admin کی تمام پوسٹیں

بچائے رَکھو پُرانی روایتوں کو اَبھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 227
کسی نے دیکھا ہے کل کی ضرورتوں کو اَبھی
بچائے رَکھو پُرانی روایتوں کو اَبھی
جو لوگ کرتے ہیں بے داغ چاہتوں کی تلاش
ترسنے والے ہیں جھوٹی محبتوں کو اَبھی
پھر اِک کمند نے ماں سے چھڑا لیا اُس کو
سمجھ رہا تھا وہ صحرا کی وُسعتوں کو اَبھی
اَکھر رہا ہے بھری دوپہر کا سنّاٹا
شریر پاؤں میسّر نہیں چھتوں کو اَبھی
سنا یہ ہے وہ بہت خوش سمجھ رہا ہے ہمیں
تو اُس نے دُور سے دیکھا ہے شہرتوں کو اَبھی
زمانہ کل اُنھیں سچائیاں سمجھ لے گا
تم اِک مذاق سمجھتے ہو تہمتوں کو اَبھی
عرفان صدیقی

اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 226
چراغِ خانۂ افسردگاں جلائے بھی
اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی
وہ چاند ہے تو مرے بام پر طلوع بھی ہو
ستارہ ہے تو مری شام جگمگائے بھی
وہ پھول ہے تو مری شاخِ جاں بھی مہکائے
اگر ہوا ہے تو میرے بدن تک آئے بھی
وہ شعلہ ہے تو مجھے خاک بھی کرے آخر
اگر دیا ہے تو کچھ اپنی لو بڑھائے بھی
سخن سرا ہے تو مجھ سے مکالمہ بھی کرے
گلہ سنے بھی اور اپنی غزل سنائے بھی
عرفان صدیقی

وہی جرس کی صدا پھر کہیں سے آنے لگی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 225
بساط رقص جو گردِ سفر بچھانے لگی
وہی جرس کی صدا پھر کہیں سے آنے لگی
عجیب موج ہے، دشمن کہوں کہ دوست کہوں
زمین کاٹ رہی تھی کہ گل کھلانے لگی
سدا کہیں کوئی بے آشنا نہیں رہتا
مجھے ہوائے مسافت گلے لگانے لگی
میں بے کنار سمجھنے کو تھا سمندر کو
کہ ایک شاخ سرِ آب جگمگانے لگی
دُعائے شامِ دل آزردگاں بھی کیا شے ہے
چراغ جلنے لگے‘ رات مسکرانے لگی
ابھی کھلا بھی نہ تھا رختِ شوق دلّی میں
کہ پھر ہمیں کششِ لکھنؤ بلانے لگی
عرفان صدیقی

یار، تم کو سانس لینے کی ادا کب آئے گی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 224
یہ تو صحرا ہے یہاں ٹھنڈی ہوا کب آئے گی
یار، تم کو سانس لینے کی ادا کب آئے گی
کوچ کرنا چاہتے ہیں پھر مری بستی کے لوگ
پھر تری آواز اے کوہِ ندا کب آئے گی
نسلِ تازہ، میں تجھے کیا تجربے اپنے بتاؤں
تیرے بڑھتے جسم پر میری قبا کب آئے گی
سر برہنہ بیبیوں کے بال چاندی ہو گئے
خیمے پھر استادہ کب ہوں گے ردا کب آئے گی
طاق میں کب تک جلے گا یہ چراغِ انتظار
اس طرف شب گشت لوگوں کی صدا کب آئے گی
میری مٹی میں بھی کچھ پودے نمو آمادہ ہیں
تو مرے آنگن تک اے کالی گھٹا کب آئے گی
عرفان صدیقی

بہت دِنوں میں کھلیں کھڑکیاں مکانوں کی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 223
بدل گئی ہے فضا نیلے آسمانوں کی
بہت دِنوں میں کھلیں کھڑکیاں مکانوں کی
بس ایک بار جو لنگر اُٹھے تو پھر کیا تھا
ہوائیں تاک میں تھیں جیسے بادبانوں کی
کوئی پہاڑ رُکا ہے کبھی زمیں کے بغیر
ہر ایک بوجھ پنہ چاہتا ہے شانوں کی
تو غالباً وہ ہدف ہی حدوں سے باہر تھا
یہ کیسے ٹوٹ گئیں ڈوریاں کمانوں کی
جو ہے وہ کل کے سوالوں کے اِنتظار میں ہے
یہ زندگی ہے کہ ہے رات اِمتحانوں کی
عرفان صدیقی

اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 222
توڑ دی اس نے وہ زنجیر ہی دلداری کی
اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی
ہم تو صحرا ہوئے جاتے تھے کہ اس نے آکر
شہر آباد کیا‘ نہرِ صبا جاری کی
ہم بھی کیا شے ہیں طبیعت ملی سیارہ شکار
اور تقدیر ملی آہوئے تاتاری کی
اتنا سادہ ہے مرا مایۂ خوبی کہ مجھے
کبھی عادت نہ رہی آئنہ برداری کی
میرے گم گشتہ غزالوں کا پتہ پوچھتا ہے
فکر رکھتا ہے مسیحا مری بیماری کی
اس کے لہجے میں کوئی چیز تو شامل تھی کہ آج
دل پہ اس حرفِ عنایت نے گراں باری کی
عرفان صدیقی

اس کا پیکر روشنی، میرا مقدّر روشنی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 221
جسم و جاں کی آگ سے منظر بہ منظر روشنی
اس کا پیکر روشنی، میرا مقدّر روشنی
میں نے رات اک خواب دیکھا اور روشن ہو گیا
دیکھتا کیا ہوں کہ ہے میرے برابر روشنی
اور اے روشن قبا تجھ سے ہمیں کیا چاہیے
ایک دامن بھر ہوا اور اک دیا بھر روشنی
میں کوئی جگنو نہ تارا، میں کوئی سورج نہ چاند
اور تو دیکھے تو ہے مٹی کے اندر روشنی
اکثر اکثر اس کا چہرہ دھیان میں آتا بھی ہے
جیسے گم ہوجائے جنگل میں چمک کر روشنی
میرے مولا، ہجر کی تاریک راتوں کے طفیل
زندگی بھر چاہتیں اور زندگی بھر روشنی
عرفان صدیقی

حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 220
شانِ خدا، ردانِ پیمبرؐ، علیؑ علیؑ
حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ
زیب بدن شہانۂ تسخیرِ کائنات
سر پر لوائے حمد کا افسر علیؑ علیؑ
مٹی کی مملکت میں علم اسم بوترابؑ
افلاک پر ندائے مکرر، علیؑ علیؑ
سازِ مکانِ انفس و آفاق اُس کا نام
نازِ جہانِ اصغر و اکبر، علیؑ علیؑ
بے مایگاں کا مونس و غم خوار کون ہے
بے چارگاں کا کون ہے یاور، علیؑ علیؑ
مردانِ حرُ کا قافلہ سالار کون ہے
خاصانِ رب کا کون ہے رہبر، علیؑ علیؑ
مدّت سے ہے نواحِ غریباں میں خیمہ زن
وحشت کی فوج، خوف کا لشکر، علیؑ علیؑ
اِک بادباں شکستہ جہاز اور چہار سمت
کالی گھٹا، سیاہ سمندر، علیؑ علیؑ
اِک تشنہ کام ناقۂ جاں اور ہر طرف
باد سموم، دشت ستم گر، علیؑ علیؑ
اِک پافگار رہ گزری اور راہ میں
انبوہِ گرگ، مجمعِ اژدر، علیؑ علیؑ
اک سینہ چاک خاک بہ سر اور کوُ بہ کوُ
سوغاتِ سنگ، ہدیۂ خنجر، علیؑ علیؑ
میں بے نوا ترے درِ دولت پہ داد خواہ
اے میرے مرتضیٰؑ ، میرے حیدرؑ ، علیؑ علیؑ
میں بے اماں مجھے ترے دستِ کرم کی آس
تو دل نواز، تو ہی دلاور، علیؑ علیؑ
نانِ شعیر و جوہرِ شمشیر تیرے پاس
توُ ہی دلیر، توُ ہی تونگر، علیؑ علیؑ
توُ تاجدار تاب و تبِ روزگار کا
مجھ کو بھی اِک قبالۂ منظر، علیؑ علیؑ
توُ شہریار آب و نمِ شاخسار کا
میرے لیے بھی کوئی گلِ تر، علیؑ علیؑ
روشن ترے چراغ یمین و یسار میں
دونوں حوالے میرے منوّر، علیؑ علیؑ
یہ خانہ زادگاں ہیں تجھی سے شرف نصیب
ان کو بھی اِک خریئ گوہر، علیؑ علیؑ
اب میرے دشت میرے خرابے کی سمت موڑ
رہوار کی عنانِ معبر، علیؑ علیؑ
نصرت، کہ ہو چکے ہیں سزاوار ذوالفقار
میری زمیں کے مرحب و عنتر علیؑ علیؑ
پابستگاں پہ بام و درِ شش جہات کھول
اے بابِ علم، فاتحِ خیبر، علیؑ علیؑ
انعام کر مجھے بھی کہ صدیوں کی پیاس ہے
دریا، بنامِ ساقئ کوثر، علیؑ علیؑ
مولاؑ ، صراطِ روزِ جزا سے گزار ہی جائے
کہتا ہوا یہ تیرا ثناگر، علیؑ علیؑ
عرفان صدیقی

اس سے بچھڑے ہیں تو حاصل ہے فراغت کیسی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 219
اب وہ بے تابیِ جاں کا ہے کی‘ وحشت کیسی
اس سے بچھڑے ہیں تو حاصل ہے فراغت کیسی
جان، ہم کارِ محبت کا صلہ چاہتے تھے
دلِ سادہ کوئی مزدور ہے اجرت کیسی
عمر کیا چیز ہے احساسِ زیاں کے آگے
ایک ہی شب میں بدل جاتی ہے صورت کیسی
شمعِ خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
جس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی
اس زمیں پر مرے یکتا ترے تمثال بہت
آئینہ خانے میں آیا ہے تو حیرت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
عرفان صدیقی

کبھی دن بیتیں بیراگ بھرے کبھی رت آئے انوراگ بھری

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 218
کوئی چٹّھی لکھو رنگ بھری کوئی مٹھی کھولو پھاگ بھری
کبھی دن بیتیں بیراگ بھرے کبھی رت آئے انوراگ بھری
جہاں خاک بچھونا رات ملے مجھے چاند کی صورت ساتھ ملے
وہی دکھیارن وہی بنجارن وہی روپ متی وہی بھاگ بھری
پل بھر کو اگر میں سوجاؤں تو سارا زہر کا ہوجاؤں
ترا کالا جنگل ناگ بھرا مری جلتی آنکھیں جاگ بھری
سنو اپنا اپنا کام کریں سُرتال پہ کیوں الزام دھریں
میاں اپنی اپنی بانسریا کوئی راگ بھری کوئی آگ بھری
عرفان صدیقی

کتنے موسم لگے ہیں ہمارے بدن پر نکلنے میں یہ بال و پر یا اخی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 217
تم ہمیں ایک دن دشت میں چھوڑ کر چل دیئے تھے تمہیں کیا خبر یا اخی
کتنے موسم لگے ہیں ہمارے بدن پر نکلنے میں یہ بال و پر یا اخی
شب گزیدہ دیاروں کے ناقہ سواروں میں مہتاب چہرہ تمہارا نہ تھا
خاک میں مل گئے راہ تکتے ہوئے سب خمیدہ کمر بام و در یا اخی
جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے تو پھر میرے دل کی کمیں گاہ میں کون ہے
اک شقی کاٹتا ہے طنابیں مرے خیمہ خواب کی رات بھر یا اخی
یہ بھی اچھا ہوا تم اس آشوب سے اپنے سرسبز بازو بچا لے گئے
یوں بھی کوئے زیاں میں لگانا ہی تھا ہم کو اپنے لہو کا شجر یا اخی
ہز اس شہر کی بھی بہت مہرباں ہے مگر اپنا رہوار مت روکنا
ہجرتوں کے مقدر میں باقی نہیں اب کوئی قریہ معتبر یا اخی
زرد پتوں کے ٹھنڈے بدن اپنے ہاتھوں پہ لے کر ہوا نے شجر سے کہا
اگلے موسم میں تجھ پر نئے برگ و بار آئیں گے تب تلک صبر کر‘ یا اخی
عرفان صدیقی

