم گل
ابھی ہر راز گلستاں تک ہے
ان کی پرواز کا ہے شور بہت
گرچہ اپنے ہی آشیاں تک ہے
پھول ہیں اس کے باغ ہے اس کا
دسترس جس کی باغباں تک ہے
پوچھتے ہیں وہ حال دل باقیؔ
یہ بھی گویا مرے بیاں تک ہے
باقی صدیقی

زندگی کا کوئی انداز تو ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 251
نہ سہی ساز غم ساز تو ہے
زندگی کا کوئی انداز تو ہے
کچھ گریزاں ہے صبا ہی ورنہ
بوئے گل مائلِ پرواز تو ہے
بن سکے سرخیٔ روداد حیات
خون دل اتنا پس انداز تو ہے
لب خاموش بھی بول اٹھے ہیں
کچھ نہ کچھ وقت کا اعجاز تو ہے
میری آمد نہ گراں گزری ہو
اس خموشی میں کوئی راز تو ہے
کس توقع پہ صدا دیں باقیؔ
در ارباب کرم باز تو ہے
باقی صدیقی

اس خانماں خراب کو گھر کی تلاش ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 250
میری فغاں کو باب اثر کی تلاش ہے
اس خانماں خراب کو گھر کی تلاش ہے
شبنم! تیرے ان آئنہ خانوں کی خیر ہو
میرے چمن کو برق و شرر کی تلاش ہے
بیٹھا ہوا ہوں غیر کے در پر شکستہ پا
کس مہ سے میں کہوں ترے در کی تلاش ہے
جس کی ضیا ہو دسترس شام غم سے دور
دنیا کو ایک ایسی سحر کی تلاش ہے
باقیؔ ہے ٹوٹنے کو اب امید کا طلسم
اک آخری فریب نظر کی تلاش ہے
باقی صدیقی

فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 249
علاجِ تلخیٔ ایام کی ضرورت ہے
فسانے ہو چکے اب کام کی ضرورت ہے
مری حیات بھی صدمے اٹھا نہیں سکتی
تری نظر کو بھی آرام کی ضرورت ہے
غم جہاں کا تصور بھی جرم ہے اب تو
غم جہاں کو نئے نام کی ضرورت ہے
نظام کہنہ کی باتیں نہ کر کہ اب ساقی
نئی شراب، نئے جام کی ضرورت ہے
ترے لبوں پہ زمانے کی بات ہے باقیؔ
تجھے بھی کیا کسی الزام کی ضرورت ہے
باقی صدیقی

دل ترے درد کے سوا کیا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 248
کیا بتاؤں کہ مدعا کیا ہے
دل ترے درد کے سوا کیا ہے
دور تاروں کی انجمن جیسے
زندگی دیکھنے میں کیا کیا ہے
ہر قدم پر نیا تماشا ہو
اور دنیا کا مدعا کیا ہے
کوئی لائے پیام فصل بہار
ہم نہیں جانتے صبا کیا ہے
درد کی انتہا نہیں کوئی
ورنہ عمر گریز پا کیا ہے
آپ بیٹھے ہیں درمیاں ورنہ
مرگ و ہستی میں فاصلہ کیا ہے
نہ رہا جب خلوص ہی باقیؔ
پھر روا کیا ہے ناروا کیا ہے
باقی صدیقی

یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 247
ترا غم ہر طرف چھایا ہوا ہے
یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا ہے
خوشی ہے دے فریب زندگانی
کہ تجھ پر اعتبار آیا ہوا ہے
ازل سے ہے پریشاں زندگانی
یہ عقدہ کس کا الجھایا ہوا ہے
دلوں میں فاصلہ اتنا نہیں ہے
زمانہ درمیاں آیا ہوا ہے
بہانے لاکھ ہیں جینے کے باقیؔ
مگر دل ہے کہ گھبرایا ہوا ہے
باقی صدیقی

یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 246
خیال سود احساس زیاں تک ساتھ دیتا ہے
یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے
بدلتے جا رہے ہیں دمبدم حالات دنیا کے
تمہارا غم بھی اب دیکھیں کہاں تک ساتھ دیتا ہے
خیال ناخدا پھر بھی مسلط ہے زمانے پر
کہاں کوئی بھلا سیل رواں تک ساتھ دیتا ہے
زمانے کی حقیقت خود بخود کھُل جائے گی باقیؔ
چلا چل تو بھی وہ تیرا جہاں تک ساتھ دیتا ہے
باقی صدیقی

