زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

ذرا سی دھوپ میں کچھ چاندنی کی آمیزش

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 40
نظر کی تیزی میں ہلکی ہنسی کی آمیزش
ذرا سی دھوپ میں کچھ چاندنی کی آمیزش
یہی تو وجہِ شکستِ وفا ہُوئی میری
خلوصِ عشق میں سادہ دلی کی آمیزش
مرے لیے ترے الطاف کی وہ اُجلی رُت
عذابِ مرگ میں تھی زندگی کی آمیزش
وہ چاند بن کے مرے جسم میں پگھلتا رہا
لُہو میں ہوتی گئی روشنی کی آمیزش
یہ کو ن بن میں بھٹکتا تھا جس کے نام پہ ہے
ہوائے دشت میں آشفتگی کی آمیزش
زمیں کے چہرے پہ بارش کے پہلے پیار کے بعد
خوشی کے ساتھ تھی حیرانگی کی آمیزش
سمندروں کی طرح میری آنکھ ساکت ہے
مگر سکوت میں کس بے کلی کی آمیزش
پروین شاکر

قریب آنے لگا دُوریوں کا موسم پھر

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 39
سکوں بھی خواب ہُوا، نیند بھی ہے کم کم پھر
قریب آنے لگا دُوریوں کا موسم پھر
بنا رہی ہے تری یاد مُجھ کو سلکِ کُہر
پرو گئی مری پلکوں میں آج شبنم پھر
وہ نرم لہجے میں کُچھ کہہ رہا ہے پھر مُجھ سے
چھڑا ہے پیار کے کومل سُروں میں مدھم پھر
تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سُنوں
اُلجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر
نہ اُس کی بات میں سمجھوں نہ وہ مری نظریں
معاملاتِ زباں ہو چلے ہیں مبہم پھر
یہ آنے والا نیا دُکھ بھی اُس کے سر ہی گیا
چٹخ گیا مری انگشتری کا نیلم پھر
وہ ایک لمحہ کہ جب سارے رنگ ایک ہوئے
کِسی بہار نے دیکھا نہ ایسا سنگم پھر
بہت عزیز ہیں آنکھیں مری اُسے، لیکن
وہ جاتے جاتےانہیں کر گیا ہے پُر نم پھر
پروین شاکر

حرف آتا ہے مسیحائی پر

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 38
کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر
حرف آتا ہے مسیحائی پر
اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو
پیار آنے لگا رُسوائی پر
ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں !
تیری تصویر کی زیبائی پر
رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی
قامتِ عشق کی رعنائی پر
سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں
آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر
ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا
بات ہو گی مرے ہرجائی پر
خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں
پُھول کی طرز پذیرائی پر
پروین شاکر

جنس نایاب ہو گئی شاید

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 37
نیند تو خواب ہو گئی شاید
جنس نایاب ہو گئی شاید
اپنے گھر کی طرح وہ لڑکی بھی
نذرِ سیلاب ہو گئی شاید
تجھ کو سوچوں تو روشنی دیکھوں
یاد ، مہتاب ہو گئی شاید
ایک مدت سے آنکھ روئی نہیں
جھیل پایاب ہو گئی شاید
ہجر کے پانیوں میں عشق کی ناؤ
کہیں غرقاب ہو گئی شاید
چند لوگوں کی دسترس میں ہے
زیست کم خواب ہو گئی شاید
پروین شاکر

ہجر کی شب اورایسا چاند؟

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 36
پُورا دکھ اور آدھا چاند!
ہجر کی شب اورایسا چاند؟
دن میں وحشت بہل گئی تھی
رات ہُوئی اور نکلا چاند
کس مقتل سے گزرا ہو گا
اِتنا سہما سہما چاند
یادوں کی آباد گلی میں
گھوم رہا ہے تنہا چاند
میری کروٹ پر جاگ اُٹھے
نیند کا کتنا کچا چاند
میرے مُنہ کو کس حیرت سے
دیکھ رہا ہے بھولا چاند
اِتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنہا ہو گا چاند
آنسو روکے نُور نہائے
دل دریا،تن صحرا چاند
اِتنے روشن چہرے پر بھی
سُورج کا ہے سایا چاند
جب پانی میں چہرہ دیکھا
تونے کِس کو سوچا چاند
برگد کی ایک شاخ ہٹا کر
جانے کس کو جھانکا چاند
بادل کے ریشم جُھولے میں
بھورسمے تک سویا چاند
رات کے شانوں پرسر رکھے
دیکھ رہا ہے سپنا چاند
سُوکھے پتوں کے جُھرمٹ پر
شبنم تھی یا ننّھا چاند
ہاتھ ہلا کر رخصت ہو گا
اُس کی صُورت ہجر کا چاند
صحر اصحرا بھٹک رہا ہے
اپنے عشق کا سچا چاند
رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہو گا میرا چاند
پروین شاکر

دست گُل پھیلا ہُوا ہے مرے آنچل کی طرح

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 35
پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
دست گُل پھیلا ہُوا ہے مرے آنچل کی طرح
کہہ رہا ہے کسی موسم کی کہانی اب تک
جسم برسات میں بھیگے ہُوئے جنگل کی طرح
اُونچی آواز میں اُس نے تو کبھی بات نہ کی
خفگیوں میں بھی وہ لہجہ رہا کومل کی طرح
مِل کے اُس شخص سے میں لاکھ خموشی سے چلوں
بول اُٹھتی ہے نظر، پاؤں کی چھاگل کی طرح
پاس جب تک وہ رہے ،درد تھما رہتا ہے
پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح
اَب کسی طور سے گھر جانے کی صُورت ہی نہیں
راستے میرے لیے ہو گئے دلدل کی طرح
جسم کے تیرہ و آسیب زدہ مندر میں
دل سِر شام سُلگ اُٹھتا ہے صندل کی طرح
پروین شاکر

بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 34
رقص میں رات ہے بدن کی طرح
بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح
چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ
میرے بستر کی ہر شکن کی طرح
چاک ہے دامن قبائےِ بہار
میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح
زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں
کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح
مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں
تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح
بار ہا تیرا انتظار کیا
اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح
پروین شاکر

دل پہ اُتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 33
گئے موسم میں جو کِھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اُتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسرکرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے،مرے خوابوں کی طرح
ساعتِ دید کے عارض ہیں گلابی اب تک
اولیں لمحوں کے گُلنار حجابوں کی طرح
وہ سمندر ہے توپھر رُوح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح
غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رِستے ہُوئے زخموں کے حسابوں کی طرح
یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہُوئی کتابوں کی طرح
کون جانے نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے،ترے دلچسپ جوابوں کی طرح
ہجر کی سب،مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوشبو ،مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح
پروین شاکر

مجھ میں اُتر گیا ہے وہ سرطان کی طرح

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 32
دشمن ہے اور ساتھ رہے جان کی طرح
مجھ میں اُتر گیا ہے وہ سرطان کی طرح
جکڑے ہُوئے ہے تن کو مرے ، اس کی آرزو
پھیلا ہُوا ہے جال سا شریان کی طرح
دیوار و در نے جس کے لیے ہجر کاٹے تھے
آیا تھا چند روز کو ، مہمان کی طرح
دکھ کی رُتوں میں پیڑ نے تنہا سفر کیا
پتّوں کو پہلے بھیج کے سامان کی طرح
گہرے خنک اندھیرے میں اُجلے تکلّفات
گھر کی فضا بھی ہو گئی شیزان کی طرح
ڈوبا ہُوا ہے حسنِ سخن میں سکوتِ شب
تارِ ربابِ رُوح میں کلیان کی طرح
آہنگ کے جمال میں انجیل کی دُعا
نرمی میں اپنی ، سورہ ءِ رحمان کی طرح
پروین شاکر

چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 31
آنکھوں سے میری، کون مرے خواب لے گیا
چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا
اِس شہرِ خوش جمال کو کِس کی لگی ہے آہ
کِس دل زدہ کا گریہ خونناب لے گیا
کُچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دُور تھا
کُچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا
واں شہر ڈُوبتے ہیں ، یہاں بحث کہ اُنہیں
خُم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا
کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید اُنہیں بہا کے کوئی خواب لے گیا
طوفان اَبر و باد میں سب گیت کھو گئے
جھونکا ہَوا کا ہاتھ سے مِضراب لے گیا
غیروں کی دشمنی نے نہ مارا،مگر ہمیں
اپنوں کے التفات کا زہر اب لے گیا
اے آنکھ!اب تو خواب کی دُنیا سے لوٹ آ
’’مژگاں تو کھول!شہر کو سیلاب لے گیا!
پروین شاکر

ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 30
چراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیا
ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا
میں پُھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہُوئی
وہ شخص آکے مرے شہر سے چلا بھی گیا
بہت عزیز سہی اُس کو میری دلداری
مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دُکھا بھی گیا
اب اُن دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں
وہ تاک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا
سب آئے میری عیادت کو، وہ بھی آیا
جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا
یہ غربتیں مری آنکھوں میں کسی اُتری ہیں
کہ خواب بھی مرے رُخصت ہیں ،رتجگا بھی گیا
پروین شاکر

اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 29
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم
ملبوسدلکو تن کا لبادہ نہیں کیا
جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیرِ بارِ ساغروبادہ نہیں کیا
کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اسنےبھی التفات زیادہ نہیں کیا
آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں
اتنابھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا
پروین شاکر

وہ رنگ رنگ میں اُترا، کرن کرن میں رہا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 28
وہ عکسِ موجہ ءِ گل تھا، چمن چمن میں رہا
وہ رنگ رنگ میں اُترا، کرن کرن میں رہا
وہ نام حاصلِ فن ہوکے میرے فن میں رہا
کہ رُوح بن کے مری سوچ کے بدن میں رہا
سکونِ دل کے لیے میں کہاں کہاں نہ گئی
مگر یہ دل، کہ سدا اُس کی انجمن میں رہا
وہ شہر والوں کے آگے کہیں مہذب تھا
وہ ایک شخص جو شہروں سے دُور بَن میں رہا
چراغ بجھتے رہے اور خواب جلتے رہے
عجیب طرز کا موسم مرے وطن میں رہا
پروین شاکر

نیند میں ساری رات چلتا رہا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 27
چاند میری طرح پگھلتا رہا
نیند میں ساری رات چلتا رہا
جانے کس دُکھ سے دل گرفتہ تھا
مُنہ پہ بادل کی راکھ ملتا رہا
میں تو پاؤں کے کانٹے چُنتی رہی
اور وہ راستہ بدلتا رہا
رات گلیوں میں جب بھٹکتی تھی
کوئی تو تھا جو ساتھ چلتا رہا
موسمی بیل تھی مَیں ، سُوکھ گئی
وہ تناور درخت، پَھلتا رہا
سَرد رُت میں ، مُسافروں کے لیے
پیڑ ، بن کر الاؤ ، جلتا رہا
دل ، مرے تن کا پُھول سا بچّہ
پتّھروں کے نگر میں پلتا رہا
نیند ہی نیند میں کھلونے لیے
خواب ہی خواب میں بہلتا رہا
پروین شاکر

بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 26
تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا
بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا
برہنہ شاخوں کا جنگل گڑا تھا آنکھوں میں
وہ رات تھی کہ کہیں چاند کا گزر ہی نہ تھا
تمھارے شہر کی ہر چھاؤں مہرباں تھی مگر
جہاں پہ دھوپ کھڑی تھی وہاں شجر ہی نہ تھا
سمیٹ لیتی شکستہ گلاب کی خوشبو
ہوا کے ہاتھ میں ایسا کوئی ہنر ہی نہ تھا
میں اتنے سانپوں کو رستے میں دیکھ آئی تھی
کہ ترے شہر میں پہنچی تو کوئی ڈر ہی نہ تھا
کہاں سے آتی کرن زندگی کے زنداں میں
وہ گھر ملا تھا مجھے جس میں کوئی در ہی نہ تھا
بدن میں پھیل گیا شرخ بیل کی مانند
وہ زخم سوکھتا کیا، جس کا چارہ گر ہی نہ تھا
ہوا کے لائے ہوئے بیج پھر ہوا میں گئے
کھلے تھے پھول کچھ ایسے کہ جن میں زر ہی نہ تھا
قدم تو ریت پہ ساحل نے بھی رکھنے دیا
بدن کو جکڑے ہوئے صرف اک بھنور ہی نہ تھا
پروین شاکر

