زمرہ جات کے محفوظات: مرزا اسد اللہ خان غالب

تا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 93
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا
تا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا
یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا
جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلےٰ کون ہے؟
خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
پوچھ مت رسوائیِ اندازِ استغنائے حسن
دست مرہونِ حنا، رخسار رہنِ غازہ تھا
نالۂ دل نے دیئے اوراقِ لختِ دل بہ باد
یادگارِ نالہ اک دیوانِ بے شیرازہ تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 92
دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا
غالب ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

شعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گرداب تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 91
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گرداب تھا
واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرام
گریے سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا
واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجومِ اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا
جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
یاں رواں مژگانِ چشمِ تر سے خونِ ناب تھا
یاں سرِ پرشور بے خوابی سے تھا دیوار جو
واں وہ فرقِ ناز محوِ بالشِ کمخواب تھا
یاں نفَس کرتا تھا روشن، شمعِ بزمِ بےخودی
جلوۂ گل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا
فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
دل کہ ذوقِ کاوشِ ناخن سے لذت یاب تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 90
میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں
گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟
ہے ایک تیر جس میں دونوں چھِدے پڑے ہیں
وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
درماندگی میں غالب کچھ بن پڑے تو جانوں
جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 89
گر نہ ‘اندوہِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گا
بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا
زہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آب
پر توِ مہتاب سیلِ خانماں ہوجائے گا
لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہوجائے گا
دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھا
یعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہوجائے گا
سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوا
مجھ پہ گویا، اک زمانہ مہرباں ہوجائے گا
گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبط
شعلہ خس میں، جیسے خوں رگ میں، نہاں ہوجائے گا
باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
ہر گلِ تر ایک "چشمِ خوں فشاں” ہوجائے گا
وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہوجائے گا
فائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہوجائے گا
مرزا اسد اللہ خان غالب

نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 88
بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا
نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا
مِسی آلود ہے مُہرنوازش نامہ ظاہر ہے
کہ داغِ آرزوئے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
بامیّدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرت
مبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اس کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 87
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب!
مگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا
حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
دوامِ کلفتِ خاطر ہے عیش دنیا کا
غمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دو
مجھے دماغ نہیں خندہ@ ہائے بے جا کا
ہنوز محرمئ حسن کو ترستا ہوں
کرے ہے ہر بُنِ مو کام چشمِ بینا کا
دل اس کو، پہلے ہی ناز و ادا سے، دے بیٹھے
ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہے
مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اُس کو یاد اسدؔ
جفا میں اس کی ہے انداز کارفرما کا
@نسخۂ نظامی کی املا ہے ’خند ہائے‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 86
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
بے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہی
کھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا
بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھے
تِریاکئِ قدیم ہوں دُودِ چراغ کا
سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئے
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار
یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل
ابرِ بہار خمکدہ کِس کے دماغ کا!
مرزا اسد اللہ خان غالب

