زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

جاری رہے گلشن میں بیاں موسمِ گُل کا

باقی ہے یہی ایک نشاں موسمِ گُل کا
جاری رہے گلشن میں بیاں موسمِ گُل کا
جب پُھول مرے چاکِ گریباں پہ ہنسے تھے
لمحہ وہی گزرا ہے گراں موسمِ گُل کا
نادان گھٹاؤں کے طلب گار ہوئے ہیں
شعلوں کو بنا کر نگراں موسمِ گُل کا
سُوکھے ہوئے پتّوں کے جہاں ڈھیر ملے ہیں
دیکھا تھا وہیں سیلِ رواں موسمِ گُل کا
شکیب جلالی

مُرجھا گئے کھِل کے پُھول یارو

ہم آج ہیں پھر مَلُول یارو
مُرجھا گئے کھِل کے پُھول یارو
گزرے ہیں خزاں نصیب ادھر سے
پیڑوں پہ جمی ہے دُھول یارو
تا حدِّ خیال‘ لالہ و گُل
تا حدِّ نظر‘ ببُول یارو
جب تک کہ ہوس رہی گُلوں کی
کانٹے بھی رہے قبول یارو
ہاں ‘ کوئی خطا نہیں تمھاری
ہاں ‘ ہم سے ہوئی ہے بھول یارو
شکیب جلالی

نہیں ہے کوئی بھی اپنا مزاج داں لوگو

ہر ایک بات ہے منّت کشِ زباں لوگو
نہیں ہے کوئی بھی اپنا مزاج داں لوگو
کچھ اس طرح وہ حقائق کو سن کے چونک اٹھے
بکھر گئیں سرِ محفل پہیلیاں لوگو
مرے لبوں سے کوئی بات بھی نہیں نکلی
مگر تراش ،کیں تم نے کہانیاں لوگو
بہارِ نو بھی انہیں پھر سجا نہیں سکتی
بکھر گئی ہیں جو پھولوں کی پتّیاں لوگو
بڑا زمانہ ہوا آشیاں کو راکھ ہوۓ
مگر نگاہ ہے اب تک دھواں دھواں لوگو
خطا معاف کہ مے سے شکیبؔ منکر ہے
اسے عزیز ہیں دنیا کی تلخیاں لوگو
شکیب جلالی

دیوار و در پہ دیکھنا خونِ جگر کا رنگ

کچھ دن اگر یہی رہا دیوار و در کا رنگ
دیوار و در پہ دیکھنا خونِ جگر کا رنگ
بھولا نہیں ہوں مقتلِ امید کا سماں
تحلیل ہو رہا تھا شفق میں سحر کا رنگ
دنیا غریقِ شعبدہِ جام جم ہوئی
دیکھے گا کون خونِ دلِ کو زہ گر کا رنگ
الجھے ہوئے دھوئیں کی فضا میں ہے اک لکیر
کیا پوچھتے ہو شمع سرِ رہ گزر کا رنگ
دامانِ فصل گل پہ خزاں کی لگی ہے چھاپ
ذوقِ نظر پہ بار ہے برگ و ثمر کا رنگ
جمنے لگی شکیبؔ جو پلکوں پہ گردِ شب
آنکھوں میں پھیلنے لگا خوابِ سحر کا رنگ
شکیب جلالی

زخم کِھلتے ہیں ترے گاؤں سے دُور

میٹھے چشموں سے‘ خُنَک چھاؤں سے دُور
زخم کِھلتے ہیں ترے گاؤں سے دُور
سنگِ منزل نے لہو اُگلا ہے
دُور‘ ہم بادیہ پیماؤں سے دُور
کتنی شمعیں ہیں اسیرِ فانوس
کتنے یوسف ہیں زلیخاؤں سے دُور
کِشتِ امید سلگتی ہی رہی
ابر برسا بھی تو صحراؤں سے دُور
جَورِ حالات‘ بھلا ہو تیرا
چین ملتا ہے شناساؤں سے دُور
جنّتِ فکر بُلاتی ہے چلو
دَیر و کعبہ سے‘ کلیساؤں سے دُور
رقصِ آشفتہ سراں دیکھیں گے
دُور‘ ان انجمن آراؤں سے دُور
جستجو ہے درِّ یکتا کی‘ شکیبؔ
سیپیاں چُنتے ہیں دریاؤں سے دُور
شکیب جلالی

جلتے ہوئے چراغ تہِ آب دیکھتے

ساحل سے دُور جب بھی کوئی خواب دیکھتے
جلتے ہوئے چراغ تہِ آب دیکھتے
ہم نے فضول چھیڑ دی زخمِ نہاں کی بات
چُپ چاپ رنگِ خندہِ احباب دیکھتے
غم کی بس ایک موج نے جن کو ڈبو دیا
اے کاش وہ بھی حلقہِ گرداب دیکھتے
بیتے دنوں کے زخم کُریدے ہیں رات بھر
آئی نہ جن کو نیند وہ کیا خواب دیکھتے
کشکولِ شعرِتر لیے پھرتے نہ ہم‘ شکیبؔ
اس ریشمیں بدن پہ جو کمخواب دیکھتے
شکیب جلالی

کلیوں کو نہال کر گئے ہم

مانندِ صبا جدھر گئے ہم
کلیوں کو نہال کر گئے ہم
زنجیر بپا اگر گئے ہم
نغموں کی طرح بکھر گئے ہم
سورج کی کرن تھے جانے کیا تھے
ظلمت میں اتر اتر گئے ہم
جب بھی کوئی سنگِ راہ دیکھا
طوفاں کی طرح بپھر گئے ہم
چلنا تھا جہاں محال یارو
اس راہ سے بھی گزر گئے ہم
بن جائیں گی منزلیں وہیں پر
بھولے سے جہاں ٹھہر گئے ہم
ہنس ہنس کے گلے ملے قضا سے
تکمیلِ حیات کر گئے ہم
شکیب جلالی

میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا

مجھ سے ملنے شب غم اور تو کون آئے گا
میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا
ٹھہرو ٹھہرو مرے اصنامِ خیالی ٹھہرو
میرا دل گوشہِ تنہائی میں گھبرائے گا
لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو
زخم گہرا ہی سہی، زخم ہے ، بھر جائے گا
عزم پختہ ہی سہی ترکِ وفا کا لیکن
منتظر ہوں کوئی آ کر مجھے سمجھائے گا
آنکھ جھپکے نہ کہیں، راہ اندھیری ہی سہی
آگے چل کر وہ کسی موڑ پہ مل جائے گا
دل سا انمول رتن کون خریدے گا شکیبؔ
جب بکے گا تو یہ بے دام ہی بک جائے گا
شکیب جلالی

چاند ڈُوبا ہے تو سورج بھی اُبھر آئے گا

حُسنِ فردا‘ غمِ امروز سے ضَو پائے گا
چاند ڈُوبا ہے تو سورج بھی اُبھر آئے گا
آندھیوں میں بھی فروزاں ہے چراغِ اُمّید
خاک ڈالے سے یہ شُعلہ کہیں بُجھ جائے گا
کُو بہ کُو دام بچھے ہوں کہ کڑکتی ہو کماں
طائرِ دل‘ پرِ پرواز تو پھیلائے گا
توڑ کر حلقہِ شب‘ ڈال کے تاروں پہ کمند
آدمی عرصہِ آفاق پہ چھا جائے گا
ہم بھی دو چار قدم چل کے اگر بیٹھ گئے
کون پھر وقت کی رفتار کو ٹہرائے گا
راہ میں جس کی‘ دیا خونِ دل و جاں ہم نے
وہ حَسیں دَور بھی آئے گا‘ ضرور آئے گا
شکیب جلالی

مہکی ہوئی وہ چا درِ گُل بار کیا ہوئی!

شاخو! بھری بہار میں رقصِ برہنگی!
مہکی ہوئی وہ چا درِ گُل بار کیا ہوئی!
بے نغمہ و صدا ہے وہ بُت خانہِ خیال
کرتے تھے گفتگو جہاں پتّھر کے ہونٹ بھی
وہ پھر رہے ہیں زخم بہ پا آج دشت دشت
قدموں میں جن کے شاخِ گُلِ تر جھکی رہی
یوں بھی بڑھی ہے وُسعتِ ایوانِ رنگ و بُو
دیوارِ گلستاں درِ زنداں سے جا ملی
رعنائیاں چمن کی تو پہلے بھی کم نہ تھیں
اب کے مگر سجائی گئی شاخِ دار بھی
شکیب جلالی

کسی کی یاد کے جُگنو دھواں اُگلتے ہیں

ہواے شب سے نہ بُجھتے ہیں اور نہ جلتے ہیں
کسی کی یاد کے جُگنو دھواں اُگلتے ہیں
شبِ بہار میں مہتاب کے حسیں سائے
اُداس پآ کے ہمیں ‘ اور بھی مچلتے ہیں
اسیرِ دامِ جنوں ہیں ‘ ہمیں رہائی کہاں
یہ رنگ و بُو کے قفس اپنے ساتھ چلتے ہیں
یہ دل وہ کار گہِ مرگ و زیست ہے کہ جہاں
ستارے ڈوبتے ہیں ‘ آفتاب ڈھلتے ہیں
خود اپنی آگ سے شاید گداز ہوجائیں
پرائی آگ سے کب سنگ دل پگھلتے ہیں
شکیب جلالی

پتھر کے پیرہن سے سراپا نکالیے

رعنائیِٔ نگاہ کو قالب میں ڈھالیے
پتھر کے پیرہن سے سراپا نکالیے
گزرا ہے دل سے جو رمِ آہو سا اک خیال
لازم ہے اس کے پاؤں میں زنجیر ڈالیے
دل میں پرائے درد کی اک ٹیس بھی نہیں
تخلیق کی لگن ہے تو زخموں کو پالیے
یہ کہر کا ہجوم درِ دل پہ تابہ کے
بامِ یقیں سے ایک نظر اس پہ ڈالیے
احساس میں رچائیے قوسِ قزح کے رنگ
ادراک کی کمند ستاروں پہ ڈالیے
ہاں کوزہ ہائے گل پہ ہے تنقید کیا ضرور
گرہو سکے تو خاک سے خورشید ڈھالیے
امید کی کرن ہو کہیں حسرتوں کے داغ
ہر دم نگار خانہِ دل کو اجالئے
شاید کہ ان کی سمت بڑھے کوئی دستِ شوق
روندے ہوئے گلاب فضا میں اچھالیے
ہاں کوہِ شب کو کاٹ کے لانا ہے جوئے نور
ہاں بڑھ کے آفتاب کا تیشہ سنبھالیے
وجدان کی ترنگ کا مصرف بھی ہو شکیبؔ
شاعر کی عظمتوں کو ہنسی میں نہ ٹالیے
شکیب جلالی

دل کا کنول بجھا تو شہر‘ تیرہ و تار ہو گئے

پردہِ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھوگئے
دل کا کنول بجھا تو شہر‘ تیرہ و تار ہو گئے
ایک ہمیں ہی اے سحر‘ نیند نہ آئی رات بھر
زانوئے شب پہ رکھ کر سر‘ سارے چراغ سوگئے
راہ میں تھے ببول بھی‘ رودِ شرر بھی‘ دُھول بھی
جانا ہمیں ضرور تھا‘ گُل کے طواف کوگئے
دیدہ ورو بتائیں کیا‘ تم کو یقیں نہ آئے گا
چہرے تھے جن کے چاند سے‘ سینے میں داغ بوگئے
داغِ شکست دوستو‘ دیکھو کسے نصیب ہو
بیٹھے ہوئے ہیں تیز رَو‘ سُست خرام تو گئے
اہلِ جنوں کے دل شکیبؔ‘ نرم تھے موم کی طرح
تیشہِ یاس جب چلا‘ تودہِ سنگ ہو گئے
شکیب جلالی

اک کارگہِ شیشہ گراں ہیں تری آنکھیں

آئینہِ جذباتِ نہاں ہیں تری آنکھیں
اک کارگہِ شیشہ گراں ہیں تری آنکھیں
سر چشمہِ افکار جواں ہیں تری آنکھیں
تابندہ خیالات کی جاں ہیں تری آنکھیں
اندازِ خموشی میں ہے گفتار کا پہلو
گویا نہ سہی، چپ بھی کہاں ہیں تری آنکھیں
جاؤں گا کہاں توڑ کے زنجیرِ وفا کو
ہر سو مری جانب نگراں ہیں تری آنکھیں
کہنا ہے وہی جس کی توقع ہے تجھے بھی
مت پوچھ مرے دل کی زباں ہیں تری آنکھیں
پلکوں کے جھروکوں سے سبو جھانک رہے ہیں
امید گہِ تشنہ لباں ہیں تری آنکھیں
یوں ہی تو نہیں امڈی چلی آتی ہیں غزلیں
پہلو میں مرے ، زمزمہ خواں ہیں تری آنکھیں
شکیب جلالی

خیمہِ گُل کے پاس ہی‘ دجلہِ خوں بھی چاہیے

موجِ صبا رواں ہوئی‘ رقصِ جنوں بھی چاہیے
خیمہِ گُل کے پاس ہی‘ دجلہِ خوں بھی چاہیے
کشمکشِ حیات ہے‘ سادہ دلوں کی بات ہے
خواہشِ مرگ بھی نہیں ‘ زہرِ سکوں بھی چاہیے
ضربِ خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں
فکرِ چمن کے ہم رکاب‘ جوشِ جنوں بھی چاہیے
نغمہِ شوق خوب تھا‘ ایک کمی ہے مُطربہ!
شعلہِ لَب کی خیر ہو‘ سوزِ دُروں بھی چاہیے
اتنا کرم تو کیجیے‘ بُجھتا کنول نہ دیجیے
زخمِ جگر کے ساتھ ہی دردِ فزوں بھی چاہیے
دیکھیے ہم کو غور سے‘ پوچھیے اہلِ جور سے
روحِ جمیل کے لیے‘ حالِ زُبوں بھی چاہیے
شکیب جلالی

بدل رہا ہے جنوں زاویے اُڑانوں کے

کہاں رُکیں گے مُسافر نئے زمانوں کے
بدل رہا ہے جنوں زاویے اُڑانوں کے
یہ دل کا زخم ہے‘ اک روز بھر ہی جائے گا
شگاف پُر نہیں ہوتے فقط چٹانوں کے
چھلک چھلک کے بڑھا میری سمت نیند کا جام
پگھل پگھل کے گرے قفل قید خانوں کے
ہَوا کے دشت میں تنہائی کا گزر ہی نہیں
مرے رفیق ہیں مُطرب‘ گئے زمانوں کے
کبھی ہمارے نقوشِ قدم کو ترسیں گے
وہی جو آج ستارے ہیں آسمانوں کے
شکیب جلالی

قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جُنوں

کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوں
قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جُنوں
نورِ منزل مجھے نصیب کہاں
میں ابھی حلقہِ غبار میں ہوں
یہ ہے تاکید: سننے والوں کی
واقعہ خوشگوار ہو تو کہوں
کن اندھیروں میں کھو گئی ہے سحر
چاند تاروں پہ مار کر شب خوں
تم جسے نورِ صبح کہتے ہو
میں اسے گردِ شام بھی نہ کہوں
اب تو خونِ جگر بھی ختم ہوا
میں کہاں تک خلا میں رنگ بھروں
جی میں آتا ہے اے رہِ ظلمت
کہکشاں کو مروڑ کر رکھ دوں
شکیب جلالی

