زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

نر سے پیدا ہووے نار ۔ پہیلی

نر سے پیدا ہووے نار

ہر کوئی اس سے رکھے پیار

ایک زمانہ اس کو کھاوے

خسرو پیٹ میں وہ نہ جاوے

جواب: غصہ

امیر خسرو

لود پھٹکری مردانہ سنگ ۔ پہیلی

لود پھٹکری مردانہ سنگ

ہلدی زیرہ ایک ایک ٹنگ

افیون چنا مرچیں چار

ارد برابر تھوتھا ڈار

جواب:‌ ؟

امیر خسرو

فارسی بولی آئی نا ۔ پہیلی

فارسی بولی آئی نا

ترکی ڈھونڈی پائی نا

ہندی بولوں آر سی آئے

خسرو کہے کوئی نہ بتائے

جواب: آئینہ (آرسی)

امیر خسرو

شیام برن اور دانت انیک لچکت جیسے ناری ۔ پہیلی

شیام برن اور دانت انیک لچکت جیسے ناری

دونوں ہاتھ سے خسرو کھینچے اور یوں کہے میں آ ری

(آ ری یعنی آ رہی)

جواب: آری

امیر خسرو

سی سی کر کے نام بتایا تا میں بیٹھا ایک ۔ پہیلی

سی سی کر کے نام بتایا تا میں بیٹھا ایک

الٹا سیدھا ہر پھر دیکھو وہی ایک کا ایک

جواب: ؟

امیر خسرو

ساون بھادوں بہت چلت ہے ماگھ پوس میں تھوڑی ۔ پہیلی

ساون بھادوں بہت چلت ہے ماگھ پوس میں تھوڑی

امیر خسرو یوں کہتے تو بوجھ پہیلی موری

جواب: موری

امیر خسرو

جل جل چلتا بستا گاؤں بستی میں نا وا کا ٹھاؤں ۔ پہیلی

جل جل چلتا بستا گاؤں بستی میں نا وا کا ٹھاؤں

خسرو نے دیا وا کا ناؤں بوجھو ارتھ نہیں چھاڈو گاؤں

جواب: ناؤ یعنی کشتی

امیر خسرو

ترور سے ایک تریا اتری اس نے بہت رجھایا ۔ پہیلی

ترور سے ایک تریا اتری اس نے بہت رجھایا

باپ کا نام جو اس سے پوچھا آدھا نام بتایا

آدھا نام پِتا پر پیارے بوجھ پہیلی موری

امیر خسرو یوں کہیں اپنا نام بنولی

جواب: بنولی

امیر خسرو

بھید پہیلی میں کہی تُو سن لے میرے لال ۔ پہیلی

بھید پہیلی میں کہی تُو سن لے میرے لال

عربی ہندی فارسی تینوں کرو خیال

جواب:‌ ؟

امیر خسرو

بالا تھا جب سب کو بھایا بڑھا ہوا کچھ کام نہ آیا ۔ پہیلی

بالا تھا جب سب کو بھایا بڑھا؎ ہوا کچھ کام نہ آیا

خسرو کہہ دیا؎ اس کا ناؤں ارتھ کرو نہیں چھاڈو گاؤں

؎ بڑھا جب بولیں گے تو بڑا سنائی دے گا –

؎ دیا یعنی چراغ ہی اس پہیلی کا جواب ہے –

جواب: دیا یعنی چراغ

امیر خسرو

ایک نار چاتر کہلاوے ۔ پہیلی

ایک نار چاتر کہلاوے

مورکھ کو نہ پاس بلاوے

چاتر مرد جو ہاتھ لگاوے

کھول ستر وہ آپ دکھاوے

جواب: عربی کا لفظ نار یعنی آگ

امیر خسرو

ایک نار جب بن کر آوے ۔ پہیلی

ایک نار جب بن کر آوے

مالک کو اپنے اوپر بلاوے

ہے وہ ناری سب کے گوں کی

خسرو نام لیے تو چونکی

جواب: چونکی یعنی چوکی جو بیٹھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے

امیر خسرو

ایک نار بھنورا سی کالی ۔ پہیلی

ایک نار بھنورا سی کالی

کان نہیں وہ پہنے بالی

ناک نہیں وہ سونگھے پھول

جتنا عرض اتنا ہی طول

جواب: ؟

امیر خسرو

اندھا گونگا بہرہ بولے گونگا آپ کہائے ۔ پہیلی

اندھا گونگا بہرہ بولے گونگا آپ کہائے

ایک سفیدی بہوت انگارا گونگے سے بھڑ جائے

جواب: ؟

امیر خسرو

گوری گوری بانہاں ، ہری ہری چوڑیاں ۔ گیت

گوری گوری بانہاں ، ہری ہری چوڑیاں

بانہیاں پکڑ دھر لینی رے موسے

بل بل جاؤں میں تورے موسے

خسرو نظام کے بل بل جیے

موہے سہاگن کینی رے موسے

امیر خسرو

کاہے کو بیاہی بدیس ۔ گیت

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے

کاہے کو بیاہی بدیس

بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس

ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں

جد ہانکے ، ہنک جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں

گھر گھر مانگی جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں

بھور بھئے اڑ جائیں

ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں

چھوٹا سہیلی کا ساتھ

کوٹھے تلے سے پالکی نکلی

بیرن نے کھائے پشاد

ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا

آیا پیا کا دیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس؟

امیر خسرو

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے ۔ گیت

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

گھر ناری کنواری کہے سو کرے

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

سوہنی صورتیا ، موہنی مورتیا

میں تو ہریزے کے پیچھے سما آئی

گھر ناری کنواری کہے سو کرے

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

امیر خسرو

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے ۔ گیت

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

تو تو صاحب میرا محبوب الٰہی

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

ہماری چنریا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیا کی پگڑیا

وہ تو دونوں بسنتی رنگ دے

جو کچ مانگے رنگ کی رنگائی

مورا جوبن گروی رکھ لے

آن پڑی دربار تمہارے

موری لاج شرم سب رکھ لے

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

امیر خسرو

سب سکھیوں میں چادر میری میلی ۔ گیت

سب سکھیوں میں چادر میری میلی

دیکھیں ہنس ہنس ناری

اب کے بہار چادر میریرنگ دے

پیا رکھ لے لاج ہماری

صدقہ باب گنج شکر کا

رکھ لے لاجک ہماری

قطب فریدل آئے براتی

خسرو راج دلاری

کوئی ساس کوئی نند سے جھگڑے

ہم کو آس تمہاری

رکھ لے لاج ہماری نظام

رکھ لے لاج ہماری

امیر خسرو

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں ۔ گیت

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ

سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں

کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما

نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں

بحقِّروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسرو

سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں

امیر خسرو

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر ۔ گیت

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر

ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر

جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا

حقّا الہٰی کیا کیا، آنسو چلے بھر لائے کر

توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے

تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر

جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں

تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر

میرا جو من تم نے لیا ، تم نے اُٹھا غم کو دیا

غم نے مجھے ایسا کیا جیسا پتنگا آگ پر

خسرو کہے باتاں غضب ، دل میں نہ لاوے کچھ عجب

قدرت خدا کی یہ عجب ، جب جیو دیا گل لائے کر

امیر خسرو

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی ۔ گیت

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

کیسے میں بھر لاؤں مدھوا سے مٹکی

پانی بھرن کو جو میں گئی تھی

دوڑ ، جھپٹ ، موری مٹکی پھٹکی

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

مورے اچھے نظام پیا جی

امیر خسرو