چمن زنگار ہے آئینۂ بادِ بہاری کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 85
لطافت بےکثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
چمن زنگار ہے آئینۂ بادِ بہاری کا
حریفِ جوششِ دریا نہیں خوددارئ ساحل
جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 84
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
بے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا
بزمِ قدح سے عیشِ تمنا نہ رکھ، کہ رنگ
صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
رحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہے
شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
مقتل کو کس نشاط سے جا تا ہو ں میں، کہ ہے
پُرگل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا
جاں در” ہوائے یک نگہِ گرم” ہے اسدؔ
پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 83
نہ ہو حسنِ تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
ہوس گستاخئیِ آئینہ تکلیفِ نظر بازی
بہ جیبِ آرزو پنہاں ہے حاصل دلربائی کا
نظر بازی طلسمِ وحشت آبادِ پرستاں ہے
رہا بیگانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
نہ پایا درد مندِ دورئیِ یارانِ یک دل نے
سوادِ خطِ پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
اسدؔ! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہے
جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 82
نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیِر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 81
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے ‘شرمِ نا رسائی’ کا
بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو’ حسنِ تماشا دوست’ رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا
چراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
نہ مارا جان کر بے جرم، غافل!@ تیری گردن پر
رہا مانند خونِ بے گنہ حق آشنائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
وہی اک بات ہے جو یاں نفَس واں نکہتِ گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
دہانِ ہر” بتِ پیغارہ جُو”، زنجیرِ رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
نہ دے نامے کو اتنا طول غالب، مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا
@نسخۂ حمیدیہ، نظامی، حسرت اور مہر کے نسخوں میں لفظ ’قاتل‘ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 80
لب خشک در تشنگی، مردگاں کا
زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا
ہمہ نا امیدی، ہمہ بد گمانی
میں دل ہوں فریبِ وفا خوردگاں کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 79
ستایش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا
بیاں کیا کیجئے بیدادِکاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرہء خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا
نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع ، میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ، ہوا ریشہ نَیَستاں کا
دکھاؤں گا تماشہ ، دی اگر فرصت زمانے نے
مِرا ہر داغِ دل ، اِک تخم ہے سروِ چراغاں کا
کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
کرے جو پرتوِ خُورشید عالم شبنمستاں کا
مری تعمیر میں مُضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولٰی برقِ خرمن کا ، ہے خونِ گرم دہقاں کا
اُگا ہے گھر میں ہر سُو سبزہ ، ویرانی تماشہ کر
مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے، میرے درباں کا
خموشی میں نہاں ، خوں گشتہ@ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغِ مُردہ ہوں ، میں بے زباں ، گورِ غریباں کا
ہنوز اک "پرتوِ نقشِ خیالِ یار” باقی ہے
دلِ افسردہ ، گویا، حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
نہیں معلوم ، کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالب
کہ یہ شیرازہ ہے عالَم کے اجزائے پریشاں کا
نسخۂ حسرت موہانی میں ’سرگشتہ‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 78
سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 77
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا
رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا
تو اور سوئے غیر نظرہائے تیز تیز
میں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا
صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میں
طُعمہ ہوں ایک ہی نفَسِ جاں گداز کا
ہیں بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہے
ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا
کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
ناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا
تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسدؔ!
سینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 76
درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں، کہ ہم
الٹے پھر آئے، درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
روبرو کوئی بتِ آئینہ سیما نہ ہوا
کم نہیں نازشِ ہمنامئ چشمِ خوباں
تیرا بیمار، برا کیا ہے؟ گر اچھا نہ ہوا
سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا@
ہر بُنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خونناب
حمزہ کا قِصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا
@کام کا ہے مرے وہ فتنہ کہ برپا نہ ہوا ۔ نسخۂ حسرت، نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 75
درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب ،”کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا”
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں@ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا، لہو نہ تھما
کام گر رک گیا، روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟
لے کے دل، "دلستاں” روانہ ہوا
کچھ تو پڑھئے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا!
@ نسخۂ مہر، نسخۂ علامہ آسی میں ‘یوں’ کے بجا ئے "یہ” آیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 74
دہر میں نقشِ وفا وجہِتسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
سبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا
میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
دل گزر گاہ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
گر نفَس جادۂ سرمنزلِ تقوی نہ ہوا
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پر بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا
کس سے محرومئ قسمت کی شکایت کیجیے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا
مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالب
ناتوانی سے حریف دمِ عیسی نہ ہوا
وسعتِ رحمتِ حق دیکھ کہ بخشا جائے
مجھ سا کافرکہ جو ممنونِ معاصی نہ ہوا
مرزا اسد اللہ خان غالب

خطِّ جامِ مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 73
قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہوا
خطِّ جامِ مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا
اعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 72
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بز مِ غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا
دے وہ جس قد ر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنا
در دِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلادوں
انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا
گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلا
ننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا
تا کرے نہ غمازی، کرلیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
مرزا اسد اللہ خان غالب

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 71
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
وائے دیوانگئ شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں@ ہونا
جلوہ از بسکہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
جوہرِ آئینہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا، مت پوچھ
عیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا
عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنا کھانا
لذت ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب!
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
@ نسخۂ طاہر میں ” پریشاں”
مرزا اسد اللہ خان غالب

عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 70
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!
عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
ذرّہ ذرّہ ساغرِ مے خانۂ نیرنگ ہے
گردشِ مجنوں بہ چشمکہاے لیلیٰ آشنا
شوق ہے "ساماں طرازِ نازشِ اربابِ عجز”
ذرّہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دلِ وحشی، "کہ ہے
عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا”
شکوہ سنجِ رشکِ ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
کوہکن” نقّاشِ یک تمثالِ شیریں” تھا اسدؔ
سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
مرزا اسد اللہ خان غالب

درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 69
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
تجھ سے، قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجد
تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تمام
مِٹ گیا گھِسنے میں اُس عُقدے کا وا ہو جانا
اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا
ضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
دِل سے مِٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جُدا ہو جانا
ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھُلنا
روتے روتے غمِ فُرقت میں فنا ہو جانا
گر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچے کی ہوس
کیوں ہے گردِ رہِ جَولانِ صبا ہو جانا
تاکہ تجھ پر کھُلے اعجازِ ہوائے صَیقل
دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
بخشے ہے جلوۂ گُل، ذوقِ تماشا غالب
چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہو جانا
مرزا اسد اللہ خان غالب

رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 68
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا
شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
اِس تکلّف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا
گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا
گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گونہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے؟ کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
منہ نہ کھلنے پرہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلا
در پہ رہنے کو کہا، اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلا
کیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزول
آج اُدھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حال
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
اس کی امّت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب! گنبدِ بے در کھلا
مرزا اسد اللہ خان غالب

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 67
شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یارب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پَرافشاں نکلا
بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا
دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
کام یاروں کا بہ قدرٕ لب و دنداں نکلا
اے نو آموزِ فنا ہمتِ دشوار پسند!
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سُو طوفاں نکلا
شوخئِ رنگِ حنا خونِ وفا سے کب تک
آخر اے عہد شکن! تو بھی پشیماں نکلا
مرزا اسد اللہ خان غالب

حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 66
نہ ہو گا "یک بیاباں ماندگی” سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 65
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت@ یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا
@ نسخۂ آگرہ، منشی شیو نارائن، 1863ء میں’مری قسمت‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 64
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالب مرگیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب

اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 63
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاا
اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست نا صح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
غم اگر چہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غم روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
یہ مسائل تصّوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے ،جو نہ بادہ خوار ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 62
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
تنگئ دل کا گلہ کیا؟ یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
بعد یک عمرِ وَرع بار تو دیتا بارے
کاش رِضواں ہی درِ یار کا درباں ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھول ہنس ہنس کے گلستاں میں فنا ہوجاتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 61
آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہ
پھول ہنس ہنس کے گلستاں میں فنا ہوجاتا
کاش ناقدر نہ ہوتا ترا اندازِ خرام
میں غبارِ سرِ دامانِ فنا ہوجاتا
یک شبہ فرصتِ ہستی ہے اک آئینۂ غم
رنگِ گل کاش! گلستاں کی ہَـوا ہوجاتا
مستقل مرکزِ غم پہ ہی نہیں تھے ورنہ
ہم کو اندازہ ءِ آئینِ فنا ہو جاتا
دستِ قدرت ہے مرا خشت بہ دیوارِ فنا
گر فنا بھی نہ میں ہوتا تو فنا ہوجاتا
حیرت اندوزئ اربابِ حقیقت مت ہوچھ
جلوہ اک روز تو آئینہ نما ہوجاتا
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

پئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 60
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوۓ پیرَہن لائ
پئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائ
وقارِ ماتمِ شب زندہ دارِ ہجر رکھنا تھا
سپیدی صبحِ غم کی دوش پر رکھ کر کفن لائ
شہیدِ شیوۂ منصور ہے اندازِ رسوائ
مصیبت پیشگئ مدّعا دار و رسن لائ
وفا دامن کشِ پیرایہ و ہستی ہے اے غالب
کہ پھر نزہت گہِ غربت سے تا حدِّ وطن لائ
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے تکلف اے شرارِ جستہ! کیا ہوجائیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 59
کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے
بے تکلف اے شرارِ جستہ! کیا ہوجائیے
بیضہ آسا ننگِ بال و پر ہے یہ کنجِ قفس
از سرِ نو زندگی ہو، گر رِہا ہو جائیے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مری محفل میں غالب گردشِ افلاک باقی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 58
نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی
مری محفل میں غالب گردشِ افلاک باقی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے فائدہ یاروں کو فرقِ غم و شادی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 57
زندانِ تحّمل ہیں مہمانِ تغافل ہیں
بے فائدہ یاروں کو فرقِ غم و شادی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 56
اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نالہ پابندِ نَے نہیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 55
فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے
نالہ پابندِ نَے نہیں ہے
کیوں بوتے ہیں باغباں تونبے؟
گر باغ گدائے مَے نہیں ہے
ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے
پَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے
ہاں ، کھائیو مت فریبِ ہستی!
ہر چند کہیں کہ "ہے” ، نہیں ہے
شادی سے گُذر کہ ، غم نہ ہووے
اُردی جو نہ ہو ، تو دَے نہیں ہے
کیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد !
مَے ہے یہ مگس کی قَے نہیں ہے
ہستی ہے ، نہ کچھ عَدم ہے ، غالب!
آخر تُو کیا ہے ، ”اَے نہیں ہے؟“
مرزا اسد اللہ خان غالب

قیامت کشتۂٴ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 54
لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
قیامت کشتۂٴ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 53
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہکشاں موجِ شفق میں تیغِ خوں آشام ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 52
مستعدِ قتلِ یک عالم ہے جلاّدِ فلک
کہکشاں موجِ شفق میں تیغِ خوں آشام ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 51
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 50
ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنا
مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ولے مجھے تپشِ دل ، مجالِ خواب تو دے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 49
وہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دے
ولے مجھے تپشِ دل ، مجالِ خواب تو دے
کرے ہے قتل ، لگاوٹ میں تیرا رو دینا
تری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
دِکھا کے جنبشِ لب ہی ، تمام کر ہم کو
نہ دے جو بوسہ ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے
پلا دے اوک سے ساقی ، جو ہم سے نفرت ہے
پیالہ گر نہیں دیتا ، نہ دے شراب تو دے
اسدؔ ! خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پُھول گئے
کہا جو اُس نے ، ”ذرا میرے پاؤں داب تو دے“
مرزا اسد اللہ خان غالب

کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 48
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 47
عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر
دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ روئے غنچہ سوئے آشیاں پھر جائے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 46
صبا لگا وہ طمانچہ طرف سے بلبل کے
کہ روئے غنچہ سوئے آشیاں پھر جائے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مر ی قسمت میں یو ں تصویر ہے شب ہائے ہجرا ں کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 45
سیاہی جیسے گِر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر
مر ی قسمت میں یو ں تصویر ہے شب ہائے ہجرا ں کی
مرزا اسد اللہ خان غالب

تو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 44
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
تو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی
مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانی
کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
کہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل جوشِ گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 43
حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
دل جوشِ گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھائے
میں بھی جلے ہؤوں میں ہوں داغِ نا تمامی
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 42
پھر اس انداز سے بہار آئی
کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاک
اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
رو کشِ سطحِ چرخِ مینائی
سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی
بن گیا روئے آب پر کائی
سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے
چشمِ نرگس کو دی ہے بینائی
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
بادہ نوشی ہے باد پیمائی
کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالب
شاہِ دیں دار@ نے شفا پائی
@اصل نسخے میں املا ہے ’دیندار‘ جب کہ تقطیع میں نون غنہ آتا ہے اس لئے تلفّظ کی وضاحت کے لئے یہاں ’دیں دار‘ لکھا گیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

طوطی کو” شش جہت” سے مقابل ہے آئینہ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 41
از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ
طوطی کو” شش جہت” سے مقابل ہے آئینہ
مرزا اسد اللہ خان غالب