سرطان مرا ستارا کب تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 25
یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
سرطان مرا ستارا کب تھا
لازم تھا گزرنا زندگی سے
بِن زہر پیئے گزارا کب تھا
کچھ پل مگر اور دیکھ سکتے
اشکوں کو مگر گوارا کب تھا
ہم خود بھی جُدائی کا سبب تھے
اُس کا ہی قصور سارا کب تھا
اب اور کے ساتھ ہے تو کیا دکھ
پہلے بھی وہ ہمارا کب تھا
اِک نام پہ زخم کھل اٹھے تھے
قاتل کی طرف اشارا کب تھا
آئے ہو تو روشنی ہوئی ہے
اس بام پہ کوئی تارا کب تھا
دیکھا ہوا گھر تھا پر کسی نے
دُلہن کی طرح سنوارا کب تھا
پروین شاکر

پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 24
وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا
اسے تو دوست ہاتھوں کی سُوجھ بوجھ بھی تھے
خطا نہ ہوتا کسی طور ، تیر ایسا تھا
پیام دینے کا موسم نہ ہم نوا پاکر
پلٹ گیا دبے پاؤں ، سفیر ایسا تھا
کسی بھی شاخ کے پیچھے پناہ لیتی میں
مجھے وہ توڑ ہی لیتا، شریر ایسا تھا
ہنسی کے رنگ بہت مہربان تھے لیکن
اُداسیوں سے ہی نبھتی ، خمیر ایسا تھا
ترا کمال کہ پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں
غزالِ شوق کہاں کا اسیر ایسا تھا!
پروین شاکر

وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 23
اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا
کہاں جاؤ گےمجھے چھوڑ کے، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گئی
وہ جواب مجھ کو دے نہ سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا
وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو پر کمال تھا
پروین شاکر

وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 22
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا
قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہُوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا
جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ،لُہو کو چناب کر دے گا
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا، اورلا جواب کر دے گا
اَنا پرست ہے اِتنا کہ بات سےپہلے
وہ اُٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا
سکوتِ شہرِ سخن میں وہ پُھول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا
اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی ا پنی
تُمھاری یاد کے نام اِنتساب کر دے گا
پروین شاکر

مسئلہ پُھول کا ہے ، پُھول کدھر جائے گا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 21
وہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پُھول کا ہے ، پُھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے ، بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا، گُزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہو گی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے ،اُتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جُرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
پروین شاکر

اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 20
جب سوزنِ ہوا میں پرویا ہو تارِ خوں
اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا
آنکھوں پہ آج چاند نے افشاں چُنی تو کیا
تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مِل چُکا
آئے ہوائے زرد کہ طوفان برف کا
مٹّی کی گود کر کے ہری ، پُھول کھِل چُکا
بارش نے ریشے ریشے میں رَس بھر دیا ہے اور
خوش ہے کہ یوں حسابِ کرم ہائے گِل چُکا
چُھو کر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے
کیا راستے سے لَوٹنا ، جب پاؤں چِھل چُکا
پروین شاکر

سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 19
شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا
تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا
ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا
جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا
اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا
سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے
جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا
ردا چھٹی مرے سر سے،مگر میں کیا کہتی
کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا
ملے تو ایسے،رگِ جاں کو جیسے چُھو آئے
جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا
کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے
بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا
میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ،مجھے خبر ہی نہ تھی
تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا
نہ دے سکا مجھے تعبیر،خواب تو بخشے
میں احترام کروں گی تری بڑائی کا
پروین شاکر

میرے دل پہ چھایا ہے میرے گھر کا سناٹا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 18
آنگنوں میں اُترا ہے بام و در کا سناٹا
میرے دل پہ چھایا ہے میرے گھر کا سناٹا
رات کی خموشی تو پھر بھی مہرباں نکلی
کِتنا جان لیوا ہے دوپہر کا سناٹا
صُبح میرے جُوڑے کی ہر کلی سلامت نکلی
گونجتا تھا خوشبو میں رات بھر کا سناٹا
اپنی دوست کو لے کر تم وہاں گئے ہو گے
مجھ کو پوچھتا ہو گا رہگزر کا سناٹا
خط کو چُوم کر اُس نے آنکھ سے لگایا تھا
کُل جواب تھا گویا لمحہ بھر کا سناٹا
تُونے اُس کی آنکھوں کو غور سے پڑھا قاصد!
کُچھ تو کہہ رہا ہو گا اُس نظر کا سناٹا
پروین شاکر

مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 17
دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا
مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا
اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اُس کو
کچھ تو لازم ہُوا وحشت کرنا
جُرم کس کا تھا سزا کِس کو مِلی
کیا گئی بات پہ حُجت کرنا
کون چاہے گا تمھیں میری طرح
اب کِسی سے نہ محبت کرنا
گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے
وقت مِل جائے تو زحمت کرنا
پروین شاکر

نیند کی جھیل پہ اِک خواب پرانا اُترا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 16
پانیوں پانیوں جب چاند کا ہالہ اُترا
نیند کی جھیل پہ اِک خواب پرانا اُترا
آزمائش میں کہاں عشق بھی پُورا اُترا
حسن کے آگے تو تقدیر کا لکھا اُترا
دُھوپ ڈھلنے لگی،دیوار سے سایا اُترا
سطح ہموار ہُوئی،پیار کا دریا اُترا
یاد سے نام مٹا،ذہن سے چہرہ اُترا
چند لمحوں میں نظر سے تری کیا کیا اُترا
آج کی شب میں پریشاں ہوں تو یوں لگتا ہے
آج مہتاب کا چہرہ بھی ہے اُترا اُترا
میری وحشت رمِ آہو سے کہیں بڑھ کر تھی
جب مری ذات میں تنہائی کا صحرا اُترا
اِک شبِ غم کے اندھیرے پہ نہیں ہے موقوف
تونے جو زخم لگایا ہے وہ گہرا اُترا
پروین شاکر

میں جانتی تھی، پال رہی ہوں سنپولیے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 15
ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کِس سے بولیے
میں جانتی تھی، پال رہی ہوں سنپولیے
بس یہ ہُوا کہ اُس نے تکلّف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے
پلکوں پہ کچی نیندوں کا رَس پھیلتا ہو جب
ایسے میں آنکھ دُھوپ کے رُخ کیسے کھولیے
تیری برہنہ پائی کے دُکھ بانٹتے ہُوئے
ہم نے خُود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے
میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی
سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے!
’’خوشبو کہیں نہ جائے‘‘ یہ اصرار ہے بہت
اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زُلف کھولیے
تصویر جب نئی ہے ، نیا کینوس بھی ہے
پھر طشتری میں رنگ پُرانے نہ گھولیے
پروین شاکر

برسات میں بھی یاد نہ جب اُن کو ہم آئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 14
اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے
برسات میں بھی یاد نہ جب اُن کو ہم آئے
مٹّی کی مہک سانس کی خوشبو میں اُتر کر
بھیگے ہوئے سبزے کی ترائی میں بُلائے
دریا کی طرح موج میں آئی ہُوئی برکھا
زردائی ہُوئی رُت کو ہرا رنگ پلائے
بوندوں کی چھما چھم سے بدن کانپ رہا ہے
اور مست ہوا رقص کی لَے تیز کیے جائے
شاخیں ہیں تو وہ رقص میں ، پتّے ہیں تو رم میں
پانی کا نشہ ہے کہ درختوں کو چڑھا جائے
ہر لہر کے پاؤں سے لپٹنے لگے گھنگھرو
بارش کی ہنسی تال پہ پا زیب جو چھنکائے
انگور کی بیلوں پہ اُتر آئے ستارے
رکتی ہوئی بارش نے بھی کیا رنگ دکھائے
پروین شاکر

ذرا سی دُھوپ نکل آئی اور ماند ہُوئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 13
میں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہُوئی
ذرا سی دُھوپ نکل آئی اور ماند ہُوئی
حدودِ رقص سے آگے نکل گئی تھی کبھی
سو مورنی کی طرح عمر بھر کو راند ہوئی
مہِ تمام ! ابھی چھت پہ کون آیا تھا
کہ جس کے آگے تری روشنی بھی ماند ہوئی
ٹکے کا چارہ نہ گیّا کو زندگی میں دیا
جو مر گئی ہے تو سونے کے مول ناند ہوئی
نہ پُوچھ ، کیوں اُسے جنگل کی رات اچھی لگی
وہ لڑکی تھی جو کہ کبھی تیرے گھر کا چاند ہوئی
پروین شاکر

اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 12
ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ
اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ
ہَوا! مرے جُوڑے میں پُھول سجاتی جا
دیکھ رہی ہوں اپنے من موہن کی راہ
اُس کی خفگی جاڑے کی نرماتی دُھوپ
پاروسکھی! اس حّدت کو ہنس کھیل کے سہہ
آج تو سچ مچ کے شہزادے آئیں گے
نندیا پیاری! آج نہ کُچھ پریوں کی کہہ
دوپہروں میں جب گہرا سناٹا ہو
شاخوں شاخوں موجِ ہَوا کی صُورت بہہ
پروین شاکر

کشش بچھانے لگا ہے ہر اگلا سیارہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 11
زمیں کے حلقے سے نکلا تو چاند پچھتایا
کشش بچھانے لگا ہے ہر اگلا سیارہ
میں پانیوں کی مسافر ، وہ آسمانوں کا
کہاں سے ربط بڑھائیں کہ درمیاں ہے خلا
بچھڑتے وقت دلوں کو اگرچہ دُکھ تو ہُوا
کُھلی فضا میں مگر سانس لینا اچھا ہو گا
جو صرف رُوح تھا ، فرقت میں بھی ، وصال میں بھی
اُسے بدن کے اثر سے رہا تو ہونا تھا
گئے دنوں جو تھا ذہن و جسم کی لذّت
وہی وصال طبیعت کا جبر بننے لگا
چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو
ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا
برس سکے تو برس جائے اس گھڑی ، ورنہ
بکھیر ڈالے گی بادل کے سارے خواب ، ہوا
پروین شاکر

سیلاب کی سماعتیں ، آندھی کو رہن تھیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 10
کیا ڈوبتے ہَوؤں کی صدائیں سمیٹتیں
سیلاب کی سماعتیں ، آندھی کو رہن تھیں
کائی کی طرح لاشیں چٹانوں پہ اُگ گئیں
زر خیزیوں سے اپنی پریشان تھی زمیں
پیڑوں کا ظرف وہ کہ جڑیں تک نکال دیں
پانی کی پیاس ایسی کہ بجھتی نہ تھی کہیں
بچوں کے خواب پی کے بھی حلقوم خشک تھے
دریا کی تشنگی میں بڑی وحشتیں رہیں
بارش کے ہاتھ چُنتے رہے بستیوں سے خواب
نیندیں ہوائے تُند کی موجوں کو بھا گئیں
ملبے سے ہر مکان کے ، نکلے ہوئے تھے ہاتھ
آندھی کو تھامنے کی بڑی کوششیں ہوئیں
تعویذ والے ہاتھ مگر مچھ کے پاس تھے
تہہ سے ، دُعا لکھی ہُوئی پیشانیاں تھیں
موجوں کے ساتھ سانپ بھی پھنکارنے لگے
جنگل کی وحشتیں بھی سمندر سے مل گئیں
بس رقص پانیوں کا تھا وحشت کے راگ پر
دریا کو سب دھنیں تو ہَواؤں نے لکھ کے دیں
پروین شاکر

