زمرہ جات کے محفوظات: مجید امجد

ایک خیال

تمہارے ہونٹ وہ گھلتے سے ریزہ ہائے نبات

مرے لبوں سے ملے، جھکتی جھکتی پلکوں کے سات

تو جھونکے جھونکے میں لہرا گئی شمیمِ حیات

کسے خبر، کہ پھسلتا ہوا وہ جسمِ حسیں

مری بھنچی ہوئی باہوں کی دولتِ رنگیں

اب اس کی خاک بھی خاکِ لحد میں ہے کہ نہیں

تمہاری گردِ کفن اور ہجومِ کرمکِ گور

مصاحبانِ اجل، گنگ و پابریدہ و کور

بس ایک میری نوا میں تمہاری روح کا شور

میں زندہ ہوں تو مری زندگی تمہاری حیات

وگرنہ یوں تو ہے کس کو دوام، کس کو ثبات

نفس نفس، سرِ ظلمات، پرتوِ ظلمات

مجید امجد

اکھیاں کیوں مسکائیں

کون بتائے روپ نگر کی سکھیاں اکھیاں کیوں مسکائیں

دل کے راگ محل کی تانیں

سندیسوں کے دیس سے ہو کے

پائل کی جھنکار کو روکے

جب ہونٹوں کے دروازوں پر، چھپ چھپ آئیں، رک رک جائیں

اکھیاں کیوں مسکائیں

پھاند کے سناٹوں کے جزیرے

مہربلب سانسوں کے بیاباں

آن بسیں جب رقصاں رقصاں

اک لمحے کے رین بسیرے میں ارمانوں کی پرچھائیں

اکھیاں کیوں مسکائیں

گھونگھٹ کھولے، نہ منہ سے بولے

من کی بانی، چنچل رانی

جب یہ کہانی، دور انجانی

دنیاؤں سے گزرے بن کر دھیمی بانسریوں کی صدائیں

اکھیاں کیوں مسکائیں

مجید امجد

دھوپ چھاؤں

ناچتی ندیاں

جھومتے جھامتے پیڑ

اُجیالی دھوپ

ان سے بھی آگے، دور کہیں وہ دنیا

جس کا روپ

آنے والے مست دنوں کے ہونٹوں پر مسکان!

سمے سمے کا دھیان!

پھیکی پھیکی چاندنیاں

اور کجلی کجلی دھوپ

جن کی اڑتی راکھ میں جھلکے بیتے دنوں کا روپ

سناٹوں کی گھمرگھمر میں ڈوبتا ڈوبتا گیت

سمے سمے کی ریت

من کی یہ چنچل لہریں، ان کا کوئی نہ ٹھور مقام

دن گزرے تو صبح سویرا، رات کٹے تو شام

ساون ساون جلتے جھونکے

پلک پلک برسات

سمے سمے کی بات

مجید امجد

منزل

اس ایک بات سے انکار ہو نہیں سکتا

کہ ہم نے اپنے لہو سے، بساطِ عالم پر

لکیر کھینچی ہے جس سلطنت کی، اس کا وجود

ہے ایشیا کے شبستاں میں صبحِ نو کی نمود!

یہ سب بجا ہے کہ ہم جن جگر کے ٹکڑوں کو

بہ شہر و قریہ، بہ دشت و چمن، بہ کوچہ و بام

بھڑکتی آگ میں بہتے لہو میں چھوڑ آئے

وہ روحیں جن کے سیہ پوش، ماتمی سائے

ہمارے ہنستے ہوئے پیکروں سے لپٹے ہیں

وہ قافلے کہ جنھیں مہلتِ سفر نہ ملی

انہی کے سڑتے ہوئے لوتھڑوں کی ہونکتی بو

انہی کی ڈوبتی فریادیں، چیختے آنسو

ہمارے محلوں کے نغمے، ہمارے باغوں کے پھول!

مگر یہ پھول، یہ نغمے، یہ نکہتوں کے ہجوم

سحر سحر کو اگر مشکبار کر نہ سکے

نفَس نفَس کو امینِ بہار کر نہ سکے

وہ جن کے واسطے یہ گلستاں سجایا گیا

گر اس طرح تہی داماں، تہی سَبَد ہی رہے

تو سوچ لو کہ یہ نازک، لطیف پرتوِ نور

یہ لڑکھڑاتی ہواؤں میں ٹھہرا ٹھہرا غرور

ہزار ساعتِ بےبرگ کے بیاباں میں

یہ اک امنگوں بھری سانس!

اس کا مستقبل؟

ہماری زندگیوں سے اک اک تڑپ لے کر

پروئے ہیں جو فلک نے، بہ سلکِ شام و سحر

گلوئے غم کے لیے، چہرۂ طرب کے لیے

سدا بہار ارادوں کے ہار

ان کا مآل؟

یہی سوال ہے رازِ غمِ زمان و زمیں!

حضور! ان کا جبیں پر شکن جواب نہیں

مجید امجد

ایک شام

ندی کے لرزتے ہوئے پانیوں پر

تھرکتی ہوئی شوخ کرنوں نے چنگاریاں گھول دی ہیں

تھکی دھوپ نے آ کے لہروں کی پھیلی ہوئی ننگی باہوں پہ اپنی لٹیں کھول دی ہیں!

یہ جوئے رواں ہے

کہ بہتے ہوئے پھول ہیں جن کی خوشبوئیں گیتوں کی سسکاریاں ہیں

یہ پگھلے ہوئے زرد تابنے کی چادر پہ الجھی ہوئی سلوٹیں ہیں

کہ زنجیر ہائے رواں ہیں؟

بس اک شورِ طوفاں!

کنارا نہ ساحل!

نگاہوں کی حد تک

سلاسل ! سلاسل!

کہ جن کو اٹھائے ہوئے ڈولتی پنکھڑیوں کے سفینے بہے جا رہے ہیں

بہے جا رہے ہیں

کہیں دور ان گھور اندھیروں میں جو فاصلوں کی ردائیں لپیٹے کھڑے ہیں

جہاں پر ابد کا کنارا ہے — اور اک وہ گاؤں:

وہ گنے کے کیاروں پہ آتی ہوئی ڈاک گاڑی کے بھورے دھوئیں کی چھچھلتی سی چھاؤں!

مجید امجد

مشرق و مغرب

نہ خوابِ مشرق

نہ سحرِ مغرب

بس اک پھبکتی گداز مٹی

کی چادرِ سبز، جس کے دامن

میں کل تھے انبانِ گندم و جو

اور آج انبارِ سیم و آہن

یہ کون سمجھے

یہ کون جانے

کہ اس تڑپتے ہوئے زمانے

کے سائے میں ڈولتی سی شمعوں

کی روشنی، جو پیالۂ گل

صراحیِ سنگ، کوزۂ مس

کو پھاند کر، شہر و دشت و ساحل

سے اٹھتے گرز و سنان و خنجر

پہ جم گئی تھی — وہ کانپتی لو

جو آج بھی طاقِ زندگی پر

سلگ رہی ہے، اسی کا پرتو

جہانِ نو کے فروغِ منزل

میں ڈھل گیا ہے

عجیب قصہ ہے ضربِ خارا

سے ذہنِ فولاد جل اٹھا ہے

نہ کوئی مشرق

نہ کوئی مغرب

مگر وہ اک زینۂ مراتب

جو اَن گنت، بےزباں غلاموں

کی ٹوٹتی پسلیوں پہ کل بھی

ہزار کف در دہاں خداؤں

کے بوجھ سے کچکچا رہا تھا

اور آج بھی اک وہی ترازو

کہ جس میں زنجیر پوش روحوں

کے شعلہ اندام دست و بازو

بہ مُزدِ یک اشک تُل رہے ہیں

اگر یہی تھا نصیبِ دوراں

یہ نالۂ غم، یہ اک مسلسل

خروشِ انبوہِ پابجولاں

ازل کی سرحد سے نسلِ آدم

کی یہ کراہیں، جو روز و شب کے

عمیق سناہٹے سے پیہم

ابھر رہی ہیں، یہ چشم و لب کے

فسانہ ہائے سرشک و شیون

اگر مقدر یہی تھا اپنا

تو یہ مقدر یقین جانو اٹل نہیں تھا

یہی ہے مشرق

یہی ہے مغرب

وہ پارہ ہائے سفال و خارا

وہ عقلِ حیراں کی کارگاہیں

وہ جنسِ نایاب، کل ہمارے

جہانِ صد ریزۂ خزف میں

ہماری دولت تھے، ہم خدا تھے

اور آج بھی یہ شرار پیکر

حقیقتوں کے طلسمِ سوزاں

یہ وسعتِ بحر و بر میں غلطاں

ضمیرِ آہن کی جلتی سانسیں

یہ ذرّے ذرّے کے قلبِ پیچاں

میں کھولتی قوّتوں کے طوفاں

زمانہ ہے جن کی رو میں تنکا

جو آج بھی ہو وجود اِن کا

ہماری مٹھی میں، ہم خدا ہیں

سیاہیوں کے چھلکتے خم سے

ابھرتی کرنوں کا حوصلہ ہیں

مجید امجد

ختن ختن میں بہ انبوہِ صد غزالہ پھرو

مجید امجد ۔ غزل نمبر 62
چمن چمن میں بہ طغیانِ رنگِ لالہ پھرو
ختن ختن میں بہ انبوہِ صد غزالہ پھرو
سجا کے ہونٹوں پہ اِک جشنِ زہرخند چلو
چھپا کے سینے میں صد موجِ آہ و نالہ پھرو
روش روش پہ بچھی ہے سیاہیوں کی بساط
پلک پلک پہ جلا کرچراغِ لالہ پھرو
چکیدِ اشکِ فراواں سے ہے کشیدِ شراب
جہانِ قیصر و جم میں تہی پیالہ پھرو
کنارِ دل سے گزرتی اداس راہوں پر
ہر ایک سانس ہے عمرِ ہزار سالہ پھرو
مجید امجد

جہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 61
ضمیرِ رازداں ہے اور میں ہوں
جہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوں
درِ پیرِ مغاں ہے اور میں ہوں
وہی رطلِ گراں ہے اور میں ہوں
وہی دورِ زماں ہے اور میں ہوں
وہی رسمِ فغاں ہے اور میں ہوں
فریبِ رنگ و بو ہے اور تم ہو
بہارِ صد خزاں ہے اور میں ہوں
جہاں ہے اور سکوتِ نیم شب ہے
مرا قلبِ تپاں ہے اور میں ہوں
یہ دو ساتھی نہ جانے کب بچھڑ جائیں
مری عمر رواں ہے اور میں ہوں
مجید امجد

ایک دعا

خلّاقِ دوجہاں! مری آنکھوں کو نور دے

چھینی ہوئی یہ دولتِ کیف و سرور دے

پھر قوتِ نظارۂ دشت و دیار بخش!

پھر طاقتِ مشاہدۂ نزد و دور دے

مجھ پر نگاہِ مہر سمیع و بصیر کر

مجھ کو نویدِ لطف خدائے غفور دے

اللہ! مجھ کو دیدۂ بینندہ کر عطا

مولا! تو ہی دوائے دلِ ناصبور دے

پھو سونپ میری آنکھوں کو آنکھوں کی روشنی

یہ میری چیز پھر مجھے دے اور ضرور دے

مجید امجد

قبلا ئے خاں

ظانادو میں قبلا خاں کے رنگ محل کے سائے

لرزیں اس دیوانی ندی پر جس کی مقدس موجیں

گہری اور اتھاہ دراڑوں کے سینوں کو ڈستی

گھور اندھیروں کے ساگر میں بسا لیں اپنی بستی

دوردور تک سونا اگلتی دھرتی کا پھیلاؤ

جس کے چاروں اور فصیلیں، گنبد اور منارے

باغ — جو ہنستی آب جوؤں کی چنچلتا سے چمکیں

بوجھل بوجھل خوشبوؤں سے لدے پھندے اشجار

بوڑھے جنگل — جیسے پرانے پہاڑوں کے ہمزاد

کہیں کہیں جن کی وسعت میں

دھوپ میں لپٹے سبزہ زار

اوہ! وہ دیکھو

گھنے گھنیرے پیڑوں کے اس پار

سبز چٹانوں کے سینوں میں گہرے بھیانک غار

ہیبت ناک مقام

رسی بسی پاکیزگیوں کا ایک فسونِ دوام

جیسے ڈھلتے چاند کی پیلی چھایا میں گھل جائیں

برہا کی اگنی میں جل مٹنے والی اک دیواداسی کی پرچھائیں

یہی وہ غار، یہی وہ گھاؤ

جس کی تھاہ سے اچھلے کھولے

ایک ابلتے چشمے کی اَن تھک آوازوں کا وہ الاؤ

جو دھرتی کی ہانپتی چھاتی میں بےکل سانسوں کی مانند

تڑپے اور تڑپتا جائے

جس سے جھم جھم برسیں

جلتی چٹانوں کے سیال انگارے

جیسے تپتے توے پر بھجتے دانوں کی کلپاہٹ

انھی اچھلتی چٹانوں کے جھرمٹ سے ابھر کر ڈوبے

وہی مقدس دریا جس کی موجیں

گہری اور اتھاہ دراڑوں کے سینوں کو ڈستی

گھور اندھیروں کے ساگر میں بسا لیں اپنی بستی

یہی ہے وہ ہنگامۂ صوتِ سنگ و فرشِ دریا

جس کے روپ میں قبلا خاں کے کانوں سے ٹکرائیں

گزرے بلوانوں کی صدائیں

جنگ کے نقارے کی دھم دھم

مجید امجد

مطرب، کوئی ترانہ بیادِ بہار چھیڑ

مجید امجد ۔ غزل نمبر 58
آ، سازِ گلستاں کو بہ مضرابِ خار چھیڑ
مطرب، کوئی ترانہ بیادِ بہار چھیڑ
سوئے ہوئے سکوتِ چمن کو ذرا جگا
کچھ تو نواطرازِ غمِ روزگار چھیڑ
کل یہ جگہ تھی وادیِ نکہت، رباب اٹھا
کل یاں ہجومِ گل تھا، سرودِ بہار چھیڑ
قصہ کوئی بہ ماتمِ جام و سبو سنا
نغمہ کوئی بہ تعزیتِ سبزہ زار چھیڑ
کچھ بھی نہ ہو، خزاں تو ہے، اک راگنی الاپ
ہر خس ہے ایک سازِ نوا درکنار، چھیڑ
شاید پلٹ کے آ نہ سکے اب بہار، گا
پژمردہ شاخسار پہ جھک کر ستار چھیڑ
مجید امجد

لاہور میں

ڈاک خانے کے ٹکٹ گھر پر خریداروں کی بھیڑ!

ایک چوبی طاقچے پر کچھ دواتیں — اک قلم

یہ قلم میں نے اٹھایا اور خط لکھنے لگا:۔

’’پیارے ماموں جی!

’’دعا کیجیے — خدا— رکھ لے — بھرم

’’آج انٹرویو ہے! کل تک فیصلہ ہو جائے گا

’’دیکھیں کیا ہو؟ مجھ کو ڈر ہے ‘‘…

اتنے میں تم آ گئیں!

’’اک ذرا تکلیف فرما کر پتہ لکھ دیجیے‘‘

میں نے تم سے وہ لفافہ لے لیا، جھجکا نہیں

’’بے دھڑک‘‘ لکھ ڈالا میں نے ’’کانپتے ہاتھوں‘‘ کے ساتھ

مختصر، رنگیں پتہ:’’گلگت میں، گوہرخاں کے نام‘‘

’’شکریہ‘‘، ’’جی کیسا؟‘‘ اک ہنستی نگہ زیرِ نقاب

ڈاک میں خط — تانگہ ٹمپل روڈ کو — قصہ تمام!

مجید امجد

ریڈنگ روم

میز پر اخبار کے پھیلے ورق

بکھرے بکھرے، تیرہ تیرہ، چاک چاک

ڈھل گئی ہے قالبِ الفاظ میں

سینۂ ہستی کی آہِ دردناک

پاس ہی دیوار کو ٹیکے ہوئے

ریڈیو گرمِ سخن، محوِ بیاں

چیختی ہیں جامۂ آواز میں

خون کے چھینٹے، لہو کی بوندیاں

شام ریڈنگ روم کی مغموم شام

چند کان اعلانچی کی بات پر

چند آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئیں

مرتکز اخبار کے صفحات پر

ایک کمرے میں سمٹ کر آ گئے

کتنے دکھڑوں کے صدا پیکر حروف

کتنے دردوں کے مسطّر زمزے

کتنے اندھے گیانی، بہرے فیلسوف!

پھر بھی کچھ ادراک میں آتا نہیں

کیا ہے رقصِ گردشِ ایام، کیا!

اک شکستہ ناؤ، اک خونی بھنور

کیا ہے اس افسانے کا انجام، کیا؟

یہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیں!

چھت کے نیچے، روزنوں کے درمیان

گول گول آنکھوں کے اندر محوِ دید

کالے پارے کی مرقص پتلیاں

کاش یہ حیراں کبوتر جانتے

خفتہ ہے ان کاغذوں کی سطح پر

کتنے پھنکتے آشیانوں کا دھواں

کتنے نخچیروں کی آہوں کے شرر

ہیں ان آوازوں کے اندر پرکُشا

کتنے کرگس، جن کو مرداروں کی بو

کھینچ لائی ہے سرِ دیوارِ باغ!

چھت کے نیچے، مضطرب، نظارہ خو

فکرمند آنکھوں میں حیراں پتلیاں

یہ کبوتر، دیکھتے تھکتے نہیں

دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، کیا کریں

یہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیں!

مجید امجد

زندانی

دردوں کے مارے دو قیدی!

