زمرہ جات کے محفوظات: غزل

ہو مختلط جو ان سے تو ایمان کیا رہے

دیوان ششم غزل 1886
کافر بتوں سے مل کے مسلمان کیا رہے
ہو مختلط جو ان سے تو ایمان کیا رہے
شمشیر اس کی حصہ برابر کرے ہے دو
ایسی لگی ہے ایک تو ارمان کیا رہے
ہے سر کے ساتھ مال و منال آدمی کا سب
جاتا رہے جو سر ہی تو سامان کیا رہے
ویرانی بدن سے مرا جی بھی ہے اداس
منزل خراب ہووے تو مہمان کیا رہے
اہل چمن میں میں نے نہ جانا کسو کے تیں
مدت میں ہو ملاپ تو پہچان کیا رہے
حال خراب جسم ہے جی جانے کی دلیل
جب تن میں حال کچھ نہ رہے جان کیا رہے
جب سے جہاں ہے تب سے خرابی یہی ہے میر
تم دیکھ کر زمانے کو حیران کیا رہے
میر تقی میر

نکلے نہ ناامیدی کیونکر مری نظر سے

دیوان ششم غزل 1885
لاکھوں فلک کی آنکھیں سب مند گئیں ادھر سے
نکلے نہ ناامیدی کیونکر مری نظر سے
برسے ہے عشق یاں تو دیوار اور در سے
روتا گیا ہے ہر اک جوں ابر میرے گھر سے
جو لوگ چلتے پھرتے یاں چھوڑ کر گئے تھے
دیکھا نہ ان کو اب کے آئے جو ہم سفر سے
قاصد کسو نے مارا خط راہ میں سے پایا
جب سے سنا ہے ہم نے وحشت ہے اس خبر سے
سو بار ہم تو تم بن گھر چھوڑ چھوڑ نکلے
تم ایک بار یاں تک آئے نہ اپنے گھر سے
چھاتی کے جلنے سے ہی شاید کہ آگ سلگی
اٹھنے لگا دھواں اب میرے دل و جگر سے
نکلا سو سب جلا ہے نومید ہی چلا ہے
اپنا نہال خواہش برگ و گل و ثمر سے
جھڑ باندھنے کا ہم بھی دیں گے دکھا تماشا
ٹک ابر قبلہ آکر آگے ہمارے برسے
سو نامہ بر کبوتر کر ذبح ان نے کھائے
خط چاک اڑے پھریں ہیں اس کی گلی میں پر سے
آخر گرسنہ چشم نظارہ ہو گئے ہم
ٹک دیکھنے کو اس کے برسوں مہینوں ترسے
اپنا وصول مطلب اور ہی کسی سے ہو گا
منزل پہنچ رہیں گے ہم ایسے رہگذر سے
سر دے دے مارتے ہیں ہجراں میں میر صاحب
یارب چھڑا تو ان کو چاہت کے درد سر سے
میر تقی میر

سو کوئی دن جو ہے تو پھر سالہا نہیں ہے

دیوان ششم غزل 1884
بے لطف یار ہم کو کچھ آسرا نہیں ہے
سو کوئی دن جو ہے تو پھر سالہا نہیں ہے
سن عشق جو اطبا کرتے ہیں چشم پوشی
جانکاہ اس مرض کی شاید دوا نہیں ہے
جس آنکھ سے دیا تھا ان نے فریب دل کو
اس آنکھ کو جو دیکھا اب آشنا نہیں ہے
جب دیکھو آئینے کو تب روبرو ہے اس کے
بے چشم و رو اسے کچھ شرم و حیا نہیں ہے
میں برگ بند اگرچہ زیر شجر رہا ہوں
فقر مکب سے لیکن برگ و نوا نہیں ہے
شیریں نمک لبوں بن اس کے نہیں حلاوت
اس تلخ زندگی میں اب کچھ مزہ نہیں ہے
اعضا گداز ہوکر سب بہ گئے ہیں میرے
ہجراں میں اس کے مجھ میں اب کچھ رہا نہیں ہے
سن سانحات عشقی ہنس کیوں نہ دو پیارے
کیا جانو تم کسو سے دل ٹک لگا نہیں ہے
دل خوں جگر کے ٹکڑے جب میر دیکھتا ہوں
اب تک زباں سے اپنی میں کچھ کہا نہیں ہے
میر تقی میر

کہ دیکھا جب تجھے تب جی کو مار مار رہے

دیوان ششم غزل 1883
کہو تو کب تئیں یوں ساتھ تیرے پیار رہے
کہ دیکھا جب تجھے تب جی کو مار مار رہے
ادا و ناز سے دل لے چلا تو ہنس کے کہا
کہ میرے پاس تمھارا بھی یادگار رہے
ہم آپ سے جو گئے ہیں گئے ہیں مدت کے
الٰہی اپنا ہمیں کب تک انتظار رہے
ہوس اسیروں کے ٹک دل کی نکلے کچھ شاید
کوئی دن اور اگر موسم بہار رہے
اٹھا جو باغ سے میں بے دماغ تو نہ پھرا
ہزار مرغ گلستاں مجھے پکار رہے
لیا تو جاوے بھلا نام منھ سے یاری کا
جو ہم ستم زدوں سے یار کچھ بھی یار رہے
وصال ہجر ٹھہر جاوے کچھ نہ کچھ آخر
جو بیقرار مرے دل کو بھی قرار رہے
کریں گے چھاتی کو گلزار ہم جلاکر داغ
جو گل کے سینے میں ایسا ہی خار خار رہے
تکوں ہوں ایک سا میں گرد راہ کو اس کی
نہ کیونکے دونوں مری آنکھوں میں غبار رہے
نہ کریے گریۂ بے اختیار ہرگز میر
جو عشق کرنے میں دل پر کچھ اختیار رہے
میر تقی میر

تب آناً فآناً سماں اور ہے

دیوان ششم غزل 1882
زمیں اور ہے آسماں اور ہے
تب آناً فآناً سماں اور ہے
نہ وے لوگ ہیں اب نہ اجماع وہ
جہاں وہ نہیں یہ جہاں اور ہے
نہ ان لوگوں کی بات سمجھی گئی
یہ خلق اور ان کی زباں اور ہے
تجھے گو کہ صد رنگ ہو مجھ سے کیں
مری اور اک مہرباں اور ہے
ہوا رنگ بدلے ہے ہر آن میر
زمین و زماں ہر زماں اور ہے
میر تقی میر

وصل کی رات میں لڑائی کی

دیوان ششم غزل 1881
یار نے ہم سے بے ادائی کی
وصل کی رات میں لڑائی کی
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب توقع نہیں رہائی کی
کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی
میں دوا کی بہت شفائی کی
طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب
دھوم ہے اس کی رہگرائی کی
خندئہ یار سے طرف ہوکر
برق نے اپنی جگ ہنسائی کی
کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میں
دیکھ کر کیا یہ آشنائی کی
وصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچا
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
منھ لگایا نہ دختر رز کو
میں جوانی میں پارسائی کی
جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچے
عمر نے سخت بے وفائی کی
کوہکن کیا پہاڑ توڑے گا
عشق نے زور آزمائی کی
چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہے
دیر واں ہم نے بے نوائی کی
اک نگہ میں ہزار جی مارے
ساحری کی کہ دلربائی کی
نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئی
برسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی
میر کی بندگی میں جانبازی
سیر سی ہو گئی خدائی کی
میر تقی میر

جان امیدوار سے شرمندگی ہوئی

دیوان ششم غزل 1880
دل غم سے خوں ہوا تو بس اب زندگی ہوئی
جان امیدوار سے شرمندگی ہوئی
خدمت میں اس صنم کے گئی عمر پر ہمیں
گویا کہ روز اس سے نئی بندگی ہوئی
گریے کا میرے جوش جو دیکھا تو شرم سے
سیلاب کو بھی دیر سر افگندگی ہوئی
تھا دو دلا وصال میں بھی میں کہ ہجر میں
پانچوں حواس کی تو پراگندگی ہوئی
اب صبر میر ہو نہیں سکتا فراق میں
یک عمر جان و دل کی فریبندگی ہوئی
میر تقی میر

سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے

دیوان ششم غزل 1879
جو جنون و عشق کی تدبیر ہے
سو نہ یاں شمشیر نے زنجیر ہے
وصف اس کا باغ میں کرنا نہ تھا
گل ہمارا اب گریباں گیر ہے
دیکھ رہتا ہے جو دیکھے ہے اسے
دلربا آئینہ رو تصویر ہے
پاے گیر اس کے نہ ہوں کیوں درد مند
حلقہ حلقہ زلف وہ زنجیر ہے
صید کے تن پر ہیں سب گلہاے زخم
کس قدر خوش کار اس کا تیر ہے
مدت ہجراں نے کی نے کچھ کمی
میرے طول عمر کی تقصیر ہے
خط نہ لکھتے تھے سو تاب دل گئی
دفتروں کی اکثر اب تحریر ہے
رکھ نظر میں بھی خراب آبادیاں
اے کہ تجھ کو کچھ غم تعمیر ہے
سخت کافر ہیں برہمن زادگاں
مسلموں کی ان کے ہاں تکفیر ہے
گفتگو میں رہتے تھے آگے خموش
ہر سخن کی اب مرے تقریر ہے
نظم محسنؔ کی رہی سرمشق دیر
اس مرے بھی شعر میں تاثیر ہے
مر گئے پر بھی نہ رسوائی گئی
شہر میں اب نعش بھی تشہیر ہے
کیا ستم ہے یہ کہ ہوتے تیغ و طشت
ذبح کرنے میں مرے تاخیر ہے
میر کو ہے کیا جوانی میں صلاح
اب تو سارے میکدے کا پیر ہے
میر تقی میر

سفک دم میں میرے اب کیا دیر ہے

دیوان ششم غزل 1878
میں ہوں تو ہے درمیاں شمشیر ہے
سفک دم میں میرے اب کیا دیر ہے
خضر دشت عشق میں مت جا کہ واں
ہر قدم مخدوم خوف شیر ہے
راہ تک تک کر ہوئے ہیں جاں بہ لب
پر وہی اب تک بھی یاں اوسیر ہے
جو گرسنہ دل تھا اس دیدار کا
اپنے جینے ہی سے وہ اب سیر ہے
کچھ نہیں جاں ان کے پیش تار مو
گھر میں شمعی رنگوں کے اندھیر ہے
پاک ہی ہوتی رہی کشتی خلق
ہر زبردست اس جواں کا زیر ہے
طائروں نے گل فشاں کی میری گور
سامنے پھولوں کا گویا ڈھیر ہے
آشنا ڈوبے بہت اس دور میں
گرچہ جامہ یار کا کم گھیر ہے
آنچل اس دامن کا ہاتھ آتا نہیں
میر دریا کا سا اس کا پھیر ہے
میر تقی میر

کیا محبت نے دشمنی کی ہے

دیوان ششم غزل 1877
عشق میں ہم نے جاں کنی کی ہے
کیا محبت نے دشمنی کی ہے
کیسی سرخ و سفید نکلی تھی
مے مگر دختر ارمنی کی ہے
بید سا کیوں نہ سوکھ جائوں میں
دیر مجنوں سے ہم فنی کی ہے
اس پریشان کو نشانہ کر
یار نے جمع افگنی کی ہے
کر دیا خاک آسماں نے ہمیں
یہ بھی ہمت اسی دنی کی ہے
تکیہ ویراں فقیر کا بھی ہو
یاں خرابی بہت غنی کی ہے
قافلہ لٹ گیا جو آنسو کا
عشق نے میر رہزنی کی ہے
میر تقی میر

جوں توں اپنا کیا نباہا ہے

دیوان ششم غزل 1876
کچھ نہ کی ان نے جس کو چاہا ہے
جوں توں اپنا کیا نباہا ہے
سدھ خبر اپنے غمزدے کی لے
صبح تک رات کو کراہا ہے
یاعلیؓ ہے گا میر پیر فقیر
اب سزاوار لطف شاہا ہے
میر تقی میر

سب یہیں رہ گئے کہاں سے گئے

دیوان ششم غزل 1875
کہتے ہیں مرنے والے یاں سے گئے
سب یہیں رہ گئے کہاں سے گئے
دم میں دم جب تلک تھا سوچ رہا
سانس کے ساتھ سارے سانسے گئے
آنکھ کھلتے ہی گھر گئے وے تو
ہم ستم دیدہ خانماں سے گئے
واں گئے کرتے وے خرام ناز
یاں جواں کیسے کیسے جاں سے گئے
اس گلی سے جو اٹھ گئے بے صبر
میر گویا کہ وے جہاں سے گئے
میر تقی میر

کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ

دیوان ششم غزل 1874
مکتوب دیر پہنچا پر دو طرف سے سادہ
کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ
جب میکدے گئے ہیں پابوس ہی کیا ہے
ہے مغبچہ ہمارا گویا کہ پیرزادہ
سائے میں تاک کے ہم خوش بیٹھے ہیں اب اپنا
اس سلسلے میں بیعت کرنے کا ہے ارادہ
دل اس قدر نہ رکتا گھبراتا جی نہ اپنا
چھاتی لگا جو رہتا وہ سینۂ کشادہ
شیشہ کنار جو ہے پنبہ دہان و رعنا
میناے مے چمن میں اک سرو ہے پیادہ
پڑتی ہیں اس کی آنکھیں چاروں طرف نشے میں
جوں راہ میں بہکتے ہوں ترک مست بادہ
جو شہرہ نامور تھے یارب کہاں گئے وے
آباد کم رہا ہے یاں کوئی خانوادہ
مت دم کشی کر اتنی ہنگام صبح بلبل
فریاد خونچکاں ہے منھ سے ترے زیادہ
کیا خاک سے اٹھوں میں نقش قدم سا بیٹھا
اب مٹ ہی جانا میرا ہے پیش پا فتادہ
حالات عشق رنج و درد و بلا مصیبت
دل دادہ میر جانے کیا جانے کوئی ندادہ
میر تقی میر

اور ہر پارہ اس کا آوارہ

دیوان ششم غزل 1873
دل ہے میری بغل میں صد پارہ
اور ہر پارہ اس کا آوارہ
عرق شرم رو سے دلبر کے
رفتہ ثابت گذشتہ سیارہ
خواری عشق اپنی عزت ہے
کی ہے ہموار ہم نے ہموارہ
کام اس سے پکڑ کمر نہ لیا
ہیچ کارہ بھی ہے یہ ناکارہ
ٹوٹتیں پھوٹتیں نہ کاش آنکھیں
کرتے ان رخنوں ہی سے نظارہ
گو مسیحا مزاج آوے طبیب
عشق میں مرگ بن نہیں چارہ
کیا بنے اس سے میر میں مسکین
وہ جفاپیشہ و ستم کارہ
میر تقی میر

