زمرہ جات کے محفوظات: اساتذہ

یاں تلف ہوتا ہے عالم واں سو عالم اور ہے

دیوان دوم غزل 1036
زلف ہی درہم نہیں ابرو بھی پرخم اور ہے
یاں تلف ہوتا ہے عالم واں سو عالم اور ہے
پیٹ لینا سر لیے دل کے شروع عشق تھا
سینہ کوبی متصل ہے اب یہ ماتم اور ہے
جوں کف دریا کو دریا سے ہے نسبت دور کی
ابر بھی ووں اور کچھ ہے دیدئہ نم اور ہے
رہتے رہتے منتظر آنکھوں میں جی آیا ندان
دم غنیمت جان اب مہلت کوئی دم اور ہے
جی تو جانے کا ہمیں اندوہ ہی ہے لیک میر
حشر کو اٹھنا پڑے گا پھر یہ اک غم اور ہے
میر تقی میر

جوانی دوانی ہے مشہور ہے

دیوان دوم غزل 1035
جنوں کا عبث میرے مذکور ہے
جوانی دوانی ہے مشہور ہے
کہو چشم خوں بار کو چشم تم
خدا جانے کب کا یہ ناسور ہے
فلک پر جو مہ ہے تو روشن ہے یہ
کہ منھ سے ترے نسبت دور ہے
گدا شاہ دونوں ہیں دل باختہ
عجب عشق بازی کا دستور ہے
قیامت ہے ہو گا جو رفع حجاب
نہ بے مصلحت یار مستور ہے
ہم اب ناتوانوں کو مرنا ہے صرف
نہیں وہ کہ جینا بھی منظور ہے
ستم میں ہماری قسم ہے تمھیں
کرو صرف جتنا کہ مقدور ہے
نیاز اپنا جس مرتبے میں ہے یاں
اسی مرتبے میں وہ مغرور ہے
ہوا حال بندے کا گو کچھ خراب
خدائی ابھی اس کی معمور ہے
گیا شاید اس شمع رو کا خیال
کہ اب میر کے منھ پہ کچھ نور ہے
میر تقی میر

پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے

دیوان دوم غزل 1034
جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے
پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے
ہم آپ سے گئے سو الٰہی کہاں گئے
مدت ہوئی کہ اپنا ہمیں انتظار ہے
بس وعدئہ وصال سے کم دے مجھے فریب
آگے ہی مجھ کو تیرا بہت اعتبار ہے
سرتابی اس سے طائر قدسی نہ کر سکے
اس ترک صید بند کا وہ تو شکار ہے
مائل نہیں ہے سرو ہی تنہا تری طرف
گل کو بھی تیرے دیکھنے کا خار خار ہے
پیوند میں زمیں کا ہوا اس گلی میں لیک
یوں بھی کہا نہ ان نے یہ کس کا مزار ہے
کل سرو ناز باغ میں آیا نظر مجھے
میں نے فریب شوق سے جانا کہ یار ہے
اب دیکھ کر قرار کیا کر وصال کا
دل کو بغیر تیرے تنک بھی قرار ہے
مت فکر خانہ سازی میں منعم ہلاک ہو
بنیاد زندگانی کی ناپائدار ہے
کب تک ستم کبھو تو دلاسا بھی دیجیے
بالفرض میر ایسا ہی تقصیروار ہے
میر تقی میر

آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے

دیوان دوم غزل 1033
گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے
مجنوں کو مجھ سے کیا ہے جنوں میں مناسبت
میں شہر بند ہوں وہ بیاباں نورد ہے
کیا جانیے کہ عشق میں خوں ہو گیا کہ داغ
چھاتی میں اب تو دل کی جگہ ایک درد ہے
واصل بحق ہوئے نہ جو ہم جان سے گئے
غیرت ہو کچھ مزاج میں جس کے وہ مرد ہے
ممکن نہیں کہ وصف علیؓ کوئی کر سکے
تفرید کے جریدے میں وہ پہلی فرد ہے
ٹھہرے نہ چرخ نیلی پہ انجم کی چشم شوخ
اس قصر میں لگا جو ہے کیا لاجورد ہے
کس سے جدا ہوئے ہیں کہ ایسے ہیں دردمند
منھ میر جی کا آج نہایت ہی زرد ہے
میر تقی میر

رنج و حرماں کی یہ بدایت ہے

دیوان دوم غزل 1032
دل مرا مضطرب نہایت ہے
رنج و حرماں کی یہ بدایت ہے
منھ ادھر کر کبھو نہ وہ سویا
کیا دعا شب کی بے سرایت ہے
اب وہ مہ اور ایک مہ سے ملا
چند در چند یہ حکایت ہے
ہر طرف بحث تجھ سے ہے اے عشق
شکر تیرا تری شکایت ہے
ایسے رنج و عنا میں اودھر سے
پرسش حال بھی عنایت ہے
دہر کا ہو گلہ کہ شکوئہ چرخ
اس ستمگر ہی سے کنایت ہے
مت مراعات غیر رکھ منظور
میرے حق میں یہی رعایت ہے
عاشق اب بڑھ گئے ہمیں چھانٹو
اس میں سرکار کی کفایت ہے
کب ملے میر ملک داروں سے
وہ گداے شہ ولایت ہے
میر تقی میر

دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے

دیوان دوم غزل 1031
باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے
دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے
جو بے کلی ہے ایسی چاہت گلوں کی اتنی
کیا جانے ہم صفیرو تو اب کے سال کیا ہے
پہنچا بہم علاقہ اے عزلتی کسو سے
کرنا معاش اکیلے اتنا کمال کیا ہے
آغاز تو یہ ہے کچھ روتے ہیں خون ہر دم
کیا جانے عاشقی کا یارو مآل کیا ہے
پامال راہ اس کے کیا کیا عزیز دیکھے
آئی نہ جب سمجھ میں گردوں کی چال کیا ہے
وہ سیم تن ہو ننگا تو لطف تن پر اس کے
سوجی گئے تھے صدقے اک جان و مال کیا ہے
سرگرم جلوہ اس کو دیکھے کوئی سو جانے
طرز خرام کیا ہے حسن و جمال کیا ہے
میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے
ہر دم صدا یہی تھی دے گذرو ٹال کیا ہے
پر چپ ہی لگ گئی جب ان نے کہا کہ کوئی
پوچھو تو شاہ جی سے ان کا سوال کیا ہے
گہ آپ میں نہیں ہو گہ منتظر کہیں ہو
کچھ میرجی تمھارا ان روزوں حال کیا ہے
میر تقی میر

دل ساری رات جیسے کوئی ملا کیا ہے

دیوان دوم غزل 1030
کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے
دل ساری رات جیسے کوئی ملا کیا ہے
ان چار دن سے ہوں میں افسردہ کچھ وگرنہ
پھوڑا سا دل بغل میں برسوں جلا کیا ہے
اس گل کی اور اپنا تب منھ کیا ہے میں نے
جب آشنا لبوں سے صلِّ علیٰ کیا ہے
دل داغ کب نہ دیکھا جی بار کب نہ پایا
کیا کیا نہال خواہش پھولا پھلا کیا ہے
تڑپا ہے ایسا ایسا جو غش رہا ہے مجھ کو
دل اک بغل میں جی کا دشمن پلا کیا ہے
کیا خاک میں ہمیں کو ان نے نیا ملایا
ٹیڑھی ہی چال گردوں اکثر چلا کیا ہے
چلتا نہیں ہے دل پر کچھ اس کے بس وگرنہ
عرش آہ عاجزاں سے اکثر ہلا کیا ہے
ہم گو نہ ہوں جہاں میں آخر جہاں تو ہو گا
تونے بدی تو کی ہے ظالم بھلا کیا ہے
ہے منھ پہ میر کے کیا گرد ملال تازہ
یہ خاک میں ہمیشہ یوں ہی رلا کیا ہے
میر تقی میر

تب دل کے تئیں خوگر اندوہ کیا ہے

دیوان دوم غزل 1029
کئی برسوں جگر کا ہی لہو اپنا پیا ہے
تب دل کے تئیں خوگر اندوہ کیا ہے
ڈر کیوں نہ محلے میں رہے رونے سے میرے
سیلاب نے اس کوچے میں گھر مول لیا ہے
افسوس ہے نشمردہ قدم تم جو رکھو یاں
اس راہ میں سر یاروں نے ہر گام دیا ہے
کاہش ہے عبث تم کو مرے جینے کی خاطر
بیمار بھلا ایسا کوئی آگے جیا ہے
پلکوں سے رفو ان نے کیا چاک دل میر
کس زخم کو کس نازکی کے ساتھ سیا ہے
میر تقی میر

دخل عقل اس مقام میں کیا ہے

دیوان دوم غزل 1028
شور میرے جنوں کا جس جا ہے
دخل عقل اس مقام میں کیا ہے
دل میں پھرتے ہیں خال و خط و زلف
مجھ کو یک سر ہزار سودا ہے
شور بازار میں ہے یوسفؑ کا
وہ بھی آ نکلے تو تماشا ہے
برچھیوں میں کہیں نہ بٹ جاوے
دل صفوف مژہ میں تنہا ہے
نظر آئے تھے وے حنائی پا
آج تک فتنہ ایک برپا ہے
دل کھنچے جاتے ہیں اسی کی اور
سارے عالم کی وہ تمنا ہے
برسوں رکھا ہے دیدئہ تر پر
پاٹ دامن کا اپنے دریا ہے
ٹک گریباں میں سر کو ڈال کے دیکھ
دل بھی دامن وسیع صحرا ہے
دلکشی اس کے قد کی سی معلوم
سرو بھی اک جوان رعنا ہے
دست و پا گم کیے ہیں تو نے میر
پیری بے طاقتی سے پیدا ہے
میر تقی میر

جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے

دیوان دوم غزل 1027
دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے
ہمارا تو ہے اصل مدعا تو
خدا جانے ترا کیا مدعا ہے
محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاس
ہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے
حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیب
اگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے
نہیں ملتا سخن اپنا کسو سے
ہماری گفتگو کا ڈھب جدا ہے
کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھر
فضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے
مروں میں اس میں یا رہ جائوں جیتا
یہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے
صبا اودھر گل اودھر سرو اودھر
اسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے
تماشا کردنی ہے داغ سینہ
یہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے
ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیں
قیامت جیسے اک اس کی ادا ہے
جگہ افسوس کی ہے بعد چندے
ابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے
جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تم
کہو جو کچھ تمھارا مدعا ہے
سخن کریے تو ہووے حرف زن یوں
بس اب منھ موندلے میں نے سنا ہے
کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالم
اگرچہ یار عالم آشنا ہے
نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر
پہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے
لگا میں گرد سر پھرنے تو بولا
تمھارا میر صاحب سرپھرا ہے
میر تقی میر

اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے

دیوان دوم غزل 1026
چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
اک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہے
میں اور تو ہیں دونوں مجبورطور اپنے
پیشہ ترا جفا ہے شیوہ مرا وفا ہے
روے سخن ہے کیدھر اہل جہاں کا یارب
سب متفق ہیں اس پر ہر ایک کا خدا ہے
کچھ بے سبب نہیں ہے خاطر مری پریشاں
دل کا الم جدا ہے غم جان کا جدا ہے
حسن ان بھی معنیوں کا تھا آپھی صورتوں میں
اس مرتبے سے آگے کوئی چلے تو کیا ہے
شادی سے غم جہاں میں دہ چند ہم نے پایا
ہے عید ایک دن تو دس روز یاں دہا ہے
ہے خصم جان عاشق وہ محو ناز لیکن
ہر لمحہ بے ادائی یہ بھی تو اک ادا ہے
ہو جائے یاس جس میں سو عاشقی ہے ورنہ
ہر رنج کو شفا ہے ہر درد کو دوا ہے
نایاب اس گہر کی کیا ہے تلاش آساں
جی ڈوبتا ہے اس کا جو تہ سے آشنا ہے
مشفق ملاذ و قبلہ کعبہ خدا پیمبر
جس خط میں شوق سے میں کیا کیا اسے لکھا ہے
تاثیر عشق دیکھو وہ نامہ واں پہنچ کر
جوں کاغذ ہوائی ہر سو اڑا پھرا ہے
ہے گرچہ طفل مکتب وہ شوخ ابھی تو لیکن
جس سے ملا ہے اس کا استاد ہو ملا ہے
پھرتے ہو میر صاحب سب سے جدے جدے تم
شاید کہیں تمھارا دل ان دنوں لگا ہے
میر تقی میر

نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے

دیوان دوم غزل 1025
طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے
نہیں ہے دل کوئی دشمن بغل میں پالا ہے
حنا سے یار کا پنجہ نہیں ہے گل کے رنگ
ہمارے ان نے کلیجوں میں ہاتھ ڈالا ہے
گیا ہے پیش لے اعجاز عشق سے فرہاد
وگرنہ خس نے کہیں بھی پہاڑ ٹالا ہے
سنا ہے گریۂ خونیں پہ یہ نہیں دیکھا
لہو کا ہر گھڑی آنکھوں کے آگے نالا ہے
رہے خیال نہ کیوں ایسے ماہ طلعت کا
اندھیرے گھر کا ہمارے وہی اجالا ہے
دلوں کو کہتے ہیں ہوتی ہے راہ آپس میں
طریق عشق بھی عالم سے کچھ نرالا ہے
ہزار بار گھڑی بھر میں میر مرتے ہیں
انھوں نے زندگی کا ڈھب نیا نکالا ہے
میر تقی میر

یا رنگ لالہ شوخ ترے رنگ پاں سا ہے

دیوان دوم غزل 1024
کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے
یا رنگ لالہ شوخ ترے رنگ پاں سا ہے
آیا ہے زیر زلف جو رخسار کا وہ سطح
یاں سانجھ کے تئیں بھی سحر کا سماں سا ہے
ہے جی کی لاگ اور کچھ اے فاختہ ولے
دیکھے نہ کوئی سرو چمن اس جواں سا ہے
کیا جانیے کہ چھاتی جلے ہے کہ داغ دل
اک آگ سی لگی ہے کہیں کچھ دھواں سا ہے
اس کی گلی کی اور تو ہم تیر سے گئے
گو قامت خمیدہ ہمارا کماں سا ہے
جو ہے سو اپنی فکر خروبار میں ہے یاں
سارا جہان راہ میں اک کارواں سا ہے
کعبے کی یہ بزرگی شرف سب بجا ہے لیک
دلکش جو پوچھیے تو کب اس آستاں سا ہے
عاشق کی گور پر بھی کبھو تو چلا کرو
کیا خاک واں رہا ہے یہی کچھ نشاں سا ہے
زور طبیعت اس کا سنیں اشتیاق تھا
آیا نظر جو میر تو کچھ ناتواں سا ہے
میر تقی میر

