زمرہ جات کے محفوظات: غزل

خلل سا ہے دماغ آسماں میں

دیوان سوم غزل 1186
نئی گردش ہے اس کی ہر زماں میں
خلل سا ہے دماغ آسماں میں
ہوا تن ضعف سے ایسا کہے تو
کہ اب جی ہی نہیں اس ناتواں میں
کہا میں درد دل یا آگ اگلی
پھپھولے پڑ گئے میری زباں میں
متاع حسن یوسفؑ سی کہاں اب
تجسس کرتے ہیں ہر کارواں میں
بلاے جاں ہے وہ لڑکا پری زاد
اسی کا شور ہے پیر و جواں میں
بہت ناآشنا تھے لوگ یاں کے
چلے ہم چار دن رہ کر جہاں میں
تری شورش بھی بے کل ہے مگر میر
ملا دے پیس کر بجلی فغاں میں
میر تقی میر

ساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں

دیوان سوم غزل 1185
رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں
ساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں
شمع ہی سر نہ دے گئی برباد
کشتہ اپنی زباں کے ہم بھی ہیں
ہم کو مجنوں کو عشق میں مت بوجھ
ننگ اس خانداں کے ہم بھی ہیں
جس چمن زار کا ہے تو گل تر
بلبل اس گلستاں کے ہم بھی ہیں
نہیں مجنوں سے دل قوی لیکن
یار اس ناتواں کے ہم بھی ہیں
بوسہ مت دے کسو کے در پہ نسیم
خاک اس آستاں کے ہم بھی ہیں
گو شب اس در سے دور پہروں پھریں
پاس تو پاسباں کے ہم بھی ہیں
وجہ بیگانگی نہیں معلوم
تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں
مر گئے مر گئے نہیں تو نہیں
خاک سے منھ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں
اپنا شیوہ نہیں کجی یوں تو
یار جی ٹیڑھے بانکے ہم بھی ہیں
اس سرے کی ہے پارسائی میر
معتقد اس جواں کے ہم بھی ہیں
میر تقی میر

ایدھر سے ہیں دعائیں اودھر سے گالیاں ہیں

دیوان سوم غزل 1184
درویشوں سے تو ان نے ضدیں نکالیاں ہیں
ایدھر سے ہیں دعائیں اودھر سے گالیاں ہیں
جبہے سے سینہ تک ہیں کیا کیا خراش ناخن
گویا کہ ہم نے منھ پر تلواریں کھالیاں ہیں
جب لگ گئے جھمکنے رخسار یار دونوں
تب مہر و مہ نے اپنی آنکھیں چھپالیاں ہیں
صبح چمن کا جلوہ ہندی بتوں میں دیکھا
صندل بھری جبیں ہیں ہونٹوں کی لالیاں ہیں
درد و الم ہی میں سب جاتے ہیں روز و شب یاں
دن اشک ریزیاں ہیں شب زار نالیاں ہیں
حیزوں نے ریختے کو ووں ریختی بنایا
جوں ان دنوں میں بالے لڑکوں کی بالیاں ہیں
اجماع بوالہوس کو رکھ رکھ لیا ہے آگے
مت جان ایسی بھیڑیں جی دینے والیاں ہیں
ان گل رخوں کی قامت لہکے ہے یوں ہوا میں
جس رنگ سے لچکتی پھولوں کی ڈالیاں ہیں
وہ دزد دل نہیں تو کیوں دیکھتے ہی مجھ کو
پلکیں جھکالیاں ہیں آنکھیں چرا لیاں ہیں
اس آفتاب بن یاں اندھیر ہورہا ہے
دن بھی سیاہ اپنے جوں راتیں کالیاں ہیں
چلتے ہیں یہ تو ٹھوکر لگتی ہے میر دل کو
چالیں ہی دلبروں کی سب سے نرالیاں ہیں
میر تقی میر

سو غزل پڑھتے پھرے ہیں لوگ فیض آباد میں

دیوان سوم غزل 1183
شعر کچھ میں نے کہے بالوں کی اس کے یاد میں
سو غزل پڑھتے پھرے ہیں لوگ فیض آباد میں
سرخ آنکھیں خشم سے کیں ان نے مجھ پر صبح کو
دیکھی یہ تاثیر شب کی خوں چکاں فریاد میں
یہ تصرف عشق کا ہے سب وگرنہ ظرف کیا
ایک عالم غم سمایا خاطر ناشاد میں
عشق کی دیوانگی لائی ہمیں جنگل کی اور
ورنہ ہم پھرتے بگولے سے نہ خاک و باد میں
دیر لگتا ہے گلے تلوار پر وہ رکھ کے ہاتھ
خوبیاں بھی تو بہت ہیں اس ستم ایجاد میں
یہ بنا رہتی سی آتی ہے نظر کچھ یاں مجھے
اچھی ہے تعمیر دل کی اس خراب آباد میں
میر ہم جبہہ خراشوں سے کسو کا ذکر کیا
وے ہنر ہم میں ہیں جو تھے تیشۂ فرہاد میں
میر تقی میر

کرے ہے آپھی شکایت کہ ہم گلہ نہ کریں

دیوان سوم غزل 1182
کبھو ملے ہے سو وہ یوں کہ پھر ملا نہ کریں
کرے ہے آپھی شکایت کہ ہم گلہ نہ کریں
ہوئی یہ چاہ میں مشکل کہ جی گیا ہوتا
نہ رہتے جیتے اگر ہم مساہلہ نہ کریں
ہمارے حرف پریشاں ہی لطف رکھتے ہیں
جنوں ہے بحث جو وحشت میں عاقلانہ کریں
صفاے دل جو ہوئی ٹک تو دیکھیں ہیں کیا کیا
ہم ایسے آئینے کو اپنے کیوں جلا نہ کریں
وبال میں نہ گرفتار ہوں کہیں مہ و مہر
خدا کرے ترے رخ سے مقابلہ نہ کریں
دل اب تو ہم سے ہے بدباز اگر رہے جیتے
کسو سے ہم بھی ولے پھر معاملہ نہ کریں
سخن کے ملک کا میں مستقل امیر ہوں میر
ہزار مدعی بھی مجھ کو دہ دلا نہ کریں
میر تقی میر

خفت کھینچ کے جاتا ہوں رہتا نہیں دل پھر آتا ہوں

دیوان سوم غزل 1181
ظلم و ستم کیا جور و جفا کیا جو کچھ کہیے اٹھاتا ہوں
خفت کھینچ کے جاتا ہوں رہتا نہیں دل پھر آتا ہوں
گھر سے اٹھ کر لڑکوں میں بیٹھا بیت پڑھی دو باتیں کیں
کس کس طور سے اپنے دل کو اس بن میں بہلاتا ہوں
ہائے سبک ہونا یہ میرا فرط شوق سے مجلس میں
وہ تو نہیں سنتا دل دے کر میں ہی باتیں بناتا ہوں
قتل میں میرے یہ صحبت ہے غم غصے سے محبت کے
لوہو اپنا پیتا ہوں تلواریں اس کی کھاتا ہوں
آنے کی میری فرصت کتنی دو دم دو پل ایک گھڑی
رنجش کیوں کا ہے کو خشونت غصہ کیا ہے جاتا ہوں
سرماروں ہوں ایدھر اودھر دور تلک جاتا ہوں نکل
پاس نہیں پاتا جو اس کو کیا کیا میں گھبراتا ہوں
پھاڑ کے خط کو گلے میں ڈالا شہر میں سب تشہیر کیا
سامنے ہوں قاصد کے کیونکر اس سے میں شرماتا ہوں
پہلے فریب لطف سے اس کے کچھ نہ ہوا معلوم مجھے
اب جو چاہ نے بدلیں طرحیں کڑھتا ہوں پچھتاتا ہوں
مجرم اس خاطر ہوتا ہوں میں بعضی بعضی شوخی کر
عذر گناہ میں جاکر اس کے پائوں کو ہاتھ لگاتا ہوں
دیکھے ان پلکوں کے اکثر میر ہوں بے خود تنگ آیا
آپ کو پاتا ہوں تو چھری اس وقت نہیں میں پاتا ہوں
میر تقی میر

مریں بھی ہم تو نہ دیکھیں مروت ان کو نہیں

دیوان سوم غزل 1180
کہاں کے لوگ ہیں خوباں محبت ان کو نہیں
مریں بھی ہم تو نہ دیکھیں مروت ان کو نہیں
خراب و خوار ہے سلطاں شکستہ حال امیر
کسو فقیر سے شاید کہ صحبت ان کو نہیں
ہمارے دیدہ و دل سے ہی ہم پہ کام ہے تنگ
کہ رونے کڑھنے سے یک لحظہ فرصت ان کو نہیں
پری و سرو کو دعویٰ ہے اس رخ و قد سے
شکایت اس سے نہیں آدمیت ان کو نہیں
چلا ہے تیغ بکف یار غیر کی جانب
ہوئے ہیں میر تماشائی غیرت ان کو نہیں
میر تقی میر

یار بن لگتا نہیں جی کاشکے ہم مر رہیں

دیوان سوم غزل 1179
جائیں تو جائیں کہاں جو گھر رہیں کیا گھر رہیں
یار بن لگتا نہیں جی کاشکے ہم مر رہیں
دل جو اکتاتا ہے یارب رہ نہیں سکتے کہیں
کیا کریں جاویں کہاں گھر میں رہیں باہر رہیں
وہ نہیں جو تیغ سے اس کی گلا کٹوائیے
تنگ آئے ہیں بہت اب آپھی جوہو کر رہیں
بے دماغی بے قراری بے کسی بے طاقتی
کیا جیے وہ جس کے جی کو روگ یہ اکثر رہیں
مضطرب ہو ایک دو دم تو تدارک بھی ہو کچھ
متصل تڑپے ہے کب تک ہاتھ لے دل پر رہیں
زندگی دوبھر ہوئی ہے میر آخر تاکجا
دل جگر جلتے رہیں آنکھیں ہماری تر رہیں
میر تقی میر

جائیں یاں سے جو ہم اداس کہیں

دیوان سوم غزل 1178
جمع ہوتے نہیں حواس کہیں
جائیں یاں سے جو ہم اداس کہیں
دل کی دو اشک سے نہ نکلی بھڑاس
اوسوں بجھتی نہیں ہے پیاس کہیں
بائو خوشبو ہے آئی ہے واں سے
کوئی چھپتی ہے گل کی باس کہیں
اس جنوں میں کہیں ہے سر پر خاک
ٹکڑے ہو کر گرا لباس کہیں
گرد سر یار کے پھریں پہروں
ہم جو ہوں اس کے آس پاس کہیں
سب جگہ لوگ حق و ناحق پر
نہ ملا حیف حق شناس کہیں
ہر طرف ہیں امیدوار یار
اس سے کوئی نہیں نراس کہیں
عشق کا محو دشت شیریں ہوں
جان کا بھی نہیں ہراس کہیں
عرش تک تو خیال پہنچے میر
وہم پھر ہے کہیں قیاس کہیں
میر تقی میر

سوز و درد و داغ و الم سب جی کو گھیرے پھرتے ہیں

دیوان سوم غزل 1177
عشق نے خوار و ذلیل کیا ہم سر کو بکھیرے پھرتے ہیں
سوز و درد و داغ و الم سب جی کو گھیرے پھرتے ہیں
ہر شب ہوں سرگشتہ و نالاں اس بن کوچہ و برزن میں
یاس نہیں ہے اب بھی دیکھوں کب دن میرے پھرتے ہیں
دل لشکر میں ایک سپاہی زادے نے ہم سے چھین لیا
ہم درویش طلب میں اس کی ڈیرے ڈیرے پھرتے ہیں
بے خود اس کی زلف و رخ کے کاہے کو آپ میں پھر آئے
ہم کہتے ہیں تسلی دل کو سانجھ سویرے پھرتے ہیں
نقش کسو کا درون سینہ گرم طلب ہیں ویسے رنگ
جیسی خیالی پاس لیے تصویر چتیرے پھرتے ہیں
برسے اگر شمشیر سروں پر منھ موڑیں زنہار نہیں
سیدھے جانے والے ادھر کے کس کے پھیرے پھرتے ہیں
پاے نگار آلودہ کہیں سانجھ کو میر نے دیکھے تھے
صبح تک اب بھی آنکھوں میں اس کی پائوں تیرے پھرتے ہیں
میر تقی میر

غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں

دیوان سوم غزل 1176
رو چکا خون جگر سب اب جگر میں خوں کہاں
غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں
دست و دامن جیب و آغوش اپنے اس لائق نہ تھے
پھول میں اس باغ خوبی سے جو لوں تو لوں کہاں
عاشق و معشوق یاں آخر فسانے ہو گئے
جاے گریہ ہے جہاں لیلیٰ کہاں مجنوں کہاں
آگ برسی تیرہ عالم ہو گیا جادو سے پر
اس کی چشم پرفسوں کے سامنے افسوں کہاں
سیر کی رنگیں بیاض باغ کی ہم نے بہت
سرو کا مصرع کہاں وہ قامت موزوں کہاں
کوچہ ہر یک جاے دلکش عالم خاکی میں ہے
پر کہیں لگتا نہیں جی ہائے میں دل دوں کہاں
ایک دم سے قیس کے جنگل بھرا رہتا تھا کیا
اب گئے پر اس کے ویسی رونق ہاموں کہاں
ناصح مشفق تو کہتا تھا کہ اس سے مت ملے
پر سمجھتا ہے ہمارا یہ دل محزوں کہاں
بائو کے گھوڑے پہ تھے اس باغ کے ساکن سوار
اب کہاں فرہاد و شیریں خسرو گلگوں کہاں
کھا گیا اندوہ مجھ کو دوستان رفتہ کا
ڈھونڈتا ہے جی بہت پر اب انھیں پائوں کہاں
تھا وہ فتنہ ملنے کی گوں کب کسی درویش کے
کیا کہیں ہم میر صاحب سے ہوئے مفتوں کہاں
میر تقی میر

الگ بیٹھا حنا بندوں کو آنکھوں میں رچائوں میں

دیوان سوم غزل 1175
کہے تو ہم نشیں رنگ تصرف کچھ دکھائوں میں
الگ بیٹھا حنا بندوں کو آنکھوں میں رچائوں میں
نہیں ہوں بے ادب اتنا کہ گل سے منھ لگائوں میں
جگر ہو ٹکڑے ٹکڑے گر چمن کی اور جائوں میں
کیا ہے اضطراب دل نے کیا مجھ کو سبک آخر
کہاں تک یار کے کوچے سے جا جاکر پھر آئوں میں
وفا صد کارواں رکھتا ہوں لیکن شہر خوبی میں
خریداری نہیں مطلق کہاں جاکر بکائوں میں
مجھے سر در گریباں رہنے دو میں بے توقع ہوں
کسو پتھر سے پٹکوں ہوں ابھی سر جو اٹھائوں میں
بلا حسرت ہے یارب کام دل کیونکر کروں حاصل
مگر لب ہاے شیریں پر کسو کے زہر کھائوں میں
نہ روئوں حال پر کیونکر بلا ناآشنا ہے وہ
کہیں آنکھ اس کی ملتی ہے جو آنکھیں ٹک ملائوں میں
نہ اے رشک بہار آنکھیں اٹھاوے پشت پا سے تو
ہتھیلی پر اگر سرسوں ترے آگے جمائوں میں
کہوں کیا صحبت اس سے ہر گھڑی بگڑی ہی جاتی ہے
جو ٹک راہ سخن نکلے تو سو باتیں بنائوں میں
نگاہ حسرت بت دیر سے جانے کی مانع ہے
مزاج اپنا بہت چاہا کہ سوے کعبہ لائوں میں
اسیر زلف کو اس بت کے کیا قیدمسلمانی
تمنا ہے گلا زنار سے اپنا بندھائوں میں
کہوں ہوں میر سے دل دے کہیں تا جی لگے تیرا
جو ہو نقصان جاں اس کا تو کیونکر پھر منائوں میں
میر تقی میر

دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں

دیوان سوم غزل 1174
ٹھنڈی سانسیں بھریں ہیں جلتے ہیں کیا تاب میں ہیں
دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں
ساتھ اپنے نہیں اسباب مساعد مطلق
ہم بھی کہنے کے تئیں عالم اسباب میں ہیں
غفلت دل سے ستم گذریں ہیں سو مت پوچھو
قافلے چلنے کو تیار ہیں ہم خواب میں ہیں
عشق کے ہیں گے جو سرگشتہ پڑے ہیں ڈوبے
کشتیاں نکلیں سو کیا آن کے گرداب میں ہیں
دور کیا اس سے جو بیٹھے ہے غبار اپنا دور
پاس اس طور کے بھی عشق کے آداب میں ہیں
ہے فروغ مہ تاباں سے فراغ کلی
دل جلے پرتو رخ سے ترے مہتاب میں ہیں
ہم بھی اس شہر میں ان لوگوں سے ہیں خانہ خراب
میر گھر بار جنھوں کے رہ سیلاب میں ہیں
میر تقی میر

ان بدمزاجیوں کو چھوڑوگے بھی کبھو تم

دیوان سوم غزل 1173
ہر ہر سخن پہ اب تو کرتے ہو گفتگو تم
ان بدمزاجیوں کو چھوڑوگے بھی کبھو تم
یاں آپھی آپ آکر گم آپ میں ہوئے ہو
پیدا نہیں کہ کس کی کرتے ہو جستجو تم
چاہیں تو تم کو چاہیں دیکھیں تو تم کو دیکھیں
خواہش دلوں کی تم ہو آنکھوں کی آرزو تم
حیرت زدہ کسو کی یہ آنکھ سی لگے ہے
مت بیٹھو آرسی کے ہر لحظہ روبرو تم
تھے تم بھبھوکے سے تو پر اب جلا ہی دوہو
سوزندہ آگ کی کیا سیکھے ہو ساری خو تم
نسبت تو ہم دگر ہے گو دور کی ہو نسبت
ہم ہیں نواے بلبل ہو گل کے رنگ و بو تم
دیکھ اشک سرخ بولا یہ رنگ اور لائے
ہیں میر منھ پہ آنسو یا روتے ہو لہو تم
میر تقی میر

اک مشت استخواں ہیں پر اپنے بار ہیں ہم

دیوان سوم غزل 1172
بیماری دلی سے زار و نزار ہیں ہم
اک مشت استخواں ہیں پر اپنے بار ہیں ہم
مارا تڑپتے چھوڑا فتراک سے نہ باندھا
بے چشم و رو کسو کے شاید شکار ہیں ہم
ہر دم جبیں خراشی ہر آن سینہ کاوی
حیران عشق تو ہیں پر گرم کار ہیں ہم
حور و قصور و غلماں نہر و نعیم وجنت
یہ کلہم جہنم مشتاق یار ہیں ہم
بے حد و حصر گردش اپنی ہے عاشقی میں
رسواے شہر و دیہ، و دشت و دیار ہیں ہم
اب سیل سیل آنسو آتے ہیں چشم تر سے
دیوار و در سے کہہ دو بے اختیار ہیں ہم
روتے ہیں یوں کہ جیسے شدت سے ابر برسے
کیا جانیے کہ کیسے دل کے بخار ہیں ہم
اب تو گلے بندھا ہے زنجیر و طوق ہونا
عشق و جنوں کے اپنے ناموس دار ہیں ہم
لیتا ہے میر عبرت جو کوئی دیکھتا ہے
کیا یار کی گلی میں بے اعتبار ہیں ہم
میر تقی میر

کچھ ہورہے ہیں غم میں ترے نیم جاں سے ہم

دیوان سوم غزل 1171
آ ٹک شتاب جاتے ہیں ورنہ جہاں سے ہم
کچھ ہورہے ہیں غم میں ترے نیم جاں سے ہم
ہر بات کے جواب میں گالی کہاں تلک
اب جاں بہ لب ہوئے ہیں تمھاری زباں سے ہم
وعدہ کرو تو سوچ لو مدت کو دل میں بھی
یہ حال ہے تو دیر رہیں گے کہاں سے ہم
الجھائو دل کا جس سے ہے جھنجھلاکے اس بغیر
جھگڑا کیا کریں ہیں زمین آسماں سے ہم
لاویں ہماری خاک پر اس کینہ ور کو بھی
یہ کہہ مریں گے اپنے ہر اک مہرباں سے ہم
دربان سنگدل نے خبر واں تلک نہ کی
سر مار مار صبح کی اس آستاں سے ہم
جب اس کی تیغ رکھنے لگا اپنے پاس میر
امید قطع کی تھی تبھی اس جواں سے ہم
میر تقی میر

ہے بے خبری اس کو خبردار رہو تم

دیوان سوم غزل 1170
میر آج وہ بدمست ہے ہشیار رہو تم
ہے بے خبری اس کو خبردار رہو تم
جی جائے کسی کا کہ رہے تم کو قسم ہے
مقدور تلک درپئے آزار رہو تم
وہ محو جمال اپنی ہی پروا نہیں اس کو
خواہاں رہو تم اب کہ طلب گار رہو تم
اس معنی کے ادراک سے حیرت ہی ہے حاصل
آئینہ نمط صورت دیوار رہو تم
یک بار ہوا دل کی تسلی کا وہ باعث
یہ کیا کہ اسی طور پہ ہر بار رہو تم
ہو لطف اسی کا تو کوئی کام کو پہنچے
تسبیح گلے ڈال کے زنار رہو تم
کیا میر بری چال سے جینے کی چلے ہے
بہتر ہے کہ اپنے تئیں اب مار رہو تم
میر تقی میر

بلا پر چلے آئے ہر ہر قدم

دیوان سوم غزل 1169
گئے عشق کی راہ سر کر قدم
بلا پر چلے آئے ہر ہر قدم
عجب راہ پرخوف و مشکل گذر
اٹھایا گیا ہم سے مر مر قدم
بہت مستی عشق پالغز تھی
خدا جانے پڑتا تھا کیدھر قدم
ہوا ہو گا خالی بدن جاں سے جب
چلے ہوں گے یہ راہ جو بھر قدم
وہ عیار یوں چشم تر سے گیا
کہ ہرگز نہ اس کا ہوا تر قدم
جگر کو ہے ان سر سے گذروں کے عشق
گئے جو ہمارے قدم بر قدم
جو کچھ آوے سالک کے آگے ہے خیر
رکھا ہم نے اب گھر سے باہر قدم
ہمیں سرکشی سربلندی سے کیا
رہے ضعف میں ہم تو سر در قدم
کہیں کیا کف پا میں میر آبلے
چلیں ہم سروں پر مگر دھر قدم
میر تقی میر

تو یہی آج کل سدھارے ہم

دیوان سوم غزل 1168
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
تو یہی آج کل سدھارے ہم
مرتے رہتے تھے اس پہ یوں پر اب
جا لگے گور کے کنارے ہم
دن گذرتا ہے دم شماری میں
شب کو رہتے ہیں گنتے تارے ہم
ہے مروت سے اپنی وحشت دور
انس رکھتے ہیں تم سے پیارے ہم
زندگی بار دوش آج ہے یاں
دیکھیں گے کل جو ہوں گے بارے ہم
جا چکی بازی یعنی مرتے ہیں
جیتے تم یہ قمار ہارے ہم
میر آئوگے آپ میں بھی کبھو
سخت مشتاق ہیں تمھارے ہم
میر تقی میر

واقف نہیں ہواے چمن سے اسیر ہم

دیوان سوم غزل 1167
سرزیر پر ہیں دیر سے اے ہم صفیر ہم
واقف نہیں ہواے چمن سے اسیر ہم
کیا ظلم تھے لباس میں اس تنگ پوش کے
دل تنگی سے نکل گئے ہو کر فقیر ہم
دیکھ اس کو راہ جاتے تو بے حال ہو گئے
اب دیکھیے بحال کب آتے ہیں میر ہم
میر تقی میر

پر تنگ آگئے ہیں تمھارے ستم سے ہم

دیوان سوم غزل 1166
جی کے تئیں چھپاتے نہیں یوں تو غم سے ہم
پر تنگ آگئے ہیں تمھارے ستم سے ہم
اپنے خیال ہی میں گذرتی ہے اپنی عمر
پر کچھ نہ پوچھو سمجھے نہیں جاتے ہم سے ہم
زانو پہ سر ہے قامت خم گشتہ کے سبب
پیری میں اپنی آن لگے ہیں قدم سے ہم
جوں چکمہ میرحاج کا ہے خوار جانماز
بت خانے میں جو آئے ہیں چل کر حرم سے ہم
روتے بھی ان نے دیکھ کے ہم کو کیا نہ رحم
اک چشم داشت رکھتے تھے مژگان نم سے ہم
بدعہدیاں ہی کرتے گئے اس کو سال و ماہ
اب کب تسلی ہوتے ہیں قول و قسم سے ہم
زنار سا بندھا ہے گلے اپنے اب تو کفر
بدنام ہیں جہان میں عشق صنم سے ہم
لوگوں کے وصف کرنے سے بالیدگی ہوئی
جوں شیشہ پھیل پھوٹ پڑے ان کے دم سے ہم
طرفیں رکھے ہے ایک سخن چار چار میر
کیا کیا کہا کریں ہیں زبان قلم سے ہم
میر تقی میر