آزردہ دل کسو کا بیمار ہے ہمیشہ

دیوان ششم غزل 1872
آزارکش کو اس کے آزار ہے ہمیشہ
آزردہ دل کسو کا بیمار ہے ہمیشہ
مختار عشق اس کا مجبور ہی ہے یعنی
یک رہ دو چار ہو کر ناچار ہے ہمیشہ
کب سہل عاشقی میں اوقات گذرے ہے یاں
کام اپنا اس پر اس بن دشوار ہے ہمیشہ
عالم کا عین اسی کو معلوم کرچکے ہیں
اس وجہ سے اب اس کا دیدار ہے ہمیشہ
اس سے حصول مطلب اپنا ہوا نہ ہو گا
با آنکہ کام دل کا اظہار ہے ہمیشہ
پرواے نفع و نقصاں مطلق نہیں ہے اس کو
اس کی تو لاابالی سرکار ہے ہمیشہ
ملنا نہ ملنا ٹھہرے تو دل بھی ٹھہرے اپنا
اقرار ہے ہمیشہ انکار ہے ہمیشہ
آمادئہ فنا کچھ کیا میر اب ہوا ہے
جی مفت دینے کو وہ تیار ہے ہمیشہ
میر تقی میر

پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ

دیوان ششم غزل 1871
نظر آیا تھا صبح دور سے وہ
پھر چھپا خور سا اپنے نور سے وہ
جز برادر عزیز یوسف کو
نہیں لکھتا کبھو غرور سے وہ
دیکھیں عاشق کا جی بھی ہے کہ نہیں
تنگ ہے جان ناصبور سے وہ
کیا تصور میں پھیرے ہے صورت
کہ سرکتا نہیں حضور سے وہ
خوبی اس خوبی سے بشر میں کہاں
خوب تر ہے پری و حور سے وہ
دل لیا جس غمیں کا تونے شوخ
دے گیا جی ہی اک سرور سے وہ
خوش ہیں دیوانگی میر سے سب
کیا جنوں کر گیا شعور سے وہ
میر تقی میر

جیتے ہیں وے ہی لوگ جو تھے کچھ خدا کے ساتھ

دیوان ششم غزل 1870
مرتے ہیں ہم تو اس صنم خودنما کے ساتھ
جیتے ہیں وے ہی لوگ جو تھے کچھ خدا کے ساتھ
دیکھیں تو کار بستہ کی کب تک کھلے گرہ
دل بستگی ہے یار کے بند قبا کے ساتھ
اے کاش فصل گل میں گئی ہوتی اپنی جان
مل جاتی یہ ہوا کوئی دن اس ہوا کے ساتھ
مدت ہوئی موئے گئے ہم کو پر اب تلک
اڑتی پھرے ہے خاک ہماری صبا کے ساتھ
ہم رہتے اس کے محو تو وہ کرتا ہم کو سہو
ہرگز وفا نہ کرنی تھی اس بے وفا کے ساتھ
کیفیت آشنا نہیں اس مست ناز کی
معشوق ورنہ کون ہے اب اس ادا کے ساتھ
منھ اپنا ان نے عکس سے اپنے چھپا لیا
دیکھا نہ کوئی آئینہ رو اس حیا کے ساتھ
ٹھہرا ہے رونا آٹھ پہر کا مرا علاج
تسکین دل ہے یعنی کچھ اب اس دوا کے ساتھ
تھا جذب آگے عشق سے جو ہر نفس میں میر
اب وہ کشش نہیں ہے سحر کی دعا کے ساتھ
میر تقی میر

جانا ہی تھا ہمیں بھی بہار چمن کے ساتھ

دیوان ششم غزل 1869
اب دل خزاں میں رہتا ہے جی کی رکن کے ساتھ
جانا ہی تھا ہمیں بھی بہار چمن کے ساتھ
کب تک خراب شہر میں اس کے پھرا کریں
اب جاویں یاں سے کوئی غریب الوطن کے ساتھ
ہم باغ سے خزاں میں گئے پر ہزار حیف
جانا بنا نہ اپنا گل و یاسمن کے ساتھ
لکنت سے کیا نکلتی نہیں اس کے منھ سے بات
چپکا ہے حرف یار کے شیریں دہن کے ساتھ
جی خواب مرگ لے گئی حسرت ہی میں ندان
اک شب نہ سوئے ہم کسو گل پیرہن کے ساتھ
جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے
کیا تنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ
کیا جانیں لوگ عشق کا راز و نیاز میر
اک بات اس سے ہو گئی دو دو بچن کے ساتھ
میر تقی میر

پر خود گم ایسا میں نہیں جو سہل مجھ کو پائے وہ

دیوان ششم غزل 1868
ہر چند جذب عشق سے تشریف یاں بھی لائے وہ
پر خود گم ایسا میں نہیں جو سہل مجھ کو پائے وہ
خوبی و رعنائی ادھر بدحالی و خواری ادھر
اے وائے ہم اے وائے ہم اے ہائے وہ اے ہائے وہ
مارا ہوا چاہت کا جو آوارہ گھر سے اپنے ہو
حیراں پریشاں پھر کے پھر کیا جانے کیدھر جائے وہ
جی کتنا محو و رفتہ کا جو ہو طرف دیکھے تجھے
تو کج کرے ابرو اگر پل مارتے مرجائے وہ
الفت نہیں مجھ سے اسے کلفت کا میری غم نہیں
پاے غرض ہو درمیاں تو چل کے یاں بھی آئے وہ
عاشق کا کتنا حوصلہ یہ معجزہ ہے عشق کا
جو خستہ جاں پارہ جگر سو داغ دل پر کھائے وہ
مشکل عجائب میر ہے دیدار جوئی یار کی
دیکھے کوئی کیا اس کو جو آنکھیں لڑے شرمائے وہ
میر تقی میر

بیتاب دل کا مرگ کہیں مدعا نہ ہو

دیوان ششم غزل 1867
چاہت میں خوبرویوں کی کیا جانے کیا نہ ہو
بیتاب دل کا مرگ کہیں مدعا نہ ہو
بے لاگ عشق بازی میں مفلس کا ہے ضرر
کیا کھیلے وہ جوا جسے کچھ آسرا نہ ہو
کرتے دعا مجھے وہ دغاباز دیکھ کر
بولا کہ اس فقیر کے دل میں دغا نہ ہو
آزاد پرشکستہ کو صد رنگ قید ہے
یارب اسیر ایسا قفس سے رہا نہ ہو
دوری مہ سے کبک ہیں کہسار میں خراب
دلبر سے اپنے کوئی الٰہی جدا نہ ہو
کھولے ہے آنکھ اس کے گل رو پہ ہر سحر
غالب کہ میری آئینے کی اب صفا نہ ہو
آہوں کے میری دود سے گھر بھر گیا ہے سب
سدھ ہمنشیں لے دل کی کہیں وہ جلا نہ ہو
ہم گر جگر نکال رکھیں اس کے زیر پا
بے دید کی ادھر سے نظر آشنا نہ ہو
رہتے ہیں میر بے خود و وارفتہ ان دنوں
پوچھو کنایۃً کسو سے دل لگا نہ ہو
میر تقی میر

برات عاشقاں بر شاخ آہو

دیوان ششم غزل 1866
لکھے ہے کچھ تو کج کر چشم و ابرو
برات عاشقاں بر شاخ آہو
گیا وہ ساتھ سوتے لے کے کروٹ
لگا بستر سے پھر اپنا نہ پہلو
اڑے ہے خاک سی سارے چمن میں
پھرا ہے آہ کس کا واں سے گل رو
جدھر پھرتے تھے چنتے پھول ہنستے
ادھر ٹپکے ہیں اب تک میرے آنسو
جدا ہوتے ہی گل خنداں ہوا میر
کیا تھا اس کا گل تکیہ جو بازو
میر تقی میر

گری ہو کے بے ہوش مشاطہ یک سو

دیوان ششم غزل 1865
بس اب بن چکے رو و موے سمن بو
گری ہو کے بے ہوش مشاطہ یک سو
نہ سمجھا گیا کھیل قدرت کا ہم سے
کیا اس کو بدخو بنا کر نکورو
نہ درگیر کیونکر ہو آپس میں صحبت
کہ میں بوریا پوش وہ آتشیں خو
ہوا ابر و سبزے میں چشمک ہے گل کی
کریں ساز ہم برگ عیش لب جو
بہار آئی گل پھول سر جوڑے نکلے
رہیں باغ میں کاش اس رنگ ہم تو
رہے آبرو میر تو ہے غنیمت
کہ غارت میں دل کی ہے ایماے ابرو
میر تقی میر

کھولو منھ کو کہ پھر خطاب کرو

دیوان ششم غزل 1864
ٹک نقاب الٹو مت عتاب کرو
کھولو منھ کو کہ پھر خطاب کرو
آنکھیں غصے میں ہو گئی ہیں لال
سر کو چھاتی پہ رکھ کے خواب کرو
فرصت بود و باش یاں کم ہے
کام جو کچھ کرو شتاب کرو
محو صورت نہ آرسی میں رہو
اہل معنی سے ٹک حجاب کرو
جھوٹ اس کا نشاں نہ دو یارو
ہم خرابوں کو مت خراب کرو
منھ کھلے اس کے چاندنی چھٹکی
دوستو سیر ماہتاب کرو
میر جی راز عشق ہو گا فاش
چشم ہر لحظہ مت پرآب کرو
میر تقی میر

دل کا منکا ولے پھرا نہ کبھو

دیوان ششم غزل 1863
ہاتھ بے سبحہ ٹک رہا نہ کبھو
دل کا منکا ولے پھرا نہ کبھو
کیونکے عرفان ہو گیا سب کو
اپنے ڈھب پر تو وہ چڑھا نہ کبھو
روز دفتر لکھے گئے یاں سے
ان نے یک حرف بھی لکھا نہ کبھو
گو شگفتہ چمن چمن تھے گل
غنچۂ دل تو وا ہوا نہ کبھو
طور کی سی تھی صحبت اس کی مری
جھمکی دکھلا کے پھر ملا نہ کبھو
غیرت اپنی تھی یہ کہ بعد نماز
اس کا لے نام کی دعا نہ کبھو
ابتدا ہی میں مر گئے سب یار
عشق کی پائی انتہا نہ کبھو
وہ سخن گو فریبی چشم یار
ہم سے گویا تھی آشنا نہ کبھو
میر تقی میر

کچھ تمھیں پیار نہیں کرتے جفا ماروں کو

دیوان ششم غزل 1862
اگلے سب چاہتے تھے ہم سے وفاداروں کو
کچھ تمھیں پیار نہیں کرتے جفا ماروں کو
شہر تو عشق میں ہے اس کے شفاخانہ تمام
وہ نہیں آتا کبھو دیکھنے بیماروں کو
مستی میں خوب گذرتی ہے کہ غفلت ہے ہمیں
مشکل اس مصطبے میں کام ہے ہشیاروں کو
فکر سے اپنے گذرتا ہے زمیں کاوی میں دن
رات جاتی ہے ہمیں گنتے ہوئے تاروں کو
خوب کرتے ہیں جو خوباں نہیں رو دیتے ہیں
منھ لگاتا ہے کوئی خوں کے سزاواروں کو
حسن بازار جہاں میں ہے متاع دلکش
صاحب اس کا ٹھگے جاتا ہے خریداروں کو
وامق و کوہکن و قیس نہیں ہے کوئی
بھکھ گیا عشق کا اژدر مرے غمخواروں کو
زندگی کرتے ہیں مرنے کے لیے اہل جہاں
واقعہ میر ہے درپیش عجب یاروں کو
میر تقی میر

تہ کر صنم خانے چلا ہوں جامۂ احرام کو

دیوان ششم غزل 1861
چھوڑا جنوں کے دور میں رسم و رہ اسلام کو
تہ کر صنم خانے چلا ہوں جامۂ احرام کو
مرتا مرو جیتا جیو آئو کوئی جائو کوئی
ہے کام ہم لوگوں سے کیا اس دلبر خود کام کو
جس خودنما تک جائوں ہوں اس سے سنوں ہوں دور دور
کیا منھ لگاوے اب کوئی اس رو سیہ بدنام کو
بے چین بستر پر رہا بے خواب خاکستر پہ ہوں
صبر و سکوں جب سے گئے پایا نہیں آرام کو
آسائش و راحت سے جو پوچھے کوئی تو کیا کہوں
میں عمر بھر کھینچا کیا رنج و غم و آلام کو
میر اب بھلا کیا ابتداے عشق کو روتا ہے تو
کر فکر جو پاوے بھی اس آغاز کے انجام کو
میر تقی میر

وہ جو تڑپا لے گیا آسودگی و خواب کو

دیوان ششم غزل 1860
کیونکے نیچے ہاتھ کے رکھا دل بیتاب کو
وہ جو تڑپا لے گیا آسودگی و خواب کو
کم نہیں ہے سحر سے یہ بھی تصرف عشق کا
پانی کر آنکھوں میں لایا دل کے خون ناب کو
تھا یہی سرمایۂ بحر بلا پچھلے دنوں
چشم کم سے دیکھو مت اس دیدئہ پرآب کو
تو کہے تھی برق خاطف ناگہاں آکر گری
اک نگہ سے مار رکھا ان نے شیخ و شاب کو
کیا سفیدی دیکھی اس کی آستیں کے چاک سے
جس کے آگے رو نہ تھا کچھ پرتو مہتاب کو
چاہتا ہے جب مسبب آپھی ہوتا ہے سبب
دخل اس عالم میں کیا ہے عالم اسباب کو
دم بخود رہتا ہوں اکثر سر رکھے زانو پہ میر
حال کہہ کر کیا کروں آزردہ اور احباب کو
میر تقی میر

