زمرہ جات کے محفوظات: غزل

ہر لمحہ لا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 77
میں تو خدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
ہر لمحہ لا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
مجھ کو بقائے عیشِ توہم نہیں قبول
میں تو فنا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
میں ہوں بھی یا نہیں ہوں، عجب ہے مرا عذاب
ہر لمحہ یا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
میں ہوں غبار جادہ بود و نبود کا
یعنی ہوا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
تم بھی تو آج مجھ سے کرو کچھ سخن کہ میں
نفیِ انا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
موسم مرا کوئی بھی نہیں اس زمین میں
آب و ہوا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو
جون ایلیا

جاناں کبھی، ان کارگزاراں پہ نظر ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 76
خونیں جگراں، سینہ فگاراں پہ نظر ہو
جاناں کبھی، ان کارگزاراں پہ نظر ہو
اے یار کسی شام مرے یار کسی شام
بے رونقی ءِ محفلِ یاراں پہ نظر ہو
رنگ ایک ہے وامت کئی اس کے ہیں سو اے دل
ساری ہی صفِ شوخ نگاراں پہ نظر ہو
جو تجھ سے بھی ہیں بےسروکار اب تری خاطر
آخر کبھی ان بےسروکاراں پہ نظر ہو
جو نام شماراں ہیں ترے اہلِ وفا کے
جانں! کبھی ان نام شماراں پہ نظر ہو
جون ایلیا

میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 75
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا
یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو
کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو
تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا

اک اور زخم میں کھا لوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 74
عزابِ ہجر بڑھا لوں اگر اجازت ہو
اک اور زخم میں کھا لوں اگر اجازت ہو
تمہارے عارض و لب کی جدائی کے دن ہیں
میں جام منہ سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا حسن۔۔تمہارے خیال کا چہرہ
شباہتوں میں چُھپا لوں اگر اجازت ہو
تمہیں سے ہے مری ہر خوابِ شوق کا رشتہ
اک اور خواب کما لوں اگر اجازت ہو
تھکا دیا ہے تمہارے قراق نے مجھ کو
کہیں میں خود کو گِرا لوں اگر اجازت ہو
برائے نام بنامِ شبِ وصال یہاں
شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا

جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 73
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ھی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ھی بے مروت ہو
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو
کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
جون ایلیا

حالتِ حال یک صدا مانگو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 72
کوئے جاناں میں اور کیا مانگو
حالتِ حال یک صدا مانگو
ہر نفس تم یقینِ منعم سے
رزق اپنے گمان کا مانگو
ہے اگر وہ بہت ہی دل نزدیک
اس سے دُوری کا سلسلہ مانگو
درِ مطلب ہے کیا طلب انگیز
کچھ نہیں واں سو کچھ بھی جا مانگو
گوشہ گیرِ غبارِ ذات ہوں میں
مجھ میں ہو کر مرا پتا مانگو
مُنکرانِ خدائے بخشزہ
اس سے تو اور اک خدا مانگو
اُس شکمِ رقص گر کے سائل ہو
ناف پیالے کی تم عطا مانگو
لاکھ جنجال مانگنے میں ہیں
کچھ نہ مانگو فقط دُعا مانگو
جون ایلیا

ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 71
تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو
ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو
فکرِ ایجاد میں گم ہوں مجھے غافل نہ سمجھ
اپنے انداز پر ایجاد کروں گا تجھ کو
نشہ ہے راہ کی دوری کا کہ ہمراہ ہے تو
جانے کس شہر میں آباد کروں گا تجھ کو
میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو
میں کہ رہتا ہوں بصد ناز گریزاں تجھ سے
تو نہ ہو گا تو بہت یاد کروں گا تجھ کو
جون ایلیا

اور پھر خود ہی ہوا دوں اس کو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 70
دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو
اور پھر خود ہی ہوا دوں اس کو
جو بھی ہے اس کو گنوا بیٹھا ہے
میں بھلا کیسے گنوا دوں اس کو
تجھ گماں پر جو عمارت کی تھی
سوچتا ہوں کہ میں ڈھا دوں اس کو
جسم میں آگ لگا دوں اس کے
اور پھر خود ہی بجھا دوں اس کو
ہجر کی نظر تو دینی ہے اسے
سوچتا ہوں کہ بُھلا دوں اس کو
جو نہیں ہے مرے دل کی دنیا
کیوں نہ میں جون مِٹا دوں اس کو
جون ایلیا

میاں یہاں کی نہیں اور ہاں سے چل نکلو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 69
حساب داریِ سودوزیاں سے چل نکلو
میاں یہاں کی نہیں اور ہاں سے چل نکلو
میری سُنو زمان و مکاں میں رہتے ہوئے
بہ صد سلیقہ زمان و مکاں سے چل نکلو
یہ تیرے لوگ نہیں ہیں یہ تیرا شہر نہیں
یہ مشورہ ہے مرا تو یہاں سے چل نکلو
یہ جو بھی کچھ ہے نہیں کچھ بھی جُز فریبائی
یقیں کو چھوڑ دو یعنی گماں سے چل نکلو
شبِ گزشتہ خراباتیوں میں تھا یہ سوال
کہاں کا رُخ کرو آخر کہاں سے چل نکلو
نفس نفس ہے وجود و عدم میں اک پیکار
ہے مشورہ یہ میرا درمیاں سے چل نکلو
جون ایلیا

شوق کا وہ رنگ بدن آئے گا کب، ہم نفسو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 68
شکل بھی اک رنگ کی ہو، رنگ کی شب، ہم نفسو
شوق کا وہ رنگ بدن آئے گا کب، ہم نفسو
جب وہ دل و جانِ ادا ہو گا یہاں نشہ فزا
میری ادائیں بھی ذرا دیکھیو تب، ہم نفسو
تم سے ہو وہ عذر کناں، مجھ سے ہو وہ شکوہ کناں
اور میں خود مست رہوں، بات ہے جب، ہم نفسو
شعلہ بسی سے ہے سخن، معنیِ بالائے سخن
اور سخن سوز بھی ہے شعلہ لب، ہم نفسو
آج ہے سوچو تو ذرا، کس کی یہاں منتظری
رقصِ طرف ہم نفسو، شورِ طرف ہم نفسو
اس کی مری دید کا اک طور کہو، کچھ بھی کہو
کیا کہوں میں، کیسے کہوں، ہے وہ عجب، ہم نفسو
نیم شبی کی ہے فضا، ہم بھی ابھی ہوش میں ہیں
اس کو جو آنا ہے تو پھر آئے بھی، ہم نفسو
اپنے سے ہر پل ہیں پرے، ہم ہیں کہاں اپنے در پے
کیسی تمنا نفسی، کس کی طلب ہم نفسو
جون ایلیا

ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 67
کچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو
ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو
منظرِ جشنِ قتلِ عام کو میں
جھانک کر دیکھ لوں، ذرا ٹھہرو
مت نکلنا کہ ڈوب جاؤ گے
خوں ہے بس، خوں ہی خوں، ذرا ٹھہرو
صورتِ حال اپنے باہر کی
ہے ابھی تک زبوں، ذرا ٹھہرو
ہوتھ سے اپنے لکھ کے نام اپنا
میں تمہیں سونپ دوں، ذرا ٹھہرو
میرا دروازہ توڑنے والو
میں کہیں چھپ رہوں، ذرا ٹھہرو
جون ایلیا

باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 66
مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو
باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو
اک معرکہ بہار و خزاں میں ہے ان دنوں
سب کچھ نثار کر کے بہاروں کا ساتھ دو
تم کو حریمِ دیدہ و دل ہے اگر عزیز
شہروں کے ساتھ آؤ، دیاروں کا ساتھ دو
آبادیوں سے عرض ہے، شہروں سے التماس
اس وقت اپنے کارگزاروں کا ساتھ دو
زخموں سے جن کے پھوٹ رہی ہے شعاعِ رنگ
ان حسن پروروں کی قطاروں کا ساتھ دو
روشن گروں نے خوں سے جلائی ہیں مشعلیں
ان مشعلوں کے سرخ اشاروں کا ساتھ دو
بیدار رہ کے آخرِ شب کے حصار میں
خورشید کے جریدہ نگاروں کا ساتھ دو
یاروں کا اک ہجوم چلا ہے کفن بدوش
ہے آج روزِ واقعہ، یاروں کا ساتھ دو
جون ایلیا

جان ہم کو وہاں بلا بھیجو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 65
اپنی منزل کا راستہ بھیجو
جان ہم کو وہاں بلا بھیجو
کیا ہمارا نہیں رہا ساون
زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو
نئی کلیاں جو اب کھلی ہیں وہاں
ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو
ہم نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
درد بھیجو نہ تم دوا بھیجو
دھول اڑتی ہے جو اس آنگن میں
اس کو بھیجو ، صبا صبا بھیجو
اے فقیرو! گلی کے اس گل کی
تم ہمیں اپنی خاکِ پا بھیجو
شفقِ شام ہجر کے ہاتھوں
اپنی اتری ہوئی قبا بھیجو
کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختو
کچھ نہیں، کوئی بد دعا بھیجو
جون ایلیا