ترا اے برق خاطف اس طرف گرنا ہے لاحاصل

دیوان سوم غزل 1165
نہ خوشہ یاں نہ دانہ یاں جلانا گھاس کیا حاصل
ترا اے برق خاطف اس طرف گرنا ہے لاحاصل
سکندر ہو کے مالک سات اقلیموں کا آخر کو
گیا دست تہی لے یاں سے یہ کچھ کر گیا حاصل
بلا قحط مروت ہے کہ ہے محصول غلے پر
کہیں سے چار دانے لائو لیویں جابجا حاصل
نہ کھینچیں کیونکے نقصاں ہم تو قیدی ہیں تعین کے
خودی سے کوئی نکلے تو اسے ہووے خدا حاصل
عبارت خوب لکھی شاعری انشاطرازی کی
ولے مطلب ہے گم دیکھیں تو کب ہو مدعا حاصل
بہت مصروف کشت و کار تھے مزرع میں دنیا کے
اٹھا حسرت سے ہاتھ آخر ہمیں یہ کچھ ہوا حاصل
پھرا مت میر سر اپنا گراں گوشوں کی مجلس میں
سنے کوئی تو کچھ کہیے بھی اس کہنے کا کیا حاصل
میر تقی میر

الٰہی غنچہ ہے پژمردہ یا دل

دیوان سوم غزل 1164
نہ ٹک واشد ہوئی جب سے لگا دل
الٰہی غنچہ ہے پژمردہ یا دل
نہ اس سے یاں تئیں آیا گیا حیف
رہے ہم جب تلک اس میں رہا دل
اٹھایا داغ لالہ نے چمن سے
کروں کیا دیکھتے ہی جل گیا دل
نہیں کم رایت اقبال شہ سے
علم اپنا یہ دنیا سے اٹھا دل
ہمارا خاص مشرب عشق اس میں
پیمبر دل ہے قبلہ دل خدا دل
ہمارے منھ پہ طفل اشک دوڑا
کیا ہے اس بھی لڑکے نے بڑا دل
سبھوں سے میر بیگانے سے رہتے
جو ہوتا اس سے کچھ بھی آشنا دل
میر تقی میر

پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل

دیوان سوم غزل 1163
اب کے ہزار رنگ گلستاں میں آئے گل
پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل
بلبل کو ناز کیوں نہ خیابان گل پہ ہو
کیا جانے جن نے چھاتی پہ بھر کر نہ کھائے گل
کب تک حنائی پائوں بن اس کے یہ بے کلی
لگ جائے ٹک چمن میں کہیں آنکھ پاے گل
ناچار ہو چمن میں نہ رہیے کہوں ہوں جب
بلبل کہے ہے اور کوئی دن براے گل
چلیے بغل میں لے کے گلابی کسو طرف
دامان دل کو کھینچے ہے ساقی ہواے گل
پگڑی میں پھول رکھتے ہیں رعنا جوان شہر
داغ جنوں ہی سر پہ رہا یاں بجاے گل
بلبل کو کیا سنے کوئی اڑ جاتے ہیں حواس
جب دردمند کہتی ہے دم بھر کے ہائے گل
سویا نہ وہ بدن کی نزاکت سے ساری رات
بستر پہ اس کے خواب کے کن نے بچھائے گل
مصروف یار چاہیے مرغ چمن سا ہو
دل نذر و دیدہ پیش کش و جاں فداے گل
ہم طرح آشیاں کی نہ گلشن میں ڈالتے
معلوم ہوتی آگے جو ہم کو وفاے گل
چسپاں لباس ہوتے ہیں لیکن نہ اس قدر
ہے چاک رشک جامہ سے اس کے قباے گل
کیا سمجھے لطف چہروں کے رنگ و بہار کا
بلبل نے اور کچھ نہیں دیکھا سواے گل
تھا وصف ان لبوں کا زبان قلم پہ میر
یا منھ میں عندلیب کے تھے برگ ہاے گل
میر تقی میر

چشم پرخوں فگار کے سے رنگ

دیوان سوم غزل 1162
چاک دل ہے انار کے سے رنگ
چشم پرخوں فگار کے سے رنگ
کام میں ہے ہواے گل کی موج
تیغ خوں ریز یار کے سے رنگ
تاب ہی میں رہے ہے اس کی زلف
افعی پیچ دار کے سے رنگ
کیا جو افسردگی کے ساتھ کھلا
دل گل بے بہار کے سے رنگ
برق ابر بہار نے بھی لیے
اب دل بے قرار کے سے رنگ
کنج نخچیرگہ میں ہیں مامون
ہم بھی لاغر شکار کے سے رنگ
عمر کا بھی سرنگ جاتا ہے
ابلق روزگار کے سے رنگ
برگ گل میں نہ دل کشی ہو گی
کف پاے نگار کے سے رنگ
اس بیاباں میں میر محو ہوئے
ناتواں اک غبار کے سے رنگ
میر تقی میر

ہم کھڑے تلواریں کھاویں نقش ماریں اور لوگ

دیوان سوم غزل 1161
قتل گہ میں دست بوس اس کا کریں فی الفور لوگ
ہم کھڑے تلواریں کھاویں نقش ماریں اور لوگ
کج روی ہم عاشقوں سے اس کی بس اب جا چکی
ایک تو ناساز پھر اس سے ملے بے طور لوگ
زخم تیغ یار غائر ہو کے پہنچا دل تلک
حیف میرے حال پر کرتے نہیں ٹک غور لوگ
جاکے دنیا سے تجھے یاد آئوں گا میں بھی بہت
بعد میرے کب اٹھاویں گے ترے یہ جور لوگ
رسم و عادت ہے کہ ہر یک وقت کا ہوتا ہے ذکر
میر بارے یاد کر روویں گے کیا یہ دور لوگ
میر تقی میر

لیکن کبھو شکایت آئی نہیں زباں تک

دیوان سوم غزل 1160
ہر چند صرف غم ہیں لے دل جگر سے جاں تک
لیکن کبھو شکایت آئی نہیں زباں تک
کیا کوئی اس کے رنگوں گل باغ میں کھلا ہے
شور آج بلبلوں کا جاتا ہے آسماں تک
دو چار دن جو ہوں تو رک رک کے کوئی کاٹے
ناچار صبر کرنا عاشق سے ہو کہاں تک
ان جلتی ہڈیوں کو شاید ہما نہ کھاوے
تب عشق کی ہمارے پہنچی ہے استخواں تک
روئے جہاں جہاں ہم جوں ابر میر اس بن
اب آب ہے سراسر جاوے نظر جہاں تک
میر تقی میر

مجنوں کو میری اور سے کہیو دعاے شوق

دیوان سوم غزل 1159
گر بادیے میں تجھ کو صبا لے کے جائے شوق
مجنوں کو میری اور سے کہیو دعاے شوق
وصل و جدائی سے ہے مبرا وہ کام جاں
معلوم کچھ ہوا نہ ہمیں یاں سواے شوق
ہر چار اور اڑتی پھرے ہے ہماری خاک
سر سے گئی نہ جی بھی گئے پر ہواے شوق
دیر و حرم میں ہم کو پھراتا ہے دیر تک
پھر بھی ہمارے ساتھ وہی ہے اداے شوق
افسوس ایسے کوچے سے تم آشنا نہیں
کیا دردناک نے بھی کوئی ہے نواے شوق
درد اور آہ و نالہ کرے ہے دم سحر
یک مشت پر ہے مرغ گلستاں پہ ہائے شوق
کیا پوچھتے ہو شوق کہاں تک ہے ہم کو میر
مرنا ہی اہل درد کا ہے انتہاے شوق
میر تقی میر

حق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشق

دیوان سوم غزل 1158
کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق
حق شناسوں کے ہاں خدا ہے عشق
دل لگا ہو تو جی جہاں سے اٹھا
موت کا نام پیار کا ہے عشق
اور تدبیر کو نہیں کچھ دخل
عشق کے درد کی دوا ہے عشق
کیا ڈبایا محیط میں غم کے
ہم نے جانا تھا آشنا ہے عشق
عشق سے جا نہیں کوئی خالی
دل سے لے عرش تک بھرا ہے عشق
کوہکن کیا پہاڑ کاٹے گا
پردے میں زور آزما ہے عشق
عشق ہے عشق کرنے والوں کو
کیسا کیسا بہم کیا ہے عشق
کون مقصد کو عشق بن پہنچا
آرزو عشق مدعا ہے عشق
میر مرنا پڑے ہے خوباں پر
عشق مت کر کہ بدبلا ہے عشق
میر تقی میر

رسم ظاہر تمام ہے موقوف

دیوان سوم غزل 1157
کیا پیام و سلام ہے موقوف
رسم ظاہر تمام ہے موقوف
حیرت حسن یار سے چپ ہیں
سب سے حرف و کلام ہے موقوف
روز وعدہ ہے ملنے کا لیکن
صبح موقوف شام ہے موقوف
وہ نہیں ہے کہ داد لے چھوڑیں
اب ترحم پہ کام ہے موقوف
پیش مژگاں دھرے رہے خنجر
آگے زلفوں کے دام ہے موقوف
کہہ کے صاحب کبھو بلاتے تھے
سو وقار غلام ہے موقوف
اقتدا میر ہم سے کس کی ہوئی
اپنے ہاں اب امام ہے موقوف
میر تقی میر

تھا میر بے دماغ کو بھی کیا بلا دماغ

دیوان سوم غزل 1156
صحبت کسو سے رکھنے کا اس کو نہ تھا دماغ
تھا میر بے دماغ کو بھی کیا بلا دماغ
باتیں کرے برشتگی دل کی پر کہاں
کرتا ہے اس دماغ جلے کا وفا دماغ
دو حرف زیرلب کہے پھر ہو گیا خموش
یعنی کہ بات کرنے کا کس کو رہا دماغ
کر فکر اپنی طاقت فکری جو ہو ضعیف
اب شعر و شاعری کی طرف کب لگا دماغ
آتش زبانی شمع نمط میر کی بہت
اب چاہیے معاف رکھیں جل گیا دماغ
میر تقی میر

سوز دل سے داغ ہے بالاے داغ

دیوان سوم غزل 1155
اب نہیں سینے میں میرے جاے داغ
سوز دل سے داغ ہے بالاے داغ
دل جلا آنکھیں جلیں جی جل گیا
عشق نے کیا کیا ہمیں دکھلائے داغ
دل جگر جل کر ہوئے ہیں دونوں ایک
درمیان آیا ہے جب سے پاے داغ
منفعل ہیں لالہ و شمع و چراغ
ہم نے بھی کیا عاشقی میں کھائے داغ
وہ نہیں اب میر جو چھاتی جلے
کھا گیا سارے جگر کو ہائے داغ
میر تقی میر

خانقہ میں کرتے ہیں صوفی سماع

دیوان سوم غزل 1154
ہے مری ہر اک غزل پر اجتماع
خانقہ میں کرتے ہیں صوفی سماع
وجد میں رکھتا ہے اہل فہم کو
میرے شعر و شاعری کا استماع
نیم بسمل چھوڑ دینا رحم کر
اس شکار افگن کا ہے گا اختراع
کچھ ضرر عائد ہوا میری ہی اور
ورنہ اس سے سب کو پہنچا انتفاع
یار دشمن ہو گیا اس کے سبب
ہے متاع دوستی بھی کیا متاع
دل جگر خوں ہو کے رخصت ہو گئے
حسرت آلودہ ہے کیا اشک وداع
میر درد دل نہ کہہ ظالم بس اب
ہو گیا ہے سامعوں کو تو صداع
میر تقی میر

پانی پانی شرم مفرط سے ہوئی جاتی ہے شمع

دیوان سوم غزل 1153
آگے جب اس آتشیں رخسار کے آتی ہے شمع
پانی پانی شرم مفرط سے ہوئی جاتی ہے شمع
میر تقی میر