اور پھر ایک دن دل کی ساری زمیں درد کی مملکت میں ملا لی گئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 216
لشکرِ عشق نے جب سے خیمے کیے کچھ نہ کچھ روز سرحد بڑھا لی گئی
اور پھر ایک دن دل کی ساری زمیں درد کی مملکت میں ملا لی گئی
رات کو رک کے صحرا جگایا گیا جب تھکن سے بدن کی طنابیں گریں
اپنے ہاتھوں کے تکیے بنائے گئے اپنی مٹی کی چادر بچھالی گئی
ایک چڑیا کی آواز آتی رہی میرے بچوں کو مجھ سے چھڑایا گیا
میری بستی سے مجھ کو نکالا گیا میرے جنگل میں بستی بسا لی گئی
دستِ خالی پہ کیا حوصلہ کیجئے کیسے جینے کی قیمت ادا کیجئے
اب کے دربار میں نذرِ سر بھیج کر بچ نکلنے کی صورت نکالی گئی
کوچۂ رہزناں سے گزرتے ہوئے کچھ بچانا بھی تھا کچھ لٹانا بھی تھا
اپنی صدیوں کا سونا لٹایا گیا اپنے خوابوں کی دُنیا بچالی گئی
ختم ہوتا ہے اس رات کا ماجرا اب یہ کیا پوچھتے ہو کہ پھر کیا ہوا
پھر چراغوں کی آنکھیں بجھا دی گئیں پھر گلوں کی زباں کاٹ ڈالی گئی
سارے منظر غبارِ پسِ کارواں ہو گئے بام و در سب دھواں ہو گئے
اب مناجات کا وقت ہے گھر چلو سیر کی جاچکی خاک اڑا لی گئی
عرفان صدیقی

جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نئیں ہوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 215
ایسا تو نئیں کہ ان سے ملاقات نئیں ہوئی
جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نئیں ہوئی
بہتر یہ ہے کہ وہ تنِ شاداب ادھر نہ آئے
برسوں سے میرے شہر میں برسات نئیں ہوئی
پیش ہوس تھا خوانِ دو عالم سجا ہوا
اس رزق پر مگر بسر اوقات نئیں ہوئی
تیرے بغیر بھی غم جاں ہے وہی کہ نئیں
نکلا نہ ماہتاب تو کیا رات نئیں ہوئی
ہم کون پیرِ دل زدگاں ہیں کہ عشق میں
یاراں بڑے بڑوں سے کرامات نئیں ہوئی
کیا سہل اس نے بخش دیا چشمۂ حیات
جی بھر کے سیرِ وادیِ ظلمات نئیں ہوئی
میرے جنوں کو ایک خرابے کی سلطنت
یہ تو کوئی تلافیِ مافات نئیں ہوئی
اپنا نسب بھی کوئے ملامت میں بار ہے
لاکھ اپنے پاس عزتِ سادات نئیں ہوئی
یاقوتِ لب تو کارِ محبت کا ہے صلہ
اجرت ہوئی حضور یہ سوغات نئیں ہوئی
کب تک یہ سوچ سوچ کے ہلکان ہو جیسے
اب تک تری طرف سے شروعات نئیں ہوئی
عرفان صدیقی

فصل امکاں کو نمو کرنے میں آسانی ہوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 214
اب کے صحرا میں عجب بارش کی ارزانی ہوئی
فصل امکاں کو نمو کرنے میں آسانی ہوئی
پیاس نے آب رواں کو کر دیا موج سراب
یہ تماشا دیکھ کر دریا کو حیرانی ہوئی
سر سے سارے خوان خوشبو کے بکھر کر رہ گئے
خاک خیمہ تک ہوا پہنچی تو دیوانی ہوئی
دُور تک اُڑنے لگی گرد صدا زنجیر کی
کس قدر دیوار زنداں کو پشیمانی ہوئی
تم ہی صدیوں سے یہ نہریں بند کرتے آئے ہو
مجھ کو لگتی ہے تمہاری شکل پہچانی ہوئی
MERGED اب کے صحرا میں عجب بارش کی ارزانی ہوئی
فصلِ امکاں کو نمو کرنے میں آسانی ہوئی
پیاس نے آبِ رواں کو کردیا موجِ سراب
یہ تماشا دیکھ کر دریا کو حیرانی ہوئی
سر سے سارے خوان خوشبو کے بکھر کر رہ گئے
خاکِ خیمہ تک ہوا پہنچی تو دیوانی ہوئی
دور تک اڑنے لگی گردِ صدا زنجیر کی
کس قدر دیوارِ زنداں کو پشیمانی ہوئی
عرفان صدیقی

جا رہی ہے جو ندی کھیتوں سے شرمائی ہوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 213
یہ بھی گزرے ہوئے بادل کی ہے ترسائی ہوئی
جا رہی ہے جو ندی کھیتوں سے شرمائی ہوئی
ذہن شاعر کا، نئی صبحوں کے سورج کی کرن
جیسے سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ ہنسی آئی ہوئی
اب میں یہ سوچ کے رک جاؤں تو جل جاؤں گا
کہ ہے یہ آگ کسی اور کی بھڑکائی ہوئی
کیا چھپا رکھا ہے دیواروں نے خوشبو کے چراغ
کیوں منڈیروں پہ ہوا پھرتی ہے گھبرائی ہوئی
لیجیے مجھ سے یہ بھی پیمان وفا چاہتی ہے
یہی دنیا، مرے اجداد کی ٹھکرائی ہوئی
عرفان صدیقی

مرے شہر کی شب ہر چوکھٹ کی زنجیر ہوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 212
دروازوں پر دن بھر کی تھکن تحریر ہوئی
مرے شہر کی شب ہر چوکھٹ کی زنجیر ہوئی
سب دھوپ اتر گئی ٹوٹی ہوئی دیواروں سے
مگر ایک کرن میرے خوابوں میں اسیر ہوئی
مرا سونا گھر مرے سینے سے لگ کر روتا ہے
مرے بھائی‘ تمہیں اس بار بہت تاخیر ہوئی
ہمیں رنج بہت تھا دشت کی بے امکانی کا
لو غیب سے پھر اک شکل ظہور پذیر ہوئی
کوئی حیرت میرے لہجے کی پہچان بنی
کوئی چاہت میرے لفظوں کی تاثیر ہوئی
اس درد کے قاتل منظر کو الزام نہ دو
یہ تو دیکھنے والی آنکھوں کی تقصیر ہوئی
کسی لشکر سے کہیں بہتا پانی رُکتا ہے
کبھی جوئے رواں کسی ظالم کی جاگیر ہوئی
پھر لوح پہ لٹنے والے خزانے لکھے گئے
مجھے اب کے برس بھی دولتِ جاں تقدیر ہوئی
عرفان صدیقی

خزاں کی رت میں بھی ابرِ بہاراں بھیج دے کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 211
گہر برسانے والے‘ موجِ باراں بھیج دے کوئی
خزاں کی رت میں بھی ابرِ بہاراں بھیج دے کوئی
پرندے تھک چکے ہیں اڑتے اڑتے آسمانوں میں
انہیں بھی اب نویدِ شاخساراں بھیج دے کوئی
بہت دن سے غبار اٹھا نہیں ویران راہوں پر
خرابوں میں گروہِ شہسواراں بھیج دے کوئی
مری بستی کے سارے رہنے والے سرکشیدہ ہیں
تو پھر کس کو کلاہ شہر یاراں بھیج دے کوئی
جو اوروں کے دکھوں کا بار اٹھائے پھرتے رہتے ہیں
اب ان شانوں کو دستِ غمگساراں بھیج دے کوئی
عرفان صدیقی

شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 210
ہم سے رُخصت ہمیں ہونے نہیں دیتا کوئی
شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی
ہر طرف پرسشِ غم، پرسشِ غم پرسشِ غم
چین سے بوجھ بھی ڈھونے نہیں دیتا کوئی
لوگ دَریا میں اُترنے سے ڈراتے ہیں بہت
جسم پانی میں ڈبونے نہیں دیتا کوئی
یہ گزرگاہ کا سناٹا، یہ پُرشور ہوا
کھڑکیاں کھول کے سونے نہیں دیتا کوئی
باغ میں سبزۂ شاداب بہت ہے لیکن
اَوس سے پاؤں بھگونے نہیں دیتا کوئی
عرفان صدیقی

ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 209
شہاب چہرہ کوئی گم شدہ ستارہ کوئی
ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی
اُمیدواروں پہ کھلتا نہیں وہ بابِ وصال
اور اس کے شہر سے کرتا نہیں کنارہ کوئی
مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا
خیال ڈھونڈتا رہتا ہے استعارہ کوئی
کہاں سے آتے ہیں یہ گھر اُجالتے ہوئے لفظ
چھپا ہے کیا مری مٹی میں ماہ پارہ کوئی
بس اپنے دل کی صدا پر نکل چلیں اس بار
کہ سب کو غیب سے ملتا نہیں اشارہ کوئی
گماں نہ کر کہ ہوا ختم کارِ دل زدگاں
عجب نہیں کہ ہو اس راکھ میں شرارہ کوئی
اگر نصیب نہ ہو اس قمر کی ہم سفری
تو کیوں نہ خاکِ گزر پر کرے گزارہ کوئی
عرفان صدیقی

لو، شمع بجھی، رات گزرنے کی خبر آئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 208
سب خواب تھا اور خواب بکھرنے کی خبر آئی
لو، شمع بجھی، رات گزرنے کی خبر آئی
ملنے بھی نہ پایا تھا میں تجھ سے سر دریا
دریا سے ترے پار اُترنے کی خبر آئی
شاید کہ تہہ آب ہوا کوئی سفینہ
پانی پہ نیا نقش اُبھرنے کی خبر آئی
اس دن کا ہی اندیشہ رہا کرتا تھا اے دل
جس دن سے ترے نالہ نہ کرنے کی خبر آئی
سوچا تھا ذرا تیرے تئیں بات تو کی جائے
اتنے میں ترے بات نہ کرنے کی خبر آئی
جینے سے بڑا کوئی بھی آزار نہ نکلا
جب اپنے مسیحاؤں کے مرنے کی خبر آئی
عرفان صدیقی

حاجت روا ہو خاتم حیدر کا واسطہ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 207
دریا عطا ہو ساقئ کوثر کا واسطہ
حاجت روا ہو خاتم حیدر کا واسطہ
اہل وفا سے شہر و بیاباں بسے رہیں
آل عبا کے اُجڑے ہوئے گھر کا واسطہ
کوئی کنیز اہل حرم بے ردا نہ ہو
اُن پاک بیبیوں کے کھلے سر کا واسطہ
روشن رہے گھروں میں چراغ غم حسین
جلتے ہوئے خیام کے منظر کا واسطہ
دنیا میں حرف حق کا علم سرنگوں نہ ہو
بازو بریدہ مرد دلاور کا واسطہ
مولا ہمارے سینوں سے کھینچیں سنان خوف
نوک سنان سینۂ اکبر کا واسطہ
عرفان صدیقی

بڑھی سر کی طرف تیغِ جفا آہستہ آہستہ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 206
گھلا تصویر میں رنگِ حنا آہستہ آہستہ
بڑھی سر کی طرف تیغِ جفا آہستہ آہستہ
تم اپنی مملکت میں جرم کر دو زندگی، ورنہ
سبھی مانگیں گے اپنا خون بہا آہستہ آہستہ
مجھے اوروں کے سے اَنداز آتے آتے آئیں گے
کہ پتھر بن سکے گا آئینہ آہستہ آہستہ
ہُوا آخر وہ ہم سے ہم سخن، قدرے تکلف سے
چلی صحرا میں بھی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ
بگولے یک بیک اُن سونے والوں کو جگاتے ہیں
سلاتی ہے جنہیں بادِ صبا آہستہ آہستہ
ہمیں دُنیا جو دے گی ہم وہیں لوٹائیں گے اُس کو
گنہ بن جائے گی رسمِ وفا آہستہ آہستہ
اَچانک دوستو میرے وطن میں کچھ نہیں ہوتا
یہاں ہوتا ہے ہر اِک حادثہ آہستہ آہستہ
عرفان صدیقی

بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 205
ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ اَفکار نہ رکھ
بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ
زَخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہے
خوف کا نام مگر لذّتِ آزار نہ رکھ
ایک ہی چیز کو رہنا ہے سلامت، پیارے
اَب جو سرشانوں پہ رکھا ہے تو دیوار نہ رکھ
خواہشیں توڑ نہ ڈالیں ترے سینے کا قفس
اِتنے شہ زور پرندوں کو گرفتار نہ رکھ
اَب میں چپ ہوں تو مجھے اپنی دلیلوں سے نہ کاٹ
میری ٹوٹی ہوئی تلوار پہ تلوار نہ رکھ
آج سے دِل بھی ترے حال میں ہوتا ہے شریک
لے، یہ حسرت بھی مری چشمِ گنہگار نہ رکھ
وقت پھر جانے کہاں اُس سے ملا دے تجھ کو
اِس قدر ترکِ ملاقات کا پندار نہ رکھ
عرفان صدیقی

مجھ کو لے جائے گی، یہ موجِ وصال اور کہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 204
میرا جسم اور کہیں، میرا خیال اور کہیں
مجھ کو لے جائے گی، یہ موجِ وصال اور کہیں
زیرِ افلاک ستاروں کا سفر جاری ہے
اب کے نکلیں گے ہم اے شامِ زوال اور کہیں
دور تک آئنے ویران ہیں آنکھوں کی طرح
ڈھونڈنے جائیے اپنے مہ و سال اور کہیں
کچھ اسی دشت پہ موقوف نہیں تیرِ ستم
زندگی ہے تو ہدف ہوں گے غزال اور کہیں
اس سے اک حرفِ دل آزار کا رشتہ ہی سہی
یوں بھی ہوتی ہے کہاں پرسشِ حال اور کہیں
عرفان صدیقی

یہ خط ضرور ہے مگر جواب کے لیے نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 203
غزل کسی کے نام انتساب کے لیے نہیں
یہ خط ضرور ہے مگر جواب کے لیے نہیں
اب اس زمیں پہ شہ سوار لوٹ کر نہ آئیں گے
سو یہ سفر غبارِ ہم رکاب کے لیے نہیں
یہ ساعتِ وصال کس جتن سے ہاتھ آئی ہے
متاعِ دست برد ہے حساب کے لیے نہیں
نکل رہی ہیں طاق و در سے سایہ سایہ صورتیں
سنو! یہ بام سیرِ ماہتاب کے لیے نہیں
میں کیا بتاؤں جاگتا ہوں رات رات کس لیے
نہیں، کسی کی چشمِ نیم خواب کے لیے نہیں
تو اور کوئی راز ہے مرے سخن کا‘ صاحبو!
کہ یہ عذاب جاں فقط ثواب کے لیے نہیں
عرفان صدیقی

ہوا کبھی سرِ دشتِ بلا چلی ہی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 202
مری طرف تری موج نوا چلی ہی نہیں
ہوا کبھی سرِ دشتِ بلا چلی ہی نہیں
تمام فیصلے بس ایک شخص کرتا تھا
وہاں یہ بحثِ خطا و سزا چلی ہی نہیں
دِل و زَباں میں کبھی جیسے رابطہ ہی نہ تھا
اُٹھے بھی ہاتھ تو رسمِ دُعا چلی ہی نہیں
یہ مت سمجھ کہ ترے قتل کا خیال نہ تھا
نکل چکی تھی مگر بے وفا چلی ہی نہیں
میں چاہتا تھا کہ کچھ سرکشی کی داد ملے
تو اَب کے شہر میں تیغِ جفا چلی ہی نہیں
بہت خراب تھی شعلہ گروں کی قسمت بھی
مکان اور بھی جلتے، ہوا چلی ہی نہیں
عرفان صدیقی

سوچئے وہ شہر کیا ہو گا جہاں میں ہی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 201
دیکھئے جو دشت زندہ ہے دم آہو سے ہے
سوچئے وہ شہر کیا ہو گا جہاں میں ہی نہیں
خار و خس بھی ہیں تری موج ہوا کے شکوہ سنج
باغ میں اے موسم نامہرباں میں ہی نہیں
اب ادھورا چھوڑنا ممکن نہیں اے قصہ گو
ساری دنیا سن رہی ہے داستاں میں ہی نہیں
سایۂ آسیب وحشت دوسرے گھر میں بھی ہے
تیرا قیدی اے شب وہم و گماں میں ہی نہیں
تیرے اک جانے سے یہ لشکر بھی پیاسا مر نہ جائے
تشنہ لب صحرا میں اے جوئے رواں میں ہی نہیں
MERGED آسماں کی زد میں زیر آسماں میں ہی نہیں
تو بھی ہے ظالم نشانے پر یہاں میں ہی نہیں
اختر الایمان کی اک نظم سے مجھ پر کھلا
اور بھی کم گو ہیں مجبور فغاں میں ہی نہیں
کوئی انشا کر رہا ہے مصحف آئندگاں
لکھ رہی ہیں لکھنے والی انگلیاں میں ہی نہیں
رنج اس کا ہے کہ کس کو رائیگاں کرتا ہے کون
ورنہ اس آشوب جاں میں رائیگاں میں ہی نہیں
خار و خس بھی ہیں تری زور ہوا سے پائمال
باغ میں اے موسم نامہرباں میں ہی نہیں
اب اسے انجام تک لانا تو ہو گا قصہ گو
ساری دنیا سن رہی ہے داستاں میں ہی نہیں
سایۂ آسیب کوئی دوسرے گھر میں بھی ہے
ہاں گرفتار شب وہم و گماں میں ہی نہیں
تیرے رک جانے سے یہ لشکر بھی پیاسا مر نہ جائے
تشنہ لب صحرا میں اے جوئے رواں میں ہی نہیں
عرفان صدیقی

کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 200
سوائے خاک مری دسترس میں کچھ بھی نہیں
کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں
یہ کون مجھ کو پسِ جشنِ شب پکارتا ہے
وہ ہوک ہے کہ صدائے جرس میں کچھ بھی نہیں
میں کارِ عشق سے ترکِ وفا سے باز آیا
سب اس کے ہاتھ میں ہے میرے بس میں کچھ بھی نہیں
ذرا سے لمسِ شرر سے عجب کمال کیا
میں سوچتا تھا مرے خار و خس میں کچھ بھی نہیں
نوائے درد پہ آتا ہے رنگ صدیوں میں
ابھی مرے سخن نیم رس میں کچھ بھی نہیں
عرفان صدیقی

اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 199
مال کیا پاس ترے ہمت عالی بھی نہیں
اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں
سرِ شوریدہ کو تہذیب سکھا بیٹھا ہوں
ورنہ دیوار مجھے روکنے والی بھی نہیں
خیمۂ شب میں عجب حشرِ عزا برپا ہے
اور ابھی رات چراغوں نے اجالی بھی نہیں
اور ہی شرط ہے پرواز کی، دیکھا تم نے
اب تو وہ مسئلۂ بے پر و بالی بھی نہیں
رات دن شعروں میں تمثال گری کرتا ہوں
طاقِ دل میں کوئی تصویر خیالی بھی نہیں
نقشِ پا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے
ہم نے ایسی تو کوئی راہ نکالی بھی نہیں
عرفان صدیقی

شکن اَبھی کوئی اَبروئے نکتہ چیں پہ نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 198
تو اُس کا دھیان مرے مصرعِ حسیں پہ نہیں
شکن اَبھی کوئی اَبروئے نکتہ چیں پہ نہیں
مکان چھوڑ گئے لوگ، ڈھونڈتے ہو کسے
کوئی ستارہ اَب اِس بامِ انجمن پہ نہیں
بہت ملی تھیں دُعائیں فلک نشینی کی
ہمارا کچھ بھی بدن کے سوا زمیں پہ نہیں
اَب ایسے شخص کو قاتل کہیں تو کیسے کہیں
لہو کا کوئی نشاں اُس کی آستیں پہ نہیں
اُداس خشک لبوں پر لرز رہا ہو گا
وہ ایک بوسہ جو اَب تک مری جبیں پہ نہیں
میں جل رہا ہوں حقیقت کی دُھوپ میں کب سے
کسی گماں کا بھی سایہ مرے یقیں پہ نہیں
عرفان صدیقی

بانوئے کشور جمال میرا سوال کچھ نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 197
موج ہوا سے خاک کو تاب وصال کچھ نہیں
بانوئے کشور جمال میرا سوال کچھ نہیں
اب بھی ملو تو لوٹ آئے ساعت ابتدائے عشق
یہ شب و روز کچھ نہیں، یہ مہہ و سال کچھ نہیں
منتظران لمس گل، آپ عجیب لوگ ہیں
دست رسا بڑھائیے، قرعۂ فال کچھ نہیں
عرفان صدیقی

بیعتِ دست ہاں ضرور، بیعتِ جاں نہیں نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 196
جسم کی رسمیات اور دل کے معاملات اور
بیعتِ دست ہاں ضرور، بیعتِ جاں نہیں نہیں
درد کی کیا بساط ہے جس پہ یہ پیچ و تاب ہو
دیکھ عزیز صبر صبر، دیکھ میاں نہیں نہیں
ہم فقراء کا نام کیا، پھر بھی اگر کہیں لکھو
لوحِ زمیں تلک تو خیر، لوحِ زماں نہیں نہیں
دونوں تباہ ہو گئے، ختم کرو یہ معرکے
اہلِ ستم نہیں نہیں، دل زدگاں نہیں نہیں
گرمئ شوق کا صلہ دشت کی سلطنت غلط
چشمۂ خوں کا خوں بہا جوئے رواں نہیں نہیں
عرفان صدیقی

دستک جو دی تو سایۂ در نے کہا نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 195
احوال اس چراغ کا گھر نے کہا نہیں
دستک جو دی تو سایۂ در نے کہا نہیں
پائے طلب کنارِ زمیں تک پہنچ گئے
میں رک گیا تو وحشتِ سر نے کہا نہیں
دستِ رفو نے سینے کے سب زخم سی دیئے
اندر کا حال ناز ہنر نے کہا نہیں
خوش تھی ہوا کہ راہ کا ہر سنگ ہٹ گیا
تب سر اٹھا کے خاکِ گزر نے کہا نہیں
نوکِ سناں نے بیعتِ جاں کا کیا سوال
سر نے کہاں قبول‘ نظر نے کہا نہیں
مدت سے اک سکوت ہمارا نشان تھا
ہم حرف زن ہوئے تو اثر نے کہا نہیں
عرفان صدیقی

شام آنکھوں سے یہ کہتی ہے گھر آنے کا نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 194
خوابِ آسودگیِ بال و پر آنے کا نہیں
شام آنکھوں سے یہ کہتی ہے گھر آنے کا نہیں
دل کے آئینے سے رخصت ہوا زنگارِ ملال
اس میں اب کوئی بھی چہرا نظر آنے کا نہیں
اور کیا چاہیے پیروں سے گریزاں ہے زمیں
آسمانوں سے تو اذنِ سفر آنے کا نہیں
فیصلہ کر‘ کم و بیشِ تہہِ دریا کی نہ سوچ
مسئلہ ڈوبنے کا ہے ابھر آنے کا نہیں
کل اسی موج میں اپنا تھا تو بہہ جانا تھا
جانِ من اب کوئی سیلاب اِدھر آنے کا نہیں
جس کو ہونا ہے وہ فریاد میں شامل ہوجائے
بے نوا شہر میں بارِ دگر آنے کا نہیں
کوئے قاتل کی روایت ہی بدل دی میں نے
ورنہ دستور یہاں لوٹ کر آنے کا نہیں
عرفان صدیقی