کچھ نہیں ہے‘ مگر اس گھر کا مقدّر یادیں

دستکیں دیتی ہیں شب کو درِ دل پر یادیں
کچھ نہیں ہے‘ مگر اس گھر کا مقدّر یادیں
ڈھونڈتی ہیں تری مہکی ہوئی زلفوں کی بہار
چاندنی رات کے زینے سے اتر کر یادیں
عشرتِ رفتہ کو آواز دیا کرتی ہیں
ہر نئے لمحے کی دہلیز پہ جا کر یادیں
رنگ بھرتے ہیں خلاؤں میں ہیولے کیا کیا
پیش کرتی ہیں عجب خواب کا منظر یادیں
نہ کسی زلف کا عنبر‘ نہ گُلوں کی خوشبو
کر گئی ہیں مری سانسوں کو معطّر یادیں
کم نہیں رات کے صحرا سے‘ مرے دل کی فضا
اور آکاش کے تاروں سے فزوں تر یادیں
مشعلِ غم نہ بُجھاؤ‘ کہ شکیبؔ‘ اس کے بغیر
راستہ گھر کا بُھلا دیتی ہیں اکثر یادیں
شکیب جلالی

رات تو کٹ گئی‘ درد کی سیج پر

اب یہ ویران دن‘ کیسے ہو گا بسر
رات تو کٹ گئی‘ درد کی سیج پر
بس یہیں ختم ہے پیار کی رہ گزر
دوست! اگلا قدم کچھ سمجھ سوچ کر
اس کی آوازِ پا تو بڑی بات ہے
ایک پتّہ بھی کھڑکا نہیں رات بھر
گھر میں طوفان آئے زمانہ ہُوا
اب بھی کانوں میں بجتی ہے زنجیرِ در
اپنا دامن بھی اب تو میسّر نہیں
کتنے ارزاں ہوئے آنسوؤں کے گُہر
یہ شکستہ قدم بھی ترے ساتھ تھے
اے زمانے ٹھہر! اے زمانے ٹھہر!
اپنے غم پر تبسّم کا پردہ نہ ڈال
دوست! ہم ہیں سوار ایک ہی ناؤ پر
شکیب جلالی

بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے

سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہے
بقدرِ ظرف ہر اک آدمی سمندر ہے
ابھر کے ڈوب گئی کشتیِٔ خیال کہیں
یہ چاند ایک بھنور، چاندنی سمندر ہے
جو داستاں نہ بنے دردِ بیکراں ہے وہی
جو آنکھ ہی میں رہے وہ نمی سمندر ہے
نہ سوچیے تو بہت مختصر ہے سیلِ حیات
جو سوچیے تو یہی زندگی سمندر ہے
تو اس میں ڈوب کے شاید ابھر سکے نہ کبھی
مرے حبیب مری خامشی سمندر ہے
شکیب جلالی

کچھ اس کا بھی سدِّباب یارو

تارے ہیں نہ ماہتاب یارو
کچھ اس کا بھی سدِّباب یارو
آنکھوں میں چتائیں جل رہی ہیں
ہونٹوں پہ ہے آب آب یارو
تاحدِ خیال ریگِ صحرا
تاحدِ نظر سراب یارو
رہبر ہی نہیں ہے ساتھ اپنے
رہزن بھی ہیں ہم رکاب یارو
شعلے سے جہاں لپک رہے ہیں
برسے گا وہیں سحاب یارو
شکیب جلالی

رہتا ہے اپنے نور میں سورج چُھپا ہُوا

وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہُوا
رہتا ہے اپنے نور میں سورج چُھپا ہُوا
اے روشنی کی لہر‘ کبھی تو پلٹ کے آ
تجھ کو بُلا رہا ہے دریچہ کُھلا ہُوا
سیراب کس طرح ہو زمیں دور دور کی
ساحل نے ہے ندی کو مقیّد کیا ہُوا
اے دوست! چشمِ شوق نے دیکھا ہے بارہا
بجلی سے تیرا نام گھٹا پر لکھا ہُوا
پہچانتے نہیں اسے محفل میں دوست بھی
چہرہ ہو جس کا گردِ اَلَم سے اَٹا ہُوا
اس دَور میں خلوص کا کیا کام اے شکیبؔ
کیوں کر چلے! بساط پہ مہرہ پِٹا ہُوا
شکیب جلالی

میں بھی کس امتحان سے نکلا

آگ کے درمیان سے نکلا
میں بھی کس امتحان سے نکلا
پھر ہوا سے سلگ اٹھے پتے
پھر دھواں گلستان سے نکلا
جب بھی نکلا ستارہِ امید
کہر کے درمیان سے نکلا
چاندنی جھانکتی ہے گلیوں میں
کوئی سایہ مکان سے نکلا
ایک شعلہ پھر ایک دھوئیں کی لکیر
اور کیا خاکدان سے نکلا
چاند جس آسمان میں ڈوبا
کب اسی آسمان سے نکلا
یہ گہر جس کو آفتاب کہیں
کس اندھیرے کی کان سے نکلا
شکر ہے اس نے بے وفائی کی
میں کڑے امتحان سے نکلا
لوگ دشمن ہوئے اسی کے شکیبؔ
کام جس مہربان سے نکلا
شکیب جلالی

لے اُڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں

اب میسّر نہیں فرصت کے وہ دن رات ہمیں
لے اُڑی جانے کہاں صرصرِ حالات ہمیں
آج وہ یُوں نگہِ شوق سے بچ کر گزرے
جیسے یاد آئے کوئی بُھولی ہوئی بات ہمیں
کیسے اُڑتے ہوئے لمحوں کا تعاقب کیجے
دوستو! اب تو یہی فکر ہے دن رات ہمیں
نہ سہی‘ کوئی ہجومِ گُل و لالہ‘ نہ سہی
دشت سے کم بھی نہیں کُنجِ خیالات ہمیں
وہ اگر غیر نہ سمجھے تو کوئی بات کرے
دلِ ناداں سے بہت سی ہیں شکایات ہمیں
دھوپ کی لہر ہے تُو‘ سایہِ دیوار ہیں ہم
آج بھی ایک تعلق ہے ترے ساتھ ہمیں
رنگ و مستی کے جزیروں میں لیے پھرتے ہیں
اس کی پائل سے چُرائے ہوئے نغمات ہمیں
شکیب جلالی

دامن بچا کے گزرو‘ یادوں کی رہ گزر سے

اس خاکد اں میں اب تک باقی ہیں کچھ شررسے
دامن بچا کے گزرو‘ یادوں کی رہ گزر سے
ہر ہر قدم پہ آنکھیں ‘ تھیں فرشِ راہ، لیکن
وہ روشنی کا ہالا‘ اُترا نہ بام پر سے
کیوں جادہِ وفا پر‘ مشعل بکف کھڑے ہو
اس سیلِ تیرگی میں ‘ نکلے گا کون گھر سے
کس دشت کی صدا ہو‘ اتنا مجھے بتا دو
ہر سُو بچھے ہیں رستے‘ آؤں تو میں کدھر سے
اُجڑا ہُوا مکاں ہے یہ دل‘ جہاں پہ ہر شب
پرچھائیاں لپٹ کر روتی ہیں بام و در سے
شکیب جلالی

کسی کے ہاتھ نہ آئی مگر گلاب کی باس

اتر گیا تنِ نازک سے پتّیوں کا لباس
کسی کے ہاتھ نہ آئی مگر گلاب کی باس
اب اپنے جسم کے سائے میں تھک کے بیٹھ رہو
کہیں درخت نہیں راستے میں ‘ دُور نہ پاس
ہزار رنگ کی ظلمت میں لے گئی مجھ کو
بس اک چراغ کی خواہش‘ بس اک شرار کی آس
تمھارے کام نہ آئے گا جو بھی دانا ہے
ہر ایک شخص پہ کیوں کر رہے ہو اپنا قیاس
کسی کی آس تو ٹوٹی‘ کوئی تو ہار گیا
کہ نیم باز دریچوں میں روشنی ہے اُداس
وہ کالے کوس کی دوری اب ایک خواب سی ہے
تم آگئے ہو‘ مگر کب نہ تھے ہمارے پاس
یہ کیا طلسم ہے‘ جب سے کنارِ دریا ہوں
شکیبؔ‘ اور بھی کچھ بڑھ گئی ہے رُوح کی پیاس
شکیب جلالی

اب تو اپنے در و بام بھی‘ جانتے ہیں پرایا مجھے

تونے کیا کیا نہ اے زندگی!دشت و دَر میں پھرایا مجھے
اب تو اپنے در و بام بھی‘ جانتے ہیں پرایا مجھے
اور بھی کچھ بھڑکنے لگا‘ میرے سینے کا آتش کدہ
راس تجھ بِن نہ آیا کبھی‘ سبز پیڑوں کا سایہ مجھے
ان نئی کونپلوں سے مرا‘ کیا کوئی بھی تعلق نہ تھا
شاخ سے توڑ کر اے صبا !خاک میں کیوں ملایا مجھے
درد کا دیپ جلتا رہا‘ دل کا سونا پگھلتا رہا
ایک ڈوبے ہوئے چاند نے‘ رات بھرخوں رلایامجھے
اب مرے راستے میں کہیں ‘ خوفِ صحرا بھی حائل نہیں
خشک پتّے نے آوارگی کا قرینہ سکھایا مجھے
مدّتوں رُوئے گُل کی جھلک کو ترستا رہا میں ‘ شکیبؔ
اب جو آئی بہار‘ اس نے صحنِ چمن میں نہ پایا مجھے
شکیب جلالی

میں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے

موج غم اس لئے شاید نہیں گزری سر سے
میں جو ڈوبا تو نہ ابھروں گا کبھی ساگر سے
اور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا
آئنہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر بر سے
کتنی گم سم مرے آنگن سے صبا گزری ہے
اک شرر بھی نہ اڑا روح کی خاکستر سے
پیار کی جو سے گھر گھر ہے چراغاں ورنہ
اک بھی شمع نہ روشن ہو ہوا کے ڈر سے
اڑتے بادل کے تعاقب میں پھرو گے کب تک
درد کی دھوپ میں نکلا نہیں کرتے گھر سے
کتنی رعنائیاں آباد ہیں میرے دل میں
اک خرابہ نظر آتا ہے مگر باہر سے
وادیِٔ خواب میں اس گل کا گزر کیوں نہ ہوا
رات بھر آتی رہی جس کی مہک بستر سے
طعنِ اغیار سنیں آپ خموشی سے شکیبؔ
خود پلٹ جاتی ہے ٹکرا کے صدا پتھر سے
شکیب جلالی

مجھ پہ مائل بہ کرم ہے‘ تو دلِ دریا دے

جو بھی ہے طالَبِ یک ذرّہ‘ اُسے صحرا دے
مجھ پہ مائل بہ کرم ہے‘ تو دلِ دریا دے
کب سے ہُوں حسرتیِ یک نگہِ گرم‘ کہ جو
محفلِ شوق کے آداب مجھے سمجھا دے
خلشِ غم سے مری جاں پہ بنی ہے‘ جیسے
ریشمی شال کو کانٹوں پہ کوئی پَھیلا دے
رختِ جاں کوئی لُٹانے ادھر آبھی نہ سکے
ایسے مشکل تو نہیں دشتِ وفا کے جادے
بیتی یادوں کا تقاضا تو بجا ہے‘ لیکن
گردشِ شام و سحَر کیسے کوئی ٹہرا دے
مجھ کو زنداں میں بھی مل جائے گا عنوانِ جُنوں
نکہتِ گُل کو کریں قید خیاباں زادے
شکیب جلالی

ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے

اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے
پینا ہو تو اک جرعہِ زہراب بہت ہے
ہم تشنہ دہن تہمتِ بادہ نہیں رکھتے
اشکوں سے چراغاں ہے شبِ زیست، سو وہ بھی
کوتاہیِٔ مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے
یہ گردِ رہِ شوق ہی جم جائے بدن پر
رسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے
ہر گام پہ جگنو سا چمکتا ہے جو دل میں
ہم اس کے سوا مشعلِ جادہ نہیں رکھتے
سرخی نہیں پھولوں کی تو زخموں کی شفق ہے
دامانِ طلب ہم کبھی سادہ نہیں رکھتے
شکیب جلالی

کیا کیا نہ رنگ بھر دیے افسونِ شام نے

منظر تھا اک اُجاڑ نگاہوں کے سامنے
کیا کیا نہ رنگ بھر دیے افسونِ شام نے
اس حادثے کی‘ نخوتِ ساقی کو کیا خبر
بادہ پیا کہ زہر پیا تشنہ کام نے
چہرے سے اجنبی تھا وہ میرے لیے مگر
سب راز اس کے‘ کہہ دیے طرزِ خرام نے
نکلا نہیں ہوں آج بھی اپنے حصار سے
حدِّ نگاہ آج بھی ہے میرے سامنے
تھے حادثوں کے وار تو کاری‘ مگر مجھے
مرنے نہیں دیا خلشِ انتقام نے
اک سانس کی طناب جو ٹوٹی تو اے شکیبؔ
دوڑے ہیں لوگ جسم کے خیمے کو تھامنے
شکیب جلالی

آگ جب دل میں سلگتی تھی‘ دھواں کیوں نہ ہوا

غمِ اُلفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہُوا
آگ جب دل میں سلگتی تھی‘ دھواں کیوں نہ ہوا
سیلِ غم رُکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے
جوشِ گریہ تھا تو میں گریہ کُناں کیوں نہ ہُوا
کہتے ہیں ‘ حُسن خدوخال کا پابند نہیں
ہر حَسیں شے پہ مجھے تیرا گماں کیوں نہ ہُوا
دشت بھی اس کے مکیں ‘ شہر بھی اس میں آباد
تو جہاں آن بسے دل وہ مکاں کیوں نہ ہوا
تو وہی ہے جو مرے دل میں چُھپا بیٹھا ہے
اک یہی راز کبھی مجھ پہ عیاں کیوں نہ ہُوا
یہ سمجھتے ہوئے‘ مقصودِ نظر ہے تُو ہی
میں ترے حُسن کی جانب نگراں کیوں نہ ہُوا
ا س سے پہلے کہ ترے لمس کی خوشبو کھو جائے
تجھ کو پالینے کا ارمان جواں کیوں نہ ہُوا
تپتے صحرا تو مری منزلِ مقصود نہ تھے
میں کہیں ہمسفرِ اَبرِرواں کیوں نہ ہُوا
اجنبی پر تو یہاں لطف سِوا ہوتا ہے
میں بھی اس شہر میں بے نام و نشاں کیوں نہ ہُوا
نارسائی تھی مرے شوق کا حاصل تو‘ شکیبؔ
حائلِ راہ کوئی سنگِ گراں کیوں نہ ہُوا
شکیب جلالی

اگر ہو اہلِ نگاہ یارو‘ چٹان کے آرپار دیکھو

ملا نہیں اِذنِ رقص جن کو‘ کبھی تو وہ بھی شرار دیکھو
اگر ہو اہلِ نگاہ یارو‘ چٹان کے آرپار دیکھو
یہ جان لینا‘ وہاں بھی کوئی کسی کی آمد کا منتظر تھا
کسی مکاں کے جو بام و در پر بجھے دِیوں کی قطار دیکھو
اگرچہ بے خانماں ہیں لیکن ہمارا ملنا نہیں ہے مشکل
ادھر ہی صحرا میں دوڑ پڑنا‘ جدھر سے اٹھتا غبار دیکھو
عجب نہیں ہے پہاڑیوں پر شَفَق کا سونا پگھل رہا ہو
مکانِ تیرہ کے رَوزنوں میں یہ نور کے آبشار دیکھو
جو اَبرِ رحمت سے ہو نہ پایا‘ کیا ہے وہ کام آندھیوں نے
نہیں ہے خار و گیاہ باقی‘ چمک اُٹھا رہ گزار‘ دیکھو
وہ راگ خاموش ہو چکا ہے‘ سنانے والا بھی سوچکا ہے
لرز رہے ہیں مگر ابھی تک شکستہ بَربط کے تار‘ دیکھو
اک آہ بھرنا شکیبؔ‘ ہم سے خزاں نصیبوں کو یاد کر کے
کلائیوں میں جو ٹہنیوں کی‘ مہکتی کلیوں کے ہار دیکھو
شکیب جلالی