ایک سنّاہٹا گذر جا ہے

دیوان دوم غزل 1023
جب نسیم سحر ادھر جا ہے
ایک سنّاہٹا گذر جا ہے
کیا اس آئینہ رو سے کہیے ہائے
وہ زباں کر کے پھر مکر جا ہے
جب سے سمجھا کہ ہم چلائو ہیں
حال پرسی ٹک آ کے کر جا ہے
وہ کھلے بال سووے ہے شاید
رات کو جی مرا بکھر جا ہے
دور اگرچہ گیا ہوں میں جی سے
کب وطن میرے یہ خبر جا ہے
وہ اگر چت چڑھا رہا ایسا
آج کل جی سے مہ اتر جا ہے
جی نہیں میر میں نہ بولو تند
بات کہتے ابھی وہ مر جا ہے
میر تقی میر

کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے

دیوان دوم غزل 1022
چمن کو یاد کر مرغ قفس فریاد کرتا ہے
کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے
ہوا خانہ خراب آنکھوں کا اشکوں سے تو برجا ہے
رہ سیلاب میں کوئی بھی گھر بنیاد کرتا ہے
ملایا خاک کر دامن سے اشکوں میں ڈبایا پھر
مرے ہاتھوں کی تردستی گریباں یاد کرتا ہے
ابھر اے نقش شیریں بے ستوں اوپر تماشا کر
کہ کارستانیاں تیرے لیے فرہاد کرتا ہے
میر تقی میر

خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1021
کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے
خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے
خرابی دل کی کیا انبوہ درد و غم سے پوچھو ہو
وہی حالت ہے جیسے شہر لشکر لوٹ جاتا ہے
شکست اس رنگ آئی بے خودی عشق میں دل پر
نشے میں مست سے جیسے کہ شیشہ پھوٹ جاتا ہے
نہ یوں ہووے کہ اٹھ جائوں کہ ہے افسوس کی جاگہ
جب ایسا طائر خوش لہجہ پھنس کر چھوٹ جاتا ہے
نہیں کچھ عقل میں آتا کہ دیوانہ سا میر ایدھر
کبھو آتا جو ہے کیدھر کو مارے زوٹ جاتا ہے
میر تقی میر

جان کو کوئی کھائے جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1020
شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے
جان کو کوئی کھائے جاتا ہے
ہر کوئی اس مقام میں دس روز
اپنی نوبت بجائے جاتا ہے
کھل گئی بات تھی سو ایک اک پر
تو وہی منھ چھپائے جاتا ہے
یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر
اپنی ٹکّی لگائے جاتا ہے
رویئے کیا دل و جگر کے تئیں
جی بھی یاں پر تو ہائے جاتا ہے
کیا کیا ہے فلک کا میں کہ مجھے
خاک ہی میں ملائے جاتا ہے
تہ جنھیں کچھ ہے ان کے تیں ہر گام
عرق شرم آئے جاتا ہے
جاے عبرت ہے خاکدان جہاں
تو کہاں منھ اٹھائے جاتا ہے
دیکھ سیلاب اس بیاباں کا
کیسا سر کو جھکائے جاتا ہے
وہ تو بگڑے ہے میر سے ہر دم
اپنی سی یہ بنائے جاتا ہے
میر تقی میر

بے دید و بے مروت و ناآشنا ہیں یے

دیوان دوم غزل 1019
ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے
بے دید و بے مروت و ناآشنا ہیں یے
حالانکہ خصم جان ہیں پر دیکھیے جو خوب
ہیں آرزو دلوں کی بھی یہ مدعا ہیں یے
اب حوصلہ کرے ہے ہمارا بھی تنگیاں
جانے بھی دو بتوں کے تئیں کیا خدا ہیں یے
گل پھول اس چمن کے چلو صبح دیکھ لیں
شبنم کے رنگ پھر کوئی دم میں ہوا ہیں یے
کس دل میں خوبرویوں کی خالی نہیں جگہ
مغرور اپنی خوبی کے اوپر بجا ہیں یے
ہرچند ان سے برسوں چھپا ہم ملا کیے
ظاہر ولے نہ ہم پہ ہوا یہ کہ کیا ہیں یے
کیا جانو میر صاحب و قبلہ کے ڈھب کو تم
خوبی مسلم ان کی ولے بدبلا ہیں یے
میر تقی میر

زندگانی حیف ہے مر جایئے

دیوان دوم غزل 1018
پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے
زندگانی حیف ہے مر جایئے
کچھ نہیں تو شعر ہی کی فکر کر
آئے ہیں جو یاں تو کچھ کر جایئے
قصد ہے کعبے کا لیکن سوچ ہے
کیا ہے منھ جو اس کے در پر جایئے
خانماں آباد جو ہے سو خراب
کس کے اٹھ کر شہر میں گھر جایئے
بیم مردن اس قدر یہ کیا ہے میر
عشق کریے اور پھر ڈر جایئے
میر تقی میر

پیکر نازک کو تیرے کیونکے بر میں لایئے

دیوان دوم غزل 1017
ٹک ٹھہرنے دے تجھے شوخی تو کچھ ٹھہرایئے
پیکر نازک کو تیرے کیونکے بر میں لایئے
ساکن دیر و حرم دونوں تلاشی ہیں ترے
تو خدا جانے کہاں ہے کیونکے تجھ کو پایئے
دور ہی سے ہوش کھو دیتی ہے اس کی بوے خوش
آپ میں رہیے تو اس کے پاس بھی ٹک جایئے
ان دنوں رنگ اور کچھ ہے اس دل پرخون کا
حق میں میرے آپ ہی کچھ سوچ کر فرمایئے
جی ہی کھپ جاتا ہے طنز آمیز ایسے لطف سے
ہنس کے جب کہتا ہے سب میں آیئے جی آئیے
دل کے ویراں کرنے میں بیداد کی ہے تونے ہائے
خوش عمارت ایسے گھر کو اس طرح سے ڈھایئے
رات دن رخسار اس کے چت چڑھے رہتے ہیں میر
آفتاب و ماہ سے دل کب تلک بہلایئے
میر تقی میر

دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے

دیوان دوم غزل 1016
گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے
سر مار مار بیٹھے تلف ہوجے کب تلک
ٹک اٹھ کے اب نصیبوں کو بھی آزمایئے
سو شکل سے ہم آئے گئے تیری بزم میں
طنزاً کہا نہ تو نے کبھو یوں کہ آیئے
آئے ہیں تنگ جان سے قیدحیات میں
اس بند سے ہمارے تئیں اب چھڑایئے
کہنے لگا کہ ٹیڑھے بہت ہو رہے ہو تم
دو چار سیدھی سیدھی تمھیں بھی سنایئے
ہے عزم جزم ترک و تجرد کا گر بنے
کیا اس جہان سفلہ سے دل کو لگایئے
تاثیر ہے دعا کو فقیروں کی میرجی
ٹک آپ بھی ہمارے لیے ہاتھ اٹھایئے
میر تقی میر

سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے

دیوان دوم غزل 1015
انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے
سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے
گرچہ زردی رنگ کی بھی ہجر ہی سے ہے ولے
منھ مرا دیکھو ہو کیا یہ کوفت جی پر دیکھیے
اب کے گل ہم بے پروں کی اور چشمک زن ہے زور
اور دل اپنا بھی جلتا ہے بہت پر دیکھیے
آتے ہو جب جان یاں آنکھوں میں آ رہتی ہے آہ
دیکھیے ہم کو تو یوں بیمار و مضطر دیکھیے
اشک پر سرخی ابھی سے ہے تو آگے ہم نشیں
رنگ لاوے کیسے کیسے دیدئہ تر دیکھیے
دیر و کعبہ سے بھی ٹک جھپکی نہ چشم شوخ یار
شوق کی افراط سے تاچند گھر گھر دیکھیے
مر رہے یوں صیدگہ کی کنج میں تو حسن کیا
عشق جب ہے تب گلے کو زیر خنجر دیکھیے
برسوں گذرے خاک ملتے منھ پر آئینے کے طور
کیا غضب ہے آنکھ اٹھاکر ٹک تو ایدھر دیکھیے
دیدنی ہے وجد کرنا میر کا بازار میں
یہ تماشا بھی کسو دن تو مقرر دیکھیے
میر تقی میر

ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے

دیوان دوم غزل 1014
دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے
یہ قیامت اور جی پر کل گئی پائیز میں
دل خس و خاشاک گلشن سے لگایا چاہیے
خانہ ساز دیں جو ہے واعظ سو یہ خانہ خراب
اینٹ کی خاطر جسے مسجد کو ڈھایا چاہیے
کام کیا بال ہما سے چترشہ سے کیا غرض
سر پر اک دیوار ہی کا اس کی سایہ چاہیے
اتقا پر خانقہ والے بہت مغرور ہیں
مست ناز ایدھر اسے یک بار لایا چاہیے
کیاریوں ہی میں پڑے رہیے گا سائے کی روش
اپنے ہوتے اب کے موسم گل کا آیا چاہیے
یہ ستم تازہ کہ اپنی ناکسی پر کر نظر
جن سے بگڑا چاہیے ان سے بنایا چاہیے
جی نہیں رہتا ہے ٹک ناچار ہم کو اس کی اور
گرتے پڑتے ضعف میں بھی روز جایا چاہیے
گاہ برقع پوش ہو گہ مو پراگندہ کرو
تم کو ہم سے منھ بہر صورت چھپایا چاہیے
وہ بھی تو ٹک دست و تیغ اپنے کی جانے قدر میر
زخم سارے ایک دن اس کو دکھایا چاہیے
میر تقی میر

سو ہی بات آئی اٹھے اس پاس سے جاں سے گئے

دیوان دوم غزل 1013
ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے
سو ہی بات آئی اٹھے اس پاس سے جاں سے گئے
کیا بخود رہنا ہمارا کچھ رکھے ہے اعتبار
آپ میں آئے کبھو اب ہم تو مہماں سے گئے
جب تلک رہنا بنا دل تنگ غنچے سے رہے
دیکھیے کیا گل کھلے گا اب گلستاں سے گئے
کیا غزالوں ہی کو ہم بن وحشت بسیار ہے
کوہ بھی نالاں رہے جب ہم بیاباں سے گئے
لائی آفت خانقاہ و مسجد اوپر وہ نگاہ
صوفیاں دیں سے گئے سب شیخ ایماں سے گئے
دور کر خط کو کیا چہرہ کتابی ان نے صاف
اب قیامت ہے کہ سارے حرف قرآں سے گئے
جی تو اس کی زلف میں دل کا کل پیچاں میں میر
جا بھی نکلے اس کنے تو ہم پریشاں سے گئے
میر تقی میر

کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے

دیوان دوم غزل 1012
گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے
کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے
ہنستے رہتے تھے جو اس گلزار میں شام و سحر
دیدئہ تر ساتھ لے وے لوگ جوں شبنم گئے
گر ہوا اس باغ کی ہے یہ تو اے بلبل نہ پھول
کوئی دن میں دیکھیو واں وے گئے یاں ہم گئے
کیا کم اس خورشیدرو کی جستجو یاروں نے کی
لوہو روتے جوں شفق پورب گئے پچھم گئے
جی گیا یاں بے دماغی سے انھوں کی اور واں
نے جبیں سے چیں گئی نے ابروئوں سے خم گئے
شاید اب ٹکڑوں نے دل کے قصد آنکھوں کا کیا
کچھ سبب تو ہے جو آنسو آتے آتے تھم گئے
گرچہ ہستی سے عدم تک اک مسافت تھی بعید
پر اٹھے جو ہم یہاں سے واں تلک اک دم گئے
کیا معاش اس غم کدے میں ہم نے دس دن کی بہم
اٹھ کے جس کے ہاں گئے دل کا لیے ماتم گئے
سبزہ و گل خوش نشینی اس چمن کی جن کو تھی
سو بھی تو دیکھا گریباں چاک و مژگاں نم گئے
مردم دنیا بھی ہوتے ہیں سمجھ کس مرتبہ
آن بیٹھے نائوں کو تو یاں نگیں سے جم گئے
ربط صاحب خانہ سے مطلق بہم پہنچا نہ میر
مدتوں سے ہم حرم میں تھے پہ نامحرم گئے
میر تقی میر

کارواں جاتا رہا ہم ہائے سوتے رہ گئے

دیوان دوم غزل 1011
جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے
کارواں جاتا رہا ہم ہائے سوتے رہ گئے
بوے گل پیش از سحر گلزار سے رخصت ہوئی
ہم ستم کش روبرو اس کے تو سوتے رہ گئے
جی دیے بن وہ در مقصود کب پایا گیا
بے جگر تھے میر صاحب جان کھوتے رہ گئے
میر تقی میر

ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے

دیوان دوم غزل 1010
اب اپنے قد راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے
ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے
سنتے تھے کہ جاتی ہے ترے دیکھنے سے جاں
اب جان چلی جاتی ہے ہم دیکھتے ہیں ہائے
کیا روتے ہیں یاران گذشتہ کے لیے ہم
جب راہ میں کچھ نقش قدم دیکھتے ہیں ہائے
کچھ عشق کی آتش کی لپٹ پہنچی ہمیں زور
سب تن بدن اپنے کو بھسم دیکھتے ہیں ہائے
دل چاک ہے جاں داغ جگر خوں ہے ہمارا
ان آنکھوں سے انواع ستم دیکھتے ہیں ہائے
مایوس نہ کس طور جہاں سے رہیں ہم میر
اب تاب بہت جان میں کم دیکھتے ہیں ہائے
میر تقی میر

گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے

دیوان دوم غزل 1009
اب سمجھ آئی مرتبہ سمجھے
گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے
اس قدر جی میں ہے دغا اس کے
کہ دعا کریے تو دغا سمجھے
کچھ سمجھتے نہیں ہمارا حال
تم سے بھی اے بتاں خدا سمجھے
غلط اپنا کہ اس جفاجو کو
سادگی سے ہم آشنا سمجھے
نکتہ داں بھی خدا نے تم کو کیا
پر ہمارا نہ مدعا سمجھے
لکھے دفتر کتابیں کیں تصنیف
پر نہ طالع کا ہم لکھا سمجھے
میر صاحب کا ہر سخن ہے رمز
بے حقیقت ہے شیخ کیا سمجھے
میر تقی میر