یاد تھے یادگار تھے ہم تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 64
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یادگار تھے ہم تو
پردگی! ہم سے کیوں رکھا پردہ
تیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو
وقت کی دھوپ میں تمہارے لیے
شجرِ سایہ دار تھے ہم تو
اُڑتے جاتے ہیں دُھول کے مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو
ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو
شرم ہے اپنی بار باری کی
بے سبب بار بار تھے ہم تو
کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو
تم نے کیسے بُلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو
جانِ من جاں نثار تھے ہم تو
خود کو دورانِ حال میں اپنے
بے طرح ناگوار تھے ہم تو
تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد
نادرِ روزگار تھے ہم تو
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو
جون ایلیا

گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 63
کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو
گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو
شکستِ ذات کا اقرار اور کیا ہو گا
کہ اداِ محبت بھی نہیں رہا اب تو
چنے ہوئے ہیں لبوں پر تیرے ہزار جواب
شکایتوں کا مزا بھی نہیں رہا اب تو
ہوں مبتلاِ یقین ، میری مشکلیں مت پوچھ
گماں اقدا کش بھی نہیں رہا اب تو
میرے وجود کا اب کیا سوال ہے یعنی
میرے اپنے حق میں برا بھی نہیں رہا اب تو
یہی عطیہء صبح شبِ وصال ہے کیا
کے شہرِ ناز بھی نہیں رہا اب تو
یقین کر جو تیری آرزو میں تھا پہلے
وہ لطف تیرے سوا بھی نہیں رہا اب تو
وہ سکھ وہاں کے خدا کی ہیں بخشیشیں کیا کیا
یہاں یہ دکھ کہ خدا بھی نہیں رہا اب تو
جون ایلیا

تُو کون ہے اور ہے بھی کیا تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 62
دل سے ہے بہت گریز پا تو
تُو کون ہے اور ہے بھی کیا تو
کیوں مجھ میں گنوا رہا ہے خود کو
مجھ ایسے یہاں ہزار ہا تو
ہے تیری جدائی اور میں ہوں
ملتے ہی کہیں بچھڑ گیا تو
پوچھے جو تجھے کوئی ذرا بھی
جب میں نہ رہوں تو دیکھنا تو
اک سانس ہی بس لیا ہے میں نے
تو سانس نہ تھا سو کیا ہوا تو
ہے کون جو تیرا دھیان رکھے
باہر مرے بس کہیں نہ جا تو
جون ایلیا

کوئی قاتل برسرِ کارآئے تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 61
سر پر اک سچ مچ کی تلوار آئے تو
کوئی قاتل برسرِ کارآئے تو
سر خرو ہو جاؤں میں تو یار ابھی
دل سلیقے سے سرِدار آئے تو
وقت سے اب اور کیا رشتہ کریں
جانِ جاناں ہم تجھے ہار آئے تو
سب ہیں حامی آسماں کے اے زمیں
کوئی تیرا بھی طرفدار آئے تو
اے عزادارو! کرو مجلس بپا
آدمی۔۔انسان کو مار آئے تو
جون ایلیا

شام سے ہے بہت اداس مشین

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 60
ہار آئی ہے کوئی آس مشین
شام سے ہے بہت اداس مشین
دل وہی کس مشین سے چاہے
ہے مشینوں سے بدحواس مشین
یہی رشتوں کا کارخانہ ہے
اک مشیں اور اس کے پاس مشین
کام سے تجھ کو مَس نہیں شاید
چاہتی ہے ذرا مساس مشین
یہ سمجھ لو کہ جو بھی جنگلی ہے
نہیں آئے گی اس کو راس مشین
شہر اپنے، بسائیں گے جنگل
تجھ میں اگنے کو اب ہے گھاس مشین
ہے خفا سارے کارخانے سے
ایک اسباب ناشناس مشین
ایک پرزا تھا وہ بھی ٹوٹ گیا
اب رکھا کیا ہے تیرے پاس مشین
جون ایلیا

مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 59
مجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دن
مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن
اب نہ کوئی دن مرے گھر جائے گا
جانے کس کے گھر گئے مرے دن
اب نہیں ہیں مرے کوئی دن رات
کہ مجھ ہی کو بسر گئے مرے دن
ساری راتیں گئیں مری بے حال
مرے دن ! بے اثر گئے مرے دن
خوشا اب انتظار ہے نہ امید
یار یاراں ! سدھر گئے مرے دن
اب میں بس رہ گیا ہوں راتوں میں
مر گئے جون ! مر گئے مرے دن
جون ایلیا

سراپا آرزو ہوں آرزو بن

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 58
بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن
سراپا آرزو ہوں آرزو بن
کوئی اس شہر کو تاراج کر دے
ہوئی ہے میری وحشت ہائے و ہو بن
یہ سب معجز نمائی کی ہوس ہے
رفو گر آئے ہیں تار رفو بن
معاش بے دلاں پوچھو نہ یارو
نمو پاتے رہے رزق نمو بن
گزارے شوق اب خلوت کی راتیں
گزارش بن گلہ بن گفتگو بن
جون ایلیا

ہاں میاں داستانیاں تھے ہم

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 57
دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم
ہاں میاں داستانیاں تھے ہم
ہم سُنے اور سُنائے جاتے تھے
رات بھرکی کہانیاں تھے ہم
جانے ہم کِس کی بُود کا تھے ثبوت
جانے کِس کی نشانیاں تھے ہم
چھوڑتے کیوں نہ ہم زمیں اپنی
آخرش آسمانیاں تھے ہم
ذرہ بھر بھی نہ تھی نمود اپنی
اور پھر بھی جہانیاں تھے ہم
ہم نہ تھے ایک آن کے بھی مگر
جاوداں، جاودانیاں تھے ہم
روز اِک رَن تھا تیروترکش بِن
تھے کمیں اور کمانیاں تھے ہم
ارغوانی تھا وہ پیالہء ناف
ہم جو تھے ارغوانیاں تھے ہم
نار پستان تھی وہ قتّالہ
اور ہوس درمیانیاں تھے ہم
ناگہاں تھی اک آنِ آن کہ تھی
ہم جو تھے ناگہانیاں تھے ہم
جون ایلیا

بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 56
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا، اخلاص، قربانی، مروّت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم
ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لمحموں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
نہیں دُنیا کو جب پرواہ ہماری
تو پھر دُنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم
برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردا کیوں کریں ہم
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم
جون ایلیا

سارا نشہ اُتر گیا جانم

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 55
دل تمنا سے ڈر گیا جانم
سارا نشہ اُتر گیا جانم
اک پلک بیچ رشتہء جاں سے
ہر زمانہ گزر گیا جانم
تھا غضب فیصلے کا اِک لمحہ
کون پھر اپنے گھرگیا جانم
جانے کیسی ہوا چلی اک بار
دل کا دفتر بِکھر گیا جانم
اپنی خواب و خیال دنیا کو
کون برباد کر گیا جانم
تھی ستم ہجر کی مسیحائی
آخرش زخم بھر گیا جانم
اب بَھلا کیا رہا ہے کہنے کو
یعنی میں بے اثر گیا جانم
نہ رہا دل نہ داستاں دل کی
اب تو سب کچھ بسر گیا جانم
زہر تھا اپنے طور سے جینا
کوئی اِک تھا جو مر گیا جانم
جون ایلیا

تُو میری جانِ جاں سو مری جان الوداع

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 54
راس آ نہیں سکا کوئی بھی پیمان الوداع
تُو میری جانِ جاں سو مری جان الوداع
میں تیرے ساتھ بُجھ نہ سکا حد گزر گئی
اے شمع! میں ہوں تجھ سے پشیمان الوداع
میں جا رہا ہوں اپنے بیابانِ حال میں
دامان الوداع! گریبان الوداع
اِک رودِ ناشناس میں ہے ڈوبنا مجھے
سو اے کنارِ رود ، بیابان الوداع
خود اپنی اک متاعِ زبوں رہ گیا ہوں میں
سو الوداع، اے مرے سامان الوداع
سہنا تو اک سزا تھی مرادِ محال کی
اب ہم نہ مل سکیں گے ، میاں جان الوداع
اے شام گاہِ صحنِ ملالِ ہمیشگی
کیا جانے کیا تھی تری ہر اک آن ، الوداع
کِس کِس کو ہے علاقہ یہاں اپنے غیر سے
انسان ہوں میں ، تُو بھی ہے انسان الوداع
نسبت کسی بھی شہہ سے کسی شے کو یاں نہیں
ہے دل کا ذرہ ذرہ پریشان الوداع
رشتہ مرا کوئی بھی الف ، بے سے اب نہیں
امروہا الوداع سو اے بان الوداع
اب میں نہیں رہا ہوں کسی بھی گمان کا
اے میرے کفر ، اے مرے ایمان الوداع
جون ایلیا