کاش میں پیڑوں کا سایہ ہوتا

جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا
کاش میں پیڑوں کا سایہ ہوتا
تو جو اس راہ سے گزرا ہوتا
تیرا ملبوس بھی کالا ہوتا
میں گھٹا ہوں، نہ پَون ہوں، نہ چراغ
ہم نشیں میرا کوئی کیا ہوتا
زخم عریاں تو نہ دیکھے کوئی
میں نے کچھ بھیس ہی بدلا ہوتا
کیوں سفینے میں چھپاتا دریا
گر تجھے پار اترنا ہوتا
بن میں بھی ساتھ گئے ہیں سائے
میں کسی جا تو اکیلا ہوتا
مجھ سے شفّاف ہے سینہ کس کا
چاند اس جھیل میں اترا ہوتا
اور بھی ٹوٹ کے آتی تری یاد
میں جو کچھ دن تجھے بھولا ہوتا
راکھ کر دیتے جلا کر شعلے
یہ دھواں دل میں نہ پھیلا ہوتا
کچھ تو آتا مری باتوں کا جواب
یہ کنواں اور جو گہرا ہوتا
نہ بکھرتا جو فضا میں نغمہ
سینہِ نَے میں تڑپتا ہوتا
اور کچھ دور تو چلتے مرے ساتھ
اور اک موڑ تو کاٹا ہوتا
تھی مقدّر میں خزاں ہی تو شکیبؔ
میں کسی دشت میں مہکا ہوتا
شکیب جلالی

ہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیں

جب تک غمِ جہاں کے حوالے ہوئے نہیں
ہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیں
کہتا ہے آفتاب‘ ذرا دیکھنا کہ ہم
ڈُوبے تھے گہری رات میں ‘ کالے ہوئے نہیں
چلتے ہو سینہ تان کے دھرتی پہ کس لیے
تم آسماں تو سر پہ سنبھالے ہوئے نہیں
انمول وہ گُہر ہیں جہاں کی نگاہ میں
دریا کی جو تہوں سے نکالے ہوئے نہیں
طے کی ہے ہم نے صورتِ مہتاب راہِ شب
طولِ سفر سے پاؤں میں چھالے ہوئے نہیں
ڈس لیں تو ان کے زہر کا آسان ہے اُتار
یہ سانپ آستین کے پالے ہوئے نہیں
تیشے کا کام ریشہِ گُل سے لیا‘ شکیبؔ
ہم سے پہاڑ کاٹنے والے ہوئے نہیں
شکیب جلالی

اُونچی ہوں فصیلیں تو ہَوا تک نہیں آتی

کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
اُونچی ہوں فصیلیں تو ہَوا تک نہیں آتی
شاید ہی کوئی آسکے اس موڑ سے آگے
اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی
وہ گُل نہ رہے‘ نکہتِ گُل خاک ملے گی
یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی
اس شورِ تلاطم میں کوئی کس کو پکارے
کانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی
خوددار ہوں ‘ کیوں آؤں درِ اہلِ کرم پر
کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی
اس دشت میں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو
پیڑوں سے جہاں چَھن کے ضیا تک نہیں آتی
یا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں
یا میرے بلانے سے صبا تک نہیں آتی
کیا خشک ہُوا روشنیوں کا وہ سمندر
اب کوئی کرن‘ آبلہ پا تک نہیں آتی
چُھپ چُھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوتِ گُل میں
مہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی
یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا!
ٹوٹی ہوئی قبروں سے صدا تک نہیں آتی
بہتر ہے‘ پلٹ جاؤ سیہ خانہِ غم سے
اس سرد گپھا میں تو ہوا تک نہیں آتی
شکیب جلالی

کیا کیا نہ عکس تیر رہے تھے سراب میں

اتریں عجیب روشنیاں رات خواب میں
کیا کیا نہ عکس تیر رہے تھے سراب میں
کب سے ہیں ایک حرف پہ نظریں جمی ہوئی
وہ پڑھ رہا ہوں جو نہیں لکھا کتاب میں
پانی نہیں کہ اپنے ہی چہرے کو دیکھ لوں
منظر زمیں کے ڈھونڈتا ہوں ماہتاب میں
پھر تیرگی کے خواب سے چونکا ہے راستہ
پھر روشنی سی دوڑ گئی ہے سحاب میں
کب تک رہے گا روح پہ پیراہنِ بدن
کب تک ہوا اسیر رہے گی حباب میں
یوں آئنہ بدست ملی پربتوں کی برف
شرما کے دھوپ لوٹ گئی آفتاب میں
جینے کے ساتھ موت کا ہے ڈر لگا ہوا
خشکی دکھائی دی ہے سمندر کو خواب میں
گزری ہے بار بار مرے سر سے موجِ خشک
ابھرا ہوا ہوں ڈوب کے تصویرِ آب میں
اک یاد ہے کہ چھین رہی ہے لبوں سے جام
اک عکس ہے کہ کانپ رہا ہے شراب میں
چوما ہے میرا نام لبِ سرخ سے شکیبؔ
یا پھول رکھ دیا ہے کسی نے کتاب میں
شکیب جلالی

پیش آتے ہیں رُعونت سے جفا کار یہاں

عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقد ار یہاں
پیش آتے ہیں رُعونت سے جفا کار یہاں
کشتیِ زیست سلامت ہے نہ پتوار یہاں
موج درموج ہیں سو رنگ کے منجدھار یہاں
سرپٹک کر درِ زنداں پہ صبا نے یہ کہا
ہے دریچہ‘ نہ کوئی روزنِ دیوار یہاں
عہد و پیمانِ وفا‘ پیار کے نازک بندھن
توڑ دیتی ہے زر و سیم کی جھنکار یہاں
ننگ و ناموس کے بکتے ہوئے انمول رتن
لَب و رخسار کے سجتے ہوئے بازار یہاں
سرخیِ دامنِ گُل کس کو میّسر آئی؟
اپنے ہی خوں میں نہائے لَب و رُخسار یہاں
ہم سفر چھوٹ گئے‘ راہنما رُوٹھ گئے
یوں بھی آسان ہوئی منزلِ دشوار یہاں
تیرگی ٹوٹ پڑی‘ زور سے بادل گرجا
بجھ گئی سہم کے قندیلِ رُخِ یار یہاں
کتنے طوفان اُٹھے‘ کتنے ستارے ٹوٹے
پھر بھی ڈُوبا نہیں اب تک دلِ بیدار یہاں
میرے زخمِ کفِ پا چومنے آئے گی بہار
میں اگر مر بھی گیا وادیِ پُرخار! یہاں
شکیب جلالی

دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا
دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا
لگتا تھا بے کراں مجھے صحرا میں آسماں
پہونچا جو بستیوں میں تو خانوں میں بٹ گیا
یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثر
یا اتنا نرم دل کہ رگِ گل سے کٹ گیا
بانہوں میں آ سکا نہ حویلی کا اک ستون
پتلی میں میری آنکھ کی صحرا سمٹ گیا
اب کون جائے کوئے ملامت کو چھوڑ کر
قدموں سے آ کے اپنا ہی سایہ لپٹ گیا
گنبد کا کیا قصور اسے کیوں کہوں برا
آیا جدھر سے تیر، ادھر ہی پلٹ گیا
رکھتا ہے خود سے کون حریفانہ کشمکش
میں تھا کہ رات اپنے مقابل ہی ڈٹ گیا
جس کی اماں میں ہوں وہ ہی اکتا گیا نہ ہو
بوندیں یہ کیوں برستی ہیں، بادل تو چھٹ گیا
وہ لمحہِ شعور جسے جانکنی کہیں
چہرے سے زندگی کے نقابیں الٹ گیا
ٹھوکر سے میرا پاؤں تو زخمی ہوا ضرور
رستے میں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گیا
اک حشر سا بپا تھا مرے دل میں اے شکیبؔ
کھولیں جو کھڑکیاں تو ذرا شور گھٹ گیا
شکیب جلالی

سُورج ہوں ‘ میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ

مُرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ
سُورج ہوں ‘ میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ
ہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں
جلتے ہوئے پروں سے اُڑا ہوں ‘ مجھے بھی دیکھ
عالم میں جس کی دھوم تھی‘ اس شاہ کار پر
دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ‘ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
بچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں
اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ
کیا شاخِ با ثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو
نظریں اُٹھا شکیبؔ‘ کبھی سامنے بھی دیکھ
شکیب جلالی

اپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے

اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھے
اپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھے
جب تک رہی جگر میں لہو کی ذرا سی بوند
مٹھی میں اپنی بند سمندر لگا مجھے
مُرجھا گیا جو دل میں اجالے کا سرخ پھول
تاروں بھرا یہ کھیت بھی بنجر لگا مجھے
اب یہ بتا کہ روح کے شعلے کا کیا ہے رنگ
مرمر کا یہ لباس تو سندر لگا مجھے
کیا جانیے کہ اتنی اداسی تھی رات کیوں
مہتاب اپنی قبر کا پتھر لگا مجھے
آنکھوں کو بند کر کے بڑی روشنی ملی
مدھم تھا جو بھی نقش، اجاگر لگا مجھے
یہ کیا کہ دل کے دیپ کی لَو ہی تراش لی
سورج اگر ہے ، کرنوں کی جھالر لگا مجھے
صدیوں میں طے ہوا تھا بیاباں کا راستہ
گلشن کو لوٹتے ہوئے پل بھر لگا مجھے
میں نے ا سے شریکِ سفر کر لیا شکیبؔ
اپنی طرح سے چاند جو بے گھر لگا مجھے
شکیب جلالی

صحرا میں لوگ آئے ہیں دیوار و در کے ساتھ

یادیں ہیں اپنے شہر کی اہل سفر کے ساتھ
صحرا میں لوگ آئے ہیں دیوار و در کے ساتھ
منظر کو دیکھ کر پس منظر بھی دیکھیے
بستی نئی بسی ہے پرانے کھنڈر کے ساتھ
سائے میں جان پڑ گئی دیکھا جو غور سے
مخصوص یہ کمال ہے اہلِ نظر کے ساتھ
اک دن ملا تھا بام پہ سورج کہیں جسے
الجھے ہیں اب بھی دھوپ کے ڈورے کگر کے ساتھ
اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں
اک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ
اس مرحلے کو موت بھی کہتے ہیں دوستو
اک پل میں ٹوٹ جائیں جہاں عمر بھر کے ساتھ
میری طرح یہ صبح بھی فنکار ہے شکیبؔ
لکھتی ہے آسماں پہ غزل آب زر کے ساتھ
شکیب جلالی

یہ سنّاٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائے

خموشی بول اُٹّھے‘ ہر نظر پیغام ہو جائے
یہ سنّاٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائے
ستارے مشعلیں لے کر مجھے بھی ڈھونڈنے نکلیں
میں رستہ بھول جاؤں ‘ جنگلوں میں شام ہو جائے
میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں
خود اپنی چاپ سُن کر لرزہ بر اندام ہو جائے
مثال ایسی ہے اس دورِ خرد کے ہوش مندوں کی
نہ ہو دامن میں ذرّہ اور صحرا نام ہو جائے
شکیبؔ! اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
شکیب جلالی

بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو
بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو
رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں
اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو
اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئی
کیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو
کتنا ہی بے کنار سمندر ہو پھر بھی دوست
رہتا ہے بے قرار ندی کے ملاپ کو
پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں
پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو
تعریف کیا ہو قامت دلدار کی شکیبؔ
تجسیم کر دیا ہے کسی نے الاپ کو
شکیب جلالی

مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
نہ اتنی تیز چلے سر پھری ہوا سے کہو
شجر پہ ایک ہی پتّا دکھائی دیتا ہے
برا نہ مانیے لوگوں کی عیب جوئی کا
انہیں تو دن کو بھی سایا دکھائی دیتا ہے
یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
وہیں پہنچ کے گرائیں گے بادباں اپنے
وہ دور کوئی جزیرہ دکھائی دیتا ہے
وہ الوداع کا منظر، وہ بھیگتی پلکیں
پسِ غبار بھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے
مری نگاہ سے چھپ کر کہاں رہے گا کوئی
کہ اب تو سنگ بھی شیشہ دکھائی دیتا ہے
سمٹ کے رہ گئے آخر پہاڑ سے قدم بھی
زمیں سے ہر کوئی اونچا دکھائی دیتا ہے
کھلی ہے دل میں کسی کے بدن کی دھوپ شکیبؔ
ہر ایک پھول سنہرا دکھائی دیتا ہے
شکیب جلالی

ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح

تیز آندھیوں میں اڑتے پر وبال کی طرح
ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح
کیوں کر کہوں کہ درپئے آزار ہے وہی
جو آسماں ہے سر پہ مرے ڈھال کی طرح
یوں بے سبب تو کوئی انہیں پوجتا نہیں
کچھ تو ہے پتھروں میں خد و خال کی طرح
کیا کچھ کیا نہ خود کو چھپانے کے واسطے
عریانیوں کو اوڑھ لیا شال کی طرح
اب تک مرا زمین سے رشتہ ہے استوار
رہنِ ستم ہوں سبزہِ پامال کی طرح
میں خود ہی جلوہ ریز ہوں، خود ہی نگاہِ شوق
شفاف پانیوں پہ جھکی ڈال کی طرح
ہر موڑ پر ملیں گے کئی راہ زن شکیبؔ
چلیے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح
شکیب جلالی

میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت

وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت
میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت
کسی کے سر پہ کبھی ٹوٹ کرا گرا ہی نہیں
اس آسماں نے ہوا میں قدم جمائے بہت
نہ جانے رت کا تصرف تھا یا نظر کا فریب
کلی وہی تھی مگر رنگ جھلملائے بہت
ہوا کا رخ ہی اچانک بدل گیا ورنہ
مہک کے قافلے صحرا کی سمت آئے بہت
یہ کائنات ہے میری ہی خاک کا ذرہ
میں اپنے دشت سے گزارا تو بھید پائے بہت
جو موتیوں کی طلب نے کبھی اداس کیا
تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بہت
بس ایک رات ٹھہرنا ہے کیا گلہ کیجے
مسافروں کو غنیمت ہے یہ سرائے بہت
جمی رہے گی نگاہوں پہ تیرگی دن بھر
کہ رات خواب میں تارے اتر کے آئے بہت
شکیبؔ کیسی اڑان، اب وہ پر ہی ٹوٹ گئے
کہ زیرِ دام جب آئے تھے ، پھڑپھڑائے بہت
شکیب جلالی

