زمرہ جات کے محفوظات: اصناف

باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے
مسندِ انصاف جب سے گُرگ کو حاصل ہوئی
آسماں اور یہ زمیں اِک ساتھ ہیں ہلنے لگے
کیا خبر برسائے جائیں گے وہ کس نااہل پر
پھول پودوں پر بڑی خسّت سے اب کھِلنے لگے
بے بصر کرنے لگی ماجدؔ گماں کی تیرگی
خوف کی سوزن چلی ایسی کہ لب سلنے لگے
ماجد صدیقی

میں وقت کو دان دے رہا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں
میں وقت کو دان دے رہا ہوں
موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا
ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں
یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے
فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں
جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے
ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں
کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر
بے وقت اذان دے رہا ہوں
اوقات مری یہی ہے ماجد
ہاری ہوں لگان دے رہا ہوں
ماجد صدیقی

نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا
روک ڈالے مرغزاروں، پنگھٹوں کے راستے
گرگ نے کیا کیا غزالوں کا نہیں پیچھا کِیا
بچ نکلنے پر بھی اُس کے ظلم سے ہم رو دئیے
عمر بھر جو دھونس اپنی ہی تھا منوایا کِیا
کوڑھ سی مجبوریاں تھیں لے کے ہم نکلے جنہیں
نارسائی نے ہمیں کیا کیا نہیں رسوا کِیا
موسموں کے وار اِس پر بھی گراں جب سے ہوئے
پیڑ بھی ماجد ہمِیں سا جسم سہلایا کِیا
ماجد صدیقی

پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے
اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا
جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے
کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ
مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے
پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں
لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے
دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو
ازسرِ نو فضا میں پر و بال کے پھول کھِلنے لگے
ہے اِدھر آرزوئے بقا اور اُدھر بہرِ زندہ دلاں
فصل در فصل تازہ بچھے جال کے پھول کھِلنے لگے
ہم نے سوچا تھا کچھ اور ماجد، مگر تارِ انفاس پر
اب کے تو اور بے ربط سُر تال کے پھول کھِلنے لگے
ماجد صدیقی

گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں
قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا
ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں
بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی
احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں
ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو
ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں
رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے
ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں
ہم ہیں پھوار ابر کی بوچھاڑ ہم نہیں
سختی کریں کسی پہ، یہ یارا، ہمیں ہو کیوں
بِیجا ہے جو اُگے گا نہ وہ، کشتِ خیر میں!
ماجدؔ گماں جو ہو بھی تو ایسا ہمیں ہو کیوں
ماجد صدیقی

تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں
تتلیوں پھولوں کی بزم آرائیاں
آئنے چہروں کے گرد آلود ہیں
پانیوں پر جم چلی ہیں کائیاں
مفلسی ٹھہرے جہاں پا زیبِ پا
ان گھروں میں کیا بجیں شہنائیاں
مکر سے عاری ہیں جو اپنے یہاں
عیب بن جاتی ہیں وہ دانائیاں
جو نہ جانیں بے دھڑک منہ کھولنا
ہیں اُنہی کے نام سب رسوائیاں
خلق میں ماجدؔ ہو نا مقبول اور
اور لا شعروں میں تُو پہنائیاں
ماجد صدیقی

پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی
بٹتا دیکھ کے ریزوں میں مجبوروں کو
تھپکی دینے آ پہنچے ذی شان کئی
شاہ کا در تو بند نہ ہو پل بھر کو بھی
راہ میں پڑتے ہیں لیکن دربان کئی
طوفاں میں بھی گھِر جانے پر، غفلت کے
مرنے والوں پر آئے بہتان کئی
دل پر جبر کرو تو آنکھ سے خون بہے
گم سم رہنے میں بھی ہیں بحران کئی
ہم نے خود دیکھا ہاتھوں زورآور کے
قبرستان بنے ماجد دالان کئی
ماجد صدیقی

دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
اظہار کو تھا جس کی رعُونت پہ گماں اور
دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور
کہتی ہیں تجھے تشنہ شگوفوں کی زبانیں
اے ابر کرم ! کھینچ نہ تو اپنی کماں اور
ہر نقشِ قدم، رِستے لہو کا ہے مرّقع
اِس خاک پہ ہیں، اہلِ مسافت کے نشاں اور
نکلے ہیں لئے ہاتھ میں ہم، خَیر کا کاسہ
اُٹھنے کو ہے پھر شہر میں، غوغائے سگاں اور
صیّاد سے بچنے پہ بھی ، شب خون کا ڈر ہے
اب فاختہ رکھتی ہے یہاں ، خدشۂ جاں اور
دیکھیں گے، گرانی ہے زمانے کی یہی تو
سبزے کے کچلنے کو ابھی ، سنگِ گراں اور
ماجد وُہی کہتے ہیں، تقاضا ہو جو دل کا
ہم اہلِ سیاست نہیں، دیں گے جو بیاں اور
ماجد صدیقی

ہم سے لے جائیں تمہیں دُور زمانے والے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ہیں اِسی بات پہ مسرور زمانے والے
ہم سے لے جائیں تمہیں دُور زمانے والے
دیکھنا رُو بہ نمو پھر شجر امید کا ہے
شاخ سے جھاڑ نہ دیں بُور زمانے والے
دستبردار ہوں چاہت ہی سے خود اہلِجنوں
یوں بھی کر دیتے ہیں مجبور زمانے والے
ٹھوکروں سے نہ سہی ضربِ نگاہِ بد سے
آئنہ دل کا کریں چُور زمانے والے
برق باغوں پہ گرے یا کوئی تارا ٹوٹے
کس نے دیکھے کبھی رنجورزمانے والے
ماجد صدیقی

وہ لڑکی جو شرمیلے نینوں والی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہم نے بھی اب نسبت اُس سے ٹھہرا لی ہے
وہ لڑکی جو شرمیلے نینوں والی ہے
جو درد گریزاں دل سے تھا وہ جا بھی چکا
کچھ روز سے اب پنجرہ پنچھی سے خالی ہے
احوالِدَرُوں چہرے سے نہیں کُھلنے دیتے
لو ہم نے بھی ہنس کھیل کے بات بنا لی ہے
لَو دیکھ کے شاید کوئی مسافر آ پہنچے
ہم نے بھی دشت کنارے آگ جلا لی ہے
اُس شوخ کا چہر ہ شوخ گلابوں جیساہے
اور کان میں پہلی کے چندا سی بالی ہے
ماجد صدیقی

اِک نظر اے کاش مڑ کر دیکھتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہم تمہیں مہ کے برابر دیکھتے
اِک نظر اے کاش مڑ کر دیکھتے
جھانکتے اِک بار گر تم بام سے
دل میں برپا ہم بھی محشر دیکھتے
ہاں تمہارا لمس گر ہوتا بہم
سرسراتی ہاتھ میں زر دیکھتے
موج جیسے سبزۂ ساحل پہ ہو
تم ہمیں خود پر نچھاور دیکھتے
ماجد صدیقی

تم بھی اے کاش! مرے بھاگ جگانے آتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہمرہِ بادِ صبا پُھول کِھلانے آتے
تم بھی اے کاش! مرے بھاگ جگانے آتے
چاند کے قرب سے بے کل ہو سمندر جیسے
ایسی ہلچل مرے دل میں بھی مچانے آتے
جیسے بارش کی جگہ پُھول پہ شبنم کا نزول
تم بھی ایسے میں کسی اور بہانے آتے
رنگِرخسار سے دہکاتے شب و روز مرے
آتشِگل سے مرا باغ جلانے آتے
دینے آتے مجھے تم صبحِبہاراں کی جِلا
اور خوشبو سا رگ و پے میں سمانے آتے
ماجد صدیقی

ٹل جائیں تجھ نگار سے ایسے بھی ہم نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہم بدگماں ہوں پیار سے ایسے بھی ہم نہیں
ٹل جائیں تجھ نگار سے ایسے بھی ہم نہیں
پُھولوں تلک سفر ہی جب اپنا ہے مدّعا
ڈر جائیں خار زار سے ،ایسے بھی ہم نہیں
اک اور بھی جنم ہو تو دیکھیں گے رہ تری
ٹھٹکیں ہم انتظار سے ایسے بھی ہم نہیں
خُو ہے جو سر بلندیٔ سر کی ہمیں ۔۔ اِسے
بدلیں گے انکسار سے ایسے بھی ہم نہیں
جاناں !ترا وہ تیرِ نظر ہو کہ تیغِ غیر
جھجکیں کسی بھی و ار سے ،ایسے بھی ہم نہیں
ماجد صدیقی

بِن ترے کیا کیا حسیں موسم گزر جانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ندیّوں میں آسمانی رنگ بھر جانے لگے
بِن ترے کیا کیا حسیں موسم گزر جانے لگے
کِھلکھلاہٹ بھی وہی اور تمتماہٹ بھی وہی
پُھول تیرے عارضوں جیسے نکھر جانے لگے
تیری جانب تتلیوں جیسی لئے بے تابیاں
ہو کے پہلے سے زیادہ بارور جانے لگے
تشنۂ حسن اِک نظر، اور اِک دلِ ذی حوصلہ
لے کے ہم بھی ساتھ کیا رختِسفر جانے لگے
تو نہ ہو رنج آشنا جانا ں! ہمارے قرب سے
حق میں تیرے دیکھ !ہم کیا کیا نہ ڈر جانے لگے
ماجد صدیقی

ہنس ہنس کر تم ہی نے پُھول کھلانے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
موسمِ گل کے رنگ تو آنے جانے ہیں
ہنس ہنس کر تم ہی نے پُھول کھلانے ہیں
ہم نے پانے کو تیرے اقرار کی نم
کونجوں جیسے حرف زباں پر لانے ہیں
خوشبو کے مرغولے ،رنگت پُھولوں کی
بھنوروں کے ایسے ہی ٹھور ٹھکانے ہیں
تجھ سے ملنا اور پھر تیرا ہو جانا
ایک حقیقت ،باقی سب افسانے ہیں
قرب ترے کی، چھاؤں میں جا رُکنے کو
دشت کی آنچ میں ہم نے پنکھ جلانے ہیں
ماجد صدیقی

رشک میں اُس شوخ کے اب کی ادائیں شوخ ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
منظروں سپنوں ارادوں کی قبائیں شوخ ہیں
رشک میں اُس شوخ کے اب کی ادائیں شوخ ہیں
اُس کے دم سے سخت واماندہ ہیں خدشوں کے عقاب
اور سکون و امن کی سب فاختائیں شوخ ہیں
اُس کے ہونٹوں پر دمکتی مسکراہٹ دیکھ کر
آسماں پر ابر چنچل ہیں، ہوائیں شوخ ہیں
اُس بدن پر دیکھ کر پیہم مہکتا پیرہن
گل بہ گل بے نام خوشبو کی ردائیں شوخ ہیں
ہم سخن ہونے کو اُس ہر دم سراپا ناز سے
باغ میں کلیوں کے کِھلنے کی صدائیں شوخ ہیں
ماجد صدیقی