آسمانوں پہ کہیں تنگ نہ ہو جائے زمیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 9
ذرے سرکش ہُوئے ، کہنے میں ہوائیں بھی نہیں
آسمانوں پہ کہیں تنگ نہ ہو جائے زمیں
آ کے دیوار پہ بیٹھی تھیں کہ پھر اُڑ نہ سکیں
تتلیاں بانجھ مناظر میں نظر بند ہُوئیں
پیڑ کی سانسوں میں چڑیا کا بدن کھنچتا گیا
نبض رُکتی گئی ، شاخوں کی رگیں کھلتی گئیں
ٹوٹ کر اپنی اُڑانوں سے ، پرندے آئے
سانپ کی آنکھیں درختوں پہ بھی اب اُگنے لگیں
شاخ در شاخ اُلجھتی ہیں رگیں پَیڑوں کی
سانپ سے دوستی ، جنگل میں نہ بھٹکائے کہیں
گود لے لی ہے چٹانوں نے سمندر سے نمی
جھوٹے پُھولوں کے درختوں پہ بھی خوشبوئیں ٹکیں
پروین شاکر

آؤ کوئی زخم گر تلاشیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 8
مرجھانے لگی ہیں پھر خراشیں
آؤ کوئی زخم گر تلاشیں
ملبوس برہنہ کھیتوں کے
پیراہنِ اَبر سے تراشیں
بادل ہیں کہ نیلی طشتری میں
رقصاں ہیں سفید یوں کی قاشیں
پیڑوں کی قبا ہی تھی قیامت
اوراُس پہ بہار کی تراشیں
تاروں کی تو چال اور ہی تھی
جیتا کیے ہم اگرچہ تاشیں
اہرام ہے یا کہ شہر میرا
انسان ہیں یا حنوط لاشیں
سڑکوں پہ رواں ، یہ آدمی ہیں
یا نیند میں چل رہی ہیں لاشیں
پروین شاکر

ہَوا ہوں ، اپنی گرہیں آپ کھولوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 7
نہ قرضِ ناخنِ گُل ، نام کو لُوں
ہَوا ہوں ، اپنی گرہیں آپ کھولوں
تری خوشبو بچھڑ جانے سے پہلے
میں اپنے آپ میں تجھ کو سمولوں
کُھلی آنکھوں سے سپنے قرض لے کر
تری تنہائیوں میں رنگ گھولوں
ملے گی آنسوؤں سے تن کو ٹھنڈک
بڑی لُو ہے ، ذرا آنچل بھگو لوں
وہ اب میری ضرورت بن گیا ہے
کہاں ممکن رہا ، اُس سے نہ بولوں
میں چڑیا کی طرح ، دن بھر تھکی ہوں
ہُوئی ہے شام تو کُچھ دیر سولوں
چلوں مقتل سے اپنے شام ، لیکن
میں پہلے اپنے پیاروں کو تو رولوں
مرا نوحہ کناں کوئی نہیں ہے
سو اپنے سوگ میں خُود بال کھولوں
پروین شاکر

کس مان پہ تجھ کو آزماؤں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 6
اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
کس مان پہ تجھ کو آزماؤں
زخم اب کے تو سامنے سے کھاؤں
دشمن سے نہ دوستی بڑھاؤں
تتلی کی طرح جو اُڑ چکا ہے
وہ لمحہ کہاں سے کھوج لاؤں
گروی ہیں سماعتیں بھی اب تو
کیا تیری صدا کو منہ دکھاؤں
اے میرے لیے نہ دُکھنے والے!
کیسے ترے دُکھ سمیٹ لاؤں
یوں تیری شناخت مجھ میں اُترے
پہچان تک اپنی بُھول جاؤں
تیرے ہی بھلے کو چاہتی ہوں
میں تجھ کو کبھی نہ یاد آؤں
قامت سے بڑی صلیب پاکر
دُکھ کو کیوں کر گلے لگاؤں
دیوار سے بیل بڑھ گئی ہے
پھر کیوں نہ ہَوا میں پھیل جاؤں
پروین شاکر

تمام رات میں یاقوت چُن رہی تھی مگر

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 5
چراغِ ماہ لیے تجھ کو ڈھونڈتی گھر گھر
تمام رات میں یاقوت چُن رہی تھی مگر
یہ کیا کہ تری خوشبو کا صرف ذکر سُنوں
توعکسِ موجہ ءِ گُل ہے تو جسم وجاں میں اُتر
ذرا یہ حبس کٹے،کُھل کے سانس لے پاؤں
کوئی ہوا تو رواں ہو، صبا ہو یا صَر صَر
گئے دنوں کے تعاقب میں تتلیوں کی طرح
ترے خیال کے ہمراہ کر رہی ہوں سفر
ٹھہر گئے ہیں قدم،راستے بھی ختم ہُوئے
مسافتیں رگ وپے میں اُتر رہی ہیں مگر
میں سوچتی تھی،ترا قرب کچھ سکوں دے گا
اُداسیاں ہیں کہ کُچھ اور بڑھ گئیں مِل کر
ترا خیال،کہ ہے تارِ عنکبوت تمام
مرا وجود،کہ جیسے کوئی پُرانا کھنڈر
پروین شاکر

آئی ہے عجب گھڑی وفا پر

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 4
مٹّی کی گواہی خوں سے بڑھ کر
آئی ہے عجب گھڑی وفا پر
کس خاک کی کوکھ سے جنم لیں
آئے ہیں جو اپنے بیج کھوکر
کانٹا بھی یہاں کا برگِ تر ہے
باہر کی کلی ببول ، تھوہر
قلموں سے لگے ہُوئے شجر ہم
پل بھر میں ہوں کِس طرح ثمر ور
کچھ پیڑ زمین چاہتے ہیں
بیلیں تو نہیں اُگیں ہوا پر
اس نسل کا ذہن کٹ رہا ہے
اگلوں نے کٹائے تھے فقط سر
پتّھر بھی بہت حسیں ہیں لیکن
مٹّی سے ہی بن سکیں گے کچھ گھر
ہر عشق گواہ ڈھونڈتا ہے
جیسے کہ نہیں یقیں خود پر
بس اُن کے لیے نہیں جزیرہ
پَیر آئے جو کھولتے سمندر
پروین شاکر

فرد فرد

متفرق اشعار
خُوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے
موجِ ہَوا کے ہاتھ میں اس کا سُراغ ہے

ہمیں خبر ہے ،ہَوا کا مزاج رکھتے ہو
مگر یہ کیا ، کہ ذرا دیر کو رُکے بھی نہیں

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
میرے ہاتھوں کی لکیروں سے اُلجھ جاتی ہیں

میں جب بھی چاہوں ، اُسے چھُو کے دیکھ سکتی ہوں
مگر وہ شخص کہ لگتا ہے اب بھی خواب ایسا

ہمارے عہد میں شاعر کے نرخ کیوں نہ بڑھیں
امیرِ شہر کو لاحق ہُوئی سخن فہمی

گھر کی ویرانی کی دوست
دیواروں پر اُگتی گھاس

حال پوُچھا تھا اُس نے ابھی
اور آنسو رواں ہو گئے

لو! میں آنکھیں بند کیے لیتی ہوں ، اب تم رخصت ہو
دل تو جانے کیا کہتا ہے،لیکن دل کا کہنا کیا
پروین شاکر

میں راہ دیکھتی رہی وہ راستہ بدل گیا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 2
تمام رات میرے گھر کا ایک در کُھلا رہا
میں راہ دیکھتی رہی وہ راستہ بدل گیا
وہ شہر ہے کہ جادوگرنیوں کا کوئی دیس ہے
وہاں تو جوگیا،کبھی بھی لوٹ کر نہ آسکا
میں وجہِ ترکِ دوستی کو سُن کر مُسکرائی تو
وہ چونک اُٹھا۔عجب نظر سے مجھ کو دیکھنے لگا
بچھڑ کے مُجھ سے، خلق کو عزیز ہو گیا ہے تُو
مجھے تو جو کوئی ملا، تجھی کو پُوچھتا رہا
وہ دلنواز لمحے بھی گئی رُتوں میں آئے۔جب
میں خواب دیکھتی رہی، وہ مجھ کو دیکھتا رہا
وہ جس کی ایک پل کی بے رُخی بھی دل کو بار تھی
اُسے خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔مجھ کو بُھول جا
دمک رہا ہے ایک چاند سا جبیں پہ اب تلک
گریزپا محبتوں کا کوئی پل ٹھہر گیا
پروین شاکر

براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 1
وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا
براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا
وہ شہر چھوڑ کے جانا تو کب سے چاہتا تھا
یہ نوکری کا بُلاوا تو اِک بہانہ ہوا
خُدا کرے تری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں
یہ آنکھیں جن کو کبھی دُکھ کا حوصلہ نہ ہُوا
کنارِ صحن چمن سبز بیل کے نیچے
وہ روز صبح کا مِلنا تو اَب فسانہ ہُوا
میں سوچتی ہوں کہ مُجھ میں کمی تھی کِس شے کی
کہ سب کا ہوکے رہا وہ، بس اِک مرا نہ ہُوا
کِسے بُلاتی ہیں آنگن کی چمپئی شامیں
کہ وہ اَب اپنے نئے گھر میں بھی پرانا ہُوا
دھنک کے رنگ میں ساری تو رنگ لی میں نے
اب یہ دُکھ ، کہ پہن کرکِسے دِکھاناہُوا
میں اپنے کانوں میں بیلے کے پُھول کیوں پہنوں
زبانِ رنگ سے کِس کو مُجھے بُلانا ہُوا
پروین شاکر

فرد فرد

منانے کو مجھے آئے ہو دشمن سے خفا ہو کر
وفاداری کے وعدے کر رہے ہو بے وفا ہو کر
نہ ابھری گردشِ تقدیر سے یہ ڈوبتی کشتی
میں خود شرما گیا منت گزارِ ناخدا ہو کر

ضد ہے ساقی سے کہ بھر دے میرا پیمانہ ابھی
شیخ صاحب سیکھیئے آدابِ میخانہ ابھی
باغباں توہینِ گلشن چار تنکوں کے لئے
برق سے کہہ دے بنا جاتا ہے کاشانہ ابھی

یہ مانا برق کے شعلے مرا گھر پھونک کر جاتے
مگر کچھ حادثے پھولوں کے اوپر بھی گزر جاتے
مرے کہنے سے گر اے ہم قفس خاموش ہو جاتا
نہ تیرے بال و پَر جاتے نہ میرے بال و پر جاتے
قمر جلالوی

وہ میرے سامنے تھے مگر کچھ نہ پوچھیے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 145
ان کی تجلیوں کا اشر کچھ نہ پوچھیے
وہ میرے سامنے تھے مگر کچھ نہ پوچھیے
از شامِ ہجر تا بہ سحر کچھ نہ پوچھیے
کٹتے ہیں کیسے چار پہر کچھ نہ پوچھیے
بجلی جو شاخ، گل پہ گری اس کا غم نہیں
لیکن وہ اک غریب کا گھر کچھ نہ پوچھیے
ہو ایک راستہ تو کوئی ڈھونڈے انھیں
کتنی ہے ان کی راہگزر کچھ نہ پوچھیے
تنکے وہ نرم نرم سے پھولوں کی چھاؤں میں
کیسا بنا تھا باغ میں گھر کچھ نہ پوچھیے
بس آپ دیکھ جایئے صورت مریض کی
نبضوں کا حال دردِ جگر کچھ نہ پوچھیے
جب چاندنی میں آ کے ہوئے تو وہ میہماں
تاروں بھری وہ رات قمر کچھ نہ پوچھیے
قمر جلالوی

سوئے در دیکھا تو پہروں سوئے در دیکھا کیے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 144
ان کے جاتے ہی وحشت کا اثر دیکھا کیے
سوئے در دیکھا تو پہروں سوئے در دیکھا کیے
دل کو وہ کیا دیکھتے سوزِ جگر دیکھا کیے
لگ رہی تھی آگ جس گھر میں وہ گھر دیکھا کیے
ان کی محفل میں انھیں سب رات بھر دیکھا کیے
ایک ہم ہی تھے کہ اک اک کی نظر دیکھا کیے
تم سرہانے سے گھڑی بھر کے لیئے منہ پھیر لو
دم نہ نکلے گا مری صورت اگر دیکھا کیے
میں کچھ اس حالت سے ان کے سامنے پہنچا کہ وہ
گو مری صورت سے نفرت تھی مگر دیکھا کیے
فائدہ کیا ایسی شرکت سے عدو کی بزم میں
تم ادھر دیکھا کیے اور ہم ادھر دیکھا کیے
شام سے یہ تھی ترے بیمار کی حالت کہ لوگ
رات بھر اٹھ اٹھ کے آثار سحر دیکھا کیے
بس ہی کیا تھا بے زباں کہتے ہی کیا صیاد سے
یاس کی نظروں سے مڑ کر اپنا گھر دیکھا کیے
موت آ کر سامنے سے لے گئی بیمار کو
دیکھئے چارہ گروں کو چارہ گر دیکھا کیے
رات بھر تڑپا کیا ہے دردِ فرقت سے قمر
پوچھ تاروں سے تارے رات بھر دیکھا کیے
قمر جلالوی