منت بھی میں کروں تو نہ ہرگز منا کرو

دیوان ششم غزل 1859
کن نے کہا کہ مجھ سے بہت کم ملا کرو
منت بھی میں کروں تو نہ ہرگز منا کرو
بندے سے کی ہے جن نے یہ خصمی خدا کرے
اس سے بھی تم خصومت جانی رکھا کرو
عنقا سا شہرہ ہوں پہ حقیقت میں کچھ نہیں
تم دور ہی سے نام کو میرے سنا کرو
بیماری جگر کی شفا سے تو دل ہے جمع
اب دوستی سے مصلحتاً کچھ دوا کرو
ہم بے خودان مجلس تصویر اب گئے
تم بیٹھے انتظار ہمارا کیا کرو
جی مارتے ہیں ناز و کرشمہ بالاتفاق
جینا مرا جو چاہو تو ان کو جدا کرو
میں نے کہا کہ پھنک رہی ہے تن بدن میں آگ
بولا کہ عشق ہے نہ پڑے اب جلا کرو
دل جانے کا فسانہ زبانوں پہ رہ گیا
اب بیٹھے دور سے یہ کہانی کہا کرو
اب دیکھوں اس کو میں تو مرا جی نہ چل پڑے
تم ہو فقیر میر کبھو یہ دعا کرو
میر تقی میر

سلایا مرے خوں میں تلوار کو

دیوان ششم غزل 1858
زمانے نے دشمن کیا یار کو
سلایا مرے خوں میں تلوار کو
کھلی رہتی ہے چشم آئینہ ساں
کہاں خواب مشتاق دیدار کو
مجھے عشق اس پاس یوں لے گیا
کوئی لاوے جیسے گنہگار کو
محبت میں دشوار دینی ہے جاں
نہ جاتے سنا سہل آزار کو
کوئی دن کرے زندگی عشق میں
جو دم لینے دیں دل کے بیمار کو
بکا میں تو بازار خوبی میں جا
کہ واں بیچتے تھے خریدار کو
مرے منھ پہ رکھا ہے رنگ اب تلک
ہزار آفریں چشم خونبار کو
تب اک جرعہ مے دیں مجھے مغبچے
گرو جب کروں رخت و دستار کو
کرو مت درنگ اٹھتے اس پینٹھ میں
چلو مول لو میر بازار کو
میر تقی میر

بہ خدا با خدا رہا ہوں میں

دیوان ششم غزل 1857
گو کہ بت خانے جا رہا ہوں میں
بہ خدا با خدا رہا ہوں میں
سب گئے دل دماغ تاب و تواں
میں رہا ہوں سو کیا رہا ہوں میں
برق تو میں نہ تھا کہ جل بجھتا
ابر تر ہوں کہ چھا رہا ہوں میں
اس کی بیگانہ وضعی ہے معلوم
برسوں تک آشنا رہا ہوں میں
دیکھو کب تیغ اس کی آبیٹھے
دیر سے سر اٹھا رہا ہوں میں
اس کی گرد سمند کا مشتاق
آنکھیں ہر سو لگا رہا ہوں میں
دور کے لوگ جن نے مارے قریب
اس کے ہمسائے آرہا ہوں میں
مجھ کو بدحال رہنے دیں اے کاش
بے دوا کچھ بھلا رہا ہوں میں
دل جلوں کو خدا جہاں میں رکھے
یا شقائق ہے یا رہا ہوں میں
کچھ رہا ہی نہیں ہے مجھ میں میر
جب سے ان سے جدا رہا ہوں میں
میر تقی میر

تو کیا رہیں گے جیتے ہم اس روزگار میں

دیوان ششم غزل 1856
گر روزگار ہے یہی ہجران یار میں
تو کیا رہیں گے جیتے ہم اس روزگار میں
کچھ ڈر نہیں جو داغ جنوں ہو گئے سیاہ
ڈر دل کے اضطراب کا ہے اس بہار میں
کیا بیقرار دل کی تسلی کرے کوئی
کچھ بھی ثبات ہے ترے عہد و قرار میں
بیتاب دل نہ دفن ہو اے کاش میرے ساتھ
رہنے نہ دے گا لاش کوئی دن مزار میں
وہ سنگ دل نہ آیا بہت دیکھی اس کی راہ
پتھرا چلی ہیں آنکھیں مری انتظار میں
تھمتا نہیں ہے رونا علی الاتصال کا
کیا اختیار گریۂ بے اختیار میں
مربوط کیسے کیسے کہے ریختے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زباں اس دیار میں
تھی بزم شعر رات کو شاعر بہت تھے جمع
دو باتیں ہم نے ایسے نہ کیں چار چار میں
دنبالہ گردی قیس نے بہتیری کی ولے
آیا نظر نہ محمل لیلیٰ غبار میں
اب ذوق صید اس کو نہیں ورنہ پیش ازیں
اودھم تھا وحش و طیر سے اس کے شکار میں
منھ چاہیے جو کوئی کسو سے حساب لے
ناکس سے گفتگو نہیں روز شمار میں
گنتی کے لوگوں کی وہاں صف ہووے گی کھڑی
تو میر کس شمار میں ہے کس قطار میں
میر تقی میر

تم ہوئے رعنا جواں بالفرض لیکن ہم کہاں

دیوان ششم غزل 1855
دم ہے مہلت شیب میں جانے کا اپنے غم کہاں
تم ہوئے رعنا جواں بالفرض لیکن ہم کہاں
عالم عالم جمع تھے خوباں جہاں صافا ہوا
گرچہ عالم اور ہے اب واں پہ وہ عالم کہاں
تھی بلا شوخی شرارت یار کی ہنگامہ ساز
شور یوں تو اوروں کا بھی ہے پہ وہ اودھم کہاں
کیا جنوں ہے تم کو جو تم طالب ویرانہ ہو
جس کو فردوس بریں کہتے ہیں واں آدم کہاں
حبس دم میں شیخ جو کرتا نہیں حرف و سخن
حق طرف ہے اس کے اس بیہودہ گو میں دم کہاں
ہو سو ہو میں میر اب تو دم بخود ہوں ہجر میں
کیا لکھوں تہ دل کی باتیں کاغذ و محرم کہاں
میر تقی میر

اس طور اس طرح کے ایسے کم آشنا ہیں

دیوان ششم غزل 1854
ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں
اس طور اس طرح کے ایسے کم آشنا ہیں
باہم جو یاریاں ہیں اور آشنائیاں ہیں
سب ہیں نظر میں اپنی ہم عالم آشنا ہیں
ماتم کدہ ہے تکیہ کیا تازہ کچھ ہمارا
یک جا فقیر کب سے ہم سب غم آشنا ہیں
تحریر راز دل کی مشکل ہے کیونکے کریے
کاغذ قلم ہمارے کب محرم آشنا ہیں
یاری جہانیوں کی کیا میر معتبر ہے
ناآشنا ہیں یک دم یہ اک دم آشنا ہیں
میر تقی میر

وار جب کرتے ہیں منھ پھیر لیا کرتے ہیں

دیوان ششم غزل 1853
طرفہ خوش رو دم خوں ریز ادا کرتے ہیں
وار جب کرتے ہیں منھ پھیر لیا کرتے ہیں
عشق کرنا نہیں آسان بہت مشکل ہے
چھاتی پتھر کی ہے ان کی جو وفا کرتے ہیں
شوخ چشمی تری پردے میں ہے جب تک تب تک
ہم نظر باز بھی آنکھوں کی حیا کرتے ہیں
نفع بیماری عشقی کو کرے سو معلوم
یار مقدور تلک اپنی دوا کرتے ہیں
آگ کا لائحہ ظاہر نہیں کچھ لیکن ہم
شمع تصویر سے دن رات جلا کرتے ہیں
اس کے قربانیوں کی سب سے جدا ہے رہ و رسم
اول وعدہ دل و جان فدا کرتے ہیں
رشک ایک آدھ کا جی مارتا ہے عاشق کا
ہر طرف اس کو تو دو چار دعا کرتے ہیں
بندبند ان کے جدا دیکھوں الٰہی میں بھی
میرے صاحب کو جو بندے سے جدا کرتے ہیں
دل کو جانا تھا گیا رہ گیا ہے افسانہ
روز و شب ہم بھی کہانی سی کہا کرتے ہیں
واں سے یک حرف و حکایت بھی نہیں لایا کوئی
یاں سے طومار کے طومار چلا کرتے ہیں
بودو باش ایسے زمانے میں کوئی کیونکے کرے
اپنی بدخواہی جو کرتے ہیں بھلا کرتے ہیں
حوصلہ چاہیے جو عشق کے آزار کھنچیں
ہر ستم ظلم پہ ہم صبر کیا کرتے ہیں
میر کیا جانے کسے کہتے ہیں واشد وے تو
غنچہ خاطر ہی گلستاں میں رہا کرتے ہیں
میر تقی میر

نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں

دیوان ششم غزل 1852
آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں
نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں
وصل میں اس کے روز و شب کیا خوب گذرتی تھی اپنی
ہجراں کا کچھ اور سماں ہے اب وہ لیل و نہار نہیں
خالی پڑے ہیں دام کہیں یا صید دشتی صید ہوئے
یا جس صید افگن کے لیے تھے اس کو ذوق شکار نہیں
سبزہ خط کا گرد گل رو بڑھ کانوں کے پار ہوا
دل کی لاگ اب اپنی ہو کیونکر وہ اس منھ پہ بہار نہیں
لطف عمیم اس کا ہی ہمدم کیوں نہ غنیمت جانیں ہم
ربط خاص کسو سے اسے ہو یہ تو طور یار نہیں
عشق میں اس بے چشم و رو کے طرفہ رویت پیدا کی
کس دن اودھر سے اب ہم پر گالی جھڑکی مار نہیں
مشتاق اس کے راہ گذر پر برسوں کیوں نہ بیٹھیں میر
ان نے راہ اب اور نکالی ایدھر اس کا گذار نہیں
میر تقی میر

پیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میں

دیوان ششم غزل 1851
آئے ہیں میر کافر ہوکر خدا کے گھر میں
پیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میں
نازک بدن ہے کتنا وہ شوخ چشم دلبر
جان اس کے تن کے آگے آتی نہیں نظر میں
سینے میں تیر اس کے ٹوٹے ہیں بے نہایت
سوراخ پڑ گئے ہیں سارے مرے جگر میں
آئندہ شام کو ہم رویا کڑھا کریں گے
مطلق اثر نہ دیکھا نالیدن سحر میں
بے سدھ پڑا رہوں ہوں اس مست ناز بن میں
آتا ہے ہوش مجھ کو اب تو پہر پہر میں
سیرت سے گفتگو ہے کیا معتبر ہے صورت
ہے ایک سوکھی لکڑی جو بو نہ ہو اگر میں
ہمسایۂ مغاں میں مدت سے ہوں چنانچہ
اک شیرہ خانے کی ہے دیوار میرے گھر میں
اب صبح و شام شاید گریے پہ رنگ آوے
رہتا ہے کچھ جھمکتا خونناب چشم تر میں
عالم میں آب و گل کے کیونکر نباہ ہو گا
اسباب گر پڑا ہے سارا مرا سفر میں
میر تقی میر

مطلق نہیں ہے بند ہماری زبان میں

دیوان ششم غزل 1850
اسرار دل کے کہتے ہیں پیر و جوان میں
مطلق نہیں ہے بند ہماری زبان میں
رنگینی زمانہ سے خاطر نہ جمع رکھ
سو رنگ بدلے جاتے ہیں یاں ایک آن میں
شاید بہار آئی ہے دیوانہ ہے جوان
زنجیر کی سی آتی ہے جھنکار کان میں
بے وقفہ اس ضعیف پہ جور و ستم نہ کر
طاقت تعب کی کم ہے بہت میری جان میں
اس کے لبوں کے آگے کنھوں نے نہ بات کی
آئی ہے کسر شہد مصفا کی شان میں
چہرہ ہی یار کا رہے ہے چت چڑھا سدا
خورشید و ماہ آتے ہیں کب میرے دھیان میں
اب میرے اس کے عہد میں شاید کہ اٹھ گئی
آگے جو رسم دوستی کی تھی جہان میں
تارے تو یہ نہیں مری آہوں سے رات کی
سوراخ پڑگئے ہیں تمام آسمان میں
ابرو کی طرح اس کی چڑھی ہی رہے ہے میر
نکلی ہے شاخ تازہ کوئی کیا کمان میں
میر تقی میر

بیگانہ وضع تو ہوں پر آشنا زدہ ہوں

دیوان ششم غزل 1849
بیکار مجھ کو مت کہہ میں کارآمدہ ہوں
بیگانہ وضع تو ہوں پر آشنا زدہ ہوں
میں منھ نہیں لگایا بنت العنب کو گاہے
تب تھا جوان صالح اب پیر میکدہ ہوں
میر تقی میر

بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں

دیوان ششم غزل 1848
اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں
بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں
غیرت سے نام اس کا آیا نہیں زباں پر
آگے خدا کے جب ہم محو دعا ہوئے ہیں
اہل چمن سے کیونکر اپنی ہو روشناسی
برسوں اسیر رہ کر اب ہم رہا ہوئے ہیں
بے عشق خوب رویاں اپنی نہیں گذرتی
اے وائے کس بلا میں ہم مبتلا ہوئے ہیں
جانا کہ تن میں ہر جا نازک ہے اور دلکش
ہم رفتۂ سراپا اس کے بجا ہوئے ہیں
تھے غنچے جتنے زیر دیوار باغ طائر
شب باشی چمن سے شاید خفا ہوئے ہیں
صرفہ قمیص کا ہے کیا وقر اس گلی میں
ترک لباس کر واں شاہاں گدا ہوئے ہیں
خاموش اس کے در پر ہوکر فقیر بیٹھے
یعنی کہ عاشقی میں ہم بے نوا ہوئے ہیں
عہد شباب گذرا شرب مدام ہی میں
ہم کہنہ سال ہوکر اب پارسا ہوئے ہیں
اظہار کم فراغی ہردم کی بے دماغی
ان روزوں میر صاحب کچھ میرزا ہوئے ہیں
میر تقی میر

جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں

دیوان ششم غزل 1847
بہار آئی مزاجوں کی سبھی تدبیر کرتے ہیں
جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں
برہمن زادگان ہند کیا پرکار سادے ہیں
مسلمانوں کی یارانے ہی میں تکفیر کرتے ہیں
موئے پر اور بھی کچھ بڑھ گئی رسوائی عاشق کی
کہ اس کی نعش کو اب شہر میں تشہیر کرتے ہیں
ہمارے حیرت عشقی سے چپ رہ جانے کی اس سے
مخالف مدعی کس کس طرح تقریر کرتے ہیں
تماشا دیکھنا منظور ہو تو مل فقیروں سے
کہ چٹکی خاک کو لے ہاتھ میں اکسیر کرتے ہیں
نہ لکھتے تھے کبھو یک حرف اسے جو ہاتھ سے اپنے
سو کاغذ دستے کے دستے ہم اب تحریر کرتے ہیں
در و دیوار افتادہ کو بھی کاش اک نظر دیکھیں
عمارت ساز مردم گھر جو اب تعمیر کرتے ہیں
خدا ناکردہ رک جاؤں جہاں رک جائے گا سارا
غلط کرتے ہیں لڑکے جو مجھے دلگیر کرتے ہیں
اسے اصرار خوں ریزی پہ ہے ناچار ہیں اس میں
وگرنہ عجزتابی تو بہت سی میر کرتے ہیں
میر تقی میر

