admin کی تمام پوسٹیں
تب ہم نہ رہے وفا کے قابل
ملک الموت ہیں دربان درِ خانۂ عشق
جس طرح آشنا کسی ناآشنا کے پاس
دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
گھر میں ہوں گھر سے نکل کر بھی نظر کی صورت
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب تڑپنے بلبلانے کا مزہ جاتا رہا
ہم آج پیر ہوئے کیا کبھی شباب نہ تھا
تو ہنس کے بولے وہ منہ قابل نقاب نہ تھا
آئینہ ایک طرف، عکس بھی حیراں ہو گا
عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا
ذرا سی بات میں ہوتا ہے فیصلہ دل کا
حشر کہتے ہیں جسے شہر ہے عریانوں کا
مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا
کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
تیور نہیں آتے ہیں کہ چکر نہیں آتا
گوری سووے سیچ پہ مکھ پر ڈارے کیس ۔ دوہا
گوری سووے سیچ پہ مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے سانجھ بھئی چوندیس
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا ۔ دوہا
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا
آیا کتا، کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار ۔ دوہا
خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار
جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا اس پار
گوشت کیوں نہ کھایا ۔ دوسخنا
گوشت کیوں نہ کھایا
؎ڈوم کیوں نہ گایا
۔۔۔
؎ڈوم یعنی گانا
جواب: گلا نہ تھا
ستار کیوں نہ بجا ۔ دوسخنا
ستار کیوں نہ بجا
عورت کیوں نہ نہائی
جواب: پردہ نہ تھا
دہی کیوں نہ جما ۔ دوسخنا
دہی کیوں نہ جما
نوکر کیوں نہ رکھا
جواب: ضامن نہ تھا
جوتا کیوں نہ پہنا ۔ دوسخنا
جوتا کیوں نہ پہنا
سنبوسہ کیوں نہ کھایا
جواب: تلا نہ تھا
انار کیوں نہ چکھا؟ ۔ دوسخنا
انار کیوں نہ چکھا؟
وزیر کیوں نہ رکھا؟
جواب: دانا/دانہ نہ تھا
وہ آوے تب شادی ہووے ۔ کہہ مکرنی
وہ آوے تب شادی ہووے
اس بن دوجا اور نہ کوئے
میٹھے لاگیں وا کے بول
اے سکھی ساجن نا سکھی ڈھول
ونچی اٹاری پلنگ بچھایو ۔ کہہ مکرنی
ونچی اٹاری پلنگ بچھایو
میں سوئی میرے سر پر آیو
کھل گئی انکھیاں بھئی انند
اے سکھی ساجن نہ سکھی چند ؎
؎چاند
سگری رین چھتیں پر راکھا ۔ کہہ مکرنی
سگری رین چھتیں پر راکھا
رنگ روب سب وا کا چاکھا
بھور بھئی جب دیا اتار
اے سکھی ساجن نا سکھی ہار
سگری رین موہے سنگ جاگا ۔ کہہ مکرنی
سگری رین موہے سنگ جاگا
بھور بھئی تو بچھڑن لاگا
اس کے بچھڑے پھاٹت ہِیا
اے سکھی ساجن نا سکھی دیا
سرپ سلونا سب گن نیکا ۔ کہہ مکرنی
سرپ سلونا سب گن نیکا
وا بن سب جگ لاگے پھیکا
وا کے سر پر ہووے گون
اے سکھی ساجن نا سکھی نون؎
۔۔۔
؎ نون یعنی نمک
بن ٹھن کے سنگھار کرے ۔ کہہ مکرنی
بن ٹھن کے سنگھار کرے
دھر منہ ہر منہ پیار کرے
بیار سے موپے دیت ہے جان
اے سکھی ساجن نا سکھی پان
انگوں موری لپٹا رہے ۔ کہہ مکرنی
انگوں موری لپٹا رہے
رنگ روپ کا سب رس پئے
میں بھر جنم نہ وا کو چھوڑا
اے سکھی ساجن نا سکھی چوڑا
آپ ہلے اور موہے ہلاوے ۔ کہہ مکرنی
آپ ہلے اور موہے ہلاوے
وا کا ہلنا مورے من بھاوے
ہل ہل کے وہ ہوا نسنکھا
اے سکھی ساجن نا سکھی پنکھا
یک نار ترور سے اتری ماسوں جنم نہ ہایو ۔ پہیلی
یک نار ترور سے اتری ماسوں جنم نہ ہایو
باپ کا نام جو وا سے پوچھو آدھو نام بتایو
آدھون نام بتایو خسرو کون دیس کی بولی
وا کا نام جو پوچھا میں نے اپنے نام نبولی
جواب: ؟
گانٹھ گٹھیلا رنگ رنگیلا ایک پرکھ ہم دیکھا ۔ پہیلی
گانٹھ گٹھیلا رنگ رنگیلا ایک پرکھ ہم دیکھا
مرد استری اس کو رکھیں اس کا کیا کہوں لیکھا
جواب: ؟
نر ناری کی جوڑی ڈٹھی جب بولے تب لاگے مٹِھی ۔ پہیلی
نر ناری کی جوڑی ڈٹھی جب بولے تب لاگے مٹِھی
اک نہائے اک تاپن ہارا چل خسرو کر کوچ نقارہ
جواب: نقارہ
نر سے پیدا ہووے نار ۔ پہیلی
نر سے پیدا ہووے نار
ہر کوئی اس سے رکھے پیار
ایک زمانہ اس کو کھاوے
خسرو پیٹ میں وہ نہ جاوے
جواب: غصہ
لود پھٹکری مردانہ سنگ ۔ پہیلی
لود پھٹکری مردانہ سنگ
ہلدی زیرہ ایک ایک ٹنگ
افیون چنا مرچیں چار
ارد برابر تھوتھا ڈار
جواب: ؟
فارسی بولی آئی نا ۔ پہیلی
فارسی بولی آئی نا
ترکی ڈھونڈی پائی نا
ہندی بولوں آر سی آئے
خسرو کہے کوئی نہ بتائے
جواب: آئینہ (آرسی)
شیام برن اور دانت انیک لچکت جیسے ناری ۔ پہیلی
شیام برن اور دانت انیک لچکت جیسے ناری
دونوں ہاتھ سے خسرو کھینچے اور یوں کہے میں آ ری
(آ ری یعنی آ رہی)
جواب: آری
سی سی کر کے نام بتایا تا میں بیٹھا ایک ۔ پہیلی
سی سی کر کے نام بتایا تا میں بیٹھا ایک
الٹا سیدھا ہر پھر دیکھو وہی ایک کا ایک
جواب: ؟
ساون بھادوں بہت چلت ہے ماگھ پوس میں تھوڑی ۔ پہیلی
ساون بھادوں بہت چلت ہے ماگھ پوس میں تھوڑی
امیر خسرو یوں کہتے تو بوجھ پہیلی موری
جواب: موری
جل جل چلتا بستا گاؤں بستی میں نا وا کا ٹھاؤں ۔ پہیلی
جل جل چلتا بستا گاؤں بستی میں نا وا کا ٹھاؤں
خسرو نے دیا وا کا ناؤں بوجھو ارتھ نہیں چھاڈو گاؤں
جواب: ناؤ یعنی کشتی
ترور سے ایک تریا اتری اس نے بہت رجھایا ۔ پہیلی
ترور سے ایک تریا اتری اس نے بہت رجھایا
باپ کا نام جو اس سے پوچھا آدھا نام بتایا
آدھا نام پِتا پر پیارے بوجھ پہیلی موری
امیر خسرو یوں کہیں اپنا نام بنولی
جواب: بنولی
بیسیوں کا سر کاٹ لیا ۔ پہیلی
بیسیوں کا سر کاٹ لیا
نہ مارا نا خون کیا
جواب: ناخون یعنی ناخن
بھید پہیلی میں کہی تُو سن لے میرے لال ۔ پہیلی
بھید پہیلی میں کہی تُو سن لے میرے لال
عربی ہندی فارسی تینوں کرو خیال
جواب: ؟
بالا تھا جب سب کو بھایا بڑھا ہوا کچھ کام نہ آیا ۔ پہیلی
بالا تھا جب سب کو بھایا بڑھا؎ ہوا کچھ کام نہ آیا
خسرو کہہ دیا؎ اس کا ناؤں ارتھ کرو نہیں چھاڈو گاؤں
؎ بڑھا جب بولیں گے تو بڑا سنائی دے گا –
؎ دیا یعنی چراغ ہی اس پہیلی کا جواب ہے –
جواب: دیا یعنی چراغ
ایک نار چاتر کہلاوے ۔ پہیلی
ایک نار چاتر کہلاوے
مورکھ کو نہ پاس بلاوے
چاتر مرد جو ہاتھ لگاوے
کھول ستر وہ آپ دکھاوے
جواب: عربی کا لفظ نار یعنی آگ