وہ زمانے سے دور ہوتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 245
جو تمہارے حضور ہوتا ہے
وہ زمانے سے دور ہوتا ہے
اپنی اپنی وفاؤں پر سب کو
تھوڑا تھوڑا غرور ہوتا ہے
بے رُخی کا گلہ کریں نہ کریں
دل کو صدمہ ضرور ہوتا ہے
بخش دیجے تو کوئی بات نہیں
آدمی سے قصور ہوتا ہے
مئے الفت کی بات کیا باقیؔ
اور ہی کچھ سرور ہوتا ہے
باقی صدیقی

اس طرح بھی جواب ملتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 244
آب مانگو، سراب ملتا ہے
اس طرح بھی جواب ملتا ہے
سینکڑوں گردشوں کے بعد کہیں
ایک جام شراب ملتا ہے
یا مقدر کہیں نہیں ملتا
یا کہیں محو خواب ملتا ہے
جتنا جتنا خلوص ہو جس کا
اتنا اتنا عذاب ملتا ہے
غم کی بھی کوئی حد نہیں باقیؔ
جب ملے بے حساب ملتا ہے
باقی صدیقی

منزل پہ چراغ سر منزل کا دھواں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 243
احساس سفر داغ سفربن کے عیاں ہے
منزل پہ چراغ سر منزل کا دھواں ہے
لازم ہے رہیں اہل چمن گوش بر آواز
اب میری فغاں ہی مرے ہونے کا نشاں ہے
فریاد کی اب کوئی ضرورت نہیں باقیؔ
اب حال مرا رنگ زمانہ سے عیاں ہے
باقی صدیقی

دور ابھی ایک شمع جلتی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 242
دیکھئے رات کیسے ڈھلتی ہے
دور ابھی ایک شمع جلتی ہے
آرزو چیت بے کلی ساون
تیری نظرو ں سے رت بدلتی ہے
سبز خوشے تری خبر لائے
اب طبیعت کہاں سنبھلتی ہے
دل کی کشتی کا اعتبار نہیں
تیری آواز پر یہ چلتی ہے
تیری چپ کا علاج کیا باقیؔ
بات سے بات تو نکلتی ہے
باقی صدیقی

تشنۂ شوق ہر اک پہلو ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 241
زیست پر میں ہوں گراں یا تو ہے
تشنۂ شوق ہر اک پہلو ہے
خشک پتوں پہ سرشک شبنم
اور کیا حاصل رنگ و بو ہے
وقت منہ دیکھ رہا ہے سب کا
کوئی غافل کوئی حالہ جو ہے
جانے کب دیدۂ تر تک پہنچے
دل بھی اک جلتا ہوا آنسو ہے
زخم بھر جائیں گے بھرتے بھرتے
زندگی سب سے بڑا جادو ہے
کس کی آمد ہے چمن میں باقیؔ
اجنبی اجنبی سی خوشبو ہے
باقی صدیقی

کوئی تو بات ہونے والی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 240
دل دھڑکتا ہے جام خالی ہے
کوئی تو بات ہونے والی ہے
غم جاناں ہو یا غم دوراں
زیست ہر حال میں سوالی ہے
حادثہ حادثے سے روکا ہے
آرزو آرزو سے ٹالی ہے
ٹوٹ کر دل ہے اس طرح خاموش
ہم نے گویا مراد پا لی ہے
کیا زیاں کا گلہ کریں باقیؔ
کچھ طبیعت ہی لا ابالی ہے
باقی صدیقی

روز کچھ بار سفر بڑھ جائے ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 239
روز دل پر اک نیا زخم آئے ہے
روز کچھ بار سفر بڑھ جائے ہے
کوئی تا حد تصور بھی نہیں
کون یہ زنجیر در کھڑکائے ہے
تیرے افسانے میں ہم شامل نہیں
بات بس اتنی سمجھ میں آئے ہے
وسعت دل تنگی جاں بن گئی
زخم اک تازیست پھیلا جائے ہے
جھوم جھوم اٹھی صبا کے دھیان میں
کتنی مشکل سے کلی مرجھائے ہے
زندگی ہر رنگ میں ہے اک فریب
آدمی ہرحال میں پچھتائے ہے
گاہ صحرا سے ملے پانی کی موج
گاہ دریا بھی ہمیں ترسائے ہے
میری صورت تو کبھی ایسی نہ تھی
آئنہ کیوں دیکھ کر شرمائے ہے
باقیؔ اس احساس کا کوئی علاج
دل وہیں خوش ہے جہاں گھبرائے ہے
باقی صدیقی

اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 238
کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے
اڑتی ہوئی گرد پر نطر ہے
ڈسنے لگی فاختہ کی آواز
کتنی سنسان دوپہر ہے
آرام کریں کہ راستہ لیں
وہ سامنے اک گھنا شجر ہے
خود سے ملتے تھے جس جگہ ہم
وہ گوشۂ عافیت کدھر ہے
ایسے گھر کی بہار معلوم
جس کی بنیاد آگ پر ہے
باقی صدیقی

جہاں ہر آشنا بھی اجنبی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 237
جنون عشق کی منزل وہی ہے
جہاں ہر آشنا بھی اجنبی ہے
انہی مجبوریوں نے مارا ڈالا
کہ تیری ہر خوشی میری خوشی ہے
ابھی ہے ان کے آنے کی توقع
ابھی راہوں میں کچھ کچھ روشنی ہے
مری بربادیوں کا پوچھنا کیا
تری نظروں کی قیمت بڑھ گئی ہے
جہاں ان کا سوال آیا ہے باقیؔ
وہاں اپنی کمی محسوس کی ہے
باقی صدیقی

کس حال میں قافلہ رواں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 236
آواز جرس ہے یا فغان ہے
کس حال میں قافلہ رواں ہے
اٹھتے اٹھتے اٹھیں گے پردے
صدیوں کا غبار درمیاں ہے
کس کس سے بچائے کوئی دل کو
ہر گام پہ ایک مہرباں ہے
ہر چند زمیں زمیں ہے لیکن
تم ساتھ چلو تو آسماں ہے
ضو صبح کی چھو رہی ہے دل کو
ہر چند کہ رات درمیاں ہے
ہم ہوں کہ ہو گرد راہ باقیؔ
منزل ہے اسی کی جو رواں ہے
باقی صدیقی

جام ہے، مے ہے، رسن ہے، دار ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 235
اہل دل فرمائیں کیا درکار ہے
جام ہے، مے ہے، رسن ہے، دار ہے
خار کو کوئی کلی کہتا نہیں
نرم ہو،نازک ہو پھر بھی خار ہے
کچھ کہیں تو آپ ہوتے ہیں خفا
چپ رہیں تو زندگی دشوار ہے
لوریاں دیتی رہی دنیا بہت
پھر بھی جو بیدار تھا، بیدار ہے
کاش ہوتے اتنے اچھے آپ بھی
جتنی اچھی آپ کی گفتار ہے
کل کہاں تھی آج ہے باقیؔ کہاں
زندگی کتنی سبک رفتار ہے
باقی صدیقی

تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 234
دشت دیکھے ہیں گلستاں دیکھے
تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے
اس کو کہتے ہیں تیرا لطف و کرم
خشک شاخوں پہ آشیاں دیکھے
جو جہاں کی نظر میں کانٹا تھے
ہم نے آباد وہ مکاں دیکھے
دوستوں میں ہے تیرے لطف کا رنگ
کوئی کیوں بغض دشمنان دیکھے
جو نہیں چاہتا اماں تیری
مانگ کر غیر سے اماں دیکھے
تیری قدرت سے ہے جسے انکار
اٹھکے وہ صبح کا سماں دیکھے
یہ حسیں سلسلہ ستاروں کا
کوئی تا حد آسماں دیکھے
ایک قطرہ جہاں نہ ملتا تھا
ہم نے چشمے وہاں رواں دیکھے
کس نے مٹی میں روح پھونکی ہے
کوئی یہ ربط جسم و جاں دیکھے
دیکھ کر بیچ و تاب دریا کا
یہ سفینے پہ بادباں دیکھے
جس کو تیری رضا سے مطلب ہے
سود دیکھے نہ وہ زیاں دیکھے
باقی صدیقی

اہل غم جانے تجھ کو کیا سمجھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 233
بات کو جرم ناسزا سمجھے
اہل غم جانے تجھ کو کیا سمجھے
اپنے دعوے کو کیا غلط کہتے
تیری نفرت کو بھی ادا سمجھے
چھوڑئیے بھی اب آئینے کا خیال
دیکھ پائے کوئی تو کیا سمجھے
اک ستارہ فلک سے ٹوٹا تھا
ہم جسے صبح کی ضیا سمجھے
اس کے غم کا علاج کیا باقیؔ
جو محبت ہی کو دوا سمجھے
باقی صدیقی

لوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 232
تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے
لوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے
قمقمے بزم طرب کے جاگے
رنگ کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے
میں کسی بات کا پردہ ہوں کہ لوگ
تیری محفل سے اٹھاتے ہیں مجھے
زخم آئنہ بنے جاتے ہیں
حادثے سامنے لاتے ہیں مجھے
نیند بھی ایک ادا ہے تیری
رات بھر خواب جگاتے ہیں مجھے
تیرے کوچے سے گزرنے والے
کتنے اونچے نظر آتے ہیں مجھے
ان کے بگڑے ہوئے تیور باقیؔ
زیست کی یاد دلاتے ہیں مجھے
باقی صدیقی