پہ یہ غم ہے میں بھی سر راہ ہوں

دیوان ششم غزل 1846
تری راہ میں گرچہ اے ماہ ہوں
پہ یہ غم ہے میں بھی سر راہ ہوں
مرے درپئے خون ناحق ہے تو
نہ خوندار ہوں میں نہ خونخواہ ہوں
تری دوستی سے جو دشمن ہیں سب
انھوں کے بھی خوں تک میں ہمراہ ہوں
نہ سمجھو مجھے بے خبر اس قدر
تہ دل سے لوگوں کے آگاہ ہوں
مری کجروی سادگی سے ہے میر
بہت اس رویے پہ گمراہ ہوں
میر تقی میر

دل کی پھر دل میں لیے چپکا چلا جاتا ہوں

دیوان ششم غزل 1845
اس سے گھبرا کے جو کچھ کہنے کو آجاتا ہوں
دل کی پھر دل میں لیے چپکا چلا جاتا ہوں
سعی دشمن کو نہیں دخل مری ایذا میں
رنج سے عشق کے میں آپھی کھپا جاتا ہوں
گرچہ کھویا سا گیا ہوں پہ تہ حرف و سخن
اس فریبندۂ عشاق کی پا جاتا ہوں
خشم کیوں بے مزگی کاہے کو بے لطفی کیا
بدبر اتنا بھی نہ ہو مجھ سے بھلا جاتا ہوں
استقامت سے ہوں جوں کوہ قوی دل لیکن
ضعف سے عشق کے ڈھہتا ہوں گرا جاتا ہوں
مجلس یار میں تو بار نہیں پاتا میں
در و دیوار کو احوال سنا جاتا ہوں
گاہ باشد کہ سمجھ جائے مجھے رفتۂ عشق
دور سے رنگ شکستہ کو دکھا جاتا ہوں
یک بیاباں ہے مری بیکسی و بیتابی
مثل آواز جرس سب سے جدا جاتا ہوں
تنگ آوے گا کہاں تک نہ مرا قلب سلیم
بگڑی صحبت کے تئیں روز بنا جاتا ہوں
گرمی عشق ہے ہلکی ابھی ہمدم دل میں
روز و شب شام و سحر میں تو جلا جاتا ہوں
میر تقی میر

پھر زمانے میں کہاں تم ہم کہاں

دیوان ششم غزل 1844
رابطہ باہم ہے کوئی دن کا یاں
پھر زمانے میں کہاں تم ہم کہاں
گم ہوا ہوں یاں سے جاکر میں جہاں
کچھ نہیں پیدا کہاں میرا نشاں
پیری میں ہے طفل مکتب سا جہول
ہے فلک کرنے کے قابل آسماں
تو کہے واں ناگہاں بجلی گری
وہ نگاہ تند کرتا ہے جہاں
بھولے بھی میں یک نظر دیکھا نہیں
اس پہ ہے وہ بے دماغ و بدگماں
عشق نے تکلیف کی مالایطاق
بار امانت کا گراں میں ناتواں
کام کچھ آئی نہ دل کی بھی کشش
کھنچ رہا ہے ہم سے وہ ابرو کماں
کیا چھپی ہیں باتیں میرے عشق کی
داستاں در داستاں ہے داستاں
عشق میں کیونکر بسر کریے گا عمر
دل لگا ہے جس سے سو نامہرباں
جو زمیں پالغز تھی شاید کہ میر
ہو وہیں مسجود اس کا آستاں
میر تقی میر

پھوٹی سہتے ہیں آنجی سہتے نہیں

دیوان ششم غزل 1843
ایسے دیکھے ہیں اندھے لوگ کہیں
پھوٹی سہتے ہیں آنجی سہتے نہیں
مر گئے ناامید ہم مہجور
خواہشیں جی کی اپنے جی میں رہیں
دیر دریا کنارہ کرتا رہا
عشق میں آنکھیں اپنی زور بہیں
مرتے تھے اس گلی میں لاکھوں جہاں
ہم بھی مارے گئے ندان وہیں
دیر سے میر اٹھ کے کعبے گئے
کہیے کیا نکلے جا کہیں کے کہیں
میر تقی میر

متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں

دیوان ششم غزل 1842
سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں
متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں
اس گلستاں میں نمود اپنی ہے جوں آب رواں
دم بہ دم مرتبے سے اپنے چلے جاتے ہیں
تن بدن ہجر میں کیا کہیے کہ کیسا سوکھا
ہلکی بھی باؤ میں تنکے سے ہلے جاتے ہیں
رہتے دکھلائی نہیں دیتے بلاکش اس کے
جی کھپے جاتے ہیں دل اپنے دلے جاتے ہیں
پھر بخود آئے نہ بدحالی میں بیخود جو ہوئے
آپ سے جاتے ہیں ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
خاک پا اس کی ہے شاید کسو کا سرمۂ چشم
خاک میں اہل نظر اس سے رلے جاتے ہیں
گرم ہیں اس کی طرف جانے کو ہم لیکن میر
ہر قدم ضعف محبت سے ڈھلے جاتے ہیں
میر تقی میر

شہرۂ عالم تھے اس کے ناز برداروں میں ہم

دیوان ششم غزل 1841
کیا زمانہ تھا کہ تھے دلدار کے یاروں میں ہم
شہرۂ عالم تھے اس کے ناز برداروں میں ہم
اجڑی اجڑی بستی میں دنیا کی جی لگتا نہیں
تنگ آئے ہیں بہت ان چار دیواروں میں ہم
جو یہی ہے غم الم رنج و قلق ہجراں کا تو
زندگی سے بے توقع ہیں ان آزاروں میں ہم
شاید آوے حال پرسی کرنے اس امید پر
کب سے ہیں دارالشفا میں اس کے بیماروں میں ہم
دھوپ میں جلتے ہیں پہروں آگے اس کے میرجی
رفتگی سے دل کی ٹھہرے ہیں گنہگاروں میں ہم
میر تقی میر

الفت گزیدہ مردم کلفت کشیدہ مردم

دیوان ششم غزل 1840
وے ہم ہیں جن کو کہیے آزار دیدہ مردم
الفت گزیدہ مردم کلفت کشیدہ مردم
ہے حال اپنا درہم تس پر ہے عشق کا غم
رہتے ہیں دم بخود ہم آفت رسیدہ مردم
وہ دیکھے ہم کو آکر جن نے نہ دیکھے ہوویں
آزردہ دل شکستہ خاطر کبیدہ مردم
جو ہے سو لوہو مائل بے طور اور جاہل
اہل جہاں ہیں سارے صحبت نہ دیدہ مردم
جاتے ہیں اس کی جانب مانند تیر سیدھے
مثل کمان حلقہ قامت خمیدہ مردم
اوباش بھی ہمارا کتنا ہے ٹیڑھا بانکا
دیکھ اس کو ہو گئے ہیں کیا کیا کشیدہ مردم
مت خاک عاشقاں پر پھر آب زندگی سا
جاگیں کہیں نہ سوتے یہ آرمیدہ مردم
لے لے کے منھ میں تنکا ملتے ہیں عاجزانہ
مغرور سے ہمارے برخویش چیدہ مردم
تھے دست بستہ حاضر خدمت میں میر گویا
سیمیں تنوں کے عاشق ہیں زرخریدہ مردم
میر تقی میر

بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم

دیوان ششم غزل 1839
کڑھتے جو رہے ہجر میں بیمار ہوئے ہم
بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم
بہلانے کو دل باغ میں آئے تھے سو بلبل
چلانے لگی ایسے کہ بیزار ہوئے ہم
جلتے ہیں کھڑے دھوپ میں جب جاتے ہیں اودھر
عاشق نہ ہوئے اس کے گنہگار ہوئے ہم
اک عمر دعا کرتے رہے یار کو دن رات
دشنام کے اب اس کے سزاوار ہوئے ہم
ہم دام بہت وحشی طبیعت تھے اٹھے سب
تھی چوٹ جو دل پر سو گرفتار ہوئے ہم
چیتے ہوئے لوگوں کی بھلی یا بری گذری
افسوس بہت دیر خبردار ہوئے ہم
کیا کیا متمول گئے بک دیکھتے جس پر
بیعانگی میں اس کے خریدار ہوئے ہم
کچھ پاس نہیں یاری کا ان خوش پسروں کو
اس دشمن جانہا سے عبث یار ہوئے ہم
گھٹ گھٹ کے جہاں میں رہے جب میر سے مرتے
تب یاں کے کچھ اک واقف اسرار ہوئے ہم
میر تقی میر

جھانکتے اس کو ساتھ صباکے صبح پھریں ہیں گھر گھر ہم

دیوان ششم غزل 1838
عشق کیا ہے اس گل کا یا آفت لائے سرپرہم
جھانکتے اس کو ساتھ صباکے صبح پھریں ہیں گھر گھر ہم
روز و شب کو اپنے یارب کیونکے کریں گے روزوشب
ہاتھ رکھے رہتے ہیں دل پر بیتابی میں اکثر ہم
پوچھتے راہ شکستہ دل کی جا نکلے تھے کعبے میں
سوچ وہاں تو گذرا جی میں آئے کدھر سے کیدھر ہم
شام سے کرتا منزل آکر گھر کو ہمارے صدر نشیں
رکھتے ستارہ اس مہ وش کی چاہ میں گربد اختر ہم
برسوں خس و خاشاک پہ سوئے مدت گلخن تابی کی
بخت نہ جاگے جو اس سے ہوں ایک بھی شب ہم بستر ہم
روز بتر ہے حالت عشقی جیسے ہوں بیمار اجل
ہے نہ دوا نے کوئی معالج کیونکر ہوں گے بہتر ہم
اس کی جناب سے رحمت ہو تو جی بچتا ہے دنیا میں
اس جانب سے تو بیٹھے ہیں مرنا کرکے مقرر ہم
اب تو ہماری طرف سے اتنا دل کو پتھر مت کریو
سختی سے ایام کی اب تک جیتے رہے ہیں مرمرہم
آہ معیشت روز و شب کی ساتھ اندوہ کے ٹھہری ہے
روتے کڑھتے رہا کرتے ہیں غم سے ہوئے ہیں خوگر ہم
شعلہ ایک اٹھا تھا دل سے آہ عالم سوز کا میر
ڈھیری ہوئی ہے خاکستر کی جیسی شب میں جل کر ہم
میر تقی میر

واں گئے کیا ہو کچھ نہیں معلوم

دیوان ششم غزل 1837
کھا گئی یاں کی فکر سو موہوم
واں گئے کیا ہو کچھ نہیں معلوم
وصل کیونکر ہو اس خوش اختر کا
جذب ناقص ہے اور طالع شوم
نہ ہوئے تھے ابھی جواں افسوس
صبر مغفور و طاقت مرحوم
جب غبار اپنے دل کا نکلے ہے
دیر رہتی ہے آندھی کی سی دھوم
بھیگی اس کی مسوں کی خوبی سے
بے حواسی ہے ہم کو جوں مسموم
ہے عبث یہ تردد و تشویش
پہنچے ہے وقت پر جو ہے مقسوم
ہاتھ سے وے گئے جو سیمیں ساق
ہم رہے سر بہ زانوے مغموم
صاحب اپنا ہے بندہ پرور میر
ہم جہاں سے نہ جائیں گے محروم
میر تقی میر

پیمبر دل ہے قبلہ دل خدا دل

دیوان ششم غزل 1836
طریق عشق میں ہے رہنما دل
پیمبر دل ہے قبلہ دل خدا دل
قیامت تھا مروت آشنا دل
موئے پر بھی مرا اس میں رہا دل
رکا اتنا خفا اتنا ہوا تھا
کہ آخر خون ہو ہوکر بہا دل
جسے مارا اسے پھر کر نہ دیکھا
ہمارا طرفہ ظالم سے لگا دل
نہ تھی سہل استقامت اس کی لیکن
خرام ناز دلبر لے گیا دل
بدن میں اس کے تھی ہرجاے دلکش
بجا بے جا ہوا ہے جا بجا دل
گئے وحشت سے باغ و راغ میں تھے
کہیں ٹھہرا نہ دنیا سے اٹھا دل
اسیری میں تو کچھ واشد کبھو تھی
رہا غمگیں ہوا جب سے رہا دل
ہمہ تن میں الم تھا سو نہ جانا
گرہ یہ درد ہے پہلو میں یا دل
خموشی مجھ کو حیرت سے ہے ورنہ
بھرے ہیں لب سے لے کر شکوے تا دل
نہ پوچھا ان سے جس بن خوں ہوا سب
نہ سمجھا اس کے کینے کی ادا دل
ہوا پژمردہ و بے صبر و بے تاب
کرے گا اس طرح کب تک وفا دل
ہوئی پروا نہ واں دلبر کو یاں میر
اٹھا کر ہوچکا جور و جفا دل
میر تقی میر

چڑھ جائے مغز میں نہ کہیں گرد بوے گل

دیوان ششم غزل 1835
زنہار گلستاں میں نہ کر منھ کو سوے گل
چڑھ جائے مغز میں نہ کہیں گرد بوے گل
موسم گئے نشاں بھی کہیں پتے کا نہ تھا
کی شوق کشتگاں نے عبث جستجوے گل
تڑپے خزاں میں اتنے کہ مرمر گئے طیور
جاوے گی ساتھ جی کے مگر آرزوے گل
آئے نظر بہار میں پائیز میں گئے
ہے بے وفائی کرنے کی ہر سال خوے گل
مدت ہوئی کہ دیکھا تھا سیر چمن میں میر
پھرتا ہے اب تلک مری آنکھوں میں روے گل
میر تقی میر