مگر اک کٹھن سا سوال ہے تجھے دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
مری آرزو کا مآل ہے تجھے دیکھنا
مگر اک کٹھن سا سوال ہے تجھے دیکھنا
کبھی ابر میں ،کبھی چاند میں، کبھی پُھول میں
سرِگردش مہ و سال ہے تجھے دیکھنا
رگ و پے میں گرچہ ہے چاشنی ترے قرب کی
تو مہک ہے کارِ محال ہے تجھے دیکھنا
کوئی عید بھی ہو سعید ہے ، تری دید کی
پئے چشم، کسبِکمال ہے تجھے دیکھنا
تجھے کیوں نہ میں یہ کہوں صنم کہ سرِ نظر
کسی اور رُت کا جمال ہے تجھے دیکھنا
ماجد صدیقی

اور پھر وہ، کہ سنی تم نے زبانی میری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کیوں رُلاتی نہ تمہیں پیار کہانی میری
اور پھر وہ، کہ سنی تم نے زبانی میری
طاقِنسیاں میں کہیں رکھ کے اُسے بھول گئے
ا نگلیوں میں جو سجائی تھی نشانی میری
آنچ سی دینے لگا ہجر کا صحرا جب سے
اور مرجھانے لگی عمر سہانی میری
برقِ فرقت کی گرج خوف دلاتی ہے یہی
راکھ کا ڈھیر نہ ہو جائے جوانی میری
مجھ کو دہرانے پہ مجبور نہ کرنا جاناں !
جاں سے جانے کی ہے جو ریت پرانی میری
ماجد صدیقی

ہاتھوں سے دُور ہونے لگیں اُس جسم کی گولائیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
قوسیں مہکتے لمس کی رَس گھولتی رعنائیاں
ہاتھوں سے دُور ہونے لگیں اُس جسم کی گولائیاں
شاخوں سے جھڑتے پُھول سی، سر پرامڈتی دھول سی
حق میں ہمارے ہو چلیں، کیا کیا کرم فرمائیاں
ہر کُنج سے چھلکا کئے کیا کیا خزینے لطف کے
لپٹیں تھیں جیسے مشک کی اُس حسن کی پہنائیاں
اُس شوخ کے الطاف کی ،ہم سے نہ ناپی جاسکیں
دل کو جو ارزانی ہوئیں ،اُس درد کی گہرائیاں
ہم کو اکیلا چھوڑ کر، جب سے وہ چنچل جا چکا
ہر سمت اگنے لگ پڑیں، ڈستی ہوئی تنہائیاں
ماجد صدیقی

یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
غیر پر اتنا اعتبار نہ کر
یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر
گل پریشاں ہُوا مہک کھو کر
حالِ دل تو بھی آشکار نہ کر
میں گیا وقت جا چکا ہوں ،مرے
لوٹ آنے کا انتظار نہ کر
ہم کہ ہیں چاہتوں کے متوالے
ہم سے اغماض اے نگار! نہ کر
تو کسی ایک ہی کا ہو کر رہ
خُو کوئی اور اختیار نہ کر
ماجد صدیقی

لب پہ لانے لگی پھر سخن پیار کا، رقص کرتی ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
سن ذرا اے صنم! گنگناتی ہے کیا، رقص کرتی ہوا
لب پہ لانے لگی پھر سخن پیار کا، رقص کرتی ہوا
چُھو کے تیر ا بدن تیری لہراتی زلفیں ترا پیرہن
تجھ سے کہتی ہے کیا کیا مرا مدّعا ،رقص کرتی ہوا
ساتھ لاتی ہے کیا کیا تم ایسے نہ گھونگھٹ بناتی ہوئی
تیرا رنگِ حیا تیرا رنگِ قبا رقص کرتی ہوا
ماجد صدیقی

تیر سارے کماں کے چلا دیکھیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
سخت جاں ہوں مجھے آزما دیکھیے
تیر سارے کماں کے چلا دیکھیے
جس میں مجھ کو ارادے جلانے کے ہیں
اُ س اگن کو بھی دے کر ہوا دیکھیے
میں نے کرنی تھی جاں، نذر کی ہے تمہیں
لعل ہے جو پہنچ میں گنوا دیکھیے
میرے حق میں ہیں جن جن کی بیداریاں
سب کے سب ایسے جذبے سُلا دیکھیے
جس سے شہرِرقیباں میں ہلچل مچے
حشر ایسا بھی کوئی اٹھا دیکھیے
ماجد صدیقی

تم بھی جاناں! ذرا مسکرا دیجیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
سبزہ و گل کو اپنا پتا دیجیے
تم بھی جاناں! ذرا مسکرا دیجیے
اس میں بھی بِن تمہارے کشش کچھ نہیں
موسمِ گل کو اتنا بتا دیجیے
دل میں پھر اَوج پر ہے تمہاری لگن
آگ بھڑکی ہے اِس کو ہوا دیجیے
میں نے گستاخ نظروں کو روکا نہیں
اِس بغاوت کی مجھ کو سزا دیجیے
لطف و راحت کے غنچے کِھلے جس قدر
ہجر کی آنچ سے سب جلا دیجیے
ماجد صدیقی

لیکن جو ہو چکی وہ خطا مان جائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
سچّے ہو گر تو اور نہ آنکھیں چُرائیے
لیکن جو ہو چکی وہ خطا مان جائیے
کیو ں وقتِگفتگو ہے نگاہوں میں اضطراب
زیرِ زباں ہے جو وہ زباں پر بھی لائیے
میں پُھول بھی ہوں گر تو بگولوں کی زد پہ ہوں
میں کھو چکا حواس مرے منہ نہ آئیے
کھینچے جو اپنی سمت اُنہیں بھی جو دُور ہیں
ایسا بھی کوئی پُھول سرِ لب کِھلائیے
لَو دے اٹھے گلاب نہ آخر سرِحجاب
اس طور بھی نہ روئے درخشاں چھپائیے
ماجد صدیقی

نجانے یہ دل جشن کیا کیا مناتا تم آئے تو ہوتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
زرونقدِراحت تمہی پر لٹاتا تم آئے تو ہوتے
نجانے یہ دل جشن کیا کیا مناتا تم آئے تو ہوتے
گلے میں حمائل سجل ضَو کے ہالے، سرِبام چندا
جہاں بھر کو میں اپنی پونجی دکھاتا تم آئے تو ہوتے
کلی کی چٹک سی ،زمیں پر نئی بوندیوں کی کھنک سی
نرالی دھنیں میں لبوں پر سجاتا تم آئے تو ہوتے
مجھے کس طرح تم جلاتے بجھاتے رہے فرقتوں میں
تمہیں جَور اک اک تمہارا سُجھاتا تم آئے تو ہوتے
ان اشکوں کے آنکھوں سے فرطِمسرت میں جو پھوٹتے ہیں
نئے دیپ پلکوں پہ اپنی جلاتا تم آئے تو ہوتے
ماجد صدیقی

پُھول کھلیں جب بھی بگھیا میں یاد بہت آتے ہو جاناں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
رنگ گُھلیں جب بھی پُروا میں یاد بہت آتے جو جاناں
پُھول کھلیں جب بھی بگھیا میں یاد بہت آتے ہو جاناں
اوس پڑی جب پُھولوں پر ہو، قوس دھنک کی پیشِنظر ہو
برکھا کی نمناک ہوا میں یاد بہت آتے ہو جاناں
تم کہ مہک کا اک جھونکا ہو تم کہ لپکتی موجِ صبا ہو
تنہائی جیسے صحرا میں، یاد بہت آتے ہو جاناں
کیف نیا دے جانے والے ،قرب کا لطف دلانے والے
موسم کی پرنور فضا میں یاد بہت آتے ہو جاناں
ہر سو ہیں خوشبو کے ریلے ،ہیں جس میں رنگوں کے میلے
عیش مناتی اس دنیا میں یاد بہت آتے ہو جاناں
ماجد صدیقی

چاند چہرے کا ہوتا اگر ضَونشاں کچھ بگڑنا نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
دیکھتے گر ذرا ہنس کے اے مہرباں کچھ بگڑنا نہ تھا
چاند چہرے کا ہوتا اگر ضَونشاں کچھ بگڑنا نہ تھا
دو قدم ہم چلے تھے اگر دو قدم تم بھی چلتے ادھر
اس سے ہونا نہیں تھا کسی کا زیاں،کچھ بگڑنا نہ تھا
حسن کی کھنکھناتی ندی جانے کیوں ہم سے کھنچتی رہی
گھونٹ دو گھونٹ پینا تھا آبِ رواں، کچھ بگڑنا نہ تھا
بندھنوں سے بغاوت، قیامت کا باعث نہ ٹھہری کبھی
جس طرح کا ہے، رہتا وہی آسماں کچھ بگڑنا نہ تھا
تھوکنے سے بھلا رُوئے مہتاب پر فرق پڑنا تھا کیا
کُھل گئی اِس طرح نیّتِ حاسداں کچھ بگڑنا نہ تھا
ماجد صدیقی

آپ سے ہو گیا بھی اگر سامنا ہم نہ کچھ کہہ سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
دل میں اندوہ جتنا تھا دل میں رہا ہم نہ کچھ کہہ سکے
آپ سے ہو گیا بھی اگر سامنا ہم نہ کچھ کہہ سکے
منعکس ہو سکی ہم سے بس اِس قدر اپنی رودادِ دل
ایک قطرہ سا پلکوں سے ڈھلکا کیا ہم نہ کچھ کہہ سکے
دل کے اندر تھا جو کچھ وہ چہرے پہ مرقوم ہوتا رہا
حشر سا اک پسِچشم ولب تھا بپا ہم نہ کچھ کہہ سکے
نارسائی کی کثرت نے ہم کو دلائے حجاب اس قدر
چھیڑتی رہ گئی آنچلوں کی ہوا ہم نہ کچھ کہہ سکے
عذر کیا کیا زباں پر نہ لائے، دئیے کوسنے کیا سے کیا
آپ ہی نے ہمیں جو کہا سو کہا ،ہم نہ کچھ کہہ سکے
ماجد صدیقی

میر ے ہونٹوں پہ رقصاں شرر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
دیکھنا دیکھنا اک نظر دیکھنا
میر ے ہونٹوں پہ رقصاں شرر دیکھنا
میری جانب سے ہے اِک کبوتر اڑا
اُس کی تم منتہائے سفر دیکھنا
دمبدم ہیں رواں جو تمہاری طرف
اور شل ہیں جو، وہ بال و پر دیکھنا
جان لینا اسے تم پیمبر مرا
ایک تارا قریبِ قمر دیکھنا
آنکھ مضطر ہے اور چاہتی ہے کوئی
جسم کی چاندنی کا نگر دیکھنا
ماجد صدیقی