ایک نار جب بن کر آوے ۔ پہیلی
ایک نار جب بن کر آوے
مالک کو اپنے اوپر بلاوے
ہے وہ ناری سب کے گوں کی
خسرو نام لیے تو چونکی
جواب: چونکی یعنی چوکی جو بیٹھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے
ایک نار بھنورا سی کالی ۔ پہیلی
ایک نار بھنورا سی کالی
کان نہیں وہ پہنے بالی
ناک نہیں وہ سونگھے پھول
جتنا عرض اتنا ہی طول
جواب: ؟
اندھا گونگا بہرہ بولے گونگا آپ کہائے ۔ پہیلی
اندھا گونگا بہرہ بولے گونگا آپ کہائے
ایک سفیدی بہوت انگارا گونگے سے بھڑ جائے
جواب: ؟
گوری گوری بانہاں ، ہری ہری چوڑیاں ۔ گیت
گوری گوری بانہاں ، ہری ہری چوڑیاں
بانہیاں پکڑ دھر لینی رے موسے
بل بل جاؤں میں تورے موسے
خسرو نظام کے بل بل جیے
موہے سہاگن کینی رے موسے
کاہے کو بیاہی بدیس ۔ گیت
کاہے کو بیاہی بدیس رے لکھی بابل مورے
کاہے کو بیاہی بدیس
بھائیوں کو دیے محلے دو محلے ہم کو دیا پردیس
کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!
کاہے کو بیاہی بدیس
ہم تو ہیں بابل تیرے کھونٹے کی گائیاں
جد ہانکے ، ہنک جائیں
ہم تو ہیں بابل تیرے بیلے کی کلیاں
گھر گھر مانگی جائیں
ہم تو ہیں بابل تیرے پنجرے کی چریاں
بھور بھئے اڑ جائیں
ٹاکوں بھری میں نے گڑیاں جو چھوڑیں
چھوٹا سہیلی کا ساتھ
کوٹھے تلے سے پالکی نکلی
بیرن نے کھائے پشاد
ڈولی کا پردہ اٹھا کر جو دیکھا
آیا پیا کا دیس
کاہے کو بیاہی بدیس ، رے بابل!
کاہے کو بیاہی بدیس؟
میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے ۔ گیت
میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے
گھر ناری کنواری کہے سو کرے
میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے
سوہنی صورتیا ، موہنی مورتیا
میں تو ہریزے کے پیچھے سما آئی
گھر ناری کنواری کہے سو کرے
میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے ۔ گیت
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے
تو تو صاحب میرا محبوب الٰہی
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے
ہماری چنریا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیا کی پگڑیا
وہ تو دونوں بسنتی رنگ دے
جو کچ مانگے رنگ کی رنگائی
مورا جوبن گروی رکھ لے
آن پڑی دربار تمہارے
موری لاج شرم سب رکھ لے
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے
سب سکھیوں میں چادر میری میلی ۔ گیت
سب سکھیوں میں چادر میری میلی
دیکھیں ہنس ہنس ناری
اب کے بہار چادر میریرنگ دے
پیا رکھ لے لاج ہماری
صدقہ باب گنج شکر کا
رکھ لے لاجک ہماری
قطب فریدل آئے براتی
خسرو راج دلاری
کوئی ساس کوئی نند سے جھگڑے
ہم کو آس تمہاری
رکھ لے لاج ہماری نظام
رکھ لے لاج ہماری
ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں ۔ گیت
ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں
شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ
سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں
چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما
نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں
بحقِّروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسرو
سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر ۔ گیت
جب یار دیکھا نین پھر دل کی گئی چنتا اتر
ایسا نہیں کوئی عجب، راکھے اسے سمجھائے کر
جب آنکھ سے اوجھل بھیا، تڑپن لگا میرا جِیا
حقّا الہٰی کیا کیا، آنسو چلے بھر لائے کر
توں تو ہمارا یار ہے ، تجھ پر ہمارا پیار ہے
تجھ دوستی بسیار ہے ، اِک شب ملو تم آئے کر
جاناں طلب تیری کروں ، دیگر طلب کس کی کروں
تیری جو چنتا دل دھروں ، اک دن ملو تم آئے کر
میرا جو من تم نے لیا ، تم نے اُٹھا غم کو دیا
غم نے مجھے ایسا کیا جیسا پتنگا آگ پر
خسرو کہے باتاں غضب ، دل میں نہ لاوے کچھ عجب
قدرت خدا کی یہ عجب ، جب جیو دیا گل لائے کر
بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی ۔ گیت
بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
کیسے میں بھر لاؤں مدھوا سے مٹکی
پانی بھرن کو جو میں گئی تھی
دوڑ ، جھپٹ ، موری مٹکی پھٹکی
بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
مورے اچھے نظام پیا جی
سورج کی خوشبو
مِرا نام۔۔۔۔خوش بخت سورج کی خوشبو،
مِرا شہر۔۔۔۔بے آسماں ملک کے وسط میں
جس کے بازار اشیاء میں آنکھیں جھپکتی ہوئی فاحشہ
اپنی زرّیں ہتھیلی پہ رکھے ہوئے جسم کی عشرتیں
بانٹتی ہے
جہاں لوگ، اِسراع، ‘اِسراع’ کی گونج پر
یک زباں ہو کے، لبیک کہتے ہوئے
سِحر میں چل رہے ہیں
مِرا مشغلہ۔۔۔۔ ایک خواہش، لگاتار خواہش کہ لمحے کی مہمیز کا زخم
کھا کی حسِیں۔۔۔۔بے عناں، ایک ہی جست میں
جسم و جاں کی حدیں پھاند لیں
کش لگے اور روحوں کے پاتال میں جاؤں
بربط بجاتے ہوئے
کیا خبر گمشدہ جل پری میری آواز پر جی اُٹھے
اور میرا پتہ۔۔۔۔ ایک نالے کی نیلی گزرگاہ پر
اک مکاں۔۔۔۔ بے نمود اور بے نام سا
جس کے کمرے میں چُپ چاپ سایہ سا چلتا ہوا
اجنبی اور مفرور۔۔۔۔روپوش گمنامیوں کی پنہ گاہ میں
۔۔۔(دیکھتے ہو اُسے؟)
کل سویرے وہیں۔۔۔۔ دوسرے اور وہ ۔۔۔۔خشت بردار،
اہرام کی جائے تعمیر پر، پائے جائیں گے
آقا کی بھاری صدا اُس سے پوچھے گی کیا نام ہے؟
وہ کہے گا، مِرا نام۔۔۔۔خوش بخت سورج کی خوشبو۔۔۔۔
حصارِ سزا میں
جانتے ہو، کون ہی
جو کاغذوں پر پیشاں لکھ کر سدا
ایک بے میعاد وعدے کی عدالت میں
بُلاتے ہیں تمہیں
اور پھر خود ساختہ انصاف کی جنت دکھاتے ہیں تمہیں
کس قدر مسحور کرتی ہیں شبہیں باغ کی
جس میں سنگھاس پہ بیٹھا بادشاِ آسماں
شادماں۔۔۔۔
شادماں سرو و صنوبر کی کنیزیں
مورچھل تھامے ہوئے
اپنا سایہ ڈالتی ہیں شوکتوں کی دھوپ پر
اور وہ اپنی سخاوت سے رواں کرتا ہے
چشمے کا سیراب
اور تم
داستاں کے شاہ زادے کی طرح
اس نظامِ سحر نا مطمئن
لوٹتے ہو۔۔۔۔اور آگے دیو استبداد کا
فیصلہ در دست آتا ہے نظر
بستیوں کے آہنی پھاٹک کی تالہ بندیاں کرتے ہوئے
کیا کرو گے!
