admin کی تمام پوسٹیں

تم نے میری طرف نہیں ہونا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 47
فائروں کا ہدف نہیں ہونا
تم نے میری طرف نہیں ہونا
نام میرا مٹا دے ہر شے سے
میں نے دل سے حزف نہیں ہونا
ایک موتی ہی پاس ہے اس کے
مجھ سے خالی صدف نہیں ہونا
تم پیو گے تو میں بھی پی لوں گا
یونہی ساغر بکف نہیں ہونا
دیکھتی کیا ہو سوٹ کھدرکا
میں نے اندر سے رف نہیں ہونا
عشق کرنا خیال سے منصور
حسن نے باشرف نہیں ہونا
منصور آفاق

عکس میں متصف نہیں ہونا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 46
دیکھنا منکسف نہیں ہونا
عکس میں متصف نہیں ہونا
شہر میں معتبر تو ہونا ہے
شہر سے مختلف نہیں ہونا
وقت نے دیکھنا ہے آنکھوں سے
بس یونہی معترف نہیں ہونا
دل میں بس اعتکاف کرنا ہے
کعبہ میں معتکف نہیں ہونا
ہر طرف سولیاں سجی ہونگی
وقت پر منکشف نہیں ہونا
چوم لینی ہے دار بھی منصور
بات سے منحرف نہیں ہونا
منصور آفاق

مگر کچھ اس کے مسائل کا بھی پتہ کرنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 45
بجا ہے دوستو منصور کا گلہ کرنا
مگر کچھ اس کے مسائل کا بھی پتہ کرنا
بڑا ضروری ہے عشقِ مجاز میں منصور
خود اپنے آپ پہ خود کو فریفتہ کرنا
نگارِ لوح و قلم کا ہے مشورہ منصور
ہر ایک شے کا مکمل مطالعہ کرنا
بھلا دیا ہے فروغِ شعور نے منصور
لبوں سے قوسِ قزح کا تبادلہ کرنا
بس اپنی آنکھ سے اک بار دیکھنا منصور
پھر اس کے حسنِ مکمل پہ تبصرہ کرنا
یہ عمر ایک ہی پہلو میں کاٹ دے منصور
غلط ہے روز تعلق کا تجربہ کرنا
بس ایک کام نہیں آسکا مجھے منصور
شبِ فراقِ مسلسل کا خاتمہ کرنا
پھر اس کے بعد بدلنا اسے عجب منصور
تمام عمر میں بس ایک فیصلہ کرنا
جلا کے راکھ نہ کر دے کہیں تجھے منصور
یہ برقِ طور سے شب بھر معانقہ کرنا
مرے رسول کی سنت مرے لیے منصور
زمیں پہ رہ کے فلک سے مکالمہ کرنا
جنابِ شیخ کو اچھا نہیں لگا منصور
خدا کی ذات سے اپنا مصافحہ کرنا
یہ پانچ وقت جماعت کہے مجھے منصور
نماز کیا ہے زمانے سے رابطہ کرنا
یہ کیا کہ وہ جو دھڑکتا بدن میں ہے منصور
اس ایک شخص کا ہر شخص سے پتہ کرنا
منصور آفاق

ہے لاج تمہیں اے ابرِ کرم دو بوندیں تو برسا جانا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 44
کچھ پھول کھلانا خوشبو کے، کچھ نورکے رنگ گرا جانا
ہے لاج تمہیں اے ابرِ کرم دو بوندیں تو برسا جانا
باطل کی یہ وحشت سامانی مرعوب کرے حق بازوں کو
یہ رسم نہیں پروانوں کی یوں شعلوں سے گھبرا جانا
منجدھار ہے اور طوفانِ بلا،ساحل کا تصور ڈوب چلا
بس آس تمہاری ہے آقا اب نیا پار لگا جانا
ہر بے بس کی فریاد رسی ہر بے کس دل کی چارہ گری
تائیدِ محمد صل علیٰ وہ ریت ذرا دھرا جانا
مقصود نہیں ہے عیش و طرب ہلکا سا تموج کافی ہے
ہے شوق یہی دیوانوں کو کچھ پی کے ذرا لہرا جانا
جب شہرِ مدنیہ آجائے جب گنبدِ خضرا سامنے ہو
اے خوابِ تخیل رک جانا اے چشمِ طلب پتھرا جانا
منصور مدنیہ کے سپنے پلکوں پہ اٹھائے پھرتا ہے
خوشبو کی طرح اے بادصبا ہر سمت اسے بکھرا جانا
منصور آفاق

ہر مرد گفتگو میں تلخی پہن کے نکلا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 43
کیسا یہ ’’ گے ادب ‘‘ کا اِفتی مباحثہ تھا
ہر مرد گفتگو میں تلخی پہن کے نکلا
لندن کے اک کلب سے بلی کی کج روی پر
ساقی کے ساتھ میں بھی وسکی پہن کے نکلا
تم جس کو دیکھتے ہو کھلتے ہوئے ، وہ چہرہ
افلاک سے نمو کی مٹی پہن کے نکلا
کہتے ہیں چشم و لب کی بارش میں وسوسے ہیں
منصور دوپہر میں چھتری پہن کے نکلا
منصور آفاق

پھر اسی باغ سے یہ میرا دبستاں نکلا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 42
پیڑ پر شام کھلی، شاخ سے ہجراں نکلا
پھر اسی باغ سے یہ میرا دبستاں نکلا
رات نکلی ہیں پرانی کئی چیزیں اس کی
اور کچھ خواب کے کمرے سے بھی ساماں نکلا
نقش پا دشت میں ہیں میرے علاوہ کس کے
کیا کوئی شہر سے پھر چاک گریباں نکلا
خال و خد اتنے مکمل تھے کسی چہرے کے
رنگ بھی پیکرِ تصویر سے حیراں نکلا
لے گیا چھین کے ہر شخص کا ملبوس مگر
والیء شہر پناہ ، بام پہ عریاں نکلا
صبح ہوتے ہی نکل آئے گھروں سے پھر لوگ
جانے کس کھوج میں پھر شہرِ پریشاں نکلا
وہ جسے رکھا ہے سینے میں چھپا کر میں نے
اک وہی آدمی بس مجھ سے گریزاں نکلا
زخمِ دل بھرنے کی صورت نہیں کوئی لیکن
چاکِ دامن کے رفو کا ذرا امکاں نکلا
تیرے آنے سے کوئی شہر بسا ہے دل میں
یہ خرابہ تو مری جان ! گلستاں نکلا
زخم کیا داد وہاں تنگیء دل کی دیتا
تیر خود دامنِ ترکش سے پُر افشاں نکلا
رتجگے اوڑھ کے گلیوں کو پہن کے منصور
جو شبِ تار سے نکلا وہ فروزاں نکلا
منصور آفاق

ورنہ ہر زخم نصیبِ سر مژگاں نکلا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 41
آپ کا غم ہی علاجِ غم دوراں نکلا
ورنہ ہر زخم نصیبِ سر مژگاں نکلا
اور کیا چیز مرے نامہء اعمال میں تھی
آپ کا نام تھا بخشش کا جو ساماں نکلا
محشرِ نور کی طلعت ہے، ذرا حشر ٹھہر
آج مغرب سے مرا مہر درخشاں نکلا
آپ کی جنبشِ لب دہر کی تقدیر بنی
چشم و ابرو کا چلن زیست کا عنواں نکلا
ظن و تخمینِ خرد اور مقاماتِ حضور؟
شیخ کم بخت بھی کس درجہ ہے ناداں نکلا
جب بھی اٹھی کہیں تحریک سحر کی منصور
غور کرنے پہ وہی آپﷺ کا احساں نکلا
منصور آفاق

ایک جیسا کر دے مولا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 40
روشنی سے بھر دے مولا
ایک جیسا کر دے مولا
بے سہاروں ، بے کسوں کو
زندگی بہتر دے مولا
اچھی روٹی ،اچھے کپڑے
سب کو اچھے گھر دے مولا
ہرطرف دوزخ ہیں شر کے
خیر کے منظر دے مولا
بچے جتنے بھی ہیں ان کو
علم کا زیور دے مولا
ارتکازِ زر کے آگے
ہمتِ بوزر دے مولا
اِس معاشرتی گھٹن کو
نغمہِ صرصر دے مولا
نام پر اپنے نبیؐ کے
کٹنے والا سر دے مولا
شکل اچھی دی ہے لیکن
خوبرو اندر دے مولا
بس مدنیے کی گلی میں
نیکیوں کا در دے مولا
میرے پاکستان کو بھی
کوئی چارہ گر دے مولا
جان لوں منصور کو میں
چشمِ دیدہ ور دے مولا
منصور آفاق

مجھے سوال کا کیسا حسیں جواب ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 39
سفید طشت میں اک کاسنی گلاب ملا
مجھے سوال کا کیسا حسیں جواب ملا
ملی شرابِ کرم ہم گناہگاروں کو
جنابِ شیخ کو بس وعدۂ شراب ملا
یہ آنکھیں لیں جو دیکھنا نہیں ممکن
کسی مقام پہ سر چشمۂ غیاب ملا
میں سرخ سرخ رتوں سے بڑا الرجک ہوں
مجھے ہمیشہ لہو رنگ آفتاب ملا
مجھے چراغ کی خواہش ذرا زیادہ ہے
وہ رات ہوں جسے کوئی نہ ماہ تاب ملا
علوم وصل سے میرا بھی کچھ تعارف ہو
کوئی بیاض دکھا دے کوئی کتاب ملا
سلگ اٹھی ہے تہجد میں وصل کی خواہش
خدائے پاک مجھے منزلِ ثواب ملا
تُو ہار جائے گی غم کا مقابلہ پگلی
شمارِ شامِ محرم سے نہ حساب ملا
ہزار ٹیکس دئیے روڈ کے مگر منصور
میں جس طرف بھی مڑا راستہ خراب ملا
منصور آفاق

تیرا فیضان بے قیاس ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 38
جب مجھے حسنِ التماس ملا
تیرا فیضان بے قیاس ملا
گھر میں صحرا دکھائی دیتا ہے
شیلف سے کیا ابو نواس ملا
جب بھی کعبہ کو ڈھونڈنا چاہا
تیرے قدموں کے آس پاس ملا
تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا
تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
بس وہی مرتبہ شناس ملا
یوں بدن میں سلام لہرایا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا
تیری کملی کی روشنائی سے
زندگی کو حسیں لباس ملا
ابنِ عربی کی بزم میں منصور
کیوں مجھے احترامِ خاص ملا
منصور آفاق

عمر بھرپھڑپھڑاتے بدن کے قفس میں تڑپنا ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 37
ایسی بے رحم خواہش ملی ایسا سفاک سپنا ملا
عمر بھرپھڑپھڑاتے بدن کے قفس میں تڑپنا ملا
وہ چراغوں سے کیسے تعلق رکھیں کیسے ہم سے ملیں
وہ جنہیں دستِ تقدیر سے تیرگی میں پنپنا ملا
کس کی آغوش کے ہیں الاؤ کہانی میں پھیلے ہوئے
برف جیسی شبوں کوکہاں سے بھلا دن کا تپنا ملا
وہ دوبارہ لے آیا ہمیں پُر سکوں پستیوں کی طرف
اک پہاڑی سفر میں عجب خیراندیش اپنا ملا
ان بزرگوں کے نقشِ کفِ پا پہ آنکھیں رکھوں چوموں انہیں
جن بزرگوں سے ورثے میں اسمِ محمدﷺ کو جپنا ملا
منصور آفاق

آسماں کے مگر ہے پاس ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 36
خاک کا ایک اقتباس ملا
آسماں کے مگر ہے پاس ملا
اپنی تاریخ کے وہ ہیرو ہیں
جن کو وکٹوریہ کراس ملا
دیکھتے کیا ہو زر کہ یہ مجھ کو
اپنے ہی قتل کا قصاص ملا
جلوہ بس آئینے نے دیکھا ہے
ہم کو تو حسنِ انعکاس ملا
میز پر اہلِ علم و دانش کی
اپنے بھائی کا صرف ماس ملا
کتنے جلدی پلٹ کے آئے ہو
کیا نگر کا نگر خلاص ملا
اس میں خود میں سما نہیں سکتا
کیسا یہ دامنِ حواس ملا
چاند پر رات بھی بسر کی ہے
ہر طرف آسمانِ یاس ملا
زخم چنگاریوں بھرا منصور
وہ جو چنتے ہوئے کپاس ملا
منصور آفاق

اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 35
شہد ٹپکا، ذرا سپاس ملا
اپنے لہجے میں کچھ مٹھاس ملا
سوکھ جائیں گی اس کی آنکھیں بھی
جا کے دریا میں میری پیاس ملا
خشک پتے مرا قبیلہ ہیں
دل جلوں میں نہ سبز گھاس ملا
آخری حد پہ ہوں ذرا سا اور
بس مرے خوف میں ہراس ملا
آ، مرے راستے معطر کر
آ، ہوا میں تُو اپنی باس ملا
نسخہء دل بنا مگر پہلے
اس میں امید ڈال آس ملا
ہے خداوند کے لیے منصور
سو غزل میں ذرا سپاس ملا
منصور آفاق

میں نہیں دیر تلک تلخیاں رکھنے والا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 34
یاد کے طاقچہ میں بجلیاں رکھنے والا
میں نہیں دیر تلک تلخیاں رکھنے والا
مجھ کو اس وقت بھی ہے تیز بہت تیز بخار
اورمرا کوئی نہیں پٹیاں رکھنے والا
چیرتا جاتا ہے خود آپ کنارے اپنے
ساحلوں پہ وہی مرغابیاں رکھنے والا
دھول سے کیسے بچا سکتا ہے اپنی چیزیں
دل کے کمرے میں کئی کھڑکیاں رکھنے والا
پال بیٹھا ہے پرندوں کی رہائی کا جنون
جار میں اپنے لئے تتلیاں رکھنے والا
بزم میں آیا نہیں کتنے دنوں سے منصور
وہ پیانو پہ حسیں انگلیاں رکھنے والا
منصور آفاق

دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 33
صبح دم شہرِ مدنیہ کی ہوا احمد رضا
دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا
حمد کی بہتی کرن وہ نعت کی اجلی شعاع
مدحتوں کے باغ کی بادِصبا احمد رضا
زندہ و جاوید رکھتا ہے انہیں عشقِ رسول
عشق کی بابت فنا نا آشنا احمد رضا
یہ سرِ فہرست عشاقِ محمدمیں ہے کون ؟
پوچھنے والے نے پھر خود ہی کہا احمد رضا
خانہ ء تاریک میں بھر دے اجالے لفظ سے
فیض کا سر چشمۂ صدق و صفا احمد رضا
کنزالایماں سے منور صحنِ اردو ہو گیا
آیتوں کا اختتامِ ترجمہ احمد رضا
روک دیتے ہیں بہارِ حکمت و عرفان سے
بد عقیدہ موسموں کا سلسلہ احمد رضا
آسماں کی بے کراں چھاتی پہ روز حشر تک
صبح نے کرنوں سے اپنی، لکھ دیا، احمد رضا
جل اٹھے ان سے سبھی علمِ عقائد کے چراغ
راستی کا روشنی کا راستہ احمد رضا
صاحبِ علم الکلام و حاملِ علم شعور
حاصلِ عہد علومِ فلسفہ احمد رضا
عالمِ علم لدنی ، عاملِ تسخیرِ ذات
روح و جاں میں قربِ احساسِ خدا احمد رضا
وہ صفاتِ حرف کی رو سے مخارج کے امیں
محرمِ احکامِ تجوید و نوا احمد رضا
بابتِ تفسیر قرآں جانتے تھے ایک ایک
معنی و تفہیمِ الہامِ الہ احمد رضا
وہ روایت اور درایت آشنا شیخ الحدیث
علمِ احوالِ نبی کے نابغہ احمد رضا
مالکی وشافعی ہوں یا کہ حنفی حنبلی
فقہ اربعہ پہ حرف انتہا احمد رضا
علمِ استخراجیہ ہویا کہ استقرائیہ
دیدہ ء منطق میں ہے چہرہ نما احمد رضا
علم ہندسہ و ریاضی کے نئے ادوار میں
موئے اقلیدس کی اشکال و ادا احمد رضا
علم جامع و جفر کی ہر ریاضت گاہ میں
جو ہرِ اعداد کی صوت و صدا احمد رضا
وہ بروج فلکیہ میں انتقال شمس ہیں
صاحبِعلمِ نجوم و زائچہ احمد رضا
وقت کی تاریخ ان کے ہاتھ پر تحریر ہے
جانتے ہیں سرگزشتِ ماجرا احمد رضا
روشنی علمِ تصوف کی انہی کی ذات سے
کثرتِ جاں میں لبِ وحدت سرا احمد رضا
حرفِ آخر تھے وہی عربی ادب پر ہند میں
والی ء تختِ علوم عربیہ احمد رضا
علمِ جاں ، علمِ فضائلِ علمِ لغت ،علم سیر
در علومِ خیرتجسیمِ ضیا احمد رضا
آسمانِ معرفت ، علمِ سلوک وکشف میں
منظرِبدرالدجیٰ ، شمس الضحیٰ احمد رضا
صبحِ عرفانِ الہی ، عابد شب زندہ دار
مسجدِ یاد خدا و مصطفی احمد رضا
عجز کا پندار ہے میرے قلم کی آنکھ میں
جو کچھ لکھا میں نے، کہیں اُس سے سوا احمد رضا
ٹوٹے پھوٹے لفظ تیری بارگاہ میں پیش ہیں
گرقبول افتدزہے عزوعطا احمد رضا
اعلی حضرت اہلِ سنت کے امام و پیشوا
اک نگہ مجھ پہ کرم کی اک نگہ احمد رضا
منصور آفاق

آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 32
ہم میں رہتا ہے کوئی شخص ہمارے جیسا
آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا
بجھ بجھا جاتا ہے یہ بجھتی ہوئی رات کے ساتھ
دل ہمارا بھی ہے قسمت کے ستارے جیسا
شام کا وقت فقط بھاری نہیں ہے ہم پر
پھول کا چہرہ بھی ہے درد کے مارے جیسا
لے گئی ساتھ اڑا کر جسے ساحل کی ہوا
ایک دن تھا کسی بچے کے غبارے جیسا
قوس در قوس کوئی گھوم رہا ہے کیا ہے
رقص کرتی کسی لڑکی کے غرارے جیسا
شکر ہے ہم نے کما لی تھی اداسی ورنہ
ہے محبت میں منافع تو خسارے جیسا
کشتیاں بیچ میں چلتی ہی نہیں ہیں منصور
اک تعلق ہے کنارے سے کنارے جیسا
منصور آفاق

اک تغیر موسموں میں لا رہا ہے نور سا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 31
روشنی آئندہ میں پھیلا رہا ہے نور سا
اک تغیر موسموں میں لا رہا ہے نور سا
دے رہا ہے موت کے قیدی کو شاید حوصلہ
ایک روزن سے ابھی تک آرہا ہے نور سا
دیکھتا ہوں اپنی امی کے قدم اٹھتے ہوئے
چل رہی ہیں وہ یا چلتا جا رہا ہے نور سا
شام ڈھلتی جارہی ہے اک جنازے کے قریب
موت کے دربار میں کچھ گا رہا ہے نور سا
برف کے منصور طوفاں میں کرم کا گرم غار
لکڑیوں سے آگ بھی دہکا رہا ہے نور سا
منصور آفاق

قریب آیا ہے میرے وہ یار تھوڑا سا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 30
ہے اضطراب زیادہ ، قرار تھوڑاسا
قریب آیا ہے میرے وہ یار تھوڑا سا
میں جانتا ہوں کہ مصروف ہے کوئی کچھ دن
مگر یہ ہوتا نہیں انتظار تھوڑا سا
اُسی نے دست درازی کی تیری قدرت پر
جسے بھی تُونے دیا اختیار تھوڑا سا
الرجی ہے نا تجھے خاک کے مسائل سے
تُو آسماں پہ زمانہ گزار تھوڑا سا
اُسی نے روشنی لے کراُسے بجھایا ہے
دئیے نے جس پہ کیا انحصار تھوڑا سا
نمی بھی پونچھ لی قرب و جوارِدیدہ سے
اب اور کیسے کروں اختصار تھوڑا سا
وہ مسکرائی مرے التماس پر منصور
نگارِ شہر ہوا خوشگوار تھوڑا سا
منصور آفاق

ہے بہاروں بھرا اک مہینہ مرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 29
جس سے شاداب رہتا ہے جینا مرا
ہے بہاروں بھرا اک مہینہ مرا
اس کی خوشنودیوں کی کہانی رہے
ہر عمل ہر ادا ہر قرینہ مرا
کعبہِ اسمِ کن کے کہیں آس پاس
آسمانو! زمیں پر خزنیہ مرا
جسم درجسم بس بھیڑیوں کی طرح
کس نے پنجوں سے چیرا ہے سینہ مرا
کس نے پھانسی چڑھایامرے خواب کی
کون ہے جس نے لوٹا مدنیہ مرا
حیف منصور !حاصل سے محروم ہے
خون کی طرح بہتا پسینہ مرا
منصور آفاق

اک نئی کائنات سے گزرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 28
جب بھی میں کشفِ ذات سے گزرا
اک نئی کائنات سے گزرا
ہاتھ میں لالٹین لے کر میں
جبر کی کالی رات سے گزرا
آتی جاتی ہوئی کہانی میں
کیا کہوں کتنے ہاتھ سے گزرا
موت کی دلکشی زیادہ ہے
میں مقامِ ثبات سے گزرا
جستہ جستہ دلِ تباہ مرا
جسم کی نفسیات سے گزرا
لمحہ بھر ہی وہاں رہا لیکن
میں بڑے واقعات سے گزرا
لفظ میرا ترے تعاقب میں
حوضِ آبِ حیات سے گزرا
ایک تُو ہی نہیں ہے غم کا سبب
دل کئی حادثات سے گزرا
یہ بھی اِنکار کی تجلی ہے
ذہن لات و منات سے گزرا
دستِ اقبال تھام کر منصور
کعبہ و سومنات سے گزرا
منصور آفاق

روح کے اختلاط سے گزرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 27
رنگ اپنے محاط سے گزرا
روح کے اختلاط سے گزرا
عشق ڈھائیں قیامتیں کیا کیا
دل کئی پل صراط سے گزرا
روزمحشر بھی اسکے پہلو سے
میں بڑی احتیاط سے گزرا
ہر جگہ نقشِ پا ہیں کیوں میرے
کب میں شہرِ رباط سے گزرا
پھول سے قمقمے تھے پانی میں
جب میں نہرِ نشاط سے گزرا
نور کی پتیوں کی بارش میں
دل شبِ انبساط سے گزرا
میں الف کی شبیہ بنانے میں
بے کے کتنے نقاط سے گزرا
ہائے وہ جو تراشنے کے بعد
ایک سو دس قراط سے گزرا
شب گزرتی ہے جیسے یوں منصور
زندگی کی بساط سے گزرا
منصور آفاق

خواب میں بھی ہراس سے گزرا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 26
کیسے وہم و قیاس سے گزرا
خواب میں بھی ہراس سے گزرا
ہر عمارت بہار بستہ ہے
کون چیرنگ کراس سے گزرا
رات اک کم سخن بدن کے میں
لہجہ ء پُر سپاس سے گزرا
پھر بھی صرفِ نظر کیا اس نے
میں کئی بار پاس سے گزرا
رو پڑی داستاں گلے لگ کر
جب میں دیوانِ خاص سے گزرا
عمر بھر عشق ،حسن والوں کی
صبحتِ ناشناس سے گزرا
کیا کتابِ وفا تھی میں جس کے
ایک ہی اقتباس سے گزرا
مثلِ دریا ہزاروں بار بدن
اک سمندر کی پیاس سے گزرا
ہجر کے خارزار میں منصور
وصل کی التماس سے گزرا
منصور آفاق

نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 25
کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا
نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا
خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں
کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا
ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشمِ سیہ
جام ہی میں کوئی گرداب دکھائی دیتا
تُو وہ ریشم کہ مرا ٹاٹ کا معمولی بدن
تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا
دوستو آگ بھری رات کہاں لے جاؤں
کوئی خس خانہ و برفاب دکھائی دیتا
میرا کردار کہانی میں جہاں ہیرو ہے
تیرے ناول کا وہی باب دکھائی دیتا
دل میں چونا پھری قبروں کی شبہیں منصور
کیسے میں زندہ و شاداب دکھائی دیتا
منصور آفاق

کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 24
وہ بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا
کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا
بندوق کے دستے پر تحریر تھا امریکا
میں قتل کا بھائی کو الزام نہیں دیتا
کچھ ایسے بھی اندھے ہیں کہتے ہیں خدا اپنا
پیشانی پہ سورج کی کیوں نام نہیں دیتا
رستے پہ بقا کے بس قائم ہے منافع بخش
اْس پیڑ نے کٹنا ہے جو آم نہیں دیتا
اب سامنے سورج کے برسات نہیں ہوتی
دکھ آنکھ نہیں بھرتے غم کام نہیں دیتا
موتی میری پلکوں کے بازار میں رُلتے ہیں
کوئی بھی جواہر کے اب دام نہیں دیتا
اوراقِ گل و لالہ لکھے ہوئے لے جائے
جو صبحِ غزل جیسی اک شام نہیں دیتا
کرداروں کے چہروں پر چھریاں ہیں ابھر آئیں
پھر بھی وہ کہانی کو انجام نہیں دیتا
بیڈ اپنا بدل لینا منصور ضروری ہے
یہ خواب دکھاتا ہے، آرام نہیں دیتا
منصور آفاق

میں لوٹ کے آؤں گا وہ جاتے ہوئے کہتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 23
اتنا تو تعلق کو نبھاتے ہوئے کہتا
میں لوٹ کے آؤں گا وہ جاتے ہوئے کہتا
پہچانو مجھے، میں وہی سورج ہوں تمہارا
کیسے بھلا لوگوں کو جگاتے ہوئے کہتا
یہ صرف پرندوں کے بسیرے کے لیے ہے
آنگن میں کوئی پیڑ لگاتے ہوئے کہتا
ہر شخص مرے ساتھ ’’انا الحق‘‘ سرِ منزل
آواز سے آواز ملاتے ہوئے کہتا
اک موجِ مسلسل کی طرح نقش ہیں میرے
پتھر پہ میں اشکال بناتے ہوئے کہتا
اتنا بھی بہت تھا مری مایوس نظر کو
وہ دور سے کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے کہتا
یہ تیرے عطا کردہ تحائف ہیں میں کیسے
تفصیل مصائب کی بتاتے ہوئے کہتا
موسم کے علاوہ بھی ہو موجوں میں روانی
دریا میں کوئی نظم بہاتے ہوئے کہتا
عادت ہے چراغ اپنے بجھانے کی ہوا کو
کیا اس سے کوئی شمع جلاتے ہوئے کہتا
میں اپنی محبت کا فسانہ اسے منصور
محفل میں کہاں ہاتھ ملاتے ہوئے کہتا
منصور آفاق

میں پیاز ایسی کہیں صفت نہیں چاہتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 22
تری ہر پرت میں کوئی پرت نہیں چاہتا
میں پیاز ایسی کہیں صفت نہیں چاہتا
اسے رقص گاہ میں دیکھنا کبھی مست مست
مرے دوستو میں اسے غلط نہیں چاہتا
کسی ذہن میں ، کسی خاک پر یا کتاب میں
میں یزید کی کہیں سلطنت نہیں چاہتا
مرے چشم و لب میں کرختگی ہے شعور کی
میں سدھارتھا، ترے خال و خط نہیں چاہتا
فقط ایک جام پہ گفتگو مری شان میں
سرِ شام ایسی منافقت نہیں چاہتا
مرے ساتھ شہر نے جو کیا مجھے یاد ہے
میں کسی کی کوئی بھی معذرت نہیں چاہتا
منصور آفاق

مگر اب فریب کی سلطنت نہیں چاہتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 21
میں جنابِ صدر ملازمت نہیں چاہتا
مگر اب فریب کی سلطنت نہیں چاہتا
مرا دین صبح کی روشنی مری موت تک
میں شبوں سے کوئی مصالحت نہیں چاہتا
میں حریصِ جاہ و حشم نہیں اِسے پاس رکھ
یہ ضمیر زر سے مباشرت نہیں چاہتا
کرے آ کے گفت و شنید مجھ سے کوئی چراغ
کسی شب زدہ کی مشاورت نہیں چاہتا
میں کنارِ آب رواں نہیں شبِ یاد میں
کسی چاندنی سے مناسبت نہیں چاہتا
مجھے موت تیرے محاصرے میں قبول ہے
میں عدو سے کوئی مفاہمت نہیں چاہتا
شبِ ظلم سے میں لڑوں گا آخری وار تک
کوئی ظالموں سے مطابقت نہیں چاہتا
مجھے جلتی کشتیاں دیکھنے کی طلب نہیں
میں مزاحمت میں مراجعت نہیں چاہتا
مرے پاس اب کوئی راستہ نہیں صلح کا
مجھے علم ہے تُو مخالفت نہیں چاہتا
انہیں ’بھوربن‘ کی شکار گاہ عزیز ہے
ترا لشکری کوئی پانی پت نہیں چاہتا
منصور آفاق

میرے سر پہ کوئی آسماں کیوں نہیں ، میں نہیں جانتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 20
کھینچ لی میرے پاؤں سے کس نے زمیں ، میں نہیں جانتا
میرے سر پہ کوئی آسماں کیوں نہیں ، میں نہیں جانتا
کیوں نہیں کانپتا بے یقینی سے پانی پہ چلتے ہوئے
کس لیے تجھ پہ اتنا ہے میرا یقیں ، میں نہیں جانتا
ایک خنجر تو تھا میرے ٹوٹے ہوئے خواب کے ہاتھ میں
خون میں تر ہوئی کس طرح آستیں ، میں نہیں جانتا
کچھ بتاتی ہیں بندوقیں سڑکوں پہ چلتی ہوئی شہر میں
کس طرح، کب ہوا، کون مسند نشیں ، میں نہیں جانتا
لمحہ بھر کی رفاقت میں ہم لمس ہونے کی کوشش نہ کر
تیرے بستر کا ماضی ہے کیا میں نہیں ، میں نہیں جانتا
اس کے بے مہر دوزخ میں اپنی تو گزری ہیں تنہائیاں
اُس مبارک گلی کا بہشتِ بریں ، میں نہیں جانتا
کیا مرے ساتھ منصور چلتے ہوئے راستے تھک گئے
کس لیے ایک گھر چاہتا ہوں کہیں ، میں نہیں جانتا
منصور آفاق

رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 19
اے چاند پتہ تیرا کسی سے نہیں ملتا
رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا
او پچھلے پہر رات کے، جا نیند سے کہہ دے
اب خواب میں بھی کوئی کسی سے نہیں ملتا
کیوں وقتِ مقرر پہ ٹرام آتی نہیں ہے
کیوں وقت ترا میری گھڑی سے نہیں ملتا
میں جس کے لیے عمر گزار آیا ہوں غم میں
افسوس مجھے وہ بھی خوشی سے نہیں ملتا
یہ ایک ریاضت ہے خموشی کی گپھا میں
یہ بختِ ہنر نام وری سے نہیں ملتا
وہ تجھ میں کسی روز ضرور آ کے گرے گی
دریا تو کبھی جا کے ندی سے نہیں ملتا
دہلیز پہ رکھ جاتی ہے ہر شام جو آنکھیں
منصور عجب ہے کہ اسی سے نہیں ملتا
منصور آفاق

اے سمندر ! مرے آباد جزیروں میں نہ آ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 18
موج بن کر کہیں ہاتھوں کی لکیروں میں نہ آ
اے سمندر ! مرے آباد جزیروں میں نہ آ
خاک میں تجھ کوملادے گی کوئی تیز نظر
بادشاہوں کی طرح دیکھ فقیروں میں نہ آ
بند کردے گی تجوری میں تجھے تیری چمک
کنکروں میں کہیں رہ،قیمتی ہیروں میں نہ آ
جنگ شطرنج ہے ، چالوں کا سلیقہ ہے فقط
ہوش کر ، دیکھ برستے ہوئے تیروں میں نہ آ
عمر منصور اڑانوں میں فقط اپنی گزار
دام پہچان شکاری کے، اسیروں میں نہ آ
منصور آفاق

چاند ہے تُو رات کے اسباب سے باہر نہ آ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 17
پانیوں میں رقص کر، تالاب سے باہر نہ آ
چاند ہے تُو رات کے اسباب سے باہر نہ آ
سرسراتے سانپ ہیں گہری سنہری گھاس میں
جنگلوں میں پابرہنہ خواب سے باہر نہ آ
ہجر کے تاریک منظر میں یہی امکان گاہ
چاندنی سے قریہ ء مہتاب سے باہر نہ آ
اک وہی رہنے دے اپنی آنکھ میں تصویر بس
ساعتِ بھرپور سے شاداب سے باہر نہ آ
آگ دوزخ کی ہے سورج کی نگاہِ ناز میں
اور کچھ دن حجلہ ء برفاب سے باہر نہ آ
لاکھ دے دشنام شیخِ بدنسب کے کام کو
زندگی تُو ، منبر و محراب سے باہر نہ آ
ذات کی پاتال میں ہو گی بلندی عرش کی
ڈوب جا منصور کے گرداب سے باہر نہ آ
منصور آفاق

آدمی ہو گئے ہیں کیوں سستے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 16
اے با انوار خویش سر مستے
آدمی ہو گئے ہیں کیوں سستے
سنگ پڑتے نہ خوش دماغوں پر
کاش تیری گلی میں جا بستے
تیرے ہی گلستاں سے لائے ہیں
دہر کے گل فروش، گلدستے
تیرے ہی در پہ ختم ہوتے ہیں
آزمائے ہیں ہم نے سب رستے
تیرے رحم و کرم پہ زندہ ہیں
جاں شکستے دل و جگر خستے
تیری رحمت بھری نظر ہوتی
ہم غریبوں پہ لوگ کیوں ہنستے
دشت کی ریت یاد آتی ہے
ہم بھی اپنی کبھی کمر کستے
تیرے عشاق کی تلاش میں ہیں
پھر مسلمان فوج کے دستے
میں نے منصور دار دیکھی ہے
عشق پراں بود بیک جستے
منصور آفاق

اک مستقل فراق کے پہلو میں کیوں رہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 15
میرا خیال ہے کوئی پردہ اٹھا ہی دوں
اک مستقل فراق کے پہلو میں کیوں رہوں
مے خانۂ حیات میں محرم کوئی نہیں
شاید میں کائنات کا پہلا شعور ہوں
سورج کو میری آنکھ بجھا ہی نہ دے کہیں
پروردگارِ دشت ہوں پیغمبرِ جنوں
دن بھر تلاش کرتا ہوں تعبیر کس لیے
ہر رات ایک خواب کے ہوتا ہوں ساتھ کیوں
بستی سے جا رہی ہے پرندوں بھری ٹرام
تُو ساتھ دے اگر تو کہیں میں بھی چل پڑوں
کیوں آنکھ میں سجا کے سمندر کے ولولے
حیرت سے دیکھتا ہوں کسی چاند کا فسوں
کوئی نشانی میری کسی ہاتھ میں تو ہو
منصور کس کو جا کے میں سونے کا رِنگ دوں
منصور آفاق

چلتا رہوں سڑک پہ ابھی یا کہیں رکوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 14
کوئی نہیں مجھے جو بتائے میں کیا کروں
چلتا رہوں سڑک پہ ابھی یا کہیں رکوں
ممکن نہیں ہے اس سے کوئی بات ہو سکے
ممکن نہیں ہے اس کا کہیں نام لے سکوں
اس شہرناشناس میں کوئی نہیں مرا
دستک کہاں پہ دوں میں کسے جا کے کچھ کہوں
کب تک امیدرکھوں کہ اترے گا وہ ابھی
کب تک میں آسماں کی طرف دیکھتا رہوں
آنچل شبِ فراق کا اب کاٹنے لگا
میرا خیال ہے یہ ستارے میں نوچ لوں
بارش ہوا کے دوش پہ کمروں تک آگئی
گملے برآمدے کے چھپا کر کہاں رکھوں
منصور مشورہ یہی بہتر ہے دھوپ کا
اب شامِ انتظار اٹھا کرمیں پھینک دوں
منصور آفاق

