زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

کہ مجھ کو اس کی گلی کا خدا گدا کرتا

دیوان دوم غزل 736
کوئی فقیر یہ اے کاشکے دعا کرتا
کہ مجھ کو اس کی گلی کا خدا گدا کرتا
کبھو جو آن کے ہم سے بھی تو ملا کرتا
تو تیرے جی میں مخالف نہ اتنی جا کرتا
چمن میں پھول گل اب کے ہزار رنگ کھلے
دماغ کاش کہ اپنا بھی ٹک وفا کرتا
فقیر بستی میں تھا تو ترا زیاں کیا تھا
کبھو جو آن نکلتا کوئی صدا کرتا
علاج عشق نے ایسا کیا نہ تھا اس کا
جو کوئی اور بھی مجنوں کی کچھ دوا کرتا
قدم کے چھونے سے استادگی مجھی سے ہوئی
کبھو وہ یوں تو مرے ہاتھ بھی لگا کرتا
بدی نتیجہ ہے نیکی کا اس زمانے میں
بھلا کسو سے جو کرتا تو تو برا کرتا
تلاطم آنکھ کے صد رنگ رہتے تھے تجھ بن
کبھو کبھو جو یہ دریاے خوں چڑھا کرتا
کہاں سے نکلی یہ آتش نہ مانتا تھا میں
شروع ربط میں اس کے جو دل جلا کرتا
گلی سے یار کی ہم لے گئے سر پر شور
وگرنہ شام سے ہنگامہ ہی رہا کرتا
خراب مجھ کو کیا دل کی لاگ نے ورنہ
فقیر تکیے سے کاہے کو یوں اٹھا کرتا
گئے پہ تیرے نہ تھا ہم نفس کوئی اے گل
کبھو نسیم سے میں درد دل کہا کرتا
کہیں کی خاک کوئی منھ پہ کب تلک ملتا
خراب و خوار کہاں تک بھلا پھرا کرتا
موئی ہی رہتی تھی عزت مری محبت میں
ہلاک آپ کو کرتا نہ میں تو کیا کرتا
ترے مزاج میں تاب تعب تھی میر کہاں
کسو سے عشق نہ کرتا تو تو بھلا کرتا
میر تقی میر

اس لب خاموش کا قائل ہوا

دیوان دوم غزل 735
لعل پر کب دل مرا مائل ہوا
اس لب خاموش کا قائل ہوا
لڑ گئیں آنکھیں اٹھائی دل نے چوٹ
یہ تماشائی عبث گھائل ہوا
ناشکیبی سے گئی ناموس فقر
عاقبت بوسے کا میں سائل ہوا
ایک تھے ہم وے نہ ہوتے ہست اگر
اپنا ہونا بیچ میں حائل ہوا
میر ہم کس ذیل میں دیکھ اس کی آنکھ
ہوش اہل قدس کا زائل ہوا
میر تقی میر

یوناں کی طرح بستی یہ سب میں ڈبو رہا

دیوان دوم غزل 734
طوفان میرے رونے سے آخر کو ہورہا
یوناں کی طرح بستی یہ سب میں ڈبو رہا
بہتوں نے چاہا کہیے پہ کوئی نہ کہہ سکا
احوال عاشقی کا مری گومگو رہا
آخر موا ہی واں سے نکلتا سنا اسے
کوچے میں اس کے جا کے ستم دید جو رہا
آنسو تھما نہ جب سے گیا وہ نگاہ سے
پایان کار آنکھوں کو اپنی میں رو رہا
کیا بے شریک زندگی کی شیخ شہر نے
نبّاش بھی وہی تھا وہی مردہ شو رہا
یاروں نے جل کے مردے سے میرے کیا خطاب
روتے تھے ہم تو دل ہی کو تو جی بھی کھو رہا
جب رات سر پٹکنے نے تاثیر کچھ نہ کی
ناچار میر منڈکری سی مار سو رہا
میر تقی میر

سب درد ہو شدت کا اس دل ہی کو دل ڈالا

دیوان دوم غزل 733
اب چھاتی کے جلنے نے کچھ طور بدل ڈالا
سب درد ہو شدت کا اس دل ہی کو دل ڈالا
ہم عاجزوں کا کھونا مشکل نہیں ہے ایسا
کچھ چونٹیوں کو لے کر پائوں تلے مل ڈالا
اٹھکھیلی کی بھی اس کی دل تاب نہیں لاتا
کیا پگڑی کے پیچوں میں لے بالوں کو بل ڈالا
تشویش سے اب خالی کس دن ہے مزاج اپنا
اس دل کی خلش نے بھی کیا آہ خلل ڈالا
مجھ مست کو کیا نسبت اے میر مسائل سے
منھ شیخ کا مسجد میں میں رک کے مسل ڈالا
میر تقی میر

چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا

دیوان دوم غزل 732
اس بد زباں نے صرف سخن آہ کب کیا
چپکے ہی چپکے ان نے ہمیں جاں بلب کیا
طاقت سے میرے دل کی خبر تجھ کو کیا نہ تھی
ظالم نگاہ خشم ادھر کی غضب کیا
یکساں کیا نہیں ہے ہمیں خاک رہ سے آج
ایسا ہی کچھ سلوک کیا ان نے جب کیا
عمامہ لے کے شیخ کہیں میکدے سے جا
بس مغبچوں نے حد سے زیادہ ادب کیا
اس رخ سے دل اٹھایا تو زلفوں میں جا پھنسا
القصہ اپنے روز کو ہم نے بھی شب کیا
ظاہر ہوا نہ مجھ پہ کچھ اس ظلم کا سبب
کیا جانوں خون ان نے مرا کس سبب کیا
کچھ آگے آئے ہوتے جو منظور لطف تھا
ہم جی سے اپنے جاچکے تم قصد تب کیا
بچھڑے تمھارے اپنا عجب حال ہو گیا
جس کی نگاہ پڑ گئی ان نے عجب کیا
برسوں سے اپنے دل کی ہے دل میں کہ یار نے
اک دن جدا نہ غیر سے ہم کو طلب کیا
کی زندگی سو وہ کی موئے اب سو اس طرح
جو کام میر جی نے کیا سو کڈھب کیا
میر تقی میر

گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا

دیوان دوم غزل 731
خندئہ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا
گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا
کیا گذر کوے محبت میں ہنسی ہے کھیل ہے
پائوں رکھا جس نے ٹک اودھر پھر اس کا سر گیا
کیا کوئی زیرفلک اونچا کرے فرق غرور
ایک پتھر حادثے کا آلگا سر چر گیا
نیزہ بازان مژہ میں دل کی حالت کیا کہوں
ایک ناکسبی سپاہی دکھنیوں میں گھر گیا
بعد مدت اس طرف لایا تھا اس کو جذب عشق
بخت کی برگشتگی سے آتے آتے پھر گیا
تیز دست اتنا نہیں وہ ظلم میں اب فرق ہے
یعنی لوہا تھا کڑا تیغ ستم کا کر گیا
سخت ہم کو میر کے مرجانے کا افسوس ہے
تم نے دل پتھر کیا وہ جان سے آخر گیا
میر تقی میر

دامن پکڑ کے رویئے یک دم سحاب کا

دیوان دوم غزل 730
بالقوہ ٹک دکھایئے چشم پرآب کا
دامن پکڑ کے رویئے یک دم سحاب کا
جو کچھ نظر پڑے ہے حقیقت میں کچھ نہیں
عالم میں خوب دیکھو تو عالم ہے خواب کا
دریا دلی جنھیں ہے نہیں ہوتے کاسہ لیس
دیکھا ہے واژگوں ہی پیالہ حباب کا
شاید کہ قلب یار بھی ٹک اس طرف پھرے
میں منتظر زمانے کے ہوں انقلاب کا
بارے نقاب دن کو جو رکھتا ہے منھ پہ تو
پردہ سا رہ گیا ہے کچھ اک آفتاب کا
تلوار بن نکلتے نہیں گھر سے ایک دم
خوں کر رہو گے تم کسو خانہ خراب کا
یہ ہوش دیکھ آگے مرے ساتھ غیر کے
رکھتا ہے پائوں مست ہو جیسے شراب کا
مجنوں میں اور مجھ میں کرے کیوں نہ فرق عشق
چھپتا نہیں مزہ تو جلے سے کباب کا
رو فرصت جوانی پہ جوں ابر بے خبر
انداز برق کا سا ہے عہد شباب کا
واں سے تو نامہ بر کو ہے کب کا جواب صاف
میں سادگی سے لاگو ہوں خط کے جواب کا
ٹپکاکرے ہے زہر ہی صرف اس نگاہ سے
وہ چشم گھر ہے غصہ و ناز و عتاب کا
لائق تھا ریجھنے ہی کے مصراع قد یار
میں معتقد ہوں میر ترے انتخاب کا
میر تقی میر

تو کام مرا اچھا پردے میں چلا جاتا

دیوان دوم غزل 729
آنسو مری آنکھوں میں ہر دم جو نہ آجاتا
تو کام مرا اچھا پردے میں چلا جاتا
اصلح ہے حجاب اس کا ہم شوق کے ماروں سے
بے پردہ جو وہ ہوتا تو کس سے رہا جاتا
طفلی کی ادا تیری جاتی نہیں یہ جی سے
ہم دیکھتے تجھ کو تو تو منھ کو چھپا جاتا
صد شکر کہ داغ دل افسردہ ہوا ورنہ
یہ شعلہ بھڑکتا تو گھر بار جلا جاتا
کہتے تو ہو یوں کہتے یوں کہتے جو وہ آتا
یہ کہنے کی باتیں ہیں کچھ بھی نہ کہا جاتا
ان آنکھوں سے ہم چشمی برجاہے جو میں جل کر
بادام کو کل یارو مجلس ہی میں کھا جاتا
صحبت سگ و آہو کی یک عمر رہی باہم
وہ بھاگتا مجھ سے تو میں اس سے لگا جاتا
گر عشق نہیں ہے تو یہ کیا ہے بھلا مجھ کو
جی خودبخود اے ہمدم کاہے کو کھپا جاتا
جوں ابر نہ تھم سکتا آنکھوں کا مری جھمکا
جوں برق اگر وہ بھی جھمکی سی دکھا جاتا
تکلیف نہ کی ہم نے اس وحشی کو مرنے کی
تھا میر تو ایسا بھی دل جی سے اٹھا جاتا
میر تقی میر

مطلق نہیں ہم سے ساز تیرا

دیوان دوم غزل 728
اللہ رے غرور و ناز تیرا
مطلق نہیں ہم سے ساز تیرا
ہم سے کہ تجھی کو جانتے ہیں
جاتا نہیں احتراز تیرا
مل جن سے شراب تو پیے ہے
کہہ دیتے ہیں وہ ہی راز تیرا
کچھ عشق و ہوس میں فرق بھی کر
کیدھر ہے وہ امتیاز تیرا
کہتے نہ تھے میر مت کڑھاکر
دل ہو نہ گیا گداز تیرا
میر تقی میر

مجھے سیدھیاں وہ سنانے لگا

دیوان دوم غزل 727
کجی اس کی جو میں جتانے لگا
مجھے سیدھیاں وہ سنانے لگا
تحمل نہ تھا جس کو ٹک سو وہ میں
ستم کیسے کیسے اٹھانے لگا
رندھے عشق میں کوئی یوں کب تلک
جگر آہ منھ تک تو آنے لگا
پریشاں ہیں اس وقت میں نیک و بد
موا جو کوئی وہ ٹھکانے لگا
کروں یاد اسے ہوں جو میں آپ میں
سو یاں جی ہی اب بھول جانے لگا
پس از عمر اودھر گئی تھی نگاہ
سو آنکھیں وہ مجھ کو دکھانے لگا
نہیں رہتے عاقل علاقے بغیر
کہیں میر دل کو دوانے لگا
میر تقی میر

اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا

دیوان دوم غزل 726
کیا کہیں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو چپ بھی رہا نہیں جاتا
غم میں جاتی ہے عمر دہ روزہ
اپنے ہاں سے دہا نہیں جاتا
طاقت دل تلک تعب کھینچے
اب ستم ٹک سہا نہیں جاتا
اس در تر کا حیرتی ہے بحر
تب تو اس سے بہا نہیں جاتا
کب تری رہ میں میر گرد آلود
لوہو میں آ نہا نہیں جاتا
میر تقی میر

ماہ تمام یارو کیا ناتمام نکلا

دیوان دوم غزل 725
روکش ہوا جو شب وہ بالاے بام نکلا
ماہ تمام یارو کیا ناتمام نکلا
ہو گوشہ گیر شہرت مدنظر اگر ہے
عنقا کی طرح اپنا عزلت سے نام نکلا
تھا جن کو عاشقی میں دعواے پختہ مغزی
سودا انھوں کا آخر دیکھا تو خام نکلا
نومید قیس پایا ناکام کوہکن کو
اس عشق فتنہ گر سے وہ کس کا کام نکلا
کیونکر نہ مر رہے جو بیتاب میر سا ہو
ایک آدھ دن تو گھر سے دل تھام تھام نکلا
میر تقی میر

شاعری تو شعار ہے اپنا

دیوان دوم غزل 724
نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا
شاعری تو شعار ہے اپنا
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا
روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات
اب یہی روزگار ہے اپنا
دے کے دل ہم جو ہو گئے مجبور
اس میں کیا اختیار ہے اپنا
کچھ نہیں ہم مثال عنقا لیک
شہر شہر اشتہار ہے اپنا
جس کو تم آسمان کہتے ہو
سو دلوں کا غبار ہے اپنا
صرفہ آزار میر میں نہ کرو
خستہ اپنا ہے زار ہے اپنا
میر تقی میر

اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا

دیوان دوم غزل 723
سوز دروں سے آخر بھسمنت دل کو پایا
اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا
جی دے کے لیتے ایسے معشوق بے بدل کو
یوسفؑ عزیز دلہا سستا بہت بکایا
زلف سیاہ اس کی جاتی نہیں نظر سے
اس چشم رو سیہ نے روز سیہ دکھایا
نام اس کا سن کے آنسو گر ہی پڑے پلک سے
دل کا لگائو یارو چھپتا نہیں چھپایا
تھا لطف زیست جن سے وے اب نہیں میسر
مدت ہوئی کہ ہم نے جینے سے ہاتھ اٹھایا
مہندی لگی تھی تیرے پائوں میں کیا پیارے
ہنگام خون عاشق سر پر جو تو نہ آیا
یہ پیروی کسو سے کاہے کو ہوسکے ہے
رکھتا ہے داغ ہم کو قامت کا اس کی سایا
دیکھی نہ پیش جاتے ہرگز خردوری میں
دانستہ بائولا ہم اپنے تئیں بنایا
رہتی تھی بے دماغی اک شور ما و من میں
آنکھوں کے مند گئے پر آرام سا تو پایا
گل پھول سے بھی تو جو لیتا ہے منھ کو پھیرے
مکھڑے سے کس کے تونے اے میر دل لگایا
میر تقی میر

کل حال میر دیکھ کے غش مجھ کو آگیا

دیوان دوم غزل 722
یہ رفتگی بھی ہوتی ہے جی ہی چلا گیا
کل حال میر دیکھ کے غش مجھ کو آگیا
کیا کہیے ایک عمر میں وے لب ہلے تھے کچھ
سو بات پان کھاتے ہوئے وہ چبا گیا
ثابت ہے اس کے پہلو سے پہنچے ہے ہم کو رنج
دیکھا نہ درد دل کے کہے سر جھکا گیا
نالاں ہے عندلیب گل آشفتہ رفتہ سرو
ٹک بیٹھ کر چمن میں وہ فتنہ اٹھا گیا
پڑھتا تھا میں تو سجہ لیے ہاتھ میں درود
صلواتیں مجھ کو آ کے وہ ناحق سنا گیا
رکھنا نشان قبر کا میری نہ خوش کیا
آیا سو اور خاک میں مجھ کو ملا گیا
منصف ہو تو ہی شیخ کہ اس مست ناز بن
ہم آپ سے بھلا گئے تجھ سے رہا گیا
ہرگز بجھی نہ سر سے لگی آہ عشق میں
مانند شمع داغ ہی سب ہم کو کھا گیا
کیوں میں کہا کہ ہنس کے نمک زخم پر چھڑک
بے لطف اس کے ہونے میں سارا مزہ گیا
آنسو تو ڈر سے پی گئے لیکن وہ قطرہ آب
اک آگ تن بدن میں ہمارے لگا گیا
وقت اخیر کیا یہ ادا تھی کہ غش سے میں
جب آنکھ کھولی بالوں میں منھ کو چھپا گیا
کیا پوچھتے ہو داغ کیا مرگ میر نے
مر کر وہ سینہ سوختہ چھاتی جلا گیا
میر تقی میر

نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا

دیوان دوم غزل 721
طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا
نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا
ہوا ہے کنج قفس ہی کی بے پری میں خوب
کہ پر کے سال تلک لطف تھا رہائی کا
یہیں ہیں دیر و حرم اب تو یہ حقیقت ہے
دماغ کس کو ہے ہر در کی جبہہ سائی کا
نہ پوچھ مہندی لگانے کی خوبیاں اپنی
جگر ہے خستہ ترے پنجۂ حنائی کا
نہیں جہان میں کس طرف گفتگو دل سے
یہ ایک قطرئہ خوں ہے طرف خدائی کا
کسو پہاڑ میں جوں کوہکن سر اب ماریں
خیال ہم کو بھی ہے بخت آزمائی کا
بجا رہا نہ دل شیخ شور محشر سے
جگر بھی چاہے ہے کچھ تھامنا اوائی کا
رکھا ہے باز ہمیں در بدر کے پھرنے سے
سروں پہ اپنے ہے احساں شکستہ پائی کا
ملا کہیں تو دکھا دیں گے عشق کا جنگل
بہت ہی خضر کو غرہ ہے رہنمائی کا
نہ انس مجھ سے ہوا اس کو میں ہزار کہا
جگر میں داغ ہے اس گل کی بیوفائی کا
جہاں سے میر ہی کے ساتھ جانا تھا لیکن
کوئی شریک نہیں ہے کسو کی آئی کا
میر تقی میر

رات جو تھی چاند سا گھر سے نکل کر رہ گیا

دیوان دوم غزل 720
مکث طالع دیکھ وہ ایدھر کو چل کر رہ گیا
رات جو تھی چاند سا گھر سے نکل کر رہ گیا
خواب میں کل پائوں اپنے دوست کے ملتا تھا میں
آنکھ دشمن کھل گئی سو ہاتھ مل کر رہ گیا
ہم تو تھے سرگرم پابوسی خدا نے خیر کی
نیمچہ کل خوش غلاف اس کا اگل کر رہ گیا
ہم بھی دنیا کی طلب میں سر کے بل ہوتے کھڑے
بارے اپنا پائوں اس رہ میں بچل کر رہ گیا
کیا کہوں بیتابی شب سے کہ ناچار اس بغیر
دل مرے سینے میں دو دو ہاتھ اچھل کر رہ گیا
کیا ہمیں کو یار کے تیغے نے کھاکر دم لیا
ایسے بہتیروں کو یہ اژدر نگل کر رہ گیا
دو قدم ساتھ اس جفا جو کے چلا جاتا ہے جی
بوالہوس عیار تھا دیکھا نہ ٹل کر رہ گیا
آنکھ کچھ اپنی ہی اس کے سامنے ہوتی نہیں
جن نے وہ خونخوار سج دیکھی دہل کر رہ گیا
ایک ڈھیری راکھ کی تھی صبح جاے میر پر
برسوں سے جلتا تھا شاید رات جل کر رہ گیا
میر تقی میر

یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا

دیوان دوم غزل 719
عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا
یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا
دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ سدھ لیجے کبھو
اجڑی اس بستی کو پھر تونے بسایا ہوتا
عزت اسلام کی کچھ رکھ لی خدا نے ورنہ
زلف نے تیری تو زنار بندھایا ہوتا
گھر کے آگے سے ترے نعش گئی عاشق کی
اپنے دروازے تلک تو بھی تو آیا ہوتا
جو ہے سو بے خود رفتار ہے تیرا اے شوخ
اس روش سے نہ قدم تونے اٹھایا ہوتا
اب تو صد چند ستم کرنے لگے تم اے کاش
عشق اپنا نہ تمھیں میں نے جتایا ہوتا
دل سے خوش طرح مکاں پھر بھی کہیں بنتے ہیں
اس عمارت کو ٹک اک دیکھ کے ڈھایا ہوتا
دل پہ رکھتا ہوں کبھو سر سے کبھو ماروں ہوں
ہاتھ پائوں کو نہ میں تیرے لگایا ہوتا
کم کم اٹھتا وہ نقاب آہ کہ طاقت رہتی
کاش یک بار ہمیں منھ نہ دکھایا ہوتا
میر اظہار محبت میں گیا جی نہ ترا
ہائے نادان بہت تونے چھپایا ہوتا
میر تقی میر

انداز سخن کا سبب شور و فغاں تھا

دیوان دوم غزل 718
یہ میر ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا
انداز سخن کا سبب شور و فغاں تھا
جادو کی پڑی پرچۂ ابیات تھا اس کا
منھ تکیے غزل پڑھتے عجب سحر بیاں تھا
جس راہ سے وہ دل زدہ دلی میں نکلتا
ساتھ اس کے قیامت کا سا ہنگامہ رواں تھا
افسردہ نہ تھا ایسا کہ جوں آب زدہ خاک
آندھی تھی بلا تھا کوئی آشوب جہاں تھا
کس مرتبہ تھی حسرت دیدار مرے ساتھ
جو پھول مری خاک سے نکلا نگراں تھا
مجنوں کو عبث دعوی وحشت ہے مجھی سے
جس دن کہ جنوں مجھ کو ہوا تھا وہ کہاں تھا
غافل تھے ہم احوال دل خستہ سے اپنے
وہ گنج اسی کنج خرابی میں نہاں تھا
کس زور سے فرہاد نے خارا شکنی کی
ہر چند کہ وہ بے کس و بے تاب و تواں تھا
گو میر جہاں میں کنھوں نے تجھ کو نہ جانا
موجود نہ تھا تو تو کہاں نام و نشاں تھا
میر تقی میر

زلفوں کی درہمی سے برہم جہان مارا

دیوان دوم غزل 717
اس کام جان و دل نے عالم کا جان مارا
زلفوں کی درہمی سے برہم جہان مارا
بلبل کا آتشیں دم دل کو لگا ہمارے
ایسا کنھوں نے جیسے چھاتی میں بان مارا
خوں کچھ نہ تھا ہمارا مرکوز خاطر اس کو
للہ اک ہمیں بھی یوں درمیان مارا
سرچشمہ حسن کا وہ آیا نظر نہ مجھ کو
اس راہزن نے غافل کیا کاروان مارا
صبر و حواس و دانش سب عشق کے زبوں ہیں
میں کاوش مژہ سے عالم کو چھان مارا
کیا خون کا مزہ ہے اے عشق تجھ کو ظالم
ایک ایک دم میں تونے سو سو جوان مارا
ہم عاجزوں پر آکر یوں کوہ غم گرا ہے
جیسے زمیں کے اوپر اک آسمان مارا
کب جی بچے ہے یارو خوش رو و مو بتاں سے
گر صبح بچ گیا تو پھر شام آن مارا
کہتے نہ تھے کہ صاحب اتنا کڑھا نہ کریے
اس غم نے میر تم کو جی سے ندان مارا
میر تقی میر