اپنی ناداری کا ترکہ چھوڑ کر مر جاؤ گے
اپنے ظلمت زاد فرزندوں کے نام
یا یہ دستاریں سروں سے کھول کر
دال دو گے خاک پر
تاکہ سمجھوتے کی کالی چیونٹیاں
رفتہ رفتہ۔۔۔۔ذرہ ذرہ کر کے لے جائیں تمہیں
جو ہیں اور نہیں ہیں
جمبود ٹوٹے گا جب زمیں کا
تو برق رفتار حادثوں کے سموں سے چنگاریاں اڑیں گی
نہتّے اور پُر غرور لڑکے
اُڑائیں گے کنکروں کی آندھی
کھنڈر میں اپنی ہزیمتوں کے، اُکھڑے جالوت جا گرے گا
کٹیں گی پھر شہر شہر تازہ بشارتوں کی
نئی رتوں کی مہکتی فصلیں
فضا میں بے نام مرنے والوں کی عظمتوں کے عَلم کھلیں گے
مگر یہ مفروضہ وارداتیں ہمارے جانے کے بعد ہوں گی
چلو چلیں منجمد سڑک پر حشیش پینے
طمانیت کی تلاش کرنے
گریں گے آنکھوں سے جب شرارے
اُتر کے آئے گا دیوتاؤں کے آسماں سے
سکوں کا بے سایہ دار لمحہ
چلو چلیں اتقام لینے کسی سے بیٹھک کے معرکے میں
ہدف کو ہم قہقہوں کی بوچھاڑ سے اُڑائیں
فراغ ہو تو
بچھائیں آنگن کے بیچ میں دھوپ سردیوں کی
بڑھتے ہوئے ناخنوں کو کاٹیں
پڑھیں رسالہ
کہ جس کے رنگین سر ورق پر
چھپی ہے تصویر شاعرہ کی
دراز سایہ سہ پہر
ایک لڑکی ابابیل سی
دھوپ میں دس بجے پر فشاں
ایک خوشبو کے جھونکے کے ہمراہ اڑتے ہوئے
راستے میں ملی اور اک آن میں بے نشاں ہو گئی
آنکھ میں تتلیوں سے چرائے ہوئے رنگ ٹپکا گئی
اک شرارا گرا اس کی جانب لپکتے ہوئے ہاتھ پر
انگلیاں جل گئیں
دن کی آواز مغرب میں ڈھلنے لگی
اور احساس میں
اک دھواں سا، زیاں سا دھند لکے بنانے لگا
کتنی بھاری تھیں اشیاء کی اصلیتیں
کھرورے جسم کے پربتوں پر اُبھرتا کہاں
عکس کھویا ہؤا
اور اب تیز قدموں سے سہ پہر کی
سیڑھیوں سے اترتے ہوئے
دیکھتا ہوں کہ میں ہوں کھڑا
دم بہ دم ڈوبتے شہر کی غیر مانوس شکلوں کے ابنوہ میں
وہ کہیں بھی نہیں، وہ کہیں بھی نہیں
شام ہونے کو ہے۔۔۔۔
ڈوب جا، ڈوب جا
ایک ہی دن میں دو بار سورج نکلتا نہیں
سُرخ پرچم نہر
سب نے محنت کی تقدیس کا اسمِ اعظم پڑھا
چانگ دریا کا پانی سوا نیزہ اوپر اٹھا
بے گیاہ آسماں لہلہلانے لگا
کوہِ عریاں کو بہتی ہوئی روشنی کا کمر بند باندھا گیا
دودھ کے رس سے پھٹتی ہوئی چھاتیاں
سبز پوشاک سے ڈھک گئیں
مسکرایا کساں دیوتا
بھوک کی ڈأینیں مر گئیں، بیلچوں کی
کدالوں کی ضربات سے
اور بچوں کو سوتیلی ماؤں کی غرّاہٹوں سے رہائی ملی
خشک پربت پہ تازہ رگیں پھیل کر
بن گئیں سرخیاں کل کے منشور کی
نوعِ نو جسم
کہاں سے گزرا ہوں
سارے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں
یہ دیکھ:
میرے بدن کو نیلے لہو کی دیمک نے اس جگہ سے
یہاں سے چاٹا ہے
میری آنکھیں
اُبلتے عکسوں کی دلدلیں ہیں
یہ راستے سرو منظروں کے
زمیں کی کچی فصیل پر سو ہواؤں کے قہقہے اگے ہیں
مرے تعاقب میں لشکری بے یقینوں کے
میں خود کو خود سے چھپا رہا ہوں
یہاں سے نیچے گروں تو کیسے
زمیں کے سارے نشیب میری ہی پستیوں کی
علامتیں ہیں
قدیم راتوں کے پیشواؤ!
پرانی پوشیدگی کے صنعت گروں کی خاطر
گلی کی خندق میں چُھپ کے بیٹھا ہوں
آسمانوں کو نالیوں میں ڈبو چکا ہوں
قدیم راتوں کے پیشواؤ!
میں ایک سو سالہ اژدہا ہوں
کہ اپنی صورت بدل کے فردا کے آئینے میں
پرانے بہروپ کا تماشا قدیم آنکھوں سے
تک رہا ہوں
خواب آفریں!
