زمرہ جات کے محفوظات: غزل

بولیں خاموشی کے گھیروں میں چٹختے پتے

چار سُو چُپ کا سماں ہو کوئی آواز نہ ہو
بولیں خاموشی کے گھیروں میں چٹختے پتے
پھر سے گھنگھور سیہ رات، خزاں کا یہ سماں
پھر سے گلشن کے اندھیروں میں چٹختے پتے
تجھ سے تو اچھے ہیں اے شامِ بہارِ خاموش
سیر سرما کے سویروں میں چٹختے پتے
گُم ہوئیں شہر کی شورش میں صدائیں میری
دب گئے دُھول کے ڈھیروں میں چٹختے پتے
اب کمی مجھ کو نہیں کوئی ہوئے ہم آواز
دِل کی تنہائی کے ڈھیروں میں چٹختے پتے
اپنے ہر شعر میں گوندھا ہے خزاں کو میَں نے
جاوداں زبروں میں زیروں میں چٹختے پتے
لے گئے توڑ کے پھل لوگ یہاں سے یاؔور
رہ گئے جھولتے بیروں میں چٹختے پتے
یاور ماجد

ہم تمہیں ڈھونڈنے دور تک جائیں گے

راستے جب گلابوں سے ڈھک جائیں گے
ہم تمہیں ڈھونڈنے دور تک جائیں گے
پیش رو نسل کی دلبری کے لیے
زرد پتّے شجر سے سرک جائیں گے
ہم ہیں راہِ گُماں کے سفر پر رواں
راستہ مل گیا تو بھٹک جائیں گے
یوں نہ دیکھو ہمیں، یوں نہ دیکھو ہمیں
ہم بہک جائیں گے، ہم بہک جائیں گے
تم دلاسوں کے پتھر نہیں پھینکنا
درد کے دائرے دور تک جائیں گے
یاور ماجد

کتنے خیال تشنۂ اظہار رہ گئے

ہونٹوں پہ آتے آتے کئی بار رہ گئے
کتنے خیال تشنۂ اظہار رہ گئے
بے ساحلی بھی بحرِ جنوں کی عجیب ہے
ہوش و خرد کے نقش افق پار رہ گئے
گل چُن کے لے گئے ہو تم اب کے بہار بھی
مجھ باغباں کے پاس فقط خار رہ گئے
تم خود سے ماورا ہوئے اپنی تلاش میں
اور ہم کہ خود سے برسرِ پیکار رہ گئے
توڑا جو آئنہ تو ہزاروں میں بٹ گیا
ہر عکس میں مگر ترے آثار رہ گئے
یاؔور جو شاعری کا بھنور چھوڑ کر چلا
کتنے ہی دائرے سرِ پرکار رہ گئے
یاور ماجد

نہ بھول پاؤں گا بھول کر بھی

گزرتے موسم کی اِک سحر بھی
نہ بھول پاؤں گا بھول کر بھی
نہیں اکیلے ہو تم سفر میں
فلک پہ دیکھو ہے اِک قمر بھی
پھریں گے آنکھوں کے آگے چہرے
تو یاد آئیں گے بام و در بھی
طویل ہوتا ہی جا رہا ہے
یہ جلتا صحرا بھی یہ سفر بھی
پھریں گے ہر سو مرے فسانے
ترے نگر بھی، مرے نگر بھی
جو مسکراہٹ بکھیرتے ہیں
وہ دِل میں رکھتے ہیں اِک شرر بھی
ترے ہی در پر ہمیش رہتا
جو ہوتی یاؔور پہ اِک نظر بھی
یاور ماجد

ظلمتِ شب سے آج ہارے ہیں

جس قدر بھی فلک پہ تارے ہیں
ظلمتِ شب سے آج ہارے ہیں
رات کے ساتھ شہر پر بادل
کتنے گہرے ہیں کتنے کارے ہیں
چاند کا عکس جھیل میں دیکھوں
اس کے سب زاوئیے ہی پیارے ہیں
گھر ہیں پتھر کے لوگ پتھر کے
شہر کے شہر سنگ پارے ہیں
ہجرتوں کا سفر ہے پھر درپیش
پھر پرندے نے پر پسارے ہیں
یاور ماجد

دشتِ حسرت مجھے نکلنے دے

خواہشوں کی ہوا سنبھلنے دے
دشتِ حسرت مجھے نکلنے دے
یہ لکیریں ہی میری مجرم ہیں
اے گئے وقت ہاتھ ملنے دے
میری صحرا نوردیوں کا جنوں
میرے ہمراہ لُو میں جلنے دے
یوں نہ غنچوں کو توڑ شاخوں سے
خواہشوں کو دلوں میں پلنے دے
چند لمحوں کا ہے سفر یاؔور
دو قدم مجھ کو ساتھ چلنے دے
یاور ماجد

شہر کی سیر کے لیے نکلا

پاؤں میں آبلے لیے نکلا
شہر کی سیر کے لیے نکلا
گھپ اندھیرا تھا اور اک جگنو
نور کے قافلے لیے نکلا
ڈھل گئی انتظار کی ظلمت
آج سورج کسے لیے نکلا
گھومتی کائنات میں یاؔور
پاؤں کے دائرے لیے نکلا
یاور ماجد

پھر آج بیٹھے ہیں زہر پی کے

شبِ گزشتہ کے زخم سی کے
پھر آج بیٹھے ہیں زہر پی کے
ہمارے دِل کی جو رونقیں تھیں
وہ خواب کیسے تھے زِندگی کے
فضائے محفل! یہ کیا ستم ہے
نہ وہ ہمارا! نہ ہم کسی کے
ندامتوں کے یہ داغ دل پر
یہ وار احساسِ کمتری کے
نکل کے آنکھوں سے بس گئے ہیں
افق پہ سارے یہ رنگ پھیکے
گزشت آنچہ گزشت یاؔور
اٹھاؤ نغمے کوئی خوشی کے
یاور ماجد

شام، شب اور حیات کمرے میں

ڈھل چلیں ساتھ ساتھ کمرے میں
شام، شب اور حیات کمرے میں
یک جہت ہیں تمام دنیائیں
ہیں مری شش جہات کمرے میں
اس مکاں سے مجھے ملا کیا ہے
چوٹ چھت پر، تو مات کمرے میں
اتنی تنہائیوں کی محفل تھی
کرتا کس کس سے بات کمرے میں
صرف تنہائی ہی نہیں ہے یہاں
اس سے بڑھ کر ہے بات کمرے میں
کچھ تغیر نہیں ملا باہر
اور نہ پایا ثبات کمرے میں
جسم میرا گلی گلی بکھرا
رہ گئی میری ذات کمرے میں
وقت سے کیا گلہ کروں یاؔور
دن ہے باہر، تو رات کمرے میں
یاور ماجد

سب کی دنیا سے ماورا، تنہا

۳ جنوری ۱۹۹۱
سب کی دنیا سے ماورا، تنہا
میَں ہوں تنہا، مرا خدا، تنہا
ساتھ اس کے ہجوم چل نکلے
جو بھی رستوں پہ چل پڑا تنہا
نوعِ ہر نسل مر گئی آخر
وقت رستوں پہ رہ گیا تنہا
اپنی تنہائیوں کی محفل میں
مجھ کو جو بھی ملا، ملا تنہا
گرد اِس کو نہ ڈھانپ دے یاؔور
یاور ماجد

اور کپڑوں کا رنگ بھی گہرا

جسم و جاں پر ہے دھوپ کا پہرا
اور کپڑوں کا رنگ بھی گہرا
اس کے چہرے کے نور کا دیدار
دائرہ بن کے آنکھ میں ٹھہرا
اور اک یاد ہم سے روٹھ گئی
اور اک زخم ہو گیا گہرا
موت پر احتجاج کر کوئی!
رسیاں توڑ، بادباں لہرا
ساحلوں پر تھیں سیپیاں یاؔور
اور تم چھانتے رہے صحرا
یاور ماجد

ہر بار ہم نے اپنی سی کوشش ہزار کی

کیا جبر کی سنائیں تو کیا اختیار کی
ہر بار ہم نے اپنی سی کوشش ہزار کی
تھی ہم سفر بس ایک ہی میری تمام عمر
چبھتی رہی ہے پاؤں میں جو نوک خار کی
عمریں گزار بیٹھا ہوں دیتے ہوئے حساب
خواہش رُپہلے پیار کی جو سنگسار کی
شعر و سُخن کی وادی کا آوارہ میں ہرن
مجھ کو ہے سنگلاخ یہ رہ روزگار کی
بادل دھوئیں کے، چیخیں، تڑپتوں کی سسکیاں
شہرِ اماں میں کاہے کو پھیلی انارکی
دیکھے جہاں خزاں میں ادھڑتے ہوئے درخت
میں نے بھی اپنی گدڑی وہیں تار تار کی
مقروض زندگی تھی کبھی ان کے نام کی
ہر سانس اب تو لیتے ہیں یاؔور ادھار کی
یاور ماجد

دُور دِل سے خدا نہیں ہوتا

چاہیے گر، تو کیا نہیں ہوتا
دُور دِل سے خدا نہیں ہوتا
کیسے بتلاؤں تجھ کو بن مرکز
دائرہ دائرہ نہیں ہوتا
دن کو تیری خبر نہیں ہوتی
رات میرا پتا نہیں ہوتا
سب ہیں لپٹے ہزار پردوں میں
درِ پہچان وا نہیں ہوتا
کیا اٹھا پائے گا وہ مے کا مزا
جس نے غم تک پیا نہیں ہوتا
یا الٰہی ترا کرم آخر
سب پہ کیوں ایک سا نہیں ہوتا
دشت تنہائی کا سفر یاؔور
ختم تیرے سوا نہیں ہوتا
یاور ماجد

پتھر بدن، صبا کی ادا کاٹتی رہی

مجھ کو مرے چمن کی فضا کاٹتی رہی
پتھر بدن، صبا کی ادا کاٹتی رہی
عُمرِ اُداس صدیوں سے کیا کاٹتی رہی
پیہم سفر، سفر سے سوا کاٹتی رہی
میری بصارتیں تو مرے دل میں تھیں نہاں
اشکوں کی دھار! تُو بھی یہ کیا کاٹتی رہی؟
اظہار کے جنوں نے نہ جینے کبھی دیا
اک پھانس تھی الگ، جو گلا کاٹتی رہی
آتے ہوئے زمانوں سے جب گفتگو ہوئی
میری ہر ایک بات ہوا کاٹتی رہی
آنسو نے میرے کتنے گگن رنگ سے بھرے
اک بوند ہر کرن کا گلا کاٹتی رہی
صدیوں سے میَں نہ کاٹ سکا عمرِ ناتمام
اِک پل کی عمر مُجھ کو سدا کاٹتی رہی
تکمیل کی طلب نے ادھورا کیا مجھے
لکھا ہر ایک شعر مرا کاٹتی رہی
یاور ماجد

ملی ہے فرط میں یاؔور تری کمی مجھ کو

یہ ایک رنج تو رہنا ہے لازمی مجھ کو
ملی ہے فرط میں یاؔور تری کمی مجھ کو
دعا یہی ہے مری زندگی کے صحرا میں
ہرا ہمیشہ رکھے آنکھ کی نمی مجھ کو
یہ خود سے جنگ تو گویا مری سرشت میں ہے
عدو کی ورنہ کہاں تھی کوئی کمی مجھ کو
ہمیشگی یہ ترے ہجر کی بتاتی ہے
خوشی ملے گی کبھی کوئی دائمی مجھ کو
مرے خیال کے روزن میں بیٹھی اک کوئل
سنا تی رہتی ہے دُھن ایک ماتمی مجھ کو
عجیب شخص ہے یاؔور کہے ہے صر صر سے
کبھی عطا ہو سحر کوئی شبنمی مجھ کو
یاور ماجد

ہو گئی آج کی بھی شام تمام

پھر نہ ہو پایا کوئی کام تمام
ہو گئی آج کی بھی شام تمام
تشنگی کو مٹاتے مٹ گئے ہم
تشنگی کو ملا دوام تمام
وائے نسیاں۔۔۔ میں خود کو بھول گیا
کر کے آیا تھا اہتمام تمام
ناتمامی تمام عمر رہی
زندگی اپنی ناتمام، تمام
گو ادھوری تھی داستانِ سفر
ہوتی آئی ہے گام گام تمام
ناتمامی کی زندگی ساری
کام کیا کرتے تشنہ کام تمام
ہم سے اس عمرِ خام نے یاؔور
لے کے چھوڑا ہے انتقام تمام
یاور ماجد