اور چاروں طرف ہے گھر درپیش

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 53
دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش
اور چاروں طرف ہے گھر درپیش
ہے یہ عالم عجیب اور یہاں
ماجرا ہے عجیب تر درپیش
دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی
میں رہا خود کو عمر بھر درپیش
اب میں کوئے عبث شتاب چلوں
کئی اک کام ہیں ادھر درپیش
اس کے دیدار کی امید کہاں
جبکہ ہے دید کو نظر درپیش
اب مری جاں بچ گئی یعنی
ایک قاتل کی ہے سپر درپیش
کس طرح کوچ پر کمر باندھوں
ایک رہزن کی ہے کمر درپیش
خلوتِ ناز اور آئینہ
خود نگر کو ہے ،خود نگر درپیش
جون ایلیا

کوئی اثر کیے بغیر کوئی اثر لیے بغیر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 52
شہر بہ شہر کر سفر زادِ سفر لیے بغیر
کوئی اثر کیے بغیر کوئی اثر لیے بغیر
کوہ و کمر میں ہم صفیر کچھ نہیں اب بجز ہوا
دیکھیو پلٹیو نہ آج شہر سے پَر لیے بغیر
وقت کے معرکے میں تھیں مجھ کو رعایتیں ہوس
میں سرِ معرکہ گیا اپنی سِپر لیے بغیر
کچھ بھی ہو قتل گاہ میں حُسنِ بدن کا ہے ضرر
ہم نہ کہیں سے آئیں گے دو پر سر لیے بغیر
قریہء گریہ میں مرا گریہ ہنرورانہ ہے
یاں سے کہیں ٹلوں گا میں دادِ ہنر لیے بغیر
اُسکے بھی کچھ گِلے ہیں دل۔۔ان کا حساب تم رکھو
دید نے اس میں کی بسر اس کی خبر لیے بغیر
اُس کا سخن بھی جا سے ہے اور وہ یہ کہ جون تم
شہرہء شہر ہو تو کیا شہر میں گھر لیے بغیر
جون ایلیا

صحن ہوا دھواں دھواں ! شام بخیر شب بخیر ۔۔۔

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 51
جاؤ قرار بے دلاں ! شام بخیر شب بخیر
صحن ہوا دھواں دھواں ! شام بخیر شب بخیر ۔۔۔
شام وصال ہے قریب ، صبح کمال ہے قریب
پھر نہ رہیں گے سر گراں ، شام بخیر شب بخیر
وجد کرے گی زندگی جسم بہ جسم جاں بہ جاں
جسم بہ جسم جاں بہ جاں، شام بخیر شب بخیر
اے مرے شوق کی امنگ میرے شباب کی ترنگ
تجھ پہ شفق کا سائباں، شام بخیر شب بخیر
تو مری شاعری میں ہے رنگِ طراز و گل فشاں
تیری بہار بے خزاں، شام بخیر شب بخیر
تیرا خیال خواب خواب خلوتِ جاں کی آب و تاب
جسم جمیل و نوجواں، شام بخیر شب بخیر
ہے مرا نام ارجمند تیرا حصارِ سر بلند
بانو شہر جسم و جاں، شام بخیر شب بخیر
درد سے جان دید تک دل سے رخِ امید تک
کوئی نہیں ہے درمیاں، شام بخیر شب بخیر
ہو گئی دیر جاؤ تم مجھ کو گلے لگاؤ تم
تو مری جاں ہے مری جاں، شام بخیر شب بخیر
شام بخیر شب بخیر، موجِ شمیمِ پیرہن
تیری مہک رہے گی یاں، شام بخیر شب بخیر
زاہدہ حنا کے نام
جون ایلیا

آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 50
شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر
آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر
اب کے سینہ اس بدن افگار کا
کس بدن کی ڈھال ہے پوچھو خبر
کیوں ہے آخر اس گلی میں اژدہام
کون پُر احوال ہے پوچھو خبر
راہ میں اس شہسوار ناز کی
کس کا دل پامال ہے پوچھو خبر
یہ جو سناٹا ہے سارے شہر میں
کیا نیا جنجال ہے پوچھو خبر
جون ایلیا

یاد کے گھر نہیں رہے آباد

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 49
ہم رہے پر نہیں رہے آباد
یاد کے گھر نہیں رہے آباد
کتنی آنکھیں ہوئیں ہلاک نظر
کتنے منظر نہیں رہے آباد
ہم کہ اے دل سخن تھے سرتاپا
ہم لبوں پر نہیں رہے آباد
شہر دل میں عجب محلے تھے
ان میں اکثر نہیں رہے آباد
جانے کیا واقعہ ہوا کیوں لوگ
اپنے اندر نہیں رہے آباد
جون ایلیا

دل کو تھا اس سے اتحاد بہت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 48
سخن آتے ہیں اس کے یاد بہت
دل کو تھا اس سے اتحاد بہت
جب بھی چلتی ہے اس طرف سے ہوا
شور کرتے ہیں نامراد بہت
حُسن پر اس کے نکتہ چیں ہی رہے
تھا طبیعت میں اجتہاد بہت
درمیانِ ہجومِ مشّاقاں
اُس گلی میں رہے فساد بہت
اس کا روزِ سفر اور آج کی شام
درمیاں میں ہے امتداد بہت
مجھ سے اک بادیہ نشیں نے کہا
شہر والے ہیں بدنہاد بہت
زخمِ دل کو بناؤ زخمہ ءِ ساز
بستیوں سے ملے گی داد بہت
جونؔ اسلامیوں سے بحث نہ کر
تُند ہیں یہ ثمود و عاد بہت
جون ایلیا

دل خون کروں تو پوچھیو مت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 47
بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
دل خون کروں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے حال اپنا
کہہ بھی نہ سکوں تو پوچھیو مت
ڈر ہے مجھے جنون نہ ہو جائے
ہو جائے جنوں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے عاجز آ کر
ہنسنے لگوں تو پوچھیو مت
آتے ہی تمھارے پاس اگر میں
جانے بھی لگوں تو پوچھیو مت
جون ایلیا

شام کو میری سر خوشی ہے شراب

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 46
شام تک میری بے کلی ہے شراب
شام کو میری سر خوشی ہے شراب
جہل واعظ کا اُس کو راس آئے
صاحبو! میری آ گہی ہے شراب
رَنگ رَس ہے میری رگوں میں رواں
بخدا میری زندگی ہے شراب
ناز ہے اپنی دلبری پہ مجھے
میرا دل ، میری دلبری ہے شراب
ہے غنیمت جو ہوش میں نہیں میں
شیخ! میری بے حسی ہے شراب
حِس جو ہوتی تو جانے کیا کرتا
مفیتو! میری بےحسی ہے شراب
جون ایلیا

میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 45
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا
ذات در ذات ہم سفر رہ کر
اجنبی، اجنبی کو بھول گیا
صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات
میں اسے شام ہی کو بھول گیا
عہدِ وابستگی گزار کے میں
وجہ وابستگی کو بھول گیا
سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی، اسی کو بھول گیا
کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر
ایک میں، ہر کسی کو بھول گیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی، آدمی کو بھول گیا
قہقہہ مارتے ہی دیوانہ
ہر غمِ زندگی کو بھول گیا
خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا
رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا
کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص
اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا
سوچ کر اس کی خلوت انجمنی
واں میں اپنی کمی کو بھول گیا
سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں
جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا
ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن
اپین کم فرصتی کو بھول گیا
بستیو! اب تو راستہ دے دو
اب تو میں اس گلی کو بھول گیا
اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا
میں بھی گویا اسی کو بھول گیا
یعنی تم وہ ہو، واقعی؟ حد ہے
میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا
آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے
بت شکن، بت گری کو بھول گیا
اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بھول گیا
اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ
اپنی ایذا دہی کو بھول گیا
جون ایلیا

خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 44
دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا
کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا
جو بھی ہو تم پہ معترض، اُس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا
جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خُدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخُدا نہیں کیا
جون ایلیا

داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 43
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا
خود کو جانا جدا زمانے سے
آگیا تھا مرے گمان میں کیا
شام ہی سے دکان دید ہے بند
نہیں نقصان تک دکان میں کیا
اے مرے صبح و شام دل کی شفق
تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
جون ایلیا

آ رہا ہے مرے گمان میں کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 42
خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
آ رہا ہے مرے گمان میں کیا
دل کہ آتے ہیں جس کو دھیان بہت
خود بھی آتا ہے اپنے دھیان میں کیا
وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے
اب بھی ہوں میں تری امان میں کیا
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
ہے نسیم بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
جون ایلیا

تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 41
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
مل رہی ہو بڑ ے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو ، تو سوچتی ہو کیا
اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا
کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا
ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے
تو بہت تیز روشنی ہو کیا؟
میرے سب طنز بے اثر ہی رہے
تم بہت دور جا چکی ہو کیا؟
دل میں اب سوزِ انتظار نہیں
شمعِ امید بجھ گئی ہو کیا؟
اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں
بان، تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا
جون ایلیا

