زمرہ جات کے محفوظات: غزل

کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات

دیوان اول غزل 186
کیا کہیں اپنی اس کی شب کی بات
کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات
اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سے
پھر کھلے گی زبان جب کی بات
نکتہ دانان رفتہ کی نہ کہو
بات وہ ہے جو ہووے اب کی بات
کس کا روے سخن نہیں ہے ادھر
ہے نظر میں ہماری سب کی بات
ظلم ہے قہر ہے قیامت ہے
غصے میں اس کے زیر لب کی بات
کہتے ہیں آگے تھا بتوں میں رحم
ہے خدا جانیے یہ کب کی بات
گو کہ آتش زباں تھے آگے میر
اب کی کہیے گئی وہ تب کی بات
میر تقی میر

رونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت

دیوان اول غزل 185
جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت
رونا آتا ہے مجھے ہر سحر و شام بہت
دست صیاد تلک بھی نہ میں پہنچا جیتا
بے قراری نے لیا مجھ کو تہ دام بہت
ایک دو چشمک ادھر گردش ساغر کہ مدام
سر چڑھی رہتی ہے یہ گردش ایام بہت
دل خراشی و جگر چاکی و خون افشانی
ہوں تو ناکام پہ رہتے ہیں مجھے کام بہت
رہ گیا دیکھ کے تجھ چشم پہ یہ سطر مژہ
ساقیا یوں تو پڑھے تھے میں خط جام بہت
پھر نہ آئے جو ہوئے خاک میں جا آسودہ
غالباً زیر زمیں میر ہے آرام بہت
میر تقی میر

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

دیوان اول غزل 184
چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت
مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت
امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد
مرجائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت
تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم
تھا دشمن جانی مرا اقرار محبت
ہر جنس کے خواہاں ملے بازارجہاں میں
لیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت
اس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرا
زنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت
ہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشق
ٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت
کچھ مست ہیں ہم دیدئہ پرخون جگر سے
آیا یہی ہے ساغر سرشار محبت
بیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگز
یہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت
مجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقل
ہر سر نہیں اے میر سزاوارمحبت
میر تقی میر

ہم آنکھوں میں لے گئے بسر رات

دیوان اول غزل 183
پلکوں پہ تھے پارئہ جگر رات
ہم آنکھوں میں لے گئے بسر رات
اک دن تو وفا بھی کرتے وعدہ
گذری ہے امیدوار ہر رات
مکھڑے سے اٹھائیں ان نے زلفیں
جانا بھی نہ ہم گئی کدھر رات
تو پاس نہیں ہوا تو روتے
رہ رہ گئی ہے پہر پہر رات
کیا دن تھے کہ خون تھا جگر میں
رو اٹھتے تھے بیٹھ دوپہر رات
واں تم تو بناتے ہی رہے زلف
عاشق کی بھی یاں گئی گذر رات
ساقی کے جو آنے کی خبر تھی
گذری ہمیں ساری بے خبر رات
کیا سوز جگر کہوں میں ہمدم
آیا جو سخن زبان پر رات
صحبت یہ رہی کہ شمع روئی
لے شام سے تا دم سحر رات
کھلتی ہے جب آنکھ شب کو تجھ بن
کٹتی نہیں آتی پھر نظر رات
دن وصل کا یوں کٹا کہے تو
کاٹی ہے جدائی کی مگر رات
کل تھی شب وصل اک ادا پر
اس کی گئے ہوتے ہم تو مر رات
جاگے تھے ہمارے بخت خفتہ
پہنچا تھا بہم وہ اپنے گھر رات
کرنے لگا پشت چشم نازک
سوتے سے اٹھا جو چونک کر رات
تھی صبح جو منھ کو کھول دیتا
ہر چند کہ تب تھی اک پہر رات
پر زلفوں میں منھ چھپا کے پوچھا
اب ہووے گی میر کس قدر رات
میر تقی میر

تیر تو نکلا مرے سینے سے لیکن جاں سمیت

دیوان اول غزل 182
سب ہوئے نادم پئے تدبیر ہو جاناں سمیت
تیر تو نکلا مرے سینے سے لیکن جاں سمیت
تنگ ہوجاوے گا عرصہ خفتگان خاک پر
گر ہمیں زیرزمیں سونپا دل نالاں سمیت
باغ کر دکھلائیں گے دامان دشت حشر کو
ہم بھی واں آئے اگر مژگان خون افشاں سمیت
قیس و فرہاد اور وامق عاقبت جی سے گئے
سب کو مارا عشق نے مجھ خانماں ویراں سمیت
اٹھ گیا پردہ نصیحت گر کے لگ پڑنے سے میر
پھاڑ ڈالا میں گریباں رات کو داماں سمیت
میر تقی میر

کیا فکر کروں میں کہ کسو ڈھب ہو ملاقات

دیوان اول غزل 181
روزانہ ملوں یار سے یا شب ہو ملاقات
کیا فکر کروں میں کہ کسو ڈھب ہو ملاقات
نے بخت کی یاری ہے نہ کچھ جذب ہے کامل
وہ آپھی ملے تو ملے پھر جب ہو ملاقات
دوری میں کروں نالہ و فریاد کہاں تک
یک بار تو اس شوخ سے یارب ہو ملاقات
جاتی ہے غشی بھی کبھو آتے ہیں بخود بھی
کچھ لطف اٹھے بارے اگر اب ہو ملاقات
وحشت ہے بہت میر کو مل آیئے چل کر
کیا جانیے پھر یاں سے گئے کب ہو ملاقات
میر تقی میر

عرق شرم میں گیا ہے ڈوب

دیوان اول غزل 179
دیکھ خورشید تجھ کو اے محبوب
عرق شرم میں گیا ہے ڈوب
آئی کنعاں سے باد مصر ولے
نہ گئی تا بہ کلبۂ یعقوبؑ
بن عصا شیخ یک قدم نہ رکھے
راہ چلتا نہیں یہ خر بے چوب
اس لیے عشق میں نے چھوڑا تھا
تو بھی کہنے لگا برا کیا خوب
پی ہو مے تو لہو پیا ہوں میں
محتسب آنکھوں پر ہے کچھ آشوب
میر شاعر بھی زور کوئی تھا
دیکھتے ہو نہ بات کا اسلوب
میر تقی میر

ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب

دیوان اول غزل 178
کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب
ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب
تو کہاں اس کی کمر کیدھر نہ کریو اضطراب
اے رگ گل دیکھیو کھاتی ہے جو تو پیچ و تاب
موند رکھنا چشم کا ہستی میں عین دید ہے
کچھ نہیں آتا نظر جب آنکھ کھولے ہے حباب
تو ہو اور دنیا ہو ساقی میں ہوں مستی ہو مدام
پر بط صہبا نکالے اڑ چلے رنگ شراب
ہے ملاحت تیرے باعث شور پر تجھ سے نمک
ٹک تو رہ پیری چلی آتی ہے اے عہد شباب
کب تھی یہ بے جرأتی شایان آہوے حرم
ذبح ہوتا تیغ سے یا آگ میں ہوتا کباب
کیا ہو رنگ رفتہ کیا قاصد ہو جس کو خط دیا
جز جواب صاف اس سے کب کوئی لایا جواب
واے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میں
جام مے پر گردش آوے اور میخانہ خراب
چوب حرفی بن الف بے میں نہیں پہچانتا
ہوں میں ابجد خواں شناسائی کو مجھ سے کیا حساب
مت ڈھلک مژگاں سے اب تو اے سرشک آبدار
مفت میں جاتی رہے گی تیری موتی کی سی آب
کچھ نہیں بحرجہاں کی موج پر مت بھول میر
دور سے دریا نظر آتا ہے لیکن ہے سراب
میر تقی میر

تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب

دیوان اول غزل 177
ہوتا نہ پاے سرو جو جوے چمن میں آب
تو کون قمریوں کے چواتا دہن میں آب
اس پر لہو کے پیاسے ہیں تیرے لبوں کے رشک
اک نام کو رہی ہے عقیق یمن میں آب
شب سوز دل کہا تھا میں مجلس میں شمع سے
روئی ہے یاں تلک کہ بھرا ہے لگن میں آب
دل لے گیا تھا زیرزمیں میں بھرا ہوا
آتا ہے ہر مسام سے میرے کفن میں آب
رویا تھا تیری چشم و مژہ یاد کرکے میں
ہے نیزہ نیزہ تب سے نواح ختن میں آب
ناسور پھونک پھونک کے پیجو خبر ہے شرط
ہے آپ داغ کوچۂ زخم کہن میں آب
دریا میں قطرہ قطرہ ہے آب گہر کہیں
ہے میر موجزن ترے ہر یک سخن میں آب
میر تقی میر

پڑتی رہی ہے زور سے شبنم تمام شب

دیوان اول غزل 176
رویا کیے ہیں غم سے ترے ہم تمام شب
پڑتی رہی ہے زور سے شبنم تمام شب
رکنے سے دل کے آج بچا ہوں تو اب جیا
چھاتی ہی میں رہا ہے مرا دم تمام شب
یہ اتصال اشک جگر سوز کا کہاں
روتی ہے یوں تو شمع بھی کم کم تمام شب
شکوہ عبث ہے میر کہ کڑھتے ہیں سارے دن
یا دل کا حال رہتا ہے درہم تمام شب
گذرا کسے جہاں میں خوشی سے تمام روز
کس کی گئی زمانے میں بے غم تمام شب
میر تقی میر