جو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیں

غمِ دل حیطہِ تحریر میں آتا ہی نہیں
جو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیں
اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے
سب کا اس دور میں یہ حال ہے ، میرا ہی نہیں
برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے
مَیں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کے بیٹھا ہی نہیں
اک کرن تھام کے میں دھوپ نگر تک پہنچا
کون سا عرش ہے جس کا کوئی زینہ ہی نہیں
کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید
آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں
بوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اٹھائے گزرا
کوئی اس شہر میں سستانے کو ٹھہرا ہی نہیں
سایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم
تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں
موتی کیا کیا نہ پڑے ہیں تہِ دریا لیکن
برف لہروں کی کوئی توڑنے والا ہی نہیں
اس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے
خانہِ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں
حائلِ راہ تھے کتنے ہی ہوا کے پر بت
تو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہی نہیں
یاد کے دائرے کیوں پھیلتے جاتے ہیں شکیبؔ
اس نے تالاب میں کنکر ابھی پھینکا ہی نہیں
شکیب جلالی

بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اُڑان پر

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اُڑان پر
آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہُو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتا
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
یارو! میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر
جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دُور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
حق بات آ کے رُک سی گئی تھی کبھی‘ شکیبؔ
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر
شکیب جلالی

مُرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں

میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
مُرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں
سوچو تو سِلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
صحرا کی بُود و باش ہے‘ اچھی نہ کیوں لگے
سُوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں
چمکے نہیں نظر میں ابھی نقش دُور کے
مصروف ہوں ابھی عملِ اِنعکاس میں
دھوکے سے اس حسیں کو اگر چُوم بھی لیا
پاؤ گے دل کا زہر لَبوں کی مٹھاس میں
تارہ کوئی رِدائے شبِ ابر میں نہ تھا
بیٹھا تھا میں اداس بیابانِ یاس میں
جُوئے روانِ دشت! ابھی سُوکھنا نہیں
ساون ہے دُور اور وہی شدّت ہے پیاس میں
رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہُوا
پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں
کانٹوں کی باڑ پھاند گیا تھا مگر‘ شکیبؔ
رستہ نہ مل سکا مجھے پھولوں کی باس میں
شکیب جلالی

دوستو‘ پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پر

درد کے موسم کا کیا ہو گا اثر انجان پر
دوستو‘ پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پر
آج تک اس کے تعاقب میں بگولے ہیں رَواں
اَبر کا ٹکڑا کبھی برسا تھا ریگستان پر
میں جو پَربت پر چڑھا‘ وہ اور اُونچا ہو گیا
آسماں جُھکتا نظر آیا مجھے میدان پر
کمرے خالی ہو گئے‘ سایوں سے آنگن بھر گیا
ڈُوبتے سورج کی کرنیں جب پڑیں دالان پر
اب یہاں کوئی نہیں ہے‘ کس سے باتیں کیجیے
یہ مگر چُپ چاپ سی تصویر آتشدان پر
آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے
تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر
بس چلے تو اپنی عریانی کو اس سے ڈھانپ لوں
نیلی چادر سی تنی ہے جو کُھلے میدان پر
وہ خموشی انگلیاں چٹخا رہی تھی‘ اے شکیبؔ
یا کہ بوندیں بج رہی تھیں رات روشن دان پر
شکیب جلالی

گماں گزرتا ہے‘ یہ شخص دوسرا ہے کوئی

کنارِ آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
گماں گزرتا ہے‘ یہ شخص دوسرا ہے کوئی
ہَوا نے توڑ کے پتّہ زمیں پہ پھینکا ہے
کہ شب کی جھیل میں پتّھر گرا دیا ہے کوئی!
بٹا سکے ہیں پڑوسی کسی کا درد کبھی!
یہی بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئی
درخت راہ بتائیں ہلا ہلا کر ہاتھ
کہ قافلے سے مُسافر بچھڑ گیا ہے کوئی
چُھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا ہے چاند
کسی کے ساتھ سمندر میں ڈُوبتا ہے کوئی
یہ آسمان سے ٹوٹا ہُوا ستارہ ہے
کہ دشتِ شب میں بھٹکتی ہوئی صدا ہے کوئی!
مکان اور نہیں ہے‘ بدل گیا ہے مکیں
افق وہی ہے مگر چاند دوسرا ہے کوئی
فصیلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حُدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
شکیبؔ‘ دیپ سے لہرا رہے ہیں پلکوں پر
دیارِ چشم میں کیا آج رَت جگا ہے کوئی!
شکیب جلالی

پستی سے ہم کنار ملے کوہ سار بھی

آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اُتار بھی
پستی سے ہم کنار ملے کوہ سار بھی
آخر کو تھک کے بیٹھ گئی اِک مقام پر
کچھ دور میرے ساتھ چلی رہ گزار بھی
دل کیوں دھڑکنے لگتا ہے ابھرے جو کوئی چاپ
اب تو نہیں کسی کا مجھے انتظار بھی
جب بھی سُکوتِ شام میں آیا ترا خیال
کچھ دیر کو ٹھہر سا گیا آبشار بھی
کچھ ہو گیا ہے دھوپ سے خاکستری بدن
کچھ جم گیا ہے راہ کا مجھ پر غبار بھی
اس فاصلوں کے دشت میں رہبر وہی بنے
جس کی نگاہ دیکھ لے صدیوں کے پار بھی
اے دوست‘ پہلے قرب کا نشّہ عجیب تھا
میں سُن سکا نہ اپنے بدن کی پکار بھی
رستہ بھی واپسی کا کہیں بن میں کھو گیا
اوجھل ہوئی نگاہ سے ہرنوں کی ڈار بھی
کیوں رو رہے ہو راہ کے اندھے چراغ کو!
کیا بجھ گیا ہوا سے لہو کا شرار بھی؟
کچھ عقل بھی ہے باعثِ توقیر‘ اے شکیبؔ
کچھ آ گئے ہیں بالوں میں چاندی کے تار بھی
شکیب جلالی

وہ رینگنے لگی کشتی‘ وہ بادبان کُھلا

وہ دُوریوں کا رہِ آب پر نشان کُھلا
وہ رینگنے لگی کشتی‘ وہ بادبان کُھلا
مرے ہی کان میں سرگوشیاں سُکوت نے کیں
مرے سوا بھی کسی سے یہ بے زبان کُھلا
سمجھ رہا تھا ستارے جنھیں ‘ وہ آنکھیں ہیں
مری طرف نِگراں ہیں کئی جہان‘ کُھلا
مرا خزانہ ہے محفوظ میرے سینے میں
میں سو رہوں گا یونہی چھوڑ کر مکان کُھلا
ہر آن میرا نیا رنگ ہے یوں ہی‘ نیا چہرہ
وہ بھید ہوں جو کسی سے نہ میری جان‘ کُھلا
جزا کہیں کہ سزا‘ اس کو بال و پَر والے
زمیں سکڑتی گئی‘ جتنا آسمان کُھلا
لہو لہو ہوں سلاخوں سے سر کو ٹکرا کر
شکیبؔ‘ بابِ قفس‘ کیا کہوں ‘ کس آن کُھلا
شکیب جلالی

کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں ؟

خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جُھک کے کھڑکی میں
کبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میں ؟
یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے
گزر ہُوا ہے مرا کس اُجاڑ بستی میں !
جُھکی چٹان‘ پھسلتی گرفت‘ جُھولتا جسم
میں اب گرا ہی گرا تنگ و تار گھاٹی میں
زمانے بھر سے نرالی ہے آپ کی منطِق
ندی کو پار کیا کس نے الٹی کشتی میں
جلائے کیوں ! اگر اتنے ہی قیمتی تھے خطوط
کریدتے ہو عبث راکھ اب انگیٹھی میں
عجب نہیں جو اُگیں یاں درخت پانی کے
کہ اشک بوئے ہیں شب بھر کسی نے دھرتی میں
مری گرفت میں آ کر نِکل گئی تِتلی
پروں کے رنگ مگر رہ گئے ہیں مُٹھّی میں
چلو گے ساتھ مرے‘ آگہی کی سرحد تک؟
یہ رہ گزار اترتی ہے گہرے پانی میں
میں اپنی بے خبری سے‘ شکیبؔ‘ واقف ہوں
بتاؤ پیچ ہیں کتنے تمھاری پگڑی میں
شکیب جلالی

مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا

وہی جھکی ہوئی بیلیں، وہی دریچہ تھا
مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا
میں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے
وہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا
قریب تیر رہا تھا بطخوں کا ایک جوڑا
میں آب جو کے کنارے اداس بیٹھا تھا
شب سفر تھی قبا تیرگی کی پہنے ہوئے
کہیں کہیں پہ کوئی روشنی کا دھبا تھا
بنی نہیں جو کہیں پر، کلی کی تربت تھی
سنا نہیں جو کسی نے ، ہوا کا نوحہ تھا
یہ آڑی ترچھی لکیریں بنا گیا ہے کون
میں کیا کہوں مرے دل کا ورق تو سادا تھا
میں خاکداں سے نکل کر بھی کیا ہوا آزاد
ہر اک طرف سے مجھے آسماں نے گھیرا تھا
اتر گیا ترے دل میں تو شعر کہلایا
میں اپنی گونج تھا اور گنبدوں میں رہتا تھا
ادھر سے بار ہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی
کہ زیرِ سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا
وہ اس کا عکس بدن تھا کہ چاندنی کا کنول
وہ نیلی جھیل تھی یا آسماں کا ٹکڑا تھا
میں ساحلوں میں اترا کر شکیبؔ کیا لیتا
ازل سے نام مرا پانیوں پہ لکھا تھا
شکیب جلالی

یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگی

شفق جو رُوے سحر پر گلال ملنے لگی
یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگی
اسی لیے تو ہوا رو پڑی درختوں میں
ابھی میں کھِل نہ سکا تھا کہ رُت بدلنے لگی
اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہُوا
زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی
کسی کا جسم اگر چھُو لیا خیال میں بھی
تو پور پور مری‘ مثلِ شمع جلنے لگی
میں ناپتا چلا قدموں سے اپنے سائے کو
کبھی جو دشتِ مسافت میں دھوپ ڈھلنے لگی
مری نگاہ میں خواہش کا شائبہ بھی نہ تھا
یہ برف سی ترے چہرے پہ کیوں پگھلنے لگی
ہَوا چلی سرِ صحرا‘ تو یوں لگا‘ جیسے
ردائے شام مرے دوش سے پھسلنے لگی
کہیں پڑا نہ ہو پَرتَو بہارِ رفتہ کا
یہ سبز بوند سی پلکوں پہ کیا مچلنے لگی
نہ جانے کیا کہا اس نے بہت ہی آہستہ
فضا کی ٹھہری ہوئی سانس پھر سے چلنے لگی
جو دل کا زہر تھا کاغذ پہ سب بکھیر دیا
پھر اپنے آپ طبیعت مری سنبھلنے لگی
جہاں شجر پہ لگا تھا تبر کا زخم‘ شکیبؔ
وہیں پہ دیکھ لے‘ کونپل نئی نکلنے لگی
شکیب جلالی

جتنے اس پیڑ کے پھل تھے‘ پسِ دیوار گرے

آ کے پتّھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
جتنے اس پیڑ کے پھل تھے‘ پسِ دیوار گرے
ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کُھلے پانی کی
آنکھ جھپکی بھی نہیں ‘ ہاتھ سے پتوار گرے
مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں
جس طرح سایہِ دیوار پہ دیوار گرے
تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط
یہ ستارے مرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے
کیا ہَوا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی تھی
کیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گرے
دیکھ کر اپنے دروبام‘ لرز جاتا ہوں
میرے ہم سائے میں جب بھی کوئی دیوار گرے
وقت کی ڈور خدا جانے کہاں سے ٹوٹے
کس گھڑی سر پہ یہ لٹکی ہوئی تلوار گرے
ہم سے ٹکرا گئی خود بڑھ کے اندھیرے کی چٹان
ہم سنبھل کر جو بہت چلتے تھے‘ ناچار گرے
کیا کہوں دیدہِ تر‘ یہ تو مرا چہرہ ہے
سنگ کٹ جاتے ہیں ‘ بارش کی جہاں دھار گرے
ہاتھ آیا نہیں کچھ رات کی دلدل کے سوا
ہائے کس موڑ پہ خوابوں کے پرستار گرے
وہ تجلّی کی شعاعیں تھیں کہ جلتے ہوئے تیر
آئنے ٹوٹ گئے‘ آئنہ بردار گرے
دیکھتے کیوں ہو شکیبؔ! اتنی بلندی کی طرف
نہ اٹھایا کرو سر کو کہ یہ دستار گرے
شکیب جلالی

ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا
ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی
فسانہِ جگرِ لخت لخت ایسا تھا
ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے
چٹخ کے ٹوٹ گیا، دل کا سخت ایسا تھا
یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک
کوئی نہ سہہ سکے ، لہجہ کرخت ایسا تھا
کہاں کی سیس نہ کی توسنِ تخیّل پر
ہمیں تو یہ بھی سلیماں کے تخت ایسا تھا
ادھر سے گزرا تھا ملکِ سخن کا شہزادہ
کوئی نہ جان سکا ساز و رخت ایسا تھا
شکیب جلالی

چشمِ رمز آشنا، قلبِ عقدہ کشا، اک ذرا سی توجہ اِدھر چاہیے

خود سے غافل بہت دیر ہم رہ چکے اب ہمیں کچھ ہماری خبر چاہیے
چشمِ رمز آشنا، قلبِ عقدہ کشا، اک ذرا سی توجہ اِدھر چاہیے
مستقل دل میں موجود ہے اک چبھن، اب نہ وہ خوش دلی ہے نہ ویسا سخن
مضطرب ہے طبیعت بہت ان دنوں، کچھ علاج اس کا اے چارہ گر چاہیے
چاک عہدِ تمنا کے سب سل گئے، ہجر کے ساز سے دل کے سُر مل گئے
بس یہی ٹھیک ہے کاتبِ زندگی، عمر باقی اسی طرز پر چاہیے
ذوقِ تخلیق کی آبیاری کہاں، ہم کہاں اور یہ ذمہ داری کہاں
حسبِ توفیق محوِ سخن ہیں مگر، یہ نہیں جانتے کیا ہنر چاہیے
ہر کسی کو گلہ بیش و کم ہے یہی، آدمی کا ہمیشہ سے غم ہے یہی
جو ملا اُس کی ایسی ضرورت نہ تھی، جو نہیں مل سکا وہ مگر چاہیے
رنگ و خوشبو کا سیلاب کس کام کا، ایک لمحہ تو ہے عمر کے نام کا
یہ نظارا بہ قدرِ نظر چاہیے، یہ مہک بس ہمیں سانس بھر چاہیے
نخلِ دل کی ہر اک شاخ بے جان ہے، تازگی کا مگر پھر بھی امکان ہے
زندگی کی ذرا سی رمق چاہیے، اب نفس کا یہاں سے گزر چاہیے
کام کچھ خاص ایسا یہاں پر نہیں، قرض بھی اب کوئی جسم و جاں پر نہیں
یعنی اپنی طرف واپسی کے لیے، اب ہمیں صرف اذنِ سفر چاہیے
لفظ کافی نہیں ہیں سفر کے لیے، اس دیارِ سخن میں گزر کے لیے
عاجزی چاہیے، آگہی چاہیے، دردِ دل چاہیے، چشمِ تر چاہیے
آپ کی در بہ در جبہ سائی کہاں، میرؔ کی خاکِ پا تک رسائی کہاں
آپ کو خلعتِ سیم و زر چاہیے، وہ بھی کچھ وقت سے پیشتر چاہیے
عرفان ستار

