زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

چاند سا بدن اُس کا اور بھی نکھر جاتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
مَیں جو اُس کے قدموں میں ریت سا بکھر جاتا
چاند سا بدن اُس کا اور بھی نکھر جاتا
کیوں نظر میں چُبھتا تھا عکس اِک گریزاں سا
تھا اگر وہ کانٹا ہی پار تو اُتر جاتا
وہ یونہی گھرا رہتا ہجر کے حصاروں میں
اور میں کہ طوفاں تھا اُلجھنوں سے ڈر جاتا
عمر بھر کو دے جاتا نشۂ شباب اپنا
اور بھی جو کچھ لمحے پاس وہ ٹھہر جاتا
دوش پر ہواؤں کے برگِ زرد سا ماجدؔ
ڈھونڈنے اُسے اِک دن میں بھی در بہ در جاتا
ماجد صدیقی

ہَولے سے مرے دل میں کہیں سے اُتر آؤ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
لے کر مہِ شب تاب سے کرنوں کا بہاؤ
ہَولے سے مرے دل میں کہیں سے اُتر آؤ
چُپ چاپ ہو جیسے کوئی بن باس پہ نکلے
اے دل کی تمّناؤ! کوئی حشر اُٹھاؤ
کچھ ماند تو پڑ جائیں گے باتوں کی نمی سے
آؤ کہ دہکتے ہیں خموشی کے الاؤ
پھرتا ہے کچھ اس طور سے مغرور و گریزاں
ہے وقت بھی جیسے ترے ابرو کا تناؤ
اُترے ہیں جو اِس میں تو کھُلے گا کبھی ماجدؔ
لے جائے کہاں جھومتے دریا کا بہاؤ
ماجد صدیقی

دل کو بے چین کر گئے نغمے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
لب پہ آئے، بکھر گئے نغمے
دل کو بے چین کر گئے نغمے
جنبشِ لب سے وا ہوئے غنچے
صورتِ گل نکھر گئے نغمے
دُور تک تیرا ساتھ قائم تھا
دُور تک ہم سفر گئے نغمے
دھڑکنوں کی زباں سے نکلے تھے
پتّھروں تک بکھر گئے نغمے
اُڑ گئے جیسے اوس کے ہمراہ
تھے جو ماجدؔ سحر سحر نغمے
ماجد صدیقی

کھُل جائے گا حرفِ مدّعا بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
لے ہاتھ سے ہاتھ اَب مِلا بھی
کھُل جائے گا حرفِ مدّعا بھی
کیا ہم سے مِلا سکے گا آنکھیں
ہو تجھ سے کبھی جو سامنا بھی
سہمی تھی مہک گلوں کے اندر
ششدر سی مِلی ہمیں ہوا بھی
جس شخص سے جی بہل چلا تھا
وہ شخص تو شہر سے چلا بھی
کیوں نام ترا نہ لیں کسی سے
اَب قید یہ ہم سے تُو اُٹھا بھی
ماجدؔ کو علاوہ اِس سخن کے
ہے کسبِ معاش کی سزا بھی
ماجد صدیقی

تمہیں ایسی فرصت کہاں دوستو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
لکھو تم ہمیں چِٹھیاں دوستو
تمہیں ایسی فرصت کہاں دوستو
یہ دشتِ سخن اور یہ خاموشیاں
سلگتی ہے جیسے زباں دوستو
چمن میں مرے حال پر ہر کلی
بجاتی ہے اب تالیاں دوستو
کوئی بات جیسے نہ لوٹائے گا
خدا بھی برنگِ بُتاں دوستو
جِسے ڈھونڈتے ہو وہ ماجدؔ بھلا
غمِ جاں سے فارغ کہاں دوستو
ماجد صدیقی

لو مَیں بھی جذبات کی رَو میں کہتا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
لو مَیں بھی ہر بات تمہی سی کہتا ہوں
لو مَیں بھی جذبات کی رَو میں کہتا ہوں
مجھ میں بھی ہے ایک سقم آئنوں سا
جو کچھ ہو محسوس وہی کچھ کہتا ہوں
سچ پوچھو تو پستی کا سر کرنا کیا
دریا بھی ہوں تو اُلٹے رُخ بہتا ہوں
ہوں محروم اِک ایک چلن سے دُنیا کے
ماجدؔ جانے میں کس جگ میں رہتا ہوں
ماجد صدیقی

تو ہے عنوانِ دل، بیاں ہیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
گل ہیں خوشبُو ہیں کہکشاں ہیں ہم
تو ہے عنوانِ دل، بیاں ہیں ہم
کل بھی تھا ساتھ ولولوں کا ہجوم
آج بھی میرِ کارواں ہیں ہم
اِک تمنّا کا ساتھ بھی تو نہیں
کس بھروسے پہ یوں رواں ہیں ہم
دل میں سہمی ہے آرزوئے حیات
کن بگولوں کے درمیاں ہیں ہم
جانتی ہیں ہمیں ہری شاخیں
زرد پتّوں کے ترجمان ہیں ہم
دل کا احوال کیا کہیں ماجدؔ
گو بظاہر تو گلستاں ہیں ہم
ماجد صدیقی

جانے میں کیوں گلستاں سے بیزار تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
گُل بہ گُل حُسن، میرا طلب گار تھا
جانے میں کیوں گلستاں سے بیزار تھا
سامنے اُس کے خاموش تھے اِس طرح
ہر خطا کا ہمیں جیسے اقرار تھا
زندگی جب نثارِ غمِ دہر تھی
اُس کا ملنا بھی ایسے میں بیکار تھا
مُنہ سے کہنا اگرچہ نہ آیا اُسے
بور تھا مجھ سے وہ سخت بیزار تھا
زندگی ہم سے ماجدؔ گریزاں تو تھی
جُرم اپنا بھی کچھ اِس میں سرکار تھا
ماجد صدیقی

جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
گہ تجھ کو، گاہ نورِ سحر دیکھتا رہوں
جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں
دِل کے دئیے سے اُٹھتی رہیں یاد کی لَویں
تیرا جمال شعلہ بہ سر دیکھتا رہوں
پل پل برنگِ برق ترا سامنا رہے
رہ رہ کے اپنی تابِ نظر دیکھتا رہوں
پہروں رہے خیال ترا ہمکنار دل
دن رات تیری راہگزر دیکھتا رہوں
ماجدؔ سناؤں شہر بہ تشریح اب کِسے
اِس سے تو آپ اپنا ہنر دیکھتا رہوں
ماجد صدیقی

کب یہ اُمید بھی بر آئے گی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کب صبا تیرا پتہ لائے گی
کب یہ اُمید بھی بر آئے گی
صبح کی خیر مناؤ لوگو
شب کوئی دم ہے گزر جائے گی
ایسے منظر ہیں پسِ پردۂ حُسن
آنکھ دیکھے گی تو شرمائے گی
دل کو پت جھڑ کی حکایت نہ سناؤ
یہ کلی تاب نہیں لائے گی
مَیں بھی ہوں منزلِ شب کا راہی
رات بھی سُوئے سحر جائے گی
پیار خوشبُو ہے چھُپائے نہ بنے
بات نکلی تو بکھر جائے گی
دل سے باغی ہے تمّنا ماجدؔ
ہو کے اب شہر بدر جائے گی
ماجد صدیقی

دبنے والی نہیں مری آواز

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
کیا ہے مدّھم اگر پڑی آواز
دبنے والی نہیں مری آواز
تیری نظریں کہ آبشار گرے
میرا دامن کہ گونجتی آواز
یوں ہُوا ہے کہ ذکر سے تیرے
تیرے پیکر میں ڈھل گئی آواز
ہائے کس جذبۂ جواں سے ہے
نکھری نکھری دُھلی دھُلی آواز
کوئی غنچہ چٹک رہا ہو گا
تھی توانا بھری بھری آواز
نامُرادی کا کیا گلہ ماجدؔ
ہم نے اُٹھنے ہی جب نہ دی آواز
ماجد صدیقی

اپنے اندر کے اُس شخص کو دیکھتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
کاش! مَیں جس کے اُوپر ہوں اِک خوں سا
اپنے اندر کے اُس شخص کو دیکھتا
پاگلوں کی طرح وہ تجھے چاہنا
تھا مری سوچ کا وہ بھی اِک زاویہ
مُرغ تھا زد پہ تِیرِ قضا کی مگر
آشیاں تھا کھُلے بازوؤں دیکھتا
ساغرِ مئے پیے، ساتھ خوشبو لیے
در بدر ٹھوکریں کھا رہی تھی ہوا
وہ تو وہ اُس کے ہونے کا احساس بھی
تھا مہک ہی مہک، رنگ ہی رنگ تھا
چاند نکلا ہے ڈوبے گا کچھ دیر میں
چاہیئے بھی ہمیں اِس سمے اور کیا
کیسے بخشے گا آئینِ گلشن ہمیں
ہم نے مَسلا اِسے، دل کہ اِک پھُول تھا
عمر بھر ہم بھی خوشیوں کے منکر رہے
شکر ہے یہ بھی اِک مرحلہ طے ہوا
کیوں ہمیں چھُو کے ماجدؔ گزرنے لگی
آگ میں کیوں جھُلسنے لگی ہے صبا
ماجد صدیقی

پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
کوئی بستی نہ دیوار و در سامنے
پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے
اپنی جانب لپکتے قدم دیکھ کر
مُسکراتے ہیں گل شاخ پر سامنے
یاد میں تھیں صبا کی سی اٹکھیلیاں
جانے کیا کچھ رہا رات بھر سامنے
زندگی ہے کہ آلام کی گرد سے
ہانپتی ہے کوئی راہگزر سامنے
رات تھی جیسے جنگل کا تنہا سفر
چونک اُٹھے جو دیکھی سحر سامنے
آئنے ہیں مقابل جِدھر دیکھیے
اپنی صورت ہے با چشمِ ترا سامنے
ہم ہیں ماجدؔ سُلگتے دئیے رات کے
بُجھ گئے بھی تو ہو گی سحر سامنے
ماجد صدیقی

ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کھول کوئی در لطف کا اپنے، اِن آنکھوں میں رنگ بھروں
ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں
لازم ہے اِک دورِ طرب کے بعد مجھے تو بھُول بھی جا
مَیں اک بار تجھے پھر چاہوں عہد نیا آغاز کروں
چاروں اور رہی اِک ظلمت جو سوچا سو دیکھا ہے
چاند کبھی تو اُبھرے گا یہ آس لگا کر بھی دیکھوں
اے کہ تلاشِ بہار میں تُو بھی غرق ہے، برگِ آوارہ
کاش مجھے بھی پر لگ جائیں مَیں بھی تیرے ساتھ اُڑوں
شہر میں ہر اک شخص تھا جیسے ایک یہی تلقین لیے
مَیں شبنم کو پتّھر جانوں مَیں پھُولوں کو خار کہوں
گلشن میں یہ کنجِ سخن بھی اُجڑا بن کہلاتا ہے
مَیں جِس پھلواری سے ماجدؔ پہروں بیٹھا پھُول چُنوں
ماجد صدیقی

ہر ایک شخص سے جیسے چھپا پھروں ہوں مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
کچھ اِن دنوں عجب انداز سے جیوں ہوں مَیں
ہر ایک شخص سے جیسے چھپا پھروں ہوں مَیں
ہوئی ہے ایک ادا ہی ٹھٹک کے رہ جانا
سکون سے جو قدم دو قدم چلوں ہوں مَیں
گہے اڑوں ہوں مَیں برگِ خزاں زدہ کی مثال
گہے بصُورتِ غنچہ مہک اُٹھوں ہوں مَیں
نظر نہیں ہے جب اپنے ہی عجز پر ماجدؔ
کسی کے پیار پہ الزام کیوں دھروں ہوں مَیں
ماجد صدیقی

پاگل نہ بن، رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھ
پاگل نہ بن، رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ
ہاتھوں میں میرے، صفحۂ سادہ پہ کر نظر
اظہارِ غم کو ترسی ہوئی انگلیاں بھی دیکھ
تو اور سراپا بس میں ہمارے ہو! ہائے ہائے!!
ہم پر یہ ایک تہمتِ اہلِ جہاں بھی دیکھ
تھا زیست میں بہار کا طوفاں بھی پل دو پل
اِس بحر میں تموّجِ گردِ خزاں بھی دیکھ
سہمی ہوئی حیات کو یُوں مختصر نہ جان
لمحے میں جھانک اور اسے بیکراں بھی دیکھ
ردّی کے بھاؤ بیچا گیا ہوں کسی کے ہاتھ
لے کُو بکُو بکھرتی مری داستاں بھی دیکھ
ماجدؔ ہے جس کا شور سماعت میں اَب تلک
اُس سیلِ تند و تیز کے چھوڑے نشاں بھی دیکھ
ماجد صدیقی

کوئی نمو کا بھی رُخ دیجیے زمانے کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
کشید خاک سے آتش تو کی جلانے کو
کوئی نمو کا بھی رُخ دیجیے زمانے کو
لگے بھی ہاتھ تو کس کے ستم کشانِ جہاں
سجا رہا ہے جو کولہو میں دانے دانے کو
لہو میں لتھڑے ہوئے پاؤں لے کے دھرتی سے
چلا ہے چاند پہ انساں قدم جمانے کو
کسی بھی عہد میں وحشت کا تھا نہ یہ انداز
ہر ایک ہاتھ میں کب جال تھے بچھانے کو
ہر ایک شخص سے ہر ایک شخص بیگانہ
یہ کیا ہوا ہے یکایک مرے زمانے کو
وُہ سُن کے زخم بھی ماجدؔ ترے کُریدیں گے
جنہیں چلا ہے حکایاتِ غم سُنانے کو
ماجد صدیقی

ہے میّسر مجھے انساں ہونا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
قّصۂ دہر کا عنواں ہونا
ہے میّسر مجھے انساں ہونا
کتنا مشکل ہے ترے غم کا حصول
کتنا مشکل ہے پریشاں ہونا
تو مری روح میں، وجدان میں ہے
تجھ کو حاصل ہے مری جاں ہونا
مہر کو سر پہ سجانا پل بھر
پھر شبِ سردِ زمستاں ہونا
پھُولنا شاخ پہ غنچہ غنچہ
اور اِک ساتھ پریشاں ہونا
کب تلک خوفِ ہوا سے آخر
ہو میسّر، تہِ داماں ہونا
تھے کبھی ہم بھی گلستاں ماجدؔ
اَب وطیرہ ہے بیاباں ہونا
ماجد صدیقی

پہنچا ہے اُس کا ذکر ہر اک بُک سٹال پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
فن سے مرے کہ ہے جو فرازِ کمال پر
پہنچا ہے اُس کا ذکر ہر اک بُک سٹال پر
ہونٹوں پہ رقص میں وُہی رنگینی نگاہ
محفل جمی ہوئی کسی ٹیبل کی تال پر
شیشے کے اِک فریم میں کچھ نقش قید تھے
میری نظر لگی تھی کسی کے جمال پر
ساڑھی کی سبز ڈال میں لپٹی ہوئی بہار
کیا کچھ شباب تھا نہ سکوٹر کی چال پر
ہنستی تھی وہ تو شوخیِ خوں تھی کُچھ اس طرح
جگنو سا جیسے بلب دمکتا ہو گال پر
رکھا بٹن پہ ہاتھ تو گھنٹی بجی اُدھر
در کھُل کے بھنچ گیا ہے مگر کس سوال پر
میک اَپ اُتر گیا تو کھنڈر سی وہ رہ گئی
جیسے سحر کا چاند ہو ماجدؔ زوال پر
ماجد صدیقی

کوئی صنم بھی تو ہو مَیں جِسے خُدا مانوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
غزل لکھوں تو کِسے اپنا مُدّعا مانوں
کوئی صنم بھی تو ہو مَیں جِسے خُدا مانوں
مری ضیا سے مُنّور، مجھی سے بیگانہ
مَیں ایسے عہد کو کس طرح با صفا مانوں
حضور! آپ نے جو کچھ کہا، درست کہاں
مرا مقام ہی کیا ہے جو مَیں بُرا مانوں
جو میرے سر پہ ٹھہرتا تلک نہیں ماجدؔ
مَیں ایسے ابرِ گریزاں کو کیوں رِدا مانوں
ماجد صدیقی

تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے
تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے
بھید مری سرشت کا اِس سے کھُلے گا اور بھی
مَیں کہ گلوں کی خاک ہوں لے تو اُڑے ہوا مجھے
کھائے نہ تن پہ تِیر بھی، لائے نہ جوئے شِیر بھی
کیسے فرازِ ناز سے شوخ وہ، مِل گیا مجھے
وہ کہ مثالِ مہر ہے، وہ کہ ہے رشکِ ماہ بھی
اے مرے نطق و لب کی ضو! سامنے اُس کے لا مجھے
دست درازیِ خزاں! ہے تجھے مجھ پہ اختیار
کر تو دیا برہنہ تن، اور نہ اَب ستا مجھے
اے مری ماں! مری زمیں! تجھ سے کہوں تو کیا کہوں؟
چھین کے گود سے تری، لے گئی کیوں خلا مجھے
جب سے جلے ہیں باغ میں برق سے بال و پر مرے
کہنے لگی ہے خلق بھی ماجدِؔ بے نوا مجھے
ماجد صدیقی

پھر وہی ہم ہیں وہی دشتِ ستم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
رہ بہ رہ پھر وہی اندیشۂ غم
پھر وہی ہم ہیں وہی دشتِ ستم
زندگانی سے الجھنا ہے مجھے
رہنے دیجے گا مجھی تک مرا غم
ہم گرفتارِ بلا ٹھہریں گے
وقت پھیلائے گا پھر دامِ ستم
وقت اِک شعلۂ لرزاں ماجدؔ
زندگی ایک خیال مبہم
ماجد صدیقی

دیکھ تسکین کی صورت ہے کہاں آنکھوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
رات کٹتی ہے سلگتے، مری جاں آنکھوں میں
دیکھ تسکین کی صورت ہے کہاں آنکھوں میں
دلِ ناداں کی پیمبر ہیں اِنہیں دیکھ ذرا
ہے کوئی غم تری جانب نگراں آنکھوں میں
پہلوئے دل میں مہکتا ہے وہی اِک گل تر
تیرتا ہے وہی اِک ماہ رواں آنکھوں میں
نہ کسی غم کا چراغاں نہ کسی یاد کے دیپ
کب سے ماجدؔ ہے اندھیروں کا سماں آنکھوں میں
ماجد صدیقی