ٹپکا کرے ہے آنکھوں سے خونناب روز و شب

دیوان اول غزل 175
اب وہ نہیں کہ آنکھیں تھیں پرآب روز و شب
ٹپکا کرے ہے آنکھوں سے خونناب روز و شب
اک وقت رونے کا تھا ہمیں بھی خیال سا
آئی تھی آنکھوں سے چلی سیلاب روز و شب
اس کے لیے نہ پھرتے تھے ہم خاک چھانتے
رہتا تھا پاس وہ در نایاب روز و شب
قدرت تو دیکھ عشق کی مجھ سے ضعیف کو
رکھتا ہے شاد بے خور و بے خواب روز و شب
سجدہ اس آستاں کا نہیں یوں ہوا نصیب
رگڑا ہے سر میانۂ محراب روز و شب
اب رسم ربط اٹھ ہی گئی ورنہ پیش ازیں
بیٹھے ہی رہتے تھے بہم احباب روز و شب
دل کس کے رو و مو سے لگایا ہے میر نے
پاتے ہیں اس جوان کو بیتاب روز و شب
میر تقی میر

سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب

دیوان اول غزل 174
رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب
سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب
مدت ہوئی کہ اب تو ہم سے جدا رکھے ہے
اس آفتاب رو کو یہ روزگار ہر شب
دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی
رہتی ہیں باز آنکھیں چندیں ہزار ہر شب
دھوکے ترے کسو دن میں جان دے رہوں گا
کرتا ہے ماہ میرے گھر سے گذار ہر شب
دل کی کدورت اپنی یک شب بیاں ہوئی تھی
رہتا ہے آسماں پر تب سے غبار ہر شب
کس کے لگا ہے تازہ تیر نگاہ اس کا
اک آہ میرے دل کے ہوتی ہے پار ہر شب
مجلس میں میں نے اپنا سوز جگر کہا تھا
روتی ہے شمع تب سے بے اختیار ہر شب
مایوس وصل اس کے کیا سادہ مردماں ہیں
گذرے ہے میر ان کو امیدوار ہر شب
میر تقی میر

گل منھ نہ کھولتا تھا بلبل نہ بولتا تھا

دیوان اول غزل 173
تجھ بن چمن میں جو تھا دل کو ٹٹولتا تھا
گل منھ نہ کھولتا تھا بلبل نہ بولتا تھا
میر تقی میر

صحرا میں رفتہ رفتہ کانٹوں نے سر اٹھایا

دیوان اول غزل 172
پاے پر آبلہ سے مجھ کو بنی گئی ہے
صحرا میں رفتہ رفتہ کانٹوں نے سر اٹھایا
میر تقی میر

اس تشنہ کام نے تو پانی بھی پھر نہ مانگا

دیوان اول غزل 171
دل تاب ٹک بھی لاتا تو کہنے میں کچھ آتا
اس تشنہ کام نے تو پانی بھی پھر نہ مانگا
میر تقی میر

ایک دو دم زار باراں رو گیا

دیوان اول غزل 167
ابر جب مجھ خاک پر سے ہو گیا
ایک دو دم زار باراں رو گیا
کیا کہوں میں میر اپنی سرگذشت
ابتدا ہی قصے میں وہ سو گیا
میر تقی میر

اس دو روزہ زیست میں ہم پر بھی کیا کیا ہو گیا

دیوان اول غزل 163
دل گیا رسوا ہوئے آخر کو سودا ہو گیا
اس دو روزہ زیست میں ہم پر بھی کیا کیا ہو گیا
میر تقی میر

رکھے ہے شوق اگر رحمت الٰہی کا

دیوان اول غزل 162
خیال چھوڑ دے واعظ تو بے گناہی کا
رکھے ہے شوق اگر رحمت الٰہی کا
سیاہ بخت سے میرے مجھے کفایت تھی
لیا ہے داغ نے دامن عبث سیاہی کا
نگہ تمام تو اس کی خدا نہ دکھلاوے
کرے ہے قتل اثر جس کی کم نگاہی کا
کسو کے حسن کے شعلے کے آگے اڑتا ہے
سلوک میر سنو میرے رنگ کاہی کا
میر تقی میر

ہوکر فقیر صبر مری گور پر گیا

دیوان اول غزل 161
بیتابیوں کے جور سے میں جب کہ مر گیا
ہوکر فقیر صبر مری گور پر گیا
اے آہ سرد عرصۂ محشر میں یخ جما
جلتا ہوں میں سنوں کہ جہنم ٹھٹھر گیا
کاکل میں نہیّں خط میں نہیں زلف میں نہیں
روز سیہ کے ساتھ مرا دل کدھر گیا
مفلس سو مر گیا نہ ہوا وصل یار کا
ہجراں میں اس کے جی بھی گیا اور زر گیا
تیری ہی رہگذر میں یہ جی جارہا ہے شوخ
سنیو کہ میر آج ہی کل میں گذر گیا
میر تقی میر

ملے گا نیند بھر تب مجھ کو سونا

دیوان اول غزل 160
نظر میں آوے گا جب جی کا کھونا
ملے گا نیند بھر تب مجھ کو سونا
تماشے دیکھتے ہنستا چلا آ
کرے ہے شیشہ بازی میرا رونا
مرا خوں تجھ پہ ثابت ہی کرے گا
کنارے بیٹھ کر ہاتھوں کو دھونا
وصیت میر نے مجھ کو یہی کی
کہ سب کچھ ہونا تو عاشق نہ ہونا
میر تقی میر

مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا

دیوان اول غزل 159
تھا زعفراں پہ ہنسنے کو دل جس کی گرد کا
مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا
کیا ڈر اسے ہے گرمی خورشید حشر سے
سایہ پڑا ہے جس پہ مری آہ سرد کا
میر تقی میر

بہار جاتی رہی دیکھنے چمن نہ دیا

دیوان اول غزل 158
مجھے تو نور نظر نے تنک بھی تن نہ دیا
بہار جاتی رہی دیکھنے چمن نہ دیا
لباس دیکھ لیے میں نے تیری پوشش کے
کہ بعد مرگ کنھیں نے مجھے کفن نہ دیا
کھلی نہ بات کئی حرف تھے گرہ دل میں
اجل نے اس سے مجھے کہنے اک سخن نہ دیا
میر تقی میر

دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا

دیوان اول غزل 157
کیا کہیے عشق حسن کا آپھی طرف ہوا
دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا
کیونکر میں فتح پائوں تری زلفوں پر کہ اب
یک دل شکست خوردہ مرا دو طرف ہوا
میر تقی میر

تو کہیو جب چلا ہوں میں تب اس کا جی نکلتا تھا

دیوان اول غزل 156
جواے قاصد وہ پوچھے میربھی ایدھر کو چلتا تھا
تو کہیو جب چلا ہوں میں تب اس کا جی نکلتا تھا
سماں افسوس و بیتابی سے تھا کل قتل کو میرے
تڑپتا تھا ادھر میں اور ادھر وہ ہاتھ ملتا تھا
میر تقی میر

رام صیاد کا ہوتے ہی خدا یاد آیا

دیوان اول غزل 155
گرچہ امید اسیری پہ میں ناشاد آیا
رام صیاد کا ہوتے ہی خدا یاد آیا
لوہو پینے کو مرا بس تھی مری تشنہ لبی
کاہے کو کیجیے تصدیع یہ جلاد آیا
میر تقی میر

وحشت میں جو سیا سو کہیں کا کہیں سیا

دیوان اول غزل 154
یک پارہ جیب کا بھی بجا میں نہیں سیا
وحشت میں جو سیا سو کہیں کا کہیں سیا
محشر سوائے کیا ہو اسے التیام میر
یہ زخم سینہ جائے گا میرا وہیں سیا
میر تقی میر

دماغ کس کو ہے محشر کی دادخواہی کا

دیوان اول غزل 153
اٹھوں نہ خاک سے کشتہ میں کم نگاہی کا
دماغ کس کو ہے محشر کی دادخواہی کا
سنو ہو جل ہی بجھوں گا کہ ہورہا ہوں میں
چراغ مضطرب الحال صبح گاہی کا
میر تقی میر

لب ساغر پہ منھ رکھ رکھ کے ہر شیشہ بہکتا تھا

دیوان اول غزل 152
مئے گلگوں کی بو سے بسکہ میخانہ مہکتا تھا
لب ساغر پہ منھ رکھ رکھ کے ہر شیشہ بہکتا تھا
جلا کیونکر نہ ہو گا آشیان بلبل بے کس
برنگ آتش خس پوش رنگ گل دہکتا تھا
میر تقی میر

بے درد سر بھی صبح تلک سر دھنا کیا

دیوان اول غزل 151
قصہ تمام میر کا شب کو سنا کیا
بے درد سر بھی صبح تلک سر دھنا کیا
مل چشم سے نگہ نے دھتورا دیا مجھے
خس بھر نہ چھوڑا دل کو میں تنکے چنا کیا
میر تقی میر

اڑتا ہے ابھی رنگ گل باغ جہاں کا

دیوان اول غزل 150
ہو بلبل گلگشت کہ اک دن ہے خزاں کا
اڑتا ہے ابھی رنگ گل باغ جہاں کا
ہے مجھ کو یقیں تجھ میں وفا ایسی جفا پر
گھر چاک برابر ہوئے اس میرے گماں کا
سینے میں مرے آگ لگی میرے سخن سے
جوں شمع جلایا ہوا ہوں اپنی زباں کا
آرام عدم میں نہ تھا ہستی میں نہیں چین
معلوم نہیں میرا ارادہ ہے کہاں کا
میر تقی میر