سو وہ سر بریدہ بھی پشت فرس سے اُترتا نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 193
جو گرتا نہیں ہے اسے کوئی پامال کرتا نہیں
سو وہ سر بریدہ بھی پشت فرس سے اُترتا نہیں
بس اب اپنے پیاروں کو اپنے دلاروں کو رخصت کرو
کہ اس امتحاں سے فرشتوں کا لشکر گزرتا نہیں
کبھی زرد ریتی کبھی خشک شاخوں پہ ہنستا ہوا
ہمارا لہو کس قدر سخت جاں ہے کہ مرتا نہیں
تری تیغ تو میری ہی فتح مندی کا اعلان ہے
یہ بازو نہ کٹتے اگر میرا مشکیزہ بھرتا نہیں
MERGED جو گرتا نہیں ہے اسے کوئی پامال کرتا نہیں
سو وہ سربریدہ بھی پشتِ فرس سے اترتا نہیں
کبھی زرد ریتی، کبھی سرد شاخوں پہ ہنستا ہوا
ہمارا لہو کس قدر سخت جاں ہے کہ مرتا نہیں
بس اب اپنے پیاروں کو، اپنے دُلاروں کو یکجا کرو
سنو، اس طرف سے فرشتوں کا لشکر گزرتا نہیں
سماعت کہ جنگل کا انعام تھا اک سزا بن گئی
اگر میں وہ انجان چیخیں نہ سنتا تو ڈرتا نہیں
عرفان صدیقی

ڈوبتے ڈوبتے اِک بار پکاریں گے تمہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 192
تم سنو یا نہ سنو، ہاتھ بڑھاؤ نہ بڑھاؤ
ڈوبتے ڈوبتے اِک بار پکاریں گے تمہیں
دل پہ آتا ہی نہیں فصل طرب کا کوئی پھول
جان، اس شاخ شجر پہ تو نہ واریں گے تمہیں
عشق میں ہم کوئی دعویٰ نہیں کرتے لیکن
کم سے کم دولت جاں پر تو نہ ہاریں گے تمہیں
عرفان صدیقی

ساتھ مت چھوڑنا ہم پار اُتاریں گے تمہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 191
جاں سے گزرے بھی تو دریا سے گزاریں گے تمہیں
ساتھ مت چھوڑنا ہم پار اُتاریں گے تمہیں
تم سنو یا نہ سنو، ہاتھ بڑھاؤ نہ بڑھاؤ
ڈوبتے ڈوبتے اک بار پکاریں گے تمہیں
دل پہ آتا ہی نہیں فصلِ طرب میں کوئی پھول
جان، اس شاخِ شجر پر تو نہ واریں گے تمہیں
کھیل یہ ہے کہ کسے کون سوا چاہتا ہے
جیت جاؤ گے تو جاں نذر گزاریں گے تمہیں
کیسی زیبائی ہے جب سے تمہیں چاہا ہم نے
اور چاہیں گے تمہیں اور سنواریں گے تمہیں
عشق میں ہم کوئی دعویٰ نہیں کرتے لیکن
کم سے کم معرکۂ جاں میں نہ ہاریں گے تمہیں
عرفان صدیقی

اپنے ہونے کا اعلان کرتے رہیں‘ اپنے ہونے کا اثبات کرتے رہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 190
روح کے معجزوں کا زمانہ نہیں جسم ہی کچھ کرامات کرتے رہیں
اپنے ہونے کا اعلان کرتے رہیں‘ اپنے ہونے کا اثبات کرتے رہیں
برف رت آگئی پھر نئی بستیوں سے نئی ہجرتوں نے پکارا ہمیں
لیکن اس بار پردیس جاتے ہوئے راستوں پر نشانات کرتے رہیں
پھر کوئی تشنہ لب تیر اس دشت میں ہم تک آیا ہے طے کر کے کتنا سفر
اے رگِ جاں کی جوئے رواں، ہم بھی کچھ میہماں کی مدارات کرتے رہیں
ایک ہی پیڑ پر سانپ اور آدمی ساتھ رہتے ہیں سیلاب اترنے تلک
ہمسفر ہے اگر دشمنِ جاں تو کیا‘ راہ سنسان ہے‘ بات کرتے رہیں
جان لینے کا ویسا سلیقہ ابھی لشکرِ دشمناں میں کسی کو نہیں
آؤ اب اپنے خیموں میں واپس چلیں دوستوں سے ملاقات کرتے رہیں
عرفان صدیقی

پھر آپ لوگ کس کے خدا ہونے والے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 189
ہم بندگاں تو نذرِ وفا ہونے والے ہیں
پھر آپ لوگ کس کے خدا ہونے والے ہیں
اس طرح مطمئن ہیں مرے شب گزیدگاں
جیسے یہ سائے ظلِّ ہما ہونے والے ہیں
بے چارے چارہ سازئ آزار کیا کریں
دو ہاتھ ہیں سو محوِ دُعا ہونے والے ہیں
اک روز آسماں کو بھی تھکنا ضرور ہے
کب تک زمیں پہ حشر بپا ہونے والے ہیں
ہم پہلے تشنگی کی حدوں سے گزر تو جائیں
سارے سراب آبِ بقا ہونے والے ہیں
لگتا نہیں ہے دل کو جفا کا کوئی جواز
نامہرباں، یہ تیر خطا ہونے والے ہیں
ہم دل میں لکھ رہے ہیں حسابِ ستم گراں
کچھ دن میں سب کے قرض ادا ہونے والے ہیں
ان راستوں میں دل کی رفاقت ہے اصل چیز
جو صرف ہم سفر ہیں جدا ہونے والے ہیں
اچھا نہیں غزل کا یہ لہجہ مرے عزیز
بس چپ رہو کہ لوگ خفا ہونے والے ہیں
عرفان صدیقی

اب تک خیام دشت میں برپا ہمارے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 188
سب داغ ہائے سینہ ہویدا ہمارے ہیں
اب تک خیام دشت میں برپا ہمارے ہیں
وابستگان لشکر صبر و رضا ہیں ہم
جنگل میں یہ نشان و مصلیٰ ہمارے ہیں
نوک سناں پہ مصحف ناطق ہے سربلند
اونچے علم تو سب سے زیادہ ہمارے ہیں
یہ تجھ کو جن زمین کے ٹکروں پہ ہے غرور
پھینکے ہوئے یہ اے سگ دنیا، ہمارے ہیں
سر کر چکے ہیں معرکۂ جوئے خوں سو آج
’’روئے زمیں پہ جتنے ہیں دریا ہمارے ہیں‘‘
آخری شعر کا مصرع ثانی میر مونس کا ہے
عرفان صدیقی

روشنی روزنِ دیوار بھی کر سکتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 187
جشنِ مہتاب گرفتار بھی کر سکتے ہیں
روشنی روزنِ دیوار بھی کر سکتے ہیں
یوسفِ شہر، تجھے تیرے قبیلے والے
دام لگ جائیں تو بازار بھی کر سکتے ہیں
ایک شکل اور بھی ہے چپ کھڑے رہنے کے سوا
آپ اس جرم کا اقرار بھی کر سکتے ہیں
دفن کردی گئی جس خاک میں بستی میری
شہر اسی خاک سے آثار بھی کر سکتے ہیں
فتح کے نشے میں یہ بات نہ بھولو کہ وہ لوگ
پھر پلٹ آئیں تو یلغار بھی کر سکتے ہیں
جی دکھایا ترے لہجے نے تو معلوم ہوا
کس طرح لفظ کو تلوار بھی کر سکتے ہیں
عرفان صدیقی

پر اسے معرکۂ عشق سے کم جانتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 186
سخت ہے مرحلۂ رزق بھی ہم جانتے ہیں
پر اسے معرکۂ عشق سے کم جانتے ہیں
آج تک ان کی خدائی سے ہے انکار مجھے
میں تو اک عمر سے کافر ہوں‘ صنم جانتے ہیں
ان کمندوں میں گرفتار نہ ہوں گے کہ غزال
زخم خوردہ ہیں مگر شیوۂ رم جانتے ہیں
یہی اک دھوپ کا ٹکڑا‘ یہی اک کوزۂ خاک
ہم اسے دولتِ اسکندر و جم جانتے ہیں
جانتے سب ہیں کہ ہم رکھتے ہیں خم طرفِ کلاہ
اور کیوں رکھتے ہیں، یہ اہلِ ستم جانتے ہیں
عرفان صدیقی

ہم کو سب مہربان ملتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 185
در پئے جسم و جان ملتے ہیں
ہم کو سب مہربان ملتے ہیں
زندگی ہے تو دشمنان عزیز
پھر تہہ آسمان ملتے ہیں
حرج کیا ہے ہمارے ملنے میں
رات دن بھی تو آن ملتے ہیں
کیوں نہ تم میرے دل میں بس جاؤ
اس گلی میں مکان ملتے ہیں
سارے آئندگاں کو رستے ہیں
رفتگاں کو نشان ملتے ہیں
کشتیوں کا تو نام ہوتا ہے
شوق کو بادبان ملتے ہیں
عرفان صدیقی

کہ ہم دستِ کرم دُنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 184
فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں
کہ ہم دستِ کرم دُنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں
درِ روحانیاں کی چاکری بھی کام ہے اپنا
بتوں کی مملکت میں کارِ سلطانی بھی کرتے ہیں
جنوں والوں کی یہ شائستگی طرفہ تماشا ہے
رفو بھی چاہتے ہیں چاک دامانی بھی کرتے ہیں
مجھے کچھ شوقِ نظّارہ بھی ہے پھولوں کے چہروں کا
مگر کچھ پھول چہرے میری نگرانی بھی کرتے ہیں
جو سچ پوچھو تو ضبطِ آرزو سے کچھ نہیں ہوتا
پرندے میرے سینے میں پر افشانی بھی کرتے ہیں
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا
کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
بہت نوحہ گری کرتے ہیں دل کے ٹوٹ جانے کی
کبھی آپ اپنی چیزوں کی نگہبانی بھی کرتے ہیں
عرفان صدیقی

یہ کون ہیں جو لہو کو کتاب کرتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 183
سجے سجائے صحفیے خراب کرتے ہیں
یہ کون ہیں جو لہو کو کتاب کرتے ہیں
پرند جھیلوں پہ آتے ہیں لوٹنے کے لیے
سبھی رکے ہوئے لشکر رکاب کرتے ہیں
بہت غرور ہے اے آبجو‘ تو آج تجھے
ہم اپنی تشنہ لبی سے سراب کرتے ہیں
اسی زمین سے آتی ہے اپنے خوں کی مہک
سنو، یہیں کہیں خیمے طناب کرتے ہیں
چراغ آخرِ شب ہیں سو اپنے بچوں کو
ہم آنے والی سحر انتساب کرتے ہیں
عرفان صدیقی

فریاد ہم بہت پسِ دیوار کرتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 182
عرضِ وفا تو فرض ہے ناچار کرتے ہیں
فریاد ہم بہت پسِ دیوار کرتے ہیں
دو چار حرف لکھ کے ہم اپنے گمان میں
اس کو شریکِ لذت آزار کرتے ہیں
میرے خیال‘ اب ترا بچنا محال ہے
لوگوں کے لفظ ذہن پہ یلغار کرتے ہیں
اپنے سوا بھی رنج تماشا کریں‘ تو چل
کچھ دیر سیرِ کوچہ و بازار کرتے ہیں
خود ہی اسے ضرورتِ بیعت نہیں رہی
اب آپ کیا ارادۂ انکار کرتے ہیں
تجھ سے ملے تو ہم نے یہ جانا کہ آجکل
آہو شکاریوں کو گرفتار کرتے ہیں
کچھ دن پرند پرورشِ بال و پر کریں
بے صرفہ کیوں ہواؤں سے پیکار کرتے ہیں
آشفتگاں کو رمز و اشارت کا کیا دماغ
یہ لوگ کس زبان میں گفتار کرتے ہیں
عرفان صدیقی

چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 181
ذرا سا وقت کہیں بے سبب گذارتے ہیں
چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں
تو اک چراغِ جہانِ دگر ہے کیا جانے
ہم اس زمین پہ کس طرح شب گذارتے ہیں
ہمارا عشق ہی کیا ہے‘ گذارنے والے
یہاں تو نذر میں نام و نسب گذارتے ہیں
خراج مانگ رہی ہے وہ شاہ بانوئے شہر
سو ہم بھی ہدیۂ دستِ طلب گذارتے ہیں
سنا تو ہو گا کہ جنگل میں مور ناچتا ہے
ہم اس خرابے میں فصلِ طرب گذارتے ہیں
عرفان صدیقی

سخن یہ بے خبری میں کہاں سے آتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 180
پرند نامہ بری میں کہاں سے آتے ہیں
سخن یہ بے خبری میں کہاں سے آتے ہیں
ہمیں بھی یاد نہیں ہے کہ ہم شرر کی طرح
ہوا کی ہم سفری میں کہاں سے آتے ہیں
مسافتیں کوئی دیکھے کہ ہم سرابوں تک
گمانِ خوش نظری میں کہاں سے آتے ہیں
گھروں میں آنکھیں‘ دروں میں چراغ جلتے ہوئے
یہ خواب دربدری میں کہاں سے آتے ہیں
یہ کون جادۂ گم گشتگاں اجالتا ہے
فرشتے دشت و تری میں کہاں سے آتے ہیں
اگر تراوشِ زخم جگر نہیں کوئی چیز
تو رنگ بے ہنری میں کہاں سے آتے ہیں
عرفان صدیقی

اب تو پہچان کہ ہم شام کو گھر آگئے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 179
خانۂ درد ترے خاک بہ سر آگئے ہیں
اب تو پہچان کہ ہم شام کو گھر آگئے ہیں
جان و دل کب کے گئے ناقہ سواروں کی طرف
یہ بدن گرد اڑانے کو کدھر آگئے ہیں
رات دن سوچتے رہتے ہیں یہ زندانیِ ہجر
اس نے چاہا ہے تو دیوار میں در آگئے ہیں
اس کے ہی ہاتھ میں ہے شاخِ تعلق کی بہار
چھو لیا ہے تو نئے برگ و ثمر آگئے ہیں
ہم نے دیکھا ہی تھا دُنیا کو ابھی اس کے بغیر
لیجئے بیچ میں پھر دیدۂ تر آگئے ہیں
اتنا آسان نہیں فیصلۂ ترکِ سفر
پھر مری راہ میں دو چار شجر آگئے ہیں
نیند کے شہر طلسمات میں دیکھیں کیا ہے
جاگتے میں تو بہت خواب نظر آگئے ہیں
عرفان صدیقی

ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 178
ہم تو زنجیر سفر شوق میں ڈالے ہوئے ہیں
ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں
جان و تن عشق میں جل جائیں گے‘ جل جانے دو
ہم اسی آگ سے گھر اپنا اجالے ہوئے ہیں
کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے
کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوئے ہیں
اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو
بھائی‘ ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں
ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انہیں کیا معلوم
لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوئے ہیں
کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی
یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوئے ہیں
دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آجا کہ ابھی
ہم یہ گرتی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
عرفان صدیقی

عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 177
ہم اپنے ذہن کی آب و ہوا میں زندہ ہیں
عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں
گزرنے والے جہازوں کو کیا خبر ہے کہ ہم
اسی جزیرۂ بے آشنا میں زندہ ہیں
گلی میں ختم ہوا قافلے کا شور‘ مگر
مسافروں کی صدائیں سرا میں زندہ ہیں
مجھے ہی کیوں ہو کسی اجنبی پکار کا خوف
سبھی تو دامنِ کوہِ ندا میں زندہ ہیں
خدا کا شکر‘ ابھی میرے خواب ہیں آزاد
مرے سفر مری زنجیر پا میں زندہ ہیں
ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں
عرفان صدیقی

لامسہ، شامہ، ذائقہ، سامعہ، باصرہ سب مرے راز دانوں میں ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 176
تیرے تن کے بہت رنگ ہیں جانِ من، اور نہاں دل کے نیرنگ خانوں میں ہیں
لامسہ، شامہ، ذائقہ، سامعہ، باصرہ سب مرے راز دانوں میں ہیں
اور کچھ دامنِ دل کشادہ کرو، دوستو، شکرِ نعمت زیادہ کرو
پیڑ، دریا، ہوا، روشنی، عورتیں، خوشبوئیں سب خدا کے خزانوں میں ہیں
ناقۂ حسن کی ہم رکابی کہاں، خیمۂ ناز میں باریابی کہاں
ہم تو اے بانوئے کشورِ دلبری، پاسداروں میں ہیں ساربانوں میں ہیں
میرے اندر بھی ہے ایک شہرِ دگر، میرے مہتاب اک رات ادھر سے گزر
کیسے کیسے چراغ ان دریچوں میں ہیں، کیسے کیسے قمر ان مکانوں میں ہیں
اک ستارہ ادا نے یہ کیا کردیا، میری مٹی سے مجھ کو جدا کر دیا
ان دنوں پاؤں میرے زمیں پر نہیں اب میری منزلیں آسمانوں میں ہیں
عرفان صدیقی

معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 175
خیمۂ نصرت بپا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دیکھتا ہوں آسمانوں پر غبار اُٹھتا ہوا
دلدلِ فرخندہ پا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دُور اُفق تک ہر طرف روشن چراغوں کی قطار
داغ دل کا سلسلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آئنے خوش ہیں کہ اُڑ جائے گی سب گردِ ملال
شہر میں رقصِ ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
میں تو چپ تھا پھر زمانے کو خبر کیسے ہوئی
میرے چہرے پر لکھا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
ہو رہا ہے قید و بندِ رہزناں کا بند و بست
عاملوں کو خط ملا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آج تک ہوتا رہا ظالم ترا سوچا ہوا
اب مرا چاہا ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جب اِدھر سے ہوکے گزرے گا گہر افشاں جلوس
میرا دروازہ کھلا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
چاکر دُنیا سے عرضِ مدّعا کیوں کیجیے
خسروِ دوراں سے کیا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
لفظ نذر شاہ کر دینے کی ساعت آئے گی
خلعتِ معنی عطا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جان فرشِ راہ کر دینے کی ساعت آئے گی
زندگی کا حق ادا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
عرفان صدیقی

کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 174
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں
کوئی آکے ہمیں زنجیر کرے
ہم رقصِ جنوں فرمانے کو ہیں
جو بادل بستی چھوڑ گئے
کسی بن پہ بھرن برسانے کو ہیں
اب جاؤ ہمارے دھیان سے تم
ہم پل بھر جی بہلانے کو ہیں
جس شہر سے اس نے کوچ کیا
ہم کون وہاں رہ جانے کو ہیں
دل کیسے ریت میں ڈوب گیا
آنکھیں تو دھوکا کھانے کو ہیں
اب ہونٹوں پر کوئی ہاتھ نہیں
ہم دل کی بات بتانے کو ہیں
عرفان صدیقی

یاد وہ بھی نہیں آتا ہے پریشان جو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 173
کچھ نہ کچھ بھول تو ہوجاتی ہے انسان جو ہیں
یاد وہ بھی نہیں آتا ہے پریشان جو ہیں
صرف اتنا کہ بڑی چیز ہے ملنا دل کا
ہم کوئی بات سمجھتے نہیں ناداں جو ہیں
رونقِ شہر سے مایوس نہ ہو بانوئے شہر
خاک اڑانے کو ترے بے سرو سامان جو ہیں
خیر دُنیا مری وحشت کے لیے تنگ سہی
اور یہ عرصۂ باطن میں بیابان جو ہیں
اے شبِ دربدری آنکھ میں روشن کیا ہے
کچھ ستارے کہ سرِ مطلعِ امکان جو ہیں
اگلے موسم میں ہماری کوئی پہچان تو ہو
ان کو محفوظ رکھیں تارِ گریبان جو ہیں
رات کی رات فقیروں کی بھی دلداری کر
دائم آباد زمیں، ہم ترے مہمان جو ہیں
عرفان صدیقی

یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 172
سخن میں رنگ تمہارے خیال ہی کے تو ہیں
یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں
کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب
سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
ذرا سی بات ہے دل میں اگر بیاں ہوجائے
تمام مسئلے اظہارِ حال ہی کے تو ہیں
یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں
ختن میں رہ کے بھی چشمِ غزال ہی کے تو ہیں
جسارتِ سخنِ شاعراں سے ڈرنا کیا
غریب مشغلۂ قیل و قال ہی کے تو ہیں
ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر
چراغ ہم کسی شامِ زوال ہی کے تو ہیں
عرفان صدیقی

ہم اپنی خاک سے پھر گنجِ زر نکالتے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 171
ملالِ دولتِ بردہ پہ خاک ڈالتے ہیں
ہم اپنی خاک سے پھر گنجِ زر نکالتے ہیں
میں اپنے نقدِ ہنر کی زکات بانٹتا ہوں
مرے ہی سکے مرے ہم سخن اچھالتے ہیں
بڑھا کے میرے معانی پہ لفظ کا زنگار
مرے حریف مرے آئنے اجالتے ہیں
سجا کے آئنہ حرف پیشِ آئینہ
ہم اک کرن سے ہزار آفتاب ڈھالتے ہیں
عذابِ جاں ہے عزیزو خیالِ مصرعِ تر
سو ہم غزل نہیں لکھتے عذاب ٹالتے ہیں
عرفان صدیقی

کچھ اور بات کرو سب کے حال دوسرے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 170
کہاں کے شعر و سخن ماہ و سال دوسرے ہیں
کچھ اور بات کرو سب کے حال دوسرے ہیں
چراغ بجھ گئے دل کی لویں بچائے رکھو
کہ اب کے موج ہوا کے خیال دوسرے ہیں
کہاں سے آئے ہو جنس وفا خریدنے کو
میاں، یہاں کی دُکانوں پہ مال دُوسرے ہیں
مری غزل کی زمیں ہے بدن سے آگے بھی
اسیر حلقۂ ہجر و وصال دُوسرے ہیں
بچھڑنے ملنے کا قصہ تو چلتا رہتا ہے
نہیں نہیں مرے عیش و ملال دوسرے ہیں
یہ میرا عکس دروں ہے یقیں نہیں آتا
اس آئینے میں مرے خط و خال دُوسرے ہیں
تمہارے ساتھ ہے دل کا مکالمہ کچھ اور
کہ دوسروں سے ہمارے سوال دوسرے ہیں
ستم سوا ہو تو اپنی طرف ہی لوٹتا ہے
ابھی تو خیر یہاں پائمال دوسرے ہیں
عرفان صدیقی

آج اُس شخص کو نزدیک بلا کر دیکھیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 169
وہ خدا ہے کہ صنم، ہاتھ لگاکر دیکھیں
آج اُس شخص کو نزدیک بلا کر دیکھیں
ایک جیسے ہیں سبھی گل بدنوں کے چہرے
کس کو تشبیہ کا آئینہ دِکھا کر دیکھیں
کیا تعجب کوئی تعبیر دِکھائی دے جائے
ہم بھی آنکھوں میں کوئی خواب سجا کر دیکھیں
جسم کو جسم سے ملنے نہیں دیتی کمبخت
اَب تکلف کی یہ دیوار گراکر دیکھیں
خیر، دلّی میں تو اوراقِ مصور تھے بہت
لاؤ، اُس شہر کی گلیوں میں بھی جا کر دیکھیں
کون آتا ہے یہاں تیز ہواؤں کے سوا
اپنی دہلیز پہ اِک شمع جلا کر دیکھیں
وہ سمجھتا ہے یہ اندازِ تخاطب کہ نہیں
یہ غزل اُس غزل آراء کو سناکر دیکھیں
عرفان صدیقی