زنجیروں کی جھنکاروں میں

اک غمگیں سا، اک حیراں سی

کالی کالی کوٹھڑیوں میں

دونوں کی نظروں پر پہرے

ہونٹوں پر مہریں چسپاں سی

لاکھوں آرزوئیں، امیدیں

دوزخ کے ناگوں کی صورت

سینوں میں غلطاں غلطاں سی

سہمے سہمے سے قدموں کی

آہٹ کان میں آ جاتی ہے

آہٹ! مدھم سی، بےجاں سی

تو اک چرخے کی گھوں گھوں میں

گم سی ہو کر رہ جاتی ہے

خوف زدہ، پُرمعنی کھانسی

پھر وہی جلادوں کی نگاہیں

پھر وہی سنگینوں کی نوکیں

پھر وہی خنجر، پھر وہی پھانسی

مجید امجد

نعتیہ مثنوی

شہرِ مکہ بتوں کی بستی ہے

چارسو تیرگی برستی ہے

لو وہ اک نور کی کرن پھوٹی

بزمِ آفاق جگمگا اٹّھی

دیکھنا اک یتیمِ بےساماں

بےنوا، کم سخن، تہی داماں

جس نے یوں سال و سن گزارے ہیں

بھوک میں اپنے دن گزارے ہیں

پیرہن تن پہ تار تار اس کا

کوئی محرم نہ دوستدار اس کا

تپتی ریتوں پہ محوِ خواب کہیں

تیز کانٹوں سے زخم یاب کہیں

چلتی تیغوں کے درمیان کبھی

کنکروں سے لہولہان کبھی

ذرّہ ذرّہ عدوئے جاں اس کا

تشنۂ خوں ہے اک جہاں اس کا

ہاں مگر لب جب اس کے ہلتے ہیں

دل کے مرجھائے پھول کھلتے ہیں

جب وہ پیغامِ حق سناتا ہے

وجد میں دو جہاں کو لاتا ہے

جب وہ اونچی صدا سے کہتا ہے

ہادیانہ ادا سے کہتا ہے

گمرہو! تم یہ کیا سمجھتے ہو

پتھروں کو خدا سمجھتے ہو

دل دہلتے ہیں قہرمانوں کے

دیے بجھتے ہیں کفر خانوں کے

بات یہ کیا زبان سے نکلی

لاکھ تلوار میان سے نکلی

ظالموں کی اذیّتیں اک سمت

اور خدا کی مشیّتیں اِک سمت

دیکھنا تیز دھوپ کی لو میں

آندھیوں کی شرارہ گوں رو میں

مکے سے دور اور مدینے کے پاس

جا رہا ہے کوئی بہشت انفاس

جا رہا ہے وہ کوئی راہ نورد

دو جہاں اس کی پاک پلکوں کی گرد

سانڈنی پر سوار جاتا ہے

درمیانِ غبار جاتا ہے

ساتھ اک صدقِ جاں روانہ ہے

عشق کا کارواں روانہ ہے

سرِ مکہ کچھ اور منظر ہے

مرتضیٰ ہے، نبی کا بستر ہے

شب ہے، اندھیرا گہرا گہرا ہے

چار سو قاتلوں کا پہرا ہے

وہ پیمبر کی چارپائی پر

ہنستا ہے بےسمجھ خدائی پر

سوئے یثرب نبی کی باگ اٹّھی

کُفر کے خرمنوں سے آگ اٹّھی

روئے صحرا کے ٹیلے ٹیلے پر

آج قدغن ہے ہر قبیلے پر

اس طرف سے رسول اگر گزرے

تو وہ کٹوا کے اپنا سر گزرے

آہ وہ راستہ بیاباں کا

خطِ نوری جبینِ ایماں کا

اس کی پاکیزہ خاک، کیا کہنا!

خاک اور تابناک، کیا کہنا!

جس کے ذروں کو رشکِ ماہِ تمام

کر گیا ناقۂ نبی کا خرام

نقشِ پا دے کے جس کے سینے کو

میرا آقا گیا مدینے کو

کاش وہ خاک مجھ کو مل جائے

سرمۂ پاک مجھ کو مل جائے

میں اسے رکھ کر آنکھ کے تل میں

آنکھ کے تل میں، دیدۂ دل میں

جگمگاتا پھروں زمانے میں

زندگی کے سیاہ خانے میں

جو نبی کے قریب ہیں وہ لوگ

کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ

اس کے قدموں کے ساتھ رہتے ہیں

اس کی موجوں کے ساتھ بہتے ہیں

اس کے ابرو کے ہر اشارے پر

تیرتے ہیں لہو کے دھارے پر

اس کی عزت پہ سر کٹاتے ہیں

آخری وقت مسکراتے ہیں

ان کے قدموں میں دولتِ کونین

ان کا ایک ایک سانس بدر و حنین

ہاں وہ دیکھو بلال کی حالت

چور زخموں سے خون میں لَت پت

گرم ریتی پہ تلملاتا ہے

تازیانوں کی چوٹ کھاتا ہے

موت کا خوف ہے نہ زیست کی فکر

اس کے ہونٹوں پہ لا الٰہ کا ذکر

دیکھنا جنگ اُحد کی جاری ہے

وقت اسلامیوں پہ بھاری ہے

چار سو کافروں کا ریلا ہے

ابن سکّن زیاد اکیلا ہے

اس نے دیکھا کہ چند پیکرِ شر

وار کرنے کو ہیں محمد پر

دوڑ کر آ کے درمیانِ نبی

جان دے کر بچائی جانِ نبی

لاش اس کی اٹھا کے لاتے ہیں

سامنے مصطفیٰ کے لاتے ہیں

ابھی کچھ اس میں ہوش باقی ہے

اک نفس کا خروش باقی ہے

دمِ آخر کے وقتِ مشکل میں

ابھی کچھ آرزو سی ہے دل میں

اپنے سینے کے بل گھسٹتا ہے

پائے محبوب سے چمٹتا ہے

ان کے قدموں کو چوم لیتا ہے

مسکراتا ہے، جان دیتا ہے

آہ یہ رتبۂ فدائے نبی

آخری سانس اور بہ پائے نبی

آہ یہ شمعِ حق کے پروانے

دُرج انسانیت کے دُردانے

کیا محبت ہے، کیا ارادت ہے

موت ان کے لیے عبادت ہے

جنگِ موتہ کا اِ ک سماں دیکھو

زید کے ہاتھ میں نشاں دیکھو

زید وہ اک غلامِ پاک نہاد

جس کو اسلام نے کیا آزاد

جب نبی کی اسے غلامی ملی

دونوں عالم میں شادکامی ملی

ہر گھڑی، راحتوں میں، صدموں میں

ہے وہ شاہِ عرب کے قدموں میں

یہ ہے رنگِ اخوتِ اسلام

آج سردارِ فوج ہے وہ غلام

وہ جری تیس سو سپاہ کے ساتھ

لڑتا ہے فوجِ بےپناہ کے ساتھ

ہو محبت رسول سے جس کو

لائے خاطر میں وہ بھلا کس کو

اس کی ہمت کو کون ٹوک سکے

اس کے طوفاں کو کون روک سکے

ہیں رواں زندگی کے ہنگامے

تسمہ اس کی رکاب کا تھامے

جو کچھ اس محفلِ حیات میں ہے

اس کی باگ اس کے پاک ہات میں ہے

موت اس کے لیے ہے شیریں جام

آخری گھونٹ اورعمرِ دوام

آ رہی ہے وہ فتحیاب سپاہ

لاشِ زیدِ شہید کے ہمراہ

میرِ لشکر نہیں ہے لشکر میں

صفِ ماتم بچھی ہے گھر گھر میں

وہ گہر اب نہیں خزینے میں

ایک کہرام ہے مدینے میں

آب گوں دیدۂ پیمبر ہے

مرنے والے کا کیا مقدر ہے

اس کے زخموں کا خون، چہرے کی دھول

پا رہی ہے نبی کی آنکھ سے پھول

وہ عدم کی طرف روانہ ہے

ساتھ یہ بےبہا خزانہ ہے

اس کی بچی کو دیکھ کر رنجور

اس کے اشکوں کو چومتے ہیں حضور

باپ کا صدمہ کیا پڑا اس پر

جھک پڑی رحمتِ خدا اس پر

رحمتِ دو جہاں کے سائے میں

فرق کیا اپنے اور پرائے میں

جس کے سر پر نبی کا سایہ ہے

اس کی دنیا ہے، اس کی مایا ہے

اس کا جینا ہے، اس کا مرنا ہے

ڈوب کر بھی اسے ابھرنا ہے

ایک منزل ہے اس کے ایماں کی

سربلندی مقامِ انساں کی

لو لگا کر خدا کی ہستی سے

آدمی کو اٹھانا پستی سے

روح میں شورشیں زمانوں کی

سانس میں کروٹیں جہانوں کی

دل میں سامان سو اجالے کا

ہاتھ میں پلّو کملی والے کا

مجید امجد

ہزاروں راستے ہیں

ہزاروں راستے ہیں، منزلیں ہیں

سمندر اور صحرا بھی ہیں حائل

مگر رہبر ستارے کی شعاعیں

ہیں ہر رہرو کے سینے کی متاعیں

ہر اک کشتی سمجھتی ہے کہ تارا

رواں ہے ساتھ اس کے بن کے رہبر

تمہاری رہ مری منزل الگ ہے

تمہارے دل سے میرا دل الگ ہے

سمندر اور صحرا ان میں حائل

کسے معلوم ہے یہ دو مسافر

کبھی اک دوسرے سے مل سکیں گے

کبھی شاید یہ غنچے کھل سکیں گے!

مگر دونوں کا رہبر ہے وہ تارا

جو اک دن میرے حرفِ آرزو پر

تمہاری انکھڑیوں سے گر پڑا تھا

جبینِ وقت پر تاباں ہوا تھا

شب و روز آئے اس کے بعد لاکھوں

ابھی تک اس کی کرنوں کے اشارے

صدا بھٹکے ہوؤں کو دے رہے ہیں

ہماری کشتیوں کو کھے رہے ہیں

ہمارے راستے کتنے الگ ہوں

ہماری منزلیں کتنی جدا ہوں

مگر رہبر ستارا تو وہی ہے

امیدوں کا کنارا تو وہی ہے

مجید امجد

حسین

وہ شام صبحِ دوعالم تھی جب بہ سرحدِ شام

رکا تھا آ کے ترا قافلہ، ترے خیام!

متاعِ کون و مکاں، تجھ شہید کا سجدہ

زمینِ کرب و بلا کے نمازیوں کے امام

یہ نکتہ تو نے بتایا جہان والوں کو!

کہ ہے فرات کے ساحل سے سلسبیل اک گام

سوارِ مرکبِ دوشِ رسول — پورِ بتول

چراغِ محفلِ ایماں ترا مقدس نام!

مجید امجد

ارتھی

تو نے کیا دیکھا؟ تو نے کیا سمجھا؟

جب تری زندگی نواز آنکھیں

گوشۂ بام کی بلندی سے

فرطِ حیرت سے، دردمندی سے

جھک پڑیں اس ہجومِگریاں پر

جو گزرتا تھا تیرے کوچے سے

ایک ارتھی اٹھائے شانوں پر

چند سہمے سے پھول اور اک چادر

زندگی کی بہار کا انجام؟

بحرِ ہستی کی آخری منجدھار؟

تیرے حسن اور مرے جنوں کا مآل؟

اپنا احساس تھا کہ میرا خیال؟

میں نے دیکھا تو سوگوار سی تھی

تو نے کیا سوچا؟ تو نے کیا سمجھا؟

مجید امجد

وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام

مجید امجد ۔ غزل نمبر 50
کیا گریباں چاک صبح اور کیا پریشاں زلف شام
وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام
دیکھیے تنکے کی ناؤ کب کنارے جا لگے
موج ہے دہشت خروش اور سیل ہے وحشت خرام
شمع کے دامن میں شعلہ، شمع کے قدموں میں راکھ
اور ہو جاتا ہے ہر منزل پہ پروانے کا نام
زیست کی صہبا کی رو تھمتی نہیں، تھمتی نہیں!
ٹوٹتے رہتے ہیں نشّے، پھوٹتے رہتے ہیں جام
مجید امجد

صبح و شام

تجھ کو خبر ہے کتنی صبحیں

کتنی صبحیں بن گئیں شامیں

آرزوؤں سے مہکی صبحیں

بن کے پرانی پیامی شامیں

ڈوب رہی ہیں، ڈوب چکی ہیں

وقت کے طوفانی دریا میں

کتنی صبحیں، کتنی شاہیں

اب بھی رواں ہے ناؤ میری

اب بھی رواں ہے دھیرے دھیرے

دور ہے امیدوں کا کنارا

دور ہیں ارمانوں کے جزیرے

دور، افق سے دور، وہ دنیا

جس کی فضا میں جھومیں جھامیں

نوریں صبحیں، رنگیں شامیں

ان صبحوں کو، ان شاموں کو

کون مری دنیا میں لائے

ہائے میری دکھیا دنیا

جس کے اجالے بھی ہیں سائے

وہ سائے جن کی ظلمت کو

سونپ چکی ہیں اپنی لگامیں

میری صبحیں، میری شامیں

مجید امجد

راجا پرجا

راجے کا کل آج!

سارا جہاں محتاج

سُکھ، دھن، باج، خراج

گدی، مسند، تاج

تیس برس کا راج

اور پھر اس کے بعد

اک روضہ ویراں

پرجا کا آج نہ کل

شاخ نہ پھول، نہ پھل

بھٹکے دَل کا دَل

بھوکا، پیاسا، شل

لاکھ برس کا پل

اور پھر اس کے بعد

مٹتے گورستاں

راجا پرجا کہاں؟

اک بہتا طوفاں

کوہِ عظیم و گراں

کاہِ سبک ساماں

جھونپڑیاں، ایواں

نغمہ اور فغاں

ہر شے اس میں رواں

ہر شے اس میں نہاں

اور پھر اس کے بعد

ایک وہی طوفاں

مجید امجد

ملاقات

تم کو شہروں نے پکارا، سبزہ زاروں نے مجھے

تم کو پھولوں نے صدا دی اور خاروں نے مجھے

میں انھی پگڈندیوں پر بانسری چھیڑا کیا

بے ارادہ، جانے کس کا راستہ دیکھا کیا

جب ندی پر ترمراتا شام کی مہندی کا رنگ

میرے دل میں کانپ اٹھتی کوئی اَن بوجھی امنگ

جب کھلنڈری ہرنیوں کی ڈار بن میں ناچتی

کوئی بےنام آرزو سی میرے من میں ناچتی

ریت کے ٹیلے پہ سرکنڈوں کی لہراتی قطار

نیم شب، میں اور میری بانسری اور انتظار

آہ یہ سرسبز میداں، دم بخود، لامنتہی

جن کی وسعت میں جوانی میری آوارہ رہی

بعد مدت کے تمہارا آج اِدھر آنا ہوا

وہ زمانہ بچپنے کا، آہ، افسانہ ہوا

کتنے سلجھے بال، کیسی نرم و نازک آستیں

ہنس رہے ہو؟ اک تمہاراقہقہہ بدلا نہیں

مجھ کو دیکھو، میں ابھی وابستۂ آغاز ہوں

ان حسیں ویرانیوں میں گوش بر آواز ہوں

دوڑتی جاتی ہے دنیا وقت کے محمل کے سات

میرے حصے میں وہی بےتاب دن، بےخواب رات

ڈھونڈتا ہوں، گم ہوئی ہے میری دنیائے حسیں

ہاں، انھی پھیلے بیابانوں کے پچّھم میں کہیں!

ایک دن جب میرے مرنے کی خبر پائے گی وہ

میری تربت پر تو آئے گی، ضرور آئے گی وہ

مجید امجد

چچی

آگ لینے آئی جب کوئی پڑوسن شام کو

یوں چچی نے وا کیا اپنے لبِ دشنام کو

’’اس موئی پاپن نے تو مجھ کو جلا ڈالا بہن!

کوئی ہو اس بےحیا سے پوچھنے والا، بہن

یہ نگوڑی کیوں گلی کے موڑ پر کل پچھلی رات

کر رہی تھی جانے کیا سرگوشیاں اور اس کے سات‘‘

وہ بچاری آلوؤں کو چھیلتی بےاختیار

ہاتھ میں اپنے چبھو بیٹھی چھری کی تیز دھار

صبح کو گونجی فضا میں جب کسی بنسی کی لے

اس کے سینے میں تڑپ اٹھی کوئی بیتاب شے

ہاتھ سے چلتی ہوئی چکی کا دستہ چھٹ گیا

اک جہاں اس کے تصور میں بسا اور لٹ گیا

اتنے میں ظالم چچی کی غیظ ناک آواز پر

جھک گئی پھر سے وہ سنگِ آسیا کے ساز پر

کیوں نہ ہواس دکھ کی ماری کے لیے جینا وبال

اک چچی کے ہاتھ میں ہو جس کے گھر کی دیکھ بھال

باپ جس کا کارخانے میں کہیں مزدور ہو

اپنی اکلوتی جواں بیٹی سے کوسوں دور ہو

جس کی ماں پھر لوٹ کر فردوس سے آئی نہ ہو

وہ ابھاگن! جس بچاری کا کوئی بھائی نہ ہو

مجید امجد

سفرِ حیات

ہر اک نقشِ پا کی زباں پر فسانے

ہر اک دُوب میں مضطرب سو ترانے

ہر اک موڑ پہ اس کے لاکھوں زمانے

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

کسی بوستانِ حسیں کے کنارے؟

کسی وادیِ شبنمیں کے دوارے؟

کسی خارزارِ حزیں کے ٹھکانے؟

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

امیدوں پہ حسرت سی برسا رہے ہیں

پس و پیش سے کان میں آ رہے ہیں

بھٹکتے ہوئے قافلوں کے ترانے

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

ہر اک گام کی زد میں خاموش لاشیں

جبینوں کے ٹکڑے تو سینوں کی قاشیں

یہ گزرے ہوئے رہرووں کے ’’فسانے‘‘

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

مسافر رواں ہیں ادھر آنکھ میچے

ادھر تنکے تنکے کی چلمن کے نیچے

بچھا رکھا ہے دام اپنا قضا نے

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

نگاہوں کے آگے اجل کی سیاہی

کرے کیا بچارا تھکا ہارا راہی

چلا تو ہے تقدیر کو آزمانے

یہ رستہ کہاں ختم ہو گا، نہ جانے؟

مجید امجد

سازِ فقیرانہ

گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا

نہ مل کے خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا

فقیر ہیں دو، فقیرانہ ساز رکھتے ہیں

ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا

ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام!

زمانے بھر سے ہے کم دل کا ایک کونا کیا

نظامِ دہر کو تیورا کے کس لیے دیکھیں

جو خود ہی ڈوب رہا ہو اسے ڈبونا کیا

بساطِ سیل پہ قصرِ حباب کی تعمیر

یہ زندگی ہے تو پھر ہونا کیا، نہ ہونا کیا

نہ رو کہ ہیں ترے ہی اشک ماہ و مہر امجد

جہاں کو رکھنا ہے تاریک اگر تو رونا کیا

مجید امجد

مسافر

گزر گاہِ جہاں پر — ہم مسافر!

