زمرہ جات کے محفوظات: غزل

اللہ رے دماغ کہ ہے آسمان پر

دیوان چہارم غزل 1386
مرتے ہیں ہم تو آدم خاکی کی شان پر
اللہ رے دماغ کہ ہے آسمان پر
چرکہ تھا دل میں لالہ رخوں کے خیال سے
کیا کیا بہاریں دیکھی گئیں اس مکان پر
عرصہ ہے تنگ صدر نشینوں پہ شکر ہے
بیٹھے اگر تو جا کے کسو آستان پر
آفات میں ہے مرغ چمن گل کے شوق سے
جوکھوں ہزار رنگ کی رہتی ہے جان پر
اس کام جاں کے جلووں کا میں ہی نہیں ہلاک
آفت عجب طرح کی ہے سارے جہان پر
جاتے تو ہیں پہ خواہش دل موت ہے نری
پھر بھی ہمیں نظر نہیں جی کے زیان پر
تقدیس دل تو دیکھ ہوئی جس کو اس سے راہ
سر دیں ہیں لوگ اس کے قدم کے نشان پر
انداز و ناز اپنے اس اوباش کے ہیں قہر
سو سو جوان مرتے ہیں ایک ایک آن پر
شوخی تو دیکھو آپھی کہا آئو بیٹھو میر
پوچھا کہاں تو بولے کہ میری زبان پر
میر تقی میر

مانند گل شگفتہ جبیں یاں معاش کر

دیوان چہارم غزل 1385
مت اس چمن میں غنچہ روش بود و باش کر
مانند گل شگفتہ جبیں یاں معاش کر
دل رکھ قوی فلک کی زبردستی پر نہ جا
گر کشتی لگ گئی ہے تو تو بھی تلاش کر
ہے کیا تو جیسے غنچہ بندھی مٹھی جا چلا
مت گل کے رنگ منھ کو کھلا راز فاش کر
یوں ہی ہے سینہ کوبی اگر چاہے دل کی داد
پیشانی کو سلیقے سے دکھلا خراش کر
پھرتا ہے کیا تو میر گلستاں میں غم زدہ
کچھ دل خراش لکھ بھی قلم اک تراش کر
میر تقی میر

مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد

دیوان چہارم غزل 1383
شعر دیواں کے میرے کر کر یاد
مجنوں کہنے لگا کہ ہاں استاد
خود کو عشق بتاں میں بھول نہ جا
متوکل ہو کر خدا کو یاد
سب طرف کرتے ہیں نکویاں کی
کس سے جا کر کوئی کرے فریاد
وحشی اب گردباد سے ہم ہیں
عمر افسوس کیا گئی برباد
چار دیواری عناصر میر
خوب جاگہ ہے پر ہے بے بنیاد
میر تقی میر

جی گیا آخر رہا دل کو جو غم حد سے زیاد

دیوان چہارم غزل 1382
اس کی دوری میں کڑھا کرتے ہیں ہم حد سے زیاد
جی گیا آخر رہا دل کو جو غم حد سے زیاد
چھاتی پھٹ جاتی جو یوں رک کر نہ کرتا ترک چشم
گذرے اس کے عشق میں جی پر ستم حد سے زیاد
خوف کر عاشق کے سر کٹنے کی قطعی ہے دلیل
ہو جہاں شمشیر ابرو اس کی خم حد سے زیاد
کچھ بھی نزدیک اس کے ٹھہرا ہو تو دیکھے بھر نظر
قدر ہے عاشق کی ان آنکھوں میں کم حد سے زیاد
پاس اس کے دم بخود پہروں تھے سو طاقت کہاں
بات کہتے میر اب کرتے ہیں دم حد سے زیاد
میر تقی میر

ہاتھ لگتے دل کے ہوجاتا ہوں کچھ میں زرد زرد

دیوان چہارم غزل 1381
تن کو جس جاگہ سے چھیڑوں ہوں وہاں ہے درد درد
ہاتھ لگتے دل کے ہوجاتا ہوں کچھ میں زرد زرد
اب تو وہ حسرت سے آہ و نالہ کرنا بھی گیا
کوئی دم ہونٹوں تک آجاتا ہے گاہے سرد سرد
میر تقی میر

اچھا بھی ہووے دل کا بیمار گاہ باشد

دیوان چہارم غزل 1380
جاوے جدائی کا یہ آزار گاہ باشد
اچھا بھی ہووے دل کا بیمار گاہ باشد
امیدوار اس کے ملنے کے جیسے ہیں ہم
آ نکلے ناز کرتا یاں یار گاہ باشد
گو قدر دل کی کم ہے پر چیز کام کی ہے
لے تو رکھیں تمھیں ہو درکار گاہ باشد
کہتا ہوں سو کرے ہے لیکن رہوں ہوں ڈرتا
آوے کسو سخن پر تکرار گاہ باشد
کہتے تو ہیں گئے سو کب آئے کیا کریں تب
جو خواب مرگ سے ہوں بیدار گاہ باشد
غصے سے اپنے ابرو جو خم کرے ہے ہر دم
وہ اک لگا بھی بیٹھے تلوار گاہ باشد
غیرت سے عشق کی ڈر کیا شیخ کبر دینی
تسبیح کا ہو رشتہ زنار گاہ باشد
وحشت پہ میری مت جا غیرت بہت ہے مجھ کو
ہو بیٹھوں مرنے کو بھی تیار گاہ باشد
ہے ضبط عشق مشکل ہوتا نہیں کسو سے
ڈر میر بھی ہو اس کا اظہار گاہ باشد
میر تقی میر

مشکل کریں ہیں جیسے گرفتار باش و بود

دیوان چہارم غزل 1379
کب سے ہے باغ کے پس دیوار باش و بود
مشکل کریں ہیں جیسے گرفتار باش و بود
دنیا میں اپنے رہنے کا کیا طور ہم کہیں
زنداں میں جوں کریں ہیں گنہگار باش و بود
بے یار کس کا جینے کو جی چاہتا ہے میر
کرتے ہیں ہم ستم زدہ ناچار باش و بود
میر تقی میر

اب میں ہوں جیسے دیر کا بیمار بدنمود

دیوان چہارم غزل 1378
زردی عشق سے ہے تن زار بدنمود
اب میں ہوں جیسے دیر کا بیمار بدنمود
بے برگی بے نوائی سے ہیں عشق میں نزار
پائیز دیدہ جیسے ہوں اشجار بدنمود
ہرچند خوب تجھ کو بنایا خدا نے لیک
اے ناز پیشہ کبر ہے بسیار بدنمود
ہیں خوشنما جو سہل مریں ہم ولے ترا
خونریزی میں ہماری ہے اصرار بدنمود
پوشیدہ رکھنا عشق کا اچھا تھا حیف میر
سمجھا نہ میں کہ اس کا ہے اظہار بدنمود
میر تقی میر

ہوتے ہیں ہم ستم زدہ بیمار ہر طرح

دیوان چہارم غزل 1376
پہنچے ہے ہم کو عشق میں آزار ہر طرح
ہوتے ہیں ہم ستم زدہ بیمار ہر طرح
ترکیب و طرح ناز و ادا سب سے دل لگی
اس طرح دار کے ہیں گرفتار ہر طرح
یوسف کی اس نظیر سے دل کو نہ جمع رکھ
ایسی متاع جاتی ہے بازار ہر طرح
جس طرح میں دکھائی دیا اس سے لگ پڑے
ہم کشت و خوں کے ہیں گے سزاوار ہر طرح
چھپ لک کے بام و در سے گلی کوچے میں سے میر
میں دیکھ لوں ہوں یار کو اک بار ہر طرح
میر تقی میر

سر کوئی پتھر سے مارے بھی تو مارے اس طرح

دیوان چہارم غزل 1375
مر گیا فرہاد جیسے مرتے بارے اس طرح
سر کوئی پتھر سے مارے بھی تو مارے اس طرح
ٹکڑے ٹکڑے کر دکھایا آپ کو میں نے اسے
یعنی جی مارا کرو آئندہ پیارے اس طرح
مست و بے خود ہر طرف پہروں پھرا کرتے ہو تم
حیف ہے آتے نہیں ٹک گھر ہمارے اس طرح
عشق کی کہیے طرح کیا وامق و فرہاد و قیس
بے کسانہ مر گئے وے لوگ سارے اس طرح
جو عرق تحریک میں اس رشک مہ کے منھ پہ ہے
میر کب ہووے ہیں گرم جلوہ تارے اس طرح
میر تقی میر

کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح

دیوان چہارم غزل 1374
کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح
کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح
جوں سبزہ چل چمن میں لب جو پہ سیر کر
عمر عزیز جاتی ہے آب رواں کی طرح
جو سقف بے عمد ہو نہیں اس کا اعتماد
کس خانماں خراب نے کی آسماں کی طرح
اثبات بے ثباتی ہوا ہوتا آگے تو
کیوں اس چمن میں ڈالتے ہم آشیاں کی طرح
اب کہتے ہیں بلا ہے ستم کش یہ پیرگی
قد جو ہوا خمیدہ ہمارا کماں کی طرح
نقصان جاں صریح تھا سودے میں عشق کے
ہم جان کر نکالی ہے جی کے زیاں کی طرح
دل کو جو خوب دیکھا تو ہو کا مکان ہے
ہے اس مکاں میں ساری وہی لامکاں کی طرح
کل دیکھ آفتاب کو رویا ہوں دیر تک
غصے میں ایسی ہی تھی مرے مہرباں کی طرح
جاوے گا اپنی بھول طرح داری میر وہ
کچھ اور ہو گئی جو کسو ناتواں کی طرح
میر تقی میر

جاے شراب پانی بھریں گے سبو کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1373
گل منعکس ہوئے ہیں بہت آب جو کے بیچ
جاے شراب پانی بھریں گے سبو کے بیچ
ستھرائو کردیا ہے تمناے وصل نے
کیا کیا عزیز مر گئے اس آرزو کے بیچ
بحث آپڑے جو لب سے تمھارے تو چپ رہو
کچھ بولنا نہیں تمھیں اس گفتگو کے بیچ
ہم ہیں قلندر آکر اگر دل سے دم بھریں
عالم کا آئینہ ہے سیہ ایک ہو کے بیچ
گل کی تو بو سے غش نہیں آتا کسو کے تیں
ہے فرق میر پھول کی اور اس کی بو کے بیچ
میر تقی میر

کیا ہوئی تقصیر اس کی نازبرداری کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1372
رنج کیا کیا ہم نے کھینچے دوستی یاری کے بیچ
کیا ہوئی تقصیر اس کی نازبرداری کے بیچ
دوش و آغوش و گریباں دامن گلچیں ہوئے
گل فشانی کر رہی ہے چشم خونباری کے بیچ
ایک کو اندیشۂ کار ایک کو ہے فکر یار
لگ رہے ہیں لوگ سب چلنے کی تیاری کے بیچ
منتظر تو رہتے رہتے پھر گئیں آنکھیں ندان
وہ نہ آیا دیکھنے ہم کو تو بیماری کے بیچ
جان کو قید عناصر سے نہیں ہے وارہی
تنگ آئے ہیں بہت اس چار دیواری کے بیچ
روتے ہی گذری ہمیں تو شب نشینی باغ کی
اوس سی پڑتی رہی ہے رات ہر کیاری کے بیچ
یاد پڑتا ہے جوانی تھی کہ آئی رفتگی
ہو گیا ہوں میں تو مست عشق ہشیاری کے بیچ
ایک ہوویں جو زبان و دل تو کچھ نکلے بھی کام
یوں اثر اے میر کیا ہو گریہ و زاری کے بیچ
میر تقی میر