اُن میں بھی جو سخت تھے وہ دوستوں کے وار تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
درپئے آزار کچھ احباب کچھ اغیار تھے
اُن میں بھی جو سخت تھے وہ دوستوں کے وار تھے
گُرز جو ہم پر اُٹھا اپنے نشانے پر لگا
تیرچِلّے پر چڑھے جتنے جگر کے پار تھے
جان لیوا خامشی اُس کی تھی اور جو بول تھے
سب کے سب شاخِسماعت پرتبر کی دھار تھے
کھو کے اُس چنچل کی چاہت میں یہی ہم پر کھلا
اِک ذرا سا لطف، پھر آزار ہی آزار تھے
کیا سے کیا اُس شوخ کے ہاتھوں نہ سہنے پڑ گئے
جس قدر بھی جبر کے آداب تھے، اطوار تھے
ماجد صدیقی

غیر کے روبرو مجھ سے رُوٹھا نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
چاہتا ہوں کہ تو مجھ سے رُوٹھا نہ کر
غیر کے روبرو مجھ سے رُوٹھا نہ کر
جان لے ،تیرے دم سے بقا ہے مری
عشق کی آبرو! مجھ سے رُوٹھا نہ کر
میں کہ ہوں دیپ، تو ہے شعائیں مری
پھیل کر چار سو مجھ سے رُوٹھا نہ کر
تو کہ چندا ہے چندا سے سُورج نہ بن
ہو نہ یوں تُندخو مجھ سے رُوٹھا نہ کر
میں کہ سبزہ ہوں ،نورس ہوں دم سے ترے
اے مری آبُجو! مجھ سے رُوٹھا نہ کر
ماجد صدیقی

جاناں! تیر ا برتاؤ بھی جان لیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
چہرے پر چہرہ ہم نے پہچان لیا
جاناں! تیر ا برتاؤ بھی جان لیا
اِس بالک کی ہٹ تو ہم کو لے بیٹھی
ہم نے دل کا جانا تھا آسان لیا
جتنے بھی پیغام ہوا نے پہنچائے
ہم نے اُن ساروں کو سچا مان لیا
اور بھلا اِس مشکل کا حل کیا ہوتا
یاد اُجالا چہرۂ شب پر تان لیا
تیرے حسن کا سونا ہاتھ نہیں آیا
ہم نے چاہت کا صحرا بھی چھان لیا
ماجد صدیقی

دل کا ہر خواب سورج مکھی بن گیا پُھول کھلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
جب کبھی میری جانب ترا رُخ پھرا پُھول کھلنے لگے
دل کا ہر خواب سورج مکھی بن گیا پُھول کھلنے لگے
چاپ میں تیرے قدموں کی پیغام تھا جانے کس کشف کا
تیری آمد کا جب بھی چلا ہے پتا پُھول کھلنے لگے
دیر اتنی تھی مائل ہوئی جب صبا تیرے الطاف کی
صحنِخواہش کے ہر کنج میں جا بجاپھول کھلنے لگے
پھر کہاں کی خزاں تیری خاموشیاں جب چٹکنے لگیں
دفعتاً سن کے سندیس و جدان کا پُھول کھلنے لگے
ماجد صدیقی

حسن کے شہ نشیں، لطف کے آسماں دیکھ ایسا نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
تو کہ گل ہے نہ بھنوروں سا ہو بدگماں دیکھ ایسا نہ کر
حسن کے شہ نشیں، لطف کے آسماں دیکھ ایسا نہ کر
رکھ نہ ہم سے چھپا کر طراوت لب و چشم و رخسار کی
لے کے جائیں کہاں ہم یہ سُوکھی زباں دیکھ ایسا نہ کر
طوف سے سرو قامت کے کب تک ہمیں باز رکھے گا تو
دور رکھتا ہے پُھولوں سے کیوں تتلیاں دیکھ ایسا نہ کر
وہ ہمِیں ہیں جو اُتریں گے جاناں !ترے اوجِ معیار پر
کاوشِ شوق ہونے نہ دے رائیگاں دیکھ ایسا نہ کر
ماجد صدیقی

بہ بزمِ غیر نہ آتے اگر بُرا کیا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
بھرم مرا نہ گنواتے اگر بُرا کیا تھا
بہ بزمِ غیر نہ آتے اگر بُرا کیا تھا
تمہارے روٹھ کے جانے سے جو ہوا برپا
وہ حشر تم نہ اٹھاتے اگر بُرا کیا تھا
وہی جو تیر سی میرے بدن کو چیر گئی
وہ بات منہ پہ نہ لاتے اگر بُرا کیا تھا
تمہارے ہجرِمسلسل سے جو الاؤ بنی
اس آگ میں نہ جلاتے اگر بُرا کیا تھا
تم ہی تو تھے جو مرا دم تھے، دل کی دھٹرکن تھے
سفر میں ساتھ نبھاتے اگر بُرا کیا تھا
ماجد صدیقی

جاناں! قریب آؤگھٹا بھی ہے مے بھی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
بن کے نشہ سا چھاؤ گھٹا بھی ہے مے بھی ہے
جاناں! قریب آؤگھٹا بھی ہے مے بھی ہے
آنکھیں ملیں تو مستیاں پھیلیں چہارسو
موسم کو شہ دلاؤ گھٹا بھی ہے مے بھی ہے
جتنی بھی چھا چکی ہیں بدن پر رُتیں اُجاڑ
اُن پر نکھار لاؤ گھٹا بھی ہے مے بھی ہے
رہ جائے بُجھ کے قلب و نظر میں ہے جو بھی پیاس
گاؤ ملہار گاؤ ،گھٹا بھی ہے مے بھی ہے
بندش سی کیا یہ دِید پہ، باہم ملن پہ ہے
جادو کوئی جگاؤ گھٹابھی ہے مے بھی ہے
ماجد صدیقی

پھول کیوں شاخ سے ٹوٹ جانے لگا سوچنا چاہیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
باغ پر وقت کیسا یہ آنے لگا سوچنا چاہیے
پھول کیوں شاخ سے ٹوٹ جانے لگا سوچنا چاہیے
وہ کہ جو جھانکتا تھا بہاروں سے بھی چاند تاروں سے بھی
جذبۂ دل وہ کیسے ٹھکانے لگا سوچنا چاہیے
وہ کہ جو بندشوں سے بھی دبتا نہ تھا جو سنبھلتا نہ تھا
پھر وہی کیوں نظر میں سمانے لگا سوچنا چاہیے
ماجد صدیقی

پتا پتا موسمِ گل بھی بکھر جانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
اے صنم اب اور کس رُت میں ہے تُو آنے لگا
پتا پتا موسمِ گل بھی بکھر جانے لگا
تُوبھی ایسی کوئی فرمائش کبھی ہونٹوں پہ لا
دیکھ بھنورا کس طرح پھولوں کو سہلانے لگا
تُوبھی ایسے میں مرے آئینۂ دل میں اتر
چند رماں بھی دیکھ پھر جھیلوں میں لہرانے لگا
میں بھلاکب اہل، تجھ سے یہ شرف پانے کا ہوں
تُو بھلا کیوں حسن کاہُن ،مجھ پہ برسانے لگا
عندلیبوں کو گلاب اور تُومجھے مل جائے گا
موسم گل، دیکھ! کیا افواہ پھیلانے لگا
ماجد صدیقی

غیر سارے تمہیں یاد آنے لگے تم نے اچّھا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
اپنے پیاروں کو جی سے بُھلانے لگے تم نے اچّھاکیا
غیر سارے تمہیں یاد آنے لگے تم نے اچّھا کیا
تم نے ان سب کو بھی اپنا دامن جھٹک کر پرے کر دیا
جن کو تم تک پہنچتے زمانے لگے تم نے اچّھا کیا
تم نے دیکھا نہ اہلِریا کون، اہلِ صفا کون ہیں
یہ حقائق بھی تم کو فسانے لگے تم نے اچّھاکیا
تم نے سمجھا نہ یہ حرص والے ہی کیونکر سرافراز ہیں
اور کیوں اہلِ دل ہیں ٹھکانے لگے تم نے اچّھا کیا
تم کہ بادِ صبا تھے تم ہی بادِ صرصر میں ڈھلنے لگے
جتنی آنکھیں بھی نم تھیں جلانے لگے تم نے اچّھا کیا
ماجد صدیقی

ہم نہ بتلا تے، نہیں، ایسا نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
آپ ہی نے رازِدل پوچھا نہیں
ہم نہ بتلا تے، نہیں، ایسا نہیں
آپ سے ملنے کا ایسا تھا نشہ
رنگ تھا جیسے کوئی ،اُترا نہیں
سنگ دل تھے اہلِ دنیا بھی بہت
آپ نے بھی ،پیا ر سے دیکھا نہیں
دمبدم تھیں اِک ہمِیں پر یورشیں
تختۂ غیراں کبھی الٹا نہیں
توڑنا، پھر جوڑنا، پھر توڑنا
ہم کھلونوں پر کرم کیا کیا نہیں
ماجد صدیقی

آپ نے اپنا وعدہ نبھایا نہیں ہم نہیں بولتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
اب کے بھی چاند چہرہ دکھایا نہیں ہم نہیں بولتے
آپ نے اپنا وعدہ نبھایا نہیں ہم نہیں بولتے
وہ کہ پہلے پہل سرخ ہونٹوں پہ تھا مژدۂ عید سا
کوئی مژدہ پھر ایسا سنایا نہیں ہم نہیں بولتے
چاہتوں کا جو سندیس لیکر گیا آپ تک آپ نے
بام سے وہ کبوتر اڑایانہیں ہم نہیں بولتے
مثل شعلوں کے لَو دے اٹھے جو بہ سطحِ نظرآپ نے
پیرہن وہ بدن پر سجایا نہیں ہم نہیں بولتے
وہ کہ مہکار جس کی بہ شدّت ہمیں بھی بلاتی کبھی
پھول انگناں میں ایسا کھلایا نہیں ہم نہیں بولتے
ماجد صدیقی

اُتری ہے چاند تک میں ترے پیرہن کی باس

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
آ دیکھ گُل بہ گُل ہے ترے تن بدن کی باس
اُتری ہے چاند تک میں ترے پیرہن کی باس
گل جس طرح رہے ہوں کبھی ہم نشینِخاک
مجھ میں بھی اِس طرح کی ہے تجھ سے ملن کی باس
ہاں ہاں مجھے جلائے جو تیرے فراق میں
ہر رگ میں جاگزیں ہے اُسی اِک اگن کی باس
یوں اب کے اشک یاد میں تیری بہا کیے
بارش برس کے عام کرے جیسے بن کی باس
کھٹکا یہی تو تجھ سے مجھے ابتدا سے تھا
جانا ں!تجھے بھی کھینچ نہ لے جائے دَھن کی باس
ماجد صدیقی