مرے دل کی گواہی درج کریں، مرے ہونٹوں کا اقرار لکھیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 168
مرے شانوں پہ دو لکھنے والے، تحریر سرِ دیوار لکھیں
مرے دل کی گواہی درج کریں، مرے ہونٹوں کا اقرار لکھیں
میں نے تو یہ جنگ نہیں چھیڑی، مرا کام تو لڑتے رہنا ہے
آنے والے مرے کھاتے میں، کل جیت لکھیں یا ہار لکھیں
وہی نوحہ بیتی باتوں کا، وہی نغمہ آتی راتوں کا
جب کوچ کریں ہر بار سنیں، جب خیمہ لگے ہر بار لکھیں
میں ضدی لڑکا ماضی کے گرتے ہوئے گھر سے بھاگا ہوا
مجھے پچھلے موسم خط بھیجیں، مجھے گزری راتیں پیار لکھیں
یہ تپتا دشت بسانے میں، اوپر والے مرا ہاتھ بٹا
کچھ سایہ مرے اشعار بنیں کچھ سایہ ترے اشجار لکھیں
عرفان صدیقی

پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 167
بہت دنوں تو رہا اپنا نکتہ چین بھی میں
پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں
مری طرف ہی دواں ہے مری کمندِ ہوس
یہاں غزال بھی میں ہوں سبکتگین بھی میں
عذاب مجھ سے مجھی پر اترتے رہتے ہیں
فرازِ عرش بھی میں‘ پستیِ زمین بھی میں
اب اپنے آپ کو کس طرح بے بہا کہیے
نگیں شناس بھی میں‘ دانۂ نگین بھی میں
گدا و شاہ سے میرا تپاک ایک سا ہے
کہ کج کلاہ بھی میں‘ بوریا نشیں بھی میں
مجھے وہ آنکھ نہ دیکھے تو میں ہی سب سے خراب
وہ انتخاب جو کر لے تو بہترین بھی میں
عرفان صدیقی

میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 166
تول مت مجھ کو کہ پاسنگ بہت ہے مجھ میں
میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں
آؤ میں تم کو تمہارے کئی چہرے دکھلاؤں
آئنہ خانہ ہوں‘ نیرنگ بہت ہے مجھ میں
میرا دشمن مرے سینے سے اترتا ہی نہیں
غالباً حوصلۂ جنگ بہت ہے مجھ میں
اس نے کیا سوچ کے چھیڑا تھا‘ میں کیا بول اٹھا
تار کوئی غلط آہنگ بہت ہے مجھ میں
اتنی افسردہ نہ ہو کوچۂ قاتل کی ہوا
چھو کے تو دیکھ‘ ابھی رنگ بہت ہے مجھ میں
عرفان صدیقی

مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 165
پھر کسی نام کا مہتاب نہ نکلا مجھ میں
مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں
روز و شب جسم کی دیوار سے ٹکراتا ہے
قید کر رکھا ہے کس نے یہ پرندہ مجھ میں
ایک مدت سے مری بیعت جاں مانگتی تھی!
آج خاموش ہے کیا دیکھ کے دنیا مجھ میں
ویسے میرے خس و خاشاک میں کیا رکھا ہے
آگ دکھلاؤ تو نکلے گا تماشا مجھ میں
ریت اُڑتی ہے بہت ساحل احساس کے پاس
سوکھتا جاتا ہے شاید کوئی دریا مجھ میں
اب میں خود سے بھی مخاطب نہیں ہونے پاتا
جب سے چپ ہو گیا وہ بولنے والا مجھ میں
عرفان صدیقی

آخر کسی افق سے اُبھارا گیا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 164
جب بھی صلیب شام پہ وارا گیا ہوں میں
آخر کسی افق سے اُبھارا گیا ہوں میں
چاروں طرف گھٹی ہوئی چیخوں کا شور ہے
بول اے ہوا، کدھر سے پکارا گیا ہوں میں
ٹوٹے ہوئے دلوں کی مناجات ہوں مگر
بہری سماعتوں پہ اُتارا گیا ہوں میں
عرفان صدیقی

کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 163
بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں
کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
تجھی پہ ختم ہے جاناں مرے زوال کی رات
تو اب طلوع بھی ہوجا کہ ڈھل رہا ہوں میں
بلا رہا ہے مرا جامہ زیب ملنے کو
تو آج پیرہنِ جاں بدل رہا ہوں میں
غبارِ راہ گزر کا یہ حوصلہ بھی تو دیکھ
ہوائے تازہ ترے ساتھ چل رہا ہوں میں
میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ وہ پکارتا ہے
اور اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں میں
عرفان صدیقی

ہوائے تازہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 162
در و دیوار کی زد سے نکلنا چاہتا ہوں میں
ہوائے تازہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں
وہ کہتے ہیں کہ آزادی اسیری کے برابر ہے
تو یوں سمجھو کہ زنجیریں بدلنا چاہتا ہوں میں
MERGED نمو کرنے کو ہے میرا لہو قاتل کے سینے سے
وہ چشمہ ہوں کہ پتھر سے ابلنا چاہتا ہوں میں
بلند و پستِ دُنیا فیصلہ کرنے نہیں دیتے
کہ گرنا چاہتا ہوں یا سنبھلنا چاہتا ہوں میں
محبت میں ہوس کا سا مزا ملنا کہاں ممکن
وہ صرف اک روشنی ہے جس میں جلنا چاہتا ہوں میں
عرفان صدیقی

لشکروں کی آہٹیں تو رات بھر سنتا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 161
دیکھیے کس صبح نصرت کی خبر سنتا ہوں میں
لشکروں کی آہٹیں تو رات بھر سنتا ہوں میں
خیر‘ اب میری فصیلِ شہر بھی کیا دور ہے
جنگلوں تک آچکا پیکِ سحر سنتا ہوں میں
اے پرندو‘ یاد کرتی ہے تمہیں پاگل ہوا
روز اک نوحہ سرِ شاخِ شجر سنتا ہوں میں
کوئی نیزہ سرفرازی دے تو کچھ آئے یقیں
خشک ٹہنی پر بھی آتے ہیں ثمر سنتا ہوں میں
لاؤ، اس حرفِ دُعا کا بادباں لیتا چلوں
سخت ہوتا ہے سمندر کا سفر سنتا ہوں میں
عرفان صدیقی

چراغوں کے بدن کو پارہ پارہ دیکھتا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 160
زوالِ شامِ ہجراں کا اشارہ دیکھتا ہوں میں
چراغوں کے بدن کو پارہ پارہ دیکھتا ہوں میں
متاعِ جاں لٹا دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا
تو کیوں سود و زیاں کا گوشوارہ دیکھتا ہوں میں
تمنا کا نتیجہ اپنے سر لینا نہیں اچھا
ذرا ٹھہرو عزیزو‘ استخارہ دیکھتا ہوں میں
مری خاکِ بدن آخر اسی مٹی کا حصہ ہے
سو کشتی کھولتا ہوں اور کنارہ دیکھتا ہوں میں
غبارِ شب کے پیچھے روشنی ہے لوگ کہتے ہیں
اگر یوں ہے تو یہ منظر دوبارہ دیکھتاہوں میں
اندھیروں میں کچھ ایسے خواب بھی دکھلائی دیتے ہیں
کہ جیسے آسماں پر اک ستارہ دیکھتا ہوں میں
عرفان صدیقی

یہ ایک سینہ کہاں تک سپر کروں گا میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 159
تمام معرکے اب مختصر کروں گا میں
یہ ایک سینہ کہاں تک سپر کروں گا میں
وہی عصا کا خدا ہے‘ وہی سمندر کا
وہ مرحلہ کوئی دے گا تو سر کروں گا میں
کوئی دُعا ہوں‘ کسی اور سے معاملہ ہے
صدا نہیں کہ سماعت میں گھر کروں گا میں
پرانی خوشبوؤ! اب میرے ساتھ ساتھ نہ آؤ
یہاں سے اگلی رتوں کا سفر کروں گا میں
وہ اک کھنڈر ہے‘ مگر راستے میں پڑتا ہے
سو ایک رات وہاں بھی بسر کروں گا میں
اجاڑ دشت میں کچھ زندگی تو پیدا ہو
یہ ایک چیخ یہاں بھی شجر کروں گا میں
عرفان صدیقی

یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 158
اب اپنے زخم کو اپنی زباں بناؤں گا میں
یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں
اسی سفر کا شجر ہے وہ پھر ملے گا مجھے
اسی زمین کا موسم ہوں لوٹ آؤں گا میں
کبھی کبھی تجھے دیکھوں گا تیری آنکھوں سے
کبھی کبھی ترے ہونٹوں سے مسکراؤں گا میں
کبھی کبھی کسی دُھن میں تجھے پکاروں گا
کبھی کبھی کسی بن میں الکھ جگاؤں گا میں
غرورِ جاں میں بھی رکھوں گا چاہتوں کا بھرم
کبھی کبھی ترے احسان بھی اٹھاؤں گا میں
مرے لہو کو یہی موجِ تشنگی ہے بہت
کنارِ جو ابھی خیمہ نہیں لگاؤں گا میں
اب ایک سنگ اس آئینے سے تراشوں گا
تجھے پھر اک ہنر رائیگاں دکھاؤں گا میں
یہی رہے گا تماشا مرے چراغوں کا
ہوا بجھاتی رہے گی جلائے جاؤں گا میں
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہوجائیں
کہ اس کے بعد یہ دُنیا کہاں سے لاؤں گا میں
عرفان صدیقی

نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 157
بچے گا اب نہ کوئی بادباں سفینے میں
نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں
فضا میں اڑتے ہوئے بادلوں سے یاد آیا
کہ میں اسیر ہوا تھا اسی مہینے میں
وہ رک گیا تھا مرے بام سے اترتے ہوئے
جہاں پہ دیکھ رہے ہو چراغ زینے میں
نکال دی ہے خدا نے نباہ کی صورت
ہمارے سنگ میں اور تیرے آبگینے میں
بدن کی خاک میں کب سے دبا تھا شعلۂ عشق
عجیب چیز ملی ہے مجھے دفینے میں
عرفان صدیقی

کوئی تعبیر رکھ دو میرے بچوں کی کتابوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 156
مجھے اُلجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں
کوئی تعبیر رکھ دو میرے بچوں کی کتابوں میں
طلسم ایسا تو ہو جو خوُبصورت ہو حقیقت سے
ہنر یہ بھی نہیں ہے آج کے افراسیابوں میں
تعلق اِک تعارف تک سمٹ کر رہ گیا آخر
نہ وہ تیزی سوالوں میں نہ وہ تلخی جوابوں میں
مکاں کیسے بھی ہوں، خوابوں کی خاطر کون ڈھاتا ہے
کم اَز کم اِس قدر ہمّت تو تھی خانہ خرابوں میں
ذرا سوچو تو اِس دُنیا میں شاید کچھ نہیں بدلا
وہی کانٹے ببولوں میں، وہی خوُشبو گلابوں میں
عرفان صدیقی

مگر آج تک کوئی شہ سوار چھپا ہواہے غبار میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 155
یہ چراغ کشتہ نہ جانے کب سے پڑے ہیں راہ گزار میں
مگر آج تک کوئی شہ سوار چھپا ہواہے غبار میں
میں کہاں گلاب شجر کروں‘ میں کشادہ سینہ کدھر کروں
کوئی نیزہ میرے یمین میں‘ کوئی تیغ میرے یسار میں
مجھے اس طلسم سرائے شب میں عجیب کام دیے گئے
نہ جلوں شکستہ فصیل پر، نہ بجھوں ہوا کے حصار میں
انہیں کیا خبر کہ دلاوری کوئی شرطِ فتح و ظفر نہیں
کہ بکھرتی صف کے پیادگاں، نہ شمار میں، نہ قطار میں
عرفان صدیقی