تاثیر ہے گی اہل وفا کے ہنر کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1371
صورت پھرے نہ یار کی کیوں چشم تر کے بیچ
تاثیر ہے گی اہل وفا کے ہنر کے بیچ
خوش سیرتی ہے جس سے کہ ہوتا ہے اعتبار
ہے چوب خشک بو جو نہ ہووے اگر کے بیچ
اس کے سمند ناز کا پامال تو رہوں
اے کاش میری گور کریں رہگذر کے بیچ
منھ اس کا دیکھ رہیے کہ رفتار ناز کو
سرتا قدم ہے لطف ہی اس خوش پسر کے بیچ
ہر دانۂ سرشک میں تار نگاہ ہے
اس رشتے کی روش کہ جو ہووے گہر کے بیچ
کیا دل کو خوں کیا کہ تڑپنے لگا جگر
یکتاے روزگار ہیں ہم اس ہنر کے بیچ
ایسا ہوا ہے قیمہ کہ اب ہے حساب پاک
کہیے جو کچھ بھی باقی ہو اپنے جگر کے بیچ
ہے اپنے خانوادے میں اپنا ہی شور میر
بلبل بھی اک ہی بولتا ہوتا ہے گھر کے بیچ
میر تقی میر

اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1370
آگے تو رسم دوستی کی تھی جہاں کے بیچ
اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ
میں بے دماغ عشق اٹھا سو چلا گیا
بلبل پکارتی ہی رہی گلستاں کے بیچ
تحریک چلنے کی ہے جو دیکھو نگاہ کر
ہیئت کو اپنی موجوں میں آب رواں کے بیچ
کیا میل ہو ہما کی پس از مرگ میری اور
ہے جاے گیر عشق کی تب استخواں کے بیچ
کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کو سرور قلب
آیا نہیں یہ لفظ تو ہندی زباں کے بیچ
طالع سے بن گئی کہ ہم اس مہ کنے گئے
بگڑی تھی رات اس کے سگ و پاسباں کے بیچ
اتنی جبین رگڑی کہ سنگ آئینہ ہوا
آنے لگا ہے منھ نظر اس آستاں کے بیچ
خوگر ہوئے ہیں عشق کی گرمی سے خار و خس
بجلی پڑی رہی ہے مرے آشیاں کے بیچ
اس روے برفروختہ سے جی ڈرے ہے میر
یہ آگ جا لگے گی کسو دودماں کے بیچ
میر تقی میر

اور غرور سے ان نے ہم کو جانا کنکر پتھر آج

دیوان چہارم غزل 1369
ہم تو لب خوش رنگ کو اس کے مانا لعل احمر آج
اور غرور سے ان نے ہم کو جانا کنکر پتھر آج
عشق کے جو سرگشتہ ہوئے ہم رفتہ رفتہ دوار ہوا
پائوں میں چکر ہوتا ہے یاں سر کو بھی ہے چکر آج
عرش پہ دھونی لگانے کو تھے دود دل سے کب تک ہم
خاک پہ یاں کی درویشانہ ہم نے بچھایا بستر آج
جینے سے ہم غم کشتوں کے خاطر تم بھی جمع کرو
کل تک کام نہیں کھینچے گا غش آتا ہے اکثر آج
ملکوں ملکوں شہروں شہروں قریہ و قصبہ دیہ، و دیار
شعر وبیت و غزل پر اپنی ہنگامہ ہے گھر گھر آج
خط سے آگے مہر و وفا کا دعویٰ سب کچھ صادق تھا
جامۂ مصحف گو پہنے وہ کون کرے ہے باور آج
دیدہ و دل بھی اس کی جانب میل کلی رکھتے ہیں
عشق میں ہم بے کس ہیں واقع یار نہیں بے یاور آج
عشق کیا ہو ہم نے کہیں تو عشق ہمارا جی مارے
یوں ہی نکورو دلبر اپنا ہم سے ہوا ہے بدبر آج
رحم کی جاگہ کی ہے پیدا شاید اس کے دل میں بھی
دیکھ رہا ہے منھ کو ہمارے حال ہمارا سن کر آج
کل کہتے ہیں قیامت ہو گی کل کی کل ہی لیں گے دیکھ
یاں تو قیامت عشق میں اس کے ہے گی اپنے سر پر آج
کرتی ہے بووہ زلف معنبر آئے ہو بے خود سے کچھ
بارے مزاج شریف تمھارا میر گیا ہے کیدھر آج
میر تقی میر

کوئی گھڑی تو پاس رہو یاں پہروں فرصت کیا ہے آج

دیوان چہارم غزل 1368
حال برا ہے تم کو ہم سے اتنی غفلت کیا ہے آج
کوئی گھڑی تو پاس رہو یاں پہروں فرصت کیا ہے آج
سامنے ہے وہ آئینہ پر آنکھ نہیں کھل سکتی ہے
دل تنگی سے رکے ہے دم کیا کہیے صورت کیا ہے آج
فرق و تیغ جٹے رہتے ہیں جب سے دل کی لاگ لگی
اس ظالم بے رحم کی میری ایسی صحبت کیا ہے آج
شیشہ صراحی ساغر و مینا سب کل تک بھی حاضر تھے
کوے بادہ فروشاں میں یہ میری حرمت کیا ہے آج
میر کھڑے اک ساعت ہی میں غش تم کرنے لگتے ہو
تاب نہیں کیا ضعف ہے دل میں جی بے طاقت کیا ہے آج
میر تقی میر

دل ہمارا ہے بے قرار عبث

دیوان چہارم غزل 1367
عہد اس کا غلط قرار عبث
دل ہمارا ہے بے قرار عبث
ہم گلا کاٹتے ہی تھے اپنا
تو گلے کا ہوا ہے ہار عبث
لوہو رونے نے سب نچوڑ لیا
اب پیے خون روزگار عبث
آہ وہ کس قدر ہے مستغنی
لوگ اس کے ہوئے شکار عبث
ہم تو آگے ہی مر رہے ہیں میر
تیغ کھینچے پھرے ہے یار عبث
میر تقی میر

رکن کاہے کو چشم تر کی خونباری کا کیا باعث

دیوان چہارم غزل 1366
نہیں گر چوٹ دل پر گریہ و زاری کا کیا باعث
رکن کاہے کو چشم تر کی خونباری کا کیا باعث
ہوئے تختے چمن کے چھاتیاں اے عشق داغوں سے
بہار آنے سے آگے ایسی گل کاری کا کیا باعث
تماشا ہے کہ اکثر نرگسی زن رہتے ہو ہم پر
ہمیں سے پوچھو تو پھر میر بیماری کا کیا باعث
میر تقی میر

پر کیا ہی دل کو لگتی ہے اس بد زباں کی بات

دیوان چہارم غزل 1365
کرتا ہے گرچہ یاروں سے وہ ٹیڑھی بانکی بات
پر کیا ہی دل کو لگتی ہے اس بد زباں کی بات
تھی بحر کی سی لہر کہ آئی چلی گئی
پہنچی ہے اس سرے تئیں طبع رواں کی بات
اب تو وفا و مہر کا مذکور ہی نہیں
تم کس سمیں کی کہتے ہو ہے یہ کہاں کی بات
مرغ اسیر کہتے تھے کس حسرتوں سے ہائے
ہم بھی کبھی سنیں گے گلوں کے دہاں کی بات
شب باش ان نے کہتے ہیں آنے کہا ہے میر
دن اچھے ہوں تو یہ بھی ہو اس مہرباں کی بات
میر تقی میر

قدر بہت ہی کم ہے دل کی پر دل میں ہے چاہ بہت

دیوان چہارم غزل 1364
دل نے کام کیے ہیں ضائع دلبر ہے دل خواہ بہت
قدر بہت ہی کم ہے دل کی پر دل میں ہے چاہ بہت
راہ کی بات سنی بھی ہے تو جانا حرف غریب اس کو
خوبی پر اپنی حسن پر اپنے پھرتا ہے گمراہ بہت
حیرانی ہے کیونکر ہووے نسبت اپنی اس سے درست
بندہ تو ہے عاجز عاجز اس کو غرور اللہ بہت
شوق کا خط طومار ہوا تھا ہاتھ میں لے کر کھولا جب
کہنے لگا کیا کرنے لکھے ہے اب تو نامہ سیاہ بہت
سب کہتے ہیں روے توجہ ایدھر کرنے کہتا تھا
شاید یوں بھی ظاہر ہووے ہے تو سہی افواہ بہت
اب تو پیر ہی حضرت ہوکر ایک کنارے بیٹھے ہیں
جب تھی جوانی تب تو ہم بھی جاتے تھے درگاہ بہت
کیا گذری ہے جی پہ تمھارے ہم سے تو کچھ میر کہو
آنے لگی ہے درد و الم سے صاحب لب پر آہ بہت
میر تقی میر

شاید آوے گا خون ناب بہت

دیوان چہارم غزل 1363
چشم رہنے لگی پرآب بہت
شاید آوے گا خون ناب بہت
دیر و کعبے میں اس کے خواہش مند
ہوتے پھرتے ہیں ہم خراب بہت
دل کے دل ہی میں رہ گئے ارمان
کم رہا موسم شباب بہت
مارنا عاشقوں کا گر ہے ثواب
تو ہوا ہے تمھیں ثواب بہت
کہیے بے پردہ کیونکے عاشق ہیں
ہم کو لوگوں سے ہے حجاب بہت
میر بے خود ہیں اس جناب سے اب
چاہیے سب کو اجتناب بہت
میر تقی میر

دے کسے فرصت سپہر دوں ہے کم فرصت بہت

دیوان چہارم غزل 1362
دیر کب رہنا ملے ہے یاں نہیں مہلت بہت
دے کسے فرصت سپہر دوں ہے کم فرصت بہت
کم نہیں دیوانہ ہونا بھی ہمارا دفعتہ
ڈریے ہوجاوے خردور کی جو پلٹے مت بہت
گریہ و زاری سے روز وشب کی شکوے کچھ نہیں
مجھ کو رونا یہ ہے جی کو اس سے ہے الفت بہت
کیا وداع اس یار کے کوچے سے ہم مشکل ہوئے
زار باراں لوگ روتے تھے دم رخصت بہت
بعد مرگ آنکھیں کھلی رہنے سے یہ جانا گیا
دیکھنے کی اس کے میرے جی میں تھی حسرت بہت
سن کے ضائع روزگاری اس کی جی لایا نہ تاب
آپ کو کر بیٹھے ضائع ہم کو تھی غیرت بہت
آنکھیں جاتی ہیں مندی ضعف دلی سے دم بہ دم
ان دنوں ان کو بھی ایدھر ہی سے ہے غفلت بہت
دل گئے پر آج کل سے چپ نہیں مجھ کو لگی
گذری اس بھی بات کو اے ہم نفس مدت بہت
دل میں جا کرتا ہے طورمیر شاید دوستاں
ان نے صاحب دل کسو سے رکھی ہے صحبت بہت
میر تقی میر

تکتے راہ رہے ہیں دن کو آنکھوں میں جاتی ہے رات

دیوان چہارم غزل 1361
جب سے آنکھیں لگی ہیں ہماری نیند نہیں آتی ہے رات
تکتے راہ رہے ہیں دن کو آنکھوں میں جاتی ہے رات
سخت ہیں کیا ایام جدائی دشواری سے کٹتے ہیں
دن دیواروں سے سرماروں ہوں پتھر ہے چھاتی ہے رات
جوں توں ہجر کے غم میں اس کے شام و سحر ہم کرتے ہیں
ورنہ کسے دن خوش آتا ہے کس کے تئیں بھاتی ہے رات
رات کو جس میں چین سے سوویں سو تو اس کی جدائی میں
شمع نمط جلتے رہتے ہیں اور ہمیں کھاتی ہے رات
روز و شب کی اپنی معیشت نقل کریں کیا تم سے میر
دن کو قیامت جی پہ رہے ہے سر پہ بلا لاتی ہے رات
میر تقی میر