خود سے ہی اپنی ہم سری کب تک

اتنا احساسِ کمتری کب تک
خود سے ہی اپنی ہم سری کب تک
چپ خزاؤں میں ٹوٹے پتوں کی
مرتی آواز گونجتی کب تک
بے رخی کا نہیں ہے کوئی گلہ
پر یہ نظروں کی یک رخی کب تک
درد کا پل ہے یا ہے ایک صدی
اور گزرے گی یہ صدی کب تک
کوئی دریا تو آئے رستے میں
بہتی جائے گی یہ ندی کب تک
اب تو چند ایک سانس باقی ہیں
اور وہ چند ایک بھی کب تک
مدرسے میں سخن کے سب استاد
ایک یاؔور ہی مبتدی!! کب تک؟
یاور ماجد

اک ابرِ جاوداں سے پانی برس رہا ہے

آنکھوں سے اک زماں سے پانی برس رہا ہے
اک ابرِ جاوداں سے پانی برس رہا ہے
قدرت بھی رو پڑی ہے، اس رخنہ سائباں پر
خوں ہے کہ آسماں سے پانی برس رہا ہے؟
پہلے تو ایک کونے سے چھت ٹپک رہی تھی
اور اب کہاں کہاں سے پانی برس رہا ہے
بادل نہیں نظر میں اور ہو رہی ہے بارش
شاید کہ لامکاں سے پانی برس رہا ہے
ان پختہ بستیوں میں سبزہ اُگے گا اک دن
شاید اسی گماں سے، پانی برس رہا ہے
بادل ہیں اور فلک پر قوسِ قزح نہیں ہے
سو چشمِ ضو فشاں سے پانی برس رہا ہے
بادل تو برسے بن ہی کب کا چلا گیا تھا
اب ابر کے گماں سے پانی برس رہا ہے
وہ آنسوؤں کی بارش تو تھم چکی تھی یاؔور
پر جانے اب کہاں سے پانی برس رہا ہے
یاور ماجد

اُتر گیا مرے کندھوں سے دو جہان کا وزن

اتار پھینکا جو میَں نے انا کا، آن کا وزن
اُتر گیا مرے کندھوں سے دو جہان کا وزن
بہت ہے ثقلِ زمیں اور میرے پر نازک
سنبھال پائیں گے کیسے مری اُڑان کا وزن
گزاری عمر ہے خدشوں کی دُھول میں دب کر
پنپ نہ پایا یقیں اِتنا تھا گُمان کا وزن
گھٹن سے کیسے نہ برسیں، زمین پر بادل
اُٹھائے بیٹھے ہیں اِتنا جو آسمان کا وزن
یہ دیکھو کونوں سے کچھ گھاس آ گئی باہر
نمودِ زندگی روکے گا کیا چٹان کا وزن
شکار شعر کے پنچھی کا کیا کروں یاؔور
کہ میرے تیر سے کم ہے مری کمان کا وزن
یاور ماجد

جب حیاتِ رفتنی تیری نہیں

فکر کیا کرتا ہے تو آئند کی؟
جب حیاتِ رفتنی تیری نہیں
خود کو ننگا حرصِ شہرت میں کیا
بھر بھی حالت دیدنی تیری نہیں
جا اتار اب جسم کی یہ کینچلی!
روح کی یہ اوڑھنی تیری نہیں
دوسروں سے کیا نبھا پائے گا تو
اپنی تک خود سے بنی تیری نہیں
تیر بھی تیرا کماں بھی ہے تری
تیر پر لیکن انی! تیری نہیں
تو بھی سرقہ باز نکلا! ہائے ہائے
چاند تیری روشنی تیری نہیں
غصے میں یاؔور نہ کر تو شاعری
لہجے کی یہ سنسنی تیری نہیں
یاور ماجد

مگر یہ ایک چکّر جو مرے پاؤں میں رہنا ہے

مجھے بے شک انھی محدود دنیاؤں میں رہنا ہے
مگر یہ ایک چکّر جو مرے پاؤں میں رہنا ہے
سکوتِ بحر کو جب تک نہ پا جائیں مسافت میں
عجب بے چینیوں کا شور دریاؤں میں رہنا ہے
کڑی دھوپوں کا سہنا، لُو میں جلنا بھی ضروری ہے
شجر وہ کیا پھلیں پھولیں جنھیں چھاؤں میں رہنا ہے
کڑکتی دھوپ ساری خود مجھے سہنی ہے سینے پر
بھلا برگد نے بھی بولو کبھی چھاؤں میں رہنا ہے
جو تنہا چھوڑ کر خود کو زمانے کے ہوئے ہم تو
لیے اک اجنبی صورت، شناساؤں میں رہنا ہے
یاور ماجد

ہو وہ شکستِ خواب یا خوابِ شکست ہو

ہر طور ہر لحاظ سے ہی مرگِ ہست ہو
ہو وہ شکستِ خواب یا خوابِ شکست ہو
لاؤ گگن سے چاندنی جیسی کوئی شراب
پی کر جسے یہ راندۂ ظلمات مست ہو
کرتے ہو ہر پہر ہی شب و روز کا طواف
تم وقت کے پجاری ہو، لمحہ پرست ہو
آؤ ناں پھر سے یاد کی گلیوں کی سیر کو
بارش کی کوئی شب ہو مہینہ اگست ہو
خالی اگر ہے جیب تو افسوس کچھ نہیں
اک سانحہ ہے دِل بھی اگر تنگ دست ہو
یاؔور کہیں یہ اَن کِھلے گل مجھ سے بار بار
قوسِ قزح کے آنے کا کچھ بندوبست ہو
یاور ماجد

کون اس راستے سے گزرا ہے؟

پتا پتا شجر سے لپٹا ہے
کون اس راستے سے گزرا ہے؟
آسماں بھی سراب ہی نکلا
بحر میں آب ہے کہ صحرا ہے
جانے کب اندمال ہو اس کا
دیکھنے میں تو زخم گہرا ہے
کوئی تو ہے جو کائنات مری
بےسبب روز و شب گھماتا ہے
دل کی نیّا میں جو لگی ہے آگ
اچھی لگتی ہے، کیوں بجھاتا ہے؟
میں نہ دیکھوں تو ہے ادھورا سا
وہ فلک پر جو ایک تارا ہے
کوئی دستک سنائی دی ہے مجھے
دیکھنا کون در پہ آیا ہے
اس طرح اضطرار سے آخر
کون میرے سوا بہلتا ہے؟
لا کے چھوڑیں گی ہی بہار یہاں
شور چڑیوں نے یوں مچایا ہے
مٹ نہ پائیں گی اس کی ریکھائیں
اس طرح کاہے، ہاتھ مَلتا ہے؟
خواب میں روز آ کے اک پنچھی
رات پچھلے پہر جگاتا ہے
یاد کی گلیوں میں کوئی راہی
کبھی گرتا، کبھی سنبھلتا ہے
آسماں کے توے پہ اک سورج
روز آتا ہے روز جلتا ہے
چاند جوبن پہ جب بھی آ جائے
ناؤ میری ہی کیوں ڈبوتا ہے؟
وقت ہے اژدھا کوئی شاید
کینچلی روز اک بدلتا ہے
صبح دم ٹہنیوں پہ شبنم کے
روز موتی کوئی پروتا ہے
روز جب آفتاب ڈھل جائے
دل مرا جانے کیوں مچلتا ہے
میں نے جو سوچا، جو کہا، ہے برا
تم نے جو بھی کہا وہ اچھا ہے
پیڑ وہ ہی رہے ہرا ہر دم
روز جو دھوپ میں جھلستا ہے
بھر لو آنکھوں میں اب افق یاؔور
اس سے آگے تو بس اندھیرا ہے
یاور ماجد

ان سروں کی، دھیمے دھیمے خامہ فرسائی کرو

یہ صریرِ خامہ تو ہر ساز سے ہے ماورا
ان سروں کی، دھیمے دھیمے خامہ فرسائی کرو
شوق تھا آئینہ بننے کا اگر یاؔور تو پھر
سامنا۔۔ہر وقت اب بدصورتوں کا بھی کرو
یاور ماجد

یہ سب تو ہونا ہی تھا

میں بھٹکا، بھُولا ہی تھا
یہ سب تو ہونا ہی تھا
میں بھٹکا بھولا ہی سہی
پر کیا وہ رستہ ہی تھا؟
ہم سے دوست سلوک ترا
کیا کہتے!۔۔۔ اچھا ہی تھا
یہ جو پل گزرا ہے ابھی
کیا گزرا پورا ہی تھا؟
توڑ دیا کس نے اس کو؟
غنچہ ابھی چٹخا ہی تھا
اتنا وزن تھا پھولوں کا
ڈال نے تو جھکنا ہی تھا
دردِ دل! اے دردِ عزیز!
تو کیا درد مرا ہی تھا؟
جو بھی اس نے ہم کو دیا
واپس تو لینا ہی تھا
روشنیاں کب تک رہتیں
سورج تھا! ڈھلنا ہی تھا
ڈوبتے سورج سے میرا
روز کا سمجھوتا ہی تھا
کرتا تھا میں خود پہ ستم
اور کرتا بے جا ہی تھا
ہر اک رستہ تھا صحرا!!
صحرا تھا!!! صحرا ہی تھا
آنکھوں میں کب تک رہتا
آنسو تھا، گرنا ہی تھا
یہ جو آخری آنسو گرا
یوں سمجھو، پہلا ہی تھا
یاؔور جیسے کتنے ہیں
جونؔ مگر یکتا ہی تھا
یاور ماجد

چلا ہوں پاؤں میں عمر بھر کےغبار باندھے

میں رختِ دل میں وجود کے سب فشار باندھے
چلا ہوں پاؤں میں عمر بھر کےغبار باندھے
نہیں سے ہاں سے کبھی تعلق نہ ٹوٹ پایا
ہیں عہد خود سے ہزار توڑے، ہزار باندھے
دھنک بہاروں کی گلستاں میں جو آ نہ پائی
تو ابر کرنوں پہ پل پڑے ہیں، حصار باندھے
تبسمِ گُل بھی دل کا غنچہ نہ کھول پایا
تو اور کتنا حسین منظر، بہار باندھے؟
جنون دل کا، نہ جستجو ہے نظر کی باقی
یہ بار سر سے ہیں میں نے کب کے اتار باندھے
فلک پہ جائے نماز افق کی بچھا کے، ۔۔ دیکھو
نکل پڑے ہیں پرند سارے قطار باندھے
جنم جنم سے میں اس جنوں کی تلاش میں ہوں
جو ہوش نظروں کا توڑ دے جو، خمار باندھے
یاور ماجد

لگ جائے تجھ کو آگ بھی میری دعا کے ساتھ

ردِّ بلا بھی تجھ کو ملے ہر بلا کے ساتھ
لگ جائے تجھ کو آگ بھی میری دعا کے ساتھ
کوئی جہت جہت نہ کوئی سمت جس کی سمت
اس سمت میں بھی چلتا رہا ہوں خدا کے ساتھ
جتنی بہارِ سبز کی میں نے ہے کی طلب
اتنے ہی زرد پتے ہیں آئے ہوا کے ساتھ
اک خوابِ کرب، خوابِ بلا چھوڑتا نہیں
آئے کوئی پری بھی کبھی اس بلا کے ساتھ
ممکن ہی ہو نہ سکتا تھا اس کا کوئی دوام
ہوتی نہ گر فنا بھی ہماری بقا کے ساتھ
عجزِ نظر سے بڑھ کے اسے اور کیا کہوں؟
اک عالمِ وجود بھی دیکھوں خلا کے ساتھ
آئیں گی خوشبوئیں بھی، بہاریں بھی لوٹ کر
صر صر اگر نہ لوٹ کے أئی صبا کے ساتھ
یاؔور مرے ہی سر پہ ہے اڑتا رہا ہمیش
آیا مگر نہ سایہ کوئی اس ہما کے ساتھ
یاور ماجد

گرچہ دنیا کا یہ حق ہے ابھی تم کو دیکھے

ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی تم کو دیکھے
گرچہ دنیا کا یہ حق ہے ابھی تم کو دیکھے
دیکھنا ہے تو وہ دیکھے تمہیں سر تا بہ قدم
ورنہ کیا دیکھنا گر سرسری تم کو دیکھے
تم ہو اک چاند، میں اک جگنو، تمہیں کیا معلوم
کتنی حسرت سے مری روشنی تم کو دیکھے
جس نے دیکھی نہیں برسات میں پانی کی ہنسی
اس کا تو حق ہے کہ آئے۔۔ کبھی تم کو دیکھے
تم ہوئی جاتی ہو معدوم کسی زندگی میں
اور اک زندگی! اک زندگی۔۔ تم کو دیکھے
دیکھ کے تم کو پرندے ہیں سناتے نغمے
کیا ہو یاؔور کی اگر شاعری!! تم کو دیکھے
یاور ماجد