ہاں مرحلہ یہ بھی دیدنی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
رستے میں جو شام پڑ گئی ہے
ہاں مرحلہ یہ بھی دیدنی ہے
دشوار نہ تھی کچھ ایسی رہ بھی
کیوں سانس اُکھڑ اُکھڑ گئی ہے
دیکھا تھا جو دُکھ عروج پر بھی
اَب شام اُسی کی ڈھل چلی ہے
کِس چاند کی ضَو زمیں پہ لایا
یہ جسم ترا، کہ چاندنی ہے
ماجدؔ ترے ہونٹ چُوم لوں مَیں
کیا بات پتے کی تُو نے کی ہے
ماجد صدیقی

ہماری سمت ہوا رُخ بھری خدائی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
ذرا سا ہم پہ تھا الزام حق سرائی کا
ہماری سمت ہوا رُخ بھری خدائی کا
ظہورِ آب ہے محتاجِ جُنبشِ طوفاں
کہ اتنا سہل اُترنا کہاں ہے کائی کا
یہ اختلاط کا چرچا ہے تجھ سے کیا اپنا
بنا دیا ہے یہ کس نے پہاڑ رائی کا
وفا کی جنس ہے ہر جنسِ خوردنی جیسے
کہ زر بھی ہاتھ میں کاسہ ہوا گدائی کا
چُکا دیا ہے خیالوں کی زر فشانی سے
جو قرض ہم پہ تھا خلقت کی دلربائی کا
خبر ضرور تھی طوفان کی تجھے ماجدؔ
تری پکار میں انداز تھا دُہائی کا
ماجد صدیقی

اور خیمے دمِ رُخصت یہ، اُڑاتے جانا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
دل میں آنا تو بہاروں سا سماتے جانا
اور خیمے دمِ رُخصت یہ، اُڑاتے جانا
ہر خطِ جسم کو اِس طرح اُجاگر کرنا
ہر رہِ زیست مقابل کی مٹاتے جانا
اک تو پہلے ہی سراپا ہے قیامت جیسا
اِس پہ ترشے ہوئے ملبوس سجانے جانا
کھینچ کر تارِ نظر خود متوجہ کرنا
کوئی دیکھے تو تغافل بھی جتاتے جانا
دعوتِ لمس بھی تتلی سی ہر اِک پل دینا
اور بڑھیں ہاتھ تو چکر سا دِلاتے جانا
کِس کا قصّہ لیے بیٹھے ہو یہ ماجدؔ صاحب
کس کی خاطر ہے یہ ہر بات بڑھاتے جانا
ماجد صدیقی

پوچھنا حالِ سفر بھی ہوش میں آنے تو دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
دھوپ میں جھلسا ہوں مَیں کچھ دیر سستانے تو دو
پوچھنا حالِ سفر بھی ہوش میں آنے تو دو
دیکھنا اُبھروں گا پہلو میں یدِ بیضا لیے
ظلمتِ شب میں ذرا مجھ کو اُتر جانے تو دو
نطق ہونٹوں سے مرے پھوٹے گا بن کر چاندنی
میری آنکھوں سے یہ چُپ کا زہر بہہ جانے تو دو
جز ادائے سجدۂ بے چارگی کر لے گا کیا
موجۂ سیلاب کو دہلیز تک آنے تو دو
پھر مری صحنِ گلستاں میں بحالی دیکھنا
اِک ذرا یہ موسمِ بے نم گزر جانے تو دو
ٹھیک ہے ماجدؔ فسانے تھیں تمہاری چاہتیں
یہ فسانے پر ہمیں اِک بار دُہرانے تو دو
ماجد صدیقی

کوئی تو راہ کا پتّھر بھی اب دکھاؤ مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
دلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھے
کوئی تو راہ کا پتّھر بھی اب دکھاؤ مجھے
بہت سے نقش ہیں تشنہ ابھی مصّورِ حسن
یہ جگ ہنسے گا ابھی سامنے نہ لاؤ مجھے
نکل گیا ہوں سلامت ہی حادثوں سے تو مَیں
چِتا میں رکھ کے نہ یادوں کی اَب جلاؤ مجھے
اُدھر ہیں لوگ نگاہوں میں جن کی راکھ ہوں میں
اِدھر ہو تم کہ بتاتے ہو اِک الاؤ مجھے
تناوری پہ مری بس کہاں وجود مرا
اُتر بھی جاؤ جو پاتال تک نہ پاؤ مجھے
پیمبرِ گل تر ہوں غزل ہوں ماجدؔ کی
نظر پڑوں تو کبھی آ کے گنگناؤ مجھے
ماجد صدیقی

شہد میں گھول کے سم دیتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
دل کو تسکیں جو صنم دیتے ہیں
شہد میں گھول کے سم دیتے ہیں
دل کو پتھّر نہ سمجھنا مری جاں
لے تجھے ساغرِ جم دیتے ہیں
ظرف کی داد یہی ہو جیسے
دینے والے ہمیں غم دیتے ہیں
دست کش ہو کے بھی دیکھیں تو سہی
یوں بھی کیا اہلِ کرم دیتے ہیں
چھینتے ہیں وہ نوالے ہم سے
اور بقا کو ہمیں بم دیتے ہیں
خود خزاں رنگ ہیں لیکن ماجدؔ
ہم بہاروں کو جنم دیتے ہیں
ماجد صدیقی

چھوڑتا ہی نہیں اندیشۂ جاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
دل پہ چھایا ہے وہ احساسِ گراں
چھوڑتا ہی نہیں اندیشۂ جاں
جب بھی گزرے ہیں تری یاد میں دن
کھِل اُٹھے پھُول سرِ جوئے رواں
سُونا سُونا ہے نظر کا دامن
چھُپ گیا ہے وہ مرا چاند کہاں
شعلۂ گل سے دئیے تک ماجدؔ
اُٹھ رہا ہے مری آہوں کا دھُواں
ماجد صدیقی

جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
دیکھیے یہ بھی اِک اِختراعِ جنوں
جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں
ہے یہی طرّۂ امتیازِ جنوں
مَیں جو روؤں تو پھر مُسکرا بھی سکوں
پیار آتش سہی پر یہ کیا شرط ہے
چاندنی رات میں بھی سُلگتا رہوں
یہ روش بھی کچھ ایسی بُری تو نہیں
چوٹ کھاؤں مگر مُسکراتا رہوں
احترامِ شبِ وصل ہو گر مجھے
مَیں شبِ ہجر کا نام تک بھی نہ لُوں
مجھ کو بھی حق پہنچتا ہے ماجدؔ کہ مَیں
ساتھ پھولوں کے مہکوں گلستاں بنوں
ماجد صدیقی

ابکے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
ابکے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی
ایسی کیوں ہے آنکھ نہیں بتلا سکتی
نندیا ہے کہ گرانی سے ہے بوجھل سی
لا فانی ہے یہ تو کتابیں کہتی ہیں
روح نجانے رہتی ہے کیوں بے کل سی
رات کا اکھوا ہے کہ نشانِ بدامنی
دور افق پر ایک لکیر ہے کاجل سی
منظر منظر تلخ رُوئی ہے وہ ماجد
اتری لگے جو آنکھوں آنکھوں حنظل سی
ماجد صدیقی

پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
حُسن اور مقتضی جفاؤں کا
پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا
وحشتِ غم ہے دل میں یوں جیسے
کوئی میلہ لگا ہو گاؤں کا
سایۂ ابر بھی چمن سے گیا
خوب دیکھا اثر دعاؤں کا
جو گریباں کبھی تھا زیبِ گلو
اَب وہ زیور بنا ہے پاؤں کا
اُن سے نسبت ہمیں ہے یُوں ماجدؔ
ربط جیسے ہو دھوپ چھاؤں کا
ماجد صدیقی

گزر رہی ہے جو ساعت اُسے امام کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
حصولِ منزلِ ایقاں کا اہتمام کریں
گزر رہی ہے جو ساعت اُسے امام کریں
ہمیں وہ لوگ، کہ ہم جنس جن سے کترائیں
ہمیں وہ لوگ، کہ یزداں سے بھی کلام کریں
مِلی فلک سے تو جو آبرو، ملی اِس کو
ہمیں بھی چاہیئے انساں کا احترام کریں
ہوا نہ کوہِ الم جن سے آج تک تسخیر
ہزار موسم مہتاب کو غلام کریں
ہر ایک شخص جو بپھرا ہوا مِلے ہے یہاں
حدودِ ارض میں اُس کو تو پہلے رام کریں
گرفت میں ہیں جو ماجدؔ اُنہی پہ بس کیجے
نہ آپ اُڑتے پرندوں کو زیرِ دام کریں
ماجد صدیقی

سوچ پر بھی ہے گماں جب حلقۂ زنجیر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
حشر کیا ہو گا بھلا جینے کی اِس تدبیر کا
سوچ پر بھی ہے گماں جب حلقۂ زنجیر کا
کس کا یہ سندیس آنکھوں میں مری لہرا گیا
صفحۂ بادِ صبا پر عکس ہے تحریر کا
سنگِ راہ کا توڑنا بھی تھا سَر اپنا پھوڑنا
ہاں اثر دیکھا تو یوں اِس تیشۂ تدبیر کا
ہم نے بھی اُس شخص کو پایا تو تھا اپنے قریب
پر اثر دیکھا نہیں کچھ خواب کی تعبیر کا
ہم تلک پہنچی ہے جو ماجدؔ یہی میراث تھی
فکر غالبؔ کی اور اندازِ تکلّم میرؔ کا
ماجد صدیقی