اس ستمگر کے ہم ہیں شہر غریب

دیوان چہارم غزل 1360
کوئی اپنا نہ یار ہے نہ حبیب
اس ستمگر کے ہم ہیں شہر غریب
سر رگڑتے اس آستاں پر میر
یاری کرتے اگر ہمارے نصیب
میر تقی میر

مکر ہے عہد سب قرار فریب

دیوان چہارم غزل 1359
یار میرا بہت ہے یار فریب
مکر ہے عہد سب قرار فریب
راہ رکھتے ہیں اس کے دام سے صید
ہے بلا کوئی وہ شکار فریب
عہدے سے نکلیں کس طرح عاشق
ایک ادا اس کی ہے ہزار فریب
التفات زمانہ پر مت جا
میر دیتا ہے روزگار فریب
میر تقی میر

ملا کے آنکھیں دروغ کہنا کہاں تلک کچھ حیا کرو اب

دیوان چہارم غزل 1358
خلاف وعدہ بہت ہوئے ہو کوئی تو وعدہ وفا کرو اب
ملا کے آنکھیں دروغ کہنا کہاں تلک کچھ حیا کرو اب
خیال رکھیے نہ سرکشی کا سنو ہو صاحب کہ پیری آئی
خمیدہ قامت بہت ہوا ہے جھکائے سر ہی رہا کرو اب
کہاں ہے طاقت جو میر کا دل سب ان بلائوں کی تاب لاوے
کرشمے غمزے کو ناز سے ٹک ہماری خاطر جدا کرو اب
میر تقی میر

ناامید اس زندگانی کرنے سے اکثر ہے اب

دیوان چہارم غزل 1357
کیا کریں تدبیر دل مقدور سے باہر ہے اب
ناامید اس زندگانی کرنے سے اکثر ہے اب
جن دنوں ہم کافروں سے ربط تھا وے ہوچکے
وہ بت بے مہر اپنی اور سے پتھر ہے اب
دور تک رسوا ہوا ہوں شہروں شہروں ملک ملک
میرے شعر و شاعری کا تذکرہ گھر گھر ہے اب
وہ طبیعت ہی نہیں ہے میری اے مشفق طبیب
کر دوا جو طبع میں آوے تری بہتر ہے اب
بے خود اس مست ادا و ناز بن رہتے ہیں ہم
عالم اپنا دیکھیے تو عالم دیگر ہے اب
وہ سپاہی پیشہ لوگوں ہی میں رہتا ہے گھرا
گرد پیش اس دشمن احباب کے لشکر ہے اب
گفتگو انسان سے محشر میں ہے یعنی کہ میر
سارا ہنگامہ قیامت کا مرے سر پر ہے اب
میر تقی میر

دیدئہ تر ابر سا چھایا ہے اب

دیوان چہارم غزل 1356
جوش رونے کا مجھے آیا ہے اب
دیدئہ تر ابر سا چھایا ہے اب
ٹیڑھے بانکے سیدھے سب ہوجائیں گے
اس کے بالوں نے بھی بل کھایا ہے اب
ہوں بخود تو کوئی پہنچے مجھ تلک
بے خودی نے دور پہنچایا ہے اب
کاش کے ہوجائے سینہ چاک چاک
رکتے رکتے جی بھی گھبرایا ہے اب
راہ پر وہ کیونکے آوے مست ناز
دشمنوں نے اس کو بہکایا ہے اب
کیا جئیں گے داغ ہوکر خوں ہوا
زندگی کا دل جو سرمایہ ہے اب
میر شاید کعبے ہی میں رہ پڑے
دیر سے تو یاں خدا لایا ہے اب
میر تقی میر

زندگانی ہی درد سر ہے اب

دیوان چہارم غزل 1355
درد سر کا پہر پہر ہے اب
زندگانی ہی درد سر ہے اب
وہ دماغ ضعیف بھی نہ رہا
بے دماغی ہی بیشتر ہے اب
کیا ہمیں ہم تو ہو چلے ٹھنڈے
گرم گو یار کی خبر ہے اب
کیا کہیں حال خاطر آشفتہ
دل خدا جانیے کدھر ہے اب
عزلتی میر جوں صبا اس بن
خاک بر سر ہے دربدر ہے اب
میر تقی میر

آتے ہیں کھنچے ہم کبھو بیگار میں صاحب

دیوان چہارم غزل 1354
بیکار بھی درکار ہیں سرکار میں صاحب
آتے ہیں کھنچے ہم کبھو بیگار میں صاحب
محروم نہ رہ جائیں کہیں بعدفنا بھی
شبہ، ہے ہمیں یار کے دیدار میں صاحب
لیتی ہے ہوا رنگ سراپا سے تمھارے
معلوم نہیں ہوتے ہو گلزار میں صاحب
رہتا تھا سرزلف بھی زیرکلہ آگے
سو بال گھڑس نکلے ہیں دستار میں صاحب
ہے چار طرف شور مری بے خبری کا
کیا کیا خبریں آتی ہیں اخبار میں صاحب
گو فہم نہ ہو کفر کی اسلام کی نسبت
رشتہ ہے عجب سبحہ و زنار میں صاحب
یا گفتگو کا میری نہ کرتے تھے کبھو ذکر
یا ہر سخن اب آوے ہے تکرار میں صاحب
طالع سے زلیخا نے لیا مصر میں یوسفؑ
کب ایسا غلام آوے ہے بازار میں صاحب
رکھتی ہے لکھا ساتھ مٹا دینے کا میرے
جوہر نہیں ہے آپ کی تلوار میں صاحب
یہ عرض مری یاد رہے بندگی میں میر
جی بچتے نہیں عشق کے اظہار میں صاحب
میر تقی میر

آنسو آتے ہیں اب شتاب شتاب

دیوان چہارم غزل 1353
کیا گئی جان و دل سے تاب شتاب
آنسو آتے ہیں اب شتاب شتاب
ہلیں وے پلکیں اور کیے رخنے
حال دل ہو گیا خراب شتاب
یوں صبا بھی سبک نہیں جاتی
جوں گیا موسم شباب شتاب
پیر ہوکر ہوا ہوں یوں غافل
جیسے لڑکوں کو آوے خواب شتاب
مرتے ہیں ہو جواب نامہ وہی
آوے خط کا اگر جواب شتاب
مہربانی تو دیر میں ہے کبھو
ہے دل آزاری و عتاب شتاب
یاں قدم چاہیے رکھیں گن کر
میر لے ہے کوئی حساب شتاب
میر تقی میر

حواس گم ہیں دماغ کم ہے رہا سہا بھی گیا شعور اب

دیوان چہارم غزل 1352
ہوا جو دل خوں خرابی آئی ہر ایک اعضا میں ہے فتور اب
حواس گم ہیں دماغ کم ہے رہا سہا بھی گیا شعور اب
مریں گے غائب ہزار یوں تو نظر میں ہرگز نہ لاوے گا تو
کریں گے ضائع ہم آپ ہی کو بتنگ ہوکر ترے حضور اب
وجوب و امکاں میں کیا ہے نسبت کہ میر بندے کا پیش صاحب
نہیں ہے ہونا ضرور کچھ تو مجھے بھی ہونا ہے کیا ضرور اب
میر تقی میر

اسی میں ہو گا کچھ وارا ہمارا

دیوان چہارم غزل 1351
وفاداری نے جی مارا ہمارا
اسی میں ہو گا کچھ وارا ہمارا
چڑھی تیوری کبھو اس کی نہ اتری
غضب ہے قہر ہے پیارا ہمارا
رہا افسوس آنکھیں تر ہوئیں تو
کہ آنسو تھا جگر پارہ ہمارا
گلہ لب تک نہ آیا میر ہرگز
کھپا جی ہی میں غم سارا ہمارا
میر تقی میر

دل کا ہنگامہ قیامت خاک کے عالم میں تھا

دیوان چہارم غزل 1350
تھا محبت سے کبھو ہم میں کبھو یہ غم میں تھا
دل کا ہنگامہ قیامت خاک کے عالم میں تھا
کیا ہوا پہلو سے دل کیا جانو کیا جانوں ہوں میں
ایک قطرہ خوں جھمکتا صبح چشم نم میں تھا
میر گذرے دونوں یاں عید و محرم ایک سے
یعنی دس دن جینے کے میں اپنے ہی ماتم میں تھا
میر تقی میر

اس پردے کے اٹھ جانے سے اس کو ہم سے حجاب ہوا

دیوان چہارم غزل 1349
چاہت کا اظہار کیا سو اپنا کام خراب ہوا
اس پردے کے اٹھ جانے سے اس کو ہم سے حجاب ہوا
ساری ساری راتیں جاگے عجز و نیاز و زاری کی
تب جاکر ملنے کا اس کے صبح کے ہوتے جواب ہوا
کیا کہیے مہتاب میں شب کی وہ بھی ٹک آبیٹھا تھا
تاب رخ اس مہ نے دیکھی سو درجے بیتاب ہوا
شمع جو آگے شام کو آئی رشک سے جل کر خاک ہوئی
صبح گل تر سامنے ہوکر جوش شرم سے آب ہوا
مرتے نہ تھے ہم عشق کے رفتہ بے کفنی سے یعنی میر
دیر میسر اس عالم میں مرنے کا اسباب ہوا
میر تقی میر

دانت تمھارے منھ میں کے ہیں اس مغرور نے یوں نہ کہا

دیوان چہارم غزل 1348
پیری میں بے دنداں ہو بیٹھے پر افسوس یہ ہم کو رہا
دانت تمھارے منھ میں کے ہیں اس مغرور نے یوں نہ کہا
کیا روداد کہیں ہم اپنے گریۂ زار محبت کی
رونا سا کوئی روئے ہیں آنکھوں سے اک رود بہا
صبر مرا سا بے جرمی پر ہو نہ سکے گا انساں سے
جور و جفا و ستم جو گذرے سب کچھ میں نے میر سہا
میر تقی میر

جامہ زیبوں نے غضب آگ پہ دامن مارا

دیوان چہارم غزل 1347
سینے کا سوز بہت بھڑکا جلا تن مارا
جامہ زیبوں نے غضب آگ پہ دامن مارا
صورت اس کی مری کھینچی تھی گلے لگتے ہوئے
سو جفاکار نے نقاش کو گردن مارا
دل ہی میں خون ہوئی وصل کی خواہش اے میر
ہم نے آزادگی ہجر سے کیا من مارا
میر تقی میر

داغ سے تن گلزار کیا سب آنکھوں کو خونبار کیا

دیوان چہارم غزل 1346
زار کیا بیمار کیا اس دل نے کیا آزار کیا
داغ سے تن گلزار کیا سب آنکھوں کو خونبار کیا
جرم ہے ہم الفت کشتوں کا لگ پڑنے سے شوخ ہوا
اب کہتے ہیں دل میں اپنے ہم نے اسے کیوں پیار کیا
چاہا ہم نے کیا کیا تھا پر اپنا چاہا کچھ نہ ہوا
عزت کھوئی ذلت کھینچی عشق نے خوار و زار کیا
پیش گئی کب پیش زمانہ طبع خشن ہر ناکس کی
اک گردش میں سپہر نے جیسے سطح زمیں ہموار کیا
سادگی میری آہ نہ جانا جی ہی اس میں جاتا ہے
عشق کا اس پرکار کے میں نے لوگوں میں اقرار کیا
میر تقی میر

ظلم صریح عشق کی امداد سے ہوا

دیوان چہارم غزل 1345
نے ہم سے کچھ نہ اس ستم ایجاد سے ہوا
ظلم صریح عشق کی امداد سے ہوا
شیریں کا حسن ایسا تھا جو خستہ جان دیں
جو کچھ ہوا سو خواہش فرہاد سے ہوا
خوش زمزمہ طیور ہی ہوتے ہیں میر اسیر
ہم پر ستم یہ صبح کی فریاد سے ہوا
میر تقی میر