لوگ اپنے دئیے جلانے لگے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 231
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اس بدلتے ہوئے زمانے کا
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
رُخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے
ہم تک آئے نہ آئے موسم گل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقیؔ
بستیوں سے شرار آنے لگے
باقی صدیقی

یہ راہگزر بھی دیکھ لیں گے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 230
خورشید و قمر بھی دیکھ لیں گے
یہ راہگزر بھی دیکھ لیں گے
تاروں کا طلسم ٹوٹنے دو
انوار سحر بھی دیکھ لیں گے
جلتا ہوا آشیاں تو دیکھیں
ٹوٹے ہوئے پر بھی دیکھ لیں گے
یہ نیت ناخدا رہی تو
اک روز بھنور بھی دیکھ لیں گے
قانون خدا بھی ہم نے دیکھا
ترمیم بشر بھی دیکھ لیں گے
آغوش صدف کھلی تو باقیؔ
ہم آب گہر بھی دیکھ لیں گے
باقی صدیقی

اﷲ رے حادثے سفر کے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 229
منزل کے رہے نہ رہگزر کے
اﷲ رے حادثے سفر کے
وعدہ نہ دلاؤ یاد ان کا
نادم ہیں ہم اعتبار کر کے
خاموش ہیں یوں اسیر جیسے
جھگڑے تھے تمام بال و پر کے
کیا کم ہے یہ سادگی ہماری
ہم آ گئے کام رہبر کے
یوں موت کے منتظر ہیں باقیؔ
مل جائے گا چین جیسے مر کے
باقی صدیقی

ہم بہت خوش ہیں آپ سے مل کے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 228
تھے ہی کیا اور مرحلے دل کے
ہم بہت خوش ہیں آپ سے مل کے
اور اک دل نواز انگڑائی
راز کھلنے لگے ہیں محفل کے
لاؤ طوفاں میں ڈال دیں کشتی
کون کھائے فریب ساحل کے
رنگ و بو کے مظاہرے کب تک
پھول تنگ آ گئے ہیں کھل کھل کے
اڑ رہا ہے غبار سا باقیؔ
چھپ نہ جائیں چراغ منزل کے
باقی صدیقی

دیکھو ہمیں بام سے اتر کے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 227
ہم ذرے ہیں خاک رہگزر کے
دیکھو ہمیں بام سے اتر کے
چپ ہو گئے یوں اسیر جیسے
جھگڑے تھے تمام بال و پر کے
اے باد سحر نہ چھیڑ ہم کو
ہم جاگے ہوئے ہیں رات بھر کے
شبنم کی طرح حیات کے خواب
کچھ اور نکھر گئے بکھر کے
جب ان کو خیال وضع آیا
انداز بدل گئے نظر کے
طوفاں کو بھی ہے ملال ان کا
ڈوبی ہیں جو کشتیاں اُبھر کے
حالات بتا رہے ہیں باقیؔ
ممنون نہ ہوں گے چارہ گر کے
باقی صدیقی

کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 226
دل کا یا جی کا زیاں کرنا پڑے
کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے
دل کو ہے پھر چند کانٹوں کی تلاش
پھر نہ سیر گلستاں کرنا پڑے
حال دل ان کو بتانے کے لئے
ایک عالم سے بیاں کرنا پڑے
پاس دنیا میں ہے اپنی بھی شکست
اور تجھے بھی بدگماں کرنا پڑے
ہوشیار اے جذب دل اب کیا خبر
تذکرہ کس کا کہاں کرنا پڑے
اب تو ہر اک مہرباں کی بات پر
ذکر دور آسماں کرنا پڑے
زیست کی مجبوریاں باقیؔ نہ پوچھ
ہر نفس کو داستاں کرنا پڑے
باقی صدیقی

تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 225
اپنی نظر کے دام سے نکلے نہ ہم کہیں
تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے
سر پھوڑتا کہ دل کا سکوں دیکھتا کوئی
دیوار سامنے کبھی سایہ ہے سامنے
ہے موت کا خیال بھی کس درجہ دلخراش
اور صورت حیات بھی کیا کیا ہے سامنے
یہ خار ہے کہ تیرِ غم زندگی کوئی
یہ پھول ہے کہ اپنی تمنا ہے سامنے
باقی صدیقی