گزرا اِدھر سے وُہ
اِک پُر شکوہ سر کشی کے راہوار پر
تھامے ہوئے کرن کو اندھیرے کی سیدھ میں
اُس نے ہوا کو دشت سے
ساحل سے موج کو
آزاد کر دیا
مضمون دہر سے
بے حاشیہ سطور کی چنگاریاں اُڑیں
اِک خواب کی شگفت سے موسم بدل گیا
دیکھا گیا سپہر تصوّر کے اوج پر
منظر طلوع کا
امکان کی منجنیق سے چھینٹے الاؤ کے
برسے فیصل پرتحریر حرفِ گُل ہوا لوحِ بہار پر
الٹا ورق ہوا نے زمیں کی کتاب کا
دیکھا گیا دیارِ تمنا کے آس پاس
لمحے کو بے لباس
اک برق تھی کہ پشتِ سیاہی سے کُود کر
اُتری زمین پر
غائب ہوئی تو چھوڑ گئی شب کے رُو برو
چشمِ ستارہ جُو
ریت کی پیاس
آؤ کہ چل کے رات کا لا نشہ پئیں
اک پَل کی بے پناہیاں
بے انت آسماں
ہم کو دبوچ لیں
دھچکا ہوا کا بند کواڑوں کو کھول دے
نکلیں حویلیوں سے نظر بند لڑکیاں
بے حُسن منظروں کی سزا وار آنکھ کو
آزادیاں ملیں
رونق کا اک شرر
بس دھوم سی مچا دے فنا کی فصیل پر
پھر اس کے بعد فرش پہ، چاہے تو گر پڑے
آئینہ خواب کا
یہ کیا کہ آپ اپنا تماشا بنے ہوئے
ہم دوسرے کے خفیہ اشارے کے سحر میں
ایام کی بساط پہ چلتے رہیں سدا
اپنے خلاف جنگ کسی اور کی لڑیں
رستے کی قوس پر
جینے کی آس نیم دریدہ لباس میں
دائم کھڑی ہوئی
عریانیوں کی ڈھلکی ہوئی بھیک دے ہمیں
آنکھوں کی تشنگی
اک خوشنما سراب کا جلوہ انڈیل دے
صحرا کی اوک میں
بے وعدہ عمروں کے بن باس میں
آج بھی فرشِ شبِ دیر بز پر
آسمانوں کا بہشتی دھوپ کا چھڑکاؤ کرنے آئے گا
اور دوشیزہ ہوا کی نرم و نازک انگلیاں
کھول کر نظمِ مناظر کی کتاب
رنگ و خوشبو، نور و نغمہ کے ورق اُلٹائیں گی
جسم کے آنگن میں پھیلے گی شفق کی سنسنی
آج بھی اپنے دریچے سے اُسے جاتے ہوئے دیکھوں گا
دفتر کی طرف
اور اس لمحے کے پس منظر میں آئیں گی نظر
لڑکیاں جو رات کے سپنوں کے گلدستے لئے
صبح دم آتی تھیں رو دِنیل پر
جب اجالا دِل کے مندر میں بجاتا تھا سنہری گھنٹیاں
تو گلابوں کی لچکتی ٹہنیاں
عکس اندر عکس پانی میں بہاتی تھیں نیازیں
اپنے پیاروں کے معطر نام پر
اور چکنائے ہوئے تانبے کی رنگت کے بدن
گُد گُدی محسوس کرتے تھے کسی کے لمس کی
بھیجتے تھے ایک پیغامِ تصوّر۔۔۔۔
ایک سندیسہ کرن کی لوچ سے لکھا ہوا
بادِ صبا کے ہاتھ کل کے وصل کا
اور میں دیکھوں گا اُس کو آج بھی سہ پہر کے رستے سے گھر آتے ہوئے
ایک خالی پرس اپنے نیم جاں کندھے سے لٹکائے ہوئے
اُس کی آنکھوں میں نظر آئے گا
بے اقرارلمحہ۔۔۔۔جانے کتنی دیر سے ٹھہرا ہوا
اور چوبی انگلیاں تھامے ہوئے ہوں گی
کسی تقدیس کی خوشبو،
کسی بے نام سپنے کی کتاب
مُنکروں کے درمیان
مضطرب ذات کہیں
سچ کا تعویذ اتارے نہ مرے بازو سے
اور میں تیرے فسوں میں آکر
اسمِ زر پھونکتی آواز کے ہمراہ چلوں
شر کا شہر رواں ہے جیس
اپنے انکار کی مدہوشیوں کے دائرے میں
میں شفق زاد اجالے کا امیں
تیری تاریکیوں کے تنگ کنوئیں کے اندر
اپنی گونجحوں کا بھنور بن جاؤں
میرے انگوٹھے پر
روشنائی نہ لگا آج کے سمجھوتے کی
میں گزرگاہ تمنا کا مسافر ہوں مجھے جانے دے
زادِ آوارگی کافی ہے مجھے
اس ہوا زار سے گلدستہءِخوشبو لے کر
جب میں دورانِ سفر فردا سرا میں اتروں
اہلِ نوشہر سے یہ کہہ تو سکوں
لوَ تمہارے لئے اِک پھول بچا لیا ہوں
حبس کی خواب گاہ سے
ہوا شرارت سے روز آکر بٹن دباتی ہے
اور اندر
ذرا سی آواز گونجتی ہے
وُہ دائیں کھڑکی سے اپنے چوبی بدن پہ رکھا ہوا کسی کا
بناوٹی سرنکالتا ہے
ہمیشہ یکساں جواب دیتا ہے
دیکھ: اے کوہِ سبز کی رہنے والی لڑکی
ابھی ضرورت ہے۔۔۔۔ ہم حویلی میں
روشنی کو
سکھائیں آداب ظلمتوں کے
ابھی یہ دروازہ بندشوں کا
نہیں کھلے گا
ہم اپنے دشمن نہیں کہ میعادِ تربیت میں
خلل کو تسلیم کی سند دیں
یہاں سے جاؤ
یہ چار دیواریوں کا پہرہ
یہ حبس خائف نہیں کسی سے
جمود۔۔۔۔ ہییت خرابیوں کی
تم اپنے دستِ سبک سے کیسے بدل سکو گی
کہیں سے آندھی کا زور
طواں کا غلغلہ اپنے ساتھ لاؤ
آئینہ نما
یہ جنگل
کس بے معنی سفاکی کے اندھیرے سے
ٹوٹ کے بے ہییت ہوتے اس موسم میں
بے بخشش ہاتھوں کی جانب تکتا ہے
دیکھ! اکارت جاتی سرد صدی کے منظر نامے میں
نخلِ بے تقدیر کھڑا ہے
بھوک کے سناٹے میں گرتے پتے پر
اس کے اپنے نام کے آگے
میرا نام بھی لکھا ہے میں کہ ان بے اشک آنکھوں سے
اُس کی خاطر
اپنے کل کی ظلمت کے امکان کی خاطر
ایک کرن کی خواش خوابی پیدا کرنے سے قاصر ہوں
میری دنیا کے مرکز میں ڈھیر لگا ہے سایہ سایہ لاشوں کا
اور زمستاں کا سورج اس پربت کے
لمبے سائے ڈال رہا ہے خودمحصور مکانوں پر
گماں کی منطق
دریا کے گہرے باطن میں
نادیدہ انبوہ پسِ انبوہ رواں رہتا تھا لیکن
سطحِ آب پہ آکر جو معروف ہوئیں وہ اسم نما لہریں کتنی تھیں
اور گہر
جو ساحل کی منظر گاہوں میں
ایک منور لمیے کی انگشت حنائی میں چمکا
وہ گم نامی کی ظلمت میں
بسنے والے ہم زادوں سے کیوں بچھڑا تھا؟
اور پرندہ صحرا کا
اپنی بے مشہو صدا کے سناٹے میں ڈوبا تھا
کیوں ڈوبا تھا؟
اور گلِ رونق پر اُمڈی آنکھوں نے
غفلت کی بے مہری سے
سبزے کو ہر آتے جاتے موسم میں پامال کیا
آخر کیوں؟
شاید یہ امکان کی اپنی منطق ہے
شاید ہر شے
یکسا دہرائے جانے والے فعلوں کی زد میں ہو
کیا معلوم کہ
اس جہور کی بے نام آور آبادی
جس میں ہم بھی شام ہیں
ہستی کی دانست میں ہو
رونق کا شگون
دھوپ مدھم تھی
ہوا کی منجمد شاخوں سے سانسیں توڑنا دشوار تھا
اور چوبَ خشک سے لٹکے ہوئے پتے کی آنکھ
اپنے آئینے میں تکتی تھی ہمیں
ہم تہی دستوں نے گلیوں کے خس و خاشاکگھر کے صحن میں جمع کئے
جسم کی دح سے مٹ جانے سے پہلے
خون کے گرتے شرارے سے اُگایا
سبز موسم کے الاؤ کا شجر
منظرِ روپوش کے آثار سے
سب کی آنکھوں کی گزرگاہیں معطر ہو گئیں
اور ہم نے نارسا پیغام بھیجا آسماں کے نام پر
اے خدا!