دیکھنا دل میں خوشی آئی، کوئی غم تو نہیں؟

درد کے پُھولوں کا آیا ابھی موسم تو نہیں
دیکھنا دل میں خوشی آئی، کوئی غم تو نہیں؟
ایڑیاں رگڑی ہیں اور داد طلب پھرتا ہوں
اشک ہی پھوٹے ہیں اس سے، کوئی زمزم تو نہیں!
یہ جو سب وعدۂ جنّت پہ مرے جاتے ہیں
زندگی کا یہی اک پہلُو جہنم تو نہیں
دن ہوا قتل، لہُو کتنا اُفق میں اترا
جو مری آنکھوں میں اترا ہے مگر، کم تو نہیں
یہ ملن تیرا تو اب جان مری لینے لگا
جس کو تریاق سمجھ بیٹھا تھا میں، سَم تو نہیں؟
دل کا یہ درد کہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے
کونسا ہے یہ مہینہ؟ یہ مُحرّم تو نہیں
میرا بن باس تو لوگوں میں ہی رہنا ٹھہرا
میں کہ بس پیکرِ اخلاص ہوں، گوتم تو نہیں
یاور ماجد

وہ آندھیاں اُڑیں سارے شجر ہی ٹوٹ گئے

پڑاؤ تھا جہاں اپنا وہ گھر ہی ٹوٹ گئے
وہ آندھیاں اُڑیں سارے شجر ہی ٹوٹ گئے
پسِ خموشیِ لب دِل میں تھے کئی طوفاں
نہ آئے ساحلوں تک، بحر پر ہی ٹوٹ گئے
تو زورِ بازو سے کرنی شکایتیں کیسی
جب اپنے تیر و سنان و تبر ہی ٹوٹ گئے
معانی شعر میں ہم جوڑ بھی نہ پائے تھے
کہ سارے لفظوں کے زیرو زبر ہی ٹوٹ گئے
ابھی تو حوصلہ اُڑنے کا تھا مگر یاؔور
نظر میں آئی جو منزل تو پر ہی ٹوٹ گئے
یاور ماجد

کیا خبر، کون جیا کون مرا، کیا معلوم

راہ میں کون ہوا کس سے جدا، کیا معلوم
کیا خبر، کون جیا کون مرا، کیا معلوم
اتنا تو یاد ہے اک جاں تھی کئی قالب تھے
کس نے پھر کس سے کیا کس کو جدا، کیا معلوم
جانے وہ دشت تھا، صحرا تھا کہ گلشن میرا
اب بھی واں چلتی ہے کیا بادِ صبا؟ کیا معلوم
شب ڈھلی اور نہ پھر آئی سحر ہی مڑ کر
وقت سے ہو گئی کیسی یہ خطا، کیا معلوم
بارہا دل سے یہ پوچھا کہ ہوئی کیا دھڑکن
بارہا دل سے یہی آئی صدا، کیا معلوم
غم کے تپتے ہوئے صحراؤں میں تھا آبِ حیات
کیسے گم ہو گیا وہ اشک مرا، کیا معلوم
خیر ہے شر کہ ہے شر خیر بھلا کس کو خبر
کیا کہیں کیسی جزا، کیسی سزا، کیا معلوم
کرچیاں جوڑتے اک عمر ہوئی ہے مجھ کو
مجھ میں کیا ٹوٹ گیا میرے سوا، کیا معلوم
داستاں دل کی سنانے کو کبھی یاؔور نے
نظم لکھی یا کوئی شعر کہا؟ کیا معلوم
یاور ماجد

لمحوں کو اوڑھے پہلو بدلتا ہوا سکُوت

تنہائیوں کی رات میں پلتا ہوا سُکُوت
لمحوں کو اوڑھے پہلو بدلتا ہوا سکُوت
دن بَھر کی شورشوں کی دُرشتی کو توڑ کر
غازہ گگن کے گال پہ ملتا ہوا سکوت
پھر چُپ خزاں کی رات میں پتوں کے شور سے
کانوں کے پاس آن کے ٹلتا ہوا سکوت
ان برف باریوں میں ہواؤں کی سائیں سائیں
دِل کے فلک پہ جمتا پگھلتا ہوا سکُوت
طوفاں کے بعد اُجڑتی نکھرتی سیاہ رات
لمحہ بہ لمحہ گرتا سنبھلتا ہوا سکُوت
ویراں کھنڈر میں روح سی ماتم کُناں کوئی
دِل کے اُجاڑ گھر میں ٹہلتا ہوا سکُوت
شعر و سُخن کا شور بھی یاوؔر ہوا عذاب
لاؤ صدا کے پھول مسلتا ہوا سکُوت
یاور ماجد

لگائی پرندوں نے چوپال ہے

سحر کی نکلنے لگی فال ہے
لگائی پرندوں نے چوپال ہے
دسمبر کا دن آخری آ گیا
پڑا آج لمحوں کا پھر کال ہے
وہی جو کہ توڑا تھا پچھلے برس
وہی عہد میرا پھر اس سال ہے
وہی جو کہ تھا حال پچھلے برس
وہی حال اپنا پھر اس سال ہے
نئی کونپلیں پھر سے کھلنے لگیں
اترنے لگی پیڑ سے چھال ہے
نیا زہر پھر سے بنائے گا یہ
اترنے لگی سانپ کی کھال ہے
لپیٹے چلے اک بھنور میں مجھے
مرے سامنے یہ جو گھڑیال ہے
چلا شب کی بانہوں میں خورشید تو
ہوا شرم سے کس قدر لال ہے
یاور ماجد

ازل سے جاری بس اک ہی سفر کو دیکھتے ہیں

جہاں سے گزریں کبھی ہم، جدھر کو دیکھتے ہیں
ازل سے جاری بس اک ہی سفر کو دیکھتے ہیں
نہیں ہے اپنا ہی عجزِ ہنر نظر میں جب
تو لوگ کیوں مرے دستِ ہنر کو دیکھتے ہیں؟
وہ منزلوں پہ نظر رکھتے ہیں، مگر ہم لوگ
پڑاؤ کر کے فقط رہگزر کو دیکھتے ہیں
وداع کہہ کے پرندے شجر سے جب جائیں
ہر ایک پیڑ پہ ہم اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
مذاقِ طبع کو، سننے کو پنچھیوں کی پکُار
جلا کے گھونسلے، آؤ شجر کو دیکھتے ہیں
شفق سے بہتا لہو دیکھتے ہیں جب پنچھی
تو کیوں گلِے سے وہ مجھ بے ضرر کو دیکھتے ہیں؟
یاور ماجد

رائیگانی! رائیگانی اور ہے

زندگانی! زندگانی اور ہے
رائیگانی! رائیگانی اور ہے
خوش گماں! اے خوش گماں! اے خوش گماں!
بول!! کتنی خوش گمانی اور ہے؟
ایک ہی پل اور تیرا ساتھ ہے
ایک ہی پل جاودانی اور ہے
ناگہاں یہ زندگی ہی کم تھی کیا؟
مرگ بھی کیا ناگہانی اور ہے؟
جس کو اپنی منزلوں کی ہو خبر
ایسے دریا کی روانی اور ہے
شاعری میری فقط ہذیاں سہی
کب کہا میں نے کہ معنی اور ہے؟
ہیں سخن ور اور بھی یاؔور مگر
تیری یہ شعلہ بیانی اور ہے
یاور ماجد

وقت بھی ایسے زخموں کا مرہم نئیں ہوتا

تیرے زخمِ جدائی کا غم کم نئیں ہوتا
وقت بھی ایسے زخموں کا مرہم نئیں ہوتا
تیری رفاقت بھی کچھ لمحوں ہی کی نکلی
گگن سے چاند کا ساتھ بھی تو پیہم نئیں ہوتا
مجھ کو دکھ دینے پر اک آسیب لگا ہے
اور وہ اک آسیب کبھی بے دم نئیں ہوتا
ہنسنا، کھا کر زخم تو میری فطرت میں ہے
تم یہ سمجھتے ہو مجھ کو کوئی غم نئیں ہوتا
سینہ پیٹو، چیخو، دھاڑو، شور مچاؤ
یوں چپ بیٹھ کے رونے سے ماتم نئیں ہوتا
یاور ماجد

کوئی ان دیکھا گُماں اس میں مکیں رہتا ہے

دل کو ہر لمحہ یہی ایک یقیں رہتا ہے
کوئی ان دیکھا گُماں اس میں مکیں رہتا ہے
خوش نظر آؤں کسی وقت تو حیرت کیسی؟
چاند بھی کونسا ہر وقت مُبِیں رہتا ہے؟
ساتھ تم ہو بھی تو قربت ہے کہاں اپنا نصیب
دوریوں کا ہی اک احساس، قریں رہتا ہے
دل کی دیواروں سے باہر نہ اُسے ڈھونڈو تم
وہ جو اک دشمنِ جاں ہے، وہ یہیں رہتا ہے
بانٹتا رہتا ہے ہر وقت ہی خوشیاں یاؔور
اور اک خود ہے کہ ہر لمحہ حزیں رہتا ہے
یاور ماجد

دن کو ہنستا گاتا ہے اور راتوں کو روتا ہے جی

یاؔور جی کی بات نہ پوچھو یاؔور دیوانہ ہے جی
دن کو ہنستا گاتا ہے اور راتوں کو روتا ہے جی
ہم تو تنہا ہی رہتے تھے، تنہا ہی رہنا ہے جی
جاؤ تم بھی چھوڑ کے ہم کو، ہم نے کب روکا ہے جی
یاد کی راکھ کے ڈھیر میں دیکھو پھر شعلہ بھڑکا ہے جی
ہاں پھر شعلہ بھڑکا ہے پھر دل اپنا جھلسا ہے جی
چھوڑو ایسی باتیں، ان باتوں میں کیا رکھا ہے جی
کیا سیدھا ہے، کیا الٹا ہے، سب الٹا سیدھا ہے جی
آپ تو بس اک پتھر ٹھہرے، آپ کا اس میں دوش ہی کیا؟
ہم نے آپ کو خود ہی تراشا اور خود ہی پوجا ہے جی
ہم پر بھی لو چلتی ہے ہم پر بھی آگ برستی ہے
ہم جیسوں کا بھی تو آخر ایک خدا ہوتا ہے جی
اک لڑکا تھا، اک بوڑھے کو آئینوں میں دیکھتا تھا
اب وہ لڑکا خود بوڑھا ہے اور بےحد بوڑھا ہے جی
ہائے سخن ور کیسا تھا وہ، ویسے شعر سنائے کون
یاؔور ویسا کیسے لکھے، یاؔور کب انشاؔ ہے جی؟
یاور ماجد

یہ کیا کہ قائم و دائم مرے حواس نہیں؟

افق میں ڈوبتا سورج لگا اداس نہیں
یہ کیا کہ قائم و دائم مرے حواس نہیں؟
میں زرد گرد سی پیلاہٹوں کا عکس سہی
خزاں کی اوڑھنی لیکن مرا لباس نہیں
وہ چہچہاتا پرندہ تو کر گیا ہجرت
مگر وداع سے اس کے کوئی اداس نہیں
یقین اور گماں سب حواس کے دھوکے
میں ہوں بھی یا کہ نہیں ہوں کوئی قیاس نہیں
مجھے بہت ہے مری اپنی ذات کا صحرا
تو بحر ہے کہ ہے دریا۔۔۔ مُجھی کو پیاس نہیں
ملا وہ اشک جو بہنے ہی میں نہیں آیا
ملا وہ درد کہ جس کا کوئی نکاس نہیں
اساسِ عزت و تکریم ہیں حوالے یہاں
اور اپنا ایک حوالہ بھی میرے پاس نہیں
میں عکس ہوں کہ نہیں جس کا کوئی بھی موجود
میں آسمان ہوں میری کوئی اساس نہیں
یاور ماجد