سن رہا ہوں شب کی تیرہ ساعتوں کی سسکیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 13
ہیں کسی تکلیف کی کیا خوبرو تبدیلیاں
سن رہا ہوں شب کی تیرہ ساعتوں کی سسکیاں
چھڑ گئے ہیں پھر مسائل ایک کالی رات کے
آرہی ہیں یاد پھر سے زندگی کی تلخیاں
میں نے مصرع کی کلائی کو نئے کنگن دئیے
شانِ دوشیزہ سخن میں ہو گئیں گستاخیاں
آخری تاریکیاں ہیں قریہء امکان میں
گن رہا ہوں ہچکیاں پچھلے پہر کی ہچکیاں
اک اشارہ چاہئے حرفِ کرم کا صبح کو
دیدۂ تقویم میں ہیں وقت کی بے تابیاں
امتِ مرحومہ کو پھر بخش دے روحِ حیات
سربکف تیرے لئے ہے ظالموں کے درمیاں
میں نے جو منصور لکھا اُس پہ شرمندہ نہیں
مجھ سے پائندہ ہوئی ہیں حرف کی رعنائیاں
منصور آفاق

ہے علم مجھے میں کون

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 12
میں موسیٰ میں فرعون
ہے علم مجھے میں کون
میں ازلوں سے موجود
میں کُن کا آواگون
میں آپ خداکا ہاتھ
میں آپ الہی عون
پوری کب کوئی چیز
ہر ایک حقیقت پون
لیکھ بھوانی جنگشن
وقت پرانا بھون
شاعر ہوسکتا تھا
بدقسمت بھائی جون
میں بلھا میں منصور
میں کون سنو میں کون
منصور آفاق

کیا جانے کس اور گئے ہیں خوابوں کے مہمان

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 11
نکھری صبحیں ، بکھری شامیں ، راتیں ہیں سنسان
کیا جانے کس اور گئے ہیں خوابوں کے مہمان
سرمایہ ہیں تیرے سپنے ، حاصل تیرے خواب
تیری یاد کا چہرہ میری ذات کی ہے پہچان
کاش کوئی آ،تاپے اپنی نرم و ملائم شام
روح میں جلتا دیکھوں دن بھر غم کا آتش دان
کس کا چہرہ جنس زدہ ہے ، کس کا جسم غلیظ
کون زمیں کی پیٹھ پہ پھوڑا تُو یا پاکستان
تیس برس کی اک لڑکی کا جیسے کومل جسم
دوبالشت جب ہوجائے منصور سنہری دھان
منصور آفاق

چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 10
اے میری نرم گرم بہشتِ جوان سال
چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال
ہنزہ کے نور سیبو ! دسمبر کی نرم دھوپ
نارنجی کر رہی ہے تمہارے سفید گال
کچھ فیض قربتوں کے بھی ہوتے تو ہیں مگر
ہے بند پارٹنر سے ابھی تک تو بول چال
لب پر ہیں قہقہے کسی ناکام ضبط کے
دل میں بھرا ہوا ہے قیامت کا اک ملال
ہر چند گفتگو ہے توسط سے فون کے
لیکن نگاہ میں ہیں خیالوں کے خدو خال
کیا کھولتی ہو پوٹلی ان پڑھ فقیر کی
بازار سے خرید کے لایا ہوں کچھ سوال
منصور احتیاط سے چاہت کے بول، بول
لڑکوں سے اس کے کام ہیں مردوں سے اس کے بال
منصور آفاق

احتیاط و احتیاط

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 9
اس قدر یہ انبساط
احتیاط و احتیاط
دو گھروں کے درمیاں
تیغ تیور پل صراط
شیشہء جاں پھوڑ کر
بہہ گیا آبِ نشاط
آ گرے ہیں سین پر
شین کے تینوں نقاط
دوست امریکا کا وہ
اور کیا میری بساط
بڑھ رہا ہے باغ میں
موسموں کا اختلاط
وہ شکاری وہ محیط
میں گرفتہ میں محاط
منصور آفاق

اے حادثاتِ وقت کے خالق گزار خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 8
پاؤں سے دھرتی نکلی تو رکھے فلک پہ پیر
اے حادثاتِ وقت کے خالق گزار خیر
ہم لوگ ہیں زمیں پہ مسلسل کھڑی نماز
ہم نے رکھا نہیں ہے کبھی آسماں سے بیر
اس کرۂ کشش کے طلسمات توڑ دے
اے دجلۂ زمیں کے شناور ، خلا میں تیر
دنیا میں مال و زر کے سجودو رکوع سے
مسلم گزیدہ کعبہ ہے کافر گزیدہ دیر
وہ جانتے ہیں رات کی ساری کہا نیاں
سانسوں کے پل صراط پر دن بھر کریں جو سیر
منصور کہہ رہے ہیں عمل سے فلک شناس
ابلیس رشتہ دار ہمارا ، خدا ہے غیر
منصور آفاق

آنکھوں سے گرپڑے کئی نیلم کے آبشار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 7
میں جا رہا تھا دیکھنے فرودسِ بے کنار
آنکھوں سے گرپڑے کئی نیلم کے آبشار
شادابیوں کی آخری حد، وادئ گریز
پاؤں کے انتظار میں صدیوں سے اشکبار
ہلمت کی بے پناہ بلندی پہ تیز آب
پھرتا ہے بادلوں کے دریچوں میں بے قرار
لاکھوں برس قدیم گھنے جنگلوں کا کیل
اور اس کے بیچ زندگی باردو کا شکار
کیوں صحنِ شاردا میں ہوئی بدھ کی آتما
کتنے کروڑ لوگوں کے اشکوں سے داغدار
معصوم داؤکھن کی مقدس سفیدیاں
اک دورِ جاھلاں میں رسولوں میں انتظار
شمشہ بری کے پیچھے چناروں کا سرخ روپ
بادل بھری شعاعوں کامقتل پسِ بہار
اڑتے ہیں دھیر کوٹ کی گلیوں میں برگ و بار
جیسے بدلنے لگتی ہے تہذیبِ برف زار
شبنم کے موتیوں سے بھرا راولہ کا کوٹ
ہر سنگ میں دکھاتا ہے اک چشمِ آب دار
بنجوسہ جیسے آب درختوں کے تھال میں
بس گھومتی ہے روح میں خاموش سی پکار
دریائے تند سو گئے منگلا کی گود میں
منصور ڈھونڈتا رہا کشمیر کے سوار
منصور آفاق

پانیوں پر گر رہا تھا گھنٹیوں کا آبشار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 6
پار دریا کر رہی تھی سبز اونٹوں کی قطار
پانیوں پر گر رہا تھا گھنٹیوں کا آبشار
دور تک کالی سڑک تھی اور پگھلتی تارکول
چل رہی تھی ٹائروں کا دکھ پہن کر ایک کار
رات ہجراں کی، سلو موشن میں صدیوں پر محیط
دن جدائی کا کہیں ، جیسے ابد کا انتظار
کعبہء عشقِ محمد ابرہوں کی زد میں ہے
پھر ابابیلوں کا لشکر آسمانوں سے اتار
سندھ کی موجوں کے بوسے مضطرب ہیں دیر سے
کر رہا ہے تیرے نقشِ پا کا ساحل انتظار
دور تک منصور بستر سی وصال انگیز ریت
ایک گیلی رات،میں ،اور تھل کا حسنِ خوشگوار
منصور آفاق

دیکھا نہ مگر اس نے ہمارا گل و گلزار

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 5
کچھ زخم دھنک خیز ہیں کچھ زخم لہو بار
دیکھا نہ مگر اس نے ہمارا گل و گلزار
کیا مانگنے آ سکتے ہیں پھر تیری گلی میں
ہم آخرِ شب، آخری سگریٹ کے طلب گار
یہ فلسفہ ہے یا کہ خرابی ہے خرد کی
ہونے سے بھی انکار ، نہ ہونے سے بھی انکار
اک زاویہ در زاویہ جذبوں کی ریاضی
اک لمس بھری قوسِ قزح ، بسترِ بیدار
رکھ ہاتھ نہ زانو پہ اے دہکے ہوئے موسم
اس وقت زیادہ ہے بہت کار کی رفتار
نازک ہے بہت، داغ نہ پڑ جائیں بدن پر
اُس حسنِ گنہ خیز کو مسواک سے مت مار
آنکھوں سے لپکتے ہیں یہاں برف کے طوفاں
ہرچند کہ مصنوعی نہیں گرمیِ بازار
بنیاد میں رکھا گیا تھا جس کو مکاں کی
منصور ہوا پھر اسی بھونچال سے مسمار
وحدت کے ازل زار یہ کثرت کے ابد زار
ہم ہی سے دھنک رنگ ہیں ہم ہی سے کرم بار
ہم عالمِ لاہوت کی خوش بخت سحر ہیں
ہم حرکتِ افلاک ہیں ہم ثابت و سیار
ہم حسنِ نزاکت کی چہکتی ہوئی تاریخ
ہم قرطبہ اور تاج محل کے در و دیوار
ہم کاسہء مجذوب ہیں ہم دھجیاں دھج کی
ہم روند کے پاؤں سے نکل آئے ہیں دستار
ہم کُن کی صدا ہیں ہمی لولاک کا نغمہ
ہم وقت کے گنبد ہمی بازیچہء اسرار
ہم لوگ سراپا ہیں کرامت کوئی منصور
ہم قربِ خداوندی کے احساس کا اظہار
منصور آفاق

پانیوں کے جسم پر تھا یخ ہوا کا نرم ہات

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 4
سندھ کے دریا میں گم تھی سانولی مہتاب رات
پانیوں کے جسم پر تھا یخ ہوا کا نرم ہات
یہ خزاں زادے کہیں کیا گل رتوں کے مرثیے
یونہی بے مقصدکریں پرواز سارے خشک پات
کالے کاجل بادلو! روکو نہ اس کا راستہ
ایک دولہا آرہاہے لے لے تاروں کی برات
چاندنی! کیا روگ تھا اس موتیے کے پھول کو
رات بھر وہ جاگتا تھا سوچتا تھا کوئی بات
کوبرے کے روپ میں منصور بل کھاتی ہوئی
ساحلوں کو کاٹتی پھرتی ہے ندیا گھات گھات
منصور آفاق

میں خدا اور کائنات

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 3
چل رہے ہیں ایک ساتھ
میں خدا اور کائنات
عرش پر بس بیٹھ کر
کن فکاں کا چرخہ کات
مرد و زن کا اجتماع
بیچ صدیوں کی قنات
دو وجودوں میں جلی
سردیوں کی ایک رات
بند ذرے میں کوئی
کائناتی واردات
آسیا میں قطب کی
سو گئیں سولہ جہات
پانیوں پر قرض ہے
فدیۂ نہر فرات
تُو پگھلتی تارکول
میں سڑک کا خشک پات
تیرا چہرہ جاوداں
تیری زلفوں کو ثبات
رحمتِ کن کا فروغ
جشن ہائے شب برات
شب تھی خالی چاند سے
دل رہا اندیشوں وات
نت نئے مفہوم دے
تیری آنکھوں کی لغات
آنکھ سے لکھا گیا
قصۂ نا ممکنات
گر پڑی ہے آنکھ سے
اک قیامت خیز بات
تیرے میرے درد کا
ایک شجرہ، ایک ذات
کٹ گئے ہیں روڈ پر
دو ہوا بازوں کے ہاتھ
لکھ دی اک دیوار پر
دل کی تاریخِ وفات
موت تک محدود ہیں
ڈائری کے واقعات
منصور آفاق

لیکن اٹھی نہیں کوئی چشمِ سوالیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 2
مدت کے بعد گاؤں میں آیا ہے ڈاکیا
لیکن اٹھی نہیں کوئی چشمِ سوالیا
رہنے کو آئی تھی کوئی زہرہ جبیں مگر
دل کا مکان درد نے خالی نہیں کیا
جو زندگی کی آخری ہچکی پہ گل ہوئی
اک شخص انتظار کی اس رات تک جیا
پوچھی گئی کسی سے جب اس کی کوئی پسند
آہستگی سے اس نے مرا نام لے لیا
تارے بجھے تمام، ہوئی رات راکھ راکھ
لیکن مزارِ چشم پہ جلتا رہا دیا
تکیے پہ بُن رہا ہے ترا شاعرِ فراق
منصور موتیوں سے محبت کا مرثیہ
منصور آفاق

شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 1
درد مرا شہباز قلندر، دکھ ہے میرا داتا
شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا
اک پگلی مٹیار نے قطرہ قطرہ سرخ پلک سے
ہجر کے کالے چرخِ کہن پر شب بھر سورج کاتا
پچھلی گلی میں چھوڑ آیا ہوں کروٹ کروٹ یادیں
اک بستر کی سندر شکنیں کون اٹھا کر لاتا
شہرِ تعلق میں اپنے دو ناممکن رستے تھے
بھول اسے میں جاتا یا پھر یاد اسے میں آتا
ہجرت کر آیا ہے ایک دھڑکتا دل شاعر کا
پاکستان میں کب تک خوف کو لکھتا موت کو گاتا
مادھو لال حسین مرا دل، ہر دھڑکن منصوری
ایک اضافی چیز ہوں میں یہ کون مجھے سمجھاتا
وارث شاہ کا وہ رانجھا ہوں ہیر نہیں ہے جس کی
کیسے دوہے بُنتا کیسے میں تصویر بناتا
ہار گیا میں بھولا بھالا ایک ٹھگوں کے ٹھگ سے
بلھے شاہ سا ایک شرابی شہر کو کیا بہکاتا
میری سمجھ میں آ جاتا گر حرف الف سے پہلا
باہو کی میں بے کا نقطہ بن بن کر مٹ جاتا
ذات محمد بخش ہے میری۔۔۔ شجرہ شعر ہے میرا
اذن نہیں ہے ورنہ ڈیرہ قبرستان لگاتا
میں موہن جو داڑو، مجھ میں تہذبیوں کی چیخیں
ظلم بھری تاریخیں مجھ میں ، مجھ سے وقت کا ناتا
ایک اکیلا میں منصور آفاق کہاں تک آخر
شہرِ وفا کے ہر کونے میں تیری یاد بچھاتا
منصور آفاق

دُھوپ اور دُھند

جیسے میں کوئی ساز ہوں جس کے تاروں کو

آتے لمحے اپنی اپنی

آسودہ یا ناآسودہ کیفیت میں

چھیڑیں اور گزر جائیں

یوں لگتا ہے

جیسے میں اپنے اِس گھور اکیلے پن میں

پیاس ہی پیاس کی بے آواز صدا سے لے کر

شوخ سُروں کے ہولی کھیلتے رنگوں تک

ایک رواں میلے کی اُڑتی دھول میں چلتا رہتا ہوں

(٢)

پی اور پی کر

یادجگا اُن نانوشیدہ گھونٹوں کی

جن کی چھوڑی ریت پہ تو محرومی کی فرماوش پر

آنسو اور لہو کے نم سے

شعر اُگاتا رہتا ہے

(٣)

کیا خواری اور کیا خودداری

دانے کی پستی سے لے کر اوجِ پرِ شہبازاں تک

طائر کو اڑتے رہنا ہے حدِ سفر کے امکاں تک

میں بی کیا ہوں،

جینا چاہوں تو جینے کے بدلے میں

سوچوں، رسموں اور وسیلوں پر فائز

مختاروں کی

سب شرطیں تسلیم کروں

(٤)

دیکھو جاناں!

دُور بگولا اڑتا ہے پیلی سہ پہر کے آنگن میں

گُم کردہ رونق کا ہلکا سایہ سا

جاتا لمحہ ڈالے آتے لمحے پرآؤ نا گلگشت پہ جائیں اِس مہلت کے رستے پر

جس میں سپنا پڑتا ہے

نیم فراموشی کی میچی آنکھوں سے

دیکھیں اور نہ دیکھیں دھوپ کے گالوں پر

چھینٹے سے مسکانوں کے

دیکھیں اور نہ دیکھیں، گہرے سبزے سے

چُنے ہیں جو طائر نے سوکھے خاروحس کاشانوں کے

(٥)

غیب کا کوئی چشمہ جیسے

جسم کے اندر بہتا ہے

جس کے گھٹنے بڑھنے میں من کی دھرتی کا

رنگ بدلتا رہتا ہے

جوہڑ سے ساگر تک کتنے روپوں میں

جو گن دھوپ تماشے کی

اِس بستی میں گیتوں کی مالائیں پہنے

زُلفیں کھولے، بڑی بڑی سی آنکھوں سے

ذرّے کے گھمبیر خلا میں جانے کیا کیا تکتی ہے

چشمے سے سیراب زمیں کو شاید پیاسا تکتی ہے

(٦)

ناسنجیدہ

بے احساس زمانے کے

جور سے بچنے کی خآطر

ااک فرار ضروری تھا

سو اُس نے آنکھیں پلٹا کر

اندر کے گلشن کی لمبی سیریں کیں

باہر کے نیلے رقبے میں چوبِ دشتِ تصّور سے

بے در، بے دیوار مکاں تعمیر کئے

اُس آوارہ گرد نے یوں تو

چاہا تھا تریاق ملے

جسم کے اندر پھیلے زہرِ اذّیت کا

قسمت دیکھیں، اس کو غم کے بدلے میں آفاق ملے

(٧)

سرما کے ننگے نگے پہناوے میں

جھُنڈ کھرے ہیں پیڑوں کے

جن کے پیچھے امبر کا بن نیلے پن میں پھیلا ہے

جانے یہ آہٹ سی کیا ہے

وقت میں وقت سے باہر کی

گہری چپ کے ٹھہراؤ میں

گونج کے اندر گونج کا محشر اٹھتا ہے

جیسے کوئی ناقہ سوارِ دشتِ سُوس بپا کر دے

امڈی دھوپ کے صحرا میں

شور اکیلے سائے کا

جیسے کوئی سانس بچائے بیٹھا ہو

بوڑھ کے نیچے ساکت سا

اندھیارے کی دھوھل اڑاتی

روشنیوں کی آندھی میں

(٨)

کیسے کھوئے کھوئے سے تم رہتے ہو

ناموجود کی دنیا میں

دیکھو! اِن آتی جاتی باراتوں کو

جن کے آگے آگے ست رنگے سہرے میں

آج کا دولہا چلتا ہے

جس پر وقت نچھاور کرتا جاتا ہے

چھن چھن گرتی نذریں رنج و راحت کی

اور جنہیں بچے موجود کی نگری کے

لُوٹ رہے ہیں روز کی افراتفری میں

(٩)

ہم تو مست ملنگ ہیں اپنے ساویں کے

جو کوئی بھی ہرا تکونا جھنڈالے کر

اِسے رستے سے گزرے گا

پیچھے پیچھے ہو لیں گے

اور اُڑا کر سر میں دھول دھمالوں کی

اپنی راہ ٹٹولیں گے

دل دربار کی چوکھٹ تک

(١٠)

ناں سائیں!