اِنتساب

۲۵دسمبر۱۹۶۴ء کے نام

جب دھندلے گمانوں پر

روشن حقیقتوں کے باب کھلے

لازم ہے اِک دَورِ طرب کے بعد مجھے تو بھول بھی جا

میں اِک بار تجھے پھر چاہوں، عہد نیا آغاز کروں

ماجد صدیقی

سرسوں کی رُت ہے اور ہے کشتِ نظر اداس

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
یابس دنوں کی یاد سے ہے سر بہ سر اداس
سرسوں کی رُت ہے اور ہے کشتِ نظر اداس
جیسے یہ اب ہیں کُند نہ تھیں اِن کی یوں سُریں
دیکھے نہیں تھے ایسے کبھی نغمہ گر اداس
ساقط ہُوا ہے جیسے اُبھرتے ہی آفتاب
اب کے کچھ اِس طرح سے ہوئے بام و در اداس
حیراں نہیں تھے یوں کبھی اشکوں کے آئینے
اُترا نہیں تھا اِن میں نگر کا نگر اداس
یوں تو اٹا نہ تھا کبھی گردِ سکوت سے
راہوں میں اِسطرح تو نہ تھا ہر شجر اداس
دونوں پہ موسموں کا اثر یوں کبھی نہ تھا
ششدر ہوں میں اِدھر تو اُدھر میرا گھر اداس
جیسے الاؤ پر سے کبوتر گزر کے آئے
لَوٹا ہے اب کے ہو کے بہت نامہ بر اداس
پہروں کے پہر،یُوں کبھی گڈ مڈ ہوئے نہ تھے
شب ہے اداس، شام اداس اور سحر اداس
پُورا ہُوا تو ساتھ ہی گھٹنے لگا یہ چاند
ماجد ہے اِس حیات کا سارا سفر اداس
ماجد صدیقی

وہی تنکے ہیں جن سے آشیاں ترتیب پائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
یہ ہم بے خانماں زورِ ہوا جن کو اڑا لے گا
وہی تنکے ہیں جن سے آشیاں ترتیب پائے گا
یہاں سرخاب کا پر جس کسی کو بھی لگے گا وہ
کسی ہم جنس سے کیونکر بھلا آنکھیں ملائے گا
کِیا خم ٹھونک کر جس ناتواں پر جبر جابر نے
پئے انصاف اب اُس کو عدالت تک بھی لائے گا
سرِ ابدان موزوں ہو چلی موجوں کی موسیقی
چٹخ کر ٹُوٹنے کی دُھن بھی اب پانی بنائے گا
رعونت کی ہَوا پھنکارتے ہونٹوں سے کہتی تھی
دِیا مشکل سے ہی کُٹیا میں اب کوئی جلائے گا
یہ ہم جو پٹّیاں آنکھوں پہ باندھے گھر سے نکلے ہیں
ہم ایسوں کو کوئی اندھا کنواں ہی لینے آئے گا
اُسے بھیجیں بھی گر ہم کارزارِ مکر میں ماجدؔ
پلٹ کر ایلچی پہلی سی بِپتا ہی سنائے گا
ماجد صدیقی

یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہے کس کو یہاں کون سا آزار، نہ جانے
یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شبِ تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے، گھر بار نہ جانے
چیونٹی کو ہمیشہ کسی چوٹی ہی سے دیکھے
عادل، کسی مظلوم کی تکرار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
کس درجہ جُھکانا ہے یہ سر، عجز میں ماجدؔ
بندہ ہی یہ جانے، کوئی اوتار نہ جانے
ماجد صدیقی

دم نہیں توڑا ابھی ذی روح نے اور باہم کر گسوں میں جنگ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہم جدھر دیکھیں فضا کے دوش پر، ایک جیسے دو دھڑوں میں جنگ ہے
دم نہیں توڑا ابھی ذی روح نے اور باہم کر گسوں میں جنگ ہے
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو انتقام، اس سے بڑھ کر اور کیا بگڑے نظام
سازشِ طوفاں چلی کچھ اس طرح، اک شجر کے شاخچوں میں جنگ ہے
ابر کی جن پر ردائیں ایک ہیں، ایک سے موسم ہوائیں ایک ہیں
متّصل جن کی چھتیں ہیں شہر میں، ان گھروں ان آنگنوں میں جنگ ہے
ایک کے ہونٹوں پہ دیپک ہے اگر، دوسرا ملہار کے سر چھیڑ دے
جن سے ماجدؔ لطفِ جاں منسوب ہے، اب کے اُن نغمہ گروں میں جنگ ہے
ماجد صدیقی

جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
وسعتِ تِیرہ شبی ، تنہا روی ہے اور ہم
جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم
کیمیا گر تو ہمیں کندن بنا ڈالے مگر
آنچ بھر کی ایسا ہونے میں کمی ہے اور ہم
بھیڑیوں کی دھاڑ کو سمجھیں صدائے رہنما
خوش گماں بھیڑوں سی طبعی سادگی ہے اور ہم
کیا سلوک ہم سے کرے یہ منحصر ہے زاغ پر
گھونسلے کے بوٹ سی نا آگہی ہے اور ہم
ہاں یہی وہ فصل ہے پکنے میں جو آتی نہیں
زخمِ جاں کی روز افزوں تازگی ہے اور ہم
ناگہانی آندھیوں میں جو خس و خاشاک کو
جھیلنی پڑتی ہے وہ بے چارگی ہے اور ہم
ناخدا کو ناؤ سے دیکھا ہو جیسے کُودتے
دم بہ دم ماجد کچھ ایسی بے بسی ہے اور ہم
ماجد صدیقی

جس کا سخن ہو اُس کو وہ، لاثانی لگتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
نقش بنا لے جو بھی خود کو مانی لگتا ہے
جس کا سخن ہو اُس کو وہ، لاثانی لگتا ہے
کم کم ایسا ہوتا ہے جب، آگ میں پھول کھلیں
معجزہ ایسا ہو تو وہ، یزدانی لگتا ہے
ہم تم سارے، خانہ بر دوشوں سے ہیں جن کو
جو موسم بھی آئے وہ، بُحرانی لگتا ہے
ہم کہ جنہیں حبسِ بے جا میں رکھا گیا، ہمیں
اپنا سُندر دیس بھی، کالا پانی لگتا ہے
جنگ و جدال کو گردانیں بس کھیل تماشا وُہ
فرعونوں کو اپنا بدن کب، فانی لگتا ہے
آج بھی ماجدؔ انسانوں سے انسانوں کا چلن
حیوانی لگتا ہے، غیر انسانی لگتا ہے
ماجد صدیقی

ہاں وہ شخص کہ رات کی رانی جیسا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
منظر کی تزئین میں ’مانی‘ جیسا ہے
ہاں وہ شخص کہ رات کی رانی جیسا ہے
آنکھ میں اُس کے لبوں کا وداعی سنّاٹا
ہاتھ میں مُندری کی سی نشانی جیسا ہے
رہبروں کے غبارے پھٹنے پر اپنا
عالم بّچوں کی حیرانی جیسا ہے
جس کی قبر کو ڈھانپنے تاج محل اُبھرے
وہ بے مثل ہے کون اُس رانی جیسا ہے
ہونٹ سِلے ہیں گویا بل بل ماتھے کا
تن میں ابلتا خوں طغیانی جیسا ہے
قّصہ اپنے ہاں کے سبھی منصوبوں کا
طوطے اور مَینا کی کہانی جیسا ہے
اُس چنچل کا قرب ہمیشہ کب حاصل
پل دو پل کا ساتھ جوانی جیسا ہے
اِس قطرے میں جانے الاؤ کیا کیا ہیں
آنکھ میں آنسو یوں تو پانی جیسا ہے
ماجدؔ تیرا فکر امینِ توانائی
اور سخن دریا کی روانی جیسا ہے
ماجد صدیقی

گلاب رکھ کے کتابوں میں یار، بُھول گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
نصابِ ربط کے نقش و نگار بُھول گئے
گلاب رکھ کے کتابوں میں یار، بُھول گئے
گھروں سے لے کے گھروں تک انا و نخوت کی
اُڑی وہ گرد کہ چہرے نکھار بُھول گئے
ہوائے تُند نے جھٹکے کچھ اس طرح کے دئیے
ہمارا کس پہ تھا کیا اختیار؟ بُھول گئے
جنہیں گماں تھا نمو اُن تلک بھی پہنچے گی
وہ کھیت مرحلۂ انتظار، بُھول گئے
نہ جان پائے کہ مچلے گا، پُھول چہروں میں
یہ ہم کہ خوئے دلِ نابکار، بُھول گئے
قدم کدھر کو ،ارادے کدھر کے تھے اُن کے
یہ بات رن میں سبھی شہسوار، بُھول گئے
فضائے تخت ثمر بار دیکھ کر ماجدؔ
جو روگ شہر کو تھے، شہریار، بُھول گئے
ماجد صدیقی

کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں
کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں
جو حرفِ حق ہے اُسے، دلنشیں بنانے کو
کچھ اور سابقے اور لاحقے تلاش کروں
میں ربط دیکھ کے سورج مکھی سے سورج کا
برائے چشم نئے رتجگے تلاش کروں
وہ جن میں جھانک کے سنبھلیں مرے نواح کے لوگ
میں اُس طرح کے کہاں آئنے تلاش کروں
جو آنچ ہی سے مبّدل بہ آب ہوتے ہیں
میں گرم ریت میں وہ آبلے تلاش کروں
بھگو کے گال، سجا کر پلک پلک آنسو
’ اُداس دل کے لئے مشغلے تلاش کروں‘
بیاضِ درد کی تزئین کے لئے ماجدؔ
وہ حرف رہ گئے جو، اَن کہے تلاش کروں
ماجد صدیقی

اپنے تساہل پر کیوں شرم نہ آئے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کیلنڈر کا ہر ہندسہ سمجھائے مجھے
اپنے تساہل پر کیوں شرم نہ آئے مجھے
تاج کسی لاوارث شہ کا، نگری میں
کون اُترتے دم ہی، بھلا پہنائے مجھے
درس نہیں ہوں، میں ہوں اکائی زینے کی
وقت کا بالک کاہے کو دُہرائے مجھے
میں کہ جسے اِک ایک تمنّا عاق کرے
کون سخی ہو ایسا، جو اپنائے مجھے
لُو کا بھبھوکا ماجدؔ ماں کا ہاتھ نہیں
بے دم ہوتا دیکھ کے جو سہلائے مجھے
ماجد صدیقی

ٹوٹے نہ یہ غضب بھی ہماری ہی جان پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
کھٹکا ہے یہ، کسی بھی پھسلتی چٹان پر
ٹوٹے نہ یہ غضب بھی ہماری ہی جان پر
جیسے ہرن کی ناف ہتھیلی پہ آ گئی
کیا نام تھا، سجا تھا کبھی، جو زبان پر
چاہے جو شکل بھی وہ، بناتا ہے اِن دنوں
لوہا تپا کے اور اُسے لا کے سان پر
اُس پر گمانِ مکر ہے اب یہ بھی ہو چلا
تھگلی نہ ٹانک دے وہ کہیں آسمان پر
یک بارگی بدن جو پروتا چلا گیا
ایسا بھی ایک تیر چڑھا تھا کمان پر
تاریخ میں نہ تھی وہی تحریر ، لازوال
جو خون رہ گیا تھا عَلَم پر، نشان پر
ماجدؔ ہلے شجر تو یقیں میں بدل گیا
جو وسوسہ تھا سیلِ رواں کی اٹھان پر
ماجد صدیقی