شکستہ دل، شکستہ دم، مسافر

عجب کچھ زندگانی کا سفر ہے

مسافر کا نہیں محرم مسافر

گلے ملتی ہے رو رو کر گلوں سے

کہ اس گلشن میں ہے شبنم مسافر

کٹھن ہے عشق کی منزل کٹھن ہے

چلے ہیں اس روش پر کم مسافر

ابد اک موڑ تیرے راستے کا

تو سیلِ شوق ہے، مت تھم مسافر!

گلہ کیوں شومیِ قسمت کا امجد؟

کرے کیوں فکرِ بیش و کم مسافر

مجید امجد

عقدۂ ہستی

خشک ندّی کے کنارے، ریل کی پٹڑی کے پاس

کھل رہا ہے دشت میں اک لالۂ آتش لباس

اس طرف کمھلائی دوب اور اس طرف سوکھا ببول

پل رہا ہے جن کی بےاحساس گودی میں یہ پھول

کھیلتا ہے گرچہ انگاروں سے اس کا ہر نفس

مٹ رہا ہے خار و خس میں ہم نشینِ خار و خس

درد کی فطرت کا دم اس طرح گھٹتا دیکھ کر

دیکھ کر اس سوز کی دولت کو لٹتا دیکھ کر

مجھ کو نظمِ زیست کی بربادیاں یاد آ گئیں

میری آنکھوں میں برستی بدلیاں لہرا گئیں

اس پر اک ساتھی نے حیرت سے کہا: ’’کیوں کیا ہوا؟

او مسافر بھائی، تو کیوں رو پڑا؟ کیوں، کیا ہوا؟‘‘

ایسے لمحے میں حقیقت کو چھپانے کے لیے

دور کیوں جائے بھلا انساں بہانے کے لیے

مسکرا کر میں نے جھٹ اس سے کہا: ’’کچھ بھی نہیں

یونہی بیٹھے بیٹھے آنکھیں میری دھندلا سی گئیں ‘‘

عقدۂ ہستی کو سلجھایا ہے کس نے اور کب؟

آہ اس دنیا میں دل روتے ہیں اور ہنستے ہیں لب!

مجید امجد

کہاں؟

موت کی گفتگو نہ کر اے دوست

آہ یہ آرزو نہ کر اے دوست

جب تلک سانس کی روانی ہے

تیرے جیون کی رُت سہانی ہے

جب تلک دل کے داغ روشن ہیں

شش جہت میں چراغ روشن ہیں

دوست! جب تک ترا حریمِ نگاہ

دے رہا ہے تجلیوں کو پناہ

زندگی جام ہے محبت کا

زندگی نام ہے محبت کا

ہم نشیں، کس قدر قریب ہیں ہم

زندگی ہے تو خوش نصیب ہیں ہم

دل سے دل کی طرب نوازی ہے

روح سے روح محوِ بازی ہے

آنکھیں آنکھوں میں مے انڈیلتی ہیں

انگلیاں گیسوؤں سے کھیلتی ہیں

شانے سے شانہ بھڑ رہا ہے یہاں

نغمے سے نغمہ چھڑ رہا ہے یہاں

جو بھی ارماں دلِ حیات میں ہے

آج تو دامِ ممکنات میں ہے

کل نہ معلوم کیا سے کیا ہو جائے

کل کا مفہوم کیا سے کیا ہو جائے

الجھے الجھے اجل کے دھارے سے

جا کے ٹکرائیں کس کنارے سے

کس نشیمن میں، کس ٹھکانے، کہاں

اپنی منزل ہو پھر نہ جانے کہاں

(15-19-1940)

مجید امجد

بیاہی ہوئی سہیلی کا خط

کیا یہ سچ ہے مری سہیلی کہ تم

جلد ہی اب بیاہی جاؤ گی

اِک نئی زندگی میں اترو گی

اِک نئی قیدگہ بساؤ گی

آج تک جن سے تم بچھڑ نہ سکیں

ان کو اس طرح چھوڑ جاؤ گی

ایک گھونگھٹ کی اوٹ میں چھپ کر

زیست کی قید کاٹ جاؤ گی

نقرئی بندھنوں میں جکڑی ہوئی

راہِ ہستی پہ ڈگمگاؤ گی

پھر بھی آئیں گی چاندنی راتیں

تم مگر یوں نہ گنگناؤ گی

آنکھ میں ہوں گے سرمہ آلود اشک

آہ! تم پھر بھی مسکراؤ گی

آندھیوں کی زدوں میں آئی ہوئی

شمع کی طرح بجھتی جاؤ گی

آہ! یہ دکھ بھرا نظامِ حیات

جس کے پنجے میں تلملاؤ گی

آہ! یہ طوقِ رسم و راہِ جہاں

جس کو زیبِ گلو بناؤ گی

جس میں جلتا ہے دل سہاگن کا

اس جہنم میں ہنستی جاؤ گی

مان لوں کیا یہ میں کہ آج کی رات

آخری گیت اپنا گاؤ گی

پانی بھرنے کے اک بہانے سے

اپنی گاگر اٹھا کے آؤ گی

آ کے ندّی کنارے لہروں کو

دیر سے منتظر سا پاؤ گی

ایک لمحے کے بعد کیا ہو گا

ان کی گودی میں تھرتھراؤ گی

زندگانی کے قیدخانے کی

ساری زنجیریں کاٹ جاؤ گی

کاش پہنچے یہی نوید مجھے

ملے اس خط کی یوں رسید مجھے

مجید امجد

گھٹا سے

گھٹا! نہ رو! مرے دردوں پہ اشکبار نہ ہو

مجھ ایسے سوختہ ساماں کی غمگسار نہ ہو

لپیٹ لے یہ خنک چادریں ہواؤں کی

کسے طلب ہے تری مست کار چھاؤں کی

تو اپنے ساتھ ہی لے چل یہاں سے جاتے ہوئے

کھلونے اپنی پھواروں کے جھنجھناتے ہوئے

یہ بوندیوں کی نوائیں تجھے مبارک ہوں

یہ بہکی بہکی فضائیں تجھے مبارک ہوں

یہ نزہتیں مری محفل سے اے گھٹا، لے جا

یہ اپنی بجلیوں کے ارغنوں اٹھا لے جا

میں سن چکا ہوں بہت تیری داستانیں، بس

خموش! مجھ کو نہیں راس تیرے نغموں کا رس!

نہ چھیڑ آج یہ اپنی رسیلی شہنائی!

ہے مشکلوں سے مرے آنسوؤں کو نیند آئی!

مجید امجد

گر اس جہان میں جینا ہے

نہ تاجِ سر کو تو بیچ اور نہ تو سریر کو بیچ

گر اس جہان میں جینا ہے تو ضمیر کو بیچ

حیا کو اپنی نگاہوں سے حکمِ رخصت دے

زباں کو زہر ملے شہد کی حلاوت دے

فریبِ سجدہ سے اپنی جبیں کو واقف کر

ریا کے آنسوؤں سے آستیں کو واقف کر

ہے تیرے دل میں جو چنگاری اس کا نام نہ لے

خودی کا رتبۂ خودداری! اس کا نام نہ لے

مجید امجد

بھکشا

پھرتا پھرتا دکھ کی وادی میں کھویا کھویا سا

لے کر اپنے اجڑے دل کا ٹوٹا پھوٹا کاسا

آ پہنچا ہے تیرے در پر یہ دکھیا بھکیاری

سینے میں طوفانِ تمنا، آنکھ سے آنسو جاری

تیرے اونچے ایواں کی یہ کنگریاں چمکیلی

چوم رہی ہیں جن کو سورج کی کرنیں البیلی

مرمر کی محرابوں کے نیچے وہ بند دریچے

جیسے بیٹھے ہوں جنت کے غلماں آنکھیں میچے

بھینی خوشبوؤں سے مہکا جالی دار جھروکا

جس کی چلمن پر ہر ہلتا سایہ رنگیں دھوکا

تیرے دوارے پر آ کر میں اوگن ہار بھکاری

آنکھوں کے رستے ٹپکا کر سینے کی چنگاری

ذرّوں کو آج اشکوں کی برساتیں بانٹ رہا ہوں

خاکِ در پر سجدوں کی سوغاتیں بانٹ رہا ہوں

دیکھ اب ڈوبتی ڈوبتی نبضیں کھاتی ہیں ہچکولے

روح کا پنچھی دل کی ممٹی پر ہے کندے تولے

خاک میں مل جانے کو ہے اک چندر روپ جوانی

جیون کی بھکشا دے دے او راج محل کی رانی

مجید امجد

بیسویں صدی کے خدا سے

انہیں آنکھوں سے میں نے ربِ اکبر تیری دنیا میں

غرورِ حسن کو برباد و رسوا ہوتے دیکھا ہے

زر و دولت کی بےحس مورتی کے پاؤں پر میں نے

حسیں فاقہ کشوں کی انکھڑیوں کو روتے دیکھا ہے

چمکتی دھوپ میں مزدور دوشیزہ کو رستوں پر

کڑکتے کوڑوں کی چھاؤں میں اینٹیں ڈھوتے دیکھا ہے

جوانی کی مہکتی رت میں بیواؤں کی آنکھوں کو

جگر کے زخم نمکیں آنسوؤں سے دھوتے دیکھا ہے

تری جنت پہ مجھ کو کیوں یقیں آئے کہ دنیا میں

گل انداموں کو میں نے خار و خس پرسوتے دیکھا ہے

وہ جن پر تو نے برسائے ہیں اپنی بخششوں کے پھول

انہی کو میں نے ہر رستے پہ کانٹے بوتے دیکھا ہے

تری آنکھیں نہیں لیکن سنا ہے دیکھتا ہے تو

ذرا دیکھ اپنے بندوں کی نظر سے گر رہا ہے تو

مجید امجد

قیدی دوست

میرے قیدی دوست! تو مغموم سا رہتا ہے کیوں؟

لگ کے زنداں کی سلاخوں سے کھڑا رہتا ہے کیوں؟

رات دن پتھرائی آنکھوں سے مجھے تکتا ہے تو

بات وہ کیا ہے جو مجھ سے کہہ نہیں سکتا ہے تو؟

تیرے سینے کی نوائے راز کو سنتا ہوں میں

جب تری زنجیر کی آواز کو سنتا ہوں میں

لیکن اے ساتھی، نہ گھبرا، مژدہ ہو، کل رات کو

سنتری دہرا رہے تھے راز کی اس بات کو

’’حکم آیا ہے کہ اس زنداں میں ہیں جتنے اسیر

جن کے دکھیارے دلوں میں ہیں کھٹکتے غم کے تیر

ایک آہن پوش کشتی پر انہیں کر کے سوار

بھیج دو اس بحر کے پُرخوف طوفانوں کے پار‘‘

دیکھ! افق پر صبح کی دھندلاہٹوں کے درمیاں

وہ نظر آیا سفینے کا سنہری بادباں!

اب ہماری قیدگہ کے قفل کھولے جائیں گے

اس سفینے پر ہر اک بدبخت کو لے جائیں گے

اس جگہ اک دوسرے کے متّصل بیٹھیں گے ہم

چند گھڑیوں کے لیے آپس میں مل بیٹھیں گے ہم

اپنی اپنی داستاں رو رو کے کہہ جائیں گے ہم

چند لمحوں کے لیے نشّوں میں بہہ جائیں گے ہم

بیڑیوں پر تیری رکھ کے اپنی سیمائے نیاز

میں پڑھوں گا میرے قیدی دوست! الفت کی نماز

اتنے میں کشتی کنارے سے لپٹ جائے گی دوست

اور مرے سجدوں کی عمرِ شوق کٹ جائے گی دوست

پھر قدم رکھتے ہی ساحل پر جدا ہو جائیں گے

از سرِ نو قیدیِ دامِ بلا ہو جائیں گے

مجید امجد

قیصریت

ایک قطرہ سلطنت کی موج کا

اک سپاہی بادشہ کی فوج کا!

دوش پر تیر و کماں باندھے ہوئے

جا رہا تھا رختِ جاں باندھے ہوئے

چوم کر اس کے گلابی گال کو

جاتے دم کہتا تھا اپنے لال کو

’’دیکھتی ہے راستہ امّی تری

جاؤ بیٹا، جاؤ! میں آیا ابھی‘‘

بچہ مڑ کر چل پڑا ماں کی طرف

اور سپاہی خونی میداں کی طرف

وہ سپاہی جنگ میں مارا گیا

ڈوب اس کی زیست کا تارا گیا

لاش اس کی جوئے خوں میں بہہ گئی

کشتوں کے پشتوں میں کھو کر رہ گئی

لٹ گیا جب اس کی دلہن کا سہاگ

تھام لی شیطاں نے اس کے دل کی باگ

اس نے کر لی ایک اور شادی کہیں

حسن اور خوئے وفا؟ ممکن نہیں

اس سپاہی کا وہ اکلوتا یتیم

آنکھ گریاں، روح لرزاں، دل دونیم

بادشہ کے محل کی چوکھٹ کے پاس

لے کے آیا بھیک کے ٹکڑے کی آس

اس کے ننگے تن پہ کوڑے مار کر

پہرے داروں نے کہا دھتکار کر

کیا ترے مرنے کی باری آ گئی؟

دیکھ وہ شہ کی سواری آ گئی

وہ مڑا، چکرایا اور اوندھا گرا

گھوڑوں کےٹاپوں تلے روندا گیا

دی رعایا نے صدا ہر سمت سے

’’بادشاہِ مہرباں! زندہ رہے‘‘

مجید امجد

یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 33
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا
یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا
بڑے شوق سے پی، مگر پی کے مت گر
ہتھیلی پہ ہے تیری ساغر سنبھل جا
جہاں حق کی قسمت ہے سولی کا تختہ
یہاں جھوٹ ہے زیبِ منبر سنبھل جا
قیامت کہاں کی، جزا کیا، سزا کیا
ہے ہرسانس اک تازہ محشر سنبھل جا
وہ طوفاں نے پُرخوف جبڑوں کو کھولا
وہ بدلے ہواؤں کے تیور سنبھل جا
نہیں اس خرابات میں اذنِ لغزش
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا
مجید امجد

بیساکھ

بیساکھ آیا، آئی فسوں زائیوں کی رُت

آئی حسین کلیوں کی برنائیوں کی رُت!

گاؤں کے مرد و زن نے اٹھائیں درانتیاں

آئی سنہری کھیتیوں کی، لائیوں کی رُت

گندم کی فصل کاٹنے کے خوشگوار دن

محنت کشوں کی زمزمہ پیرائیوں کی رُت

خوشوں کے بکھرے بکھرے سے انباروں کا سماں

کھلواڑوں کے نگاروں کی رعنائیوں کی رُت

کھیتوں میں دھیمے قہقہوں کا موسمِ حسیں

رستوں پہ گونجتی ہوئی شہنائیوں کی رُت

دہقان کی اُمید کی بارآوری کا وقت

دنیا کے سوئے بخت کی انگڑائیوں کی رُت

مجید امجد

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

یہ باغ تیرا ہے، یہ پھول تیرے ہیں چن لے

گلوں کے ریشوں سے دامِ حسیں کوئی بن لے

ابھی بچھا نہ اسے، ایک التجا سن لے

مرے بغیر اجڑ جائے گا ٹھکانہ مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

یہ سچ ہے، تیرے چمن سے چرایا ہے میں نے

یہ ایک تنکا یہیں سے اٹھایا ہے میں نے

کہ جس پہ اپنا بسیرا بسایا ہے میں نے

ترے چمن میں تھا حق اس قدر بھی کیا نہ مرا؟

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

یہیں پہ بیٹھ کے میں چپکے چپکے رو لوں گا

کلی کلی مجھے چھیڑے گی، میں نہ بولوں گا

نہ گاؤں گا، میں زباں تک نہ اپنی کھولوں گا

تری فضاؤں پہ گر بار ہے ترانہ مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

تجھے ہے یاد؟ یہاں ایک پنچھی رہتا تھا

وہ جس کے نغموں کی رو میں زمانہ بہتا تھا

یہاں سے جانے لگا وہ تو رو کے کہتا تھا

’’رفیق! جاتا ہوں! پھر جانے کب ہو آنا مرا

ترے سپرد یہ چھوٹا سا آشیانہ مرا‘‘

اندھیرے میں کوئی پتّا جو سرسراتا ہے

تو اب بھی راتوں کو دل میرا چونک جاتا ہے

سمجھتا ہوں وہ مرا ہم سرود آتا ہے

ہے جس کی ایک امانت یہ آشیانہ مرا

یہ ٹوٹی ٹہنی پہ برباد سا ٹھکانہ مرا

کبھی تو آئے گا وہ مژدۂ امید لیے

اِک اور جنتِ گلپوش کی کلید لیے

اک اور گلشنِ آزاد کی نوید لیے

بلا کے نام باندازِ محرمانہ مرا

وہ آ کے سر پہ اٹھا لے گا آشیانہ مرا

وہ دیکھ! شاخیں ہلی ہیں — وہ آ رہا ہو گا

حسیں کلیاں کھلی ہیں — وہ آ رہا ہو گا

رُتیں رُتوں سے ملی ہیں — وہ آ رہا ہو گا

یہیں، ادھر ہی، وہ سُکھ سنگتی پرانا مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد، آشیانہ مرا

مجید امجد

انقلاب

مری آنکھوں میں برستے ہوئے آنسو نہ رہے

دل کی دنیا نہ رہی، درد کے پہلو نہ رہے

آہوں سے روح کی اگنی کی بھبھک جاتی رہی

خشک ہونٹوں سے شرابوں کی مہک جاتی رہی

نیند کا چین گیا، جاگنے کی بات گئی

نشوں کا دن گیا اور مستیوں کی رات گئی

ذرّوں کے سینوں میں مہتابوں کی دنیا نہ رہی

قرمزی رنگوں میں گم خوابوں کی دنیا نہ رہی

ڈال رکھا تھا تخیل نے جو رنگیں پردا

رخِ ہستی سے ہے اٹھنے لگا رفتہ رفتہ

اب حقیقت مری آنکھوں کے قریب آتی ہے

نظر اب دنیا کی تصویرِ مہیب آتی ہے

اب تبسم مجھے غنچوں کا رُلا دیتا ہے

دل کے شعلوں کا ہر اک جھونکا ہوا دیتا ہے

حسن کے ناز و ادا جانتا ہوں، جانتا ہوں

اس کا سحر، اس کا فسوں، مانتا ہوں، مانتا ہوں

چاند کی قاش سے ماتھے کی صباحت! سچ ہے

پھول کی طرح حسیں چہرے کی رنگت! سچ ہے

مست نظروں میں شرابوں کی ملاوٹ! سچ ہے

سرخ ہونٹوں میں نباتوں کی گھلاوٹ! سچ ہے

دیکھتی ہیں مگر اب میری نگاہیں کچھ اور!