جس سمت سے آتا ہے ادھر کیوں نہیں جاتا

خورشید کبھی راہِ دگر کیوں نہیں جاتا
جس سمت سے آتا ہے ادھر کیوں نہیں جاتا
میں سیدھے کسی راستے پر کیوں نہیں جاتا
اب کیسے بتاؤں میں سدھر کیوں نہیں جاتا
آوارگی! آوارگی! آوارگی! بتلا!
میں لوٹ کے آخر کبھی گھر کیوں نہیں جاتا
میں دھوپ میں جھلسا ہی چلا جاؤں گماں کی
اب ابرِ یقیں مجھ پہ ٹھہر کیوں نہیں جاتا
اک عمر جسے یاد کے چہرے سے ہے کھُرچا
آخر وہ مرے دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
اے عکس مری یاد کی جھیلوں پہ پڑے عکس
تُو ٹوٹ چکا کب کا، بکھر کیوں نہیں جاتا
جب ہم سفری کا کوئی امکاں ہی نہیں ہے
تُو اپنی تو میں اپنی ڈگر کیوں نہیں جاتا
اے دشمنِ جاں چھوڑ بھی اب! جا بھی کہیں! مر!
تو بیتا ہوا پل ہے گزر کیوں نہیں جاتا
جو دل کے گلستان میں چلتا ہے ہمیشہ
جھونکا وہ سرِ راہگزر کیوں نہیں جاتا
مشکل ہو اگر حد سے زیادہ تو ہو آساں
بکھرا ہوں میں اتنا تو سنور کیوں نہیں جاتا
وہ چاند ہے اور سامنے موجود ہے میرے
پھر بحر تخیل کا بپھر کیوں نہیں جاتا
کہتے ہیں کہ ہر سیپ سے موتی نکل آئے
کیا جانیے آنکھوں سے گہر کیوں نہیں جاتا
یاور ماجد

کس کو اس طرح بکھر جانا گوارا تھا مرا؟

نام مڑ مڑ کے بھلا کس نے پکارا تھا مرا؟
کس کو اس طرح بکھر جانا گوارا تھا مرا؟
نقش کس طور سے اور کس نے ابھارا تھا مرا
ہاتھ کب میرے تھے؟ بس چاک پہ گارا تھا مرا
وہ جو بپھرا سا سمندر تھا۔۔۔ کنارہ تھا مرا
جس میں سب ڈوب گئے وہ تو نظارا تھا مرا
دھوپ میں جلتا پرندہ مجھے یوں دیکھتا تھا
بارشوں، سایوں پہ جیسے کہ اجارا تھا مرا
وہ لہو جیسے سمندر میں اترتا سورج
شام نے گویا کوئی عکس اتارا تھا مرا
کسی امید کی امید ہی اک دن ہو گی
اسی امید پہ پوچھو تو گزارا تھا مرا
پہلے ہاتھوں سے لکیریں مٹیں رفتہ رفتہ
کل جو پھر ٹوٹ گرا پل میں، ستارہ تھا مرا
تھا نشہ سارا زیاں میں مرا یاؔور ماجد
فائدہ کوئی بھی ہو، اس میں خسارہ تھا مرا
یاور ماجد

اک دیا تھا یہاں اے زمانے کہاں کھو گیا

چاندنی بجھ گئی، چاند جانے کہاں کھو گیا
اک دیا تھا یہاں اے زمانے کہاں کھو گیا
کون کہتا ہے تیری کہانی مکمل ہوئی؟
ذکر میرا بتا اے فسانے کہاں کھو گیا
ڈھونڈنے کو تو نکلا تھا گم گشتہ منزل کو میں
مجھ سے  میرا پتہ ہی نجانے کہاں کھو گیا
یا خدا! میں تو تھا ہی سراسر گماں کا گماں
وہ جو نکلا تھا مجھ کو گنوانے کہاں کھو گیا
نیند رکھی تھی پلکوں پہ جانے کہاں گم ہوئی
خواب رکھا تھا اپنے سرہانے کہاں کھو گیا
یاور ماجد

وزن تو تھوڑا سا ہی اب جسم کی اس سِل میں ہے

روح سے پوچھو کہ آخر کون سی مشکل میں ہے؟
وزن تو تھوڑا سا ہی اب جسم کی اس سِل میں ہے
پیتا جائے، پیتا ہی جائے ہے ہر اک لہر کو
تشنگی ہی تشنگی لیکن لبِ ساحل میں ہے
تیری یادوں کا خزینہ دل میں ہے رکھا ہوا
اور اک مارِ سیہ بیٹھا ہوا اس بِل میں ہے
آنسوؤں سے چیر لیں گے آئی جب کوئی کرن
اک دھنک رنگوں بھری اپنے بھی مستقبل میں ہے
ایک مرکز، ایک میں اور عمر بھر کی گردشیں
فاصلہ اک مستقل راہی میں اور منزل میں ہے
لغو ہے لفظوں کا فن، لیکن ہم اس کا کیا کریں
’’یہ جو اک لذّت ہماری سعیِ بے حاصل میں ہے‘‘
یاور ماجد

آنکھ جب ذہن کے صحراؤں میں بوتی ہے نمی

گلشنِ شعر کی ہریالی کو دھوتی ہے نمی
آنکھ جب ذہن کے صحراؤں میں بوتی ہے نمی
اک توازن ہے جو ہر طور ہی قائم رکھے
خشک ساگر جو کرے، چرخ بھگوتی ہے نمی
منعکس نور ہر اک کونے میں کرتی جائے
رنگ اور روشنی کا آئنہ ہوتی ہے نمی
دن تمازت سے انھیں کتنا ہی تڑخا ڈالے
رات پھر آن کے شاخوں میں پروتی ہے نمی
ابر آئے تو بہار آئے نئے پھول کھلیں
خوب یوں زندگی ہر کونے میں ڈھوتی ہے نمی
کچھ تعلّق تو اُداسی کا ہے برساتوں سے
دِل جو بھر آئے تو ہمراہی میں روتی ہے نمی
کیسے صحرا میں یہ امّید کے گل کھل اٹھے
دِل کے بنجر میں کہیں چُپکے سے سوتی ہے نمی
یاور ماجد

ہر کھلے در سے خوف آتا ہے

ایسے منظر سے خوف آتا ہے
ہر کھلے در سے خوف آتا ہے
جس پہ ممکن نہیں کوئی گردش
ایسے محور سے خوف آتا ہے
آئنے سے ورا، جو ہے موجود
اس کے پیکر سے خوف آتا ہے
صبح تارا ازل کا ہے جھوٹا
اس پیمبر سے خوف آتا ہے
میرے صیاد تجھ کو پنجرے کے
ایک بے پر سے خوف آتا ہے
یہ زمانہ ہے وہ دلیر جسے
مجھ سے لاغر سے خوف آتا ہے
جب ہے تقدیر پر یقیں تو پھر
کیوں مقدر سے خوف آتا ہے
خوف کی انتہا ہے یہ یاؔور
اپنے اندر سے خوف آتا ہے
یاور ماجد

دُھند ایسی دِل پہ چھائی ہے کہ چھٹتی ہی نہیں

 
وہم کی کالی گھٹا نظروں سے ہٹتی ہی نہیں
دُھند ایسی دِل پہ چھائی ہے کہ چھٹتی ہی نہیں
آنکھ بھر ہی آسماں ہے دِل کی دُنیا کا مگر
اتنی وسعت ہے کہ نظروں میں سمٹتی ہی نہیں
ہے دِلِ عابد کی ہر اٹھتی صدا میں انتشار
جائے گنبد میں نظر کے تو پلٹتی ہی نہیں
صبح کے ہر در سے اژدر یاس کا لپٹا ملے
رات اس مارِ سیہ کے ساتھ کٹتی ہی نہیں
میَں لُڑھکتا ہی چلوں کون و مکاں کی کھائی میں
ایسی گردش شش جہت کی ہے کہ گھٹتی ہی نہیں
میَں ہوں یاؔور اپنی فطرت میں اُجالوں کا سفیر
دُھول مجھ سے دشتِ ظلمت کی لپٹتی ہی نہیں
یاور ماجد

پھر اُس کے بعد کہیں جا کے سو گئی وہ شام

اندھیرے پہلے تو گلشن میں بو گئی وہ شام
پھر اُس کے بعد کہیں جا کے سو گئی وہ شام
وہ اس کے ہونٹ، وہ رخسار اور وہ چہرہ
نظر سے محو ہوئے اور کھو گئی وہ شام
وہ جس میں سُرخیِ رُو، تیری سُرخیِ رُو تھی
نجانے کون گلستان کو گئی وہ شام
طلوع روز ہی ہوتا تھا، پھر نہیں لوٹا
نجانے کیوں مرا سورج ڈبو گئی وہ شام
انہیں گزار کے کچھ ساعتوں کے دھاگے سے
فلک پہ کیسے ستارے پرو گئی وہ شام
ہر ایک پل ہے مجھے یاد ہمرہی کا تری
حسابِ عمر سے پھر کیسے کھو گئی وہ شام
کشید کر کے شفق میری آنکھوں سے کل شب
بہ سقفِ یاد کہیں ثبت ہو گئی وہ شام
گئے، گئے، جو سمے لوٹ کب سکے یاوؔر
’’گئی وہ شام‘‘ یہ کہتے رہو!! ’’گئی وہ شام‘‘
یاور ماجد

ہالہ قمر کے گرد جو تھا، تنگ تر ہوا

پاؤں میں تنگ حلقہ ذرا تنگ تر ہوا
ہالہ قمر کے گرد جو تھا، تنگ تر ہوا
سب وُسعتیں لکھی گئیں اس کے نصیب میں
ہر ایک تنگ رستہ مرا تنگ تر ہوا
ٹوٹا ستارہ اور ہزاروں میں بٹ گیا
سمٹے ہوئے گگن کا خلا تنگ تَر ہوا
پاؤں میں اپنے حلقۂ زنجیر دیکھ کر
دم اور گھٹ گیا ہے گلا تنگ تَر ہوا
لمحہ بہ لمحہ بڑھتی گئی گردشِ درُوں
لیکن مدار مجھ کو عطا تنگ تَر ہوا
کھلتی گئیں جہات کئی میری راہ میں
جُوں جُوں ہر ایک رستہ مرا تنگ تَر ہوا
یاور ماجد

توڑو گگن کہ چاندنی ٹپکے دراڑ سے

تھامے کرن کو، کُود کے شب کے پہاڑ سے
توڑو گگن کہ چاندنی ٹپکے دراڑ سے
پھر تیرگی زمین پہ جھانکے پئے شکار
چندا کی اوٹ سے کبھی تاروں کی باڑ سے
اوڑھیں زمیں نے شب کے اندھیروں کی چادریں
ویراں ہوئیں فضائیں تو رستے اُجاڑ سے
کب روشنی ہے روشنی گر تیرگی نہ ہو
ہر نظم کا وجود ہے قائم بگاڑ سے
ظلمت کدے میں شب کے سحر آ کے مڑ گئی
چپکی ہوئی ہیں دستکیں اب تک کواڑ سے
وصلِ سحر بلائے گا یاؔور کبھی مجھے
جھانکے گا آفتاب شعاعوں کی آڑ سے
یاور ماجد

روزن سے میرے آتی کوئی بھی کرن نہیں

جاتی اندھیر پن کی یہاں سے گھٹن نہیں
روزن سے میرے آتی کوئی بھی کرن نہیں
دِن بھر کی شورشوں کے دباؤ کے شور سے
شب کے لِباسِ حبس میں کوئی شکن نہیں
کیوں روشنی گروں کی زبانیں ہیں سوختہ
کیوں لوَ کسی چراغ کی بھی سینہ زن نہیں
اندھے خلا کی کھائی میں گرتا ہی جاؤں میَں
پیروں تلے زمیں نہیں سر پر گگن نہیں
اک نغمہ خامشی کا بنی جائے زندگی
اک رقص ہے کہ جس میں کوئی چھن چھنن نہیں
یاوؔر ہی بس ہے عاجز و ناچیز و خاکسار
ورنہ یہاں پہ کون خدائے سُخن نہیں
یاور ماجد

وقت کی آندھی مجھے دُھول سمجھ کر نہ اُڑا

کیا ہوا جو مہ و اختر کے برابر نہ اُڑا
وقت کی آندھی مجھے دُھول سمجھ کر نہ اُڑا
کیسے اُڑ پاؤں گا آئندہ کے طوفانوں میں
میں جو ماضی کے قفس سے کبھی باہر نہ اُڑا
چھوڑ دے کچھ تو بہاروں کی نشانی مجھ میں
اے خزاں رنگ مرے جسم کا یکسر نہ اُڑا
یہ برستی ہوئی بوندیں تو گھٹا کی دیکھو
کون کہتا ہے گگن میں کبھی ساگر نہ اُڑا
کس نے اُڑتے ہوئے ساگر کو فلک پر دیکھا
ایسی بے پر کی مری جاں، مرے یاوؔر نہ اُڑا
یاور ماجد

درونِ گردشِ دوراں ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کسی سے ہو نہ سکا جو، وہ کر کے دیکھتے ہیں
درونِ گردشِ دوراں ٹھہر کے دیکھتے ہیں
پرندے میرے گلستاں کو ڈر کے دیکھتے ہیں
بُریدہ بازو وہ جب ہر شجر کے دیکھتے ہیں
یہ مدّ و جذر مرے دل کا تیری دید سے ہے
قمر کو جیسے سمندر بپھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ایک جہاں رفتگاں کی منزل ہے
وہ چل بسا، تو اسے آؤ مر کے دیکھتے ہیں
حیات کیا ہے؟ پہر دو پہر کا میلہ ہے
تماشے آؤ پہر دو پہر کے دیکھتے ہیں
بسر کیا ہے ہمیں جس حیات نے اب تک
اسی حیات کو اب ہم بسر کے دیکھتے ہیں
نہ آسمان ملا ہم کو آنکھ بھر یاؔور
اسی لیے ہم اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
یاور ماجد

