بھیڑ میں مکانوں کی
ایک بند دروازہ
سُونے سُونے آنگن میں
ڈھیر سوکھے پتوں کا
خشک پیڑ سے لپٹی
بے حساب تنہائی
سرد، خالی کمروں میں
سانس لیتا سناٹا
منتظر ہیں مدت سے
بے پناہ شدت سے
پر اُجاڑ سے گھر کے
بے چراغ آنگن میں
ٹوٹ کر شبستاں سے
عید کس طرح اترے
بھیڑ میں مکانوں کی
ایک بند دروازہ
سُونے سُونے آنگن میں
ڈھیر سوکھے پتوں کا
خشک پیڑ سے لپٹی
بے حساب تنہائی
سرد، خالی کمروں میں
سانس لیتا سناٹا
منتظر ہیں مدت سے
بے پناہ شدت سے
پر اُجاڑ سے گھر کے
بے چراغ آنگن میں
ٹوٹ کر شبستاں سے
عید کس طرح اترے
بہت کالی راتوں کے گرداب سے
ایک آہٹ نکل کر
دبے پاؤں بڑھتی ہے
کھڑکی سے لگ کر
کوئی اجنبی شکل رونے لگی ہے
مجھے وہم ہے
میں اگر اس کے رونے پہ
رونے لگوں تو
یہ فوراً پگھل کر مرے ساتھ
بہنے لگے گی
کوئی لجلجاتی ہوئی چیز
سہمے حلق سے اُترتی ہے
اور تھرتھراتی ہوئی سانس
جمنے لگی ہے
یہ پتھرائی دھڑکن کی
آواز ہے یا کوئی دھپ سے
بستر میں کُودا ہے
اور خرخراتی ہوئی ایک مدھم صدا
یہ صدا ہے کہ پھر میری سوئی
نگاہوں کو دھڑکا لگا ہے
لرزتی ہوئی رات کی آنکھ
کھلتی نہیں ہے
کسی طور پتھرائی ساعت
پگھلتی نہیں ہے
مجھے وہم ہے پھر اگر یہ
پگھلنے لگی تو مرے ساتھ
بہنے لگے گی
اُچٹتی ہوئی سسکیاں
لے رہا ہے کوئی
جیسے میں اپنے بستر میں
تنہا نہیں ہوں
ابھی میں نے چاہا تو ہے
چیخ کر اُٹھ پڑوں
پر کسی نے
مری سانس باندھی ہوئی ہے
مرے پاؤں جکڑے ہوئے ہیں
کوئی اجنبی چیز ہے جو
مرے ایسے بے جان تن کو
دُھنکنے لگی ہے
مری سانس رُکنے لگی ہے
سو چپ رہو، سو مان لو
وہ کہہ رہے ہیں تم سے گر
تمہاری نرم سانس
اُن کی زندگی پہ بوجھ ہے
تو اپنی سانس گھونٹ لو
ابھی تمہارے ان بُنے وجود میں
دھرا بھی کیا ہے
ننھی ننھی دھڑکنیں
چلیں تو کیا
رُکیں تو کیا
سو چپ رہو، سو مان لو
ٹھہر نہیں سکے گی
تیز آندھیوں کے سامنے
یہ جگنوئوں سی روشنی
اٹل چٹان فیصلوں کی زد میں
ایک پھوٹتی ہوئی کلی
پکارتے ، چنگھاڑتے کڑے بھنور
کی راہ میں
بس ایک بوند زندگی
مجھے پتہ ہے ظلم ہے
مگر تمہیں خبر نہیں
تمہیں ابھی سے کیا خبر
کسی بھی ظلم ، درد ، گھاؤ،
موت اور زندگی کے ذائقے
تمہاری نرم دھڑکنوں نے
کچھ بھی تو سہا نہیں
حسین تتلیاں ، بہار ، پھول ، پیڑ ،
چھاؤں ، دھوپ،
پتیوں کے ، پانیوں کے سلسلے
تمہاری کوری سانس نے
کسی کو بھی چھوا نہیں
سو چپ رہو، سو مان لو
یہی وہ چاہتے ہیں گر
تمہیں مٹانے کے سوا
کوئی بھی راستہ نہیں
تو اُن کی بات مان لو …
دِیے جل رہے ہیں
تمہاری چمکدار
ننھی نگاہوں میں
روشن ہے خوشیوں بھرا ایک لمحہ
دمکتی ہوئی نقرئی گیند ان سبز پتوں میں
ہلکی سی لرزاں ہے
جس کو ابھی چھو کے تم نے
الُوہی مسرت کے رنگین پل کو جیا ہے
مگر ننھے بچے
تمہیں یہ پتہ ہے
یہاں سے بہت دور
نیلے سمندر سے آگے
یہی ایک لمحہ ہے جس میں کسی نے
اُدھڑتے ہوئے جسم کے
کانپتے چند ریشوں سے
کیسے ابھی زہرِ جاں کو پیا ہے
دھڑکتی ہوئی سانس لیتی زمیں پر
تمہاری طرح کتنے روشن دِیے تھے
جنہیں چند سفاک ہاتھوں نے گُل کر دیا ہے
مری سوہنی دھرتی کی
شفاف پیالی میں قدرت نے جیسے
بس اک پل میں تازہ لہو بھر دیا ہے …
جگمگاتے ہوئے خواب سب
تیری بے تاب پلکوں پہ سایہ کریں
حرف کی جھلملاتی ہوئی تتلیاں
تیری انمول پوروں کو چھو کر چلیں
پھوٹتی ہی رہیں
شاعرِ وقت تیرے کسی
نخلِ احساس سے کونپلیں
اپنی مٹی کی نمناک خوشبو میں
سمٹا ہوا
تُو مہکتا رہے
زندگی کے کسی بحر ظلمات میں
ایک دل کی طرح
تُو دھڑکتا رہے
شعر کہتا رہے
گیت لکھتا رہے
شعر کہتا رہے
گیت لکھتا رہے
گیت ایسے لکھے