بلبل نے کیا سمجھ کر یاں آشیاں بنایا

دیوان دوم غزل 716
لے رنگ بے ثباتی یہ گلستاں بنایا
بلبل نے کیا سمجھ کر یاں آشیاں بنایا
اڑتی ہے خاک یارب شام و سحر جہاں میں
کس کے غبار دل سے یہ خاکداں بنایا
اک رنگ پر نہ رہنا یاں کا عجب نہیں ہے
کیا کیا نہ رنگ لائے تب یہ جہاں بنایا
آئینے میں کہاں ہے ایسی صفا کہے تو
جبہوں سے راستوں کے وہ آستاں بنایا
سرگشتہ ایسی کس کی ہاتھ آگئی تھی مٹی
جو چرخ زن قضا نے یہ آسماں بنایا
نقش قدم سے اس کے گلشن کی طرح ڈالی
گرد رہ اس کی لے کر سرو رواں بنایا
ہونے پہ جمع اپنے پھولا بہت تھا لیکن
کیا غنچہ تنگ آیا جب وہ دہاں بنایا
اس صحن پر یہ وسعت اللہ رے تیری صنعت
معمار نے قضا کے دل کیا مکاں بنایا
دل ٹک ادھر نہ آیا ایدھر سے کچھ نہ پایا
کہنے کو ترک لے کر اک سوانگ یاں بنایا
دریوزہ کرتے گذری گلیوں میں عمر اپنی
درویش کب ہوئے ہم تکیہ کہاں بنایا
وہ تو مٹا گیا تھا تربت بھی میر جی کی
دو چار اینٹیں رکھ کر پھر میں نشاں بنایا
میر تقی میر

بسان جام لیے دیدئہ پرآب پھرا

دیوان دوم غزل 715
تمام روز جو کل میں پیے شراب پھرا
بسان جام لیے دیدئہ پرآب پھرا
اثر بن آہ کے وہ منھ ادھر نہ ہوتا تھا
ہوا پھری ہے مگر کچھ کہ آفتاب پھرا
نہ لکھے خط کی نمط ہو گئیں سفید آنکھیں
تجھے بھی عشق ہے قاصد بھلا شتاب پھرا
وہ رشک گنج ہی نایاب تھا بہت ورنہ
خرابہ کون سا جس میں نہ میں خراب پھرا
کسو سے حرف محبت کا فائدہ نہ ہوا
بغل میں میں تو لیے یاں بہت کتاب پھرا
لکھا تو دیکھ کہ قاصد پھرا جو مدت میں
جواب خط کا مرے صاف بے جواب پھرا
کہیں ٹھہرنے کی جا یاں نہ دیکھی میں نے میر
چمن میں عالم امکاں کے جیسے آب پھرا
میر تقی میر

تجھ پر کوئی اے کام جاں دیکھا نہ یوں مرتا ہوا

دیوان دوم غزل 714
عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا
تجھ پر کوئی اے کام جاں دیکھا نہ یوں مرتا ہوا
مدت ہوئی الفت گئی برسوں ہوئے طاقت گئی
دل مضطرب ایسا نہ تھا کیا جانیے اب کیا ہوا
کل صبح سیر باغ میں دل اور میرا رک گیا
بلبل نہ بولا منھ سے کچھ گل ٹک نہ مجھ سے وا ہوا
وے دن گئے جو یاں کبھو اٹھتا تھا دل سے جوش سا
اب لگ گئے رونے جہاں پل مارتے دریا ہوا
کتنوں کے دل بے جاں ہوئے کتنے نہ جانا کیا ہوئے
چلنے میں اس کے دو قدم ہنگامہ اک برپا ہوا
مستی میں لغزش ہو گئی معذور رکھا چاہیے
اے اہل مسجد اس طرف آیا ہوں میں بہکا ہوا
جوں حسن ہے اک فتنہ گر توں عشق بھی ہے پردہ در
وہ شہرئہ عالم ہوا میں خلق میں رسوا ہوا
فرہاد و مجنوں ووں گئے ہم اور وامق یوں چلے
اس عارضے سے چاہ کے وہ کون سا اچھا ہوا
یا حرف خط ہے درمیاں یا گیسوئوں کا ہے بیاں
کیا میر صاحب کے تئیں پھر ان دنوں سودا ہوا
میر تقی میر

کام اپنا اس جنوں میں ہم نے بھی یک سو کیا

دیوان دوم غزل 713
پھریے کب تک شہر میں اب سوے صحرا رو کیا
کام اپنا اس جنوں میں ہم نے بھی یک سو کیا
عشق نے کیا کیا تصرف یاں کیے ہیں آج کل
چشم کو پانی کیا سب دل کو سب لوہو کیا
نکہت خوش اس کے پنڈے کی سی آتی ہے مجھے
اس سبب گل کو چمن کے دیر میں نے بو کیا
کام میں قدرت کے کچھ بولا نہیں جاتا ہے ہائے
خوبرو اس کو کیا لیکن بہت بدخو کیا
جانا اس آرام گہ سے ہے بعینہ بس یہی
جیسے سوتے سوتے ایدھر سے ادھر پہلو کیا
عزلتی اسلام کے کیا کیا پھرے ہیں جیب چاک
تونے مائل کیوں ادھر کو گوشۂ ابرو کیا
وہ اتوکش کا مجھی پر کیا ہے سرگرم جفا
مارے تلواروں کے ان نے بہتوں کو اتو کیا
ہاتھ پر رکھ ہاتھ اب وہ دو قدم چلتا نہیں
جن نے بالش خواب کا برسوں مرا بازو کیا
پھول نرگس کا لیے بھیچک کھڑا تھا راہ میں
کس کی چشم پرفسوں نے میر کو جادو کیا
میر تقی میر

دیکھا نہ بدگمان ہمارا بھلا پھرا

دیوان دوم غزل 712
یاں اپنی آنکھیں پھر گئیں پر وہ نہ آ پھرا
دیکھا نہ بدگمان ہمارا بھلا پھرا
آیا نہ پھر وہ آئینہ رو ٹک نظر مجھے
میں منھ پر اپنے خاک ملے جا بہ جا پھرا
کیا اور جی رندھے کسو کا تیرے ہجر میں
سو بار اپنے منھ سے جگر تو گیا پھرا
اللہ رے دلکشی کہیں دیکھا جو گرم ناز
جوں سایہ اس کے ساتھ ملک پھر لگا پھرا
سن لیجو ایک بار مسافر ہی ہو گیا
بیمار عشق گور سے گو بارہا پھرا
کہہ وہ شکستہ پا ہمہ حسرت نہ کیونکے جائے
جو ایک دن نہ تیری گلی میں چلا پھرا
طالع پھرے سپہر پھرا قلب پھر گئے
چندے وہ رشک ماہ جو ہم سے جدا پھرا
پر بے نمک ہے ملنے کی اس وقت میں تلاش
بارے وہ ربط و دوستی سب کا مزہ پھرا
آنسو گرا نہ راز محبت کا پاس کر
میں جیسے ابر برسوں تئیں دل بھرا پھرا
بے صرفہ رونے لگ گئے ہم بھی اگر کبھو
تو دیکھیو کہ بادیہ سارا بہا پھرا
بندہ ہے پھر کہاں کا جو صاحب ہو بے دماغ
اس سے خدائی پھرتی ہے جس سے خدا پھرا
خانہ خراب میر بھی کتنا غیور تھا
مرتے موا پر اس کے کبھو گھر نہ جا پھرا
میر تقی میر

مستی کے ذوق میں ہیں آنکھیں بہت ہی خیرا

دیوان دوم غزل 711
آیا ہے ابر جب کا قبلے سے تیرا تیرا
مستی کے ذوق میں ہیں آنکھیں بہت ہی خیرا
خجلت سے ان لبوں کے پانی ہوبہ چلے ہیں
قند و نبات کا بھی نکلا ہے خوب شیرا
مجنوں نے حوصلے سے دیوانگی نہیں کی
جاگہ سے اپنی جانا اپنا نہیں وتیرا
اس راہزن سے مل کر دل کیونکے کھو نہ بیٹھیں
انداز و ناز اچکّے غمزہ اٹھائی گیرا
کیا کم ہے ہولناکی صحراے عاشقی کی
شیروں کو اس جگہ پر ہوتا ہے قشعریرا
آئینے کو بھی دیکھو پر ٹک ادھر بھی دیکھو
حیران چشم عاشق دمکے ہے جیسے ہیرا
نیت پہ سب بنا ہے یاں مسجد اک بڑی تھی
پیر مغاں موا سو اس کا بنا حظیرا
ہمراہ خوں تلک ہو ٹک پائوں کے چھوئے سے
ایسا گناہ مجھ سے وہ کیا ہوا کبیرا
غیرت سے میر صاحب سب جذب ہو گئے تھے
نکلا نہ بوند لوہو سینہ جو ان کا چیرا
میر تقی میر

دامن گل گریۂ خونیں سے سب افشاں ہوا

دیوان دوم غزل 710
وارد گلشن غزل خواں وہ جو دلبر یاں ہوا
دامن گل گریۂ خونیں سے سب افشاں ہوا
طائران باغ کو تھا بیت بحثی کا دماغ
پر ہر اک درد سخن سے میر کے نالاں ہوا
دل کی آبادی کو پہنچا اپنے گویا چشم زخم
دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر سب ویراں ہوا
سبز بختی پر ہے اس کی طائر سدرہ کو رشک
جو شکار اس تیغ کے سائے تلے بے جاں ہوا
خاک پر بھی دوڑتی ہے چشم مہر و ماہ چرخ
کس دنی الطبع کے گھر جا کے میں مہماں ہوا
تھا جگر میں جب تلک قطرہ ہی تھا خوں کا سرشک
اب جو آنکھوں سے تجاوز کر چلا طوفاں ہوا
اس کے میرے بیچ میں آئینہ آیا تھا ولے
صورت احوال ساری دیکھ کر حیراں ہوا
دل نے خوں ہو عشق خوباں میں بھی کیا بدلے ہیں رنگ
چہروں کو غازہ ہوا ہونٹوں کا رنگ پاں ہوا
تم جو کل اس راہ نکلے برق سے ہنستے گئے
ابر کو دیکھو کہ جب آیا ادھر گریاں ہوا
جی سے جانا بن گیا اس بن ہمیں پل مارتے
کام تو مشکل نظر آتا تھا پر آساں ہوا
جب سے ناموس جنوں گردن بندھا ہے تب سے میر
جیب جاں وابستۂ زنجیر تا داماں ہوا
میر تقی میر

آگ لینے مگر آئے تھے یہ آنا کیا تھا

دیوان دوم غزل 709
گرم مجھ سوختہ کے پاس سے جانا کیا تھا
آگ لینے مگر آئے تھے یہ آنا کیا تھا
برسوں یک بوسۂ لب مانگتے جاتے ہیں ہمیں
رات آتے ہی کہا تم نے جو مانا کیا تھا
دیکھنے آئے دم نزع لیے منھ پہ نقاب
آخری وقت مرے منھ کا چھپانا کیا تھا
جب نہ تب مرنے کو تیار رہے عشق میں ہم
جی کے تیں اپنے کبھو ہم نے نہ جانا کیا تھا
مدعی ہوتے ہیں اک آن میں اب تو دلدار
مہر جب رسم تھی یارب وہ زمانہ کیا تھا
عزت و عشق کہاں جمع ہوئے اے ہمدم
ننگ خواری تھا اگر دل کا لگانا کیا تھا
گر خط سبز سے اس کے نہ تمھیں تھی کچھ لاگ
پھر بھلا میر جی یہ زہر کا کھانا کیا تھا
میر تقی میر

دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آگیا

دیوان دوم غزل 708
ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آگیا
دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آگیا
پھوڑا تھا سر تو ہم نے بھی پر اس کو کیا کریں
جو چشم روزگار میں فرہاد آگیا
اپنا بھی قصد تھا سردیوار باغ کا
توڑا ہی تھا قفس کو پہ صیاد آگیا
جور و ستم اٹھانے ہی اس سے بنیں گے شیخ
مسجد میں گر وہ عاشق بیداد آگیا
دیکھیں گے آدمی کی روش میر ہم تری
گر سامنے سے ٹک وہ پری زاد آگیا
میر تقی میر

پیغمبر کنعاں نے دیکھا نہ کہ کیا دیکھا

دیوان دوم غزل 707
دل عشق میں خوں دیکھا آنکھوں کو گیا دیکھا
پیغمبر کنعاں نے دیکھا نہ کہ کیا دیکھا
مجروح ہے سب سینہ تس پر ہے نمک پاشی
آنکھوں کے لڑانے کا ہم خوب مزہ دیکھا
یک بار بھی آنکھ اپنی اس پر نہ پڑی مرتے
سو مرتبہ بالیں سے ہم سر کو اٹھا دیکھا
کاہش کا مری اب یہ کیا تجھ کو تعجب ہے
بیماری دل والا کوئی بھی بھلا دیکھا
آنکھیں گئیں پھر تجھ بن کیا کیا نہ عزیزوں کی
پر تونے مروت سے ٹک ان کو نہ جا دیکھا
جی دیتے ہیں مرنے پر سب شہر محبت میں
کچھ ساری خدائی سے یہ طور نیا دیکھا
کہہ دل کو گنوایا ہے یا رنج اٹھایا ہے
اے میر تجھے ہم نے کچھ آج خفا دیکھا
میر تقی میر

ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا

دیوان دوم غزل 706
تیغ کی اپنی صفت لکھتے جو کل وہ آگیا
ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا
دست و پا گم کرنے سے میرے کھلے اسرار عشق
دیکھ کر کھویا گیا سا مجھ کو ہر یک پا گیا
داغ محجوبی ہوں اس کا میں کہ میرے روبرو
عکس اپنا آرسی میں دیکھ کر شرما گیا
ہم بشر عاجز ثبات پا ہمارا کس قدر
دیکھ کر اس کو ملک سے بھی نہ یاں ٹھہرا گیا
یار کے بالوں کا بندھنا قہر ہے پگڑی کے ساتھ
ایک عالم دوستاں اس پیچ میں مارا گیا
ہم نہ جانا اختلاط اس طفل بازی کوش کا
گرم بازی آگیا تو ہم کو بھی بہلا گیا
کیا کروں ناچار ہوں مرنے کو اب تیار میں
دل کی روز و شب کی بیتابی سے جی گھبرا گیا
جی کوئی لگتا ہے اس کے اٹھ گئے پر باغ میں
گل نے بہتیرا کہا ہم سے نہ ٹک ٹھہرا گیا
ہو گئے تحلیل سب اعضا مرے پاکر گداز
رفتہ رفتہ ہجر کا اندوہ مجھ کو کھا گیا
یوں تو کہتا تھا کوئی ویسے کو باندھے ہے گلے
پر وہ پھندنا سا جو آیا میر بھی پھندلا گیا
میر تقی میر

اندرونے میں جیسے باغ لگا

دیوان دوم غزل 705
ایک دل کو ہزار داغ لگا
اندرونے میں جیسے باغ لگا
اس سے یوں گل نے رنگ پکڑا ہے
شمع سے جیسے لیں چراغ لگا
خوبی یک پیچہ بند خوباں کی
خوب باندھوں گا گر دماغ لگا
پائوں دامن میں کھینچ لیں گے ہم
ہاتھ گر گوشۂ فراغ لگا
میر اس بے نشاں کو پایا جان
کچھ ہمارا اگر سراغ لگا
میر تقی میر

گل اشتیاق سے میرے گلے کا ہار ہوا

دیوان دوم غزل 704
چمن میں جاکے جو میں گرم وصف یار ہوا
گل اشتیاق سے میرے گلے کا ہار ہوا
تمھارے ترکش مژگاں کی کیا کروں تعریف
جو تیر اس سے چلا سو جگر کے پار ہوا
ہماری خاک پہ اک بیکسی برستی ہے
ادھر سے ابر جب آیا تب اشکبار ہوا
کریں نہ کیونکے یہ ترکاں بلندپروازی
انھوں کا طائر سدرہ نشیں شکار ہوا
کبھو بھی اس کو تہ دل سے ملتے پایا پھر
فریب تھا وہ کوئی دن جو ہم سے یار ہوا
بہت دنوں سے درونے میں اضطراب سا تھا
جگر تمام ہوا خون تب قرار ہوا
شکیب میر جو کرتا تو وقر رہ جاتا
ادھر کو جاکے عبث یہ حبیب خوار ہوا
میر تقی میر

کہ سحر نالہ کش ہے بلبل سا

دیوان دوم غزل 703
یار ہے میر کا مگر گل سا
کہ سحر نالہ کش ہے بلبل سا
یاں کوئی اپنی جان دو دشوار
واں وہی ہے سو ہے تساہل سا
دود دل کو ہمارے ٹک دیکھو
یہ بھی پر پیچ اب ہے کاکل سا
شوق واں اس کے لمبے بالوں کا
یاں چلا جائے ہے تسلسل سا
کب تھی جرأت رقیب کی اتنی
تم نے بھی کچھ کیا تغافل سا
اک نگہ ایک چشمک ایک سخن
اس میں بھی تم کو ہے تامل سا
بارے مستوں نے ہوشیاری کی
دے کے کچھ محتسب کا منھ جھلسا
شرم آتی ہے پہنچتے اودھر
خط ہوا شوق سے ترسل سا
ٹوٹی زنجیر پاے میر مگر
رات سنتے رہے ہیں ہم غل سا
میر تقی میر

اب ضبط کریں کب تک منھ تک تو جگر آیا

دیوان دوم غزل 702
جی رک گئے اے ہمدم دل خون ہو بھر آیا
اب ضبط کریں کب تک منھ تک تو جگر آیا
تھی چشم دم آخر وہ دیکھنے آوے گا
سو آنکھوں میں جی آیا پر وہ نہ نظر آیا
بے سدھ پڑے ہیں سارے سجادوں پہ اسلامی
دارو پیے وہ کافر کاہے کو ادھر آیا
ہر خستہ ترا خواہاں یک زخم دگر کا تھا
کی مشق ستم تونے پر خون نہ کر آیا
گل برگ ہی کچھ تنہا پانی نہیں خجلت سے
جنبش سے ترے لب کی یاقوت بھی تر آیا
بالفعل تو ہے قاصد محو اس خط و گیسو کا
ٹک چیتے تو ہم پوچھیں کیا لے کے خبر آیا
تابوت پہ بھی میرے پتھر پڑے لے جاتے
اس نخل میں ماتم کے کیا خوب ثمر آیا
ہے حق بہ طرف اس کے یوں جس کے گیا ہو تو
سج ایسی تری دیکھی ہم کو بھی خطر آیا
کیا کہیے کہ پتھر سے سر مارتے ہم گذرے
یوں اپنا زمانہ تو بن یار بسر آیا
صنعت گریاں ہم نے کیں سینکڑوں یاں لیکن
جس سے کبھو وہ ملتا ایسا نہ ہنر آیا
در ہی کے تئیں تکتے پتھراگئیں آنکھیں تو
وہ ظالم سنگیں دل کب میر کے گھر آیا
میر تقی میر

زیر لب جب کچھ کہا وہ مر گیا

دیوان دوم غزل 701
تیغ لے کر کیوں تو عاشق پر گیا
زیر لب جب کچھ کہا وہ مر گیا
تڑپے زیر تیغ ہم بے ڈول آہ
دامن پاک اس کا خوں میں بھر گیا
خاک ہے پکڑے اگر سونا بھی پھر
ہاتھ سے جس کے وہ سیمیں بر گیا
کیا بندھا ہے اس کے کوچے میں طلسم
پھر نہ آیا جو کوئی اودھر گیا
خانداں اس بن ہوئے کیا کیا خراب
آج تک وہ شوخ کس کے گھر گیا
ابرو و مژگاں ہی میں کاٹی ہے عمر
کیا سنان و تیغ سے میں ڈر گیا
کہتے ہیں ضائع کیا اپنے تئیں
میر تو دانا تھا یہ کیا کر گیا
میر تقی میر

بالیں کی جاے ہر شب یاں سنگ زیر سر تھا

دیوان دوم غزل 700
ان سختیوں میں کس کا میلان خواب پر تھا
بالیں کی جاے ہر شب یاں سنگ زیر سر تھا
ان ابرو و مژہ سے کب میرے جی میں ڈر تھا
تیغ و سناں کے منھ پر اکثر مرا جگر تھا
ان خوبصورتوں کا کچھ لطف کم ہے مجھ پر
یک عمر ورنہ اس جا پریوں ہی کا گذر تھا
تیشے سے کوہکن کے کیا طرفہ کام نکلا
اپنے تو ناخنوں میں اس طور کا ہنر تھا
عصمت کو اپنی واں تو روتے ملک پھریں ہیں
لغزش ہوئی جو مجھ سے کیا عیب میں بشر تھا
کل ہم وہ دونوں یکجا ناگاہ ہو گئے تھے
وہ جیسے برق خاطف میں جیسے ابرتر تھا
ہوش اڑ گئے سبھوں کے شور سحر سے اس کے
مرغ چمن اگرچہ یک مشت بال و پر تھا
پھر آج یہ کہانی کل شب پہ رہ گئی ہے
سوتا نہ رہتا ٹک تو قصہ ہی مختصر تھا
رشک اس شہید کا ہے خضر و مسیح کو بھی
جو کشتہ اس کی جانب دوگام پیشتر تھا
ہشیاری اس کی دیکھو کیفی ہو مجھ کو مارا
تا سن کے سب کہیں یہ وہ مست و بے خبر تھا
صد رنگ ہے خرابی کچھ تو بھی رہ گیا ہے
کیا نقل کریے یارو دل کوئی گھر سا گھر تھا
تھا وہ بھی اک زمانہ جب نالے آتشیں تھے
چاروں طرف سے جنگل جلتا دہر دہر تھا
جب نالہ کش ہوا وہ تب مجلسیں رلائیں
تھا میر دل شکستہ یا کوئی نوحہ گر تھا
میر تقی میر

ہونٹ پر رنگ پان ہے گویا

دیوان دوم غزل 699
غنچہ ہی وہ دہان ہے گویا
ہونٹ پر رنگ پان ہے گویا
میرے مردے سے بھی وہ چونکے ہے
اب تلک مجھ میں جان ہے گویا
چاہیے جیتے گذرے اس کا نام
منھ میں جب تک زبان ہے گویا
سربسر کیں ہے لیک وہ پرکار
دیکھو تو مہربان ہے گویا
حیرت روے گل سے مرغ چمن
چپ ہے یوں بے زبان ہے گویا
مسجد ایسی بھری بھری کب ہے
میکدہ اک جہان ہے گویا
جائے ہے شور سے فلک کی طرف
نالۂ صبح بان ہے گویا
بسکہ ہیں اس غزل میں شعر بلند
یہ زمین آسمان ہے گویا
وہی شور مزاج شیب میں ہے
میر اب تک جوان ہے گویا
میر تقی میر

اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا

دیوان دوم غزل 698
پھرتا ہے زندگی کے لیے آہ خوار کیا
اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا
کیا جانیں ہم اسیر قفس زاد اے نسیم
گل کیسے باغ کہتے ہیں کس کو بہار کیا
آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید
پھر اور کوئی اس کا کرے انتظار کیا
سیکھی ہے طرح سینہ فگاری کی سب مری
لائے تھے ساتھ چاک دل ایسا انار کیا
سرکش کسو سے ایسی کدورت رکھے وہ شوخ
ہم اس کی خاک راہ ہیں ہم سے غبار کیا
نے وہ نگہ چبھی ہے نہ وے پلکیں گڑ گئیں
کیا جانیے کہ دل کو ہے یہ خار خار کیا
لیتا ہے ابر اب تئیں اس ناحیے سے آب
روئے ہیں ہم بھی برسوں تئیں زار زار کیا
عاشق کے دل سے رکھ نہ تسلی کی چشم داشت
ہے برق پارہ یہ اسے آوے قرار کیا
صحبت رہی بگڑتی ہی اس کینہ ور سے آہ
ہم جانتے نہیں ہیں کہ ہوتا ہے پیار کیا
مارا ہو ایک دو کو تو ہو مدعی کوئی
کشتوں کا اس کے روز جزا میں شمار کیا
مدت سے جرگہ جرگہ سرتیر ہیں غزال
کم ہو گیا ہے یاروں کا ذوق شکار کیا
پاتے ہیں اپنے حال میں مجبور سب کو ہم
کہنے کو اختیار ہے پر اختیار کیا
آخر زمانہ سازی سے کھویا نہ وقر میر
یہ اختیار تم نے کیا روزگار کیا
میر تقی میر

سن گلہ بلبل سے گل کا اور بھی جی رک گیا

دیوان دوم غزل 697
دل کی واشد کے لیے کل باغ میں میں ٹک گیا
سن گلہ بلبل سے گل کا اور بھی جی رک گیا
عشق کی سوزش نے دل میں کچھ نہ چھوڑا کیا کہیں
لگ اٹھی یہ آگ ناگاہی کہ گھر سب پھک گیا
ہم نہ کہتے تھے کہ غافل خاک ہو پیش از فنا
دیکھ اب پیری میں قد تیرا کدھر کو جھک گیا
خدمت معقول ہی سب مغبچے کرتے رہے
شیخ آیا میکدے کی اور جب تب ٹھک گیا
میر اس قاضی کے لونڈے کے لیے آخر موا
سب کو قضیہ اس کے جینے کا تھا بارے چک گیا
میر تقی میر

دیکھی کہاں وہ زلف کہ سودا سا ہو گیا

دیوان دوم غزل 696
دل دفعتہ جنوں کا مہیا سا ہو گیا
دیکھی کہاں وہ زلف کہ سودا سا ہو گیا
ٹک جوش سا اٹھا تھا مرے دل سے رات کو
دیکھا تو ایک پل ہی میں دریا سا ہو گیا
بے رونقی باغ ہے جنگل سے بھی پرے
گل سوکھ تیرے ہجر میں کانٹا سا ہو گیا
جلوہ ترا تھا جب تئیں باغ و بہار تھا
اب دل کو دیکھتے ہیں تو صحرا سا ہو گیا
کل تک تو ہم وے ہنستے چلے آئے تھے یوں ہی
مرنا بھی میر جی کا تماشا سا ہو گیا
میر تقی میر

رونا مرا سنوگے کہ طوفان کر رہا

دیوان دوم غزل 695
جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا
رونا مرا سنوگے کہ طوفان کر رہا
شب میکدے سے وارد مسجد ہوا تھا میں
پر شکر ہے کہ صبح تئیں بے خبر رہا
مل جس سے ایک بار نہ پھر تو ہوا دوچار
رک رک کے وہ ستم زدہ ناچار مر رہا
تسکین دل ہو تب کہ کبھو آگیا بھی ہو
برسوں سے اس کا آنا یہی صبح پر رہا
اس زلف و رخ کو بھولے مجھے مدتیں ہوئیں
لیکن مرا نہ گریۂ شام و سحر رہا
رہتے تو تھے مکاں پہ ولے آپ میں نہ تھے
اس بن ہمیں ہمیشہ وطن میں سفر رہا
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ پوچھے ہے بار بار
کچھ وجہ بھی کہ آپ کا منھ ہے اتر رہا
اک دم میں یہ عجب کہ مرے سر پہ پھر گیا
جو آب تیغ برسوں تری تا کمر رہا
کاہے کو میں نے میر کو چھیڑا کہ ان نے آج
یہ درد دل کہا کہ مجھے درد سر رہا
میر تقی میر

ٹک نظر ایدھر نہیں کہہ اس سے ہے منظور کیا

دیوان دوم غزل 694
اس قدر آنکھیں چھپاتا ہے تو اے مغرور کیا
ٹک نظر ایدھر نہیں کہہ اس سے ہے منظور کیا
وصل و ہجراں سے نہیں ہے عشق میں کچھ گفتگو
لاگ دل کی چاہیے ہے یاں قریب و دور کیا
ہو خرابی اور آبادی کی عاقل کو تمیز
ہم دوانے ہیں ہمیں ویران کیا معمور کیا
اٹھ نہیں سکتا ترے در سے شکایت کیا مری
حال میں اپنے ہوں عاجز میں مجھے مقدور کیا
سب ہیں یکساں جب فنا یک بارگی طاری ہوئی
ٹھیکرا اس مرتبے میں کیا سر فغفور کیا
لطف کے حرف و سخن پہلے جو تھے بہر فریب
مدتیں جاتی ہیں ان باتوں کا اب مذکور کیا
دیکھ بہتی آنکھ میری ہنس کے بولا کل وہ شوخ
بہ نہیں اب تک ہوا منھ کا ترے ناسور کیا
میں تو دیکھوں ہوں تمھارے منھ کو تم نے دل لیا
تم مجھے رہتے ہو اکثر مجلسوں میں گھور کیا
ابر سا روتا جو میں نکلا تو بولا طنز سے
آرسی جا دیکھ گھر برسے ہے منھ پر نور کیا
سنگ بالیں میر کا جو باٹ کا روڑا ہوا
سخت کر جی کو گیا اس جا سے وہ رنجور کیا
میر تقی میر

گل لگے کہنے کہو منھ نہ ادھر ہم نے کیا

دیوان دوم غزل 693
کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا
گل لگے کہنے کہو منھ نہ ادھر ہم نے کیا
کر گئی خواب سے بیدار تمھیں صبح کی بائو
بے دماغ اتنے جو ہو ہم پہ مگر ہم نے کیا
سیدھے تلوار کے منھ پر تری ہم آئے چلے
کیا کریں اس دل خستہ کو سپر ہم نے کیا
نیمچہ ہاتھ میں مستی سے لہو سی آنکھیں
سج تری دیکھ کے اے شوخ حذر ہم نے کیا
پائوں کے نیچے کی مٹی بھی نہ ہو گی ہم سی
کیا کہیں عمر کو اس طرح بسر ہم نے کیا
کھا گیا ناخن سر تیز جگر دل دونوں
رات کی سینہ خراشی میں ہنر ہم نے کیا
کام ان ہونٹوں سے وہ لے جو کوئی ہم سا ہو
دیکھتے دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر ہم نے کیا
جیسے حسرت لیے جاتا ہے جہاں سے کوئی
آہ یوں کوچۂ دلبر سے سفر ہم نے کیا
بارے کل ٹھہر گئے ظالم خونخوار سے ہم
منصفی کیجے تو کچھ کم نہ جگر ہم نے کیا
اس رخ و زلف کی تسبیح ہے یاں اکثر میر
ورد اپنا یہی اب شام و سحر ہم نے کیا
میر تقی میر

دیکھا پھر اس کو خاک میں ہم نے ملا ہوا

دیوان دوم غزل 692
اس کام جان و دل سے جو کوئی جدا ہوا
دیکھا پھر اس کو خاک میں ہم نے ملا ہوا
کر ترک گرچہ بیٹھے ہیں پر ہے وہی تلاش
رہتا نہیں ہے ہاتھ ہمارا اٹھا ہوا
کھینچا بغل میں میں جو اسے مست پا کے رات
کہنے لگا کہ آپ کو بھی اب نشہ ہوا
نے صبر ہے نہ ہوش ہے نے عقل ہے نہ دین
آتا ہے اس کے پاس سے عاشق لٹا ہوا
اٹھتا ہے میرے دل سے کبھو جوش سا تو پھر
جاتا ہے دونوں آنکھوں سے دریا بہا ہوا
جوں صید نیم کشتہ تڑپتا ہے ایک سا
کیا جانیے کہ دل کو مرے کیا بلا ہوا
خط آئے پر جو گرم وہ پرکار مل چلا
میں سادگی سے جانا کہ اب آشنا ہوا
ہم تو لگے کنارے ہوئے غیر ہم کنار
ایکوں کی عید ایکوں کے گھر میں دہا ہوا
جوں برق مجھ کو ہنستے نہ دیکھا کسو نے آہ
پایا تو ابر سا کہیں روتا کھڑا ہوا
جس شعر پر سماع تھا کل خانقاہ میں
وہ آج میں سنا تو ہے میرا کہا ہوا
پایا مجھے رقیب نے آ اس کی زیر تیغ
دل خواہ بارے مدعی کا مدعا ہوا
بیمار مرگ سا تو نہیں روز اب بتر
دیکھا تھا ہم نے میر کو کچھ تو بھلا ہوا
میر تقی میر

کیا جانیے کہ میر زمانے کو کیا ہوا

دیوان دوم غزل 691
ایک آن اس زمانے میں یہ دل نہ وا ہوا
کیا جانیے کہ میر زمانے کو کیا ہوا
دکھلاتے کیا ہو دست حنائی کا مجھ کو رنگ
ہاتھوں سے میں تمھارے بہت ہوں جلا ہوا
سوزش وہی تھی چھاتی میں مرنے تلک مرے
اچھا ہوا نہ داغ جگر کا لگا ہوا
سر ہی چڑھا رہے ہے ہر اک بادہ خوار کے
ہے شیخ شہر یا کوئی ہے جن پڑھا ہوا
ظاہر کو گو درست رکھا مر کے میں ولے
دل کا لگائو کوئی رہا ہے چھپا ہوا
ازخویش رفتہ میں ہی نہیں اس کی راہ میں
آتا نہیں ہے پھر کے ادھر کا گیا ہوا
یوں پھر اٹھا نہ جائے گا اے ابر دشت سے
گر کوئی رونے بیٹھ گیا دل بھرا ہوا
لے کر جواب خط کا نہ قاصد پھرا کبھو
کیا جانے سرنوشت میں کیا ہے لکھا ہوا
گو پیس مارے مہندی کے رنگوں فلک ولے
چھوٹے نہ اس سے اس کا لگا یا بندھا ہوا
اٹھتے تعب فراق کے جی سے کہاں تلک
دل جو بجا رہا نہ ہمارا بجا ہوا
دامن سے منھ چھپائے جنوں کب رہا چھپا
سو جا سے سامنے ہے گریباں پھٹا ہوا
دیکھا نہ ایک گل کو بھی چشمک زنی میں ہائے
جب کچھ رہا نہ باغ میں تب میں رہا ہوا
کیا جانیے ملاپ کسے کہتے ہیں یہ لوگ
برسوں ہوئے کہ ہم سے تو وہ ہے لڑا ہوا
بحر بلا سے کوئی نکلتا مرا جہاز
بارے خداے عزَّوجل ناخدا ہوا
اس بحر میں اک اور غزل تو بھی میر کہہ
دریا تھا تو تو تیری روانی کو کیا ہوا
میر تقی میر

کوئی خاک سے ہو یکساں وہی ان کو ناز کرنا

دیوان دوم غزل 690
یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا
کوئی خاک سے ہو یکساں وہی ان کو ناز کرنا
کوئی عاشقوں بتاں کی کرے نقل کیا معیشت
انھیں ناز کرتے رہنا انھیں جی نیاز کرنا
رہیں بند میری آنکھیں شب و روز ضعف ہی میں
نہ ہوا مجھے میسر کبھو چشم باز کرنا
یہ بھی طرفہ ماجرا ہے کہ اسی کو چاہتا ہوں
مجھے چاہیے ہے جس سے بہت احتراز کرنا
نہیں کچھ رہا تو لڑکا تجھے پر ضرور ہے اب
ہوس اور عاشقی میں ٹک اک امتیاز کرنا
کوئی عاشقوں کی پھپٹ کنھوں نے اٹھائی بھی ہے
انھیں بات ہو جو تھوڑی اسے بھی دراز کرنا
یہی میر کھینچے قشقہ در دیر پر تھے ساجد
نہیں اعتماد قابل انھوں کا نماز کرنا
میر تقی میر