نہ کوئی آیا، کہ سہلائے میرا آخری زخم

 
کریدنے تو سبھی آئے میرا آخری زخم
نہ کوئی آیا، کہ سہلائے میرا آخری زخم
لہو سی آنکھوں میں بجھ جائے کوئی جلتی شام
وہ شام، جس سے کہ بھر جائے میرا آخری زخم
نہ مندمل ہوا کوئی بھی زخم، یہ بھی نہ ہو
کہ پہلا داغ نہ بن جائے میرا آخری زخم
ہر ایک زخم ہی سرمایۂ حیات رہا
تو کیوں نہ دِل کو مرے بھائے میرا آخری زخم
پھر اس کے بعد ہو دائم حیات میرے لیے
خبر ہے کیا یہی کہلائے میرا آخری زخم
یاور ماجد

اس پیڑ سے ہی لپٹے رہیں گے خزاں میں ہم

 
حاصل ہو اس کا جو بھی، زیادہ کہ چاہے کم
اس پیڑ سے ہی لپٹے رہیں گے خزاں میں ہم
یہ تھاپ آنسوؤں کی چھما چھم، چھما چھمم
سنتے ہیں ہم حیات کے نغموں کے زیر و بم
ہو جاتا وہ خمارِ مِلن ہم کو بھی بہم
ہاتھوں میں اک لکیر جو ایسے نہ ہوتی خم
کچھ بھی نہیں حیات، حقیقت میں کچھ نہیں
بس دم دما دمم کا سنو گیت دمبدم
بن جائے اپنا کچھ بھی، نہ بن پائے بھی تو کیا
کچھ بھی نہیں کریں گے، کریں گے نہ کچھ بھی ہم
یہ گلستانِ شعر نہ بنجر کبھی ہوا
صد شکر نم ہے آنکھوں کی اس کو رہی بہم
میرے بزرگ دوست مرے میری جان ہیں
ماجدؔ ہوں آفتابؔ یا خاقانؔ یا عدمؔ
یاؔور کی یہ غزل ہے سنی داد کچھ تو دیں
غالب سے بھی زیادہ ہیں گو آپ محترم
یاور ماجد

جو میرے سر پہ کوئی آسمان ہی ہوتا

چلو گمان سہی کچھ تو مان ہی ہوتا
جو میرے سر پہ کوئی آسمان ہی ہوتا
میں بے امان رہا اپنے گھر میں رہ کر بھی
کوئی بھی ہوتا یہاں، بے امان ہی ہوتا
جہاں پہ بسنا تھا ہر ایک لامکانی کو
ضرور تھا کہ وہ میرا مکان ہی ہوتا؟
تو اختیار میں کچھ لفظ ہی عطا ہوتے!
دیا جو درد ہے مجھ سے بیان ہی ہوتا!
نہ رہتا فاصلہ گر مجھ میں اور زمانے میں
تو میرے اور مرے درمیان ہی ہوتا
گگن پہ کھینچ کے سورج کو لا کے رکھ دیتا
جو سرخیوں کا افق پر نشان ہی ہوتا
ضرور تھا کہ کمالِ بیاں عطا کرتے؟
ضرور تھا کہ مرا امتحان ہی ہوتا؟
نہیں گلہ کوئی یاؔور پہ بحرِ غم میں کہیں
مرے سفینے پہ اک بادبان ہی ہوتا
یاور ماجد

پنجرے میں اک اسیر کا تھا سر لہو لہو

ٹوٹی تھی چونچ، اور تھا پیکر لہو لہو
پنجرے میں اک اسیر کا تھا سر لہو لہو
درپن ہی میرے آگے نہیں ٹوٹتے رہے
ہوتا رہا ہوں میں بھی برابر لہو لہو
پہلے خزاں کے وار نے گھائل کیا مجھے
پھر آئی مجھ کو دیکھنے صَرصَر لہو لہو
کیا احمریں سی شام تھی اپنے وداع کی
لگنے لگے تھے سارے ہی منظر لہو لہو
شب بھر جو تیرگی سے لڑا تھا پسِ فلک
آیا افق پہ لوٹ کے ہو کر لہو لہو
دیکھو کنارِ شام شفق کی یہ سرخیاں
ہونے لگا ہے جن سے سمندر لہو لہو
آ آ کے لوٹتی رہی اک یاد رات بھر
چپکی ہوئی ہیں دستکیں در پر لہو لہو
یاور ماجد

ذرا سی خشک ہے، بنجر نہیں، مری ہی طرح

ہوئی ہے زرد سی دیکھو زمیں، مری ہی طرح
ذرا سی خشک ہے، بنجر نہیں، مری ہی طرح
نسیمِ صبح کے جھونکوں میں جھومتا برگد
یہ کہہ رہا ہے کہو آفریں مری ہی طرح
اسے بھی اپنے درُوں کا کبھی تو گیان ملے
یہ آئنہ ہو اگر شعلہ بیں مری ہی طرح
بھنور میں ڈوب نہ جانا کہیں گمانوں کے
چلے ہو تم سُوئے بحرِ یقیں مری ہی طرح
اسے بھی شام نے آنچل میں اپنے ڈھانپ لیا
یہ دن بھی دیکھو ہوا احمریں، مری ہی طرح
افق بھی رات کی آمد کے خوف سے یاؔور
پٹخ رہا ہے زمیں پر جبیں، مری ہی طرح
یاور ماجد

اور چاک تک قفس کے مرے سَب سلے ہوئے


قدغن لگی ہے سوچ پہ اور لَب سلے ہوئے
اور چاک تک قفس کے مرے سَب سلے ہوئے
نکلا ہوں کتنے زعم سے دُنیا کے سامنے
پہنے ہوئے یہ چیتھڑے بے ڈَھب سلے ہوئے
صدیوں کی گھاٹیوں میں یہ لمحوں کی مشعلیں
گہرے فلک پہ اختر و کوکب سلے ہوئے
مشکل کہاں ہے میرے سوالوں کو بوجھنا
سادہ ہیں ان حروف میں مطلب سلے ہوئے
آنکھوں میں سُرخ ڈوریاں عمروں سے ساتھ تھیں
اس دِل کے زخم پھر بھی رہے کب سلے ہوئے
جُوں جُوں چمن میں سُرخی پروتی گئی بہار
کھلتے گئے ہیں گھاؤ مرے سب سلے ہوئے
ایسا بیاں کا زور کیا تھا اگر عطا
کیوں ہونٹ دے دئیے مجھے یا رب سلے ہوئے
یاور ماجد

کہاں جاتی ہے اس رفتار سے، اے روشنی! تھم جا

نہ پورا چاند گھٹ جائے، اسی لمحے! ابھی تھم جا
کہاں جاتی ہے اس رفتار سے، اے روشنی! تھم جا
عذابِ جاں بنی ہے تیری ٹک ٹک اے گھڑی! تھم جا
مرے حلقوم پر چلتی ہوئی میٹھی چھری! تھم جا
مجھے کچھ سانس لینے دے، مجھے کچھ سانس لینے دے
مری آوارگی تھم جا! مری آوارگی تھم جا
کسی دریا سے ہو کر بحر میں مٹ جائے گی آخر
اسی وادی میں بہتی رہ، اری پیاری ندی! تھم جا
امر کرنے کو ہے دیکھو کرن کو بوند پانی کی
یہ لمحہ پھر نہیں آنا، یہیں پر روشنی! تھم جا
اسی امید پر چلتا رہا انجان رستوں پر
کوئی مجھ کو پکارے گا کہ تھم جا۔۔ اجنبی، تھم جا
یہ گردش شش جہت کی تو کبھی تھمتی نہیں یاؔور
تو پھر اے گردشِ دوراں ذرا تو ہی کبھی تھم جا!
یاور ماجد

تو ہر گھڑی کا یہ دکھ گاہ گاہ بھی نہ رہے

فلک سے مہر بھی کھو جائے، ماہ بھی نہ رہے
تو ہر گھڑی کا یہ دکھ گاہ گاہ بھی نہ رہے
ثواب بھی نہ رہے گر گناہ بھی نہ رہے
ہمیں تمہاری تو کیا، اپنی چاہ بھی نہ رہے
شبِ سیاہ سے کہنا کہ دن میں ڈھل جائے
شبِ سیاہ سے کہنا سیاہ بھی نہ رہے
ملے وہ دشمنِ جاں جس سے دشمنی بھی نہ ہو
ملے وہ دوست کہ جس سے نباہ بھی نہ رہے
مکینِ دل وہ مری جستجو ہی جب نہ رہی
تو دل کے طاق پہ رکھی نگاہ بھی نہ رہے
ازل نہ ہوتا تو کیسا ابد، کہاں کا ابد!
مرے ابد کو ازل کی پناہ بھی نہ رہے
یاور ماجد

شعروں میں اُس کا پھول سا پیکر تراشتے

زورِ قلم جو ہوتا، برابر تراشتے
شعروں میں اُس کا پھول سا پیکر تراشتے
محوِ سفر رہے ہیں قدم اور قلم سدا
رُک پاتے گر کہیں تو کوئی گھر تراشتے
گر قیدِ شش جہات پہ ہوتا کچھ اختیار
روزن کوئی بناتے کوئی دَر تراشتے
پَرکارِ فن سے دائرے کھینچا کیے ہزار
نِروان پاتے گر کبھی محور تراشتے
سیپی میں دِل کی تم جو اگر ٹھیرتے کبھی
ہم تیشۂ خیال سے گوہر تراشتے
ہاتھوں کی کونپلوں سے کٹھن روزگار کے
عمریں گزر گئیں مجھے پتھر تراشتے
ناخن کی نوک سے فلکِ روسیاہ پر
ہم چودھویں کے چاند کا منظر تراشتے
اس بار بھی بنی وہی مبہم سی شکل پھر
اس بُت کو اب کی بار تو بہتر تراشتے
یاور ماجد

ایک ہی نظم عمر بھر لکھی

خود قلم بن کے، ٹوٹ کر لکھی
ایک ہی نظم عمر بھر لکھی
اس نے قسمت میں کب سحر لکھی
لکھ بھی دی گر، تو مختصر لکھی
لکھی تقدیر میری بے اعراب
اور نقطے بھی چھوڑ کر لکھی
میرے قرطاسِ عمر پر اُس نے
ہر کٹھن رَہ، سفر سفر لکھی
کیا وہ مانیں گے داستاں تیری؟
دوسرے رُخ سے میَں نے گر لکھی
دیکھنا تو کرن نے سورج کی
بہتے پانی پہ کیا خبر لکھی
مُصحفِ شب پہ ایک دن یاؔور
پڑھ ہی لوں گا کبھی سحر لکھی
یاور ماجد

بجھ جائے گا کچھ پل میں، ہوا تیز بہت ہے

 
 
شعلہ جو ہے اس دل میں چھپا، تیز بہت ہے
بجھ جائے گا کچھ پل میں، ہوا تیز بہت ہے
اک تیری جھلک یاد کے در سے ہے در آئی
اک درد مرے دل میں اُٹھا تیز بہت ہے
چپکے سے بس اک سسکی ہی لی ہے مرے دل نے
کیوں گونجتی کانوں میں صدا تیز بہت ہے
اب راکھ تلک ڈھونڈے سی ملتی نہیں اس کی
اک جسم تری لو میں جلا تیز بہت ہے
پھر ٹوٹ گئے، گم ہوئے سب محور و مرکز
کیا کرتے کہ گردش کی بلا تیز بہت ہے
جس زہر نے کر ڈالا گگن نیلا سحر تک
وہ زہر مرے خوں میں گھُلا تیز بہت ہے
یاور ماجد
 

ہم مگر ترسے، ۔۔۔ اور ہم تر سے

گو کہ بادل تو ٹوٹ کر بر سے
ہم مگر ترسے، ۔۔۔ اور ہم تر سے
ہم غریبوں کی کون تیاری؟
وا کیا در، نکل پڑے گھر سے
کچھ تحرک تو ہو فضاؤں میں
ہو صبا سے بھلے، ہو صَرصَر سے
ہم لڑھکتے چلے گئے پھر تو
کھائی ٹھوکر جو ایک پتھر سے
کیسے کیسے پہاڑ کاٹ دیے
اور وہ بھی اس ایک پیکر سے
ایک سورج فلک پہ ہوتا تھا
کیوں حذف ہو گیا وہ منظر سے
اپنا تقدیر پر یقیں ہی نہیں
پھر گلہ کیا کریں مقدر سے
اپنے مرکز کو ڈھونڈنے کے لیے
چھن گئے دائرے ہی محور سے
طے کیا تھا سفر جو ماجدؔ نے
کیا کبھی ہو سکے گا یاؔور سے
یاور ماجد
 