کہ نہ صرف اس صدی کا ہی
حصہ بنے
شاعر وقت تُو
آنے والے زمانوں کا حصہ بنے
بے یقینی کے بے کل سمندر میں اُتری ہوئی
دو سیہ کشتیاں
موج در موج پھیلے ہوئے پانیوں میں
سلگتی ہوئی
دو عجب بستیاں
سُونی آنکھوں میں دو
ڈولتی پُتلیاں
ڈولتی پُتلیاں
عکس لہروں پہ محروم سی آس کا
خشک چہرے کی اُن سلوٹوں میں مچلتا ہوا
بے کراں انتظار
شہر کے اس حسیں موڑ پر
سانولی سوکھی ٹانگوں پہ رکھا ہوا
اک زمانے کا بار
خشک ہاتھوں میں تھامی ہوئی ایک امید
گاڑی کی آواز
جیسے کہیں
کوئی آ کے رُکا
اور تصور میں مہکی ہوئی
سوندھی روٹی کا چہرہ سا لہرا گیا
ڈھول پر تھاپ دیتے ہوئے کانپتے ہاتھ
اور اس طرف جھومتے لوگ آسودہ تن
رنگ اور روشنی میں نہائے بدن
کوئی کیسے سُنے
ڈھول کی تھاپ میں
لڑکھڑاتی، تڑپتی ہوئی سسکیاں
روشنی میں نہاتی ہوئی
بھوک سے بلبلاتی ہوئی
جان کی
آخری ہچکیاں
یہی بہت ہے
آج وہ مدھم چاپیں
اس رستے سے اُبھری تھیں
تم جس پر
لحظہ بھر کو
رُک سے گئے ہو
پیڑ سے لپٹا جھونکا
گھاس میں اُلجھی خوشبو
اور دِیوار پہ
نادیدہ سا دھبہ
جس کو تم نے اپنی
پور پہ اب محسوس کیا ہے
جل تھل ایک ہوا ہو جس میں
ایسی مست، نرالی رُت کا
ذکر ہی کیا ہے
یہی بہت ہے
آسمان پر اُڑتا بادل
دھرتی کے شانوں کو
چھو کر
گزر گیا ہے …
ظلمت شب کی چشم پریشان میں
کسمساتے ہوئے
دو دِیے
ایک سہمے ہوئے طاق پر
ٹمٹماتے ہوئے
ملگجی ، ماند پڑتی ہوئی روشنی
زرد رُو ، بے اماں
ایستادہ ستوں سے
الجھتا ، لپٹتا
لرزتا دھواں
دو نگاہیں مگر
آنچ دیتی ہوئی
بے زباں سسکیاں
روح میں دفعتاً
تھرتھراتی ہوئی
سانس کی ڈوریاں
تیرتی ہیں کسی ڈبڈبائی ہوئی
آنکھ میں
دو لَویں … مستقل
اور کہیں تیز جھونکوں کی آہٹ پہ بھی
کانپ اٹھتا ہے دل …
اُونچی شاخوں سے اُلجھی ہوئی ڈور
کچھ مردہ تنکوں کے
اندھے سہارے پہ
لٹکا ہوا یہ کبوتر
خدا جانے کب سے
ہواؤں کے دھارے پہ
بہنے لگا ہے
ادھ کھلے پر میں جکڑی ہوئی
ڈور کا یہ سرا ہی
کبوتر کا اس پیڑ سے
آخری واسطہ ہے
پر یہ ننھی خمیدہ سی گردن جھکائے
بڑی بے نیازی سے بس
ڈولتا جا رہا ہے
نیچے جلتی ہوئی اِک سڑک پر
وہ ہنگام ہستی ہے جس کو بھی دیکھو
وہی اپنے پیروں کے چھالے چھپائے
پریشاں نگاہوں میں خوابوں کی
بے تابیوں کو سجائے
کسی اندھی منزل کی جانب
بڑھا جا رہا ہے
جو دیکھو تو سانسوں کا تاوان
خلق خدا پر کڑا ہے
بصد شکر معصوم، ننھے سے دل کو
قرار آ گیا ہے …
ڈھیلے فیتوں والے نیلے سینڈلوں میں ننھے پیر
بیٹھے ہیں یہ سانولے قیدی بڑے چُپ چاپ سے
اِن سے کیا جانے ہوئی ایسی خطا
لازمی ہے اِن پہ گردش میں رہیں
جانے کیسے جُرم کی پاداش میں
پل دو پل کا یہ سفر اور چلچلاتی زندگی
اُونگھتے ہیں دو کبوتر بس ذرا سی دیر کو
ایک جھپکی اور صدیوں کی تھکن کے کارواں
صف بہ صف اترے چلے آتے ہیں سُونی راہ پر
جانتے ہیں بس ابھی رُک جائے گی
اور سڑکوں ،راستوں ، فٹ پاتھ پر
شام تک چلتے رہیں گے گردشوں کے سلسلے
پھر بھی خوابوں کو بلانے سے
یہ باز آتے نہیں …
یہ کِشت اُلفت کی زرد مٹی
یہ سہمی شب کے اُداس تارے
سوال دستِ اجل کی جانب
ہزار حیرت سے تک رہے ہیں
ابھی لہو سے کسی بھی چہرے کا
نقش بننے میں دن پڑے تھے
زمیں کے آنچل سے بیج باندھے ہی تھے صبا نے
کہ جن سے زندہ دھڑکتی کونپل کو پھوٹنا تھا
سنہری ، نوخیز ، نرم کونپل
جو دلبری کے حسیں مناظر کا آئینہ تھی
جو چاند راتوں سے گزرے لمحوں کا نقش پا تھی
وہ ننھی ، معصوم ، بند پلکیں
کسی بھی روشن ، حسین ساعت
کسی بھی تیرہ ، اداس لمحے
سے بے خبر تھیں …
ادھورے ہونٹوں کی نغمہ گہ سے