لبوں پہ جان بھی آجائے گی جواب کے ساتھ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 40
نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھ
لبوں پہ جان بھی آجائے گی جواب کے ساتھ
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 39
میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالب
جس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 38
ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 37
ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں
غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں
وعدۂِ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوق
مژدۂ قتل مقدّر ہے جو مذکور نہیں
شاہدِ ہستئ مطلق کی کمر ہے عالَم
لوگ کہتے ہیں کہ ’ ہے‘ پر ہمیں منظور نہیں
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
ہم کو تقلیدِ تُنک ظرفئ منصور نہیں
حسرت! اے ذوقِ خرابی، کہ وہ طاقت نہ رہی
عشقِ پُر عربَدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں
ظلم کر ظلم! اگر لطف دریغ آتا ہو
تُو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیں
کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ “ ہم حور نہیں“
صاف دُردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
وائے! وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں
ہُوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالب
میرے دعوے پہ یہ حجّت ہےکہ مشہور نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

شبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 35
نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
شبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں
کوئی کہے کہ ’شبِ مَہ میں کیا بُرائی ہے‘
بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
جو آؤں سامنے اُن کے تو مرحبا نہ کہیں
جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیر باد نہیں
کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں، تو کہتے ہیں
کہ ’ آج بزم میں کچھ فتنۂ و فساد نہیں‘
علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
گدائے کُوچۂ مے خانہ نامراد نہیں
جہاں میں ہو غم و شادی بہم، ہمیں کیا کام ؟
دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
تم اُن کے وعدے کا ذکر اُن سے کیوں کرو غالب
یہ کیا؟ کہ تم کہو، اور وہ کہیں کہ“یاد نہیں“
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 34
نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں
ہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیں
عشق و مزدوریِ عشرت گہِ خسرو، کیا خُوب!
ہم کو تسلیم نکو نامئ فرہاد نہیں
کم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلوم
دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
اہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتب
لطمۂ موج کم از سیلئِ استاد نہیں
وائے مظلومئ تسلیم! وبداحالِ وفا!
جانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں
رنگِ تمکینِ گُل و لالہ پریشاں کیوں ہے؟
گر چراغانِ سرِ راہ گُزرِ باد نہیں
سَبَدِ گُل کے تلے بند کرے ہے گلچیں!
مژدہ اے مرغ! کہ گلزار میں صیّاد نہیں
نفی سے کرتی ہے اثبات طراوش@ گویا
دی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد “ نہیں“
کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
یہی نقشہ ہے ولے، اس قدر آباد نہیں
کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالب
تم کو بے مہرئ یارانِ وطن یاد نہیں؟
@ نسخۂ مہر میں ’تراوش‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہیں جمع سُویدائے دلِ چشم میں آہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 33
مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
ہیں جمع سُویدائے دلِ چشم میں آہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

وگرنہ ہم تو توقعّ زیادہ رکھتے ہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 32
زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسدؔ
وگرنہ ہم تو توقعّ زیادہ رکھتے ہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

کپڑوں میں جوئیں بخئے کے ٹانکوں سے سوا ہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 31
جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیں
کپڑوں میں جوئیں بخئے کے ٹانکوں سے سوا ہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصِیہ سا ہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 30
ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدے
یہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصِیہ سا ہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 29
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں
چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پُو چھتا ہوں کہ “ جاؤں کدھر کو مَیں“
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو مَیں
ہے کیا، جو کس@ کے باندھیے میری بلا ڈرے
کیا جانتا نہیں ہُوں تمھاری کمر کو مَیں
لو، وہ بھی کہتے ہیں کہ ’یہ بے ننگ و نام ہے‘
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو مَیں
چلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہبر کو مَیں
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پُوجتا ہوں اس بُتِ بیداد گر کو مَیں
پھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو مَیں
اپنے پہ کر رہا ہُوں قیاس اہلِ دہر کا
سمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہُنر کو میں
غالب خدا کرے کہ سوارِ سمندرِ ناز
دیکھوں علی بہادرِ عالی گُہر کو میں
مرزا اسد اللہ خان غالب

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 28
سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!
یاد تھیں ہم کو بھی رنگارنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں
تھیں بنات النعشِ گردوں دن کو پردے میں نہاں
شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں
سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، پر زنانِ مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں
جُوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق
میں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں
ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
قدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے، راتیں اُس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں@
میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کُھل گیا
بلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
وہ نگاہیں کیوں ہُوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار؟
جو مری کوتاہئ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
بس کہ روکا میں نے اور سینے میں اُبھریں پَے بہ پَے
میری آہیں بخیئہ چاکِ گریباں ہو گئیں
واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیاجواب؟
یاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہو گئیں
جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی گویا، رگِ جاں ہو گئیں
ہم موحّد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسُوم
ملّتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
رنج سے خُوگر ہُوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گہیں
@حالی، یادگارِ غالب میں یوں ہے: جس کے بازو پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