ناکام عشق تب تو عاشق کا نام نکلا

دیوان چہارم غزل 1344
یاری کیے کسو کا کاہے کو کام نکلا
ناکام عشق تب تو عاشق کا نام نکلا
ہنگامے سے جہاں میں ہم نے جنوں کیا ہے
ہم جس طرف سے نکلے ساتھ ازدحام نکلا
پامالی کے خطر سے نکلا نہ کبک اودھر
جیدھر سے ناز کرتا وہ خوش خرام نکلا
جنگ زمانہ میں تو مبحث ہے عشق ہی کا
بے جا ہوا دل اپنا جب وہ مقام نکلا
جانا تھا تجھ کو ہم نے تو پختہ مغز ہو گا
دیکھا تو میر تیرا سودا بھی خام نکلا
میر تقی میر

گیا دل سو ہم پر ستم کر گیا

دیوان چہارم غزل 1343
جگر خوں کیا چشم نم کر گیا
گیا دل سو ہم پر ستم کر گیا
ان آنکھوں کو نرگس لکھا تھا کہیں
مرے ہاتھ دونوں قلم کر گیا
شب اک شعلہ دل سے ہوا تھا بلند
تن زار میرا بھسم کر گیا
مرے مزرع زرد پر شکر ہے
کل اک ابر آیا کرم کر گیا
نہ اک بار وعدہ وفا کرسکا
بہت بار قول و قسم کر گیا
فقیری میں تھا شیب بارگراں
قد راست کو اپنے خم کر گیا
بکاے شب و روز اب چھوڑ میر
نواح آنکھوں کا تو ورم کر گیا
میر تقی میر

ولے اس کی نایابی نے جان مارا

دیوان چہارم غزل 1342
اگرچہ جہاں میں نے سب چھان مارا
ولے اس کی نایابی نے جان مارا
قیامت کو جرمانۂ شاعری پر
مرے سر سے میرا ہی دیوان مارا
رہائی ہے اس صیدافگن سے مشکل
گیا سانجھ تو صبح پھر آن مارا
لگا آتشیں نالہ شب اپنے دل کو
اس انداز سے جیسے اک بان مارا
قیامت کا عرصہ ہے اے میر درہم
مرے شور و زاری نے میدان مارا
میر تقی میر

چہرے سے خونناب ملوں گا پھولوں سے گل کھائوں گا

دیوان چہارم غزل 1341
دل کو کہیں لگنے دو میرے کیا کیا رنگ دکھائوں گا
چہرے سے خونناب ملوں گا پھولوں سے گل کھائوں گا
عہد کیے جائوں ہوں اب کے آخر مجھ کو غیرت ہے
تو بھی منانے آوے گا تو ساتھ نہ تیرے جائوں گا
گرچہ نصیحت سب ضائع ہے لیکن خاطر ناصح کی
دل دیوانہ کیا سمجھے گا اور بھی میں سمجھائوں گا
جھک کے سلام کسو کو کرنا سجدہ ہی ہوجاتا ہے
سر جاوے گو اس میں میرا سر نہ فرو میں لائوں گا
سر ہی سے سر واہ یہ سب ہے ہجر کی اس کے کلفت میں
سر کو کاٹ کے ہاتھ پہ رکھے آپھی ملنے جائوں گا
خاک ملا منھ خون آنکھوں میں چاک گریباں تا دامن
صورت حال اب اپنی اس کے خاطرخواہ بنائوں گا
دل کے تئیں اس راہ میں کھو افسوس کناں اب پھرتا ہوں
یعنی رفیق شفیق پھر ایسے میر کہاں میں پائوں گا
میر تقی میر

کہاں تلک گل نہ ہووے غنچہ رہا مندے منھ سو تنگ آیا

دیوان چہارم غزل 1340
بہار آئی چلو چمن میں ہوا کے اوپر بھی رنگ آیا
کہاں تلک گل نہ ہووے غنچہ رہا مندے منھ سو تنگ آیا
چلے ہیں مونڈھے پھٹی ہے کہنی چسی ہے چولی پھنسی ہے مہری
قیامت اس کی ہے تنگ پوشی ہمارا جی تو بتنگ آیا
وہی ہے رونا وہی ہے کڑھنا وہی ہے شورش جوانی کی سی
بڑھاپا آیا ہے عشق ہی میں پہ میر ہم کو نہ ڈھنگ آیا
میر تقی میر

کام اپنے وہ کیا آیا جو کام ہمارے آوے گا

دیوان چہارم غزل 1339
خوں نہ ہوا دل چاہیے جیسا گو اب کام سے جاوے گا
کام اپنے وہ کیا آیا جو کام ہمارے آوے گا
آنکھیں لگی رہتی ہیں اکثر چاک قفس سے اسیروں کی
جھونکا باد بہاری کا گل برگ کوئی یاں لاوے گا
فتنے کتنے جمع ہوئے ہیں زلف و خال و خد و قد
کوئی نہ کوئی عہد میں میرے سران میں سے اٹھاوے گا
عشق میں تیرے کیا کیا سن کر یار گئی کر جاتے ہیں
یعنی غم کھاتے ہیں بہت ہم غم بھی ہم کو کھاوے گا
ایک نگہ کی امید بھی اس کی چشم شوخ سے ہم کو نہیں
ایدھر اودھر دیکھے گا پر ہم سے آنکھ چھپاوے گا
اب تو جوانی کا یہ نشہ ہی بے خود تجھ کو رکھے گا
ہوش گیا پھر آوے گا تو دیر تلک پچھتاوے گا
دیر سے اس اندیشے نے ناکام رکھا ہے میر ہمیں
پائوں چھوئیں گے اس کے ہم تو وہ بھی ہاتھ لگاوے گا
میر تقی میر

صدشکر کہ مستی میں جانا نہ کہاں آیا

دیوان چہارم غزل 1338
ہم کوے مغاں میں تھے ماہ رمضاں آیا
صدشکر کہ مستی میں جانا نہ کہاں آیا
گو قدر محبت میں تھی سہل مری لیکن
سستا جو بکا میں تو مجھ کو بھی گراں آیا
رسم اٹھ گئی دنیا سے اک بار مروت کی
کیا لوگ زمیں پر ہیں کیسا یہ سماں آیا
یہ نفع ہوا نقصاں چاہت میں کیا جی کا
کی ایک نگہ ان نے سو جی کا زیاں آیا
بلبل بھی تو نالاں تھی پر سارے گلستاں میں
اک آگ پھنکی میں جب سرگرم فغاں آیا
طائر کی بھی رہتی ہے پھر جان چمن ہی میں
گل آئے جہاں وہ بھی جوں آب رواں آیا
خلوت ہی رہا کی ہے مجلس میں تو یوں اس کی
ہوتا ہے جہاں یک جا میں میر جہاں آیا
میر تقی میر

ہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا

دیوان چہارم غزل 1337
خوب کیا جو اہل کرم کے جود کا کچھ نہ خیال کیا
ہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا
روند کے جور سے ان نے ہم کو پائوں حنائی اپنے کیے
خون ہمارا بسمل گہ میں کن رنگوں پامال کیا
نکلے ہے گر گھاس جلی بھی خاک سے الفت کشتوں کی
یہ بالیدہ سپہر پھرے ہے گویا ان نے نہال کیا
دل جو ہمارا خون ہوا تھا رنج و الم میں گذری ہمیں
یعنی ماتم اس رفتہ کا ہم نے ماہ و سال کیا
میر سدا بے حال رہو ہو مہر و وفا سب کرتے ہیں
تم نے عشق کیا سو صاحب کیا یہ اپنا حال کیا
میر تقی میر

کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا

دیوان چہارم غزل 1336
جان اپنا جو ہم نے مارا تھا
کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا
کون لیتا تھا نام مجنوں کا
جب کہ عہد جنوں ہمارا تھا
کوہ فرہاد سے کہیں آگے
سر مرا اور سنگ خارا تھا
ہم تو تھے محو دوستی اس کے
گوکہ دشمن جہان سارا تھا
لطف سے پوچھتا تھا ہر کوئی
جب تلک لطف کچھ تمھارا تھا
آستاں کی کسو کے خاک ہوا
آسماں کا بھی کیا ستارہ تھا
پائوں چھاتی پہ میری رکھ چلتا
یاں کبھو اس کا یوں گذارا تھا
موسم گل میں ہم نہ چھوٹے حیف
گشت تھا دید تھا نظارہ تھا
اس کی ابرو جو ٹک جھکی ایدھر
قتل کا تیغ سے اشارہ تھا
عشق بازی میں کیا موئے ہیں میر
آگے ہی جی انھوں نے ہارا تھا
میر تقی میر

دانتوں کو سلک در جو کہا میں سو لڑ گیا

دیوان چہارم غزل 1335
اوصاف مو کے شعر سے الجھائو پڑ گیا
دانتوں کو سلک در جو کہا میں سو لڑ گیا
جیتے جی یہ ملا نہ رہا سو رہا غریب
جو دل شکستہ ساتھ سے اس کے بچھڑ گیا
کیا اس کے دل جلے کی تمامی میں دیر ہو
جیسے چراغ صبح شتابی نبڑ گیا
فرہاد پہلوان محبت پہاڑ تھا
بے طاقتی جو دل نے بہت کی پچھڑ گیا
گل رنگ رنگ شاخ سے نکلا بہار میں
آنکھیں سی کھل گئی ہیں جو مرجھا کے جھڑ گیا
یاں حادثے کی بائو سے ہر اک شجر حجر
کیسا ہی پائدار تھا آخر اکھڑ گیا
شرماوے سرو ہووے اگر آدمی روش
وصف اس کے قد کا میر سے سن کر اکڑ گیا
میر تقی میر

آخر اب دوری میں جی جاتا رہا

دیوان چہارم غزل 1334
عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا
آخر اب دوری میں جی جاتا رہا
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیں
چہرئی چہرہ ہی وہ بھاتا رہا
دل ہوا کب عشق کی رہ کا دلیل
میں تو خود گم ہی اسے پاتا رہا
منھ دکھاتا برسوں وہ خوش رو نہیں
چاہ کا یوں کب تلک ناتا رہا
کچھ نہ میں سمجھا جنون و عشق میں
دیر ناصح مجھ کو سمجھاتا رہا
داغ تھا جو سر پہ میرے شمع ساں
پائوں تک مجھ کو وہی کھاتا رہا
کیسے کیسے رک گئے ہیں میر ہم
مدتوں منھ تک جگر آتا رہا
میر تقی میر

رنگ بدن میت کے رنگوں جیتے جی ہی پہ زرد ہوا

دیوان چہارم غزل 1333
عشق کی ہے بیماری ہم کو دل اپنا سب درد ہوا
رنگ بدن میت کے رنگوں جیتے جی ہی پہ زرد ہوا
تب بھی نہ سر کھینچا تھا ہم نے آخر مر کر خاک ہوئے
اب جو غبارضعیف اٹھا تھا پامالی میں گرد ہوا
میر تقی میر

جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آگیا

دیوان چہارم غزل 1332
مکے گیا مدینے گیا کربلا گیا
جیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آگیا
دیکھا ہو کچھ اس آمدوشد میں تو میں کہوں
خود گم ہوا ہوں بات کی تہ اب جو پا گیا
کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آبدیدہ کیوں
مانند ابر دیدئہ تر اب تو چھا گیا
جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میں
یک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا
وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سے
جوں جوں نیاز کرکے میں اس سے لگا گیا
جور سپہر دوں سے برا حال تھا بہت
میں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا
دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسے
پھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا
بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میر
صف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا
میر تقی میر