نکلتی بے صوت ان صداؤں سے
گیت بننے میں
دن پڑے تھے
بہ نوکِ نشتر ہیں
آرزوئوں کے سارے ریشے
ستم نوازی کی داستاں بھی
بدن کی سلوٹ سے پھوٹتی
شاخِ بے اماں بھی
کہ جس پہ چاہت کے پھول آنے میں
دن پڑے تھے
اجل کے لمحو
بدن کی گٹھڑی سے
زندگی کا سراغ پانے
میں دن پڑے تھے
شام سے کہیں پہلے
اضطراب کی کلیاں
شاخِ جاں سے پھوٹی تھیں
آرزو کے ہرکارے
دلفریب بستی سے
رنگ اور مستی کے
سب پیام لائے تھے
شوق سے لدی ڈالی
جھوم جھوم چلتی تھی
کیسی اجنبی خواہش
خون میں مچلتی تھی
اور رگوں میں ہر لحظہ
اک فشار رہتا تھا
دُور کے مسافر کا
انتظار رہتا تھا
شام سے ذرا پہلے
صحن گل میں خوشبو نے
دھوم کیا مچائی تھی
سرخ سرخ پھولوں نے
دلگداز راہوں میں
آگ سی لگائی تھی
ڈھلتی دھوپ کا سایہ
شاخ سے لپٹنے کو
بے قرار رہتا تھا
اجنبی مسافر کا انتظار رہتا تھا
شام کے دریچوں سے
دلفریب بستی کا
رنگ اور مستی کا
کچھ نشاں نہیں ملتا
رخصتی کے سب منظر
در بہ در اترتے ہیں
ٹنڈ منڈ شاخوں پر
لمحے بین کرتے ہیں
شام ڈھلتی رہتی ہے
پھیلتے اندھیرے سے
چپکے چپکے کہتی ہے
دل نہ جانے کیوں ہر دم
سوگوار رہتا ہے
دُور کے مسافر کا
انتظار رہتا ہے
آفٹر بلاسٹ
نہیں نہیں
یہ جھوٹ ہے
دھڑک رہے تھے ہم یہاں
یہیں کہیں
یہیں کہیں پہ ان حسین پتیوں سے
کھیلتی رہی تھیں شوخ تتلیاں
اسی جگہ جھکی ہوئی تھی شاخ گل
کہ کھولتی ہو پیچ و خم
ہوائے مشک بار پر
ابھی ابھی تو بُن رہے تھے خواب ہم
حسین زندگی کے خواب
تیرتے تھے دیر تک
فضاؤں میں ، ہواؤں میں
یقیں نہ ہو
یقیں نہ ہو تو نیلگوں
ہوا کو چھو کے دیکھ لو
دھڑک رہے تھے ہم یہاں
یہیں کہیں …
دھوپ اور میں
یہاں دیر سے
یونہی چُپ
اوندھے لیٹے ہوئے
کہ اچانک ہوا اپنے ہاتھوں پہ
لائی ہے مانوس دستک
مہکتا ہوا دھیما لہجہ
بس اِک آن میں کھل اُٹھے
پھول سے خواب
خالی نگاہوں میں
اُترے ہیں رنگین منظر
کھنکتی ہوئی
ایک مدھم ہنسی
دل مرا رقص کرنے لگا
دل مرا رقص کرنے لگا
اور میں نے کہا
آج تو چھو ہی لوں گی
بہت نرم لفظوں میں
بہتے ہوئے ایک احساس کو
میں نے چاہا
بڑھی میں
مگر کچھ نہ تھا
خاک آلود جلدوں میں رکھی ہوئی زرد رُو پُتلیاں
مجھ کو حیرت سے تکتی ہیں جیسے کہ میں
جیسے میں ان کے غرفوں میں اُمڈے ہوئے
خواب کا کوئی حصہ نہیں
پیلے اوراق کے مُردہ خانوں کے پیچھے
کہیں کوئی خواہش چھپی ہے …
جو … اب چاہنے پر مرے ہاتھ آتی نہیں
مجھ سے کہتی ہے اے اجنبی کون ہو
اب میں کیسے کہوں
میں انہی زرد آنکھوں سے دیکھے ہوئے
خواب کی ایک تعبیر ہوں
کیسے جوڑوں میں اوراق کے
کند حرفوں سے کوئی تعلق کہ میں تو فقط
میں فقط اک تسلسل کی
موجودہ کڑیوں سے اُلجھی ہوئی
کوئی تحریر ہوں
تو پھر سے سرد رات نے
پٹخ دیا ہے نیند کو
پھٹی پھٹی نگاہ میں
خمار کا
ذرا بھی شائبہ نہیں
نہ گرد خواب کا گماں
کسی خیال کا دھواں
یہ میں ہوں اور
وقت کی منڈیر سے
تھکے تھکے خموش پل
پھسل رہی ہیں ساعتیں
سکوتِ دل کو راحتیں
نہ رنج کی شکایتیں
سمیٹتی ہے رات کچھ
مسافتوں کی بے بسی
بہت سپاٹ زندگی
اُچاٹ دل میں خیمہ زن
کوئی ملال بھی نہیں
شب سیاہ کی نظر سے جھانکتا
کوئی سوال بھی نہیں
ملال کوئی ہے اگر
پسِ شعور
وقت کی صلیب پر
جھکا ہوا
سوال کوئی ہے اگر
برونِ سطح آب کو
ابھی سے اس کی کیا خبر …
ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں
کیسا حیلہ کروں
رات کٹتی نہیں
ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں
اندھی اُلفت کی بے تاب سی سرخوشی
دوڑتی ہے مرے جسم میں
بے بیاں وصل کی لذتیں
میرے احساس میں گل کھلاتی ہیں
شب کچھ ڈھلکتی ہے