مزہ عمر کا ہے جوانی سے حظ

دیوان سوم غزل 1152
جو وہ ہے تو ہے زندگانی سے حظ
مزہ عمر کا ہے جوانی سے حظ
نہیں وہ تو سب کچھ یہ بے لطف ہے
نہ کھانے میں لذت نہ پانی سے حظ
کہا درد دل رات کیا میر نے
اٹھایا بہت اس کہانی سے حظ
میر تقی میر

ہوتے ہیں برخودغلط یہ ہو گیا یہ کیا غلط

دیوان سوم غزل 1151
ہم نہ سمجھے رابطہ ان نوخطوں سے تھا غلط
ہوتے ہیں برخودغلط یہ ہو گیا یہ کیا غلط
کہتے ہو کیا کیا لکھا ہے خط میں مجھ کو میر نے
کب کہا کن نے یہ سب جھوٹ افترا بے جا غلط
میر تقی میر

کہ ہمیں متصل لکھا ہے خط

دیوان سوم غزل 1150
شاید اس سادہ نے رکھا ہے خط
کہ ہمیں متصل لکھا ہے خط
شوق سے بات بڑھ گئی تھی بہت
دفتر اس کو لکھیں ہیں کیا ہے خط
نامہ کب یار نے پڑھا سارا
نہ کہا یہ بھی آشنا ہے خط
ساتھ ہم بھی گئے ہیں دور تلک
جب ادھر کے تئیں چلا ہے خط
کچھ خلل راہ میں ہوا اے میر
نامہ بر کب سے لے گیا ہے خط
میر تقی میر

دل کے دل ہی میں کھپائے اپنے جوش

دیوان سوم غزل 1147
ہوں تو دریا پر کیا ترک خروش
دل کے دل ہی میں کھپائے اپنے جوش
مست رہتے ہیں ہم اپنے حال میں
عرض کریے حال پر یہ کس کے گوش
عاقبت تجھ کو لباس راہ راہ
لے گیا ہے راہ سے اے تنگ پوش
ہو نہ آگے میرے جوں سوسن زباں
ہوسکے تو گل کے رنگوں رہیے گوش
میر کو طفلان تہ بازار میں
دیکھو شاید ہو وہیں وہ دل فروش
میر تقی میر

ہے عجب طور کا سفر درپیش

دیوان سوم غزل 1146
فکر میں مرگ کے ہوں سر درپیش
ہے عجب طور کا سفر درپیش
کس کی آنکھیں پھرے ہیں آنکھوں میں
دم بہ دم ہے مری نظر درپیش
مستی بھی اہل ہوش کی ہے جنھیں
آوے ہے عالم دگر درپیش
کیا کروں نقل راہ ہستی میں
مرحلے آئے کس قدر درپیش
کیا پتنگے کو شمع روئے میر
اس کی شب کو بھی ہے سحر درپیش
میر تقی میر

خوشا ہم جو نہ رکھے ہم کو ناخوش

دیوان سوم غزل 1145
طرح خوش ناز خوش اس کی ادا خوش
خوشا ہم جو نہ رکھے ہم کو ناخوش
نہیں ناساز فقر اپنا کسو کا
خرابے کی ہمارے ہے ہوا خوش
بتوں کے غم میں نالاں جب نہ تب ہوں
نہ راضی خلق مجھ سے نے خدا خوش
کلی رکتی ہے گل ہے دل پریشاں
کسو کی اس چمن میں گذرے کیا خوش
جہان تنگ کڑھنے ہی کی جا تھی
کوئی دن میں تکلف سے رہا خوش
رہا پھولوں میں کرتا زمزمہ میں
مری اس باغ میں گذری سدا خوش
گیا اس شہر ہی سے میر آخر
تمھاری طرز بد سے کچھ نہ تھا خوش
میر تقی میر

کہتے ہیں دیوار بھی رکھے ہے گوش

دیوان سوم غزل 1144
اس کے در پر شب نہ کر اے دل خروش
کہتے ہیں دیوار بھی رکھے ہے گوش
پائوں پڑتا ہے کہیں آنکھیں کہیں
اس کی مستی دیکھ کر جاتا ہے ہوش
کتنے یہ فتنے ہیں موجب شور کے
قد و خد و گیسو و لعل خموش
مر گیا اس ماہ بن میں کیا عجب
چاندنی سے ہو جو میرا قبرپوش
صافی مے چادر اپنی میں نے کی
اور کیا کرتے ہیں مفلس دردنوش
دوستوں کا درد دل ٹک گوش کر
گر نصیب دشمناں ہے دردگوش
جب نہ تب ملتا ہے بازاروں میں میر
ایک لوطی ہے وہ ظالم سرفروش
میر تقی میر

مری بخت آزمائی ہوچکی بس

دیوان سوم غزل 1143
امیروں تک رسائی ہوچکی بس
مری بخت آزمائی ہوچکی بس
بہار اب کے بھی جو گذری قفس میں
تو پھر اپنی رہائی ہوچکی بس
کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شب
بہت باہم لڑائی ہوچکی بس
نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سے
یہیں تک آشنائی ہوچکی بس
لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگی
غموں کی اب سمائی ہوچکی بس
برابر خاک کے تو کر دکھایا
فلک بس بے ادائی ہوچکی بس
دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولت
ہمارے ہاتھ آئی ہوچکی بس
دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایا
تری قدرت نمائی ہوچکی بس
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر
جہاں دی ٹک دکھائی ہوچکی بس
گلے میں گیروی کفنی ہے اب میر
تمھاری میرزائی ہوچکی بس
میر تقی میر

نہ یہی خوں دل و جگر ہے بس

دیوان سوم غزل 1142
عشق میں غم نہ چشم تر ہے بس
نہ یہی خوں دل و جگر ہے بس
رہ گئے منھ نہوں سے نوچ کے ہم
گر ہوس ہے اسی قدر ہے بس
آپ سے جا کے پھر نہ آئے ہم
بس ہمیں تو یہی سفر ہے بس
چاہ میں ہم نہیں زیادہ طلب
کبھو پوچھو جو تم خبر ہے بس
چشم پوشی نہ کر فقیر ہے میر
مہر کی اس کو اک نظر ہے بس
میر تقی میر

نہیں اس راہ میں فریادرس بس

دیوان سوم غزل 1141
گلا مت توڑ اپنا اے جرس بس
نہیں اس راہ میں فریادرس بس
کبھو دل کی نہ کہنے پائے اس سے
جہاں بولے لگا کہنے کہ بس بس
گل و گلزار سے کیا قیدیوں کو
ہمیں داغ دل و کنج قفس بس
نہ ترسائو یکایک مار ڈالو
کروگے کب تلک ہم پر ترس بس
بہت کم دیتے تھے بادل دکھائی
رہے ہم ہی تو روتے اس برس بس
کسو محبوب کی ہو گور پرگل
ہماری خاک کو ہے خار و خس بس
چمن کے غم میں سینہ داغ ہے میر
بہت نکلی ہماری بھی ہوس بس
میر تقی میر

مارا ہے بے گناہ و گناہ اس طرف ہنوز

دیوان سوم غزل 1140
ہے تند و تیز اس کی نگاہ اس طرف ہنوز
مارا ہے بے گناہ و گناہ اس طرف ہنوز
سر کاٹ کر ہم اس کے قدم کے تلے رکھا
ٹیڑھی ہے اس کی طرف کلاہ اس طرف ہنوز
مدت سے مثل شب ہے مرا تیرہ روزگار
آتا نہیں وہ غیرت ماہ اس طرف ہنوز
پتھرا گئیں ہیں آنکھیں مری نقش پا کے طور
پڑتی نہیں ہے یار کی راہ اس طرف ہنوز
جس کی جہت سے مرنے کے نزدیک پہنچے ہم
پھرتا نہیں وہ آن کے واہ اس طرف ہنوز
آنکھیں ہماری مند چلیں ہیں جس بغیر یاں
وہ دیکھتا بھی ٹک نہیں آہ اس طرف ہنوز
برسوں سے میر ماتم مجنوں ہے دشت میں
روتا ہے آ کے ابر سیاہ اس طرف ہنوز
میر تقی میر

غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر

دیوان سوم غزل 1139
کیا جانیں گے کہ ہم بھی عاشق ہوئے کسو پر
غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر
ہر کوئی چاہتا ہے سرمہ کرے نظر کا
ہونے لگے ہیں اب تو خون اس کی خاک کو پر
کر باغباں حیا ٹک گل کو نہ ہاتھ میں مل
دیتی ہے جان بلبل پھولوں کے رنگ و بو پر
حسرت سے دیکھتے ہیں پرواز ہم صفیراں
شائستہ بھی ہمارے ایسے ہی تھے کبھو پر
حرف و سخن کرے ہے کس لطف سے برابر
سلک گہر بھی صدقے کی اس کی گفتگو پر
گو شوق سے ہو دل خوں مجھ کو ادب وہی ہے
میں رو کبھو نہ رکھا گستاخ اس کے رو پر
تن راکھ سے ملا سب آنکھیں دیے سی جلتی
ٹھہری نظر نہ جوگی میر اس فتیلہ مو پر
میر تقی میر

یاں کون تھوکے ہے صدف ہرزہ کوش پر

دیوان سوم غزل 1138
دعویٰ ہے یوں ہی اس کا ترے حسن گوش پر
یاں کون تھوکے ہے صدف ہرزہ کوش پر
شاید کسو میں اس میں بہت ہو گیا ہے بعد
تم بھی تو گوش رکھو جرس کے خروش پر
جیب و کنار سے تو بڑھا پانی دیکھیے
چشمہ ہماری چشم کا رہتا ہے جوش پر
اک شور ہے جو عالم کون و فساد میں
ہنگامہ ہے اسی کے یہ لعل خموش پر
ہے بار دوش جس کے لیے زندگی سو وہ
رکھ ہاتھ راہ ٹک نہ چلا میرے دوش پر
جو ہے سو مست بادئہ وہم و خیال ہے
کس کو ہے یاں نگاہ کسو دردنوش پر
مرغ چمن نے کیا حق صحبت ادا کیا
لالا کے گل بکھیرے مرے قبرپوش پر
جب تک بہار رہتی ہے رہتا ہے مست تو
عاشق ہیں میر ہم تو تری عقل و ہوش پر
میر تقی میر

میں اور یار اور مرا کاروبار اور

دیوان سوم غزل 1137
مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور
میں اور یار اور مرا کاروبار اور
چلتا ہے کام مرگ کا خوب اس کے دور میں
ہوتی ہے گرد شہر کے روز اک مزار اور
بندے کو ان فقیروں میں گنیے نہ شہر کے
صاحب نے میرے مجھ کو دیا اعتبار اور
دل کو تو لاگ ہی ہے تکوں راہ کب تلک
اس پر ہے یک عذاب شدید انتظار اور
بسمل پسند کر کے تڑپنا نہ دیکھنا
ہے میرے صیدپیشہ کا طور شکار اور
میں اس کی گرد رہ کا رہا منتظر بہت
سو آنکھیں دونوں لائیں مری اک غبار اور
درد سر اب جو عشق کا ہے گور تک ہے ساتھ
کچھ یہ نشہ ہی اور ہے اس کا خمار اور
کاہے کو اس قرار سے تھا اضطراب قلب
ہوتا ہے ہاتھ رکھنے سے دل بے قرار اور
کس کو فقیری میں سر و دل حرف کا ہے میر
کرتے ہیں اس دماغ پہ ہم انکسار اور
میر تقی میر

لے گیا رنگ اس کے دل سے تیر یار

دیوان سوم غزل 1136
صاف غلطاں خوں میں ہے نخچیر یار
لے گیا رنگ اس کے دل سے تیر یار
کوتہی کی میرے طول عمر نے
جور میں تو کچھ نہ تھی تقصیر یار
آ کڑوں کے پائوں میں بیڑی ہوئی
ہاتھ میں سونے کی وہ زنجیر یار
ہے کشیدہ جیسے تیغ آفتاب
میان میں رہتی نہیں شمشیر یار
میر ہم تو ناز ہی کھینچا کیے
کیونکے کوئی کھینچے ہے تصویر یار
میر تقی میر