مژہ نم رہیں حال درہم رہا

دیوان چہارم غزل 1331
کیا عشق سو پھر مجھے غم رہا
مژہ نم رہیں حال درہم رہا
ضعیف و قوی دونوں رہتے نہیں
نہ یاں زال ٹھہرا نہ رستم رہا
سحر جلوہ کیوں کر کرے کل ہوکیا
یہ اندیشہ ہر رات ہر دم رہا
ہوا غم مجھے خوں جگر میں نہیں
اگر آنسو آتے کوئی تھم رہا
رہی آتی آندھی سی سینے میں میر
بہت دل تڑپنے کا اودھم رہا
میر تقی میر

عشق میں کس حسن سے فرہاد ظالم مر گیا

دیوان چہارم غزل 1330
صورت شیریں کے آگے کام اپنا کر گیا
عشق میں کس حسن سے فرہاد ظالم مر گیا
خانہ آبادی ہمیں بھی دل کی یوں ہے آرزو
جیسے جلوے سے ترے گھر آرسی کا بھر گیا
میر سختی کش تھا غافل پر خدا نے خیر کی
حادثے کا کیسا اس کے سر پہ سے پتھر گیا
میر تقی میر

سبھوں سے پاتے ہیں بیگانہ آشنا تیرا

دیوان چہارم غزل 1329
پھرے ہے وحشی سا گم گشتہ عشق کا تیرا
سبھوں سے پاتے ہیں بیگانہ آشنا تیرا
دریغ و درد تجھے کیوں ہے یاں تو جی ہی گئے
ہوا ہے ایک نگہ میں زیان کیا تیرا
جہاں بھرا ہے ترے شور حسن و خوبی سے
لبوں پہ لوگوں کے ہے ذکر جا بجا تیرا
نگاہ ایک ادھر ایک تیغ تیز کی اور
ہمارا خون ہی کرنا ہے مدعا تیرا
نظر کنھوں نے نہ کی حال میر پر افسوس
غریب شہروفا تھا وہ خاک پا تیرا
میر تقی میر

جامے کا دامن پائوں میں الجھا ہاتھ آنچل اکلائی کا

دیوان چہارم غزل 1328
ترک لباس سے میرے اسے کیا وہ رفتہ رعنائی کا
جامے کا دامن پائوں میں الجھا ہاتھ آنچل اکلائی کا
پاس سے اٹھ چلتا ہے وہ تو آپ میں میں رہتا ہی نہیں
لے جاتا ہے جا سے مجھ کو جانا اس ہرجائی کا
حال نہ میرا دیکھے ہے نہ کہے سے تامل ہے اس کو
محو ہے خود آرائی کا یا بے خود ہے خودرائی کا
ظاہر میں خورشید ہوا وہ نور میں اپنے پنہاں ہے
خالی نہیں ہے حسن سے چھپنا ایسے بھی پیدائی کا
یاد میں اس کی قامت کی میں لوہو رو روسوکھ گیا
آخر یہ خمیازہ کھینچا اس خرچ بالائی کا
بعد مرگ چراغ نہ لاوے گور پہ وہ عاشق کی آہ
جیتے جی بھی داغ ہی تھا میں اس کی بے پروائی کا
چشم وفا اخوان زماں سے سادہ ہو سو رکھے میر
قصہ ہے مشہور زمانہ پہلے دونوں بھائی کا
میر تقی میر

ضعف اتنا تھا کہے بات ڈھلا جاتا تھا

دیوان چہارم غزل 1327
دل سنبھالے کہیں میں کل جو چلا جاتا تھا
ضعف اتنا تھا کہے بات ڈھلا جاتا تھا
بے دماغی کا سماں دیکھنے کی کس کو تاب
آنکھیں ملتا تھا جو وہ جی ہی ملا جاتا تھا
سوزش دل کے سبب مرگ نہ تھی عاشق کی
اپنی غیرت میں وہ کچھ آپھی جلا جاتا تھا
ہلہلاوے ہے حقیری سے مجھے اب وہ بھی
جس شکستے سے نہ جاگہ سے ہلا جاتا تھا
میر کو واقعہ کیا جانیے کیا تھا درپیش
کہ طرف دشت کے جوں سیل چلا جاتا تھا
میر تقی میر

کیا خرابی سر پہ لایا صومعہ ویراں کیا

دیوان چہارم غزل 1326
عشق رسوائی طلب نے مجھ کو سرگرداں کیا
کیا خرابی سر پہ لایا صومعہ ویراں کیا
ہم سے تو جز مرگ کچھ تدبیر بن آتی نہیں
تم کہو کیا تم نے درد عشق کا درماں کیا
داخل دیوانگی ہی تھی ہماری عاشقی
یعنی اس سودے میں ہم نے جان کا نقصاں کیا
شکر کیا اس کی کریمی کا ادا بندے سے ہو
ایسی اک ناچیز مشت خاک کو انساں کیا
تیغ سی بھوویں جھکائیں برچھیاں سی وے مژہ
خون کا مجھ بے سر و پا کے بلا ساماں کیا
ایک ہی انداز نے اس کافر بے مہر کے
ساکنان کعبہ کو بے دین و بے ایماں کیا
لکھنؤ دلی سے آیا یاں بھی رہتا ہے اداس
میر کو سرگشتگی نے بے دل و حیراں کیا
میر تقی میر

کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا

دیوان چہارم غزل 1325
شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا
کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا
بے یار حیف باغ میں دل ٹک بہل گیا
دے گل کو آگ چار طرف میں نہ جل گیا
اس آہوے رمیدہ کی شوخی کہیں سو کیا
دکھلائی دے گیا تو چھلاوا سا چھل گیا
دن رات خوں کیا ہی کیے ہم جگر کو پھر
گر پھول گل سے کوئی گھڑی جی بہل گیا
تیور بدلنے سے تو نہیں اس کے بے حواس
اندیشہ یہ ہے طور ہی اس کا بدل گیا
ہرچند میں نے شوق کو پنہاں کیا ولے
ایک آدھ حرف پیار کا منھ سے نکل گیا
کرتے ہیں نذر ہم کہ نہ الفت کریں کہیں
گر دل ضعیف اب کے ہمارا سنبھل گیا
چلنے لگے تھے راہ طلب پر ہزار شکر
پہلے قدم ہی پائوں ہمارا بچل گیا
میں دہ دلا تو آگے ہی تھا فرط شوق سے
طور اس کا دیکھ اور بھی کچھ دل دہل گیا
سر اب لگے جھکانے بہت خاک کی طرف
شاید کہ میرجی کا دماغی خلل گیا
میر تقی میر

دیکھ اس کو بے دماغ نشہ سب اتر گیا

دیوان چہارم غزل 1324
ہم مست عشق جس کے تھے وہ روٹھ کر گیا
دیکھ اس کو بے دماغ نشہ سب اتر گیا
جاں بخشی اس کے ہونٹوں کی سن آب زندگی
ایسا چھپا کہیں کہ کہا جائے مر گیا
کہتے ہیں میر کعبے گیا ترک عشق کر
راہ دل شکستہ کدھر وہ کدھر گیا
میر تقی میر

جی کو مہماں سنتے تھے مہمان سا آیا گیا

دیوان چہارم غزل 1323
دل کو گل کہتے تھے درد و غم سے مرجھایا گیا
جی کو مہماں سنتے تھے مہمان سا آیا گیا
عشق سے ہو حال جی میں کچھ تو کہیے دیکھیو
ایک دن باتیں ہی کرتے کرتے سنّایا گیا
جستجو میں یہ تعب کھینچے کہ آخر ہو گئے
ہم تو کھوئے بھی گئے لیکن نہ تو پایا گیا
اک نگہ کرنے میں غارت کردیا اے وائے ہم
دل جو ساری عمر کا اپنا تھا سرمایہ گیا
کیا تعجب ہے جو کوئی دل زدہ ناگہ مرے
اضطراب عشق میں جی تن سے گھبرایا گیا
ماہ کہتے تو کہا اس روے خوش کا ہے حریف
شہر میں پھر ہم سے اپنا منھ نہ دکھلایا گیا
جیسے پرچھائیں دکھائی دے کے ہوجاتی ہے محو
میر بھی اس کام جاں کا ووہیں تھا سایہ گیا
میر تقی میر

لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا

دیوان چہارم غزل 1322
دیوانگی میں مجنوں میرے حضور کیا تھا
لڑکا سا ان دنوں تھا اس کو شعور کیا تھا
گردن کشی سے اپنی مارے گئے ہم آخر
عاشق اگر ہوئے تھے ناز و غرور کیا تھا
غم قرب و بعد کا تھا جب تک نہ ہم نے جانا
اب مرتبہ جو سمجھے وہ اتنا دور کیا تھا
اے وائے یہ نہ سمجھے مارے پڑیں گے اس میں
اظہار عشق کرنا ہم کو ضرور کیا تھا
مرتا تھا جس کی خاطر اس کی طرف نہ دیکھا
میر ستم رسیدہ ظالم غیور کیا تھا
میر تقی میر

یاں پھر اگر آئوں گا سید نہ کہائوں گا

دیوان چہارم غزل 1321
در پر سے ترے اب کے جائوں گا تو جائوں گا
یاں پھر اگر آئوں گا سید نہ کہائوں گا
یہ نذر بدی ہے میں کعبے سے جو اٹھنا ہو
بت خانے میں جائوں گا زنار بندھائوں گا
آزار بہت کھینچے یہ عہد کیا ہے اب
آئندہ کسو سے میں دل کو نہ لگائوں گا
سرگرم طلب ہوکر کھویا سا گیا آپھی
کیا جانیے پائوں گا یا اس کو نہ پائوں گا
گو میر ہوں چپکا سا پر طرفہ ہنرور ہوں
بگڑے گا نہ ٹک وہ تو سو باتیں سنائوں گا
میر تقی میر

اس زلف پرشکن نے مجھے مبتلا کیا

دیوان چہارم غزل 1320
یہ دل نے کیا کیا کہ اسیر بلا کیا
اس زلف پرشکن نے مجھے مبتلا کیا
گو بے کسی سے عشق کی آتش میں جل بجھا
میں جوں چراغ گور اکیلا جلا کیا
آیا نہ اس طرف سے جواب ایک حرف کا
ہر روز خط شوق ادھر سے چلا کیا
ڈرتا ہی میں رہا کہ پلک کوئی گڑ نہ جائے
آنکھوں سے اس کے رات جو تلوے ملا کیا
بدحال ٹھنڈی سانسیں بھرا کب تلک کرے
سرگرم مرگ میر ہوا تو بھلا کیا
میر تقی میر

پر بعد نماز اٹھ کر میخانہ چلا جاتا

دیوان چہارم غزل 1319
مستانہ اگرچہ میں طاعت کو لگا جاتا
پر بعد نماز اٹھ کر میخانہ چلا جاتا
بازار میں ہو جانا اس مہ کا تماشا تھا
یوسفؑ بھی جو واں ہوتا تو اس پہ بکا جاتا
دیکھا نہ ادھر ورنہ آتا نہ نظر پھر میں
جی مفت مرا جاتا اس شوخ کا کیا جاتا
شب آہ شرر افشاں ہونٹوں سے پھری میرے
سر کھینچتا یہ شعلہ تو مجھ کو جلا جاتا
کیا شوق کی باتوں کی تحریر ہوئی مشکل
تھے جمع قلم کاغذ پر کچھ نہ لکھا جاتا
آنکھیں مری کھلتیں تو اس چہرے ہی پر پڑتیں
کیا ہوتا یکایک وہ سر پر مرے آجاتا
سبزے کا ہوا روکش خط رخ جاناں کے
جو ہاتھ مرے چڑھتا تو پان کو کھا جاتا
ہے شوق سیہ رو سے بدنامی و رسوائی
کیوں کام بگڑ جاتا جو صبر کیا جاتا
تھا میر بھی دیوانہ پر ساتھ ظرافت کے
ہم سلسلہ داروں کی زنجیر ہلا جاتا
میر تقی میر