اب نہ آئے بادزاروں کی ہوا
مشرق و مغرب کے پھیلے فاصلے کی سمت سے
ورنہ ان چنگاریوں کے پھول گلشن کو جلا سکتے بھی ہیں
دُورنما روشنیوں کا خوف
کانچ کی کوئی چیز کہیں پر گر کر چکنا چُور ہوئی
نابینا اپنے سائے سے ٹکرایا
آنکھیں، آنکھیں۔۔۔۔ ہر سو آنکھیں
اوپر رات کا گہرا بادل
اُمڈا ہے
پرنالوں سے بہتا ہے
کالا شور اندھیرے کا
کوئی شاید
جسم کا بھاری بوجھ اٹھائے نکلا ہے
خود سے بات کرے تو خود بھی سن نہ سکے
پونچھ رہا ہے
بھیگے ہاتھ سے پیشانی پر
لکھا حرف مقدر کا
جیسے یوں بچ جائے گا وُہ بہنے سے
دھوپوں کی طغیانی میں
خود کلامی کے کٹہرے میں
یہ ہے تشخیص اندیشہ۔۔۔۔ بتا کیا ہے؟
گزرگاہوں میں کیوں ہر سو وبا سایوں کی پھیلی ہے
یہ کیسی گردشیں ہیں شہر میں یکساں تغّیر کی
مسیحا بے شفا موسم کا نسخہ
زرد پتے کے لئے تجویز کرتا ہے
نہایت دردمندی اور دل داری سے
نبضِ شاخ پر وعدے کی نازک انگلیاں رکھ کر
وہ اسمِ صبر پڑھتا ہے
بڑے رقّت زدہ لہجے میں کہتا ہے
ہم اپنی روح کے بے آسماں قلزم میں
اپنے جسم کے تختے پہ بیٹھے ہیں
ہمیں
ممکن بھی ہے، زورِ ہوا ساحل پہ لے آئے
وگرنہ سراٹھاتی موج کا انداز
یوں ہے جس طرح جلاد نے تلوار سونتی ہو
اگر ہونا، نہ ہونا حادثہ ہے یا مقدر ہے
تو پھر اپنی حسوں میں
بے سبب ہیجان پیدا کر کے کیا لو گے
سنو! اس چشم کم بینا سے ایسی دوریوں کو دیکھنے کی
خواہشیں اچھی نہیں ہوتیں
عجب بے اعتدالی ہے صور کی
کسی نیاتہ جنت کے سپنے دیکھتے رہنا
یہ سایہ جو تمہیں آزار لگتا ہے
ہمیشہ دھوپ کے ہمراہ آتا ہے
جنم کے ساتھ وابستہ ہیں سارے سلسلے غم کے
نہ دو خود کو یہ ایذا، یہ سزا
بے اطمینانی کی
اسے آتا ہے اپنے فائدے کی منطقیں
ایجاد کر لینا
یہ بے اقدار مجلس
منعقد ہوتی رہے گی تا ابد اس کی صدارت میں
مرا آدرش سورج ہے
میں شب گلشنوں سے قمقموں کی روشنی میں
پھول کیں توڑوں
یہ صلحیں میری فطرت کے منافی ہیں
یہ اُس کا فیصہ پستی میں رہنے کا
زمیں کے آسماں کی سمت اٹھنے کے پرانے خواب کی
تردید کرتا ہے
اُدھر وُہ نظریے کا جال مجھ پر پھینکتا ہے
اِس طرف
اس منفعت خواہوں کی بستی میں
مجھے مجھ سے جدا کر کے
ہدایت کوئی دیتا ہے
مجھے بہتے ہوئے بازار کے گرداب زر میں ڈوب جانے کی
انا کا آخری قلعہ
جہاں کا ایک ہی درپستیوں کی سمت کھلتا ہے
جہاں سے میں اگر چاہوں
اُتر سکتا ہوں اس انبوہ میں
نااجنبی ہو کر
مگر یہ روشنی دل کی
مجھے آنکھیں لٹانے کی اجازت ہی نہیں دیتی
ڈوبتے پتھر کی صدا
گیت کا خیمہ ہوا میں گر پڑا
آخری طائر صدا کی اُوس پتوں پر گرا کر اُڑ گیا
اپنے اندر موڑ مُڑتی آہٹیں
سو گئی ہیں گوش کی دہلیز پر
راستے آنکھوں پہ بازو رکھ کے ہیں لیٹے ہوئے
اُڑ رہے ہیں دائروں میں
گم شُدہ سمتوں کے پیلے گردباد
عزم کی تحریر پر کالی ہوس کی روشنائی گر گئی
ریزہ ریزہ نور کے چھینٹے اُڑا کر گم ہوا
آسماں کا عکس گدلی جھیل میں
اور میرے گرد سنّاٹے کا شہر
بے سماعت، بے زباں۔۔۔۔
میں کہ لامرکز کھڑا ہوں
ڈوبتی بینائیوں کے درمیاں
کس کو پہچانوں، کِسے آواز دوں
نارسیں
اُسے عکسوں سے بھیگی آنکھ میں وہ ڈھونڈتا ہے
جو لہو کی سرزمینوں میں
ابھی نایافتہ ہے۔۔۔۔ کون ہے وہ؟
کوئی لڑکی ہے کہ عریانی کا کوئی لمحہ ہے؟
عجب کیا
ہو اُسے شوقِ سماعت پانیوں کے شور کا
جس پر کسی گزرے زمانے میں
کسی نے باندھا تھا
وہ پُشتہ اُس کے آدم جسم سے اونچا۔۔۔۔ محیط اندر محیط
اُس سے بلند ہونے سے پہلے گر گیا ہو گا
وہ اپنی زرد پرچھائیں کی خندق میں
کسی کو ڈھونڈتا ہے
کونسی آواز ہے جس کا تعاقب کر رہا ہے
اور کیسی شام کے حلقے میں آ کر
ڈوبتا جاتا ہے
کتنی دُوریوں سے تک رہا ہے اپنے مشرق کو
مگر وسعت
نطر کی راہداری سے اُسے کیسے دکھائی دے
کسی لمحے کی آزادی
کبھی شاید اُسے اپنے تشدد سے رہائی دے
گمان سے پہچان تک
کلی کی اوٹ سے ا۔س نے کیا اشارا مجھے
میں مُسکرایا
مساموں میں بجلیاں کوندیں
لہوکے دشت میں ٹاپیں سنائی دیں مجھ کو
گلابیاں سی ہوا میں دکھائی دیں مجھ کو
میں اپنی نظم بنا اور خود کو پڑھنے لگا
ہوا میں اُٹھتی ہوئی سیڑھیوں پہ چڑھنے لگا
گماں ہوا کہ قبا کھول دی ہے ساعت نے
بھنور نے سیپ کو پانی کی طشت پر اُلٹا
اندھیرا فاش ہوا روشنی کے بھید کھلے
عجیب وسعتیں پھیلیں خدائیوں کی سی
مٹھاس گھلنے لگی آشنائیوں کی سی
اُفق نے جھیل کو سمٹایا اپنی باہوں میں
تو زور زور سے کشتی کی سانس چلنے لگی
سفر کا نغمہ چھڑا بادباں کی دھڑکن پر
پیام آئے مجھے میری اپنی خوشبو کے
حیا سے سمٹی ہوئی اک صدا کی سرگوشی
مجھے بلانے لگی
پلٹ کے دیکھا تولہکتے ہاتھ کسی نیم وا درچے میں
ہلا رہے تھے بلاوے مِرے حوالوں کے
گلی کے موڑ پہ پہلا درخت پیپل کا
لپٹ گیا مجھ سے
میں بے پناہ کشش کی لپیٹ میں آیا
برس کے بوند گری، اشک ٹوٹ کے ٹپکا
قدیم اصل کے انبوہ کے سمندر میں
ہری نظم
ہم نے وقتوں کی فہرست میں نام ان کا لکھا
جو ہمارے وفادار تھے
اور ان کا لکھا
سبز سچائیاں جن کے تازہ لہو سے مہکتی رہیں
جن کے لہجے میں فردا کا اقرار تھا
اور جو راستے میں پڑی سلوٹیں
اپنے دکھ کے گرانبار قدموں سے ہموار کرتے رہے
کل نئے وقت کی دھوپ تاریک قلعوں کو مسمار کرتے ہوئے
پھیل جائے گی بے انت آزادیوں کی طرح
اپنی مٹی سے ’’اوینس‘‘ اٹھے گا جب
اور جب تیسرے شہر کی
زرد نسلیں، سیہ فام آبادیاں
لکھ چکیں گی نیا عہد نامہ نئے وقت کا
تو زمیں گنگنانے لگے گی ہری گھاس کی اُس ہری نظم کو
جس کے مَیں اور تُو اور وُہ لفظ ہیں
بول ہیں
کہانی
اے سہیلی بتا!