آؤ کہ اجر کار رسالت ادا کریں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 154
جاں نذر دے کے نصرت آل عبا کریں
آؤ کہ اجر کار رسالت ادا کریں
برپا کریں تو حشر کریں کربلا کے بعد
روشن اگر کریں تو چراغ عزا کریں
صدیوں سے سینہ زن ہے بدن میں لہو کی لہر
آج اس کو پیش تیغ ستم گر رہا کریں
صرف ایک سر ملا تھا سو نذرانہ کر دیا
اب ناصران معرکۂ صبر کیا کریں
صحرا میں شور کرتی ہیں موجیں فرات کی
زنداں میں جیسے اہل سلاسل صدا کریں
اس شاہ بے کساں پہ دل و روح و جاں نثار
مقدور ہو تو نذر کچھ اس سے سوا کریں
یاد آوران تشنہ دہانان کربلا
اس تشنگی کو چشمۂ آب بقا کریں
گریہ نشان جاں ہے مگر اس کے باوجود
مقتل مقام صبر و رضا ہے رضا کریں
تیرا قلم ولا کا علم ہے سو مجرئ
عباس تجھ کو ظل حمایت عطا کریں
عرفان صدیقی

شمع گل ہوتے ہی سب چلنے کی تیاری کریں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 153
روشنی میں لوگ اعلانِ وفاداری کریں
شمع گل ہوتے ہی سب چلنے کی تیاری کریں
جب ہمیں بے مول ہاتھ آنے لگیں سچائیاں
کیا ضرورت ہے کہ خوابوں کی خریداری کریں
یہ زمیں پھر پاؤں کی زنجیر ہوجانے کو ہے
وحشتیں اب کوئی فرمانِ سفر جاری کریں
تو میسر ہے تو تجھ پر شعر کیوں لکھیں کوئی
تجھ سے فرصت ہو تو ہم یہ شغلِ بیکاری کریں
عرفان صدیقی

لمبا سفر ہے زاد سفر کیسے چھوڑ دیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 152
راہ ستم میں سوز جگر کیسے چھوڑ دیں
لمبا سفر ہے زاد سفر کیسے چھوڑ دیں
آندھی میں چھوڑتے ہیں کہیں آشیاں پر ند
ہم اس ہوا کے خوف سے گھر کیسے چھوڑ دیں
چندن کے بن میں سانپ نکلتے ہی رہتے ہیں
اس ڈر سے خوشبوؤں کے شجر کیسے چھوڑ دیں
جب کچھ نہ تھا تو ہم نے دیا تھا زمیں کو خوں
اب فصل پک چکی تو ثمر کیسے چھوڑ دیں
اے دل وہ دیکھ خیمہ، فردا قریب ہے
تجھ کو فصیل شب کے ادھر کیسے چھوڑ دیں
مانا کہ ایک عمر سے ٹھہری ہوئی ہے رات
انسان ہیں اُمید سحر کیسے چھوڑ دیں
عرفان صدیقی

گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 151
کوئلیں پھر بھولے بسرے غم جگانے آگئیں
گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں
ٹھنڈے دالانوں میں پھر کُھلنے لگی دِل کی کتاب
جلتی دوپہریں سرا پردے گرانے آگئیں
ڈھک گئیں پھر صندلیں شاخیں سنہری بور سے
لڑکیاں دَھانی دوپٹے سر پہ تانے آگئیں
پھر دَھنک کے رَنگ بازاروں میں لہرانے لگے
تتلیاں معصوم بچوں کو رِجھانے آگئیں
کھل رہے ہوں گے چھتوں پر سانولی شاموں کے بال
کتنی یادیں ہم کو گھر واپس بلانے آگئیں
دُھول سے کب تک کوئی شفاف جذبوں کو بچائے
خواہشوں کی آندھیاں پھر خاک اُڑانے آگئیں
عرفان صدیقی

اُٹھتے ہوئے تیشوں سے کہو دَھار بچائیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 150
ہم سوکھے ہوئے پیڑوں کو بیکار بچائیں
اُٹھتے ہوئے تیشوں سے کہو دَھار بچائیں
شاید کہ اُتر آئے سوا نیزے پہ سورج
کل کے لیے کچھ سایۂ دیوار بچائیں
خنجر کی طرح کاٹ بھی ہے تند ہوا میں
اَب سر کی کریں فکر کہ دَستار بچائیں
نفرت کے خزانے میں تو کچھ بھی نہیں باقی
تھوڑا سا گزارے کے لیے پیار بچائیں
اولوں کی طرح ہم پہ برستا رہے موسم
ہم جھومتی شاخوں کی طرح وار بچائیں
عرفان صدیقی

دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 149
دیکھ لے، خاک ہے کاسے میں کہ زر ہے سائیں
دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں
تو مجھے اس کے خم و پیچ بتاتا کیا ہے
کوئے قاتل تو مری راہ گزر ہے سائیں
یہ جہاں کیا ہے بس اک صفحۂ بے نقش و نگار
اور جو کچھ ہے ترا حسنِ نظر ہے سائیں
شہر و صحرا تو ہیں انسانوں کے رکھے ہوئے نام
گھر وہیں ہے دلِ دیوانہ جدھر ہے سائیں
ہم نے پہلے بھی مآلِ شبِ غم دیکھا ہے
آنکھ اب کے جو کھلے گی تو سحر ہے سائیں
پاؤں کی فکر نہ کر بارِ کم و بیش اتار
اصل زنجیر تو سامانِ سفر ہے سائیں
آگے تقدیر پرندے کی جہاں لے جائے
حدِّ پرواز فقط حوصلہ بھر ہے سائیں
شاعری کون کرامت ہے مگر کیا کیجے
درد ہے دل میں سو لفظوں میں اثر ہے سائیں
عشق میں کہتے ہیں فرہاد نے کاٹا تھا پہاڑ
ہم نے دن کاٹ دیئے یہ بھی ہنر ہے سائیں
عرفان صدیقی

پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 148
دل پہ یہ مشقِ ستارہ نظری آخر کیوں
پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں
میں ہی کیوں حلقۂ زنجیرِ تعلق میں اسیر
تو ہر الزامِ تعارف سے بری آخر کیوں
شاعری میں تو بہت دشت و بیابان کا ذکر
زندگی میں گلۂ دربدری آخر کیوں
اب کہیں کوئی تقاضا نہ کوئی شرطِ وصال
مجھ سے آگے مری شوریدہ سری آخر کیوں
دشتِ ہجراں کے کڑے کوس تو سب کے لیے ہیں
میں ہی ارمان کروں ہم سفری آخر کیوں
دل اگر لہر میں آئے تو اڑا کر لے جائے
عشق میں شکوۂ بے بال و پری آخر کیوں
عرفان صدیقی

سو منتظر اسی لمس ہنر کا میں بھی ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 147
ہوں مشتِ خاک مگر کوزہ گر کا میں بھی ہوں
سو منتظر اسی لمس ہنر کا میں بھی ہوں
کبھی ہوائے سرِ شاخسار ادھر بھی دیکھ
کہ برگِ زرد ہوں لیکن شجر کا میں بھی ہوں
یہ تیز روشنیوں کا دیار ہے‘ ورنہ
چراغ تو کسی تاریک گھر کا میں بھی ہوں
تمہارے زخموں سے میرا بھی ایک رشتہ ہے
لہو نہیں ہوں مگر چشمِ تر کا میں بھی ہوں
مجھے کھنچی ہوئی تلوار سونپنے والے
میں کیا کروں کہ طرفدار سر کا میں بھی ہوں
اب آگئی ہے سحر اپنا گھر سنبھالنے کو
چلوں‘ کہ جاگا ہوا رات بھر کا میں بھی ہوں
عرفان صدیقی

میں تیرے فیصلۂ معتبر پہ راضی ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 146
جہانِ گم شدگاں کے سفر پہ راضی ہوں
میں تیرے فیصلۂ معتبر پہ راضی ہوں
ابھی مرا کوئی پیکر نہ کوئی میری نمود
میں خاک ہوں ہنرِ کوزہ گر پہ راضی ہوں
یہی خیال مجھے جگمگائے رکھتا ہے
کہ میں رضائے ستارہ نظر پہ راضی ہوں
عجیب لوگ تھے مجھ کو جلا کے چھوڑ گئے
عجب دیا ہوں طلوعِ سحر پہ راضی ہوں
نہ جانے کیسے گھنے جنگلوں کا دکھ ہے کہ آج
میں ایک سایۂ شاخِ شجر پہ راضی ہوں
مجھے اداس نہ کر اے زوالِ عمر کی رات
میں اس کے وعدۂ شامِ دگر پہ راضی ہوں
عرفان صدیقی

ستم گروں کی مدارات کرتا رہتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 145
انہیں کی شہ سے انہیں مات کرتا رہتا ہوں
ستم گروں کی مدارات کرتا رہتا ہوں
یہاں کوئی نہیں سنتا حدیثِ دل زدگاں
مگر میں اور طرح بات کرتا رہتا ہوں
بھلا یہ عمر کوئی کاروبارِ شوق کی ہے
بس اک تلافیِ مافات کرتا رہتا ہوں
یہ کائنات مرے بال و پر کے بس کی نہیں
تو کیا کروں سفرِ ذات کرتا رہتا ہوں
یہیں پہ وارِ حریفاں اٹھانا پڑتا ہے
یہیں حسابِ مساوات کرتا رہتا ہوں
عجب نہیں کسی کوشش میں کامراں ہوجائیں
محبتوں کی شروعات کرتا رہتا ہوں
ہمیشہ کاسۂ خالی چھلکتا رہتا ہے
فقیر ہوں سو کرامات کرتا رہتا ہوں
عرفان صدیقی

میں اس کے خواب میں بیدار رہنا چاہتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 144
عجیب نشّہ ہے ہشیار رہنا چاہتا ہوں
میں اس کے خواب میں بیدار رہنا چاہتا ہوں
یہ موجِ تازہ مری تشنگی کا وہم سہی
میں اس سراب میں سرشار رہنا چاہتا ہوں
سیاہ چشم‘ مری وحشتوں پہ طنز نہ کر
میں قاتلوں سے خبردار رہنا چاہتا ہوں
یہ درد ہی مرا چارہ ہے تم کو کیا معلوم
ہٹاؤ ہاتھ میں بیمار رہنا چاہتا ہوں
ادھر بھی آئے گی شاید وہ شاہ بانوئے شہر
یہ سوچ کر سرِ بازار رہنا چاہتا ہوں
ہوا گلاب کو چھوکر گذرتی رہتی ہے
سو میں بھی اتنا گنہگار رہنا چاہتا ہوں
عرفان صدیقی

تماشا کر کہ میں کشکول گنجینے میں رکھتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 143
تجھے پاکر بھی تیری ہی طلب سینے میں رکھتا ہوں
تماشا کر کہ میں کشکول گنجینے میں رکھتا ہوں
اسی رستے سے وہ خورشیدِ فردا گھر میں اترے گا
سو آنکھوں کے دیئے اس رات کے زینے میں رکھتا ہوں
مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی
میں آنے والی دُنیا کو بھی تخمینے میں رکھتا ہوں
عزیزو تم سے رازِ خوش نوائی کیا چھپانا ہے
میں دل کے چند ٹکڑے اپنے سازینے میں رکھتا ہوں
مرا رنگِ ہنر تو ایک تصویرِ خیالی ہے
میں اک سادہ سا چہرہ دل کے آئینے میں رکھتا ہوں
عرفان صدیقی

آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 142
اب تو باقی ہے یہی سمت سفر چلتا ہوں
آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں
سوچنا کیا ہے اگر دشت زمیں ختم ہوا
میرے دل میں بھی تو صحرا ہے اُدھر چلتا ہوں
آخری رنگ ہواؤں سے بنا ہے کب تک
رخصت اے موسم بے رنگ و ثمر، چلتا ہوں
راہ میں چھوٹتے جاتے ہیں ملاقات کے بوجھ
جانے کیوں لے کے یہ سامان سفر چلتا ہوں
گھر سے نکلا تھا کہ صحرا کا تماشا دیکھوں
جب یہاں بھی وہی نقشہ ہے تو گھر چلتا ہوں
عرفان صدیقی