ٹھہرائو سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا

دیوان چہارم غزل 1318
اے کاش مرے سر پر اک بار وہ آجاتا
ٹھہرائو سا ہو جاتا یوں جی نہ چلا جاتا
تب تک ہی تحمل ہے جب تک نہیں آتا وہ
اس رستے نکلتا تو ہم سے نہ رہا جاتا
اک آگ لگا دی ہے چھاتی میں جدائی نے
وہ مہ گلے لگتا تو یوں دل نہ جلا جاتا
یا لاگ کی وے باتیں یا ایسی ہے بیزاری
وہ جو نہ لگا لیتا تو میں نہ لگا جاتا
کیا نور کا بکّا ہے چہرہ کہ شب مہ میں
منھ کھولے جو سو رہتا تو ماہ چھپا جاتا
اس شوق نے دل کے بھی کیا بات بڑھائی تھی
رقعہ اسے لکھتے تو طومار لکھا جاتا
یہ ہمدمی کا دعویٰ اس کے لب خنداں سے
بس کچھ نہ چلا ورنہ پستے کو چبا جاتا
اب تو نہ رہا وہ بھی طاقت گئی سب دل کی
جو حال کبھو اپنا میں تم کو سنا جاتا
وسواس نہ کرتا تھا مر جانے سے ہجراں میں
تھا میر تو ایسا بھی دل جی سے اٹھا جاتا
میر تقی میر

کہنے لگا چپکا سا ہوکر ہائے دریغ شکار اپنا

دیوان چہارم غزل 1317
میں جو نظر سے اس کی گیا تو وہ سرگرم کار اپنا
کہنے لگا چپکا سا ہوکر ہائے دریغ شکار اپنا
کیا یاری کر دور پھرا وہ کیا کیا ان نے فریب کیے
جس کے لیے آوارہ ہوئے ہم چھوٹا شہر و دیار اپنا
ہاتھ گلے میں ان نے نہ ڈالا میں یہ گلا جا کاٹوں گا
غم غصے سے دیکھیو ہوں گا آپھی گلے کا ہار اپنا
چھاتی پہ سانپ سا پھر جاتا ہے یاد میں اس کے بالوں کی
جی میں لہر آوے ہے لیکن رہتا ہوں من مار اپنا
بات کہی تلوار نکالی آنکھ لڑائی جی مارے
کیونکے جتاوے اس سے کوئی ربط محبت پیار اپنا
ہم نے یار وفاداری میں کوتاہی تقصیر نہ کی
کیا روویں چاہت کے اثر کو وہ نہ ہوا ٹک یار اپنا
رحم کیا کر لطف کیا کر پوچھ لیا کر آخر ہے
میر اپنا غم خوار اپنا پھر زار اپنا بیمار اپنا
میر تقی میر

جا چکا ہوں جہان سے کب کا

دیوان چہارم غزل 1316
رفتۂ عشق کیا ہوں میں اب کا
جا چکا ہوں جہان سے کب کا
لوگ جب ذکر یار کرتے ہیں
دیکھ رہتا ہوں دیر منھ سب کا
مست رہتا ہوں جب سے ہوش آیا
میں بھی عاشق ہوں اپنے مشرب کا
ہم تو ناکام ہی چلے یاں سے
تم کو ہو گا وصول مطلب کا
درس کہیے جنوں کا تو مجنوں
اپنے آگے ہے طفل مکتب کا
لعل کی بات کون سنتا ہے
شور ہے زور یار کے لب کا
زلف سا پیچ دار ہے ہر شعر
ہے سخن میر کا عجب ڈھب کا
میر تقی میر

ہوا کام مشکل توکل کیا

دیوان چہارم غزل 1315
تجاہل تغافل تساہل کیا
ہوا کام مشکل توکل کیا
نہیں تاب لاتا دل زار اب
بہت ہم نے صبر و تحمل کیا
زمین غزل مِلک سی ہو گئی
یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا
جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا
کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا
نہ سوز دروں فصل گل میں چھپا
سر و سینہ سے داغ نے گل کیا
ہمیں شوق نے صاحبو کھو دیا
غلاموں سے اس کے توسل کیا
حقیقت نہ میر اپنی سمجھی گئی
شب و روز ہم نے تامل کیا
میر تقی میر

پہروں چوائو ان نے رکھا بات بات کا

دیوان چہارم غزل 1314
قصہ کہیں تو کیا کہیں ملنے کی رات کا
پہروں چوائو ان نے رکھا بات بات کا
جرأت سے گرچہ زرد ہوں پر مانتا ہے کون
منھ لال جب تلک نہ کروں پانچ سات کا
کیونکر بسر کرے غم و غصہ میں ہجر کے
خوگر جو ہو کسو کے کوئی التفات کا
جاگہ سے لے گیا ہمیں اس کا خرام ناز
ٹھہرائو ہوسکا نہ قرار و ثبات کا
ڈرتا ہوں مالکان جزا چھاتی دیکھ کر
کہنے لگیں نہ واہ رے زخم اس کے ہاتھ کا
واعظ کہے سو سچ ہے ولے مے فروش سے
ہم ذکر بھی سنا نہیں صوم و صلوٰت کا
بھونکا کریں رقیب پڑے کوے یار میں
کس کے تئیں دماغ عفف ہے سگات کا
ان ہونٹوں کا حریف ہو ظلمات میں گیا
پردے میں رو سیاہ ہے آب حیات کا
عالم کسو حکیم کا باندھا طلسم ہے
کچھ ہو تو اعتبار بھی ہو کائنات کا
گر یار میر اہل ہے تو کام سہل ہے
اندیشہ تجھ کو یوں ہی ہے اپنی نجات کا
میر تقی میر

قدرت سے اس کی لب پر نام آوے ہے خدا کا

دیوان چہارم غزل 1313
واجب کا ہو نہ ممکن مصدر صفت ثنا کا
قدرت سے اس کی لب پر نام آوے ہے خدا کا
سب روم روم تن میں زردی غم بھری ہے
خاک جسد ہے میری کس کان زر کا خاکا
بند اس قبا کا کھولیں کیا ناخن فقیراں
وابستہ ہے یہ عقدہ شاید کسو دعا کا
ناسازی طبیعت کیا ہے جواں ہوئے پر
اوباش وہ ستمگر لڑکا ہی تھا لڑاکا
گل پھول فصل گل میں صد رنگ ہیں شگفتہ
میں دل زدہ ہوں اب کے رنگینی ہوا کا
عاشق کی چشم تر میں گو دبتے آویں لیکن
پائوں کا دلبروں کے چھپتا نہیں چھپاکا
زوریں کش اس جواں کی کس سے کماں کھنچے ہے
تھا یکہ و جنازہ میر ان نے جس کو تاکا
میر تقی میر

سرمایۂ توکل یاں نام ہے خدا کا

دیوان چہارم غزل 1312
کرتا ہوں اللہ اللہ درویش ہوں سدا کا
سرمایۂ توکل یاں نام ہے خدا کا
میں نے نکل جنوں سے مشق قلندری کی
زنجیرسر ہوا ہے تھا سلسلہ جو پا کا
یارب ہماری جانب یہ سنگ کیوں ہے عائد
جی ہی سے مارتے ہیں جو نام لے وفا کا
کیا فقر میں گذر ہو چشم طمع سیے بن
ہے راہ تنگ ایسی جیسے سوئی کا ناکا
ابر اور جوش گل ہے چل خانقہ سے صوفی
ہے لطف میکدے میں دہ چند اس ہوا کا
ہم وحشیوں سے مدت مانوس جو رہے ہیں
مجنوں کو شوخ لڑکے کہنے لگے ہیں کاکا
آلودہ خوں سے ناخن ہیں شیر کے سے ہر سو
جنگل میں چل بنے تو پھولا ہے زور ڈھاکا
یہ دو ہی صورتیں ہیں یا منعکس ہے عالم
یا عالم آئینہ ہے اس یار خودنما کا
کیا میں ہی جاں بہ لب ہوں بیماری دلی سے
مارا ہوا ہے عالم اس درد بے دوا کا
زلف سیاہ اس کی رہتی ہے چت چڑھی ہی
میں مبتلا ہوا ہوں اے وائے کس بلا کا
غیرت سے تنگ آئے غیروں سے لڑ مریں گے
آگے بھی میر سید کرتے گئے ہیں ساکا
میر تقی میر

سب خراشوں ہی سے جبہے بھر گئے

دیوان سوم غزل 1311
دست بستہ کام ناخن کر گئے
سب خراشوں ہی سے جبہے بھر گئے
بت کدے سے تو چلے کعبے ولے
دس قدم ہم دل کو کر پتھر گئے
کیا جو اڑتی سی سنی آئے ہیں گل
ہم اسیروں کے تو بال و پر گئے
مجلسوں کی مجلسیں برہم ہوئیں
لوگ وے پل مارتے کیدھر گئے
تھے لب جو پر جو گرم دید یار
سبزے کے سے رنگ مژگاں تر گئے
خانوادے ہو گئے کیا کیا خراب
خانہ ساز دین کیسے مر گئے
دست افشاں پاے کوباں شوق میں
صومعے سے میر بھی باہر گئے
میر تقی میر

آسماں سے زمین نپوائی

دیوان سوم غزل 1310
بات کیا آدمی کی بن آئی
آسماں سے زمین نپوائی
چرخ زن اس کے واسطے ہے مدام
ہو گیا دن تمام رات آئی
ماہ و خورشید و ابر و باد سبھی
اس کی خاطر ہوئے ہیں سودائی
کیسے کیسے کیے تردد جب
رنگ رنگ اس کو چیز پہنچائی
اس کو ترجیح سب کے اوپر دی
لطف حق نے کی عزت افزائی
حیرت آتی ہے اس کی باتیں دیکھ
خودسری خودستائی خودرائی
شکر کے سجدوں میں یہ واجب تھا
یہ بھی کرتا سدا جبیں سائی
سو تو اس کی طبیعت سرکش
سر نہ لائی فرو کہ ٹک لائی
میر ناچیز مشت خاک اللہ
ان نے یہ کبریا کہاں پائی
میر تقی میر

زندگانی اب تو کرنا شاق ہے

دیوان سوم غزل 1309
دل کی بیماری سے طاقت طاق ہے
زندگانی اب تو کرنا شاق ہے
دم شماری سی ہے رنج قلب سے
اب حساب زندگی بیباق ہے
اپنی عزلت رکھتی ہے عالم ہی اور
یہ سیہ رو شہرئہ آفاق ہے
فرط خجلت سے گرا جاتا ہے سرو
قد دلکش اس کا بالا چاق ہے
دل زدہ کو اس کے دیکھا نزع میں
تھا نمودار آنکھ سے مشتاق ہے
رنگ میں اس کے جھمک ہے برق کی
سطح کیا رخسار کا براق ہے
گو خط اس کے پشت لب کا زہر ہو
بوسۂ کنج دہن تریاق ہے
خشک کر دیتی ہے گرمی عشق کی
بیدصحرائی سا مجنوں قاق ہے
مت پڑا رہ دیر کے ٹکڑوں پہ میر
اٹھ کے کعبے چل خدا رزاق ہے
میر تقی میر

ایکوں کو جا نہیں ہے دنیا عجب جگہ ہے

دیوان سوم غزل 1308
قصر و مکان و منزل ایکوں کو سب جگہ ہے
ایکوں کو جا نہیں ہے دنیا عجب جگہ ہے
اس کے بدن میں ہر جا دلکش ہے یوں و لیکن
یا سطح رخ جگہ ہے یا کنج لب جگہ ہے
پست و بلندیاں ہیں ارض و سما سے ظاہر
دیکھا جہاں کو ہم نے کتنی کڈھب جگہ ہے
دروازے سے لگے ہم تصویر سے کھڑے ہیں
وارفتگاں کو اس کی مجلس میں کب جگہ ہے
بارے ادھر کیا ہے منھ ان نے میر اپنا
ہو حرف زن سخن کی تیرے بھی اب جگہ ہے
میر تقی میر