یہ مجھ سے نہ دیکھا جائے

منظر

خاک پہ گتے اور تڑپتے دست بریدہ کا

منظر

سنگ زنی سے پارہ پارہ ہوتے ننگے جسموں کا

میں کہ ارادے کو بے رشتہ کر نہ سکوں

اپنے عصر کے جذبوں سے

میرے حق میں دعا کرنا

میری لوحِ مقدر پر تو لکھی ہے

بخشش آدھے سجدے کی

اور بدلہ آدھی دوزخ کا

(١١)

میں اپنے اندر کے سچ کو

کند بنا کر اس کی دھار پہ دھیمی انگلی رکھتا ہوں

میں اپنی سچائی کو

قند بنا کر چکھتا ہوں

اُس کے سچے چہرے کو جھٹلا دیتا ہوں

پردے کی تہہ داری سے

میری جان کی روشنیوں میں زور ہی شاید اتنا ہے

دھندلی یا دھندلائی آنکھیں

میری یہ آبائی آنکھیں

نسلوں سے مامور ہیں مجھ کو پیہم زندہ رکھنے پر

(١٢)

جب سہ پہریں۔۔۔۔ پل پل اُڑتی کچی دھوپ کے پیراہن میں

رونق سے خالی جگہوں پر

جُھک کر اپنے میلے ہاتھوں سے

ردی کاغذ کے ٹکڑے اور سوکھے پتے چن چن کر

شانوں سے لٹکے جھولوں میں بھرتی ہیں

جب سڑکوں پر دھوپ کے چھوٹے چھوٹے گرم بگولوں میں

آنکھیں تنکا تنکا سی ہو جاتی ہے

اور منڈیروں سے آہستہ آہستہ

ایک اداسی شام کے کاسنی رنگوں میں

آہٹ آہٹ نیچے آنے لگتی ہے

جانے کیوں اس وقت گنواوے دن کے اوجھل ہونے کگا

جان کی گہری تہہ میں شور سا اٹھتا ہے

جیسے کوئی دھم سے گر کر پانی میں

ریزہ ریزہ کر دے اپنے سائے کو

(١٣)

میں نے اپنے گردوپیش میں۔۔۔۔

جو کچھ ہوتے دیکھا وہ مصنوعی تھا

اس سے سمجھوتہ کر لینا ایسے تھا جیسے کوئی

دنیا کے بازار میں جا کر

صدیوں کے دکھ کی میراث کو بیچ آئے

سودا کافی مہنگاتھا

سو میں نے جلوت میں رہنا چھوڑ دیا

اب میری اس خلوت میں

مجھ کو یاروں کے بھیجے گلدستے ملتے رہتے ہیں

جن سے اک متناسب خوشبو

سچ اور دنیاداری کی

اُڑ کر مجھ کو

گاہے اِترانے پر، گاہے خود سے رحم جتانے پر

اُکساتی ہے

(١٤)

دن کے زینے سے میں شب کی چھت پر روز اُترتا ہوں

جس کے لیپ میں تنکا تنکا

بکھراؤ سا چھوڑ گئی ہے چاندنی گزے برسوں کی

جس پر سیل جدائی کا

انت منڈیروں پر سے لے کر محرابِ افق تک

ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے

میں بے غفلت غافل سا رہنے والا

اپنی بینائی سے آگے کچھ بھی دیکھ نہیں سکتا

کیسے اِن میرے اوسان پہ ظاہر ہو

کیا ہوتا ہے

روز و شب کے آٹھ پہر سے باہر کے

سناٹے میں

آفتاب اقبال شمیم

گُمان کا رومان

نہیں! تم اپنے آنسو کو چھپا رکھو

اِسی سے چھِن کے سارے فاصلے،

سب روشنی، پوری ہوا شفاف ہوتی ہے

تناظر ہے ابد آباد کا جس میں

اُجالے کے مصور نے صلیب و دار و نہرِ خشک کا منظر بنایا ہے

زپاتا، چی گویرا اور ماؤ

ہار کر ہارے نہیں ہیں،

یہ پون چکتی پےہ دھاوا بولنے والے

سدا آتے رہیں گے

کیا کیا جائے یہ مشکیزہ پرانا جب سیا جائے

تو بخیوں سے ٹپکتا ہے

خرابی کارِ سوزن کی ہے

یا پھر چرخ پر کاتی ہوئی کرنوں کے دھاگے کی!

کہا جاتا ہے نابینا مغنی کو بشارت ہے

کلا کی روشنی مل جائے گی لیکن

زدِ مضراب سے اُس کو

ہزاروں تار سارنگی کے پہلے توڑنے ہوں گے

آفتاب اقبال شمیم

الوداع، اے داشتہ!

نکسیر، نیل، چاک گریبان و آستین

کچھ اور (کٹ)

بھنور سابنے رخ پہ کرب کا

لب بستہ چیخ اور ذرا (کٹ) بلند ہو

دہشت سے جیسے آئینہ (کٹ) ٹوٹ کر گرے

اندر کے فرش پر

رشتوں کے مسخ عکس (بہت خوب اس طرح)

تعمیلِ حکم جبر ہو اور ٹھیکرا سی آنکھ

اس سے کہے کہ کون ہو تم، میں تمہیں پہچانتا نہیں

انکار تین بار

بازارِ دشمنان کی شئۓ زر خرید سے

کیا واسطہ مرا

(اقرار پھڑ پھڑائے، پھٹے حرف و لب کے ساتھ)

اور یہ زنِ غلیظ!

عورت مری! نہیں نہیں، تھی داشتہ مری

فوکس۔۔۔۔ کچھ اور، اور صداقت کا ا یک رُخ

کیسا مہیب ہے

دے اے خدا پناہ خدایانِ خاک سے

آفتاب اقبال شمیم

زندگی جیسی ایک لڑکی

نظر کے بدلتے ہوئے پینترے سے

فنا کر کے

دیتی ہے خیرات بھی پھر سے جینے کی

آدھی شکن کے تبسم سے اک جرعہءِوہم پینے کی

میں اک ستارہ اشارے کے رُخ

اور محراب وعدے کی قبلہ نمائی میں

اس کی طرف منہ کئے

بے نیازی کے معبود کے روبرو ہوں

تمنا کے سو بار ٹوٹے ہوئے تار میں

حرف حرف آیتوں کو پروتے ہوئے

سجدہ جُو ہوں

آفتاب اقبال شمیم

کہانی ایک پیڑ کی

دیکھ یہ البم ذرا

بیس برس پیشتر، باغ کے اُس پیڑ پر

آئے تھے تجھ کو کبھی اتنے پرندے نظر!

رامشِ صد رنگ کے چھینٹے اُڑاتے ہوئے

اور تجھے یاد ہے!

کتنے مہ و سال تک

جو نہ فروزاں ہوئے ایسے بُجھے چہچہے

روز کفِ شاخ سے

آ کے اُڑاتی رہی بادِ گماں دُور کی

وہ تھے یہاں حکم کی فرمانروائی کے دن

گنتی رہیں تتلیاں گُل سے جدائی کے دن

نغمہِ بے ساختہ گاتی رہیں ہجرتیں

دینا گواہی ذرا

کتنے برس پیڑ نے دیکھے پرندوں کے خواب

دینا گواہی ذرا

قوس نما آنکھ میں کیسے معلق رہی

ایک جھپٹ خوف کی

اور لبِ برگ سے اُڑتی رہی چار سو

لفظِ مکرّر کی بُو

ہوتی رہی شاخ پر تیرے میرے رُوبرو

ایک ہی سرتال میں جھینگروں کی گفتگو

آفتاب اقبال شمیم

مرگِ یک خواب

وہ بڑا شہر، اتنا بڑا شہر کیوں دیکھتے دیکھتے

منہدم ہو گیا ہے

اور ٹکڑوں میں بے ضرب ہی منقسم ہو گیا

ایک اتنا بڑا خواب آدرش کے عرش سے

گر گیا، اب چنو کرچیاں فرش سے

سائیکی! غالباً ترکِ معمول کے تجربے

ناپ، پیمائشیں، ضابطے اور پابندیاں

تجھ کو بھاتی نہیں

دیکھ! تیرے سخی نام پر

نائیکہ خوش ہے خواجہ سراشاہ کا

قاف کی اس پری کو بٹھا کر لموزین میں لے گیا

اور وہ کس قدر شاد ہے چڑمڑائی ہوئی سی

شکن در شکن

شب کے باسی گلابوں کے بستر سے اٹھتے ہوئے

حسن زرخیز ایسا ہوا

گونگ لی کے تبسم کی لاکھوں میں بولی لگی

سائیکی! تو یہ چاہے ہمیشہ سے جو ہو رہاہے

اسی طور ہوتا رہے

نفس کے آستانوں پہ بیٹھی ہوئی عادتیں، غفلتیں

اور خوش فہمیاں

دھوپ کی اونگھ سے اُون بنتی رہیں

سائیکی! اِس طلب اور رسد، اِس اناؤں کی

نیلام گاہوں کے بازار میں

تو سدا سے رواں، نیم عریاں خراماں خراماں رواں

تجھ سے راجا بھی خوش اور پرجا بھی خوش

اپنی اپنی دکانوں مکانوں میں آنند سے

صبر کی تنکا تنکا چٹائی پہ بیٹھی ہوئی مفلسی

مطمئن ہے کہ شاید کسی شب

ستاروں کی لپٹی ہوئی پرچیوں سے نکل آئے

نادار کے اِسم بے اِسم کی لاٹری

تجھ کو اچھا لگے دیکھنا

اِن ذرا سی اناؤں کی امواج سے

جھاگ اڑتی ہوئی (بیوقوفانہ سی روز کی نرگسےت کی آویزشیں)

اور ہر موج غصے میں ساحل سے مُڑتی ہوئی

تجھ کو اچھا لگے

اپنی آوارگی کے پرانے سبو سے

ذرا ہوش میں آنے والوں میں، بے راہ کرتی ہوئی

مستیاں باٹنا

سرحدیں کھینچنا، بستیاں بانٹنا

سائکی! عام گلیوں کے کچے اندھیرے سے اٹھتے ہوئے

اور پھٹتے ہوئے بلبلے، تو نے دیکھے تو ہیں

کوئی ہم جنس کسبی میاماریا

گندگی کے بڑے ڈھیر سے کوئی ردی اُٹھاتا ہوا اور گاتا ہوا واسکو

کوئی پنجر سے چپکے ہوئے چلبلے ہاتھ سے

پرس، جیبیں، دکانوں کی اشیا اُڑاتا ہوا ویریا

کوئی خود سے خفا راڈ ریگے لہو کی دبی چیخ پر شاد ہوتا ہوا

اور ہر شب بگوٹا کے جاروب کش

پھینک آتے ہیں اِن فالتو اور فاضل تہی ماچسوں کو

غلاظت میں بدلی ہوئی شرم کے ڈھیر پر

کرگس و زاغ کے ڈائننگ ہال میں

اور وہاں پر

سراےےگو، صومالیہ اور فلسطین اپنے لہو میں نہائے ہوئے

مذہب و نسل و تاریخ و جغرافیہ کی کرامات پر دنگ ہیں

بے زمیں اور بے آسماں

صیدِ سوداگراں

یہ رعایا جسے نسل در نسل شاہوں کی تحویل میں

چابکوں، منتروں اور دانائیوں کے خریدہ وسےلے سے

ہانکا گیا

وقت انصاف کرتا تو دیتا اِسے مہلتیں

قصر و اہرام وہیکل اٹھا کر سدا چلتے رہنے کی

بے جرم پاداش سے

وقت انصاف کرتا تو اپنے سخی ہاتھ سے

رسّیوں کی طرح اِن بٹے بازوؤں کی گرہیں کھول کر

اِن سے کہتا کہ لے جاؤ ساری زمیں

ہے تمہاری زمیں

اور اگلے زوالوں کے پنڈال میں

کر رہا ہے مداری تماشا گری

سائیکی! تیرے البم میں آئیں نظربستیاں

ناف تک زرد لاوے میں ڈوبی ہوئی

جنس و زر کی وبا۔۔۔۔

ماس کے دُور اندر جنینوں میں اُتری ہوئی موت کی سونڈیاں

سائیکی! پر تجھے کیا

کہ یہ رقصِ بسمل بھری بستیوں میں ہمیشہ سے تُو

دیکھتی ہی چلی آرہی ہے

آفتاب اقبال شمیم

پابند شہر کی تین آوارہ لڑکیاں

چلو ہو جائیں کچھ باتیں

اسائیڈ’ تخلیے یا خود کلامی میں

زلیخا’ نائے لویاؤ’ میا میرا

تمہارے ہونٹ کیسے ارغوانی ہیں

مگر سانسوں سے کیسی باس آئے بے خیالی کی

بہت نامطمئن ہو کیا؟

کمانوں پر انا کی تانت ڈھیلی پڑ گئی ہے

انگلیوں میں انگلیاں باندھے

میں اپنے جسم کی گٹھڑی کے میلے پاپ کو گرنے نہیں دیتی

مجھے یہ فاختائی رنگ کا انڈرو یر اچھا نہیں لگتا

مجھے تو نیم عرےانی کی باتیں

گالیاں اور چُست پہناوے

مساموں میں ذرا سی گدگدی کرتے ہوئے’ کولون کی خوشبو

لبوں کی قرمزی رنگت

بدن کے صرف ہو جانے کی راتوں کا تصور اچھا لگتا ہے

مگر یہ حکم کے دربار والے بھی قیامت ہیں

ہوا سے کیا خبر کس روز استعفیٰ طلب کر لیں

گلوں میں رنگ بھرنے کا

زلیخا! تو نے جیسے میرے دل کی بات کہ دی ہے

یہ خبریں’ روز کی خبریں مجھے تو زہر لگتی ہیں

مجھے کےا ان غباروں سے

جو شام ہوتے ہی

گھٹتی پھونک ، بڑھتے ضعف سے لمبوترے ہو جائےں

نامردی کی حالت میں

یہ سارے رہس دھاری ہیں ڈرامے کی مثلث کے

ہماری مائیں کہتی ہیں

وہاں پورب کے امبر سے کوئی اوتار اُترا تھا

چٹانیں بن گئیں تھیں

دودھ دیتی گائیں جس کے لمس کرنے سے

اسی کے شبد کی تاثیر نے

مجھ کو بنا ڈالا ہے گائے بھی گوالن بھی

یہ کیسا روگ ہے ہنسنے میں رونے کا

میں دھرتی ہوں

میں سب بھوکیں بھگت لیتی ہوں

لیکن سانولے ساون کی باہوں میں سمٹ کر پھیلنے کی پیاس

کیسے فرش کے نیچے

مرے آئے ہوئے اعضا مٹائیں گے

کروں کیا حکم کی سرکار

میرے جسم کی مٹی سے ترکاری اُگاتی ہے

میں کیسے چُڑ مڑا کر بھربھری سی ہو گئی ہوں

گرم خانوں میں

اری او نائے لو یاؤ!

ذرا یہ دیکھ! کیسے چوڑیوں جیسے یہ حلقے

نقرئی وِینس کے حلقے ثبت ہیں میری کلائی پر

میں نمفومینیک ہوں

اور لعنت، باہ ہم بگ بھیجتی ہوں

جسم کے کنجوس لوگوں پر

میں گٹھڑی سی بنی ڈرتی ہی رہتی ہوں

یہاں کی سنگساری سے

کسی دن آئے گا اسپِ ہوا پر

شاہزادہ اور بھگا کر ساتھ لے جائے گا مجھ کو

عشرتوں کی راج دھانی میں

ختن کی مشک اور لعلِ یمن کی آبداری سے

تمنا کے شبستان میں

دمشق و قاہرہ، یونان و روما کے پری زادوں کی

سب راتیں

میری غارت گری کی ایک شب میں منعکس ہوں گی

مجھے تم دیکھنا میری ہی آنکھوں سے

میں جب فانوس آویزوں میں، اونچی ہیل پہنے

اپنے ابریشم کے سارے چاک کھولے، کاسنی ساعت میں

نکلوں گی

تو آنکھیں شوق سے باہر نکل آئیں گی آنکھوں سے

کسی دن آب پر چلتے ہوئے تم دیکھنا مجھ کو

ہوائی کے جزیرے میں

میں بے پروائیوں کے سیل میں بہتی ہوئی

صندل کی لعبت ہوں

کبھی گدلاہٹیں پانی کی چکھتی ہوں

کبھی خطِ افق پر شیڈ کی مانند رکھے آسماں کے

لیمپ میں ایام کی تحریر پڑھتی ہوں

کہ اِس وسعت سے میرا واسطہ کیا ہے

زنِ بے حد ہوں

اُمراؤ، بواری اور ہیلن کے قبیلے کی

آفتاب اقبال شمیم

والیریا کے ساتھ آدھی شام

سینٹ پیٹرز برگ کی اے سرو قد لڑکی!