جو چاہیں سو یوں کہہ لیں لوگ اپنی جگہ بیٹھے

دیوان دوم غزل 1008
ہے جنبش لب مشکل جب آن کے وہ بیٹھے
جو چاہیں سو یوں کہہ لیں لوگ اپنی جگہ بیٹھے
جی ڈوب گئے اپنے اندوہ کے دریا میں
وے جوش کہاں اب ہم مدت ہوئی وہ بیٹھے
کیا رنگ میں شوخی ہے اس کے تن نازک کی
پیراہن اگر پہنے تو اس پہ بھی تہ بیٹھے
سر گل نے اٹھایا تھا اس باغ میں سو دیکھا
کیا ناز سے یاں کوئی کج کرکے کلہ بیٹھے
مرتے ہوئے پر چاہت ظاہر نہ کی اگلوں نے
بے حوصلہ تھے ہم جو اس راز کو کہہ بیٹھے
کیا جانے کہ ایدھر کا کب قصد کرے گا وہ
پامال ہوئے ہم تو اس سے سررہ بیٹھے
جو ہاتھ چڑھا اس کے دل خوں ہی کیا اس کا
اس پنجۂ رنگیں کی اے میر نہ گہ بیٹھے
میر تقی میر

اس خصم جاں کے در پر تکیہ بنا کے بیٹھے

دیوان دوم غزل 1007
اب ہم فقیر جی سے دل کو اٹھا کے بیٹھے
اس خصم جاں کے در پر تکیہ بنا کے بیٹھے
مرتے ہوئے بھی ہم کو صورت نہ آ دکھائی
وقت اخیر اچھا منھ کو چھپا کے بیٹھے
عزلت نشیں ہوئے جب دل داغ ہو گیا تب
یعنی کہ عاشقی میں ہم گھر جلا کے بیٹھے
جو کفر جانتے تھے عشق بتاں کو وہ ہی
مسجد کے آگے آخر قشقہ لگا کے بیٹھے
شور متاع خوبی اس شوخ کا بلا تھا
بازاری سب دکانیں اپنی بڑھا کے بیٹھے
کیا اپنی اور اس کی اب نقل کریے صحبت
مجلس سے اٹھ گیا وہ ٹک ہم جو آ کے بیٹھے
کیا جانے تیغ اس کی کب ہو بلند عاشق
یوں چاہیے کہ سر کو ہر دم جھکا کے بیٹھے
پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے
مسند پہ ناز کی جو تیوری چڑھا کے بیٹھے
کیا غم اسے زمیں پر بے برگ و ساز کوئی
خار و خسک ہی کیوں نہ برسوں بچھا کے بیٹھے
وادی قیس سے پھر آئے نہ میر صاحب
مرشد کے ڈھیر پر وے شاید کہ جا کے بیٹھے
میر تقی میر

یہ جان سے گئے سب بیمار ایسے ہی تھے

دیوان دوم غزل 1006
مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے
یہ جان سے گئے سب بیمار ایسے ہی تھے
شمس و قمر کے دیکھے جی اس میں جا رہے ہے
اس دل فروز کے بھی رخسار ایسے ہی تھے
دامن کے پاٹ سارے تختے ہوئے چمن کے
بس اے سرشک خونیں درکار ایسے ہی تھے
لوہو نہ کیوں رلائے ان کا گداز ہونا
یہ دل جگر ہمارے غم خوار ایسے ہی تھے
ہر دم جراحت آسا کب رہتے تھے ٹپکتے
یہ دیدئہ نمیں کیا خوں بار ایسے ہی تھے
آزاردہ دلوں کا جیسا کہ تو ہے ظالم
اگلے زمانے میں بھی کیا یار ایسے ہی تھے
ہو جائے کیوں نہ دوزخ باغ زمانہ ہم پر
ہم بے حقیقتوں کے کردار ایسے ہی تھے
دیوار سے پٹک سر میں جو موا تو بولا
کچھ اس ستم زدہ کے آثار ایسے ہی تھے
اک حرف کا بھی ان کو دفتر ہے کر دکھانا
کیا کہیے میر جی کے بستار ایسے ہی تھے
میر تقی میر

اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے

دیوان دوم غزل 1005
ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے
اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے
آگے خط سے دماغ تمھارا عرش پہ تھا ہو وے ہی تم
پائوں زمیں پر رکھتے تھے تو خدا پر منت رکھتے تھے
اب تو ہم ہو چکتے ہیں ٹک تیرے ابرو خم ہوتے
کیا کیا رنج اٹھاتے تھے جب جی میں طاقت رکھتے تھے
چاہ کے سارے دیوانے پر آپ سے اکثر بیگانے
عاشق اس کے سیر کیے ہم سب سے جدی مت رکھتے تھے
ہم تو سزاے تیغ ہی تھے پر ظلم بے حد کیا معنی
اور بھی تجھ سے آگے ظالم اچھی صورت رکھتے تھے
آج غزال اک رہبر ہوکر لایا تربت مجنوں پر
قصد زیارت رکھتے تھے ہم جب سے وحشت رکھتے تھے
کس دن ہم نے سر نہ چڑھاکر ساغر مے کو نوش کیا
دور میں اپنے دختر رز کی ہم اک حرمت رکھتے تھے
کوہکن و مجنون و وامق کس کس کے لیں نام غرض
جی ہی سے جاتے آگے سنے وے لوگ جو الفت رکھتے تھے
چشم جہاں تک جاتی تھی گل دیکھتے تھے ہم سرخ و زرد
پھول چمن کے کس کے منھ سے ایسی خجلت رکھتے تھے
کام کرے کیا سعی و کوشش مطلب یاں ناپیدا تھا
دست و پا بہتیرے مارے جب تک قدرت رکھتے تھے
چتون کے کب ڈھب تھے ایسے چشمک کے تھے کب یہ ڈول
ہائے رے وے دن جن روزوں تم کچھ بھی مروت رکھتے تھے
لعل سے جب دل تھے یہ ہمارے مرجاں سے تھے اشک چشم
کیا کیا کچھ پاس اپنے ہم بھی عشق کی دولت رکھتے تھے
کل کہتے ہیں اس بستی میں میر جی مشتاقانہ موئے
تجھ سے کیا ہی جان کے دشمن وے بھی محبت رکھتے تھے
میر تقی میر

سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے

دیوان دوم غزل 1004
یاں ہم براے بیت جو بے خانماں رہے
سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے
تھا ملک جن کے زیرنگیں صاف مٹ گئے
تم اس خیال میں ہو کہ نام و نشاں رہے
آنسو چلے ہی آنے لگے منھ پہ متصل
کیا کیجے اب کہ راز محبت نہاں رہے
ہم جب نظر پڑیں تو وہ ابرو کو خم کرے
تیغ اپنے اس کے کب تئیں یوں درمیاں رہے
کوئی بھی اپنے سر کو کٹاتا ہے یوں ولے
جوں شمع کیا کروں جو نہ میری زباں رہے
یہ دونوں چشمے خون سے بھر دوں تو خوب ہے
سیلاب میری آنکھوں سے کب تک رواں رہے
دیکھیں تو مصر حسن میں کیا خواریاں کھنچیں
اب تک تو ہم عزیز رہے ہیں جہاں رہے
مقصود گم کیا ہے تب ایسا ہے اضطراب
چکر میں ورنہ کاہے کو یوں آسماں رہے
کیا اپنی ان کی تم سے بیاں کیجیے معاش
کیں مدتوں رکھا جو تنک مہرباں رہے
گہ شام اس کے مو سے ہے گہ رو سے اس کے صبح
تم چاہو ہو کہ ایک سا ہی یاں سماں رہے
کیا نذر تیغ عشق سرِتیر میں کیا
اس معرکے میں کھیت بہت خستہ جاں رہے
اس تنگناے دہر میں تنگی نفس نے کی
جوں صبح ایک دم ہی رہے ہم جو یاں رہے
اک قافلے سے گرد ہماری نہ ٹک اٹھی
حیرت ہے میر اپنے تئیں ہم کہاں رہے
میر تقی میر

آخر کو پھوٹ پھوٹ بہے قہر کر رہے

دیوان دوم غزل 1003
یک عمر دیدہ ہاے ستم دیدہ تر رہے
آخر کو پھوٹ پھوٹ بہے قہر کر رہے
ہم نے بھی نذر کی ہے پھریں گے چمن کے گرد
آنے تئیں بہار کے گر بال و پر رہے
کیا کہیے تیرے واسطے اے مایۂ حیات
کیا کیا عزیز اپنے تئیں مار مر رہے
مرتے بھی اپنے ہائے وہ حاضر نہ ہوسکا
ہم اشتیاق کش تو بہت محتضر رہے
مرغان باغ رہتے ہیں اب گھیرے یوں مجھے
ماتم زدوں کے حلقے میں جوں نوحہ گر رہے
آغوش اس سے خالی رہی شب تو تا سحر
جیب و کنار گریۂ خونیں سے بھر رہے
نقش قدم کے طور ترے ہم ہیں پائمال
غالب ہے یہ کہ دیر ہمارا اثر رہے
اب صبر و ہوش و عقل کی میرے یہ ہے معاش
جوں قافلہ لٹا کہیں آکر اتر رہے
لاکھوں ہمارے دیکھتے گھر بار سے گئے
کس خانماں خراب کے وے جا کے گھر رہے
آتا کبھو تو ناز سے دکھلائی دے بھی جا
دروازے ہی کی اور کہاں تک نظر رہے
رکھنا تمھارے پائوں کا کھوتا ہے سر سے ہوش
یہ چال ہے تو اپنی کسے پھر خبر رہے
کیا بدبلا ہے لاگ بھی دل کی کہ میر جی
دامن سوار لڑکوں کے ہو کر نفر رہے
میر تقی میر

جی رات دن جنھوں کے کھپیں ان میں کیا رہے

دیوان دوم غزل 1002
دوری میں اس کی گور کنارے ہم آرہے
جی رات دن جنھوں کے کھپیں ان میں کیا رہے
اس آفتاب حسن کے ہم داغ شرم ہیں
ایسے ظہور پر بھی وہ منھ کو چھپا رہے
اب جس کے حسن خلق پہ بھولے پھریں ہیں لوگ
اس بے وفا سے ہم بھی بہت آشنا رہے
مجروح ہم ہوئے تو نمک پاشیاں رہیں
ایسی معاش ہووے جہاں کیا مزہ رہے
مرغان باغ سے نہ ہوئی میری دم کشی
نالے کو سن کے وقت سحر دم ہی کھا رہے
چھاتی رکی رہے ہے جو کرتے نہیں ہیں آہ
یاں لطف تب تلک ہی ہے جب تک ہوا رہے
کشتے ہیں ہم تو ذوق شہیدان عشق کے
تیغ ستم کو دیر گلے سے لگا رہے
گاہے کراہتا ہے گہے چپ ہے گاہ سست
ممکن نہیں مریض محبت بھلا رہے
آتے کبھو جو واں سے تو یاں رہتے تھے اداس
آخر کو میر اس کی گلی ہی میں جا رہے
میر تقی میر

جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے

دیوان دوم غزل 1001
اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے
جو چاہنے والے کا ہر طور برا چاہے
کعبے گئے کیا کوئی مقصد کو پہنچتا ہے
کیا سعی سے ہوتا ہے جب تک نہ خدا چاہے
سو رنگ کی جب خوبی پاتے ہو اسی گل میں
پھر اس سے کوئی اس بن کچھ چاہے تو کیا چاہے
ہم عجز سے پہنچے ہیں مقصود کی منزل کو
گہ خاک میں مل جاوے جو اس سے ملا چاہے
ہوسکتی ہیں سد رہ پلکیں کہیں رونے کی
تنکوں سے رکے ہے کب دریا جو بہا چاہے
جب تونے زباں چھوڑی تب کاہے کا صرفہ ہے
بے صرفہ کہے کیوں نہ جو کچھ کہ کہا چاہے
دل جاوے ہے جوں رو کے شبنم نے کہا گل سے
اب ہم تو چلے یاں سے رہ تو جو رہا چاہے
خط رسم زمانہ تھی ہم نے بھی لکھا اس کو
تہ دل کی لکھے کیونکر عاشق جو لکھا چاہے
رنگ گل و بوے گل ہوتے ہیں ہوا دونوں
کیا قافلہ جاتا ہے جو تو بھی چلا چاہے
ہم میر ترا مرنا کیا چاہتے تھے لیکن
رہتا ہے ہوئے بن کب جو کچھ کہ ہوا چاہے
میر تقی میر

مبادا عشق کی گرمی جگر میرا جلا دیوے

دیوان دوم غزل 1000
درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے
مبادا عشق کی گرمی جگر میرا جلا دیوے
کہاں تک یوں پڑے بستر پہ رہیے دور جاناں سے
کوئی کاش اس گلی میں ہم کو اک تکیہ بنا دیوے
ہوئے برسوں کہ وہ ظالم رہے ہے مجھ پہ کچھ ٹیڑھا
کوئی اس تیغ برکف کو گلے میرے ملا دیوے
وفا کی مزد میں ہم پر جفا و جور کیا کہیے
کسو سے دل لگے اس کا تو وہ اس کی جزا دیوے
کہیں کچھ تو برا مانو بھلا انصاف تو کریے
بدی کو بھی نہایت ہے تمھیں نیکی خدا دیوے
صنوبر آدمی ہو تو سراپا بار دل لاوے
کہاں سے کوئی تازہ دل اسے ہر روز لا دیوے
بہت گمراہ ہے وہ شوخ لگتا ہے کہے کس کے
کوئی کیا راہ کی بات اس جفاجو کو بتا دیوے
جگر سب جل گیا لیکن زباں ہلتی نہیں اپنی
مباد اس آتشیں خو کو مخالف کچھ لگا دیوے
کوئی بھی میر سے دل ریش سے یوں دور پھرتا ہے
ٹک اس درویش سے مل چل کہ تجھ کو کچھ دعا دیوے
میر تقی میر

یا ابر کوئی آوے اور آ کے برس جاوے

دیوان دوم غزل 999
یا بادئہ گلگوں کی خاطر سے ہوس جاوے
یا ابر کوئی آوے اور آ کے برس جاوے
شورش کدئہ عالم کہنے ہی کی جاگہ تھی
دل کیا کرے جو ایسے ہنگامے میں پھنس جاوے
دل ہے تو عبث نالاں یاران گذشتہ بن
ممکن نہیں اب ان تک آواز جرس جاوے
اس زلف سے لگ چلنا اک سانپ کھلانا ہے
یہ مارسیہ یارو ناگاہ نہ ڈس جاوے
میخانے میں آوے تو معلوم ہو کیفیت
یوں آگے ہو مسجد کے ہر روز عسس جاوے
چولی جہاں سے مسکی پھر آنکھیں وہیں چپکیں
جب پیرہن گل بھی اس خوبی سے چس جاوے
ہے میر عجب کوئی درویش برشتہ دل
بات اس کی سنو تم تو چھاتی بھی بھلس جاوے
میر تقی میر