آوارگی تو دیکھو کیدھر سے کیدھر آئے

دیوان سوم غزل 1307
کعبے کے در پہ تھے ہم یا دیر میں در آئے
آوارگی تو دیکھو کیدھر سے کیدھر آئے
دیوانگی ہے میری اب کے کوئی تماشا
رہتے ہیں گھیرے مجھ کو کیا اپنے کیا پرائے
پاک اب ہوئی ہے کشتی ہم کو جو عشق سے تھی
عہدے سے اس بلا کے کب ناتواں بر آئے
وسعت بیاں کروں کیا دامان چشم تر کی
رونے سے میرے کیا کیا ابرسیہ تر آئے
آ ہم نشیں بنے تو آج ان کنے بھی چلیے
کہتے ہیں میر صاحب مدت میں کل گھر آئے
میر تقی میر

آزردہ ہو نہ بلبل جاتے ہیں ہم چمن سے

دیوان سوم غزل 1306
نکلے ہے جی کا رستہ آواز کی رکن سے
آزردہ ہو نہ بلبل جاتے ہیں ہم چمن سے
جی غش کرے ہے اب تو رفتار دیکھ اس کی
دیکھیں نبھے ہے اپنی کس طور اس چلن سے
گر اس کی اور کوئی گرمی سے دیکھتا ہے
اک آگ لگ اٹھے ہے اپنے تو تن بدن سے
رنگیں خرامی کیا کیا لیتی ہے کھینچ دل کو
کیا نقش پا کو اس کے نسبت گل و سمن سے
دن رات گاہ و بے گہ جب دیکھو ہیں سفر میں
ہم کس گھڑی وداعی یارب ہوئے وطن سے
دل سوختہ ہوں مجھ کو تکلیف حرف مت کر
اک آگ کی لپٹ سی نکلے ہے ہر سخن سے
دل کا اسیر ہونا جی میر جانتا ہے
کیا پیچ پاچ دیکھے اس زلف پرشکن سے
میر تقی میر

کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے

دیوان سوم غزل 1305
خدا کرے مرے دل کو ٹک اک قرار آوے
کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے
کمانیں اس کی بھووں کی چڑھی ہی رہتی ہیں
نہ جب تلک سرتیرستم شکار آوے
ہمیں تو ایک گھڑی گل بغیر دوبھر ہے
خدا ہی جانے کہ اب کب تلک بہار آوے
اٹھی بھی گرد رہ اس کی کہیں تو لطف ہے کیا
جب انتظار میں آنکھوں ہی پر غبار آوے
ہر ایک شے کا ہے موسم نہ جانے تھا منصور
کہ نخل دار میں حلق بریدہ بار آوے
تمھارے جوروں سے اب حال جاے عبرت ہے
کسو سے کہیے تو اس کو نہ اعتبار آوے
نہیں ہے چاہ بھلی اتنی بھی دعا کر میر
کہ اب جو دیکھوں اسے میں بہت نہ پیار آوے
میر تقی میر

مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے

دیوان سوم غزل 1304
بتوں کے جرم الفت پر ہمیں زجرو ملامت ہے
مسلماں بھی خدا لگتی نہیں کہتے قیامت ہے
کھڑا ہوتا نہیں وہ رہزن دل پاس عاشق کے
موافق رسم کے اک دور کی صاحب سلامت ہے
جھکی ہے شاخ پرگل ناز سے کیا صحن گلشن میں
نہال قد کی اس کے مدعی تھی سو ندامت ہے
نکلتا ہے سحر خورشید ہر روز اس کے گھر پر سے
مقابل ہو گیا اس سے تو اس سادہ کی شامت ہے
پیے دارو پڑے پھرتے تھے کل تک میر کوچوں میں
انھیں کو مسجد جامع کی دیکھی آج امامت ہے
میر تقی میر

بھیچک کوئی رہ جائے کوئی جی سے گذر جائے

دیوان سوم غزل 1303
کیا چال نکالی ہے کہ جو دیکھے سو مر جائے
بھیچک کوئی رہ جائے کوئی جی سے گذر جائے
تاچند یہ خمیازہ کشی تنگ ہوں یارب
آغوش مری ایک شب اس شوخ سے بھر جائے
بے طاقتی دل سے مری جان ہے لب پر
تم ٹھہرو کوئی دم تو مرا جی بھی ٹھہر جائے
پڑتے نگہ یار مرا حال ہے ویسا
بجلی کے تڑپنے سے کوئی جیسے کہ ڈر جائے
اس آئینہ رو شوخ مفتن سے کہیں کیا
عاشق کو برا کہہ کے منھ ہی منھ میں مکر جائے
ناکس کی تلافی ستم کون کرے ہے
ڈرتا ہوں کہ وہ اور بھی آزردہ نہ کر جائے
جاتا ہے جدھر منزل مقصود نہیں وہ
آوارہ جو ہو عشق کا بے چارہ کدھر جائے
رونے میں مرے سر نہ چڑھو صبر کرو ٹک
یہ سیل جو اک زور سے آتا ہے اتر جائے
کیا ذکر مرا میں تو کہیں اس سے ملوں ہوں
ان خانہ خرابوں کی کہو جن کے وہ گھر جائے
اس زلف کا ہر بال رگ جان ہے اپنی
یاں جی ہی بکھرتا ہے صبا وہ جو بکھر جائے
گردش میں جو وے آنکھ نشے کی بھری دیکھیں
ہشیار سروں کے تئیں سدھ اپنی بسر جائے
آنکھیں ہی لگی جاتی ہیں اس جاذبہ کو میر
آتی ہے بہت دیر جو اس منھ پہ نظر جائے
میر تقی میر

دل داغ ہورہا ہے چمن کے سبھائو سے

دیوان سوم غزل 1302
دن فصل گل کے اب کے بھی جاتے ہیں بائو سے
دل داغ ہورہا ہے چمن کے سبھائو سے
پہنچی نہ باس گل کی ہمارے مشام میں
یاں کھل رہے ہیں دیدئہ خوں بار گھائو سے
نامہ مرے عمل کا بھی اے کاش ساتھ جائے
جب آسمان لپٹیں گے کاغذ کے تائو سے
وارفتگان عشق بھی کیا طرفہ لوگ ہیں
دل کے گئے پہ دیتے ہیں جی کیسے چائو سے
کہتے تو کہیے بات کوئی دل کی میر سے
پر جی بہت ڈرے ہے انھوں کے چوائو سے
میر تقی میر

کہ صورت آسماں کی دیکھ کر میں نے زمیں دیکھی

دیوان سوم غزل 1301
کریہہ الشکل ہیئت آن کر ایسی نہیں دیکھی
کہ صورت آسماں کی دیکھ کر میں نے زمیں دیکھی
کبھو دیکھوگے تم جو وہ طرح دار اس طرف آیا
طرح ترکیب ایسی ہم نے اب تک تو نہیں دیکھی
مہ یک ہفتہ دلکش اس قدر کاہے کو ہوتا ہے
کروں ہوں شکر کے سجدے کہ میں نے وہ جبیں دیکھی
کہاں وہ طرز کیں اس کی کہاں چین جبیں اس کی
لگا کر بارہا اس شوخ سے تصویر چیں دیکھی
گریباں پھاڑ ڈالیں دیکھ کر دامن کشاں اس کو
پھٹے خرقے بہت جو چاک کی وہ آستیں دیکھی
ترے بیمار کی بالیں پہ جا کر ہم بہت روئے
بلا حسرت کے ساتھ اس کی نگاہ واپسیں دیکھی
نظر اس کی حیا سے میر پشت پا پر اکثر ہے
کنھوں نے کاہے کو اس کی سی چشم شرمگیں دیکھی
میر تقی میر

قسم کھائی ہو جس نے خواب میں بھی منھ دکھانے کی

دیوان سوم غزل 1300
عزیز و کون سی صورت ہے ظاہر اس کے آنے کی
قسم کھائی ہو جس نے خواب میں بھی منھ دکھانے کی
تگ ان پلکوں کو ہے ٹھوکر سے فتنے کے جگانے کی
طرح آتی ہے اس قد کو قیامت سر پہ لانے کی
کسو سے آنکھ کے ملتے ہی اپنی جان دے بیٹھے
نئی یہ رسم ہم جاتے ہیں چھوڑے دل لگانے کی
جہاں ہم آئے چہرے پر بکھیرے بال جا سوئے
ادا کرتے ہو تم کیا خوب ہم سے منھ چھپانے کی
مسیں بھیگی ہیں اس کے سبزئہ خط کی بدایت سے
مسیحؑ و خضرؑ کو پہنچی بشارت زہر کھانے کی
جہاں اس کے لیے غربال کر نومید ہو بیٹھے
یہی اجرت ملی ہے کیا ہماری خاک چھانے کی
کہوں کیا ایک بوسہ لب کا دے کر خوب رگڑایا
رکھی برسوں تلک منت کبھو کی بات مانے کی
بگولا کوئی اٹھتا ہے کہ آندھی کوئی آتی ہے
نشان یادگاری ہے ہماری خاک اڑانے کی
کرے ہے داغ اس کا عید کو سب سے گلے ملنا
اکت لی ہے نئی یہ میری چھاتی کے جلانے کی
لڑا کر آنکھیں اس اوباش سے اک پل میں مر گذرا
حکایت بوالعجب ہے میر جی کے مارے جانے کی
میر تقی میر

خبر کیوں پوچھتے ہیں مجھ سے لڑکے اس دوانے کی

دیوان سوم غزل 1299
کہو کچھ میر کی وحشت سے ان گلیوں میں آنے کی
خبر کیوں پوچھتے ہیں مجھ سے لڑکے اس دوانے کی
جہاں سے دل کو دیکھو منھ نظر جوں کان طلق آوے
نہ کی کچھ قدر اس نے حیف اس آئینہ خانے کی
ہمیں لیتے ہو آنکھیں موند کر لو تم کہ جنس اپنی
وفا و مہر ہے سو وہ نہیں بابت دکھانے کی
کہو ہو زیرلب کیا دیکھ کر ہم ناتوانوں کو
ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی
برنگ طائر نوپر ہوئے آوارہ ہم اٹھ کر
کہ پھر پائی نہ ہم نے راہ اپنے آشیانے کی
عجب چوپڑ بچھی ہے ہر زماں اڑتا ہے رنگ اپنا
سمجھ میں چال کچھ آتی نہیں اپنے زمانے کی
اگر طالع کرے یاری تو مریے کربلا جا کر
عبیر اپنے کفن کی خاک ہو اس آستانے کی
غزل اک اور بھی اس گل زمیں میں قصد ہے کہیے
ہوئی ہے اب تو خو آخر ہمیں باتیں بنانے کی
میر تقی میر

مٹھ بھیڑ اگر ہو گئی اس تیغ بکف سے

دیوان سوم غزل 1298
کٹ کر گریں گے راہ میں مشتاق علف سے
مٹھ بھیڑ اگر ہو گئی اس تیغ بکف سے
جاتا ہے کوئی دشت عرب کو جو بگولا
کہہ دوں ہوں دعا مجنوں کو میں اپنی طرف سے
دریا تھا مگر آگ کا دریاے غم عشق
سب آبلے ہیں میرے درونے میں صدف سے
دل اور جگر یہ تو جلے آتش غم میں
جی کیونکے بچائوں کہو اس آگ کی تف سے
شب اس کے سگ کو نے ہمیں پاس بٹھایا
ہم اپنے تئیں دور نہ کیوں کھینچیں شرف سے
چھاتی میں بھری آگ ہے کیا جس سے شب و روز
چنگاریاں گرتی ہیں مری پلکوں کی صف سے
اے میر گدائی کروں دروازے کی اس کے
مانگوں ہوں یہی آٹھ پہر شاہ نجف سے
میر تقی میر