تیرے انگور ہونٹوں پر

کئی جاگی ہوئی گیلی شبوں کے ڈھیر سے اُٹھتے دھوئیں کی

دُھول ہے

قاف سے اُترے ہوئے پہلے اُجالے کی سنہری کاکلوں کی

چھاؤں میں نیلاب آنکھیں

اور اِن آنکھوں میں سپنے کی خزاں کا آسماں

اُترا ہوا

تیرے ہاتھوں میں ہے می شی ما کی نظموں کی کتاب

تیرے بازو میں کلامی بند’ تیرے پرس میں ویزا’

زرِ وافرکی خواہش جیب میں

کتنے سستے دام میں بیچا گیا ہے

اجنبی ہاتھوں میں اپنی نسلِ رفتہ کے سنہرے خواب کو

ہاں مگر ٹوٹی ہوئی اِن سرحدوں کی دھار سے گرتا لہو

تیرے تعاقب میں رہے گا دیر تک

یوں نہیں’ ایسے نہیں

جانتے ہو! خوف ایسا نجِس ہے’ لگ جائے تو

تبدیل ہو جاتا ہے باطن کھاد میں

اور پھر پورا زمستاں کاٹنا پڑتا ہے تب جا کر کہیں

ادنِیس دوبارہ جنم لیتا ہے اپنی راکھ سے

سب سے پہلے ہم نے پگھلی دھوپ سے

دھو کر نکالا سایہءِابلیس جو بستی پہ تھا

اور بدلا نام اپنے شہر کا

ماں مری اوّل معلم تھی کسی اسکول میں

اپنی راسخ عادتیں ہم کو سکھاتی تھی’

سزا ملتی تھی بائیں ہاتھ سے لکھنے پہ’ ایسی ہی سزاؤں کی فضا میں

مجھ کو اپنی ماں سے نفرت ہو گئی

کس طرح تم دوسری مرضی کے جوئے میں انائیں جوت کر سر سبز رکھ سکتے ہو کشتِ حکم کو

اور کب تک کوئی سن سکتا ہے مریل خواہشوں کی سسکیاں

کیا ہوا گر خاکۂِ تعمیر ہے بدلا ہوا

یہ مگس نر آدمی

شہد کو امرت بنانے میں زیاں کرتا چلا آیا ہے

قصرِ عالیہ کے سود کا

اور بے شک ایک سا، دو مشت کا چھّتہ نہیں ہے زندگی

تا افق پھیلی ہوئی شب میں یہ آتش بازیاں

اور صبحوں کی ہتھیلی پر ذرا سی راکھ کے دھبّے۔۔۔۔

یہی ہے زندگی

اور اسکیٹنگ میں اک پل کے اُچٹتے دھیان میں

پھسلی ہوئی مایر’ گُل صد خواب جیسے برف کی چادر پہ

بکھرا ہو’ یہی ہے زندگی

میں کہ فرحت میں الم بھی ڈھونڈتی ہوں

میں کلیسائی ہوں’ کیا جانوں پرانے قرض کی میعاد

گھٹ سکتی ہے پیسے سے کہ پچھتاوے سے

لیکن اے خدا! لاریب پیسے میں بڑی تسکین ہے

میں کلیسائی ہوں’ آزادی کا حق رکھتی ہوں

باطن اشتمالِ ارض سے باہر کی شے ہے

ارض تو دہلیز ہے

جی کیا تو پاؤں سے جوتے اُتارے اور سیرِ آسماں کو چل دئیے

اور وہ کوئے معیشت بند تھا

بلڈنگیں بے روح تھیں

فیکٹری کے آہنی پھاٹک سے گھر کے آہنی پھاٹک پہ جا کر

ختم ہو جاتی تھیں سڑکیں شہر کی

جن پہ راشن’ وردیاں

انسان شکلوں میں چھپی آنکھوں’ ہدایت کے نوشتوں’

حاجتِ اصلاح کے کتبوں کے بیچوں بیچ

رہتے تھے رواں

مصلحت کے شعبدے کرتے ہوئے

گورکی!

کون تھا یہ گورکی!

ٹالسٹائی تو کتابِ غم کی صرف و نحو کا ماہر تھا’ اب متروک ہے

میرے باطن کی ثقافت میں بلیک اور بودلر

کشفِ علامت سے ملائیں نفس کو آفاق سے

لفظ و معنی اور تمثال و اشارہ بال و پر کھولے ہوئے

اور نیچے آبنائے زندگی پھیلی ہوئی

کون جانے لفظ کے ایجاد گر کا

اس سے آگے بھی کوئی آدرش ہو

اور سچ پوچھو تو سب آدرش مر جاتے ہیں

شاید ٹوٹنا پہچان ہے پہچان

سچے خواب کی

اور سچ پوچھو تو میں اُلجھی’ بہت اُلجھی ہوئی ہوں۔۔۔۔

آفتاب اقبال شمیم

بنچ پر بیٹھے ہوئے

نرودا اور میں بیٹھے ہوئے ہیں

پانچ دریاؤں کے سنگم پر

ہمارے سامنے اپنے بدن کو توڑ کر

باہر نکلتے رقص میں سپنے کی لڑکی ہے

مہکتی شام جس پر مُٹھیاں بھر بھر کے

شانوں سے پھسلتی چاندنی میں، جگنوؤں کا زر لُٹاتی ہے

بڑی خوشبو، نہایت لمس سے بھیگی حِسوں کی بھیڑ ہے

بستی کے میلے میں

جہاں پر

موم سی رنگت کے اُٹھتے شور کے ریشم پہ

انگشتِ شہادت کے قلم سے گیت لکھا جا رہا ہے

رنگ کے بے رنگ ہونے کا

حناؤں کی معطّر تال پر دف کی طرح بجتی ہوئی

ہر کنپٹی میں ایک ہی آواز لرزاں ہے

کہ ہم اہلِ زمیں۔۔۔۔ زنجیر کی مانند پھیلی سرحدوں کو

نسخ کرتے ہیں

معافی چاہتا ہوں

کیا کروں، عادت جو سپنے دیکھنے کی ہے

آفتاب اقبال شمیم

نظم باز

تو کیسا ہرجائی ہے

شب بھر نظم کی فرقت جیسی قربت میں

روشنیوں، خوشبوؤں، لفظوں

اور ادھورے پن کی چھوڑی جگہوں کو

وصل مکمل کرنے کی تیاری میں

کچھ جمع کچھ منہا کرتا رہتا ہے

جیتا مرتا رہتا ہے

اور نئے دن کی سڑکوں پر

ایک نویلی محبوبہ کے ساتھ فلرٹنگ کرتے دیکھا جاتا ہے

دیکھو نا!

اور وفا کیا ہوتی ہے

پورا کرتا رہتا ہوں

ایک مکمل مرد کا وعدہ ایک مکمل عورت سے

دل دائم امڈا رہتا ہے کہنے پر

ایک مسلسل نظم کے لکھتے رہنے پر

آفتاب اقبال شمیم

ایک آنسو، ایک تبسم

مت کہو اِن مہ وشوں کو فاحشہ

یہ تو وہ ہیں جن کے آگے میں ہمیشہ

نیم سجدے میں رہا

میرے سپنوں کو بنفشی شال کی مانند جو بنُتی رہیں

جس کے لمسِ گرم کو کندھوں سے لپٹائے ہوئے

کاٹ لی ہے میں نے یہ سرما کی لمبی رات جیسی زندگی

جن کی آنکھوں کی تپش اور روشنی سے عمر بھر

میرے صحراؤں میں ہریالی رہی

مت کہو اِن مہ وشوں کو فاحشہ

یہ تو وہ ہیں

جو جنم کی قیدِ بے میعاد میں جی رہی ہیں بھید اندر بھید خود اپنے لہو کی بے وفائی کی سزا

سہتے ہوئے

برتر و بالا ہو جو چاہو کہو

میں تو رو دوں فاحشہ کو فاحشہ کہتے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم

یک شہرِ زرد رُو

زوال کا معرکہ بپا ہے

یہیں کہیں تسمہِ گلو سے لٹکتے سورج کے

خود و بکتر گرے ہیں

تم دیکھتے نہیں ہو! تمہاری آنکھوں کے صحن میں

مُور خوردہ کرنیں

جگہ جگہ چُور چُور بکھری ہوئی پڑی ہیں

سیاہ چیونٹوں کے لشکری

چاندنی کے ریزے لئے ہوئے جا رہے ہیں اپنے بلوں کی جانب

سنا نہیں! چاک کر رہی ہیں؟

وجود کی نیلگوں تہوں کو

کثافتیں بے ضمیریوں کی

میں اپنے پاؤں کے نیچے اُدھڑی ہوئی زمیں میں

جڑوں کے پنجر سے پوچھتا ہوں

یہ کیا کہ جوہڑ سے اُس نے اب کے نہیں پکارا

سمندروں کو

یہ میرا دست بریدہ کس کے خفیف ڈھانچے کو چُھو رہا ہے

یہ کیسی تحریر چلنے والوں کی گردنوں میں لٹک رہی ہے

یہ نرخ نامہ ہے

اوہ، مکتب میں یہ زباں کیوں مجھے پڑھائی

نہیں گئی تھی!

میں کس سے بولوں

کہ سیلِ بازار لے گیا ہے سماعتوں کو

اب ایسے انبوہِ لاتعلق سے رابطے کا بھی فائدہ کیا!

ہے شیلف خالی

نہ جنتری ہے نہ خواب نامہ

بتاؤ نا! فال کیا نکالوں

کہ سارے لفظوں نے اپنے معنی بدل لئے ہیں

میں کوئی ہاتف نہیں کہ فردا کا بھید کھولوں

مجھے یہ احساس ہے کہ یوں بھی

مرا سخن معتبر نہیں ہے

میں اپنے سچ کو کہاں پہ تولوں

کہ ساری بستی میں رہ گئی ہے

بس ایک میزان زرگروں کی

بس ایک پہچان۔۔۔۔ مومیائے ہوئے سروں کی

آفتاب اقبال شمیم

بُود نابُود

کون شیا ما تھی جو گھر کے ساتھ جڑے

سنسان احاطے میں اگتے چنبے کی جھاڑ میں رہتی تھی

کون مُڑے پیروں والی

دھوپ کی سیدھی قامت میں چلتی تھی اُجڑی گلیوں میں

مٹی کے پردے سے کس کی سرخ سنہری جھلکی پر

پہلی بھِڑ کا پہلا ڈنک بند کے اندر کھٹکا تھا

جُھلسی خوشبوؤں میں مِل کر باس گھڑے کے پانی کی

پیلے تنکوں سے لیپی سہ پہروں میں

بان کی پھیکی ٹھنڈک کا احساس بدن کو دیتی تھی

اور وہ شامیں کیسی تھیں

جن کے گیلے آنگن میں اُگتی کائی کے سبزے میں

لیمپ جلا کر پڑھنے والا

لفظوں اور پتنگوں کی گڈمڈ میں بنتی

شکلوں کی اِملا آنکھوں کی تختی پر

سرکنڈے کی بے قط نوک سے لکھتا تھا

اور ابد کے دریا میں بہتے امبر کا بیڑا جواُس وقت وہاں سے، اُس بستی سے گزرا تھا

کیا جانے اب کس ظلمت کے پار

کس بے اِسم سمندر کے ساحل پر اترا ہو

آؤ استفسار کریں

شاید یہ ازلوں کا دریا واقف ہو

اُلٹی سمت میں بہتی لہر کی منزل سے

ساحل کے ناساحل سے

آفتاب اقبال شمیم

آ۔۔۔۔ پان کھانے چلیں

جب بگولے کے کژدم کی کاٹی ہوئی رُت نے

تریاق مانگا تو اُس نے کہا

میں مسیحا نہیں

دیکھتے ہو وہ بوڑھا جو سورج کی دستار باندھے ہوئے

ظلمتوں میں رواں ہے اُسے

زید داؤد، نیلامبر اور وہ کتنے وقتوں میں

کتنے مقاموں پہ ملتے رہے

اور شاید کہ اُس کا بتایا ہوا برگِ نایاب

چڑھتی اُترتی خزاں کے گڈریے کی لمبی عصا کے

خمِ تیز کی دسترس میں نہیں

دیکھتے ہو، نہیں دیکھتے ہو کہ فردا کے آئے ہوئے

چاہِ ماضی کی دیوار پر کیسے پیوند ہیں

پِن سے ٹانکی ہوئی تتلیوں کی طرح

دیکھتے ہو، نہیں دیکھتے ہو کہ نی اون سائن سے

ڈھانپے ہوئے کوڑھ کے زخم میں کلبلاتی ہوئی آگ ہے

اورتقسیم کی آنکھ ماتھے پہ رکھے ہوئے

وہ سمجھتا ہے اُس کا بنایا ہوا دھات کا آدمی

معجزہ کر دکھائے گا اِس آگ میں کود کر

بس اِسی وہم میں، آس کی آس پر سب زمانے چلیں

آچلیں، پان کھانے چلیں

آفتاب اقبال شمیم

تمّنا کے مُخبر کی سرگوشی

اگر وہ خونخوار اپنے سرسے نکال سکتا

سڑاند مُردار حافظے کی

اگر وہ اپنی ہوس کی اس عارضی کمائی میں

دیکھ پاتا

زیاں۔۔۔۔ جو ناپاک کرتا رہتا ہے حوض کے تازہ پانیوں کو

اگر وہ جسموں کی اِس کھدائی میں دل کے معدن کا

وہ زرِ خام ڈھونڈ لیتا

جو خلیہ خلیہ بنا ہے پیمائشوں سے باہر کے وقت میں

اور جس پہ ظلمات کے ستارہ جبیں شناور کے

عکس کی جھلملاہٹیں ہیں

تو پھر یہ ابنائے جہل صیہون و سربیا کے

سری نگر پہ جھپٹنے والے سپوت بے چشم کورؤں کے

جنوبِ دنیا کی بستیوں میں

کرائے پر قتل کرنے والے

کبھی نہ ہم جنس روشنی کو ہلاک کرتے

کبھی نہ لاوقت کی کشیدوں سے بننے والے لہو کو

یوں رزقِ خاک کرتے

آفتاب اقبال شمیم

میلہ

تھئیٹر کی کھڑکی پہ بیٹھا ہوا کمپنی کا ملازم

ٹکٹ بیچتا ہے

بھرے ہال میں دن، مہینے، برس بے بدل حالتوں کے

لڑائی کے منظر کی سرشاریوں میں

ولین اور ہیرو کوآپس میں جگہیں بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں

قناتوں سے باہر

بڑی رونقیں ہیں

پرانے پھّٹے چیتھڑوں میں بسی بے نیازی سے چمٹا بجاتے ہوئے گا رہا ہے

اُسی قول کے بول جس کو

کئی بار بستی کی چو سر پہ ہارا گیا ہے

قناتوں کے اندر

تماشے کا پنڈال وعدے کے رنگیں غباروں

بیانات کی جھلملاتی ہوئی کترنوں سے

سنوارا گیا ہے

جہاں آتے جاتے تماشائیوں اور خبروں کی مڈبھیڑ میں

ہوش سے ہوش بچھڑا ہوا ہے

بڑی رونقیں ہیں

گلابی ہے شیشہ نشاط آفریں ماڈلوں کی دمک سے

کہیں پر

ظرافت کو سنجیدگی لکھنے والے کی ارزاں نویسی کی

دھومیں مچی ہیں

کہیں پر

سدھائے ہوئے شیرکی ٹیپ کردہ صدا دھاڑتی ہے

کہیں پر

قدامت کے پنجرے میں پالا ہوا طائر سبز

لحنِ مکرر میں نغمہ سرا ہے

انہی رونقوں میں

وہ ہارا ہوا شخص رومان کا سرخ رومال

ماتھے پہ باندھے ہوئے،

کان میں ناشنیدہ سخن کی پھریری رکھے،

بے عصا چل رہا ہے

وہی جس نے سپنوں کے ساون میں آنکھیں گنوا دیں

ہرا ہی ہرا دیکھتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

سپنے کا برگد

فصیلِ برف سے حصارِ آب تک

زمیں۔۔۔۔

ازل کی کوکھ سے جنی ہوئی

تکون سی بنی ہوئی

نشیب در نشیب،

سو ہزار سال کے رُکے ہوئے سمے کو اوڑھ کر

دراز ہے

گزرتے آسماں نے روز ایک مہرِ بے کفن

کیا ہے دفن اِس کی سرد خاکمیں

مگر یہ کیا کہ ممکنات کے افق پہ وہ

طلوعِ واقعہ ہوا نہیں

جو اس کی چشمِ تنگ بیں کو کھول دے

جو اس کو ضربِ روشنی سے دھن کے اور کات کر

نئے سرے سے پھر بُنے

اور انتظار ہے کہ ایک دن مدارِ وقت پر

طلوعِ بے غروب میں

وہ شاہ مرد آئے گا

جو اس ادھیڑ عمر، ثقل یافتہ، شکن زدہ زمین میں

نئے خیال و فعل کے عمود و قوس ڈال کر

پتنگ کی طرح اِسے

سبک بدن، فراز جُو بنائے گا

بلندیوں کے بام سے

بسنت کی سہاگنوں کے درمیاں کھڑے ہوئے

اِسے ورائے آسماں اڑائے گا

آفتاب اقبال شمیم

١٣ مارچ ۔ (حبیب جالب)

بہت رویا تھا، دھاڑیں مار کر رویا تھا

کل شب آسماں

اور آج بستی کی منڈیروں پر

صفیں باندھے کھڑی ہے دھوپ،

کہتے ہیں کہ وہ شوریدہ سر

پھولوں کی بُکل مار کر گزرے گا اِن چپ چاپ

سڑکوں سے

وہی جو سونت کر شمشیر آوازِ برہنہ کی

اندھیرے سے لڑا چالیس برسوں تک

وہی سچ کا صدا بردار جس نے زندگی کی لہر پر سینہ سپر ہو کر

گواہی دی

ربودِ آب پر مامور پہرے کے مقابل میں

وہی شوریدہ سر

اِس آج کی تاریخ، وسطِ موسمِ گل میں

ہری چادر بدن پر اوڑھ کر

گزرے گا، کہتے ہیں

کہ قبرِ شام پر انبوہ کے انبوہ لوگوں کے

دعا مانگیں گے

اُس کے لوٹ کر دوبارہ آنے کی

آفتاب اقبال شمیم

پرانے تماشائی کی شہادت

وہ مشتبہ ہے!مسیحا ہے! یا تغیّر کے

اصولِ امر و نہی کانقیب ہے شاید!