اور ساتھ ہی
میری پلکیں بھی
خواب اور خواہش کی آغوش میں
ڈھلکی ڈھلکی سی ہیں
پر اچانک کہیں جاگتی ہے کوئی کپکپی
خوف کی زد میں آئے ہوئے
جان و دل
اِک کماں ایسے کھنچتے چلے جاتے ہیں
ایک سایہ کھرچتی ہوں اپنے بدن سے مگر
ایسا ممکن نہیں
کیسا حیلہ کروں
رات کٹتی نہیں
مجھ سے آ کے یہ کہتی ہے
اترو مری تیرگی میں جہاں
کوئی روزن نہیں
کوئی رستہ نہیں
ایک برزخ کھلا ہے مری روح میں
رات کٹتی نہیں
کیسا حیلہ کروں
رخت جاں باندھنے سے پہلے کچھ
بے نشاں، سرمئی مناظر نے
ڈبڈبائی اُداس آنکھوں سے
آخری بار مڑ کے دیکھا ہے
شام کی سرخ رُو حسیں دلہن
کاسنی رات کی پیالی میں
گھولتی جا رہی ہے رنگِ فراق
چل پڑے سست رو، تھکے ماندے
نیم خوابیدہ بادلوں کے مزار
اُن کے سائے میں اک دلِ ناسُود
لمبی، ویراں، کڑی مسافت سے
آرزو کی شکستگی سے چُور
ڈوب جائیں گے یونہی کچھ پل میں
پھر سے اِک دن کی روشنی کے سراغ
بادلوں کے سیہ مزاروں پر
ٹمٹمائیں گے ننھے ننھے چراغ
اور ہر بار کی طرح پھر سے
وقت کے تیرہ بخت سینے میں
گھُٹ کے رہ جائے گی صدائے نجات
راہِ آشوب سے تنِ خستہ
چاہ کر بھی کبھی نہ لوٹے گا …
ڈھلتے ڈھلتے
ایک رُوپہلے منظر نے کچھ سوچا …پلٹا
پگڈنڈی سنسان پڑی تھی
مٹیالی اور سرد ہوائیں
ہاتھ جھُلاتی شاخیں
رُوکھے سوکھے پتے
تنہا پیڑ پہ بیٹھے بیٹھے
چٹخ رہے تھے
ٹوٹ رہے تھے
خاک اُڑاتی پگڈنڈی پر
شام سمے کا دھندلا بادل
جھکنے لگا تھا
ڈھلتے ڈھلتے
ایک رُوپہلے منظر کی اُن بھید بھری
آنکھوں میں کوئی
جگنو چمکا …تارا ٹوٹا …وہم نہیں ہے
آج اُن کھوئی کھوئی
بوجھل آنکھوں میں
کوئی جگنو چمکا
تارا ٹوٹا
لحظہ بھر کو
وہم نہیں ہے …
کبھی تم سسکتی صداؤں کو سُن کر
بہت زرد، مدھم سی اُمید پر
درد کی گہری دلدل میں اترے؟
تپکتے ہوئے گرد رستوں
کٹھن، سرد لمحوں سے گزرے؟
دہکتی ہوئی رات کی کروٹوں میں
کسی خواب کی دھیمی دھن پر
سلگنے کی حسرت رہی ہو
کبھی ایک چبھتی ہوئی یاد دِل کو
حزیں کر گئی ہو
کسی سرپھرے جذب نے
اندھی راتوں میں پاگل کیا ہو؟
فقط ایک پل کے لیے
جیسے روتے ہوئے دل کو
دھڑکا لگا ہو
کبھی کالی راتوں کو
مدھم سُروں سے اُجالا
کبھی ٹوٹے بالوں، بچے سگرٹوں کو
چُنا اور سنبھالا
کبھی اُن نگاہوں کو تتلی لکھا ہو؟
کبھی اُن لبوں پر فسانہ کہا ہو؟
کڑی جان لیوا جدائی کا
بس ایک موسم سہا ہو
کبھی تم نے تھاما
بہت سہمے ہاتھوں کو
جیون کی
مشکل گھڑی میں
کسی ان کہی کو سنا ہو
گزرتے ہوئے وقت کی راکھ سے
کوئی موتی چُنا ہو
کبھی عمر بھر ایک رشتہ بُنا ہو
مگر پھر بھی اُتری ہیں
کیسی حسیں، دلربا ساعتیں
تُم پہ ساتوں جہاں مہرباں ہیں
اِدھر زخمی قدموں میں اب بھی
وہی درد کی بیڑیاں ہیں
وہی خشک صحرا،
وہی پیاسے، بھٹکے، بلکتے ہوئے
دل کی زخمی صدا ہے
میں حیران ہوں گر یہی ماجرا ہے
تو پھر مجھ سے میرا خدا ہی خفا ہے
نم زدہ نگاہوں میں
آہنی لکیروں کے
ڈولتے ہوئے سائے
پھیلتے ہوئے منظر
ڈگمگاتے قدموں سے
ٹوٹتے ہوئے تختے
سرسراتی سانسوں میں
تھرتھراتے ہونٹوں پر
ان کہی کی آہٹ ہے
جسم کے سمندر کی
موج موج کٹتی ہے
اور لہو اُچھلتا ہے
اور لہو تو اُچھلے گا
دلگداز لمحے سے
وقت کی طنابوں کو
تھام کر گزرنا ہے
زندگی کٹھن ہو گی
زندگی سے لڑنا ہے
دیر سے سہی لیکن
فیصلہ تو کرنا ہے
تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا
تو حیرت زدہ شام کی زرد کرنیں
کسی گمشدہ روشنی والے لمحے کو
پلٹا کے لانے کی دُھن میں
اندھیری گُپھا کو
بڑھی جا رہی تھیں
المناک پیڑوں کے سائے
سمٹ بھی چکے تھے
سبھی سلسلے، رسم وعدہ و رخصت