کم دماغی ہے بہت مجھ کو کہ ہوں بیمار دل

دیوان ششم غزل 1834
چپ رہ اب نالوں سے اے بلبل نہ کر آزار دل
کم دماغی ہے بہت مجھ کو کہ ہوں بیمار دل
ابتداے خبط میں ہوتا تدارک کچھ تو تھا
اب کوئی سنبھلے ہے مجھ سے وحشت بسیار دل
یک توجہ میں رہے ہے سیر اس کی عرش پر
عقل میں آتے نہیں ہیں طرفہ طرفہ کار دل
باغ سے لے دشت تک رکھتے ہیں اک شور عجب
ہم اسیران قفس کے نالہ ہاے زار دل
اس سبک روحی پہ جوں باد سحر در در پھرے
زندگی اب یار بن اپنی ہوئی ہے بار دل
تنگی و وسعت سے اس کی اے عبارت ساز فہم
میر کچھ سمجھے گئے نہ معنی اسرار دل
میر تقی میر

وہ بیچتا رہے گا خریدار کب تلک

دیوان ششم غزل 1833
اس کی رہے گی گرمی بازار کب تلک
وہ بیچتا رہے گا خریدار کب تلک
عہد و وعید حشر قیامت ہے دیکھیے
جیتے رہیں گے طالب دیدار کب تلک
دل کا جگر کا لوہو تو غم نے سکھا دیا
آنکھیں رہیں گی دیکھیے خونبار کب تلک
نسبت بہت گناہوں کی کرتا ہے اس طرف
بے جرم ہم رہیں گے گنہگار کب تلک
اس کی نگاہ مست ہے اکثر سوے رباط
صوفی رہیں گے حال سے ہشیار کب تلک
دیوار و در بڑے تھے جہاں واں نشاں نہیں
یاں خانوادوں کے رہیں آثار کب تلک
مہمان کوئی دن کا ہے وارفتہ عشق کا
ظاہر ہے حال سے کہ یہ بیمار کب تلک
ترسا کے مارنے میں عذاب شدید ہے
اک کھینچ کر نہ ماروگے تلوار کب تلک
صیاد اسیر کرکے جسے اٹھ گیا ہو میر
وہ دام کی شکن میں گرفتار کب تلک
میر تقی میر

آشوب نالہ اب تو پہنچا ہے آسماں تک

دیوان ششم غزل 1832
وہ تو نہیں کہ اودھم رہتا تھا آشیاں تک
آشوب نالہ اب تو پہنچا ہے آسماں تک
لبریز جلوہ اس کا سارا جہاں ہے یعنی
ساری ہے وہ حقیقت جاوے نظر جہاں تک
ہجراں کی سختیوں سے پتھر دل و جگر ہیں
صبر اس کی عاشقی میں کوئی کرے کہاں تک
سوداے عاشقی میں نقصاں ہے جی کا لیکن
ہم راضی ہورہے ہیں اپنے زیان جاں تک
وا ماندہ نقش پا سے یک دشت ہم ہیں بیکس
دشوار ہے پہنچنا اب اپنا کارواں تک
جی مارتے ہیں دلبر عاشق کا اس خطر سے
حرف وفا نہ آیا اپنی کبھو زباں تک
دل دھڑکے ہے جو بجلی چمکے ہے سوے گلشن
پہنچے مبادا میری خاشاک آشیاں تک
دیواروں سے بھی مارا پتھروں سے پھوڑ ڈالا
پہنچا نہ سر ہمارا حیف اس کے آستاں تک
یہ تنگی و نزاکت اس رنگ سے کہاں ہے
گل برگ و غنچے پہنچیں کب ان لب و دہاں تک
ان جلتی ہڈیوں پر ہرگز ہما نہ بیٹھے
پہنچی ہے عشق کی تب اے میر استخواں تک
میر تقی میر

سر زخم پہنچا ہے شاید جگر تک

دیوان ششم غزل 1831
رہے ہے غش و درد دو دو پہر تک
سر زخم پہنچا ہے شاید جگر تک
ہوئے ہیں حواس اور ہوش و خرد گم
خبر کچھ تو آئی ہے اس بے خبر تک
زمیں گرد اس مہ کے میرے ہیں عاشق
ستارے فلک کے رہے ہیں ادھر تک
قیامت ہے مشتاق لوگوں کی کثرت
پہنچنا ہے مشکل ہمیں اس کے گھر تک
کہاں تک اسے سر سے مارا کروں میں
نہ پہنچا مرا ہاتھ اس کی کمر تک
بہار آئی پر ایک پتی بھی گل کی
نہ آئی اسیران بے بال و پر تک
بہت میر برہم جہاں میں رہیں گے
اگر رہ گئے آج شب کی سحر تک
میر تقی میر

چپکے چپکے کسو کو چاہا پوچھا بھی تو نہ بولے ٹک

دیوان ششم غزل 1830
جب کہتے تھے تب تم نے تو گوش ہوش نہ کھولے ٹک
چپکے چپکے کسو کو چاہا پوچھا بھی تو نہ بولے ٹک
اب جو چھاتی جلی فی الواقع لطف نہیں ہے شکایت کا
صبر کرو کیا ہوتا ہے یوں پھوڑے دل کے پھپھولے ٹک
نالہ کشی میں مرغ چمن بکتا ہے پر ہم تب جانیں
نعرہ زناں جب صبح سے آ کے ساتھ ہمارے بولے ٹک
اس کی قامت موزوں سے کیا کوئی سرو برابر ہو
ناموزوں ہی نکلے گا سنجیدہ کوئی جو بولے ٹک
آنکھیں جو کھولیں سوتے سے تو حال ہی کہتے مجھ کو کہا
ساری رات کہانی کہی ہے تو بھی اٹھ کر سولے ٹک
مشکل ہے دلداری عاشق وہ برسوں بیتاب رہے
بے طاقت اس دل کو میرے ہاتھ میں اپنے تو لے ٹک
آنکھیں کھولیں حال کے کہتے دیر ہوئی ہے بس یعنی
ساری رات کہانی کہی ہے میر اب چل کر سولے ٹک
ایسے درد دل کرنے کو میر کہاں سے جگر آوے
گرم سخن لوگوں میں ہو کوئی بات کرے تو رولے ٹک
میر تقی میر

ہم پھینک دیں اسے ترے منھ پر نثار کر

دیوان ششم غزل 1829
گل کیا جسے کہیں کہ گلے کا تو ہار کر
ہم پھینک دیں اسے ترے منھ پر نثار کر
آغوشیں جیسے موجیں الٰہی کشادہ ہیں
دریاے حسن اس کا کہیں ہم کنار کر
یاں چلتے دیر کچھ نہیں لگتی ہے میری جاں
رخت سفر کو اپنے شتابی سے بار کر
مختار رونے ہنسنے میں تجھ کو اگر کریں
تو اختیار گریۂ بے اختیار کر
مشق ستم ہوئی ہے بہت صاف یار کی
پشتے لگائے ان نے جوانوں کو مار کر
صیادی میں علوے تقدس تو اس کا دیکھ
روح القدس کو مار رکھا ہے شکار کر
بہنے لگی ہے تیغ کی جدول تو تیری تیز
دشمن کا کام وار میں پہلے ہی پار کر
میں بیقرار خاک میں کب تک ملا کروں
کچھ ملنے کا نہ ملنے کا تو بھی قرار کر
میں رفتہ میر مجلس تصویر کا گیا
تو بیٹھا میرا حشر تک اب انتظار کر
میر تقی میر

جو حادثہ فلک سے نازل ہوا زمیں پر

دیوان ششم غزل 1828
باندھے کمر سحرگہ آیا ہے میرے کیں پر
جو حادثہ فلک سے نازل ہوا زمیں پر
اقرار میں کہاں ہے انکار کی سی خوبی
ہوتا ہے شوق غالب اس کی نہیں نہیں پر
کنج قفس میں جوں توں کاٹیں گے ہم اسیراں
سیر چمن کے شایاں اپنے رہے نہیں پر
جوں آب گیری کردہ شمشیر کی جراحت
ہے ہر خراش ناخن رخسارہ و جبیں پر
آخر کو ہے خدا بھی تو اے میاں جہاں میں
بندے کے کام کچھ کیا موقوف ہیں تمھیں پر
غصے میں عالم اس کا کیا کیا نظر پڑا ہے
تلواریں کھنچتیاں تھیں اس کی جبیں کی چیں پر
تھے چشم خوں فشاں پر شاید کہ دست و دامن
ہیں میر داغ خوں کے پیراہن آستیں پر
میر تقی میر

دل کوئی لے گیا ہے تو میر ٹک جگر کر

دیوان ششم غزل 1827
زانو پہ سر ہے اکثر مت فکر اس قدر کر
دل کوئی لے گیا ہے تو میر ٹک جگر کر
خورشید و ماہ دونوں آخر نہ دل سے نکلے
آنکھوں میں پھر نہ آئے جی سے مرے اتر کر
یوسف عزیز دلہا جا مصر میں ہوا تھا
ذلت جو ہو وطن میں تو کوئی دن سفر کر
اے ہمنشیں غشی ہے میں ہوش میں نہیں ہوں
مجھ کو مری زبانی سو بار اب خبر کر
کیا حال زار عاشق کریے بیاں نہ پوچھو
کرتا ہے بات کوئی دل کی تو چشم تر کر
دیتے نہیں ہیں سونے ٹک آہ و نالے اس کے
یارب شب جدائی عاشق کی بھی سحر کر
اتنا ہی منھ چھپایا شوخ اس کے محرموں نے
جو بچھ گئی ہیں زلفیں اس چہرے پر بکھر کر
کیا پھیر پھیر گردن باتیں کرے ہے سب میں
جاتے ہیں غش کیے ہم مشتاق منھ ادھر کر
بن دیکھے تیرے میں تو بیمار ہو گیا ہوں
حال تبہ میں میرے تو بھی تو ٹک نظر کر
رخنے کیے جو تو نے پتھر کی سل میں تو کیا
اے آہ اس صنم کے دل میں بھی ٹک اثر کر
مارے سے غل کیے سے جاتا نہیں ہے ہرگز
نکلے گا اس گلی سے شاید کہ میر مرکر
میر تقی میر

دیتا ہے جان عالم اس کی جفا کے اوپر

دیوان ششم غزل 1826
میلان دلربا ہو کیونکر وفا کے اوپر
دیتا ہے جان عالم اس کی جفا کے اوپر
کشتہ ہوں اس حیا کا کٹوائے بہتوں کے سر
پر آنکھیں اس کی وونہیں تھیں پشت پا کے اوپر
مہندی لگا کے ہرگز گھر سے تو مت نکلیو
ہوتے ہیں خون تیرے رنگ حنا کے اوپر
ہوں کو بہ کو صبا سا پر کچھ نہیں ہے حاصل
شاید برات اپنی لکھی ہوا کے اوپر
بندوں سے کام تیرا اے میر کچھ نہ نکلا
موقوف مطلب اپنا اب رکھ خدا کے اوپر
میر تقی میر

صوفی ہوا کو دیکھ کے کاش آوے راہ پر

دیوان ششم غزل 1825
آیا ہے ابر قبلہ چلا خانقاہ پر
صوفی ہوا کو دیکھ کے کاش آوے راہ پر
وہ آنکھ اٹھا کے شرم سے کب دیکھے ہے ولے
ہوتے ہیں خون نیچی بھی اس کی نگاہ پر
بالفرض چاہتا ہے گنہ لیک میری جاں
واجب ہے خون کرنا کہاں اس گناہ پر
کیا بحث میرے وقر سے میں ہوں فقیر محض
ہے اس گلی میں حرف و سخن عزشاہ پر
تہ سے سخن کے لوگ نہ تھے آشنا عبث
جاگہ سے تم گئے انھوں کی واہ واہ پر
ڈر چشم شور چرخ سے گل پھول یک طرف
آنکھ اس دنی کی دوڑے ہے اک برگ کاہ پر
دیکھی ہے جن نے یار کے رخسار کی جھمک
اس کی نظر گئی نہ شب مہ میں ماہ پر
ہم جاں بہ لب پتنگوں کی سدھ لیجیو شتاب
موقوف اپنا جانا ہے اب ایک آہ پر
کہتے تو ہیں کہ ہم بھی تمھیں چاہتے ہیں میر
پر اعتماد کس کو ہے خوباں کی چاہ پر
میر تقی میر

کی بات ان نے کوئی سو کیا چبا چبا کر

دیوان ششم غزل 1824
آیا جو اپنے گھر سے وہ شوخ پان کھاکر
کی بات ان نے کوئی سو کیا چبا چبا کر
شاید کہ منھ پھرا ہے بندوں سے کچھ خدا کا
نکلے ہے کام اپنا کوئی خدا خدا کر
کان اس طرف نہ رکھے اس حرف ناشنو نے
کہتے رہے بہت ہم اس کو سنا سنا کر
کہتے تھے ہم کسو کو دیکھا کرو نہ اتنا
دل خوں کیا نہ اپنا آنکھیں لڑا لڑا کر
آگے ہی مررہے ہیں ہم عشق میں بتاں کے
تلوار کھینچتے ہو ہم کو دکھا دکھا کر
وہ بے وفا نہ آیا بالیں پہ وقت رفتن
سو بار ہم نے دیکھا سر کو اٹھا اٹھا کر
جلتے تھے ہولے ہولے ہم یوں تو عاشقی میں
پر ان نے جی ہی مارا آخر جلا جلا کر
سوتے نہ لگ چل اس سے اے باد تو نے ظالم
بہتیروں کو سلایا اس کو جگا جگا کر
مدت ہوئی ہمیں ہے واں سے جواب مطلق
دفتر کیے روانہ لکھ لکھ لکھا لکھا کر
کیا دور میر منزل مقصود کی ہے اپنے
اب تھک گئے ہیں اودھر قاصد چلا چلا کر
میر تقی میر