جسم کی یاترا کر کے آئی ہے تُو
موتیے کی ہنسی سے مہکتے ہوئے تیرے گُلنار چہرے پہ
شکنوں میں لکھے ہوئے
بید کے شبد پڑھ کے سناؤں تجھے؟
(اے سکھی! انت کا بھید کس پہ کھلا ہے کبھی)
کیا بتاؤں کہ اُن درشنوں سے
مِری آنکھ سیراب ہو کے بھی
پیاسی رہی
ہاتھ کا لمس ایسا تھا
ہر پور سے دیپ کی لو لپکتی تھی ہر سانس میں
تھرتھری سی کسی ان سُنے گیت کی
کیا بتاؤں سکھی! کس طرح دل دریچے کھلے
اور پنجرے سے
احساس کی نارسائی کا پنچھی اُڑا
میں نے دیکھا سکھی
جھیل کی لہر میں
اک نئے چاند کا عکس اُگتا ہوا
اور پھر ٹمٹماتے ستاروں کی پریاں مجھے
کل کے سپنوں کے آکاش پر لے گئیں
اسے سکھی! اور پھر یوں ہوا
جب سویرے کی پہلی کرن نے جگایا مجھے
گاؤں کا راکشس
جانیے کونسی سمت لے جا چکا تھا انہیں
میں تو چاہت کی ہاری وہیں
مر گئی
اے سہیلی بتا! دُکھ کی بپتا سناتے ہوئے
تُو بڑی سخت جاں ہے کہ
روئی نہیں
ہاں۔۔۔۔ مجھے کل کی سچائیوں پر بھروسہ جو ہے
دُکھ کے پردیس سے
دیکھنا! شیام پیارے ضرور آئیں گے
اعلان نامۂ بیروت
دیکھ! یہ وسطِ بیروت کا
آخری موچہ ہے جہاں میں کھڑا ہوں مگر
ان فضاؤں میں بارود کی آتشیں آندھیوں کا ہدف
میں اکیلا نہیں
میرے پیچھے نظر تا نظر پُرسکوں لہلہاتی ہوئی بستیاں
(جن میں میرے لئے ایک بھی گھر نہیں)
جبر کی زد میں ہیں
دن کی شاخوں سے ٹوٹے ہوئے برگ
بکھرے پڑے ہیں مِرے سامنے
جن کا تازہ لہو
میری خندق کے حلقوم تک آگیا ہے
کہ یہ آخری معرکہ۔۔۔۔ اسفلِ ارض سے آسماں کا
دفاعِ ضمیر جہاں کا۔۔۔۔ مرے ڈوبنے تک لڑا جائے گا
کوئی اپنی رگیں کھول کر میری تائید کرنے اُٹھے
اور کوئی سخی مرد اپنا زرِخوں لُٹانے کو تیار ہو
جو مِرے بعد میری جگہ
میری بندوق تھامے ہوئے ایستادہ رہے
اور کل کے کٹہرے میں جب آج کے
یہ سلاطین ، یہ دیوتا
بے ضمیروں کی صف میں کھڑے فیصلہ سُن رہے ہوں
تو وہ خلقتوں کو
زمیں سے زمیں تک
نئی، ایک ہی ملکت کے اُبھرنے کا پیغام دے
جس کے خورشیدِ فردا نما برج پر
وہ لہو میں نہائی ہوئی نسل کے
خواب فردا کی پرچم کُشائی کرے جس میں بے خانماں، ہجرتوں کے سفر میں
بھٹکتے ہوئے قافلوں کو
ارادے کی آزادیاں پیش کرنے کی تقریب پر
ہرکفِ شاخ کو
دستِ موسم
گلُوں سے حناوی کرے
نارسیدہ لمحے کا بلاوا
زید! یہ کیسے پھول ہری آشاؤں کے
دن کے صحن میں کھلتے ہیں
نیم جنوں کی خوشبوئیں
سینے کے صفحے پہ نقش بناتی ہیں
بے مفہوم، شکستہ خط تحریروں کے
آمکتب سے بھاگ چلیں
دیکھ! وہاں پر
ریت کا ٹھہرا دریا نیلی بینائی کی
وُسعت سے جا ملتا ہے
سُنتا ہے تُو دل میں دھوپ کی دھڑکن سی؟
ایک تمّنا نامعلوم تعاقب کی
ہم سے آگے آہٹ آہٹ چلتی ہے
آدھے عرش کی دُوری سے
دیکھ! پتنگیں کٹ کر ڈولتی جاتی ہیں
پیچھے پیچھے
ریلے ہی ریلے میں اُٹھی باہوں کے
کیا معلوم ہوا کا پرچم کس خوش بخت کے ہاتھ آئے
آہم بھی یلغار کریں
پھر کیا
وہ ہم دونوں سے قدآور بھی ہیں، آگے بھی
خواب در خواب
دیکھئے
دائرہ در دائرہ۔۔۔۔ ایک سے پیلے دنوں کو
ایک جیسی ظلمتوں میں ڈوبتے
طائروں کو دُور کی اونچائیوں سے لوٹ کر اپنی طرف آتے ہوئے
منظروں سے گرد کی چادر کو بے ہیجان ہاتھوں سے ہٹا کر
دیکھئے
سبز دن کی شاخ پر دلدار چہروں کے گلاب
جوزیاں ہوتے ہوئے احساس کی سہ پہر میں پرچھائیاں
بنتے رہے
دھونڈئیے
اُن بستیوں کو
جن میں سورج بھیجتا تھا روز صبحوں کا پیام
کون تھے، وہ کون تھے
جن کی آنکھوں پر اُترتے تھے صحیفے خواب کے
اور خود سے پوچھئے
اُن امنگوں سے دھڑتی ساعتوں کے بیج
کن بنجر زمینوں پر گرے
حشک سالی کیا ہماری عُمر کا مقدور تھی؟
یہ بھی ممکن ہے
ہماری جستجو سے دُور نادریافت کردہ منطقے موجود ہوں
جو اچانک منکشف ہو جائیں کل کی آنکھ پر
اور ہرکارہ ہمارے بے پتہ گھر پر
ہمارے نام کی آواز دے
بے نوشتہ نظم کا پیش لفظ
میں کفِ دست کی اوٹ میں
سوچ کا پھڑ پھڑتا دیا لے کے چلتا ہوں
جذبوں کے جنگل میں، نعرے لگاتی ہواؤں کی یلغار میں
کیا خبر وہ تنا کی دیوی لبِ آب آئے نظر
غسلِ مہتاب کرتے ہوئے
اس کی عریانیاں
منکشف ہوں لہو کی مچلتی ہوئی لہر پر
روشنی کے کنول کی طرح
ہنِ لفظ پگھلا ہوا موم بن کے ٹپکنے لگے
اور بہری سماعت سُنے ٹوٹتی جھاگ کی تھرتھری
اور مس ہوں مِرے جسم کی وح سے
میرے امکان کی سرحدیں
جانتا ہوں کہ میں آج بھی لَوٹ آؤں گا
کالک میں لپٹی ہوئی انگلیں
بے افق، بے نشاں چاند کی سمت
تکتے ہوئے
لشکارا
بالکونی سے شادی کسی سائے نے
جھُک کے دیکھا مجھے
کون ہے؟ کون ہے؟
اور پھر سیڑھیوں سے اترتی ہوئی آہٹوں کی دبی سنسنی
ایک وقفہ
اندھیرے کے سنسان سینے کے اندر دھڑکتاہوا
بے صدا شور ٹھہری ہوئی سانس کا
در کی درزیں سفیدی کی دو مختصر سی لکیروں سے روشن ہوئیں
اور میں دل کی دہلیز پر
اپنی بھیگی ہوئی مٹّیوں، خشک ہونٹوں کو بھینچے ہوئے