غالب یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 27
لوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولے
غالب یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا لطف ہو جو ابلقِ دوراں بھی رام ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 26
بھولے سے کاش وہ ادھر آئیں تو شام ہو
کیا لطف ہو جو ابلقِ دوراں بھی رام ہو
تا گردشِ فلک سے یوں ہی صبح و شام ہو
ساقی کی چشمِ مست ہو اور دورِ جام ہو
بے تاب ہوں بلا سے، کن@ آنکھوں سے دیکھ لیں
اے خوش نصیب! کاش قضا کا پیام ہو
کیا شرم ہے، حریم ہے، محرم ہے رازدار
میں سر بکف ہوں، تیغِ ادا بے نیام ہو
میں چھیڑنے کو کاش اسے گھور لوں کہیں
پھر شوخ دیدہ بر سرِ صد انتقام ہو
وہ دن کہاں کہ حرفِ تمناّ ہو لب شناس
ناکام، بد نصیب، کبھی شاد کام ہو
گھس پل کے چشمِ شوق قدم بوس ہی سہی
وہ بزمِ غیر ہی میں ہوں اژدہام@ میں
اتنی پیوں کہ حشر میں سرشار ہی اٹھوں
مجھ پر جو چشمِ ساقئ بیت الحرام ہو
پیرانہ سال غالب میکش کرے گا کیا
بھوپال میں مزید جو دو دن قیام ہو
@ کَ ن @ ایک املا ازدحام بھی ہے نوٹ: غلام رسول مہر کو اس پر شک ہے کہ یہ غزل غالب کی نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم دے ہم کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 25
ابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادہ کرو
برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم دے ہم کو
مرزا اسد اللہ خان غالب

عدم کو لے گئے دل میں غبارِ صحرا کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 24
ملی نہ وسعتِ جولان یک جنون ہم کو
عدم کو لے گئے دل میں غبارِ صحرا کو
مرزا اسد اللہ خان غالب

متاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلوم

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 23
بـہ نالہ دل بستگـی فراہــم کـر
متاعِ خانۂ زنجیر جز صدا، معلوم
مرزا اسد اللہ خان غالب

خانۂ بلبل بغیر از خندۂ گل بے چراغ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 22
بدتر از ویرانہ ہے فصلِ خزاں میں صحنِ باغ
خانۂ بلبل بغیر از خندۂ گل بے چراغ
پتّا پتّا اب چمن کا انقلاب آلودہ ہے
نغمۂ مرغِ چمن زا ہے صداۓ بوم و زاغ
ہاں بغیر از خوابِ مرگ آسودگی ممکن نہیں
رختِ ہستی باندھ تا حاصل ہو دنیاۓ فراغ
شورِ طوفانِ بلا ہے خندۂ بے اختیار
کیا ہے گل کی بے زبانی کیا ہے یہ لالے کا داغ
چشمِ پُر نم رہ، زمانہ منقلِب ہے اے اسدؔ
اب یہی ہے بس مے شادی سے پُر ہونا ایاغ
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

چرخ وا کرتا ہے ماہِ نو سے آغوشِ وداع

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 21
جادۂ رہ خُور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع
چرخ وا کرتا ہے ماہِ نو سے آغوشِ وداع
مرزا اسد اللہ خان غالب

لگادے خانۂ آئینہ میں رُوئے نگار آتِش

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 20
نہ لیوے گر خسِ جَوہر طراوت سبزۂ خط سے
لگادے خانۂ آئینہ میں رُوئے نگار آتِش
فروغِ حُسن سے ہوتی ہے حلِّ مُشکلِ عاشق
نہ نکلے شمع کے پاسے ، نکالے گرنہ خار آتش
مرزا اسد اللہ خان غالب