کریں گی فیصلہ اگلی عدالتیں آکر

وہ جو بھی ہے

اُسے اک سلطنت گرانے کو

بدن سے نکلی ہوئی روح کو اشارا ملا

ذرا نہ دیر لگی

بس انحراف کے دو حرف۔۔۔۔ اور اس کے بعد

زنِ ستارہ جبیں سے نکاح فسخ ہوا

ستون و سقف گرے بے نہاد قلعے کے

ہمارے ساتھ تماشائیوں میں شامل تھا

اِس انہدام کا سب سے قدیم ناظر بھی

زمیں کی آب و وہا کے نمو کا پروردہ

درختِ پا بستہ

آفتاب اقبال شمیم

جل بھومیا

باپ کی نافرمانی کرنا آدم زاد کا شیوہ ہے

پہلے چرواہے سے لے کر

دورِ زر کے آخری ناپیغمبر تک

ہر پیغام کے سبز و سرخ نوشتے سے

اُس نے روگردانی کی

جیسے وہ مخلوق ہو گدلے پا نی کی

جو گاہے گاہے ظلمت کے حبس زدہ مسکن سے باہر

آتش و باد کے ساحل پر

سانس سکھانے آتی ہے

چندھیائی آنکھوں کو دے کر

دھوکہ نیل بلندی کو چھولینے کا

جل بھومی کے مادر زاد بلاوے پر

اپنے آپ میں پھر ہجرت کر جاتی ہے

آفتاب اقبال شمیم

زمیں زاد

رہ گزر نشیب کی اور سفر فراز کا

دونوں پہ ایک وقت میں

چلنے کا اِذن ہے اُسے

عمروں کا روپ اوڑھ کر

کرتا رہے مسافتیں وادیئ ماہ و سال میں

دُور کے اوجِ کوہ سے

آتی رہے نظر اُسے چادرِ آبِ نیلگوں

سپنے کے آسمان کی،

گرتی ہوئی زمین پر

شوق کی وسعتوں میں وہ بال و پرِ وجود پر

اُڑتا رہے صعود پر

پنجہءِباد گرد سے جانے ہے کیا بندھا ہوا

دیکھیں ذرا قریب سے

دیکھیں کسی حسین کا، کوئی پیام ہی نہ ہو

پھینکا ہوا زمین کا حلقہءِدام ہی نہ ہو

آفتاب اقبال شمیم

اِمکان کے دوراہے پر

ترجمے سچ کے اتنے ہوئے

میری شرحوں نے مجھ کو مرے سامنے

غیر ثابت شدہ کر دیا

ناکشیدہ، گماں آفریدہ لکیروں کے نقشے میں

شاید کہیں

کوئی بستی ہے جس کے کسی گھر میں رہتا ہوں میں

سو جگہ سے کٹا اور بانٹا ہوا

میں زمینِ تغیر سے دیکھوں ”ٍہیں” اور ”ہے” کے

تماشے میں ہجرت زدہ وقت کو

جو اگر ایک لمحہ ٹھہر جائے تو

آئینہ بے انا ہو کے دیکھے، دِکھائے مجھے

وہ مری سمت جو مجھ میں

نایافتہ ہے ابھی

اور یہ لحظہ بہ لحظہ بدلتی زمیں

کس قدر سخت ہے

نوکِ ناخن سے کیسے کریدوں اسے

اور دیکھوں کہ میرے بنانے کی ترکیب میں

کس سفیدی میں کتنی سیاہی ملائی گئی

چوب کی اصلیت چوب ہے

اپنے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی

آب کی اصلیت آب ہے

جس کی تاثیر یا ذائقہ اتنی صدیوں میں بدلا نہیں

اور میں تہ بہ تہ

مختلف بھی ہوں یکساں بھی ہوں

منکشف بھی ہوں پنہاں بھی ہوں

اور کیا ایسے ہونے کا امکاں بھی ہے؟

لفظ کے لمس سے

جامہءِہست کے رنگ و نارنگ کو چھو سکوں

٭٭٭

بے عقیدہ ہو تم

شک سے باہر کی آبادیاں

آدمی کی ولایت میں ہیں

ظلمتوں کے ذخیروں میں اُگتی ہوئی روشنی

وقت کا واقعہ

جنگلوں سے بھری رات میں

ایک چیتا جھپٹتا ہوا نور کے غول پر

اک گلہری ہری ٹہنیوں کو کترتی ہوئی

ایک آفاق بے انت کا

جس کے محراب پر ڈوبتے اور اُبھرتے ہوئے واقعے

انت کے

یہ جزیرے سفینہ نما

بے کراں کے سمندر کی قوسوں پہ بہتے ہوئے

اور پیہم بدلتے ہوئے منظروں کی شفق زادیاں

ساحلِ ریگ پر ڈھیر سیپوں سے

آنکھوں کے گوہر چنیں

اور اِن گوہروں میں پلیں

راز۔۔۔۔ حلقہ بہ حلقہ کسی ایک نقطے کی جانب

اُترتے ہوئے

ایک نقطے کے دل سے ابُھرتے ہوئے

خواب ناوقت کا

جس میں موجود و نابود آپس میں آمیختہ

کارِ تخلیق کرتے رہیں

یہ تمہارے گماں، یہ ہمارے بقیں

فکر و وجداں کی جہتیں ہیں جو

آج اور کل کی رائج شدہ منطقوں سے

سدا

پیش رفتہ رہیں

آفتاب اقبال شمیم

رُوداد۔۔۔۔ ایک جلسے کی

نامولود زمانے کا

ہال بھرا تھا غیب کے سننے والوں سے

شام کو ہونے والی اس تقریبِ دُور نمائی میں

ہم نے بھی مضمون پڑھا

اُن صدیوں پر

جو ندی کے گھاٹ پہ بیٹھے

بہتی ریت سے ذرّہ ذرّہ

سونا چنتی رہتی ہیں

ویسے تو

ہم نے اِس مضمون کے اندر

معنی کے معنی دھونڈے تھے

لیکن دُور سے آنے والے

بے ساحل دریا کے راز شناسوں نے

ہر فقرے پر

بنچ بجا کر ہوٹنگ کی

آفتاب اقبال شمیم

خریف

شہر ظلمت میں ہے

جس کے ہر راستے میں برہنہ ملے

نیم خفتہ گلی، کنکروں کے بچھونے پہ لیٹے ہوئے

ستر پر میلے پانی کی بد رو لپیٹے ہوئے

ڈیوڑھیاں، تنگ دلان، آلودہءِدود بُودار

باورچی خانوں میں صدیوں سے رہتی ہوئی بیبیاں

مرد سورج کی آنکھوں سے جن کو بچائے رکھے

سقف کا سائباں

شہر ظلمت میں ہے

دل کی سجدہ گہ لامکاں

بے اماں

لحنِ یکساں، مضامینِ تکرار کی گونج سے

خاک نائے مقدس کا منبر نشیں

اپنی دانست میں لفظ کے غیب سے آشنا

اس طرح شرح معنی کرے

چار خانوں میں تقسیم ہوں نیم خفتہ گلی کے مکیں

ایک جیسے جو ہیں ایک جیسے نہیں

نام کا پیرہن

جس کے نزدیک پہچان ہے ابنِ انسان کے اصل کی

پوچھتا ہوں میں خود سے کہ میں

ہوں خزاں کشتِ تاریخ کی کون سی فصل کی

آفتاب اقبال شمیم

یہی وہ دن ہے

یہی وہ دن ہے

کہ آسماں، چاند اور ستارا لئے ہوئے

خود زمیں پہ اترا تھا

شب گزاروں کو پیش کرنے ثمر مقّدر کی روشنی کا

یہی وہ دن ہے

کہ لعل و یاقوت جرأتوں کے

درونِ دل کی تپش سے سّیال ہو کے ٹپکے تھے

اور اِس صفحہ زمیں پر

ہرے ہرے لفظ بن گئے تھے

یہی وہ دن ہے

کہ دشت و میدان و کوہ و وادی

رُکی ہوئی سانس کھل کے لینے لگے تھے

دریاؤں اور جھیلوں میں عکس سرسبز ہو گئے تھے

یہی وہ دن ہے

کہ ہم نے جزدانِ فیصلہ میں

رکھا تھا لکھ کر وفا کا پیمان اِس زمیں سے

چلو کہ اس دن کے فیصلے نے

ہمیں جو نورِ شعور بخشا

ہمیں جو نقدِ ضمیر سونپا

اُسے ہم اپنی وفا کا شاہد بنا کے دیکھیں

کہ ہم امینوں سے یہ زمیں کتنی مطمئن ہے

یہی وہ دن ہے

آفتاب اقبال شمیم

زیطہ ۔(نجیب محفوظ کا ایک کردار)

ہنر مند زیطہ

اکیلی گلی کی خدائی میں چُھپ کر

بناتا ہے سّیارو سالم، توانا و بے عیب جسموں کو کسبِ زیاں سے

اپاہج

یہیں اُس کی مشاق ترشی ہوئی انگلیاں خام کی خامیوں سے

کمالات کے چاک پر وہ نوادر بنائیں

جو حےران کر دیں

یہ پہلو میں لٹکے ہوئے بازوؤں کا تماشا

یہ آنکھوں سے پِھسلی ہوئی روشنی کی نمائش

یہ بہروپ کے اُبٹنوں سے سنوارے ہوئے مسخ و مسکین چہرے

یہ کتنی ہی قسموں کے بے آسرا بے سہارابھکاری

جو اپنی فغاں سے

گزرتے ہوئے نیک دل راہ گیروں کو تسخیر کر لیں

کرشمہ ہیں اُس کی ہنرکاریوں اور پیشہ وری کا

ہنرمند زیطہ

جراحت کے آلات، حکمت کے نسخوں سے اہلِ جہاں کو

شفا بخشتا ہے

مفادِ زر و زور و دانش کی خاطر

بدلتا ہے کتنے ہی حیلوں وسےلوں سے اصلیتیں خلقتوں کی

زمانے کے آئےن میں اُس کے خفیہ مصنف نے لکھا یہی ہے

سفر پر چلو تو

سزا و جزا، پندو تلقین، رسم و روایت کا زادِ سفر ساتھ رکھو

گلوں میں لٹکتا رہے روزمرہ کا طوقِ ضرورت

زمیں کا خلیفہ

جبلّت، انا اور طبعِ مخالف کی تہذیب کر کے

مسافر کو دیتا ہے پروانہءِراہداری

بدن مہرِ حاکم سے داغے ہوئے اور تلووں

میں ٹھونکی ہوئی استقامت کی نعلیں

بندھے قاعدے، نظریے اور تجرید۔۔۔۔ آنکھوں

کو یک سمت رکھنے کی اندھیاریاں جو

حدوں میں رکھیں گور تک آدمی کو

عجب ہیں خداوندِ دنیا کی محتاجیوں کے نمونے۔۔۔۔ گداگر

ہنرمند زیطہ

کروں، لامکانوں، زمانوں کا آقا

مجھے جس نے مٹی سے بہرِ تماشا اُٹھایا

مجھے میرے مثبت کو منفی سے، سیدھے سے اُلٹے

کو پیوست کر کے بنایا

کہ میں اپنے ہاتھوں خجل اپنی ضِد، اپنی حد، اپنی مجبوریوں

کے پلستر میں مفلوج باہوں کو باندھے ہوئے روز کے اس اندھیرے

اُجالے میں اُس سے

زمانے کے ہاتھوں میں پہلے سے گروی شدہ عمر کی بھیک مانگوں

مری خاک کے اندروں نیند میں چلنے والی

تمنا کی آنکھیں

ادھورے میں پورے کا سپنا جگائے

مجھے ایک بے صرفہ جہدِ مسلسل پہ مامور رکھیں

وہ میرے تماشے کا میلہ لگائے

سدا مجھ کو بے چارگی میں مجھے ہی دکھائے

آفتاب اقبال شمیم

ادھورے میل کی نظم

آدھی شام ہوئی ہے آؤ!

دھیمی سانس کی ناؤ سے نیچے اتریں اِن روشنیوں

ناروشنیوں کے ساحل پر

ماہی پُشت، پری چہرہ سے تھوڑا تھوڑا جسم ملا کر

رقص کریں

اگلے لمحے جب ہاتھوں میں رہ جائے

نیم نمااحساس پھسلتی کائی کا

اور گلے کو کچاپن سا کھاری کر دے

جائیں اور خلا سے مانگیں

ایک صراحی آبِ شراب وضو کرنے کو

جس کے بعد ستاروں کی تسبیح پہ شب بھر

بے معنی کا اسم پڑھیں

آفتاب اقبال شمیم

بعید کے بعد

کافی بار کا دروازہ مغرب کی جانب کھلتا ہے

گوری اپنے سائے میں

ناچ رہی ہے ڈِسکو کی ہچکولے کھاتی لہروں پر

کھِلتی چمپا

پنکھڑیوں کی اوٹ سے رنگ دکھاتی ہے

آنکھیں، گُل چیں آنکھیں نیم شرابی سی

چھلک رہی ہیں مِس مِس کرتی خواہش سے

تیز سروں میں اُکساہٹ سے جھاگ اڑاتی بوتل کی

صبح اُٹھانے آئے گی

اڑے ہوئے رنگوں کے دھبے

گزری رات کے درپن سے

اور یہی وہ جائے منظرِ رفتہ ہے

جس میں کوئی آٹھ برس پہلے ہم نے

جھُرمٹ جھُرمٹ رقص میں پر کھولے،

گاؤں کی پریوں کو

مشرق میں چڑھتے سورج کی جانب اُڑتے دیکھا تھا

آفتاب اقبال شمیم

فیصلہ

اِتنی بِھیڑ میں، اتنے گم کردہ سفروں میں

اتنے پھیلاؤ میں، اتنی ظلمت میں

تو کیا معنی ڈھونڈے ہے

پیشانی پر ایک چراغِ چشم دھرے

ارے، ارے!

اندر کے گنجلک عکسوں کو

ڈھلتے وقت کی مدھم کرتی پرچھائیں میں دیکھ ذرا

اور بتا

ہستی کا مفہوم ہے کیا؟

ہم کیا جانیں ہستی کا مفہوم ہے کیا

جو معلوم کی نامعلوم سے دوری ہے

اُس کے بیچ بھٹکتے رہنا دانش کی مجبوری ہے

ہم کیا جانیں ہستی کا مفہوم ہے کیا

ہم تو بس اتنا جانیں

”ہونا” ایک حضوری ہے

جینا شرط ہے جینے کی

عمریں چاہے چھوٹی ہوں یا لمبی ہوں

طے کرنی ہی پڑتی ہیں

اور ہمارے اندر کوئی ہم سے کہتا رہتا ہے

فرق بڑا ہے

سچ کے جینے اور ضرورت کے جینے میں

اک ارادہ۔۔۔۔ اپنے آپ کو بامعنی کر لینے کا

ایک حمایت ۔۔۔۔ دُکھ سہنے والوں کی،

اپنے جیسوں کی

آفتاب اقبال شمیم

اُن سے کہنا!