در کے کھلنے کی آواز کا منظر
واپسی کی گزرگاہ پر
دُور ہوتی ہوئی چاپ سُنتا رہا
اجنبی
وہ لڑکا شاہزادہ سا
جسے بے نام خوشبوؤں کی آوازیں
تصّور کی زمینوں میں سدا آوارہ رکھتی تھیں
جسے گھر سے گلی سے مدرسے تک
تربیت نے
قاعدے کی تال پر چلنا سکھایا تھا
وہ کنج خواب کا حجلہ نشیں
خواہش کے روزن سے
سمندر کے اُفق پر
دیکھتا تھا خواب اُڑتے بادبانوں کے
تمسخر روشنی کا دن کے چہرے پر
وہ لڑکا شاہزادہ سا
جسے بے رشتہ رہنا تھا ہمیشہ
شہر اشیا کی ثقافت میں
کسے رعنائیاں اپنی دکھاتا
کس پہ کشفِ دلبری کرتا
کسے پہچانتا
کیسے جگاتا انگلیوں کے لمس سے
آواز کی خوشبو سے
اشیا میں
حرارت آشنائی کی
وہ لڑکا شاہزادہ سا
جبیں کی لوح پرکل کی جزائیں
لکھتا رہتا تھا
مقدم زخم کا
خفیہ پتے ممنوعہ رستوں کے
وہی ہر روز کے مضمون میں
لُکنت خالی جگہوں کی
تحّیر لفظ سے ٹوٹے ہوئے معنی کے رشتے کا
وہ لڑکا شاہزادہ تھا
کسی موعود و نامولود دنیا کا
منظر کا خلا
ماں! آ دیکھ نا آنگن میں
کرنوں کی پیلی چنبیلی بکھری ہے
منڈیروں پہ کیا کیا نقش پرندوں کے
چڑھتے دن نے کاڑھے ہیں
پودے۔۔۔۔ کومل تانیں سی
ہریالی کے گیتوں کی
گلیوں کے میلے میں شور ہے بچوں کا
آس کا بابا
رنگارنگ غبارے لے کر آیا ہے
اٹھ نا! کیا تو رحل کے آگے
ہاتھوں کا کشکول اٹھائے
دن کے خاکستر ہونے تک بیٹھے گی؟
آخر کب تک مانگے گی
دُکھ سے گدلائی ظلمت کے آقا سے
جھاڑو سے اُڑتی مٹی کے مولا سے
دن کے موتی جن کو اس آنگن میں تو کھو بیٹھی ہے
جن کے بدلے
اُس نے اپنی بخشش سے بھر ڈالا ہے
تیری رات کی جھولی کو
اگلے روز کے سپنے سے
افریقہ۔۔۔ اگلے محاذ پر
عشر نے دھاوا بولا ہے
دیکھ! سفید انسانیت کے خیموں پر
پنجے سخت طنابوں کے
جنگل کے محکوم بدن پر ڈھیلے پڑتے جاتے ہیں
کل کے طبل پہ چوٹ پڑی ہے
دیکھ! تڑپتی شہ رگ کی
ہر ہر بستی میں مینار الاؤ کے
روشن ہوتے جاتے ہیں
کل آزادی کی ہریالی پھوٹے گی۔۔۔۔ اور یہ بیلیں
پیڑوں کا رس پینے والی نیلی بیلیں
جڑ سے کاٹی جائیں گی
دیکھ! وہ ٹوٹا (قلعے جیسا)
اور اک جالا مکڑے کا
پرچم سی آنکھیں پربت پہ نصب ہوئیں
امبے او کے ہاتھ میں دستاویز ہے
کل کے سپنوں کی
چکور دستک اور صلیب
جب جسم تراٹیں مارے گااور روح پچھل پائی کی طرح پچھواڑے میں
چِلاّئے گی
جب ریت کی پیاس سلیٹی سی، ہونٹوں کی پپڑی کے نیچے
ایسا کہرام مچائے گی
کہ بیٹے اپنے باپوں کی پہنائی ہوئی زنجیروں کو
ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں گے
اُس وقت کے موسمِ فردا میں
سلوٹ سلوٹ چہرے والا۔۔۔۔ تاریک زمانے کا کاہن
گھر گھر میں سچ سندرتا کی
نشری آواز لگائے گا
ترمیم کے معبد کے اندر
تربیت کے رنگین پیویلین کے نیچے
کچھ تازہ بھینٹ کی خوشبوئیں
کچھ مخفی راگ کی سُرتانیں
سلگائے گا
سب آئیں گے
لے لے کر آنکھ ہتھیلی پر سپنے اپنے
پھر اگلے دن کے چوک پہ ہم
خود اپنے آپ تماشائی
سرکس کے چیتے دیکھیں گے
کھنڈر گھاٹ کا ناخدا
پھر اُتارا زمیں کے سلگتے ہوئے جسم سے
دستِ اسرار نے
دھوپ کا سو جگہ سے پھٹا پیرہن
اور آنکھوں میں چھلکیں اندھیرے کی عریانیاں
ٹمٹماتے چراغوں نے دیکھا مجھے
بے نشاں رونقوں۔۔۔۔ ایک گزرے ہوئے روز کی خوشبوؤں کے تعاقب میں
بھٹکے ہوئے
کتنے گہرے خلا پیش منظر میں تھے
شام کی بیٹھکیں کس لئے میہمانوں سے خالی ہوئیں
یار لمبے سفر پر یہاں سے کہاں چل دئیے
موسموں کے وطن کی مسافر ابابیل کا آشیانہ یہاں
آج ہے، کل نہیں
میں دنوں کے پلندے میں خالی ورق جوڑ کر
سوچتا ہوں یہ ہونے کا اندازمیرے حسابوں میں ہے
وہ جو انگلی پکڑ کے مجھے ساتھ لایا یہاں
منظروں، موسموں کے پھریرے اڑاتے ہوئے
بعد میں
بھول کی ٹوکری میں مِرے خول کو پھینک کر
بے دھیانی میں
مجھ سے زمانے سے آگے نکل جائے گا
نیم اجنبیت کے پُل پر ایک شام
یہ کم کم رنگ، یہ برسے ہوئے بادل کے ٹکڑے سے
مری آنکھوں کے خالی آسماں پر
کتنے برسوں سے معلّق ہیں
یہ کیسی خوشبوئیں ہیں جو کہ جینے کی گلابی
چسکیوں میں مجھ کو رک رک کے پلاتی ہیں
یہ رشتے کیا ہیں
کیوں پتا شجر سے ٹوٹ جاتا ہے
یہ چاہت کی ہوس جہدِ بقا کے سیپ میں پلتی ہے
یا کہ سچ کا موتی ہے
مِری آنکھیں کھُلی ہیں
لیکن اتنی کیوں نہیں کھُلیں
کہ ظرفِ لفظ میں جھانکوں
خداوندا! تری کوتاہ دستی،
مجھے جینے نہیں دیتی مجھے مرنے نہیں دیتی
میرِ نابلس
کہا اُس نے مجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں
لہو میں لہرئیے سے ڈالتی بے لفظ سرگوشی کے لہجے میں
گواہ رہنا
میں اتنی دُور سے چل کر تمہارے پاس آیا ہوں
اگرچہ وہ میری ٹانگیں
دھماکے سے اُڑا کر مطمئن ہوں گے
انہوں نے سچ کے شاہد کو اپاہج کر دیا ہے
تم گواہ رہنا۔۔۔۔ تمہارے سامنے روندا گیا ہوں
اور میں چل کر تمہارے پاس آیا ہوں
ذرا دیکھو!