برسوں ملے پر ہم سے صرفہ ہی سخن کا تھا

دیوان دوم غزل 689
کب لطف زبانی کچھ اس غنچہ دہن کا تھا
برسوں ملے پر ہم سے صرفہ ہی سخن کا تھا
اسباب مہیا تھے سب مرنے ہی کے لیکن
اب تک نہ موئے ہم جو اندیشہ کفن کا تھا
بلبل کو موا پایا کل پھولوں کی دوکاں پر
اس مرغ کے بھی جی میں کیا شوق چمن کا تھا
بے ڈول قدم تیرا پڑتا تھا لڑکپن میں
رونا ہمیں اول ہی اس تیرے چلن کا تھا
مرغان قفس سارے تسبیح میں تھے گل کی
ہر چند کہ ہر اک کا ڈھلکا ہوا منکا تھا
سب سطح ہے پانی کا آئینے کا سا تختہ
دریا میں کہیں شاید عکس اس کے بدن کا تھا
خوگر نہیں ہم یوں ہی کچھ ریختہ کہنے سے
معشوق جو اپنا تھا باشندہ دکن کا تھا
بھوئوں تئیں تم جس دن سج نکلے تھے اک پیچہ
اس دن ہی تمھیں دیکھے ماتھا مرا ٹھنکا تھا
رہ میر غریبانہ جاتا تھا چلا روتا
ہر گام گلہ لب پر یاران وطن کا تھا
میر تقی میر

آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا

دیوان دوم غزل 688
اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا
آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا
برقع اٹھاکے دیکھے ہے منھ سے کبھو ادھر
بارے ہوا ہے ان دنوں رفع حجاب سا
وہ دل کہ تیرے ہوتے رہے تھا بھرا بھرا
اب اس کو دیکھیے تو ہے اک گھر خراب سا
دس روز آگے دیکھا تھا جیسا سو اب نہیں
دل رہ گیا ہے سینے میں جل کر کباب سا
اس عمر میں یہ ہوش کہ کہنے کو نرم گرم
بگڑا رہے ہے ساختہ مست شراب سا
ہے یہ فریب شوق کہ جاتے ہیں خط چلے
واں سے وگرنہ کب کا ہوا ہے جواب سا
کیا سطر موج اشک روانی کے ساتھ ہے
مشتاق گریہ ابر ہے چشم پر آب سا
دوزخ ہوا ہے ہجر میں اس کے جہاں ہمیں
سوز دروں سے جان پہ ہے اک عذاب سا
مدت ہوئی کہ دل سے قرار و سکوں گئے
رہتا ہے اب تو آٹھ پہر اضطراب سا
مواج آب سا ہے ولیکن اڑے ہے خاک
ہے میر بحربے تہ ہستی سراب سا
میر تقی میر

اس دل نے کس بلا میں ہمیں مبتلا کیا

دیوان دوم غزل 687
وہ شوخ ہم کو پائوں تلے ہے ملا کیا
اس دل نے کس بلا میں ہمیں مبتلا کیا
چھاتی کبھو نہ ٹھنڈی کی لگ کر گلے سے آہ
دل اس سے دور سینے میں اکثر جلا کیا
کس وقت شرح حال سے فرصت ہمیں ہوئی
کس دن نیا نہ قاصد ادھر سے چلا کیا
ہم تو گمان دوستی رکھتے تھے پر یہ دل
دشمن عجب طرح کا بغل میں پلا کیا
کیا لطف ہے جیے جو برے حال کوئی میر
جینے سے تونے ہاتھ اٹھایا بھلا کیا
میر تقی میر

یعنی کہ فرط شوق سے جی بھی ادھر چلا

دیوان دوم غزل 686
میں غش کیا جو خط لے ادھر نامہ بر چلا
یعنی کہ فرط شوق سے جی بھی ادھر چلا
سدھ لے گئی تری بھی کوئی زلف مشک بو
گیسوے پیچدار جو منھ پربکھر چلا
لڑکا ہی تھا نہ قاتل ناکردہ خوں ہنوز
کپڑے گلے کے سارے مرے خوں میں بھر چلا
اے مایۂ حیات گیا جس کنے سے تو
آفت رسیدہ پھر وہ کوئی دم میں مر چلا
تیاری آج رات کہیں رہنے کی سی ہے
کس خانماں خراب کے اے مہ تو گھر چلا
دیکھوگے کوئی گوشہ نشیں ہو چکا غریب
تیرمژہ اس ابرو کماں کا اگر چلا
بے مے رہا بہار میں ساری ہزار حیف
لطف ہوا سے شیخ بہت بے خبر چلا
ہم سے تکلف اس کا چلا جائے ہے وہی
کل راہ میں ملا تھا سو منھ ڈھانپ کر چلا
یہ چھیڑ دیکھ ہنس کے رخ زرد پر مرے
کہتا ہے میر رنگ تو اب کچھ نکھر چلا
میر تقی میر

قدم دو ساتھ میری نعش کے جاتا تو کیا ہوتا

دیوان دوم غزل 685
گیا میں جان سے وہ بھی جو ٹک آتا تو کیا ہوتا
قدم دو ساتھ میری نعش کے جاتا تو کیا ہوتا
پھرا تھا دور اس سے مدتوں میں کوہ و صحرا میں
بلاکر پاس اپنے مجھ کو بٹھلاتا تو کیا ہوتا
ہوئے آخر کو سارے کام ضائع ناشکیبی سے
کوئی دن اور تاب ہجر دل لاتا تو کیا ہوتا
دم بسمل ہمارے زیر لب کچھ کچھ کہا سب نے
جو وہ بے رحم بھی کچھ منھ سے فرماتا تو کیا ہوتا
کہے سے غیر کے وہ توڑ بیٹھا ووہیں یاروں سے
کیے جاتا اگر ٹک چاہ کا ناتا تو کیا ہوتا
کبھو سرگرم بازی ہمدموں سے یاں بھی آجاتا
ہمیں یک چند اگر وہ اور بہلاتا تو کیا ہوتا
گئے لے میر کو کل قتل کرنے اس کے در پر سے
جو وہ بھی گھر سے باہر اپنے ٹک آتا تو کیا ہوتا
میر تقی میر

کہ میں شکار زبوں ہوں جگر نہیں رکھتا

دیوان دوم غزل 684
وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا
کہ میں شکار زبوں ہوں جگر نہیں رکھتا
بلا سے آنکھ جو پڑتی ہے اس کی دس جاگہ
ہمارا حال تو مدنظر نہیں رکھتا
رہے نہ کیونکے یہ دل باختہ سدا تنہا
کہ کوئی آوے کہاں میں تو گھر نہیں رکھتا
جنھوں کے دم میں ہے تاثیر اور وے ہیں لوگ
ہمارا نالۂ جانکاہ اثر نہیں رکھتا
کہیں ہیں اب کے بہت رنگ اڑ چلا گل کا
ہزار حیف کہ میں بال و پر نہیں رکھتا
تو کوئی زور ہی نسخہ ہے اے مفرح دل
کہ طبع عشق میں ہرگز ضرر نہیں رکھتا
خدا کی اور سے ہے سب یہ اعتبار ارنہ
جو خوب دیکھو تو میں کچھ ہنر نہیں رکھتا
غلط ہے دعوی عشق اس فضول کا بے ریب
جو کوئی خشک لب اور چشم تر نہیں رکھتا
جدا جدا پھرے ہے میر سب سے کس خاطر
خیال ملنے کا اس کے اگر نہیں رکھتا
میر تقی میر

بھروسا کیا ہے عمربے وفا کا

دیوان دوم غزل 683
نظر میں طور رکھ اس کم نما کا
بھروسا کیا ہے عمربے وفا کا
گلوں کے پیرہن ہیں چاک سارے
کھلا تھا کیا کہیں بند اس قبا کا
پرستش اب اسی بت کی ہے ہر سو
رہا ہو گا کوئی بندہ خدا کا
بلا ہیں قادرانداز اس کی آنکھیں
کیا یکہ جنازہ جس کو تاکا
بجا ہے عمر سے اب ایک حسرت
گیا وہ شور سر کا زور پا کا
مداوا خاطروں سے تھا وگرنہ
بدایت مرتبہ تھا انتہا کا
لگا تھا روگ جب سے یہ تبھی سے
اثر معلوم تھا ہم کو دوا کا
مروت چشم رکھنا سادگی ہے
نہیں شیوہ یہ اپنے آشنا کا
کہیں اس زلف سے کیا لگ چلی ہے
پڑے ہے پائوں بے ڈھب کچھ صبا کا
نہ جا تو دور صوفی خانقہ سے
ہمیں تو پاس ہے ابر و ہوا کا
نہ جانوں میر کیوں ایسا ہے چپکا
نمونہ ہے یہ آشوب و بلا کا
کرو دن ہی سے رخصت ورنہ شب کو
نہ سونے دے گا شور اس بے نوا کا
میر تقی میر

شور سا ہے تو ولیکن دور کا

دیوان دوم غزل 682
غم ابھی کیا محشر مشہور کا
شور سا ہے تو ولیکن دور کا
حق تو سب کچھ ہی ہے تو ناحق نہ بول
بات کہتے سر کٹا منصور کا
بیچ سے کب کا گیا اب ذکر کیا
اس دل مرحوم کا مغفور کا
طرفہ آتش خیز سنگستاں ہے دل
مقتبس یاں سے ہے شعلہ طور کا
مر گئے پر خاک ہے سب کبر و ناز
مت جھکو سر گو کسو مغرور کا
ٹھیکری کو قدر ہے اس کو نہیں
ٹوٹے جب کاسہ سر فغفور کا
ہو کھڑا وہ تو پری سی ہے کھڑی
منھ کھلے تو جیسے چہرہ حور کا
دیکھ اسے کیونکر ملک بھیچک نہ ہوں
آنکھ کے آگے یہ بکّا نور کا
چشم بہنے سے کبھو رہتی نہیں
کچھ علاج اے میر اس ناسور کا
میر تقی میر

خانہ خراب ہوجیو آئینہ ساز کا

دیوان دوم غزل 681
دیکھ آرسی کو یار ہوا محو ناز کا
خانہ خراب ہوجیو آئینہ ساز کا
ہوتا ہے کون دست بسر واں غرور سے
گالی ہے اب جواب سلام نیاز کا
ہم تو سمند ناز کے پامال ہوچکے
اس کو وہی ہے شوق ابھی ترک تاز کا
ہے کیمیاگران محبت میں قدر خاک
پر وقر کچھ نہیں ہے دل بے گداز کا
اس لطف سے نہ غنچۂ نرگس کھلا کبھو
کھلنا تو دیکھ اس مژئہ نیم باز کا
کوتاہ تھا فسانہ جو مرجاتے ہم شتاب
جی پر وبال سب ہے یہ عمر دراز کا
مارا نہ اپنے ہاتھ سے مجھ کو ہزار حیف
کشتہ ہوں یار میں تو ترے امتیاز کا
ہلتی ہے یوں پلک کہ گڑی دل میں جائے ہے
انداز دیدنی ہے مرے دل نواز کا
پھر میر آج مسجد جامع کے تھے امام
داغ شراب دھوتے تھے کل جانماز کا
میر تقی میر

چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا

دیوان دوم غزل 680
دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا
چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا
شاید جگر گداختہ یک لخت ہو گیا
کچھ آب دیدہ رات سے خوناب سا ہوا
وے دن گئے کہ اشک سے چھڑکائو سا کیا
اب رونے لگ گئے ہیں تو تالاب سا ہوا
اک دن کیا تھا یار نے قد ناز سے بلند
خجلت سے سرو جوے چمن آب سا ہوا
کیا اور کوئی روئے کہ اب جوش اشک سے
حلقہ ہماری چشم کا گرداب سا ہوا
قصہ تو مختصر تھا ولے طول کو کھنچا
ایجاز دل کے شوق سے اطناب سا ہوا
عمامہ ہے موذن مسجد کہ بارخر
قد تو ترا خمیدہ ہو محراب سا ہوا
بات اب تو سن کہ جاے سخن حسن میں ہوئی
خط پشت لب کا سبزئہ سیراب سا ہوا
چل باغ میں بھی سوتے سے اٹھ کر کبھو کہ گل
تک تک کے راہ دیدئہ بے خواب سا ہوا
سمجھے تھے ہم تو میر کو عاشق اسی گھڑی
جب سن کے تیرا نام وہ بیتاب سا ہوا
میر تقی میر

مجلس میں سن سپند یکایک اچھل پڑا

دیوان دوم غزل 679
مذکور میری سوختگی کا جو چل پڑا
مجلس میں سن سپند یکایک اچھل پڑا
پہنچے ہے کوئی اس تن نازک کے لطف کو
گل گو چمن میں جامے سے اپنے نکل پڑا
میں جو کہا اک آگ سی سلگے ہے دل کے بیچ
کہنے لگا کہ یوں ہی کوئی دن تو جل پڑا
بل کیوں نہ کھائیے کہ لگا رہنے اب تو واں
بالوں میں اور پیچ میں پگڑی کے بل پڑا
تھے اختلال اگرچہ مزاجوں میں کب سے لیک
ہلنے میں اس پلک کے نہایت خلل پڑا
رہتا نہیں ہے آنکھ سے آنسو ترے لیے
دیکھی جو اچھی شے تو یہ لڑکا مچل پڑا
سر اس کے پائوں سے نہیں اٹھتے ستم ہے میر
گر خوش غلاف نیمچہ اس کا اگل پڑا
میر تقی میر

برسوں سے صوفیوں کا مصلیٰ تو تہ ہوا

دیوان دوم غزل 678
کیفی ہو کیوں تو ناز سے پھر گرم رہ ہوا
برسوں سے صوفیوں کا مصلیٰ تو تہ ہوا
معلوم تیرے چہرئہ پرنور کا سا لطف
بالفرض آسماں پہ گیا پھول مہ ہوا
پوچھ اس سے درد ہجر کو جس کا بہ نازکی
جاگہ سے اپنے عضو کوئی بے جگہ ہوا
ہم پلہ اپنا کون ہے اس معرکے کے بیچ
کس کے ترازو یار کا تیر نگہ ہوا
ایسا فقیر ہونا بھلا کیا ضرور تھا
دونوں جہاں میں میر عبث رو سیہ ہوا
میر تقی میر

چاہ یوسفؑ تھا ذقن سو چاہ رستم ہو گیا

دیوان دوم غزل 677
خط سے وہ زور صفاے حسن اب کم ہو گیا
چاہ یوسفؑ تھا ذقن سو چاہ رستم ہو گیا
سینہ کوبی سنگ سے دل خون ہونے میں رہی
حق بجانب تھا ہمارے سخت ماتم ہو گیا
ایک سا عالم نہیں رہتا ہے اس عالم کے بیچ
اب جہاں کوئی نہیں یاں ایک عالم ہو گیا
آنکھ کے لڑتے تری آشوب سا برپا ہوا
زلف کے درہم ہوئے اک جمع برہم ہو گیا
اس لب جاں بخش کی حسرت نے مارا جان سے
آب حیواں یمن طالع سے مرے سم ہو گیا
وقت تب تک تھا تو سجدہ مسجدوں میں کفر تھا
فائدہ اب جب کہ قد محراب سا خم ہو گیا
عشق ان شہری غزالوں کا جنوں کو اب کھنچا
وحشت دل بڑھ گئی آرام جاں رم ہو گیا
جی کھنچے جاتے ہیں فرط شوق سے آنکھوں کی اور
جن نے دیکھا ایک دم اس کو سو بے دم ہو گیا
ہم نے جو کچھ اس سے دیکھا سو خلاف چشم داشت
اپنا عزرائیل وہ جان مجسم ہو گیا
کیا کہوں کیا طرحیں بدلیں چاہ نے آخر کو میر
تھا گرہ جو درد چھاتی میں سو اب غم ہو گیا
میر تقی میر

کچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا

دیوان دوم غزل 676
رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا
کچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا
غافل نہ سوز عشق سے رہ پھر کباب ہے
گر لائحہ اس آگ کا ٹک دل کو جا لگا
دیکھا ہمیں جہاں وہ تہاں آگ ہو گیا
بھڑکا رکھا ہے لوگوں نے اس کو لگا لگا
مہلت تنک بھی ہو تو سخن کچھ اثر کرے
میں اٹھ گیا کہ غیر ترے کانوں آ لگا
اب آب چشم ہی ہے ہمارا محیط خلق
دریا کو ہم نے کب کا کنارے رکھا لگا
ہر چند اس کی تیغ ستم تھی بلند لیک
وہ طور بد ہمیں تو قیامت بھلا لگا
مجلس میں اس کی بار نہ مجھ کو ملی کبھو
دروازے ہی سے گرچہ بہت میں رہا لگا
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی منھ بگڑ گیا
کیا اتنی میری بات کا تم کو برا لگا
عالم کی سیر میر کی صحبت میں ہو گئی
طالع سے میرے ہاتھ یہ بے دست و پا لگا
میر تقی میر

شاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا

دیوان دوم غزل 675
کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا
شاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا
ہے ابر کی چادر شفقی جوش سے گل کے
میخانے کے ہاں دیکھیے یہ رنگ ہوا کا
بہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہے
کیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا
مرجائے گا باتوں میں کوئی غمزدہ یوں ہی
ہر لحظہ نہ ہو ممتحن ارباب وفا کا
تدبیر تھی تسکیں کے لیے لوگوں کی ورنہ
معلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا
ہاتھ آئینہ رویوں سے اٹھا بیٹھیں نہ کیونکر
بالعکس اثر پاتے تھے ہم اپنی دعا کا
آنکھ اس کی نہیں آئینے کے سامنے ہوتی
حیرت زدہ ہوں یار کی میں شرم و حیا کا
برسوں سے تو یوں ہے کہ گھٹا جب امنڈ آئی
تب دیدئہ تر سے بھی ہوا ایک جھڑاکا
آنکھ اس سے نہیں اٹھنے کی صاحب نظروں کی
جس خاک پہ ہو گا اثر اس کی کف پا کا
تلوار کے سائے ہی میں کاٹے ہے تو اے میر
کس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا
میر تقی میر

رہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہا

دیوان دوم غزل 674
ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا
رہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہا
کب اس کا نام لیے غش نہ آگیا مجھ کو
دل ستم زدہ کس وقت اس میں جا نہ رہا
ملانا آنکھ کا ہر دم فریب تھا دیکھا
پھر ایک دم میں وہ بے دید آشنا نہ رہا
موئے تو ہم پہ دل پُر کو خوب خالی کر
ہزار شکر کسو سے ہمیں گلہ نہ رہا
ادھر کھلی مری چھاتی ادھر نمک چھڑکا
جراحت اس کو دکھانے کا اب مزہ نہ رہا
ہوا ہوں تنگ بہت کوئی دن میں سن لیجو
کہ جی سے ہاتھ اٹھاکر وہ اٹھ گیا نہ رہا
ستم کا اس کے بہت میں نزار ہوں ممنون
جگر تمام ہوا خون و دل بجا نہ رہا
اگرچہ رہ گئے تھے استخوان و پوست ولے
لگائی ایسی کہ تسمہ بھی پھر لگا نہ رہا
حمیت اس کے تئیں کہتے ہیں جو میر میں تھی
گیا جہاں سے پہ تیری گلی میں آ نہ رہا
میر تقی میر

جیتا رہا ہے کوئی بھی بیمار عشق کا

دیوان دوم غزل 673
بہتوں کو آگے تھا یہی آزار عشق کا
جیتا رہا ہے کوئی بھی بیمار عشق کا
بے پردگی بھی چاہ کا ہوتا ہے لازمہ
کھلتا ہی ہے ندان یہ اسرار عشق کا
زندانی سینکڑوں مرے آگے رہا ہوئے
چھوٹا نہ میں ہی تھا جو گنہگار عشق کا
خواہان مرگ میں ہی ہوا ہوں مگر نیا
جی بیچے ہی پھرے ہے خریدار عشق کا
منصور نے جو سر کو کٹایا تو کیا ہوا
ہر سر کہیں ہوا ہے سزاوار عشق کا
جاتا وہی سنا ہمہ حسرت جہان سے
ہوتا ہے جس کسو سے بہت پیار عشق کا
پھر بعد میرے آج تلک سر نہیں بکا
اک عمر سے کساد ہے بازار عشق کا
لگ جاوے دل کہیں تو اسے جی میں اپنے رکھ
رکھتا نہیں شگون کچھ اظہار عشق کا
چھوٹا جو مر کے قید عبارات میں پھنسا
القصہ کیا رہا ہو گرفتار عشق کا
مشکل ہے عمر کاٹنی تلوار کے تلے
سر میں خیال گوکہ رکھیں یار عشق کا
واں رستموں کے دعوے کو دیکھا ہے ہوتے قطع
پورا جہاں لگا ہے کوئی وار عشق کا
کھوئے رہا نہ جان کو ناآزمودہ کار
ہوتا نہ میر کاش طلبگار عشق کا
میر تقی میر

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

دیوان دوم غزل 672
جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا
آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا
اس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیم
کیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا
اب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پر
گو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا
جانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کی
دل ریزئہ خزف کی طرح میں اٹھا دیا
تقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کی
جب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا
گرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میں
اب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا
وہ آگ ہورہا ہے خدا جانے غیر نے
میری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا
اتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاش
سو تونے مار مار کے آکر بچھا دیا
اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی
ٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا
تنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑی
کڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا
کی چشم تونے باز کہ کھولا درستم
کس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا
کیا کیا زیان میر نے کھینچے ہیں عشق میں
دل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا
میر تقی میر

پہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا

دیوان دوم غزل 671
رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا
پہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا
ہم دل زدہ نہ رکھتے تھے تم سے یہ چشم داشت
کرتے ہو قہر لطف کی جاگہ غضب ہے کیا
عزت بھی بعد ذلت بسیار چھیڑ ہے
مجلس میں جب خفیف کیا پھر ادب ہے کیا
آئے ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئے
اس راہ صعب عشق میں یارو تعب ہے کیا
حیراں ہیں اس دہن کے عزیزان خوردہ بیں
یہ بھی مقام ہائے تامل طلب ہے کیا
آنکھیں جو ہوویں تیری تو تو عین کر رکھے
عالم تمام گر وہ نہیں تو یہ سب ہے کیا
اس آفتاب بن نہیں کچھ سوجھتا ہمیں
گر یہ ہی اپنے دن ہیں تو تاریک شب ہے کیا
تم نے ہمیشہ جور و ستم بے سبب کیے
اپنا ہی ظرف تھا جو نہ پوچھا سبب ہے کیا
کیونکر تمھاری بات کرے کوئی اعتبار
ظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا
اس مہ بغیر میر کا مرنا عجب ہوا
ہر چند مرگ عاشق مسکیں عجب ہے کیا
میر تقی میر

شکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا

دیوان دوم غزل 670
تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا
شکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا
قاصد کو دے کے خط نہیں کچھ بھیجنا ضرور
جاتا ہے اب تو جی ہی ہمارا چلا ہوا
وہ تو نہیں کہ اشک تھمے ہی نہ آنکھ سے
نکلے ہے کوئی لخت دل اب سو جلا ہوا
حیران رنگ باغ جہاں تھا بہت رکا
تصویر کی کلی کی طرح دل نہ وا ہوا
عالم کی بے فضائی سے تنگ آگئے تھے ہم
جاگہ سے دل گیا جو ہمارا بجا ہوا
درپے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیے
انجام کار مدعی کا مدعا ہوا
اس کے گئے پہ دل کی خرابی نہ پوچھیے
جیسے کسو کا کوئی نگر ہو لٹا ہوا
بدتر ہے زیست مرگ سے ہجران یار میں
بیمار دل بھلا نہ ہوا تو بھلا ہوا
کہتا تھا میر حال تو جب تک تو تھا بھلا
کچھ ضبط کرتے کرتے ترا حال کیا ہوا
میر تقی میر

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

دیوان دوم غزل 669
دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم تر سا
رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا
شاید کباب کر کر کھایا کبوتر ان نے
نامہ اڑا پھرے ہے اس کی گلی میں پر سا
وحشی مزاج ازبس مانوس بادیہ ہیں
ان کے جنوں میں جنگل اپنا ہوا ہے گھر سا
جس ہاتھ میں رہا کی اس کی کمر ہمیشہ
اس ہاتھ مارنے کا سر پر بندھا ہے کر سا
سب پیچ کی یہ باتیں ہیں شاعروں کی ورنہ
باریک اور نازک مو کب ہے اس کمر سا
طرز نگاہ اس کی دل لے گئی سبھوں کے
کیا مومن و برہمن کیا گبر اور ترسا
تم واقف طریق بے طاقتی نہیں ہو
یاں راہ دو قدم ہے اب دور کا سفر سا
کچھ بھی معاش ہے یہ کی ان نے ایک چشمک
جب مدتوں ہمارا جی دیکھنے کو ترسا
ٹک ترک عشق کریے لاغر بہت ہوئے ہم
آدھا نہیں رہا ہے اب جسم رنج فرسا
واعظ کو یہ جلن ہے شاید کہ فربہی سے
رہتا ہے حوض ہی میں اکثر پڑا مگر سا
انداز سے ہے پیدا سب کچھ خبر ہے اس کو
گو میر بے سر و پا ظاہر ہے بے خبر سا
میر تقی میر

دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا

دیوان دوم غزل 668
پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا
دل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیا
کاٹے ہیں خاک اڑا کر جوں گردباد برسوں
گلیوں میں ہم ہوئے ہیں اس بن خراب کیا کیا
کچھ گل سے ہیں شگفتہ کچھ سرو سے ہیں قد کش
اس کے خیال میں ہم دیکھے ہیں خواب کیا کیا
انواع جرم میرے پھر بے شمار و بے حد
روز حساب لیں گے مجھ سے حساب کیا کیا
اک آگ لگ رہی ہے سینوں میں کچھ نہ پوچھو
جل جل کے ہم ہوئے ہیں اس بن کباب کیا کیا
افراط شوق میں تو رویت رہی نہ مطلق
کہتے ہیں میرے منھ پر اب شیخ و شاب کیا کیا
پھر پھر گیا ہے آکر منھ تک جگر ہمارے
گذرے ہیں جان و دل پر یاں اضطراب کیا کیا
آشفتہ اس کے گیسو جب سے ہوئے ہیں منھ پر
تب سے ہمارے دل کو ہے پیچ و تاب کیا کیا
کچھ سوجھتا نہیں ہے مستی میں میر جی کو
کرتے ہیں پوچ گوئی پی کر شراب کیا کیا
میر تقی میر

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

دیوان دوم غزل 667
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا
ہم جاہ و حشم یاں کا کیا کہیے کہ کیا جانا
خاتم کو سلیماں کی انگشتر پا جانا
یہ بھی ہے ادا کوئی خورشید نمط پیارے
منھ صبح دکھا جانا پھر شام چھپا جانا
کب بندگی میری سی بندہ کرے گا کوئی
جانے ہے خدا اس کو میں تجھ کو خدا جانا
تھا ناز بہت ہم کو دانست پر اپنی بھی
آخر وہ برا نکلا ہم جس کو بھلا جانا
گردن کشی کیا حاصل مانند بگولے کے
اس دشت میں سر گاڑے جوں سیل چلا جا نا
اس گریۂ خونیں کا ہو ضبط تو بہتر ہے
اچھا نہیں چہرے پر لوہو کا بہا جانا
یہ نقش دلوں پر سے جانے کا نہیں اس کو
عاشق کے حقوق آکر ناحق بھی مٹا جانا
ڈھب دیکھنے کا ایدھر ایسا ہی تمھارا تھا
جاتے تو ہو پر ہم سے ٹک آنکھ ملا جانا
اس شمع کی مجلس میں جانا ہمیں پھر واں سے
اک زخم زباں تازہ ہر روز اٹھا جانا
اے شور قیامت ہم سوتے ہی نہ رہ جاویں
اس راہ سے نکلے تو ہم کو بھی جگا جانا
کیا پانی کے مول آکر مالک نے گہر بیچا
ہے سخت گراں سستا یوسفؑ کا بکا جانا
ہے میری تری نسبت روح اور جسد کی سی
کب آپ سے میں تجھ کو اے جان جدا جانا
جاتی ہے گذر جی پر اس وقت قیامت سی
یاد آوے ہے جب تیرا یک بارگی آجانا
برسوں سے مرے اس کے رہتی ہے یہی صحبت
تیغ اس کو اٹھانا تو سر مجھ کو جھکا جانا
کب میر بسر آئے تم ویسے فریبی سے
دل کو تو لگا بیٹھے لیکن نہ لگا جانا
میر تقی میر

ہر بال اس کے تن پہ ہے موجب وبال کا

دیوان دوم غزل 666
جو معتقد نہیں ہے علیؓ کے کمال کا
ہر بال اس کے تن پہ ہے موجب وبال کا
عزت علیؓ کی قدر علیؓ کی بہت ہے دور
مورد ہے ذوالجلال کے عز و جلال کا
پایا علیؓ کو جا کے محمدؐ نے اس جگہ
جس جا نہ تھا لگائو گمان و خیال کا
رکھنا قدم پہ اس کے قدم کب ملک سے ہو
مخلوق آدمی نہ ہوا ایسی چال کا
شخصیت ایسی کس کی تھی ختم رسل کے بعد
تھا مشورت شریک حق لایزال کا
توڑا بتوں کو دوش نبیؐ پر قدم کو رکھ
چھوڑا نہ نام کعبہ میں کفر و ضلال کا
راہ خدا میں ان نے دیا اپنے بھی تئیں
یہ جود منھ تو دیکھو کسو آشمال کا
نسبت نہ بندگی کی ہوئی جس کی واں درست
رونا مجھے ہے حشر میں اس کی ہی چال کا
فکر نجات میر کو کیا مدح خواں ہے وہ
اولاد کا علیؓ کی محمدؐ کی آل کا
میر تقی میر

دیواں میں شعر گر نہیں نعت رسولؐ کا

دیوان دوم غزل 665
جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا
دیواں میں شعر گر نہیں نعت رسولؐ کا
حق کی طلب ہے کچھ تو محمدؐ پرست ہو
ایسا وسیلہ ہے بھی خدا کے حصول کا
مطلوب ہے زمان و مکان و جہان سے
محبوب ہے ملک کا فلک کا عقول کا
احمدؐ کو ہم نے جان رکھا ہے وہی احد
مذہب کچھ اور ہو گا کسی بوالفضول کا
جن مردماں کو آنکھیں دیاں ہیں خدا نے وے
سرمہ کریں ہیں رہ کی تری خاک دھول کا
مقصود ہے علیؓ کا ولی کا سبھی کا تو
ہے قصد سب کو تیری رضا کے حصول کا
تھی گفتگوے باغ فدک جڑ فساد کی
جانے ہے جس کو علم ہے دیں کے اصول کا
دعویٰ جو حق شناسی کا رکھیے سو اس قدر
پھر جان بوجھ کریے تلف حق بتولؓ کا
پرواے حشر کیا ہے تجھے میر شاد رہ
ہے عذر خواہ جرم جو وہ تجھ ملول کا
میر تقی میر

نکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا

دیوان دوم غزل 664
ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا
نکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا
بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پر
ورنہ بنائو ہووے نہ دن اور رات کا
در پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگر
صورت نہ پکڑے کام فلک کے ثبات کا
ہیں مستحیل خاک سے اجزاے نوخطاں
کیا سہل ہے زمیں سے نکلنا نبات کا
مستہلک اس کے عشق کے جانیں ہیں قدر مرگ
عیسیٰ و خضر کو ہے مزہ کب وفات کا
اشجار ہوویں خامہ و آب سیہ بحار
لکھنا نہ تو بھی ہوسکے اس کی صفات کا
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
شمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا
بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ
ہے دید چشم دل کے کھلے عین ذات کا
ہر صفحے میں ہے محو کلام اپنا دس جگہ
مصحف کو کھول دیکھ ٹک انداز بات کا
ہم مذنبوں میں صرف کرم سے ہے گفتگو
مذکور ذکر یاں نہیں صوم و صلوٰت کا
کیا میر تجھ کو نامہ سیاہی کا فکر ہے
ختم رسل سا شخص ہے ضامن نجات کا
میر تقی میر

دل رفتہ رفتہ غم میں آدھا نہیں رہا ہے

دیوان اول غزل 663
غالب ہے کوئی دن کو ڈھونڈو تو پھر نہ پائو
دل رفتہ رفتہ غم میں آدھا نہیں رہا ہے
میر تقی میر

ان ساحروں نے ایسے منھ عاشقوں کے باندھے

دیوان اول غزل 653
وابستہ دلبروں کے خاموش ہیں ہمیشہ
ان ساحروں نے ایسے منھ عاشقوں کے باندھے
میر تقی میر

کر اے طپش جگر کی اب تو ہی آبیاری

دیوان اول غزل 647
یک دم میں خوں تو سوکھا مژگاں پہ ہوکے جاری
کر اے طپش جگر کی اب تو ہی آبیاری
میر تقی میر

جی میں ہے کبھو حال غریبانہ کہیں گے

دیوان اول غزل 646
ہم رو رو کے درد دل دیوانہ کہیں گے
جی میں ہے کبھو حال غریبانہ کہیں گے
موقوف غم میر کی شب ہوچکی ہمدم
کل رات کو پھر باقی یہ افسانہ کہیں گے
میر تقی میر

ملک دل ان نے صاف لوٹا ہے

دیوان اول غزل 645
کیا کہوں کچھ بھی اس سے چھوٹا ہے
ملک دل ان نے صاف لوٹا ہے
خاک سے میر کیوں نہ یکساں ہوں
مجھ پہ تو آسمان ٹوٹا ہے
میر تقی میر

بیتاب کر کے خاک میں ہم کو ملا گئے

دیوان اول غزل 644
مدت ہوئی کہ تاب و تواں جی چھپا گئے
بیتاب کر کے خاک میں ہم کو ملا گئے
وے دن گئے کہ آٹھ پہر اس کے پاس تھے
اب آگئے تو دور سے کچھ غم سنا گئے
میر تقی میر

وہ اسکندر گیا یاں سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے

دیوان اول غزل 643
مہیا جس کنے اسباب ملکی اور مالی تھے
وہ اسکندر گیا یاں سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے
کلاہ کج سے ہر غنچے کی پیدا ہے گلستاں میں
کہ کیا کیا اس چمن میں دلبروں کے لا ابالی تھے
میر تقی میر

ہم کو دیکھو کہ لگے چلنے تو جاتے ہی رہے

دیوان اول غزل 642
وعدے ہر روز رہے اور تم آتے ہی رہے
ہم کو دیکھو کہ لگے چلنے تو جاتے ہی رہے
میر تقی میر