نمٹ بھی چکے تھے …
تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا
تو لہرا کے اُٹھتے تھے گمنام جھونکے
بہت اُلجھی شاخوں پہ رکھا ہوا
بوجھ جھڑنے لگا تھا
کسی شوق رفتہ، کسی رنج تازہ کا
اُس شام کے سانولے، سرد چہرے پہ
کوئی نشاں تک نہیں تھا
وہ لمحہ تھا جب
اُس گراں بار، دیرینہ خواہش کا دل میں
گُماں تک نہیں تھا …
پھسلتی نگاہوں میں بے تابیوں کا
دھواں تک نہیں تھا
تجھے آخری بار جب میں نے دیکھا
تو معمول کی ایک ساعت تھی
پر یہ ابھی تک کہیں ان زمانوں
کی آغوش میں جھولتی ہے …
دھیرے دھیرے بہنے والی
ایک سلونی شام عجب تھی
اُلجھی سلجھی خاموشی کی
نرم تہوں میں
سلوٹ سلوٹ بھید چھپا تھا
سردیلی مخمور ہوا میں
میٹھا میٹھا لمس گھُلا تھا
دھیرے دھیرے
خواب کی گیلی ریت پہ اُترے
درد کے منظر پگھل رہے تھے
خواہش کے گمنام جزیرے
ساحل پر پھیلی خوشبو کے
مرغولوں کو نگل رہے تھے
دھیرے دھیرے
جانے کون سے موسم کے
دو پھول کھلے تھے
شہد بھری سرگوشی سن کر
جھکے جھکے سے
ہونٹ ہنسے تھے
بڑھنے لگا تھا ایک انوکھا
سَن سَن کرتا
بے کل نغمہ
یاد نہیں ہے
کہاں گرے تھے
میری بالی
اس کا چشمہ
بوڑھے پیپل پہ بیٹھی ہوئی
ملگجی شام نے
جھک کے انگڑائی لی
ڈگمگائی ہوا
سر اُٹھایا کسی مُردہ پتے نے
شاخوں سے چمٹی ہوئی
ننھی چڑیوں کا ہنگام
تھمنے لگا
تم نہیں آئے تھے
وقت چلتا رہا
قطرہ قطرہ ٹپکتی رہی چاندنی
اور گرتے رہے
چاند کی زرد آنکھوں سے
اُلجھی ہوئی آس کے پیلے سکے
پگھلتی ہوئی رات کے …دو …پہر
لمحہ لمحہ منڈیروں پہ جمتے رہے
کچھ سلگتے ہوئے سائے
یادوں کی گدلائی الگن پہ
لٹکے رہے
ایک آہٹ تھی کیا
بڑھ کے دیکھا مگر
تم نہیں آئے تھے
کرچیوں سے بھری
دو نگاہیں لگی ہی رہیں
موڑ کے اس طرف
اَن چھوئے، اَدھ کِھلے
خواب رکھے رہے
رات ڈھلنے لگی
تم نہیں آئے تھے
تھکے تھکے سے پاؤں
دُور منزلوں کے سلسلے عجیب سے
وہ سامنے پڑاؤ بھی
مگر نہ جانے کیوں ہر ایک بار پھیلتے رہے ہیں
سامنے نگاہ کے
یہ رنگ ہیں کہ راستے
بڑھی ہے لہر کاٹتی ہے کلبلاتی ڈوریاں
یہ لہر درد کی ہے یا کچھ اور ہے
عجیب ہے
تھکے تھکے سے پاؤں
اندھے راستوں پہ بیکراں مسافتیں
بڑھاؤ ہمتیں، کوئی بھی گیت چھیڑ دو مگر رکو نہیں
کٹے پھٹے وجود کو کسی بھی تال پر چڑھاؤ
دھڑکنوں کو جوڑ لو
یہ گیت، تال، دھڑکنیں
یہ تیرگی کا، روشنی کا فرق اور فاصلہ عجیب ہے
یہ میں ہوں میری منحنی پکار سن کے
ڈولنے لگا ہے یہ جہان کہ رہا ہے وہم دیر سے
پکارتے رہے ہیں میرے ساتھ
میرے لوگ میرے ساتھ ہیں
کہ چل رہے ہیں گرد رنگ راستے
اُمڈ رہی ہیں بدلیاں
یہ گاڑھے گاڑھے بادلوں کے غول
گرد راستوں کا میل بھی عجیب ہے
میں قید ہوں کسی گھڑی کی پھیلتی خلاؤں میں
کہ تیرتا ہے وقت ڈولتا رہا ہے زندگی کے ساتھ ساتھ جسم کی گپھاؤں میں
عجیب ہے
یہ وقت، درد، راستہ
یہ جسم بھی یہ جان بھی
یہ زندگی کا سلسلہ
عجیب ہے …
تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے
رگوں میں لہو کی بلاخیز رفتار کیسے سنبھالے
بھلا ایسی مشکل گھڑی کون ٹالے
بہت تیز جلتی ہوئی ایک ساعت
مری سانس جُھلسا رہی ہے
کٹیلی گھڑی شام سے
بھولے بسرے زمانوں کا اندھا بدن
میرے سینے پہ دھرتی چلی جا رہی ہے
مرا جسم بے معنی حرفوں تلے
پگھلے لاوے بھرا ایک پتھر
مسلسل مری جان دہکا رہا ہے
مرا دل مگر کن زمانوں کی
ٹھنڈک کی جانب
کھنچا جا رہا ہے
سپیدی بھری، آخری، نرم ٹھنڈک
اُدھر ایک کونے میں چکرا رہی ہے
تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے …
بظاہر کہیں کوئی ہلچل نہیں ہے