گلابی روشنی بیدار آنکھوں کے اُفق پر رونما ہو کر
ضمیروں کی فضا میں رچ رہی ہے
اور اک اک روح میں
پرچم کشائی کر رہی ہےں سچ کی آوازیں
کہو! کیا بند آنکھوں میں شفق کو پھولتے محسوس کرتے ہوئے
ضمیروں میں ملامت کی رگیں اُبھری ہویء ہیں
اور مقناطیس کے حلقے میں ایک رُخ ہو رہی ہیں
سچ کی آوازیں
میں کیا کرتا!
آراکش نے
الف انا کو کاٹ دیا
اپنے سائے پر اوندھا گرنے والا
میں تھا۔۔۔۔لیکن کیا کرتا
میرے شہر کی ساری گلیاں
بند بھی تھیں متوازی بھی تھیں
تختیاں ہر ہر دروازے پر
ایک ہی نام کی لٹکتی تھیں
میں کیا کرتا
شہر کے گردا گرد سدھائے فتووں کی دیواریں تھیں
میرے نام پہ میرے آگے حائل تھیں
کوہ شمائل دیواریں
جن سے باہر صرف جنازوں کے جانے کا رستہ تھا
بند دروازے میں کرن کی درز
ظلمت کا ہر عضو ہے بیج سیاہی کا
کٹ کر پھر اُگ آتا ہے
دھوپ میں اتنی کاٹ نہیں کہ میں اُں کو
اندر سے مسمار کروں
کل وہ چہرہ مسخ تھا اتنا آج جسے
میں تصویر سمجھتا ہوں
کیا میں رات کے جادوگرکے شہر میں ہوں
جامد آنکھ کے روزن سے
دیکھ رہا ہوں جو مجھ کو دکھلاتا ہے
یا میں بے معنی دنیا میں
زندہ رہنا سیکھ رہا ہوں
شاید میں پہچان کی بھول بھلیوں میں
گم ہوں
لیکن کیا یہ کم ہے
خواب کی مشعل ہاتھ میں لے کر چلتا ہوں
روز کم شب
مری ماں میری سماعت تھی
ستارے دیکھ کر مجھ کو جگا تی تھی
کہیں ایسا نہ ہو میں فیکٹری سے لیٹ جاؤں
بسا اوقات پچھلے پہر سے پہلے
جگا دیتی تھی
میں بے خواب و بے ساعت
نکل پڑتا تھا
اب تک یا د ہے
اُن مختصر راتوں کے دن بھی کس قدر لمبے ہوا کرتے تھے
لیکن اے خُدا!
تو نے مجھے چھوٹے دنوں کی خاص بخشش سے
سدا محروم رکھا
کیوں؟
یارِ بے پروا ۔۔ سبطِ علی صبا کے نام
مجھے ملنے نہیں آیا
عظیم الشان سناٹے کی اس اقلیم میں
شاید مجھے تنہا، بہت تنہا حسن ابدال تک جانا پڑے گا
اک خلا کے ساتھ
اک بے انت دُوری کے سفر پر۔۔۔
کیوں نہیں آیا؟
ہمیشہ کا وہ سیلانی
ذرا اُس کو صدا دو
وہ یہیں
اُن خوشبوؤں کی اوٹ میں شاید چُھپا ہو
کیا خبر وہ یارِ بے پرواہ کسی چاہت کے کُنج خواب میں
دبکا ہوا ہو
ہاں صدا دو نا!
مجھے تم اس طرح کیوں تک رہے ہو
میں نہیں روؤں گا
میں بالکل نہیں روؤں گا
کیسے مان لوں وہ میرے آنے پر مجھے ملنے نہ آئے
وہ یہیں ہو گا، یہیں ہو گا
مجھے تم کل اِسی رستے پہ اُس کے ساتھ دیکھو گے
گرتے ستون کا منظر
یہاں سے آگے نشیب ہے اور اُس سے آگے
غروب کی گھاٹیاں ہیں ، جن میں
لڑھک کے روپوش ہو گیا ہے
سوار دن کا
ذرا ذرا سے چراغ لے کر ہتھیلیوں پر
چلے ہیں با بالشتیے اندھیرےکے چوبداروں کے پیچھے پیچھے
قدم ملاتے ہوئے صدا پر صدا لگاتے
بتاؤ یہ آنکھ کا خلا ہے کہ وقت کاشہ نشیں ہے خالی
کہاں گیا ہے مکیں مکاں کا
کُھلا ہے دروازہ آسماں کا
یہاں سے آگے
چبوترے سے اترے کے اک عکس روشنی کا
چلا ہے بے انت بُھول کی
گیلری کی جانب
جہاں عجائب سجے ہوئے ہیں
مہر نیم شب
صدیوں گہرا سٹانا تھا جب اُس کو
گہنایا گیا
میں بھی خاموشی کی اس کالی سازش میں شامل تھا
میرے ہونٹوں پر بھی چُپ کے پہرے تھے
سناٹا ہی سناٹا تھا
پھر تاریخ کا اگلا ورق اُلٹایا گیا
شور اُٹھا اور
اس بے ساحل شور کے اندر سات سمندر ڈوب گئے
اور زمین جو بنجر تھی، آناً فاناً سرسبز ہوئی
پھر اُس کی آواز۔۔۔۔ صدائے آئندہ کا
ایک تناور پیڑ اُگا
جس کے سبز بدن سے جھلمل کرتی شاخیں
آوازیں ہی آوازیں
کرنوں کے جھرنے بن بن کر پھوٹ بہیں
منجمد ندی کی زنجیر
آہنی نظرئیے کی کمیں گاہ سے چھپ کے حملہ کرو
اور معصومیت کی سزا دو مجھے
اپنے دانتوں سے کھودو مرے جسم میں خون کی تہہ تک
بربریت کا گہر کنواں
ہاں مگر آنکھ کے طاق میں نظم کا دیپ رکھے ہوئے
آؤں گا میں درِ آسماں کے بڑے چوک سےاگلی رت میں شہیدوں کے تہوار پر
عہد کے سرخ پھولوں پہ اُڑتی ہوئی تتلیاں
اپنے رنگوں کے چھینٹے اُڑاتے ہوئے
شعر کے لفظ بن جائیں گی
آسماں کی طرح یہ کشادہ زمیں
اپنے سینے میں ا۔ترے ہوئے، کوہ کی میخ کو
کھینچ کر پھینک دے گی پر
اور پھر نظرئیے کی کمانی سے چلتی ہوئی سانس کا قاعدہ
پانیوں کے ہرے معجزوں کے نمو میں
بدل جائے گا