امتدادِ وقت سے دُھندلی، عبارت ہو گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
کاوشِ انساں کا کیا، کی اور اکارت ہو گئی
امتدادِ وقت سے دُھندلی، عبارت ہو گئی
چلتی گاڑی سے جو ٹکرا کر گری وہ فاختہ
تھی تلاشِ رزق میں نکلی کہ غارت ہو گئی
زیر بار اُس کے ہوئے ایسے، نہ رُخ موڑا گیا
ہوتے ہوتے درد سے ایسی سفارت ہو گئی
رہبری کا اہل ٹھہرا ہے وہی اپنے یہاں
رہزنی کے باب میں جس کو مہارت ہو گئی
لمس اُس پارس کا سپنوں تک کو کندن کر گیا
اُس کے دم سے اپنی غربت بھی امارت ہو گئی
ماجد صدیقی

سِفلوں سے پالا پڑتا ہے راز یہ تب کُھل پاتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
کُتا آنکھیں کب دکھلاتا ہے کب دُم لہراتا ہے
سِفلوں سے پالا پڑتا ہے راز یہ تب کُھل پاتا ہے
خلق سے بھی کھنچتا ہے آئینے سے بھی کتراتا ہے
جس کے دل میں چور ہو خود سے بھی کم آنکھ ملاتا ہے
جویائے تعبیر رہے وہ خواب میں قامتِ بالا کی
بَونے کی یہ خُو ہے سوتے میں بھی وہ اِٹھلاتا ہے
اِس سے ہٹ کر کم کم ہو، ہوتا ہے اکثر ایسا ہی
باپ نے جو جَھک ماری ہو بیٹا بھی اسے دُہراتا ہے
جس کوتاہ نظر کو بھی احساس ہو کمتر ہونے کا
برتر پر چھا جانے کو وہ اور ہی طیش دِکھاتا ہے
خاک کو دریا دل ہو کر جب سرمۂ چشم بنایا تھا
ماجدؔ جانے وہ لمحہ کیوں رہ رہ کر یاد آتا ہے
ماجد صدیقی

شب کی ہم زاد اتری ہوئی سربہ سرآنگنوں میں ملی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
کہر سی نامرادی کی صبحِ سفرآنگنوں میں ملی
شب کی ہم زاد اتری ہوئی سربہ سرآنگنوں میں ملی
کھنچ رہا تھا پرندہ قفس سے نکل کر قفس کی طرف
تھی نہ قابل یقیں کے جو ایسی خبر آنگنوں میں ملی
ریزہ ریزہ بکھرتے گئے، جتنے اوراق تھے امن کے
فاختہ پھڑپھڑ اتی ہوئی مشت بھر آنگنوں میں ملی
مکر و فن کو نہ جس کی عروسی پھبن اک نظر بھا سکی
مانگ جس کی اجاڑی گئی وہ سحر،آنگنوں میں ملی
نیّتِ بد کہ میراث اہلِ ریا تھی، سکوں لُوٹنے
خرمنِ آرزو میں مثالِ شرر آنگنوں میں ملی
پچھلی رت کے دباؤ سے آنسو ہوا تک سے رسنے لگے
شکل احوال کی صورتِ چشمِ تر آنگنوں میں ملی
پو پھٹے پر بھی ماجدؔ نہ لے نام ٹلنے کا، آسیب سی
دہشتِ جبر جو شب کے پچھلے پہر آنگنوں میں ملی
ماجد صدیقی

اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
کس کس کے لئے تھا وہ سبب راحتِ جاں کا
اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا
نخچیر کا خوں خاک میں کیوں جذب ہوا تھا
لاحق یہی احساس تھا چیتے کو زباں کا
کھو جانے لگے سُر جو لپکتے تھے فضا میں
پھر اب کے گلا سُوکھ چلا جُوئے رواں کا
دی دھاڑ سنائی ہمیں وحشت کی جدھر سے
رُخ موڑ دیا ہم نے اُسی سمت کماں کا
اوروں کو بھی دے کیوں نہ دکھائی وہ ہمِیں سا
جس خطۂ جاں پر ہے گماں باغِ جناں کا
سوچا ہے کبھی ہم سے چلن چاہے وہ کیسا
جس خاک کا برتاؤ ہے ہم آپ سے ماں کا
کیوں گھر کے تصّور سے اُبھرتا ہے نظر میں
نقشہ کسی آندھی میں گِھرے کچّے مکاں کا
بولے گا تو لرزائے گا ہر قلبِ تپاں کو
ماجدؔ نہ بدل پائے گا انداز فغاں کا
ماجد صدیقی

ختم ہوں گے نہ جب آئیں گے، زمانے میرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
فن میں بیٹھے ہیں بہت ٹھیک نشانے میرے
ختم ہوں گے نہ جب آئیں گے، زمانے میرے
میں کہ خوشحال ہوں، خوشحال ہوں خاصا لیکن
غیر کے ہاتھ پِہ گروی ہیں خزانے میرے
اِس خطا پر کہ مجھے ناز ہے، پرواز پہ کیوں
آخرش کاٹ دئیے پر ہی، ہَوا نے میرے
ایک دن سچ کہ جو ہے زیر، زبر بھی ہو گا
ایک دن گائیں گے دشمن بھی ترانے میرے
ماجد صدیقی

مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
فضا کا زہر ہی تریاق ہے تو پینے دے
مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے
یہ ہم کہ غیر ہیں باوصفِ دعویٰٔ وحدت
جو رازدان ہوں باہم، ہمیں وہ سِینے دے
ہوس سے دُور ہو، اندر ہو پُرسکوں اُس کا
کوئی جو دے تو مری قوم کو دفینے دے
رہِ جنون بس اِتنی سی ڈھیل مانگتا ہوں
ہوئے ہیں زخم جو سینے میں، اُن کو سِینے دے
جو وصف، خاص ہے تجھ سے بروئے کار بھی لا
لغت کو لفظ کو ماجدؔ نئے قرینے دے
ماجد صدیقی

یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
غیر پر اتنا اعتبار نہ کر
یہ ستم مجھ پہ بار بار نہ کر
گل پریشاں ہُوا مہک کھو کر
حالِ دل تو بھی آشکار نہ کر
میں گیا وقت جا چکا ہوں ،مرے
لوٹ آنے کا انتظار نہ کر
ہم کہ ہیں چاہتوں کے متوالے
ہم سے اغماض اے نگار! نہ کر
تو کسی ایک ہی کا ہو کر رہ
خُو کوئی اور اختیار نہ کر
ماجد صدیقی

تجھ سے کچھ اور نہ اے میرے مسیحا! مانگوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
صحنِ امروز میں بچپن کا اُجالا مانگوں
تجھ سے کچھ اور نہ اے میرے مسیحا! مانگوں
بہرِ عرفان، عطا زیست مکّرر ہو اگر
میں جو مانگوں تو فقط دیدۂ بینا مانگوں
ہونٹ مانگوں وہ تپش جن سے، سخن کی جھلکے
اور درونِ رگِ جاں، خون مچلتا مانگوں
حرفِ حق منہ پہ جو ہے، اُس کی پذیرائی کو
پیشِ فرعون، خدا سے یدِ بیضا مانگوں
جس نے دی عمر مجھے، وام ہی، چاہے دی ہے
وہ سخی مدِّ مقابل ہو تو کیا کیا مانگوں
جو بھی دیکھے اُسے صنّاع مرا، یاد آئے
میں سرِ خاک بس ایسا قدِ بالا مانگوں
جس پہ ٹھہرے نہ کوئی چشمِ تماشا ماجدؔ
لفظ در لفظ وہ معنی کا اُجالا مانگوں
ماجد صدیقی

اور اُن کے کھیلنے کو گاٹیاں ہم آپ ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
شہ بہ شہ اِک کھیل برپا ہے جہاں ہم آپ ہیں
اور اُن کے کھیلنے کو گاٹیاں ہم آپ ہیں
خم نہیں ہے ابروؤں میں چِیں جبینوں پر نہیں
جو نہیں تنتی کبھی ایسی کماں ہم آپ ہیں
مژدۂ کربِ لحد، ذکرِ خدائے محتسب
جانے کن کن دبدبوں کے درمیاں ہم آپ ہیں
حرف کی توقیر ہے، زور آوری پر منحصر
مقتدر ہی معتبر ہے بے زباں ہم آپ ہیں
زیر کرتی ہے ہمیں ہی دانشِ اہلِ ریا
جو بھی دَور آتا ہے صیدِ مُفسداں ہم آپ ہیں
اِک ذرا سی جس کو دانائی و عّیاری ملی
رہنما وہ اور جیشِ ابلہاں ہم آپ ہیں
دھند چھٹتی ہے تو پھر اِک دھند چھا جانے لگے
کُھل نہیں پاتا یہی ماجدؔ کہاں ہم آپ ہیں
ماجد صدیقی

بادل نے جہاں بھی کہیں بے نم ہمیں دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
شاہوں ساجو دیکھا بھی تو ہے کم ہمیں دیکھا
بادل نے جہاں بھی کہیں بے نم ہمیں دیکھا
منشا تھی ہر اوتار کی اِتنی سی کہ اُس نے
مسرور تھا جب بھی، بہ سرِ خم ہمیں دیکھا
ہر تُند بگولے نے ہر اِک سیلِ غضب نے
دیکھا بھی تو تنکوں ہی سا برہم ہمیں دیکھا
ہر دیکھنے والے نے دھندلکے میں حسد کے
مہتابِ سرِ صبح سا مدّھم ہمیں دیکھا
ماجدؔ ہوئے ہم اوس کنارِ لبِ جُو کی
ہر موج نے ندیا ہی میں مدغم ہمیں دیکھا
ماجد صدیقی

وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
شاخِ شجر پر پھل پکنے کا ہر حیلہ ناکام لگا
وقت سے پہلے خوشیوں کا اسقاط ہمارے نام لگا
آنے والے وقت کے تیور اِس میں وہ پڑھ لیتا ہے
اب بھی شاہ کے ہاتھ میں ہے جو وہ جمشیدی جام لگا
ہم جس کی کوڑی لائے تھے ہم نے جو کچھ سوچا تھا
اس کا ہونا ہی کیونکر اب کے بھی خیال خام لگا
ضبط کے ہاتھوں پھٹی پھٹی لگتی تھیں جتنی آنکھیں تھیں
اور سکوت لبوں کا سینے سینے کا کہرام لگا
ا چّھی قدروں کو اپنانا بات گئے وقتوں کی ہے
آج تو جس میں بھی ہے اُس کو سفلہ پن انعام لگا
وقت نہ پھر ہاتھ آئے گا ایسا اے صاحبِ بینائی
بول کوئی بولی اور ہم سارے اندھوں کے دام لگا
ہم کہ پیادہ پیا ہیں ماجدؔ جانیں یہ احوال ہمِیں
کن کن حیلوں دن کا سورج جا کے کنارِ شام لگا
ماجد صدیقی