اک تازہ زخم کی خواہش ہے اک صدمہ کم کرنے کے لیے

پھر خون میں وحشت رقصاں ہے تجدیدِ ستم کرنے کے لیے
اک تازہ زخم کی خواہش ہے اک صدمہ کم کرنے کے لیے
ہم دن بھر دنیا داری میں ہنس ہنس کے باتیں کرتے ہیں
پھر ساری رات پگھلتے ہیں اک اشک رقم کرنے کے لیے
وہ وصل کے جس نے ہم دونوں کو ایسے بے بنیاد کیا
اب فرصت ہے آ مل بیٹھیں اُس وصل کا غم کرنے کے لیے
اک کاری زخم کی چاہت نے کیا کیا نہ ہمیں گلزار کیا
ہم کس کس سے منسوب ہوئے اک ہجر بہم کرنے کے لیے
انسان کے جینے مرنے کے مجبوری کے مختاری کے
یہ سارے کھیل ضروری ہیں تعمیرِ عدم کرنے کے لیے
عرفان ستار

کچھ بھی میرے سِوا یہاں نہ رہے

یہ زمیں اور آسماں نہ رہے
کچھ بھی میرے سِوا یہاں نہ رہے
میں ہی اول بھی اور آخر بھی
کوئی بھی میرے درمیاں نہ رہے
بس معانی ہوں، لفظ کھو جائیں
روح رہ جائے، جسم و جاں نہ رہے
میری یکسوئی میں پڑے نہ خلل
"میں رہوں اور یہ جہاں نہ رہے”
مہرباں آج مجھ پہ ہے جو نظر
عین ممکن ہے کل کلاں نہ رہے
ہاں بلا سے مری، رہے نہ وجود
نہیں رہتا عدم بھی، ہاں نہ رہے
سوچتا ہوں خموش ہو جاؤں
اور یہ حرفِ رائگاں نہ رہے
کاش چھا جائے ایک ابرِ اماں
اور کوئی بھی بے اماں نہ رہے
اک سہارا۔ ہے بے یقینوں کا
کیا کریں وہ اگر گماں نہ رہے
بات کیسی جو سننے والا نہ ہو
راز کیسا جو رازداں نہ رہے
وہی ہوتا ہے رائگاں کہ جو ہو
نہ رہوں میں تو یہ زیاں نہ رہے
زخم تو سارے بھر ہی جاتے ہیں
بات تب ہے اگر نشاں نہ رہے
ہے وہاں ماں، یہاں مرے بچے
اب رہے دل کہاں، کہاں نہ رہے
زخمِ دل کو زبان مل جائے
درد ناقابلِ بیاں نہ رہے
کیا خبر کس گھڑی چلے آندھی
اور سر پر یہ سائباں نہ رہے
شہرِ دام و درم کی تم جانو
اہلِ دل تو کبھی وہاں نہ رہے
ان دنوں ہے یہاں، مگر عرفان
بس چلے تو کبھی یہاں نہ رہے
عرفان ستار

جہاں پہ تُو بھی نہیں تھا وہاں بھی زندہ رہے

بہت خجل ہیں کہ ہم رائگاں بھی زندہ رہے
جہاں پہ تُو بھی نہیں تھا وہاں بھی زندہ رہے
عجیب شرط ہے اس بے یقیں مزاج کی بھی
کہ تُو بھی پاس ہو تیرا گماں بھی زندہ رہے
تجھے یہ ضد ہے مگر اس طرح نہیں ہوتا
کہ تُو بھی زندہ رہے داستاں بھی زندہ رہے
وہ کون لوگ تھے جن کا وجود جسم سے تھا
یہ کون ہیں جو پسِ جسم و جاں بھی زندہ رہے
جو یہ نہ ہو تو سخن کا کوئی جواز نہیں
ضمیر زندہ رہے تو زباں بھی زندہ رہے
یہ کائنات فقط منفعت کا نام نہیں
یہاں پہ کوئی برائے زیاں بھی زندہ رہے
عدم میں جو بھی نہیں تھا وہ سب وجود میں تھا
یہ ہم ہی تھے جو کہیں درمیاں بھی زندہ رہے
عرفان ستار

ہمارے چاروں طرف روشنی ملال کی ہے

ہر ایک شکل میں صورت نئی ملال کی ہے
ہمارے چاروں طرف روشنی ملال کی ہے
ہم اپنے ہجر میں تیرا وصال دیکھتے ہیں
یہی خوشی کی ہے ساعت، یہی ملال کی ہے
ہمارے خانہءِ دل میں نہیں ہے کیا کیا کچھ
یہ اور بات کہ ہر شے اُسی ملال کی ہے
ابھی سے شوق کی آزردگی کا رنج نہ کر
کہ دل کو تاب خوشی کی نہ تھی، ملال کی ہے
کسی کا رنج ہو، اپنا سمجھنے لگتے ہیں
وبالِ جاں یہ کشادہ دلی ملال کی ہے
نہیں ہے خواہشِ آسودگیءِ وصل ہمیں
جوازِ عشق تو بس تشنگی ملال کی ہے
گزشتہ رات کئی بار دل نے ہم سے کہا
کہ ہو نہ ہو یہ گھٹن آخری ملال کی ہے
رگوں میں چیختا پھرتا ہے ایک سیلِ جنوں
اگرچہ لہجے میں شائستگی ملال کی ہے
عجیب ہوتا ہے احساس کا تلون بھی
ابھی خوشی کی خوشی تھی، ابھی ملال کی ہے
یہ کس امید پہ چلنے لگی ہے بادِ مُراد؟
خبر نہیں ہے اِسے، یہ گھڑی ملال کی ہے
دعا کرو کہ رہے درمیاں یہ بے سخنی
کہ گفتگو میں تو بے پردگی ملال کی ہے
تری غزل میں عجب کیف ہے مگر عرفان
درُونِ رمز و کنایہ کمی ملال کی ہے
عرفان ستار

مہک اُداسی ہے، بادِ صبا اُداسی ہے

عجب ہے رنگِ چمن، جا بجا اُداسی ہے
مہک اُداسی ہے، بادِ صبا اُداسی ہے
نہیں نہیں، یہ بھلا کس نے کہہ دیا تم سے؟
میں ٹھیک ٹھاک ہوں، ہاں بس ذرا اُداسی ہے
میں مبتلا کبھی ہوتا نہیں اُداسی میں
میں وہ ہوں جس میں کہ خود مبتلا اُداسی ہے
طبیب نے کوئی تفصیل تو بتائی نہیں
بہت جو پوچھا تو اتنا کہا، اُداسی ہے
گدازِ قلب خوشی سے بھلا کسی کو ملا؟
عظیم وصف ہی انسان کا اُداسی ہے
شدید درد کی رو ہے رواں رگِ جاں میں
بلا کا رنج ہے، بے انتہا اُداسی ہے
فراق میں بھی اُداسی بڑے کمال کی تھی
پسِ وصال تو اُس سے سِوا اُداسی ہے
تمہیں ملے جو خزانے، تمہیں مبارک ہوں
مری کمائی تو یہ بے بہا اُداسی ہے
چھپا رہی ہو مگر چھپ نہیں رہی مری جاں
جھلک رہی ہے جو زیرِ قبا اُداسی ہے
مجھے مسائلِ کون و مکاں سے کیا مطلب
مرا تو سب سے بڑا مسئلہ اُداسی ہے
فلک ہے سر پہ اُداسی کی طرح پھیلا ہُوا
زمیں نہیں ہے مرے زیرِ پا، اُداسی ہے
غزل کے بھیس میں آئی ہے آج محرمِ درد
سخن کی اوڑھے ہوئے ہے ردا، اُداسی ہے
عجیب طرح کی حالت ہے میری بے احوال
عجیب طرح کی بے ماجرا اُداسی ہے
وہ کیفِ ہجر میں اب غالباً شریک نہیں
کئی دنوں سے بہت بے مزا اُداسی ہے
وہ کہہ رہے تھے کہ شاعر غضب کا ہے عرفان
ہر ایک شعر میں کیا غم ہے، کیا اُداسی ہے
عرفان ستار

اک طبیعت ہے کہ آزارِ ہنر کھینچتی ہے

ایک دنیا کی کشش ہے جو اُدھر کھینچتی ہے
اک طبیعت ہے کہ آزارِ ہنر کھینچتی ہے
ایک جانب لیے جاتی ہے قناعت مجھ کو
ایک جانب ہوسِ لقمۂ تر کھینچتی ہے
اک بصیرت ہے کہ معلوم سے آگے ہے کہیں
اک بصارت ہے کہ جو حدِ نظر کھینچتی ہے
ہجر کا عیش کہاں ہے مری قسمت میں کہ اب
زندگی رنج بہ اندازِ دگر کھینچتی ہے
ایک منزل ہے جو امکان سے باہر ہے کہیں
کیا مسافت ہے کہ بس گردِ سفر کھینچتی ہے
ایک خواہش ہے جسے سمت کا ادراک نہیں
اک خلش ہے جو نہ معلوم کدھر کھینچتی ہے
اک طرف دل کا یہ اصرار کہ خلوت خلوت
اک طرف حسرتِ تسکینِ نظر کھینچتی ہے
عرفان ستار

یہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے

تخیل اور ہے، نا دیدہ بینی اور ہوتی ہے
یہ تنہائی ہے بس، خلوت نشینی اور ہوتی ہے
عجب دھڑکا لگا رہتا ہے دل کو اُس کی فرقت میں
مگر وہ پاس ہو تو بے یقینی اور ہوتی ہے
سیہ چشمی حسینوں کی تو ویسے بھی قیامت ہے
مگر پاسِ حیا کی سرمگینی اور ہوتی ہے
گریز اُس کا بجائے خود ادائے خاص ہے لیکن
خمارِ وصل کی ناز آفرینی اور ہوتی ہے
نہیں مشروط کارِ عاشقاں ترکِ سکونت سے
میاں، اہلِ جنوں کی نا مکینی اور ہوتی ہے
ہمیں اہلِ جہاں ویسے تو کب کیا کچھ نہیں کہتے
مگر احبابِ دل کی نکتہ چینی اور ہوتی ہے
عرفان ستار

تری خواہش ابھی ہے تو سہی، کم ہو گئی ہے

اِدھر کچھ دن سے دل کی بے کلی کم ہو گئی ہے
تری خواہش ابھی ہے تو سہی، کم ہو گئی ہے
نظر دھندلا رہی ہے یا مناظر بجھ رہے ہیں
اندھیرا بڑھ گیا یا روشنی کم ہو گئی ہے
ترا ہونا تو ہے بس ایک صورت کا اضافہ
تیرے ہونے سے کیا تیری کمی کم ہو گئی ہے
خموشی کو جنوں سے دست برداری نہ سمجھو
تجسس بڑھ گیا ہے سر کشی کم ہو گئی ہے
ترا ربط اپنے گرد و پیش سے اتنا زیادہ
تو کیا خوابوں سے اب وابستگی کم ہو گئی ہے
سرِ طاقِ تمنا بجھ گئی ہے شمعِ امّید
اُداسی بڑھ گئی ہے بے دلی کم ہو گئی ہے
سبھی زندہ ہیں اور سب کی طرح میں بھی ہوں زندہ
مگر جیسے کہیں سے زندگی کم ہو گئی ہے
عرفان ستار

سو دل نے بے طلبی اختیار کی ہوئی ہے

کوئی ملا، تو کسی اور کی کمی ہوئی ہے
سو دل نے بے طلبی اختیار کی ہوئی ہے
جہاں سے دل کی طرف زندگی اُترتی تھی
نگاہ اب بھی اُسی بام پر جمی ہوئی ہے
ہے انتظار اِسے بھی تمہاری خوشبو کا؟
ہوا گلی میں بہت دیر سے رُکی ہوئی ہے
تم آگئے ہو، تو اب آئینہ بھی دیکھیں گے
ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے
ہمارا علم تو مرہُونِ لوحِ دل ہے میاں
کتابِ عقل تو بس طاق پر دھری ہوئی ہے
بناؤ سائے، حرارت بدن میں جذب کرو
کہ دھوپ صحن میں کب سے یونہی پڑی ہوئی ہے
نہیں نہیں، میں بہت خوش رہا ہوں تیرے بغیر
یقین کر کہ یہ حالت ابھی ابھی ہوئی ہے
وہ گفتگو جو مری صرف اپنے آپ سے تھی
تری نگاہ کو پہنچی، تو شاعری ہوئی ہے
عرفان ستار

یقین مانو، کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے

اُداس بس عادتاً ہوں، کچھ بھی ہُوا نہیں ہے
یقین مانو، کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے
ادھیڑ کر سی رہا ہوں برسوں سے اپنی پرتیں
نتیجتاً ڈھونڈنے کو اب کچھ بچا نہیں ہے
ذرا یہ دل کی امید دیکھو، یقین دیکھو
میں ایسے معصوم سے یہ کہہ دوں خدا نہیں ہے؟
میں اپنی مٹی سے اپنے لوگوں سے کٹ گیا ہوں
یقیناً اس سے بڑا کوئی سانحہ نہیں ہے
تو کیا کبھی مل سکیں گے یا بات ہو سکے گی؟
نہیں نہیں جاوٗ تم کوئی مسئلہ نہیں ہے
وہ راز سینے میں رکھ کے بھیجا گیا تھا مجھ کو
وہی جو اک راز مجھ پہ اب تک کھُلا نہیں ہے
میں بغض، نفرت، حسد، محبت کے ساتھ رکھوں؟
نہیں میاں میرے دل میں اتنی جگہ نہیں ہے
چہار جانب یہ بے یقینی کا گھپ اندھیرا
یہ میری وحشت کا انخلا ہے، خلا نہیں ہے
اسی کی خوشبو سے آج تک میں مہک رہا ہوں
وہ مجھ سے بچھڑا ہُوا ہے لیکن جدا نہیں ہے
لکھا ہوا ہے تمہارے چہرہ پہ غم تمہارا
ہماری حالت بھی ایسی بے ماجرا نہیں ہے
یہ تازہ کاری ہے طرزِ احساس کا کرشمہ
مرے لغت میں تو لفظ کوئی نیا نہیں ہے
نیا ہنر سیکھ، فی زمانہ ہو جس کی وقعت
سخن کی نسبت سے اب کوئی پوچھتا نہیں ہے
جسے ہو عرفانِ ذات وہ کیا تری سنے گا؟
او ناصحا، چھوڑدے، کوئی فائدہ نہیں ہے
عرفان ستار

ہمارے مسلکِ غم میں یہ ہاؤ ہُو نہیں ہے

درونِ دل ترا ماتم ہے، کُو بہ کُو نہیں ہے
ہمارے مسلکِ غم میں یہ ہاؤ ہُو نہیں ہے
یہ کس کو اپنے سے باہر تلاش کرتے ہیں
یہ کون ہیں کہ جنھیں اپنی جستجو نہیں ہے
میں جیت بھی جو گیا تو شکست ہو گی مجھے
کہ میرا اپنے علاوہ کوئی عدو نہیں ہے
نہیں ہے اب کوئی زندان تک برائے قیام
رسن بھی اب پئے آرائشِ گُلو نہیں ہے
تمام عمر کی ایذا دہی کے بعد کھُلا
میں جس کی یاد میں روتا رہا وہ تُو نہیں ہے
تُو چیز کیا ہے جو کی جائے تیری قدر میاں
کہ اب تو شہر میں غالب کی آبرو نہیں ہے
نہیں چمن کے کسی گُل میں تجھ بدن سی مہک
شراب خانے میں تجھ لب سا اک سُبو نہیں ہے
تُو خود پسند، تعلی پسند تیرا مزاج
میں خود شناس، مجھے عادتِ غُلو نہیں ہے
ہے سرخ رنگ کی اک شے بغیرِجوش و خروش
تری رگوں میں جو بہتا ہے وہ لہُو نہیں ہے
ہر ایک اچھا سخن ور ہے لائقِ تحسین
کہ بددیانتی اہلِ سخن کی خُو نہیں ہے
کہاں سے ڈھونڈ کے لاتا ہے اپنے حق میں دیلیل
جنابِ دل سا کوئی اور حیلہ جوُ نہیں ہے
مرے سخن کو میّسر ہے بزمِ حرف شناس
مجھے اب اِس سے زیادہ کی آرزو نہیں ہے
منافقت کا لبادہ اتار دے عرفان
اب آئینے کے سِوا کوئی روبرو نہیں ہے
عرفان ستار