چٹکیوں میں رقیب اڑ جاتا

دیوان اول غزل 149
طفل مطرب جو میرے ہاتھ آتا
چٹکیوں میں رقیب اڑ جاتا
خواب میں بھی رہا تو آنے سے
دیکھنے ہی کا تھا یہ سب ناتا
الفت اس تیغ سے تھی بے حد میر
قتل کرتا تو لوہو جم جاتا
میر تقی میر

شعلۂ آہ دل گرم محبت سے اٹھا

دیوان اول غزل 148
جب کہ تابوت مرا جاے شہادت سے اٹھا
شعلۂ آہ دل گرم محبت سے اٹھا
عمر گذری مجھے بیمار ہی رہتے ہے بجا
دل عزیزوں کا اگر میری عیادت سے اٹھا
میر تقی میر

کس طرح آفتاب نکلے گا

دیوان اول غزل 147
وہ جو پی کر شراب نکلے گا
کس طرح آفتاب نکلے گا
محتسب میکدے سے جاتا نہیں
یاں سے ہوکر خراب نکلے گا
یہی چپ ہے تو درد دل کہیے
منھ سے کیونکر جواب نکلے گا
جب اٹھے گا جہان سے یہ نقاب
تب ہی اس کا حجاب نکلے گا
عرق اس کے بھی منھ کا بو کیجو
گر کبھو یہ گلاب نکلے گا
آئو بالیں تلک نہ ہو گی دیر
جی ہمارا شتاب نکلے گا
دفتر داغ ہے جگر اس بن
کسو دن یہ حساب نکلے گا
تذکرے سب کے پھر رہیں گے دھرے
جب مرا انتخاب نکلے گا
میر دیکھوگے رنگ نرگس کا
اب جو وہ مست خواب نکلے گا
میر تقی میر

مگر اک غم ترا اے شوخ بے کس ہوکے روئے گا

دیوان اول غزل 146
نہیں ایسا کوئی میرا جو ماتم دار ہوئے گا
مگر اک غم ترا اے شوخ بے کس ہوکے روئے گا
اگر اگتے رہے اے ناامیدی داغ ایسے ہی
تو کاہے کو کوئی تخم تمنا دل میں بوئے گا
الٰہی وہ بھی دن ہو گا کہ جس میں ایک ساعت بھی
میں روئوں گا وہ اپنے ہاتھ میرے منھ کو دھوئے گا
جو ایسے شور سے روتا ہے دن کو میر تو شب کو
نہ سونے دے گا ہمسایوں کو نے یہ آپ سوئے گا
میر تقی میر

گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا

دیوان اول غزل 145
اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا
گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا
کیا بعد مرگ یاد کروں گا وفا تجھے
سہتا رہا جفائیں میں جب تک جیا کیا
ہو تار تار سیتے ہی سیتے جو اڑ گیا
اب تک عبث میں اپنا گریباں سیا کیا
سن سن کے تیری بات کو کیا کیا نہ کہہ سنا
کیا کیا کہوں میں تجھ سے کہ کیا کچھ کیا کیا
اب وہ جگر طپش سے تڑپتا ہے تشنہ لب
مدت تلک جو میر کا لوہو پیا کیا
میر تقی میر

اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

دیوان اول غزل 144
آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا
سمجھی نہ باد صبح کہ آکر اٹھا دیا
اس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا
پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج
بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا
اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ
پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا
تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے
دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا
سب شور ما ومن کو لیے سر میں مر گئے
یاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا
آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں
مشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا
اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہ گئے
آخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا
کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ طالع جو تھے درست
ہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا
گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا
اس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا
مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک
جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا
ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں
دل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا
بوے کباب سوختہ آئی دماغ میں
شاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا
تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کی
درد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا
ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر
ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا
میر تقی میر

دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا

دیوان اول غزل 143
یار عجب طرح نگہ کر گیا
دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا
تنگ قبائی کا سماں یار کی
پیرہن غنچہ کو تہ کر گیا
جانا ہے اس بزم سے آیا تو کیا
کوئی گھڑی گو کہ تو رہ کر گیا
وصف خط و خال میں خوباں کے میر
نامۂ اعمال سیہ کر گیا
میر تقی میر

دل جو عقدہ تھا سخت وا نہ ہوا

دیوان اول غزل 142
سینہ دشنوں سے چاک تا نہ ہوا
دل جو عقدہ تھا سخت وا نہ ہوا
سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں
دل سے اک داغ ہی جدا نہ ہوا
ظلم و جور و جفا ستم بیداد
عشق میں تیرے ہم پہ کیا نہ ہوا
ہم تو ناکام ہی جہاں میں رہے
یاں کبھو اپنا مدعا نہ ہوا
میر افسوس وہ کہ جو کوئی
اس کے دروازے کا گدا نہ ہوا
میر تقی میر

جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا

دیوان اول غزل 141
کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہوجائے گا
جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا
خون کم کر اب کہ کشتوں کے تو پشتے لگ گئے
قتل کرتے کرتے تیرے تیں جنوں ہوجائے گا
اس شکار انداز خونیں کا نہیں آیا مزاج
ورنہ آہوے حرم صید زبوں ہوجائے گا
بزم عشرت میں ملا مت ہم نگوں بختوں کے تیں
جوں حباب بادہ ساغر سرنگوں ہوجائے گا
تاکجا غنچہ صفت رکنا چمن میں دہر کے
کب گرفتہ دل مرے سینے میں خوں ہوجائے گا
کیا کہوں میں میر اس عاشق ستم محبوب کو
طور پر اس کے کسو دن کوئی خوں ہوجائے گا
میر تقی میر

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

دیوان اول غزل 140
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا
جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کے
گل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا
جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم تو
گرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا
کہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہو
دل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا
تھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکی
میں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا
خورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئی
رخساروں کو گو تونے برقع سے چھپا رکھا
چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیں
جھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا
لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نے
سو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا
کشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کی
میں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا
قطعی ہے دلیل اے میر اس تیغ کی بے آبی
رحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا
میر تقی میر

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

دیوان اول غزل 139
گلہ نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا
جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا
سمند ناز نے اس کے جہاں کیا پامال
وہی ہے اب بھی اسے شوق ترک تازی کا
ستم ہیں قہر ہیں لونڈے شراب خانے کے
اتار لیتے ہیں عمامہ ہر نمازی کا
الٹ پلٹ مری آہ سحر کی کیا ہے کم
اگر خیال تمھیں ہووے نیزہ بازی کا
بتائو ہم سے کوئی آن تم سے کیا بگڑی
نہیں ہے تم کو سلیقہ زمانہ سازی کا
خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن
رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا
چلو ہو راہ موافق کہے مخالف کے
طریق چھوڑ دیا تم نے دل نوازی کا
کسو کی بات نے آگے مرے نہ پایا رنگ
دلوں میں نقش ہے میری سخن طرازی کا
بسان خاک ہو پامال راہ خلق اے میر
رکھے ہے دل میں اگر قصد سرفرازی کا
میر تقی میر

میں نے یہ غنچۂ تصویر صبا کو سونپا

دیوان اول غزل 138
آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا
میں نے یہ غنچۂ تصویر صبا کو سونپا
تیرے کوچے میں مری خاک بھی پامال ہوئی
تھا وہ بے درد مجھے جن نے وفا کو سونپا
اب تو جاتا ہی ہے کعبے کو تو بت خانے سے
جلد پھر پہنچیو اے میر خدا کو سونپا
میر تقی میر

پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا

دیوان اول غزل 137
ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا
خزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھی
یہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا
کہاں تھا تو اس طور آنے سے میرے
گلی میں تری کل تماشا ہوا تھا
گئی ہوتی سر آبلوں کے پہ ہوئی خیر
بڑا قضیہ خاروں سے برپا ہوا تھا
گریباں سے تب ہاتھ اٹھایا تھا میں نے
مری اور دامان صحرا ہوا تھا
زہے طالع اے میر ان نے یہ پوچھا
کہاں تھا تو اب تک تجھے کیا ہوا تھا
میر تقی میر

سو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا

دیوان اول غزل 136
کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا
سو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا
بیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میں
پھرتا رہا ہوں گلیوں میں آوارہ گرد سا
قصد طریق عشق کیا سب نے بعد قیس
لیکن ہوا نہ ایک بھی اس رہ نورد سا
حاضر یراق بے مزگی کس گھڑی نہیں
معشوق کچھ ہمارا ہے عاشق نبرد سا
کیا میر ہے یہی جو ترے در پہ تھا کھڑا
نمناک چشم و خشک لب و رنگ زرد سا
میر تقی میر

مجنوں بھی اس کی موج میں مدت بہا پھرا

دیوان اول غزل 135
صحرا میں سیل اشک مرا جابجا پھرا
مجنوں بھی اس کی موج میں مدت بہا پھرا
طالع جو خوب تھے نہ ہوا جاہ کچھ نصیب
سر پر مرے کڑوڑ برس تک ہما پھرا
آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید
نامے کے انتظار میں قاصد بھلا پھرا
ٹک بھی نہ مڑ کے میری طرف تونے کی نگاہ
اک عمر تیرے پیچھے میں ظالم لگا پھرا
دیر و حرم میں کیونکے قدم رکھ سکے گا میر
ایدھر تو اس سے بت پھرے اودھر خدا پھرا
میر تقی میر