دنیا بقدر خون تمنا ہے سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 224
قطرہ ہے سامنے کہیں دریا ہے سامنے
دنیا بقدر خون تمنا ہے سامنے
اک آن میں حیات بدلتی ہے اپنا رنگ
اک دور کی طرح کوئی آتا ہے سامنے
آنکھوں میں ہے کھچی ہوئی تصویر خون دل
ہم دیکھتے نہیں وہ تماشا ہے سامنے
ہم ڈھونڈنے لگے کوئی دل عافیت مقام
ہر چند تیرے شہر کا نقشہ ہے سامنے
اٹھیں تو راستہ نہ دے بیٹھیں تو بار ہو
کچھ اس طرح اک آدمی بیٹھا ہے سامنے
جوش جنوں سے ربط وہ باقیؔ نہیں مگر
کیا دل کا اعتبار کہ صحرا ہے سامنے
باقی صدیقی

کارواں اک آ کے ٹھہرا سامنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 223
آ گیا ہر رنگ اپنا سامنے
کارواں اک آ کے ٹھہرا سامنے
کہہ نہیں سکتے محبت میں سراب
دیر سے ہے ایک دریا سامنے
کٹ رہا ہے رشتہ قلب و نظر
ہو رہا ہے اک تماشا سامنے
دل ہے کچھ نا آشنا، کچھ آشنا
تو ہے یا اک شخص تجھ سا سامنے
فاصلہ در فاصلہ ہے زندگی
سامنے ہم ہیں نہ دنیا سامنے
کس نے دیکھا ہے لہو کا آئنہ
آدمی پردے میں سایہ سامنے
اپنے غم کے ساتھ باقیؔ چل دئیے
ہے سفر شام و سحر کا سامنے
باقی صدیقی

دیکھتے دیکھتے ٹوٹے ہیں ستارے کتنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 222
نذر دنیا ہوئے ارمان ہمارے کتنے
دیکھتے دیکھتے ٹوٹے ہیں ستارے کتنے
چل دئیے چھوڑ کے احباب ہمارے کتنے
وقت نے چھین لئے دل کے سہارے کتنے
موج وحشت نے سفینے کو ٹھہرنے نہ دیا
راہ آئے ہیں مری رہ میں کنارے کتنے
رکھ لیا ہم نے تری مست نگاہی کا بھرم
بے خودی میں بھی ترے کام سنوارے کتنے
جیتنے والے محبت میں بہت ہیں باقیؔ
دیکھنا یہ ہے کہ اس کھیل میں ہارے کتنے
باقی صدیقی

آئنہ ساتھ دے تو نظر آئنہ بنے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 221
قطرے کی آرزو سے گہرا آئنہ بنے
آئنہ ساتھ دے تو نظر آئنہ بنے
منزل کے اعتبار سے اٹھتا ہے ہر قدم
رہرو بقدر ذوق سفر آئنہ بنے
ہم بھی مثال گردش دوراں ہیں بے مقام
پتھر ادھر بنے تو ادھر آئنہ بنے
ہر زخم دل میں زیست نے دیکھا ہے اپنا عکس
ہم آئنہ نہیں تھے مگر آئنہ بنے
ملتی ہے دل کو محفل انجم سے روشنی
آنکھوں میں شب کٹے تو سحر آئنہ بنے
ساحل کی خامشی کا فسوں ٹوٹنے لگے
دریا کا اضطراب اگر آئنہ بنے
باقیؔ کسی پہ راز چمن کس طرح کھلے
جب ٹوٹ کر نہ شاخ شجر آئنہ بنے
باقی صدیقی

کون کرتا ہے کرم دیوانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 220
کس توقع جئیں ہم دیوانے
کون کرتا ہے کرم دیوانے
پاسِ حالات بجا ہے لیکن
ہو نہ جائیں کہیں ہم دیوانے
اس زمانے میں وفا کا دعویٰ
خود پہ کرتے ہیں ستم دیوانے
زندگی تلخ ہوئی جاتی ہے
کھو نہ دیں اپنا بھرم دیوانے
چونک چونک اٹھے خرد کے بندے
جب بھی مل بیٹھے بہم دیوانے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں عنواں کوئی
کر کے افسانہ رقم دیوانے
کھا گئے قحط جنوں میں باقیؔ
بیچ کر لوح و قلم دیوانے
باقی صدیقی