کھلے بند مرغ چمن سے ملا کر

دیوان سوم غزل 1135
سحر گوش گل میں کہا میں نے جا کر
کھلے بند مرغ چمن سے ملا کر
لگا کہنے فرصت ہے یاں یک تبسم
سو وہ بھی گریباں میں منھ کو چھپا کر
تناسب پہ اعضا کے اتنا تبختر
بگاڑا تجھے خوب صورت بنا کر
قیامت رہا اضطراب اس کے غم میں
جگر پھر گیا رات ہونٹوں پہ آ کر
اسی آرزو میں گئے ہم جہاں سے
نہ پوچھا کبھو لطف سے ٹک بلا کر
کھنچی تیغ اس کی تو یاں نیم جاں تھے
خجالت سے ہم رہ گئے سر جھکا کر
مبارک تمھیں میر ہو عشق کرنا
بہت ہم تو پچھتائے دل کو لگا کر
میر تقی میر

سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر

دیوان سوم غزل 1134
پڑتی ہے آنکھ ہر دم جا کر صفاے تن پر
سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر
نام خدا نکالے کیا پائوں رفتہ رفتہ
تلواریں چلتیاں ہیں اس کے تو اب چلن پر
تو بھی تو ایک دن چل گلشن میں ساتھ میرے
کرتی ہے کیا تبختر بلبل گل چمن پر
دل جو بجا نہیں ہے وحشی سا میں پھروں ہوں
تم جائیو نہ ہرگز میرے دوانے پن پر
درکار عاشقوں کو کیا ہے جو اب نامہ
یک نام یار بس ہے لکھنا مرے کفن پر
تب ہی بھلے تھے جب تک حرف آشنا نہ تھے تم
لینے لگے لڑائی اب تو سخن سخن پر
گرد رخ اس کے پیدا خط کا غبار یوں ہے
گرد اک تنک سی بیٹھے جس رنگ یاسمن پر
کس طرح میرجی کا ہم توبہ کرنا مانیں
کل تک بھی داغ مے تھے سب ان کے پیرہن پر
میر تقی میر

کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر

دیوان سوم غزل 1133
جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر
کس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کر
تھی جملہ تن لطافت عالم میں جاں کے ہم تو
مٹی میں اٹ گئے ہیں اس خاکداں میں آ کر
سعی و طلب بہت کی مطلب کے تیں نہ پہنچے
ناچار اب جہاں سے بیٹھے ہیں ہاتھ اٹھا کر
غیرت یہ تھی کہ آیا اس سے جو میں خفا ہو
مرتے موا پہ ہرگز اودھر پھرا نہ جا کر
قدرت خدا کی سب میں خلع العذار آئو
بیٹھو جو مجھ کنے تو پردے میں منھ چھپا کر
ارمان ہے جنھوں کو وے اب کریں محبت
ہم تو ہوئے پشیماں دل کے تئیں لگا کر
میں میر ترک لے کر دنیا سے ہاتھ اٹھایا
درویش تو بھی تو ہے حق میں مرے دعا کر
میر تقی میر

دم کھینچ تہ دل سے کوئی ٹکڑے جگر کر

دیوان سوم غزل 1132
اے مرغ چمن صبح ہوئی زمزمہ سر کر
دم کھینچ تہ دل سے کوئی ٹکڑے جگر کر
وہ آئینہ رو باغ کے پھولوں میں جو دیکھا
ہم رہ گئے حیران اسی منھ پہ نظر کر
ہے بے خبری مجھ کو ترے دیکھے سے ساقی
ہر لحظہ مری جان مجھے میری خبر کر
جس جاے سراپا میں نظر جاتی ہے اس کے
آتا ہے مرے جی میں یہیں عمر بسر کر
فرہاد سے پتھر پہ ہوئیں صنعتیں کیا کیا
دل جا کے جگرکاوی میں کچھ تو بھی ہنر کر
پڑتے نگہ اس شوخ کی ہوتا ہے وہ احوال
رہ جاوے ہے جیسے کہ کوئی بجلی سے ڈر کر
معشوق کا کیا وصل ورے ایسا دھرا ہے
تاشمع پتنگا بھی جو پہنچے ہے تو مر کر
یک شب طرف اس چہرئہ تاباں سے ہوا تھا
پھر چاند نظر ہی نہ چڑھا جی سے اتر کر
کسب اور کیا ہوتا عوض ریختے کے کاش
پچھتائے بہت میر ہم اس کام کو کر کر
میر تقی میر

کیا اجاڑا اس نگر کو لوٹ کر

دیوان سوم غزل 1131
پیس مارا دل غموں نے کوٹ کر
کیا اجاڑا اس نگر کو لوٹ کر
ابر سے آشوب ایسا کب اٹھا
خوب روئے دیدئہ تر پھوٹ کر
کیوں گریباں کو پھروں پھاڑے نہ میر
دامن اس کا تو گیا ہے چھوٹ کر
میر تقی میر

شعلہ ہے شمع ساں یاں ہر یک سخن زباں پر

دیوان سوم غزل 1130
گرمی سے گفتگو کی کرلے قیاس جاں پر
شعلہ ہے شمع ساں یاں ہر یک سخن زباں پر
دیکھ اس کے خط کی خوبی لگ جاتی ہے چپ ایسی
گویا کہ مہر کی ہے ان نے مرے دہاں پر
ہوں خاک مجھ کو ان سے نسبت حساب کیا ہے
میں گنتی میں نہیں ہوں وے ہفتم آسماں پر
گھر باغ میں بنایا پر ہم نے یہ نہ جانا
بجلی سے بھی پڑے گا پھول آ کے آشیاں پر
روتے ہیں دوست اکثر سن سرگذشت عاشق
تو بھی تو گوش وا کر ٹک میری داستاں پر
کیا بات میں تب اس کی جاوے کسو سے بولا
ہونے لگے ہوں خوں جب ہونٹوں کے رنگ پاں پر
تڑپے ہے دل گھڑی بھر تو پہروں غش رہے ہے
کیا جانوں آفت آئی کیا طاقت و تواں پر
سودا بنے جو اس سے تو میر منفعت ہے
اپنی نظر نہیں ہے پھر جان کے زیاں پر
میر تقی میر

اٹھے گی مری خاک سے گرد زرد

دیوان سوم غزل 1129
بہت ہے تن درد پرورد زرد
اٹھے گی مری خاک سے گرد زرد
وہ بیمار گو تو نہ جانے مجھے
مرا نامہ لکھنے کو ہو فرد زرد
گذرتی ہے کیا میر دل پر ترے
تو ہوتا ہے ہر لحظہ کچھ زرد زرد
میر تقی میر

پھول میری خاک سے نکلیں گے بھی تو زرد زرد

دیوان سوم غزل 1128
عشق لوہو پی گیا سب تن میں ہے سو درد درد
پھول میری خاک سے نکلیں گے بھی تو زرد زرد
کب مری شب کو سحر ہے ایک بدحالی کے بیچ
جانتا ہوں صبح ہے ہوتا ہوں جب میں سرد سرد
کارواں در کارواں یاں سے چلے جاتے ہیں لوگ
ہر طرف اس خاکداں میں دیکھتے ہیں گرد گرد
مرد و زن سب ہیں نہ پیر دیر و دخت تاک سے
یہ غلط فہمی ہے ہر زن زن ہے یا ہر مرد مرد
دفتر اعمال میرا بھول جاویں میر کاش
ہے قیامت اس جریدے کو جو دیکھیں فرد فرد
میر تقی میر

زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد

دیوان سوم غزل 1127
ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد
زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد
ہمیں اسیر تو ہونا ہے اپنا اچھا یاد
کشش نہ دام کی دیکھی نہ کوشش صیاد
نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جاے نالہ و فریاد
ہزار فاختہ گردن میں طوق پہنے پھرے
اسے خیال نہیں کچھ وہ سرو ہے آزاد
جہاں میں اتنے ہی آشوب کیا رہیں گے بس
ابھی پڑے گا مرے خون بے گنہ سے زیاد
چمن میں اٹھتے ہیں سنّاہٹے سے اے بلبل
جگرخراش یہ نالے ہیں تیرے منھ سے زیاد
ثبات قصر و در و بام و خشت و گل کتنا
عمارت دل درویش کی رکھو بنیاد
چمن میں یار ہمیں لے گئے تھے وا نہ ہوئے
ہمارے ساتھ یہی غم یہی دل ناشاد
ہمیں تو مرنے کا طور اس کے خوش بہت آیا
طواف کریے جو ہو نخل ماتم فرہاد
نظر نہ کرنی طرف صید کے دم بسمل
یہ ظلم تازہ ہوا اس کشندے سے ایجاد
چلے نہ تیغ اگر ہم نگاہ عجز کریں
ہماری اور نہ دیکھے خدا کرے جلاد
کب ان نے دل میں کر انصاف ہم پہ لطف کیا
وہی ہے خشم وہی یاں سے جا وہی بیداد
تمام ریجھ پچائو ہیں اب تو پھر پس مرگ
کہا کنھوں نے تو کیا عزّاسمہٗ استاد
اگرچہ گنج بھی ہے پر خرابیاں ہیں بہت
نہ پھر خرابے میں اے میر خانماں برباد
میر تقی میر

بہت تڑپا کیا جوں مرغ پربند

دیوان سوم غزل 1126
زمیں پر میں جو پھینکا خط کو کر بند
بہت تڑپا کیا جوں مرغ پربند
گرفت دل سے ناچاری ہے یعنی
رہا ہوں بیٹھ میں بھی کر کے گھر بند
پھنسا دل زلف و کاکل میں نہ پوچھو
پڑا ہے ناگہ آکر بند پر بند
سب اس کی چشم پرنیرنگ کے محو
مگر کی ان نے عالم کی نظر بند
چمن میں کیونکے ہم پربستہ جاویں
بلند ازبس کہ ہے دیوار و در بند
بہت پیکان تیر یار ٹوٹے
تمام آہن ہے اب میرا جگر بند
ہوئیں رونے کی مانع میری پلکیں
بندھا خاشاک سے سیلاب پر بند
کہا کیا جائے ان ہونٹوں کے آگے
ہماری لب گزی ہے یہ شکربند
کھلے بندوں نہ آیا یاں وہ اوباش
پھرا مونڈھے پہ ڈالے بیشتر بند
یہی اوقات ہے گی دید کی یاں
رکھ اپنی چشم کو شام و سحر بند
نچا رہتا تھا چہرہ جس سے سو اب
گریباں میں ہے وہ دست ہنر بند
فن اشعار میں ہوں پہلواں میر
مجھے ہے یاد اس کشتی کا ہر بند
میر تقی میر

کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح

دیوان سوم غزل 1125
یاد آگیا تو بہنے لگیں آنکھیں جو کی طرح
کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح
چسپاں قبا وہ شوخ سدا غصے ہی رہا
چین جبیں سے اس کی اٹھائی اتو کی طرح
گالی لڑائی آگے تو تم جانتے نہ تھے
اب یہ نکالی تم نے نئی گفتگو کی طرح
ہم جانتے تھے تازہ بناے جہاں کو لیک
یہ منزل خراب ہوئی ہے کبھو کی طرح
سرسبز ہم ہوئے نہ تھے جو زرد ہو چلے
اس کشت میں پڑی یہ ہمارے نمو کی طرح
وے دن کہاں کہ مست سرانداز خم میں تھے
سر اب تو جھوجھرا ہے شکستہ سبو کی طرح
تسکین دل کی کب ہوئی سیرچمن کیے
گو پھول دل میں آگئے کچھ اس کے رو کی طرح
آخر کو اس کی راہ میں ہم آپ گم ہوئے
مدت میں پائی یار کی یہ جستجو کی طرح
کیا لوگ یوں ہی آتش سوزاں میں جا پڑے
کچھ ہو گی جلتی آگ میں اس تندخو کی طرح
ڈرتا ہوں چاک دل کو مرے پلکوں سے سیے
نازک نظر پڑی ہے بہت اس رفو کی طرح
دھوتے ہیں اشک خونی سے دست و دہن کو میر
طورنماز کیا ہے جو یہ ہے وضو کی طرح
میر تقی میر