تہ کر گیا مصلیٰ عزلت گزیدگاں کا

دیوان اول غزل 134
آیا تھا خانقہ میں وہ نور دیدگاں کا
تہ کر گیا مصلیٰ عزلت گزیدگاں کا
آخر کو خاک ہونا درپیش ہے سبھوں کو
ٹک دیکھ منھ کدھر ہے قامت خمیدگاں کا
جو خار دشت میں ہے سوچشم آبلہ سے
دیکھا ہوا ہے تیرے محنت کشیدگاں کا
اب زیرخاک رہنا مشکل ہے کشتگاں کو
آرام کھو چلا تو ان آرمیدگاں کا
تیر بلا کا ہر دم اب میر ہے نشانہ
پتھر جگر ہے اس کے آفت رسیدگاں کا
میر تقی میر

ہوں دوانہ ترے سگ کو کا

دیوان اول غزل 133
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
ہوں دوانہ ترے سگ کو کا
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو
فکر ہے اپنے ہر بن مو کا
ہے مرے یار کی مسوں کا رشک
کشتہ ہوں سبزئہ لب جو کا
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف
ہے وظیفہ یہی دعاگو کا
میں نے تلوار سے ہرن مارے
عشق کر تیری چشم و ابرو کا
شور قلقل کے ہوتی تھی مانع
ریش قاضی پہ رات میں تھوکا
عطر آگیں ہے باد صبح مگر
کھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں
کارخانہ ہے واں تو جادو کا
میر ہرچند میں نے چاہا لیک
نہ چھپا عشق طفل بدخو کا
نام اس کا لیا ادھر اودھر
اڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
میر تقی میر

غرض اس شوخ نے بھی کام کیا

دیوان اول غزل 132
کام پل میں مرا تمام کیا
غرض اس شوخ نے بھی کام کیا
سرو و شمشاد خاک میں مل گئے
تونے گلشن میں کیوں خرام کیا
سعی طوف حرم نہ کی ہرگز
آستاں پر ترے مقام کیا
تیرے کوچے کے رہنے والوں نے
یہیں سے کعبے کو سلام کیا
اس کے عیارپن نے میرے تئیں
خادم و بندہ و غلام کیا
حال بد میں مرے بتنگ آکر
آپ کو سب میں نیک نام کیا
دختر رز سے کیا تھا میرے تئیں
شیخ کی ضد پہ میں حرام کیا
ہو گیا دل مرا تبرک جب
ورد یہ قطعۂ پیامؔ کیا
’’دلی کے کج کلاہ لڑکوں نے
کام عشاق کا تمام کیا
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتل عام کیا‘‘
عشق خوباں کو میر میں اپنا
قبلہ و کعبہ و امام کیا
میر تقی میر

ننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا

دیوان اول غزل 131
نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا
ننگ ہے نام رہائی تری صیادی کا
داد دے ورنہ ابھی جان پہ کھیلوں ہوں میں
دل جلانا نہیں دیکھا کسی فریادی کا
تونے تلوار رکھی سر رکھا میں بندہ ہوں
اپنی تسلیم کا بھی اور تری جلادی کا
شہر کی سی رہی رونق اسی کے جیتے جی
مر گیا قیس جو تھا خانہ خدا وادی کا
شیخ کیا صورتیں رہتی تھیں بھلا جب تھا دیر
رو بہ ویرانی ہو اس کعبے کی آبادی کا
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میر کی استادی کا
میر تقی میر

صنم خانہ ہی یاں اے شیخ تونے کیوں نہ بنوایا

دیوان اول غزل 130
مجھے زنہار خوش آتا نہیں کعبے کا ہمسایا
صنم خانہ ہی یاں اے شیخ تونے کیوں نہ بنوایا
زہے اے عشق کی نیرنگ سازی غیر کو ان نے
جلایا بات کہتے واں ہمیں مرنے کو فرمایا
بھری ہے آگ تیرے درد دل میں میر ایسی تو
کہ کہتے روبرو اس شوخ کے قاصد کا منھ آیا
میر تقی میر

مئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے رووے گا

دیوان اول غزل 129
مغاں مجھ مست بن پھر خندئہ ساغر نہ ہووے گا
مئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے رووے گا
کیا ہے خوں مرا پامال یہ سرخی نہ چھوٹے گی
اگر قاتل تو اپنے پائوں سو پانی سے دھووے گا
کوئی رہتا ہے جیتے جی ترے کوچے کے آنے سے
تبھی آسودہ ہو گا میر سا جب جی کو کھووے گا
میر تقی میر

دیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا

دیوان اول غزل 128
برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بدگمان کا
دیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا
مت مانیو کہ ہو گا یہ بے درد اہل دیں
گر آوے شیخ پہن کے جامہ قرآن کا
خوبی کو اس کے چہرے کی کیا پہنچے آفتاب
ہے اس میں اس میں فرق زمین آسمان کا
ابلہ ہے وہ جو ہووے خریدار گل رخاں
اس سودے میں صریح ہے نقصان جان کا
کچھ اور گاتے ہیں جو رقیب اس کے روبرو
دشمن ہیں میری جان کے یہ جی ہے تان کا
تسکین اس کی تب ہوئی جب چپ مجھے لگی
مت پوچھ کچھ سلوک مرے بدزبان کا
یاں بلبل اور گل پہ تو عبرت سے آنکھ کھول
گلگشت سرسری نہیں اس گلستان کا
گل یادگار چہرئہ خوباں ہے بے خبر
مرغ چمن نشاں ہے کسو خوش زبان کا
توبرسوں میں کہے ہے ملوں گا میں میر سے
یاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اس جوان کا
میر تقی میر

یہ ویراں آشیانے دیکھنے کو ایک میں چھوٹا

دیوان اول غزل 127
گئے قیدی ہو ہم آواز جب صیاد آ لوٹا
یہ ویراں آشیانے دیکھنے کو ایک میں چھوٹا
مرا رنگ اڑ گیا جس وقت سنگ محتسب آگے
بغل سے گر پڑا مینا و ساغر چور ہو پھوٹا
مرا وعدہ ہی آپہنچا ترے آنے کے وعدے تک
ہوا میں موت سے سچا رہا اے شوخ تو جھوٹا
کف جاناں سے کیا امکاں رہائی میر کوئی ہو
اچنبھا ہے جو اس کے ہاتھ سے رنگ حنا چھوٹا
میر تقی میر

اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا

دیوان اول غزل 126
دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا
اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا
اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہ
کس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا
دل کی شکستگی نے ڈرائے رکھا ہمیں
واں چیں جبیں پر آئی کہ یاں رنگ زرد تھا
مانند حرف صفحۂ ہستی سے اٹھ گیا
دل بھی مرا جریدئہ عالم میں فرد تھا
تھا پشتہ ریگ بادیہ اک وقت کارواں
یہ گردباد کوئی بیاباں نورد تھا
گذری مدام اس کی جوانان مست میں
پیر مغاں بھی طرفہ کوئی پیر مرد تھا
عاشق ہیں ہم تو میر کے بھی ضبط عشق کے
دل جل گیا تھا اور نفس لب پہ سرد تھا
میر تقی میر

کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا

دیوان اول غزل 125
تجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا
کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا
چشم بن اشک ہوئی یا نہ ہوئی یکساں ہے
خاک میں جب وہ ملا موتی کا دانہ ہی گیا
بر مجنوں میں خردمند کوئی جا نہ سکا
عاقبت سر کو قدم کر یہ دوانہ ہی گیا
ہم اسیروں کو بھلا کیا جو بہار آئی نسیم
عمر گذری کہ وہ گلزار کا جانا ہی گیا
جی گیا میر کا اس لیت و لعل میں لیکن
نہ گیا ظلم ہی تیرا نہ بہانہ ہی گیا
میر تقی میر

گلابی روتی تھی واں جام ہنس ہنس کر چھلکتا تھا

دیوان اول غزل 124
نئی طرزوں سے میخانے میں رنگ مے جھلکتا تھا
گلابی روتی تھی واں جام ہنس ہنس کر چھلکتا تھا
ترے اس خاک اڑانے کی دھمک سے اے مری وحشت
کلیجا ریگ صحرا کا بھی دس دس گز تھلکتا تھا
گئی تسبیح اس کی نزع میں کب میر کے دل سے
اسی کے نام کی سمرن تھی جب منکا ڈھلکتا تھا
میر تقی میر

تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

دیوان اول غزل 123
جو اس شور سے میر روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوں
جسے ابر ہر سال روتا رہے گا
مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصح
تو کب تک مرے منھ کو دھوتا رہے گا
بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیں
کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا
مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے
جرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا
تو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دے
ہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا
بس اے میر مژگاں سے پونچھ آنسوئوں کو
تو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا
میر تقی میر

رواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا

دیوان اول غزل 122
غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا
رواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا
زمیں اک صفحۂ تصویر بیہوشاں سے مانا ہے
یہ مجلس جب سے ہے اچھا نہیں کچھ رنگ صحبت کا
جہاں جلوے سے اس محبوب کے یکسر لبالب ہے
نظر پیدا کر اول پھر تماشا دیکھ قدرت کا
ہنوز آوارئہ لیلیٰ ہے جان رفتہ مجنوں کی
موئے پر بھی رہا ہوتا نہیں وابستہ الفت کا
حریف بے جگر ہے صبر ورنہ کل کی صحبت میں
نیاز و ناز کا جھگڑا گرو تھا ایک جرأت کا
نگاہ یاس بھی اس صید افگن پر غنیمت ہے
نہایت تنگ ہے اے صید بسمل وقت فرصت کا
خرابی دل کی اس حد ہے کہ یہ سمجھا نہیں جاتا
کہ آبادی بھی یاں تھی یا کہ ویرانہ تھا مدت کا
نگاہ مست نے اس کی لٹائی خانقہ ساری
پڑا ہے برہم اب تک کارخانہ زہد و طاعت کا
قدم ٹک دیکھ کر رکھ میر سر دل سے نکالے گا
پلک سے شوخ تر کانٹا ہے صحراے محبت کا
میر تقی میر

عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا

دیوان اول غزل 121
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا
عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا
کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے
چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا
آنکھیں چرائیو نہ ٹک ابر بہار سے
میری طرف بھی دیدئہ خونبار دیکھنا
اے ہم سفر نہ آبلے کو پہنچے چشم تر
لاگا ہے میرے پائوں میں آ خار دیکھنا
ہونا نہ چار چشم دل اس ظلم پیشہ سے
ہشیار زینہار خبردار دیکھنا
صیاد دل ہے داغ جدائی سے رشک باغ
تجھ کو بھی ہو نصیب یہ گلزار دیکھنا
گر زمزمہ یہی ہے کوئی دن تو ہم صفیر
اس فصل ہی میں ہم کو گرفتار دیکھنا
بلبل ہمارے گل پہ نہ گستاخ کر نظر
ہوجائے گا گلے کا کہیں ہار دیکھنا
شاید ہماری خاک سے کچھ ہو بھی اے نسیم
غربال کرکے کوچۂ دلدار دیکھنا
اس خوش نگہ کے عشق سے پرہیز کیجو میر
جاتا ہے لے کے جی ہی یہ آزار دیکھنا
میر تقی میر

کہ سنگ محتسب سے پاے خم دست سبو ٹوٹا

دیوان اول غزل 120
سر دور فلک بھی دیکھوں اپنے روبرو ٹوٹا
کہ سنگ محتسب سے پاے خم دست سبو ٹوٹا
کہاں آتے میسر تجھ سے مجھ کو خودنما اتنے
ہوا یوں اتفاق آئینہ میرے روبرو ٹوٹا
کف چالاک میں تیری جو تھا سر رشتہ جانوں کا
گریباں سے مرے ہر اک ترا ٹانکا رفو ٹوٹا
طراوت تھی چمن میں سرو گویا اشک قمری سے
ادھر آنکھیں مندیں اس کی کہ ایدھر آب جو ٹوٹا
خطر کر تو نہ لگ چل اے صبا اس زلف سے اتنا
بلا آوے گی تیرے سر جو اس کا ایک مو ٹوٹا
وہ بے کس کیا کرے کہہ تو رہی دل ہی کی دل ہی میں
نپٹ بے جا ترا دل میر سے اے آرزو ٹوٹا
میر تقی میر

اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا

دیوان اول غزل 119
لخت جگر تو اپنے یک لخت روچکا تھا
اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا
دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیا
ٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا
اس قید جیب سے میں چھوٹا جنوں کی دولت
ورنہ گلا یہ میرا جوں طوق میں پھنسا تھا
مشت نمک کی خاطر اس واسطے ہوں حیراں
کل زخم دل نہایت دل کو مرے لگا تھا
اے گرد باد مت دے ہر آن عرض وحشت
میں بھی کسو زمانے اس کام میں بلا تھا
بن کچھ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیا
پر تونے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا
روتی ہے شمع اتنا ہر شب کہ کچھ نہ پوچھو
میں سوز دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا
شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کو
ناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا
سر مار کر ہوا تھا میں خاک اس گلی میں
سینے پہ مجھ کو اس کا مذکور نقش پا تھا
سو بخت تیرہ سے ہوں پامالی صبا میں
اس دن کے واسطے میں کیا خاک میں ملا تھا
یہ سرگذشت میری افسانہ جو ہوئی ہے
مذکور اس کا اس کے کوچے میں جابجا تھا
سن کر کسی سے وہ بھی کہنے لگا تھا کچھ کچھ
بے درد کتنے بولے ہاں اس کو کیا ہوا تھا
کہنے لگا کہ جانے میری بلا عزیزاں
احوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا
آنکھیں مری کھلیں جب جی میر کا گیا تب
دیکھے سے اس کو ورنہ میرا بھی جی جلا تھا
میر تقی میر

دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا

دیوان اول غزل 118
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا
دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا
برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میں
بھیجا تھا اس کے پاس سو میرے وطن گیا
خاطر نشاں اے صید فگن ہو گی کب تری
تیروں کے مارے میرا کلیجہ تو چھن گیا
یادش بخیر دشت میں مانند عنکبوت
دامن کے اپنے تار جو خاروں پہ تن گیا
مارا تھا کس لباس میں عریانی نے مجھے
جس سے تہ زمین بھی میں بے کفن گیا
آئی اگر بہار تو اب ہم کو کیا صبا
ہم سے تو آشیاں بھی گیا اور چمن گیا
سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میر
یہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا
میر تقی میر

گو کہ مرے ہی خون کی دست گرفتہ ہو حنا

دیوان اول غزل 117
تیرے قدم سے جا لگی جس پہ مرا ہے سر لگا
گو کہ مرے ہی خون کی دست گرفتہ ہو حنا
سنگ مجھے بجاں قبول اس کے عوض ہزار بار
تابہ کجا یہ اضطراب دل نہ ہوا ستم ہوا
کس کی ہوا کہاں کاگل ہم تو قفس میں ہیں اسیر
سیر چمن کی روز و شب تجھ کو مبارک اے صبا
کن نے بدی ہے اتنی دیر موسم گل میں ساقیا
دے بھی مئے دوآتشہ زورہی سرد ہے ہوا
وہ تو ہماری خاک پر آ نہ پھرا کبھی غرض
ان نے جفا نہ ترک کی اپنی سی ہم نے کی وفا
فصل خزاں تلک تو میں اتنا نہ تھا خراب گرد
مجھ کو جنون ہو گیا موسم گل میں کیا بلا
جان بلب رسیدہ سے اتنا ہی کہنے پائے ہم
جاوے اگر تو یار تک کہیو ہماری بھی دعا
بوے کباب سوختہ آتی ہے کچھ دماغ میں
ہووے نہ ہووے اے نسیم رات کسی کا دل جلا
میں تو کہا تھا تیرے تیں آہ سمجھ نہ ظلم کر
آخرکار بے وفا جی ہی گیا نہ میر کا
میر تقی میر

میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا

دیوان اول غزل 116
کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا
میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا
جی تو ایسے کئی صدقے کیے تجھ پر لیکن
حیف یہ ہے کہ تنک تو بھی پشیماں نہ ہوا
آہ میں کب کی کہ سرمایۂ دوزخ نہ ہوئی
کون سا اشک مرا منبع طوفاں نہ ہوا
گو توجہ سے زمانے کی جہاں میں مجھ کو
جاہ و ثروت کا میسر سر و ساماں نہ ہوا
شکر صد شکر کہ میں ذلت و خواری کے سبب
کسی عنوان میں ہم چشم عزیزاں نہ ہوا
برق مت خوشے کی اور اپنی بیاں کر صحبت
شکر کر یہ کہ مرا واں دل سوزاں نہ ہوا
دل بے رحم گیا شیخ لیے زیر زمیں
مر گیا پر یہ کہن گبر مسلماں نہ ہوا
کون سی رات زمانے میں گئی جس میں میر
سینۂ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا
میر تقی میر

رو آشیان طائر رنگ پریدہ تھا

دیوان اول غزل 115
کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا
رو آشیان طائر رنگ پریدہ تھا
قاصد جو واں سے آیا تو شرمندہ میں ہوا
بیچارہ گریہ ناک گریباں دریدہ تھا
اک وقت ہم کو تھا سر گریہ کہ دشت میں
جو خار خشک تھا سو وہ طوفاں رسیدہ تھا
جس صید گاہ عشق میں یاروں کا جی گیا
مرگ اس شکارگہ کا شکار رمیدہ تھا
کوری چشم کیوں نہ زیارت کو اس کی آئے
یوسف سا جس کو مدنظر نوردیدہ تھا
افسوس مرگ صبر ہے اس واسطے کہ وہ
گل ہاے باغ عشرت دنیا نچیدہ تھا
مت پوچھ کس طرح سے کٹی رات ہجر کی
ہر نالہ میری جان کو تیغ کشیدہ تھا
حاصل نہ پوچھ گلشن مشہد کا بوالہوس
یاں پھل ہر اک درخت کا حلق بریدہ تھا
دل بے قرار گریۂ خونیں تھا رات میر
آیا نظر تو بسمل درخوں طپیدہ تھا
میر تقی میر

طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا

دیوان اول غزل 114
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا
جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایا
ہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا
خلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شاید
سرشک یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سے
ہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میر
سمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا
میر تقی میر