کی تم نے مہربانی بے خانماں کے اوپر

دیوان ششم غزل 1823
آئے ہو گھر سے اٹھ کر میرے مکاں کے اوپر
کی تم نے مہربانی بے خانماں کے اوپر
پھولوں سے اٹھ نگاہیں مکھڑے پہ اس کے ٹھہریں
وہ گل فروش کا جو آیا دکاں کے اوپر
برسات اب کے گذری خوف و خطر میں ساری
چشمک زناں رہی ہے برق آشیاں کے اوپر
رخسار سا کسو کے کاہے کو ہے فروزاں
ہر چند ماہ تاباں ہے آسماں کے اوپر
بے سدھ پڑا رہوں ہوں بستر پہ رات دن میں
کیا آفت آگئی ہے اس نیم جاں کے اوپر
عشق و ہوس میں کچھ تو آخر تمیز ہو گی
آئی طبیعت اس کی گر امتحاں کے اوپر
الفت کی کلفتوں میں معلوم ہے ہوئی وہ
تھا اعتماد کلی تاب و تواں کے اوپر
محو دعا تھا اکثر غیرت سے لیک گاہے
آیا نہ نام اس کا میری زباں کے اوپر
وہ جان و دل کی خواہش آیا نہیں جہاں میں
آئی ہے اک قیامت اہل جہاں کے اوپر
کیا لوگ ہیں محباں سوداے عاشقی میں
اغماض کرتے ہیں سب جی کے زیاں کے اوپر
حیرت سے اس کے روکی چپ لگ گئی ہے ایسی
گویا کہ مہر کی ہے میرے دہاں کے اوپر
جو راہ دوستی میں اے میر مرگئے ہیں
سر دیں گے لوگ ان کے پا کے نشاں کے اوپر
میر تقی میر

یہ فسانہ رہا زبانوں پر

دیوان ششم غزل 1822
دل گئے آفت آئی جانوں پر
یہ فسانہ رہا زبانوں پر
عشق میں ہوش و صبر سنتے تھے
رکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر
گرچہ انسان ہیں زمینی ولے
ہیں دماغ ان کے آسمانوں پر
شہر کے شوخ سادہ رو لڑکے
ظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر
عرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلند
سیر رہتی ہے ان مکانوں پر
جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع
بھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر
لوگ سر دیتے جاتے ہیں کب سے
یار کے پاؤں کے نشانوں پر
کجی اوباش کی ہے وہ دربند
ڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر
کوئی بولا نہ قتل میں میرے
مہر کی تھی مگر دہانوں پر
یاد میں اس کے ساق سیمیں کی
دے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر
تھے زمانے میں خرچی جن کی روپے
ٹھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر
غم و غصہ ہے حصے میں میرے
اب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر
قصے دنیا میں میر بہت سنے
نہ رکھو گوش ان فسانوں پر
میر تقی میر

کاش یہ آفت نہ ہوتی قالب آدم کے بیچ

دیوان ششم غزل 1821
دل یہی ہے جس کو دل کہتے ہیں اس عالم کے بیچ
کاش یہ آفت نہ ہوتی قالب آدم کے بیچ
چھاتی کٹتی سنگ ہی سے دل کے جانے میں نہیں
نعل سینوں پر جڑے جاتے ہیں اس ماتم کے بیچ
نقشہ اس کا مردم دیدہ میں میرے نقش ہے
یعنی صورت اس ہی کی پھرتی ہے چشم نم کے بیچ
شاد وے جو اب جواں تازہ ہوئے ہیں شہر میں
دل زدہ ہم شیب میں رہتے ہیں اپنے غم کے بیچ
دل نہ ایسا کر کہ پشت چشم وہ نازک کرے
سو بلائیں ہیں یہاں ان ابروؤں کے خم کے بیچ
حد سے افزوں اس گلی میں شور ہے عشاق کا
کون سنتا ہے کسو کی بات اس اودھم کے بیچ
رونق آبادی ملک سخن ہے اس تلک
ہوں ہزاروں دم الٰہی میر کے اک دم کے بیچ
میر تقی میر

جو کہوں میں کوئی ہے میرے بھی غمخواروں کے بیچ

دیوان ششم غزل 1820
وامق و فرہاد و مجنوں کون ہے یاروں کے بیچ
جو کہوں میں کوئی ہے میرے بھی غمخواروں کے بیچ
جمع خوباں میں مرا محبوب اس مانند ہے
جوں مہ تابندہ آتا ہے کبھو تاروں کے بیچ
جو جفا عاشق پہ ہے سو اور لوگوں پر نہیں
اس سے پیدا ہے کہ میں ہی ہوں گنہگاروں کے بیچ
مر گئے بہتیرے صاحب دل ہوس کس کو ہوئی
ایسے مرنے جینے کی ان عشق کے ماروں کے بیچ
رونا کڑھنا عشق میں دیکھا مرا جن نے کہا
کیا جیے گا یہ ستم دیدہ ان آزاروں کے بیچ
منتظر برسوں رہے افسوس آخر مر گئے
دیدنی تھے لوگ اس ظالم کے بیماروں کے بیچ
خاک تربت کیوں نہ اپنی دلبرانہ اٹھ چلے
ہم بھی تھے اس نازنیں کے ناز برداروں کے بیچ
صاف میداں لامکاں سا ہو تو میرا دل کھلے
تنگ ہوں معمورۂ دنیا کی دیواروں کے بیچ
باغ میں تھے شب گل مہتاب میرے آس پاس
یار بن یعنی رہا میں میر انگاروں کے بیچ
میر تقی میر

رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ

دیوان ششم غزل 1819
لطف جیسے ہیں اس کی چاہ کے بیچ
رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ
ذوق صید اس کو تھا تو خیل ملک
دھوم رکھتے تھے دام گاہ کے بیچ
کب مزہ ہے نماز صبح میں وہ
جو صبوحی کے ہے گناہ کے بیچ
اس غصیلے کی سرخ آنکھیں دیکھ
اٹھے آشوب خانقاہ کے بیچ
جان و دل دونوں کرگئے تھے غش
دیکھ اس رشک مہ کو راہ کے بیچ
اس کی چشم سیہ ہے وہ جس نے
کتنے جی مارے اک نگاہ کے بیچ
سانجھ ہی رہتی پھر اگر ہوتا
کچھ اثر نالۂ پگاہ کے بیچ
کیا رہیں جور سے بتوں کے ہم
رکھ لے اپنی خدا پناہ کے بیچ
منھ کی دو جھائیوں سے مت شرما
جھائیں ہوتی ہے روے ماہ کے بیچ
میر بیمار ہے کہ فرق نہیں
متصل اس کے آہ آہ کے بیچ
میر تقی میر

دشتی وحش و طیر آئے ہیں ہونے تیرے شکار بہت

دیوان ششم غزل 1818
باہر چلنے میں آبادی سے کر نہ تغافل یار بہت
دشتی وحش و طیر آئے ہیں ہونے تیرے شکار بہت
دعویٰ عاشق بیچارے کا کون سنے گا محشر میں
خیل ملائک واں بھی ہوں گے اس کے خاطر دار بہت
خشکی لب کی زردی رخ کی نمنا کی دو آنکھوں کی
جو دیکھے ہے کہے ہے ان نے کھینچا ہے آزار بہت
جسم کی حالت جی کی طاقت نبض سے کر معلوم طبیب
کہنے لگا جانبر کیا ہو گا یہ تو ہے بیمار بہت
چار طرف ابرو کے اشارے اس ظالم کے زمانے میں
ٹھہرے کیا عاشق بیکس یاں چلتی ہے تلوار بہت
پیش گئی نہ کچھ چاہت میں کافر و مسلم دونوں کی
سینکڑوں سبحے پھینکے گئے اور ٹوٹے ہیں زنار بہت
جی کے لگاؤ کہے سے ہم نے جی ہی جاتے دیکھے ہیں
اس پہ نہ جانا آہ برا ہے الفت کا آزار بہت
کس کو دماغ سیر چمن ہے کیا ہجراں میں واشد ہو
کم گلزار میں اس بن جاکر آتا ہوں بیزار بہت
میر دعا کر حق میں میرے تو بھی فقیر ہے مدت سے
اب جو کبھو دیکھوں اس کو تو مجھ کو نہ آوے پیار بہت
میر تقی میر

کڑھتے ہیں دن رات اس پر ہم بہت

دیوان ششم غزل 1817
کیا کہیں ہے حال دل درہم بہت
کڑھتے ہیں دن رات اس پر ہم بہت
رہتا ہے ہجراں میں غم غصے سے کام
اور وے بھی سن کے ہیں برہم بہت
اضطراب اس کا نہیں ہوتا ہے کم
ہاتھ بھی رکھتے ہیں دل پر ہم بہت
اس گلی سے جی اچٹتا ٹک نہیں
دل جگر کرتے ہیں پتھر ہم بہت
میر کی بدحالی شب مذکور تھی
کڑھ گئے یہ حال سن کر ہم بہت
میر تقی میر

ہم سے کرتا ہے اب حجاب بہت

دیوان ششم غزل 1816
منھ پہ رکھتا ہے وہ نقاب بہت
ہم سے کرتا ہے اب حجاب بہت
چشمک گل کا لطف بھی نہ اٹھا
کم رہا موسم شباب بہت
دیر بھی کچھ لگی نہ مرتے ہمیں
عمر جاتی رہی شتاب بہت
ڈھونڈتے اس کو کوچے کوچے پھرے
دل نے ہم کو کیا خراب بہت
چلنا اپنا قریب ہے شاید
جاں کرے ہے اب اضطراب بہت
توبہ مے سے بہار میں نہ کروں
گو کرے شیخ احتساب بہت
اس غصیلے سے کیا کسو کی نبھے
مہربانی ہے کم عتاب بہت
کشتن مردماں اگر ہے ثواب
تو ہوا ہے اسے ثواب بہت
دیر تک کعبے میں تھے شب بے ہوش
پی گئے میر جی شراب بہت
میر تقی میر

وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت

دیوان ششم غزل 1815
جو کوئی اس بے وفا سے دل لگاتا ہے بہت
وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت
اس کے سونے سے بدن سے کس قدر چسپاں ہے ہائے
جامہ کبریتی کسو کا جی جلاتا ہے بہت
کیا پس از چندے مری آوارگی منظور ہے
مو پریشاں اب جو شب مجھ پاس آتا ہے بہت
چاہ میں بھی بیشتر جانے سے کم ہوتا ہے وقر
اس لیے جاتا ہوں تب جب وہ بلاتا ہے بہت
گرچہ کم جاتا ہوں پر دل پر نہیں کچھ اختیار
وہ کجی سے سیدھیاں مجھ کو سناتا ہے بہت
بھول جاوے گا سخن پردازی اس کے سامنے
شاعری سے جو کوئی باتیں بناتا ہے بہت
بامزہ معشوق کیا کم ہیں پر اس کو کیا کروں
ناز و انداز اس ہی کا جو مجھ کو بھاتا ہے بہت
وہ نہیں ہجراں میں اس بن خواب خوش آوے مجھے
اب خیال اس کی طرف ہر لحظہ جاتا ہے بہت
کیا کروں کہنے لگا ایدھر نہ آنے پائے وہ
بد کہیں ہنگامہ آرا میر آتا ہے بہت
میر تقی میر

بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب

دیوان ششم غزل 1814
اس مغل زا سے نہ تھی ہر بات کی تکرار خوب
بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب
لگ نہیں پڑتے ہیں لے کر ہاتھ میں شمشیر تیز
بے کسوں کے قتل میں اتنا نہیں اصرار خوب
آخر ان خوباں نے عاشق جان کر مارا مجھے
چاہ کا اپنی نہ کرنا ان سے تھا اظہار خوب
آج کل سے مجھ کو بیتابی و بدحالی ہے کیا
مجھ مریض عشق کے کب سے نہ تھے آثار خوب
کیا کریمی اس کی کہیے جنت دربستہ دی
ورنہ مفلس غم زدوں کے کچھ نہ تھے کردار خوب
مخترع جور و ستم میں بھی ہوا وہ نوجواں
ظلم تب کرتا ہے جب ہو کوئی منت دار خوب
دہر میں پستی بلندی برسوں تک دیکھی ہے میں
جب لٹا پامالی سے میں تب ہوا ہموار خوب
کیا کسو سے آشنائی کی رکھے کوئی امید
کم پہنچتا ہے بہم دنیا میں یارو یار خوب
کہتے تھے افعی کے سے اے میر مت کھا پیچ و تاب
آخر اس کوچے میں جا کھائی نہ تو نے مار خوب
میر تقی میر

ساتھ میرے دل گڑا تو آچکا مرنے کا خواب

دیوان ششم غزل 1813
مارے ہی ڈالے ہے جس کا زندگی میں اضطراب
ساتھ میرے دل گڑا تو آچکا مرنے کا خواب
ٹک ٹھہرتا بھی تو کہتے تھا کسو بجلی کی تاب
یا کہ نکہت گل کی تھا آیا گیا عہد شباب
کی نماز صبح کو کھوکر نماز اشراق کی
ہو گیا مجھ پر ستم اچٹا نہ ٹک مستی میں خواب
دیکھنا منھ یار کا اس وجہ سے ہوتا نہیں
یا الٰہی دے زمانے سے اٹھا رسم نقاب
ضعف ہے اس کے مرض اور اس کے غم سے الغرض
دل بدن میں آدمی کے ایک ہے خانہ خراب
یار میں ہم میں پڑا پردہ جو ہے ہستی ہے یہ
بیچ سے اٹھ جائے تو ہووے ابھی رفع حجاب
صورت دیوار سے مدت کھڑے در پر رہے
پر کبھو صحبت میں اس کی ہم ہوئے نہ باریاب
مے سے توبہ کرتے ہی معقول اگر ہم جانتے
ہم پہ شیخ شہر برسوں سے کرے ہے احتساب
جمع تھے خوباں بہت لیکن پسند اس کو کیا
کیا غلط میں نے کیا اے میر وقت انتخاب
میر تقی میر

بے مروت اس زمانے میں ہمہ حیرت ہے اب

دیوان ششم غزل 1812
آئینہ سا جو کوئی یاں آشنا صورت ہے اب
بے مروت اس زمانے میں ہمہ حیرت ہے اب
کیا کوئی یاری کسو سے کرکے ہووے شاد کام
دوستی ہے دشمنی الفت نہیں کلفت ہے اب
چاہتا ہے درد دل کرنا کسو سے دل دماغ
سو دماغ اپنا ضعیف اور قلب بے طاقت ہے اب
کیونکے دنیا دنیا رسوائی مری موقوف ہو
عالم عالم مجھ پہ اس کے عشق کی تہمت ہے اب
اشک نومیدا نہ پھرتے ہیں مری آنکھوں کے بیچ
میر یہ دے ہے دکھائی جان کی رخصت ہے اب
میر تقی میر