اب مرے فکر پہ ہیں کھل گئیں راہیں کچھ اور

اب ہر اک شے کی حقیقت پہ گماں رکھتا ہوں

اپنی تخییل کے قدموں پہ جہاں رکھتا ہوں

دیکھتا ہوں کہ نہیں کچھ بھی یہاں میرے بغیر

خس و خاشاک کا ہے ڈھیر جہاں میرے بغیر

حسن اک دھوکا ہے اورعشق ہی خود بھول ہے اک

تتلی کیوں گل پہ گرے، تتلی ہی خود پھول ہے اک

مجید امجد

یہ سچ ہے

یہ سچ ہے اس کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں ہوتی

پڑا رہتا ہے جب تک بحر کی آغوش میں موتی

یہ سچ ہے پھول جب تک شاخ سے توڑا نہیں جاتا

کسی کے گیسوئے پُرپیچ میں جوڑا نہیں جاتا

شرابِ ناب جب تک بٹ نہیں جاتی کٹوروں میں

جھلک سکتی نہیں ان مد بھری آنکھوں کے ڈوروں میں

یہ سچ ہے جب ندی اپنی روانی چھوڑ دیتی ہے

تو اس کے ساز کے تاروں کو فطرت توڑ دیتی ہے

یہ سچ ہے اپنے جوہر کھو رہا ہوں دیس میں رہ کر

گزرتی زندگی کو رو رہا ہوں دیس میں رہ کر

اسی ماحول تک محدود ہے نغمہ مری نَے کا

فضا کی تنگیوں میں گھٹ رہا ہے دم مری لَے کا

مجھے آفاق کی پہنائیاں آواز دیتی ہیں

مجھے دنیا کی بزم آرائیاں آواز دیتی ہیں

مگر میں چھوڑ کر یہ دیس پیارا جا نہیں سکتا

بھلا کر میں ان آنکھوں کا اشارا جا نہیں سکتا

وہ آنکھیں جن کی اشک افشانیاں جانے نہیں دیتیں

وہ جن کی ملتجی حیرانیاں جانے نہیں دیتیں

مجید امجد

ریل کا سفر

کراچی کو جاتی ہوئی ڈاک گاڑی

دھوئیں کے سمندر میں تیراک گاڑی

مسافت کو یوں طے کیے جا رہی ہے

سفر کو غٹاغٹ پیے جا رہی ہے

یہ چٹیل سے میداں، یہ ریتوں کے ٹیلے

ہیں جن پر بچھے دوب کے زرد تیلے

یہ کپاس کی کھیتیوں کی بہاریں

یہ ڈوڈوں کو چنتی ہوئی گلغداریں

گھنے بن کی پھلواڑیوں کی تگ و دَو

اور ان پر بگولوں کی زلفوں کے پرتو

یہ چھوٹی سی بستی، یہ ہل اور یہ ہالی

یہ صحرا میں آوارہ، بھیڑوں کے پالی

یہ حیران بچے، یہ خاموش مائیں

یہ گوبر کی چھینٹوں سے لتھڑی قبائیں

یہ نہروں میں بہتا ہوا مست پانی

یہ گنّوں کی رُت کی سنہری جوانی

یہ اینٹوں کا آوا، یہ اونٹوں کی ڈاریں

یہ کیکر کے پیڑوں کی لمبی قطاریں

درختوں کے سایوں سے آباد رستے

یہ آزاد راہی، یہ آزاد رستے

بدلتے چلے جا رہے ہیں نظارے

نئے سے نئے آ رہے ہیں نظارے

یہ صحرا جو نظروں کو برما رہا ہے

مرے ساتھ بھاگا چلا آ رہا ہے

نظر ایک منظر پہ جمتی نہیں ہے

یہ موج آ کے ساحل پہ تھمتی نہیں ہے

کنواں بن میں برباد سا اک پڑا ہے

کسی یادِ رنگیں میں ڈوبا ہوا ہے

بہت دور ادھرایک محمل دواں ہے

دلھن کوئی میکے کو شاید رواں ہے

کھجوروں کا جھرمٹ نظر آ رہا ہے

پتا رودِ راوی کا بتلا رہا ہے

وہ گاڑی کے پہیوں کی دلدوز آہٹ

وہ اڑتے ہوئے بگلوں کی پھڑپھڑاہٹ

یہ شامِ دلآرا، یہ پل کا نظارا

نگاہوں سے چھپتا ہوا وہ کنارا

وہ اٹھتا ہوا مرتعش ناتواں سا

بہت دور اک جھونپڑے سے دھواں سا

وہ ویراں سی مسجد، وہ ٹوٹی سی قبریں

وہ تارا شفق کے گلابی دھوئیں میں

نیا رنگ ہر دم دکھاتے ہیں منظر

نہیں ختم ہونے میں آتے ہیں منظر

ہر اک شے میں حرکت ہے، جولانیاں ہیں

ہر اک ذرّے میں وجد سامانیاں ہیں

کشش ہے، فسوں ہے، نہ جانے وہ کیا ہے

جو گاڑی کو کھینچے لیے جا رہا ہے

مرا خطۂ نور و رنگ آ گیا ہے

مرا سُکھ بھرا دیس جھنگ آ گیا ہے

مدّوکی جھنگ(12-12-1938

مجید امجد

صبحِ نو

اے دوست! ہو نوید کہ پت جھڑ کی رُت گئی

چٹکی ہے میرے باغ میں پہلی نئی کلی

پھر جاگ اٹھی ہیں راگنیاں آبشار کی

پھر جھومتی ہیں تازگیاں سبزہ زار کی

پھر بس رہا ہے اک نیا عالم خمار کا

پھر آ رہا ہے لوٹ کے موسم بہار کا

اے دوست! اس سے بڑھ کے نہیں کچھ بھی میرے پاس

یہ پہلا پھول بھیج رہا ہوں میں تیرے پاس

کومل سا، مسکراتا ہوا، مشکبار پھول

پروردگارِ عشق کا یہ بےزباں رسول

آتا ہے اک پیام رسانی کے واسطے

بسرے دنوں کی یاددہانی کے واسطے

اے دوست، ایک پھول کی نکہت ہے زندگی

اے دوست، ایک سانس کی مہلت ہے زندگی

وہ دیکھ پَو پھٹی، کٹی رات اضطراب کی

اچھلی خطِ افق سے صراحی شراب کی

آ آ یہ صبح نو ہے غنیمت، مرے حیب!

آیا ہے پھر بہار کا موسم! زہے نصیب!

مجید امجد

کون؟

زمانے پہ چھاتی ہیں جب کالی راتیں

مرے دل سے کون آ کے کرتا ہے باتیں؟

چمکتے ہیں جب جھلملاتے ستارے

مرے من میں کیوں کوندتے ہیں شرارے؟

اٹھاتی ہے جب کہکشاں چندر گاگر

ابلتا ہے کیوں میرے اشکوں کا ساگر؟

گزرتے ہیں جب بادلوں کے سفینے

دھڑک اٹھتے ہیں کیوں امیدوں کے سینے؟

کلی جب ہے شبنم کے جھومر سے سجتی

مری روح میں کس کی بنسی ہے بجتی؟

گلستاں میں جب پھول کھلتے ہیں ہر سو

مجھے کس کی زلفوں کی آتی ہے خوشبو؟

یہ کیا بھید ہے، کوئی بےنام ہستی

ہے آباد جس سے مرے من کی بستی

ہر اک لحظہ اک خوشنما روپ دھارے

مری روح سے کر رہی ہے اشارے

میں اس شکلِ موہوم کو ڈھونڈتا ہوں

میں اس سرِ مکتوم کو ڈھونڈتا ہوں

مجید امجد

قیدی

سخت زنجیریں ہیں قیدی، سخت زنجیریں ہیں یہ

ان کو ڈھالا ہے جہنم کی دہکتی آگ میں

ان کی کڑیاں موت کے پھنکارتے ناگوں کے بیچ

ان کی لڑیاں زندگی کی الجھنوں کے سلسلے

ان کی گیرائی کے آگے تیری تدبیریں ہیں یہ

سخت زنجیریں ہیں قیدی، سخت زنجیریں ہیں یہ

بیڑیاں، قیدی، ترے پاؤں میں ہیں تاگے نہیں

دیکھ یاپی! اپنے سر پر تیز سنگینوں کی چھت

چارسو لوہے کی سیخوں کی فصیلِ بیکراں

تو ادھر بےدست و پا، بے حس و حرکت، بے سکت

اور ادھر اس سوچ میں ہیں تیرے ظالم پاسباں

دُکھ کی کالی کوٹھڑی سے تو کہیں بھاگے نہیں

بیڑیاں، قیدی، ترے پاؤں میں ہیں تاگے نہیں

مجید امجد

سرِ بام!

لوآ گئی وہ سرِ بام مسکراتی

لیے اچٹتی نگاہوں میں اک پیامِ خموش

یہ دھندلی دھندلی فضاؤں میں انعکاسِ شفق

یہ سونا رستہ، یہ تنہا گلی، یہ شامِ خموش

گلی کے موڑ پہ اک گھر کی مختصر دیوار

بچھا ہے جس پہ دھندلکوں کا ایک دامِ خموش

یہ چھت کسی کے سلیپر کی چاپ سے واقف

کسی کے گیتوں سے آباد یہ مقامِ خموش

کسی کے مد بھرے نینوں سے یہ برستا خمار

کسی کی نقرئی بانہوں کا یہ سلامِ خموش

مُنڈیر پر بصد انداز کہنیاں ٹیکے

کھڑی ہوئی ہے کوئی شوخ لالہ فامِ خموش

لیے اچٹتی نگاہوں میں اک پیامِ خموش

مجید امجد

ابرِ صبوح

تیرتے بادل، خنک جھونکے، خمار آگیں سماں

آسماں پر ناچتی اڑتی ابابیلوں کے راگ

اس طرح لہرا رہی ہیں اودی اودی بدلیاں

جیسے اک کافر ادا کے دوش پر زلفوں کے ناگ

جیسے نیلی جھیل میں بہتی ہوئی اک اوڑھنی

بھول آئی ہو جسے معصوم پنہارن کوئی

گدرے گدرے ابرپاروں کی چھلکتی چھاگلیں

اس طرح ٹپکا رہی ہیں رس بھری مدرا کا جھاگ

جس طرح رو دے کوئی مہجور پی کی یاد میں

سونپ کر جذبات کی اندھیاریوں کو دل کی باگ

جیسے سیمیں انگلیوں سے مغبچہ ہائے بہشت

چھانتے ہوں حور کے گیسو میں صہبائے بہشت

وہ اٹھی کالی گھٹا، اٹھ بھی مری مستِ شباب

وہ اڑا جاتا ہے بادل، ہاں اڑا بوتل کا جھاگ

بجھ چلا ہے روح کا آتش کدہ، لا بھی شراب

پھونک دے میرے رگ و پے میں کوئی بہتی سی آگ

تجھ کو جامِ مے کے ان ہنستے شراروں کی قسم

ان ہواؤں کی قسم، ان ابرپاروں کی قسم

مجید امجد

نفیرِ عمل

آہ کب تک گلۂ شومیِ تقدیر کریں

کب تلک ماتمِ ناکامیِ تدبیر کریں

کب تلک شیونِ جورِ فلکِ پیر کریں

کب تلک شکوۂ بےمہریِ ایام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

آج بربادِ خزاں ہے چمنستانِ وطن

آج محرومِ تجلی ہے شبستانِ وطن

مرکزِ نالہ و شیون ہے دبستانِ وطن

وقت ہے چارۂ دردِ دلِ ناکام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

آؤ اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد کریں

آؤ جکڑی ہوئی روحوں کو پھر آزاد کریں

آؤ کچھ پیرویِ مسلکِ فرہاد کریں

یہ نہیں شرطِ وفا، بیٹھ کے آرام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

ایک ہنگامہ سا ہے آج جہاں میں برپا

آج بھائی ہے سگے بھائی کے خوں کا پیاسا

آج ڈھونڈے سے نہیں ملتی زمانے میں وفا

آؤ اس جنسِ گرانمایہ کو پھرعام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

جامِ جم سے نہ ڈریں، شوکتِ کَے سے نہ ڈریں

حشمتِ روم سے اور صولتِ رَے سے نہ ڈریں

ہم جواں ہیں تو یہاں کی کسی شے سے نہ ڈریں

ہم جواں ہیں تو نہ کچھ خدشۂ آلام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

رشتۂ مکر و ریا توڑ بھی دیں، توڑ بھی دیں

کاسۂ حرص و ہوا پھوڑ بھی دیں، پھوڑ بھی دیں

اپنی یہ طرفہ ادا چھوڑ بھی دیں، چھوڑ بھی دیں

آؤ کچھ کام کریں، کام کریں، کام کریں

نوجوانانِ وطن! آؤ کوئی کام کریں

مجید امجد

عورت

تو پریم مندر کی پاک دیوی، تو حسن کی مملکت کی رانی

حیاتِ انساں کی قسمتوں پر تری نگاہوں کی حکمرانی

جہانِ الفت تری قلمرو، حریمِ دل تیری راجدھانی

بہارِ فطرت ترے لب لعل گوں کی دوشیزہ مسکراہٹ

نظامِ کونین تیری آنکھوں کے سرخ ڈوروں کی تھرتھراہٹ

فروغِ صد کائنات تیری جبینِ سیمیں کی ضو فشانی

بھڑکتے سینوں میں بس رہی ہیں قرار بن کر تری ادائیں

ترستی روحوں کو جامِ عشرت پلا رہی ہیں تری وفائیں

رگِ جہاں میں تھرک رہی ہے شراب بن کر تری جوانی

دماغِ پروردگار میں جو ازل کے دن سے مچل رہا تھا

زبانِ تخلیقِ دہر سے بھی نہ جس کا اظہار ہو سکا تھا

نمود تیری اسی مقدس حسیں تخیل کی ترجمانی

ہے وادیِ نیل پر ترا ابرِ زلف سایہ کناں ابھی تک

ہیں جامِ ایراں کی مے میں تیرے لبوں کی شیرینیاں ابھی تک

فسانہ گو ہے تری ابھی تک حدیثِ یوناں کی خوں چکانی

ہے تیری الفت کے راگ پر موجِ رودِ گنگا کو وجد اب تک

تری محبت کی آگ میں جل رہا ہے صحرائے نجد اب تک

جمالِ زہرہ ترے ملائک فریب جلووں کی اک نشانی

تری نگاہوں کے سحر سے گل فشاں ہے شعر و ادب کی دنیا

ترے تبسم کے کیف سے ہے یہ غم کی دنیا، طرب کی دنیا

ترے لبوں کی مٹھاس سے شکّریں ہے زہرابِ زندگانی

ترا تبسم کلی کلی میں، ترا ترنم چمن چمن میں

رموزِ ہستی کے پیچ و خم تیرے گیسوؤں کی شکن شکن میں

کتابِ تاریخِ زندگی کے ورق ورق پر تری کہانی

جو تونہ ہوتی تو یوں درخشندہ شمعِ بزمِ جہاں نہ ہوتی

وجودِ ارض و سما نہ ہوتا، نمودِ کون و مکاں نہ ہوتی

بشر کی محدودیت کی خاطر ترستی عالم کی بیکرانی

مجید امجد

فانی جگ

دنیا کی ہر شے ہے پیارے فانی، فانی، فانی

حسن بھی فانی، عشق بھی فانی، فانی مست جوانی

فانی جگ کی سب جگمگ ہے جانی، آنی، فانی

الفت دل کا جذبہ، جذبہ سپنا، سپنا سایہ

سایہ دھوکا، دھوکا دنیا، دنیا رام کہانی

فانی جگ کی سب جگمگ ہے جانی، آنی، فانی

پیاسے رہ گئے کلیوں اور پھولوں کے پیاسے ہونٹ

آیا جھونکا اور چلی گھنگھور گھٹا مستانی

فانی جگ کی سب جگمگ ہے جانی، آنی، فانی

تپتی ریتوں کو جو سمجھے چشموں کی جھلکاری

آخر کو شعلوں پر لوٹے وہ مورکھ سیلانی

فانی جگ کی سب جگمگ ہے جانی، آنی، فانی

مجید امجد

مطربہ سے

فضا میں بحرِ موسیقی رواں معلوم ہوتا ہے

جہاں کا ذرّہ ذرّہ نغمہ خواں معلوم ہوتا ہے

سنبھلنے دے ذرا او مطربہ، یہ نشتریں نغمہ

جگر کے زخم پر زخمہ کناں معلوم ہوتا ہے

یونہی گائے جا گائے جا ترا سوز آفریں دیپک

مری ہی زندگی کی داستاں معلوم ہوتا ہے

تو گاتی ہے تو میرے سامنے نظارۂ عالم

کسی فردوسِ رنگیں کا سماں معلوم ہوتا ہے

تو گاتی ہے تو آنکھیں کھول کر لیتی ہے انگڑائی

ربابِ دہر کے نغموں کی محوِ خواب رعنائی

تو گاتی ہے تو تیرے رخ پہ زلفیں جھوم جاتی ہیں

تو گاتی ہے تو تیری مدھ بھری آنکھیں بھی گاتی ہیں

تو گاتی ہے تو تیرے چنپئی ہونٹوں کی مہکاریں

شرابِ نغمہ کی سرمستیوِں میں ڈوب جاتی ہیں

تو گاتی ہے تو گاتے وقت تیرے روئے تاباں پر

جمالِ زہرہ کی زیبائیاں جادو جگاتی ہیں

تو گاتی ہے تو تیری راگنی کی مست کن تانیں

مری رگ رگ کو نیش درد بن کر گدگداتی ہیں

مرے خلدِ تصور کی فضا کو ہمہمائے جا

یونہی گائے جا، گائےجا، یونہی گائے جا، گائے جا

مجید امجد

شرط

تجھ کو ڈر ہے کہ ناموس گہِ عالم میں

عشق کے ہاتھوں نہ ہو جائے تو بدنام کہیں

آج تک مجھ سے جو شرما کے بھی تو کہہ نہ سکی

وہ ترا راز زمانے میں نہ ہوعام کہیں!