رونق گلستاں میں نہ آئی کمی پھول آتے رہے پھول جاتے رہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 143
فصلِ گلشن وہی فصلِ گلشن رہی لاکھ گلچیں ستم روز ڈھاتے رہے
رونق گلستاں میں نہ آئی کمی پھول آتے رہے پھول جاتے رہے
یوں نہ اہلِ محبت کو برباد کر ختم ہو جائیں گی حسن کی منتیں
کون پھر تیرے قدموں پہ رکھے گا سر ہم اگر تیرے ہاتھوں سے جاتے رہے
جرأتِ عشقِ گلشن ذرا دیکھئے سر پہ دیکھی بلا اور پرو نہ کی
برق ادھر آسماں پر چمکتی رہی ہم ادھر آشیانہ بناتے رہے
اف پسِ قتل وہ عالمِ بے کسی کوئی مصروفِ ماتم نہ گور و کفن
لاش جب تک مری رہگزر میں رہی راستہ چھوڑ کر لوگ جاتے رہے
ہجر کی رات ہے مانگئے یہ دعا ابر چھا جائے اندازۂ شب نہ ہو
اے قمر صبح دشوار ہو جائے گی یہ ستارے اگر جگمگاتے رہے
قمر جلالوی

آپ کیا کہہ کہ ہمیں لائے تھے کچھ یاد بھی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 142
یہ جفائیں تو وہی ہیں وہی بیداد بھی ہے
آپ کیا کہہ کہ ہمیں لائے تھے کچھ یاد بھی ہے
کیوں قفس والوں پہ الزامِ فغاں ہے ناحق
ان میں صیاد کوئی قابلِ فریاد بھی ہے
آشیاں کی خبر تجھ کو نہیں ہے نہ سہی
یہ تو صیاد بتا دے چمن آباد بھی ہے
اپنے رہنے کو مکاں لے لیئے تم نے لیکن
یہ نہ سوچا کہ کوئی خانماں برباد بھی ہے
کارواں لے کے تو چلتا ہے مگر یہ تو بتا
راہِ منزل تجھے اے راہ نما یاد بھی ہے
تو حقارت سے جنہیں دیکھ رہا ساقی
کچھ انھیں لوگوں سے یہ میکدہ آباد بھی ہے
اِک تو حق دارِ نوازش ہے قمر خانہ خراب
دوسرے مملکتِ پاکِ خدا داد بھی ہے
قمر جلالوی

دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 141
جوں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے
دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے
وہ میرا نام لکھتے وقت روئے ہوں گے اے قاصد
یہاں آنسو گرے ہوں گے جہاں تحریر بگڑی ہے
مصور اپنی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی
میں ایسا ہو گیا ہوں یا مری تصویر بگڑی ہے
چلا میں توڑ کر جب بابِ زنداں غل مچا ڈالے
متی باتوں پہ کیا کیا پاؤں کی زنجیر بگڑی ہے
لٹا ہے کارواں جب آ چکی ہے سامنے منزل
کہاں ٹوٹیں امیدیں اور کہاں تقدیر بگڑی ہے
کیا ہے ہر کڑی کو میں نے ٹیڑھا جوشِ وحشت میں
مرے ہاتھوں ہی میرے پاؤں کی زنجیر بگڑی ہے
قمر اچھا نہیں گیسو رخِ روشن پہ آ جانا
گہن جب بھی لگا ہے چاند کی تنویر بگڑی ہے
قمر جلالوی

کس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 140
اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے
کس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے
مسکرا کر مجھے یوں دیکھ کے دھوکا تو دو
جانتا ہوں جو محبت کی نظر ہوتی ہے
تم کیا چیز ہو کونین سمٹ آتے ہیں
ایک وہ بھی کششِ ذوقِ نظر ہوتی ہے
آئینہ دیکھنے والے یہ خبر ہے تجھ کو
کبھی انسان پہ اپنی ہی نظر ہوتی ہے
تم مرے سامنے گیسو کو سنوارا نہ کرو
تم تو اٹھ جاتے ہو دنیا مرے سر ہوتی ہے
عشق میں وجہ تباہی نہیں ہوتا کوئی
اپنا دل ہوتا ہے یا اپنی نظر ہوتی ہے
نزع میں سامنے بیمار کے تم بھی آؤ
یہ وہ عالم ہے اک اک پہ نظر ہوتی ہے
دل تڑپتا ہے تو پھر جاتی ہے موت آنکھوں میں
کس غضب کی خلشِ تیرِ نظر ہوتی ہے
جان دے دیں گے کسی دامنِ صحرا میں قمر
مر گیا کون کہاں کس کو خبر ہوتی ہے
قمر جلالوی

مایوس نظر ہے در کی طرف اور جان نکلی جاتی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 139
سانس ان کے مریضِ حسرت کی رک رک کے چلی جاتی ہے
مایوس نظر ہے در کی طرف اور جان نکلی جاتی ہے
چہرے سے سرکتی جاتی ہے زلف ان کی خواب کے عالم میں
وہ ہیں کہ ابھی تک ہوش نہیں اور شب ہے کہ ڈھلی جاتی ہے
اللہ خبر بجلی کو نہ ہو گلچیں کی نگاہِ بد نہ پڑے
جس شاخ پہ تنکے رکھے ہیں وہ پھولتی پھلتی جاتی ہے
عارض پہ نمایاں خال ہوئے پھر سبزۂ خط آغاز ہوا
قرآں تو حقیقت میں ہے وہی تفسیر بدلتی جاتی ہے
توہینِ محبت بھی نہ رہی وہ جورو ستم بھی چھوٹ گئے
پہلے کی بہ نسبت حسن کی اب ہر بات بدلتی جاتی ہے
لاج اپنی مسیحا نے رکھ لی مرنے نہ دیا بیماروں کو
جو موت نہ ٹلنے والی تھی وہ موت بھی ٹلتی جاتی ہے
ہے بزمِ جہاں میں ناممکن بے عشق سلامت حسن رہے
پروانے تو جل کر خاک ہوئے اب شمع بھی جلتی جاتی ہے
شکوہ بھی اگر میں کرتا ہوں تو جورِ فلک کا کرتا ہوں
بے وجہ قمر تاروں کی نظر کیوں مجھ سے بدلتی جاتی ہے
قمر جلالوی

سرِ بزم پہلو میں بیٹھا ہے دشمن قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 138
کسی نو گرفتارِ الفت کے دل پر یہ آفت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
سرِ بزم پہلو میں بیٹھا ہے دشمن قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
عدو کی شکایت سنے جا رہے ہو نہ برہم طبیعت نہ بل ابروؤں پر
نظر نیچی نیچی لبوں پر تبسم محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
مری قبر ٹھوکر سے ٹھکرا رہا ہے پسِ مرگ ہوتی ہے برباد مٹی
ترے دل میں میری طرف سے سِتمگر کدورت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
بتِ خود نما اور کیا چاہتا ہے تجھے اب بھی شک ہے خدا ماننے میں
ترے سنگِ در پر جبیں میں نے رکھ دی عبادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
رقیبوں نے کی اور تمھاری شکایت خدا سے ڈرو جھوٹ کیوں بولتے ہو
رقیبوں کے گھر میرا آنا نہ جانا یہ تہمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کبھی ہے جگر میں خلش، ہلکی ہلکی، کبھی درد پہلو میں ہے میٹھا میٹھا
میں پہروں شبِ غم یہی سوچتا ہوں محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کوئی دم کا مہماں ہے بیمارِ فرقت تم ایسے میں بیکار بیٹھے ہوئے ہو
پھر اس پر یہ کہتے ہو فرصت نہیں ہے یہ فرصت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
ترے در پہ بے گور کب سے پڑا ہوں نہ فکرِ کفن ہے نہ سامانِ ماتم
اٹھاتا نہیں کوئی بھی میری میت یہ غربت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
میں ان سب میں اک امتیازی نشان ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارے
قمر بزمِ انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
قمر جلالوی

یہ ستم اور بھی بالائے ستم ہوتا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 137
وہ ستا کر مجھے کہتے ہیں کہ غم ہوتا ہے
یہ ستم اور بھی بالائے ستم ہوتا ہے
جل کر مرنا بھی بڑا کارِ اہم ہوتا ہے
یہ تو اک چھوٹے سے پروانے کا دم ہوتا ہے
قصۂ برہمن و شیخ کو بس رہنے دو
آج تک فیصلۂ دیر و حرم ہوتا ہے
گر حسیں دل میں نہ ہوں عظمت دل بڑھ جائے
بت کدہ تو انھیں باتوں سے حرم ہوتا ہے
پھونک اے آتشِ گل ورنہ تری بات گئی
آشیاں برق کا ممنونِ کرم ہوتا ہے
چارہ گر میں تری خاطر سے کہے دیتا ہوں
درد ہوتا ہے مگر پہلے سے کم ہوتا ہے
ہجر کی رات بھی ہوتی ہے عجب رات قمر
تارے ہنستے ہیں فلک پر مجھے غم ہوتا ہے
قمر جلالوی

عالمِ گردشِ ایام بدل جاتا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 136
مے کدے میں جو کوئی جام بدل جاتا ہے
عالمِ گردشِ ایام بدل جاتا ہے
شامِ فرقت وہ قیامت ہے کہ اللہ بچائے
صبح کو آدمی کا نام بدل جاتا ہے
ہم اسے پہلی محبت کی نظر کہتے ہیں
جس کے آغاز کا انجام بدل جاتا ہے
نامہ بر ان کی زباں کے تو یہ الفاظ نہیں
راستے میں کہیں پیغام بدل جاتا ہے
خواب میں رخ پہ آ جاتے ہیں ان کے گیسو
انتظامِ سحر و شام بدل جاتا ہے
تم جواں ہے کے وہی غنچہ دہن ہو یہ کیا
جب کلی کھلتی ہے تو نام بدل جاتا ہے
اے قمر ہجر کی شب کاٹ تو لیتا ہوں مگر
رنگ چہرے کا سرِ شام بدل جاتا ہے
قمر جلالوی

یہ نشیمن تو ہے کیا طور بھی جل جاتا ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 135
باغباں برق کا جب طور بدل جاتا ہے
یہ نشیمن تو ہے کیا طور بھی جل جاتا ہے
کچھ وہ کہہ دیتے ہیں بیمار سنبھل جاتا ہے
وقت کا ٹالنے والا ہو تو ٹل جاتا ہے
عشق اور حسن سے مانوس یہ کیسے مانیں
شمع کو دیکھ کہ پروانہ تو جل جاتا ہے
کون ساحل پہ دعا مانگ رہا ہے یا رب
بچ کے طوفان مری کشتی سے نکل جاتا ہے
اب بھی سنبھلا نہیں او ٹھوکریں کھانے والے
ٹھوکریں کھا کہ تو انسان سنبھل جاتا ہے
ہجر کی رات ہے وہ رات کہ یا رب توبہ
شام سے صبح تک انسان بدل جاتا ہے
یاس و امید کا عالم ہے یہ شامِ وعدہ
کبھی بجھتا ہے چراغ اور کبھی جل جاتا ہے
عہد کرتے ہیں کہ اب ان سے ملیں گے نہ قمر
کیا کریں دیکھ کہ دل ان کو مچل جاتا ہے
قمر جلالوی