دانستہ جا پڑے ہے کوئی بھی بلا کے بیچ

دیوان سوم غزل 1124
جانا نہ دل کو تھا تری زلف رسا کے بیچ
دانستہ جا پڑے ہے کوئی بھی بلا کے بیچ
فرہاد و قیس جس سے مجھے چاہو پوچھ لو
مشہور ہے فقیر بھی اہل وفا کے بیچ
آخر تو میں نے طول دیا بحث عشق کو
کوتاہی تم بھی مت کرو جور و جفا کے بیچ
آئی جو لب پہ آہ تو میں اٹھ کھڑا ہوا
بیٹھا گیا نہ مجھ سے تو ایسی ہوا کے بیچ
اقبال دیکھ اس ستم و ظلم و جور پر
دیکھوں ہوں جس کو ہے وہ اسی کی دعا کے بیچ
دل اس چمن میں بہتوں سے میرا لگا ولے
بوے وفا نہ پائی کسو آشنا کے بیچ
جوش و خروش میر کے جاتے رہے نہ سب
ہوتا ہے شور چاہنے کی ابتدا کے بیچ
میر تقی میر

اس کی سی بو نہ آئی گل و یاسمن کے بیچ

دیوان سوم غزل 1123
کل لے گئے تھے یار ہمیں بھی چمن کے بیچ
اس کی سی بو نہ آئی گل و یاسمن کے بیچ
کشتہ ہوں میں تو شیریں زبانی یار کا
اے کاش وہ زبان ہو میرے دہن کے بیچ
اس بحر میں رہا مجھے چکر بھنور کے طور
سر گشتگی میں عمر گئی سب وطن کے بیچ
گر دل جلا بھنا یہی ہم ساتھ لے گئے
تو آگ لگ اٹھے گی ہمارے کفن کے بیچ
تنگی جامہ ظلم ہے اے باعث حیات
پاتے ہیں لطف جان کا ہم تیرے تن کے بیچ
نازک بہت ہے تو کہیں افسردگی نہ آئے
چسپانی لباس سے پیارے بدن کے بیچ
ہے قہر وہ جو دیکھے نظر بھر کے جن نے میر
برہم کیا جہاں مژہ برہم زدن کے بیچ
میر تقی میر

حال رہتا ہی نہیں عشق کے بیمار کے بیچ

دیوان سوم غزل 1122
حال کہنے کی کسے تاب اس آزار کے بیچ
حال رہتا ہی نہیں عشق کے بیمار کے بیچ
آرزومند ہے خورشید میسر ہے کہاں
کہ تنک ٹھہرے ترے سایۂ دیوار کے بیچ
کیا کہیں ہم کہ گلے ڈالے پھریں مستی میں
دانے سبحہ کے پرو رشتۂ زنار کے بیچ
رشک خوبی کا اسی کے جگرمہ میں ہے داغ
یہ جو اک خال پڑا ہے ترے رخسار کے بیچ
مل گیا پھولوں میں اس رنگ سے کرتے ہوئے سیر
کہ تامل کیے پایا اسے گلزار کے بیچ
قدر گو تم نہ کرو میری متاع دل کی
جنس لگ جاوے گی یہ بھی کسو سرکار کے بیچ
گرد سررفتہ ہیں اے میر ہم اس کشتے کے
رہ گیا یار کی جو ایک ہی تلوار کے بیچ
میر تقی میر

یہ کوشش گنہگار کی ہے عبث

دیوان سوم غزل 1121
تری جستجو یار کی ہے عبث
یہ کوشش گنہگار کی ہے عبث
تو پیدا ہے لیکن ہویدا نہیں
یہ تصدیع ہموار کی ہے عبث
نہ ہاتھ آئی اے میر کچھ وجہ مے
گرو میں نے دستار کی ہے عبث
میر تقی میر

دل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹ

دیوان سوم غزل 1120
کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹ
دل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹ
ہم عاشقوں کو مرتے کیا دیر کچھ لگے ہے
چٹ جن نے دل پہ کھائی وہ ہو گیا ہے چٹ پٹ
دل ہے جدھر کو اودھر کچھ آگ سی لگی تھی
اس پہلو ہم جو لیٹے جل جل گئی ہے کروٹ
کلیوں کو تونے چٹ چٹ اے باغباں جو توڑا
بلبل کے دل جگر کو ظالم لگی ہے کیا چٹ
جی ہی ہٹے نہ میرا تو اس کو کیا کروں میں
ہر چند بیٹھتا ہوں مجلس میں اس سے ہٹ ہٹ
دیتی ہے طول بلبل کیا نالہ و فغاں کو
دل کے الجھنے سے ہیں یہ عاشقوں کی پھپٹ
مردے نہ تھے ہم ایسے دریا پہ جب تھا تکیہ
اس گھاٹ گاہ و بیگہ رہنے لگا تھا جمگھٹ
رک رک کے دل ہمارا بیتاب کیوں نہ ہووے
کثرت سے درد و غم کی رہتا ہے اس پہ جھرمٹ
شب میر سے ملے ہم اک وہم رہ گیا ہے
اس کے خیال مو میں اب تو گیا بہت لٹ
میر تقی میر

اجل تو ہے دل کے مرض کی بدایت

دیوان سوم غزل 1119
خدا جانیے ہووے گی کیا نہایت
اجل تو ہے دل کے مرض کی بدایت
سخن غم سے آغشتہ خوں ہے ولیکن
نہیں لب مرے آشناے شکایت
نہیں یہ گنہگار ملنے کے قابل
کرم کریے تو مہربانی عنایت
گیا آسماں پر جو نالہ تو کیا ہے
نہیں یار کے دل میں کرتا سرایت
ہمیں عشق میں میر چپ لگ گئی ہے
نہ شکر و شکایت نہ حرف و حکایت
میر تقی میر

کیا کریں ہم چاہتا تھا جی بہت

دیوان سوم غزل 1118
کوشش اپنی تھی عبث پر کی بہت
کیا کریں ہم چاہتا تھا جی بہت
کعبۂ مقصود کو پہنچے نہ ہائے
سعی کی اے شیخ ہم نے بھی بہت
سب ترے محو دعاے جان ہیں
آرزو اپنی بھی ہے تو جی بہت
رک رہا ہے دیر سے تڑپا نہیں
عشق نے کیوں دل کو مہلت دی بہت
کیوں نہ ہوں دوری میں ہم نزدیک مرگ
دل کو اس کے ساتھ الفت تھی بہت
وہ نہ چاہے جب تئیں ہوتا ہے کیا
جہد کی ملنے میں اپنی سی بہت
کب سنا حرف شگون وصل یار
یوں تو فال گوش ہم نے لی بہت
تھا قوی آخر ملے ہم خاک میں
آسماں سے یوں رہی کشتی بہت
آج درہم کرتے تھے کچھ گفتگو
میر نے شاید کہ دارو پی بہت
میر تقی میر

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

دیوان سوم غزل 1117
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے
ہم تو اپنی اور سے آئے بہت
دیر سے سوے حرم آیا نہ ٹک
ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمھیں بھائے بہت
گر بکا اس شور سے شب کو ہے تو
روویں گے سونے کو ہمسائے بہت
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب
رشک سے گل پھول مرجھائے بہت
میر سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم
ہوکے کچھ چپکے سے شرمائے بہت
میر تقی میر

مر چلے ہجر میں ہی یا قسمت

دیوان سوم غزل 1116
وصل دلبر نہ ٹک ہوا قسمت
مر چلے ہجر میں ہی یا قسمت
ایک بوسے پہ بھی نہ صلح ہوئی
ہم نے دیکھی بہت لڑا قسمت
شیخ جنت تجھے مجھے دیدار
واں بھی ہر اک کی ہے جدا قسمت
پھول جن ہاتھوں سے سبھوں کو دیے
زخم تیغ ان سے اپنی تھا قسمت
کیا ازل میں ملا نہ لوگوں کو
تھی ہماری بھی میر کیا قسمت
میر تقی میر

ویسی دیکھی نہ ایک جا صورت

دیوان سوم غزل 1115
سیر کی ہم نے اٹھ کے تا صورت
ویسی دیکھی نہ ایک جا صورت
منھ لگانا تو درکنار ان نے
نہ کہا ہے یہ آشنا صورت
منھ دکھاتی ہے آرسی ہر صبح
تو بھی اپنی تو ٹک دکھا صورت
خوب ہے چہرئہ پری لیکن
آگے اس کے ہے کیا بلا صورت
کب تلک کوئی جیسے صورت باز
آوے پیاری بنا بنا صورت
ایک دن تو یہ کہہ کہ ملنے کی
تو بھی ٹھہرا کے کوئی لا صورت
حلقے آنکھوں میں پڑ گئے منھ زرد
ہو گئی میر تیری کیا صورت
میر تقی میر

ٹک سوچ بھی ہزار ہیں دشمن ہزار دوست

دیوان سوم غزل 1114
مانند مرغ دوست نہ کہہ بار بار دوست
ٹک سوچ بھی ہزار ہیں دشمن ہزار دوست
کھڑکے ہے پات بھی تو لگا بیٹھتا ہے چوٹ
رم خوردہ وہ غزال بہت ہے شکار دوست
سب کو ہے رشک مجھ میں جو تجھ میں ہے اختلاط
دشمن ہوئے ہیں دوستی سے تیری یار دوست
تجھ سے ہزار ان نے بنا کر دیے بگاڑ
مت جان سادگی سے کہ ہے روزگار دوست
یہ تو کچھ آگے دشمن جانی سے بھی چلا
میں جانتا تھا ہو گا دل بے قرار دوست
بیگانگی خلق جہاں جاے خوف ہے
سو دشمنوں میں کیا ہے جو نکلے بھی چار دوست
مجھ بے نوا کی یاد رہے میر یہ صدا
اس میکدے میں رہیو بہت ہوشیار دوست
میر تقی میر

سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات

دیوان سوم غزل 1113
جب سے چلی چمن میں ترے رنگ پاں کی بات
سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات
یاں شہر حسن میں تو کہیں ذکر بھی نہیں
کیا جانیے کہ مہر و وفا ہے کہاں کی بات
اختر شناس کو بھی خلل ہے دماغ کا
پوچھو اگر زمیں سے کہیں آسماں کی بات
ایسا خدا ہی جانے کہ ہو عرش یا نہ ہو
دل بولنے کی جا نہیں کیا اس مکاں کی بات
کیا لطف جو سنو اسے کہتے پھرا کرو
یوں چاہیے کہ بھول وہیں ہو جہاں کی بات
لے شام سے جہاں میں ہے تاصبح ایک شور
اپنی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتی یاں کی بات
اوباش کس کو پوچھتے ہیں التفات سے
سیدھی کبھو سنی نہیں اس بدزباں کی بات
ہر حرف میں ہے ایک کجی ہر سخن میں پیچ
پنہاں رہے ہے کب کسو کی ٹیڑھی بانکی بات
کینے سے کچھ کہا ہی کیا زیرلب مجھے
کیا پوچھتے ہو میر مرے مہرباں کی بات
میر تقی میر

سنا نہیں ہے مگر یہ کہ جوگی کس کے میت

دیوان سوم غزل 1112
عجب نہیں ہے نہ جانے جو میر چاہ کی ریت
سنا نہیں ہے مگر یہ کہ جوگی کس کے میت
مت ان نمازیوں کو خانہ ساز دیں جانو
کہ ایک اینٹ کی خاطر یہ ڈھاتے ہیں گے مسیت
غم زمانہ سے فارغ ہیں مایہ باختگاں
قمارخانۂ آفاق میں ہے ہار ہی جیت
ہزار شانہ و مسواک و غسل شیخ کرے
ہمارے عندیے میں تو ہے وہ خبیث پلیت
کسو کے بستر و سنجاب و قصر سے کیا کام
ہماری گور کے بھی ڈھیر میں مکاں ہے مبیت
ہوئے ہیں سوکھ کے عاشق طنبورے کے سے تار
رقیب دیکھو تو گاتے ہیں بیٹھے اور ہی گیت
شفق سے ہیں در و دیوار زرد شام و سحر
ہوا ہے لکھنؤ اس رہگذر میں پیلی بھیت
کہا تھا ہم نے بہت بولنا نہیں ہے خوب
ہمارے یار کو سو اب ہمیں سے بات نہ چیت
ملے تھے میر سے ہم کل کنار دریا پر
فتیلہ مو وہ جگر سوختہ ہے جیسے اتیت
میر تقی میر

مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت

دیوان سوم غزل 1111
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت
بے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غش
درد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت
وادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار مار
دلبران شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت
وا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کا
ظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت
میر گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہے
جب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت
میر تقی میر