ظاہرا صیّادِ ناداں ہے گرفتارِ ہوس

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 19
اے اسدؔ ہم خود اسیرِ رنگ و بوئے باغ ہیں
ظاہرا صیّادِ ناداں ہے گرفتارِ ہوس
مرزا اسد اللہ خان غالب

سرخوشِ خواب ہے وہ نرگسِ مخمور ہنوز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 18
گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
سرخوشِ خواب ہے وہ نرگسِ مخمور ہنوز
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں ہوں اپنی شکست کی آواز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 17
نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز
تو اور آرائشِ خمِ کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
لاف تمکیں، فریبِ سادہ دلی
ہم ہیں، اور راز ہائے سینہ گداز
ہوں گرفتارِ الفتِ صیّاد
ورنہ باقی ہے طاقتِ پرواز
وہ بھی دن ہو، کہ اس ستم گر سے
ناز کھینچوں، بجائے حسرتِ ناز
نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خون
جس سے مذگاں ہوئی نہ ہو گلباز
اے ترا غمزہ یک قلم انگیز
اے ترا ظلم سر بسر انداز
تو ہوا جلوہ گر، مبارک ہو!
ریزشِ سجدۂ جبینِ نیاز
مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
میں غریب اور تو غریب نواز
اسدؔ اللہ خاں تمام ہوا
اے دریغا وہ رندِ شاہد باز
مرزا اسد اللہ خان غالب

دعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 16
حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز
دعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز
نہ ہو بہ ہرزہ، بیاباں نوردِ وہمِ وجود
ہنوز تیرے تصوّر میں ہےنشیب و فراز
وصالِ جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں!
کہ دیجئے آئینۂ انتظار کو پرواز
ہر ایک ذرّۂ عاشق ہے آفتاب پرست
گئی نہ خاک ہوئے پر ہوائے جلوۂ ناز
نہ پوچھ وسعتِ مے خانۂ جنوں غالب
جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
مرزا اسد اللہ خان غالب

تکلف بر طرف! مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 15
ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
تکلف بر طرف! مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
مرزا اسد اللہ خان غالب

میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 14
تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے
میرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد
مرزا اسد اللہ خان غالب

جہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں آباد

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 13
ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدم
جہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں آباد
مرزا اسد اللہ خان غالب

اچھاّ اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 12
لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں
اچھاّ اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!!
مرزا اسد اللہ خان غالب

چشمِ کشودہ حلقۂ بیرونِ در ہے آج

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 11
معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظار
چشمِ کشودہ حلقۂ بیرونِ در ہے آج
مرزا اسد اللہ خان غالب

یار لائے مری بالیں پہ اسے، پر کس وقت

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 10
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالب
یار لائے مری بالیں پہ اسے، پر کس وقت
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 9
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
مرزا اسد اللہ خان غالب

مبارک باد اسدؔ، غمخوارِ جانِ دردمند آیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 8
جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغِ جگر ہدیہ
مبارک باد اسدؔ، غمخوارِ جانِ دردمند آیا
مرزا اسد اللہ خان غالب

نہیں رفتارِ عمرِ تیز رو پابندِ مطلب ہا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 7
فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
نہیں رفتارِ عمرِ تیز رو پابندِ مطلب ہا
مرزا اسد اللہ خان غالب

غالب ایسے گنج کو عیاں یہی ویرانہ تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 6
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا
غالب ایسے گنج کو عیاں یہی ویرانہ تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 5
ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھا
اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

صحرا، مگر، بہ تنگئ چشمِ حُسود تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 4
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا، مگر، بہ تنگئ چشمِ حُسود تھا
آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں، ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسدؔ
مرزا اسد اللہ خان غالب

رنگ اڑتا ہے گُلِستاں کے ہواداروں کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 3
پھر وہ سوئے چمن آتا ہے خدا خیر کرے
رنگ اڑتا ہے گُلِستاں کے ہواداروں کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

نقص پر اپنے ہوا جو مطلعِ، کامل ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 2
عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنرمندی اسدؔ
نقص پر اپنے ہوا جو مطلعِ، کامل ہوا
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ ہے سر پنجۂ مژگانِ آہو پشت خار اپنا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 1
اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیں
کہ ہے سر پنجۂ مژگانِ آہو پشت خار اپنا
مرزا اسد اللہ خان غالب