کہ اس نگر میں بجھی مشعلوں کی باس تو ہے

میں خندہ لَب نہ سہی، میرا دل اداس تو ہے
کہ اس نگر میں بجھی مشعلوں کی باس تو ہے
میں اپنے چَاک گریباں پہ مضمحل کیوں ہوں !
اس آئنے میں مری روح بے لباس تو ہے
میں کیوں بُجھاؤں کسی گل کے عارضوں کے چراغ
یہ زدر رنگ میری زندگی کو راس تو ہے
شکیب جلالی

شامل ہے انجمن میں ، مگر بولتا نہیں

سونے کا بُت ہے کیا؟ جو وہ لَب کھولتا نہیں
شامل ہے انجمن میں ، مگر بولتا نہیں
ڈسوا دیا ہے ناگ سے، اس جُرم پر مجھے
جیون میں دوسروں کے میں بِس گھولتا نہیں
جب سے سفر کو مان لیا میں نے زندگی
خنجر کی دھار پر بھی کبھی ڈولتا نہیں
دامن میں میرے جمع ہیں ہر بے نوا کے اشک
کیا کیا گُہر ہیں ، جن کو کوئی رولتا نہیں
شعلے پہنچ گئے ہیں سرِ شاخِ آشیاں
اب کیوں شکیبؔ! اُڑنے کو پر تولتا نہیں
شکیب جلالی

ذرا زحمت تو ہو گی رازدارو! تم ہی آجاؤ

سرِ رہ اب نہ یوں مجھ کو پکارو، تم ہی آجاؤ
ذرا زحمت تو ہو گی رازدارو! تم ہی آجاؤ
کہیں ایسا نہ ہو دم توڑ دیں ، حسرت سے دیوانے
قفس تک ان سے ملنے کو بہارو! تم ہی آجاؤ
بھروسا کیا سفینے کا، کئی طوفان حائل ہیں
ہماری ناخدائی کو کنارو! تم ہی آجاؤ
ابھی تک وہ نہیں آئے یقینا رات باقی ہے
ہماری غم گساری کو ستارو! تم ہی آجاؤ
شکیبؔ غم زدہ کو درد سے ہے اب کہاں فرصت
اگر کچھ وقت مل جائے تو پیارو! تم ہی آجاؤ
شکیب جلالی

چلے تو آئے ہو تجدیدِ دوستی کے لیے

یہ لُطف زہر نہ بن جائے زندگی کے لیے
چلے تو آئے ہو تجدیدِ دوستی کے لیے
نحیف ضَو کو عَجب طرح تقویت دی ہے
اندھیرے ڈھونڈ کے لائے ہو روشنی کے لیے
نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تمھیں پآ کر
بھٹک رہا تھا مرا دل، خود آگہی کے لیے
جنھیں خود اپنی حقیقت پہ اعتماد نہ تھا
تمھارے دَر پہ چلے آئے بندگی کے لیے
چلے تو ایسے چلے جیسے بے نیازِ مقام
رُکے تو ایسے رُکے جیسے آپ ہی کے لیے
تمھاری سہل پسندی نے ہر قدم پہ ، شکیبؔ!
نئے اصُول تراشے ہیں رَہ رَوی کے لیے
شکیب جلالی

زخمِ جگر و داغِ جبیں میرے لیے ہے

یہ پھول نہ وہ ماہِ مبیں میرے لیے ہے
زخمِ جگر و داغِ جبیں میرے لیے ہے
پلکوں پہ سجاؤں کہ اسے دل میں چُھپاؤں
شبنم کا گُہرتاب نگیں میرے لیے ہے
اپنے کسی دُکھ پر مری آنکھیں نہیں چھلکیں
روتا ہوں کہ وہ آج غمیں میرے لیے ہے
دیوار جُدائی کی اٹھاتی رہے دنیا
اب وہ رگِ جاں سے بھی قریں میرے لیے ہے
آتی ہے ترے پائے حنائی کی مہک سی
مخمل سے سوا فرشِ زمیں میرے لیے ہے
رقصاں ہیں بہر گام تری یاد کے جگنو
اب دشت بھی فردوسِ بریں میرے لیے ہے
چاہے گا اسے کون، شکیبؔ اتنی لگن سے
وہ شمعِ فروزاں ہو کہیں، میرے لیے ہے
شکیب جلالی

اِستعارے ہیں ماہ و انجم کے

یہ کرن، پُھول، بالیاں، جُھمکے
اِستعارے ہیں ماہ و انجم کے
لالہ و گُل ستارہ و مہتاب
رازجُو ہیں ترے تبسّم کے
بات پہنچی قیودِ محفل تک
تذکرے تھے ترے تکلّم کے
تیری آنکھوں کے رُوبرو آئیں
حوصلے کیا ہیں ساغر و خُم کے
ہم فقط آنسوؤں کے سوداگر
تم خریدار ماہ و انجم کے
شکیب جلالی

کہ میں تو اپنے ہی صحرا کے پار جا نہ سکا

وہ کون ہے جو تمھارا سُراغ پا نہ سکا
کہ میں تو اپنے ہی صحرا کے پار جا نہ سکا
وہ اپنا معنوی چہرہ مجھے دِکھا نہ سکا
اس آئنے سے کوئی بھی نظر مِلا نہ سکا
یہ ٹھنڈی آگ جُدا ہے بدن کے شعلے سے
بدن کا شعلہ مری روح کو جلا نہ سکا
کسی کی بات تھی جو اُس نے ڈال دی مجھ پر
وہ آج خود تو ہنسا، پر مجھے ہنسا نہ سکا
اسی لیے تو اُجالا ہے میرے سینے میں
میں بھول کر بھی کسی کا دیا بُجھا نہ سکا
کچھ اتنے ہاتھ بڑھے تھے مجھے گرانے کو
کہ ڈگمگانا بھی چاہا تو ڈگمگا نہ سکا
وہ پیرہن ہوں میں اپنے برہنہ جوئی کا
جو کوئی زخم تری آنکھ سے چھپا نہ سکا
جو لوحِ دل ہوئی ٹکڑے تو یہ خیال آیا
کہ میں بھی سَنگ اٹھاؤں ، مگر اٹھا نہ سکا
شکیبؔ! روح میں طوفاں کا شور باقی ہے
میں اپنا درد، کسی ساز پر سنا نہ سکا
شکیب جلالی

پھر پُھوٹتی ہے سرخ کلی شاخِ زرد سے

میں وہ نہیں جو ہار گیا موجِ درد سے
پھر پُھوٹتی ہے سرخ کلی شاخِ زرد سے
لوگوں کو تھا گمان کہ جاتا ہے قافلہ
رہ رَو تو نکلا ایک ہی دیوارِ گرد سے
جھپٹے نہ میرے بعد کسی بھی چراغ پر
یہ سوچ کر میں لڑتا رہا بادِ سرد سے
دھاگے میں کیا پروئیے ذرّوں کو ریت کے
یوں بھی جُدا رہے گا یہاں فرد فرد سے
واقف کسی سے کون، جہاں ہم طرح ہوں سب
بستی کا حال پوچھیے صحرا نورد سے
پتھر کے بند باندھ کے بیٹھے ہیں کب جری
کرتا ہے چھیڑ موجہِ طوفاں بھی مرد سے
دل میں کُھلا ہے روشنی کا بادباں شکیبؔ
آگے ملوں گا اب میں ستاروں کی گرد سے
شکیب جلالی

وہ پاس آ تو رہا تھا مگر ٹھہر بھی گیا

مرے خلوص کی شدّت سے کوئی ڈر بھی گیا
وہ پاس آ تو رہا تھا مگر ٹھہر بھی گیا
یہ دیکھنا تھا: بچانے بھی کوئی آتا ہے!
اگر میں ڈوب رہا تھا تو خود اُبھر بھی گیا
اے راستے کے درختو! سمیٹ لو سایہ
تمھارے جال سے بچ کر کوئی گزر بھی گیا
کسی طرح سے تمھاری جبیں چمک تو گئی
یہ اور بات سیاہی میں ہاتھ بھر بھی گیا
اِسی پہاڑ نے پُھونکے تھے کیا کئی جنگل
جو خاک ہوکے مرے ہاتھ پر بکھر بھی گیا
یہیں کہیں مرے ہونٹوں کے پاس پھرتا ہے
وہ ایک لفظ کہ جو ذہن سے اتر بھی گیا
وہ شاخ جُھول گئی جس پہ پاؤں قائم تھے
شکیبؔ ورنہ مرا ہاتھ تا ثمر بھی گیا
شکیب جلالی

کیا لکھیے سرِ دامنِ شب، سوچ رہے ہیں

لَودے اٹھے وہ حرفِ طلب سوچ رہے ہیں
کیا لکھیے سرِ دامنِ شب، سوچ رہے ہیں
کیا جانیے منزل ہے کہاں، جاتے ہیں کس سمت
بھٹکی ہوئی اس بھیڑ میں سب سوچ رہے ہیں
بھیگی ہوئی اک شام کی دہلیز پہ بیٹھے
ہم دل کے سُلگنے کا سبب سوچ رہے ہیں
ٹوٹے ہوئے پتّوں سے د رختوں کو تعلق؟
ہم دور کھڑے کنجِ طرب سوچ رہے ہیں
بُجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں ہے سرِ محفل
کیا رنگ جَمے آخرِ شب سوچ رہے ہیں
اس لہر کے پیچھے بھی رَواں ہیں نئی لہریں
پہلے نہیں سوچا تھا، جو اب سوچ رہے ہیں
ٹو ٹے ہو ئے پتّوں کو درختوں سے تعلق؟
ہم دُور کھڑے شہرِ طرب سوچ رہے ہیں
ہم اُبھر ے بھی ،ڈو بے بھی سیا ہی کے بھنو ر میں
ہم سو ئے نہیں شب ، ہمہ شب سوچ رہے ہیں
ایما ن کی شہ رگ ہُوں ، میں انِسا ن کا دل ہوں
کیا آپ مرا نا م و نَسَب سوچ رہے ہیں
شکیب جلالی

یہ جانیے کہ ہے وہی پتّھر کا آدمی

گھائل نہیں جو حُسنِ گُلِ تر کا آدمی
یہ جانیے کہ ہے وہی پتّھر کا آدمی
گہرائیوں میں جا کے بھی کیا بات ہے کہ اب
سُنتا ہے شور سطحِ سمندر کا، آدمی
کیسی چلی یہ تیغ کہ ثابت رہا بدن
تقسیم ہو گیا مگر اندر کا آدمی
ہر راہ سے نکلتے ہیں سو اور راستے
اب ڈھونڈتا پھرے گا پتا گھر کا آدمی
شب خوں کے ڈر سے تھا مجھے ہر پیڑ پر گماں
یہ بھی نہ ہو غنیم کے لشکر کا آدمی
تنہائیوں کی بھیڑ ہے گھیرے ہوئے مجھے
اب میں ہوں اپنے شہر میں باہر کا آدمی
دشتِ طلب بھی کیا کوئی شہرِ طلسم ہے
دیکھا جو مڑ کے، ہو گیا پتھر کا آدمی
آنکھیں وہ خود ہی پھوڑ لیں جن کی شعاع سے
لیتا تھا لطف شام کے منظر کا آدمی
پھر آن کر گرے نہ اسی فرشِ خاک پر
اُڑتا ہے کیا ہواؤں میں بے پَر کا آدمی
ٹانگوں میں بانس باندھ کے چلتے ہیں سب یہاں
کیوں کر ملے، شکیبؔ! برابر کا آدمی
شکیب جلالی

ٹُوٹ جاتے ہیں سہانے خواب آدھی رات کو

گُونجتا ہے نالہِ مہتاب آدھی رات کو
ٹُوٹ جاتے ہیں سہانے خواب آدھی رات کو
بھاگتے سایوں کی چیخیں، ٹُوٹتے تاروں کا شور
میں ہوں اور اک محشرِ بے خواب آدھی رات کو
شام ہی سے بزمِ انجم نشہِ غفلت میں تھی
چاند نے بھی پی لیا زہراب آدھی رات کو
اک شکستہ خواب کی کڑیاں ملانے آئے ہیں
دیر سے بچھڑے ہوئے احباب آدھی رات کو
دولتِ احساسِ غم کی اتنی اَرزانی ہوئی
نیند سی شے ہو گئی نایاب آدھی رات کو
شکیب جلالی