گرد کے طوفاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
سانس میں غلطاں
گرد کے طوفاں
مِلک ہے اپنی
رنجِ فراواں
اُڑنے لگا کیوں
رنگِ گُلستاں
ہاتھ ہوا کے
برگ، پَرافشاں
غُنچہ و گُل ہیں
خاک بہ داماں
جبر کا نشتر
نِزدِ رگِ جاں
ہر رُخِ انور
ششدر و حیراں
عمر ہے جیسے
شامِ غریباں
مُزرعۂ ماجِد
دیدۂ گِریاں
ماجد صدیقی

ہُوا ہے آتشیں صحنِ نظر، آہستہ آہستہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
سرِخروار مچلے ہیں شرر آہستہ آہستہ
ہُوا ہے آتشیں صحنِ نظر، آہستہ آہستہ
اُجڑنے کی خبر ٹہنی سے ٹہنی تک نہیں پہنچی
چمن میں سے ہُوا مِنہا، شجر آہستہ آہستہ
ہُوا پھر یوں، جنوں پر عقل نے پہرے بِٹھا ڈالے
دِبک کر رہ گئے آشفتہ سر، آہستہ آہستہ
نظر میں ہے بہت بے رنگ دن کو اور بہ شب، روشن
فلک پر چاند کا ماجدؔ سفر آہستہ آہستہ
ماجد صدیقی

یہ بڑا چودھری، وہ بڑا چودھری، اُس سے آگے بھی ہے اِک بڑا چودھری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
سر اُٹھانے کی رہ میں ہمارے لئے ہر کہیں ہے کڑے سے کڑا چودھری
یہ بڑا چودھری، وہ بڑا چودھری، اُس سے آگے بھی ہے اِک بڑا چودھری
ریوڑوں پر جھپٹتے ہوئے گُرگ سا آنگنوں گھونسلوں میں گُھسے سانپ سا
جھونپڑے جس جگہ بھی دکھائی دیئے، اُن میں دیکھا اکڑتا، کھڑا چودھری
سبزۂ زیرِ سنگِ گراں نے ذرا سر اُٹھایا جہاں اُس کا جی جل اٹھا
صورتِ حال ایسی جہاں بھی ملی، اُس سے ہے مخمصوں میں پڑا چودھری
نام سے اِک اسی کے تھی منسوب جو، لہلہاتی فضا میں، پتنگ اوج کی
ڈور ہاتھوں سے اُس کی نکلتے ہوئے دیکھ کر ہے زمیں میں گڑا چودھری
خوں میں اُترا نشہ چودھراہٹ کا وہ، دیکھ سکتا تھا کیسے بھلا ٹُوٹتے
لے کے پلٹا ہے وہ، انتقام اونٹ سا، ایسی ہٹ پر جہاں بھی اڑا چودھری
زیردستوں کو رن میں دھکیلا کِیا، آن سے، جان سے اُن کی کھیلا کیا
پر جو ماجدؔ ہوئے اُس سے روکش ذرا، اُن سے آخر تلک ہے لڑا چودھری
ماجد صدیقی

دشت میں رہ کر چیتے کو خونخوار کہیں، کیا کہتے ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
زورآور کو ہم وجہِ آزار کہیں، کیا کہتے ہو
دشت میں رہ کر چیتے کو خونخوار کہیں، کیا کہتے ہو
بِن شعلوں کے جسموں جسموں جس کی آنچ سمائی ہے
بے آثار ہے جو، اُس نار کو نار کہیں، کیا کہتے ہو
بہرِ نمونہ کھال جہاں ادھڑی ہے کچھ کمزوروں کی
اُس دربار کو جَور کا ہم تہوار کہیں،کیا کہتے ہو
وہ بے گھر تو اِس رت جا کر اگلی رت لوٹ آتی ہیں
سکھ سپنوں کو ہم کونجوں کی ڈار کہیں، کیا کہتے ہو
یہ تو لہو کے چھینٹوں سے کچھ اور بھی نور بکھیرے گی
صبحِ ستم کو ماجد! شب آثار کہیں، کیا کہتے ہو
ماجد صدیقی

سارے یقیں پانی پہ لکیروں جیسے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
ریت پہ طوفاں کی تحریروں جیسے ہیں
سارے یقیں پانی پہ لکیروں جیسے ہیں
اِک اِک شخص حنوط ہُوا ہے حیرت سے
جتنے چہرے ہیں ، تصویروں جیسے ہیں
از خود ہی پٹر جائیں نام ہمارے یہ
درد کے سب خّطے ، جاگیروں جیسے ہیں
پاس ہمارے جو بھی جتن ہیں بچاؤ کے
ڈوبنے والوں کی تدبیروں جیسے ہیں
پسپائی کی رُت میں ہونٹ کمانوں پر
ماجد جتنے بول ہیں ، تیروں جیسے ہیں
ماجد صدیقی

ہم پر ہے التفات یہی آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
رُخ موڑ دے گا تُند ہوا سے اُڑان کا
ہم پر ہے التفات یہی آسمان کا
کچھ اس طرح تھی ہجر کے موسم کی ہر گھڑی
جیسے بہ سطحِ آب تصوّر، چٹان کا
موسم کے نام کینچلی اپنی اُتار کر
صدقہ دیا ہے سانپ نے کیا جسم و جان کا
کس درجہ پر سکون تھی وہ فاختہ جسے
گھیرے میں لے چکا تھا تناؤ کمان کا
کس خوش دَہن کا نام لیا اِس نے بعدِعمر
ٹھہرا ہے اور ذائقہ ماجد زبان کا
ماجد صدیقی

اِن میں بھی جو سخت تھے وہ دوستوں کے وار تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
در پئے آزار کچھ احباب کچھ اغیار تھے
اِن میں بھی جو سخت تھے وہ دوستوں کے وار تھے
گرز جو ہم پر اُٹھا اپنے نشانے پر لگا
تِیر چلّے پر چڑھے جتنے، جگر کے پار تھے
جان لیوا خامشی اُس کی تھی اور جو بول تھے
سب کے سب شاخِ سماعت پر تبر کی دھار تھے
کھو کے اُس چنچل کی چاہت میں یہی ہم پر کُھلا
اِک ذرا سا لطف، پھر آزار ہی آزار تھے
کیا سے کیا اُس شوخ کے ہاتھوں نہ سہنے پڑ گئے
جس قدر بھی جبر کے آداب تھے اطوار تھے
ماجد صدیقی

آنکھ مری کیوں وا ہے اِتنی دیر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
در کاہے کو کُھلا ہے اِتنی دیر گئے
آنکھ مری کیوں وا ہے اِتنی دیر گئے
کس نے کس کی پھر دیوار پھلانگی ہے؟
کس سے کون خفا ہے اِتنی دیر گئے
کس کی آنکھ کی آس کا تارا ٹُوٹا ہے
کس کا چین لُٹا ہے اِتنی دیر گئے
دل کے پیڑ پہ پنکھ سمیٹے سپنوں میں
ہلچل سی یہ کیا ہے اِتنی دیر گئے
کن آنکھوں کی نم میں، گُھلنے آیا ہے
بادل کیوں برسا ہے اِتنی دیر گئے
سو گئے سارے بچّے بھی اور جگنو بھی
پھر کیوں شور بپا ہے اِتنی دیر گئے
کس کو بے کل دیکھ کے ماجدؔ چندا نے
آنگن میں جھانکا ہے اِتنی دیر گئے
ماجد صدیقی

آج کل کے درمیاں کا فاصلہ عمر بھر کا فاصلہ لگنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
دن علالت کے ہیں، اور ماجِد ہمیں، اپنا جینا کیا سے کیا لگنے لگا
آج کل کے درمیاں کا فاصلہ عمر بھر کا فاصلہ لگنے لگا
گِھر گیا جب تُندیٔ گرداب میں، صلح کُل لگتا تھا کیا مارِ سیاہ
پر کنارے آ لگا جب خَیر سے، پیش و پس اپنے، خدا لگنے لگا
کیا اِسے ہم وقت کی سازش کہیں یا اِسے کوتاہئِ قسمت کہیں
وہ کہ جس کا ہم مداوا کر چکے، روگ وہ، پھر سے ہرا لگنے لگا
جب بھی جانچا ایک ذرّے کا کمال جب بھی پرکھا پھول پتوں کا جمال
ہم بہت کچھ کہہ چکے پھر بھی ہمیں، جانے کیا کیا، اَن کہا لگنے لگا
کرب کے ہاتھوں نجانے خون میں، کیا سے کیا بپھرے بھنور اُٹھنے لگے
کیا بگاڑ اُٹھّا نجانے جسم میں، ہر نیا دن حشر زا لگنے لگا
دل میں اُترا ہے عجب اِک وہم سا، وقت اُس کو توڑ ہی کر رکھ نہ دے
وہ کہ ہے اِک عمر سے جو ایک سا، وہ تعلّق کیوں نیا لگنے لگا
ہے بجا ڈر ڈوب جانے کا مگر ڈر نہ چھایا ہو وہ، دل پر اِس قدر
ہم نظر تک میں نہ لاتے تھے جسے، کیوں وہ تنکا، آسرا لگنے لگا
ماجد صدیقی

کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
دینے لگا ہے یہ بھی تأثر کمان کا
کیا کیا سلوک ہم سے نہیں آسمان کا
اُس کو کہ جس کے پہلوئے اَیواں میں داغ تھا
کیا کیا قلق نہ تھا مرے کچّے مکان کا
دریا میں زورِ آب کا عالم تھا وہ کہ تھا
اِک جیسا جبر موج کا اور بادبان کا
اپنے یہاں وہ کون سا ایسا ہے رہنما
ٹھہرا ہو جس کا ذِکر نہ چھالا زباں کا
آخر کو اُس کا جس کے نوالے تھے مِلکِ غیر
رشتہ نہ برقرار رہا جسم و جان کا
چاہے سے راہ سے نہ ہٹے جو نہ کھُر سکے
ماجدؔ ہے سامنا ہمیں ایسی چٹان کا
ماجد صدیقی

آشتی باہر نمایاں اور بگاڑ اندر یہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
خَیر کے چرچے فراواں اور زیادہ شر یہاں
آشتی باہر نمایاں اور بگاڑ اندر یہاں
جس نے بھی چاہا اُٹھائے رتبۂ نادار کو
کیا سے کیا برسا کِیے اُس شخص پر پتّھر یہاں
سرگرانی جن سے ہو وہ آنکھ سے ہٹتے نہیں
جی کو جو اچّھے لگیں ٹھہریں نہ وہ منظر یہاں
دیکھتے ہیں چونک کر سارے خدا اُن کی طرف
فائدے میں ہیں جو ہیں اعلانیہ، آذر یہاں
کاش ایسا ہو کہ پاس اُس کے خبر ہو خَیر کی
جب بھی آئے کاٹتا ہے ہونٹ، نامہ بر یہاں
اور ہی انداز سے دمکے گی اب اردو یہاں
اس سے وابستہ رہے گر خاورؔ و یاورؔ یہاں
محض گرد و دُود ہی کیا اور بھی اسباب ہیں
سانس تک لینا بھی ماجدؔ ہو چلا دُوبھر یہاں
ماجد صدیقی