عظمت عشق بڑھا دی ہم نے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 219
رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
عظمت عشق بڑھا دی ہم نے
جب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹا
کی گلستاں میں منادی ہم نے
آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی
اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے
جب چمن میں نہ کہیں چین ملا
در زنداں پہ صدا دی ہم نے
دل کو آنے لگا بسنے کا خیال
آگ جب گھر کو لگا دی ہم نے
اس قدر تلخ تھی روداد حیات
یاد آتے ہی بھلا دی ہم نے
حال جب پوچھا کسی نے باقیؔ
اک غزل اپنی سنا دی ہم نے
باقی صدیقی

صبر کا جام پی لیا ہم نے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 218
دل کا ہر زخم سی لیا ہم نے
صبر کا جام پی لیا ہم نے
کیسے انسان، کیسی آزادی
سر پہ الزام ہی لیا ہم نے
لو بدل دو حیات کا نقشہ
اپنی آنکھوں کو سی لیا ہم نے
حادثات جہاں نے راہ نہ دی
آپ کا نام بھی لیا ہم نے
اور کیا چاہتے ہیں وہ باقیؔ
خون دل تک تو پی لیا ہم نے
باقی صدیقی

یہی رستہ تھا صبا کا پہلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 217
سفر گل کا پتا تھا پہلے
یہی رستہ تھا صبا کا پہلے
کبھی گل سے،کبھی بوئے گل سے
کچھ پتا ملتا تھا اپنا پہلے
زندگی آپ نشاں تھی اپنا
تھا نہ رنگین یہ پردا پہلے
اس طرح روح کے سناٹے سے
کبھی گزرے تھے نہ تنہا پہلے
اب تو ہر موڑ پہ کھو جاتے ہیں
یاد تھا شہر کا نقشہ پہلے
لوگ آباد تو ہوتے تھے مگر
اس قدر شور کہاں تھا پہلے
دور سے ہم کو صدا دیتا تھا
تیری دیوار کا سایہ پہلے
اب کناروں سے لگے رہتے ہیں
رُخ بدلتے تھے یہ دریا پہلے
ہر نظر دل کا پتا دیتی تھی
کوئی چہرہ تھا نہ دھندلا پہلے
دیکھتے رہتے ہیں اب منہ سب کا
بات کرنے کا تھا چسکا پہلے
ہر بگولے سے الجھ جاتی تھی
رہ نوردی کی تمنا پہلے
یوں کبھی تھک کے نہ ہم بیٹھے تھے
گرچہ دشوار تھا رستہ پہلے
اب تو سینے کا ہے چھالا دنیا
دور سے شور سنا تھا پہلے
جوئے شیر آتی ہے دل سے باقیؔ
خود پہ ہی پڑتا ہے تیشہ پہلے
باقی صدیقی

فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 216
نہ اپنے دل کے نہ اپنی زباں کے ساتھ چلے
فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے
کتاب دور جہاں کے وہ لفظ ہیں ہم لوگ
ہر اک فسانے ہر اک داستاں کے ساتھ چلے
وہ پی کے ہوش میں آئے کہ ہوش کھو بیٹھے
کھچ ایسے قصّے مئے ارغواں کے ساتھ چلے
کہاں کا سود کہ اپنا خیال بھی نہ رہا
زیاں کی فکر میں ہم ہر زیاں کے ساتھ چلے
یہ رُخ بھی کش مکش زندگی کا دیکھا ہے
جہاں کی بات نہ کی اور جہاں کے ساتھ چلے
ہمارے خون سے ابھریں چمن کی دیواریں
ہمارے قصّے بہار و خزاں کے ساتھ چلے
کچھ اس طرح بھی کیا ہم نے طے سفر باقیؔ
نشان بن کے ہر اک بے نشاں کے ساتھ چلے
باقی صدیقی

ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 215
الٹی بساط میکدہ، جام ہوس چلے
ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے
ممکن ہے آ ملے کوئی گم گشتہ راہرو
تھوڑی سی دور اور صدائے جرس چلے
کیوں چھا رہی ہے بزم جہاں پر فسردگی
دو دن تو اور ساغر سوز نفس چلے
اے خالق بہار یہ کیسی بہار ہے
ہم اک تبسم گل تر کو ترس چلے
ہر سمت ہیں بہار پہ پہرے لگے ہوئے
باد صبا چلے تو قفس تا قفس چلے
یا اس طرح کسی کو پیام سفر نہ دے
یا ہم کو ساتھ لے کے صدائے جرس چلے
باقیؔ یہ اختلاف یہ نفرت یہ حادثے
ہم تو نہ ہوں جہاں میں جو دنیا کا بس چلے
باقیؔ وہی تپش ہے وہی رنگ و بو کی پیاس
کہنے کو جھوم جھوم کے بادل برس چلے
باقی صدیقی

کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 214
غم اور خوشی کے راستے آ کر جہاں ملے
کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے
جن کے طفیل بزم تمنا میں رنگ تھا
وہ لوگ تجھ کو گردش دوراں کہاں ملے
راہوں پہ آج ان کا تصور بھی ہے گراں
منزل کے پاس کل جو ہمیں کارواں ملے
اہل نظر سے دل کی مہم سر نہ ہو سکی
کچھ سرنگوں ملے ہیں تو کچھ سرگراں ملے
روداد شوق تشنۂ اظہار ہی رہی
ملنے کو ہم خیال ملے، ہم زباں ملے
خوں رو رہے تھے کل جو بہاروں کی یاد میں
وہ آج بے نیاز غم گلستاں ملے
باقیؔ نہ تھی اگرچہ فریب وفاکی تاب
پھر بھی رُکے نقوش محبت جہاں ملے
باقی صدیقی

جہاں نے میکدوں کے نام بدلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 213
نہ مے بدلی نہ مے کے جام بدلے
جہاں نے میکدوں کے نام بدلے
وہی گلشن، وہی گلشن کے انداز
فقط صیاد بدلے، دام بدلے
جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو صبح و شام بدلے
بدلنے کو ہیں میخواروں کی نظریں
بلا سے رُخ نہ دور جام بدلے
فضائے زیست باقیؔ خاک بدلی
نہ دل بدلا نہ دل کے کام بدلے
باقی صدیقی

منزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 212
جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے
منزل جلی، مقام جلے، کارواں جلے
اہل ستم پہ اہل ستم کا ستم نہ پوچھ
اک آستاں کے بدلے کئی آستاں جلے
فصل بہار میں جو نکالے گئے ندیم
ان کی بلا سے باغ جلے، باغباں جلے
مجبوریوں کا نام ہی شاید ہے بےکسی
نظروں کے سامنے بھی کئی آشیاں جلے
باقیؔ ستمگروں کی ادائے ستم نہ پوچھ
زنداں وہیں بنائے نشیمن جہاں جلے
باقی صدیقی

کہاں ہیں زمانے کا غم کھانے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 211
تباہی کے بادل ہیں لہرانے والے
کہاں ہیں زمانے کا غم کھانے والے
غم زندگی سے نظر تو ملائیں
غم عشق پر ناز فرمانے والے
زمانہ کسی کا ہوا ہے نہ ہو گا
ارے او فریب وفا کھانے والے
نظر اے فقیر سر راہ پر بھی
طواف حرم کے لئے جانے والے
چلو جام اک اور پی آئیں باقیؔ
ابھی جاگتے ہوں گے میخانے والے
باقی صدیقی

ہم ترے واسطے مقتل میں تھے جانے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 210
ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والے
ہم ترے واسطے مقتل میں تھے جانے والے
خندہ گل کی حقیقت یہ کبھی ایک نظر
اے بہاروں کی طرح راہ میں آنے والے
وقت کے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
آئنہ گردش دوراں کو دکھانے والے
ختم ہنگامہ ہوا جب تو کھڑا سوچتا ہوں
آپ ہی چور نہ ہوں شور مچانے والے
غیر کے وصف کو بھی عیب کریں گے ثابت
تنگ دل اتنے کبھی تھے نہ زمانے والے
کوئی بات آ گئی کیا ان کی سمجھ میں باقیؔ
کس لئے چپ ہیں ہنسی میری ارانے والے
باقی صدیقی

قدم قدم پہ ملیں گے سنبھالنے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 209
بھٹک نہ جائیں رہ نو نکالنے والے
قدم قدم پہ ملیں گے سنبھالنے والے
شب فراق کا احساس ہی نہ مٹ جائے
شب فراق کو ہنس ہنس کے ٹالنے والے
بہار بزم میں تحلیل ہو گیا ہوں میں
کہاں ہیں بزم سے مجھ کو نکالنے والے
غم حیات کی منزل ارے معاذ اﷲ
سنبھل سکے نہ جہاں کو سنبھالنے والے
نہ بھول جائیں کہیں اپنے آپ کو باقیؔ
خوشی کو ٹالیں مصیبت کو ٹالنے والے
باقی صدیقی

ہم ہوا میں بسر کریں کیسے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 208
اعتبار نظر کریں کیسے
ہم ہوا میں بسر کریں کیسے
تیرے غم کے ہزار پہلو ہیں
بات ہم مختصر کریں کیسے
رُخ ہوا کا بدلتا رہتا ہے
گرد بن کر سفر کریں کیسے
خود سے آگے قدم نہیں جاتا
مرحلہ دل کا سر کریں کیسے
ساری دنیا کو ہے خبر باقیؔ
خود کو اپنی خبر کریں کیسے
باقی صدیقی