کھاوے گا آفتابہ کوئی خودسر آفتاب

دیوان ششم غزل 1811
منھ دھوتے اس کے آتا تو ہے اکثر آفتاب
کھاوے گا آفتابہ کوئی خودسر آفتاب
سر صدقے تیرے ہونے کی خاطر بہت ہے گرم
مارا کرے ہے شام و سحر چکر آفتاب
ہر خانہ کیوں نہ صبح جہاں میں ہو پر فروغ
پھرتا ہے جھانکتا اسی کو گھر گھر آفتاب
تجرید کا فراغ ہے یک دولت عظیم
بھاگے ہے اپنے سائے سے بھی خوشتر آفتاب
نازک مزاج ہے تو کہیں گھر سے مت نکل
ہوتا ہے دوپہر کے تئیں سر پر آفتاب
پیدا ہے روز مشرق نو کی نمود سی
آئے ہے کوے یار سے بچ بچ کر آفتاب
ہو پست اس کے نور کا زیر زمیں گیا
ہر چند سب ستاروں سے تھا برتر آفتاب
اس رخ کی روشنی میں نہ معلوم کچھ ہوا
مہ گم کدھر ہوا ہے گیا کیدھر آفتاب
کس زورکش کی قوس قزح ہے کمان پاک
جس کی اٹھا سکا نہ کبھو سیسر آفتاب
روشن ہے یہ کہ خوف ہے اس غصہ ور کا میر
نکلے ہے صبح کانپتا جو تھرتھر آفتاب
میر تقی میر

کرنا جو کچھ ہو تم کو سو کرلو شتاب اب

دیوان ششم غزل 1810
آیا ہے شیب سر پہ گیا ہے شباب اب
کرنا جو کچھ ہو تم کو سو کرلو شتاب اب
بگڑا بنا ہوں عشق سے سو بار عاقبت
پایا قرار یہ کہ رہوں میں خراب اب
خوں ریزی عاشقوں کی ہے ظالم اگر ثواب
تو تو ہوا ہے تجھ کو بہت سا ثواب اب
بھڑکی دروں میں آتش سوزندہ عشق کی
دل رہ گیا ہے پہلو میں ہوکر کباب اب
ہوں اس بہشتی رو سے جدا میں جحیم میں
رہتا ہے میری خاک کو ہر دم عذاب اب
قاصد جو آیا چپ ہے نشاں خط کا کچھ نہیں
دیکھیں جو لاوے باد کوئی کیا جواب اب
کیا رنج و غم کو آگے ترے میں کروں شمار
یاں خود حسابی میری تو ہے بے حساب اب
جھپکی ہیں آنکھیں اور جھکی آتی ہیں بہت
نزدیک شاید آیا ہے ہنگام خواب اب
آرام کریے میری کہانی بھی ہوچکی
کرنے لگو گے ورنہ عتاب و خطاب اب
جانا سبھوں نے یہ کہ تو معشوق میر ہے
خلع العذار سے نہ گیا ہے حجاب اب
میر تقی میر

مر جائے کوئی خستہ جگر تو ہے کیا عجب

دیوان ششم غزل 1809
ہے عشق میں جو حال بتر تو ہے کیا عجب
مر جائے کوئی خستہ جگر تو ہے کیا عجب
لے جا کے نامے کتنے کبوتر ہوئے ہیں ذبح
اڑتی سی ہم کو آوے خبر تو ہے کیا عجب
شبہاے تار و تیرہ زمانے میں دن ہوئیں
شب ہجر کی بھی ہووے سحر تو ہے کیا عجب
جیسے ہے رخنہ رخنہ یہ چرخ اثیر سب
اس آہ کا ہو اس میں اثر تو ہے کیا عجب
جاتی ہے چشم شوخ کسی کی ہزار جا
آوے ادھر بھی اس کی نظر تو ہے کیا عجب
لغزش ملک سے ہووے لچک اس کمر کی دیکھ
عاشق سے جو بندھے نہ کمر تو ہے کیا عجب
ترک وطن کیا ہے عزیزوں نے چاہ میں
کر جائے کوئی رفتہ سفر تو ہے کیا عجب
برسوں سے ہاتھ مارتے ہیں سر پہ اس بغیر
ہووے بھی ہم سے دست بسر تو ہے کیا عجب
معلوم سودمندی عشاق عشق میں
پہنچے ہے اس سے ہم کو ضرر تو ہے کیا عجب
گھر بار میں لٹا کے گیا گھر سے بھی نکل
اب آوے وہ کبھو مرے گھر تو ہے کیا عجب
ملتی نہیں ہے آنکھ اس آئینہ رو کی میر
وہ دل جو لے کے جاوے مکر تو ہے کیا عجب
میر تقی میر

بہت عالم کرے گا غم ہمارا

دیوان ششم غزل 1808
سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
بہت عالم کرے گا غم ہمارا
پڑھیں گے شعر رورو لوگ بیٹھے
رہے گا دیر تک ماتم ہمارا
نہیں ہے مرجع آدم اگر خاک
کدھر جاتا ہے قد خم ہمارا
زمین و آسماں زیر و زبر ہے
نہیں کم حشر سے اودھم ہمارا
کسو کے بال درہم دیکھتے میر
ہوا ہے کام دل برہم ہمارا
میر تقی میر

حیرت سے آفتاب جہاں کا تہاں رہا

دیوان ششم غزل 1807
اب یار دوپہر کو کھڑا ٹک جو یاں رہا
حیرت سے آفتاب جہاں کا تہاں رہا
جو قافلے گئے تھے انھوں کی اٹھی بھی گرد
کیا جانیے غبار ہمارا کہاں رہا
سوکھی پڑی ہیں آنکھیں مری دیر سے جو اب
سیلاب ان ہی رخنوں سے مدت رواں رہا
اعضا گداز عشق سے ایک ایک بہ گئے
اب کیا رہا ہے مجھ میں جو میں نیم جاں رہا
منعم کا گھر تمادی ایام میں بنا
سو آپ ایک رات ہی واں میہماں رہا
اس کے فریب لطف پہ مت جا کہ ہمنشیں
وہ دیر میرے حال پہ بھی مہرباں رہا
اب در پہ اس کے گھر کے گرا ہوں وگر نہ میں
مدت خرابہ گرد ہی بے خانماں رہا
ہے جان تو جہان ہے مشہور ہے مثل
کیا ہے گئے پہ جان کے گو پھر جہاں رہا
ترک شراب خانہ ہے پیری میں ورنہ میر
ترسا بچوں ہی میں رہا جب تک جواں رہا
میر تقی میر

پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا

دیوان ششم غزل 1806
آج اس خوش پرکار جواں مطلوب حسین نے لطف کیا
پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا
آنسو کی بوند آنکھوں سے دونوں اب تو نکلتی ایک نہیں
دل کے طپیدن روز و شب نے خوب جگر کا لوہو پیا
مرتے جیسے صبر کیا تھا ویسی ہی بے صبری کی
ہائے دریغ افسوس کوئی دن اور نہ یہ بیمار جیا
ہاتھ رکھے رہتا ہوں دل پر برسوں گذرے ہجراں میں
ایک دن ان نے گلے سے مل کر ہاتھ میں میرا دل نہ لیا
میر تقی میر

اک دو دن ہی میں وہ زار و زبوں خوار ہوا

دیوان ششم غزل 1805
جس ستم دیدہ کو اس عشق کا آزار ہوا
اک دو دن ہی میں وہ زار و زبوں خوار ہوا
روز بازار میں عالم کے عجب شے ہے حسن
بک گیا آپ ہی جو اس کا خریدار ہوا
دھوپ میں آگے کھڑا اس کے جلا کرتا ہوں
چاہ کر اس کے تئیں میں تو گنہگار ہوا
ہوش کچھ جن کے سروں میں تھا شتابی چیتے
حیف صد حیف کہ میں دیر خبردار ہوا
ہو بخود تو کسو کو ڈھونڈ نکالے کوئی
وہی خود گم ہوا جو اس کا طلبگار ہوا
مرغ دل کی ہے رہائی سے مرا دل اب جمع
پرشکن بالوں میں وہ اس کے گرفتار ہوا
پیار کی دیکھی جو چتون کسو کی میں جانا
کہ یہ اب سادہ و پرکار مرا یار ہوا
تکیہ اس پر جو کیا تھا سو گرا بستر پر
یعنی میں شوق کے افراط سے بیمار ہوا
کیونکے سب عمر صعوبت میں کٹی تیری میر
اپنا جینا تو کوئی دن ہمیں دشوار ہوا
میر تقی میر

اس سے کیا جانوں کیا قرار ہوا

دیوان ششم غزل 1804
دل جو ناگاہ بے قرار ہوا
اس سے کیا جانوں کیا قرار ہوا
شب کا پہنا جو دن تلک ہے مگر
ہار اس کے گلے کا ہار ہوا
گرد سر اس کے جو پھرا میں بہت
رفتہ رفتہ مجھے دوار ہوا
بستر خواب سے جو اس کے اٹھا
گل تر سوکھ سوکھ خار ہوا
مجھ سے لینے لگے ہیں عبرت لوگ
عاشقی میں یہ اعتبار ہوا
روز و شب روتے کڑھتے گذرے ہے
اب یہی اپنا روزگار ہوا
روؤں کیا اپنی سادگی کو میر
میں نے جانا کہ مجھ سے یار ہوا
میر تقی میر

رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا

دیوان ششم غزل 1803
پڑا تھا شور جیسا ہر طرف اس لاابالی کا
رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا
رہے بدحال صوفی حال کرتے دیر مجلس میں
مغنی سے سنا مصرع جو میرے شعر حالی کا
نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں چھپا لیتے
سماں اب یاد ہو گا کب تمھیں وہ خورد سالی کا
چمک یاقوت کی چلتی ہے اتنی دور کاہے کو
اچنبھا ہے نظر بازوں کو ان ہونٹوں کی لالی کا
پھرے بستی میں رویت کچھ نہیں افلاس سے اپنی
الہٰی ہووے منھ کالا شتاب اس دست خالی کا
دماغ اپنا تو اپنی فکر ہی میں ہوچکا یکسر
خیال اب کس کو ہے اے ہمنشیں نازک خیالی کا
ذلیل و خوار ہیں ہم آگے خوباں کے ہمیشہ سے
پریکھا کچھ نہیں ہے ہم کو ان کی جھڑکی گالی کا
ڈرو چونکو جو چسپاں اختلاطی تم سے ہو مجھ کو
تشتّت کیا ہے میری دور کی اس دیکھا بھالی کا
نہ پہنچی جو دعاے میر واں تک تو عجب کیا ہے
علوے مرتبہ ہے بسکہ اس درگاہ عالی کا
میر تقی میر

تلاش جوش بہار میں کی نگار گلشن میں تھا نہ اپنا

دیوان ششم غزل 1802
گئے تھے سیر چمن کو اٹھ کر گلوں میں ٹک جی لگا نہ اپنا
تلاش جوش بہار میں کی نگار گلشن میں تھا نہ اپنا
ملا تو تھا وہ بخواہش دل مزہ بھی پاتے ملے سے لیکن
پھریں جو مستی میں اس کی آنکھیں سو ہوش ہم کو رہا نہ اپنا
جہاں کا دریاے بیکراں تو سراب پایان کار نکلا
جو لوگ تہ سے کچھ آشنا تھے انھوں نے لب تر کیا نہ اپنا
نکالی سرکش نے چال ایسی کہ دیکھ حیرت سے رہ گئے ہم
دلوں میں کیا کیا ہمارے آیا کریں سو کیا بس چلا نہ اپنا
کہے بھی کوئی تو اس سے جس میں سخن کسو کا اثر کرے کچھ
بکا کیے ہم ہمیشہ مانا کسو دن ان نے کہا نہ اپنا
نہ ہوش ہم کو نہ صبر دل کو نہ شور سر میں نہ زور پا میں
جو روویں کس کس کو روویں اب ہم وفا میں کیا کیا گیا نہ اپنا
جہاں میں رہنے کو جی بہت تھا نہ کرسکے میر کچھ توقف
بنا تھی ناپائدار اس کی اسی سے رہنا بنا نہ اپنا
میر تقی میر

آشنا رہ برسوں جو اک دم میں ہو ناآشنا

دیوان ششم غزل 1801
ہو کوئی اس بے وفا دلدار سے کیا آشنا
آشنا رہ برسوں جو اک دم میں ہو ناآشنا
قدر جانو کچھ ہماری ورنہ پچھتاؤ گے تم
پھر نہیں ملنے کا تم کو کوئی ہم سا آشنا
باغ کو بے لالہ و گل دیکھ کہتے تھے طیور
جھڑ گئے پت جھڑ میں اب کے ہائے کیا کیا آشنا
اب تو تو لڑکا نہیں عشق و ہوس میں کر تمیز
آشنا سے فرق ہوتا ہے بہت تا آشنا
ملتے ملتے منھ چھپانا بھی لطیفہ ہے نیا
آشنائی یا نہ کریے ہوجیے یا آشنا
تھا جنوں کا لطف مجنوں سے سو دنیا سے گیا
مغفرت ہو اس کو وحشی ہم سے بھی تھا آشنا
اب جو ہاتھ آئے ہیں ہم مت مفت کھو دیجو ہمیں
پھر نہ ہو گا تم کو ایسا کوئی پیدا آشنا
کیسا ہی پانی ہو اس کو پیری میں جانا ہے پیر
تھا جوانی میں مگر تو میر دانا آشنا
میر تقی میر

ہزار مرتبہ منھ تک مرے جگر آیا

دیوان ششم غزل 1800
زمانہ ہجر کا آسان کیا بسر آیا
ہزار مرتبہ منھ تک مرے جگر آیا
رہیں جو منتظر آنکھیں غبار لائیں ولے
وہ انتظارکشوں کو نہ ٹک نظر آیا
ہزار طرح سے آوے گھڑی جدائی میں
ملاپ جس سے ہو ایسا نہ یک ہنر آیا
ملا جو عشق کے جنگل میں خضر میں نے کہا
کہ خوف شیر ہے مخدوم یاں کدھر آیا
یہ لہر آئی گئی روز کالے پانی تک
محیط اس مرے رونے کو دیکھ تر آیا
نثار کیا کریں ہم خانماں خراب اس پر
کہ گھر لٹا چکے جب یار اپنے گھر آیا
نہ روؤں کیونکے علی الاتصال اس بن میں
کہ جی کے رندھنے سے جوں ابر دل بھی بھر آیا
جوان مارے ہیں بے ڈھنگی ہی سے ان نے بہت
ستم کی مشق کی پر خون اسے نہ کرآیا
لچک کمر کی جو یاد آئی اس کی بہ آوے
کہ پانی میر کے اشکوں کا تا کمر آیا
میر تقی میر