پُوری عمر کی دُوری پر آتا کل لگتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
خون میں برپا اِک محشر سا ہر پل لگتا ہے
پُوری عمر کی دُوری پر آتا کل لگتا ہے
سارا رنگ اور رس ہے اُس کی قربت سے ورنہ
دل ویرانہ لگتا ہے دل جنگل لگتا ہے
آنکھ میں شب کی اوٹ میں کھلتی کلیوں کی سی حیا
اُس کے رُخ پر لپٹا چاند کا آنچل لگتا ہے
اپنے اِک اِک دن کا سورج خون آشام لگے
چہرہ اپنے ہر اخبار کا مقتل لگتا ہے
ہونٹوں پر سے پل پل صحرا کی سی آنچ اُٹھے
آنکھ کا آنگن اشکِ رواں سے جل تھل لگتا ہے
نشۂ جُہل نے اپنے یہاں یُوں سب کو سیر کیا
اپنے عقیدے میں ہر شخص ہی پاگل لگتا ہے
لب پہ رکا ہے آ کر جانے کون سا حرفِ گراں
ماجِد ہاتھ میں اپنا قلم تک بوجھل لگتا ہے
ماجد صدیقی

شاخِ شجر سے ٹوٹ گریں گے ،ہار نہ لیکن مانیں گے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
خاک اچھال بھی دے تو دُور خلا میں ، تنبو تانیں گے
شاخِ شجر سے ٹوٹ گریں گے ،ہار نہ لیکن مانیں گے
ہم درویش ہیں شاہ نہیں ہیں ، حرص زدہ گمرہ نہیں
نوکِ زبان پر بھی وہی ہو گا، جو کچھ جی میں ٹھانیں گے
دُھوپ کے تِیر ہوں یا، صحرائی ریت کی قاتل کنکریاں
جیتے جی جو تن پر برسا اُسے پُھہار ہی جانیں گے
دیکھ چکے ہم سا دہ مزاجی آدم کی ، لیکن اب تو
اوّل دن سے جو بھی ملا شیطان اُسے پہچانیں گے
ماجد صدیقی

شہرِ خوباں سے کوئی اچّھی خبر آتی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
خواب میں آئے بہ دستِ نامہ بر آتی نہیں
شہرِ خوباں سے کوئی اچّھی خبر آتی نہیں
چہچہاتی ہیں تمنّاؤں کی چڑیاں چار سُو
شب بھی کچھ گہری نہیں لیکن سحر آتی نہیں
راہِ فرش و عرش جب ہوتی ہے قدموں کے تلے
زندگی میں وہ گھڑی بارِ دگر آتی نہیں
دیکھ کر لپکے جو ہونٹوں پر تبسّم کے گلاب
کوئی تتلی اب سرِ شاخِ نظر آتی نہیں
ماجد صدیقی

کام بہت سارے ہیں، فرصت کم لگتی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
جیون رُت کی سختی بے موسم لگتی ہے
کام بہت سارے ہیں، فرصت کم لگتی ہے
صبحِ سفر یادوں میں اُترتی ہے یوں جیسے
رفتہ رفتہ رات کی چادر نم لگتی ہے
سوچیں خلق کے حق میں اچّھا سوچنے والے
خلق اُنہی سے آخر کیوں برہم لگتی ہے
ان سے توقّع داد کی ہم کیا رکھیں جن کے
بات لبوں کے بیچ سے پھوٹی سم لگتی ہے
بات فقط اک لمبی دیر گزرنے کی ہے
جگہ جگہ پر کیا کیا کھوپڑی، خم لگتی ہے
بَیری رات کے آخر میں جو جا کے بہم ہو
آنکھ کنارے اٹکی وہ شبنم لگتی ہے
کچھ تو اندھیرا بھی خاصا گمبھیر ہوا ہے
کچھ ماجدؔ لَو دیپ کی بھی مدّھم لگتی ہے
ماجد صدیقی

میں کہکشاں ہوں، مجھے نور کی کماں دے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
جہاں کُھلیں مرے جَوہر وہ آسماں دے دے
میں کہکشاں ہوں، مجھے نور کی کماں دے دے
مرے سکوں کا جو، میری بقا کا ضامن ہو
جو مختلف ہو قفس سے، وہ آشیاں دے دے
کہوں جو بات وہ جھومر، جبینِ وقت کا ہو
جو حق سرا ہو، وہ منصور سی زباں دے دے
کٹی جو رات تو، نجمِ سحر سے میں نے کہا
میں جی اٹھاہوں مرے کان میں اذاں دے دے
جو بعدِ جنگ علامت ہو، سرفرازی کی
عَلم وہ دے مرے ہاتھوں میں، وہ نشاں دے دے
سو یُوں ہُوا کہ ہُوا اُس کا، اِک مکیں میں بھی
طلب یہ کی تھی ،مجھے وادیٔ سَواں دے دے
جب آئے جی میں تری بزم میں چلا آؤں
یہ اِذنِ خاص بھی،ماجد کو، جانِ جاں دے دے
ماجد صدیقی

خدا اُس کو خدائی دے رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
جہاں جس کی دُہائی دے رہا ہے
خدا اُس کو خدائی دے رہا ہے
چُرا کر خضر کا جامہ ہمیں وہ
سلگتی جگ ہنسائی دے رہا ہے
پڑی زد جرم کی جس پر وہ چُپ ہے
جو مجرم ہے صفائی دے رہا ہے
بگولہ گھیر کر ہر ذِی طلب کو
ثمر تک نارسائی دے رہا ہے
وہ لاوا جو سِلے ہونٹوں کے پیچھے
دہکتا ہے سُنائی دے رہا ہے
وہ دے کر زر دریدہ عصمتوں کو
اُنہیں اُن کی کمائی دے رہا ہے
تناؤ ساس کے تیور کا ماجدؔ
دُلہن کو ’منہ دِکھائی‘ دے رہا ہے
ماجد صدیقی

کیوں چَین تجھے اے دلِ بے تاب! نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
ٹھہراؤ کہیں صورتِ سیماب نہ آئے
کیوں چَین تجھے اے دلِ بے تاب! نہ آئے
شکوہ جو سرِ اشک ہے لفظوں میں نہ ڈھالو
کائی کہ جو تہہ میں ہے، سرِآب نہ آئے
کیا لفظ تھے ہم اور غلط العام ہوئے کیا
کوئی بھی لگانے جِنہیں اعراب نہ آئے
وہ غار نشیں ہم ہیں تصوّر میں بھی جن کے
بہروپ میں جگنو کے بھی مہتاب نہ آئے
رفعت جو ذرا سر کے جھکانے سے دلائیں
ماجد تمہی اب تک، وہی آداب نہ آئے
ماجد صدیقی

رکھ دی گئی بگاڑ کے ملت کی نفسیات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
تا عمر اقتدار کو دیتے ہوئے ثبات
رکھ دی گئی بگاڑ کے ملت کی نفسیات
پیڑوں پہ پنچھیوں میں عجب سنسنی سی ہے
گیدڑ ہرن کی جب سے لگائے ہوئے ہیں گھات
مخلوق ہو کوئی بھی مگر دیکھنا یہ ہے
کرتا ہے کیا سلوک، یہاں کون، کس کے سات
اشکوں سے کب دُھلی ہے سیاہی نصیب کی
تسخیر جگنوؤں سے ہوئی کب سیاہ رات
ہم نے یہ بات کرمکِ شب تاب سے سنی
ظلمت نہ دے سکی کسی اِک بھی کرن کو مات
ماجدؔ کسی کے ہاتھ نہ آئے نہ آ سکے
کٹ کر پتنگ ڈور سے، منہ سے نکل کے بات
ماجد صدیقی

یہی انداز ہے مّدت سے جو اپنے سفر کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
تعّین منزلوں کا اور نشاں کوئی نہ گھر کا ہے
یہی انداز ہے مّدت سے جو اپنے سفر کا ہے
اُدھر شب ہے کہ غاروں سی نہ آئے جو سمٹنے میں
اِدھر ہم سادہ دل، جن کو گماں پھر بھی سحر کا ہے
زمیں گروی ہوئی جس باغ کی، پروان چڑھنے کا
ہمیں کیونکر گماں سا جانے اُس کے ہر شجر کا ہے
ماجد صدیقی

ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں
نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ
جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں
غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر
لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں
دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر
بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں
وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں
جابر مجھ سے عہد نیا ٹھہرانے لگے ہیں
پیروں تلے مسل کے مری رائے کی پرچی
زور آور اپنا پرچم لہرانے لگے ہیں
چندا تو کیا گردشِ وقت کے ہاتھوں اب کے
چاند نگر تک بھی ماجد گہنانے لگے ہیں
ماجد صدیقی

لِیے کے لَوٹانے پر شور مچانا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
پھل اور پُھول کے جھڑنے سے کترانا کیا
لِیے کے لَوٹانے پر شور مچانا کیا
آدم زاد ہوں میں، مردُودِ خدا بھی ہوں
کھو کر خود فردوسِ سکوں، پچتانا کیا
ڈالنی کیا مشکل میں سماعت شاہوں کی
بول نہ جو سمجھا جائے، دُہرانا کیا
بہرِ ترّحم جسم سے کچھ منہا بھی کرو
ہاتھ سلامت ہیں تو اُنہیں پَھیلانا کیا
سینکڑوں تَوجِیہیں ہیں جن کی خطاؤں پر
اپنے کئے پر شاہوں کا شرمانا کیا
بات سُجھاتی ہے تاریخ یہی اپنی
میدانوں میں اُتر کے پیٹھ دکھانا کیا
دیکھنے والوں کو ماجد! مت ہنسنے دو
پِٹ جائیں جو گال، اُنہیں سہلانا کیا
ماجد صدیقی

ہمارا رخت اِدھر ایک چیونٹیوں سی کمند

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
دِہر فصیلِ ستم تا بہ آسمان بلند
ہمارا رخت اِدھر ایک چیونٹیوں سی کمند
نجانے کیوں ہمیں اپنی اُڑان یاد آئی
ہوئی پتنگ جہاں بھی زمین سے پیوند
ستم کی آنچ کہیں ہو ہمیں ہی تڑپائے
ہمیں ہی جیسے ودیعت ہوئی یہ خُوئے سپند
کمک کے باب میں ایسا ہے جیسے ایک ہمِیں
ندی میں ڈوبتے جسموں سے ہیں ضرورت مند
سراب نکلا ہے ماجد ہر ایک خطۂ آب
مٹے ہیں فاصلے جب بھی کبھی بہ زورِ زقند
ماجد صدیقی