کسی شب ایسا نہ ہو نالۂ بیتاب کے ساتھ

تیرے ہونٹوں سے نکل جائے مرا نام کہیں

روزنِ در سے لگی، منتظر، آنکھوں کا حال

جا کے تاروں سے نہ کہہ دے شفقِ شام کہیں

اس کی پاداش میں ساقیِ فلک چھین نہ لے

مرے ہونٹوں سے ترے ہونٹوں کا یہ جام کہیں

یہ تری شرطِ وفا ہے کہ وفا کا قصہ

دیکھ! سن پائے نہ گردش گرِ ایام کہیں

ہاں مری روح پہ مسطور ہے یہ شرط تری

مجھے منظور ہے منظور ہے یہ شرط تری

تو یقیں رکھ کہ ترے عشق میں جیتے جیتے

عدم آباد کی آغوش میں سو جاؤں گا

ایک دن دل سے جب آوازِ شکست آئے گی

اس کے آہنگِ فنا رقص میں کھو جاؤں گا

موت کے دیو کی آنکھوں سے ٹپکتا ہے جو

جذب اس شعلۂ جاں سوز میں ہو جاؤں گا

اور خدا پوچھے گا وہ راز باصرار ترا

اس کے اصرار سے ٹکرائے گا انکار مرا

مجید امجد

یہی دنیا؟

عشق پیتا ہے جہاں خوننابۂ دل کے ایاغ

آنسوؤں کے تیل سے جلتا ہے الفت کا چراغ

جس جگہ روٹی کے ٹکڑے کو ترستے ہیں مدام

سیم و زر کے دیوتاؤں کے سیہ قسمت غلام

جس جگہ حبِ وطن کے جذبے سے ہو کر تپاں

سولی کی رسی کو ہنس کر چومتے ہیں نوجواں

جس جگہ انسان ہے وہ پیکرِ بے عقل و ہوش

نوچ کر کھاتے ہیں جس کی بوٹیاں مذہب فروش

جس جگہ یوں جمع ہیں تہذیب کے پروردگار

جس طرح سڑتے ہوئے مردار پر مردار خوار

جس جگہ اٹھتی ہے یوں مزدور کے دل سے فغاں

فیکٹری کی چمنیوں سے جس طرح نکلے دھواں

جس جگہ سرما کی ٹھنڈی شب میں ٹھٹھرے ہونٹ سے

چومتی ہے رو کے بیوہ گال سوتے لال کے

جس جگہ دہقاں کو رنجِ محنت و کوشش ملے

اور نوّابوں کے کتّوں کو حسیں پوشش ملے

تیرے شاعر کو یقیں آتا نہیں، رب العلا!

جس پہ تو نازاں ہے اتنا، وہ یہی دنیا ہے کیا؟

مجید امجد

تیرے بغیر

زندگی بھولا ہوا سا خواب ہے تیرے بغیر

سازِ دل اک سازِ بےمضراب ہے تیرے بغیر

روح برمائی ہوئی بےتاب ہے تیرے بغیر

آنکھ خوں روتی ہوئی بےخواب ہے تیرے بغیر

ضبطِ غم دشوار ہے، آسان ہے، جو کچھ بھی ہو

ضبطِ غم کرنے کی کس کو تاب ہے تیرے بغیر

کاش ہو معلوم تجھ کو ساقیِ جامِ حیات

زندگی اک جرعۂ زہراب ہے تیرے بغیر

ملجگی پلکوں پہ رسوا، رائیگاں، رم آشنا

دل کا اک اک قطرۂ خونناب ہے تیرے بغیر

پھر مرے جذبات کا وہ پرسکوں بحرِ رواں

یم بہ یم گرداب در گرداب ہے تیرے بغیر

میری پاکیزہ جوانی صرفِ عصیاں ہو نہ جائے

جنسِ تقدیسِ وفا نایاب ہے تیرے بغیر

چاند کی کرنوں کے زینوں پر قدم دھرتی ہوئی

آ بھی جا سونی شبِ مہتاب ہے تیرے بغیر

آ کہ پھر اس آسماں کو حکم دیں سجدے کا ہم

دشمنِ جاں گردشِ دولاب ہے تیرے بغیر

مجید امجد

جھنگ

یہ خاکداں جو ہیولیٰ ہے ظلمتستاں کا

یہ سرزمیں جو ہے نقشہ جحیمِ سوزاں کا

یہ تنگ و تیرہ و بے رنگ و بو دیارِ مہیب

یہ طرفہ شہرِ عجیب و غریب و خفتہ نصیب

یہاں خیال ہے محرومِ اہتزازِ حیات

یہاں حیات ہے دوزخ کی ایک کالی رات

یہاں پہ دردِ دروں کی دوا نہیں ملتی

یہاں پہ قلب و نظر کو غذا نہیں ملتی

یہاں کلیدِ حقیقت نہیں کسی کے پاس

یہاں کے تحفے حسد اورعداوت اور افلاس

یہاں ارادہ و ہمت کی وسعتیں محدود

یہاں عروج و ترقی کے راستے مسدود

ہر اک بشر ہے یہاں تنگدستیوں کے قریب

بلندیوں سے بہت دور، پستیوں کے قریب

یہاں نہ روح کو راحت، یہاں نہ دل کو سرور

یہاں ہے طائرِ پر بستہ آدمی کا شعور

یہاں نہ پرورشِ شوقِ علم کے امکاں

یہاں نہ تربیتِ ذوقِ شعر کے ساماں

کبھی سے پاپ کی بھٹی میں سڑ رہا ہوں میں

ندیم، جھنگ سے اب تنگ آ گیا ہوں میں

مجید امجد

نووارد

نازنیں! اجنبیِ شہرِ محبت ہوں میں

میں ترے دیس کے اطوار سے ناواقف ہوں

دیدۂ شوق کی بیباک نگاہوں پہ نہ جا

کیا کروں جرأتِ گفتار سے ناواقف ہوں

چل پڑا ہوں ترے دامن کو پکڑ کر لیکن

اس کٹھن جادۂ پُرخارسے ناواقف ہوں

مست ہوں عشرتِ آغاز کی سرمستی میں

میں ابھی عاقبتِ کار سے ناواقف ہوں

سونگھنی ہے تری زلفوں سے ابھی بوئے جنوں

ابھی دامن کے پھٹے تار سے ناواقف ہوں

دیکھ لوں تجھ کو تو بےساختہ پیار آتا ہے

پیار آتا ہے مگر پیار سے ناواقف ہوں

دل میں یہ جذبۂ بیدار ہے کیا؟ تو ہی بتا

میں تو اس جذبۂ بیدارسے ناواقف ہوں

اِک مسافر ہوں ترے دیس میں آ نکلا ہوں

اور ترے دیس کے اطوار سے ناواقف ہوں

مجید امجد

پسِ پردہ

میری قیام گاہ کی سمتِ جنوبِ مغربی

جس میں کہ خار و خس کی ہے چھوٹی سی ایک جھونپڑی

اس کے درِ شکستہ پر پردہ ہے اک پھٹا ہوا

چھید سے جس کے جھانک کر دیکھ رہی ہے (آمنہ)

گائے کا دودھ دوہ کر رکھ رہی ہے وہ آگ پر

میرے قدم کی چاپ پر آ گئی در پہ بھا گ کر

سہمی ہوئی کھڑی ہے وہ ساحرۂ لطیف جاں

سانس سے اس کی لرزشیں پردۂ در پہ ہیں عیاں

دیکھ رہی ہے وہ مجھے ہنستی ہوئی نگاہ سے

ہستی ہوئی نگاہ کی تابشِ بےپناہ سے

اُف یہ نگہ فسانۂ شوقِ نہاں لیے ہوئے

سادہ سے ایک پریم کی سادگیاں لیے ہوئے

آہ اسی نگاہ کے جام کو پی رہا ہوں میں

آج اک اورعالمِ نور میں جی رہا ہوں میں

عالم نور ہاں یہی خطۂ کیفِ سرمدی

میری قیام گاہ کی سمتِ جنوبِ مغربی

مجید امجد

نذرِ محبت

میں روتا ہوں مری آنکھوں سے جو آنسو ٹپکتے ہیں

پروتے ہیں لڑی سی موتیوں کی، تارِ مژگاں میں

یہ موتی جن میں نورِ قدس کے جلوے جھلکتے ہیں

یہ موتی جو ستارے ہیں عروسِ شب کے داماں میں

یہ موتی جو فروغِ سوزِ الفت سے دمکتے ہیں

بکا کرتے ہیں جیبوں آستینوں کی جو دکّاں میں

مری ہستی کا سرمایہ ہیں یہ نور آفریں موتی

کہ سلکِ کہکشاں بھی جن کی قیمت ہو نہیں سکتی

ابھی ان موتیوں کو عمر بھر دامن میں رولوں گا

اور آخر ان کو اِک رنگین مالا میں پرو لوں گا

ترے قدموں میں گر کر، پریم مندر کی حسیں دیوی

اسی مالا کو میں ترے گلے میں لا کے ڈالوں گا

اور اپنی زندگی کے آخری مقصد کو پا لوں گا

مجید امجد

روح کی مدہوش بیداری کا ساماں ہو گئیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 11
عشق کی ٹیسیں جو مضرابِ رگِ جاں ہو گئیں
روح کی مدہوش بیداری کا ساماں ہو گئیں
پیار کی میٹھی نظرسے تو نے جب دیکھا مجھے
تلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں
اب لبِ رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ؟ کیا کہوں
بجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں
ماجرائے شوق کی بےباکیاں ان پر نثار
ہائے وہ آنکھیں جو ضبطِ غم میں گریاں ہو گئیں
چھا گئیں دشواریوں پر میری سہل انگاریاں
مشکلوں کا اک خیال آیا کہ آساں ہو گئیں
مجید امجد