جیسے چراغ کوئی مہتاب میں جلاوے

دیوان دوم غزل 998
ویسا ہے یہ جو یوسف شب تیرے ہوتے آوے
جیسے چراغ کوئی مہتاب میں جلاوے
کیا رفتگی سے میری تم گفتگو کرو ہو
کھویا گیا نہیں میں ایسا جو کوئی پاوے
چھاتی کے داغ یکسر آنکھوں سے کھل رہے ہیں
دیکھیں ابھی محبت کیا کیا ہمیں دکھاوے
ہیں پائوں اس کے نازک گل برگ سے بجا ہے
عاشق جو رہگذر میں آنکھوں کے تیں بچھاوے
یوں خاک منھ پہ مل کر کب تک پھرا کروں میں
یارب زمیں پھٹے تو یہ روسیہ سماوے
اے کاش قصہ میرا ہر فرد کو سنا دیں
تا دل کسو سے اپنا کوئی نہ یاں لگاوے
ترک بتاں کا مجھ سے لیتے ہیں قول یوں ہی
کیا ان سے ہاتھ اٹھائوں گو اس میں جان جاوے
عاشق کو مر گئے ہی بنتی ہے عاشقی میں
کیا جان جس کی خاطر شرمندگی اٹھاوے
جی میں بگڑ رہا ہے تب میر چپ ہے بیٹھا
چھیڑو ابھی تو کیا کیا باتیں بنا کے لاوے
میر تقی میر

ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے

دیوان دوم غزل 997
الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے
ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے
جو خواہش نہ ہوتی تو کاہش نہ ہوتی
ہمیں جی سے مارا تری آرزو نے
نہ بھائیں تجھے میری باتیں وگرنہ
رکھی دھوم شہروں میں اس گفتگو نے
رقیبوں سے سر جوڑ بیٹھو ہو کیونکر
ہمیں تو نہیں دیتے ٹک پائوں چھونے
پھر اس سال سے پھول سونگھا نہ میں نے
دوانہ کیا تھا مجھے تیری بو نے
مداوا نہ کرنا تھا مشفق ہمارا
جراحت جگر کے لگے دکھنے دونے
کڑھایا کسو کو کھپایا کسو کو
برائی ہی کی سب سے اس خوبرو نے
وہ کسریٰ کہ ہے شور جس کا جہاں میں
پڑے ہیں گے اس کے محل آج سونے
تری چال ٹیڑھی تری بات روکھی
تجھے میر سمجھا ہے یاں کم کسو نے
میر تقی میر

الفت سے محبت سے مل بیٹھنا کیا جانے

دیوان دوم غزل 996
بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے
الفت سے محبت سے مل بیٹھنا کیا جانے
دل دھڑکے ہے جاتے کچھ بت خانے سے کعبے کو
اس راہ میں پیش آوے کیا ہم کو خدا جانے
ہے محو رخ اپنا تو آئینے میں ہر ساعت
صورت ہے جو کچھ دل کی سو تیری بلا جانے
کچھ اس کی بندھی مٹھی اس باغ میں گذرے ہے
جو زخم جگر اپنے جوں غنچہ چھپا جانے
کیا سینے کے جلنے کو ہنس ہنس کے اڑاتا ہوں
جب آگ کوئی گھر کو اس طور لگا جانے
میں مٹی بھی لے جائوں دروازے کی اس کے تو
اس درد محبت کی جو کوئی دوا جانے
اپنے تئیں بھی کھانا خالی نہیں لذت سے
کیا جانے ہوس پیشہ چکھے تو مزہ جانے
یوں شہر میں بہتیرے آزاردہندے ہیں
تب جانیے جب کوئی اس ڈھب سے ستا جانے
کیا جانوں رکھو روزے یا دارو پیو شب کو
کردار وہی اچھا تو جس کو بھلا جانے
آگاہ نہیں انساں اے میر نوشتے سے
کیا چاہیے ہے پھر جو طالع کا لکھا جانے
میر تقی میر

عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے

دیوان دوم غزل 995
جیسے اندوہ محرم عشق کب تک دل ملے
عید سی ہوجائے اپنے ہاں لگے جو تو گلے
دین و مذہب عاشقوں کا قابل پرسش نہیں
یہ ادھر سجدہ کریں ابرو جدھر اس کی ہلے
یہ نہیں میں جانتا نسبت ہے کیا آپس میں لیک
آنکھیں ہوجاتی ہیں ٹھنڈی اس کے تلووں سے ملے
ہائے کس حسرت سے شبنم نے سحر رو کر کہا
خوش رہو اے ساکنان باغ اب تو ہم چلے
مردمان شہر خوبی پر کریں کیا دل کو عرض
ایسی جنس ناروا کو مفت کوئی واں نہ لے
کل جو ہم کو یاد آیا باغ میں قد یار کا
خوب روئے ہر نہال سبز کے سائے تلے
جمع کر خاطر مرے جینے سے مجھ کو خوب ہے
جی بچا تب جانیے جب سر سے یہ کلول ٹلے
گرچہ سب ہیں گے مہیاے طریق نیستی
طے بہت دشوار کی یہ رہگذر ہم نے ولے
ہر قدم پر جی سے جانا ہر دم اوپر بے دمی
لمحہ لمحہ آگے تھے کیا کیا قیامت مرحلے
جلنے کو جلتے ہیں سب کے اندرونے لیک میر
جب کسو کی اس وتیرے سے کہیں چھاتی جلے
میر تقی میر

یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے

دیوان دوم غزل 994
یا پہلے وے نگاہیں جن سے کہ چاہ نکلے
یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے
کیونکر نہ چپکے چپکے یوں جان سے گذریے
کہیے بتھا جو اس سے باتوں کی راہ نکلے
زردی رنگ و رونا دونوں دلیل کشتن
خوش طالعی سے میری کیا کیا گواہ نکلے
اے کام جاں ہے تو بھی کیا ریجھ کا پچائو
مر جایئے تو منھ سے تیرے نہ واہ نکلے
خوبی و دلکشی میں صدچند ہے تو اس سے
تیرے مقابلے کو کس منھ سے ماہ نکلے
یاں مہر تھی وفا تھی واں جور تھے ستم تھے
پھر نکلے بھی تو میرے یہ ہی گناہ نکلے
غیروں سے تو کہے ہے اچھی بری سب اپنی
اے یار کب کے تیرے یہ خیر خواہ نکلے
رکھتے تو ہو مکدر پر اس گھڑی سے ڈریو
جب خاک منھ پہ مل کر یہ روسیاہ نکلے
اک خلق میر کے اب ہوتی ہے آستاں پر
درویش نکلے ہے یوں جوں بادشاہ نکلے
میر تقی میر

چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے

دیوان دوم غزل 993
سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے
چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے
مارگیری سے زمانے کی نہ دل کو جمع رکھ
چال دھیمی اس کی ایسی ہے کہ جوں اجگر چلے
کیونکے ان کا کوئی وارفتہ بھلا ٹھہرا رہے
جنبش ان پلکوں کو ہوتی ہے کہ جوں خنجر چلے
اب جو وہ سرمایۂ جاں یاں تلک آیا تو کیا
راہ تکتے تکتے اس کی ہم تو آخر مر چلے
میں نہ کہتا تھا دم بسمل مرے مت آئیو
لوٹتے دامن کی اپنے زہ لہو میں بھر چلے
چھوڑ جانا جاں بہ لب ہم کو کہاں کا ہے سلوک
گھر کے گھر یاں بیٹھے جاتے ہیں تم اٹھ کر گھر چلے
صاف سارا شہر اس انبوہ خط میں لٹ گیا
کچھ نہیں رہتا ہے واں جس راہ ہو لشکر چلے
پائوں میں مارا ہے تیشہ میں نے راہ عشق میں
ہو سو ہو اب گوکہ آرا بھی مرے سر پر چلے
لائے تھے جاکر ابھی تو اس گلی میں سے پکار
چپکے چپکے میر جی تم اٹھ کے پھر کیدھر چلے
میر تقی میر

عاشق بے حال دونوں ہاتھ سے دل تھام لے

دیوان دوم غزل 992
کب تلک احوال یہ جب کوئی تیرا نام لے
عاشق بے حال دونوں ہاتھ سے دل تھام لے
ناتوانی سے اگر مجھ میں نہیں ہے جی تو کیا
عشق جو چاہے تو مردے سے بھی اپنا کام لے
پہلوے عاشق نہ بستر سے لگے تو ہے بجا
دل سی آفت ہو بغل میں جس کے کیا آرام لے
اب دل نالاں پھر اس زلف سیہ میں جاچکا
آج یہ بیمار دیکھیں کس طرح سے شام لے
شاخ گل تیری طرف جھکتی جو ہے اے مست ناز
چاہتی ہے تو بھی میرے ہاتھ سے اک جام لے
دل کی آسائش نہیں امکان زلف یار میں
یہ شکار مضطرب ہے دم نہ زیر دام لے
عزت اے پیر مغاں کچھ حاجیوں کی ہے ضرور
آئے ہیں تیرے کنے ہم جامۂ احرام لے
کیا بلا مفتی کا لونڈا سر چڑھا ہے ان دنوں
آوے ہے گویا کہ مجھ پر قاضی کا اعلام لے
ہم نشیں کہہ مت بتوں کی میر کو تسبیح ہے
کام کیا اس ذکر سے ان کو خدا کا نام لے
میر تقی میر

اس لیے دیکھ رہا ہے کہ مجھے آگ لگے

دیوان دوم غزل 991
غیر کو دیکھے ہے گرمی سے نہ کچھ لاگ لگے
اس لیے دیکھ رہا ہے کہ مجھے آگ لگے
آنکھ ہر ایک کی دوڑے ہے کفک پر تیرے
پائوں سے لگ کے ترے مہندی کو کچھ بھاگ لگے
ہو نہ دیوانہ جو اس گوہر خوش آب کا تو
لب دریا کے تئیں کیوں رہیں یوں جھاگ لگے
اب تو ان گیسوئوں کی یاد میں میں محو ہوا
گو قیامت کو مرے منھ سے ہوں دو ناگ لگے
لڑکے دلی کے ترے ہاتھ میں کب آئے میر
پیچھے ایک ایک کے سو سو پھریں ہیں ڈاگ لگے
میر تقی میر

کیا کیا نہال دیکھتے یاں پائوں آ لگے

دیوان دوم غزل 990
اس باغ بے ثبات میں کیا دل صبا لگے
کیا کیا نہال دیکھتے یاں پائوں آ لگے
حرص و ہوس سے باز رہے دل تو خوب ہے
ہے قہر اس کلی کے تئیں گر ہوا لگے
تلخ اب تو اپنے جی کو بھی لگتی ہے اس نمط
جیسے کسو کے زخم پہ تیر اک دو آ لگے
کس کو خبر ہے کشتی تباہوں کے حال کی
تختہ مگر کنارے کوئی بہ کے جا لگے
ایسے لگے پھرے ہیں بہت سائے کی روش
جانے دے ایسی حور پری سے بلا لگے
وہ بھی چمن فروز تو بلبل ہے سامنے
گل ایسے منھ کے آگے بھلا کیا بھلا لگے
پس جائیں یار آنکھ تری سرمگیں پڑے
دل خوں ہو تیرے پائوں میں بھر کر حنا لگے
بن ہڈیوں ہماری ہما کچھ نہ کھائے گا
ٹک چاشنی عشق کا اس کو مزہ لگے
خط مت رکھو کہ اس میں بہت ہیں قباحتیں
رکھیے تمھارے منھ پہ تو تم کو برا لگے
مقصود کے خیال میں بہتوں نے چھانی خاک
عالم تمام وہم ہے یاں ہاتھ کیا لگے
سب چاہتے ہیں دیر رہے میر دل زدہ
یارب کسو تو دوست کی اس کو دعا لگے
میر تقی میر

دل جو یہ ہے تو ہم آرام نہیں پانے کے

دیوان دوم غزل 989
کتنے روزوں سے نہ سونے کے ہیں نے کھانے کے
دل جو یہ ہے تو ہم آرام نہیں پانے کے
ہائے کس خوبی سے آوارہ رہا ہے مجنوں
ہم بھی دیوانے ہیں اس طور کے دیوانے کے
عزم ہے جزم کہ اب کے حرکت شہر سے کر
ہوجے دل کھول کے ساکن کسو ویرانے کے
آہ کیا سہل گذر جاتے ہیں جی سے عاشق
ڈھب کوئی سیکھ لے ان لوگوں سے مرجانے کے
جمع کرتے ہو جو گیسوے پریشاں کو مگر
ہو تردد میں کوئی تازہ بلا لانے کے
کاہے کو آنکھ چھپاتے ہو یہی ہے گر چال
ایک دو دن میں نہیں ہم بھی نظر آنے کے
ہاتھ چڑھ جائیو اے شیخ کسو کے نہ کبھو
لونڈے سب تیرے خریدار ہیں میخانے کے
خاک سے چرخ تلک اب تو رکا جاتا ہے
ڈول اچھے نہیں کچھ جان کے گھبرانے کے
لے بھی اے غیرت خورشید کہیں منھ پہ نقاب
مقتضی دن نہیں اب منھ کے یہ دکھلانے کے
لالہ و گل ہی کے مصروف رہو ہو شب و روز
تم مگر میر جی سید ہو گلستانے کے
میر تقی میر

دیکھا نہ تم نے ایدھر صرفے سے اک نظر کے

دیوان دوم غزل 988
دل خوں ہوا ہمارا ٹکڑے ہوئے جگر کے
دیکھا نہ تم نے ایدھر صرفے سے اک نظر کے
چشمے کہیں ہیں جوشاں جوئیں کہیں ہیں جاری
آثار اب تلک ہیں یاروں کی چشم تر کے
رہنے کی اپنے جا تو نے دیر ہے نہ کعبہ
اٹھیے جو اس کے در سے تو ہوجیے کدھر کے
اس شعر و شاعری پر اچھی بندھی نہ ہم سے
محوخیال شاعر یوں ہی ہیں اس کمر کے
دنیا میں ہے بسیرا یارو سرائے کا سا
یہ رہروان ہستی عازم ہیں سب سفر کے
وے یہ ہی چھاتیاں ہیں زخموں سے جو بھری ہیں
کیا ہے جو بوالہوس نے دوچار کھائے چرکے
تہ بے خودی کی اپنی کیا کچھ ورے دھری ہے
ہم بے خبر ہوئے ہیں پہنچے کسو خبر کے
اس آستاں کی دوری اس دل کی ناصبوری
کیا کہیے آہ غم سے گھر کے ہوئے نہ در کے
خاک ایسی عاشقی میں ٹھکرائے بھی گئے کل
پائوں کنے سے اس کے پر میر جی نہ سرکے
میر تقی میر