رہا ہے کیا دل بے تاب میں اب

دیوان سوم غزل 1110
پڑا ہے فرق خورد و خواب میں اب
رہا ہے کیا دل بے تاب میں اب
جنوں میں اب کے نے دامن ہے نے جیب
کمی آئی بہت اسباب میں اب
ہوا ہے خواب ملنا اس سے شب کا
کبھو آتا ہے وہ مہ خواب میں اب
گدائی لی ہے میں نے اس کے در کی
کہے کیا دیکھوں میرے باب میں اب
گلے لگنے بن اس کے اتنا روئے
کہ ہم ہیں گے گلے تک آب میں اب
کہاں بل کھائے بال اس کے کہاں یہ
عبث سنبل ہے پیچ وتاب میں اب
بلا چرچا ہے میرے عشق کا میر
یہی ہے ذکر شیخ و شاب میں اب
میر تقی میر

بے صرفہ کرے صرف نہ کیوں دیدئہ تر آب

دیوان سوم غزل 1109
سب آتش سو زندئہ دل سے ہے جگر آب
بے صرفہ کرے صرف نہ کیوں دیدئہ تر آب
پھرتی ہے اڑی خاک بھی مشتاق کسو کی
سر مار کے کرتا ہے پہاڑوں میں بسر آب
کیا کریے اسے آگ سا بھڑکایا ہے جن نے
نزدیک تر اب اس کو کرے غرق مگر آب
دل میں تو لگی دوں سی بھریں چشمے سی آنکھیں
کیا اپنے تئیں روئوں ادھر آگ ادھر آب
کس طور سے بھر آنکھ کوئی یار کو دیکھے
اس آتشیں رخسار سے ہوتی ہے نظر آب
ہم ڈرتے شکررنجی سے کہتے نہیں یہ بھی
خجلت سے ترے ہونٹوں کی ہیں شہد و شکر آب
کس شکل سے اک رنگ پہ رہنا ہو جہاں کا
رہتی ہیں کوئی صورتیں یہ نقش ہیں بر آب
شعلے جو مرے دل سے اٹھیں ہیں سو نہ بیٹھیں
برسوں تئیں چھڑکا کرو تم ان پہ اگر آب
استادہ ہو دریا تو خطرناکی بہت ہے
آ اپنے کھلے بالوں سے زنجیر نہ کر آب
شب روئوں ہوں ایسا کہ جدھر یار کا گھر ہے
جاتا ہوں گلے چھاتی تک اودھر کو اتر آب
اس دشت سے ہو میر ترا کیونکے گذارا
تا زانو ترے گل ہے تری تا بہ کمر آب
میر تقی میر

اب کیا مرے جنوں کی تدبیر میرصاحب

دیوان سوم غزل 1108
شیون میں شب کے ٹوٹی زنجیر میرصاحب
اب کیا مرے جنوں کی تدبیر میرصاحب
ہم سر بکھیرتے تو وہ تیغ کھنچ نہ سکتی
اپنا گناہ اپنی تقصیر میرصاحب
کھنچتی نہیں کماں اب ہم سے ہواے گل کی
بادسحر لگے ہے جوں تیر میرصاحب
کب ہیں جوانی کے سے اشعار شورآور
شاید کہ کچھ ہوئے ہیں اب پیر میرصاحب
تم کس خیال میں ہو تصویر سے جو چپ ہو
کرتے ہیں لوگ کیا کیا تقریر میرصاحب
میر تقی میر

ہر دم بھری رہے ہے لوہو سے چشم تر سب

دیوان سوم غزل 1107
دل پر تو چوٹ تھی ہی زخمی ہوا جگر سب
ہر دم بھری رہے ہے لوہو سے چشم تر سب
حیف اس سے حال میرا کہتا نہیں ہے کوئی
نالوں سے شب کے میرے رکھتے تو ہیں خبر سب
بجلی سی اک تجلی آئی تھی آسماں سے
آنکھیں لگا رہے ہیں اہل نظر ادھر سب
اس ماہ بن تو اپنی دکھ میں بسر ہوئی تھی
کل رات آگیا تو وہ دکھ گیا بسر سب
کیا فہم کیا فراست ذوق و بصر سماعت
تاب و توان و طاقت یہ کر گئے سفر سب
منزل کو مرگ کی تھا آخر مجھے پہنچنا
بھیجا ہے میں نے اپنا اسباب پیشتر سب
دنیا میں حسن و خوبی میر اک عجیب شے ہے
رندان و پارسا یاں جس پر رکھیں نظر سب
میر تقی میر

آنا ہوا کہاں سے کہیے فقیرصاحب

دیوان سوم غزل 1106
بولا جو موپریشاں آ نکلے میرصاحب
آنا ہوا کہاں سے کہیے فقیرصاحب
ہر لحظہ اک شرارت ہر دم ہے یک اشارت
اس عمر میں قیامت تم ہو شریر صاحب
بندے پہ اب نوازش کیجے تو کیجے ورنہ
کیا لطف ہے جو آئے وقت اخیر صاحب
دل کا الجھنا اپنے ایسا نہیں کہ سلجھے
ہیں دام زلف میں ہم اس کے اسیر صاحب
فکرجگر رہے ہے اس دم غلام کو بھی
جس دم لگو ہو کرنے تم مشق تیر صاحب
میر تقی میر

گویا کہ جان جسم میں سارے نہیں ہے اب

دیوان سوم غزل 1105
طاقت تعب کی غم میں تمھارے نہیں ہے اب
گویا کہ جان جسم میں سارے نہیں ہے اب
کل کچھ صبا ہوئی تھی گل افشاں قفس میں بھی
وہ بے کلی تو جان کو بارے نہیں ہے اب
جیتے تو لاگ پلکوں کی اس کی کہیں گے ہم
کچھ ہوش ہم کو چھڑیوں کے مارے نہیں ہے اب
زردی چہرہ اب تو سفیدی کو کھنچ گئی
وہ رنگ آگے کا سا پیارے نہیں ہے اب
مسکن جہاں تھا دل زدہ مسکیں کا ہم تو واں
کل دیر میر میر پکارے نہیں ہے اب
میر تقی میر

جا بیٹھیں میکدے میں مسجد سے اٹھ کے صاف اب

دیوان سوم غزل 1104
ماہ صیام آیا ہے قصد اعتکاف اب
جا بیٹھیں میکدے میں مسجد سے اٹھ کے صاف اب
مسلم ہیں رفتہ رو کے کافر ہیں خستہ مو کے
یہ بیچ سے اٹھے گا کس طور اختلاف اب
جو حرف ہیں سو ٹیڑھے خط میں لکھے ہیں شاید
اس کے مزاج میں ہے کچھ ہم سے انحراف اب
مجرم ٹھہر گئے ہم پھرنے سے ساتھ تیرے
بہتر ہے جو رکھے تو اس سے ہمیں معاف اب
گو لگ گیا گلے میں مت کھینچ تیغ مجھ پر
اپنے گنہ کا میں تو کرتا ہوں اعتراف اب
کیا خاک میں ملاکر اپنے تئیں موا ہے
پیدا ہو گورمجنوں تو کیجیے طواف اب
کھنچتے ہیں جامے خوں میں کن کن کے میر دیکھیں
لگتی ہے سرخ اس کے دامن کے تیں سنجاف اب
میر تقی میر

جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا

دیوان سوم غزل 1103
آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا
جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا
آکر کھڑا ہوا تھا بہ صدحسن جلوہ ناک
اپنی نظر میں وہ در نایاب تھا سو تھا
ساون ہرے نہ بھادوں میں ہم سوکھے اہل درد
سبزہ ہماری پلکوں کا سیراب تھا سو تھا
درویش کچھ گھٹا نہ بڑھا ملک شاہ سے
خرقہ کلاہ پاس جو اسباب تھا سو تھا
کیا بھاری بھاری قافلے یاں سے چلے گئے
تجھ کو وہی خیال گراں خواب تھا سو تھا
برسوں سے ہے تلاوت و سجادہ و نماز
پر میل دل جو سوے مئے ناب تھا سو تھا
ہم خشک لب جو روتے رہے جوئیں بہ چلیں
پر میر دشت عشق کا بے آب تھا سو تھا
میر تقی میر

پھروں ہوں چور زخمی اس کی تیغ کم نگاہی کا

دیوان سوم غزل 1102
کیا ہے عشق جب سے میں نے اس ترک سپاہی کا
پھروں ہوں چور زخمی اس کی تیغ کم نگاہی کا
اگر ہم قطعۂ شب سا لیے چہرہ چلے آئے
قیامت شور ہو گا حشر کے دن روسیاہی کا
ہوا ہے عارفان شہر کو عرفان بھی اوندھا
کہ ہر درویش ہے مارا ہوا شوق الٰہی کا
ہمیشہ التفات اس کا کسو کے بخت سے ہو گا
نہیں شرمندہ میں تو اس کے لطف گاہ گاہی کا
برنگ کہربائی شمع اس کا رنگ جھمکے ہے
دماغ سیر اس کو کب ہے میرے رنگ کاہی کا
بڑھیں گے عہد کے درویش اس سے اور کیا یارو
کیا ہے لڑکوں نے دینا انھوں کو تاج شاہی کا
خراب احوال کچھ بکتا پھرے ہے دیر و کعبے میں
سخن کیا معتبر ہے میر سے واہی تباہی کا
میر تقی میر

طرحیں بدل گئیں پر ان نے ادھر نہ دیکھا

دیوان سوم غزل 1101
چاہت کے طرح کش ہو کچھ بھی اثر نہ دیکھا
طرحیں بدل گئیں پر ان نے ادھر نہ دیکھا
خالی بدن جیوں سے یاں ہو گئے ولیکن
اس شوخ نے ادھر کو بھر کر نظر نہ دیکھا
کس دن سرشک خونیں منھ پر نہ بہ کر آئے
کس شب پلک کے اوپر لخت جگر نہ دیکھا
یاں شہر شہر بستی اوجڑ ہی ہوتے پائی
اقلیم عاشقی میں بستا نگر نہ دیکھا
اب کیا کریں کہ آیا آنکھوں میں جی ہمارا
افسوس پہلے ہم نے ٹک سوچ کر نہ دیکھا
لاتے نہیں فرو سر ہرگز بتاں خدا سے
آنکھوں سے اپنی تم نے ان کا گہر نہ دیکھا
سوجھا نہ چاہ میں کچھ برباد کر چکے دل
میر اندھے ہو رہے تھے اپنا بھی گھر نہ دیکھا
میر تقی میر

خونبار میری آنکھوں سے کیا جانوں کیا گرا

دیوان سوم غزل 1100
کل رات رو کے صبح تلک میں رہا گرا
خونبار میری آنکھوں سے کیا جانوں کیا گرا
اب شہر خوش عمارت دل کا ہے کیا خیال
ناگاہ آ کے عشق نے مارا جلا گرا
کیا طے ہو راہ عشق کی عاشق غریب ہے
مشکل گذر طریق ہے یاں رہگرا گرا
لازم پڑی ہے کسل دلی کو فتادگی
بیمار عشق رہتا ہے اکثر پڑا گرا
ٹھہرے نہ اس کے عشق کا سرگشتہ و ضعیف
ٹھوکر کہیں لگی کہ رہا سرپھرا گرا
دے مارنے کو تکیہ سے سر ٹک اٹھا تو کیا
بستر سے کب اٹھے ہے غم عشق کا گرا
پھرتا تھا میر غم زدہ یک عمر سے خراب
اب شکر ہے کہ بارے کسی در پہ جا گرا
میر تقی میر

ہاتھ ملنا کام ہے اب عاشق بدنام کا

دیوان سوم غزل 1099
سطح جو ہاتھوں میں تھا اس کے رخ گلفام کا
ہاتھ ملنا کام ہے اب عاشق بدنام کا
کچھ نہیں عنقا صفت پر شہرئہ آفاق ہوں
سیر کے قابل ہے ہونا پہن میرے نام کا
ہجر کی راتیں بڑی چھوٹی جو ٹک ہوتیں کہیں
اس میں کچھ نقصان ہوتا تھا مگر ایام کا
روئوں یاد زلف میں اس کی تو پھر روتا رہوں
صبح تک جاتا نہیں ہے مینھ آیا شام کا
تاب کس کو اپنا کچا سوت کچھ الجھا ہے میر
گم ہے سررشتہ ہمارے خواب اور آرام کا
میر تقی میر