محرومِ ازل

عرصۂ کونین میں کچھ بھی نہیں میرے لیے

خاک ہیں فرشِ زمیں عرشِ بریں میرے لیے

اک جہاں کے واسطے ہے اک جہانِ انبساط

اور ہے اشکوں میں وبی آستیں میرے لیے

دوسروں کے واسطے تاج و سریر و آستاں

بندۂ مجبور کی عاجز جبیں میرے لیے

رات بھر دورِ شرابِ ارغواں ان کے لیے

صبح کو محفل کے خالی ساتگیں میرے لیے

اس خیالِ خام کو رہنے بھی دے اخترشناس

آسماں کی وسعتوں میں کچھ نہیں میرے لیے

مجید امجد

لہر انقلاب کی

حالت بدل رہی ہے جہانِ خراب کی

لہرا رہی ہے دہر میں لہر انقلاب کی

تخریب جس کی حدت و شدت کا نام ہے

دنیا میں پھر نمود ہے اس اضطراب کی

سرمائے کے نظام کا انجام ہے قریب

اب اس کی زندگی ہے کہ ہستی حباب کی

پہنچا ہے اختتام پہ دورِ ملوکیت

حد بھی تو ہو کوئی ستم بےحساب کی

بوڑھوں کی مصلحت کو بھلا پوچھتا ہے کون

سرجوشیاں ہیں جوش پہ روحِ شباب کی

اس عہد کے جوانِ جواں عزم کے لیے

تہذیبِ نو ہے ایک تجلی سراب کی

پھر جاگ اٹھا ہے جذبۂ آزادیِ وطن

تعبیر اور کیا ہو غلامی کے خواب کی

امجد تو آنے والے تغیّر کو بھانپ جا

مستقبلِ مہیب کی ہیبت سے کانپ جا

مجید امجد

حالی

مسدس کا مصنف، شاعرِ جادو بیاں حالی

وہ حالی، عندلیبِ گلشنِ ہندوستاں حالی

قلم کی نوک سے جس نے ربابِ روح کو چھیڑا

حریمِ قدس کا وہ مطربِ شیریں زباں حالی

جہاں آرا نظر جس کی، رموز آّگاہ دل جس کا

وہ اسرار و معارف کا محیطِ بیکراں حالی

فلک جس کو کرے سجدے، زمیں جس کے قدم چومے

وہ حالی، ہاں وہی شخصیّتِ گردوں نشاں حالی

وہی حالی جسے دانائے رازِ زندگی کہہ دیں

جسے سرمایۂ سوز و گدازِ زندگی کہہ دیں

وہ حالی چھوڑ کر جس نے کہانی بلبل و گل کی

بھلا کر قلقلِ وجد آفریں میخانۂ مِل کی

نئے انداز سے چھیڑی فضائے بزمِ عالم میں

حدیثِ دل فروز اسلام کے شان و تجمل کی

وہ حالی توڑ کر جس نے طلسمِ گیسوئے پیچاں

دکھائی شان موجِ زندگانی کے تسلسل کی

وہ جس نے قصہ ہائے نرگسِ بیمار کے بدلے

سنائی داستاں اوضاعِ ملت کے تعطل کی

وہ حالی جس کے آنے سے جہاں میں انقلاب آیا

وہ جس کے شعر سے ہندوستاں میں انقلاب آیا

وہی حالی جو سوتوں کو جگانے کے لیے آیا

وہی حالی جو مُردوں کو جِلانے کے لیے آیا

جسے صحرائے بطحا کے حُدی خوانوں نے چھیڑا تھا

نئی لے میں اسی نغمے کو گانے کے لیے آیا

وہ حالی، ہاں وہ مردِ حق جو کفرستانِ عالم میں

خدا کے نام کا ڈنکا بجانے کے لیے آیا

وہ حالی، وہ معلّم مکتبِ اخلاقِ ملت کا

جو ہر انسان کو انساں بنانے کے لیے آیا

وہ حالی جو علمدارِ وقارِ زندگانی ہے

سرورِ جاودانی ہے، بہارِ زندگانی ہے

وہی حالی جو اذکار و نصیحت کے لیے آیا

وہی حالی جو ارشاد و ہدایت کے لیے آیا

وہی شاعر کہ جس نے شعر کی طرزِ کہن بدلی

وہی ناقد جو تبلیغِ صداقت کے لیے آیا

وہی رہبر کہ جس نے گمرہوں کی رہنمائی کی

وہ مصلح جو فلاحِ ملک و ملت کے لیے آیا

وہ فخرِ ایشیا، مہرِ سپہرِ شاعری حالی

وہ مردِ حق جو اظہارِ حقیقت کے لیے آیا

وہ جس کے فکرِ کیف اندوز نے موتی لٹائے ہیں

وہ جس کے خامۂ سحرآفریں نے گل کھلائے ہیں

وہی حالی کہ جو آئینہ دارِ باکمالی ہے

نظیرِ بےنظیری ہے، مثالِ بےمثالی ہے

وہی حالی کہ جس کی شاعری سلکِ لآلی ہے

زباں آبِ زلالی ہے، بیاں سحرِ حلالی ہے

وہ جس کے قلب میں ہنگامۂ دردِ نہانی ہے

وہ جس کی روح میں سرمستیِ تخئیلِ عالی ہے

ہے گر قومیّتِ ہندوستاں کا ترجماں کوئی

یقیں رکھو، یقیں رکھو، وہ حالی ہے، وہ حالی ہے

اسی حالی، اسی حالی کی یہ صد سالہ برسی ہے

جبھی تو چار سو شانِ جمالی جلوہ گر سی ہے

اسی حالی، اسی حالی کا ہے یہ جشنِ صد سالہ

جبھی تو آج ہے ہندوستان کی شان دوبالا

اسے پیدا ہوئے سو سال گزرے ہیں مگر اب بھی

جسے دیکھو وہی اس کی محبت میں ہے متوالا

ابھی تک اک جہاں بےامتیازِ مذہب و ملت

کلامِ حالیِ مرحوم کا ہے پوجنے والا

ابھی تک ہے وہی جس کی ضیاریزی جلوخیزی

کلامِ حالیِ مرحوم ہے وہ لولوئے لالا

کلام حالی مرحوم اِک گنج معافی ہے

جو ادبیّات میں اک شاہکارِ غیرفانی ہے

ابھی تک چل رہا ہے میکدے میں جام حالی کا

ابھی تک مرکزِ تقدیس ہے پیغام حالی کا

ابھی بھولے نہیں اہلِ جہاں احسان حالی کے

زمیں سے آسماں تک غلغلہ ہے عام حالی کا

اسی جانب رواں ہیں قافلے اقوام عالم کے

بڑھا جس منزلِ مقصد کی جانب گام حالی کا

ابھی تک ان فضاؤں میں ہے مضمر روح حالی کی

ابھی تک چٹکیاں لیتا ہے دل میں نام حالی کا

ابھی تک آ رہی ہے عرش سے آواز حالی کی

ابھی تک کان سنتے ہیں نوائے راز حالی کا

سپہرِ زندگی کا ضوفشاں ناہید ہے حالی

نہیں، سرمطلعِ امید کا خورشید ہے حالی

پیام ولولہ انگیز س کا مٹ نہیں سکتا

جہانِ زندگی میں زندۂ جاوید ہے حالی

اگر اب بھی نہیں سمجھے تو لو میں برملا کہہ دوں

اجی! اِک آنے والے دور کی تمہید ہے حالی

چلے گا حشر تک بزمِ جہاں میں جام حالی کا

رہے گا ثبت لوحِ کن فکاں پر نام حالی کا

مجید امجد

گاؤں

یہ تنگ و تار جھونپڑیاں گھاس پھوس کی

اب تک جنھیں ہوا نہ تمدن کی چھو سکی

ان جھونپڑوں سے دور اور اس پار کھیت کے

یہ جھاڑیوں کے جھنڈ یہ انبار ریت کے

یہ سادگی کے رنگ میں ڈوبا ہوا جہاں

ہنگامۂ جہاں ہے سکوں آشنا جہاں

یہ دوپہر کو کیکروں کی چھاؤں کے تلے

گرمی سے ہانپتی ہوئی بھینسوں کے سلسلے

ریوڑ یہ بھیڑ بکریوں کے اونگھتے ہوئے

جھک کر ہر ایک چیز کی بو سونگھتے ہوئے

یہ آندھیوں کے خوف سے سہمی ہوئی فضا

جنگل کی جھاڑیوں سے سنکتی ہوئی ہوا

یہ شام کے مناظرِ رنگیں کی خامشی

اور اس میں گونجتی ہوئی جھینگر کی راگنی

بچے غبارِ راہگزر پھانکتے ہوئے

میدان میں مویشیوں کو ہانکتے ہوئے

برفاب کے دفینے اگلتا ہوا کنواں

یہ گھنگھروؤں کی تال پہ چلتا ہوا کنواں

یہ کھیت، یہ درخت، یہ شاداب گرد و پیش

سیلابِ رنگ و بو سے یہ سیراب گرد و پیش

مستِ شباب کھیتیوں کی گلفشانیاں

دوشیزۂ بہار کی اٹھتی جوانیاں

یہ نزہتِ مظاہرِ قدرت کی جلوہ گہ

ہاں ہاں یہ حسنِ شاہدِ فطرت کی جلوہ گہ

دنیا میں جس کو کہتے ہیں گاؤں یہی تو ہے

طوبیٰ کی شاخِ سبز کی چھاؤں یہی تو ہے

مجید امجد

رازِ گراں بہا

نہ رہنما سے تعلق نہ راستہ معلوم

ترے جنونِ تجسس کا منتہا معلوم

نہ آرزوئے ترقی نہ جستجوئے کمال

تری حیات کا مقصد ہے کیا، خدا معلوم

یہی ہے حال اگر پستیِ عزائم کا

مآلِ خواہشِ تکمیلِ ارتقا معلوم

نہاں ہے محنتِ پیہم میں راحتِ جاوید

نہیں ہے تجھ کو یہ رازِ گراں بہا معلوم

تو اجتماعِ مصائب سے ڈر رہا ہے کیوں

نہیں تحمّلِ آفات کا صلا معلوم؟

حریمِ قدس کی رنگینیوں کا مرکز ہے

وہ دل کہ جس کو نہیں خوفِ ماسوا معلوم

مجید امجد

محبوبِ خدا سے

نوبہارِ گلستانِ معرفت

یعنی اے روح و روانِ معرفت

تیرے دل میں جلوۂ ربِ جمیل

تیری محفل میں سرودِ جبرئیل

اہتمام و اہتزازِ کائنات

تیری اک ادنیٰ نگاہِ التفات

قرب یابِ درگہِ یزداں ہے تو

ساقیِ خُم خانۂ عرفاں ہے تو

جھک رہا ہے تیرے در پر آسماں

چومتا ہے تیرے قدموں کو جہاں

ترے دم سے دل کی کلیاں کھل گئیں

بدنصیبوں کو مرادیں مل گئیں

تیری چوکھٹ پر جھکی جس کی جبیں

ہو گیا اس کے جہاں زیرِ نگیں

میں سمجھتا ہوں کہ تیری خاکِپا

کیمیا ہے کیمیا ہے کیمیا

مجھ پہ گر تو لطف فرمائی کرے

بخت میرا نازِ دارائی کرے

میں بھی ہوں اک بندۂ عصیاں شعار

کشتۂ جور و جفائے روزگار

میں بھی تیرا بستۂ فتراک ہوں

کس قدرغمگین ہوں غمناک ہوں

میں زمانے بھر سے ٹھکرایا گیا

میں ہر اک محفل سے اٹھوایا گیا

درگہِ عالم سے دھتکارا ہوا

بخت اور تقدیر کا مارا ہوا

اب ترے دربار میں آیا ہوں میں

دل میں لاکھوں حسرتیں لایا ہوں میں

تجھ کو میری بےکسی کا واسطہ

اپنی شانِ خسروی کا واسطہ

مر رہا ہوں، زندگی کا جام دے

رحمتِ جاوید کا پیغام دے

اب زمانے میں مرا کوئی نہیں

آسرا تیرے سوا کوئی نہیں

اِک فقط درد آشنا تو ہی تو ہے

میرے دل کا مدعا تو ہی تو ہے

جب ترے دربا رمیں آتا ہوں میں

جب تری سرکار میں آتا ہوں میں

عظمتِ مفقود کو پاتا ہوں میں

منزلِ مقصود کو پاتا ہوں میں

تیرے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں میں

جھولیاں بھر بھر کے لے جاتا ہوں میں

زندگی کی زندگی تو ہی تو ہے

روح کی تابندگی تو ہی تو ہے

میرے دل کو مہبطِ انوار کر

مجھ کو بھی بینندۂ اسرار کر

مجید امجد

آہ یہ خوش گوار نظارے!

ساملی کیا ہے اک پہاڑی ہے

خوبصورت، بلند اور شاداب

اس کی چیں بر جبیں چٹانوں پر

رقص کرتے ہیں سایہ ہائے سحاب

اس کی خاموش وادیاں، یعنی

ایک سویا ہوا جہانِ شباب

اس کی سقفِ بلند کے آگے

آسماں ایک سرنگوں محراب

شام کے وقت کوہ کا منظر

جیسے بھولا ہوا طلسمی خواب

جھومتے، ناچتے ہوئے چشمے

پھوٹتا، پھیلتا ہوا سیماب

دُوب کی رینگتی ہوئی بیلیں

پتھروں سے پٹے ہوئے تالاب

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

چیل کے اُف یہ بےشمار درخت

اور یہ ان کی عنبریں بو باس

سنبلیں کونپلوں سے چھنتے ہوئے

یہ نسیمِ شمال کے انفاس

سایہ ہائے دراز کے نیچے

سرنگوں جھاڑیوں کا خوف و ہراس

چیل کی چوٹیوں پہ صبح کے وقت

سبز پتوں کا زرنگار لباس

یہ دھواں جھونپڑوں سے اٹھتا ہوا

کوہ کے اس طرف افق کے پاس

یہ برستی ہوئی گھٹا کا سماں

قلبِ شاعر پہ بارشِ احساس

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

مرغزاروں میں تا بحدِ نظر

لطف افزا فضا مہکتی ہوئی

شب کو دہقاں کے تنگ جھونپڑے سے

سرخ سی روشنی جھلکتی ہوئی

ابر میں کوندتی ہوئی بجلی

دامنِ آتشیں جھٹکتی ہوئی

کوہ کی سربلند چوٹی سے

اک نئی تازگی ٹپکتی ہوئی

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

وادیوں کا ہر ایک خارِ حقیر

امتدادِ زمانہ کی تصویر

قدسیوں کی ادائے کج نگہی

صبح کے آفتاب کی تنویر

جلوہ ہائے شفق کی عریانی

ایک رنگین خواب کی تعبیر

زمہریری ہوا کے جھونکوں سے

ڈبڈبائی ہوئی سی چشمِ اثیر

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

چاہتا ہوں کہ اپنی ہستی کو

سرمدی کیف میں ڈبو جاؤں

چاہتا ہوں کہ ان فضاؤں کی

وسعتِ بیکراں میں کھو جاؤں

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں

جذب ہو جاؤں، جذب ہو جاؤں

آہ یہ خوش گوار نظّارے

خلد کے شاہکار نظّارے

مجید امجد

ہوائی جہاز کو دیکھ کر

یہ تہذیب اور سائنس کی ترقی کا زمانہ ہے

رہے گا یوں بھلا کب تک درندوں کی طرح انساں

یہ علم و دانش و حکمت کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے

ہوا میں لگ گیا اڑنے پرندوں کی طرح انسان

وہ دیکھو ہیں فضا میں مائل پرواز طیارے

گرجتے، گھومتے، گرتے، سنبھلتے اور چکراتے

فضائے آسماں کی سیر کرنے والے سیارے

وہ دیکھو جا رہے ہیں گنگناتے، گونجتے، گاتے

اُدھر وہ خوش نصیب اور صاحبِ اقبال انسان ہیں

جنھیں بخشی گئی اِن برق پازوں کی عناں گیری

اُدھر وہ ذوقِ علم و فن سے مالامال انسان ہیں

جنھیں سونپی گئی دنیائے حکمت کی جہانگیری

اِدھر ہم لوگ ہیں کیفیتِ فکر و نظر جن کی

جہاں میں قوتِ پرواز سے محروم رہتی ہے

اِدھر ہم لوگ ہیں دنیا میں جن کی مضمحل ہستی

حیاتِ جاوداں کے راز سے محروم رہتی ہے

اگر یہ آرزو انساں کے دل میں جلوہ گر ہو گی

کہ چھن جائیں نہ عیشِ سرمدی کی نزہتیں اس سے

تو اس کی زندگی تابندہ تر پائندہ تر ہو گی

فقط سعیِ مسلسل سے فقط ذوقِ تجسس سے

مجید امجد

اقبال

اقبال! کیوں نہ تجھ کو کہیں شاعرِ حیات

ہے تیرا قلب محرم اسرارِ کائنات

سرگرمیِ دوام ہے تیرے لیے حیات

میدانِ کارزار ہے تجھ کو یہ کائنات

مشرق تری نظر میں ہے امید کا افق

مغرب تری نگاہ میں ہے غرق سئیات

یورپ کی ساری شوکتیں تیرے لیے سراب

ہنگامۂ تمدنِ افرنگ، بےثبات

اسلامیوں کے فلسفے میں دیکھتا ہے تو

مظلوم کائنات کی واحد رہِ نجات

تیرا کلام جس کو کہ بانگِ درا کہیں

ہیں اس کے نقطے نقطے میں قرآن کے نکات

بھولے ہوؤں کو تو نے دیا درسِ زندگی

زیبا ہے گر کہیں تجھے خضرِ رہِ حیات

سینے میں تیرے عشق کی بیتاب شورشیں

محفل میں تیری قدس کی رقصاں تجلیات

عریاں تیری نگاہ میں اسرارِ کن فکاں

مضمر ترے ضمیر میں تقدیرِ کائنات

دنیا کا ایک شاعرِ اعظم کہیں تجھے

اسلام کی کچھار کا ضیغم کہیں تجھے

مجید امجد

موجِ تبسم

ستاروں کو نہ آتا تھا ابھی تک مسکرا اٹھنا

دیے بن کر یوں ایوانِ فلک میں جگمگا اٹھنا

حسیں غنچوں کے رنگیں لب تھے ناواقف تبسم سے

چمن گونجا نہ تھا اب تک عنادل کے ترنم سے

نہ پروانے تھے جلتے شمعِ سوزاں کے شراروں میں

نہ آئی تھی ابھی ہمت یہ ننھے جاں نثاروں میں

ابھی گہوارۂ ابرِ بہاری میں وہ سوتی تھی

نہ بجلی یوں شرر بار اور خرمن سوز ہوتی تھی

نہ اب تک ارتعاشِ نغمہ تھا بربط کے تاروں میں

نہ اب تک گونجنے پائے تھے نغمے نغمہ زاروں میں

نہ اب تک آبشاریں پتھروں سے سر پٹکتی تھیں

نہ اب تک رونے دھونے میں یوں راتیں ان کی کٹتی تھیں

سمجھتا تھا نہ دل اب تک نشاط و رنج و کلفت کو

نہ چھیڑا تھا ابھی تک اس نے اپنے سازِ الفت کو

ابھی تیروں کو ترکش ہی میں ڈالے دیوتا کیوپڈ

کھڑا خالی کماں کو تھا سنبھالے دیوتا کیوپڈ

جہاں پر حکمراں تھی ایک ہیبت خیز خاموشی

مصیبت ریز، خوف آمیز، ہول انگیز خاموشی

یکایک بجلیاں ٹوٹیں فغانِ بزمِ ہستی میں

ہزاروں جاگ اٹّھے فتنے اس دنیا کی بستی میں

خموش و پرسکوں عالم میں دوڑی روحِ بیتابی

ہوئی ہر ذرّۂ رقصاں میں پیدا شانِ سیمابی

سمندر کی روانی ہو گئی تبدیل طوفاں میں

پڑا نورس گلوں کے قہقہوں کا غل گلستاں میں

شبستانوں سے رندوں کی صدائے ہاوہو اٹّھی

دبستانوں سے بلبل کی نوائے ہاوہو اٹّھی

پٹکنے لگ گئی سر جوئے کہساری چٹانوں سے

مچل کر بجلیاں ٹوٹیں زمیں پر آسمانوں سے

اٹھایا شورافزا آبشاروں نے رباب اپنا

سنایا گا کے سبزے کو گزشتہ شب کا خواب اپنا

حیاتِ تازہ یوں دوڑی دلوں کی کائناتوں میں

کہ جیسے برق چمکے برشگالی کالی راتوں میں

یمِ ہستی میں کیف و نور کا سیلِ رواں آیا

ریاضِ دہر میں اک رنگ و بو کا کارواں آیا

جہاں بس رہ گیا بن کر طلسمِ کیف و سرمستی

نشوں کی ایک دنیا اور کیفیّات کی بستی

فلک اک گنبدِ زرّیں، زمیں اک بقعۂ نوریں

یہ ساری کائناتِ شش جہت اک جلوۂ رنگیں

یہ موجِ بحرِ امکاں جلوۂ موجِ تبسم ہے

چمک کر جو ترے لب پر فروغ افزائے عالم ہے

تبسم جس کی رنگینی ترے ہونٹوں پہ رقصاں ہے

تبسم آہ جس کا رقص مضرابِ رگِ جاں ہے

مجید امجد

روزِ رفتہ

مجید امجد نے جو کلام ’’شبِ رفتہ‘‘ میں کسی بھی وجہ سے شریک نہیں کیا تھا اسے اس حصے میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں وہ شاعری بھی ہے جو انھوں نے زمانہ طالب علمی میں کی تھی اور وہ کلام بھی ہے جو شبِ رفتہ میں شمولیت کا مستحق تو تھا مگر کئی وجود کی بنا پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بعض جگہ یہ فیصلہ کرنا سہل نہیں کہ دونوں میں حد فاضل کس طرح قائم کی جائے اس لیے انھیں یکجا رکھا گیا ہے۔ گویا اس حصے میں ان کی ابتدائی اور زمانہ طالب علمی کی شاعری بھی شامل ہے اور شبِ رفتہ کے دور کی عمدہ شاعری بھی موجود ہے مگر چونکہ یہ سارا کلام ان کے ذہنی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اس لیے کلیات میں اس کی شمولیت کا کافی جواز موجود ہے۔ اس حصے کو ’’باقیات‘‘ کا عنوان دے کر، کلیات کے آخر میں اس لیے جگہ نہیں دی گئی کہ مجید امجد ان میں سے کئی نظمیں اپنے مجموعہ کلام میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ بعض نہایت اہم نظموں کو بالکل آخر میں لگا دیا جاتا تو ان تک رسائی مشکل ہو جاتی اور ان کے نظر انداز ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا

خواجہ محمد زکریا

مجید امجد

حرفِ اّول

کتنی چھناچھن ناچتی صدیاں

کتنے گھناگھن گھومتے عالم

کتنے مراحل—

جن کا مآل — اک سانس کی مہلت

سانس کی مہلت — عمرِ گریزاں —

جس کی لرزتی روشنیوں میں

جھلمل جھلمل

جھلکے اک مسحور مسافت!

حدِ نظر تک وسعتِ دوراں

جس کی خونیں سطح پہ تڑپے

طوق و سلاسل

میں جکڑی انسان کی قسمت

یہ اشکوں، آہوں کی دنیا

اس منڈلی میں پہیم دھڑکے

سازِ غم دل

پیہم باجے، درد کی نوبت

یہ جلتے لمحوں کا الاؤ

اس جیون میں، غم، دمِ خنجر

دُکھ سمِ قاتل

میں نے پیا ہر زہر سے امرت!

کیسے کیسے عجب زمانے

پگ پگ شعلے، تٹ تٹ طوفاں

اور مرا دل:

بجھتے جُگوں کی راکھ میں لت پت!

بِسری یادوں کی بستی کے

بند کواڑوں سے ٹکراتا

میں اک سائل

میرا رزق، سسکتی چاہت!

شہر جنوں کے رنگ نیارے

گلیاں، موڑ، منڈیریں، دوارے

منزل منزل

ارمانوں کی بچھڑتی سنگت!

دور کہیں، اس پار، وہ دنیا

آرزوؤں کا دیس کہ جس کی

راہ میں حائل

آنکھ کی جھیلیں، دھوئیں کے پربت!

دردوں کے اس کوہِ گراں سے

میں نے تراشی، نظم کے ایواں

کی اک اک سِل

اک اک سوچ کی حیراں مورت!

تجربہ ہائے زیست کے آرے

تلخیِ صد احساس کے تیشے

ان کے مقابل

حرفِ زبوں — اک کانچ کی لعبت!

عمر اسی الجھن میں گزری

کیا شے ہے یہ حرف و بیاں کا

عقدۂ مشکل؟

صورتِ معنی؟ معنیِ صورت؟

اکثر گردِ سخن سے نہ ابھرے

وادیِ فکر کی لیلاؤں کے

جھومتے محمل!

طے نہ ہوا ویرانۂ حیرت!

گرچہ قلم کی نوک سے ٹپکے

کتنے ترانے، کتنے فسانے

لاکھ مسائل

دل میں رہی سب دل کی حکایت!

بیس برس کی کاوشِ پہیم

سوچتے دن اور جاگتی راتیں

ان کا حاصل:

ایک یہی اظہار کی حسرت!

مجید امجد

جاروب کش

آسمانوں کے تلے، سبز و خنک گوشوں میں

کوئی ہو گا جسے اک ساعتِ راحت مل جائے

یہ گھڑی تیرے مقدر میں نہیں ہے، نہ سہی

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ راہوں پر

اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ اگر تو چن لے

کوئی اک غم تری قسمت کو بدل سکتا ہے

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ راہوں پر

تو اگر دیکھے تو خوشیوں کی گریزاں سرحد

سوزِ یک غم سے شکیبِ غمِ دیگر تک ہے

زندگی قہر سہی، زہر سہی، کچھ بھی سہی

آسمانوں کے تلے، تلخ و سیہ لمحوں میں

جرعۂ سم کے لیے عفّتِ لب لازم ہے

اور تو ہے کہ ترے جسم کا سایہ بھی نجس

تو اگر چاہے تو ان تلخ و سیہ راہوں پر

جابجا، اتنی تڑپتی ہوئی دنیاؤں میں

اتنے غم بکھرے پڑے ہیں کہ جنہیں تیری حیات

قوتِ یک شب کے تقدس میں سمو سکتی ہے

کاش تو حیلۂ جاروب کے پَر نوچ سکے!