اس کی گلی کا ساکن ہرگز ادھر نہ جھانکے

دیوان دوم غزل 987
خوبی کی اپنی جنت کیسی ہی ڈینگیں ہانکے
اس کی گلی کا ساکن ہرگز ادھر نہ جھانکے
ایک ایک بات اوپر ہیں پیچ و تاب سو سو
رہتے نہیں ہیں سیدھے یہ لونڈے ٹیڑھے بانکے
سر کو اس آستاں پر رکھے رہیں تو بہتر
اٹھیے جو اس کے در سے تو ہوجیے کہاں کے
گردش سے روسیہ کی کیا کیا بلائیں آئیں
جانے ہی کے ہیں لچھن سارے اس آسماں کے
مشتاق ہم جو ایسے سو ہم ہی سے ہے پردہ
جب اس طرف سے نکلے تب منھ کو اپنے ڈھانکے
ہے پرغبار عالم جانا ہی یاں سے اچھا
اس خاکداں میں رہ کر کیا کوئی خاک پھانکے
کل باغ میں گئے تھے روئے چمن چمن ہم
کچھ سرو میں جو پائے انداز اس جواں کے
جاناں کی رہ سے آنکھیں جس تس کی لگ رہی ہیں
رفتہ ہیں لوگ سارے ان پائوں کے نشاں کے
خمیازہ کش رہے ہے اے میر شوق سے تو
سینے کے زخم کے کہہ کیونکر رہیں گے ٹانکے
میر تقی میر

کیا تمھیں یاں سے چلے جاتے ہو ہم بھی جاچکے

دیوان دوم غزل 986
بے خودی جو یہ ہے تو ہم آپ میں اب آچکے
کیا تمھیں یاں سے چلے جاتے ہو ہم بھی جاچکے
تم یہی کہتے رہے یہ اور گل تازہ کھلا
زخم بھی ہم نے اٹھائے داغ بھی ہم کھا چکے
ایک بوسہ دے نہ منھ برسوں لگایا واہ واہ
اب تو ٹک بولو جزا ہم اس عمل کی پا چکے
یاں تلک آنے میں جتنا مکث کرتے ہو کرو
اب تو جانا جان سے ناچار ہم ٹھہرا چکے
اب چمن میں جا نکلتے ہیں تو جی لگتا نہیں
پھول گل سے میر اس بن دل بہت بہلا چکے
میر تقی میر

وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے

دیوان دوم غزل 985
دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے
وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے
افراط اشتیاق میں سمجھے نہ اپنا حال
دیکھے ہیں سوچ کرکے تو اب ہم بھی ہوچکے
کہتا ہے میر سانجھ ہی سے آج درد دل
ایسی کہانی گرچہ نندھی ہے تو سو چکے
میر تقی میر

واں میں بھی ہوں مدام شہادت کے واسطے

دیوان دوم غزل 984
کھینچے جہاں تو تیغ جلادت کے واسطے
واں میں بھی ہوں مدام شہادت کے واسطے
سجدہ کوئی کرے تو در یار پر کرے
ہے جاے پاک شرط عبادت کے واسطے
آئے نہ تم تو درپس دیوار مجھ تلک
کھینچے ہیں لوگ رنج عیادت کے واسطے
خوش طالعی صبح جو اس منھ پہ ہے سفید
پھرتا ہے مہ بھی اس ہی سعادت کے واسطے
ہے میر پیر لیک سوے میکدہ مدام
جاتا ہے مغبچوں کی ارادت کے واسطے
میر تقی میر

یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے

دیوان دوم غزل 983
برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے
یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے
کلی بیرنگ مرجھائی نظر آتی ہے ظاہر ہے
ہماری بے کلی گل ہاے تصویر نہالی سے
بھری آنکھیں کسو کی پونچھتے جو آستیں رکھتے
ہوئی شرمندگی کیا کیا ہمیں اس دست خالی سے
جو مر رہیے بھی تنگ آکر تو پروا کچھ نہ ہو اس کو
پڑا ہے کام مجھ ناکام کو کس لاابالی سے
جہاں رونے لگے ٹک بے دماغی وہ لگا کرنے
قیامت ضد ہے اس کو عاشقی کی زارنالی سے
دماغ حرف لعل ناب و برگ گل سے ہے تم کو
ہمیں جب گفتگو ہے تب کسو کے لب کی لالی سے
ریاضات محبت نے رکھا ہے ہم میں کیا باقی
نمود اک کرتے ہیں ہم یوں ہی اب شکل مثالی سے
ہم اس راہ حوادث میں بسان سبزہ واقع ہیں
کہ فرصت سر اٹھانے کی نہیں ٹک پائمالی سے
سرہانے رکھ کے پتھر خاک پر ہم بے نوا سوئے
پڑے سر ماریں طالع مند اپنا سنگ قالی سے
کبھو میں عین رونے میں جگر سے آہ کرتا ہوں
کہ دل اٹھ جائیں یاروں کے ہواے برشگالی سے
یہی غم اس دہن کا ہے کہ فکر اس کی کمر کی ہے
کہے سو کیا کوئی ہیں میر صاحب کچھ خیالی سے
میر تقی میر

فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے

دیوان دوم غزل 982
مرا دل پیر و مرشد ہے مجھے ہے اعتقاد اس سے
فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے
بلا انداز ہے اس کا قیامت ناز ہے اس کا
اٹھے فتنے ہزار اس سے ہوئے لاکھوں فساد اس سے
نزاکت جیسی ہے ویسا ہی دل بھی سخت ہے اس کا
اگرچہ شیشۂ جاں ہے پہ بہتر ہے جماد اس سے
کسے ہیں بند ان نے کیسے کس درویش سے ملیے
جو ایسے سخت عقدوں کی طلب کریے کشاد اس سے
بھلا یوں گھٹ کے مریے کب تلک دل خوں ہوا سارا
جو کوئی دادگر ہووے تو کریے جاکے داد اس سے
لگے ہی ایک دو رہتے ہیں مہلت بات کی کیسی
ہوا ہے دشمنوں کو کچھ قیامت اتحاد اس سے
پہنچ کر تہ کو ہم تو محض محرومی ہی پاتے ہیں
مراد دل کو پہنچا ہو گا کوئی نامراد اس سے
لیے ہی میان سے رہتا ہے کوئی یہ نہیں کہتا
نکالا ہے کہاں کا تونے اے ظالم عناد اس سے
ادھر توبہ کرے ہے میر ادھر لگتا ہے مے پینے
کہاں تک اب تو اپنا اٹھ گیا ہے اعتماد اس سے
میر تقی میر

ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے

دیوان دوم غزل 981
وہ کہاں دھوم جو دیکھی گئی چشم تر سے
ابر کیا کیا اٹھے ہنگامے سے کیا کیا برسے
ہو برافروختہ وہ بت جو مئے احمر سے
آگ نکلے ہے تماشے کے تئیں پتھر سے
ڈھب کچھ اچھا نہیں برہم زدن مژگاں کا
کاٹ ڈالے گا گلا اپنا کوئی خنجر سے
تھا نوشتے میں کہ یوں سوکھ کے مریے اس بن
استخواں تن پہ نمودار ہیں سب مسطر سے
یوں تو دس گز کی زباں ہم بھی بتاں رکھتے ہیں
بات کو طول نہیں دیتے خدا کے ڈر سے
سیر کرنے جو چلے ہے کبھو وہ فتنہ خرام
شہر میں شور قیامت اٹھے ہے ہر گھر سے
عشق کے کوچے میں پھر پائوں نہیں رکھنے کے ہم
اب کے ٹل جاتی ہے کلول یہ اگر سر پر سے
مہر کی اس سے توقع غلطی اپنی تھی
کہیں دلداری ہوئی بھی ہے کسو دلبر سے
کوچۂ یار ہے کیا طرفہ بلاخیز مقام
آتے ہیں فتنہ و آشوب چلے اودھر سے
ساتھ سونا جو گیا اس کا بہت دل تڑپا
برسوں پھر میر یہ پہلو نہ لگے بستر سے
میر تقی میر

کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے

دیوان دوم غزل 980
برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے
کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے
تڑپے اسیر ہوتے جو ہم یک اٹھا غبار
سوجھا نہ ہم کو دیر تلک چشم دام سے
دنبال ہر نگاہ ہے صد کاروان اشک
برسے ہے چشم ابر بڑی دھوم دھام سے
محو اس دہان تنگ کے ہیں کوئی کچھ کہو
رہتا ہے ہم کو عشق میں کام اپنے کام سے
یوسفؑ کے پیچھے خوار زلیخا عبث ہوئی
کب صاحبی رہی ہے مل ایسے غلام سے
لڑکے ہزاروں جھولی میں پتھر لیے ہیں ساتھ
مجنوں پھرا ہے کاہے کو اس ازدحام سے
وہ ناز سے چلا کہیں تو حشر ہوچکے
پھر بحث آپڑے گی اسی کے خرام سے
جھک جھک سلام کرنے سے سرکش ہوا وہ اور
ہو بیٹھے ناامید جواب سلام سے
وے دن گئے کہ رات کو یک جا معاش تھی
آتا ہے اب تو ننگ اسے میرے نام سے
سرگرم جلوہ بدر ہو ہر چند شب کو لیک
کب جی لگیں ہیں اپنے کسو ناتمام سے
دل اور عرش دونوں پہ گویا ہے ان کی سیر
کرتے ہیں باتیں میر جی کس کس مقام سے
میر تقی میر

مانا ہے حضور اس کے چراغ سحری سے

دیوان دوم غزل 979
کیا خور ہو طرف یار کے روشن گہری سے
مانا ہے حضور اس کے چراغ سحری سے
سبزان چمن ہوویں برابر ترے کیوں کر
لگتا ہے ترے سائے کو بھی ننگ پری سے
ہشیار کہ ہے راہ محبت کی خطرناک
مارے گئے ہیں لوگ بہت بے خبری سے
ایک آن میں رعنائیاں تیری تو ہیں سو سو
کب عہدہ برآئی ہوئی اس عشوہ گری سے
زنجیر تو پائوں میں لگی رہنے ہمارے
کیا اور ہو رسوا کوئی آشفتہ سری سے
جب لب ترے یاد آتے ہیں آنکھوں سے ہماری
تب ٹکڑے نکلتے ہیں عقیق جگری سے
عشق آنکھوں کے نیچے کیے کیا میر چھپے ہے
پیدا ہے محبت تری مژگاں کی تری سے
میر تقی میر

اثبات ہوا جرم محبت کا اسی سے

دیوان دوم غزل 978
تابوت مرا دیر اٹھا اس کی گلی سے
اثبات ہوا جرم محبت کا اسی سے
تم چھیڑتے ہو بزم میں مجھ کو تو ہنسی سے
پر مجھ پہ جو ہو جائے ہے پوچھو مرے جی سے
آتش بہ جگر اس در نایاب سے سب ہیں
دریا بھی نظر آئے اسی خشک لبی سے
گر ٹھہرے ملک آگے انھوں کے تو عجب ہے
پھرتے ہیں پڑے دلی کے لونڈے جو پری سے
نکلا جو کوئی واں سے تو پھر مر ہی کے نکلا
اس کوچے سے جاتے ہوئے دیکھا کسے جی سے
ہمسائے مجھے رات کو رویا ہی کرے ہیں
سوتے نہیں بے چارے مری نالہ کشی سے
تم نے تو ادھر دیکھنے کی کھائی ہے سوگند
اب ہم بھی لڑا بیٹھتے ہیں آنکھ کسی سے
چھاتی کہیں پھٹ جائے کہ ٹک دل بھی ہوا کھائے
اب دم تو لگے رکنے ہماری خفگی سے
اس شوخ کا تمکین سے آنا ہے قیامت
اکتانے لگے ہم نفساں تم تو ابھی سے
نالاں مجھے دیکھے ہیں بتاں تس پہ ہیں خاموش
فریاد ہے اس قوم کی فریاد رسی سے
تالو سے زباں رات کو مطلق نہیں لگتی
عالم ہے سیہ خانہ مری نوحہ گری سے
بے رحم وہ تجھ پاس لگا بیٹھنے جب دیر
ہم میر سے دل اپنے اٹھائے تھے تبھی سے
میر تقی میر

گفتار اس کی کبر سے رفتار ناز سے

دیوان دوم غزل 977
کرتا ہے کب سلوک وہ اہل نیاز سے
گفتار اس کی کبر سے رفتار ناز سے
یوں کب ہمارے آنسو پچھیں ہیں کہ تونے شوخ
دیکھا کبھو ادھر مژئہ نیم باز سے
خاموش رہ سکے نہ تو بڑھ کر بھی کچھ نہ کہہ
سر شمع کا کٹے ہے زبان دراز سے
اب جا کسو درخت کے سائے میں بیٹھیے
اس طور پھریے کب تئیں بے برگ و ساز سے
یہ کیا کہ دشمنوں میں مجھے ساننے لگے
کرتے کسو کو ذبح بھی تو امتیاز سے
مانند شمع ٹپکے ہی پڑتے ہیں اب تو اشک
کچھ جلتے جلتے ہو گئے ہیں ہم گداز سے
شاید کہ آج رات کو تھے میکدے میں میر
کھیلے تھا ایک مغبچہ مہر نماز سے
میر تقی میر

آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے

دیوان دوم غزل 976
کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوری بتاں سے
آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے
تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم
جی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے
جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں
رکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے
کیا خوبی اس کے منھ کی اے غنچہ نقل کریے
تو تو نہ بول ظالم بو آتی ہے دہاں سے
آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو
حیران ہوں یہ شوخی آئی تمھیں کہاں سے
سبزان باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے
دلچسپ کاہے کو ہیں اس بے وفا جواں سے
کی شست و شو بدن کی جس دن بہت سی ان نے
دھوئے تھے ہاتھ میں نے اس دن ہی اپنی جاں سے
خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب
ہر یک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے
اتنی بھی بدمزاجی ہر لحظہ میر تم کو
الجھائو ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے
میر تقی میر

نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے

دیوان دوم غزل 975
بہار آئی ہے غنچے گل کے نکلے ہیں گلابی سے
نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے
گروں ہوں ہر قدم پر میں ڈھہا جاتا ہے جی ہر دم
پہنچتا ہوں کبھو در پر ترے سو اس خرابی سے
نہ ٹھہری ایک چشمک بھی بسان برق آنکھوں میں
کلیجہ جل گیا اے عمر تیری تو شتابی سے
نکل آتے ہو گھر سے چاند سے یہ کیا طرح پکڑی
قیامت ہورہے گی ایک دن اس بے حجابی سے
یہ جھگڑا تنگ آ کر میں رکھا روزشمار اوپر
کروں کیا تم تو لڑنے لگتے ہو حرف حسابی سے
بہت رویا نوشتے پر میں اپنے دیکھ قاصد کو
کہ سر ڈالے غریب آتا تھا خط کی بے جوابی سے
مبادا کارواں جاتا رہے تو صبح سوتا ہو
بہت ڈرتا ہوں میں اے میر تیری دیر خوابی سے
میر تقی میر

ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے

دیوان دوم غزل 974
وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے
ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے
عزیزاں غم میں اپنے یوسفؑ گم گشتہ کے ہر دم
چلے جاتے ہیں آنسو کارواں در کارواں میرے
تمھاری دشمنی ہم دوستوں سے لا نہایت ہے
وگرنہ انتہا کینے کو بھی ہے مہرباں میرے
لب و لہجہ غزل خوانی کا کس کو آج کل ایسا
گھڑی بھر کو ہوئے مرغ چمن ہم داستاں میرے
نظر مت بے پری پر کر کہ آں سوے جہاں پھر ہوں
ہوئے پرواز کے قابل یہ ٹوٹے پر جہاں میرے
کہاں تک سر کو دیواروں سے یوں مارا کرے کوئی
رکھوں اس در پہ پیشانی نصیب ایسے کہاں میرے
مجھے پامال کر یکساں کیا ہے خاک سے تو بھی
وہی رہتا ہے صبح و شام درپے آسماں میرے
خزاں کی بائو سے حضرت میں گلشن کے تطاول تھا
تبرک ہو گئے یک دست خارآشیاں میرے
کہا میں شوق میں طفلان تہ بازار کے کیا کیا
سخن مشتاق ہیں اب شہر کے پیر و جواں میرے
زمیں سر پر اٹھا لی کبک نے رفتار رنگیں سے
خراماں ناز سے ہو تو بھی اے سرو رواں میرے
سخن کیا میر کریے حسرت و اندوہ و حرماں سے
بیاں حاجت نہیں حالات ہیں سارے عیاں میرے
میر تقی میر

ہاتھ لگتے میلے ہوتے ہو لطافت ہائے رے

دیوان دوم غزل 973
بو کیے کمھلائے جاتے ہو نزاکت ہائے رے
ہاتھ لگتے میلے ہوتے ہو لطافت ہائے رے
یار بے پروا و مفتر اور میں بے اختیار
پیش کچھ جاتی نہیں منت سماجت ہائے رے
سختی کھینچی کوہکن نے قیس نے رنج و تعب
کیا گئی برباد ان یاروں کی محنت ہائے رے
شور اٹھتا ہے جو ہوتے جلوہ گر ہو ناز سے
کھینچنا قد کا بلا آفت قیامت ہائے رے
خانقہ والے ہی کچھ تنہا نہیں الفت میں خوار
کیسے کیسوں کی گئی ہے مفت عزت ہائے رے
عشق میں افسوس سا افسوس اپنا کرچکے
زیر لب کہتے رہے ہم ایک مدت ہائے رے
ریجھنے ہی کے ہے قابل یار کی ترکیب میر
واہ وا رے چشم و ابرو قد و قامت ہائے رے
میر تقی میر

ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے

دیوان دوم غزل 972
مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے
ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے
سختی بہت ہے پاس و مراعات عشق میں
پتھر کے دل جگر ہوں تو کوئی وفا کرے
خالی کروں ہوں رو رو کے راتوں کو دل کے تیں
انصاف کر کہ یوں کوئی دن کب تلک بھرے
رندھنے نے جی کے خاک میں ہم کو ملا دیا
گویا کہ آسمان بہت آگیا ورے
داڑھی کو تیری دیکھ کے ہنستے ہیں لڑکے شیخ
اس ریش خند کو بھی سمجھ ٹک تو مسخرے
جل تھل فقط نہیں مرے رونے سے بھر گئے
جنگل پڑے تھے سوکھے سو وہ بھی ہوئے ہرے
جی کو بچا رکھیں گے تو جانیں گے عشق میں
ہر چند میر صاحب قبلہ ہیں منگرے
میر تقی میر

گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے

دیوان دوم غزل 971
آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے
گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے
لالہ و گل کیوں نہ پھیکے اپنی آنکھوں میں لگیں
دیکھنے والے ہیں ہم تو رنگ احمر کے ترے
بے پرو بالی سے اب کے گوکہ بلبل تو ہے چپ
یاد ہیں سب کے تئیں وے چہچہے پر کے ترے
آج کا آیا تجھے کیا پاوے ہم حیران ہیں
ڈھونڈنے والے جو ہیں اے شوخ اکثر کے ترے
دیکھ اس کو حیف کھا کر سب مجھے کہنے لگے
واے تو گر ہیں یہی اطوار دلبر کے ترے
تازہ تر ہوتے ہیں نوگل سے بھی اے نازک نہال
صبح اٹھتے ہیں بچھے جو پھول بستر کے ترے
مشک عنبر طبلہ طبلہ کیوں نہ ہو کیا کام ہے
ہم دماغ آشفتہ ہیں زلف معنبر کے ترے
جی میں وہ طاقت کہاں جو ہجر میں سنبھلے رہیں
اب ٹھہرتے ہی نہیں ہیں پائوں ٹک سر کے ترے
داغ پیسے سے جو ہیں بلبل کے دل پر کس کے ہیں
یوں تو اے گل ہیں ہزاروں آشنا زر کے ترے
کوئی آب زندگی پیتا ہے یہ زہراب چھوڑ
خضر کو ہنستے ہیں سب مجروح خنجر کے ترے
نوح کا طوفاں ہمارے کب نظر چڑھتا ہے میر
جوش ہم دیکھے ہیں کیا کیا دیدئہ تر کے ترے
میر تقی میر

پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے

دیوان دوم غزل 970
اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے
پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے
ہمیشہ چشم ہے نمناک ہاتھ دل پر ہے
خدا کسو کو نہ ہم سا بھی دردمند کرے
بڑوں بڑوں کو جھکاتے ہی سر بنے اس دم
پکڑ کے تیغ وہ اپنی اگر بلند کرے
بیان دل کے بھی جلنے کو کریے مجلس میں
اچھلنے کودنے کو ترک اگر سپند کرے
نہ مجھ کو راہ سے لے جائے مکر دنیا کا
ہزار رنگ یہ فرتوت گو چھچھند کرے
سواے اس کے بڑی داڑھی میں ہے کیا اے شیخ
کہ جو کوئی تجھے دیکھے سو ریش خند کرے
دکھاوے آنکھ کبھو زلف کھولے منھ پہ کبھو
کبھو خرام سے رستے کے رستے بند کرے
اگرچہ سادہ ہے لیکن ربودن دل کو
ہزار پیچ کرے لاکھ لاکھ فند کرے
سخن یہی ہے جو کہتے ہیں شعر میر ہے سحر
زبان خلق کو کس طور کوئی بند کرے
میر تقی میر

پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے

دیوان دوم غزل 969
سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے
پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے
خشک سال وفا میں اک مدت
پلکیں لوہو میں تر رہیں پیارے
یک نظر دیکھنے کی حسرت میں
آنکھیں تو پانی ہو بہیں پیارے
پہنچی ہے ضعف سے یہ اب حالت
جہاں پہنچا رہا وہیں پیارے
تجھ گلی میں رہے ہے میر مگر
دیکھیں ہیں جب نہ تب نہیں پیارے
میر تقی میر

کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے

دیوان دوم غزل 968
میر ایک دم نہ اس بن تو تو جیا پیارے
کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے
رنگین ہم تو تجھ کو ایسا نہ جانتے تھے
تو نے تو عاشقوں کا لوہو پیا پیارے
دل کے تو زخم کا کچھ ہوتا نہیں تدارک
گو چاک سینہ تو نے میرا سیا پیارے
اس دام گاہ میں ہم جوں صید نیم بسمل
تڑپے بہت پہ تو نے کب دل لیا پیارے
ہو داغ میر تجھ بن مر بھی گیا ولے تو
آیا نہ گور پر ٹک لے کر دیا پیارے
میر تقی میر

حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے

دیوان دوم غزل 967
اک شور ہورہا ہے خوں ریزی میں ہمارے
حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے
زخم اس کے ہاتھ کے جو سینے پہ ہیں نمایاں
چھاتی لگے رہیں گے زیر زمیں بھی سارے
ہیں بدمزاج خوباں پر کس قدر ہیں دلکش
پائے کہاں گلوں نے یہ مکھڑے پیارے پیارے
بیٹھیں ہیں رونے کو تو دریا ہی رو اٹھیں ہیں
جوش و خروش یہ تھے تب ہم لگے کنارے
لاتے نہیں ہو مطلق سر تم فرو خدا سے
یہ ناز خوبرویاں بندے ہیں ہم تمھارے
کوئی تو ماہ پارہ اس بھی رواق میں ہے
چشمک زنی میں شب کو یوں ہی نہیں ہیں تارے
لگ کر گلے نہ سوئے اس منھ پہ منھ نہ رکھا
جی سے گئے ہم آخر ان حسرتوں کے مارے
بیتابی ہے دنوں کو بے خوابی ہے شبوں کو
آرام و صبر دونوں مدت ہوئی سدھارے
آفاق میں جو ہوتے اہل کرم تو سنتے
ہم برسوں رعد آسا بیتاب ہو پکارے
جل بجھیے اب تو بہتر مانند برق خاطف
جوں ابر کس کے آگے دامن کوئی پسارے
ہم نے تو عاشقی میں کھویا ہے جان کو بھی
صدقے ہیں میر جی کے وے ڈھونڈتے ہیں وارے
میر تقی میر

منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے

دیوان دوم غزل 966
گر ناز سے وہ سر پر لے تیغ آ نہ پہنچے
منزل کو عاشق اپنے مقصد کی جا نہ پہنچے
جیتے رہیں گے کیونکر ہم اے طبیب ناداں
بیمار ایسے تس پر مطلق دوا نہ پہنچے
لائق ترے نہیں ہے خصمی غیر لیکن
وہ باز کیونکے آوے جب تک سزا نہ پہنچے
ہر چند بہر خوباں سر مسجدوں میں مارے
پر ان کے دامنوں تک دست دعا نہ پہنچے
بن آہ دل کا رکنا بے جا نہیں ہمارا
کیا حال ہووے اس کا جس کو ہوا نہ پہنچے
اپنے سخن کی اس سے کس طور راہ نکلے
خط اس طرف نہ جاوے قاصد گیا نہ پہنچے
وہ میر شاہ خوبی پھر قدر دور اس کی
درویش بے نوا کی اس تک صدا نہ پہنچے
میر تقی میر

چشم بیمار کے دیکھ آنے کی رخصت دیجے

دیوان دوم غزل 965
یک مژہ اے دم آخر مجھے فرصت دیجے
چشم بیمار کے دیکھ آنے کی رخصت دیجے
نو گرفتار ہوں اس باغ کا رحم اے صیاد
موسم گل رہے جب تک مجھے مہلت دیجے
خوار و خستہ کئی پامال تری راہ میں ہیں
کیجیے رنجہ قدم ان کو بھی عزت دیجے
اپنے ہی دل کا گنہ ہے جو جلاتا ہے مجھے
کس کو لے مریے میاں اور کسے تہمت دیجے
چھوٹے ہیں قید قفس سے تو چمن تک پہنچیں
اتنی اے ضعف محبت ہمیں طاقت دیجے
مر گیا میر نہ آیا ترے جی میں اے شوخ
اپنے محنت زدہ کو بھی کبھی راحت دیجے
میر تقی میر

آسماں کو سیاہ کر لیجے

دیوان دوم غزل 964
صبح ہے کوئی آہ کر لیجے
آسماں کو سیاہ کر لیجے
چشم گل باغ میں مندی جا ہے
جو بنے اک نگاہ کر لیجے
ابر رحمت ہے جوش میں مے دے
یعنی ساقی گناہ کر لیجے
میر تقی میر

کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی

دیوان دوم غزل 963
متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی
دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی
مزاجوں میں یاس آگئی ہے ہمارے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی
نہ پوچھو کہ چھاتی کے جلنے نے آخر
عجب آگ دل میں جگر میں لگا دی
وفا لوگ آپس میں کرتے تھے آگے
یہ رسم کہن آہ تم نے اٹھا دی
جدا ان غزالان شہری سے ہوکر
پھرے ہم بگولے سے وادی بہ وادی
صبا اس طرف کو چلی جل گئے ہم
ہوا یہ سبب اپنے مرنے کا بادی
وہ نسخہ جو دیکھا بڑھا روگ دل کا
طبیب محبت نے کیسی دوا دی
ملے قصر جنت میں پیر مغاں کو
ہمیں زیر دیوار میخانہ جا دی
نہ ہو عشق کا شور تا میر ہرگز
چلے بس تو شہروں میں کریے منادی
میر تقی میر

کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی

دیوان دوم غزل 962
تجھ کنے بیٹھے گھٹا جاتا ہے جی
کاہشیں کیا کیا اٹھا جاتا ہے جی
یوں تو مردے سے پڑے رہتے ہیں ہم
پر وہ آتا ہے تو آجاتا ہے جی
ہائے اس کے شربتی لب سے جدا
کچھ بتاشا سا گھلا جاتا ہے جی
اب کے اس کی راہ میں جو ہو سو ہو
یا دب ہی آتا ہے یا جاتا ہے جی
کیا کہیں تم سے کہ اس شعلے بغیر
جی ہمارا کچھ جلا جاتا ہے جی
عشق آدم میں نہیں کچھ چھوڑتا
ہولے ہولے کوئی کھا جاتا ہے جی
اٹھ چلے پر اس کے غش کرتے ہیں ہم
یعنی ساتھ اس کے چلا جاتا ہے جی
آ نہیں پھرتا وہ مرتے وقت بھی
حیف ہے اس میں رہا جاتا ہے جی
رکھتے تھے کیا کیا بنائیں پیشتر
سو تو اب آپھی ڈھہا جاتا ہے جی
آسماں شاید ورے کچھ آگیا
رات سے کیا کیا رکا جاتا ہے جی
کاشکے برقع رہے اس رخ پہ میر
منھ کھلے اس کے چھپا جاتا ہے جی
میر تقی میر

اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی

دیوان دوم غزل 961
مطرب سے غزل میر کی کل میں نے پڑھائی
اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی
اس مطلع جاں سوز نے آ اس کے لبوں پر
کیا کہیے کہ کیا صوفیوں کی چھاتی جلائی
خاطر کے علاقے کے سبب جان کھپائی
اس دل کے دھڑکنے سے عجب کوفت اٹھائی
گو اس رخ مہتابی سے واں چاندنی چھٹکی
یاں رنگ شکستہ سے بھی چھٹتی ہے ہوائی
ہر بحر میں اشعار کہے عمر کو کھویا
اس گوہر نایاب کی کچھ بات نہ پائی
بھیڑیں ٹلیں اس ابروے خم دار کے ہلتے
لاکھوں میں اس اوباش نے تلوار چلائی
دل اور جگر جل کے مرے دونوں ہوئے خاک
کیا پوچھتے ہو عشق نے کیا آگ لگائی
قاصد کے تصنع نے کیا دل کے تئیں داغ
بیتاب مجھے دیکھ کے کچھ بات بنائی
چپکی ہے مری آنکھ لب لعل بتاں سے
اس بات کے تیں جانتی ہے ساری خدائی
میں دیر پہنچ کر نہ کیا قصد حرم پھر
اپنی سی جرس نے کی بہت ہرزہ درائی
فریاد انھیں رنگوں ہے گلزار میں ہر صبح
بلبل نے مری طرز سخن صاف اڑائی
مجلس میں مرے ہوتے رہا کرتے ہو چپکے
یہ بات مری ضد سے تمھیں کن نے بتائی
گردش میں جو ہیں میر مہ و مہر و ستارے
دن رات ہمیں رہتی ہے یہ چشم نمائی
میر تقی میر

طرف ہے مجھ سے اب ساری خدائی

دیوان دوم غزل 960
بتوں سے آنکھ کیوں میں نے لڑائی
طرف ہے مجھ سے اب ساری خدائی
نرا دھوکا ہی ہے دریاے ہستی
نہیں کچھ تہ سے تجھ کو آشنائی
بگڑتی ہی گئی صورت ہماری
گئے پر دل کے پھر کچھ بن نہ آئی
نہ نکلا ایک شب اس راہ وہ ماہ
بہت کی ہم نے طالع آزمائی
کہا تھا میں نہ دیکھو غیر کی اور
سو تم نے آنکھ مجھ سے ہی چھپائی
نہ ملیے خاک میں کہہ کیونکے پیارے
گذرتی ہے کڑی تیری جدائی
جفا اس کی نہ پہنچی انتہا کو
دریغا عمر نے کی بے وفائی
گلے اس مہ نے لگ کر ایک دو رات
مہینوں تک مری چھاتی جلائی
نہ تھا جب درمیاں آئینہ تب تک
تھی یک صورت کہ ہو جاوے صفائی
نظر اس کی پڑی چہرے پر اپنے
نمدپوشوں سے آنکھ اب کب ملائی
بڑھائی کس قدر بات اس کے قد کی
قیامت میر صاحب ہیں چوائی
میر تقی میر

اب کے جو آئے سفر سے خوب مہمانی ہوئی

دیوان دوم غزل 959
قوت کو پیرانہ سر دلی میں حیرانی ہوئی
اب کے جو آئے سفر سے خوب مہمانی ہوئی
بائولے سے جب تلک بکتے تھے سب کرتے تھے پیار
عقل کی باتیں کیاں کیا ہم سے نادانی ہوئی
لوہو پانی ایک دونوں نے کیا میرا ندان
یعنی دل لوہو ہوا سب چشم سب پانی ہوئی
کیا چھپا کچھ رہ گیا ہے مدعاے خط شوق
رقعہ وار اب اشک خونیں سے تو افشانی ہوئی
آنکھ اٹھاکر ٹک جو دیکھا گھر کے گھر بٹھلا دیے
اک نگہ میں سینکڑوں کی خانہ ویرانی ہوئی
مرتبہ واجب کا سمجھے آدمی ممکن نہیں
فہم سودائی ہوا یاں عقل دیوانی ہوئی
چاہ کر اس بے وفا کو آخر اپنی جان دی
دوستی اس کی ہماری دشمن جانی ہوئی
بلبل اس خوبی سے گل ہے سِیَّما سیماے یار
تو عبث اے بے حقیقت غنچہ پیشانی ہوئی
شیخ مت یاد بتاں کو رات کا سا ذکر جان
یاصنم گوئی ہماری کیا خداخوانی ہوئی
غنچۂ گل ہے گلابی پھول ہے جام شراب
توڑتے تو توڑی توبہ اب پشیمانی ہوئی
چشم ہوتے ہوتے تر کچھ سب بھری رہنے لگی
اب ہوئی خطرے کی جاگہ کشتی طوفانی ہوئی
دل تڑپتا تھا نہایت جان دے تسکین کی
بارے اپنی ایسی مشکل کی بھی آسانی ہوئی
جب سے دیکھا اس کو ہم نے جی ڈھہا جاتا ہے میر
اس خرابی کی یہ چشم روسیہ بانی ہوئی
میر تقی میر

آخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی

دیوان دوم غزل 958
عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
آخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی
عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا تھا صبح
دن چڑھے کیا جانوں آئینے کی کیا صورت ہوئی
لوح سینہ پر مری سو نیزئہ خطی لگے
خستگی اس دل شکستہ کی اسی بابت ہوئی
کھولتے ہی آنکھیں پھر یاں موندنی ہم کو پڑیں
دید کیا کوئی کرے وہ کس قدر مہلت ہوئی
پائوں میرا کلبۂ احزاں میں اب رہتا نہیں
رفتہ رفتہ اس طرف جانے کی مجھ کو لت ہوئی
مر گیا آوارہ ہوکر میں تو جیسے گردباد
پر جسے یہ واقعہ پہنچا اسے وحشت ہوئی
شاد و خوش طالع کوئی ہو گا کسو کو چاہ کر
میں تو کلفت میں رہا جب سے مجھے الفت ہوئی
دل کا جانا آج کل تازہ ہوا ہو تو کہوں
گذرے اس بھی سانحے کو ہم نشیں مدت ہوئی
شوق دل ہم ناتوانوں کا لکھا جاتا ہے کب
اب تلک آپھی پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی
کیا کف دست ایک میداں تھا بیاباں عشق کا
جان سے جب اس میں گذرے تب ہمیں راحت ہوئی
یوں تو ہم عاجزترین خلق عالم ہیں ولے
دیکھیو قدرت خدا کی گر ہمیں قدرت ہوئی
گوش زد چٹ پٹ ہی مرنا عشق میں اپنے ہوا
کس کو اس بیماری جانکاہ سے فرصت ہوئی
بے زباں جو کہتے ہیں مجھ کو سو چپ رہ جائیں گے
معرکے میں حشر کے گر بات کی رخصت ہوئی
ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل
چاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی
اس غزل پر شام سے تو صوفیوں کو وجد تھا
پھر نہیں معلوم کچھ مجلس کی کیا حالت ہوئی
کم کسو کو میر کی میت کی ہاتھ آئی نماز
نعش پر اس بے سر و پا کی بلا کثرت ہوئی
میر تقی میر

اس بے وفا کو ہم سے کچھ الفت نہیں رہی

دیوان دوم غزل 957
وہ رابطہ نہیں وہ محبت نہیں رہی
اس بے وفا کو ہم سے کچھ الفت نہیں رہی
دیکھا تو مثل اشک نظر سے گرا دیا
اب میری اس کی آنکھ میں عزت نہیں رہی
رندھنے سے جی کے کس کو رہا ہے دماغ حرف
دم لینے کی بھی ہم کو تو فرصت نہیں رہی
تھی تاب جی میں جب تئیں رنج و تعب کھنچے
وہ جسم اب نہیں ہے وہ قدرت نہیں رہی
منعم امل کا طول یہ کس جینے کے لیے
جتنی گئی اب اتنی تو مدت نہیں رہی
دیوانگی سے اپنی ہے اب ساری بات خبط
افراط اشتیاق سے وہ مت نہیں رہی
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
میر تقی میر

دوستی مدعی جانی تھی

دیوان دوم غزل 956
یار بن تلخ زندگانی تھی
دوستی مدعی جانی تھی
سر سے اس کی ہوا گئی نہ کبھو
عمر برباد یوں ہی جانی تھی
لطف پر اس کے ہم نشیں مت جا
کبھو ہم پر بھی مہربانی تھی
ہاتھ آتا جو تو تو کیا ہوتا
برسوں تک ہم نے خاک چھانی تھی
شیب میں فائدہ تامل کا
سوچنا تب تھا جب جوانی تھی
میرے قصے سے سب کی گئیں نیندیں
کچھ عجب طور کی کہانی تھی
عاشقی جی ہی لے گئی آخر
یہ بلا کوئی ناگہانی تھی
اس رخ آتشیں کی شرم سے رات
شمع مجلس میں پانی پانی تھی
پھر سخن نشنوی ہے ویسی ہی
رات ایک آدھ بات مانی تھی
کوے قاتل سے بچ کے نکلا خضر
اسی میں اس کی زندگانی تھی
فقر پر بھی تھا میر کے اک رنگ
کفنی پہنی سو زعفرانی تھی
میر تقی میر

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

دیوان دوم غزل 955
دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی
اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی
پامالی عاشق کو منظور رکھے جانا
پھر چال کڈھب چلنا ٹھوکر نہ لگانا بھی
برقع کو اٹھا دینا پر آدھے ہی چہرے سے
کیا منھ کو چھپانا بھی کچھ جھمکی دکھانا بھی
دیکھ آنکھیں مری نیچی اک مارنا پتھر بھی
ظاہر میں ستانا بھی پردے میں جتانا بھی
صحبت ہے یہ ویسی ہی اے جان کی آسائش
ساتھ آن کے سونا بھی پھر منھ کو چھپانا بھی
میر تقی میر

کیا ہی مست شراب ہے وہ بھی

دیوان دوم غزل 954
آج کچھ بے حجاب ہے وہ بھی
کیا ہی مست شراب ہے وہ بھی
میں ہی جلتا نہیں جدا دل سے
دور مجھ سے کباب ہے وہ بھی
سائل بوسہ سب گئے محروم
ایک حاضر جواب ہے وہ بھی
وہم جس کو محیط سمجھا ہے
دیکھیے تو سراب ہے وہ بھی
کم نہیں کچھ صبا سے اشک گرم
قاصد پرشتاب ہے وہ بھی
حسن سے دود دل نہیں خالی
زلف پرپیچ و تاب ہے وہ بھی
خانہ آباد کعبے میں تھا میر
کیا خدائی خراب ہے وہ بھی
میر تقی میر

کیا کہیے آج صبح عجب کچھ ہوا چلی

دیوان دوم غزل 953
جی رشک سے گئے جو ادھر کو صبا چلی
کیا کہیے آج صبح عجب کچھ ہوا چلی
کیا رنگ و بو و بادسحر سب ہیں گرم راہ
کیا ہے جو اس چمن میں ہے ایسی چلا چلی
تو دو قدم جو راہ چلا گرم اے نگار
مہندی کفک کی آگ دلوں میں لگا چلی
فتنہ ہے اس سے شہر میں برپا ہزار جا
تلوار اس کی چال پہ کیا ایک جا چلی
یہ جور و جورکش تھے کہاں آگے عشق میں
تجھ سے جفا و میر سے رسم وفا چلی
میر تقی میر

مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی

دیوان دوم غزل 952
رکھا گنہ وفا کا تقصیر کیا نکالی
مارا خراب کر کر تعزیر کیا نکالی
رہتی ہے چت چڑھی ہی دن رات تیری صورت
صفحے پہ دل کے میں نے تصویر کیا نکالی
چپ بھی مری جتائی اس سے مخالفوں نے
بات اور جب بنائی تقریر کیا نکالی
بس تھی ہمیں تو تیری ابرو کی ایک جنبش
خوں ریزی کو ہماری شمشیر کیا نکالی
کی اس طبیب جاں نے تجویز مرگ عاشق
آزار کے مناسب تدبیر کیا نکالی
دل بند ہے ہمارا موج ہواے گل سے
اب کے جنوں میں ہم نے زنجیر کیا نکالی
نامے پہ لوہو رو رو خط کھینچ ڈالے سارے
یہ میر بیٹھے بیٹھے تحریر کیا نکالی
میر تقی میر

سر ہمارے ہیں گوے میداں کی

دیوان دوم غزل 951
ٹپہ بازی سے چرخ گرداں کی
سر ہمارے ہیں گوے میداں کی
جی گیا اس کے تیر کے ہمراہ
تھی تواضع ضرور مہماں کی
ہیں لیے آبروے خنجر و تیغ
ترچھی پلکیں تری بھویں بانکی
پھوڑ ڈالیں گے سر ہی اس در پر
منت اٹھتی نہیں ہے درباں کی
سر دامن سے گفتگو کریے
بات بگڑی لب گریباں کی
اس بت شوخ کی ہے طینت میں
دشمنی میرے دین و ایماں کی
آدمی سے ملک کو کیا نسبت
شان ارفع ہے میر انساں کی
میر تقی میر

اس تختے نے بھی اب کے قیامت بہار کی

دیوان دوم غزل 950
کی سیر ہم نے سینۂ یکسر فگار کی
اس تختے نے بھی اب کے قیامت بہار کی
دریاے حسن یار تلاطم کرے کہیں
خواہش ہے اپنے جی میں بھی بوس و کنار کی
اپنا بھی جی اسیر تھا آواز عندلیب
دل میں چبھا کی رات کو جوں نوک خار کی
آنکھیں غبار لائیں مری انتظار میں
دیکھوں تو گرد کب اٹھے اس رہ گذار کی
مقدور تک تو ضبط کروں ہوں پہ کیا کروں
منھ سے نکل ہی جاتی ہے اک بات پیار کی
اب گرد سر پھروں ترے ہوں میں فقیر محض
رکھتا تھا ایک جان سو تجھ پر نثار کی
کیا صید کی تڑپ کو اٹھائے دماغ یار
نازک بہت ہے طبع مرے دل شکار کی
رکھتا نہیں طریق وفا میں کبھو قدم
ہم کچھ نہ سمجھے راہ و روش اپنے یار کی
کیا جانوں چشم تر سے ادھر دل پہ کیا ہوا
کس کو خبر ہے میر سمندر کے پار کی
میر تقی میر

اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی

دیوان دوم غزل 949
میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
خاطر بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں
خاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی
ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج
اپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی
مینھ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی
بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا
پر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی
کرکے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے
وہ نظر پائوں پہ وہ بات دوانی اس کی
اس کا وہ عجز تمھارا یہ غرور خوبی
منتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشک بہار
رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی
سرگذشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا
سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیے لوگوں کو
شہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمھاری تلوار
کیا عوض چاہ کا تھا خصمی جانی اس کی
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے
دردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل
حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی
میر تقی میر

دھوم ہے پھر بہار آنے کی

دیوان دوم غزل 948
کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی
دھوم ہے پھر بہار آنے کی
دل کا اس کنج لب سے دے ہیں نشاں
بات لگتی تو ہے ٹھکانے کی
وہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دور
ہے یہ تقریب جی کے جانے کی
تیز یوں ہی نہ تھی شب آتش شوق
تھی خبر گرم اس کے آنے کی
خضر اس خط سبز پر تو موا
دھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی
دل صد چاک باب زلف ہے لیک
بائو سی بندھ رہی ہے شانے کی
کسو کم ظرف نے لگائی آہ
تجھ سے میخانے کے جلانے کی
ورنہ اے شیخ شہر واجب تھی
جام داری شراب خانے کی
جو ہے سو پائمال غم ہے میر
چال بے ڈول ہے زمانے کی
میر تقی میر

ایک دل قطرئہ خوں تس پہ جفا کیا کیا کی

دیوان دوم غزل 947
ہم سے دیکھا کہ محبت نے ادا کیا کیا کی
ایک دل قطرئہ خوں تس پہ جفا کیا کیا کی
کس کو لاگی کہ نہ لوہو میں ڈبایا اس کو
اس کی شمشیر کی جدول بھی بہا کیا کیا کی
جان کے ساتھ ہی آخر مرض عشق گیا
جی بھلا ٹک نہ ہوا ہم نے دوا کیا کیا کی
ان نے چھوڑی نہ طرف جور و جفا کی ہرگز
ہم نے یوں اپنی طرف سے تو وفا کیا کیا کی
سجدہ اک صبح ترے در کا کروں اس خاطر
میں نے محراب میں راتوں کو دعا کیا کیا کی
آگ سی پھنکتی ہی دن رات رہا کی تن میں
جان غمناک ترے غم میں جلا کیا کیا کی
میر نے ہونٹوں سے اس کے نہ اٹھایا جی کو
خلق اس کے تئیں یہ سن کے کہا کیا کیا کی
میر تقی میر

ہم تک نہیں پہنچتی گل کی خبر عطر کچھ

دیوان دوم غزل 946
اب تو صبا چمن سے آتی نہیں ادھر کچھ
ہم تک نہیں پہنچتی گل کی خبر عطر کچھ
ذوق خبر میں ہم تو بے ہوش ہو گئے تھے
کیا جانے کب وہ آیا ہم کو نہیں خبر کچھ
یہ طشت و تیغ ہے اب یہ میں ہوں اور یہ تو
ہے ساتھ میرے ظالم دعویٰ تجھے اگر کچھ
وے دن گئے کہ بے غم کوئی گھڑی کٹے تھی
تھمتے نہیں ہیں آنسو اب تو پہر پہر کچھ
ان اجڑی بستیوں میں دیوار و در ہیں کیا کیا
آثار جن کے ہیں یہ ان کا نہیں اثر کچھ
واعظ نہ ہو معارض نیک و بد جہاں سے
جو ہوسکے تو غافل اپنا ہی فکر کر کچھ
آنکھوں میں میری عالم سارا سیاہ ہے اب
مجھ کو بغیر اس کے آتا نہیں نظر کچھ
ہم نے تو ناخنوں سے منھ سارا نوچ ڈالا
اب کوہکن دکھاوے رکھتا ہے گر ہنر کچھ
تلوار کے تلے ہی کاٹی ہے عمر ساری
ابروے خم سے اس کے ہم کو نہیں ہے ڈر کچھ
گہ شیفتہ ہیں مو کے گہ بائولے ہیں رو کے
احوال میر جی کا ہے شام کچھ سحر کچھ
میر تقی میر

جاں بہ لب رہتے ہیں پر کہتے نہیں ہیں حال کچھ

دیوان دوم غزل 945
آوے کہنے میں رہا ہو غم سے گر احوال کچھ
جاں بہ لب رہتے ہیں پر کہتے نہیں ہیں حال کچھ
بے زری سے داغ ہیں لیکن لبوں پر مہر ہے
کہیے حاجت اپنی لوگوں سے جو وے ہوں مال کچھ
کام کو مشکل دل پر آرزو نے کردیا
یاس کلی ہوچکے تو پھر نہیں اشکال کچھ
دل ترا آیا کسو کے پیچ میں جو سدھ گئی
متصل بکھرے رہا کرتے ہیں منھ پر بال کچھ
ماہ سے ماہی تلک اس داغ میں ہیں مبتلا
کیا بلاے جان ہے میرا تمھارا حال کچھ
ایک دن کنج قفس میں ہم کہیں رہ جائیں گے
بے کلی گل بن بہت رہتی ہے اب کے سال کچھ
کیا اس آتش باز کے لونڈے کا اتنا شوق میر
بہ چلی ہے دیکھ کر اس کو تمھاری رال کچھ
میر تقی میر

صورت اک اعتبار سا ہے کچھ

دیوان دوم غزل 944
بود نقش و نگار سا ہے کچھ
صورت اک اعتبار سا ہے کچھ
یہ جو مہلت جسے کہیں ہیں عمر
دیکھو تو انتظار سا ہے کچھ
منھ نہ ہم جبریوں کا کھلوائو
کہنے کو اختیار سا ہے کچھ
منتظر اس کی گرد راہ کے تھے
آنکھوں میں سو غبار سا ہے کچھ
ضعف پیری میں زندگانی بھی
دوش پر اپنے بار سا ہے کچھ
کیا ہے دیکھو ہو جو ادھر ہر دم
اور چتون میں پیار سا ہے کچھ
اس کی برہم زنی مژگاں سے
دل میں اب خار خار سا ہے کچھ
جیسے عنقا کہاں ہیں ہم اے میر
شہروں میں اشتہار سا ہے کچھ
میر تقی میر

ہے مزاجوں میں اپنے سودا کچھ

دیوان دوم غزل 943
کھینچتا ہے دلوں کو صحرا کچھ
ہے مزاجوں میں اپنے سودا کچھ
دل نہیں جمع چشم تر سے اب
پھیلتا سا چلا یہ دریا کچھ
شہر میں حشر کیوں نہ برپا ہو
شور ہے میرے سر میں کیسا کچھ
ویسے ظاہر کا لطف ہے چھپنا
کم تماشا نہیں یہ پردہ کچھ
خلق کی کیا سمجھ میں وہ آیا
آپ سے تو گیا نہ سمجھا کچھ
یاس سے مجھ کو بھی ہو استغنا
گو نہ ہو اس کو میری پروا کچھ
کچھ نہ دیکھا تھا ہم نے پر تو بھی
آنکھ میں آئی ہی نہ دنیا کچھ
اب تو بگڑے ہی جاتے ہیں خوباں
رنگ صحبت نہیں ہے اچھا کچھ
کچھ کہو دور ہے بہت وہ شوخ
اپنے نزدیک تو نہ ٹھہرا کچھ
وصل اس کا خدا نصیب کرے
میر دل چاہتا ہے کیا کیا کچھ
میر تقی میر

کج طبیعت جو مخالف ہیں انھوں سے جا سمجھ

دیوان دوم غزل 942
ہم سے کیوں الجھا کرے ہے آ سمجھ اے ناسمجھ
کج طبیعت جو مخالف ہیں انھوں سے جا سمجھ
یار کی ان بھولی باتوں پر نہ جا اے ہم نشیں
ایک فتنہ ہے وہ اس کو آہ مت لڑکا سمجھ
خوبرو عشاق سے بد پیش آتے ہی سنے
گرچہ خوش ظاہر ہیں یہ پر ان کو مت اچھا سمجھ
باغباں بے رحم گل بے دید موسم بے وفا
آشیاں اس باغ میں بلبل نے باندھا کیا سمجھ
میں جو نرمی کی تو دونا سر چڑھا وہ بدمعاش
کھانے ہی کو دوڑتا ہے اب مجھے حلوا سمجھ
دور سے دیکھی جو بدحالی وہیں سے ٹل گیا
دو قدم آگے نہ آیا مجھ کو وہ مرتا سمجھ
میر کی عیاریاں معلوم لڑکوں کو نہیں
کرتے ہیں کیا کیا ادائیں اس کو سادہ سا سمجھ
میر تقی میر

چاہ وہ ہے جو ہو نباہ کے ساتھ

دیوان دوم غزل 941
لطف کیا ہر کسو کی چاہ کے ساتھ
چاہ وہ ہے جو ہو نباہ کے ساتھ
وقت کڑھنے کے ہاتھ دل پر رکھ
جان جاتی رہے نہ آہ کے ساتھ
عشق میں ترک سر کیے ہی بنے
مشورت تو بھی کر کلاہ کے ساتھ
ہو اگرچند آسماں پہ ولے
نسبت اس مہ کو کیا ہے ماہ کے ساتھ
سفری وہ جو مہ ہوا تا دیر
چشم اپنی تھی گرد راہ کے ساتھ
جاذبہ تو ان آنکھوں کا دیکھا
جی کھنچے جاتے ہیں نگاہ کے ساتھ
میر سے تم برے ہی رہتے ہو
کیا شرارت ہے خیرخواہ کے ساتھ
میر تقی میر

رہتا ہے آب دیدہ یاں تا گلے ہمیشہ

دیوان دوم غزل 940
پھرتی ہیں اس کی آنکھیں آنکھوں تلے ہمیشہ
رہتا ہے آب دیدہ یاں تا گلے ہمیشہ
تصدیع ایک دو دن ہووے تو کوئی کھینچے
تڑپے جگر ہمیشہ چھاتی جلے ہمیشہ
اک اس مغل بچے کو وعدہ وفا نہ کرنا
کچھ جا کہیں تو کرنا آرے بلے ہمیشہ
کب تک وفا کرے گا یوں حوصلہ ہمارا
دل پیسے درد اکثر غم جی ملے ہمیشہ
اس جسم خاکی سے ہم مٹی میں اٹ رہے ہیں
یوں خاک میں کہاں تک کوئی رلے ہمیشہ
آئندہ و روندہ باد سحر کبوتر
قاصد نیا ادھر کو کب تک چلے ہمیشہ
مسجد میں چل کے ملیے جمعے کے دن بنے تو
ہوتے ہیں میر صاحب واں دن ڈھلے ہمیشہ
میر تقی میر

گویا کہ ہیں یہ لڑکے پیر زمانہ دیدہ

دیوان دوم غزل 939
ٹک پاس آ کے کیسے صرفے سے ہیں کشیدہ
گویا کہ ہیں یہ لڑکے پیر زمانہ دیدہ
اب خاک تو ہماری سب سبز ہو چلی ہے
کب منھ ادھر کرے گا وہ آہوے رمیدہ
یوسف سے کوئی کیونکر اس ماہ کو ملاوے
ہے فرق رات دن کا از دیدہ تا شنیدہ
بندے کے درد دل کو کوئی نہیں پہنچتا
ہر ایک بے حقیقت یاں ہے خدا رسیدہ
کیا وسوسہ ہے مجھ کو عزت سے جینے کا یاں
نکلا نہ میرے دل سے یہ خار ناخلیدہ
ہم کاڑھ کر جگر بھی آگے تمھارے رکھا
پھر یا نصیب اس پر تم جو ہوئے کبیدہ
سائے سے اپنے وحشت ہم کو رہی ہمیشہ
جوں آفتاب ہم بھی کیسے رہے جریدہ
منصور کی نظر تھی جو دار کی طرف سو
پھل وہ درخت لایا آخر سر بریدہ
ذوق سخن ہوا ہے اب تو بہت ہمیں بھی
لکھ لیں گے میر جی کے کچھ شعر چیدہ چیدہ
میر تقی میر

مانند برق ہیں یاں وے لوگ جستہ جستہ

دیوان دوم غزل 938
پیدا نہیں جہاں میں قید جہاں سے رستہ
مانند برق ہیں یاں وے لوگ جستہ جستہ
ظالم بھلی نہیں ہے برہم زنی مژگاں
مر جائے گا کسو دن یوں کوئی سینہ خستہ
پاے حنائی اس کے ہاتھوں ہی پر رکھے ہیں
پر اس کو خوش نہ آیا یہ کار دست بستہ
شہر چمن سے کچھ کم دشت جنوں نہیں ہے
یاں گل ہیں رستہ رستہ واں باغ دستہ دستہ
معمار کا وہ لڑکا پتھر ہے اس کی خاطر
کیوں خاک میں ملا تو اے میر دل شکستہ
میر تقی میر

اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ

دیوان دوم غزل 937
ظالم یہ کیا نکالی رفتار رفتہ رفتہ
اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ
ہر آن ہم کو تجھ بن ایک اک برس ہوئی ہے
کیا آ گیا زمانہ اے یار رفتہ رفتہ
کیا کہیے کیونکے جانیں بے پردہ جاتیاں ہیں
اس معنی کا بھی ہو گا اظہار رفتہ رفتہ
یہ ہی سلوک اس کے اکثر چلے گئے تو
بیٹھیں گے اپنے گھر ہم ناچار رفتہ رفتہ
پامال ہوں کہ اس میں ہوں خاک سے برابر
اب ہو گیا ہے سب کچھ ہموار رفتہ رفتہ
چاہت میں دخل مت دے زنہار آرزو کو
کردے ہے دل کی خواہش بیمار رفتہ رفتہ
خاطر نہ جمع رکھو ان پلکوں کی خلش سے
سر دل سے کاڑھتے ہیں یاں خار رفتہ رفتہ
تھے ایک ہم وے دونوں سو اتحاد کیسا
ہر بات پر اب آئی تکرار رفتہ رفتہ
گر بت کدے میں جانا ایسا ہے میر جی کا
تو تار سبحہ ہو گا زنار رفتہ رفتہ
میر تقی میر