حیاتِ رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے
بہت عام، بیکار، اُلجھے دنوں کی
ملائم سی گٹھڑی میں رکھی ہوئی
یہ فقط ایک بے نام سی دوپہر ہے
ہوا چل رہی ہے
نہ جانے کہاں
گہرے بے چین بادل کے ٹکڑے
اُڑے جا رہے ہیں
پریشان سڑکوں پہ بہتے ہوئے زرد پتے
فضا میں بکھرتا ہوا کچھ غبارِ مسلسل
ذرا پل دو پل کو
بہت دُور پتوں پہ ہنستا ہوا
تیز سورج
مگر پھر چمکتی ہوئی اِک کرن پر
جھپٹتے ہوئے گدلے بادل
کھلے آسماں پر ٹھہرتے نہیں ہیں
ہوا چلتی رہتی ہے رُکتی نہیں ہے
درختوں پہ شاخیں
اِدھر سے اُدھر ڈولتی ہیں
اِدھر سے اُدھر
میری چشم تصور میں اڑتے ہوئے چند ٹکڑے
لپکتے، جھپکتے خیالات کے میلے بادل
کہیں سطح دل پر ٹھہرتے نہیں ہیں
بظاہر جہاں کوئی ہلچل نہیں ہے
مگر یہ غبارِ مسلسل اُڑائے چلی جا رہی ہے
ہوا چلتی رہتی ہے رُکتی نہیں ہے
حیاتِ رواں اپنے مرکز سے چمٹی ہوئی ہے
مگر ایک بے نام سی دوپہر کے
سکوت نہاں میں
عجب بے کلی ہے …
پھر گھور اماوس
رات میں کوئی
دِیپ جلا
اِک دِھیمے دِھیمے
سناٹے میں
پھول ہلا
کوئی بھید کھلا
اور بوسیدہ
دِیوار پہ بیٹھی
یاد ہنسی
اِک ہُوک اُٹھی
اِک پتا ٹوٹا
سَر سَر کرتی ٹہنی سے
اِک خواب گرا
اور کانچ کی
درزوں سے
کرنوں کا
جال اُٹھا
کچھ لمحے سرکے
تاروں کی
زنجیر ہلی
شب ڈوب گئی …
وہم ہے یا
وہم ہے یا کل رات تمہاری
گہری آنکھوں کے پیچھے
اک جال تنا تھا
درد کے دھاگے کھنچتے تھے
شفاف فضا میں
لمحہ بھر کو
مرغولہ سا چکراتا تھا
کرب کا بادل
سسکی لے کر اُٹھتا تھا
اور پتھر کی دِیوار کو چُھو کر
لوٹ آتا تھا
خالی خالی ہاتھوں کو
تکتے تھے …
اورتنہا لگتے تھے
وہم ہے …یا
کل رات
کوئی کرچی سی حیراں پور پہ آ کے
ٹھہر گئی تھی
سانسوں کی زنجیر سے کٹ کے
مدھم سی اِک ہچکی
بوجھل رات کے دل میں اُتر گئی تھی
دیکھو تو کل رات کا منظر
کمرے کی خاموش فضا میں
گڑا ہوا ہے
وہم ہے یا کچھ اور ہے
کیا ہے …
خمار اُترے گا تو کھلے گا
ابھی تو لہروں پہ
بہتے جاؤ
سلگتے رنگوں کے زاویوں سے
بھنور اُٹھاؤ
حیات کے دوسرے سرے سے
بس ایک لمبا سا کش لگاؤ
دھواں اُڑاؤ
ابھی تو گہرے سنہرے پانی میں
کھنکھناتی ہنسی ملاؤ
نشہ بڑھاؤ
دہکتے غنچوں پہ
سبز جھیلوں پہ نظم لکھو
ابھی بہاروں کے گیت گاؤ
خمار اُترے گا تو
بلاخیز ساعتوں کی خبر ملے گی
خزاں نصیبوں کے قافلوں سے
گلاب لمحے گزر گئے تو پتہ چلے گا
اُجاڑ صحرا ہے زندگی کا
سفر کڑا ہے
خمار اُترے گا تو کھلے گا
الم زدہ، دلگداز لمحہ وہیں پڑا ہے
چاند بُجھ گیا لیکن
پورے چاند کی شب تھی
آج بھی شبستاں کے
راہ رو بھٹکتے تھے
چاندنی درختوں پر
نم گزیدہ جھونکوں کی
آہٹیں سجاتی تھی …
بہتے بہتے خوابیدہ
وقت کی نگاہیں جو
خواب کی ہتھیلی پر
اِک سوال بُنتی تھیں
اور تڑپ کے سردیلی
موج کپکپاتی تھی
دیر تک دریچوں سے
اِک صدا اُبھرتی تھی …
اِک صدا اُبھرتی تھی
اور ڈوب جاتی تھی
چاند بجھ گیا لیکن
بے نوا صداؤں کا
کھیل اب بھی جاری ہے
رات ڈھل گئی لیکن
دُور کے درختوں پر
درد کے ہیولوں کا
رقص اب بھی جاری ہے …
صبح کی دستک
وال کلاک نے
ٓآنکھیں ملتے ملتے سنی تھی
کمرے کے ساکت سینے میں
آخری منظر
قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا
جلتی ہوئی سانسوں کے سائے
دیواروں سے لپٹے ہوئے تھے
میز کی چکنی سطح پہ رکھی
دو آوازیں پگھل رہی تھیں
دو خوابوں کی گیلی تلچھٹ
خالی گلاس میں جمی ہوئی تھی
وقت کی گٹھڑی سے کھسکائے
سارے لمحے
اِک اِک کر کے
بیت چکے تھے
چپ تھے دونوں
لیکن پھر بھی
سادہ سی خاموش نظر کے
پیچھے کہیں ہیجان چھپا تھا
سینے کی مدھم لرزش میں