جو قید کر کے مجھے خود مری پناہ میں ہے

کوئی بتائے کہ وہ کیسے اشتباہ میں ہے
جو قید کر کے مجھے خود مری پناہ میں ہے
مقابلہ ہے مرا دوپہر کی حدت سے
بس ایک شام کا منظر مری سپاہ میں ہے
تری تمام ریا کاریوں سے واقف ہوں
یقین کر کہ بڑا لطف اس نباہ میں ہے
مرے سلوک میں شامل نہیں ہے بے خبری
ہر ایک شخص کا منصب مری نگاہ میں ہے
وہ سادہ دل ہے اُسے کیا خبر زمانے کی
خبر جو ہو بھی تو کیا حرج انتباہ میں ہے
ضمیر سے تو ابھی تک ہے خاکداں روشن
یہی چراغ مرے خیمۂ سیاہ میں ہے
میں معترف ہوں روایت کی پاسداری کا
کجی تو حسبِ ضرورت مری کلاہ میں ہے
سپردگی مری فطرت کے ہے خلاف مگر
یہ انکسار ترے غم کی بارگاہ میں ہے
ترے لیے بھی کوئی فیصلہ میں کر لوں گا
ابھی تو شوق تمنا کی سیرگاہ میں ہے
عرفان ستار

یہ یادگارِ یارِ کم آمیز مجھ میں ہے

جو بے رخی کا رنگ بہُت تیز مجھ میں ہے
یہ یادگارِ یارِ کم آمیز مجھ میں ہے
سیراب ‘ کُنجِ ذات کو رکھتی ہے مستقِل
بہتی ہوئی جو رنج کی کاریز مجھ میں ہے
کاسہ ہے ایک فکر سے مجھ میں بھرا ہُوا
اور اک پیالہ درد سے لب ریز مجھ میں ہے
یہ کربِ رائگانیء اِمکاں بھی ہے’ مگر
تیرا بھی اک خیالِ دل آویز مجھ میں ہے
تازہ کِھلے ہوئے ہیں یہ گل ہاے زخم رنگ
ہر آن ایک موسِمِ خوں ریز مجھ میں ہے
رکھتی ہے میری طبع رَواں ‘ بابِ حرف میں
یہ مستقِل جو درد کی مہمیز مجھ میں ہے
اب تک ہرا بھرا ہے کسی یاد کا شجر
عرفان ! ایک خطّہء زرخیز مجھ میں ہے
عرفان ستار

یا پھر مرا وجود ہی بے زار مجھ میں ہے

میرے سوا بھی کوئی گرفتار مجھ میں ہے
یا پھر مرا وجود ہی بے زار مجھ میں ہے
میری غزل میں ہے کسی لہجے کی بازگشت
اک یارِ خوش کلام و طرح دار مجھ میں ہے
حد ہے، کہ تُو نہ میری اذیت سمجھ سکا
شاید کوئی بلا کا اداکار مجھ میں ہے
جس کا وجود وقت سے پہلے کی بات ہے
وہ بھی عدم سے برسرِ پیکار مجھ میں ہے
تُو ہے کہ تیری ذات کا اقرار ہر نفس
میں ہوں کہ میری ذات کا انکار مجھ میں ہے
تجھ سے نہ کچھ کہا تو کسی سے نہ کچھ کہا
کتنی شدید خواہشِ اظہار مجھ میں ہے
میں کیا ہوں کائنات میں کچھ بھی نہیں ہوں میں
پھر کیوں اسی سوال کی تکرار مجھ میں ہے
جس دن سے میں وصال کی آسودگی میں ہوں
اُس دن سے وہ فراق سے دوچار مجھ میں ہے
میں ہوں کہ ایک پل کی بھی فرصت نہیں مجھے
وہ ہے کہ ایک عمر سے بے کار مجھ میں ہے
عرفان ستار

رویّوں کی اذیّت ناک یکسانی کہاں تک ہے

مراسم کی ضرورت خندہ پیشانی کہاں تک ہے
رویّوں کی اذیّت ناک یکسانی کہاں تک ہے
ذرا آنسو رکیں تو میں بھی دیکھوں اس کی آنکھوں میں
اُداسی کس قدر ہے اور پشیمانی کہاں تک ہے
نہ جانے انکشافِ ذات سے خود مجھ پہ کیا گزرے
کسے معلوم تابِ چشمِ حیرانی کہاں تک ہے
کہیں تو جا کے سمٹے گا ترا کارِ جہاں بانی
کبھی تُو بھی تو دیکھے گا کہ ویرانی کہاں تک ہے
کبھی تو چند لمحے خود سے باہر بھی بسر کر لوں
ذرا دیکھوں تو وحشت کی فراوانی کہاں تک ہے
کسے معلوم بعد از باریابی کیا تماشا ہو
خبر کیا نا رسائی کی یہ آسانی کہاں تک ہے
کبھی وہ بے حجابانہ ملے تو پھر کھلے مجھ پر
کہ میرے بس میں آخر دل کی جولانی کہاں تک ہے
تلاطم خیزیٔ خواہش نہ تھی اُس کے تخاطب میں
مگر آنکھیں بتاتی تھیں کہ طغیانی کہاں تک ہے
کہاں تک دل کو میں اس یاد پر معمور رکھوں گا
مرے ذمّے ترے غم کی نگہبانی کہاں تک ہے
رفو گر! میں تو شہرِ عشق سے باہر نہیں جاتا
میں کیا جانوں کہ رسمِ چاک دامانی کہاں تک ہے
عرفان ستار

جانِ من حُسن کی بات اپنی جگہ، مسئلہ کوئی اس کے سوا بھی تو ہے

تجھ کو چشمِ تحیّر سے تکتا ہوا، صرف میں ہی نہیں آئنہ بھی تو ہے
جانِ من حُسن کی بات اپنی جگہ، مسئلہ کوئی اس کے سوا بھی تو ہے
دشتِ فرقت کی اس تشنگی تک نہیں، آزمائش فقط ہجر ہی تک نہیں
اس سے آگے تمنا کے اظہار کا، ایک دشوار تر مرحلہ بھی تو ہے
میرا لہجہ تعلق سے بھرپور تھا، اور چہرہ تاثر سے معمور تھا
خال و خد سے اُدھر لفظ سے ماورا، ایک احوالِ بے ماجرا بھی تو ہے
حُسن تیرا بہت جاں فزا ہی سہی، روح پرور سہی خوش ادا ہی سہی
سن مگر دل رُبا تیرا نغمہ سرا، دیکھتا ہی نہیں سوچتا بھی تو ہے
حرف کی جستجو میں پگھلتا رہا، شاعرِ خوش نوا روز جلتا رہا
تُو سنے تو سنے ورنہ ہر بات کا، سننے والا کہیں اک خدا بھی تو ہے
کس قدر خوش نفس، کس قدر خوش ادا، یاد کے پھول کھلتے ہوئے جا بہ جا
عشق کی راہ میں غم اگر ہیں تو کیا، عشق کے دم سے ایسی فضا بھی تو ہے
وہ توقع پہ پورا اترتا نہیں، میں اگر چپ رہوں تو سمجھتا نہیں
یوں تو کہنے کو ہے وہ مرا ہم نوا، اک سخن کا مگر فاصلہ بھی تو ہے
وہ نہیں تو سخن کی ضرورت نہیں، مجھ کو سب سے تکلّم کی عادت نہیں
ہجر سے کچھ سوا ہے مرا واقعہ، حرف کی موت کا سانحہ بھی تو ہے
عرفان ستار

شہرِ وجود سے بابِ عدم تک ایک سا ہُو کا عالم ہے

ایک ملال تو ہونے کا ہے ایک نہ ہونے کا غم ہے
شہرِ وجود سے بابِ عدم تک ایک سا ہُو کا عالم ہے
کب تک راہ تکیں گے اُس کی کب تک اُس کو پکاریں گے
آنکھوں میں اب کتنا نم ہے سینے میں کتنا دم ہے
اُس کے ہوتے روز ہی آکر مجھے جگایا کرتی تھی
میری طرف اب بادِ صبا کا آنا جانا کم کم ہے
اب تعبیر نجانے کیا ہو خواب میں اتنا دیکھا تھا
ایک جلوس چلا جاتا ہے آگے خونیں پرچم ہے
تم لوگوں کی عادت ٹھہری جھوٹ کا شربت پینے کی
میرے پیالے سے مت پینا میرے پیالے میں سم ہے
ہاں ویسے تو حجرہءِ جاں میں بے ترتیبی ٹھیک نہیں
لیکن کیا ترتیب سے رکھوں سب کچھ درہم برہم ہے
درد کی پردہ پوشی ہے سب، کھل جائے گر غور کرو
آہوں کی تکرار ہیں سانسیں دل کی دھڑکن ماتم ہے
خوشبو کے پہلو میں بیٹھا رنگ سے ہم آغوش ہُوا
جب سے اُس کا قرب ملا ہے ہر احساس مجسم ہے
اب اظہار میں کوتاہی کی، کوئی دلیل نہیں صائب
آنکھوں کو ہے خون مہیّا دل کو درد فراہم ہے
شہرِ سخن کے ہنگامے میں کون سنے تیری عرفان
ایک تو باتیں الجھی الجھی پھر لپجہ بھی مدۤھم ہے
عرفان ستار

جو تھا، نہیں ہے، اور نہ تھا، ہے، یہ عشق ہے

اپنی خبر، نہ اُس کا پتہ ہے، یہ عشق ہے
جو تھا، نہیں ہے، اور نہ تھا، ہے، یہ عشق ہے
پہلے جو تھا، وہ صرف تمہاری تلاش تھی
لیکن جو تم سے مل کے ہُوا ہے، یہ عشق ہے
تشکیک ہے، نہ جنگ ہے مابینِ عقل و دل
بس یہ یقین ہے کہ خدا ہے، یہ عشق ہے
بے حد خوشی ہے، اور ہے بے انتہا سکون
اب درد ہے، نہ غم، نہ گلہ ہے، یہ عشق ہے
کیا رمز جاننی ہے تجھے اصلِ عشق کی؟
جو تجھ میں اس بدن کے سوا ہے، یہ عشق ہے
شہرت سے تیری خوش جو بہت ہے، یہ ہے خرد
اور یہ جو تجھ میں تجھ سے خفا ہے، یہ عشق ہے
زیرِ قبا جو حسن ہے، وہ حسن ہے خدا
بندِ قبا جو کھول رہا ہے، یہ عشق ہے
ادراک کی کمی ہے سمجھنا اسے مرض
اس کی دعا، نہ اس کی دوا ہے، یہ عشق ہے
شفّاف و صاف، اور لطافت میں بے مثال
سارا وجود آئینہ سا ہے، یہ عشق ہے
یعنی کہ کچھ بھی اُس کے سِوا سوجھتا نہیں؟
ہاں تو جناب، مسئلہ کیا ہے؟ یہ عشق ہے
جو عقل سے بدن کو ملی تھی، وہ تھی ہوس
جو روح کو جنوں سے ملا ہے، یہ عشق ہے
اس میں نہیں ہے دخل کوئی خوف و حرص کا
اس کی جزا، نہ اس کی سزا ہے، یہ عشق ہے
سجدے میں ہے جو محوِ دعا، وہ ہے بے دلی
یہ جو دھمال ڈال رہا ہے، یہ عشق ہے
ہوتااگر کچھ اور تو ہوتا انا پرست
اِس کی رضا شکستِ انا ہے، یہ عشق ہے
عرفان ماننے میں تاٗمل تجھے ہی تھا
میں نے تو یہ ہمیشہ کہا ہے، یہ عشق ہے
عرفان ستار

شوقِ بزم آرائی بھی تیری کمی کا جبر ہے

خوش مزاجی مجھ پہ میری بے دلی کا جبر ہے
شوقِ بزم آرائی بھی تیری کمی کا جبر ہے
کون بنتا ہے کسی کی خود ستائی کا سبب
عکس تو بس آئینے پر روشنی کا جبر ہے
خواب خواہش کا، عدم اثبات کا، غم وصل کا
زندگی میں جو بھی کچھ ہے سب کسی کا جبر ہے
اپنے رد ہونے کا ہر دم خوف رہتا ہے مجھے
یہ مری خود اعتمادی خوف ہی کا جبر ہے
کارِ دنیا کے سوا کچھ بھی مرے بس میں نہیں
میری ساری کامیابی بے بسی کا جبر ہے
میں کہاں اور بے ثباتی کا یہ ہنگامہ کہاں
یہ مرا ہونا تو مجھ پر زندگی کا جبر ہے
یہ سخن یہ خوش کلامی در حقیقت ہے فریب
یہ تکلم روح کی بے رونقی کا جبر ہے
شہرِ دل کی راہ میں حائل ہیں یہ آسائشیں
یہ مری آسودگی کم ہمتی کا جبر ہے
جس کا سارا حُسن تیرے ہجر ہی کے دم سے تھا
وہ تعلق اب تری موجودگی کا جبر ہے
جبر کی طابع ہے ہر کیفیتِ عمرِ رواں
آج کا غم جس طرح کل کی خوشی کا جبر ہے
کچھ نہیں کھلتا مرے شوقِ تصرف کا سبب
شوقِ سیرابی تو میری تشنگی کا جبر ہے
جو سخن امکان میں ہے وہ سخن ہے بے سخن
یہ غزل تو کچھ دنوں کی خامشی کا جبر ہے
عرفان ستار

اب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے

یہ خبر ہے، مجھ میں کچھ میرے سِوا موجود ہے
اب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے
ایک میں ہوں، جس کا ہونا ہو کے بھی ثابت نہیں
ایک وہ ہے جو نہ ہو کر جابجا موجود ہے
ہاں خدا ہے، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں
اس سے تم یہ مت سمجھ لینا خدا موجود ہے
حل کبھی ہوتا نہیں یہ جسم سے چھوٹے بغیر
میں ابھی زندہ ہوں سو یہ مسئلہ موجود ہے
تاب آنکھیں لا سکیں اُس حسن کی، ممکن نہیں
میں تو حیراں ہوں کہ اب تک آئینہ موجود ہے
رات کٹتی ہے مزے میں چین سے ہوتی ہے صبح
چاندنی موجود ہے بادِ صبا موجود ہے
روشنی سی آرہی ہے اِس طرف چھنتی ہوئی
اور وہ حدۤت بھی جو زیرِ قبا موجود ہے
ایک پل فرصت کہاں دیتے ہیں مجھ کو میرے غم
ایک کو بہلا دیا تو دوسرا موجود ہے
درد کی شدۤت میں بھی چلتی ہے میرے دل کے ساتھ
اک دھڑکتی روشنی جو ہر جگہ موجود ہے
معتبر تو قیس کا قصہ بھی ہے اس ضمن میں
اس حوالے سے مرا بھی واقعہ موجود ہے
خواب میں اک زخم دیکھا تھا بدن پر جس جگہ
صبح دیکھا تو وہاں اک داغ سا موجود ہے
ایک ہی شعلہ سے جلتے آرہے ہیں یہ چراغ
میر سے مجھ تک وہی اک سلسلہ موجود ہے
یوں تو ہے عرفان ہر احساس ہی محدود سا
اک کسک سی ہے کہ جو بے انتہا موجود ہے
عرفان ستار

مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے

یہاں تکرارِ ساعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
مسلسل ایک حالت کے سوا کیا رہ گیا ہے
تمہیں فرصت ہو دنیا سے تو ہم سے آ کے ملنا
ہمارے پاس فرصت کے سوا کیا رہ گیا ہے
ہمارا عشق بھی اب ماند ہے جیسے کہ تم ہو
تو یہ سودا رعایت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت نادم کیا تھا ہم نے اک شیریں سخن کو
سو اب خود پر ندامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت ممکن ہے کچھ دن میں اسے ہم ترک کردیں
تمہارا قرب عادت کے سوا کیا رہ گیا ہے
کہاں لے جائیں اے دل ہم تری وسعت پسندی
کہ اب دنیا میں وسعت کے سوا کیا رہ گیا ہے
سلامت ہے کوئی خواہش نہ کوئی یاد زندہ
بتا اے شام وحشت کے سوا کیا رہ گیا ہے
کسی آہٹ میں آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب
کسی صورت میں صورت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بہت لمبا سفر طے ہو چکا ہے ذہن و دل کا
تمہارا غم علامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
اذیّت تھی مگر لذّت بھی کچھ اس سے سوا تھی
اذیّت ہے اذیّت کے سوا کیا رہ گیا ہے
ہمارے درمیاں ساری ہی باتیں ہو چکی ہیں
سو اب اُن کی وضاحت کے سوا کیا رہ گیا ہے
بجا کہتے ہو تم ہونی تو ہو کر ہی رہے گی
تو ہونے کو قیامت کے سوا کیا رہ گیا ہے
شمار و بے شماری کے تردّد سے گزر کر
مآلِ عشق وحدت کے سوا کیا رہ گیا ہے
عرفان ستار

بتادوں؟ مجھ سے خود اپنا پتہ گُم ہو گیا ہے

سبھی یہ پوچھتے رہتے ہیں کیا گُم ہو گیا ہے
بتادوں؟ مجھ سے خود اپنا پتہ گُم ہو گیا ہے
تمہارے دن میں اک رُوداد تھی جو کھو گئی ہے
ہماری رات میں اک خواب تھا، گُم ہو گیا ہے
وہ جس کے پیچ و خم میں داستاں لپٹی ہوئی تھی
کہانی میں کہیں وہ ماجرا گُم ہو گیا ہے
ذرا اہلِ جُنوں آؤ، ہمیں رستہ سُجھاؤ
یہاں ہم عقل والوں کا خدا گُم ہو گیا ہے
نظر باقی ہے لیکن تابِ نظّارہ نہیں اب
سخن باقی ہے لیکن مدّعا گُم ہو گیا ہے
مجھے دکھ ہے، کہ زخم و رنج کے اِس جمگھٹے میں
تمہارا اور میرا واقعہ گُم ہو گیا ہے
یہ شدّت درد کی اُس کے نہ ہونے سے نہ ہوتی
یقیناً اور کچھ اُس کے سِوا گُم ہو گیا ہے
وہ جس کو کھینچنے سے ذات کی پرتیں کھُلیں گی
ہماری زندگی کا وہ سِرا گُم ہو گیا ہے
وہ در وا ہو نہ ہو، آزاد و خود بیں ہم کہاں کے
پلٹ آئیں تو سمجھو راستہ گُم ہو گیا ہے
عرفان ستار

میں ایسا چاہتا کب تھا پر ایسا ہو گیا ہے

مرے خواب سے اوجھل اُس کا چہرہ ہو گیا ہے
میں ایسا چاہتا کب تھا پر ایسا ہو گیا ہے
تعلق اب یہاں کم ہے ملاقاتیں زیادہ
ہجومِ شہر میں ہر شخص تنہا ہو گیا ہے
تری تکمیل کی خواہش تو پوری ہو نہ پائی
مگر اک شخص مجھ میں بھی ادھورا ہو گیا ہے
جو باغِ آرزو تھا اب وہی ہے دشتِ وحشت
یہ دل کیا ہونے والا تھا مگر کیا ہو گیا ہے
میں سمجھا تھا سیئے گی آگہی چاکِ جنوں کو
مگر یہ زخم تو پہلے سے گہرا ہو گیا ہے
میں تجھ سے ساتھ بھی تو عمر بھر کا چاہتا تھا
سو اب تجھ سے گلہ بھی عمر بھر کا ہو گیا ہے
ترے آنے سے آیا کون سا ایسا تغیر
فقط ترکِ مراسم کا مداوا ہو گیا ہے
مرا عالم اگر پوچھیں تو اُن سے عرض کرنا
کہ جیسا آپ فرماتے تھے ویسا ہو گیا ہے
میں کیا تھا اور کیا ہوں اور کیا ہونا ہے مجھ کو
مرا ہونا تو جیسے اک تماشا ہو گیا ہے
یقینا ہم نے آپس میں کوئی وعدہ کیا تھا
مگر اس گفتگو کو ایک عرصہ ہو گیا ہے
اگرچہ دسترس میں آ گئی ہے ساری دنیا
مگر دل کی طرف بھی ایک در وا ہو گیا ہے
یہ بے چینی ہمیشہ سے مری فطرت ہے لیکن
بقدرِ عمر اس میں کچھ اضافہ ہو گیا ہے
مجھے ہر صبح یاد آتی ہے بچپن کی وہ آواز
چلو عرفانؔ اٹھ جاؤ سویرا ہو گیا ہے
عرفان ستار

یہ تم خود ہو کہ مجھ کو آزمایا جا رہا ہے

نظر کو پھر کوئی چہرہ دکھایا جا رہا ہے
یہ تم خود ہو کہ مجھ کو آزمایا جا رہا ہے
بہت آسودگی سے روز و شب کٹنے لگے ہیں
مجھے معلوم ہے مجھ کو گنوایا جا رہا ہے
سرِ مژگاں بگولے آ کے واپس جا رہے ہیں
عجب طوفان سینے سے اٹھایا جا رہا ہے
مرا غم ہے اگر کچھ مختلف تو اس بنا پر
مرے غم کو ہنسی میں کیوں اڑایا جا رہا ہے
بدن کس طور شامل تھا مرے کارِ جنوں میں
مرے دھوکے میں اس کو کیوں مٹایا جا رہا ہے
وہ دیوارِ انا جس نے مجھے تنہا کیا تھا
اسی دیوار کو مجھ میں گرایا جا رہا ہے
مری خوشیوں میں تیری اس خوشی کو کیا کہوں میں
چراغِ آرزو! تجھ کو بجھایا جا رہا ہے
خرد کی ساگی دیکھو کہ ظاہر حالتوں سے
مری وحشت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے
ابھی اے بادِ وحشت اس طرف کا رخ نہ کرنا
یہاں مجھ کو بکھرنے سے بچایا جا رہا ہے
عرفان ستار

لکھا ہُوا ہے مری جان، ہاں، لکھا ہوا ہے

تمہارا نام سرِ لوحِ جاں لکھا ہوا ہے
لکھا ہُوا ہے مری جان، ہاں، لکھا ہوا ہے
لہو سے تر ہے ورق در ورق بیاضِ سخن
حسابِ دل زدگاں سب یہاں لکھا ہوا ہے
نشاں بتائیں تمہیں قاتلوں کے شہر کا ہم؟
فصیلِ شہر پہ شہرِ اماں لکھا ہوا ہے
ملی ہے اہلِ جنوں کو جہاں بشارتِ اجر
وہیں تو اہلِ خرد کا زیاں لکھا ہوا ہے
زمیں بھی تنگ ہوئی، رزق بھی، طبیعت بھی
مرے نصیب میں کیا آسماں لکھا ہوا ہے؟
یہ کیسی خام امیدوں پہ جی رہے ہو میاں؟
پڑھو تو، لوحِ یقیں پر گماں لکھا ہوا ہے
تو کیا یہ ساری تباہی خدا کے حکم سے ہے؟
ذرا ہمیں بھی دکھاوٗ، کہاں لکھا ہوا ہے؟
یہ کائنات سراسر ہے شرحِ رازِ ازل
کلامِ حق تو سرِ کہکشاں لکھا ہوا ہے
میں سوچتا ہوں تو کیا کچھ نہیں عطائے وجود
میں دیکھتا ہوں تو بس رائگاں لکھا ہوا ہے
جو چاہتا تھا میں جس وقت، وہ کبھی نہ ہُوا
کتابِ عمر میں سب ناگہاں لکھا ہوا ہے
لکھا ہوا نہیں کچھ بھی بنامِ خوابِ وجود
نبود و بود کے سب درمیاں لکھا ہوا ہے
عدو سے کوئی شکایت نہیں ہمیں عرفان
حسابِ رنج پئے دوستاں لکھا ہوا ہے
عرفان ستار

اور کہیں بیچ میں امکان کا پل پڑتا ہے

چپ ہے آغاز میں، پھر شورِ اجل پڑتا ہے
اور کہیں بیچ میں امکان کا پل پڑتا ہے
ایک وحشت ہے کہ ہوتی ہے اچانک طاری
ایک غم ہے کہ یکایک ہی ابل پڑتا ہے
یاد کا پھول مہکتے ہی نواحِ شب میں
کوئی خوشبو سے ملاقات کو چل پڑتا ہے
حجرہِٗ ذات میں سنّاٹا ہی ایسا ہے کہ دل
دھیان میں گونجتی آہٹ پہ اچھل پڑتا ہے
روک لیتا ہے ابد وقت کے اُس پار کی راہ
دوسری سمت سے جاوٗں تو ازل پڑتا ہے
ساعتوں کی یہی تکرار ہے جاری پر دم
میری دنیا میں کوئی آج، نہ کل پڑتا ہے
تابِ یک لحظہ کہاں حسنِ جنوں خیز کے پیش
سانس لینے سے توجّہ میں خلل پڑتا ہے
مجھ میں پھیلی ہوئی تاریکی سے گھبرا کے کوئی
روشنی دیکھ کے مجھ میں سے نکل پڑتا ہے
جب بھی لگتا ہے سخن کی نہ کوئی لوَ ہے نہ رَو
دفعتاً حرف کوئی خوں میں مچل پڑتا ہے
غم چھپائے نہیں چھپتا ہے کروں کیا عرفان
نام لوں اُس کا تو آواز میں بل پڑتا ہے
عرفان ستار

اگر خوشی ہے تو کس بات کی، سبب کیا ہے؟

رگوں میں رقص کناں موجہِ طرب کیا ہے؟
اگر خوشی ہے تو کس بات کی، سبب کیا ہے؟
ہے میری اصل اگر ماورائے وقت تو پھر
مرے لیے یہ تماشائے روز و شب کیا ہے؟
مرے کہے سے مرے گردوپیش کچھ بھی نہیں
میں صرف دیکھنے بیٹھا ہُوا ہوں، کب کیا ہے؟
نجانے کیا ہے نظر کی تلاشِ لا موجود
نجانے دل کی تمنّائے بے طلب کیا ہے؟
یہ جستجو، یہ طلب، یہ جنون و دربدری
مآلِ عمر عدم ہے تو پھر یہ سب کیا ہے؟
ہے گفتگو میں وہ پیچیدگی کہ سوچتا ہوں
خیال کیا تھا، کہا کیا ہے، زیرِ لب کیا ہے
میں جانتا ہوں جو منظر گنوائے بیٹھا ہوں
تجھے کہاں یہ خبر تیری تاب و تب کیا ہے
پسِ زیاں جو درِ دل پہ میں نے دستک دی
‘‘کسی نے چیخ کے مجھ سے کہا، کہ ’’اب کیا ہے؟
عرفان ستار

بات کرنا نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے؟

تیرے لہجے میں ترا جہلِ دروں بولتا ہے
بات کرنا نہیں آتی ہے تو کیوں بولتا ہے؟
پھونک دی جاتی ہے اس طرح مرے شعر میں روح
جیسے سانسوں میں کوئی کن فیکوں بولتا ہے
سننے والوں پہ مرا حال عیاں ہو کیسے
عشق ہوتا ہے تو وحشت میں سکوں بولتا ہے
تیرا اندازِ تخاطب، ترا لہجہ، ترے لفظ
وہ جسے خوفِ خدا ہوتا ہے، یوں بولتا ہے؟
عقل اس باب میں خاموش ہی رہتی ہے جناب
جب ہو موضوع حقیقت تو جنوں بولتا ہے
گفتگو کیا ہو کہ جب گویا ہوں آنکھیں تیری
چپ سی لگ جاتی ہے جب ان کا فسوں بولتا ہے
کوئی عرفان کو سمجھائے، یہ آشفتہ مزاج
جاں کا خطرہ ہو تو پہلے سے فزوں بولتا ہے
عرفان ستار

یا پیرہنِ گل میں، یا خون میں تر اٹھے

بے رنگ ترے در سے، کب خاک بسر اٹھے
یا پیرہنِ گل میں، یا خون میں تر اٹھے
چل آج پہ روتے ہیں، تھک ہار کے سوتے ہیں
پھر رنج اٹھائیں گے، کل صبح اگر اٹھے
تہذیب کے روگوں کا، احسان یہ لوگوں کا
ہم سے تو نہیں اٹھتا، تم دیکھو اگر اٹھے
مصرعوں کی یہ ہمواری، مفہوم کی تہداری
توفیق عطا ہو تو، یہ بارِ ہنر اٹھے
سمجھائیں کہ کیسی ہو، یکجائی تو ایسی ہو
جب زخم اُدھر آئے، اور درد اِدھر اٹھے
عرفان ستار

میری حالت تو کوئی دیکھنے والا سمجھے

جو ہو خود ایک تماشا وہ بھلا کیا سمجھے
میری حالت تو کوئی دیکھنے والا سمجھے
مجھ میں آباد ہے اک شہر، ترے حُسن کا شہر
وہ جو باہر سے مجھے دیکھے وہ تنہا سمجھے
مجھ سے ممکن یہ نہیں ہے کہ میں کھل کر کہہ دوں
اس کے بس میں یہ نہیں ہے کہ اشارہ سمجھے
آہ ایسی، کہ سنے کوئی تو سمجھے نغمہ
اشک ایسا، کوئی دیکھے تو ستارا سمجھے
ٹھیک ہے دشت بھی ہوں، باغ بھی ہوں، دریا بھی
جس کو جیسا نظر آؤں مجھے ویسا سمجھے
لفظ پردہ ہیں، اسے کاش بتا دے کوئی
اس کو سمجھائے کہ سمجھے، مرا لہجہ سمجھے
بس یہی ہے جو میّسر ہے مرے قرب کے ساتھ
جو مرے دل میں بسے وہ اِسے دنیا سمجھے
سانحہ کرکے سنایا تھا اُسے رنجِ فراق
سُن کے بس اتنا کہا اُس نے کہ ’’اچھا۔ ۔ ۔ سمجھے‘‘
دل کسی حرفِ ملائم سے سنبھل بھی جاتا
میرے سینے میں اچھلتا ہے بگولا، سمجھے؟
وصل سے اِن کے نمو پاتی ہے اک کیفیۤت
کوئی الفاظ و معانی کا یہ رشتہ سمجھے
اتنا دشوار ہوں کیا میں جو کسی پر نہ کھلوں؟
کوئی تو ہو مجھے میرے علاوہ سمجھے
ابھی سمجھو تو میں کیا خوب سخن تم سے کروں
بعد میرے مجھے سمجھے بھی تو پھر کیا سمجھے
تُو سمجھتا ہے اُسے، شکر بجا لا عرفان
وہ جسے دیر نہ کعبہ، نہ کلیسا سمجھے
عرفان ستار

گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے

ڈرا رہا ہے مسلسل یہی سوال مجھے
گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے
بچھڑتے وقت اضافہ نہ اپنے رنج میں کر
یہی سمجھ کہ ہوا ہے بہت ملال مجھے
وہ شہرِ ہجر عجب شہرِ پُر تحیر تھا
بہت دنوں میں تو آیا ترا خیال مجھے
تُو میرے خواب کو عجلت میں رائگاں نہ سمجھ
ابھی سخن گہِ امکاں سے مت نکال مجھے
کسے خبر کہ تہِ خاک آگ زندہ ہو
ذرا سی دیر ٹھہر ، اور دیکھ بھال مجھے
کہاں کا وصل کہ اس شہرِ پُر فشار میں اب
ترا فراق بھی لگنے لگا محال مجھے
اِسی کے دم سے تو قائم ابھی ہے تارِ نفس
یہ اک امید کہ رکھتی ہے پُر سوال مجھے
کہوں میں تازہ غزل اے ہوائے تازہ دلی
ذرا سی دیر کو رکھے جو تُو بحال مجھے
خرامِ عمر کسی شہرِ پُر ملال کو چل
کیے ہوئے ہے یہ آسودگی نڈھال مجھے
کہاں سے لائیں بھلا ہم جوازِ ہم سفری
تجھے عزیز ترے خواب، میرا حال مجھے
اُبھر رہا ہوں میں سطحِ عدم سے نقش بہ نقش
تری ہی جلوہ گری ہوں ذرا اُجال مجھے
یہاں تو حبس بہت ہے سو گردِ بادِ جنوں
مدارِ وقت سے باہر کہیں اچھال مجھے
پھر اس کے بعد نہ تُو ہے، نہ یہ چراغ، نہ میں
سحر کی پہلی کرن تک ذرا سنبھال مجھے
عرفان ستار

پھر شہرِ کم نگاہ میں تنہا کیا مجھے

پہلے تو میری ذات میں یکتا کیا مجھے
پھر شہرِ کم نگاہ میں تنہا کیا مجھے
اک بے صدا ہجوم رہا گوش بر سخن
میں خوش بیان تھا سو تماشا کیا مجھے
عجلت میں کیوں ہیں سب، یہ کسی کو نہیں خبر
کس عہدِ بدحواس میں پیدا کیا مجھے
میں لشکرِ عدو کے مقابل ڈٹا رہا
آخر کو تیغِ یار نے پسپا کیا مجھے
بس اک غزل کا شعر سنانے کی دیر تھی
پھر حُسن انہماک سے دیکھا کیا مجھے
خوشبو تھا میں، بکھرنا مرا اختصاص تھا
ان ذمّہ داریوں نے اکھٹا کیا مجھے
ہنگامہِ جنوں کو یہ مہلت قلیل ہے
کیوں عرصہ گاہِ دہر میں برپا کیا مجھے
میری وفا نے مجھ کو کیا تھا ترے سپرد
تیری جفا نے مجھ کو مہیّا کیا مجھے
کوئی دوا، نہ کوئی دعا کارگر ہوئی
عرفان،اک نگاہ نے اچھا کیا مجھے
عرفان ستار

جو سانحے مرے دل پر گزر گئے ہوں گے

لہو کے ساتھ رگوں میں بکھر گئے ہوں گے
جو سانحے مرے دل پر گزر گئے ہوں گے
یہ دیکھ آج بھی آشفتہ سر وہی ہیں جو تھے
تو کیا سمجھتا تھا ہم تجھ سے ڈر گئے ہوں گے؟
گزشتہ شام نظر آئے تھے جو غم سے نڈھال
وہ آج صبح سبھی کام پر گئے ہوں گے
مکان جن کے جلائے گئے بنام_ خدا
خدا ہی جانے کہ وہ سب کدھر گئے ہوں گے
ثبوت کوئی فراہم نہ ہوسکے گا کبھی
گواہ اپنی نظر سے مکر گئے ہوں گے
کوئی بچا ہی نہیں گھر میں جو ہو چشم براہ
مکیں کو ڈھونڈنے کیا بام و در گئے ہوں گے
ہم اہلِ حرف سے بڑھ کر کہاں ہے کوئی نڈر
جو رن پڑا تو ہمی بے سپر گئے ہوں گے
میں جاگ جاگ کے کس کس کا انتظار کروں
جو لوگ گھر نہیں پہنچے وہ مر گئے ہوں گے
یہ سارا جوش تو تازہ غمی کا ہے عرفان
یہ سارے ولولے کل تک اتر گئے ہوں گے
عرفان ستار

یہاں بھی ہوتا تھا ایک موسم بہار کر کے

کہاں نجانے چلا گیا انتظار کر کے
یہاں بھی ہوتا تھا ایک موسم بہار کر کے
جو ہم پہ ایسا نہ کارِ دنیا کا جبر ہوتا
تو ہم بھی رہتے یہاں جنوں اختیار کر کے
نجانے کس سمت جا بسی بادِ یاد پرور
ہمارے اطراف خوشبوئوں کا حصار کر کے
کٹیں گی کس دن مدار و محور کی یہ طنابیں
کہ تھک گئے ہم حسابِ لیل و نہار کر کے
تری حقیقت پسند دنیا میں آ بسے ہیں
ہم اپنے خوابوں کی ساری رونق نثار کر کے
یہ دل تو سینے میں کس قرینے سے گونجتا تھا
عجیب ہنگامہ کر دیا بے قرار کر کے
ہر ایک منظر ہر ایک خلوت گنوا چکے ہیں
ہم ایک محفل کی یاد پر انحصار کر کے
تمام لمحے وضاحتوں میں گزر گئے ہیں
ہماری آنکھوں میں اک سخن کو غبار کر کے
یہ اب کھلا ہے کہ اس میں موتی بھی ڈھونڈنے تھے
کہ ہم تو بس آ گئے ہیں دریا کو پار کر کے
بقدرِ خوابِ طلب لہو ہے نہ زندگی ہے
ادا کرو گے کہاں سے اتنا ادھار کر کے
عرفان ستار

ابھی تو زخم بھرے ہیں خدا خدا کر کے

ملے گا کیا تجھے تازہ یہ سلسلہ کر کے
ابھی تو زخم بھرے ہیں خدا خدا کر کے
ہمیں بھی روز جگاتی تھی آ کے ایک مہک
چمن میں کوئی ہمارا بھی تھا صبا کر کے
سخن میں تیرے تغافل سے آ گیا یہ ہنر
ذرا سا غم بھی سناتے ہیں سانحہ کر کے
اُداس تھے سو ترے در پہ آ کے بیٹھ گئے
فقیر ہیں سو چلے جائیں گے صدا کر کے
ابھی ہوئی ہے پلک سے پلک ذرا مانوس
ابھی نہ جا مجھے اس خواب سے رہا کر کے
عجب نہیں کہ کوئی بات مجھ میں ہو میری
کبھی تو دیکھ مجھے خود سے تُو جدا کر کے
عرفان ستار

دل تھا برباد مگر جائے اماں تھا پہلے

ایسا احوال محبت میں کہاں تھا پہلے
دل تھا برباد مگر جائے اماں تھا پہلے
ایک امکان میں روپوش تھا سارا عالم
میں بھی اُس گردِ تحیّر میں نہاں تھا پہلے
ایک خوشبو سی کیے رہتی تھی حلقہ میرا
یعنی اطراف کوئی رقص کناں تھا پہلے
اُس نے مجھ سا کبھی ہونے نہ دیا تھا مجھ کو
کیا تغیّر مری جانب نگراں تھا پہلے
اب فقط میرے سخن میں ہے جھلک سی باقی
ورنہ یہ رنگ تو چہرے سے عیاں تھا پہلے
کون مانے گا کہ مجھ ایسا سراپا تسلیم
سربرآوردۂ آشفتہ سراں تھا پہلے
کون یہ لوگ ہیں نا واقفِ آداب و لحاظ
تیرا کوچہ تو رہِ دل زدگاں تھا پہلے
اب تو اک دشتِ تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں
کیسا قلزم میرے سینے میں رواں تھا پہلے
اب کہیں جا کے یہ گیرائی ہوئی ہے پیدا
تجھ سے ملنا تو توجہ کا زیاں تھا پہلے
میں نے جیسے تجھے پایا ہے وہ میں جانتا ہوں
اب جو تُو ہے یہ فقط میرا گماں تھا پہلے
جانے ہے کس کی اداسی مری وحشت کی شریک
مجھ کو معلوم نہیں کون یہاں تھا پہلے
دل ترا راز کسی سے نہیں کہنے دیتا
ورنہ خود سے یہ تعلق بھی کہاں تھا پہلے
اب جو رہتا ہے سرِ بزمِ سخن مہر بہ لب
یہی عرفانؔ عجب شعلہ بیاں تھا پہلے
عرفان ستار

ہم تو سیدھے لوگ ہیں یارو، وہی پرانے والے

ہمیں نہیں آتے یہ کرتب نئے زمانے والے
ہم تو سیدھے لوگ ہیں یارو، وہی پرانے والے
ان کے ہوتے کوئی کمی ہے راتوں کی رونق میں؟
یادیں خواب دکھانے والی، خواب سہانے والے
کہاں گئیں رنگین پتنگیں، لٹو، کانچ کے بنٹے؟
اب تو کھیل بھی بچوں کے ہیں دل دہلانے والے
وہ آنچل سے خوشبو کی لپٹیں بکھراتے پیکر
وہ چلمن کی اوٹ سے چہرے چھب دکھلانے والے
بام پہ جانے والے جانیں اس محفل کی باتیں
ہم تو ٹھہرے اس کوچے میں خاک اڑانے والے
جب گزرو گے ان رستوں سے تپنی دھوپ میں تنہا
تمہیں بہت یاد آئیں گے ہم سائے بنانے والے
تم تک شاید دیر سے پہنچےمرا مہذب لہجہ
پہلے ذرا خاموش تو ہوں یہ شور مچانے والے
ہم جو کہیں سو کہنے دنیا، سنجیدہ مت ہونا
ہم تو ہیں ہی شاعر بات سے بات بنانے والے
اچھا؟ پہلی بار کسی کو میری فکر ہوئی ہے؟
میں نے بہت دیکھے ہیں تم جیسے سمجھانے والے
ایسے لبالب کب بھرتا ہے ہر امید کا کاسہ؟
مجھ کو حسرت سے تکتے ہیں آنے جانے والے
سفاکی میں ایک سے ہیں سب، جن کے ساتھ بھی جاؤ
کعبے والے اِس جانب ہیں، وہ بت خانے والے
میرے شہر میں مانگ ہے اب تو بس ان لوگوں کی ہے
کفن بنانے والے یا مردے نہلانے والے
گیت سجیلے بول رسیلے کہاں سنو گے اب تم
اب تو کہتا ہے عرفان بھی شعر رلانے والے
عرفان ستار

کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے

بتاتا ہے مجھے آئینہ کیسی بے رُخی سے
کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے
کسے الزام دوں میں رائگاں ہونے کا اپنے
کہ سارے فیصلے میں نے کیے خود ہی خوشی سے
ہر اک لمحہ مجھے رہتی ہے تازہ اک شکایت
کبھی تجھ سے، کبھی خود سے، کبھی اس زندگی سے
مجھے کل تک بہت خواہش تھی خود سے گفتگو کی
میں چھپتا پھر رہا ہوں آج اپنے آپ ہی سے
وہ بے کیفی کا عالم ہے کہ دل یہ چاہتا ہے
کہیں روپوش ہو جاؤں اچانک خامشی سے
سکونِ خانۂ دل کے لیے کچھ گفتگو کر
عجب ہنگامہ برپا ہے تری لب بستگی سے
تعلق کی یہی صورت رہے گی کیا ہمیشہ
میں اب اُکتا چکا ہوں تیری اس وارفتگی سے
جو چاہے وہ ستم مجھ پر روا رکھے یہ دنیا
مجھے یوں بھی توقع اب نہیں کچھ بھی کسی سے
ترے ہونے نہ ہونے پر کبھی پھر سوچ لوں گا
ابھی تو میں پریشاں ہوں خود اپنی ہی کمی سے
رہا وہ ملتفت میری طرف پر اُن دنوں میں
خود اپنی سمت دیکھے جا رہا تھا بے خودی سے
کوئی خوش فکر سا تازہ سخن بھی درمیاں رکھ
کہاں تک دل کو بہلاؤں میں تیری دل کشی سے
کرم تیرا کہ یہ مہلت مجھے کچھ دن کی بخشی
مگر میں تجھ سے رخصت چاہتا ہوں آج ہی سے
وہ دن بھی تھے تجھے میں والہانہ دیکھتا تھا
یہ دن بھی ہیں تجھے میں دیکھتا ہوں بے بسی سے
ابھی عرفانؔ آنکھوں کو بہت کچھ دیکھنا ہے
تمہیں بے رنگ کیوں لگنے لگا ہے سب ابھی سے
عرفان ستار

ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے

راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے
ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے
حسن اتنا تھا کہ ممکن ہی نہ تھی خود نگری
ایک امکان کی کب تک نگرانی کرتے
شعلہ جاں کو بجھاتے یونہی قطرہ قطرہ
خود کو ہم آگ بناتے تجھے پانی کرتے
پھول سا تجھ کو مہکتا ہوا رکھتے شب بھر
اپنے سانسوں سے تجھے رات کی رانی کرتے
ندیاں دیکھیں تو بس شرم سے پانی ہو جائیں
چشمِ خوں بستہ سے پیدا وہ روانی کرتے
سب سے کہتے کہ یہ قصہ ہے پرانا صاحب
آہ کی آنچ سے تصویر پرانی کرتے
درودیوار بدلنے میں کہاں کی مشکل
گھر جو ہوتا تو بھلا نقل مکانی کرتے؟
کوئی آجاتا کبھی یونہی اگر دل کے قریب
ہم ترا ذکر پئے یاد دہانی کرتے
سچ تو یہ ہے کہ ترے ہجر کا اب رنج نہیں
کیا دکھاوے کے لیے اشک فشانی کرتے؟
دل کو ہر لحظہ ہی دی عقل پہ ہم نے ترجیح
یارِ جانی کو کہاں دشمنِ جانی کرتے
شب اسی طرح بسر ہوتی ہے میری عرفان
حرفِ خوش رنگ کو اندوہِ معانی کرتے
عرفان ستار

کہ جو کہیں بھی نہیں اُس کی جستجو کرتے

جنوں کے باب میں اس درجہ کیا غُلو کرتے
کہ جو کہیں بھی نہیں اُس کی جستجو کرتے
ہے ایسا حُسنِ مکمل بجز تمہارے کون
تمہارے بعد بھلا کس کی آرزو کرتے
نہیں ہے کوئی کہیں بھی ہمارے غم میں شریک
سو آئینے کے سِوا کس کو روبرو کرتے
جہاں سے روح میں آزار بھرتا جاتا ہے
وہ چاک جسم پہ ہوتا تو ہم رفو کرتے
عُدو کے تیر کی دل تک کہاں رسائی تھی
جو کام تم نے کیا ہے وہ کیا عُدو کرتے
حجاب مانع ہے ورنہ سخن پہ ہے وہ عبور
تمہارے حُسن کی تفسیر مُو بہ مُو کرتے
سخن ہجوم سے ہٹ کر کیا کرو عرفان
رہیں گے یہ تو اسی طرح ھاؤ ھُو کرتے
عرفان ستار