میرے کہے پہ آپ بھروسہ نہ کیجئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
چہرے کو دیکھئے، مری آنکھوں میں جھانکئے
میرے کہے پہ آپ بھروسہ نہ کیجئے
کھِلتے ہوئے گلوں کی مہک تھی، مری نظر
پھر کیا ہوا مجھے، یہ مُجھی سے نہ پوچھئے
اچّھا نہ ہو گا مَیں بھی اگر لب کشا ہُوا
میری زباں سے زنگ نہ چُپ کا اُتارئیے
ماجدؔ درِ بہار پہ پہنچے تو ہو مگر
اپنی جبیں سے آپ پسینہ بھی پونچھئے
ماجد صدیقی

چاند اُبھرے گا مگر آخرِ شب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
جگمگائیں گے نگر آخر شب
چاند اُبھرے گا مگر آخرِ شب
سانس کی نَے سے پکارے گا تجھے
غم باندازِ دِگر آخرِ شب
طے کرے گی رُخِ جاناں کی ضیا
دل سے آنکھوں کا سفر آخر شب
خامشی گرد کی صورت پس و پیش
چاندنی خاک بہ سر آخرِ شب
پرتوِ کاہکشاں ٹھہرے گی
پیار کی راہگزر آخرِ شب
دل کو ویراں ہی نہ کر دے ماجدؔ
آرزوؤں کا مفر آخرِ شب
ماجد صدیقی

کیا جُرم نجانے دِلِ وحشی نے کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
جو مرحلۂ زیست ہے پہلے سے کڑا ہے
کیا جُرم نجانے دِلِ وحشی نے کیا ہے
جو آنکھ جھکی ہے ترے سجدے میں گرے ہے
جو ہاتھ تری سمت اُٹھا، دستِ دُعا ہے
اُس درد کا ہمسر ہے ترا پیار نہ تُو ہے
تجھ سے کہیں پہلے جو مرا دوست ہوا ہے
آتا ہے نظر اور ہی اَب رنگِ گلستاں
خوشبُو ہے گریزاں تو خفا موجِ صبا ہے
دل ہے سو ہے وابستۂ سنگِ درِ دوراں
اور اِس کا دھڑکنا ترے قدموں کی صدا ہے
ماجدؔ ہے کرم برق کا پھر باغ پہ جیسے
پھر پیڑ کے گوشوں سے دھواں اُٹھنے لگا ہے
ماجد صدیقی

یہ تحفۂ زیست تجھ کو لوٹا کے تجھ پہ احسان دھر نہ جاؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
جو مجتمع ہو رہا ہوں پل پل مجھے بتا میں بکھر نہ جاؤں
یہ تحفۂ زیست تجھ کو لوٹا کے تجھ پہ احسان دھر نہ جاؤں
یہ ایک لمحہ کہ جان لُوں تو اِسی میں ایٹم سی قوّتیں ہیں
مجھے ہے جینا اگر تو پہنائیوں میں اِس کی اُتر نہ جاؤں
سیاہ راتیں چٹان بھی ہیں تو میرے قدموں کی خاک ہوں گی
یہ کس طرح ہو کہ جستجو میں تری، سحر تا سحر نہ جاؤں
غمِ زمانہ تری حقیقت سے چشم پوشی بڑی خطا ہے
مگر مجھے وہم ہے کہ ہستی سے ہی تری میں مکر نہ جاؤں
چمن کے گُلہائے ناز پرور! نہ مجھ مسافر کا حال پوچھو
یہ بارشِ گرد ہو نہ درپے تو میں بھی تم سا نکھر نہ جاؤں
دلوں میں یاروں کے وسوسے ہیں تو میں بھی کیوں دل کو دشت کر لوں
گمان تک بھی کروں جو ایسا تو جاں سے ماجدؔ گزر نہ جاؤں
ماجد صدیقی

کیا کیا سلوک ہم سے چمن کی ہوا کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
جھُلسے بدن کو گاہ نمو آشنا کرے
کیا کیا سلوک ہم سے چمن کی ہوا کرے
جاؤں درِ بہار پہ کاسہ بدست میں
ایسا تو وقت مجھ پہ نہ آئے خدا کرے
ہم کیوں کریں دراز کہیں دستِ آرزو
اپنی بلا سے کوئی مسیحا ہُوا کرے
ہاں ہاں مری نگاہ بھی سورج سے کم نہیں
آنکھوں میں کس کی دم کہ مرا سامنا کرے
ہاں ہاں مجھے ضیائے تخیّل عطا ہوئی
ایسا کوئی ملے بھی تو اِس دل میں جا کرے
ماجدؔ یہ طرزِ حُسنِ بیاں اور یہ رفعتیں
دل اس سے بڑھ کے اور تمّنا بھی کیا کرے
ماجد صدیقی

ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
جھانکے جو بام پر سے سُورج تری ہنسی کا
ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا
کھِلتے ہوئے لبوں پر مُہریں لگا کے بیٹھیں
تھا کیا یہی تقاضا ہم سے کلی کلی کا
اَب آنکھ بھی جو اُٹھے، جی کانپتا ہے اپنا
کیا حشر کر لیا ہے ہمّت رہی سہی کا
پھر سنگ بھی جو ہوتی اپنی زباں تو کیا تھا
دعوےٰ اگر نہ ہوتا ہم کو سخنوری کا
بستر لپیٹ کر ہم اُٹھ جائیں رہ سے اُس کی
مقصد نہیں تھا شاید ایسا تو مدّعی کا
ماجدؔ لبوں کے غنچے چٹکے دھُواں اُگلتے
تھا یہ بھی ایک پہلو افسردہ خاطری کا
ماجد صدیقی

کیا کہوں ذکر ترا کیسے رواں ہوتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
جب بھی ہوتا ہے بہ احساسِ گراں ہوتا ہے
کیا کہوں ذکر ترا کیسے رواں ہوتا ہے
بِن ترے بھی مجھے محسوس ہوا ہے اکثر
جیسے پہلو میں کوئی ماہِ رواں ہوتا ہے
دیکھتا ہوں گلِ تر روز، بعنوانِ دگر
روز دل سے گزرِ شعلہ رُخاں ہوتا ہے
زندگی میں غمِ جاناں کا یہی حال رہا
جِس طرح پھول سرِ جُوئے رواں ہوتا ہے
درد کی آخری حد چھو کے مَیں کیوں گھبراؤں
رات ڈھلتی ہے تو کچھ اور سماں ہوتا ہے
ایک ہم ہی نہیں ماجدؔ رُخِ بے رنگ لئے
جو بھی ہو شعلہ بیاں، سوختہ جاں ہوتا ہے
ماجد صدیقی

مَیں پھر بھی تُجھ سے تیرا پتہ پوچھتا رہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
تو پھُول تھا، مہک تھا صدا کی ادا بھی تھا
مَیں پھر بھی تُجھ سے تیرا پتہ پوچھتا رہا
جل بُجھ کے رہ گیا ہوں بس اپنی ہی آگ میں
کِس زاویے پہ آ کے مقابل ترے ہوا
شب بھر ترے جمال سے چُنتا رہا وہ پھُول
پھُوٹی سحر تو میں بھی سحر کی مثال تھا
مَیں ہی تو تھا کہ جس نے دکھایا جہان کو
تیشے سے اِک پہاڑ کا سینہ چِھدا ہوا
بدلا ہے گلستاں نے نیا پیرہن اگر
گُدڑی پہ ہم نے بھی نیا ٹانکا لگا لیا
مَیں تھا اور اُس کا وقتِ سفر تھا اور ایک دھند
ہاں اُس کے بعد پھر کبھی دیکھا نہ زلزلہ
بعدِ خزاں ہے جب سے تہی دست ہو گئی
سہلا رہی ہے شاخِ برہنہ کو پھر ہوا
مَیں تو ہوا تھا تِیر کے لگتے ہی غرقِ آب
تالاب بھر میں خون مرا پھیلتا گیا
ہر اِک نظر پہ کھول دیا تُو نے اپنا آپ
دل کا جو بھید تھا اُسے ماتھے پہ لکھ لیا
واضح ہیں ہر کسی پہ ترے جسم کے خطوط
تُو تو چھپی سی چیز تھی تُو نے یہ کیا کیا
اِک بات یہ بھی مان کہ ماجدؔ غم و الم
پیروں کی خاک میں نہ اِنہیں سر پہ تو اُٹھا
ماجد صدیقی

پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی رہگزر ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
تو مُدّعا ہو اور ترا غم ہمسفر ملے
پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی راہگزر ملے
اَب ہم سے مستیاں وہ، طلب کر نہ اے صبا!
مدّت ہوئی کسی کی نظر سے نظر ملے
حُسنِ حبیب اَب لب و رُخسار تک نہیں
اَب تو جنوں بضد ہے کہ حُسنِ نظر ملے
اِک عمر سے گھرے ہیں اِسی بے بسی میں ہم
تجھ تک اُڑان کو نہ مگر بال و پر ملے
مُطرب! بہ رقص گا، مرے ماجدؔ کی یہ غزل
تجھ سے مرا وہ سروِ چراغاں اگر ملے
ماجد صدیقی