کاش تو سوچ سکے ۔۔۔ سوچ سکے!

مجید امجد

برہنہ

فرنگی جریدوں کے اوراقِ رنگیں

پہ ہنستی، لچکتی، دھڑکتی لکیریں

کٹیلے بدن، تیغ کی دھار جیسے!

لہو رس میں گوندھے ہوئے جسم، ریشم کے انبار جیسے!

نگہ جن پہ پھسلے، وہ شانے وہ بانہیں

مدوّر اٹھانیں، منوّر ڈھلانیں

ہر اک نقش میں زیست کی تازگی ہے

ہر اک رنگ سے کھولتی آرزوؤں کی آنچ آ رہی ہے!

خطوطِ برہنہ کے ان آئنوں میں

حسیں پیکروں کے یہ شفاف خاکے

کہ جن کے سجل روپ میں کھیلتی ہیں

وہ خوشیاں جو صدیوں سے بوجھل کے اوجھل رہی ہیں!

انہیں پھونک دے گی یہ بےمہر دنیا

فرنگی جریدوں کے اوراقِ رنگیں

کو اک بارحسرت سے تک لو

پھر ان کو حفاظت سے اپنے دلوں کے مقفل درازوں میں رکھ لو!

مجید امجد

آؤ، آج ان مست ہواؤں میں بہہ جائیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 81
کب تک گزری باتیں یاد کریں، پچھتائیں
آؤ، آج ان مست ہواؤں میں بہہ جائیں
ٹوٹے پیمانوں کی ٹھیکریوں کے سفینے
بیتے سمے یادوں کی رو میں بہتے جائیں
کِس کو بتائیں اب یہ جو الجھن آن پڑی ہے
جب تک تم کو بھول نہ پائیں، یاد نہ آئیں
اکثر اکثر دوری سمٹی، رستے پھیلے
منزل! تیرا قربِ گریزاں، کیا بتلائیں
ان سنگین حصاروں میں دل کا یہ جھروکا
گونجیں جس میں ٹھٹکتے قدموں کی پرچھائیں
مجید امجد

رفتگاں

رات تھی اور نیم تاباں مشعلوں کی روشنی

رات تھی اور پیاسی آنکھوں، ہنستے چہروں کے ہجوم

سامنے میزوں پہ رنگارنگ جام

پی رہے تھے ہونٹ ارمانوں کی آگ!

جب بھی تارِ ارغنوں سے آ کے ٹکراتی کسی وحشی تمنا کی پکار

جھن جھنا اٹھتیں دلوں کی بستیاں

اپنی پلکوں کو جھکا لیتیں چراغوں کی لویں

ناچتے جسموں کے جنگل میں بھڑکنے لگتی ارمانوں کی آگ

آہ وہ محدود آہنگوں میں لپٹے زمزمے

جیسے طوفاں میں گھری کشتی سے کوئی ساحلِ گم گشتہ کو آواز دے!

آہ وہ مجروح سینوں سے ابلتے قہقہے

جیسے انگاروں بھرے جھکّڑ میں کوئی بےاماں راہی پکارے

منزلِ روپوش کو!

ہائے وہ مدہوش لوگ

مست پنچھی، جن کے جلتے پنکھ ان کی آتشِ دل کو ہوا دیتے گئے

کس گپھا میں کھو گئے؟

کیا انہیں سکھ کی کہیں بھی وہ کرن حاصل ہوئی

وہ کرن جو رات بھر ان نیم تاباں مشعلوں کے روپ میں ہنستی رہی

وہ کرن جو ان کی دنیا میں چمک کر ان کے دل میں بجھ گئی!

مجید امجد

پیش رَو

پت جھڑ کی اداس سلطنت میں

اک شاخِ برہنہ تن پہ تنہا

بےبرگ مسافتوں میں حیراں

کچھ زود شگفت شوخ کلیاں

جو ایک سرورِ سرکشی میں

اعلانِ بہار سے بھی پہلے

انجامِ خزاں پہ ہنس پڑی ہیں

تقدیرِ چمن بنی کھڑی ہیں!

اس یخ کدۂ یقینِ غم میں

دیکھو یہ شگفتہ دل شگوفے

ماحول نہ کائنات ان کی

اِک نازِ نمو حیات ان کی

عمر ان کی بس ایک پل ہے لیکن

آئیں گے انہی کی راکھ سے، کل

ماتھے پہ حسیں تلک لگائے

پھولوں بھری صبحِ نو کے سائے!

مجید امجد

کس قیامت کی رات گزری ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 78
دل سے ہر گزری بات گزری ہے
کس قیامت کی رات گزری ہے
چاندنی، نیم وا دریچہ، سکوت
آنکھوں آنکھوں میں رات گزری ہے
ہائے وہ لوگ، خوبصورت لوگ
جن کی دُھن میں حیات گزری ہے
کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موج
کتنی یادوں کے سات گزری ہے
تمتماتا ہے چہرۂ ایام
دل پہ کیا واردات گزری ہے
پھر کوئی آس لڑکھڑائی ہے
کہ نسیمِ حیات گزری ہے
بجھتے جاتے ہیں دکھتی پلکوں پہ دیپ
نیند آئی ہے، رات گزری ہے
مجید امجد

ریوڑ

شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر

ایک ریوڑ کے تھکے قدموں کا مدھم آہنگ

جس کی ہر لہر دھندلکوں میں لڑھک جاتی ہے

مست چرواہا، چراگاہ کی اک چوٹی سے

جب اترتا ہے تو زیتون کی لانبی سونٹی

کسی جلتی ہوئی بدلی میں اٹک جاتی ہے

بکریاں، دشت کی مہکار میں گوندھا ہوا دودھ

چھاگلوں میں لیے جب رقص کناں آتی ہیں

کوئی چوڑی خمِ دوراں پہ چھنک جاتی ہے

جست بھرتی ہے کبھی اور کبھی چلتے چلتے

ناچتی ڈار ممکتے ہوئے بزغالوں کی

ہر جھکی شاخ کی چوکھٹ پہ ٹھٹک جاتی ہے

سان پر لاکھ چھری، سیخ پہ صد پارۂ گوشت

پھر بھی مدہوش غزالوں کی یہ ٹولی ہے کہ جو

بار بار اپنے خطِ رہ سے بھٹک جاتی ہے

شام کی راکھ میں لتھڑی ہوئی ڈھلوانوں پر

کھیلتی ہے غمِ ہستی کی وہ شاداں سی اُمنگ

جس کی رو وقت کی پہنائیوں تک جاتی ہے

مجید امجد

مقبرۂ جہانگیر

زنگ آلود کمربند، صدف دوز عبا

یہ محافظ، تہہِ محراب عصا تھامے ہوئے

کھانستی صدیوں کا تھوکا ہوا اک قصہ ہیں

اِسی گرتی ہوئی دیوار کا اک حصہ ہیں!

کھردرے، میلے، پھٹے کپڑوں میں بوڑھے مالی

یہ چمن بند، جو گزرے ہوئے سلطانوں کی

ہڈیاں سینچ کے پھلواڑیاں مہکاتے ہیں

گھاس کٹتی ہے کہ دن ان کے کٹے جاتے ہیں

اور انہیں دیکھو — یہ جاروب کشانِ بےعقل

صبح ہوتے ہی جو چُن چُن کے اٹھا پھینکتے ہیں

گٹھلیاں — عشرتِ دزدیدہ کی تلچھٹ سے بھری

کہنہ زینوں میں پڑی، تیرہ دریچوں میں پڑی!

لاکھ ادوار کی لاشوں پہ بچھا کر قالین

چند لوگ اپنی ترنگوں میں مگن بیٹھے ہیں

عکس پڑتا ہے جو نظروں پہ حسیں زلفوں کا

ڈوب جاتا ہے پیالوں میں دھواں سُلفوں کا

سنگِ احمر کی سِلوں پر یہ سطورِ پُرنور

جن کی ہر جدولِ گل پیچ کے الجھاؤ میں

کتنے صناعوں کی صد عمرِ عزیز آویزاں

اس جگہ آج سحرخیز مریض آویزاں

موجِ صد نقش میں لپٹے ہوئے میناروں کے

دودھیا بُرج، درختوں کے گھنے جھنڈ میں گم

جن کے چھجوں سے نظر آتے ہیں مدفون غبار

رینگتی روحوں سے آباد گناہوں کے دیار!

گنبدِ دل میں لیے رقصِ مہ و سال کی گونج

یہ جھروکا کہ جو راوی کی طرف کھلتا ہے

اپنی تنہائیِ ویراں سے اماں مانگتا ہے

ہر گزرتی ہوئی گاڑی سے دھواں مانگتا ہے!

تین سو سالوں سے مبہوت کھڑے ہیں جو یہ سرو

اِن کی شاخیں ہیں کہ آفاق کے شیرازے ہیں

صفِ ایام کی بکھری ہوئی ترتیبیں ہیں

اِن کے سائے ہیں کہ ڈھلتی ہوئی تہذیبیں ہیں

مرمریں قبر کے باہر چمن و قصر و اُطاق

کوئلیں، امریاں، جھونکے، روشیں، فوارے

اور — کچھ لوگ کہ جو محرمِ آداب نہیں!

مرمریں قبر کے اندر، تہہِ ظلمات کہیں

کرمک و مور کے جبڑوں میں سلاطیں کے بدن

کوئی دیکھے، کوئی سمجھے تو اس ایواں میں جہاں

نور ہے، حسن ہے، ترئین ہے، زیبائش ہے

ہے تو بس ایک دکھی روح کی گنجائش ہے

تم نے دیکھا کہ نہیں آج بھی اِن محلوں میں

قہقہے جشن مناتے ہوئے نادانوں کے

جب کسی ٹوٹتی محراب سے ٹکراتے ہیں

مرقدِ شاہ کے مینار لرز جاتے ہیں!

مجید امجد

حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گلاب کے پھول

مجید امجد ۔ غزل نمبر 75
روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول
حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گلاب کے پھول
افق افق پہ زمانوں کی دھند سے ابھرے
طیور، نغمے، ندی، تتلیاں، گلاب کے پھول
کس انہماک سے بیٹھی کشید کرتی ہے
عروسِ گل بہ قبائے جہاں، گلاب کے پھول
جہانِ گریۂ شبنم سے، کس غرور کے سات
گزر رہے ہیں، تبسم کناں، گلاب کے پھول
یہ میرا دامنِ صد چاک، یہ ردائے بہار
یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول
کسی کا پھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز
گندھے ہوئے بہ خم گیسواں، گلاب کے پھول
خیالِ یار، ترے سلسلے نشوں کی رُتیں
جمالِ یار، تری جھلکیاں گلاب کے پھول
مری نگاہ میں دورِ زماں کی ہر کروٹ
لہو کی لہر، دلوں کا دھواں، گلاب کے پھول
سلگتے جاتے ہیں، چپ چاپ، ہنستے جاتے ہیں
مثالِ چہرۂ پیغمبراں، گلاب کے پھول
یہ کیا طلسم ہے، یہ کس کی یاسمیں بانہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول
کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول
مجید امجد

آٹوگراف

کھلاڑیوں کے خودنوشت دستخط کے واسطے

کتابچے لیے ہوئے

کھڑی ہیں منتظر — حسین لڑکیاں!

ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر، حسین لڑکیاں!

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کواڑ چیخ اٹھے

ابل پڑے الجھتے بازوؤں، چٹختی پسلیوں کے پُرہراس قافلے

گرے، بڑھے، مڑے بھنور ہجوم کے

کھڑی ہیں یہ بھی، راستے پہ، اک طرف

بیاضِ آرزو بہ کف

نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں

لرز رہا ہے دم بہ دم

کمانِ ابرواں کا خم

کوئی جب ایک نازِ بےنیاز سے

کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا

حروفِ کج تراش کی لکیر سی

تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی

کسی عظیم شخصیت کی تمکنت

حنائی انگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی

تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز بنض رک گئی

وہ باؤلر ایک، مہ وشوں کے جمگٹھوں میں گِھر گیا

وہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری

حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری

میں اجنبی، میں بےنشاں

میں پا بہ گِل

نہ رفعتِ مقام ہے، نہ شہرتِ دوام ہے

یہ لوحِ دل! یہ لوحِ دم!

نہ اس پہ کوئی نقش ہے، نہ اس پہ کوئی نام ہے!

مجید امجد

بس سٹینڈ پر

’’خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی!‘‘

’’خدا سے کیا گلہ، بھائی!

خدا تو خیر کس نے اس کا عکسِ نقشِ پا دیکھا

نہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا

مگر توبہ، مری توبہ، یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہے

یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے

ابھی کل تک، جب اس کے ابروؤں تک مُوئے پیچاں تھے

ابھی کل تک، جب اس کے ہونٹ محرومِ زنخداں تھے

ردائے صد زماں اوڑھے، لرزتا، کانپتا، بیٹھا

ضمیرِ سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا! ‘‘

’’مگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلوخانوں میں بستا ہے

ہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے

خدا اس کا، خدائی اس کی، ہرشے اس کی، ہم کیا ہیں!

چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرّہ ہیں‘‘

’’ہماری ہی طرح جو پائمالِ سطوتِ میری و شاہی میں

لکھوکھا، آبدیدہ، پاپیادہ، دل زدہ، واماندہ راہی ہیں

جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی غم پیما لکیروں میں

دکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں‘‘

’’ضرور اک روز بدلے گا نظامِ قسمتِ آدم

بسے گی اک نئی دنیا، سجے گا اک نیا عالم

شبستاں میں نئی شمعیں، گلستاں میں نیا موسم‘‘

’’وہ رُت اے ہم نفس جانے کب آئے گی؟

وہ فصلِ دیر رس جانے کب آئے گی؟

یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی؟‘‘

مجید امجد

ایسے بھی دن

پھلواڑی میں پھول کھلے، مرجھائے

کون اب ان کی مٹتی راکھ سے اپنی مانگ سجائے

آتے زمانے نئے پھول اور نئی بہاریں لائے

آتے جاتے زمانوں کی اس گونگی بھیڑ میں بہنے

آئے لاکھوں لمحے، گدلے گدلے فرغل پہنے

ایک قدم اور اس انبوہ میں کھو گئے ان کے کج مج سائے

پھول نہ گجرے، پلکیں اور نہ کجرے

بیتے سموں کے اُجڑے پنگھٹ، ٹھیکریاں اور بجرے

کون اب ان کی اڑتی دھول سے من کی پیاس بجھائے

ایسی ہی کتنی صبحیں، کتنی شامیں، پیلی پیلی

جن کے نہ میٹھے ہونٹ رسیلے، جن کی نہ کڑوی دھار کٹیلی

موجیں ابھریں، موجیں ڈوبیں، رُت آئے، رُت جائے

جن کی پلک پر، جن کے اُفق پر آنسو ہے نہ ستارہ

چپ چپ، گم سم، تھکے تھکے، آوارہ

آہ وہ دن جو بیت گئے اور یاد نہ آئے

مجید امجد

ہری بھری فصلو!

ہری بھری فصلو

جُگ جُگ جیو، پھلو

ہم تو ہیں دو گھڑیوں کو اس جگ میں مہمان

تم سے ہے اس دیس کی شوبھا، اس دھرتی کا مان

دیس بھی ایسا دیس کہ جس کے سینے کے ارمان

آنے والی مست رُتوں کے ہونٹوں پر مُسکان

جھکتے ڈنٹھل، پکتے بالے، دھوپ رچے کھلیان

ایک ایک گھروندا خوشیوں سے بھرپور جہان

شہر شہر اور بستی بستی جیون سنگ بسو!

دامن دامن، پلو پلو، جھولی جھولی ہنسو

چندن روپ سجو!

ہری بھری فصلو!

جُگ جُگ جیو، پھلو!

قرنوں کے بجھتے انگار، اک موجِ ہوا کا دَم

صدیوں کے ماتھے کا پسینہ، پتیوں پر شبنم

دَورِ زماں کے لاکھوں موڑ، اک شاخِ حسیں کا خم

زندگیوں کے تپتے جزیروں پر رکھ رکھ کے قدم

ہم تک پہنچی عظمتِ فطرت، طنطنۂ آدم

جھومتے کھیتو! ہستی کی تقدیرو! رقص کرو!

دامن دامن، پلو پلو، جھولی جھولی ہنسو!

چندن چندن رُوپ سجو!

ہری بھری فصلو!

جُگ جُگ جیو پھلو!

مجید امجد

کون دیس گیو۔۔۔

کون دیس گیو۔۔۔

نیناں

کون دیس گیو۔۔۔

رُت آئے، رُت جائے، مھاری عمر کٹے رو رو

کجرارے، متوارے نیناں، کون دیس گیو

دیکھتے دیکھتے اس نگری میں چاروں اور اک نور بہا

ایک گزرتی رتھ سے چھلکا اُمڈ کے جوبن، اہا، اہا

راہ راہ پہ پلک پلک نے سیس نوا کے کہا:

’’باوری لہرو

رس کے شہرو

نینو، ٹھہرو، ٹھہرو

چھین نہ لو ان ہنستے جُگوں سے سُکھ کا سانس اک رہا سہا‘‘

دھول اڑی اور پھول گرے

لمحے، خوشبوئیں، جھونکے

ابھرے، پھیلے، گئے گئے

ایدھر دیکھیں، اودھردیکھیں، دل کے سنگ نہ کو

کون دیس گیو

کجرارے، متوارے نیناں، کون دیس گیو

اب ان تپتے ویرانوں میں

کانٹے چُن چُن پور دُکھیں

جانے تم کس پھول بھوم میں جھوم جھوم ہنسو

کون دیسو گیو

کجرارے او، متوارے او، نیناں

کون دیس گیو

مجید امجد

بہ فرشِ خاک

آنکھیں میچوں، دھیان کروں تو صورت تیری، مورت تیری

من کے ہنستے بستے دیس کے رستے رستے پر مسکائے

تیری باہیں، گلگوں راہیں، میری جانب بڑھتی آئیں

تیری اکھیاں، جیون سکھیاں، دل کے تٹ پر راس رچائیں

چاروں کھونٹ گلابی ہونٹ نگہ کو رس کے گھونٹ پلائیں

لیکن جب میں ہات بڑھاؤں، تیرا دامن ہات نہ آئے

اکثر اکثر، سوچتے سوچتے، یوں محسوس ہوا ہے مجھ کو

جیسے اک طوفان میں گھر کر، گر کر، پھول کی پتی ابھرے

لہر لہر کے ڈولتے شہر میں دھندلے دھندلے دیے لہرائیں

سکھ کی سامگری سے نگری نگری کے آنگن بھر جائیں

گجرے لہکیں، سیجیں مہکیں، گھلتی سانس کے جھونکے آئیں

لیکن جب میں تجھ کو پکاروں، دور اک گونج کی میّت گزرے

دل کے بےآواز جزیرے میں چھپ چھپ کے، چپکے چپکے

آنے والو! کیوں چھپتے ہو؟ گھونگھٹ کھولو، ہنس ہنس بولو

اب تک ہم نے سنوارے نکھارے، منزل منزل، رستے رستے

خوابوں کے مسحور خرابوں میں ارمانوں کے گلدستے

اس مٹی کے گھروندے میں بھی اک دن بیٹھ کے ہنستے ہنستے

اپنے ہات سے میری چائے کی پیالی میں چینی گھولو!