کیا حال محبت کے آزار کشیدوں کا

دیوان سوم غزل 1098
احوال نہ پوچھو کچھ ہم ظلم رسیدوں کا
کیا حال محبت کے آزار کشیدوں کا
دیوانگی عاشق کی سمجھو نہ لباسی ہے
صد پارہ جگر بھی ہے ہم جامہ دریدوں کا
عاشق ہے دل اپنا تو گل گشت گلستاں میں
جدول کے کنارے کے نوباوہ دمیدوں کا
ناچار گئے مارے میدان محبت میں
پایا نہ گیا چارہ کچھ اس کے شہیدوں کا
پتے کے کھڑکنے سے ہوتی ہے ہمیں وحشت
کیا طور ہے ہم اپنے سائے سے رمیدوں کا
کیا کیا نہ گیا اس بن صبر اور دماغ و دل
رونق گئی بشرے سے پھر نور بھی دیدوں کا
کرتے ہیں پس از سالے دل شاد گلے لگ کر
سو میر وہ ملنا بھی اب ترک ہے عیدوں کا
میر تقی میر

لوٹا مارا ہے حسن والوں کا

دیوان سوم غزل 1097
دل عجب شہر تھا خیالوں کا
لوٹا مارا ہے حسن والوں کا
جی کو جنجال دل کو ہے الجھائو
یار کے حلقہ حلقہ بالوں کا
موے دلبر سے مشک بو ہے نسیم
حال خوش اس کے خستہ حالوں کا
نہ کہا کچھ نہ آ پھرا نہ ملا
کیا جواب ان مرے سوالوں کا
دم نہ لے اس کی زلفوں کا مارا
میر کاٹا جیے نہ کالوں کا
میر تقی میر

کیا کروں گر نہ کروں چاک گریباں اپنا

دیوان سوم غزل 1096
ان نے کھینچا ہے مرے ہاتھ سے داماں اپنا
کیا کروں گر نہ کروں چاک گریباں اپنا
بارہا جاں لب جاں بخش سے دی جن نے ہمیں
دشمن جانی ہوا اب وہی جاناں اپنا
خلطے یاد آتے ہیں وے جب کہ بدلتے کپڑے
مجھ کو پہناتے تھے رعنائی کا ساماں اپنا
کیا ہوئی یکجہتی وہ کہ طرف تھے میرے
اب یہ طرفہ ہے کہ منھ کرتے ہیں پنہاں اپنا
جس طرح شاخ پراگندہ نظر آتے ہیں بید
تھا جنوں میں کبھو سر مو سے پریشاں اپنا
مشکلیں سینکڑوں چاہت میں ہمیں آئیں پیش
کام ہو دیکھیے کس طور سے آساں اپنا
دل فقیری سے نہیں میر کسو کا ناساز
خوش ہوا کتنا ہے یہ خانۂ ویراں اپنا
میر تقی میر

دنبالہ گرد چشم سیاہ غزال تھا

دیوان سوم غزل 1095
کیا میر دل شکستہ بھی وحشی مثال تھا
دنبالہ گرد چشم سیاہ غزال تھا
آخر کو خواب مرگ ہمیں جا سے لے گئی
جی دیتے تک بھی سر میں اسی کا خیال تھا
میں جو کہا کہ دل کو تو تم نے ہرا دیا
بولا کہ ذوق اپنا ہمارا ہی مال تھا
سرو اس طرف کو جیسے گنہگار تھا کھڑا
اودھر جو آب جو کے وہ نازک نہال تھا
کیا میرے روزگار کے اہل سخن کی بات
ہر ناقص اپنے زعم میں صاحب کمال تھا
کیا کیا ہوائیں دیدئہ تر سے نظر پڑیں
جب رونے بیٹھ جاتے تھے تب برشکال تھا
کہتے تھے ہم تباہ ہے اب حال میر کا
دیکھا نہ تم نے اس میں بھلا کچھ بھی حال تھا
میر تقی میر

دل نہ اپنا ہے محبت میں نہ دلبر اپنا

دیوان سوم غزل 1094
کیا کہے حال کہیں دل زدہ جاکر اپنا
دل نہ اپنا ہے محبت میں نہ دلبر اپنا
دوری یار میں ہے حال دل ابتر اپنا
ہم کو سو کوس سے آتا ہے نظر گھر اپنا
یک گھڑی صاف نہیں ہم سے ہوا یار کبھی
دل بھی جوں شیشۂ ساعت ہے مکدر اپنا
ہر طرف آئینہ داری میں ہے اس کے رو کی
شوق سے دیکھیے منھ ہووے ہے کیدھر اپنا
لب پہ لب رکھ کے نہ اس گل کے کبھو ہم سوئے
یہ بساط خسک و خار ہے بستر اپنا
کس طرح حرف ہو ناصح کا موثر ہم میں
سختیاں کھینچتے ہی دل ہوا پتھر اپنا
کیسی رسوائی ہوئی عشق میں کیا نقل کریں
شہر و قصبات میں مذکور ہے گھر گھر اپنا
اس گل تر کی قبا کے کہیں کھولے تھے بند
رنگوں گل برگ کے ناخن ہے معطر اپنا
تجھ سے بے مہر کے لگ لگنے نہ دیتے ہرگز
زور چلتا کچھ اگر چاہ میں دل پر اپنا
پیش کچھ آئو یہیں ہم تو ہیں ہر صورت سے
مثل آئینہ نہیں چھوڑتے ہم گھر اپنا
دل بہت کھینچتی ہے یار کے کوچے کی زمیں
لوہو اس خاک پہ گرنا ہے مقرر اپنا
میر خط بھیجے پر اب رنگ اڑا جاتا ہے
کہ کہاں بیٹھے کدھر جاوے کبوتر اپنا
میر تقی میر

جوش غم سے جی جو بولایا سو دیوانہ ہوا

دیوان سوم غزل 1093
دل عجب چرچے کی جاگہ تھی سو ویرانہ ہوا
جوش غم سے جی جو بولایا سو دیوانہ ہوا
بزم عشرت پر جہاں کی گوش وا کر جاے چشم
آج یاں دیکھا گیا جو کچھ کل افسانہ ہوا
دیر میں جو میں گدایانہ گیا اودھر کہا
شاہ جی کہیے کدھر سے آپ کا آنا ہوا
کیا کہیں حسرت لیے جیسے جہاں سے کوئی جائے
یار کے کوچے سے اپنا اس طرح جانا ہوا
میر تیر ان جورکیشوں کے جو کھائے بے شمار
چھاتی اب چھلنی ہے میری ہے جگر چھانا ہوا
میر تقی میر

پھر صبر بن اور کیا ہے چارا

دیوان سوم غزل 1092
ہے عشق میں صبر ناگوارا
پھر صبر بن اور کیا ہے چارا
ان بالوں سے مشک مت خجل ہو
عنبر تو عرق عرق ہے سارا
یوں بات کرے ہے میرے خوں سے
گویا نہیں ان نے مجھ کو مارا
دیکھو ہو تو دور بھاگتے ہو
کچھ پاس نہیں تمھیں ہمارا
تھا کس کو دماغ باغ اس بن
بلبل نے بہت مجھے پکارا
رخسار کے پاس وہ در گوش
ہے پہلوے ماہ میں ستارا
ہوتے ہیں فرشتے صید آکر
آہوے حرم ہیں یاں چکارا
پھولی مجھے دیکھ کر گلوں میں
بلبل کا ہے باغ میں اجارا
جب جی سے گذر گئے ہم اے میر
اس کوچے میں تب ہوا گذارا
میر تقی میر

بھاری پتھر تھا چوم کر چھوڑا

دیوان سوم غزل 1091
بوسہ اس بت کا لے کے منھ موڑا
بھاری پتھر تھا چوم کر چھوڑا
ہوکے دیوانے ہم ہوئے زنجیر
دیکھ کر اس کے پائوں کا توڑا
دل نے کیا کیا نہ درد رات دیے
جیسے پکتا رہے کوئی پھوڑا
گرم رفتن ہے کیا سمند عمر
نہ لگے جس کو بائو کا گھوڑا
کیا کرے بخت مدعی تھے بلند
کوہکن نے تو سر بہت پھوڑا
دل ہی مرغ چمن کا ٹوٹ گیا
پھول گل چیں نے ہائے کیوں توڑا
ہے لب بام آفتاب عمر
کریے سو کیا ہے میر دن تھوڑا
میر تقی میر

ہرچند چاہتا ہوں پر جی نہیں سنبھلتا

دیوان سوم غزل 1090
دل رات دن رہے ہے سینے میں عشق ملتا
ہرچند چاہتا ہوں پر جی نہیں سنبھلتا
اب تو بدن میں سارے اک پھنک رہی ہے آتش
وہ مہ گلے سے لگتا تو یوں جگر نہ جلتا
شب ماہ چاردہ تھا کس حسن سے نمایاں
ہوتا بڑا تماشا جو یار بھی نکلتا
اے رشک شمع گویا تو موم کا بنا ہے
مہتاب میں تجھی کو دیکھا ہے یوں پگھلتا
تکلیف باغ ہم کو یاروں نے کی وگرنہ
گل پھول سے کوئی دم اپنا بھی دل بہلتا
رونے کا جوش ویسا آنکھوں کو ہے بعینہ
جیسے ہو رود کوئی برسات میں ابلتا
کرتا ہے وے سلوک اب جس سے کہ جان جاوے
ہم میر یوں نہ مرتے اس پر جو دل نہ چلتا
میر تقی میر

حال رکھا تھا کچھ بھی ہم نے عشق نے آخر مار رکھا

دیوان سوم غزل 1089
زار رکھا بے حال رکھا بے تاب رکھا بیمار رکھا
حال رکھا تھا کچھ بھی ہم نے عشق نے آخر مار رکھا
میلان اس کا تھا کاہے کو جانب الفت کیشوں کے
اپنی طرف سے ہم نے اب تک اس ظالم سے پیار رکھا
عشق بھی ہم میں ہائے تصرف کیسے کیسے کرتا ہے
دل کو چاک جگر کو زخمی آنکھوں کو خونبار رکھا
کیا پوچھو ہودیں کے اکابر فاضل کامل صابر رنج
عزت والے کیا لوگوں کو گلیوں میں ان نے خوار رکھا
کام اس سے اک طور پہ لیتے بے طور اس کو ہونے نہ دیتے
حیف ہے میر سپہر دوں نے ہم سے اس کو نہ یار رکھا
میر تقی میر

جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا

دیوان سوم غزل 1088
وہ کم نما و دل ہے شائق کمال اس کا
جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا
ہم کیا کریں علاقہ جس کو بہت ہے اس سے
رکھ دیتے ہیں گلے پر خنجر نکال اس کا
بس ہو تو وام کر بھی اس پر نثار کریے
یک نقد دل رکھے ہیں سو تو ہے مال اس کا
یہ جانتا تو اس سے ہم خواب میں نہ ہوتا
پکا خیال جی کا ایسا خیال اس کا
ان زلفوں سے نہ لگ کر چل اے نسیم ظالم
تاریک ہے جہاں پھر بکا جو بال اس کا
جس داغ سے کہ عالم ہے مبتلا بلا میں
سو داغ جان عاشق منھ پر ہے خال اس کا
مستانہ ساتھ میرے روتی پھرے ہے بلبل
گل سے جو دل لگا ہے ابتر ہے حال اس کا
میری طرح جھکے ہیں بے خود ہو سرو و گل بھی
دیکھا کہیں چمن میں شاید جمال اس کا
کیا تم کو پیار سے وہ اے میر منھ لگاوے
پہلے ہی چومے تم تو کاٹو ہو گال اس کا
میر تقی میر

تو رک کے منھ تئیں کاہے کو شب جگر آتا

دیوان سوم غزل 1087
اگر وہ ماہ نکل گھر سے ٹک ادھر آتا
تو رک کے منھ تئیں کاہے کو شب جگر آتا
مرید پیرمغاں صدق سے نہ ہم ہوتے
جو حق شناس کوئی اور بھی نظر آتا
نہ پتھروں سے جو سر کو دو پارہ میں کرتا
زمانہ غم کا مرے کس طرح بسر آتا
کسو ہنر سے تو ملتے تھے باہم اگلے لوگ
ہمیں بھی کاشکے ایسا کوئی ہنر آتا
شراب خانے میں شب مست ہو رہا شاید
جو میر ہوش میں ہوتا تو اپنے گھر آتا
میر تقی میر