آج دیکھا تو باغ بن دیکھا

دیوان اول غزل 113
کل چمن میں گل و سمن دیکھا
آج دیکھا تو باغ بن دیکھا
کیا ہے گلشن میں جو قفس میں نہیں
عاشقوں کا جلاوطن دیکھا
ذوق پیکان تیر میں تیرے
مدتوں تک جگر نے چھن دیکھا
گھر کے گھر جلتے تھے پڑے تیرے
داغ دل دیکھے بس چمن دیکھا
ایک چشمک دوصد سنان مژہ
اس نکیلے کا بانکپن دیکھا
شکر زاہد کا اپنی آنکھوں میں
مے عوض خرقہ مرتہن دیکھا
حسرت اس کی جگہ تھی خوابیدہ
میر کا کھول کر کفن دیکھا
میر تقی میر

دیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا

دیوان اول غزل 112
ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا
دیکھا جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا
ہر چند شور محشر اب بھی ہے در پہ لیکن
نکلے گا یار گھر سے ہووے گا جب تماشا
بھڑکے ہے آتش غم منظور ہے جو تجھ کو
جلنے کا عاشقوں کے آ دیکھ اب تماشا
طالع جو میر خواری محبوب کو خوش آئی
پرغم یہ ہے مخالف دیکھیں گے سب تماشا
میر تقی میر

ناچار عاشقوں کو رخصت کے پان دے گا

دیوان اول غزل 111
خط منھ پہ آئے جاناں خوبی پہ جان دے گا
ناچار عاشقوں کو رخصت کے پان دے گا
سارے رئیس اعضا ہیں معرض تلف میں
یہ عشق بے محابا کس کو امان دے گا
پاے پر آبلہ سے میں گم شدہ گیا ہوں
ہر خار بادیے کا میرا نشان دے گا
داغ اور سینے میں کچھ بگڑی ہے عشق دیکھیں
دل کو جگر کو کس کو اب درمیان دے گا
نالہ ہمارا ہر شب گذرے ہے آسماں سے
فریاد پر ہماری کس دن تو کان دے گا
مت رغم سے ہمارے پیارے حنا لگائو
پابوس پر تمھارے سر سو جوان دے گا
ہوجو نشانہ اس کا اے بوالہوس سمجھ کر
تیروں کے مارے سارے سینے کو چھان دے گا
اس برہمن پسر کے قشقے پہ مرتے ہیں ہم
ٹک دے گا رو تو گویا جی ہم کو دان دے گا
گھر چشم کا ڈبو مت دل کے گئے پہ رو رو
کیا میر ہاتھ سے تو یہ بھی مکان دے گا
میر تقی میر

آخر کو جستجو نے تری مجھ کو کھو دیا

دیوان اول غزل 110
جی اپنا میں نے تیرے لیے خوار ہو دیا
آخر کو جستجو نے تری مجھ کو کھو دیا
بے طاقتی سکوں نہیں رکھتی ہے ہم نشیں
رونے نے ہر گھڑی کے مجھے تو ڈبو دیا
اے ابر اس چمن میں نہ ہو گا گل امید
یاں تخم یاس اشک کو میں پھر کے بو دیا
پوچھا جو میں نے درد محبت سے میر کو
رکھ ہاتھ ان نے دل پہ ٹک اک اپنے رو دیا
میر تقی میر

کون سے درد و ستم کا یہ طرفدار نہ تھا

دیوان اول غزل 109
کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا
کون سے درد و ستم کا یہ طرفدار نہ تھا
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہ
آئینہ تھا یہ ولے قابل دیدار نہ تھا
دھوپ میں جلتی ہیں غربت وطنوں کی لاشیں
تیرے کوچے میں مگر سایۂ دیوار نہ تھا
صد گلستاں تہ یک بال تھے اس کے جب تک
طائر جاں قفس تن کا گرفتار نہ تھا
حیف سمجھا ہی نہ وہ قاتل ناداں ورنہ
بے گنہ مارنے قابل یہ گنہگار نہ تھا
عشق کا جذب ہوا باعث سودا ورنہ
یوسف مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا
نرم تر موم سے بھی ہم کو کوئی دیتی قضا
سنگ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا
رات حیران ہوں کچھ چپ ہی مجھے لگ گئی میر
درد پنہاں تھے بہت پر لب اظہار نہ تھا
میر تقی میر

بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا

دیوان اول غزل 108
تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا
بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا
گر ہے یہ بے قراری تو رہ چکا بغل میں
دو روز دل ہمارا مہمان ہے ہمارا
ہیں اس خراب دل سے مشہور شہرخوباں
اس ساری بستی میں گھر ویران ہے ہمارا
مشکل بہت ہے ہم سا پھر کوئی ہاتھ آنا
یوں مارنا تو پیارے آسان ہے ہمارا
ادریس و خضر و عیسیٰ قاتل سے ہم چھڑائے
ان خوں گرفتگاں پر احسان ہے ہمارا
ہم وے ہیں سن رکھو تم مرجائیں رک کے یک جا
کیا کوچہ کوچہ پھرنا عنوان ہے ہمارا
ہیں صید گہ کے میری صیاد کیا نہ دھڑکے
کہتے ہیں صید جو ہے بے جان ہے ہمارا
کرتے ہیں باتیں کس کس ہنگامے کی یہ زاہد
دیوان حشر گویا دیوان ہے ہمارا
خورشید رو کا پرتو آنکھوں میں روز ہے گا
یعنی کہ شرق رویہ دالان ہے ہمارا
ماہیت دوعالم کھاتی پھرے ہے غوطے
یک قطرہ خون یہ دل طوفان ہے ہمارا
نالے میں اپنے ہر شب آتے ہیں ہم بھی پنہاں
غافل تری گلی میں مندان ہے ہمارا
کیا خانداں کا اپنے تجھ سے کہیں تقدس
روح القدس اک ادنیٰ دربان ہے ہمارا
کرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوے
گھر کا مشیر کتنا نادان ہے ہمارا
جی جا نہ آہ ظالم تیرا ہی تو ہے سب کچھ
کس منھ سے پھر کہیں جی قربان ہے ہمارا
بنجر زمین دل کی ہے میر ملک اپنی
پر داغ سینہ مہر فرمان ہے ہمارا
میر تقی میر

کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا

دیوان اول غزل 107
دل جو زیرغبار اکثر تھا
کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا
اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکن
رات دن ہم تھے اور بستر تھا
سرسری تم جہان سے گذرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تم
یہ ہمارا بھی ناز پرور تھا
بعد یک عمر جو ہوا معلوم
دل اس آئینہ رو کا پتھر تھا
بارے سجدہ ادا کیا تہ تیغ
کب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا
کیوں نہ ابر سیہ سفید ہوا
جب تلک عہد دیدئہ تر تھا
اب خرابہ ہوا جہان آباد
ورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا
بے زری کا نہ کر گلہ غافل
رہ تسلی کہ یوں مقدر تھا
اتنے منعم جہان میں گذرے
وقت رحلت کے کس کنے زر تھا
صاحب جاہ و شوکت و اقبال
اک ازاں جملہ اب سکندر تھا
تھی یہ سب کائنات زیر نگیں
ساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا
لعل و یاقوت ہم زر و گوہر
چاہیے جس قدر میسر تھا
آخر کار جب جہاں سے گیا
ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا
عیب طول کلام مت کریو
کیا کروں میں سخن سے خوگر تھا
خوش رہا جب تلک رہا جیتا
میر معلوم ہے قلندر تھا
میر تقی میر

یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا

دیوان اول غزل 106
اس چہرے کی خوبی سے عبث گل کو جتایا
یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا
وہ آئینہ رخسار دم بازپس آیا
جب حس نہ رہا ہم کو تو دیدار دکھایا
کچھ ماہ میں اس میں نہ تفاوت ہوا ظاہر
سو بار نکالا اسے اور اس کو چھپایا
اک عمر مجھے خاک میں ملتے ہوئے گذری
کوچے میں ترے آن کے لوہو میں نہایا
سمجھا تو مجھے مرگ کے نزدیک پس از دیر
رحمت ہے مرے یار بہت دور سے آیا
یہ باغ رہا ہم سے ولے جا نہ سکے ہم
بے بال و پری نے بھی ہمیں خوب اڑایا
میں صید رمیدہ ہوں بیابان جنوں کا
رہتا ہے مرا موجب وحشت مرا سایا
یا قافلہ در قافلہ ان رستوں میں تھے لوگ
یا ایسے گئے یاں سے کہ پھر کھوج نہ پایا
رو میں نے رکھا ہے در ترسا بچگاں پر
رکھیو تو مری شرم بڑھاپے میں خدایا
ٹالا نہیں کچھ مجھ کو پتنگ آج اڑاتے
بہتوں کے تئیں بائو کا رخ ان نے بتایا
ایسے بت بے مہر سے ملتا ہے کوئی بھی
دل میر کو بھاری تھا جو پتھر سے لگایا
میر تقی میر

اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

دیوان اول غزل 105
دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا
اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا
پڑتا نہ تھا بھروسا عہد وفاے گل پر
مرغ چمن نہ سمجھا میں تو ہزار رویا
ہر گل زمین یاں کی رونے ہی کی جگہ تھی
مانند ابر ہر جا میں زار زار رویا
تھی مصلحت کہ رک کر ہجراں میں جان دیجے
دل کھول کر نہ غم میں میں ایک بار رویا
اک عجز عشق اس کا اسباب صد الم تھا
کل میر سے بہت میں ہوکر دوچار رویا
میر تقی میر

یاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا

دیوان اول غزل 104
واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا
یاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا
آیا جو واقعے میں درپیش عالم مرگ
یہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا
دیکھا جو اوس پڑتے گلشن میں ہم تو آخر
گل کا وہ روے خنداں چشم پرآب نکلا
پردے ہی میں چلا جا خورشید تو ہے بہتر
اک حشر ہے جو گھر سے وہ بے حجاب نکلا
کچھ دیر ہی لگی نہ دل کو تو تیر لگتے
اس صید ناتواں کا کیا جی شتاب نکلا
ہر حرف غم نے میرے مجلس کے تیں رلایا
گویا غبار دل کا پڑھتا کتاب نکلا
روے عرق فشاں کو بس پونچھ گرم مت ہو
اس گل میں کیا رہے گا جس کا گلاب نکلا
مطلق نہ اعتنا کی احوال پر ہمارے
نامے کا نامے ہی میں سب پیچ و تاب نکلا
شان تغافل اپنے نوخط کی کیا لکھیں ہم
قاصد موا تب اس کے منھ سے جواب نکلا
کس کی نگہ کی گردش تھی میر رو بہ مسجد
محراب میں سے زاہد مست و خراب نکلا
میر تقی میر

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

دیوان اول غزل 103
چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا
دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا
دہر میں میں خاک بسر ہی رہا
عمر کو اس طور بسر کر گیا
دل نہیں ہے منزل سینہ میں اب
یاں سے وہ بیچارہ سفر کر گیا
حیف جو وہ نسخۂ دل کے اپر
سرسری سی ایک نظر کر گیا
کس کو مرے حال سے تھی آگہی
نالۂ شب سب کو خبر کر گیا
گو نہ چلا تا مژہ تیر نگاہ
اپنے جگر سے تو گذر کر گیا
مجلس آفاق میں پروانہ ساں
میر بھی شام اپنی سحر کر گیا
میر تقی میر

دل کے جانے کا نہایت غم رہا

دیوان اول غزل 102
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
دل کے جانے کا نہایت غم رہا
حسن تھا تیرا بہت عالم فریب
خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا
دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلک
قطرئہ خوں تھا مژہ پر جم رہا
سنتے ہیں لیلیٰ کے خیمے کو سیاہ
اس میں مجنوں کا مگر ماتم رہا
جامۂ احرام زاہد پر نہ جا
تھا حرم میں لیک نامحرم رہا
زلفیں کھولیں تو تو ٹک آیا نظر
عمر بھر یاں کام دل برہم رہا
اس کے لب سے تلخ ہم سنتے رہے
اپنے حق میں آب حیواں سم رہا
میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی
ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا
صبح پیری شام ہونے آئی میر
تو نہ چیتا یاں بہت دن کم رہا
میر تقی میر

ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا

دیوان اول غزل 101
دیر و حرم سے گذرے اب دل ہے گھر ہمارا
ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا
پلکوں سے تیری ہم کو کیا چشم داشت یہ تھی
ان برچھیوں نے بانٹا باہم جگر ہمارا
دنیا و دیں کی جانب میلان ہو تو کہیے
کیا جانیے کہ اس بن دل ہے کدھر ہمارا
ہیں تیرے آئینے کی تمثال ہم نہ پوچھو
اس دشت میں نہیں ہے پیدا اثر ہمارا
جوں صبح اب کہاں ہے طول سخن کی فرصت
قصہ ہی کوئی دم کو ہے مختصر ہمارا
کوچے میں اس کے جاکر بنتا نہیں پھر آنا
خون ایک دن گرے گا اس خاک پر ہمارا
ہے تیرہ روز اپنا لڑکوں کی دوستی سے
اس دن ہی کو کہے تھا اکثر پدر ہمارا
سیلاب ہر طرف سے آئیں گے بادیے میں
جوں ابر روتے ہو گا جس دم گذر ہمارا
نشوونما ہے اپنی جوں گردباد انوکھی
بالیدہ خاک رہ سے ہے یہ شجر ہمارا
یوں دور سے کھڑے ہو کیا معتبر ہے رونا
دامن سے باندھ دامن اے ابرتر ہمارا
جب پاس رات رہنا آتا ہے یاد اس کا
تھمتا نہیں ہے رونا دو دو پہر ہمارا
اس کارواں سرا میں کیا میر بار کھولیں
یاں کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا
میر تقی میر

اک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان رو چکا

دیوان اول غزل 100
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا
اک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان رو چکا
افسوس میرے مردے پر اتنا نہ کر کہ اب
پچھتانا یوں ہی سا ہے جو ہونا تھا ہو چکا
لگتی نہیں پلک سے پلک انتظار میں
آنکھیں اگر یہی ہیں تو بھر نیند سو چکا
یک چشمک پیالہ ہے ساقی بہار عمر
جھپکی لگی کہ دور یہ آخر ہی ہو چکا
ممکن نہیں کہ گل کرے ویسی شگفتگی
اس سرزمیں میں تخم محبت میں بو چکا
پایا نہ دل بہایا ہوا سیل اشک کا
میں پنجۂ مژہ سے سمندر بلو چکا
ہر صبح حادثے سے یہ کہتا ہے آسماں
دے جام خون میر کو گر منھ وہ دھو چکا
میر تقی میر

لے یار مرے سلمہ اللہ تعالیٰ

دیوان اول غزل 99
دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا
لے یار مرے سلمہ اللہ تعالیٰ
کچھ میں نہیں اس دل کی پریشانی کا باعث
برہم ہی مرے ہاتھ لگا تھا یہ رسالا
معمور شرابوں سے کبابوں سے ہے سب دیر
مسجد میں ہے کیا شیخ پیالہ نہ نوالا
گذرے ہے لہو واں سر ہر خار سے اب تک
جس دشت میں پھوٹا ہے مرے پائوں کا چھالا
گر قصد ادھر کا ہے تو ٹک دیکھ کے آنا
یہ دیر ہے زہاد نہ ہو خانۂ خالا
جس گھر میں ترے جلوے سے ہو چاندنی کا فرش
واں چادر مہتاب ہے مکڑی کا سا جالا
دشمن نہ کدورت سے مرے سامنے ہو جو
تلوار کے لڑنے کو مرے کیجو حوالا
ناموس مجھے صافی طینت کی ہے ورنہ
رستم نے مری تیغ کا حملہ نہ سنبھالا
دیکھے ہے مجھے دیدۂ پرخشم سے وہ میر
میرے ہی نصیبوں میں تھا یہ زہر کا پیالا
میر تقی میر

ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا

دیوان اول غزل 98
کب تلک یہ ستم اٹھایئے گا
ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا
شکل تصویر بے خودی کب تک
کسو دن آپ میں بھی آیئے گا
سب سے مل چل کہ حادثے سے پھر
کہیں ڈھونڈا بھی تو نہ پایئے گا
نہ موئے ہم اسیری میں تو نسیم
کوئی دن اور بائو کھایئے گا
کہیے گا اس سے قصۂ مجنوں
یعنی پردے میں غم سنایئے گا
اس کے پابوس کی توقع پر
اپنے تیں خاک میں ملایئے گا
اس کے پائوں کو جا لگی ہے حنا
خوب سے ہاتھ اسے لگایئے گا
شرکت شیخ و برہمن سے میر
کعبہ و دیر سے بھی جایئے گا
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجد
کسی ویرانے میں بنایئے گا
میر تقی میر

قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا

دیوان اول غزل 97
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
آوے جو مصطبے میں تو سن لو کہ راہ سے
واعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا
نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش
آیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا
میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا
رویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا
احوال اس شکار زبوں کا ہے جاے رحم
جس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا
منھ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے
شب ہم کو میر پرتو مہتاب لے گیا
میر تقی میر

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

دیوان اول غزل 96
پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا
نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا
اس آئینے کے مانند زنگار جس کو کھاوے
کام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا
جوں نقش پا ہے غربت حیران کار اس کی
آوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا
لبریز شکوہ تھے ہم لیکن حضور تیرے
کار شکایت اپنا گفتار تک نہ پہنچا
لے چشم نم رسیدہ پانی چوانے کوئی
وقت اخیر اس کے بیمار تک نہ پہنچا
یہ بخت سبز دیکھو باغ زمانہ میں سے
پژمردہ گل بھی اپنی دستار تک نہ پہنچا
مستوری خوبروئی دونوں نہ جمع ہوویں
خوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا
یوسف سے لے کے تاگل پھر گل سے لے کے تا شمع
یہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا
افسوس میر وے جو ہونے شہید آئے
پھر کام ان کا اس کی تلوار تک نہ پہنچا
میر تقی میر

شام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یک جا نہ تھا

دیوان اول غزل 95
کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا
شام سے تا صبح دم بالیں پہ سر یک جا نہ تھا
شہرئہ عالم اسے یمن محبت نے کیا
ورنہ مجنوں ایک خاک افتادئہ ویرانہ تھا
منزل اس مہ کی رہا جو مدتوں اے ہم نشیں
اب وہ دل گویا کہ اک مدت کا ماتم خانہ تھا
اک نگاہ آشنا کو بھی وفا کرتا نہیں
وا ہوئیں مژگاں کہ سبزہ سبزئہ بیگانہ تھا
روز و شب گذرے ہے پیچ و تاب میں رہتے تجھے
اے دل صد چاک کس کی زلف کا تو شانہ تھا
یاد ایامے کہ اپنے روز و شب کی جاے باش
یا در باز بیاباں یا در میخانہ تھا
جس کو دیکھا ہم نے اس وحشت کدے میں دہر کے
یا سڑی یا خبطی یا مجنون یا دیوانہ تھا
بعد خوں ریزی کے مدت بے حنا رنگیں رہا
ہاتھ اس کا جو مرے لوہو میں گستاخانہ تھا
غیر کے کہنے سے مارا ان نے ہم کو بے گناہ
یہ نہ سمجھا وہ کہ واقع میں بھی کچھ تھا یا نہ تھا
صبح ہوتے وہ بناگوش آج یاد آیا مجھے
جو گرا دامن پہ آنسو گوہر یک دانہ تھا
شب فروغ بزم کا باعث ہوا تھا حسن دوست
شمع کا جلوہ غبار دیدئہ پروانہ تھا
رات اس کی چشم میگوں خواب میں دیکھی تھی میں
صبح سوتے سے اٹھا تو سامنے پیمانہ تھا
رحم کچھ پیدا کیا شاید کہ اس بے رحم نے
گوش اس کا شب ادھر تا آخر افسانہ تھا
میر بھی کیا مست طافح تھا شراب عشق کا
لب پہ عاشق کے ہمیشہ نعرئہ مستانہ تھا
میر تقی میر

ستم شریک ترا ناز ہے زمانے کا

دیوان اول غزل 94
فلک کا منھ نہیں اس فتنے کے اٹھانے کا
ستم شریک ترا ناز ہے زمانے کا
ہمارے ضعف کی حالت سے دل قوی رکھیو
کہیں خیال نہیں یاں بحال آنے کا
تری ہی راہ میں مارے گئے سبھی آخر
سفر تو ہم کو ہے درپیش جی سے جانے کا
بسان شمع جو مجلس سے ہم گئے تو گئے
سراغ کیجو نہ پھر تو نشان پانے کا
چمن میں دیکھ نہیں سکتی ٹک کہ چبھتا ہے
جگر میں برق کے کانٹا مجھ آشیانے کا
ٹک آ تو تا سر بالیں نہ کر تعلل کیا
تجھے بھی شوخ یہی وقت ہے بہانے کا
سراہا ان نے ترا ہاتھ جن نے دیکھا زخم
شہید ہوں میں تری تیغ کے لگانے کا
شریف مکہ رہا ہے تمام عمر اے شیخ
یہ میر اب جو گدا ہے شراب خانے کا
میر تقی میر

دل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا

دیوان اول غزل 93
میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا
دل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا
پند گویوں نے بہت سینے کی تدبیریں لیں
آہ ثابت بھی نہ نکلا یہ گریباں یک جا
تیرا کوچہ ہے ستمگار وہ کافر جاگہ
کہ جہاں مارے گئے کتنے مسلماں یک جا
سر سے باندھا ہے کفن عشق میں تیرے یعنی
جمع ہم نے بھی کیا ہے سر و ساماں یک جا
کیونکے پڑتے ہیں ترے پائوں نسیم سحری
اس کے کوچے میں ہے صد گنج شہیداں یک جا
تو بھی رونے کو ملا دل ہے ہمارا بھی بھرا
ہوجے اے ابر بیابان میں گریاں یک جا
بیٹھ کر میر جہاں خوب نہ رویا ہووے
ایسی کوچے میں نہیں ہے ترے جاناں یک جا
میر تقی میر

روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا

دیوان اول غزل 92
ہے حال جاے گریہ جان پرآرزو کا
روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا
جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونت
اب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا
اس آستاں سے کس دن پرشور سر نہ پٹکا
اس کی گلی میں جاکر کس رات میں نہ کوکا
شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاں
کچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا
اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کرلوں
تب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا
دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی
پھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا
یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے
ہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا
بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا
گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سے
مت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا
وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں
دینا نہ تھا دل اس کو میں میر آہ چوکا
میر تقی میر

اس روے دل فروز کا سب میں ظہور تھا

دیوان اول غزل 91
پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا
اس روے دل فروز کا سب میں ظہور تھا
کیا کیا عزیز خلع بدن ہائے کر گئے
تشریف تم کو یاں تئیں لانا ضرور تھا
کیونکر تو میری آنکھ سے ہو دل تلک گیا
یہ بحر موج خیز تو عسرالعبور تھا
شاید نشے میں اس سے یہ سفاکیاں ہوئیں
زخمی جو اس کے ہاتھ کا نکلا سو چور تھا
جیتے جی پاس ہوکے نہ نکلا کسو کے میر
وہ دور گرد بادیۂ عشق دور تھا
میر تقی میر

پر مطلقاً کہیں ہم اس کا نشاں نہ پایا

دیوان اول غزل 90
یاں نام یار کس کا ورد زباں نہ پایا
پر مطلقاً کہیں ہم اس کا نشاں نہ پایا
وضع کشیدہ اس کی رکھتی ہے داغ سب کو
نیوتا کسو سے ہم وہ ابرو کماں نہ پایا
پایا نہ یوں کہ کریے اس کی طرف اشارت
یوں تو جہاں میں ہم نے اس کو کہاں نہ پایا
یہ دل کہ خون ہووے برجا نہ تھا وگرنہ
وہ کون سی جگہ تھی اس کو جہاں نہ پایا
فتنے کی گرچہ باعث آفاق میں وہی تھی
لیکن کمر کو اس کی ہم درمیاں نہ پایا
محروم سجدہ آخر جانا پڑا جہاں سے
جوش جباہ سے ہم وہ آستاں نہ پایا
ایسی ہے میر کی بھی مدت سے رونی صورت
چہرے پہ اس کے کس دن آنسو رواں نہ پایا
میر تقی میر

مآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہو گا

دیوان اول غزل 89
بھلا ہو گا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہو گا
مآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہو گا
تفحص فائدہ ناصح تدارک تجھ سے کیا ہو گا
وہی پاوے گا میرا درد دل جس کا لگا ہو گا
کسو کو شوق یارب بیش اس سے اور کیا ہو گا
قلم ہاتھ آگئی ہو گی تو سو سو خط لکھا ہو گا
دکانیں حسن کی آگے ترے تختہ ہوئی ہوں گی
جو تو بازار میں ہو گا تو یوسف کب بکا ہو گا
معیشت ہم فقیروں کی سی اخوان زماں سے کر
کوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہو گا
خیال اس بے وفا کا ہم نشیں اتنا نہیں اچھا
گماں رکھتے تھے ہم بھی یہ کہ ہم سے آشنا ہو گا
قیامت کرکے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقت
وہ اس کوچے میں اک آشوب سا شاید ہوا ہو گا
عجب کیا ہے ہلاک عشق میں فرہاد و مجنوں کے
محبت روگ ہے کوئی کہ کم اس سے جیا ہو گا
نہ ہو کیوں غیرت گلزار وہ کوچہ خدا جانے
لہو اس خاک پر کن کن عزیزوں کا گرا ہو گا
بہت ہمسائے اس گلشن کے زنجیری رہا ہوں میں
کبھو تم نے بھی میرا شور نالوں کا سنا ہو گا
نہیں جز عرش جاگہ راہ میں لینے کو دم اس کے
قفس سے تن کے مرغ روح میرا جب رہا ہو گا
کہیں ہیں میر کو مارا گیا شب اس کے کوچے میں
کہیں وحشت میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہو گا
میر تقی میر

دس دن جو ہے یہ مہلت سو یاں دہا رہے گا

دیوان اول غزل 88
ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا
دس دن جو ہے یہ مہلت سو یاں دہا رہے گا
برقع اٹھے پہ اس کے ہو گا جہان روشن
خورشید کا نکلنا کیونکر چھپا رہے گا
اک وہم سی رہی ہے اپنی نمود تن میں
آتے ہو اب تو آئو پھر ہم میں کیا رہے گا
مذکور یار ہم سے مت ہم نشیں کیا کر
دل جو بجا نہیں ہے پھر اس میں جا رہے گا
اس گل بغیر جیسے ابر بہار عاشق
نالاں جدا رہے گا روتا جدا رہے گا
دانستہ ہے تغافل غم کہنا اس سے حاصل
تم درد دل کہو گے وہ سر جھکا رہے گا
اب جھمکی اس کی تم نے دیکھی کبھو جو یارو
برسوں تلک اسی میں پھر دل سدا رہے گا
کس کس کو میر ان نے کہہ کر دیا ہے بوسہ
وہ ایک ہے مفتن یوں ہی چُما رہے گا
میر تقی میر

ٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا

دیوان اول غزل 87
ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا
ٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا
سبزان تازہ رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی
اب دیکھیے تو واں نہیں سایہ درخت کا
جوں برگ ہاے لالہ پریشان ہو گیا
مذکور کیا ہے اب جگر لخت لخت کا
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انھیں
تھا کل تلک دماغ جنھیں تاج و تخت کا
خاک سیہ سے میں جو برابر ہوا ہوں میر
سایہ پڑا ہے مجھ پہ کسو تیرہ بخت کا
میر تقی میر