ورنہ اِس شہر میں کیا کیا تھے نہ آزار ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
تھا میّسر ہی نہ پیرایۂ اظہار ہمیں
ورنہ اِس شہر میں کیا کیا تھے نہ آزار ہمیں
کن بگولوں کے حصاروں میں کھڑے دیکھتے ہیں
اَب کے پت جھڑ میں سلگتے ہوئے گلزار ہمیں
وقت بدلا ہے تو گوشوں میں چُھپے بیٹھے ہیں
وہ جو کرتے رہے رُسوا سرِ بازار ہمیں
کل تھا کس رنگ میں اور آج سرِ بزمِ وفا
کیا نظر آیا ہے وہ حُسنِ طرح دار ہمیں
کب سے دیتا ہے صدا کوئی پری وش ماجدؔ
عنبر و عود لٹاتے ہوئے اُس پار ہمیں
ماجد صدیقی

مَیں نہ کر پایا کبھی اپنی نظر کا سامنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
تھا نہ جانے کون سے بے رحم ڈر کا سامنا
مَیں نہ کر پایا کبھی اپنی نظر کا سامنا
کرچیاں اُتری ہیں آنکھوں میں اندھیری رات کی
اور اُدھر مژدہ کہ لو کیجو سحر کا سامنا
ننھی ننھی خواہشوں کا مدفنِ بے نُور سا
زندگی ہے اب تو جیسے اپنے گھر کا سامنا
تجربہ زنداں میں رہنے کا بھی مجھ کو دے گیا
بعد جانے کے ترے دیوار و در کا سامنا
پیرہن کیا جسم کا حصہ سمجھئے اَب اسے
تا بہ منزل ہے اِسی گردِ سفر کا سامنا
دیکھنے زیبا ہیں کب ایسے کھنڈر بعدِ خزاں
کون اب کرنے چلے شاخ و شجر کا سامنا
کچھ کہو یہ کس جنم کی ہے سزا ماجدؔ تمہیں
روز و شب کیوں ہے یہ تخلیق ہُنر کا سامنا
ماجد صدیقی

آج پھر چاند کی چودہویں رات ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
تُجھ سے کہنے کی بس اَب یہی بات ہے
آج پھر چاند کی چودہویں رات ہے
اپنی خواہش، کہ گُل پیرہن ہو چلیں
اور فضائے چمن، وقفِ حالات ہے
چار سُو ایک ہی منظرِ بے سکوں
چار سُو خشک پتّوں کی برسات ہے
اَب تو ماجدؔ خزاں کے نہ منکر رہو
شاخ پر اَب تو کوئی کوئی پات ہے
ماجد صدیقی

ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
تم بھُول گئے کہ یاد آئے
ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے
مرتے ہیں ہمیں ترے نہ ہوتے
روتے ہیں ہمیں ترے بِن آئے
گزرے ہیں تری گلی سے لیکن
دل تھامے ہوئے نظر چُرائے
ہم بھی ترے مُدّعی ہوئے تھے
ہم بھی غمِ ہجر ساتھ لائے
ظُلمت سے نظر چُرانے والو
شب، خونِ جگر نہ چاٹ جائے
سہلا نہ سکے اگر تو ماجدؔ
موسم، کوئی تِیر ہی چلائے
ماجد صدیقی

حرف لکھے کُچھ، بادِ صبا نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
پھول کہو یا دل کے فسانے
حرف لکھے کُچھ، بادِ صبا نے
برف سے اُجلے چہروں والے
آ جاتے ہیں جی کو جلانے
داغ رُخِ مہ کا دُکھ میرا
میری حقیقت کون نہ جانے
فکر و نظر پر دھُول جمائی
آہوں کی بے درد ہوا نے
دو آنکھوں کے جام لُنڈھا کر
دو ہونٹوں کے پھُول کھِلانے
دونوں ہاتھ نقاب کی صُورت
رکھنے، اور رُخ پر سے ہٹانے
ماجدؔ انجانے میں ہم بھی
بیٹھ رہے کیوں جی کو جلانے
ماجد صدیقی

رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے
رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے
حاصل تجھے ہے تیرے قدر و رُخ سے یہ مقام
اور ہم بزورِ نطق دلوں میں اُتر گئے
آیا جہاں کہیں بھی میّسر ترا خیال
نِکلے دیارِ شب سے بہ کوئے سحر گئے
جن کے چمن کو تُو نے بہارِ خیال دی
ماجدؔ ترے وہ دوست کہاں تھے کدھر گئے
ماجد صدیقی

لے کے بیٹھے ہیں تیرا غم تنہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
بزم آرا ہیں لوگ ہم تنہا
لے کے بیٹھے ہیں تیرا غم تنہا
کارواں کو ترس گئے ہوں گے
چلنے والے قدم قدم تنہا
کیوں مرے ہو کے دور رہتے ہو
چاند ہے آسماں پہ کم تنہا
ساتھ دیتا ہے کب کوئی ماجدؔ
دل ہی سہتا ہے ہر ستم تنہا
ماجد صدیقی

آنکھ کا سُرمہ بنی تھی ریت کیمبل پور کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
اُن دنوں اُس خاک پر بارش تھی جیسے نُور کی
آنکھ کا سُرمہ بنی تھی ریت کیمبل پور کی
چکھ سکے اُس سے نہ کچھ ہم پر نشہ دیتی رہی
ہاں نظر کی شاخ پر اِک بیل تھی انگور کی
حُسن کے مدِّ مقابل عشق!! اور بے چارگی؟
دل میں ہے تصویر جیسے محفل بے نُور کی
ابر مانگا تھا کہ آندھی لے اڑی برگ و ثمر!
خوب اے موجِ ہوا! کلفت ہماری دور کی
شاخ ہی سُوکھی تو پھر جھڑنے سے کیا انکار تھا
کیا کہیں آخر یہ صورت کس طرح منظور کی
اَب جراحت ہی سے ممکن ہے مداوا درد کا
اور ہی صورت ہے محرومی کے اِس ناسور کی
کھولنے پائے نہ اُس پر ہم لبِ اظہار تک
یُوں حقیقت کھُل گئی ماجدؔ دلِ رنجُور کی
ماجد صدیقی

اپنے آپ کو غیر نگہ سے جانے کب جا دیکھوں مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 74
اپنے اندر اُلجھ گیا ہوں باہر کیسے نکلوں مَیں
اپنے آپ کو غیر نگہ سے جانے کب جا دیکھوں مَیں
کِس پر تنگ ہوئی یوں دُنیا کس نے حشر یہ دیکھا ہے
جب بھی سانس نیا لیتا ہوں زہر نیا اِک چکّھوں مَیں
یہ بھی عجب کیفیتِ غم ہے اپنے آپ میں گم ہو کر
سرتا پا دل بن جاتا ہوں پہروں بیٹھا دھڑکوں میں
چہرے پر اک دھول جمی ہے برس برس کا رنگ لیے
دل بے چارہ آس بندھائے ساتھ گلوں کے مہکوں مَیں
کون غنی ہے جس کے در کے دونوں پَٹ ہوں کھُلے ہوئے
کس دہلیز کو منزل مانوں کس آنگن میں ٹھہروں مَیں
کوئی تو شاید اپنی خبر کو بھی اے ماجدؔ آ پہنچے
ایک نظر باہر بھی دیکھوں در تو اپنا کھولوں مَیں
ماجد صدیقی

یہ مری تمّنا تھی مَیں کہ آج پتّھر ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
انگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤں
یہ مری تمّنا تھی مَیں کہ آج پتّھر ہوں
رہ بہ رہ خزاؤں سے سامنا نظر کا ہے
دل کہ ایک صحرا ہے دیکھ دیکھ ڈرتا ہوں
کیا کہوں عجب سا ہے حادثہ مرا لوگو
سر بہ سر بہاراں ہوں پر خزاں سے ابتر ہوں
مقتلِ تمّنا ہے پیش و پس مرے ماجدؔ
مَیں کہ جیسے مجرم ہوں چین کس طرح پاؤں
ماجد صدیقی

اُس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
اجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھا
اُس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا
اِس اندھیرے میں کیسے وہ پہنچا یہاں
دل میں میرے تو جلتا دیا بھی نہ تھا
کھُل گئی جانے کیسے زباں خلق کی
اُس سے رشتہ کوئی برملا بھی نہ تھا
جانے وہ ہم سے کیوں جھینپتا رہ گیا
بھید اُس پر ہمارا کھُلا بھی نہ تھا
حق بجانب تھا مجھ سے وہ اغماض میں
اُس سے میرا کچھ ایسا گلہ بھی نہ تھا
ہاں بجا ہے وہ اچّھا نہ ہو گا مگر
تیرا ماجدؔ کچھ ایسا بُرا بھی نہ تھا
ماجد صدیقی

ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
آج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم
ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم
روز جینے کا نیا اِک تجربہ درپیش ہے
روز اِک سولی پہ ہوتے ہیں یہاں مصلوب ہم
کھُل کے آنا ہی پڑا آخر سرِ میداں ہمیں
یُوں تو رہنے کو رہے ہیں مُدّتوں محجوب ہم
وہ کھُلی آنکھوں سے ہم کو دیکھتا ہی رہ گیا
ضد پہ اُترے بھی تو اِک دن اُس سے نپٹے خوب ہم
شوخیِ طرزِ بیاں الزام کیا کیا لائے گی
جانے کس کس شوخ سے ٹھہریں گے کل منسوب ہم
یہ بھی گر شرطِ سخن ٹھہری تو ماجدؔ ایک دن
شاعری کرنے کو ڈھونڈیں گے کوئی محبوب ہم
ماجد صدیقی

اُترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
آتا ہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا
اُترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا
اقرارِ مُدّعا پہ ٹھٹکتے ہوئے سے ہونٹ
آنکھوں پہ کھنچ رہا تھا حیا کا نقاب سا
اُس کو بھی اَن کہی کے سمجھنے میں دیر تھی
کہنے میں کچھ مجھے بھی ابھی تھا حجاب سا
تھی اُس سے جیسے بات کوئی فیصلہ طلب
تھا چشم و گوش و لب کو عجب اضطراب سا
تھا حرف حرف کیا وہ نگاہوں پہ آشکار
منظر وہ کیا تھا مدِّ مقابل کتاب سا
ماجدؔ نگاہ میں ہے وہ منظر ابھی تلک
جب سطحِ آرزو پہ پھٹا تھا حباب سا
ماجد صدیقی

ہر گل کو ہم نے یوں بھی تمہارا پتہ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
آئینۂ خیال بہ دستِ صبا دیا
ہر گل کو ہم نے یوں بھی تمہارا پتہ دیا
فرصت تمہاری دید نے دی جب بھی درد سے
اِک چاند جگمگا اُٹھا اِک چاند بُجھ گیا
کر دیں یہ کس نے ذہن پہ عُریاں حقیقتیں
کہرام سا یہ کس نے نظر میں اُٹھا دیا
ماجدؔ ہو اِس سے شکوہ بہ لب تم جوہر نفس
سوچو تو زندگی کو ابھی تم نے کیا دیا
ماجد صدیقی

دل درد سے ہمکنار بھی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
آنکھوں میں ترا دیار بھی ہے
دل درد سے ہمکنار بھی ہے
پت جھڑ کا سکوت ہے لبوں پر
ہمراہ مرے بہار بھی ہے
تو میری نظر میں اجنبی بھی
مِلنا ترا یادگار بھی ہے
مَیں تیرے لئے ہوں مانتا ہوں
مجھ کو غمِ روزگار بھی ہے
جیتا ہوں کہ جی رہا ہوں ماجدؔ
جینا ہے کہ ناگوار بھی ہے
ماجد صدیقی

ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 153
تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے
ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے
دیکھنا اے رہ نوردِ شوق! کوئے یار تک
کچھ نہ کچھ رنگِ حنا پاؤں کے چھالوں میں رہے
ہم سے کیوں مانگے حسابِ جاں کوئی جب عمر بھر
کون ہیں، کیا ہیں، کہاں ہیں؟ ان سوالوں میں رہے
بدظنی ایسی کہ غیروں کی وفا بھی کھوٹ تھی
سوئے ظن ایسا کہ ہم اپنوں کی چالوں میں رہے
ایک دنیا کو میری دیوانگی خوش آ گئی
یار مکتب کی کتابوں کے حوالوں میں رہے
عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز
پھر بھی ہم اہلِ محبت کی مثالوں میں رہے
احمد فراز

اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 152
جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے
اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے
وہ کون ستمگر تھے کہ یاد آنے لگے ہیں
تو کیسا مسیحا ہے کہ بیمار کرے ہے
اب روشنی ہوتی ہے کہ گھر جلتا ہے دیکھیں
شعلہ سا طوافِ در و دیوار کرے ہے
کیا دل کا بھروسہ ہے یہ سنبھلے کہ نہ سنبھلے
کیوں خود کو پریشاں مرا غم خوار کرے ہے
ہے ترکِ تعلق ہی مداوائے غمِ جاں
پر ترکِ تعلق تو بہت خوار کرے ہے
اس شہر میں ہو جنبشِ لب کا کسے یارا
یاں جنبشِ مژگاں بھی گنہگار کرے ہے
تو لاکھ فراز اپنی شکستوں کو چھپائے
یہ چپ تو ترے کرب کا اظہار کرے ہے
احمد فراز

جو شخص ساتھ نہیں اسکا عکس باقی ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 151
نئے سفر میں ابھی ایک نقص باقی ہے
جو شخص ساتھ نہیں اسکا عکس باقی ہے
اٹھا کے لے گئے دزدان شب چراغ تلک
سو، کور چشم پتنگوں کا رقص باقی ہے
گھٹا اٹھی ہے مگر ٹوٹ کر نہیں برسی
ہوا چلی ہے مگر پھر بھی حبس باقی ہے
الٹ پلٹ گئی دنیا وہ زلزلے آئے
مگر خرابۂ دل میں وہ شخص باقی ہے
فراز آئے ہو تم اب رفیق شب کے لئے
کہ دور جام نا ہنگام رقص باقی ہے
احمد فراز

تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 150
دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے
اب کے جانے کا نہیں موسم گر یہ شاید
مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے
عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم؟
کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے
کچھ دلوں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب
کچھ جزیروں پہ سدا دھند جمی رہتی ہے
احمد فراز

یاد سے دل کی ہم آغوشی ہوتی ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 149
رات اور چاند میں جب سرگوشی ہوتی ہے
یاد سے دل کی ہم آغوشی ہوتی ہے
اپنا گھر چھوڑا یا اس کا در چھوڑا
اس کے بعد تو خانہ بدوشی ہوتی ہے
بوجھ وفا کا ہم نے اٹھایا یا تم نے
ہمسفروں میں یہ ہمدوشی ہوتی ہے
بستی والے ایسے خوفزدہ کب تھے
اب تو خود سے بھی سرگوشی ہوتی ہے
احمد فراز

مگر دل کی اداسی کم نہیں ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 148
تری یادوں کا وہ عالم نہیں ہے
مگر دل کی اداسی کم نہیں ہے
ہمیں بھی یاد ہے مرگِ تمنّا
مگر اب فرصتِ ماتم نہیں ہے
ہوائے قربِ منزل کا بُرا ہو
فراقِ ہمسفر کا غم نہیں ہے
جنونِ پارسائی بھی تو ناصح
مری دیوانگی سے کم نہیں ہے
یہ کیا گلشن ہے جس گلشن میں لوگو
بہاروں کا کوئی موسم نہیں ہے
قیامت ہے کہ ہر مے خوار پیاسا
مگر کوئی حریفِ جم نہیں ہے
صلیبوں پر کھنچے جاتے ہیں لیکن
کسی کے ہاتھ میں پرچم نہیں ہے
فراز اس قحط زارِ روشنی میں
چراغوں کا دھواں بھی کم نہیں ہے
احمد فراز

یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 147
عشق بس ایک کرشمہ ہے، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جنوں ہے، یوں ہے
اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرۂ خوں ہے، یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے، یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے، یوں ہے
احمد فراز

شعر کیا کہوں کہ طبیعت میں روانی کم ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 146
دل سُلگتا ہے مگر سوختہ جانی کم ہے
شعر کیا کہوں کہ طبیعت میں روانی کم ہے
زیست اک آدھ محبت سے بسر ہو کیسے؟
رات لمبی ہو تو پھر ایک کہانی کم ہے
تجھ سے کہنا تو نہیں چاہیے پر کہتے ہیں
ہم نے بھی دولتِ جاں اب کے لٹانی کم ہے
دل کو کیا روئیں کہ جب سوکھ گئی ہوں آنکھیں
شہر ویراں ہے کہ دریاؤں میں پانی کم ہے
ہم نے اندوہ زمانہ سے نہ خم کھایا ہے
شاید اب یوں ہے کہ آشوبِ جوانی کم ہے
جس طرح سانحے گزرے ہیں تیری جاں پہ فراز
اس کو دیکھیں تو یہ آشفتہ بیانی کم ہے
احمد فراز

پھر محبت اسی سے مشکل ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 145
عاشقی بے دلی سے مشکل ہے
پھر محبت اسی سے مشکل ہے
عشق آغاز ہی سے مشکل ہے
صبر کرنا ابھی سے مشکل ہے
ہم کو آساں ہیں اور ہمارے لیے
دشمنی دوستی سے مشکل ہے
جس کو سب بے وفا سمجھتے ہوں
بے وفائی اسی سے مشکل ہے
ایک کو دوسرے سے سہل نہ جان
ہر کوئی ہر کسی سے مشکل ہے
تو بضد ہے تو جا فراز مگر
واپسی اس گلی سے مشکل ہے
احمد فراز

یار لوگوں کی زبانی اور ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 144
ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
یار لوگوں کی زبانی اور ہے
چارہ گر روتے ہیں تازہ زخم کو
دل کی بیماری پرانی اور ہے
جو کہا ہم نے وہ مضمون اور تھا
ترجماں کی ترجمانی اور ہے
ہے بساطِ دل لہو کی اک بوند
چشمِ پر خوں کی روانی اور ہے
نامہ بر کو کچھ بھی ہم پیغام دیں
داستاں اس نے سنانی اور ہے
آبِ زمزم دوست لائے ہیں عبث
ہم جو پیتے ہیں‌ وہ پانی اور ہے
سب قیامت قامتوں کو دیکھ لو
کیا مرے جاناں کا ثانی اور ہے
شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
پر تری سادہ بیانی اور ہے
احمد فراز