خدا گواہ کہ برسات ہو گئی ہو گی

کبھی جو پُرسشِ حالات ہو گئی ہو گی
خدا گواہ کہ برسات ہو گئی ہو گی
جو راہِ شوق میں حائل تھے فاصلے تو کیا!
نظر نظر میں ملاقات ہو گئی ہو گی
ہوا سے آپ کی زلفیں بکھر گئی ہوں گی
فضا میں بارشِ ظلمات ہو گئی ہو گی
کسی نے شرم سے چہرہ چھپا لیا ہو گا
نگاہ محوِ جمالات ہو گئی ہو گی
وہ اجنبی کی طرح پیش آئے ہوں گے، شکیبؔ
جو راستے میں ملاقات ہو گئی ہو گی!
شکیب جلالی

بن گئے پربت روئی کے گالے، بھرگئے خون سے تال

کچھ مت پُوچھو وقت نے اب کے چلی ہے کیسی چال
بن گئے پربت روئی کے گالے، بھرگئے خون سے تال
کیسی بلندی، کیسی پستی، ایک ہے سب کا حال
سمجھے تھے آکاش جسے، نکلا وہ بھی پاتال
اب میں ہوں اور حدِّ نظر تک ویرانی کی دُھول
اُڑ گئی خوشبو، جَھڑگئے پتّے، رہ گئی خالی ڈال
قریہ قریہ مانگتے پھرنا شبنم کی اک بُوند
سورج کی پونجی ہی کیا ہے پیتل کا اک تھال
آنکھ سے آنسو ٹپکا، یا کوئی تارا ٹوٹا تھا
بستی بستی پھیل گیا کیوں آوازوں کا جال
اپنے ہی سایے کے پیچھے بھاگ رہا ہے کوئی
دشتِ وفا میں پڑ گیا شاید انسانوں کا کال
رات کی شہزادی پر جانے کیا اُفتاد پڑی
کانسی کا ہے طَوق گلے میں سر پر میلی شال
خوشبو کی لپٹیں دیتے ہیں دیکھو میرے ہاتھ
میں نے چھُو کر دیکھ لیے ہیں غم کے خدّو خال
سیپیاں چُنتے ساحل ساحل گھومیں لوگ، شکیبؔ
اشکوں کے موتی چُن کر ہم تو ہو گئے مالا مال
شکیب جلالی

یہ شیشے کی عمارت پتھروں کے نام ہو جائے

قیامت ہے، مرا دل مرکزِ آلام ہو جائے
یہ شیشے کی عمارت پتھروں کے نام ہو جائے
خموشی بول اُٹّھے، ہر نظر پیغام ہو جائے
یہ سنّاٹا اگر حد سے بڑھے، کُہرام ہو جائے
اُدھر مہتاب اونچا ہو ذرا چھت کی منڈیروں سے
اِدھر قربان اس پر آفتابِ شام ہو جائے
ہمیں تو ہر قدم پر کارواں کا ساتھ دینا ہے
جہاں سب ہم سفر چاہیں ، وہیں بِسرام ہو جائے
ستارے مشعلیں لے کر مجھے بھی ڈھونڈنے نکلیں
میں رستہ بھول جاؤں ، جنگلوں میں شام ہو جائے
میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں
خود اپنی چاپ سن کر لرزہ بر اندام ہو جائے
مثال ایسی ہے اس عہدِ خرد کے ہوش مندوں کی
نہ ہو دامن میں ذرّہ، اور صحرا نام ہو جائے
شکیبؔ! اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں ، جو رستہ عام ہو جائے
شکیب جلالی

لے اُڑی جانے کہاں صر صرِ حالات ہمیں

قریہِ دل تھا کبھی شہرِ طلسمات ہمیں
لے اُڑی جانے کہاں صر صرِ حالات ہمیں
آج وہ یوں نگہِ شوق سے بچ کر گزرے
جیسے یاد آئے کوئی بھولی ہوئی بات ہمیں
کیسے اُڑتے ہوئے لمحوں کا تعاقب کیجیے
دوستو! اب تو یہی فکر ہے دن رات ہمیں
نہ سہی کوئی ہجومِ گل و لالہ نہ سہی
دشت سے کم بھی نہیں کُنجِ خیالات ہمیں
دھوپ کی لہر ہے تُو، سایہِ دیوار ہیں ہم
آج بھی ایک تعلق ہے ترے ساتھ ہمیں
وہ اگر غیر نہ سمجھے تو کوئی بات کریں
دلِ ناداں سے بہت سی ہیں شکایات ہمیں
رنگ و مستی کے جزیروں میں لیے پھرتے ہیں
اس کی پایل سے چرائے ہوئے نغمات ہمیں
شکیب جلالی

تیرگی کے دَشت میں روشنی کی جھیل ہے

شہرِ دِل کے گرد و پیش، رات کی فصیل ہے
تیرگی کے دَشت میں روشنی کی جھیل ہے
کٹ چکی ہے راہِ شب، ہم نہ رُک سکیں گے اب
نغمہِ سَحر ہمیں نالہِ رحیل ہے
زندگی سے بھاگ کر جائے بھی کہاں بشر
خود ہی منزلِ مراد، خود ہی سنگِ میل ہے
ساحلِ نشاط کے بُجھ چکے ہیں سب دیے
دردِ دل کی ایک لہر، ہم کو رودِ نیل ہے
گمرہی ہمیں ، شکیبؔ! دے رہی یہ فریب
رہ نما غلط نہیں، راستہ طویل ہے
شکیب جلالی

مجھ کو ملا جَہاں سے یہ انعامِ آگہی

سینہ ہے زَخم زخم تو ہونٹوں پہ خامشی
مجھ کو ملا جَہاں سے یہ انعامِ آگہی
بے نغمہ و صدا ہے وہ بُت خانہِ خیال
کرتے تھے گفتگو جہاں پتھر کے ہونٹ بھی
اِک تارہ ٹوٹ کر، یمِ گردوں میں کھو گیا
اک چیخ، کائنات کے دل میں اتر گئی
کتنے ہی چاند تھے اُفقِ دل پہ جلوہ گر
یادوں سے جن کی آج بھی چھنتی ہے روشنی
کیا کیا نہ یاد آئے ہیں احساں بہار کے
جب دیکھتا ہوں کشتِ غمِ دل ہری بھری
تنہائیوں کے ساز پہ بجتا ہے دیپ راگ
جس دم ہواے شب سے سُلگتی ہے چاندنی
شا خو ! بھری بہار میں رقصِ برہنگی!
مہکی ہوئی وہ چادرِ گُل بار کیا ہوئی!
وہ پھر رہے ہیں زخم بپا آج دشت دشت
قدموں میں جن کے شاخِ گلِ تر جُھکی رہی
یوں بھی بڑھی ہے وسعتِ ایوانِ رنگ و بُو
دیوارِ گلستاں درِ زنداں سے جا ملی
رعنائیاں چمن کی تو پہلے بھی کم نہ تھیں
اب کے مگر، سجائی گئی شاخِ دار بھی
(۱ سے ۵ اشعار’روشنی اے روشنی، میں
شامل ہیں یہاں مکمل غزل قارئین کی نذر ہے)
شکیب جلالی

رہِ حرم نہ سہی یہ تری گلی بھی نہیں

سُکوں نہیں ہے، مگر اب وہ بے کلی بھی نہیں
رہِ حرم نہ سہی یہ تری گلی بھی نہیں
ہَواے شہر سے کیوں آئے بُوے رُسوائی
کہ موجِ راز کبھی ناز سے چلی بھی نہیں
ابھی کہاں شبِ وعدہ کے سرمئی آثار
ابھی تو دھوپ درِ یار سے ڈھلی بھی نہیں
ہم اپنی روشنیِ دل پہ کیوں نہ نازاں ہوں
کہ شمعِ درد، دلِ غیر میں جَلی بھی نہیں
نگاہِ رنگ کے جادو پہ مرمٹے لیکن
گُلِ حیات فقط رنگ کی ڈلی بھی نہیں
شکیب جلالی

اُبھریں گے کیا کہ ڈُوبے ہیں سنگِ گراں کے ساتھ

زعمِ وفا بھی ہے ہمیں ، عشقِ بُتاں کے ساتھ
اُبھریں گے کیا کہ ڈُوبے ہیں سنگِ گراں کے ساتھ
تنہائیوں کے کیف سے نا آشنا نہیں
وابستگی ضرور ہے بزمِ جہاں کے ساتھ
اے چشم تر! سفینہِ دل کی تھی کیا بساط
ساحل نشیں بھی بہ گئے سیلِ رواں کے ساتھ
اُن ساعتوں کی یاد سے مہکا ہوا ہے دل
گزری تھیں جو کسی نگہِ گُل فشاں کے ساتھ
کہتی ہے جلتی دھوپ کہ منزل سے ذرا دور
جانا پڑے گا سایہِ ابرِ رواں کے ساتھ
تُہمت سُبک رَوی کی بجا ہے مگر، شکیبؔ
اک رَہ روِ علیل بھی ہے کارواں کے ساتھ
شکیب جلالی

اپنا سایہ ہی جا بہ جا دیکھا

روپ نگری میں ہم نے کیا دیکھا؟
اپنا سایہ ہی جا بہ جا دیکھا
ہم نے گھبرا کے مُوند لیں آنکھیں
جب کوئی تارا ٹوٹتا دیکھا
لالہِ و گُل کی رُونمائی پر
بجلیوں کو چراغ پا دیکھا
اپنی پلکوں سے چُن لیا ہم نے
کوئی کانٹا اگر پڑا دیکھا
سچ کہو! میری یاد بھی آئی!
جب کبھی تم نے آئنہ دیکھا
شاخ پر، دل گرفتہ پھول ملے
آشیانہ قَفَس نما دیکھا
کہکشاں کے دیے بجھے پائے
چاندنی کو ملول سا دیکھا
اپنا حق بھی نہ ان سے مانگ سکے
کوئی ہم سا بھی کم نوا دیکھا!
رہ گزاروں نے آنکھ جب کھولی
زندگی کو بگولہ پا دیکھا
ماہ پاروں کے جھرمٹوں میں ، شکیبؔ
آج تم کو غزل سرا دیکھا
شکیب جلالی

آؤ کاغذ کی ناؤ تیرائیں

دوستی کا فریب ہی کھائیں
آؤ کاغذ کی ناؤ تیرائیں
ہم اگر رَہ رَوی کا عزم کریں
منزلیں کِھنچ کے خود چلی آئیں
ہم کو آمادہِ سفر نہ کرو
راستے پُرخطر نہ ہو جائیں
ہم سفر رہ گئے بہت پیچھے
آؤ کچھ دیر کو ٹھہر جائیں
مُطربہ! ایسا گیت چھیڑ کہ ہم
زندگی کے قریب ہو جائیں
ان بہاروں کی آبرو رکھ لو
مسکراؤ کہ پھول کھِل جائیں
گیسوئے زیست کے یہ اُلجھاؤ
آؤ مِل کر شکیبؔ، سلجھائیں
شکیب جلالی

نغموں کی خیرات نہ بانٹو، جنم جنم کے بہروں میں

خاموشی کے دُکھ جھیلو گے! ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو، جنم جنم کے بہروں میں
میں تو بھٹکا ہُوا راہی ہوں ، اِن پر جانے کیا بیتی
پارے جیسی بے چینی ہے، آبِ رواں کی لہروں میں
کارِ جنوں پر ہنسنے والے! تیرے بس کا روگ نہیں
صحرا صحرا پیاسے پھرنا، تپتی ہوئی دوپہروں میں
عالمِ یاس میں جینا ممکن اور نہ مرنا آساں ہے
اس سے کڑوا زہر نہیں ہے، دنیا بھر کے زہروں میں
دَرد کے، حد سے بڑھنے تک ہے آنکھوں کی یہ شادابی
دیکھنا اِک دن خاک اُڑے گی اشکِ رواں کی نہروں میں
شکیب جلالی

جو کچھ تھا دل میں ، آگیا باہر، کہے بغیر

خوشبو اڑی ہے بات کی، اکثر کہے بغیر
جو کچھ تھا دل میں ، آگیا باہر، کہے بغیر
مجھ کو کنویں میں ڈال گئے جو، فریب سے
میں رہ سکا نہ ان کو برادر کہے بغیر
پارَکھ تو میں بڑا ہوں، مگر کیا چلے گا کام
اِک ایک سنگ و خِشت کو گوہر کہے بغیر
دُھل بھی گئی جبیں سے اگر خون کی لکیر
یہ داستاں ، رہے گا نہ، پتھر کہے بغیر
ہر چند، مانگتا ہوں ، بس اک بُوند زہر کی
ملتی نہیں ، کسی کو سمندر کہے بغیر
اُبھری ہوا میں لہر تو پھیلے گی دور تک
بہتر یہی ہے بات ادا کر، کہے بغیر
یہ اور بات ہے کوئی دستک نہ سن سکے
آتی نہیں ہے موت بھی، اندر، کہے بغیر
کتنی بلندیاں ہیں ، شکیبؔ، انکسار میں
اونچا میں ہو گیا اسے کم تر کہے بغیر
شکیب جلالی