اور پھر بند ہی یہ باب کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 40
شکوہ اول تو بے حساب کیا
اور پھر بند ہی یہ باب کیا
جانتے تھے بدی عوام جسے
ہم نے اس سے بھی اجتناب کیا
تھی کسی شخص کی تلاش مجھے
میں نے خود کو ہی انتخاب کیا
اک طرف میں ہوں ، اک طرف تم ہو
جانے کس نے کسے خراب کیا
آخر اب کس کی بات مانوں میں
جو مِلا، اس نے لاجواب کیا
یوں سمجھ تجھ کہ مضطرب پا کر
میں نے اظہارِ اضطراب کیا
جون ایلیا

تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 39
نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا
تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا
ہوں جو بھی جان کی جاں وہ گمان ہوتے ہیں
سبھی تھے جان کی کی جاں اور سبھی کو چھوڑ دیا
شعور ایک شعورِ فریب ہے سو تو ہے
غرض کہ آگہی، ناآگہی کو چھوڑ دیا
خیال و خواب کی اندیشگی کے سُکھ جھیلے
خیال و خواب کی اندیشگی کو چھوڑ دیا
جون ایلیا

صبح کا دکھ بڑھا دیا، شام کا دکھ بڑھا دیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 38
ہم تھے نیاز مندِ شوق، شوق نے ہم کو کیا دیا
صبح کا دکھ بڑھا دیا، شام کا دکھ بڑھا دیا
دن میں عذابِ ذات کے، تُو مرا ساتھ بھی تو دے
نیند تھی میری زندگی، تُو نے مجھے جگا دیا
واعظ و زاہد و فقیہہ، تم کو بتائے بھی تو کون
وہ بھی عجیب شخص تھا، جس نے ہمیں خدا دیا
تُو نے بھی اپنے خدّ و خال، جانے کہاں گنوا دیئے
میں نے بھی اپنے خواب کو، جانے کہاں گنوا دیا
جانے وہ کاروانِ جاں، کیوں نہ گزر سکا جسے
تُو نے بھی راستہ دیا، میں نے بھی راستہ دیا
تُو مرا حوصلہ تو دیکھ، میں ہی کب اپنے ساتھ ہوں
تُو مرا کربِ جاں تو دیکھ، میں نے تجھے بھلا دیا
ہم جو گلہ گزار ہیں، کیوں نہ گلہ گزار ہوں
میں نے بھی اس کو کیا دیا، اس نے بھی مجھ کو کیا دیا
قید کے کھل رہے تھے در، وقت تھا دل نواز تر
رنگ کی موج آئی تھی، ہم نے اسے گنوا دیا
ہم بھی خدا سے کم نہیں، جو اسے ماننے لگے
وہ بھی خدا سے کم نہ تھا، جس نے ہمیں خدا دیا
جون ایلیا

سارا گھر احمریں نظر آیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 37
جب وہ ناز آفریں نظر آیا
سارا گھر احمریں نظر آیا
میں نے جب بھی نگاہ کی تو مجھے
اپنا گل شبنمیں نظر آیا
حسبِ خواہش میں اس سے ملتے وقت
سخت اندوہ گیں نظر آیا
گرم گفتار ہے وہ کم گفتار
کیا اسے میں نہیں نظر آیا
وقتِ تخصت، دمِ سکوت اور صحن
آج چرخِ بریں نظر آیا
شہر ہا شہر گھومنے والو
تم کو وہ بھی کہیں نظر آیا
اُس کو گم کر کے اپنا ہر دُرِ اشک
ننگِ ہر آستیں نظر آیا
کون آیا ہے دیکھ تیرہ نگاہ!
نظر آیا؟ نہیں نظر آیا
تُو مجھے اے مرے فروغِ نگاہ
اب دمِ واپسیں نظر آیا
جون ایلیا

پاؤں نہیں تھے درمیاں ، آج بڑا سفر رہا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 36
دل کا دیارِ خواب میں ، دور تلک گُزر رہا
پاؤں نہیں تھے درمیاں ، آج بڑا سفر رہا
ہو نہ سکا کبھی ہمیں اپنا خیال تک نصیب
نقش کسی خیال کا ، لوِح خیال پر رہا
نقش گروں سے چاہیے ، نقش و نگار کا حساب
رنگ کی بات مت کرو، رنگ بہت بکھر رہا
جانے گماں کی وہ گلی، ایسی جگہ ہے کون سی
دیکھ رہے ہو تم کہ میں پھر وہیں جا کے مر رہا
دل مرے دل مجھے بھی تم اپنے خواص میں رکھو
یاراں تمہارے باب میں، میں ہی نہ معتبر رہا
شہرِ فراقِ یار سے آئی ہے اک خبر مجھے
کوچہ ءِ یادِ یار سے ، کوئی نہیں اُبھر رہا
جون ایلیا

خواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 35
تشنگی نے سراب ہی لکھا
خواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا
ہم نے لکھا نصابِ تیرہ شبی
اور بہ صد آب و تاب ہی لکھا
مُنشیانِ شہود نے تا حال
ذکرِ غیب و حجاب ہی لکھا
نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال
شوق کو بے حساب ہی لکھا
دوستو۔۔ہم نے اپنا حال اُسے
جب بھی لکھا خراب ہی لکھا
نہ لکھا اس نے کوئی بھی مکتوب
پھر بھی ہم نے جواب ہی لکھا
ہم نے اس شہرِ دین و دولت میں
مسخروں کو جناب ہی لکھا
جون ایلیا

اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 34
اُس نے ہم کو گمان میں رکھا
اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا
کیا قیامت نمو تھی وہ جس نے
حشر اُس کی اٹھان میں رکھا
جوششِ خوں نے اپنے فن کا حساب
ایک چوپ، ایک چٹان میں رکھا
لمحے لمحے کی اپنی تھی اک شان
تو نہ ہی ایک شان میں رکھا
ہم نے پیہم قبول و رد کر کے
اُس کو ایک امتحان میں رکھا
تم تو اُس یاد کی امان میں ہو
اُس کو کس کی امان میں رکھا
اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا
جون ایلیا

بس ایک خیال چاہیے تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 33
کب اس کا وصال چاہیے تھا
بس ایک خیال چاہیے تھا
کب دل کو جواب سے غرض تھی
ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا
شوق ایک نفس تھا اور وفا کو
پاسِ مہ و سال چاہیے تھا
اک چہرۂِ سادہ تھا جو ہم کو
بے مثل و مثال چاہیے تھا
اک کرب میں ذات و زندگی ہیں
ممکن کو محال چاہیے تھا
میں کیا ہوں بس ملالِ ماضی
اس شخص کو حال چاہیے تھا
ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو
کچھ دن تو ملال چاہیے تھا
وہ جسم جمال تھا سراپا
اور مجھ کو جمال چاہیے تھا
وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی
بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا
تھا وہ جو کمالِ شوقِ وصلت
خواہش کو زوال چاہیے تھا
جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے
وہ سال بہ سال چاہیے تھا
جون ایلیا

جو کچھ تھا وہ تھا ہی تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 32
ہونے کا دھوکا ہی تھا
جو کچھ تھا وہ تھا ہی تھا
اب میں شاید تہہ میں ہوں
پر وہ کیا دریا ہی تھا
بُود مری ایسی بِکھری
بس میں نے سوچا ہی تھا
بُھولنے بیٹھا تھا میں اُسے
چاند ابھی نِکلا ہی تھا
ہم کو صنم نے خوار کیا
ورنہ خدا اچھا ہی تھا
کیسا ازل اور کیسا ابد
جس دَم تھا لمحہ ہی تھا
جون ایلیا

بُھولنے پر اس کو جب آیا تو پہچانا بھی تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 31
دل جو دیوانہ نہیں آخر کو دیوانہ بھی تھا
بُھولنے پر اس کو جب آیا تو پہچانا بھی تھا
جانیے کس شوق میں رشتے بچھڑ کر رہگئے
کام تو کوئی نہیں تھا پر ہمیں جانا بھی تھا
اجنبی سا ایک موسم ایک بے موسم سی شام
جب اُسے آنا نہیں تھا جب اُسے آنا بھی تھا
جانیے کیوں دل کی وحشت درمیاں میں آگئی
بس یونہی ہم کو بہکنا بھی تھا بہکانا بھی تھا
اک مہکتا سا وہ لمحہ تھا کہ جیسے اک خیال
اک زمانے تک اسی لمحے کو تڑپانا بھی تھا
جون ایلیا

یاد آنا کوئی ضروری تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 30
تھی گر آنے میں مصلحت حائل
یاد آنا کوئی ضروری تھا
دیکھیے ہو گئی غلط فہمی
مسکرانا کوئی ضروری تھا
لیجیے بات ہی نہ یاد رہی
گنگنانا کوئی ضروری تھا
گنگنا کر مری جواں غزلیں
جھوم جانا کوئی ضروری تھا
مجھ کو پا کر کسی خیال میں گم
چھپ کے آنا کوئی ضروری تھا
اف وہ زلفیں ، وہ ناگنیں ، وہ ہنسی
یوں ڈرانا کوئی ضروری تھا
اور ایسے اہم مذاق کے بعد
روٹھ جانا کوئی ضروری تھا
جون ایلیا

سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 29
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا
ساری گلی سنسان پڑی تھی بادِ فنا کے پہرے میں
ہجر کے دلان اور آنگن میں بس ایک سایہ زندہ تھا
وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے
ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا
وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی
اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا
تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی، وعدے اور پھر دن گننا
آنا تھا جانے والے کو، جانے والا زندہ تھا
دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی
تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا
پیلے پتوں کی سہ پہر کی وحشت پرسہ دیتی تھی
آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس ایک کوا زندہ تھا
جون ایلیا

میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 28
ٹھہروں نہ گلی میں تری وحشت نے کہا تھا
میں حد سے گزر جاؤں محبت نے کہا تھا
دَر تک تیرے لائی تھی نسیمِ نفس انگیز
دَم بھر نہ رُکوں یہ تیری نکہت نے کہا تھا
احسان کسی سرو کے سائے کا نہ لوں میں
مجھ سے یہ ترے فتنہء قامت نے کہا تھا
مارا ہوں مشیت کا نہیں کچھ مری مرضی
یہ بھی ترے قامت کی قیامت نے کہا تھا
دل شہر سے کر جاؤں سفر میں سوئے دنیا
مجھ سے تو یہی میری سہولت نے کہا تھا
جون ایلیا

آئینہ بے مثال کِس کا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 27
وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا
آئینہ بے مثال کِس کا تھا
سفری اپنے آپ سے تھا میں
ہجر کِس کا۔۔وصال کِس کا تھا
میں تو خود میں کہیں نہ تھا موجود
میرے لب پر سوال کِس کا تھا
تھی مری ذات اک خیال آشوب
جانے میں ہم خیال کِس کا تھا
جب کہ میں ہر نفس تھا بے احوال
وہ جو تھا میرا حال کِس کا تھا
دوپہر! بادِ تُند! کوچہء یار!
وہ غبارِ ملال کِس کا تھا
جون ایلیا

شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 26
افسانہ ساز جس کا فراق و وصال تھا
شاید وہ میرا خوب تھا، شاید خیال تھا
یادش بخیر زخمِ تمنا کی فصلِ رنگ
بعد اس کے ہم تھے اور غمِ اندمال تھا
دشتِ گماں میں نالہءِ لیلیٰ تھا گرم خیز
شہرِ زیاں میں قیس اسیرِ عیال تھا
خونِ جگر کھپا کے مصور نے یک نظر
دیکھا تو اک مرقعِ بے خدّ و خال تھا
کل شورِ عرض گاہِ سوال و جواب میں
جو بھی خموش تھا وہ عجب باکمال تھا
ہم ایک بےگذشتِ زمانہ زمانے میں
تھے حال مستِ خال جو ہر دم بحال تھا
پُرحال تھا وہ شب مرے آغوش میں مگر
اس حال میں بھی اس کا تقرّب محال تھا
تھا مست اس کے ناف پیالے کا میرا دل
اس لب کی آرزو میں مرا رنگ لال تھا
اس کے عروج کی تھی بہت آرزو ہمیں
جس کے عروج میں ہی ہمارا زوال تھا
اب کیا حسابِ رفتہ و آئندہ ءِ گماں
اک لمحہ تھا جو روز و شب و ماہ و سال تھا
کل ایک قصرِ عیش میں بزمِ سخن تھی جون
جو کچھ بھی تھا وہاں وہ غریبوں کا مال تھا
جون ایلیا

کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 25
ایک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا
وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حُجرے سے کم نکلتا تھا
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا
بات تو دل شکن ہے پر، یارو!
عقل سچی تھی، عشق جھوٹا تھا
اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا
جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا
جون ایلیا

وہ جو ابھی یہاں تھا، وہ کون تھا، کہاں تھا؟

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 24
جانے کہاں گیا وہ، وہ جو ابھی یہاں تھا؟
وہ جو ابھی یہاں تھا، وہ کون تھا، کہاں تھا؟
تا لمحہ گزشتہ یہ جسم اور بہار آئے
زندہ تھے رائیگاں میں، جو کچھ تھا رائیگاں تھا
اب جس کی دید کا ہے سودا ہمارے سر میں
وہ اپنی ہی نظر میں اپنا ہی اک سماں تھا
کیا کیا نہ خون تھوکا میں اس گلی میں یارو
سچ جاننا وہاں تو جو فن تھا رائیگاں تھا
یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر؟
تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا
اس شہر کی حفاظت کرنی تھی جو ہم کو جس میں
آندھی کی تھیں فصلیں اور گرد کا مکاں تھا
تھی اک عجب فضا سی امکانِ خال و خد کی
تھا اک عجب مصور اور وہ مرا گماں تھا
عمریں گزر گئیں تھیں ہم کو یقیں سے بچھڑے
اور لمحہ اک گماں کا، صدیوں میں بے اماں تھا
میں ڈوبتا چلا گیا تاریکیوں کہ تہہ میں
تہہ میں تھا اک دریچہ اور اس میں آسماں تھا
جون ایلیا

آس ہے تیری ہی دل دارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 23
دل ہے سوالی تجھ سے دل آرا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
آس ہے تیری ہی دل دارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
پلکوں کی جھولی پھیلی ہے، پڑ جائیں اس میں کچھ کرنیں
تو ہے دل آکاش کا تارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
ایک صدا ہونٹوں پر لے کے، تیری گلی میں ہم روتے تھے
آ نکلا ہے اک بے چارہ، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
تیرے ہی در کے ہم ہیں سوالی، تیرا ہی در دل میں کھلا ہے
شہرِ نظر در بند ہے سارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
تیرا تمنائی رکھتا ہے، ایک نظر دیدارِ تمنا
ساجن پیارے، میرا پیارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
باناں جان تری حسرت میں، رات بھلا کیسے گزرے گی
سارا دن حسرت میں گزارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا، سینہ خالی کر ڈالا ہے
لے میں اپنی سانس بھی ہارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
جون ایلیا

وقت پہلے گزر گیا ہو گا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 22
آدمی وقت پر گیا ہو گا
وقت پہلے گزر گیا ہو گا
خود سے مایوس ہو کر بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہو گا
شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہو گا
مرہمِ ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہو گا
جون ایلیا

اپنے جھوٹے دکھ سے تم کوکب تک دکھ پہنچاؤں گا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 21
تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
اپنے جھوٹے دکھ سے تم کوکب تک دکھ پہنچاؤں گا
تم تو وفا میں سرگرداں ہو شوق میں رقصاں رہتی ہو
مجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے میں پاگل ہو جاؤں گا
جیت کے مجھ کو خوش مت ہونا میں تو اک پچھتاوا ہوں
کھوؤں گا ، کڑھتا رہوں گا ، پاؤں گا ، پچھتاؤں گا
عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہے
تم میرے ساتھ رہو گی میں تنہا رہ جاؤں گا
شام کہ اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہے
تم مجھ کو اتنا نہ چاہوں میں شاید مر جاؤں گا
عشق کسی منزل میں آ کر اتنا بھی بے فکر نہ رہو
اب بستر پر لیٹوں گا میں لیٹتے ہی سو جاؤں گا
جون ایلیا

قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 20
زخمِ اُمید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا
اب تو منہ اپنا مت دکھاؤ مجھے
نا صحو میں سُدھر گیا کب کا
آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں
دل میری جان مر گیا کب کا
آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کوچ کر گیا کب کا
میرا فہرست سے نکال دو نام
میں تو خود سے مُکر گیا کب کا
جون ایلیا

یاد بھی طور ہے بُھلانے کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 19
ہے عجب حال یہ زمانےکا
یاد بھی طور ہے بُھلانے کا
پسند آیا ہمیں بہت پیشہ
خود ہی اپنے گھروں کو ڈھانے کا
کاش ہم کو بھی ہو نصیب کبھی
عیش دفتر میں گنگنانے کا
آسمانِ خموشئ جاوید
میں بھی اب لب نہیں ہلانے کا
جان! کیا اب ترا پیالہء ناف
نشہ مجھ کو نہیں پِلانے کا
شوق ہےِاس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
اتنا نادم ہوا ہوں خود سے کہ میں
اب نہیں خود کو آزمانےکا
کیا کہوں جان کو بچانے میں
جون خطرہ ہے جان جانے کا
یہ جہاں جون! اک جہنم ہے
یاں خدا بھے نہیں ہے آنے کا
زندگی ایک فن ہے لمحوں کا
اپنے انداز سے گنوانے کا
جون ایلیا

میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 18
بول رے جی اب ساجن جی کا مکھڑا ہے کس درپن کا
میں جو ٹوٹا ، میں جو بکھرا، میں تھا درپن ساجن کا
جب تجھ سے ناتا ٹوٹا تو پھر اپنے سے کیا ناتا
پر اب بھی تو اک ناتا ہے، وہ ناتا ہے ان بن کا
میرا دل ہے ساگر ایسا، تم ندیوں کے مان میں ہو
میں بھی اپنی گنگا کا ہوں، میں بھی اپنی گانگن کا
مجھ کو میرے سارے کھلونے لا کے دو میں کیا جانوں
کیسی جوانی، کس کی جوانی، میں ہوں اپنے بچپن کا
بیچ میں آنے والے تو بس بِن کارن ہلکان ہوئے
سید جی تھا سارا کھیل، تمہارا اور برہمن کا
جو بھی ہو گا اس نے کوئی دامن تھام رکھا ہو گا
جانے میرا ہاتھ ہے یارو کس دلبر کے دامن کا
اس جوگن کے روپ ہزاروں، ان میں سے اک روپ ہے تُو
جب سے میں نے جوگ لیا ہے، جوگی ہوں اس جوگن کا
چلمن پیچھے اک چلمن ہے آنکھوں سے آکاش تلک
جو تیری دیکھن میں آیا، تھا وہ جھلکا چلمن کا
کیا بتلاؤں اس سے لڑنے بھڑنے میں جو لِیلا تھی
لڑنا تھا اس من موہن سے میرا کھیل لڑکپن کا
تُو جو دریچے سے آتی ہے کیوں میں تجھ کو آنے دوں
کوئی بگولا لائی ہے کیا تُو، بادِ صبا اس آنگن کا
جون بڑا ہرجائی نکلا، پر وہ تو بیراگی تھا
ایک رسیلی، ایک انیلی، البیلی امروہن کا
جون ایلیا

وہ نہیں تھا میری طبیعت کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 17
ناروا ہے سخن شکایت کا
وہ نہیں تھا میری طبیعت کا
دشت میں شہر ہو گئے آباد
اب زمانہ نہیں ہے وحشت کا
وقت ہے اور کوئی کام نہیں
بس مزہ لے رہا ہوں فرصت کا
بس اگر تذکرہ کروں تو کروں
کس کی زلفوں کا کس کی قامت کا
مر گئے خواب سب کی آنکھوں کے
ہر طرف ہے گلہ حقیقت کا
اب مجھے دھیان ہی نہیں آتا
اپنے ہونے کا ، اپنی حالت کا
تجھ کو پا کر زیاں ہوا ہم کو
تو نہیں تھا ہماری قیمت کا
صبح سے شام تک میری دُنیا
ایک منظر ہے اس کی رخصت کا
کیا بتاؤں کہ زندگی کیا تھی
خواب تھا جاگنے کی حالت کا
کہتے ہیں انتہائے عشق جسے
اک فقط کھیل ہے مروت کا
آ گئی درمیان روح کی بات
ذکر تھا جسم کی ضرورت کا
زندگی کی غزل تمام ہوئی
قافیہ رہ گیا محبت کا
جون ایلیا

تھا تو اک شہر خاکساروں کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 16
حال خوش تزکرہ نگاروں کا
تھا تو اک شہر خاکساروں کا
پہلے رہتے تھے کوچہء دل میں
اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا
کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
بسترا اب کہاں ہے یاروں کا
چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
کون پُرساں ہے یادگاروں کا
اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا
ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
عیش مت پوچھ دعویداروں کا
کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
نہ پیادوں کا نہ سواروں کا
بات تشبیہہ کی نہ کیجیو تُو
دہر ہے صرف استعاروں کا
میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
کیا ہوا جانے جانثاروں کا
کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
جون ایلیا

غنیمت کہ میں اپنے باہر چُھپا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 15
نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چُھپا
غنیمت کہ میں اپنے باہر چُھپا
مجھے یاں کسی پر بھروسہ نہیں
میں اپنی نگاہوں سے چھپ کر چُھپا
پہنچ مخبروں کی سخن تک کہاں
سو میں اپنے ہونٹوں میں اکثر چُھپا
مری سن! نہ رکھ اپنے پہلو میں دل
اسے تو کسی اور کے گھر چُھپا
یہاں تیرے اندر نہیں میری خیر
مری جاں مجھے میرے اندر چُھپا
خیالوں کی آمد میں یہ آرجار
ہے پیروں کی یلغار تو سر چُھپا
جون ایلیا

میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 14
کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا
میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا
دل میں ہے میرے کئی چہروں کی یاد
جانیے میں کِس سے ہوں رُوٹھا ہوا
شہر میں آیا ہوں اپنے آج شام
اک سرائے میں ہوں میں ٹھیرا ہوا
بے تعلق ہوں اب اپنے دل سے بھی
میں عجب عالم میں بے دنیا ہوا
ہے عجب اک تیرگی در تیرگی
کہکشانوں میں ہوں میں لپٹا ہوا
مال بازارِ زمیں کا تھا میں جون
آسمانوں میں میرا سودا ہوا
اب ہے میرا کربِ ذات آساں بہت
اب تو میں اس کو بھی ہوں بُھولا ہوا
جون ایلیا

اور میں پھر بھی نہ شرمندہ ہوا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 13
میرا، میری ذات میں سودا ہوا
اور میں پھر بھی نہ شرمندہ ہوا
کیا سناؤں سرگزشتِ زندگی؟
اِک سرائے میں تھا، میں ٹھیرا ہوا
پاس تھا رِشتوں کا جس بستی میں عام
میں اس بستی میں بے رشتہ ہوا
اِک گلی سے جب سے رُوٹھن ہے مری
میں ہوں سارے شہر سے رُوٹھا ہوا
پنج شنبہ اور دُکانِ مے فروش
کیا بتاؤں کیسا ہنگامہ ہوا
جون ایلیا

ہیں بند سارے شہر کے، بازار کچھ سُنا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 12
سرکار! اب جنوں کی ہے سرکار کچھ سُنا
ہیں بند سارے شہر کے، بازار کچھ سُنا
شہر قلندراں کا، ہوا ہے عجیب طور
سب ہیں جہاں پناہ سے بیزار کچھ سُنا
مصرُوف کوئی کاتبِ غیبی ہے روز و شب
کیا ہے بھلا نوشتۂِ دیوار کچھ سُنا
آثار اب یہ ہیں کہ گریبانِ شاہ سے
اُلجھیں گے ہاتھ برسرِ دربار کچھ سُنا
اہلِ سِتم سے معرکہ آراء ہے اِک ہجوم
جس کو نہیں مِلا کوئی سردار کچھ سُنا
خُونِیں دِلانِ مرحلۂِ اِمتحاں نے آج
کیا تمکنت دِکھائی سرِ دار کچھ سُنا
کیا لوگ تھے کہ رنگ بِچھاتے چلے گئے
رفتار تھی کہ، خُون کی رفتار کچھ سُنا
جون ایلیا

سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 11
رنگ ہے رنگ سے تہی، اس کا شمار کیا بھلا
سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا
دائرہ ءِ نگاہ میں تُو کہ ہے میرے رُو برُو
ہے تری رو بروئی، دائرہ وار کیا بھلا
دل کی یہ ہار بھی تو ایک طور ہے زندگی کا یار
یوں بھی ہے دل، خود اپنی ہار، ہار کی ہار کیا بھلا
ہے یہ قرار گاہِ بود، ایک فرارِ صد نمود
اس میں فرار کیا بھلا، اس سے فرار کیا بھلا
یوں تو سو طرح میں خود اپنی پہنچ سے پار ہوں
وہ جو پہنچ کے پار ہے، اس کے ہے پار کیا بھلا
ہے یہ غبار روشنی، نسل و نژاد تیرگی
جیبِ غبار میں بجز، موجِ غبار کیا بھلا
عرصہ ءِ دو نفس کے بیچ، کون تھا میں، میں کون ہوں؟
تو بھی وہی ہے وہ جو تھا، اے مرے یار کیا بھلا؟
کیف بہ کیف، کم بہ کم، دور بدور، دم بدم
حالتِ رم بہ رم یں ہے، قرب و جوار کیا بھلا
جون ایلیا

فقط اک میرا نام تھا میرا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 10
جُز گماں اور تھا ہی کیا میرا
فقط اک میرا نام تھا میرا
نکہتِ پیرہن سے اُس گُل کی
سلسلہ بے صبا رہا میرا
مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈھنے کی نہ تھی
مجھ میں کھویا رہا خدا میرا
تھوک دے خون جان لے وہ اگر
عالمِ ترکِ مُدعا میرا
جب تجھے میری چاہ تھی جاناں!
بس وہی وقت تھا کڑا میرا
کوئی مجھ تک پہنچ نہیں پاتا
اتنا آسان ہے پتا میرا
آ چکا پیش وہ مروّت سے
اب چلوں کام ہو چکا میرا
آج میں خود سے ہو گیا مایوس
آج اِک یار مر گیا میرا
جون ایلیا

اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 9
ذکر بھی اس سے کیا بَھلا میرا
اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا
آج مجھ کو بہت بُرا کہہ کر
آپ نے نام تو لیا میرا
آخری بات تم سے کہنا ہے
یاد رکھنا نہ تم کہا میرا
اب تو کچھ بھی نہیں ہوں میں ویسے
کبھی وہ بھی تھا مبتلا میرا
وہ بھی منزل تلک پہنچ جاتا
اس نے ڈھونڈا نہیں پتا میرا
تُجھ سے مُجھ کو نجات مِل جائے
تُو دُعا کر کہ ہو بَھلا میرا
کیا بتاؤں بچھڑ گیا یاراں
ایک بلقیس سے سَبا میرا
جون ایلیا

ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 8
ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا
ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئے، میں نہیں گِنتا
بھلا خود میں کب اپنا ہوں، سو پھر اپنا پرایا کیا
ہیں کتنے اپنے اور کتنے پرائے میں نہیں گِنتا
لبوں کے بیچ تھا ہر سانس اک گنتی بچھڑنے کی
مرے وہ لاکھ بوسے لے کے جائے میں نہیں گِنتا
وہ میری ذات کی بستی جو تھی میں اب وہاں کب ہوں
وہاں آباد تھے کِس کِس کے سائے میں نہیں گِنتا
بھلا یہ غم میں بھولوں گا کہ غم بھی بھول جاتے ہیں
مرے لمحوں نے کتنے غم بُھلائے میں نہیں گِنتا
تُو جن یادوں کی خوشبو لے گئی تھی اے صبا مجھ سے
انہیں تُو موج اندر موج لائے میں نہیں گِنتا
وہ سارے رشتہ ہائے جاں کے تازہ تھے جو اس پل تک
تھے سب باشندہء کہنہ سرائے، میں نہیں گِنتا
جون ایلیا

وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 7
رامش گروں سے داد طلب انجمن میں تھی
وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی
تھے دن عجب وہ کشمکش انتخاب کے
اک بات یاسمیں میں تھی اک یاسمن میں تھی
رم خوردگی میں اپنے غزال ختن تھے ہم
یہ جب کا ذکر ہے کہ غزالہ ختم میں تھی
محمل کے ساتھ ساتھ میں آ تو گیا مگر
وہ بات شہر میں تو نہیں ہے جو بن میں تھی
کیوں کہ سماعتوں کو خنک عیش کر گئی
وہ تند شعلگی جو نوا کے بدن میں تھی
خوباں کہاں تھے نکتہ خوبی سے با خبر
یہ اہلِ فن کی بات تھی اور اہلِ فن میں تھی
یاد آ رہی ہے پھر تری فرمائشِ سخن
وہ نغمگی کہاں مری عرضِ سخن میں تھی
آشوبناک تھی نگہِ اوّلینِ شوق
صبحِ وصال کی سی تھکن اس بدن میں تھی
پہنچی ہے جب ہماری تباہی کی داستاں
عذرا وطن میں تھی نہ عنیزہ وطن میں تھی
میں اور پاسِ وضعِ خرد، کیا ہوا مجھے؟
میری تو آن ہی مرے دیوانہ پن میں تھی
انکار ہے تو قیمتِ انکار کچھ بھی ہو
یزداں سے پوچھنا یہ ادا اہرمن میں تھی
جون ایلیا

گم افق میں ہوا وہ طیارہ

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 6
ہار جا اے نگاہِ ناکارہ
گم افق میں ہوا وہ طیارہ
آہ وہ محملِ فضا پرواز
چاند کو لے گیا ہے سیارہ
صبح اس کو وداع کر کے میں
نصف شب تک پھرا ہوں آوارہ
سانس کیا ہیں کہ میرے سینے میں
ہر نفس چل رہا ہے اک آرا
کچھ کہا بھی جو اس سے حال تو کب؟
جب تلافی رہی، نہ کفّارہ
کیا تھا آخر مرا وہ عشق عجیب
عشق کا خوں، کہ عشقِ خوں خوارہ
ناز کو جس نے اپنا حق سمجھا
کیا تمہیں یاد ہے وہ بے چارہ؟
چاند ہے آج کچھ نڈھال نڈھال
کیا بہت تھک گیا ہے ہرکارہ
اس مسلسل شبِ جدائی میں
خون تھوکا گیا ہے مہ پارہ
ہو گئی ہے مرے سفر کی سحر
کوچ کا بج رہا ہے نقارہ
جون ایلیا

کہ نا اُس شخص کو بھولیں نا اس کو یاد رکھیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 5
عہد اُس کُوچہِ دل سے ہے سو اُس کوچہ میں
ہے کوئی اپنی جگہ ہم جسے برباد رکھیں
کیا کہیں کیتنے نُقطے ہیں جو برتے نہ گئے
خوش بدن عشق کریں اور ہم اُستاد رکھیں
بے ستون اک نواہی میں ہے شہرِ دل کی
تیشہ انعام کریں اور کوئی فریاد رکھیں
آشیانہ کوئی اپنا نہیں پر شوق یہ ہے
اک قفس لائیں کہیں سے اور کوئی صیاد رکھیں
جون ایلیا

تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 4
تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں
تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں
کر رہے ہیں یاد اسے ہم روزوشب
ہیں بُھلانے کی اسے تیاریاں
تھا کبھی میں اک ہنسی اُن کے لیے
رو رہی ہیں اب مجھے مت ماریاں
جھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں
خوب ہیں یہ لڑکیاں بےچاریاں
شعر تو کیا بات کہہ سکتے نہیں
جو بھی نوکر جون ہیں سرکاریاں
جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر
اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں
ہم بھلا آئین اور قانون کی
کب تلک سہتے رہیں غداریاں
سُن رکھو اے شہر دارو ! خون کی
ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں
جون ایلیا

سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 3
ہیں سبھی سے جن کی گہری یاریاں
سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں
ہے خوشی عیاروں کا اک ثمر
غم کی بھی اپنی ہیں کچھ عیاریاں
ذرّے ذرّے پر نہ جانے کس لیے
ہر نفس ہیں کہکشائیں طاریاں
اس نے دل دھاگے ہیں ڈالے پاؤں میں
یہ تو زنجیریں ہیں بےحد بھاریاں
تم کو ہے آداب کا برص و جزام
ہیں ہماری اور ہی بیماریاں
خواب ہائے جاودانی پر مرے
چل رہی ہیں روشنی کی آریاں
ہیں یہ سندھی اور مہاجر ہڈحرام
کیوں نہیں یہ بیچتے ترکاریاں
یار! سوچو تو عجب سی بات ہے
اُس کے پہلو میں مری قلقاریاں
ختم ہے بس جون پر اُردو غزل
اس نے کی ہیں خون کی گل کاریاں
جون ایلیا

سر کوئے دراز مژگاناں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 2
رقصِ جاں میں ہیں زخم ساماناں
سر کوئے دراز مژگاناں
اب نہیں حال سینہ کوبی کا
آؤ سینے سے آ لگو جاناں
میرا حق تو یہ تھا کہ گرد مرے
ہو اک انبوہ نار پستاناں
اپنی ورزش کے دھیان ہی سے ہمیں
مار رکھتے ہیں صندلیں راناں
ہائے وہ نارسائیاں جو گئیں
بحسابِ مزاج درباناں
داغ سینے کے کچھ ہنر تو نہ تھے
وائے برسوخستہ گریباناں
کر عجب، گر ہو ایک لمحہ عیش
حاصل۔ عمرِ لمحہ مہماناں
نہ گئے تا حریمِ رنگ کبھی
خون روتے رہے تن آساناں
وصل تو کیا، نہیں نصیب ہمیں
اب تمہارا فراق تک جاناں
جون ایلیا

دہم شکنِ دلہا برہم زنِ محفلہا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 1
دلِ جان! وہ آ پہنچا، درہم شکنِ دلہا
دہم شکنِ دلہا برہم زنِ محفلہا
یہ نغمہ ساعت کر اے مطربِ کج نغمہ
ہے نعرہ قاتل در حلقہ بسملہا
ہے شام کے بے قابو وہ خجر گیاں آشوب
لو آ ہی گیا کافر اے مجمعِ غافلہا
گردابِ عبث میں ہم اس موج پہ مائل ہیں
جو موج کہ یاراں ہے دور افگنِ ساحلہا
ہم نادرہ جویاں کو وہ راہ خوش آئی ہے
جو آبلہ پرور ہے بے مرہم منزلہا
ہم اس کے ہیں اے یاراں اس کے ہیں جو ٹھہرا ہے
آشوب گرِ جانہا دیوانہ گر۔ دلہا
مجنوں پسِ مجنوں ہے بے شورِ فغاں اے دا
محمل پسِ محمل ہے بے لیلٰی محملہا
جون ایلیا

تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 293
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "
تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستمگر ہیں "
مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو "بجا” کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
نگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاں
وہ زخمِ تیغ ہے جس کو کہ دلکشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
جو نا سزا کہے اس کو نہ نا سزا کہیے
کہیں حقیقتِ جانکاہئِ مرض لکھیے
کہیں مصیبتِ نا سازئِ دوا کہیے
کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجے
کبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خونبہا دیجے
کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت، نہ ہو، نگار تو ہے!
روانئِ روش و مستئِ ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو بہار تو ہے!
طرواتِ چمن و خوبئِ ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آلگا غالب
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 292
دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے
ہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیے
یہ ضد کہ آج نہ آوے ، اور آئے بِن نہ رہے
قضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے ، کیا کہیے!
رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ ، کہ کُوئے دوست کو اب
اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے ، کیا کہیے!
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے، کیا کہیے
سمجھ کے کرتے ہیں ، بازار میں وہ پُرسشِ حال
کہ یہ کہے کہ ، سرِ رہگزر ہے ، کیا کہیے؟
تمہیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیال
ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے ، مگر ہے کیا؟ کہیے!
اُنہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے ، کیوں لڑیئے
ہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے ، کیا کہیے؟
حَسد ، سزائے کمالِ سخن ہے ، کیا کیجے
سِتم ، بہائے متاعِ ہُنر ہے ، کیا کہیے!
کہا ہے کِس نے کہ غالب بُرا نہیں ، لیکن
سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے ، کیا کہیے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 291
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی@
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالب فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
@ نسخۂ مہر میں "کو”
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 290
چاہیے اچھّوں کو ، جتنا چاہیے
یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذر
جائے مے ، اپنے کو کھینچا چاہیے
چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل ؟
بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے !
چاک مت کر جیب ، بے ایامِ گُل
کُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے
دوستی کا پردہ ہے بیگانگی
منہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
دُشمنی نے میری ، کھویا غیر کو
کِس قدر دُشمن ہے ، دیکھا چاہیے
اپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعی
یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
نااُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے
غافل ، اِن مہ طلعتوں کے واسطے
چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
چاہتے ہیں خُوبروؤں کو اسدؔ
آپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 289
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
دل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیا
میں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیے
رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مے
مدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے
بے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضر
حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے@ لئیم
تو نے وہ گنجہائے گرانمایہ کیا کیے
کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو ؟
کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے ؟
صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیں
بھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے
غالب تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا
مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
@ او۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 288
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشق
یعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے
دیوار بارِ منّتِ مزدور سے ہے خم
اے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے
یا میرے زخمِ رشک کو رسوا نہ کیجیے
یا پردۂ تبسّمِ پنہاں اٹھائیے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 287
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے
ہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے
کثرت آرائ خیالِ ما سوا کی وہم تھی
مرگ پر غافل گمانِ زندگی کرتے رہے
داغہاۓ دل چراغِ خانۂ تاریک تھے
تا مغاکِ قبر پیدا روشنی کرتے رہے
شورِ نیرنگِ بہارِ گلشنِ ہستی، نہ پوچھ
ہم خوشی اکثر رہینِ ناخوشی کرتے رہے
رخصت اے تمکینِ آزارِ فراقِ ہمرہاں
ہوسکا جب تک غمِ واماندگی کرتے رہے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 286
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
آبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے
غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہ
نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشق
پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاں
مثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہے
ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
رنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیں
کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔ
پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 285
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے
اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
رہا آباد عالم اہلِ ہمّت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو، مے خانہ خالی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 284
خموشی میں تماشا ادا نکلتی ہے
نگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے
فشارِ تنگئ خلوت سے بنتی ہے شبنم
صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آبِ تیغِ نگاہ
کہ زخمِ روزنِ در سے ہوا نکلتی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

آئنہ زانوئے فکرِ اختراعِ جلوہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 283
حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہے
آئنہ زانوئے فکرِ اختراعِ جلوہ ہے
تا کُجا اے آگہی رنگِ تماشا باختن؟
چشمِ وا گر دیدہ آغوشِ وداعِ جلوہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

شیشۂ مے سروِ سبزِ جوئبارِ نغمہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 282
نشّہ ہا شادابِ رنگ و ساز ہا مستِ طرب
شیشۂ مے سروِ سبزِ جوئبارِ نغمہ ہے
ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کرنہ بزمِ عیشِ دوست
واں تو میرے نالے کو بھی اعتبارِ نغمہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دعوئ جمعیّتِ احباب جائے خندہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 281
عرضِ نازِ شوخئِ دنداں برائے خندہ ہے
دعوئ جمعیّتِ احباب جائے خندہ ہے
ہے عدم میں غنچہ محوِ عبرتِ انجامِ گُل
یک جہاں زانو تامّل در قفائے خندہ ہے
کلفتِ افسردگی کو عیشِ بے تابی حرام
ورنہ دنداں در دل افشردن بِنائے خندہ ہے
سوزشِ باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاں
دل محیطِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 280
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہے
نبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے
دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
ورنہ یاں بے رونقی سودِ چراغِ کشتہ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 279
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے
دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلے
نشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطر
خاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے
دل سے اٹھا لطفِ جلوہہائے معانی
غیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے
قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالب
تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 278
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذّت ہماری سعئِ بے حاصل میں ہے
رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے
اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہی
فتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گِل میں ہے
ہے دلِ شوریدۂ غالب طلسمِ پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 277
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں ، قیس و کوہکن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں ، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر
ہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!
اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں ، دیکھو ، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“
شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر @، اچھا ، جگر کے پار ہو ، بہتر
غرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائی
وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ ، اے دلِ وابستہ ! بیتابی سے کیا حاصل؟
مگر پھر تابِ زُلفِ پُرشکن کی آزمائش ہے
رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم ، تب دیکھیے کیا ہو!
ابھی تو تلخئ کام و دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر ، وعدہ کیسا ، دیکھنا ، غالب!
نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش@ ہے
@ نسخۂ مہرمیں "رہے گر دل میں تیر” @ اصل نسخوں میں آزمایش ہے لیکن ہم نے موجودہ املا کو ترجیح دے کر آزمائش لکھا ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 276
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوزِ غم ہائے نہانی اور ہے
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
پر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے
قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوم
وہ بلائے آسمانی اور ہے
ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 275
تپِش سے میری ، وقفِ کش مکش ، ہر تارِ بستر ہے
مِرا سر رنجِ بالیں ہے ، مِرا تَن بارِ بستر ہے
سرشکِ سر بہ صحرا دادہ ، نورالعینِ دامن ہے
دلِ بے دست و پا اُفتادہ بر خوردارِ بستر ہے
خوشا اقبالِ رنجوری ! عیادت کو تم آئے ہو
فروغِ شمع بالیں ، طالعِ بیدارِ بستر ہے
بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائی
شعاعِ آفتابِ صبحِ محشر تارِ بستر ہے
ابھی آتی ہے بُو ، بالش سے ، اُس کی زلفِ مشکیں کی
ہماری دید کو ، خوابِ زلیخا ، عارِ بستر ہے
کہوں کیا ، دل کی کیا حالت ہے ہجرِ یار میں ، غالب!
کہ بے تابی سے ہر یک تارِ بستر ، خارِ بستر ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 274
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھےُدردِ تہِ جام بہت ہے
نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی
پاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے
ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟
پابستگئِ رسم و رہِ عام بہت ہے
زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حر م سے؟
آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
انکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے
خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ
رہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے
ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے؟
شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 273
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی@ نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفامِ مشک بو@ کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
@ اصل نسخے میں ’جب آنکھ سے ہی‘ ہے لیکن بعض جدید نسخوں میں ’جب آنکھ ہی سے‘ رکھا گیا ہے جس سے مطلب زیادہ واضح ہو جاتا ہے لیکن نظامی میں یوں ہی ہے۔@ "بادہ و گلفامِ مشک بو”۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

غُلامِ ساقئ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 272
بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟
غُلامِ ساقئ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے
تمھاری طرز و روش جانتے ہیں ہم، کیا ہے
رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے
کوئی بتاؤ کہ وہ زُلفِ خم بہ خم کیا ہے
لکھا کرے کوئی احکامِ طالعِ مولود
کسے خبر ہے کہ واں جنبشِ قلم کیا ہے؟
نہ حشرونشر کا قائل نہ کیش و ملت کا
خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے؟
وہ داد ودید گراں مایہ شرط ہے ہمدم
وگرنہ مُہرِ سلیمان و جامِ جم کیا ہے
سخن میں خامۂ غالب کی آتش افشانی
یقین ہے ہم کو بھی، لیکن اب اس میں دم کیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 271
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
ہم ہیں مشتاق اور وہ بےزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے@
نگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے؟
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟
ابر کیا چیز ہے؟ ہوا کیا ہے؟
ہم کو ان سے وفا کی ہے امّید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہو گا
اَور درویش کی صدا کیا ہے؟
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے؟
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
@ ہیں۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب