admin کی تمام پوسٹیں

یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 18
تیرے جور و ستم اُٹھائیں ہم
یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
جی میں ہے اب وہاں نہ جائیں ہم
دل کی طاقت بھی آزمائیں ہم
نالے کرتے نہیں یہ الفت میں
باندھتے ہیں تری ہوائیں ہم
اب لب یار کیا ترے ہوتے
لب ساغر کو منہ لگائیں ہم
دل میں تم، دل ہے سینہ سے خود گم
کوئی پوچھے تو کیا بتائیں ہم
آب شمشیر یار اگر مل جائے
اپنے دل کی لگی بجھائیں ہم
اب جو منہ موڑیں بندگی سے تری
اے بت اپنے خدا سے پائیں ہم
زندگی میں ہے موت کا کھٹکا
قصر کیا مقبرہ بنائیں ہم
توبۂ مے سے کیا پشیماں ہیں
زاہد و دیکھ کر گھٹائیں ہم
دل میں ہے مثل ہیزم و آتش
جو گھٹائے اُسے بڑھائیں ہم
زار سے زار ہیں جہاں میں امیر
دل ہی بیٹھے جو لطف اٹھائیں ہم
امیر مینائی

تب ہم نہ رہے وفا کے قابل

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 17
جب یار ہوا جفا کے قابل
تب ہم نہ رہے وفا کے قابل
ہے خوف سے سارے تن میں رعشہ
اب ہاتھ کہاں دعا کے قابل
آئے مجھے دیکھنے اطبّا
جب میں نہ رہا دوا کے قابل
بولے مرے دل پہ پیس کر دانت
یہ دانہ ہے آسیا کے قابل
کلفت سے امیر صاف کر دل
یہ آئینہ ہے جلا کے قابل
امیر مینائی

ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 16
جادۂ راہِ عدم ہے رہِ کاشانۂ عشق
ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق
مرکزِ خاک ہے دُردِ تہِ پیمانۂ عشق
آسماں ظرف بر آوردۂ میخانۂ عشق
کم بلندی میں نہیں عرش سے کاشانۂ عشق
دونوں عالم ہیں دو مصراع درِ خانۂ عشق
ہے جو واللیل سرا پردۂ کاشانۂ عشق
سورۂ شمس ہے قندیل درِ خانۂ عشق
دل مرا شیشہ ہے آنکھیں مری پیمانۂ عشق
جسم با جوشِ محبت سے ہے میخانۂ عشق
ہم تھے اور پیشِ نظر جلوۂ مستانۂ عشق
جس زمانے میں نہ محرم تھا نہ بیگانہ عشق
ہم وہ فرہاد تھے کاٹا نئی صورت سے پہاڑ
حسن کا گنج لیا کھود کے ویرانۂ عشق
کچھ گرہ میں نہیں گرمی کے سوا مثلِ سپند
برگ و بر دود و شرر ہوں جو اُگے دانۂ عشق
عین مستی میں ملے ہیں مجھے گوشِ شنوا
سن رہا ہوں میں صدائے لبِ پیمانۂ عشق
آ رہے باغِ جناں سے جو زمیں پر آدم
فی الحقیقت تھی وہ اِک لغزشِ مستانۂ عشق
معتقد کون نہیں کون نہیں اس کا مرید
پیر ہفتاد و دو ملت کا ہے دیوانۂ عشق
دل نے تسبیح بنا کر وہ کئے زیبِ گُلو
ہاتھ آئے جو کوئی گوہرِ یک دانۂ عشق
زلفِ معشوق نہ گھٹ جائے ادب کا ہے مقام
بڑھ چلیں اتنے نہ موئے سرِ دیوانۂ عشق
سننے والوں کے یہ ڈر ہے نہ جلیں پردۂ گوش
کیا سناؤں کہ بہت گر ہے افسانۂ عشق
خاکِ درکار ہے وہ لوثِ خطا سے جو ہو پاک
ورنہ ہر خاک سے اگتا ہے کوئی دانۂ عشق
کہتے ہیں مرگِ جوانی جسے سب اہلِ جہاں
اپنے نزدیک ہے وہ بازیِ طفلانۂ عشق
آہ! عاشق سے ہوئی غفلتِ معشوق نہ کم
خواب تھا حسنِ فسوں ساز کو افسانۂ عشق
بختِ برگشتہ ہوں تب بھی نہیں جاتا یہ مزہ
نہ گرے بادہ جو واژوں بھی ہو پیمانۂ عشق
طور پر کہتی ہے یہ شمع تجلّی کی زباں
سرمۂ حسن ہے خاکسترِ پروانۂ عشق
طالبِ درد ہے اس درجہ مرا طائرِ دل
ٹوٹ پڑتا ہے یہ جس دام میں ہو دانۂ عشق
ہوں وہ دیوانہ کہ قدموں سے لگا ہے مرے حسن
ہے مرے پانوں میں زنجیر پری خانۂ عشق
مر کے دے روح کو میری یہ الٰہی قدرت
ہنس بن بن کے چُگے گوہرِ یک دانۂ عشق
کیا فلاطوں کو ہے نسبت ترے دیوانے سے
آشنا ہے یہ محبت کا وہ بے گانۂ عشق
ہم تھے اور چہرۂ محبوب کا نظّارہ امیر
شعلۂ حسن تھا جس روز نہ پروانۂ عشق
امیر مینائی

جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 15
یوں دل مرا ہے اُس صنمِ دلرُبا کے پاس
جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس
بولا وہ بُت سرہانے مرے آ کے وقتِ نزع
فریاد کو ہماری چلے ہو خدا کے پاس؟
توفیق اتنی دے مجھے افلاس میں خدا
حاجت نہ لے کے جاؤں کبھی اغنیا کے پاس
رہتے ہیں ہاتھ باندھے ہوئے گلرخانِ دہر
یارب ہے کس بلا کا فسوں اس حنا کے پاس
پیچھے پڑا ہے افعیِ گیسو کے دل ، امیر
جاتا ہے دوڑ دوڑ کے یہ خود قضا کے پاس
امیر مینائی

دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 14
کیا قصد جب کچھ کہوں اُن کو جل کر
دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
گرا میں ضعیف اُس کے کوچے کو چل کر
زمیں رحم کر تو ہی پہنچا دے ٹل کر
نئی سیر دیکھو سوئے قاف چل کر
سرِ راہ بیٹھی ہیں پریاں نکل کر
اِدھر کی نہ ہو جائے دنیا اُدھر کو
زمانے کو بدلو نہ آنکھیں بدل کر
وہ کرتے ہیں باتیں عجب چکنی چکنی
یہ مطلب کہ چوپٹ ہو کوئی پھسل کر
وہ مضطر ہوں، میں کیا مرے ساتھ گھڑیوں
تڑپتا ہے سایہ بھی کروٹ بدل کر
یہ کہتی ہے وہ زلف عمر خضر سے
کہ مجھ سے کہاں جائے گی تو نکل کر
گلستاں نہیں ہے یہ بزم سخن ہے
کہو شاعروں سے کہ پھولیں نہ پھل کر
غضب اوج پر ہے مری بے قراری
زمین آسماں بن گئی ہے اُچھل کر
پڑا تیر دل پر جو منہ تو نے پھیرا
نشانہ اُڑایا ہے کیا رخ بدل کر
نہ آئیں گے وہ آج کی شب بھی شاید
کہ تارے چھپے پھر فلک پر نکل کر
چلو وحشیو بزم گلزار مہکے
گل آئے ہیں پوشاک میں عطر مل کر
چھپا کب ، بہت خاک ظالم نے ڈالی
شفق بن گیا خون میرا اُچھل کر
کمر بال سی ہے ، نہ لچکے یہ ڈر ہے
جوانی پر اے ترک اتنا نہ بل کر
حضور اس کی باتیں جو کیں ڈرتے ڈرتے
کھڑا ہو رہا دور مطلب نکل کر
چھپے حرف گیری سے سب عیب میرے
ہوئی پردہ ہر بات میں تہ نکل کر
وہ ہوں لالہ ساں سوختہ بخت میکش
کہ مے ہو گئی داغ ساغر میں جل کر
کہے شعر امیر اُس کمر کے ہزاروں
مگر رہ گئے کتنے پہلو نکل کر
امیر مینائی

گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 13
ایک ہے میرے حضر اور سفر کی صورت
گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت
چشمِ عشاق سے پنہاں ہو نظر کی صورت
وصل سے جان چراتے ہو کمر کی صورت
ہوں وہ بلبل کہ جو صیاد نے کاٹے مرے پر
گر گئے پھول ہر اک شاخ سے پر کی صورت
تیرے چہرے کی ملاحت جو فلک نے دیکھی
پھٹ گیا مہر سے دل شیرِ سحر کی صورت
جھانک کر روزنِ دیوار سے وہ تو بھاگے
رہ گیا کھول کے آغوش میں در کی صورت
تیغ گردن پہ کہ ہے سنگ پر آہیں دمِ ذبح
خون کے قطرے نکلتے ہیں شرر کی صورت
کون کہتا ہے ملے خاک میں آنسو میرے
چھپ رہی گرد یتیمی میں گہر کی صورت
نہیں آتا ہے نظر، المدد اے خضر اجل
جادۂ راہِ عدم موئے کمر کی صورت
پڑ گئیں کچھ جو مرے گرم لہو کی چھینٹیں
اڑ گئی جوہرِ شمشیر شرر کی صورت
قبر ہی وادیِ غربت میں بنے گی اک دن
اور کوئی نظر آتی نہیں گھر کی صورت
خشک سیروں تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے
تب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت
آفت آغازِ جوانی ہی میں آئی مجھ پر
بجھ گیا شام سے دل شمعِ سحر کی صورت
جلوہ گر بام پہ وہ مہرِ لقا ہے شاید
آج خورشید سے ملتی ہے قمر کی کی صورت
دہنِ یار کی توصیف کڑی منزل ہے
چست مضمون کی بندش ہو کمر کی صورت
نو بہارِ چمنِ غم ہے عجب روز افزوں
بڑھتی جاتی ہے گرہ دل کی ثمر کی صورت
ہوں بگولے کی طرح سے میں سراپا گردش
رات دن پاؤں بھی چکر میں ہیں سر کی صورت
امیر مینائی

سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 12
ایک دلِ ہمدم، مرے پہلو سے، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے، جوانی کیا گئی
وہ اُمنگیں مِٹ گئیں، وہ ولوَلا جاتا رہا
درد باقی، غم سلامت ہے، مگر اب دل کہاں
ہائے وہ غم دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا
آنے والا، جانے والا، بیکسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم، غریب آتا رہا جاتا رہا
آنکھ کیا ہے، موہنی ہے، سحر ہے، اعجاز ہے
اک نگاہِ لطف میں سارا گِلا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ، دل تھا شکووں سے بھرا
تم گَلے سے مِل گئے، سارا گلا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا، امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 11
ایک دل ہم دم مرے پہلو سے کیا جاتا رہا
سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے ، جوانی کیا گئی
وہ امنگیں مٹ گئیں وہ ولولہ جاتا رہا
آنے والا جانے والا، بے کسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم غریب، آتا رہا جاتا رہا
مرگیا میں جب ، تو ظالم نے کہا کہ افسوس آج
ہائے ظالم ہائے ظالم کا مزہ جاتا رہا
شربت دیدار سے تسکین سی کچھ ہو گئی
دیکھ لینے سے دوا کے ، درد کیا جاتا رہا
مجھ کو گلیوں میں جو دیکھا ، چھیڑ کر کہنے لگے
کیوں میاں کیا ڈھونڈتے پھرتے ہو، کیا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ دل تھا شکووں سے بھرا
جب گلے سے مل گئے، سارا گلہ جاتا رہا
ہائے وہ صبحِ شبِ وصل، ان کا کہنا شرم سے
اب تو میری بے وفائی کا گلہ جاتا رہا
دل وہی آنکھیں وہی، لیکن جوانی وہ کہاں
ہائے اب وہ تاکنا وہ جھانکنا جاتا رہا
گھورتے دیکھا جو ہم چشموں کو جھنجھلا کر کہا
کیا لحاظ آنکھوں کا بھی او بے حیا جاتا رہا
کیا بری شے ہے جوانی رات دن ہے تاک جھانک
ڈر توں کا ایک طرف ، خوف خدا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
امیر مینائی

ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 10
وہ کون تھا جو خرابات میں خراب نہ تھا
ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا
شبِ فراق میں کیوں یارب انقلاب نہ تھا
یہ آسمان نہ تھا یا یہ آفتاب نہ تھا
لحاظ ہم سے نہ قاتل کا ہو سکا دمِ قتل
سنبھل سنبھل کے تڑپتے وہ اضطراب نہ تھا
اُسے جو شوقِ سزا ہے مجھے ضرور ہے جرم
کہ کوئی یہ نہ کہے قابلِ عذاب نہ تھا
شکایت اُن سے کوئی گالیوں کی کیا کرتا
کسی کا نام کسی کی طرف خطاب نہ تھا
نہ پوچھ عیش جوانی کا ہم سے پیری میں
ملی تھی خواب میں وہ سلطنت شباب نہ تھا
دماغ بحث تھا کس کو وگر نہ اے ناصح
دہن نہ تھا کہ دہن میں مرے جواب نہ تھا
وہ کہتے ہیں شبِ وعدہ میں کس کے پاس آنا
تجھے تو ہوش ہی اے خانماں خراب نہ تھا
ہزار بار گلا رکھ دیا تہِ شمشیر
میں کیا کروں تری قسمت ہی میں ثواب نہ تھا
فلک نے افسرِ خورشید سر پہ کیوں رکھا
سبوئے بادہ نہ تھا ساغرِ شراب نہ تھا
غرض یہ ہے کہ ہو عیش تمام باعث مرگ
وگرنہ میں کبھی قابلِ خطاب نہ تھا
سوال وصل کیا یا سوال قتل کیا
وہاں نہیں کے سوا دوسرا جواب نہ تھا
ذرا سے صدمے کی تاب اب نہیں وہی ہم میں
کہ ٹکڑے ٹکڑے تھا دل اور اضطراب نہ تھا
کلیم شکر کرو حشر تک نہ ہوش آتا
ہوئی یہ خیر کہ وہ شوق بے نقاب نہ تھا
یہ بار بار جو کرتا تھا ذکر مے واعظ
پئے ہوئے تو کہیں خانماں خراب نہ تھا
امیر اب ہیں یہ باتیں جب اُٹھ گیا وہ شوخ
حضور یار کے منہ میں ترے جواب نہ تھا
امیر مینائی

تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 9
کہا جو میں نے کہ یوسف کو یہ حجاب نہ تھا
تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا
شب وصال بھی وہ شوخ بے حجاب نہ تھا
نقاب اُلٹ کے بھی دیکھا تو بے نقاب نہ تھا
لپٹ کے چوم لیا منہ، مٹا دیا انکار
نہیں کا اُن کے سوا اس کے کچھ جواب نہ تھا
مرے جنازے پہ اب آتے شرم آتی ہے
حلال کرنے کو بیٹھے تھے جب حجاب نہ تھا
نصیب جاگ اُٹھے سو گئے جو پانوں مرے
تمہارے کوچے سے بہتر مقام خواب نہ تھا
غضب کیا کہ اسے تو نے محتسب توڑا
ارے یہ دل تھا مرا شیشۂ شراب نہ تھا
زمانہ وصل میں لیتا ہے کروٹیں کیا کیا
فراق یار کے دن ایک انقلاب نہ تھا
تمہیں نے قتل کیا ہے مجھے جو تنتے ہو
اکیلے تھے ملک الموت ہم رکاب نہ تھا
دعائے توبہ بھی ہم نے پڑھی تو مے پی کر
مزہ بھی ہم کو کسی شے کا بے شراب نہ تھا
میں روئے یار کا مشتاق ہو کے آیا تھا
ترے جمال کا شیدا تو اے نقاب نہ تھا
بیاں کی جو شبِ غم کی بے کسی، تو کہا
جگر میں درد نہ تھا، دل میں اضطراب نہ تھا
وہ بیٹھے بیٹھے جو دے بیٹھے قتل عام کا حکم
ہنسی تھی اُن کی کسی پر کوئی عتاب نہ تھا
جو لاش بھیجی تھی قاصد کی ، بھیجتے خط بھی
رسید وہ تو مرے خط کی تھی ، جواب نہ تھا
سرور قتل سے تھی ہاتھ پانوں کو جنبش
وہ مجھ پہ وجد کا عالم تھا، اضطراب نہ تھا
ثبات بحر جہاں میں نہیں کسی کو امیر
اِدھر نمود ہوا اور اُدھر حباب نہ تھا
امیر مینائی

آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 8
رو برو آئینے کے، تو جو مری جاں ہو گا
آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا
اے جوانی، یہ ترے دم کے ہیں، سارے جھگڑے
تو نہ ہو گی، تو نہ یہ دل ، نہ یہ ارماں ہو گا
دستِ وحشت تو سلامت ہے، رفو ہونے دو
ایک جھٹکے میں نہ دامن نہ گریباں ہو گا
آگ دل میں جو لگی تھی، وہ بجھائی نہ گئی
اور کیا تجھ سے، پھر اے دیدۂ گریاں ہو گا
اپنے مرنے کا تو کچھ غم نہیں، یہ غم ہے، امیر
چارہ گر مفت میں بیچارہ پشیماں ہو گا
امیر مینائی

عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 7
میری تربت پر اگر آئیے گا
عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا
سب کی نظروں پہ نہ چڑھیے اتنا
دیکھیے دل سے اُتر جائیے گا
آئیے نزع میں بالیں پہ مری
کوئی دم بیٹھ کے اُٹھ جائیے گا
وصل میں بوسۂ لب دے کے کہا
مُنہ سے کچھ اور نہ فرمائیے گا
ہاتھ میں نے جو بڑھایا تو کہا
بس، بہت پاؤں‌ نہ پھیلائیے گا
زہر کھانے کو کہا، تو، بولے
ہم جلا لیں گے جو مر جائیے گا
حسرتیں نزع میں‌بولیں مُجھ سے
چھوڑ کر ہم کو کہاں جائیے گا
آپ سنیے تو کہانی دل کی
نیند آ جائے گی سو جائیے گا
اتنی گھر جانے کی جلدی کیا ہے؟
بیٹھیے ، جائیے گا، جائیے گا
کہتے ہیں، کہہ تو دیا، آئیں گے
اب یہ کیا چِڑ ہے کہ کب آئیے گا
ڈبڈبائے مرے آنسو تو کہا
روئیے گا تو ہنسے جائیے گا
رات اپنی ہے ٹھہرئیے تو ذرا
آئیے بیٹھئے، گھر جائیے گا
جس طرح عمر گزرتی ہے امیر
آپ بھی یونہی گزر جائیے گا
امیر مینائی

ذرا سی بات میں ہوتا ہے فیصلہ دل کا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 6
اُٹھو گلے سے لگا لو، مٹے گلہ دل کا
ذرا سی بات میں ہوتا ہے فیصلہ دل کا
دم آ کے آنکھوں میں اٹکے تو کچھ نہیں کھٹکا
اٹک نہ جائے الٰہی معاملہ دل کا
تمہارے غمزوں نے کھوئے ہیں ہوش و صبر و قرار
انہیں لٹیروں نے لوٹا ہے قافلہ دل کا
خدا ہی ہے جو کڑی چتونوں سے جان بچے
ہے آج دل شکنوں سے مقابلہ دل کا
امیر بھُول بھُلیاں ہے کوچۂ گیسو
تباہ کیوں نہ پھرے اس میں قافلہ دل کا
امیر مینائی

حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 5
دامنوں کا نہ پتہ ہے نہ گریبانوں کا
حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا
گھر ہے اللہ کا گھر بے سر و سامانوں کا
پاسبانوں کا یہاں کام نہ دربانوں کا
گور کسری و فریدوں پہ جو پہنچوں پوچھوں
تم یہاں سوتے ہو کیا حال ہے ایوانوں کا
کیا لکھیں یار کو نامہ کہ نقاہت سے یہاں
فاصلہ خانہ و کاغذ میں ہے میدانوں کا
دل یہ سمجھا جو ترے بالوں کا جوڑ دیکھا
ہے شکنجے میں یہ مجموعہ پریشانیوں کا
موجیں دریا میں جو اٹھتی ہوئی دیکھیں سمجھا
یہ بھی مجمع ہے تیرے چاک گریبانوں کا
تیر پہ تیر لگاتا ہے کماندار فلک
خانہ دل میں ہجوم آج ہے مہمانوں کا
بسملوں کی دم رخصت ہے مدارات ضرور
یار بیڑا تیری تلوار میں ہو پانو ں کا
میرے اعضا نے پھنسایا ہے مجھے عصیاں میں
شکوہ آنکھوں کا کرو یا میں گلہ کانوں کا
قدر داں چاہئے دیوان ہمارا ہے امیر
منتخب مصحفی و میر کے دیوانوں کا
امیر مینائی

مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 4
جب تلک ہست تھے، دشوار تھا پانا تیرا
مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا
نہ جہت تیرے لیئے ہے نہ کوئی جسم ہے تو
چشم ظاہر کو ہے مشکل نظر آنا تیرا
شش جہت چھان چُکے ہم تو کھُلا ہم پہ حال
رگِ گردن سے ہے نزدیک ٹھکانا تیرا
اب تو پیری میں نہیں پوچھنے والا کوئی
کبھی اے حسن جوانی! تھا زمانہ تیرا
اے صدف چاک کرے گا یہی سینہ اک دن
تو یہ سمجھی ہے کہ گوہر ہے یگانا تیرا
دور اگلے شعراء کا تھا کبھی، اور امیرؔ
اب تو ہے ملک معانی میں زمانہ تیرا
امیر مینائی

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 3
ان شوخ حسینوں پہ بھی مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
کچھ وصل کے وعدے سے بھی حاصل نہیں ہوتا
خوش اب تو خوشی سے بھی میرا دل نہیں ہوتا
گردن تن بسمل سے جدا ہو گئی کب سے
گردن سے جدا خنجر قاتل نہیں ہوتا
دنیا میں پری زاد دئیے خلد میں حوریں
بندوں سے وہ اپنے کبھی غافل نہیں ہوتا
دل مجھ سے لیا ہے تو ذرا بولیے ہنسئے
چٹکی میں مسلنے کے لئے دل نہیں ہوتا
عاشق کے بہل جانے سے کو اتنا بھی ہے کافی
غم دل کا تو ہوتا ہے اگر دل نہیں ہوتا
فریاد کروں دل کے ستانے کی اسی سے
راضی مگر اس پر بھی مرا دل نہیں ہوتا
مرنے کے بتوں پر یہ ہوئی مشق کہ مرنا
سب کہتے ہیں مشکل، مجھے مشکل نہیں ہوتا
جس بزم میں وہ رخ سے اٹھا دیتے ہیں پردہ
پروانہ وہاں شمع پہ مائل نہیں ہوتا
کہتے ہیں کہ دل کے تڑپتے ہیں جو عاشق
ہوتا ہے کہاں درد اگر دل نہیں ہوتا
یہ شعر وہ فن ہے کہ امیر اس کو جو برتو
حاصل یہی ہوتا ہے کہ حاصل نہیں ہوتا
آتا ہے جو کچھ منہ میں وہ کہہ جاتا ہے واعظ
اور اُس پہ یہ طرّہ ہے کہ قائل نہیں ہوتا
جب درد محبت میں یہ لذّت ہے تو یارب
ہر عضو میں، ہر جوڑ میں، کیوں دل نہیں ہوتا
دیوانہ ہے، دنیا میں جو دیوانہ نہیں ہے
عاقل وہی ہوتا ہے جو عاقل نہیں ہوتا
تم کو تو میں کہتا نہیں کچھ، حضرتِ ناصح
پر جس کو ہو تک ایسی وہ عاقل نہیں ہوتا
امیر مینائی

یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 2
میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا
وہ سر مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں‌ خمار ہوتا
مرے اتقا کا باعث تو ہے مری ناتوانی
جو میں توبہ توڑ سکتا تو شراب خوار ہوتا
میں ہوں‌ نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا
نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا ہو گلے کا ہار ہوتا
وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب
مرے دونوں پہلوؤں میں دل بیقرار ہوتا
دمِ نزع بھی جو وہ بُت مجھے آ کے منہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا
نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لحد فِشار دیتی
سر راہِ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا
جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا
میں زباں سے تم کو سچا کہوں لاکھ بار کہہ دوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا
مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا
امیر مینائی

تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 1
پرسش کو مری کون مرے گھر نہیں آتا
تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا
تم لاکھ قسم کھاتے ہو ملنے کی عدو سے
ایمان سے کہو دوں مجھے بارو نہیں آتا
ڈرتا ہے کہیں آپ نہ پڑ جائے بلا میں
کوچے میں ترے فتنہ محشر نہیں آتا
جو مجھ پر گزرتی ہے کبھی دیکھ لے ظالم
پھر دیکھوں کے رونا تجھے کیونکر نہیں آتا
کہتے ہیں یہ اچھی ہے تڑپ دل کی تمھارے
سینے سے ٹرپ کر کبھی باہر نہیں آتا
دشمن کو کبھی ہوتی ہے دل پہ مرے رقت
پر دل یہ ترا ہے کہ کبھی بھر نہیں آتا
کب آنکھ اٹھاتا ہوں کہ آتے نہیں تیور
کب یہ بیٹھ کے اٹھتا ہوں کہ چکر نہیں آتا
غربت کدۂ دہر میں صدمے سے ہیں صدمے
اس پر بھی کبھی یاد ہمیں گہر نہیں آتا
ہم جس کی ہوس میں ہیں امیر آپ سے باہر
وہ پردہ نشین گھر سے باہر نہیں آتا
امیر مینائی

گوری سووے سیچ پہ مکھ پر ڈارے کیس ۔ دوہا

گوری سووے سیچ پہ مکھ پر ڈارے کیس

چل خسرو گھر آپنے سانجھ بھئی چوندیس

امیر خسرو

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا ۔ دوہا

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا

آیا کتا، کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

امیر خسرو

خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار ۔ دوہا

خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار

جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا اس پار

امیر خسرو

گوشت کیوں نہ کھایا ۔ دوسخنا

گوشت کیوں نہ کھایا

؎ڈوم کیوں نہ گایا

۔۔۔

؎ڈوم یعنی گانا

جواب: گلا نہ تھا

امیر خسرو

وہ آوے تب شادی ہووے ۔ کہہ مکرنی

وہ آوے تب شادی ہووے

اس بن دوجا اور نہ کوئے

میٹھے لاگیں وا کے بول

اے سکھی ساجن نا سکھی ڈھول

امیر خسرو

ونچی اٹاری پلنگ بچھایو ۔ کہہ مکرنی

ونچی اٹاری پلنگ بچھایو

میں سوئی میرے سر پر آیو

کھل گئی انکھیاں بھئی انند

اے سکھی ساجن نہ سکھی چند ؎

؎چاند

امیر خسرو

سگری رین چھتیں پر راکھا ۔ کہہ مکرنی

سگری رین چھتیں پر راکھا

رنگ روب سب وا کا چاکھا

بھور بھئی جب دیا اتار

اے سکھی ساجن نا سکھی ہار

امیر خسرو

سگری رین موہے سنگ جاگا ۔ کہہ مکرنی

سگری رین موہے سنگ جاگا

بھور بھئی تو بچھڑن لاگا

اس کے بچھڑے پھاٹت ہِیا

اے سکھی ساجن نا سکھی دیا

امیر خسرو

سرپ سلونا سب گن نیکا ۔ کہہ مکرنی

سرپ سلونا سب گن نیکا

وا بن سب جگ لاگے پھیکا

وا کے سر پر ہووے گون

اے سکھی ساجن نا سکھی نون؎

۔۔۔

؎ نون یعنی نمک

امیر خسرو

بن ٹھن کے سنگھار کرے ۔ کہہ مکرنی

بن ٹھن کے سنگھار کرے

دھر منہ ہر منہ پیار کرے

بیار سے موپے دیت ہے جان

اے سکھی ساجن نا سکھی پان

امیر خسرو

انگوں موری لپٹا رہے ۔ کہہ مکرنی

انگوں موری لپٹا رہے

رنگ روپ کا سب رس پئے

میں بھر جنم نہ وا کو چھوڑا

اے سکھی ساجن نا سکھی چوڑا

امیر خسرو

آپ ہلے اور موہے ہلاوے ۔ کہہ مکرنی

آپ ہلے اور موہے ہلاوے

وا کا ہلنا مورے من بھاوے

ہل ہل کے وہ ہوا نسنکھا

اے سکھی ساجن نا سکھی پنکھا

امیر خسرو

یک نار ترور سے اتری ماسوں جنم نہ ہایو ۔ پہیلی

یک نار ترور سے اتری ماسوں جنم نہ ہایو

باپ کا نام جو وا سے پوچھو آدھو نام بتایو

آدھون نام بتایو خسرو کون دیس کی بولی

وا کا نام جو پوچھا میں نے اپنے نام نبولی

جواب: ؟

امیر خسرو

گانٹھ گٹھیلا رنگ رنگیلا ایک پرکھ ہم دیکھا ۔ پہیلی

گانٹھ گٹھیلا رنگ رنگیلا ایک پرکھ ہم دیکھا

مرد استری اس کو رکھیں اس کا کیا کہوں لیکھا

جواب: ؟

امیر خسرو

نر ناری کی جوڑی ڈٹھی جب بولے تب لاگے مٹِھی ۔ پہیلی

نر ناری کی جوڑی ڈٹھی جب بولے تب لاگے مٹِھی

اک نہائے اک تاپن ہارا چل خسرو کر کوچ نقارہ

جواب: نقارہ

امیر خسرو

نر سے پیدا ہووے نار ۔ پہیلی

نر سے پیدا ہووے نار

ہر کوئی اس سے رکھے پیار

ایک زمانہ اس کو کھاوے

خسرو پیٹ میں وہ نہ جاوے

جواب: غصہ

امیر خسرو

لود پھٹکری مردانہ سنگ ۔ پہیلی

لود پھٹکری مردانہ سنگ

ہلدی زیرہ ایک ایک ٹنگ

افیون چنا مرچیں چار

ارد برابر تھوتھا ڈار

جواب:‌ ؟

امیر خسرو

فارسی بولی آئی نا ۔ پہیلی

فارسی بولی آئی نا

ترکی ڈھونڈی پائی نا

ہندی بولوں آر سی آئے

خسرو کہے کوئی نہ بتائے

جواب: آئینہ (آرسی)

امیر خسرو

شیام برن اور دانت انیک لچکت جیسے ناری ۔ پہیلی

شیام برن اور دانت انیک لچکت جیسے ناری

دونوں ہاتھ سے خسرو کھینچے اور یوں کہے میں آ ری

(آ ری یعنی آ رہی)

جواب: آری

امیر خسرو

سی سی کر کے نام بتایا تا میں بیٹھا ایک ۔ پہیلی

سی سی کر کے نام بتایا تا میں بیٹھا ایک

الٹا سیدھا ہر پھر دیکھو وہی ایک کا ایک

جواب: ؟

امیر خسرو

ساون بھادوں بہت چلت ہے ماگھ پوس میں تھوڑی ۔ پہیلی

ساون بھادوں بہت چلت ہے ماگھ پوس میں تھوڑی

امیر خسرو یوں کہتے تو بوجھ پہیلی موری

جواب: موری

امیر خسرو

جل جل چلتا بستا گاؤں بستی میں نا وا کا ٹھاؤں ۔ پہیلی

جل جل چلتا بستا گاؤں بستی میں نا وا کا ٹھاؤں

خسرو نے دیا وا کا ناؤں بوجھو ارتھ نہیں چھاڈو گاؤں

جواب: ناؤ یعنی کشتی

امیر خسرو

ترور سے ایک تریا اتری اس نے بہت رجھایا ۔ پہیلی

ترور سے ایک تریا اتری اس نے بہت رجھایا

باپ کا نام جو اس سے پوچھا آدھا نام بتایا

آدھا نام پِتا پر پیارے بوجھ پہیلی موری

امیر خسرو یوں کہیں اپنا نام بنولی

جواب: بنولی

امیر خسرو

بھید پہیلی میں کہی تُو سن لے میرے لال ۔ پہیلی

بھید پہیلی میں کہی تُو سن لے میرے لال

عربی ہندی فارسی تینوں کرو خیال

جواب:‌ ؟

امیر خسرو

بالا تھا جب سب کو بھایا بڑھا ہوا کچھ کام نہ آیا ۔ پہیلی

بالا تھا جب سب کو بھایا بڑھا؎ ہوا کچھ کام نہ آیا

خسرو کہہ دیا؎ اس کا ناؤں ارتھ کرو نہیں چھاڈو گاؤں

؎ بڑھا جب بولیں گے تو بڑا سنائی دے گا –

؎ دیا یعنی چراغ ہی اس پہیلی کا جواب ہے –

جواب: دیا یعنی چراغ

امیر خسرو

ایک نار چاتر کہلاوے ۔ پہیلی

ایک نار چاتر کہلاوے

مورکھ کو نہ پاس بلاوے

چاتر مرد جو ہاتھ لگاوے

کھول ستر وہ آپ دکھاوے

جواب: عربی کا لفظ نار یعنی آگ

امیر خسرو

ایک نار جب بن کر آوے ۔ پہیلی

ایک نار جب بن کر آوے

مالک کو اپنے اوپر بلاوے

ہے وہ ناری سب کے گوں کی

خسرو نام لیے تو چونکی

جواب: چونکی یعنی چوکی جو بیٹھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے

امیر خسرو

ایک نار بھنورا سی کالی ۔ پہیلی

ایک نار بھنورا سی کالی

کان نہیں وہ پہنے بالی

ناک نہیں وہ سونگھے پھول

جتنا عرض اتنا ہی طول

جواب: ؟

امیر خسرو

اندھا گونگا بہرہ بولے گونگا آپ کہائے ۔ پہیلی

اندھا گونگا بہرہ بولے گونگا آپ کہائے

ایک سفیدی بہوت انگارا گونگے سے بھڑ جائے

جواب: ؟

امیر خسرو

گوری گوری بانہاں ، ہری ہری چوڑیاں ۔ گیت

گوری گوری بانہاں ، ہری ہری چوڑیاں

بانہیاں پکڑ دھر لینی رے موسے

بل بل جاؤں میں تورے موسے

خسرو نظام کے بل بل جیے

موہے سہاگن کینی رے موسے

امیر خسرو

کاہے کو بیاہی بدیس ۔ گیت

کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے

کاہے کو بیاہی بدیس

بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس

ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں

جد ہانکے ، ہنک جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں

گھر گھر مانگی جائیں

ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں

بھور بھئے اڑ جائیں

ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں

چھوٹا سہیلی کا ساتھ

کوٹھے تلے سے پالکی نکلی

بیرن نے کھائے پشاد

ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا

آیا پیا کا دیس

کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!

کاہے کو بیاہی بدیس؟

امیر خسرو

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے ۔ گیت

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

گھر ناری کنواری کہے سو کرے

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

سوہنی صورتیا ، موہنی مورتیا

میں تو ہریزے کے پیچھے سما آئی

گھر ناری کنواری کہے سو کرے

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

امیر خسرو

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے ۔ گیت

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

تو تو صاحب میرا محبوب الٰہی

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

ہماری چنریا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیا کی پگڑیا

وہ تو دونوں بسنتی رنگ دے

جو کچ مانگے رنگ کی رنگائی

مورا جوبن گروی رکھ لے

آن پڑی دربار تمہارے

موری لاج شرم سب رکھ لے

موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے

امیر خسرو

سب سکھیوں میں چادر میری میلی ۔ گیت

سب سکھیوں میں چادر میری میلی

دیکھیں ہنس ہنس ناری

اب کے بہار چادر میریرنگ دے

پیا رکھ لے لاج ہماری

صدقہ باب گنج شکر کا

رکھ لے لاجک ہماری

قطب فریدل آئے براتی

خسرو راج دلاری

کوئی ساس کوئی نند سے جھگڑے

ہم کو آس تمہاری

رکھ لے لاج ہماری نظام

رکھ لے لاج ہماری

امیر خسرو

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں ۔ گیت

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ

سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں

کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما

نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں

بحقِّروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسرو

سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں

امیر خسرو

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر ۔ گیت

جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر

ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر

جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا

حقّا الہٰی کیا کیا، آنسو چلے بھر لائے کر

توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے

تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر

جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں

تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر

میرا جو من تم نے لیا ، تم نے اُٹھا غم کو دیا

غم نے مجھے ایسا کیا جیسا پتنگا آگ پر

خسرو کہے باتاں غضب ، دل میں نہ لاوے کچھ عجب

قدرت خدا کی یہ عجب ، جب جیو دیا گل لائے کر

امیر خسرو

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی ۔ گیت

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

کیسے میں بھر لاؤں مدھوا سے مٹکی

پانی بھرن کو جو میں گئی تھی

دوڑ ، جھپٹ ، موری مٹکی پھٹکی

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

مورے اچھے نظام پیا جی

امیر خسرو

سورج کی خوشبو

مِرا نام۔۔۔۔خوش بخت سورج کی خوشبو،

مِرا شہر۔۔۔۔بے آسماں ملک کے وسط میں

جس کے بازار اشیاء میں آنکھیں جھپکتی ہوئی فاحشہ

اپنی زرّیں ہتھیلی پہ رکھے ہوئے جسم کی عشرتیں

بانٹتی ہے

جہاں لوگ، اِسراع، ‘اِسراع’ کی گونج پر

یک زباں ہو کے، لبیک کہتے ہوئے

سِحر میں چل رہے ہیں

مِرا مشغلہ۔۔۔۔ ایک خواہش، لگاتار خواہش کہ لمحے کی مہمیز کا زخم

کھا کی حسِیں۔۔۔۔بے عناں، ایک ہی جست میں

جسم و جاں کی حدیں پھاند لیں

کش لگے اور روحوں کے پاتال میں جاؤں

بربط بجاتے ہوئے

کیا خبر گمشدہ جل پری میری آواز پر جی اُٹھے

اور میرا پتہ۔۔۔۔ ایک نالے کی نیلی گزرگاہ پر

اک مکاں۔۔۔۔ بے نمود اور بے نام سا

جس کے کمرے میں چُپ چاپ سایہ سا چلتا ہوا

اجنبی اور مفرور۔۔۔۔روپوش گمنامیوں کی پنہ گاہ میں

۔۔۔(دیکھتے ہو اُسے؟)

کل سویرے وہیں۔۔۔۔ دوسرے اور وہ ۔۔۔۔خشت بردار،

اہرام کی جائے تعمیر پر، پائے جائیں گے

آقا کی بھاری صدا اُس سے پوچھے گی کیا نام ہے؟

وہ کہے گا، مِرا نام۔۔۔۔خوش بخت سورج کی خوشبو۔۔۔۔

آفتاب اقبال شمیم

حصارِ سزا میں

جانتے ہو، کون ہی

جو کاغذوں پر پیشاں لکھ کر سدا

ایک بے میعاد وعدے کی عدالت میں

بُلاتے ہیں تمہیں

اور پھر خود ساختہ انصاف کی جنت دکھاتے ہیں تمہیں

کس قدر مسحور کرتی ہیں شبہیں باغ کی

جس میں سنگھاس پہ بیٹھا بادشاِ آسماں

شادماں۔۔۔۔

شادماں سرو و صنوبر کی کنیزیں

مورچھل تھامے ہوئے

اپنا سایہ ڈالتی ہیں شوکتوں کی دھوپ پر

اور وہ اپنی سخاوت سے رواں کرتا ہے

چشمے کا سیراب

اور تم

داستاں کے شاہ زادے کی طرح

اس نظامِ سحر نا مطمئن

لوٹتے ہو۔۔۔۔اور آگے دیو استبداد کا

فیصلہ در دست آتا ہے نظر

بستیوں کے آہنی پھاٹک کی تالہ بندیاں کرتے ہوئے

کیا کرو گے!

اپنی ناداری کا ترکہ چھوڑ کر مر جاؤ گے

اپنے ظلمت زاد فرزندوں کے نام

یا یہ دستاریں سروں سے کھول کر

دال دو گے خاک پر

تاکہ سمجھوتے کی کالی چیونٹیاں

رفتہ رفتہ۔۔۔۔ذرہ ذرہ کر کے لے جائیں تمہیں

آفتاب اقبال شمیم

جو ہیں اور نہیں ہیں

جمبود ٹوٹے گا جب زمیں کا

تو برق رفتار حادثوں کے سموں سے چنگاریاں اڑیں گی

نہتّے اور پُر غرور لڑکے

اُڑائیں گے کنکروں کی آندھی

کھنڈر میں اپنی ہزیمتوں کے، اُکھڑے جالوت جا گرے گا

کٹیں گی پھر شہر شہر تازہ بشارتوں کی

نئی رتوں کی مہکتی فصلیں

فضا میں بے نام مرنے والوں کی عظمتوں کے عَلم کھلیں گے

مگر یہ مفروضہ وارداتیں ہمارے جانے کے بعد ہوں گی

چلو چلیں منجمد سڑک پر حشیش پینے

طمانیت کی تلاش کرنے

گریں گے آنکھوں سے جب شرارے

اُتر کے آئے گا دیوتاؤں کے آسماں سے

سکوں کا بے سایہ دار لمحہ

چلو چلیں اتقام لینے کسی سے بیٹھک کے معرکے میں

ہدف کو ہم قہقہوں کی بوچھاڑ سے اُڑائیں

فراغ ہو تو

بچھائیں آنگن کے بیچ میں دھوپ سردیوں کی

بڑھتے ہوئے ناخنوں کو کاٹیں

پڑھیں رسالہ

کہ جس کے رنگین سر ورق پر

چھپی ہے تصویر شاعرہ کی

آفتاب اقبال شمیم

دراز سایہ سہ پہر

ایک لڑکی ابابیل سی

دھوپ میں دس بجے پر فشاں

ایک خوشبو کے جھونکے کے ہمراہ اڑتے ہوئے

راستے میں ملی اور اک آن میں بے نشاں ہو گئی

آنکھ میں تتلیوں سے چرائے ہوئے رنگ ٹپکا گئی

اک شرارا گرا اس کی جانب لپکتے ہوئے ہاتھ پر

انگلیاں جل گئیں

دن کی آواز مغرب میں ڈھلنے لگی

اور احساس میں

اک دھواں سا، زیاں سا دھند لکے بنانے لگا

کتنی بھاری تھیں اشیاء کی اصلیتیں

کھرورے جسم کے پربتوں پر اُبھرتا کہاں

عکس کھویا ہؤا

اور اب تیز قدموں سے سہ پہر کی

سیڑھیوں سے اترتے ہوئے

دیکھتا ہوں کہ میں ہوں کھڑا

دم بہ دم ڈوبتے شہر کی غیر مانوس شکلوں کے ابنوہ میں

وہ کہیں بھی نہیں، وہ کہیں بھی نہیں

شام ہونے کو ہے۔۔۔۔

ڈوب جا، ڈوب جا

ایک ہی دن میں دو بار سورج نکلتا نہیں

آفتاب اقبال شمیم

سُرخ پرچم نہر

سب نے محنت کی تقدیس کا اسمِ اعظم پڑھا

چانگ دریا کا پانی سوا نیزہ اوپر اٹھا

بے گیاہ آسماں لہلہلانے لگا

کوہِ عریاں کو بہتی ہوئی روشنی کا کمر بند باندھا گیا

دودھ کے رس سے پھٹتی ہوئی چھاتیاں

سبز پوشاک سے ڈھک گئیں

مسکرایا کساں دیوتا

بھوک کی ڈأینیں مر گئیں، بیلچوں کی

کدالوں کی ضربات سے

اور بچوں کو سوتیلی ماؤں کی غرّاہٹوں سے رہائی ملی

خشک پربت پہ تازہ رگیں پھیل کر

بن گئیں سرخیاں کل کے منشور کی

آفتاب اقبال شمیم

نوعِ نو جسم

کہاں سے گزرا ہوں

سارے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں

یہ دیکھ:

میرے بدن کو نیلے لہو کی دیمک نے اس جگہ سے

یہاں سے چاٹا ہے

میری آنکھیں

اُبلتے عکسوں کی دلدلیں ہیں

یہ راستے سرو منظروں کے

زمیں کی کچی فصیل پر سو ہواؤں کے قہقہے اگے ہیں

مرے تعاقب میں لشکری بے یقینوں کے

میں خود کو خود سے چھپا رہا ہوں

یہاں سے نیچے گروں تو کیسے

زمیں کے سارے نشیب میری ہی پستیوں کی

علامتیں ہیں

قدیم راتوں کے پیشواؤ!

پرانی پوشیدگی کے صنعت گروں کی خاطر

گلی کی خندق میں چُھپ کے بیٹھا ہوں

آسمانوں کو نالیوں میں ڈبو چکا ہوں

قدیم راتوں کے پیشواؤ!

میں ایک سو سالہ اژدہا ہوں

کہ اپنی صورت بدل کے فردا کے آئینے میں

پرانے بہروپ کا تماشا قدیم آنکھوں سے

تک رہا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

خواب آفریں!

گزرا اِدھر سے وُہ

اِک پُر شکوہ سر کشی کے راہوار پر

تھامے ہوئے کرن کو اندھیرے کی سیدھ میں

اُس نے ہوا کو دشت سے

ساحل سے موج کو

آزاد کر دیا

مضمون دہر سے

بے حاشیہ سطور کی چنگاریاں اُڑیں

اِک خواب کی شگفت سے موسم بدل گیا

دیکھا گیا سپہر تصوّر کے اوج پر

منظر طلوع کا

امکان کی منجنیق سے چھینٹے الاؤ کے

برسے فیصل پرتحریر حرفِ گُل ہوا لوحِ بہار پر

الٹا ورق ہوا نے زمیں کی کتاب کا

دیکھا گیا دیارِ تمنا کے آس پاس

لمحے کو بے لباس

اک برق تھی کہ پشتِ سیاہی سے کُود کر

اُتری زمین پر

غائب ہوئی تو چھوڑ گئی شب کے رُو برو

چشمِ ستارہ جُو

آفتاب اقبال شمیم

ریت کی پیاس

آؤ کہ چل کے رات کا لا نشہ پئیں

اک پَل کی بے پناہیاں

بے انت آسماں

ہم کو دبوچ لیں

دھچکا ہوا کا بند کواڑوں کو کھول دے

نکلیں حویلیوں سے نظر بند لڑکیاں

بے حُسن منظروں کی سزا وار آنکھ کو

آزادیاں ملیں

رونق کا اک شرر

بس دھوم سی مچا دے فنا کی فصیل پر

پھر اس کے بعد فرش پہ، چاہے تو گر پڑے

آئینہ خواب کا

یہ کیا کہ آپ اپنا تماشا بنے ہوئے

ہم دوسرے کے خفیہ اشارے کے سحر میں

ایام کی بساط پہ چلتے رہیں سدا

اپنے خلاف جنگ کسی اور کی لڑیں

رستے کی قوس پر

جینے کی آس نیم دریدہ لباس میں

دائم کھڑی ہوئی

عریانیوں کی ڈھلکی ہوئی بھیک دے ہمیں

آنکھوں کی تشنگی

اک خوشنما سراب کا جلوہ انڈیل دے

صحرا کی اوک میں

آفتاب اقبال شمیم

بے وعدہ عمروں کے بن باس میں

آج بھی فرشِ شبِ دیر بز پر

آسمانوں کا بہشتی دھوپ کا چھڑکاؤ کرنے آئے گا

اور دوشیزہ ہوا کی نرم و نازک انگلیاں

کھول کر نظمِ مناظر کی کتاب

رنگ و خوشبو، نور و نغمہ کے ورق اُلٹائیں گی

جسم کے آنگن میں پھیلے گی شفق کی سنسنی

آج بھی اپنے دریچے سے اُسے جاتے ہوئے دیکھوں گا

دفتر کی طرف

اور اس لمحے کے پس منظر میں آئیں گی نظر

لڑکیاں جو رات کے سپنوں کے گلدستے لئے

صبح دم آتی تھیں رو دِنیل پر

جب اجالا دِل کے مندر میں بجاتا تھا سنہری گھنٹیاں

تو گلابوں کی لچکتی ٹہنیاں

عکس اندر عکس پانی میں بہاتی تھیں نیازیں

اپنے پیاروں کے معطر نام پر

اور چکنائے ہوئے تانبے کی رنگت کے بدن

گُد گُدی محسوس کرتے تھے کسی کے لمس کی

بھیجتے تھے ایک پیغامِ تصوّر۔۔۔۔

ایک سندیسہ کرن کی لوچ سے لکھا ہوا

بادِ صبا کے ہاتھ کل کے وصل کا

اور میں دیکھوں گا اُس کو آج بھی سہ پہر کے رستے سے گھر آتے ہوئے

ایک خالی پرس اپنے نیم جاں کندھے سے لٹکائے ہوئے

اُس کی آنکھوں میں نظر آئے گا

بے اقرارلمحہ۔۔۔۔جانے کتنی دیر سے ٹھہرا ہوا

اور چوبی انگلیاں تھامے ہوئے ہوں گی

کسی تقدیس کی خوشبو،

کسی بے نام سپنے کی کتاب

آفتاب اقبال شمیم

مُنکروں کے درمیان

مضطرب ذات کہیں

سچ کا تعویذ اتارے نہ مرے بازو سے

اور میں تیرے فسوں میں آکر

اسمِ زر پھونکتی آواز کے ہمراہ چلوں

شر کا شہر رواں ہے جیس

اپنے انکار کی مدہوشیوں کے دائرے میں

میں شفق زاد اجالے کا امیں

تیری تاریکیوں کے تنگ کنوئیں کے اندر

اپنی گونجحوں کا بھنور بن جاؤں

میرے انگوٹھے پر

روشنائی نہ لگا آج کے سمجھوتے کی

میں گزرگاہ تمنا کا مسافر ہوں مجھے جانے دے

زادِ آوارگی کافی ہے مجھے

اس ہوا زار سے گلدستہءِخوشبو لے کر

جب میں دورانِ سفر فردا سرا میں اتروں

اہلِ نوشہر سے یہ کہہ تو سکوں

لوَ تمہارے لئے اِک پھول بچا لیا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

حبس کی خواب گاہ سے

ہوا شرارت سے روز آکر بٹن دباتی ہے

اور اندر

ذرا سی آواز گونجتی ہے

وُہ دائیں کھڑکی سے اپنے چوبی بدن پہ رکھا ہوا کسی کا

بناوٹی سرنکالتا ہے

ہمیشہ یکساں جواب دیتا ہے

دیکھ: اے کوہِ سبز کی رہنے والی لڑکی

ابھی ضرورت ہے۔۔۔۔ ہم حویلی میں

روشنی کو

سکھائیں آداب ظلمتوں کے

ابھی یہ دروازہ بندشوں کا

نہیں کھلے گا

ہم اپنے دشمن نہیں کہ میعادِ تربیت میں

خلل کو تسلیم کی سند دیں

یہاں سے جاؤ

یہ چار دیواریوں کا پہرہ

یہ حبس خائف نہیں کسی سے

جمود۔۔۔۔ ہییت خرابیوں کی

تم اپنے دستِ سبک سے کیسے بدل سکو گی

کہیں سے آندھی کا زور

طواں کا غلغلہ اپنے ساتھ لاؤ

آفتاب اقبال شمیم

آئینہ نما

یہ جنگل

کس بے معنی سفاکی کے اندھیرے سے

ٹوٹ کے بے ہییت ہوتے اس موسم میں

بے بخشش ہاتھوں کی جانب تکتا ہے

دیکھ! اکارت جاتی سرد صدی کے منظر نامے میں

نخلِ بے تقدیر کھڑا ہے

بھوک کے سناٹے میں گرتے پتے پر

اس کے اپنے نام کے آگے

میرا نام بھی لکھا ہے میں کہ ان بے اشک آنکھوں سے

اُس کی خاطر

اپنے کل کی ظلمت کے امکان کی خاطر

ایک کرن کی خواش خوابی پیدا کرنے سے قاصر ہوں

میری دنیا کے مرکز میں ڈھیر لگا ہے سایہ سایہ لاشوں کا

اور زمستاں کا سورج اس پربت کے

لمبے سائے ڈال رہا ہے خودمحصور مکانوں پر

آفتاب اقبال شمیم

گماں کی منطق

دریا کے گہرے باطن میں

نادیدہ انبوہ پسِ انبوہ رواں رہتا تھا لیکن

سطحِ آب پہ آکر جو معروف ہوئیں وہ اسم نما لہریں کتنی تھیں

اور گہر

جو ساحل کی منظر گاہوں میں

ایک منور لمیے کی انگشت حنائی میں چمکا

وہ گم نامی کی ظلمت میں

بسنے والے ہم زادوں سے کیوں بچھڑا تھا؟

اور پرندہ صحرا کا

اپنی بے مشہو صدا کے سناٹے میں ڈوبا تھا

کیوں ڈوبا تھا؟

اور گلِ رونق پر اُمڈی آنکھوں نے

غفلت کی بے مہری سے

سبزے کو ہر آتے جاتے موسم میں پامال کیا

آخر کیوں؟

شاید یہ امکان کی اپنی منطق ہے

شاید ہر شے

یکسا دہرائے جانے والے فعلوں کی زد میں ہو

کیا معلوم کہ

اس جہور کی بے نام آور آبادی

جس میں ہم بھی شام ہیں

ہستی کی دانست میں ہو

آفتاب اقبال شمیم

رونق کا شگون

دھوپ مدھم تھی

ہوا کی منجمد شاخوں سے سانسیں توڑنا دشوار تھا

اور چوبَ خشک سے لٹکے ہوئے پتے کی آنکھ

اپنے آئینے میں تکتی تھی ہمیں

ہم تہی دستوں نے گلیوں کے خس و خاشاکگھر کے صحن میں جمع کئے

جسم کی دح سے مٹ جانے سے پہلے

خون کے گرتے شرارے سے اُگایا

سبز موسم کے الاؤ کا شجر

منظرِ روپوش کے آثار سے

سب کی آنکھوں کی گزرگاہیں معطر ہو گئیں

اور ہم نے نارسا پیغام بھیجا آسماں کے نام پر

اے خدا!

اب نہ آئے بادزاروں کی ہوا

مشرق و مغرب کے پھیلے فاصلے کی سمت سے

ورنہ ان چنگاریوں کے پھول گلشن کو جلا سکتے بھی ہیں

آفتاب اقبال شمیم

دُورنما روشنیوں کا خوف

کانچ کی کوئی چیز کہیں پر گر کر چکنا چُور ہوئی

نابینا اپنے سائے سے ٹکرایا

آنکھیں، آنکھیں۔۔۔۔ ہر سو آنکھیں

اوپر رات کا گہرا بادل

اُمڈا ہے

پرنالوں سے بہتا ہے

کالا شور اندھیرے کا

کوئی شاید

جسم کا بھاری بوجھ اٹھائے نکلا ہے

خود سے بات کرے تو خود بھی سن نہ سکے

پونچھ رہا ہے

بھیگے ہاتھ سے پیشانی پر

لکھا حرف مقدر کا

جیسے یوں بچ جائے گا وُہ بہنے سے

دھوپوں کی طغیانی میں

آفتاب اقبال شمیم

خود کلامی کے کٹہرے میں

یہ ہے تشخیص اندیشہ۔۔۔۔ بتا کیا ہے؟

گزرگاہوں میں کیوں ہر سو وبا سایوں کی پھیلی ہے

یہ کیسی گردشیں ہیں شہر میں یکساں تغّیر کی

مسیحا بے شفا موسم کا نسخہ

زرد پتے کے لئے تجویز کرتا ہے

نہایت دردمندی اور دل داری سے

نبضِ شاخ پر وعدے کی نازک انگلیاں رکھ کر

وہ اسمِ صبر پڑھتا ہے

بڑے رقّت زدہ لہجے میں کہتا ہے

ہم اپنی روح کے بے آسماں قلزم میں

اپنے جسم کے تختے پہ بیٹھے ہیں

ہمیں

ممکن بھی ہے، زورِ ہوا ساحل پہ لے آئے

وگرنہ سراٹھاتی موج کا انداز

یوں ہے جس طرح جلاد نے تلوار سونتی ہو

اگر ہونا، نہ ہونا حادثہ ہے یا مقدر ہے

تو پھر اپنی حسوں میں

بے سبب ہیجان پیدا کر کے کیا لو گے

سنو! اس چشم کم بینا سے ایسی دوریوں کو دیکھنے کی

خواہشیں اچھی نہیں ہوتیں

عجب بے اعتدالی ہے صور کی

کسی نیاتہ جنت کے سپنے دیکھتے رہنا

یہ سایہ جو تمہیں آزار لگتا ہے

ہمیشہ دھوپ کے ہمراہ آتا ہے

جنم کے ساتھ وابستہ ہیں سارے سلسلے غم کے

نہ دو خود کو یہ ایذا، یہ سزا

بے اطمینانی کی

اسے آتا ہے اپنے فائدے کی منطقیں

ایجاد کر لینا

یہ بے اقدار مجلس

منعقد ہوتی رہے گی تا ابد اس کی صدارت میں

مرا آدرش سورج ہے

میں شب گلشنوں سے قمقموں کی روشنی میں

پھول کیں توڑوں

یہ صلحیں میری فطرت کے منافی ہیں

یہ اُس کا فیصہ پستی میں رہنے کا

زمیں کے آسماں کی سمت اٹھنے کے پرانے خواب کی

تردید کرتا ہے

اُدھر وُہ نظریے کا جال مجھ پر پھینکتا ہے

اِس طرف

اس منفعت خواہوں کی بستی میں

مجھے مجھ سے جدا کر کے

ہدایت کوئی دیتا ہے

مجھے بہتے ہوئے بازار کے گرداب زر میں ڈوب جانے کی

انا کا آخری قلعہ

جہاں کا ایک ہی درپستیوں کی سمت کھلتا ہے

جہاں سے میں اگر چاہوں

اُتر سکتا ہوں اس انبوہ میں

نااجنبی ہو کر

مگر یہ روشنی دل کی

مجھے آنکھیں لٹانے کی اجازت ہی نہیں دیتی

آفتاب اقبال شمیم

ڈوبتے پتھر کی صدا

گیت کا خیمہ ہوا میں گر پڑا

آخری طائر صدا کی اُوس پتوں پر گرا کر اُڑ گیا

اپنے اندر موڑ مُڑتی آہٹیں

سو گئی ہیں گوش کی دہلیز پر

راستے آنکھوں پہ بازو رکھ کے ہیں لیٹے ہوئے

اُڑ رہے ہیں دائروں میں

گم شُدہ سمتوں کے پیلے گردباد

عزم کی تحریر پر کالی ہوس کی روشنائی گر گئی

ریزہ ریزہ نور کے چھینٹے اُڑا کر گم ہوا

آسماں کا عکس گدلی جھیل میں

اور میرے گرد سنّاٹے کا شہر

بے سماعت، بے زباں۔۔۔۔

میں کہ لامرکز کھڑا ہوں

ڈوبتی بینائیوں کے درمیاں

کس کو پہچانوں، کِسے آواز دوں

آفتاب اقبال شمیم

نارسیں

اُسے عکسوں سے بھیگی آنکھ میں وہ ڈھونڈتا ہے

جو لہو کی سرزمینوں میں

ابھی نایافتہ ہے۔۔۔۔ کون ہے وہ؟

کوئی لڑکی ہے کہ عریانی کا کوئی لمحہ ہے؟

عجب کیا

ہو اُسے شوقِ سماعت پانیوں کے شور کا

جس پر کسی گزرے زمانے میں

کسی نے باندھا تھا

وہ پُشتہ اُس کے آدم جسم سے اونچا۔۔۔۔ محیط اندر محیط

اُس سے بلند ہونے سے پہلے گر گیا ہو گا

وہ اپنی زرد پرچھائیں کی خندق میں

کسی کو ڈھونڈتا ہے

کونسی آواز ہے جس کا تعاقب کر رہا ہے

اور کیسی شام کے حلقے میں آ کر

ڈوبتا جاتا ہے

کتنی دُوریوں سے تک رہا ہے اپنے مشرق کو

مگر وسعت

نطر کی راہداری سے اُسے کیسے دکھائی دے

کسی لمحے کی آزادی

کبھی شاید اُسے اپنے تشدد سے رہائی دے

آفتاب اقبال شمیم

گمان سے پہچان تک

کلی کی اوٹ سے ا۔س نے کیا اشارا مجھے

میں مُسکرایا

مساموں میں بجلیاں کوندیں

لہوکے دشت میں ٹاپیں سنائی دیں مجھ کو

گلابیاں سی ہوا میں دکھائی دیں مجھ کو

میں اپنی نظم بنا اور خود کو پڑھنے لگا

ہوا میں اُٹھتی ہوئی سیڑھیوں پہ چڑھنے لگا

گماں ہوا کہ قبا کھول دی ہے ساعت نے

بھنور نے سیپ کو پانی کی طشت پر اُلٹا

اندھیرا فاش ہوا روشنی کے بھید کھلے

عجیب وسعتیں پھیلیں خدائیوں کی سی

مٹھاس گھلنے لگی آشنائیوں کی سی

اُفق نے جھیل کو سمٹایا اپنی باہوں میں

تو زور زور سے کشتی کی سانس چلنے لگی

سفر کا نغمہ چھڑا بادباں کی دھڑکن پر

پیام آئے مجھے میری اپنی خوشبو کے

حیا سے سمٹی ہوئی اک صدا کی سرگوشی

مجھے بلانے لگی

پلٹ کے دیکھا تولہکتے ہاتھ کسی نیم وا درچے میں

ہلا رہے تھے بلاوے مِرے حوالوں کے

گلی کے موڑ پہ پہلا درخت پیپل کا

لپٹ گیا مجھ سے

میں بے پناہ کشش کی لپیٹ میں آیا

برس کے بوند گری، اشک ٹوٹ کے ٹپکا

قدیم اصل کے انبوہ کے سمندر میں

آفتاب اقبال شمیم

ہری نظم

ہم نے وقتوں کی فہرست میں نام ان کا لکھا

جو ہمارے وفادار تھے

اور ان کا لکھا

سبز سچائیاں جن کے تازہ لہو سے مہکتی رہیں

جن کے لہجے میں فردا کا اقرار تھا

اور جو راستے میں پڑی سلوٹیں

اپنے دکھ کے گرانبار قدموں سے ہموار کرتے رہے

کل نئے وقت کی دھوپ تاریک قلعوں کو مسمار کرتے ہوئے

پھیل جائے گی بے انت آزادیوں کی طرح

اپنی مٹی سے ’’اوینس‘‘ اٹھے گا جب

اور جب تیسرے شہر کی

زرد نسلیں، سیہ فام آبادیاں

لکھ چکیں گی نیا عہد نامہ نئے وقت کا

تو زمیں گنگنانے لگے گی ہری گھاس کی اُس ہری نظم کو

جس کے مَیں اور تُو اور وُہ لفظ ہیں

بول ہیں

آفتاب اقبال شمیم

کہانی

اے سہیلی بتا!

جسم کی یاترا کر کے آئی ہے تُو

موتیے کی ہنسی سے مہکتے ہوئے تیرے گُلنار چہرے پہ

شکنوں میں لکھے ہوئے

بید کے شبد پڑھ کے سناؤں تجھے؟

(اے سکھی! انت کا بھید کس پہ کھلا ہے کبھی)

کیا بتاؤں کہ اُن درشنوں سے

مِری آنکھ سیراب ہو کے بھی

پیاسی رہی

ہاتھ کا لمس ایسا تھا

ہر پور سے دیپ کی لو لپکتی تھی ہر سانس میں

تھرتھری سی کسی ان سُنے گیت کی

کیا بتاؤں سکھی! کس طرح دل دریچے کھلے

اور پنجرے سے

احساس کی نارسائی کا پنچھی اُڑا

میں نے دیکھا سکھی

جھیل کی لہر میں

اک نئے چاند کا عکس اُگتا ہوا

اور پھر ٹمٹماتے ستاروں کی پریاں مجھے

کل کے سپنوں کے آکاش پر لے گئیں

اسے سکھی! اور پھر یوں ہوا

جب سویرے کی پہلی کرن نے جگایا مجھے

گاؤں کا راکشس

جانیے کونسی سمت لے جا چکا تھا انہیں

میں تو چاہت کی ہاری وہیں

مر گئی

اے سہیلی بتا! دُکھ کی بپتا سناتے ہوئے

تُو بڑی سخت جاں ہے کہ

روئی نہیں

ہاں۔۔۔۔ مجھے کل کی سچائیوں پر بھروسہ جو ہے

دُکھ کے پردیس سے

دیکھنا! شیام پیارے ضرور آئیں گے

آفتاب اقبال شمیم

اعلان نامۂ بیروت

دیکھ! یہ وسطِ بیروت کا

آخری موچہ ہے جہاں میں کھڑا ہوں مگر

ان فضاؤں میں بارود کی آتشیں آندھیوں کا ہدف

میں اکیلا نہیں

میرے پیچھے نظر تا نظر پُرسکوں لہلہاتی ہوئی بستیاں

(جن میں میرے لئے ایک بھی گھر نہیں)

جبر کی زد میں ہیں

دن کی شاخوں سے ٹوٹے ہوئے برگ

بکھرے پڑے ہیں مِرے سامنے

جن کا تازہ لہو

میری خندق کے حلقوم تک آگیا ہے

کہ یہ آخری معرکہ۔۔۔۔ اسفلِ ارض سے آسماں کا

دفاعِ ضمیر جہاں کا۔۔۔۔ مرے ڈوبنے تک لڑا جائے گا

کوئی اپنی رگیں کھول کر میری تائید کرنے اُٹھے

اور کوئی سخی مرد اپنا زرِخوں لُٹانے کو تیار ہو

جو مِرے بعد میری جگہ

میری بندوق تھامے ہوئے ایستادہ رہے

اور کل کے کٹہرے میں جب آج کے

یہ سلاطین ، یہ دیوتا

بے ضمیروں کی صف میں کھڑے فیصلہ سُن رہے ہوں

تو وہ خلقتوں کو

زمیں سے زمیں تک

نئی، ایک ہی ملکت کے اُبھرنے کا پیغام دے

جس کے خورشیدِ فردا نما برج پر

وہ لہو میں نہائی ہوئی نسل کے

خواب فردا کی پرچم کُشائی کرے جس میں بے خانماں، ہجرتوں کے سفر میں

بھٹکتے ہوئے قافلوں کو

ارادے کی آزادیاں پیش کرنے کی تقریب پر

ہرکفِ شاخ کو

دستِ موسم

گلُوں سے حناوی کرے

آفتاب اقبال شمیم

نارسیدہ لمحے کا بلاوا

زید! یہ کیسے پھول ہری آشاؤں کے

دن کے صحن میں کھلتے ہیں

نیم جنوں کی خوشبوئیں

سینے کے صفحے پہ نقش بناتی ہیں

بے مفہوم، شکستہ خط تحریروں کے

آمکتب سے بھاگ چلیں

دیکھ! وہاں پر

ریت کا ٹھہرا دریا نیلی بینائی کی

وُسعت سے جا ملتا ہے

سُنتا ہے تُو دل میں دھوپ کی دھڑکن سی؟

ایک تمّنا نامعلوم تعاقب کی

ہم سے آگے آہٹ آہٹ چلتی ہے

آدھے عرش کی دُوری سے

دیکھ! پتنگیں کٹ کر ڈولتی جاتی ہیں

پیچھے پیچھے

ریلے ہی ریلے میں اُٹھی باہوں کے

کیا معلوم ہوا کا پرچم کس خوش بخت کے ہاتھ آئے

آہم بھی یلغار کریں

پھر کیا

وہ ہم دونوں سے قدآور بھی ہیں، آگے بھی

آفتاب اقبال شمیم

خواب در خواب

دیکھئے

دائرہ در دائرہ۔۔۔۔ ایک سے پیلے دنوں کو

ایک جیسی ظلمتوں میں ڈوبتے

طائروں کو دُور کی اونچائیوں سے لوٹ کر اپنی طرف آتے ہوئے

منظروں سے گرد کی چادر کو بے ہیجان ہاتھوں سے ہٹا کر

دیکھئے

سبز دن کی شاخ پر دلدار چہروں کے گلاب

جوزیاں ہوتے ہوئے احساس کی سہ پہر میں پرچھائیاں

بنتے رہے

دھونڈئیے

اُن بستیوں کو

جن میں سورج بھیجتا تھا روز صبحوں کا پیام

کون تھے، وہ کون تھے

جن کی آنکھوں پر اُترتے تھے صحیفے خواب کے

اور خود سے پوچھئے

اُن امنگوں سے دھڑتی ساعتوں کے بیج

کن بنجر زمینوں پر گرے

حشک سالی کیا ہماری عُمر کا مقدور تھی؟

یہ بھی ممکن ہے

ہماری جستجو سے دُور نادریافت کردہ منطقے موجود ہوں

جو اچانک منکشف ہو جائیں کل کی آنکھ پر

اور ہرکارہ ہمارے بے پتہ گھر پر

ہمارے نام کی آواز دے

آفتاب اقبال شمیم

بے نوشتہ نظم کا پیش لفظ

میں کفِ دست کی اوٹ میں

سوچ کا پھڑ پھڑتا دیا لے کے چلتا ہوں

جذبوں کے جنگل میں، نعرے لگاتی ہواؤں کی یلغار میں

کیا خبر وہ تنا کی دیوی لبِ آب آئے نظر

غسلِ مہتاب کرتے ہوئے

اس کی عریانیاں

منکشف ہوں لہو کی مچلتی ہوئی لہر پر

روشنی کے کنول کی طرح

ہنِ لفظ پگھلا ہوا موم بن کے ٹپکنے لگے

اور بہری سماعت سُنے ٹوٹتی جھاگ کی تھرتھری

اور مس ہوں مِرے جسم کی وح سے

میرے امکان کی سرحدیں

جانتا ہوں کہ میں آج بھی لَوٹ آؤں گا

کالک میں لپٹی ہوئی انگلیں

بے افق، بے نشاں چاند کی سمت

تکتے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم

لشکارا

بالکونی سے شادی کسی سائے نے

جھُک کے دیکھا مجھے

کون ہے؟ کون ہے؟

اور پھر سیڑھیوں سے اترتی ہوئی آہٹوں کی دبی سنسنی

ایک وقفہ

اندھیرے کے سنسان سینے کے اندر دھڑکتاہوا

بے صدا شور ٹھہری ہوئی سانس کا

در کی درزیں سفیدی کی دو مختصر سی لکیروں سے روشن ہوئیں

اور میں دل کی دہلیز پر

اپنی بھیگی ہوئی مٹّیوں، خشک ہونٹوں کو بھینچے ہوئے

در کے کھلنے کی آواز کا منظر

واپسی کی گزرگاہ پر

دُور ہوتی ہوئی چاپ سُنتا رہا

آفتاب اقبال شمیم

اجنبی

وہ لڑکا شاہزادہ سا

جسے بے نام خوشبوؤں کی آوازیں

تصّور کی زمینوں میں سدا آوارہ رکھتی تھیں

جسے گھر سے گلی سے مدرسے تک

تربیت نے

قاعدے کی تال پر چلنا سکھایا تھا

وہ کنج خواب کا حجلہ نشیں

خواہش کے روزن سے

سمندر کے اُفق پر

دیکھتا تھا خواب اُڑتے بادبانوں کے

تمسخر روشنی کا دن کے چہرے پر

وہ لڑکا شاہزادہ سا

جسے بے رشتہ رہنا تھا ہمیشہ

شہر اشیا کی ثقافت میں

کسے رعنائیاں اپنی دکھاتا

کس پہ کشفِ دلبری کرتا

کسے پہچانتا

کیسے جگاتا انگلیوں کے لمس سے

آواز کی خوشبو سے

اشیا میں

حرارت آشنائی کی

وہ لڑکا شاہزادہ سا

جبیں کی لوح پرکل کی جزائیں

لکھتا رہتا تھا

مقدم زخم کا

خفیہ پتے ممنوعہ رستوں کے

وہی ہر روز کے مضمون میں

لُکنت خالی جگہوں کی

تحّیر لفظ سے ٹوٹے ہوئے معنی کے رشتے کا

وہ لڑکا شاہزادہ تھا

کسی موعود و نامولود دنیا کا

آفتاب اقبال شمیم

منظر کا خلا

ماں! آ دیکھ نا آنگن میں

کرنوں کی پیلی چنبیلی بکھری ہے

منڈیروں پہ کیا کیا نقش پرندوں کے

چڑھتے دن نے کاڑھے ہیں

پودے۔۔۔۔ کومل تانیں سی

ہریالی کے گیتوں کی

گلیوں کے میلے میں شور ہے بچوں کا

آس کا بابا

رنگارنگ غبارے لے کر آیا ہے

اٹھ نا! کیا تو رحل کے آگے

ہاتھوں کا کشکول اٹھائے

دن کے خاکستر ہونے تک بیٹھے گی؟

آخر کب تک مانگے گی

دُکھ سے گدلائی ظلمت کے آقا سے

جھاڑو سے اُڑتی مٹی کے مولا سے

دن کے موتی جن کو اس آنگن میں تو کھو بیٹھی ہے

جن کے بدلے

اُس نے اپنی بخشش سے بھر ڈالا ہے

تیری رات کی جھولی کو

اگلے روز کے سپنے سے

آفتاب اقبال شمیم

افریقہ۔۔۔ اگلے محاذ پر

عشر نے دھاوا بولا ہے

دیکھ! سفید انسانیت کے خیموں پر

پنجے سخت طنابوں کے

جنگل کے محکوم بدن پر ڈھیلے پڑتے جاتے ہیں

کل کے طبل پہ چوٹ پڑی ہے

دیکھ! تڑپتی شہ رگ کی

ہر ہر بستی میں مینار الاؤ کے

روشن ہوتے جاتے ہیں

کل آزادی کی ہریالی پھوٹے گی۔۔۔۔ اور یہ بیلیں

پیڑوں کا رس پینے والی نیلی بیلیں

جڑ سے کاٹی جائیں گی

دیکھ! وہ ٹوٹا (قلعے جیسا)

اور اک جالا مکڑے کا

پرچم سی آنکھیں پربت پہ نصب ہوئیں

امبے او کے ہاتھ میں دستاویز ہے

کل کے سپنوں کی

آفتاب اقبال شمیم

چکور دستک اور صلیب

جب جسم تراٹیں مارے گااور روح پچھل پائی کی طرح پچھواڑے میں

چِلاّئے گی

جب ریت کی پیاس سلیٹی سی، ہونٹوں کی پپڑی کے نیچے

ایسا کہرام مچائے گی

کہ بیٹے اپنے باپوں کی پہنائی ہوئی زنجیروں کو

ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں گے

اُس وقت کے موسمِ فردا میں

سلوٹ سلوٹ چہرے والا۔۔۔۔ تاریک زمانے کا کاہن

گھر گھر میں سچ سندرتا کی

نشری آواز لگائے گا

ترمیم کے معبد کے اندر

تربیت کے رنگین پیویلین کے نیچے

کچھ تازہ بھینٹ کی خوشبوئیں

کچھ مخفی راگ کی سُرتانیں

سلگائے گا

سب آئیں گے

لے لے کر آنکھ ہتھیلی پر سپنے اپنے

پھر اگلے دن کے چوک پہ ہم

خود اپنے آپ تماشائی

سرکس کے چیتے دیکھیں گے

آفتاب اقبال شمیم

کھنڈر گھاٹ کا ناخدا

پھر اُتارا زمیں کے سلگتے ہوئے جسم سے

دستِ اسرار نے

دھوپ کا سو جگہ سے پھٹا پیرہن

اور آنکھوں میں چھلکیں اندھیرے کی عریانیاں

ٹمٹماتے چراغوں نے دیکھا مجھے

بے نشاں رونقوں۔۔۔۔ ایک گزرے ہوئے روز کی خوشبوؤں کے تعاقب میں

بھٹکے ہوئے

کتنے گہرے خلا پیش منظر میں تھے

شام کی بیٹھکیں کس لئے میہمانوں سے خالی ہوئیں

یار لمبے سفر پر یہاں سے کہاں چل دئیے

موسموں کے وطن کی مسافر ابابیل کا آشیانہ یہاں

آج ہے، کل نہیں

میں دنوں کے پلندے میں خالی ورق جوڑ کر

سوچتا ہوں یہ ہونے کا اندازمیرے حسابوں میں ہے

وہ جو انگلی پکڑ کے مجھے ساتھ لایا یہاں

منظروں، موسموں کے پھریرے اڑاتے ہوئے

بعد میں

بھول کی ٹوکری میں مِرے خول کو پھینک کر

بے دھیانی میں

مجھ سے زمانے سے آگے نکل جائے گا

آفتاب اقبال شمیم

نیم اجنبیت کے پُل پر ایک شام

یہ کم کم رنگ، یہ برسے ہوئے بادل کے ٹکڑے سے

مری آنکھوں کے خالی آسماں پر

کتنے برسوں سے معلّق ہیں

یہ کیسی خوشبوئیں ہیں جو کہ جینے کی گلابی

چسکیوں میں مجھ کو رک رک کے پلاتی ہیں

یہ رشتے کیا ہیں

کیوں پتا شجر سے ٹوٹ جاتا ہے

یہ چاہت کی ہوس جہدِ بقا کے سیپ میں پلتی ہے

یا کہ سچ کا موتی ہے

مِری آنکھیں کھُلی ہیں

لیکن اتنی کیوں نہیں کھُلیں

کہ ظرفِ لفظ میں جھانکوں

خداوندا! تری کوتاہ دستی،

مجھے جینے نہیں دیتی مجھے مرنے نہیں دیتی

آفتاب اقبال شمیم

میرِ نابلس

کہا اُس نے مجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں

لہو میں لہرئیے سے ڈالتی بے لفظ سرگوشی کے لہجے میں

گواہ رہنا

میں اتنی دُور سے چل کر تمہارے پاس آیا ہوں

اگرچہ وہ میری ٹانگیں

دھماکے سے اُڑا کر مطمئن ہوں گے

انہوں نے سچ کے شاہد کو اپاہج کر دیا ہے

تم گواہ رہنا۔۔۔۔ تمہارے سامنے روندا گیا ہوں

اور میں چل کر تمہارے پاس آیا ہوں

ذرا دیکھو!

گلابی روشنی بیدار آنکھوں کے اُفق پر رونما ہو کر

ضمیروں کی فضا میں رچ رہی ہے

اور اک اک روح میں

پرچم کشائی کر رہی ہےں سچ کی آوازیں

کہو! کیا بند آنکھوں میں شفق کو پھولتے محسوس کرتے ہوئے

ضمیروں میں ملامت کی رگیں اُبھری ہویء ہیں

اور مقناطیس کے حلقے میں ایک رُخ ہو رہی ہیں

سچ کی آوازیں

آفتاب اقبال شمیم

میں کیا کرتا!

آراکش نے

الف انا کو کاٹ دیا

اپنے سائے پر اوندھا گرنے والا

میں تھا۔۔۔۔لیکن کیا کرتا

میرے شہر کی ساری گلیاں

بند بھی تھیں متوازی بھی تھیں

تختیاں ہر ہر دروازے پر

ایک ہی نام کی لٹکتی تھیں

میں کیا کرتا

شہر کے گردا گرد سدھائے فتووں کی دیواریں تھیں

میرے نام پہ میرے آگے حائل تھیں

کوہ شمائل دیواریں

جن سے باہر صرف جنازوں کے جانے کا رستہ تھا

آفتاب اقبال شمیم

بند دروازے میں کرن کی درز

ظلمت کا ہر عضو ہے بیج سیاہی کا

کٹ کر پھر اُگ آتا ہے

دھوپ میں اتنی کاٹ نہیں کہ میں اُں کو

اندر سے مسمار کروں

کل وہ چہرہ مسخ تھا اتنا آج جسے

میں تصویر سمجھتا ہوں

کیا میں رات کے جادوگرکے شہر میں ہوں

جامد آنکھ کے روزن سے

دیکھ رہا ہوں جو مجھ کو دکھلاتا ہے

یا میں بے معنی دنیا میں

زندہ رہنا سیکھ رہا ہوں

شاید میں پہچان کی بھول بھلیوں میں

گم ہوں

لیکن کیا یہ کم ہے

خواب کی مشعل ہاتھ میں لے کر چلتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

روز کم شب

مری ماں میری سماعت تھی

ستارے دیکھ کر مجھ کو جگا تی تھی

کہیں ایسا نہ ہو میں فیکٹری سے لیٹ جاؤں

بسا اوقات پچھلے پہر سے پہلے

جگا دیتی تھی

میں بے خواب و بے ساعت

نکل پڑتا تھا

اب تک یا د ہے

اُن مختصر راتوں کے دن بھی کس قدر لمبے ہوا کرتے تھے

لیکن اے خُدا!

تو نے مجھے چھوٹے دنوں کی خاص بخشش سے

سدا محروم رکھا

کیوں؟

آفتاب اقبال شمیم

یارِ بے پروا ۔۔ سبطِ علی صبا کے نام

مجھے ملنے نہیں آیا

عظیم الشان سناٹے کی اس اقلیم میں

شاید مجھے تنہا، بہت تنہا حسن ابدال تک جانا پڑے گا

اک خلا کے ساتھ

اک بے انت دُوری کے سفر پر۔۔۔

کیوں نہیں آیا؟

ہمیشہ کا وہ سیلانی

ذرا اُس کو صدا دو

وہ یہیں

اُن خوشبوؤں کی اوٹ میں شاید چُھپا ہو

کیا خبر وہ یارِ بے پرواہ کسی چاہت کے کُنج خواب میں

دبکا ہوا ہو

ہاں صدا دو نا!

مجھے تم اس طرح کیوں تک رہے ہو

میں نہیں روؤں گا

میں بالکل نہیں روؤں گا

کیسے مان لوں وہ میرے آنے پر مجھے ملنے نہ آئے

وہ یہیں ہو گا، یہیں ہو گا

مجھے تم کل اِسی رستے پہ اُس کے ساتھ دیکھو گے

آفتاب اقبال شمیم

گرتے ستون کا منظر

یہاں سے آگے نشیب ہے اور اُس سے آگے

غروب کی گھاٹیاں ہیں ، جن میں

لڑھک کے روپوش ہو گیا ہے

سوار دن کا

ذرا ذرا سے چراغ لے کر ہتھیلیوں پر

چلے ہیں با بالشتیے اندھیرےکے چوبداروں کے پیچھے پیچھے

قدم ملاتے ہوئے صدا پر صدا لگاتے

بتاؤ یہ آنکھ کا خلا ہے کہ وقت کاشہ نشیں ہے خالی

کہاں گیا ہے مکیں مکاں کا

کُھلا ہے دروازہ آسماں کا

یہاں سے آگے

چبوترے سے اترے کے اک عکس روشنی کا

چلا ہے بے انت بُھول کی

گیلری کی جانب

جہاں عجائب سجے ہوئے ہیں

آفتاب اقبال شمیم

مہر نیم شب

صدیوں گہرا سٹانا تھا جب اُس کو

گہنایا گیا

میں بھی خاموشی کی اس کالی سازش میں شامل تھا

میرے ہونٹوں پر بھی چُپ کے پہرے تھے

سناٹا ہی سناٹا تھا

پھر تاریخ کا اگلا ورق اُلٹایا گیا

شور اُٹھا اور

اس بے ساحل شور کے اندر سات سمندر ڈوب گئے

اور زمین جو بنجر تھی، آناً فاناً سرسبز ہوئی

پھر اُس کی آواز۔۔۔۔ صدائے آئندہ کا

ایک تناور پیڑ اُگا

جس کے سبز بدن سے جھلمل کرتی شاخیں

آوازیں ہی آوازیں

کرنوں کے جھرنے بن بن کر پھوٹ بہیں

آفتاب اقبال شمیم

منجمد ندی کی زنجیر

آہنی نظرئیے کی کمیں گاہ سے چھپ کے حملہ کرو

اور معصومیت کی سزا دو مجھے

اپنے دانتوں سے کھودو مرے جسم میں خون کی تہہ تک

بربریت کا گہر کنواں

ہاں مگر آنکھ کے طاق میں نظم کا دیپ رکھے ہوئے

آؤں گا میں درِ آسماں کے بڑے چوک سے؁اگلی رت میں شہیدوں کے تہوار پر

عہد کے سرخ پھولوں پہ اُڑتی ہوئی تتلیاں

اپنے رنگوں کے چھینٹے اُڑاتے ہوئے

شعر کے لفظ بن جائیں گی

آسماں کی طرح یہ کشادہ زمیں

اپنے سینے میں ا۔ترے ہوئے، کوہ کی میخ کو

کھینچ کر پھینک دے گی پر

اور پھر نظرئیے کی کمانی سے چلتی ہوئی سانس کا قاعدہ

پانیوں کے ہرے معجزوں کے نمو میں

بدل جائے گا

آفتاب اقبال شمیم