تجھ سے میں شرماؤں یا تو مجھ سے شرمائے ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 134
دیکھو محشر میں کس کی بات رکھی جائے ہے
تجھ سے میں شرماؤں یا تو مجھ سے شرمائے ہے
ہجر سے تنگ آنے والے ایسا کیوں گھبرائے ہے
موت سے پہلے کیا تجھے موت آئی جائے ہے
تو نے تڑپایا مجھے دشمن تجھے تڑپائے ہے
میں تو یہ جانوں ہوں جو جیسے کرے ہے پائے ہے
میں کسی سے بولوں چالوں بھی تو ہے میری خطا
کیا بگاڑوں ہوں تری محفل کا کیوں اٹھوائے ہے
ناصحا مجھ سے نہ کہیو یار کے گھر کو نہ جا
میں تری سمجھوں ہوں باتیں کیوں مجھے سمجھائے ہے
غیر کے کہنے پہ مت آ، ٹک مری حالت تو دیکھ
کیا تری محفل سے اٹھوں دل تو بیٹھا جائے ہے
اور بھرنی ہیں تصور میں ابھی رنگینیاں
دردِ دل تھم جا کہ اب تصویر بگڑی جائے ہے
کِن خیالوں سے یہ کاٹے ہے قمر فرقت کی رات
روتا بھی جائے ہے اور تارے بھی گنتا جائے ہے
قمر جلالوی

نگاہِ شوق جب تصویر ان کی کھینچ لائی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 133
انھیں پردے کی اب سوجھی ہے اب صورت چھپائی ہے
نگاہِ شوق جب تصویر ان کی کھینچ لائی ہے
وہ یکتا حسن میں ہو کر کہیں آگے نہ بڑھ جائیں
خدا بننے میں کیا ہے جب کہ قبضہ میں خدائی ہے
خبر بھی ہے زمانہ اب سلامت رہ نہیں سکتا
جوانی تجھ پہ او ظالم قیامت بن کے آئی ہے
یہی دن تھے یہی عالم تھا بجلی ٹوٹ پڑنے کا
چمن کی خیر ہو یا رب ہنسی پھولوں کو آئی ہے
ہمارا آشیاں دیکھو بلندیِ فلک دیکھو
کہاں سے چار تنکے پھونکنے کو برق آئی ہے
یہاں تک پڑ چکے ہیں وقت مایوسِ تمنا پر
تری تصویر کو رودادِ شامِ غم سنائی ہے
اڑا لے ہم غریبوں کا مذاق آخر کو زر والے
ترے رونے پہ اے شبنم ہنسی پھولوں کو آئی ہے
تم اپنا حسن دیکھو اپنی فطرت پہ نظر ڈالو
گریباں دیکھ کر کہتے ہو کیا صورت بنائی ہے
قمر ان کو تو مستحکم ہے وعدہ شب کو آنے کا
نہ جانے کیوں اداسی شام سے تاروں پہ چھائی ہے
قمر جلالوی

اللہ خیر ہو کہ نئی واردات ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 132
ان کے لبوں پہ آج محبت کی بات ہے
اللہ خیر ہو کہ نئی واردات ہے
صرف اک امیدِ وعدہ پہ قائم حیات ہے
محشر میں تم ملو گے قیامت کی بات ہے
آخر بشر ہوں ہو گیا جرمِ وفا تو کیا
کوئی خطا نہ ہو یہ فرشتے کی بات ہے
قمر جلالوی

میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 131
سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے
میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے
نامہ بر ان سے کہنا نزع کا ہنگام ہے
ابتدائے خط نہیں یہ آخری پیغام ہے
چارہ گر میرے سکوں پر یہ نہ کہہ آرام ہے
اضطرابِ دل نہ ہونا موت کا پیغام ہے
ان کے جاتے ہی مری آنکھوں میں دنیا ہے سیاہ
اب نہیں معلوم ہوتا صبح ہے یا شام ہے
قافلے سے چھوٹنے والے ابھی منزل کہاں
دور تک سنسان جنگل ہے پھر آگے شام ہے
آپ کیوں پردے سے نکلے آپ پردے میں رہیں
آپ کو مشہور کر دینا ہمارا کام ہے
دیدۂ بیمار میں ہے اشکِ آخر کی جھلک
اے قمر تارا نکل آنا دلیلِ شام ہے
قمر جلالوی

ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 130
عالم تجھ کو دیکھ رہا ہے کوئی کب پہچانے ہے
ذرے تک میں تو ہی تو ہے خاک زمانہ چھانے ہے
چھاننے دو دیوانہ ان کا خاک جو در در چھانے ہے
کوئی کسی کو کیا سمجھائے کون کسی کی مانے ہے
میں اور مے خانے میں بیٹھا شیخ ارے ٹک توبہ کر
مردِ خدا میں جانوں نہ تانوں مجھ کو تو کیوں سانے ہے
مے خانے میں دنیا دنیا آئے دنیا سے کچھ کام نہیں
جام اسی کو ے گا ساقی جس کو ساقی جانے ہے
جام نہ دینے کی باتیں ہیں ورنہ مجھ کو ویسے تو
ساقی جانے میکش جانے مے خانہ بھر جانے ہے
کون قمر سے ہے بیگانہ اہل زمیں یا اہل فلک
ذرہ ذرہ اس سے واقف تارا تارا جانے ہے
قمر جلالوی

بیٹھو نہ ذبح کرنے کو منہ پھیر کر مجھے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 129
آخر ہے وقت دیکھ لو بھر کر نظر مجھے
بیٹھو نہ ذبح کرنے کو منہ پھیر کر مجھے
کوسوں دکھائی دیتی نہیں رہگزر مجھے
لے جا رہی ہے آج یہ وحشت کدھر مجھے
ایسا بھی ایک وقت پڑا تھا شبِ الم
حسرت سے دیکھنے لگے دیوار و در مجھے
اے ہم قفس نہ مانگ دعائیں بہار کی
آتے نہیں ہیں راس مرے بال و پر مجھے
عذرِ گناہ حشر میں اور میرے سامنے
انکارِ قتل کیجئے پہچان کر مجھے
تعریف حسن کی جو کبھی ان کے سامنے
بولے کہ لگ نہ جائے تمھاری نظر مجھے
لی دی سی اِک نگاہ ستاروں پہ ڈال کہ
شرما گئے کہ دیکھ رہا ہے قمر مجھے
قمر جلالوی

خیر ان باتوں میں کیا رکھا ہے تم جھوٹے نہ تھے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 128
کون سے تھے جو تمھارے عہد ٹوٹے نہ تھے
خیر ان باتوں میں کیا رکھا ہے تم جھوٹے نہ تھے
باغباں کچھ سوچ کہ ہم قید سے چھوٹے نہ تھے
ورنہ کچھ پاؤں نہ تھے بیکار، پر ٹوٹے نہ تھے
خار جب اہلِ جنوں کے پاؤں میں ٹوٹے نہ تھے
دامنِ صحرا پہ یہ رنگین گل بوٹے نہ تھے
رہ گئی محروم آزادی کے نغموں سے بہار
کیا کریں قیدِ زباں بندی سے ہم چھوٹے نہ تھے
اس جوانی سے تو اچھی تھی تمھاری کم سنی
بھول تو جاتے وعدوں کو مگر جھوٹے نہ تھے
اس زمانے سے دعا کی ہے بہاروں کے لئے
جب فقط ذکرِ چمن بندی تھا گل بوٹے نہ تھے
کیا یہ سچ ہے اے مرے صیاد گلشن لٹ گیا
جب تو میرے سامنے دو پھول بھی ٹوٹے نہ تھے
چھوڑ تو دیتے تھے رستے میں ذرا سی بات پر
رہبروں نے منزلوں پر قافلے لوٹے نہ تھے
کس قدر آنسو بہائے تم نے شامِ غم قمر
اتنے تارے تو فلک سے بھی کبھی ٹوٹے نہ تھے
قمر جلالوی

میری قسمت پر نکل آئے ہیں آنسو جام کے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 127
یہ جو چَھلکے ہیں، نہیں قطرے مئے گلفام کے
میری قسمت پر نکل آئے ہیں آنسو جام کے
کس سے شکوہ کر رہے ہیں آ دامن تھام کے
بندہ پرور سینکڑون ہوتے ہیں اک اک نام کے
ہیں ہمارے قتل میں بدنام کتنے نام کے
جو کہ قاتل ہے وہ بیٹھا ہے ہے کلیجہ تھام کے
یہ سمجھ لو رکھنی بات مجھے صیاد کی
ورنہ میں نے سینکڑوں توڑے ہیں حلقے دام کے
غفلت خوابِ جوانی عہدِ پیری میں کیا
صبح کو اٹھ بیٹھتے ہیں سونے والے شام کے
رہبروں کی کشمکش میں ہے ہمارا قافلہ
منزلوں سے بڑھ گئے ہیں فاصلے دو گام کے
دیدہ میگوں نہ دکھلا روئے روشن کھول کر
صبح کو پیتے نہیں ہیں پینے والے شام کے
مرگِ عاشق پر تعجب اس تعجب کے نثار
مرتکب جیسے نہیں سرکار اس الزام کے
اے قمر بزمِ حسیناں کی وہ ختمِ شب نہ پوچھ
صبح کو چھپ جائیں جیسے چاند تارے شام کے
قمر جلالوی

کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تو نے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 126
نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تو نے
کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تو نے
اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو
ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تو نے
مجھ پہ احسان نہ رکھو جان بچا لینے کا
مرنے دیتے مجھے کاہے کو دعا دی تو نے
یہ کہو پیش خدا حشر میں منثا کیا تھا
میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تو نے
ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے
وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں کہ دغا دی تو نے
کھلبلی مچ گئی تاروں میں قمر نے دیکھا
شب کو یہ چاند سی صورت جو دکھا دی تو نے
قمر جلالوی

لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 125
خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے
لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے
مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے
نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے
تجھ فوراَ ہی میرا قصہ روک دینا تھا
ترا دکھتا تھا دل تو کیوں سنی تھی داستاں تو نے
ہرے پھر کر دیے زخمِ جگر صیاد بلبل کے
قفس کے سامنے کہہ کر گلوں کی داستاں تو نے
اسی وعدے پہ کھائی تھی قسم روئے کتابی کی
اسی صورت میں قرآں کو رکھا تھا درمیاں تو نے
عدو کہتے ہیں اب سہرا فصاحت کا ترے سر ہے
قمر بالکل بنا دی ہے تو نے دلھن اردو زباں تو نے
قمر جلالوی

آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 124
اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے
آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے
دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں
ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے
دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد
پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے
اے چمن والو! جنوں کی عظمت دیکھ لی
اِن گلوں کو واقفِ چاکِ گریباں کر چلے
اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں
اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے
اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا
داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے
قمر جلالوی

کھائی ٹھوکر گر پڑے گر کر اٹھے اٹھ کر چلے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 123
یوں تمھارے ناتوان منزل بھر چلے
کھائی ٹھوکر گر پڑے گر کر اٹھے اٹھ کر چلے
چھوڑ کر بیمار کو یہ کیا قیامت کر چلے
دم نکلنے بھی نہ پایا آپ اپنے گھر چلے
ہو گیا صیاد برہم ہے اے اسیرانِ قفس
بند اب یہ نالہ و فریاد، ورنہ پر چلے
کس طرح طے کی ہے منزل عشق کی ہم نے نہ پوچھ
تھک گئے جب پاؤں ترا نام لے لے کر چلے
آ رہے ہیں اشک آنکھوں میں اب اے ساقی نہ چھیڑ
بس چھلکنے کی کسر باقی ہے ساغر بھر چلے
جب بھی خالی ہاتھ تھے اور اب بھی خالی ہاتھ ہیں
لے کے کیا آئے تھے اور لے کر کیا چلے
حسن کو غم گین دیکھے عشق یہ ممکن نہیں
روک لے اے شمع آنسو اب پتنگے مر چلے
اس طرف بھی اک نظر ہم بھی کھڑے ہیں دیر سے
مانگنے والے تمھارے در سے جھولی بھر چلے
اے قمر شب ختم ہونے کو ہے انتظار
ساحلِ شب سے ستارے بھی کنارہ کر چلے
قمر جلالوی

جیسے غبارِ راہ پسِ کارواں چلے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 122
ہم بھی انھیں کے ساتھ چلے وہ جہاں چلے
جیسے غبارِ راہ پسِ کارواں چلے
چاہوں تو میرے ساتھ تصور میں تا قفس
گلشن چلے، بہار چلے، آشیاں چلے
اے راہبر یقیں جو تری راہبری میں ہو
مڑ مڑ کے دیکھتا ہوا کیوں کارواں چلے
میری طرح وہ رات کو تارے گِنا کریں
اب کے کچھ ایسی چال آسماں چلے
قمر جلالوی

یہ کب کے لے رہا ہے ہم سے اے چرخِ کہن بدلے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 121
نہ روکی برق تو نے آشیاں بدلے چمن بدلے
یہ کب کے لے رہا ہے ہم سے اے چرخِ کہن بدلے
محبت ہو تو جوئے شِیر کو اِک ضرب کافی ہے
کوئی پوچھے کہ تو نے کتنے تیشے کوہکن بدلے
سہولت اس سے بڑھ کر کارواں کو اور کیا ہو گی
نئی راہیں نکل آئیں پرانے راہزن بدلے
ہوا آخر نہ ہمر کوئی ان کے روئے روشن کا
تراشے گل بھی شمعوں کے چراغِ انجمن بدلے
لباس نَو عدم والوں کو یوں احباب دیتے ہیں
کہ اب ان کے قیامت تک نہ جائیں گے کفن بدلے
قمر مابینِ عرش و فرش لاکھو انقلاب آئے
مگر اپنا خدا بدلا نہ اپنے پنجتنؑ بدلے
قمر جلالوی

آئینے ٹوٹ جاتے ہیں آئینہ ساز سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 120
شکوہ شکستِ دل کا ہو کیا دستِ ناز سے
آئینے ٹوٹ جاتے ہیں آئینہ ساز سے
اب التماسِ دید کروں تو گناہ گار
واقف میں ہو گیا ترے پردے کے راز سے
ہر شے انہیں کی شکل میں آنے لگی نظر
شاید گزر گیا میں حدِ امتیاز سے
خود آئیں پوچھنے وہ مرے پاس حالِ دل
کچھ دور تو نہیں ہے مرے کار ساز سے
اے شیخ مے کدے سے نکل دیکھ بال کے
واپس نہ آ رہے ہوں نمازی نماز سے
اللہ ان کو عشق کی کیونکر خبر ہوتی
واقف نہ تھا کوئی بھی مرے دل کے راز سے
بھیدی ہوں گھر کا مجھ سے نہ چل چال اے فلک
واقف قمر ہے خوب تری سازباز سے
قمر جلالوی

کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 119
لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے
کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے
یہ تم نے کیا کہا مجھپر زمانہ ہے فدا دل سے
ہزاروں میں وفا والا ملا کرتا ہے دل سے
نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے
کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے
نگاہیں ان کو دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے
جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے
دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل سے
کہ یہ ٹوٹے ہوئے شیشے جڑا کرتے ہیں مشکل سے
چمن مل جائے گا اہلِ چمن مل جائیں گے چھٹ کر
مگر تنکے نشیمن کے ملیں گے مجھ کو مشکل سے
ہماری کچھ نہ پوچھو ہم بری تقدیر والے ہیں
کہ جیتے ہیں تو مشکل سے جو مرتے ہیں تو مشکل سے
بگولا جب اٹھا میں راہ گم کردہ یہی سمجھا
کوئی رستہ بتانے آرہا ہے مجھ کو منزل سے
خموشی پر یہ حالت ہے خدا معلوم کیا کرتا
کوئی آواز آ جاتی اگر مجنوں کو محمل سے
صدا سن کر نہ طوفاں میں کسی نے دستگیری کی
کھڑے دیکھا کیے سب ڈوبنے والے کو ساحل سے
نہ ہو بیزار مجھ سے یکھ لینا ورنہ اے دنیا
نہ آؤں گا کبھی ایسا اٹھوں گا تیری محفل سے
قمر کے سامنے شب بھر سنوارو شوق سے گیسو
وہ آئینہ نہیں ہے کہ ہٹ جائے مقابل سے
قمر جلالوی

بجلیاں نکلتی ہیں بچ کے آشیانے سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 118
باز آگیا شاید اب فلک ستانے سے
بجلیاں نکلتی ہیں بچ کے آشیانے سے
خاک لے گئی بجلی میرے آشیانے سے
صرف چار چھ تنکے وہ بھی کچھ پرانے سے
کچھ نظر نہیں آتا ان کے منہ چھپانے سے
ہر طرف اندھیرا ہے چاند ڈوب جانے سے
حالِ باغ اے گلچیں فائدہ چھپانے سے
ہم تو ہاتھ دھو بیٹھے اپنے آشیانے سے
باغ ہو کہ صحرا ہو جی کہیں نہیں لگتا
آپ سے ملے کیا ہم چھٹ گئے زمانے سے
صبح سے یہ وقت آیا وہ ہیں بزمِ دشمن ہے
مٹ گئیں ہیں کیا یا رب گردشیں زمانے سے
یہ سوال پھر کا ہے کب قیامت آئی گی
پہلے بچ تو لے دنیا آپ کے زمانے سے
ان کے حسن پر تہمت رکھ نہ اپنے مرنے کی
وہ تو موت آنے تھی اک نہ اک بہانے سے
آگ لگ کے تنکوں میں کیا بہار آئی ہے
پھول سے برستے ہیں میرے آشیانے سے
جو جفائیں پہلی تھیں وہ جفائیں اب بھی ہیں
انقلاب کیا یا رب اٹھ گئے زمانے سے
مبتلا ہوئے ایسے آسماں کی گردش میں
اے قمر نہ بیٹھے ہم آج تک ٹھکانے سے
قمر جلالوی

ساحل کی طرف کشتی نہ سہی کشتی کی طرف ساحل کر دے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 117
خشکی و تری پر قادر ہے آسان مری مشکل کر دے
ساحل کی طرف کشتی نہ سہی کشتی کی طرف ساحل کر دے
تو اپنی خوشی کا مالک ہے، کیا تاب کسی کی اف جو کرے
محفل کو بنا دے ویرانہ ویرانے کو بنا دے محفل کر دے
اس رہروِ راہِ الفت کو دیکھے کوئی شام کے عالم میں
جب اٹھ کے غبارِ راہگذر نظروں سے نہاں منزل کر دے
گر ذوقِ طلب ہی دیکھنا ہے منظور تجھے دیوانے کا
ہر نقش بنے زنجیرِ قدم اتنی تو کڑی منزل کر دے
قمر جلالوی

اسِیروں کے کسی قابل اگر صیاد پر ہوتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 116
قفس میں محوِ زاری کاہے کو شام و سحر ہوتے
اسِیروں کے کسی قابل اگر صیاد پر ہوتے
مجھے صورت دیکھا کر چاہے پھر دشمن کے گھر ہوتے
دم آنکھو میں نہ رک جاتا اگر پیشِ نظر ہوتے
چلو بیٹھو شبِ فرقت کو دعا دو ضبط کو ورنہ
مرے نالوں کو سنتے اور تم دشمن کے گر ہوتے
علاجِ دردِ شامِ غم مسیحا ہو چکا جاؤ
مریضِ ہجر کی میت اٹھا دینا سحر ہوتے
مداوا جب دلِ صد چاک کا ہوتا شبِ فرقت
رفو کے واسطے تارے گریبانِ سحر ہوتے
قمر اللہ جانے کون تھا کیا تھا شبِ وعدہ
مثالِ درد جو پہلو سے اٹھا تھا سحر ہوتے
قمر جلالوی

وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 115
بیاں جو حشر میں ہم وجہ آرزو کرتے
وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے
تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے
کسی کو جانتے ہوتے تو گفتگو کرتے
لحد میں جا کے بھی ہم مے کی جستجو کرتے
فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے
حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے
اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے
قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے
پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے
یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو
حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے
بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے
کہ پھول چاک گریباں نہیں، رفو کرتے
جنوں میں جب ہوش آیا تو ہوش ہی نہ رہا
کہ اپنے چاکِ گریباں کو ہم رفو کرتے
نہ ملتی خاک میں دامن سے گر کے یوں شبنم
چمن کے پھول اگر پاسِ آبرو کرتے
یہ کہہ رہ گیا ہو گا کوئی ستم ورنہ
حضور اور میری جینے کی آرزو کرتے
یں سخت جاں کہ قاتل کا ہاتھ نازک ہے
یہ کل کو فیصلہ خود خنجر و گلو کرتے
قمر یقین جو کرتے ہم ان کے وعدے پر
تمام رات ستاروں سے گفتگو کرتے
قمر جلالوی

یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 114
لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے
یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے
کسی محفل میں بھی ایسے چلن پائے نہیں جاتے
کہ بلوائے ہوئے مہماں اٹھوائے نہیں جاتے
زمیں پر پاؤں رکھنے دے انھیں اے نازِ یکتائی
کہ اب نقشِ قدم ان کے کہیں پائے نہیں جاتے
تجھے اے دیدہ فکر کیوں ہے دل کے زخموں کی
کہ بے شبنم کے بھی یہ پھول مرجھائے نہیں جاتے
جنوں والوں کو کیا سمجھاؤ گے یہ وہ زمانہ ہے
خِرد والے خِرد والوں سے سمجھائے نہیں جاتے
وقارِ عشق یوں بھی شمع کی نظروں میں کچھ کم ہے
پتنگے خود چلے آتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
فضیلت ہے یہ انساں کی وہاں تک پہنچاتا ہے
فرشتے کیا فرشتوں کے جہاں سائے نہیں جاتے
بس اتنی بات پر چھینی گئی ہے رہبری ہم سے
کہ ہم سے کارواں منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
قمر کی صبح پوچھئے سورج کی کرنوں سے
ستارے تو گوآ ہی کے لیے آئے نہیں جاتے
قمر جلالوی

دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 113
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیئے ہوئے
دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے
دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا
جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیئے ہوئے
دیکھ ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے
تم رات دن ستاؤ مگر دل لیئے ہوئے
وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں !
اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیئے ہوئے
اپنی ضروریات ہیں اپنی ضروریات
آنا پڑا مطلب تمہیں دل لیئے ہوئے
بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر !
وہ سامنے چراغ ہے منزل لیئے ہوئے
قمر جلالوی

بس تمھارا نام کافی زمانے کے لئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 112
سرخیاں کیا ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لئے
بس تمھارا نام کافی زمانے کے لئے
موجیں ساحل سے ہٹاتیں ہیں حبابوں کا ہجوم
وہ چلے آئے ہیں ساحل پر نہانے کے لئے
سوچتا ہوں اب کہیں بجلی گری تو کیوں گری
تنکے لایا تھا کہاں سے آشیانے کے لئے
چھوڑ کر بستی یہ دیوانے کہاں سے آ گئے
دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لئے
ہنس کر کہتے ہو زمانہ بھر مجھی پہ جان دے
رہ گئے ہو کیا تمھیں سارے زمانے کے لئے
شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام
گیسوؤ کو کھل دو سورج چھپانے کے لئے
کائناتِ عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں
وہ ہی آنے کے لئے ہے وہ ہی جانے کے لئے
اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا
کیا قمر ہی رہ گیا ہے غم اٹھانے کے لئے
قمر جلالوی

ہر اک شاخِ چمن پر پھول بن کر جام آ جائے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 111
بہار آ جائے گر وہ ساقی گلفام آ جائے
ہر اک شاخِ چمن پر پھول بن کر جام آ جائے
بہار ایسی کوئی اے گردشِ ایام آ جائے
بجائے صید خود صیاد زیرِ دام آ جائے
مرا دل ٹوٹ جانے کی صدا رسوا نہ ہو یا رب
کوئی ایسے میں شکستِ جام آ جائے
تماشہ دیکھنے کیوں جا رہے ہو خونِ ناحق کا
حنائی ہاتھ ہیں تم پر نہ کچھ الزام آ جائے
ہمارا آشیانہ اے باغباں غارت نہ کر دینا
ہمارے بعد ممکن ہے کسی کے کام آ جائے
خدا کے سامنے یوں تک رہا ہے سب کے منہ قاتل
کسی پر بے خطا جیسے کوئی الزام آ جائے
ستم والوں سے پرسش ہو رہی ہے میں یہ ڈرتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو تم پر کوئی الزام آ جائے
قمر اس آبلہ پا راہ رو کی بے بسی توبہ
کہ منزل سامنے ہو اور سر پر شام آ جائے
قمر جلالوی

نہیں دن کو جو فرصت تمھیں تو رات سہی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 110
وفائے وعدہ میں اچھا تمھاری بات سہی
نہیں دن کو جو فرصت تمھیں تو رات سہی
مگر ہمیں تو نگاہِ عتاب سے ہی نواز
عدہ کی سمت تری چشمِ التفات سہی
جو چاہو کہہ لو کہ مجبورِ عشق ہوں ورنہ
تمھیں بتاؤ کہ کس کی بات سہی
تو پھر بتاؤ کہ یہ آنکھوں میں سر خیال کیوں ہیں
غلط وہ محفل دشمن کی واردات سہی
رقیب چھائے ہوئے ہیں مثال ابرِ ان پر
قمر نہ آئیں گے وہ لاکھ چاند رات سہی
قمر جلالوی

لٹ لٹ کے اب خزانے میں دولت نہیں رہی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 109
مٹ مٹ کے اب دل میں کوئی حسرت نہیں رہی
لٹ لٹ کے اب خزانے میں دولت نہیں رہی
ہو کر عزیز مجھ کو ملاتے ہیں خاک میں
دنیا میں نام کو بھی محبت نہیں رہی
اے درد تو ہی اٹھ کہ وہ آئیں ہیں دیکھنے
تعظیم کے مریض میں طاقت نہیں رہی
کیونکر نبھے گی بعد مرے یہ خیال ہے
غیروں کے گھر کبھی شبِ فرقت نہیں رہی
دیکھا تھا آج ہم نے قمر کو خدا گواہ
پہلی سی اب غریبوں کی صورت نہیں رہی
قمر جلالوی

کہ ہے نخلِ گل کاتو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 108
مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی
کہ ہے نخلِ گل کاتو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی
مرا حال دیکھ کے ساقیا کوئی بادہ خوار نہ پی سکا
ترا جام خالی نہ ہو سکے مری چشمِ تر نہ بھر رہی
میں قفس کو توڑ کے کیا کروں مجھ رات دن یہ خیال ہے
یہ بہار بھی یوں ہی جائے گی جو یہی شکستہ پری رہی
مجھے علم میں تیرے جمال کا نہ خبر ہے ترے جلال کی
یہ کلیم جانے کہ طور پر تری کیسی جلوہ گری رہی
میں ازل سے آیا تو کیا ملا جو میں جاؤں گا تو ملے گا کیا
مری جب بھی دربدری رہی مری اب بھی دربدری رہی
یہی سوچتا ہوں شبِ الم کہ نہ آئے وہ تو ہوا ہے کیا
وہاں جا سکی نہ مری فغاں کہ فغاں کی بے اثری رہی
شبِ وعدہ جو نہ آسکے تو قمر کہوں گا چرخ سے
ترے تارے بھی گئے رائیگاں تری چاندنی بھی دھری رہی
قمر جلالوی

تجھ سے سائے کی طرح جو نہ ہوا دور کبھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 107
پاس اس کا بھی تو کر اے بتِ مغرور کبھی
تجھ سے سائے کی طرح جو نہ ہوا دور کبھی
شکوۂ حسن نہ کرنا دلِ رنجور کبھی
عشق والوں نے یہ بدلا نہیں دستور کبھی
خود ہی آ جائے تو آ جائے ترا نور کبھی
ورنہ اب موسیٰ نہ جائیں گے سرِ طور کبھی
حق کی کہنا انا الحق کی صدا سے پہلے
ایسی معراج ملی تھی تجھے منصور کبھی
دیکھو آئینے نے آخر کو سکھا دی وہی بات
ہم نہ کہتے تھے کہ ہو جائے گا مغرور کبھی
جانے کب کب کے لیئے دھوپ نے بدلے مجھ سے
تیری دیوار کا سایہ جو ہوا دور کبھی
چاندنی ایسے کھلی ہو گئے ذرے روشن
داغ سینے سے قمر کے نہ ہوا دور کبھی
قمر جلالوی

اتنے کہاں ہوئے ہیں مرے بال و پر ابھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 106
قیدِ قفس سے چھٹ کے پہنچ جاؤں گھر ابھی
اتنے کہاں ہوئے ہیں مرے بال و پر ابھی
بیمارِ ہجر آئی کہاں سے سحر ابھی
تارہ کوئی نہیں ہے ادھر سے ادھر ابھی
صیاد صرف پاسِ وفا ہے جو ہوں خموش
ورنہ خدا کے فضل سے ہیں بال و پر ابھی
کیا آ رہے ہو واقعی تم میرے ساتھ ساتھ
یہ کام کر رہا ہے فریبِ نظر ابھی
کیوں روتے روتے ہو گئے چپ شامِ غم قمر
تارے بتا رہے ہیں نہیں ہے سحر ابھی
قمر جلالوی

آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 105
وہ فتنہ ساز دے کے گیا ہے یہ دم ابھی
آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی
ظالم وہ دیکھ پاس سے اٹھتے ہیں چارہ گر
تیرے مریضِ ہجر نے توڑا ہے دم ابھی
ان کے لیئے تو کھیل ہے دنیا کا انقلاب
چاہیں تو بتکدے کو بنا دیں حرم ابھی
کیا آپ سا کوئی نہیں ہے جہاں میں
اچھا حضور آئینہ لاتے ہیں ہم ابھی
کوچے سے ان کے اٹھتے ہی یوں بدحواس ہوں
آیا ہوں جیسے چھوڑ کے باغِ ارم ابھی
ذوق الم میں حق سے دعا مانگتا ہوں میں
جتنے بھی مجھ کو دینے ہیں دے دے الم ابھی
شکوے فضول گردشِ دوراں کے اے قمر
یہ آسماں نہ چھوڑے گا جورو ستم ابھی
قمر جلالوی

اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 104
اگر زندہ رہیں تو آئیں گے اے باغباں پھر بھی
اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی
سمجھتا ہے کہ اب میں پا شکستہ اٹھ نہیں سکتا
مگر مڑ مڑ کہ تکتا جا رہا ہے کارواں پھر بھی
بہت کچھ یاد کرتا ہوں کہ یا رب ماجرا کیا ہے
وہ مجھ کو بھول بیٹھے آ رہے ہیں ہچکیاں پھر بھی
سمجھتا ہوں انھیں نیند آ گئی ہے اب نہ چونکیں گے
مگر میں ہوں سنائے جا رہا ہوں داستاں پھر بھی
قمر حالانکہ طعنے روز دیتا ہوں جفاؤں کے
جدا کرتا نہیں سینہ سے مجھ کو آسماں پھر بھی
قمر جلالوی

ہم نے مارا نہ آج تک دم بھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 103
تیرے طعنے سنے سہے غم بھی
ہم نے مارا نہ آج تک دم بھی
میری میت تو کیا اٹھاؤ گے
تم نہ ہو گے شریکِ ماتم بھی
باغباں برق کیا گلوں پہ گری
ترے گلشن میں لٹ گئے ہم بھی
جلتے رہتے ہیں تری محفل میں
یہ پتنگے بھی، شمع بھی، ہم بھی
کاروانِ رہِ عدم والو
ٹھہرو کپڑے بدل چکے ہیں ہم بھی
قمر جلالوی

قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 102
غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی
قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی
تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو
اگر ہمت تمھاری دوریِ منزل سے ٹوٹے گی
جو یہ کار نمایاں تو میری سخت جانی کا
بھلا تلوار زورِ بازوئے قاتل سے ٹوٹے گی
نگاہِ قیس ٹکراتی رہے سارباں کب تک
یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی
غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن
یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی
قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ
کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل سے ٹوٹے گی
قمر جلالوی

ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 101
بلا سے ہو شام کی سیآ ہی کہیں تو منزل مری ملے گی
ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی
ہجومِ محشر میں کیسا ملنا نظر فریبی بڑی ملے گی
کسی سے صورت تری ملے گی کسی سے صورت مری ملے گی
تمھاری فرقت میں تنگ آ کر یہ مرنے والوں کا فیصلہ ہے
قضا سے جو ہمکنار ہو گا اسے نئی زندگی ملے گی
قفس سے جب چھٹ کے جائیں گے ہم تو سب ملین گے بجز نشیمن
چمن کا ایک ایک گل ملے گا چمن کی اک اک کلی ملے گی
تمھاری فرقت میں کیا ملے گا، تمھارے ملنے سے کیا ملے گا
قمر کے ہوں گے ہزار ہا غم رقیب کو اک خوشی ملے گی
قمر جلالوی

وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 100
آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی
وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی
پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی
تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی
کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی
یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟
آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے
محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی
کس سے پوچھیں کے وہ میرے رات کے مرنے کا حال
تو بھی اب خاموش اے شمعِ سحر ہو جائے گی
یہ بہت اچھا ہوا آئیں گے وہ پہلے پہر
چاندنی بھی ختم جب تک اے قمر ہو جائے گی
قمر جلالوی

دھواں تنکوں سے اٹھے گا چمن میں روشنی ہو گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 99
اگر صیاد یہ بجلی نشیمن پہ گری ہو گی
دھواں تنکوں سے اٹھے گا چمن میں روشنی ہو گی
ستم گر حشر میں وہ بھی قیامت کی گھڑی ہو گی
ترے دامن پہ ہو گا ہاتھ دنیا دیکھتی ہو گی
مجھے شکوے بھی آتے ہیں مجھے نالے بھی آتے ہیں
مگر یہ سوچ کر چپ ہوں کی رسوا عاشقی ہو گی
تو ہی انصاف کر جلوہ ترا دیکھا نہیں جاتا
نظر کا جب یہ عالم ہے تو دل پر کیا بنی ہو گی
اگر آ جائے پہلو میں قمر وہ ماہِ کامل بھی
دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہو گی
قمر جلالوی

کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 98
اگر وہ صبح کو آئے تو کس سے گفتگو ہو گی
کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی
حقیقت جب تجھے معلوم اے دیوانہ خو ہو گی
جب ان کی جستجو کے بعد اپنی جستجو ہو گی
ملیں گے ہو بہو تجھ سے حسیں آئینہ خانے میں
کسی سے کچھ نہ کہنا ورنہ تم سے دو بدو ہو گی
مآلِ گل کو جب تک آنکھ سے دیکھا نہیں ہو گا
کلی کو پھول بن جانے کی کیا کیا آرزو ہو گی
دلِ مضطرب تو اس محفل میں نالے ضبط کر لے گا
مگر اے چشمِ گریاں تو بہت بے آبرو ہو گی
حریمِ ناز تک تو آگیا ہوں کس سے کیا پوچھوں
یہاں جلوہ دکھایا جائے گا یا گفتگو ہو گی
جنھیں اے راہبر لٹوا رہے ہیں راہِ منزل میں
خدا معلوم ان کے دل میں کیا کیا آرزو ہو گی
ہمارا کیا ہے ارمانِ وفا میں جان دے دیں گے
مگر تم کیا کرو گے جب تمھیں یہ آرزو ہو گی
یہ بلبل جس کی آوازیں خزاں میں اتنی دلکش ہیں
بہاروں میں خدا معلوم کتنی خوش گلو ہو گی
قمر سنتے ہیں تو شیخ صاحب آج توڑیں گے
سجے گا میکدہ آرائشِ جام و سبو ہو گی
قمر جلالوی

بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 97
داستاں اوراقِ گل پر تھی مجھی ناشاد کی
بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی
مجھ سے روٹھا ہے خودی دیکھو بتِ جلاد کی
مدعا یہ ہے کہ کیوں اللہ سے فریاد کی
قبر ٹھوکر سے مٹا دی عاشقِ ناشاد کی
یہ بھی اک تاریخ تھی ظالم تری بیداد کی
کیا ملے دیکھیں اسیروں کو سزا فریاد کی
آج کچھ بدلی ہوئی سی ہے نظر صیاد کی
رات میں بلبل تجھے سوجھی تو ہے فریاد کی
آنکھ سوتے سے نہ کھل جائے کہیں صیاد کی
آگیا ان کو رحم اے دل تو نے کیوں فریاد کی
اب ہمیں امید بھی جاتی رہی بیداد کی
جس جگہ پہنچا وہیں آمد سنی صیاد کی
کیا بری تقدیر ہے مجھے خانماں برباد کی
فصلِ گل آتے ہی میرے چار تنکوں کے لیے
بجلیاں بے تاب ہیں چرخِ ستم ایجاد کی
ہو گیا بیمار کا دو ہچکیوں میں فیصلہ
ایک ہچکی موت کی اور اک تمھاری یاد کی
جاؤ بس رہنے بھی دو آئے نہ تم تو کیا ہوا
کیا کوئی میت نہ اٹھی عاشقِ ناشاد کی
اب مرے اجڑے نشیمن کی الٰہی خیر ہو
آج پھر دیکھی ہے صورت خواب میں صیاد کی
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
کچھ ستارے گن لئے، کچھ روئے، کچھ فریاد کی
قمر جلالوی

وہ دو سانس کا دم اور یہ شب چار پہر کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 96
بیمار کو کیا خاک ہوا امید سحر کی
وہ دو سانس کا دم اور یہ شب چار پہر کی
مہماں ہے کبھی میری کبھی غیر کے گھر کی
تو اے شبِ فرقت ادھر کی نہ ادھر کی
اللہ رے الفت بتِ کافر ترے در کی
منت مجھے درباں کی نہ کرنی تھی مگر کی
بیمار شبِ ہجر کی ہو خیر الٰہی
اتری ہوئی صورت نظر آتی ہے سحر کی
اس وعدہ فراموش کے آنسو نکل گئے
بیمار نے جو چہرے پر حسرت سے نظر کی
اے شمع مرے حال پہ تو روئے گی کب تک
مجھ پر تو مصیبت ہے ابھی چار پہل کی
یہ وقت وہ ہے غیر بھی اٹھ کر نہیں جاتے
آنکھوں میں مرا دم ہے تمہیں سوجھی ہے گھر کی
دم توڑنے والا ہے مریضِ خمِ گیسو
سوجھی ہے مسافر کو سرِ شام سفر کی
جاؤ بھی شبِ وعدہ رکھا خوب پریشاں
رہنے دو قسم کھا گئے جھوٹی مرے سر کی
ہر اک سے کہتے ہو کہ وہ مرتا مجھ پر
چاہے کبھی صورت بھی نہ دیکھی ہو قمر کی
قمر جلالوی

بات تھی آئی گئی ہو گئی دیوانوں کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 95
عمر بھر خاک ہی کیا چھانتے ویرانوں کی
بات تھی آئی گئی ہو گئی دیوانوں کی
کون کہہ دے گا کہ باتیں ہیں دیوانوں کی
دھجیاں جیب میں رکھی ہیں گریبانوں کی
جا چکے چھوڑ کر آزادیاں ویرانوں کی
اب تو بستی میں خبر جائے گی دیوانوں کی
یادگاریں نہیں کچھ اور تو دیوانوں کی
دھجیاں ملتی ہیں صحرا میں گریبانوں کی
خیر محفل میں نہیں حسن کے دیوانوں کی
شمع کے بھیس میں موت آئی ہے پروانوں کی
تو بھی کب توڑنے کو پھول چلا ہے گلچیں
آنکھ جب کھل گئی گلشن کے نگہبانوں کی
صرف اک اپنی نمودِ سرِ محفل کے لئے
لاکھوں قربانیاں دیں شمع نے پروانوں کی
شمع کے بعد پتنگوں نے کسی کو پوچھا
کہیں پرسش ہوئی ان سوختہ سامانوں کی
لنگر اٹھتا تھا کہ اس طرح سے کشتی بیٹھی
جیسے ساحل سے حدیں مل گئیں طوفانوں کی
اے قمر رات کو مے خانے میں اتنا تھا ہجوم
قسمتیں کھل گئیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کی
قمر جلالوی

داستاں کہنے کو بیٹھا ہوں دلِ نا شاد کی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 94
سامنے تصویر رکھ کر اس ستم ایجاد کی
داستاں کہنے کو بیٹھا ہوں دلِ نا شاد کی
کیا کروں چونکے نہ وہ قسمت دلِ نا شاد کی
جس قدر فریاد مجھ سے ہو سی فریاد کی
اس قدر رویا کہ ہچکی بندھ گئے صیاد کی
لاش جب نکلی قفس سے بلبلِ نا شاد کی
دفن سے پہلے اعزا ان سے جا کر پوچھ لیں
اور تو حسرت کوئی باقی نہیں بے دار کی
کاٹتا ہے پر کے نالوں پر بڑھا دیتا ہے قید
اے اسیرانِ قفس عادت ہے کیا صیاد کی
شام کا ہے وقت قبروں کو نہ ٹھکرا کر چلو
جانے کس عالم میں ہے میت کسی ناشاد کی
دور بیٹھا ہوں ثبوتِ خون چھپائے حشر میں
پاس اتنا ہے کہ رسوائی نہ ہو جلاد کی
کیا مجھی کم بخت کی تربت تھی ٹھوکر کے لئے
تم نے جب دیکھا مجھے مٹی مری برباد کی
کھیل اس کمسنے کا دیکھو نام لے لے کر مرا
ہاتھ سے تربت بنائی پاؤں سے برباد کی
کہہ رہے ہو اب قمر سابا وفا ملتا نہیں
خاک میں مجھ کو ملا بیٹھے تو میری یاد کی
قمر جلالوی

ترے منہ پر کہی تیری مرے منہ پر کہی میری

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 93
یہ آئینے کی سازش تھی کچھ خطا بھی نہ تھی میری
ترے منہ پر کہی تیری مرے منہ پر کہی میری
تعلق مجھ سے کیا اے درد کیوں مجھ کو ستاتا ہے
نہ تجھ سے دوستی میری نہ تجھ سے دشمنی میری
لڑکپن دیکھئے گلگشت میں وہ مجھ سے کہتے ہیں
چمن میں پھول جتنے ہیں وہ سب تیرے کلی میری
کوئی اتنا نہیں ہے آ کے جو دو پھول رکھ جائے
قمر تربت پر بیٹھی رو رہی ہے بے کسی میری
قمر جلالوی

جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 92
نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری
جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری
بڑی رنگینیاں تھیں اولِ شب ان کی محفل میں
بتاؤ بزم والو رات ڈھل جانے پہ کیا گزری
چھپائیں گے کہاں تک رازِ محفل شمع کے آنسو
کہے گی خاکِ پروانہ کہ پروانے پہ کیا گزری
مرا دل جانتا ہے دونوں منظر میں نے دیکھے ہیں
ترے آنے پہ کیا گزری ترے جانے پہ کیا گزری
بگولے مجھ سے کوسوں دور بھاگے دشتِ وحشت میں
بس اتنا میں نے پوچھا تھا کہ دیوانے پہ کیا گزری
گری فصلِ چمن پر برق دیوانے یہ کیا جانیں
مصیبت باغ پر گزری تھی ویرانے پہ کیا گزری
قمر جھیلے دِلِ صد چاک نے الفت میں دکھ کیا کیا
کوئی زلفوں سے اتنا پوچھ لے شانے پہ کیا گزری
قمر جلالوی

تو نے جسے ستایا تو نے جسے دغا دی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 91
میں کون ہوں بتا دوں او بھولنے کی عادی
تو نے جسے ستایا تو نے جسے دغا دی
مجھ تشنہ لب کی ساقی تشنہ لبی بڑھا دی
دے کر ذرا سا پانی اک آگ سی لگا دی
ایسی بھی کیا جفائیں برہم ہو نظمِ الفت
تو نے تو فقرِ دل کی بنیاد ہی ہلا دی
جب چاہا رخ پہ چن لی اس سے مہ جبیں نے افشاں
جب چاہا دن میں دنیا تاروں سے جگمگا دی
اہلِ چمن نے اتنا پوچھا نہ بوئے گل سے
آوارہ پھر رہی ہے کیوں اے حسین زادی
قمر جلالوی

تری بہار تو کیا ہے خزاں نہیں رہتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 90
ہوا کسی کی بھی اے باغباں نہیں رہتی
تری بہار تو کیا ہے خزاں نہیں رہتی
سنے جو حشر میں شکوے نظر بدل کئے
کہیں بھی بند تمھاری زباں نہیں رہتی
نہ دے تسلیاں صیاد برق گرنے پر
یہ بے جلائے ہوئے آشیاں نہیں رہتی
کئے جو سجدے تو دیر و حرم پکار اٹھے
خدا کی ذات مقید یہاں نہیں رہتی
قمر وہاں سے میں کشتی بچا کہ لایا ہوں
کسی کی ناؤ سلامت جہاں نہیں رہتی
قمر جلالوی

گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 89
مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی
گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی
مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی
خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی
کوئی ضد نہ تھی کوچے میں در ہی کے قریں، ہوتی
جہاں پر آپ کہہ دیتے مری تربت وہیں ہوتی
پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا
تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی
اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا
شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی
ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل
یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی
نہ رو اے بلبل ناشاد مجھ کمبخت کے آگے
کہ تابِ ضبط اب دکھے ہوئے دل سے نہیں ہوتی
شبِ فرقت یہ کہہ کر آسماں سے مر گیا کوئی
سحر اب اس طرح ہو گی اگر ایسے نہیں ہوتی
قسم کھاتے ہو میرے سامنے وعدے پہ آنے کی
چلو بیٹھو وفا داروں کی یہ صورت نہیں ہوتی
بجا ہے آپ بزمِ عدو سے اٹھ کے آ جاتے
اگر نالے نہ کرتا میں تو ساری شب وہیں ہوتی
ترے کوچے کے باہر یہ سمجھ کر جان دیتا ہوں
کہ مرتا ہے جہاں کوئی وہیں تربت نہیں ہوتی
شبِ مہتاب بھی تاریک ہو جاتی ہے آنکھوں میں
قمر جب میرے گھر وہ چاند سی صورت نہیں ہوتی
قمر جلالوی

بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 88
نشاں کیونکر مٹا دیں یہ پریشانی نہیں جاتی
بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی
خدائی کی ہے یہ ضد اے بت یہ نادانی نہیں جاتی
زبردستی کی منوائی ہوئی مانی نہیں جاتی
ہزاروں بار مانی حسن نے ان کی وفاداری
مگر اہلِ محبت ہیں کہ قربانی نہیں جاتی
سحر کے وقت منہ کلیوں نے کھولا ہے پئے شبنم
ہوا ٹھنڈی ہے مگر پیاس بے پانی نہیں جاتی
قمر کل ان کے ہونے سے ستارے کتنے روشن تھے
وہی یہ رات ہے جو آج پہچانی نہیں جاتی
قمر جلالوی

توبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 87
بارش میں عہد توڑ کے گر مئے کشی ہوئی
توبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئی
پیش آئے لاکھ رنج اگر اک خوشی ہوئی
پروردگار یہ بھی کوئی زندگی ہوئی
اچھا تو دونوں وقت ملے کو سئے حضور
پھر بھی مریض غم کی اگر زندگی ہوئی
اے عندلیب اپنے نشیمن کی خیر مانگ
بجلی گئی ہے سوئے چمن دیکھتی ہوئی
دیکھو چراغِ قبر اسے کیا جواب دے
آئے گی شامِ ہجر مجھے پوچھتی ہوئی
قاصد انھیں کو جا کہ دیا تھا ہمارا خط
وہ مل گئے تھے، ان سے کوئی بات بھی ہوئی
جب تک کہ تیری بزم میں چلتا رہے گا جام
ساقی رہے گی گردشِ دوراں رکی ہوئی
مانا کہ ان سے رات کا وعدہ ہے اے قمر
کیسے وہ آسکیں گے اگر چاندنی ہوئی
قمر جلالوی