پہ کیا کریں ہمیں‌ اک دوسرے کی عادت ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 143
چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
پہ کیا کریں ہمیں‌ اک دوسرے کی عادت ہے
تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوں‌ مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے
میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے
ترے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے
وصال میں‌ بھی وہی ہے فراق کا عالم
کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے
یہ مشکلیں ہیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں
میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے
یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے
نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے
احمد فراز

بادل تھا برس کے چھٹ گیا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 142
رونے سے ملال گھٹ گیا ہے
بادل تھا برس کے چھٹ گیا ہے
اب دوش پہ سر نہیں تو گویا
اک بوجھ سا دل سے ہٹ گیا ہے
یہ خلوت جاں میں کون آیا
ہر چیز الٹ پلٹ گیا ہے
کیا مالِ غنیم تھا مرا شہر
کیوں لشکریوں میں‌ بٹ گیا ہے
اب دل میں فراز کون آئے
دنیا سے یہ شہر کٹ گیا ہے
احمد فراز

مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 141
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے
محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا
مزاجِ عشق میں کب اعتدال رکھا ہے
ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ
یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے
بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں
سو میں نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے
ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا
سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے
حسابِ لطفِ حریفاں کیا ہے جب تو کھلا
کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے
فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے
احمد فراز

کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 140
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے، جانتے ہیں
دامِ دنیا سے کہیں زلف کا جال اچھا ہے
میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک؟
مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے
دل نہ مانے بھی تو ایسا ہے کہ گاہے گاہے
یارِ بے فیض سے ہلکا سا ملال اچھا ہے
لذتیں قرب و جدائی کی ہیں اپنی اپنی
مستقل ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے
رہروانِ رہِ اُلفت کا مقدر معلوم
ان کا آغاز ہی اچھا نہ مال اچھا ہے
دوستی اپنی جگہ، پر یہ حقیقت ہے فراز
تیری غزلوں سے کہیں تیرا غزال اچھا ہے
احمد فراز

کہ ہم کو تیرا نہیں انتظار اپنا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 139
تو پاس بھی ہو تو دل بے قرار اپنا ہے
کہ ہم کو تیرا نہیں انتظار اپنا ہے
ملے کوئی بھی ترا ذکر چھیڑ دیتے ہیں
کہ جیسے سارا جہاں راز دار اپنا ہے
وہ دور ہو تو بجا ترکِ دوستی کا خیال
وہ سامنے ہو تو کب اختیار اپنا ہے
زمانے بھر کے دکھوں کو لگا لیا دل سے
اس آسرے پہ کہ اک غمگسار اپنا ہے
فراز راحتِ جاں بھی وہی ہے کیا کیجے
وہ جس کے ہاتھ سے سینہ فگار اپنا ہے
احمد فراز

کہ زہرِ غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 138
بدن میں آگ سی چہرہ گلاب جیسا ہے
کہ زہرِ غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے
کہاں وہ قرب کہ اب تو یہ حال ہے جیسے
ترے فراق کا عالم بھی خواب جیسا ہے
مگر کبھی کوئی دیکھے کوئی پڑھے تو سہی
دل آئینہ ہے تو چہرہ کتاب جیسا ہے
وہ سامنے ہے مگر تشنگی نہیں جاتی
یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے
فراز سنگ ملامت سے زخم زخم سہی
ہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسا ہے
احمد فراز

سو شک کا فائدہ اس کی نظر کو جاتا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 137
گماں یہی ہے کہ دل خود ادھر کو جاتا ہے
سو شک کا فائدہ اس کی نظر کو جاتا ہے
یہ دل کا درد تو عمروں کا روگ ہے پیارے
سو جائے بھی تو پہر دو پہر کو جاتا ہے
یہ حال ہے کہ کئی راستے ہیں پیش نظر
مگر خیال تری رہ گزر کو جاتا ہے
تو انوری ہے، نہ غالب تو پھر یہ کیوں ہے فراز
ہر ایک سیل بلا تیرے گھر کو جاتا ہے
احمد فراز

کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 136
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے
عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا
اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے
ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے
دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے
ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر
جا، خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے
یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے
احمد فراز

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 135
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے
ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں
اِک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فراز
سب میں اِک شخص ہی ملا ہے مجھے
احمد فراز

یہ قربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 134
نبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے
یہ قربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے
رہا ہے کون کس کے ساتھ انجام سفر تک
یہ آغاز مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے
مزاجوں میں اتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں
سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم تم جانتے تھے
سو اب کیوں ہر کس و ناکس سے یہ شکوہ شکایت
یہ سب سود و زیاں، یہ بیش و کم تم جانتے تھے
فرار اس گمرہی پر کیا کسی کو دوش دینا
کہ راہ عاشقی کے بیچ و خم تم جانتے تھے
احمد فراز

دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 133
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے، لٹ بھی چکے
اور محبت وہی انداز پرانے مانگے
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
دل کسی حال پہ مانے ہی نہیں جانِ فراز
مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے
احمد فراز

کہ ہم کو دستِ زمانہ کے زخم کاری لگے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 132
ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے
کہ ہم کو دستِ زمانہ کے زخم کاری لگے
اداسیاں ہوں‌ مسلسل تو دل نہیں‌ روتا
کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے
بظاہر ایک ہی شب ہے فراقِ یار مگر
کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے
علاج اس دلِ درد آشنا کا کیا کیجئے
کہ تیر بن کے جسے حرفِ غمگساری لگے
ہماری پاس بھی بیٹھو بس اتنا چاہتے ہیں
ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے
فراز تیرے جنوں کا خیال ہے ورنہ
یہ کیا ضرور وہ صورت سبھی کو پیاری لگے
احمد فراز

تنہائی میں رو لیں گے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 131
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
ہم بے راہ رووں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے
خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے
جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے
ہجر کی شب سونے والے
حشر کو آنکھیں کھولیں گے
پھر کوئی آندھی اُٹھے گی
پنچھی جب پر تولیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے
احمد فراز

رسوائی سے ڈرنے والوں بات تمھی پھیلاؤ گے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 130
اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بناؤ گے
رسوائی سے ڈرنے والوں بات تمھی پھیلاؤ گے
اس کا کیا ہے تم نہ سہی تو چاہنے والے اور بہت
ترکِ محبت کرنے والو! تم تنہا رہ جاؤ گے
ہجر کے ماروں کی خوش فہمی! جاگ رہے ہیں پہروں سے
جیسے یوں شب کٹ جائے گی، جیسے تم آ جاؤ گے
زخم تمنا کا بھر جانا گویا جان سے جانا ہے
اس کا بھلانا سہل نہیں ہے خود کو بھی یاد آؤ گے
چھوڑو عہدِ وفا کی باتیں، کیوں جھوٹے اقرار کریں
کل میں بھی شرمندہ ہوں گا، کل تم بھی پچھتاؤ گے
رہنے دو یہ پند و نصیحت ہم بھی فراز سے واقف ہیں
جس نے خود سو زخم سہے ہوں اس کو کیا سمجھاؤ گے
احمد فراز

گل نہ جانے بھی تو کیا باغ تو سارا جانے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 129
ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانے
گل نہ جانے بھی تو کیا باغ تو سارا جانے
کس کو بتلائیں کہ آشوب محبت کیا ہے
جس پہ گزری ہو وہی حال ہمارا جانے
جان نکلی کسی بسمل کی نہ سورج نکلا
بجھ گیا کیوں شب ہجراں کا ستارا جانے
جو بھی ملتا ہے وہ ہم سے ہی گلہ کرتا ہے
کوئی تو صورت حالات خدارا جانے
دوست احباب تو رہ رہ کے گلے ملتے ہیں
کس نے خنجر مرے سینے میں اتارا جانے
تجھ سے بڑھ کر کوئی نادان نہیں ہو گا فراز
دشمن جاں کو بھی تو جان سے پیارا جانے
احمد فراز

ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 128
ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے
نو گرفتار وفا، سعی رہائی ہے عبث
ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے
خوش ہوا اے دل کی محبت تو نبھا دی تو نے
لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے
اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں
کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے
سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی
وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے
کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فراز
غیر معروف سے، گمنام سے، پہلے پہلے
احمد فراز

کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 127
سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے
کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے
اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی مرے حال زبوں سے پہلے
کوئی اسم ایسا کہ اس شخص کا جادو اترے
کوئی اعجاز مگر اس کے فسوں سے پہلے
بے طلب اس کی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
ہاتھ مانوس نہ تھے شاخ نگوں سے پہلے
حرف دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
بڑھ گئی بات بہت سوز دروں سے پہلے
تشنگی نے نگہ یار کی شرمندہ کیا
دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خوں سے پہلے
خوش ہو آشوب محبت سے کہ زندہ ہو فراز
ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکوں سے پہلے
احمد فراز