صبا بھی پُوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا

ہُوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پُوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا
کہو تو زخمِ رگِ گُل کا تذکرہ چھیڑیں
کہ زیرِ بحث ہے کردار آج کانٹوں کا
ہم اپنے چاکِ قبا کو رفُو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج، کانٹوں کا
چمن سے اُٹھ گئی رسمِ بہار ہی شاید
کہ دل پہ بار نہیں ہے، رواج کانٹوں کا
درِ قفس پہ، اُسی کے گلے کا ہار تھے پُھول
جسے مِلا ہے گلستاں سے تاج کانٹوں کا
لگی ہے مُہر خراشوں کی دیدہ و دل پر
شکیبؔ! کوئی کرے کیا عِلاج کانٹوں کا
شکیب جلالی

نکہتِ گل کی شان سے نکلا

حرف جو اس زبان سے نکلا
نکہتِ گل کی شان سے نکلا
اس کے سایے سے کیوں گُریزاں ہو
کام جس مہربان سے نکلا
آینوں کی تراش کر چادر
پتھروں کے جہان سے نکلا
دھیرے دھیرے، شکیبؔ، یاد کا شہر
دُھند کے سایہ بان سے نکلا
شکیب جلالی

لہُو میں رنگ دیا آج اسے بَبُولوں نے

چُھوا نہ تھا کبھی جس پیرہن کو پھولوں نے
لہُو میں رنگ دیا آج اسے بَبُولوں نے
سنا تھا دشتِ اَلَم سے گزرنا مشکل ہے
ہمیں نہ روک لیا ناچتے بگولوں نے!
قفس نشینوں کو جا کر صبا بتا دینا
تمھیں سلام کہا ہے مہکتے پھولوں نے
برنگِ طائرِ بے دام، اڑتے پھرتے تھے
ہمیں اسیر کیا اپنے ہی اُصولوں نے
شکیبؔ! زہرِ ہلاہل بھی پی لیا ہنس کر
ہمیں سبق وہ دیا عشق کے رسولوں نے
شکیب جلالی

دیوانے شہرِ سرو و سَمن چھوڑ آئے ہیں

جنگل میں پھر رہے ہیں ، چمن چھوڑ آئے ہیں
دیوانے شہرِ سرو و سَمن چھوڑ آئے ہیں
اس کا علاج کر نہ سکے گی کبھی بہار
پھولوں میں چٹکیوں کی دُکھن چھوڑ آئے ہیں
چبھتی ہیں ان کی رُوح میں پھانسیں بہار کی
جو لوگ فصلِ گل میں چمن چھوڑ آئے ہیں
زنداں سے ساتھ لائے ہیں زنجیرِ خامشی
دیوانے رسمِ دار و رسن چھوڑ آئے ہیں
اے اجنبی دیار! محبت کی اک نگاہ!
ہم خانماں خراب وطن چھوڑ آئے ہیں
کچھ تم نے چُن لیے ہیں ہمارے طریقِ زیست
کچھ ہم خصوصیاتِ کُہن چھوڑ آئے ہیں
کاش ان کی جستجو کو اُٹھیں کاروانِ نو
کچھ نقشِ پا شہیدِ وطن چھوڑ آئے ہیں
خوابوں کی دیویوں نے بلایا ہے جب، شکیبؔ
ہم دو جہاں بچشمِ زَدَن چھوڑ آئے ہیں
شکیب جلالی

چراغ بن کے تری رہ گزر میں جلتے ہیں

جو اشکِ خوں مری پلکوں سے بہ نکلتے ہیں
چراغ بن کے تری رہ گزر میں جلتے ہیں
شبِ بہار میں مہتاب کے حَسیں سایے
اداس پآ کے مجھے، اور بھی مچلتے ہیں
اسیرِ دامِ جنوں ہوں، مجھے رہائی کہاں
یہ رنگ و بُو کے قفس میرے ساتھ چلتے ہیں
وہ شمعِ رُو کا شبستاں، یہ بزمِ ہجراں ہے
’’وہاں چراغ، یہاں دل کے داغ جلتے ہیں،،
پرائی آگ سے شاید گداز ہو جائیں
خود اپنی آگ سے کب سنگ دل پگھلتے ہیں
یہ دل، وہ کارگہِ مرگ و زیست ہے کہ جہاں
ستارے ڈوبتے ہیں، آفتاب ڈھلتے ہیں
شکیبؔ! حُسنِ سماعت ہے آپ کا ورنہ
دلِ شکستہ سے نغمے کہاں اُبلتے ہیں
شکیب جلالی

ہر سُو کھڑی تھی پانی کی دیوار، یاد ہے

جب چُھٹ گئے تھے ہاتھ سے پتوار، یاد ہے
ہر سُو کھڑی تھی پانی کی دیوار، یاد ہے
پھر پھول توڑنے کو بڑھاتے ہو اپنا ہاتھ
وہ ڈالیوں میں سانپ کی پُھنکار یاد ہے!
وہ بے وفا کہ جس کو بھلانے کے واسطے
خود سے رہا ہوں برسرِپیکار، یاد ہے
اب کون ہے جو وقت کو زنجیر کر سکے
سایوں سے، ڈھلتی دھوپ کی تکرار یاد ہے
چاہا نہیں کسی کو، اسے چاہنے کے بعد
اپنی نگاہ کا مجھے معیار یاد ہے
باقی نہیں بیاض میں ہونٹوں کی سُرخ چھاپ
لیکن مجھے یہ تحفہِ دل دار یاد ہے
شکیب جلالی

زخموں کو اب گِنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے

جاتی ہے دھوپ اُجلے پروں کو سمیٹ کے
زخموں کو اب گِنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے
میں ہاتھ کی لکیریں مٹانے پہ ہوں بضد
گو جانتا ہوں ، نقش نہیں یہ سلیٹ کے
دنیا کو کچھ خبر نہیں ، کیا حادثہ ہوا
پھینکا تھا اس نے سنگ، گُلوں میں لپیٹ کے
فوّارے کی طرح نہ اُگل دے ہر ایک بات
کم کم وہ بولتے ہیں جو گہرے ہیں پیٹ کے
اک نُقرئی کھنک کے سِوا کیا ملا، شکیبؔ
ٹکڑے یہ مجھ سے کہتے ہیں ٹوٹی پلیٹ کے
شکیب جلالی

وہ لوگ جن کے سینے میں اک گھاؤ بھی نہیں

تم ان کی محفلوں میں کبھی جاؤ بھی نہیں
وہ لوگ جن کے سینے میں اک گھاؤ بھی نہیں
بارانِ برگِ گُل کہاں اپنے نصیب میں
اب رَہ روانِ شوق پہ پتھراؤ بھی نہیں
یہ کالی رات، گہرا سمندر، ہوا کا زور
اور میرے پاس ٹوٹی ہوئی ناؤ بھی نہیں
تم آدمی ہو، کوئی فرشتہ نہیں ، شکیبؔ!
اس درجہ جرمِ عشق پہ شرماؤ بھی نہیں
شکیب جلالی

جس آدمی کے دوش پہ اپنی صلیب ہے

تائید زندگی کی اُسی کو نصیب ہے
جس آدمی کے دوش پہ اپنی صلیب ہے
مڑ مڑ کے دیکھتے ہو چراغانِ نقشِ پا
یہ بھی خبر ہے! آمدِ طوفاں قریب ہے
ہر تازہ انکشاف لیے ہے ہزار بھید
یا رب ترے جہاں کی پہیلی عجیب ہے
مُڈبھیڑ ہو گئی ترے کوچے میں آج بھی
پونم کا چاند میرا پرانا رقیب ہے
پھر کیا ہے، میں جو ڈر گیا پتّوں کے شور سے
سُنسان جنگلوں کا سفر ہی مُہیب ہے
رکھنا چھپا کے درہم و دینارِ داغِ دل
یاں پر کسی کسی کو یہ دولت نصیب ہے
اس کو حُدودِ باغ سے باہر نہ پھینکیے
یہ برگِ زرد موسمِ گل کا نقیب ہے
اک سر پھرے کی رائے خریدی نہ جا سکی
دولت سرائے دہر بھی کتنی غریب ہے
آنکھوں کے آئنوں میں چمک آ گئی، شکیبؔ
شاید طلوعِ شعر کی ساعت قریب ہے
شکیب جلالی

یہ بھی سُن لو حق کی آخر جیت ہی ہو گی، ہار نہیں

پتّھر مارو، دَار پہ کھینچو، مَرنے سے انکار نہیں
یہ بھی سُن لو حق کی آخر جیت ہی ہو گی، ہار نہیں
اپنے خونِ جگر سے ہَم نے کُچھ ایسی گُل کاری کی
سب نے کہا یہ تختہِ گُل ہے، زِنداں کی دیوار نہیں
سُوکھی بیلیں، داغی کلیاں، زخمی تارے، روگی چاند
ایک ہی سب کا حال ہے یارو، کون یہاں بیمار نہیں
اَب بھی اثر ہے فصلِ خزاں کا، باغ کے بُوٹے بُوٹے پر
دیکھو تو بے رنگ ہیں کلیاں ، سونگھو تو مہکار نہیں
باغ کا نقشہ بدلو یا پھر چھین لو ہم سے تابِ نظر!
سب کچھ دیکھیں ، کچھ نہ کہیں ہم !اس کے لیے تیار نہیں
طوفاں طوفاں گھوم چکے ہم ساحل ساحل دیکھ آئے
مرنا جینا کھیل ہے یارو، کھیل کوئی دشوار نہیں
زلزلو جاگو، آندھیو آؤ، آج اپنی سی کر دیکھو
کوہِ گراں ہیں اپنی جگہ پر، ریت کی ہم دیوار نہیں
شکیب جلالی

جس دم پانی سر سے گزرا آپ کہیں کھو جاؤ گے

پیار ہے بھید کا گہرا ساگر، اس کی تھاہ نہ پاؤ گے
جس دم پانی سر سے گزرا آپ کہیں کھو جاؤ گے
دھوپ بُری ہے او ر نہ چھاؤں، سمے سمے کی ساری بات
رَنگوں کے اس کھیل سے کب تک اپنی جان چُراؤ گے
جیتی جاگتی تصویریں ہیں دنیا بھر کی آنکھوں میں
اپنا آپ جہاں بھی دیکھا، سِمٹو گے شرماؤ گے
اتنا ہی بوجھل خاک کا بندھن، جتنی سُندر دھیان کی ڈور
پاؤں زمیں سے لگے رہیں گے، اونچا اڑتے جاؤ گے
بچھڑے لمحے راہ نہ بھولیں رات کے سُونے آنگن کی
خود ہی کریدو گے زخموں کو، خود ہی انھیں سہلاؤ گے
پاگل پن میں مَن کا موتی سستے داموں بیچ دیا
اب کنکر پتھر چُن چُن کر اپنا جی بہلاؤ گے
اس کے چَرَن کی خاک ہی چُھو لو، ہوش نہ ہو گا اتنا بھی
آنکھوں سے حسرت ٹپکے گی، دور کھڑے للچاؤ گے
شانت نگر کا کھوج لگا کر یہ دُکھ بھی سہنا ہو گا
جانے پہچانے لوگوں میں پردیسی کہلاؤ گے
شکیب جلالی

خامشی میں پیام ہوتے ہیں

بے زباں ہم کلام ہوتے ہیں
خامشی میں پیام ہوتے ہیں
راز داں مل کے لوٹ لیتے ہیں
اجنبیوں کے نام ہوتے ہیں
خار مے نوش ہیں کسے معلوم
آبلے مثلِ جام ہوتے ہیں
دل کی آواز کوئی سُن لیتا
صاحبِ گوش، عام ہوتے ہیں
اٹھ رہے ہیں غلاف پلکوں کے
حادثے بے نیام ہوتے ہیں
زیست میں زہر گھولنے والے
کس قدر خوش کلام ہوتے ہیں
مُسکرا کر نگاہ ڈوب گئی
اس طرح بھی سلام ہوتے ہیں
کس قدر خود نظر ہیں دیوانے
اجنبی بن کے عام ہوتے ہیں
شکیب جلالی