کون ہو؟

قصر خداوند سے آئے ہو بُلاوا لے کر

اُن سے کہنا

کہ غمِ شعر سے فرصت پا کر

میں ضرور آؤں گا

اور یہ ایسی فراغت ہے کہ ملتی ہی نہیں

میرا گھر اتنا بڑا ہے کہ مرے آنگن میں

اُن کے افلاک سما جاتے ہیں

میرا دل کشورِ اسرارِ تمنا ہے جہاں

چُپ کی گلیوں میں ہیں آباد ہجوموں کے ہجوم

ان کہی باتوں کے

میرا غم ایسا گلستاں ہے جہاں کھِلتا ہے

رنگِ نایاب

جو دامنِ قزح میں بھی نہیں

جس میں رہتی ہے وہ خوشبو

جو مشاموں میں اُجالے کی طرح بہتی ہے

اور اِس دنیا میں

بے زمانہ ہیں زمینیں جن پر

یاد آباد ہے جو جب بھی اشارہ کر دے

کوئے امروز میں ماضی کے مکیں آجائیں

اُن سے کہنا کہ وہ چاہیں تو یہیں آجائیں

آفتاب اقبال شمیم

دیوار چاٹنے والے

میں زرِ غم کا لئیم

کسیہءِضبط میں رکھتا ہوں بڑا مال جسے

رات جب آئے تو گِننے بیٹھوں

لب پہ افسوس کی چُپ سادھے ہوئے

لمس کو شانت کروں

اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اشکوں کے اُچکّے آکر

میرا کچھ سیم اُٹھا کر لے جائیں

پھر کسی یاد کے پچھواڑے سے

چاندنی ساتھ لئے

چپکے سے در آئے نقب زن کوئی

ایک آسودہ سی بے چارگی کے عالم میں

اپنے دیناروں کی

دُور ہوتی ہوئی جھنکار سنوں

اور آواز کا سہم

بھاگتے شعر کے پیچھے بھاگے

لے گیا کتنے ہی برسوں کی کمائی میری

کوئی روکے اس کو

اور کچھ دیر کے بعد

پہرہءِدنیا سے

خواب اغوا کئے لے آئے اُسے

جس کی اک دید بخیلوں کو سخی کر ڈالے

ضبط کی تاب کہاں

وار دُوں اس پہ زرِ غم سارا

خود سے سرگوشی کروں

میری دولت ہے تہی جیب مری

اور جب اگلی سحر خوابِ مقدر سے اُٹھوں

کیسہءِضبط بھرا ہو غم سے

آستیں بھیگی ہوئی ہو نم سے

آفتاب اقبال شمیم

مٹی کا بلاوا

میں اُس غم سے مفرور ہو کر

کسی دُور کی کنجِ مستور میں جا بسا تھا

جہاں سیم تن لعبتیں لمس کی قربتوں کے

چھلکتے ہوئے جام ترغیب کی عشرتیں بانٹتی تھیں

جہاں دن کے آنگن میں پھیلی ہوئی جھنڈ کی

جھُنڈ دُھوپیں

بڑی دور تک اُونگھ میں جسم و جاں کو

شرابور رکھتی تھیں بے نام سے شربتی بوجھ

کے ذائقے سے

جہاں انگلیوں پر

گلابی چٹکتی تھی، شیشے کی کنجِ معطر میں عکسوں

کے جھرمٹ

اُترے تھے آنکھوں کے رستے

جہاں ٹمٹماتے ہوئے قمقموں میں

گھری شام کی جھیل پر پھڑ پھڑاتی ہوا، وقفہ وقفہ

صدا۔۔۔۔ گیت بن کر

ہویدا سے مستور تک، دُور تک آتے جاتے

ہوئے موسموں سے

پرے تیسرے رُت میں آوارگی کی کسک، دل

کے پنجرے سے چھوڑے ہوئے طائروں سے

بھرے آسماں کو

بناتی تھی رنگیں

گماں کو

گماں جو۔۔۔۔ ہمیشہ سے عمروں کے دیکھے ہوئے سارے خوابوں سے بھی بے کراں ہو

مگر ایک بے مہر لمحے کے کھائے ہوئے عام سے ایک غم نے

مجھے ایسے بے بس کیا، میری مٹی کے پاؤں سے باندھا

ہُوا بوجھ برتی ہوئی زندگی کا

ہوا سا لگا اور میں اس غنودہ فصا، اُس رہائی

کی جنت کے پردیس سے لوٹ کر آگیا

آفتاب اقبال شمیم

دو گواہیاں

وقت کی کہانی میں عام داستانوں کی

منطقیں نہیں ہوتیں

کس طرح یہ فردا سا آگیا تھا ماضی میں

وہ جو روشنی دن کی، رات کی ولایت میں

آکے جھلملائی تھی

وہ جو تختِ زرداراں بے زروں نے اُلٹا تھا

خواب تو نہیں تھا وہ

آرزو کے کہنے پر، لاشعورِ ماضی سے

دفعتاً جو اُبھرا ہو مطلعِ بصارت پر

نیند ہے یا بیداری

ایک جُنڈ سپنوں کی نقرئی سفیدی کا

آنکھ نے بلندی پر پھڑ پھڑاتے دیکھا ہے

دُور کی فضاؤں میں

برگ و شاخ و طائر کے صبح خیز منظر کی

سرخیاں سی ابھری ہیں

اور میرے پاؤں سے اٹھ رہی ہیں جھنکاریں

بیڑیوں کے بجنے کی

آفتاب اقبال شمیم

نئے پرانے کے سنگم

باہر شام کے جنگل کا سناٹا ہے

روپ بدل کر

لمحوں کا چرواہا اپنے

پتلے پھرتیلے پنجوں پر

خون کی بچھڑی بُو کی ٹوہ میں آتا ہے

سوکھے پتوں پر چلنے کی چاپ سنائی دیتی ہے

باڑیں، دیواریں، دروازے

جوں کے توں رہ جائیں گے

کوئی اندر سے جھپٹے گا

اور اچانک خود کو چھو کر دیکھو گے

تو اپنے آپ کو جھاگ لگو گے

جس کے اندر سے جھانکے گی

ایک سفیدی خون کے عادی دانتوں کی

آفتاب اقبال شمیم

ایک ہارا ہوا دِن(اپنے پیشرو کے نام)

مجھے مایوس کر دو نا!

یہ کارِ لفظ دوزی۔۔۔۔ جس سے جذبوں اور خیالوں کو

منقش کرتا رہتا ہوں۔۔۔۔

اِسے بے کار سمجھوں

اور برسوں کی بچت کے قطرہ قطرہ وقت سے

لکھی ہوئی نظموں کی اس ساری کمائی کو

جلا ڈالوں

مجھے مایوس کر دو نا!

تمہاری ہی طرح میں بھی کسی بے نام بے آشوب

گوشے میں

شکستہ کرکے آئینے حوالوں اور مثالوں کے

مٹا کر وہم، زورِ لفظ سے کچھ کر گزرنے کا

لگالوں اپنے گردا گرد باڑیں روزمرہ کی،

دُھواں پیتے ہوئے

کھاتا رہوں معمول کی خوراک میں

محدود سی مقدار رنج و شادمانی کی

چڑھے جب دن تو میں

تپتی ہوئی شب کی سرائے سے نکل کر دھوپ کے نخلِ سکون افشاں کی

چھاؤں میں ذرا بیٹھوں

اکیلا کھیلتے دیکھوں اُجالے کے لڑکپن کو

گزرتے پہر کے ٹیلے پہ چرھ کر جو گیا ہوتے سنہرے میں

رہوں

تازہ شجر کی ڈال پر سورج کے پکنے تک

پرندوں کے بسیرے سے اُترتے شور کی گت پر

نئے دن کے خبرنامے کی سنگت میں

برابر ہیں سبھی اچھی بُری خبریں

مجھے کیا تیسری دنیا کا باشندہ ہوں

اپنا قہر سہہ لینے کی عادت پال رکھی ہے

ابھی امرود اور جامن کے پیڑوں سے ہوا اُترے گی

اپنے کاسنی ملبوس پیلی اوڑھنی میں

اور لے جائے گی چڑھتی سانس کے اُونچے بہت اُونچے

ہلارے میں مجھے پیچھے بہت پیچھے

جہاں پہلے سفر میں دفعتاً حملہ ہوا تھا

جان کے خیمہ پڑاؤ پر

کسی دلدار چہرے کی بڑی آنکھوں نے

دل کے شہریوں میں ایک بھگدڑ سی مچا دی تھی

بدن کے باغ میں

سورج مکھی سے شہد کا تاوان لیتے ڈنگ میں

کہرام برپاہو گیا تھا نارسائی کا

جہاں پہلی گلی والے

سویرے ہی سویرے چند لقموں کے عوض آراکشی کرنے

دیوداروں کو اپنی پشت پر لادے ہوئے جاتے تھے

شب کو لوٹ کر سستانے آتے تھے

ذرا آواز تو دوں دھوپ کو۔۔۔۔ شاید کہ رُک جائے

پڑا ہوں دیر سے

ٹیکے ہوئے کہنی ملائم اور اُجلائی ہوئی راحت کے تکیے پر

ذرا قامت کشیدہ دھوپ سے ہٹ کر

دراز ہو جاؤں اپنے آپ پر جھکتی ہوئی

آنکھوں کے سائے میں

پسینہ، اُونگھ کچی ٹوٹتی بنتی ہوئی شکلیں،

پرانی تہمدیں، کھیتوں پہ ٹھہری باس گنے اور

گوبر کی، تھرکتے نقرئی پاؤں کسی لاطینی لڑکی کے،

لبوں پر تھرتھری سی چھوڑ کر اُڑتی ہوئی مہکار

نغمے کی، قبا کے چاک سے چھلکی ہوئی جھلکی کے اندر

کوند اوجھل کی، پرانی آنچ میں بھیگی ہوئی آنکھیں

بچائے کوئی اِن آ نکھوں کو قدِ ریگ میں چلتے ہوئے

سائے کے سائے سے

یہی نسیاں، یہی یادیں۔۔۔۔

رواں آئینے ناموجود کی آئینہ داری کے

زمانوں کے بہاؤ میں

کہاں سے دیکھتا ہے کون اِس لمحے کے جگنو کو

ذرا سی رات کا منظر بنا کر بند مٹھی میں

ابھی بے انت کے رستے میں اُس آئی ہوئی

سہ پہر کے زینے سے اتُروں گا

پرانی دوستی کے آشنا چہروں کی بیٹھک میں

تو رنگا رنگ موضوعات کے پتوں کو پھینٹا جائے گا

چلتی رہے گی دیر تک تفریح چائے اور چالوں کی

مزا آتا ہے کم کم چُسکیوں میں ٹال کر

موضوع کی گرمی کو اپنے سامنے موجود رکھنے میں

یہ میٹھے گھونٹ کیسے ایک لمحے میں

پھڑکتی کنپٹی میں ایک دو کڑوی کسیلی گولیوں کی

راحتیں سی گھول دیتے ہیں

نہیں تو جسم کو خنکی کا اک احساس سا بے چین رکھتا ہے

چلوں آگے

کہ میرے اِس سفر کی نہج پہلے سے معین ہے

مجھے چلتی زمیں کے ساتھ چلنا ہے

اور اب دو رویہ نیندوں میں گھِرے دن کی

سڑک سے شام کی بستی میں آ اُترا ہوں

میرا سارباں آواز دیتا ہے

کہ بس کی لائٹیں ٹوٹی ہوئی ہیں

تم یہیں سپنے کی چادر تان کر سو لو

یہ وقفہ جاگنے کا ہے کہ سونے کا؟

میں خود سے پوچھتا ہوں

اور کمرے میں گھڑی کی نبض دھیمی پڑنے لگتی ہے

یہ دائم جاگنے والا مجھے سونے نہیں دے گا

کوئی تدبیر۔۔۔۔ اِس اندر کی تنہائی سے بچنے کی

جو آنکھوں میں سلائی پھیرتی ہے

اور سیسہ سا پلا دیتی ہے کانوں میں

مگر سوچوں تو یہ ہونا نہ ہونا بھی غنیمت ہے

مجھے کیا مفت میں زندہ ہوں ورنہ

میں بہت پہلے

کرائے پر کسی پردیس میں لڑتے ہوئے مارا گیا ہوتا

جنم کا حادثہ کہئے

کہ میں اُس نسل میں شامل نہیں تھا

جس نے سورج کے جزیرے میں

ہمکتے شہر سے اُٹھتے ہوئے خیمہ نما شعلے کا

رقصِ مرگ دیکھا تھا

مرے اِمکان میں تھا

کوئی یالو کے کنارے یا گھنے بانسوں کے جنگل میں

بدن میں چھید کر کے اوک بھر مجھ کو بہاد یتا

مجھے کیا، مفت میں زندہ ہوں ورنہ

یہ بھی ممکن تھا

کہ صحرا میں پلٹتے قافلے پر آگ کی بارش میں

مَیں بھی بھیگ جاتا

اور زندہ ہوں

کہ میں نے بے حمیّت ، مصلحت آمیز خاموشی میں

جینے کی سزا تسلیم کر لی ہے

مجھے کیا، ٹھاٹھ سے دستور کے مسکن میں رہتا ہوں

گزر اوقات ہو جاتی ہے رزقِ خواب پر

نانِ قناعت پر

بس اتنا ہے

کہ ساری عمر اس اپنی ہی بستی میں

زمانے اور زمیں کی علتوں کے آستانے پر

جبیں رکھ کر جیا ہوں

ور میرا نام بھی مذکور ہے گم نام صدیوں سے رواں

انبوہ کی لوحِ مقدّر پر

یہ کیسی ذلتیں ہیں جن سے بچنے کی

مری تہذیب داری نے مجھے مہلت نہیں دی

اور یہ تہذیب داری۔۔۔۔ زندگی کی اِس فضائے اجنبیت میں

بہر انداز جینے کے قرینے کا سبق دے کر

مجھے تم نے سکھائی تھی

مجھے اب حوصلہ دو

میں تمہاری ہی طرح

اپنے لہو کی روشنائی سے لکھی نظموں کی اِس ساری

کمائی کو جلا ڈالوں

مجھے مایوس کر دو نا!

آفتاب اقبال شمیم

خُوبصورت عورت کا خواب

گڑی ہے چوبِ درختِ مُردہ

سبھی زمانوں کے راستے میں

شکست و نصرت کا اِستعارہ

غلام و آقا کے رابطے کی ہمیشگی کا

جسے ہرا پھر سے کر دیا ہے

تمہارے وارے ہوئے لہو نے

بلندیوں پر

تمہارے مصلُوب بازوؤں کے کشودہ پرچم کی پھڑ پھڑاہٹ

تمہارے سُوکھے لبوں کی قوسیں،

فضا میں زندہ پروں کی بست و کشود کے دلنواز

مژدے بکھیرتی ہیں

خموشیاں بولنے لگی ہیں

ابھی وہ دلبر۔۔۔۔ قدیم وعدے کی پالکی میں

تمہیں تمہاری وفا کا انعام دینے آئے گی

اور گھونگھٹ اُٹھا کے

آنکھوں کے آسماں پر ابھرتے تارے

کی روشنی میں

تمہارے دوبارہ لوٹنے کی نوید دے گی

کہ اس نے ہارے ہوئے لہو سے

کشید کر کے

بنا لیا ہے نیا ہیولیٰ

زمیں کی قسمت کا تازہ وارث

جسے وہ اپنے وجود میں پلنے والی

خواہشِ کے دودھ پر پالتی رہے گی

آفتاب اقبال شمیم

میں مایوس نہیں

یہ فنا کے گھاٹ اُتارتے ہوئے

تجربے

یہ الم سلائی کی نوک سے جو لکھے گئے

میری آنکھ پر

یہ ہمیشہ سے

کسی شے پرست کی دسترس

کسی خواب پُھونکتی آرزو کے طلسم پر

یہ دل و دماغ کی بے نتیجہ سی کاوشیں

فن و فلسفہ کی مشاورت

جو نہ ظلمتوں کو گھٹا سکی’ جو نہ روشنی کو بڑھا سکی

یہ ضرورتوں کے معاہدے

جو سدھائے فہم کی فرض کردہ صداقتوں سے’

بنے بنائے مجّرردات سے

ناپتے ہیں مرے وجود کے بھید کو

یہ رجا و بیم کے جھپٹنے کی مسافتیں

یہ ہجوم

ایک ہی دائرے میں گھسیٹتے ہوئے چل رہے ہیں

حدوں کی بیڑیاں پاؤں میں

ہے گمان کیا؟ ہے یقین کیا؟ مجھے کیا خبر

رکھیں اپنی اپنی گرفت میں میرے ذہن کو

یہ وسیلے ہندسہ و حرف کے

یہ دلیلیں’ منطقیں اور زاویے سوچ کے

جنہیں مثل سِکہءِرائجہ کیا معتبر

زر و زور نے’

یہ نفاق نیّت و فعل ، معنی و لفظ میں،

یہ سدا سے بہری عدالتوں میں

سدا کی گونگی گواہیوں کی سماعتیں’

کئی اور ایسے ہی یاس خیز تلازمے۔۔۔۔

مجھے کیا برا تھا کہ اِیسے جینے کے کرب سے

میں فرار ڈھونڈتا موت میں

مگر ایک رابطہ قُرب کا

مری چاہتوں میں کسک سی ایک

جدائی کی

مری شاخِ دل کو بھری خزاں میں ہرا رکھے

نہیں بھولتا

وہ لڑکپنے کی زباں پہ ذائقہ پان کا

سرِ راہ

بھیگے ہوئے سمے کی چنبیلیوں پہ

سماں عجیب سا جگنوؤں کی اُڑان کا

وہ جو شفقتیں

میرے بچپنے میں ملیں مجھے

میں اُسی سخاوتِ جاریہ سے نہال ہوں

وہ عجیب و سادہ سی چاہ جو

مری دھڑکنوں میں خلل سا ڈال دے

دفعتاً

رخِ دل نواز کو دیکھ کر

وہ چٹکتے نشے کی باس دیتے ہوئے

لبوں کی گلابیاں

وہ فسوں سا چشمِ سیاہ کا

غمِ روزگار سے مہلتوں کی گھڑی گھڑی

میں رچا ہوا

وہ دنوں کی بھیڑ سے بچ کے

کُنج گریز میں مرا بیٹھنا

بڑی دیر تک

میری اپنے آپ سے گفتگو

کسی آشنائی کے درد کی ہو شفق سی

جیسے کھلی ہوئی

میرے گرد و پیش کے کاسنی سے سکوت میں

یہی گرمیوں کا وہ موڑ ہے

جہاں سبز جھاڑ سے جھانکتے ہوئے موتیے کی

شگفت سی

میری صبح و شام کی راہ میں، مجھے ایک ثانیہ روک کر

کرے عطرِ بیز سواگتیں

وہ وفورِ شکر کہ آنکھ میں اُمڈ آئے

اشک سپاس کا

وہ کھِلے کنول کا سکون رات کی جھیل میں

وہ تھکن کے لمبے سفر سے واپسی

صفر وقت کی سمت پر

سرِبام کوچہ شرر فشاں

وہ سلگتا گیت جسے جنوب کی بے مثال مغنّےہ نے

عطا کیا

مجھے اپنے مخزنِ سوز سے

دلِ در کشادہ کی بیٹھکوں میں وہ صحبتیں،

وہ نیاز یار فرید کے

وہی آستانہءِیاد روز کی شام کا

مرا تخت ہے

جہاں دوستوں سے نشست ہوتی ہے چائے پر

یہ سپردگی کا خمیر میری سرشت میں

یہ محبتوں کی روایتیں

جو وراثتوں میں ملیں مجھے

جو مرے لہو میں تھکے بغیر سبک سبک سی

رواں رہیں

مرے حوصلے کی امین ہیں

میں ذرا سا پیکرِ خاک ہوں

مگر عندیہ کوئی غیب کا میرے سلسلے میں

ضرور ہے

کہ ہزیمتوں پہ ہزیمتیں

مجھے بار بار ہرا کے بھی نہ ہرا سکیں

یہ حصار ویسے تو دیکھنے میں ہے پست

قدِ غنیم سے

اِسے کُل جہان کے حُزن و یاس کی یورشیں نہ گرا سکیں

آفتاب اقبال شمیم

سنگِ مارگلہ

یہ پتھر مارگلہ کی پہاڑی کا

جسے نسبت ہے تاروں کے پرانے خانوادے سے

جسے نِروان میں رکھا

نہ جانے کتنی صدیوں کی تپسیا میں

سماع و وجد مےں مصروف پانی کے گےانی نے

گھٹا کی حبشنیں

اپنی برہنہ چھاتیوں کے دودھ کی برکھا میں نہلاتی رہیں

جس کو

ہوا کی بوسہ بوسہ لذتوں کی رات میں

اپنے بدن خود سے چراتی ناگنوں کے لمس سے

طاری رہی مدہوشیوں کی سنسنی

جس پر

سدا آتے ہوئے جاتے ہوئے موسم نے کی تحریر

جس کی لوح پر تاریخ وقتوں کی

یہ سنگِ مارگلہ جس کی رگ رگ میں

گلِ آتش کا زیرہ بہتا رہتا ہے

اسی خورشید زادے کو

چنا ہے حادثے کے راج معماروں نے

میرے شہر کے ایوانِ اول میں

جہاں یہ بے بس و ناچار

قندِ مرتبہ پر رال ٹپکاتے ہوئے

درباریوں کی

لاڈلی سی بھنبھناہٹ سُنتا رہتا ہے

کسی آتے ہوئے سائے کی آہٹ سُنتا رہتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