سخن کی شاخ پہ رقصاں اِدھر گلاب وہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
اُدھر کنارِ لب و چشم ہیں عتاب وہی
سخن کی شاخ پہ رقصاں اِدھر گلاب وہی
وہی ہے جبرِ زماں، خود فریبیاں بھی وہی
سفید بال ہمارے وہی، خضاب وہی
ردائے ابر کو جو کشتِ بے گیاہ سے ہے
یہاں سروں سے ہے چھایا کو اجتناب وہی
فرازِ عرش سے نسبت رہی جسے ماجد
دل و نظر پہ اُترنے لگی کتاب وہی
ماجد صدیقی

ہمارے نام ہی موسم کی ہر پھٹکار ہو جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
ہماراتن بدن ہی جھاڑ ہو، جھنکار ہو جیسے
ہمارے نام ہی موسم کی ہر پھٹکار ہو جیسے
ذرا سا بھی جو بالا دست ہو، ہم زیر دستوں کے
سِدھانے کو وُہی سب سے بڑی سرکار ہو جیسے
یہاں مخصوص ہے ہر دم جو چڑیوں فاختاؤں سے
اُنہی سا کچھ ہماری جاں کو بھی آزار ہو جیسے
پتہ جس کا صحیفوں میں دیا جاتا ہے خلقت کو
نفس میں اِک ہمارے ہی، وُہ ساری نار ہو جیسے
ہمیں ہی در بہ در جیسے لئے پھرتا ہے ہر جھونکا
وجود اپنا ہی ماجدؔ اِس زمیں پر بار ہو جیسے
ماجد صدیقی

خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہوتا ہے جو ہو گزرے، دَم سادھ لیا جائے
خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے
اظہارِ غم جاں کو، قرطاس ہو یہ چہرہ
ہو حرف رقم جو بھی، اشکوں سے لکھا جائے
ہونے کو ستم جو بھی ہو جائے، پہ عدل اُس کا
آئے گا جو وقت اُس پر، بس چھوڑ دیا جائے
خدشہ ہے نہ کٹ جائے، شعلے کی زباں تک بھی
ہر رنج پہ رسی سا، چپ چاپ جلا جائے
بالجبر ملے رُتبہ جس بات کو بھی، حق کا
ماجدؔ نہ سخن ایسا، کوئی بھی سُنا جائے
ماجد صدیقی

وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہم کس سے اپنا درد کہیں، کس سُکھ کی جوت جگائیں ہم
وُہ کون کھلونا ہو جس سے دل بالک کو بہلائیں ہم
وُہ کون حقیقت ہو جس کو، ایقان کی منزل ٹھہرائیں
تکفیر ہو کس کس منظر کی اور کس پر ایماں لائیں ہم
نسلوں تک گروی رکھ کر ہم، کیا ٹھاٹھ سنبھالے بیٹھے ہیں
کچھ کم تو نہیں یہ کاج اپنا کیونکر نہ بھلا اِترائیں ہم
اغراض کا عرفاں ہونے پر مُنہ نوچیں ہر سچّائی کا
دھجّی دھّجّی ہر قول کریں، گر عہد کریں، پھر جائیں ہم
جو عیش ہمارا ہے چاہے بن جائے سزا اوروں کے لئے
جس حرص نے یہ اعزاز دیا، اُس حرص سے باز نہ آئیں ہم
یہ بات کہی جگنو نے ہمیں، تھک ہار کے تیرگیٔ شب میں
ہے حرفِ منّور جو بھی کوئی ماجدؔ نہ زباں پر لائیں ہم
ماجد صدیقی

کہ اِس جنگل میں جو بھی آنکھ ہے ہشیار، غالب ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہمارے عہد میں کب دیدۂ بیدار غالب ہے
کہ اِس جنگل میں جو بھی آنکھ ہے ہشیار، غالب ہے
بچے بھی گر بھنور سے تو اُسے ساحل نہ اپنائے
یہاں ہر ناتواں پر ایک سا آزار، غالب ہے
پہنچ کر عمر کو بھی یوں ہوا محصورِ نااہلاں
کہ جیسے شیرِ نر بھی دشت پر، ناچار غالب ہے
وُہی جو سانپ کی یورش سے اُٹھے آشیانوں میں
سماعت در سماعت، بس وُہی چہکار غالب ہے
بنو ماجد نہ غالبؔ، ذوق بن جاؤ جو ممکن ہو
کہ دُنیائے ہُنر میں قربتِ دربار غالب ہے
ماجد صدیقی

آندھیاں اُٹھا لائیں، پات میرے آنگن میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہو چلی ہے اَن دیکھی بات، میرے آنگن میں
آندھیاں اُٹھا لائیں، پات میرے آنگن میں
اوٹ سے منڈیروں کی، ڈور چھوڑ کر مجھ کو
دے گیا ہے پھر کوئی مات، میرے آنگن میں
نام پر مرے کس نے، کاٹ کاٹ کر چِّلے
دفن کی ہے آسیبی دھات، میرے آنگن میں
بس اِسی بنا پر مَیں، آسماں سے رُوٹھا ہوں
چاند کیوں نہیں اُترا رات، میرے آنگن میں
جب سے کُھل چلی ماجدؔ، بے بضاعتی دل کی
کرب نے لگائی ہے گھات، میرے آنگن میں
ماجد صدیقی

لب بہ لب اطراف میں، خاموشیاں اُگنے لگیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہم بھی کہتے ہیں یہی، ہاں کھیتیاں اُگنے لگیں
لب بہ لب اطراف میں، خاموشیاں اُگنے لگیں
ناخلف لوگوں پہ جب سے، پھول برسائے گئے
شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اُگنے لگیں
ان گنت خدشوں میں کیا کیا کچھ، منافق بولیاں
دیکھا دیکھی ہی، سرِ نوکِ زباں اُگنے لگیں
آنکھ تو تر تھی مگرمچھ کی، مگر کیا جانیئے
درمیاں ہونٹوں کے تھیں، کیوں پپڑیاں اُگنے لگیں
یُوں ہُوا، پہلے جبنیوں سے پسینہ تھا رواں
فرطِ آبِ شور سے، پھر کائیاں اگنے لگیں
اک ذرا سا ہم سے ماجدؔ، بدگماں ٹھہرا وُہ اور
بستیوں میں جا بہ جا، رُسوائیاں اُگنے لگیں
ماجد صدیقی

اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہمارے آپ کے، ہونے لگے ہر شب، زیاں کیا کیا
اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا
غلامانِ غرض سے، حال اِس پونجی کا، مت پُوچھو
بسا رکھے ہیں ماتھوں میں، نجانے آستاں کیا کیا
صدی کے نصف تک پر تو، اُنہی کا راج دیکھا ہے
نجانے اِس سے آگے ہیں ابھی محرومیاں کیا کیا
کبھی اشکوں کبھی حرفوں میں، از خود ڈھلنے لگتے ہیں
لئے پھرتی ہے ماجدؔ آبلے، اپنی زباں کیا کیا
ماجد صدیقی

ہر شخص سے پوچھیں ہمیں آزار ہے کیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
ہونٹوں پہ نہ لائیں یہ سخن ’’یار ہے کیسا‘‘
ہر شخص سے پوچھیں ہمیں آزار ہے کیسا
نیلام تو اُٹھ لے ابھی کھل جائے گا سب کچھ
ہم کون ہیں اور مصر کا بازار ہے کیسا
بھّٹی میں شراروں کی چمن سینچ رہا ہے
اس دور کا انسان بھی بیدار ہے کیسا
انصاف کی میزان کا بَل خود یہ بتائے
عشّاق کا احوال سرِ دار ہے کیسا
ایقان ہی جب اُن پہ تمہارا نہیں ماجدؔ
پھر کرب و الم کا تمہیں اقرار ہے کیسا
ماجد صدیقی

کھنچ کر لبوں پہ آنے لگی جان دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
ہم پر طبیبِ وقت کا احسان دیکھنا
کھنچ کر لبوں پہ آنے لگی جان دیکھنا
ہنگامِ صبح شاخ پہ کھِلنے لگے ہیں کیوں
غنچوں پہ اِس طرح کے بھی بہتان دیکھنا
سینوں کو ہے جو سانس بہم، اِس فتور پر
لب دوختوں پہ اور بھی تاوان دیکھنا
لے کر خُدا سے مہلتِ فکر و عمل ہمیں
مروا ہی دے نہ پھر کہیں شیطان دیکھنا
فرہاد کو تو قربتِ شیریں دلا چکا
کرتا ہے اور کیا دلِ نادان، دیکھنا
تنکوں کو زورِ موج سے کیا فرصتِ گریز
اَب بھی یہی ہے وقت کا، فرمان دیکھنا
ماجدؔ کہو سخن، مگر اپنی بساط کا
ہونے لگو نہ خود ہی پشیمان دیکھنا
ماجد صدیقی

ترّستی تھیں نگاہیں منظروں میں ڈوب جانے کو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
وُہ دن بھی تھے لپکنے اور لطفِ خاص پانے کو
ترّستی تھیں نگاہیں منظروں میں ڈوب جانے کو
ہمارے حق میں جو بھی تھی مسافت پینگ جیسی تھی
بہم تھیں فرصتیں ساری ہمیں، جس کے جھُلانے کو
نجانے پٹّیاں آنکھوں پہ لا کر باندھ دیں کیا کیا
اُسی نے جس سے چاہا، راہ کے روڑے ہٹانے کو
ہوئے تھے حرص سے پاگل سبھی، کیا دوڑتا کوئی
لگی تھی شہر بھر میں آگ جو، اُس کے بجھانے کو
نوالے کیا، نہیں خالص یہاں حرفِ تسلی تک
سبھی میں ایک سی افیون ملتی ہے سُلانے کو
چمک جن بھی صداؤں میں ذرا بیداریوں کی تھی
جتن کیا کیا نہ شاہوں نے کئے اُن کے دبانے کو
ہمارے نام ہی بندش جہاں بھی کچھ ملی، لکھ دی
ہمیں سے بَیر تھا ماجدؔ نجانے کیا زمانے کو
ماجد صدیقی

ہم نے سینتے کیا کیا منظر آنکھوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
نقش ہُوا ہے پل پل کا شر آنکھوں میں
ہم نے سینتے کیا کیا منظر آنکھوں میں
پھوڑوں جیسا حال ہے جن کے اندر کا
کھُلتے ہیں کُچھ ایسے بھی در آنکھوں میں
کیا کیا خودسر جذبے دریاؤں جیسے
ڈوب گئے اُن شوخ سمندر آنکھوں میں
ایک وُہی تو نخلستان کا پودا تھا
آنچ ہی آنچ تھی جس سے ہٹ کر آنکھوں میں
آدم کے حق میں تخفیفِ منصب کا
ناٹک سا ہر دم ہے خودسر آنکھوں میں
فصلوں جیسے جسم کٹے آگے جن کے
کرب نہ تھا کیا کیا اُن ششدر آنکھوں میں
ماجدؔ بت بن جائیں اُس چنچل جیسے
پھول بھی گر اُتریں اِن آذر آنکھوں میں
ماجد صدیقی