یہی بے طاقتی خوں گشتہ دل کو میرے کد سے ہے

دیوان سوم غزل 1297
نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے
یہی بے طاقتی خوں گشتہ دل کو میرے کد سے ہے
جہاں شطرنج بازندہ فلک ہم تم ہیں سب مہرے
بسان شاطرنو ذوق اسے مہروں کی زد سے ہے
سخن کرنے میں نستعلیق گوئی ہی نہیں کرتا
پڑھیں ہیں شعر کوئی ہم سو وہ بھی شد و مد سے ہے
ہوا سرسبز آگے یار کے سرو گلستاں کب
کہ نسبت دور کی طوبیٰ کو اس کے نخل قد سے ہے
لکھا کب تک کریں اس سرزمیں سے آپھی اب جاویں
ہمیں ملنے کا شوق اس کے زیاد اے میر حد سے ہے
میر تقی میر

دل کو ہمارے چین دے آنکھوں کو خواب دے

دیوان سوم غزل 1296
تسکین دردمندوں کو یارب شتاب دے
دل کو ہمارے چین دے آنکھوں کو خواب دے
اس کا غضب سے نامہ نہ لکھنا تو سہل ہے
لوگوں کے پوچھنے کا کوئی کیا جواب دے
گل ہے بہار تب ہے جب آنکھوں میں ہو نشہ
جاتی ہے فصل گل کہیں ساقی شراب دے
وہ تیغ میری تشنۂ خوں ہو گئی ہے کند
کر رحم مجھ پہ کاشکے یار اس کو آب دے
دو چار الم جو ہوویں تو ہیں بابت بتاں
کیا درد بے شمار کا کوئی حساب دے
تار نگہ کا سوت نہیں بندھتا ضعف سے
بیجان ہے یہ رشتہ دلا اس کو تاب دے
مژگان تر کو یار کے چہرے پہ کھول میر
اس آب خستہ سبزے کو ٹک آفتاب دے
میر تقی میر

ہم نہ سمجھے بڑا تاسف ہے

دیوان سوم غزل 1295
دل عجب نسخۂ تصوف ہے
ہم نہ سمجھے بڑا تاسف ہے
آپ ہی صرف عشق ہوجانا
یہ بھی درویش کا تصرف ہے
منھ ادھر کر کے وہ نہیں سوتا
خواب میں آوے تو تلطف ہے
یاں تو تکلیف سی کھنچی تکلیف
واں وہی اب تلک تکلف ہے
چھیڑ اس شوخ نے رکھی ہم سے
عہد پر عہد ہے تخلف ہے
مرگ کیا منزل مراد ہے میر
یہ بھی اک راہ کا توقف ہے
میر تقی میر

یہ بھی کوئی لطف بے ہنگام ہے

دیوان سوم غزل 1294
دشمنوں کے روبرو دشنام ہے
یہ بھی کوئی لطف بے ہنگام ہے
محو زلف یار ہے عالم تمام
حسن کا بھی شہرہ جوش شام ہے
عشق کی ہے راہ کیا مشکل گذر
سر کا جانا جس میں ہر اک گام ہے
گر کہا ناکام ملنے کو کبھی
تو یہ کہتا ہے کہ مجھ کو کام ہے
روز و شب پھرتا ہوں اس کوچے کے گرد
کیا کہوں کیا گردش ایام ہے
چین دن کو ہے نہ شب کو خواب ٹک
اس کی دوری میں کسے آرام ہے
بزم میں پوچھا تو یوں انجان ہو
میر ان لوگوں میں کس کا نام ہے
میر تقی میر

اب دیکھوں مجھے کس کا گرفتار کرے ہے

دیوان سوم غزل 1293
بیتابی جو دل ہر گھڑی اظہار کرے ہے
اب دیکھوں مجھے کس کا گرفتار کرے ہے
کچھ میں بھی عجب جنس ہوں بازار جہاں میں
سو ناز مجھے لیتے خریدار کرے ہے
ہے اشک سے بلبل کے بھرا چقروں میں پانی
گل باغ سے کیا رخت سفر بار کرے ہے
اس چاہ نے دل ہی کی تو بیمار کیے ہیں
یہ دوستی ہی ہے جو گرفتار کرے ہے
آگے تو جو کچھ ہم نے کہا مان لیا اب
ایک ایک سخن پر بھی وہ تکرار کرے ہے
زنہار نہ جا پرورش دور زماں پر
مرنے کے لیے لوگوں کو تیار کرے ہے
کیا عشق میں ہم اس کے ہوئے خاک برابر
کب اپنے تئیں یوں کوئی ہموار کرے ہے
تصویر سے دروازے پہ ہم اس کے کھڑے ہیں
انسان کو حیرانی بھی دیوار کرے ہے
کیوں کر نہ ہو تم میر کے آزار کے درپے
یہ جرم ہے اس کا کہ تمھیں پیار کرے ہے
میر تقی میر

کہ تو دارو پیے ہے رات کو مل کر کمینوں سے

دیوان سوم غزل 1292
سنا جاتا ہے اے گھتیے ترے مجلس نشینوں سے
کہ تو دارو پیے ہے رات کو مل کر کمینوں سے
گئی گرم اختلاطی کب کی ان سحر آفرینوں سے
لگے رہتے ہیں داغ ہجر ہی اب اپنے سینوں سے
گلے لگ کر نہ یک شب کاش وہ مہ سوگیا ہوتا
مری چھاتی جلا کرتی ہے اب کتنے مہینوں سے
خدا جانے ہے اپنا تو جگر کانپا ہی کرتا ہے
چڑھی تیوری سے محبوبوں کی اور ابرو کی چینوں سے
بہت کوتاہ دامن خرقے شیخوں کے پھٹے پائے
کہیں نکلے تھے گورے ہاتھ اس کے آستینوں سے
رہے محو خیال اس کے تو یک دقت سے ہاتھ آئے
نزاکت اس کمر کی پوچھی ہم باریک بینوں سے
برنگ برگ گل ساتھ ایک شادابی کے ہوتا ہے
عرق چیں بھیگتا ہے دلبروں کے جب پسینوں سے
بہت میں لخت دل رویا مجھے اک خلق نے جانا
ہوا ہے پہن میرا نام ان رنگیں نگینوں سے
غزل ہی کی ردیف و قافیہ کا رفتہ رہنا ہے
نکلنا میر اب مشکل ہے میرا ان زمینوں سے
میر تقی میر

یہ چوٹ ہی رہی ہے اس روسیاہ کو بھی

دیوان سوم غزل 1291
ٹھوکر لگاکے چلنا اس رشک ماہ کو بھی
یہ چوٹ ہی رہی ہے اس روسیاہ کو بھی
اس شاہ حسن کی کچھ مژگاں پھری ہوئی ہیں
غمزے نے ورغلایا شاید سپاہ کو بھی
کی عمر صرف ساری پر گم ہے مطلب اپنا
منزل نہ پہنچے ہم تو طے کرکے راہ کو بھی
سر پھوڑنا ہمارا اس لڑکے پر نہ دیکھو
ٹک دیکھو اس شکست طرف کلاہ کو بھی
کرتی نہیں خلش ہی مژگان یار دل میں
کاوش رہی ہے جی سے اس کی نگاہ کو بھی
خوں ریزی کے تو لاگو ہوتے نہیں یکایک
پہلے تو پوچھتے ہیں ظالم گناہ کو بھی
جوں خاک سے ہے یکساں میرا نہال قامت
پامال یوں نہ ہوتے دیکھا گیاہ کو بھی
ہر لحظہ پھیر لینا آنکھوں کا ہم سے کیا ہے
منظور رکھیے کچھ تو بارے نباہ کو بھی
خواہش بہت جو ہو تو کاہش ہے جان و دل کی
کچھ کم کر ان دنوں میں اے میر چاہ کو بھی
میر تقی میر

کتنا جی عاشق بیتاب کا مرجاتا ہے

دیوان سوم غزل 1290
یار کا جور و ستم کام ہی کر جاتا ہے
کتنا جی عاشق بیتاب کا مرجاتا ہے
جیسے گرداب ہے گردش مری ہر چار طرف
شوق کیا جانے لیے مجھ کو کدھر جاتا ہے
جوشش اشک میں ٹک ٹھہرے رہو پیش نظر
اب کوئی پل میں یہ سیلاب اتر جاتا ہے
زرد رخسار پہ کیوں اشک نہ آوے گل رنگ
آگے سے آنکھوں کے وہ باغ نظر جاتا ہے
زہ گریباں کی ہے خونناب سے تر ہوتی نہیں
سارا زنجیرئہ دامن بھی تو بھر جاتا ہے
واعظ شہر تنک آب ہے مانند حباب
ٹک ہوا لگتی ہے اس کو تو اپھر جاتا ہے
کیا لکھوں بخت کی برگشتگی نالوں سے مرے
نامہ بر مجھ سے کبوتر بھی چپر جاتا ہے
آن اس دلبر شیریں کی چھری شہد کی ہے
عاشق اک آن ہی میں جی سے گذر جاتا ہے
ہر سحر پیچھے اس اوباش کے خورشید اے میر
ڈھال تلوار لیے جیسے نفر جاتا ہے
میر تقی میر

فقیروں کی اللہ اللہ ہے

دیوان سوم غزل 1289
چلے ہم اگر تم کو اکراہ ہے
فقیروں کی اللہ اللہ ہے
نہ افسر ہے نے درد سر نے کلہ
کہ یاں جیسا سر ویسا سرواہ ہے
جہاں لگ چلے گل سے ہم داغ ہیں
اگرچہ صبا بھی ہواخواہ ہے
غم عشق ہے ناگہانی بلا
جہاں دل لگا کڑھنا جانکاہ ہے
چراغان گل سے ہے کیا روشنی
گلستاں کسو کی قدم گاہ ہے
محبت ہے دریا میں جا ڈوبنا
کنوئیں میں بھی گرنا یہی چاہ ہے
کلی سا ہے کہتے ہیں منھ یار کا
نہیں معتبر کچھ یہ افواہ ہے
نہ کی کوتہی بت پرستی میں کچھ
خدا اس عقیدے سے آگاہ ہے
گیا میر کے جی کی سن کر وہ شوخ
لگا کہنے سب کو یہی راہ ہے
میر تقی میر

یعنی خط تو خوب ہے صورت بھی ہے

دیوان سوم غزل 1288
ہے تماشا حسن و خط حیرت بھی ہے
یعنی خط تو خوب ہے صورت بھی ہے
تا دم آخر نہیں بولے ہیں ہم
کچھ کہیں گے بارے اب رخصت بھی ہے
ہے وہ فتنہ ہم حریف و ہم ظریف
مار ہے گالی ہے پھر منت بھی ہے
تیغ نے اس کی ہمیں قسمت کیا
خوش نصیبی ہے تو پر قسمت بھی ہے
وا نسیم صبح سے ہوتا ہے گل
تجھ کو اے مرغ چمن غیرت بھی ہے
جی ہی دینے کا نہیں کڑھنا فقط
اس کے در سے جانے کی حسرت بھی ہے
دور سے باتیں کرے ہے یوں ہی یار
میر صاحب سے انھیں صحبت بھی ہے
میر تقی میر

کبھو کے دن ہیں بڑے یاں کبھو کی رات بڑی

دیوان سوم غزل 1287
حدیث زلف دراز اس کے منھ کی بات بڑی
کبھو کے دن ہیں بڑے یاں کبھو کی رات بڑی
کبھو جو گالی ہمیں دیتے ہو کرو موقوف
تمھاری بس ہیں یہی ہم پر التفات بڑی
دخیل ذات نہیں عشق میں کہ میر کو دیکھ
ذلیل کیسے ہیں ان کی ہے گوکہ ذات بڑی
میر تقی میر