روئی صبا لپٹ کے ہر اک شاخسار سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 207
اٹھا نقاب جب رُخ صبح بہار سے
روئی صبا لپٹ کے ہر اک شاخسار سے
شاخوں میں تھی دبی ہوئی شاید خزاں کی آگ
گلشن بھڑک اٹھا ہے نسیم بہار سے
گزرے ہوئے دنوں کے تصور سے فائدہ
کیا روشنی ملے گی چراغ مزار سے
روداد گلستاں کو نیا رنگ دے گیا
رستا رہا ہے خون جو زخم بہار سے
باقیؔ کبھی جلی تھیں محبت کی بستیاں
راہوں میں اڑ رہے ہیں ابھی تک شرار سے
باقی صدیقی

آپ گئے ہیں جب سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 206
روٹھ گیا دل سب سے
آپ گئے ہیں جب سے
پہروں سونے والے
جاگ رہے ہیں کب سے
تاریکی، سناٹا
توبہ ایسی شب سے
کون وفا کا پیکر!
ہم واقف ہیں سب سے
غم ہی غم دیکھا ہے
آنکھ کھلی ہے جب سے
ہم مجرم ہیں لیکن
بات تو کیجے ڈھب سے
کیا لینا، کیا دینا
ہنس کر ملئے سب سے
بات کرو کچھ باقیؔ
چپ بیٹھے ہو کب سے
باقی صدیقی

ہم کچھ بھی نہ کہہ سکے یقیں سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 205
ظاہر تھا وہ غم تری ’’نہیں‘‘ سے
ہم کچھ بھی نہ کہہ سکے یقیں سے
روداد حیات کیا سنائیں
ہے یاد مگر کہیں کہیں سے
جیسے یہ تیری ہی رہگزر ہے
ہم بیٹھ گئے ہیں کس یقیں سے
رستے سے ہے گر پلٹ کےآنا
بہتر ہے پلٹ چلو یہیں سے
جذبات میں بہہ گئے ہیں باقیؔ
واقف تھے نہ ہم دل حزیں سے
باقی صدیقی

ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 204
خار چن لے گا بہار ناز سے
ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے
تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا
ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے
یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ
آشنا سے، غیر سے، دمساز سے
دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی
بات چل کر حسرت پرواز سے
باقی صدیقی

رند گھبرا کے نکل آئے ہیں میخانے سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 203
خون اخلاص کی بو آتی ہے پیمانے سے
رند گھبرا کے نکل آئے ہیں میخانے سے
تیز ہوتا ہے جنوں اور بھی سمجھانے سے
کیا توقع کرے دنیا ترے دیوانے سے
اے ابھرتی ہوئی موجوں سے الجھنے والو
ڈوب مرنا کہیں بہتر ہے پلٹ آنے سے
کیا تری انجمن آرائیاں یاد آئی ہیں
کیوں پلٹ آئے ہیں وحشی ترے ویرانے سے
آرزوؤں کے معمے نہ ہوئے حل باقیؔ
زندگی اور الجھتی گئی سلجھانے سے
باقی صدیقی

رند اٹھ جائیں نہ میخانے سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 202
بوئے خوں آتی ہے پیمانے سے
رند اٹھ جائیں نہ میخانے سے
کوئی دنیا سے شکایت تو نہیں
کون پوچھے ترے دیوانے سے
کس کے ہنسنے کی صدا آئی ہے
دل میں چلنے لگے پیمانے سے
زندگی کا یہ معمہ باقیؔ
اور الجھا مرے سلجھانے سے
باقی صدیقی

آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 201
ہم تو دنیا سے بدگماں ٹھہرے
آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے
ہائے وہ قافلے جو لٹ کر بھی
زیر دیوار گلستاں ٹھہرے
آپ کو کارواں سے کیا مطلب
آپ تو میر کارواں ٹھہرے
زندگی چاہتی ہے ہنگامہ
اور ہم لوگ بے زباں ٹھہرے
کبھی تیری تلاش میں نکلے
کبھی بن کر ترا نشاں ٹھہرے
گردش دہر ساتھ ساتھ رہی
ہم جدھر بھی گئے، جہاں ٹھہرے
ہر قدم پر تھا اک صنم خانہ
کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے
ہر نظر سنگ راہ تھی باقیؔ
کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے
کچھ تو کج رو جہاں بھی ہے باقیؔ
اور کچھ ہم بھی قصّہ خواں ٹھہرے
باقی صدیقی