دور سے دیکھتے ہی پیار آیا

دیوان ششم غزل 1799
دیر بدعہد وہ جو یار آیا
دور سے دیکھتے ہی پیار آیا
بیقراری نے مار رکھا ہمیں
اب تو اس کے تئیں قرار آیا
گرد رہ اس کی اب اٹھو نہ اٹھو
میری آنکھوں ہی پر غبار آیا
اک خزاں میں نہ طیر بھی بولا
میں چمن میں بہت پکار آیا
ہار کر میں تو کاٹتا تھا گلا
وہ قماری گلے کا ہار آیا
طائر عمر کو نظر میں رکھ
غیب سے ہاتھ یہ شکار آیا
موسم آیا تو نخل دار میں میر
سر منصور ہی کا بار آیا
میر تقی میر

تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہو گا

دیوان ششم غزل 1798
جو تو ہی صنم ہم سے بیزار ہو گا
تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہو گا
غم ہجر رکھے گا بیتاب دل کو
ہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہو گا
جو افراط الفت ہے ایسا تو عاشق
کوئی دن میں برسوں کا بیمار ہو گا
اچٹتی ملاقات کب تک رہے گی
کبھو تو تہ دل سے بھی یار ہو گا
تجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جانا
کہ اس سنگدل سے ہمیں پیار ہو گا
لگا کرنے ہجران سختی سی سختی
خدا جانے کیا آخر کار ہو گا
یہی ہو گا کیا ہو گا میر ہی نہ ہوں گے
جو تو ہو گا بے یار و غم خوار ہو گا
میر تقی میر

عشق بھی اس کا ہے نام اک پیار کا

دیوان ششم غزل 1797
میں ہوں خاک افتادہ جس آزار کا
عشق بھی اس کا ہے نام اک پیار کا
بیچتا سرکیوں نہ گلیوں میں پھروں
میں ہوں خواہاں لطف تہ بازار کا
خون کرکے ٹک نہ دل ان نے لیا
کشتہ و مردہ ہوں اس اصرار کا
گھر سے وہ معمار کا جو اٹھ گیا
حال ابتر ہو گیا گھر بار کا
نقل اس کی بے وفائی کی ہے اصل
کب وفاداری ہے شیوہ یار کا
سر جو دے دے مارتے گھر میں پھرے
رنگ دیگر ہے در و دیوار کا
اک گداے در ہے سیلاب بہار
غم کشوں کے دیدۂ خونبار کا
دلبراں دل جنس ہے گنجائشی
اس میں کچھ نقصاں نہیں سرکار کا
عشق کا مارا ہے کیا پنپے گا میر
حال ہے بدحال اس بیمار کا
میر تقی میر

میں بے دماغ باغ سے اٹھ کر چلا گیا

دیوان ششم غزل 1796
بلبل کا شور سن کے نہ مجھ سے رہا گیا
میں بے دماغ باغ سے اٹھ کر چلا گیا
لوگوں نے پائی راکھ کی ڈھیری مری جگہ
اک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا چلا گیا
چہرے پہ بال بکھرے رہے سب شب وصال
یعنی کہ بے مروتی سے منھ چھپا گیا
چلنا ہوا تو قافلۂ روزگار سے
میں جوں صدا جرس کی اکیلا جدا گیا
کیا بات رہ گئی ہے مرے اشتیاق سے
رقعے کے لکھتے لکھتے ترسل لکھا گیا
سب زخم صدر ان نے نمک بند خود کیے
صحبت جو بگڑی اپنے میں سارا مزہ گیا
سارے حواس میرے پریشاں ہیں عشق میں
اس راہ میں یہ قافلہ سارا لٹا گیا
بادل گرج گرج کے سناتا ہے یعنی یاں
نوبت سے اپنی ہر کوئی نوبت بجا گیا
وے محو ناز ہی رہے آئے نہ اس طرف
میں منتظر تو جی سے گیا ان کا کیا گیا
دل دے کے جان میر نے پایان کار دی
یہ سادہ لوح طرح نئی دل لگا گیا
میر تقی میر

کی دوستی کہ یارو اک روگ میں بساہا

دیوان ششم غزل 1795
دشمن ہو جی کا گاہک ہوتا ہے جس کو چاہا
کی دوستی کہ یارو اک روگ میں بساہا
جی ہے جہاں قیامت درد و الم رہا واں
بیمار عاشقی میں شب صبح تک کراہا
تازہ جھمک تھی شب کو تاروں میں آسماں کے
اس آسیا کو شاید پھر کر کنھوں نے راہا
خمیازہ کش ہوں اس کی مدت سے اس ادا کا
لگ کر گلے سے میرے انگڑائی لے جماہا
جانا کہ منھ کھلا ہے آتش کدے کا شاید
سینے کے زخم سے جو سرکا ہے ٹک بھی پھاہا
آنکھیں مری لگو ہیں بے جا نہیں لگیں ہیں
دیکھا ہے جن نے اس کو اس نے مجھے سراہا
میں راہ عشق میں تو آگے ہی دو دلا تھا
پرپیچ پیش آیا ان زلفوں کا دوراہا
کرنا وفا نہیں ہے آسان عاشقی میں
پتھر کیا جگر کو تب چاہ کو نباہا
کہتے تو تھے نہ دیکھو اس سے لگے نہ جائو
سمجھے نہ دیدہ و دل اب کیا کہوں الٰہا
یا مرتضیٰ علیؓ ہے تیرا گداے در یہ
کر حال میر پر بھی ٹک التفات شاہا
میر تقی میر

دوچار دن میں برسوں کا بیمار ہو گیا

دیوان ششم غزل 1794
جس رفتنی کو عشق کا آزار ہو گیا
دوچار دن میں برسوں کا بیمار ہو گیا
نسبت بہت گناہوں کی میری طرف ہوئی
ناکردہ جرم میں تو گنہگار ہو گیا
حیرت زدہ میں عشق کے کاموں کا یار کے
دروازے پر کھڑے کھڑے دیوار ہو گیا
پھیلے شگاف سینے کے اطراف درد سے
کوچہ ہر ایک زخم کا بازار ہو گیا
بازار میں جہان کے ہے حسن کیا متاع
سو جی سے جس نے دیکھا خریدار ہو گیا
دل لے کے میری جان کا دشمن ہوا ندان
جس بے وفا سے اپنے تئیں پیار ہو گیا
عاشق کو اس کی تیغ سے ہے لاگ کھنچتے ہی
یہ کشتنی بھی مرنے کو تیار ہو گیا
مرتے موا رہا نہ ہوا تنگ ہی رہا
پھندے میں عشق کے جو گرفتار ہو گیا
کیا جرم تھا کسو پہ نہ معلوم کچھ ہوا
جو میر کشت و خوں کا سزاوار ہو گیا
میر تقی میر

مرنا تمام ہو نہ سکا نیم جاں ہوا

دیوان ششم غزل 1793
میں رنج عشق کھینچے بہت ناتواں ہوا
مرنا تمام ہو نہ سکا نیم جاں ہوا
بستر سے اپنے اٹھ نہ سکا شب ہزار حیف
بیمار عشق چار ہی دن میں گراں ہوا
شاید کہ دل تڑپنے سے زخم دروں پھٹا
خونناب میری آنکھوں سے منھ پر رواں ہوا
غیر از خدا کی ذات مرے گھر میں کچھ نہیں
یعنی کہ اب مکان مرا لامکاں ہوا
مستوں میں اس کی کیسی تعین سے ہے نشست
شیشہ ہوا نہ کیف کا پیر مغاں ہوا
سائے میں تاک کے مجھے رکھا اسیر کر
صیاد کے کرم سے قفس آشیاں ہوا
ہم نے نہ دیکھا اس کو سو نقصان جاں کیا
ان نے جو اک نگاہ کی اس کا زیاں ہوا
ٹک رکھ لے ہاتھ تن میں نہیں اور جاے زخم
بس میرے دل کا یار جی اب امتحاں ہوا
وے تو کھڑے کھڑے مرے گھر آ کے پھر گئے
میں بے دیار و بیدل و بے خانماں ہوا
گردش نے آسماں کی عجائب کیا سلوک
پیر کبیر جب میں ہوا وہ جواں ہوا
مرغ چمن کی نالہ کشی کچھ خنک سی تھی
میں آگ دی چمن کو جو گرم فغاں ہوا
دو پھول لاکے پھینک دیے میری گور پر
یوں خاک میں ملا کے مجھے مہرباں ہوا
سر کھینچا دود دل نے جہاں تیرہ ہو گیا
دم بھر میں صبح زیر فلک کیا سماں ہوا
کہتے ہیں میر سے کہیں اوباش لڑ گئے
ہنگامہ ان سے ایسا الٰہی کہاں ہوا
میر تقی میر

چاہ نے بدلے رنگ کئی اب جسم سراسر زرد ہوا

دیوان ششم غزل 1792
تھا اندوہ گرہ مدت سے دل میں خوں ہو درد ہوا
چاہ نے بدلے رنگ کئی اب جسم سراسر زرد ہوا
وعدہ خلافی اس ظالم کی کھا گئی میری جان غمیں
گرمی کرے وہ مجھ سے جب تک تب تک میں ہی سرد ہوا
گرد و غبار و دشت و وادی گریے سے میرے یک سو ہیں
رونے کے آگے ان کے تو دریا بھی میر اب گرد ہوا
میر تقی میر

پڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا

دیوان ششم غزل 1791
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
پڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا
سعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کی
صحبت میں علما فضلا کی جاکر پڑھیے گنیے گا
دل کی تسلی جب کہ نہ ہو گی گفت و شنود سے لوگوں کی
آگ پھنکے گی غم کی بدن میں اس میں جلیے بھنیے گا
گرم اشعار میر درونہ داغوں سے یہ بھر دیں گے
زرد رو شہر میں پھریے گا گلیوں میں نے گل چنیے گا
میر تقی میر

سو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا

دیوان ششم غزل 1790
وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا
سو بار آنکھیں کھولیں بالیں سے سر اٹھایا
گلشن کے طائروں نے کیا بے مروتی کی
یک برگ گل قفس میں ہم تک نہ کوئی لایا
بے ہیچ اس کا غصہ یارو بلاے جاں ہے
ہرگز منا نہ ہم سے بہتیرا ہی منایا
قد بلند اگرچہ بے لطف بھی نہیں ہے
سرو چمن میں لیکن انداز وہ نہ پایا
انگڑاتے خوبرو یاں حسرت سے پیش و پس ہیں
اینڈا پھرے ہے ہر سو جب اس پری کا سایا
نقشہ عجب ہے اس کا نقاش نے ازل کے
مطبوع ایسا چہرہ کوئی نہ پھر بنایا
شب کو نشے میں باہم تھی گفتگوے درہم
اس مست نے جھنکایا یعنی بہت چھکایا
دل بستگی میں کھلنا اس کا نہ اس سے دیکھا
بخت نگوں کو ہم نے سو بار آزمایا
عاشق جہاں ہوا ہے بے ڈھنگیاں ہی کی ہیں
اس میر بے خرد نے کب ڈھب سے دل لگایا
میر تقی میر

جب تلک ہم جائیں اودھم ہو گیا

دیوان ششم غزل 1789
جمع اس کے نکلے عالم ہو گیا
جب تلک ہم جائیں اودھم ہو گیا
گو پریشاں ہو گئے گیسوے یار
حال ہی اپنا تو درہم ہو گیا
کیا کہوں کیا طرح بدلی یار نے
چائو تھا دل میں سو اب غم ہو گیا
کیا لکھوں مشکل ہوئی تحریر حال
خط کا کاغذ رونے سے نم ہو گیا
دم دیے بہتیرے یاروں نے ولے
خشک نے سا شیخ بے دم ہو گیا
کیوں نہ درہم برہم اپنا ہو مزاج
بات کہتے یار برہم ہو گیا
باغ جیسے راغ وحشت گاہ ہے
یاں سے شاید گل کا موسم ہو گیا
کیا نماز اے میر اس اوقات کی
جب کہ قد محراب سا خم ہو گیا
میر تقی میر

ٹکڑا جگر کا آنکھوں سے نکلا جلا ہوا

دیوان ششم غزل 1788
سوز دروں سے مجھ پہ ستم برملا ہوا
ٹکڑا جگر کا آنکھوں سے نکلا جلا ہوا
بدحال ہوکے چاہ میں مرنے کا لطف کیا
دل لگتے جو موا کوئی عاشق بھلا ہوا
نکلا گیا نہ دام سے پرپیچ زلف کے
اے وائے یہ بلا زدہ دل مبتلا ہوا
کیا اور لکھیے کیسی خجالت مجھے ہوئی
سر کو جھکائے آیا جو قاصد چلا ہوا
رہتا نہیں تڑپنے سے ٹک ہاتھ کے تلے
کیا جانوں میر دل کو مرے کیا بلا ہوا
میر تقی میر

نہ جانا ان نے تو یوں بھی کہ کیا تھا

دیوان ششم غزل 1787
موئے ہم جس کی خاطر بے وفا تھا
نہ جانا ان نے تو یوں بھی کہ کیا تھا
معالج کی نہیں تقصیر ہرگز
مرض ہی عاشقی کا لا دوا تھا
نہ خود سر کیونکے ہوں ہم یار اپنا
خودآرا خودپسند و خودستا تھا
رکھا تھا منھ کبھو اس کنج لب پر
ہمارے ذوق میں اب تک مزہ تھا
نہ ملیو چاہنے والوں سے اپنے
نہ جانا تجھ سے یہ کن نے کہا تھا
پریشاں کر گئی فریاد بلبل
کسو سے دل ہمارا پھر لگا تھا
ملے برسوں وہی بیگانگی تھی
ہمارے زعم میں وہ آشنا تھا
نہ دیوانے تھے ہم سے قیس و فرہاد
ہمارا طور عشق ان سے جدا تھا
بدن میں صبح سے تھی سنسناہٹ
انھیں سنّاہٹوں میں جی جلا تھا
صنم خانے سے اٹھ کعبے گئے ہم
کوئی آخر ہمارا بھی خدا تھا
بدن میں اس کے ہے ہرجاے دلکش
جہاں اٹکا کسو کا دل بجا تھا
کوئی عنقا سے پوچھے نام تیرا
کہاں تھا جب کہ میں رسوا ہوا تھا
چڑھی تیوری چمن میں میر آیا
کلک خسپ آج شاید کچھ خفا تھا
میر تقی میر