مانو کوئی طوفان بپا تھا
رُوح کے اندر جیسے کوئی
جاتے لمحے کو
جتنوں سے روک رہا تھا
اور پھر اس نے رخصت چاہی
آخری پل کی آخری مہلت میں
جب بھری بھری نگہ سے
ایک ستارہ چھلک رہا تھا
میں نے بھی پھر رخصت چاہی
رُکے ہوئے ہیں قافلے
کوئی لپک سی دُور سے
جگا رہی ہے خوف کے
پرانے زرد سلسلے
پکارتی ہیں اُس طرف سے
وحشتوں کی بدلیاں
بچی کھچی رفاقتوں کی
جھلملاتی تتلیاں
مرے پڑاؤ سے پرے
مری حدوں کے اُس طرف
بہت اندھیری رات میں
کھلی ہوئی ہیں غم گسار
ساعتوں کی ڈوریاں
الم نواز دھڑکنوں کے درمیاں
عجیب سی لکیر ہے
تو حاشیے کے اُس طرف
رُکی ہوئی،
جھکی ہوئی،
دُکھی ہوئی …
پکارتی ہے دُور سے
مجھے مرے وجود کی
صدا …!!! …نہیں
نہیں یہ میرا وہم ہے …
نظم نے پہلے پہل آنگن کے ایک کونے سے ننھی کونپل کے جیسے سر اٹھایا تو میں اس کے وجود سے یکسر انجان رہی ۔۔۔۔۔ پھر آنگن بدلتے رہے لیکن وہ کونپل ساتھ ساتھ سفر کرتی رہی۔۔۔ ہمیشہ کونوں میں سمٹی ہوئی، دیواروں سے لگی ہوئی ۔۔۔۔ پھر ایک روز میں نے اسے دیکھ بھی لیا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر حیرت رہی ۔۔۔ دلچسپی بھی ۔۔۔ اور پھر میں بھول گئی ۔۔۔۔ سفر بہت کڑا تھا ۔۔۔۔ اور درد اپنی بساط سے بھی باہر ۔۔۔۔۔ سارا وقت رشتوں کا ریشم بُنتے نکل جاتا لیکن ہر بار ساری بُنت کھل کر پھر ایک ڈھیر کی صورت اختیار کر جاتی سو یہ کوشش ہی ترک کر دی ۔۔۔۔ اوندھے ، سیدھے دن بے آہٹ بیت جاتے اور کھڑکیوں پر نئے پرانے موسم اپنی تصویریں دھرتے گزر جاتے ۔۔۔ تب نظم آنگن سے نکل کر میرے کمرے میں آنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ دکھتی رگیں سہلاتی ۔۔۔۔ ادھر ادھر کونوں میں سمٹے وجود سے گرد جھاڑتی ۔۔۔۔ سرگوشیاں کرتی ۔۔۔۔ پھرکوئی بارہ برس پہلے جب کھڑکی پر چلچلاتے موسم کی تصویردھری تھی اور میرا وجود درد سے دہراہوا جاتا تھا تو نظم نے مجھے اپنا دوست بنا لیا ۔۔۔۔ یہ بہت محفوظ رشتہ تھا ۔۔۔۔ ایسا ریشم جس کی بُنت کبھی واپس ڈھیر کی صورت اختیار نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ اب کی بار باہر کی دنیا کو ایک مدت بعد دوبارہ دیکھا تو میری یہ دوست میرے ساتھ تھی ۔۔۔ بھیڑ میں کھو جانے کا کوئی خدشہ نہیں تھا کہ اسے سب راستے پتہ تھے ۔۔۔۔ بادلوں ، پیڑوں ، پھولوں ، ہوائوں اور موسموں ، رنگوں اور خوشبوئوں کی باتیں ہمیں اچھی لگتیں ۔۔۔ لیکن اکثر یہ باتیں اندر چھپے کسی خوف یا درد کی ملاوٹ سے بھیگ جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔ یہ کچھ ایسے دن تھے جب کبھی کبھی مجھے لگتا کہ نظم میرے وجود سے پھوٹی ہو گی اور کبھی میں سوچتی کہ دراصل میں نے ہی اس کے بطن سے زندگی تلاش کی ہوگی ۔۔۔۔ اس مرحلے پر ہم دونوں شاید ایک ہی تھے ۔۔۔۔ ہمارے پاس کہنے کو زیادہ کچھ نہیں تھا۔۔۔ بس روز مرہ کی زندگی تھی ۔۔۔ حقیقی زندگی ۔۔۔ جہاں ہم دونوں سارا دن کام کاج کی مشقت میں گزارا کرتے اور رات دیر تک پتوں سے لپٹی ہوائوں کی سرگوشیوں میں چھوٹی چھوٹی سوچیں بنا کرتے ۔۔۔۔ اس لیے کہ ہم چھوٹے لوگ تھے جنہیں جو کرنا تھا خود ہی کرنا تھا ۔۔۔۔ ہم تنہا تھے ۔۔۔۔ پورے شہر میں یا کائنات میں یا کائنات سے ادھر ادھر کے سارے زمانوں میں تنہا ۔۔۔۔۔ ہم اداس تھے ۔۔۔۔ زندگی ہمارے لیے درد کا سب سے بڑا استعارہ تھی ۔۔۔۔ ہم خوشیاں نہیں ڈھونڈا کرتے تھے صرف یہ کوشش رہتی کہ درد کی شدت کسی طرح کم ہو جائے اور جس روز ایسا ممکن ہو جاتا ہم دونوں سیلیبریٹ کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ زندگی فضول لگتی اور اس کا نظام اس سے بھی فضول ۔۔۔۔۔