مجید امجد

وہ رات گئی، وہ بات گئی، وہ ریت گئی، رت بیت گئی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 68
کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی، رت بیت گئی
وہ رات گئی، وہ بات گئی، وہ ریت گئی، رت بیت گئی
اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول، آنکھوں کے دیے
اک گونجتی آندھی وقت کی بازی جیت گئی، رت بیت گئی
تم آ گئے میری باہوں میں، کونین کی پینگیں جھول گئیں
تم بھول گئے، جینے کی جگت سے ریت گئی، رت بیت گئی
پھر تیر کے میرے اشکوں میں گل پوش زمانے لوٹ چلے
پھر چھیڑ کے دل میں ٹیسوں کے سنگیت گئی، رت بیت گئی
اک دھیان کے پاؤں ڈول گئے، اک سوچ نے بڑھ کر تھام لیا
اک آس ہنسی، اک یاد سنا کر گیت گئی، رت بیت گئی
یہ لالہ و گل، کیا پوچھتے ہو، سب لطفِ نظر کا قصہ ہے
رت بیت گئی، جب دل سے کسی کی پیت گئی، رت بیت گئی
مجید امجد

انجمن انجمن رہا تنہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 67
دل نے ایک ایک دکھ سہا تنہا
انجمن انجمن رہا تنہا
ڈھلتے سایوں میں تیرے کوچے سے
کوئی گزرا ہے بارہا تنہا
تیری آہٹ قدم قدم اور میں
اس معیّت میں بھی رہا تنہا
کہنہ یادوں کے برف زاروں سے
ایک آنسو بہا، بہا تنہا
ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل
اک کھنڈر سا رہا سہا، تنہا
گونجتا رہ گیا خلاؤں میں
وقت کا ایک قہقہہ تنہا
مجید امجد

ساجن دیس کو جانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی

جاتے راہی

ساجن دیس کو جانا

منڈلی منڈلی چوکھٹ چوکھٹ

جھاجھن، جھاجھن، ڈِگ تٹ، ڈِگ تٹ

من کی تان اڑانا

لیکن میرے دکھوں کے سانجھی، میرے درد نہ گانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی

جاتے راہی

ساجن دیس کو جانا

سوچ بھرے مکھ، زہر پیے من

ان کی آس بندھانا

جھنن جھنن جھن، چھنن چھنن چھن

گیت ملن کے گانا

گلی گلی میں ساون رت کی مست پون بن جانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی

جاتے راہی

ساجن دیس کو جانا

پلک پلک پہ مچل سکتا ہے

آنسو بن کے زمانہ

اک دھڑکن میں ڈھل سکتا ہے

جیون کا افسانہ

ان آنکھوں کو ان ہونٹوں کو سمجھانا، سمجھانا

مجید امجد

کب آئیں گے وہ من مانے زمانے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 65
مہکتے، میٹھے، مستانے زمانے
کب آئیں گے وہ من مانے زمانے
جو میرے کنجِ دل میں گونجتے ہیں
نہیں دیکھے وہ دنیا نے زمانے
تری پلکوں کی جنبش سے جو ٹپکا
اسی اک پل کے افسانے زمانے
تری سانسوں کی سوغاتیں بہاریں
تری نظروں کے نذرانے زمانے
کبھی تو میری دنیا سے بھی گزرو
لیے آنکھوں میں اَن جانے زمانے
انہی کی زندگی جو چل پڑے ہیں
تری موجوں سے ٹکرانے، زمانے!
میں فکر رازِ ہستی کا پرستار
مری تسبیح کے دانے زمانے
مجید امجد

ہم لب سے لگا کر جام، ہوئے بدنام، بڑے بدنام

مجید امجد ۔ غزل نمبر 64
ایک ایک جھروکا خندہ بہ لب، ایک ایک گلی کہرام
ہم لب سے لگا کر جام، ہوئے بدنام، بڑے بدنام
رت بدلی کہ صدیاں لوٹ آئیں، اف یاد، کسی کی یاد
پھر سیلِ زماں میں تیر گیا اک نام، کسی کا نام
دل ہے کہ اک اجنبیِ حیراں، تم ہو کہ پرایا دیس
نظروں کی کہانی بن نہ سکیں ہونٹوں پہ رکے پیغام
روندیں تو یہ کلیاں نیشِ بلا، چومیں تو یہ شعلے پھول
یہ غم یہ کسی کی دین بھی ہے، انعام، عجب انعام
اے تیرگیوں کی گھومتی رو، کوئی تو رسیلی صبح
اے روشنیوں کی ڈولتی لو، اک شام، نشیلی شام
رہ رہ کے جیالے راہیوں کو دیتا ہے یہ کون آواز
کونین کی ہنستی منڈیروں پر، تم ہو کہ غمِ ایام
بے برگ شجر گردوں کی طرف پھیلائیں ہمکتے ہات
پھولوں سے بھری ڈھلوان پہ سوکھے پات کریں بسرام
ہم فکر میں ہیں اس عالم کا دستور ہے کیا دستور
یہ کس کو خبر اس فکر کا ہے دستورِ دو عالم نام
مجید امجد

زندگی، اے زندگی

خرقہ پوش و پا بہ گِل

میں کھڑا ہوں، تیرے درپر، زندگی

ملتجی و مضمحل

خرقہ پوش و پا بہ گِل

اے جہانِ خار و خس کی روشنی

زندگی، اے زندگی

میں ترے در پر چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے

سن رہا ہوں قہقہوں کے دھیمے دھیمے زمزمے

کھنکھناتی پیالیوں کے شور میں ڈوبے ہوئے

گرم، گہری گفتگو کے سلسلے

منقلِ آتش بجاں کے متصل

اور ادھر، باہر گلی میں، خرقہ پوش و پا بہ گِل

میں کہ اک لمحے کا دل

جس کی ہر دھڑکن میں گونجے دو جہاں کی تیرگی

زندگی، اے زندگی

کتنے سائے محوِ رقص

تیرے در کے پردۂ گلفام پر

کتنے سائے، کتنے عکس

کتنے پیکر محوِ رقص

اور اک تو کہنیاں ٹیکے خمِ ایام پر

ہونٹ رکھ کر جام پر

سن رہی ہے ناچتی صدیوں کا آہنگِ قدم

جاوداں خوشیوں کی بجتی گتکڑی کے زیر و بم

آنچلوں کی جھم جھماہٹ، پائلوں کی چھم چھمم

اس طرف، باہر، سرِ کوئے عدم

ایک طوفاں، ایک سیلِ بےاماں

ڈوبنے کو ہیں مرے شام و سحر کی کشتیاں

اے نگارِ دل ستاں

اپنی نٹ کھٹ انکھڑیوں سے میری جانب جھانک بھی

زندگی، اے زندگی!

مجید امجد

افتاد

کوئی دوزخ کوئی ٹھکانہ تو ہو

کوئی غم حاصلِ زمانہ تو ہو

لالہ و گل کی رت نہیں، نہ سہی

کچھ نہ ہو، شاخِ آشیانہ تو ہو

کبھی لچکے بھی آسمان کی ڈھال

یہ حقیقت کبھی فسانہ تو ہو

ان اندھیروں میں روشنی کے لیے

طاقِ چوبیں پہ شمعِ خانہ تو ہو

کسی بدلی کی ڈولتی چھایا

کوئی رختِ مسافرانہ تو ہو

گونجتے گھومتے جہانوں میں

کوئی آوازِ محرمانہ تو ہو

اس گلی سے پلٹ کے کون آئے

ہاں مگر اس گلی میں جانا تو ہو

میں سمجھتا ہوں ان سہاروں کو

پھر بھی جینے کا اک بہانہ تو ہو

مجید امجد

کانٹوں سے الجھ کر جینا ہے، پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 61
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی صبحوں کے حوالے کرنا ہے
کانٹوں سے الجھ کر جینا ہے، پھولوں سے لپٹ کر مرنا ہے
شاید وہ زمانہ لوٹ آئے، شاید وہ پلٹ کر دیکھ بھی لیں
ان اجڑی اجڑی نظروں میں پھر کوئی فسانہ بھرنا ہے
یہ سوزِ دروں، یہ اشکِ رواں، یہ کاوشِ ہستی کیا کہیے
مرتے ہیں کہ کچھ دن جی لیں ہم، جیتے ہیں کہ آخر مرنا ہے
اک شہرِ وفا کے بند دریچے آنکھیں میچے سوچتے ہیں
کب قافلہ ہائے خندۂ گل کو ان راہوں سے گزرنا ہے
اس نیلی دھند میں کتنے بجھتے زمانے راکھ بکھیر گئے
اک پل کی پلک پر دنیا ہے، کیا جینا ہے کیا مرنا ہے
رستوں پہ اندھیرے پھیل گئے، اک منزلِ غم تک شام ہوئی
اے ہمسفرو! کیا فیصلہ ہے؟ اب چلنا ہے کہ ٹھہرنا ہے؟
ہر حال میں اک شوریدگیِ افسونِ تمنا باقی ہے
خوابوں کے بھنور میں بہہ کر بھی خوابوں کے گھاٹ اترنا ہے
مجید امجد

تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
کوئی بھی دَور سرِ محفلِ زمانہ رہا
تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا
مرے نشانِ قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے
اَبد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا نہ رہا
وہ کوئی کنجِ سمن پوش تھا کہ تودۂ خس
اک آشیانہ بہرحال آشیانہ رہا
تم اک جزیرۂ دل میں سمٹ کے بیٹھ رہے
مری نگاہ میں طوفانِ صد زمانہ رہا
طلوعِ صبح کہاں، ہم طلوع ہوتے گئے
ہمارا قافلۂ بے درا روانہ رہا
یہ پیچ پیچ بھنور، اس کی اک گرہ تو کھلی
کوئی تڑپتا سفینہ رہا رہا نہ رہا
نہ شاخ گل پہ نشیمن نہ رازِ گل کی خبر
وہ کیا رہا جو جہاں میں قلندرانہ رہا
?1952
مجید امجد

منٹو

میں نے اس کو دیکھا ہے

اجلی اجلی سڑکوں پر اک گرد بھری حیرانی میں

پھیلتی بھیڑ کے اوندھے اوندھے کٹوروں کی طغیانی میں

جب وہ خالی بوتل پھینک کے کہتا ہے:

’’دنیا! تیرا حسن یہی بدصورتی ہے‘‘

دنیا اس کو گھورتی ہے

شورِ سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے

انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال

کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں کا جال

بامِ زماں پر پھینکا ہے؟

کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پُرپیچ دھندلکوں میں

روحوں کے عفریت کدوں کے زہراندوز محلکوں میں

لے آیا ہے، یوں بن پوچھے، اپنے آپ

عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ؟

کون ہے یہ گستاخ؟

تاخ، تڑاخ!

مجید امجد

سنہری زلفوں کے مست سائے

نہ پھر وہ ٹھنڈی ہوائیں لوٹیں

نہ پھر وہ بادل پلٹ کے آئے

نہ پھر کبھی شام کے نم آلود شعلہ زاروں پہ لڑکھڑائے

سنہری زلفوں کے مست سائے

سنہری زلفیں، جو اڑ کے لہرا کے اک شفق گوں محل کی چھت سے

گزر چلی تھیں گزرتے جھونکوں کی سلطنت سے

جھکیں مری سمت بھی گھٹاؤں کی تمکنت سے

کنارِ دل سے حدِ افق تک، تمام بادل، گھنیرے بادل

شراب کی مستیوں کے جھونکے، گلاب کی پنکھڑیوں کے آنچل

خیال رم جھم، نگاہ جل تھل

پھر ایک اجڑے ہوئے تبسم کے ساتھ ہر سو

تلاش میں ہے گلوں کی خوشبو

کبھی پسِ در، کبھی سرِ کُو

مگر وہ بادل؟

مگر وہ گیسو؟

مجید امجد

درسِ ایام

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی

تخت و کلاہ و قصر کے سب سلسلے گئے

وہ دست و پا میں گڑتی سلاخوں کے روبرو

صدہا تبسموں سے لدے طاقچے گئے

آنکھوں کو چھیدتے ہوئے نیزوں کے سامنے

محرابِ زر سے اٹھتے ہوئے قہقہے گئے

ہر سانس لیتی کھال کھچی، لاش کے لیے

شہنائیوں سے جھڑتے ہوئے زمزمے گئے

دامن تھے جن کے خون کی چھینٹوں سے گلستاں

وہ اطلس و حریر کے پیکر گئے، گئے

ہر کنجِ باغ ٹوٹے پیالوں کا ڈھیر تھی

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے

یہ ہات، جھریوں بھرے، مرجھائے ہات جو

سینوں میں اٹکے تیروں سے رستے لہو کے جام

بھر بھر کے دے رہے ہیں تمہارے غرور کو

یہ ہات، گلبنِ غمِ ہستی کی ٹہنیاں

اے کاش! انھیں بہار کا جھونکا نصیب ہو

ممکن نہیں کہ ان کی گرفتِ تپاں سے تم

تادیر اپنی ساعدِ نازک بچا سکو

تم نے فصیلِ قصر کے رخنوں میں بھر تو لیں

ہم بےکسوں کی ہڈیاں لیکن یہ جان لو

اے وارثانِ طرۂ طرفِ کلاہِ کَے!

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر ہے

مجید امجد

ارے یقینِ حیات

یہ دور رفتہ تبسم جو میرے ہونٹوں پر

ترے اشارۂ ابرو سے لوٹ آیا ہے

یہ زیست کی سوغات!

سیاہیوں میں گھرے طاق و گنبد و ایواں

کی اوٹ سے یہ ابھرتی ہوئی شعاعوں کے

لپکتے بڑھتے ہات!

جو تیرے باغ کے گجرے کلائیوں میں لیے

سسکتے لمحوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں

بڑے غرور کے سات!

یہ ایک نقشِ کفِ پا، بہ سطحِ ریگِ رواں

ترے حریمِ فروزاں سے ایک اور چراغ

بہ سینۂ ظلمات!

خروشِ شام و سحر میں کشید ہوتی ہوئی

شرابِ غم کا یہ اک جام جس میں اتری ہے

تجلیوں کی برات!

یہ ایک جرعۂ زہراب جس میں غلطاں ہیں

تری نگاہ کا رس، تیرے عارضوں کے گلاب

ترے لبوں کی نبات!

اسی اسی ترے پیمانۂ نشاط کے دور

یونہی یونہی ذرا کچھ اور، اے یقینِ حیات

ارے یقینِ حیات!

مجید امجد

تری داستاں بھی عظیم ہے، مری داستاں بھی عظیم ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 55
ترے فرقِ ناز پہ تاج ہے، مرے دوشِ غم پہ گلیم ہے
تری داستاں بھی عظیم ہے، مری داستاں بھی عظیم ہے
مری کتنی سوچتی صبحوں کو یہ خیال زہر پلا گیا
کسی تپتے لمحے کی آہ ہے کہ خرامِ موجِ نسیم ہے
تہہِ خاک کرمکِ دانہ جُو بھی شریکِ رقصِ حیات ہے
نہ بس ایک جلوۂ طور ہے، نہ بس ایک شوقِ کلیم ہے
یہ ہر ایک سمت مسافتوں میں گندھی پڑی ہیں جو ساعتیں
تری زندگی، مری زندگی، انہی موسموں کی شمیم ہے
کہیں محملوں کا غبار اڑے، کہیں منزلوں کے دیے جلیں
خَمِ آسماں، رہِ کارواں! نہ مقام ہے، نہ مقیم ہے
حرم اور دیر فسانہ ہے، یہی جلتی سانس زمانہ ہے
یہی گوشۂ دلِ ناصبور ہی کنجِ باغِ نعیم ہے
مجید امجد

کانٹے کلیاں

تم سے تو یہ ڈسنے والے کانٹے اچھے، ہنستے پھولو!

چنچل کانٹے، لانبی دوب کی ٹھنڈی چھاؤں کے متوالے

اپنی جلتی جلتی زباں سے چاٹ چاٹ کے دکھتے چھالے

ہر راہی کا دامن تھام کے کہتے ہیں

’’او جانے والے!

چلتے چلتے، جب تم اک دن پھاند کے یہ گم سم ویرانہ

دور، کسی وادی کے کنارے، کھول کے اپنے دل کا خزانہ

ڈرتے ڈرتے چھیڑو کوئی دھیما دھیما مست ترانہ

ہم نے ہی یہ بِس میں گھول کے رس بخشا تھا، بھول نہ جانا‘‘

تم سے تو یہ ڈسنے والے کانٹے اچھے، ہنستے پھولو!

ظالم پھولو! کتنے پیاسے خوابوں کے بیتاب ہیولے

کتنی زندگیوں کے بگولے، تمہاری خوشبوؤں کے جھولے

میں دو گھومتے لمحوں کے لب چوم کے اپنا رستہ بھولے

تم سے تو یہ کانٹے اچھے—

مجید امجد