اگبور میں جو شام گزاری نہیں بھولے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 126
وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے
اگبور میں جو شام گزاری نہیں بھولے
صورت تھی کہ ہم جیسے صنم ساز بھی گم تھے
مورت تھی کہ ہم جیسے پجاری نہیں‌ بھولے
اب اس کا تغافل بھی گوارا کہ ابھی تک
ہم ترکِ ملاقات کی خواری نہیں بھولے
یاروں کی خطاؤں پہ نظر ہم نے نہ رکھی
اور یار کوئی بھول ہماری نہیں بھولے
خلعت کے لئے حرف کا سودا نہیں کرتے
کچھ لوگ ابھی وضع ہماری نہیں بھولے
دانے کی ہوس لا نہ سکی دام میں مجھ کو
یہ میری خطا میرے شکاری نہیں بھولے
ہم اپنے تئیں لاکھ زِخود رفتہ ہوں لیکن
یوں ہے کہ کوئی بات تمہاری نہیں ‌بھولے
اک لبعتِ ہندی نے فراز اب کے لکھا ہے
رادھا کو کبھی کرشن مراری نہیں بھولے
احمد فراز

ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 125
ہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے
اب نۓ سال کی مہلت نہیں ملنے والی
آ چکے اب تو شب و روز عذابوں والے
اب تو سب دشنہ و خنجر کی زباں بولتے ہیں
اب کہاں لوگ محبت کے نصابوں والے
زندہ رہنے کی تمنا ہو تو ہو جاتے ہیں
فاختاؤں کے بھی کردار عقابوں والے
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا
موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے
احمد فراز

مجھ سے یا رب مرے لفظوں کی کمائی لے لے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 124
وحشتِ دل صلۂ آبلہ پائی لے لے
مجھ سے یا رب مرے لفظوں کی کمائی لے لے
عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنے
دل نے ہر بار کہا، آگ پرائی لے لے
میں تو اس صبحِ درخشاں کو تونگر جانوں
جو مرے شہر سے کشکولِ گدائی لے لے
تو غنی ہے مگر اتنی ہیں شرائط میری
یہ محبت جو ہمیں راس نہ آئی لے لے
اپنے دیوان کو گلیوں میں لیے پھرتا ہوں
ہے کوئی جو ہنرِ زخم نمائی لے لے
احمد فراز

تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 123
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے
اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں
راستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے
کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے
یاد کرنے کے لیئے عمر پڑی ہو جیسے
تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر
یہ گرہ اب کے مرے دل میں‌ پڑی ہو جیسے
منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں
اپنے ہی پاؤں میں‌ زنجیر پڑی ہو جیسے
آج دل کھول کے روئے ہیں‌ تو یوں‌ خوش ہیں‌ فراز
چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہو جیسے
احمد فراز

کوئی کس منہ سے کرے تم سے سُخن، تم جیسے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 122
گُل بھی گلشن میں کہاں غنچہ دہن تم جیسے
کوئی کس منہ سے کرے تم سے سُخن، تم جیسے
یہ میرا حُسنِ نظر ہے تو دکھا دے کوئی
قامت و گیسو و رُخسار و دہن تم جیسے
اب تو قاصد سے بھی ہر بات جھجک کر کہنا
لے گئے ہو میرا بے ساختہ پن تم جیسے
اب تو نایاب ہوئے دشمنِ دیرینہ تک
اب کہاں اے میرے یارانِ کہن، تم جیسے؟
کبھی ہم پر بھی ہو احسان کہ بنا دیتے ہو
اپنی آمد سے بیاباں کو چمن تم جیسے
کبھی ان لالہ قباؤں کو بھی دیکھا ہے فراز
پہنے پھرتے ہیں جو خوابوں کے کفن تم جیسے
احمد فراز

کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 121
گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے
کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے
یہاں بھی پھول سے چہرے دکھا ئی دیتے تھے
یہ اب جو ہیں یہی دیوار و در نہ تھے ایسے
ملے تو خیر نہ ملنے پہ رنجشیں کیسی
کہ اس سے اپنے مراسم تھے پر نہ تھے ایسے
رفاقتوں سے مرا ہوں مسافتوں سے نہیں
سفر وہی تھا مگر ہم سفر نہ تھے ایسے
ہمیں تھے جو ترے آنے تلک جلے ورنہ
سبھی چراغ سر رہگزر نہ تھے ایسے
دل تباہ تجھے اور کیا تسلی دیں
ترے نصیب ترے چارہ گر نہ تھے ایسے
احمد فراز

غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 120
کروں نہ یاد اگر کس طرح بھلاؤں اسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے
وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے
یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں سے
میں کیسے بات کروں اور کہاں سے لاؤں اسے
مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے
کہ روٹھ جائے اگر یاد کچھ دلاؤں اسے
وہی جو دولتِ دل ہے وہی جو راحتِ جاں
تمہاری بات پہ اے ناصحو گنواؤں اسے
جو ہم سفر سرِ منزل بچھڑ رہا ہے فراز
عجب نہیں کہ اگر یاد بھی نہ آؤں اسے
احمد فراز

کس رشک سے دیکھا مجھے غم خوار نے میرے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 119
کل پرسش احوال جو کی یار نے میرے
کس رشک سے دیکھا مجھے غم خوار نے میرے
بس ایک ترا نام چھپانے کی غرض سے
کس کس کو پکارا دلِ بیمار نے میرے
یا گرمیِ بازار تھی یا خوف زباں تھا
پھر بیچ دیا مجھ کو خریدار نے میرے
ویرانی میں بڑھ کر تھے بیاباں سے تو پھر کیوں
شرمندہ کیا ہے در و دیوار نے میرے
جب شاعری پردہ ہے فراز اپنے جنوں کا
پھر کیوں مجھے رسوا کیا اشعار نے میرے
احمد فراز

کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 118
یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے
وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
یہی احباب مرے ہیں، یہی اعدا میرے
میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
تیرے ہوتے ہوئے، اے صاحبِ دریا میرے
مجھ کو اس ابرِ بہاری سے ہے کب کی نسبت
پر مقدر میں وہی پیاس کے صحرا میرے
دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فراز
اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے
احمد فراز

تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 117
جُز تیرے کوئی بھی دِن رات نہ جانے میرے
تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے
تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار
برقِ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے
شمع کی لو تھی کہ وہ توُ تھا مگر ہجر کی رات
دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے
خلق کی بے خبری ہے کہ مری رُسوائی
لوگ مُجھ کو ہی سُناتے ہیں فسانے میرے
لُٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں‌ سے بھرا ہے دامن
دیکھ غارت گریِ دِل یہ خزانے میرے
آج اک اور برس بیت گیا اُس کے بغیر
جِس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
کاش تو بھی میری آواز کہیں سُنتا ہو
پھر پُکارا ہے تُجھے دِل کی صدا نے میرے
کاش تو بھی کبھی آئے مسیحائی کو
لوگ آ تے ہیں بُہت دِل کو دُکھانے میرے
تو ہے کِس حال میں اے زود فراموش میرے
مُجھ کو تو چھین لیا عہدِ وفا نے میرے
چارہ گر یوں تو بُہت ہیں‌مگر اے جانِ فراز
جُز ترے اور کوئی غم نہ جانے میرے
احمد فراز

جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 116
کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے
جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے
اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دُکھ نہیں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے
تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی
خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیے
تا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
تجھ کو بھُلا کے دل ہے وہ شرمندۂ نظر
اب کوئی حادثہ ہی ترے روبرو کرے
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فراز
دنیا تو عرضِ حال سے بے آبرو کرے
احمد فراز

پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اترے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 115
آنکھوں میں ستارے تو کئی شام سے اترے
پر دل کی اداسی نہ در و بام سے اترے
کچھ رنگ تو ابھرے تری گل پیرہنی کا
کچھ زنگ تو آئینۂ ایام سے اترے
ہوتے رہے دل لمحہ بہ لمحہ تہہ و بالا
وہ زینہ بہ زینہ بڑے آرام سے اترے
جب تک ترے قدموں میں فروکش ہیں سبو کش
ساقی خط بادہ نہ لب جام سے اترے
احمد فراز

وہ محبّت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 114
اے خدا آج اسے سب کا مقدّر کر دے
وہ محبّت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے
سانحے وہ تھے کہ پتھرا گئیں آنکھیں میری
زخم یہ ہیں تو مرے دل کو بھی پتھّر کر دے
صرف آنسو ہی اگر دستِ کرم دیتا ہے
میری اُجڑی ہوئی آنکھوں کو سمندر کر دے
مجھ کو ساقی سے گلہ ہو نہ تُنک بخشی کا
زہر بھی دے تو مرے جام کو بھر بھر کر دے
شوق اندیشوں سے پاگل ہوا جاتا ہے فراز
کاش یہ خانہ خرابی مجھے بے در کر دے
احمد فراز

اس کی آنکھوں‌کو مرے زخم کی گہرائی دے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 113
اے خدا جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے
اس کی آنکھوں‌کو مرے زخم کی گہرائی دے
تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو
ان کو پتھر نہیں‌ دیتا ہے تو بینائی دے
جس کی ایما پہ کیا ترکِ تعلق سب سے
اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے
یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے
اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا
چشم گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دے
جن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہے
وہ برہنہ ہیں‌ انہیں‌ خلعتِ رسوائی دے
کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز
وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے
احمد فراز