اور اپنے وجود کا مسئلہ یکسر لاینجل ۔۔۔۔ کئی گتھیاں کھل کر ہی نہیں دیتی تھیں ۔۔۔۔ کتابوں میں محبت اور جذبوں کی باتیں پڑھنا عجیب لگتا تھا ۔۔۔۔ محبت ایسا پھیلا ہوا ، بہتا ہوا جذبہ کیسے قید کرتے ہوں گے لوگ۔۔۔۔ ہم دونوں نے تو اسے جب بھی گرفت میں لینا چاہا یہ ادھر ادھر پھسل جایا کرتا تھا ۔۔۔۔ اور ہمیں تو فورا ہی محبت ہو جاتی ۔۔۔ خزاں رسیدہ پتوں سے لے کر ہنستے ہوئے چہروں تک ہر شے سے ۔۔۔۔ مگر یہ کام اور بھی دردیلا تھا ۔۔۔۔ پتے پیروں تلے مسلے جاتے اور چہروں کی مسکراہٹوں میں تضحیک ابھر آتی ۔۔۔۔ ایسے میں ہم اپنی تکمیل کے لیے اندر کا رخ کیا کرتے ۔۔۔۔ وجود کے اندر کی دنیا کیسی پراسرار لگا کرتی ۔۔۔۔ سوچوں کی شکلیں بنتی بگڑتی رہتیں اور ہم بیٹھے ان سے کہانیاں بُنتے ۔۔۔۔ شعور اور نیم شعور کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے ۔۔۔۔ جسم کی سطح پر جیتے ہوئے۔۔۔۔ روح کے اندر گہرا اترتے ہوئے ۔۔۔۔۔ سب تجربے نظم نے کرنے سکھائے تھے ۔۔۔۔ ڈھیرا سا درد سہنا اوربس چلتے رہنا بھی ۔۔۔۔ فضول باتوں پر ہنسنا اور چھوٹے چھوٹے سہارے ڈھونڈنا بھی ۔۔۔۔ نظم کبھی کبھی مجھ سے روٹھ بھی جایا کرتی تھی ۔۔۔ اس کا جی چاہتا بادلوں سے پرے ایک خاص زاویے سے دنیا کو دیکھنے کا لیکن میں زیادہ تر اندر کے سناٹے سے الجھی رہتی ۔۔۔۔ درد رگوں میں گرہیں لگاتا اور میں بیٹھی انہیں کھولتی رہتی ۔۔۔۔۔ نظم کہتی کہ میں لاعلاج ہوں اورضرورت سے زیادہ قنوطیت پسند بھی۔۔۔۔ لیکن مجھے یہ سب پسند تھا ۔۔۔۔ میرے لیے یہی محفوظ راستہ تھا ۔۔۔۔ نظم اپنا آہنگ بلند کرنا چاہتی تھی آسمانوں میں پرواز کے لیے مچلا کرتی اور میں زمین میں اور گہرا دھنسنے کی کوشش کیا کرتی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ دراصل زندگی گزارنے کا کوئی نظریہ یا ڈھنگ میرے پاس تھا ہی نہیں ۔۔۔۔ بس یونہی جیسے خود رُو پودے ہوائوں کے تھپیڑے اور بارشوں کے شور سہتے سہتے پلتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔ میرے ساتھ رہتے نظم کا نصیب بھی یہی تھا سو یہ بھی بغیر نظریے کے پلتی رہی ۔۔۔۔۔ سارے تھپیڑے سہتی اور شور سنتی ہوئی۔۔۔۔۔ نظم خوبصورت نہیں تھی لیکن اس کی آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی ۔۔۔۔ ظالم کا اپنا سحر تھا۔۔۔۔ چپکے چپکے دل پر ہاتھ رکھ دینے والا۔۔۔۔ بے خواب چاندنی راتوں میں رقص کرتے کرتے ۔۔۔ خود فراموشی کے لمحات میں اس کا چہرہ زندگی کی تمتماہٹ سے جگمگا اٹھتا ۔۔۔ ایسے میں مجھے یہ بہت اچھی لگا کرتی تھی۔۔۔۔ پھر کبھی کبھی اس کے طفیل خودفراموشی کے چند لمحات مجھے میسر آ جاتے تو اور بھی اچھا لگتا۔۔۔ بس ہماری یہی کائنات رہی ہے ۔۔۔ سادہ اور چھوٹی ۔۔۔ دنیا کی پیچیدہ سیاست اور بڑے لوگوں کے کارناموں سے شاید ہمیں کبھی دلچسپی نہیں رہی۔۔۔۔ ہاں گلیوں ، محلوں ، دفتروں ، پارکوں ، سینما ہالوں اور سڑکوں پر بہتی ہوئی زندگی سے بارہا متاثر ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ حاشیے کے اس طرف جینے میں زیادہ مزہ تھا۔۔۔۔ یوں بارہ برس کی اس بے پناہ رفاقت کے صلے میں نظم کو دینے کے لیے میرے پاس اس سے علاوہ کیا ہے کہ میں اسے ایک جسم دے دوں یعنی یہ کتابی شکل ۔۔۔۔ ان سب چھوٹے بڑے خوابوں میں سے ایک خواب جو میں نے دیکھا نظم نے دیکھا اور ہمارے ساتھ کچھ اورآنکھیں بھی تھیں جنہوں نے بجھ جانے میں عجلت سے کام لیا۔۔
گلناز کوثر