تنگ آیا ہوں سو پیراہن جاں کھولتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 141
لو، میں راز ہنر چارہ گراں کھولتا ہوں
تنگ آیا ہوں سو پیراہن جاں کھولتا ہوں
یہ بھی دیکھوں ترے افلاک میں رکھا کیا ہے
آج میں بال و پر وہم و گماں کھولتا ہوں
بھولتا بھی نہیں، نام اس کا بتاتا بھی نہیں
بند کرتا ہوں نہ یہ دل کی دُکاں کھولتا ہوں
MERGED تو بھی دیکھے ترے افلاک کی وسعت کیا ہے
آج میں بال و پر، ہم و گماں کھولتا ہوں
بھولتا بھی نہیں نام اس کا بتاتا بھی نہیں
نہ بڑھاتا ہوں نہ یہ دل کی دکاں کھولتا ہوں
عرفان صدیقی

میں پھر سے گمشدگاں کے علم اُٹھاتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 140
زیاں کی راہ میں اگلا قدم اُٹھاتا ہوں
میں پھر سے گمشدگاں کے علم اُٹھاتا ہوں
نیاز مند یہ دنیا نہیں کسی کی مگر
اسے خبر ہے کہ میں ناز کم اُٹھاتا ہوں
نہ کوئی حشر زمیں کے علاوہ اُٹھتا ہے
نہ میں ہی سر پس خواب عدم اُٹھاتا ہوں
عرفان صدیقی

میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 139
دیکھ لے، آج تری بزم میں بھی تنہا ہوں
میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں
جانے کیا ٹھان کے اُٹھتا ہوں نکلنے کے لیے
جانے کیا سوچ کے دروازے سے لوٹ آتا ہوں
میرے ہر جزو کا ہے مجھ سے الگ ایک وجود
تم مجھے جتنا بگاڑو گے میں بن سکتا ہوں
مجھ میں رَقصاں کوئی آسیب ہے آوازوں کا
میں کسی اُجڑے ہوئے شہر کا سنّاٹا ہوں
اپنا ہی چہرہ اُنہیں مجھ میں دِکھائی دے گا
لوگ تصویر سمجھتے ہیں میں آئینہ ہوں
لمحۂ شوق ہوں، میری کوئی قیمت ہی نہیں
میں میسر تجھے آجاؤں تو مہنگا کیا ہوں
میں جھپٹنے کے لیے ڈُھونڈھ رہا ہوں موقع
اور وہ شوخ سمجھتا ہے کہ شرماتا ہوں
عرفان صدیقی

آنکھ کے جسم پہ خوابوں کی رِدا تان سکوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 138
کاش میں بھی کبھی یاروں کا کہا مان سکوں
آنکھ کے جسم پہ خوابوں کی رِدا تان سکوں
میں سمندر ہوں، نہ توُ میرا شناور، پیارے
توُ بیاباں ہے نہ میں خاک تری چھان سکوں
رُوئے دِلبر بھی وہی، چہرۂ قاتل بھی وہی
توُ کبھی آنکھ ملائے تو میں پہچان سکوں
وقت یہ اور ہے، مجھ میں یہ کہاں تاب کہ میں
یاریاں جھیل سکوں، دُشمنیاں ٹھان سکوں
جب ستم ہے یہ تعارف ہی تو کیسا ہو، اگر
میں اُسے جاننے والوں کی طرح جان سکوں
عرفان صدیقی

غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 137
ہوائے دشت کو زیر قدم کریں دونوں
غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں
ذرا سا رقص شرر کر کے خاک ہو جائیں
جو رفتگاں نے کیا ہے وہ ہم کریں دونوں
یہ شام عمر، یہ خواہش کی تیز روشنیاں
لویں اب اپنے چراغوں کی کم کریں دونوں
اکیلا شخص کسے حال دل سنانے جائے
کبھی ملیں تو بچھڑنے کا غم کریں دونوں
خطوں میں کچھ تو قرینہ ہو دل نوازی کا
کوئی تو حرف شکایت رقم کریں دونوں
عرفان صدیقی

اے چاند، دکھائی دے تو جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 136
جلنے سے رہائی دے تو جانوں
اے چاند، دکھائی دے تو جانوں
تنہا نہیں نواحِ شب میں
آہٹ ہی سنائی دے تو جانوں
کیا زندہ ہے زخم کھانے والا
اک بار دہائی دے تو جانوں
دکھ دل سے بڑا نہیں ہے‘ معبود
تو دل کو سمائی دے تو جانوں
اوروں کا لہو لٹانے والے
کچھ اپنی کمائی دے تو جانوں
اے ذہن میں بسنے والی دُنیا
آنکھوں کو دکھائی دے تو جانوں
عرفان صدیقی

جشن ہے صبح کہ پیکار ہے میں کیا جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 135
شہر کیوں رات میں بیدار ہے میں کیا جانوں
جشن ہے صبح کہ پیکار ہے میں کیا جانوں
ایک قطرہ بھی مرے کوزۂ خالی میں نہیں
ہر طرف ابرِ گہر بار ہے میں کیا جانوں
عاشقوں کے سرِ تسلیم کو تسلیم سے کام
اب یہ ابرو ہے کہ تلوار ہے میں کیا جانوں
صید کرتا ہے کسی اور کی مرضی سے مجھے
خود بھی صیاد گرفتار ہے میں کیا جانوں
میں تو اک درد کا سرمایہ لیے بیٹھا ہوں
یہ مری جان کا آزار ہے میں کیا جانوں
عرفان صدیقی

کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 134
میں تو اک بکھری ہوئی صف کا پیادہ ٹھہرا
کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں
تو فرستادۂ سرکار نہیں ہے نہ سہی
ہاتھ میں محضرِ سرکار ہے میں کیا جانوں
شحنۂ شہر کی خدمت میں لگے ہیں سب لوگ
کون غالب کا طرفدار ہے میں کیا جانوں
اک نیا رنگ ہویدا ہے مری آنکھوں میں
آج کیا سرخئ اخبار ہے میں کیا جانوں
تجھ کو سیلاب کے آنے کی خبر دے دی ہے
تیرا در ہے تری دیوار ہے میں کیا جانوں
میں نمو کرنے پہ راضی نہیں بے موجِ بہار
موسمِ دَرہم و دِینار ہے میں کیا جانوں
سرِ پندار تو مجھ کو بھی نظر آتا ہے
اور کیا کیا تہہِ دستار ہے میں کیا جانوں
قحط میں کب سے دکاں میری پڑی ہے خالی
عشق سے گرمئ بازار ہے میں کیا جانوں
ہے کہیں صبحِ خوش آثار بھی لیکن فی الحال
میرے آگے تو شبِ تار ہے میں کیا جانوں
مجھ کو آتی ہے ترے حرف سے احساس کی آنچ
سب تری گرمئ گفتار ہے میں کیا جانوں
عرفان صدیقی

اور اب وہاں بھی نہیں ہے نشانِ گمشدگاں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 133
گیا تھا دل کی طرف کاروانِ گمشدگاں
اور اب وہاں بھی نہیں ہے نشانِ گمشدگاں
ابھی ابھی جو ستارے مرے کنار میں تھے
چمک رہے ہیں سرِ آسمانِ گمشدگاں
سرائے وہم میں کس کو پکارتا ہوں میں
یہ نیم شب‘ یہ سکوت مکانِ گمشدگاں
عجب خلائے سخن ہے سماعتوں کے ادھر
یہ کون بول رہا ہے زبانِ گمشدگاں
میں اپنی کھوئی ہوئی بستیوں کو پہچانوں
اگر نصیب ہو سیرِ جہانِ گمشدگاں
عرفان صدیقی

ساتھ ہے کوئی تو عمر گزراں ہے جاناں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 132
موج گل ہے نہ کہیں آب رواں ہے جاناں
ساتھ ہے کوئی تو عمر گزراں ہے جاناں
ابھی آتا ہے نظر چاند میں چہرہ تیرا
ایک دو پل میں یہ منظر بھی دھواں ہے جاناں
تو جو بولے تو سنوں میں تری آواز کا سچ
ہر طرف خاموشی وہم و گماں ہے جاناں
موسم ہجر سے اس درجہ سبک سار ہے دل
اس پہ اب حرف محبت بھی گراں ہے جاناں
آج تک جو نہ کیا اس کی تلافی کے لیے
اب یہ ذکر لب و رخسار بتاں ہے جاناں
ہم کچھ اس طرح سناتے ہیں کہانی اپنی
کوئی سمجھے کہ حدیث دگراں ہے جاناں
جو کبھی تونے کہا اور نہ کبھی ہم نے سنا
وہی اک لفظ تو سرنامۂ جاں ہے جاناں
عرفان صدیقی

ورنہ تو یہ شئے میں بھی رگ تاک سے لے آؤں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 131
یاراں، مجھے ان چیزوں سے نشہ نہیں ہوتا
ورنہ تو یہ شئے میں بھی رگ تاک سے لے آؤں
تم نے کبھی دیکھا نہیں آہوئے تتاری
اچھا، تو میں اس صید کو فتراک سے لے آؤں
بس یوں ہے کہ کچھ گرمئ محفل کا نہیں شوق
میں آگ تو اپنے خس و خاشاک سے لے آؤں
گمراہ سہی پھر بھی عجب کیا ہے کہ دل کو
تیری ہی طرف اس رہ کاواک سے لے آؤں
عرفان صدیقی

مضمون اگر کم ہوں تو افلاک سے لے آؤں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 130
اے فکر سخن کیوں زر گل خاک سے لے آؤں
مضمون اگر کم ہوں تو افلاک سے لے آؤں
پھر کام ہیں کچھ اور بھی لیکن دل ناداں
پہلے تو تجھے زلف کے پیچاک سے لے آؤں
کیا گنج گہر کی مرے دامن کو کمی ہے
چاہوں تو ابھی دیدۂ نمناک سے لے آؤں
دکھلاؤں تمہیں اپنے قبیلے کی نشانی
کچھ تار کسی پیرہن چاک سے لے آؤں
چمکے تو اندھیرے میں مرا طرۂ دستار
دوچار ستارے تری پوشاک سے لے آؤں
عرفان صدیقی

اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 129
موجِ خوں بن کر کناروں سے گزر جائیں گے لوگ
اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ
قاتلوں کے شہر میں بھی زندگی کرتے رہے
لوگ شاید یہ سمجھتے تھے کہ مر جائیں گے لوگ
اَن گنت منظر ہیں اور دِل میں لہو دو چار بوُند
رَنگ آخر کتنی تصوِیروں میں بھر جائیں گے لوگ
جسم کی رعنائیوں تک خواہشوں کی بھیڑ ہے
یہ تماشا ختم ہو جائے تو گھر جائیں گے لوگ
جانے کب سے ایک سنّاٹا بسا ہے ذہن میں
اَب کوئی اُن کو پکارے گا تو ڈر جائیں گے لوگ
بستیوں کی شکل و صوُرت مختلف کتنی بھی ہو
آسماں لیکن وہی ہو گا جدھر جائیں گے لوگ
سُرخ رو ہونے کو اِک سیلابِ خوُں دَرکار ہے
جب بھی یہ دَریا چڑھے گا پار اُترجائیں گے لوگ
عرفان صدیقی

بجھے چراغ تو ٹھہرے ستارہ جوُ ہم لوگ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 128
اسی کمال کی کرتے تھے آرزو ہم لوگ
بجھے چراغ تو ٹھہرے ستارہ جوُ ہم لوگ
تو شانِ شعلہ گراں‘ میں نشانِ سوختگان
ہیں اپنے اپنے قبیلے کی آبرو ہم لوگ
ابھی سے راستہ کیوں روکنے لگی دُنیا
کھڑے ہوئے ہیں ابھی اپنے رُوبرو ہم لوگ
دریدہ پیرہنِ جاں ہے دیکھیے کیا ہو
نفس کے تار سے کرتے تو ہیں رفوُ ہم لوگ
جنوں کے فیض سے چرچا بتوں میں وحشت کا
خدا کے فضل سے موضوعِ گفتگو ہم لوگ
عرفان صدیقی