اندیشہ دار

چیخ کے کہتا ہوں نیزہ برداروں سے

شہر پناہ کے سب سے اونچے بام پہ جو استادہ ہیں

سنو’ سنو

اکڑی گردن کو خَم دے کر تم دیکھو تو

کتنا پانی ڈوب چکا ہے چوری چوری

بستی کی بنیادوں میں

کتنی دھنسی ہوئی مٹی نے

شہر پناہ کی ستر کو ننگا کر ڈالا ہے

ایک دھڑام

جو آج کے دن کو بے فردا کر جائے گی

کون سنے گا

بجلی گرنے کی آواز تو کافی دیر کے بعد

آتی ہے

آفتاب اقبال شمیم

مَیں

تمہیں معلوم ہی کیا’ کون ہوں میں

کون سے ملتے بچھڑتے پل کے سنگم پر

کسی اسرار نے اپنی سنہری دھڑکنوں کی تال پر

مٹی سے بالیدہ کیا مجھ کو

تمہیں معلوم ہی کیا

اُس جہانوں کے جہاں والے نے

کس خوش بخت کو شہزادگی بخشی

چٹکتے کیسری لمحے کی بے سایہ زمینوں کی

تمہیں تو چاہئے تھا وقت سے لمحہ چرا کر

مجھ سے ملتے اُس ابد آباد جہلم کے محلے میں

جہاں کی تنگنائی سے افق کی وسعتوں تک

سرحدیں تھیں میری کشور کی

کہاں مہلت ملی تم کو

کہ آ کر دیکھتے آوارگی کے تخت پر اُڑتے سلیماں کو

کبھی تم دیکھتے آ کر

صبا کے ساتھ قصرِ خواب کی پھلواریوں میں گُھومتی

اُس موج پِیچاں کو

تمہیں معلوم ہی کیا، کون ہوں میں

ایک چوتھائی صدی سے عمر کی لمبی گلی میں

روز ہی جاتا ہوں دریوزہ گری کرنے

زمیں زادہ خداوندانِ نعمت کے دروں پر نوکری کرنے

آفتاب اقبال شمیم

دوسرے منظر کی بازگشت

بہت گہرائیوں میں جا کے مت پوچھو

تمہیں میں کیا بتاؤں گا۔۔۔۔ہنسی آ جائے گی مجھ کو

کہ اُن تاریکیوں کے شہر بے حد میں

چراغِ چشم لے کر میں نے دیکھا

چراغِ چشم ایسا تھا کہ جس کے عقب میں بھی

ٹمٹماتی تھیں لویں سی نا شناسائی کے نادیدہ

چراغوں کی

مری تحقیق نا کافی سہی لیکن

وہی جو روشنی تھی دستیاب اُس سے

یہی دیکھا کہ

سچے خواب بھی سچے نہیں ہوتے

اُمیدیں داشتائیں ہیں۔۔۔۔رعایا کی

جو دادِ عیش ناداری پہ پلتی ہیں

جسے عادت ہے خود پہ رحم کھا کھا کر گزر اوقات کرنے کی

تغیر ایک ڈھارس ہے بدلنے کی

یہی دس بیس برسوں کے اُجالے میں

اور اس کے بعد اگلے آمروں کا دور آتا ہے

نشیبوں پر ذرا سے نخل کی مانند ہے دنیا

جو گہرے جبر کی وسعت میں پلتا ہے

وہی رفتہ کا رفتہ

اور آئندہ کا آئندہ

ہمیشہ گھوم پھر کے مطلعِ منظر پہ چڑھتا اور ڈھلتا ہے

وہ عامل۔۔۔۔

اور میں معمول گزرے چار عشروں کے تماشے کا

وہی بولوں گا جو بتلائے گا مجھ کو

کہ میں پس ماندگی میں رہ گیا ہوں وقت سے پیچھے

کہ میں۔۔۔۔

شگفت

ایک خیالِ خواب افروز کی کرنوں نے

اپنے نور سے درزیں بھر دیں بستی کے دروازوں کی

چُپ کی خاک سے تانیں پھوٹیں ہری ہری آوازوں کی

ایک نگاہِ فردا زاد بلندی سے

کیسی کیسی رمزیں لے کر آئی اپنے دامن میں

پھیلی جن سے خوابوں کی خوشحالی آنگن آنگن میں

ایک صدائے دُرونما نے اپنے قول کی برکت سے

صدیوں کی نادار زمیں کو تحفہ کیا نایاب دیا

مٹی کو اک سمت عطا کی’ آنکھوں کو اک خواب دیا

آفتاب اقبال شمیم

آدھی نظم

مشقِ جنوں کرتا رہتا ہوں

جانے کب وہ مرد صفت لمحہ آ پہنچے

جو معمول کی اِس شائستہ نظم کا دامن چاک کرے

دید برہنہ سچائی کی’ لفظوں کو بے باک کرے

آنسو’ توڑ کے ساحل خالی آنکھوں کا

اِس ظلمت کی مٹی کو نمناک کرے

کوئی مداو؟۔۔۔۔اوسطیوں کی نسل مجھے

اپنی عمروں کے ترکے سے عاق کرے

دل کہتا ہے

آ خطرے کی سب سے اُنچی چوٹی پر

جان کو عریاں کرنے کا وہ رقص کریں

جس کو دیکھ کے ساری دنیا پاگل ہو

خون کے اندر صدیوں کی خفتہ آنکھوں میں ہلچل ہو

اور شرر بھر وقفے میں یہ آدھی نظم مکمل ہو

آفتاب اقبال شمیم

نخلِ رواں

میں وہ نخل رواں ہوں

جو نمود و نیستی کی گردشوں میں گھومتا رہتا ہے

بستی کے ذخیرے میں

جہاں پر آب رو دنیا کی بہتی ہے

بقائے روزمرہ کی ضمانت میں

جہاں پر وقت

دن بھر گرم کرنیں گوندھنا رہتا ہے

میری سرد مٹی کی قدامت میں

وہ کرنیں’ جو سماع و رقص میں انبوہِ خورشیداں

کے آوارہ خراباتی

لٹاتے پھر رہے ہیں لامکانوں کے اندھیرے میں

یہ سیم و زر ذکاوت اور جذبوں کے

رضائے وقت نے شاید نکالے ہیں

اِنہی کرنوں’ اِسی مٹی، اِسی پانی کے معدن سے

یہ سیم و زر۔۔۔۔یہ میرے بھید کے اثمار جو

لگتے ہیں اوجِ شاخِ ہستی پر

انہیں میں دیکھتا ہوں نیم بینندہ نگاہوں سے

انہیں میں دُور سے چھوتا ہوں

اپنے لمس کی کوتاہ دستی سے

سمجھتا ہوں کہ اِن کو جانچنا شاید مرے پیمانۂِ  لفظ و عدد میں ہو

یہ لامحدود میری جستجو’ میری تمناؤں کی حد میں ہو

آفتاب اقبال شمیم

وارداتیا

ہوا یوں تھا

کہ وہ دانستہ’ نادانستہ اُس دن

کارگاہِ مصلحت کے ساختہ’ آنکھوں کے عدسے

اپنے گھر پر بھول آیا تھا

وہ وسطِ شہر سے گزرا تو شاید

راج گھر میں اُس سمے اجلاس جاری تھا

اُسے ایسے نظر آیا کہ جیسے کوئی منظر ہو

ڈرامے کا

ہنسا وہ مسخرہ پن دیکھ کر سنجیدہ چہروں پر

محبت کی کہانی میں

اُسے گرما دیا تکرار کی تکرار کرتے عشق بازوں نے

تصادم خیز تھا ماحول برجستہ کلامی کا

فضا میں سنسنی ٹلتے ہوئے سسپنس کی سی تھی

دھوئیں اور دھول کے سیناریو میں

یہ اُبھرواں اور اُجلایا ہوا منظر

اُسے ایسے پسند آیا

کہ بے قابو سا ہو کر داد دی دل کھول کے

اُس نے ڈرامے کے مصنف کو

اسی پاداش میں جیسے کہ ہوتا ہے ہمیشہ سے

اسے اس عامیانہ پن پہ ٹھہرایا گیا

مجرم’ متین و برگزیدہ کی اہانت کا

آفتاب اقبال شمیم

دو چہرے۔۔۔۔ایک چہرہ

دن کے دورانئے میں

ایک بے لیکھ جواری کی طرح

ہار دیتے ہو کمایا ہوا دھن خوابوں کا

پاؤں کے گرد تھکن بن کے لپٹتے ہوئے اِس رستے پر

نیم فہمیدہ مقاصد کی تگ و دو میں رواں رہتے ہو

ایک موہوم سے وعدے کے تعاقب میں سدا

کیوں نہ اک تجربہ کر کے دیکھیں

چل کے اس رات کے میخانے میں

آج ہم اتنا پیئں’ اتنا پیئں

کہ اندھیرا بھی نشے میں آ کر

ہچکیاں لینے لگے

اور جب اپنے ادھورے پن کو

سیل تسلیم کی موجوں میں ڈبو کر نکلیں

ہاتھ رکھے ہوئے اک دوسرے کے کاندھے پر

کیا عجب دن کے دکھاوے کی نظر بندیوں سے

آنکھ آزاد ملے

اور اِن روشنیوں کے خوانچے میں

رکھ کے شیرینیاں جو بیچتا ہے

اس کی آواز پہ بچوں کی طرح

ہم نہ للچائیں کہ یہ زہر لہو میں جا کر

قطرہ قطرہ سیاہی میں بدل جاتا ہے

آفتاب اقبال شمیم

شہر کے لئے دعا

اے خدا عمریں دے

ایسے پیوند لگے پیڑوں کو

جن کی کم وقت نہادوں سے ابھی پھوٹی نہیں

وہ اکائی کی تراوت جو نئی ٹہنی کو

جورِ موسم سے نمٹنے کی سکت دیتی ہے

اے محبت کے خدا!

اپنے ایوانِ تغافل سے ذرا نیچے آ

اور اس شہر کو جو آئنہ داری کے تمدن سے ابھی عاری ہے

جس میں زر خوردہ ثقافت کی عمل داری ہے

اپنی تخریب کے حملے سے بچا

ورنہ یہ رعشہءِخوف

یہ فشارِ ہوس و حرص کا روگ

جس سے اعضائے بدن اپنے توازن میں نہیں

بڑھ گیا اور تو پھر اس کے لئے

نا امیدی کے سوا

نسخہءِچارہ گری کر نہ سکے گی تجویز

تیری بخشش’ تیری فطرت کی مسیحائی بھی

فیصلِ وقت کی بینائی بھی

آفتاب اقبال شمیم

حوصلے والے

آ چرائی ہوئی آنکھ سے دیکھ کر

بے نیازانہ برتیں اُسے جو ملا ہے ہمیں

اور چپ چاپ بیزاریاں کاٹنے کی سزائیں سہیں

جیسے فردوس کے راندگاں

آگ کی کیچڑوں میں فراغت سے لیٹے ہوئے

اپنے معمول کی نا امیدی میں جلتے رہیں

اور جیسے زنانِ مہ و سال خوردہ

بجھی جنس کی اور بڑھتی ہوئی عمر کی راکھ کو

دستِ افسوس کی سلوٹوں میں سمیٹے ہوئے

روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوں

اور جیسے کوئی ہر دفعہ

مکتبِ شوق سے لوٹ آئے درِ بند کو دیکھ کر

جس پہ آویزاں نوٹس ہو

تعطیل کے بعد تعطیل کا

آفتاب اقبال شمیم

پڑاؤ۔۔۔۔بے سفر مسافروں کا

یہ جوہڑ عضوِ بریدہ ہے اُس دریا کا

جس کے شفاف بہاؤ میں ہر ٹھہرا منظر بہتا تھا

جو گزرا کل کی بستی سے

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے پرچھائیں اپنے گھاؤ کی

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے

کچھ خار و خس’ کچھ ٹوٹے پر’ طائر ایامِگذشتہ کا

ٹہنی کے خمیدہ شانے پر

اس خالی سرد بسیرے میں

اور چھوڑ گیا’ اپنے پیچھے مٹھی میں بند عفونت سی ٹھراؤ کی

اور چھوڑ گیا اپنے پیچھے

مسند پہ کلاہ خود داری کی’ وہ شاہ سوار جو گزرا تھا

اِس رستے سے

جو فرش یہ اوندھی رکھ دی ہے

ان آج کے عزت داروں نے

اب کاسہءِدستِ گدایاں ہے

اور اپنے آپ پہ حیراں ہے

آفتاب اقبال شمیم

روشنی نا روشنی

سارے رنگ ادھورے ہیں

سب خوشبوئیں

میرے مشامِ ذوق کو ترسایا ترسایا رکھتی ہیں

آنکھوں کی اِس ناآسودہ بستی میں

روشنیوں نا روشنیوں کی آپس میں یک جہتی ہے

دھوپ ہمیشہ سائے سے سمجھوتہ کر کے رہتی ہے

ہریالی سے پیلے پن

اور پیلے پن سے ہریالی کے

گردش کرتے موسم میں ایک تماشا برپا رہتا ہے محدود تغیر کا ایک بخل کے عالم میں

عمر کے اس پیمانہءِکم کیفیت کو

رنگیں کر لیتا ہوں اپنے خوابوں کی آمیزش سے

اگلے دن کی دھوپ میں جو اُڑ جاتے ہیں

اِن رنگوں کی بخشش سے

آفتاب اقبال شمیم

مارکوپولو برج

شہر سے کچھ پرے

پُل کے نیچے اُنہیں

خشک ندی کی بہتی ہوئی ریت پر

باڑماری گئی

سینہءِشب میں ہلکی سی لرزش ہوئی

چند صحنوں میں قد کے برابر بلندی سے

چیخیں گریں

بے بسی کے اندھیرے کنوئیں میں دھمک سی ہوئی

اور اوپر کہیں لوحِ تقدیر پر

حاکم نیک اندیش کی عمر میں اور توسیع

کر دی گئی

آفتاب اقبال شمیم

ساحلِ سمندر پر (ماؤ کی نظم پئے تاخہ کے پس منظر میں)

یہیں کبوتر کے اِس بسیرے کے دیدباں سے

روانہ ہو کر

اِسی سمندر کے پار اُتریں

اُفق کے ساحل پہ اُس کی آنکھیں

یہیں پہ دیکھا نئے زمانے کا خواب اُس نے

یہ پاک دربار پانیوں کا

وہی ہے جس میں

ملی اسے خلوتِ بصیرت’ عنان برداریئ تغیر

یہیں پرانی حویلیوں کے کھنڈر سے اُس نے

نئی سحر کا طلوع دیکھا

یہیں سحر کا طلوع دیکھا

یہیں مصور کی آنکھ میں نقش خواب اُبھرا

وہ خواب۔۔۔۔تعبیر بن کے جس کی

ہزاروں برسوں کی جبر خوردہ زمیں سے

یوم حساب اُبھرا

آفتاب اقبال شمیم

ٹھہرا ہوا منظر

دل کے اک متروک گوشے میں وفا کی

خوبصورت راہبہ بیٹھی ہوئی

اپنے گردا گرد

بے برکت دعا کا نور پھیلائے ہوئے

مدتوں سے۔۔۔۔جانے کس کی منتظر

اور باہر

شہر کی دہلیز پر

رات کے نوزائیدہ بچے کے جشنِ تہنیت میں

رقص کرتے ہیجڑے

درد کی فرہنگ کے سارے ورق بکھرے ہوئے

لفظِ نابینا کے آگے درج معنی کا خلا

عشرتِ یک شب کے دلدادہ تماشابیں

بہک کر

جمگھٹوں میں بامِ ثروت کی طرف جاتے ہوئے

نغمہ بے سوز سننے کے لئے

اور کم میعاد کی مانگی ہوئی خوشحالیوں کے پیرہن سے

شوخ’ کچا رنگ۔۔۔۔ ناپختہ چمک اڑتی ہوئی

ایک گوشے میں اکیلا

معرکہ زارِ شکست پے بہ پے میں ایستادہ نوجواں

بے بس و مجبور’ بے دست و کماں

آفتاب اقبال شمیم

مراجعت

شامِ فنا کی جھیل پر

کیا بے بسی تھی، جو اُسے اُس سے چھڑا کر لے گئی

باہر محیطِ چشم سے

اک اجنبی سا شخص تھا’ جو دھوپ کے پردیس سے

نکلا بدن پر اوڑھنے

سایہ درختِ آب سے مانگا ہو

اندر بپا کہرام تھا

ہارے ہوئے برسوں کا بنجر منطقے کی ریت پر

ننگی ہوا کی سیٹیوں کے بین میں

چلتے ہوئے۔۔۔۔کیا جانئے’ کیوں رک گیا

شاید اُسے آیا نظر

اِن شدتوں کی اوٹ میں اک عکس سا

کھوئی ہوئی پہچان کا

آئی اُسے شاید زمینِ سبز کی

مانوس مٹی کی مہک

شاید لپک کر آئی ہوں۔۔۔۔سرگوشیاں

دکھ کے پرانے سرمئی خیموں سے اُس کی سمت

پہچانے ہوئے انفاس کی

وہ اجنبی۔۔۔۔کیا جانئے کیوں رک گیا

ممکن ہے خود پر منکشف

ہوتے ہوئے اس نے سنا ہو پاس کی

اُس کنج میں

شاخِ ہوا پر خوشبوؤں کا چہچہا

اُس ڈال پر

جُھولا جُھلاتی یاد کی بانہوں میں

رنگیں چوڑیوں کا نغمہءِخواب آفریں

کچھ دوستوں کا ذکر موجِ ساز پر

احساس کے سنگیت کا چھیڑا ہوا

کوئی پراناواقعہ۔۔۔۔

وہ رک گیا

اور لوٹ کر’ کچھ مختلف انداز میں

دُکھ کے پرانے قافلے سے آ ملا

آفتاب اقبال شمیم