admin کی تمام پوسٹیں

چھوڑ لذت کے تئیں لے تو فقیری کا مزا

دیوان اول غزل 51
گرچہ سردار مزوں کا ہے امیری کا مزا
چھوڑ لذت کے تئیں لے تو فقیری کا مزا
اے کہ آزاد ہے ٹک چکھ نمک مرغ کباب
تا تو جانے کہ یہ ہوتا ہے اسیری کا مزا
لوہو پیتے ہی مرا اشک نہ منھ کو لاگا
بوسہ جب لے ہے ترے ہونٹوں کی بیری کا مزا
ہم تو گمراہ جوانی کے مزوں پر ہیں میر
حضرت خضرؑ کو ارزانی ہو پیری کا مزا
میر تقی میر

یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا

دیوان اول غزل 50
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا
ان نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بار
میں نے اسے ہزار جتایا تو کیا ہوا
خواہاں نہیں وہ کیوں ہی میں اپنی طرف سے یوں
دل دے کے اس کے ہاتھ بکایا تو کیا ہوا
اب سعی کر سپہر کہ میرے موئے گئے
اس کا مزاج مہر پہ آیا تو کیا ہوا
مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد
دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا
میں صید ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یاد
ظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا
کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوں
ظاہر جہاں سے ہاتھ اٹھایا تو کیا ہوا
وہ فکر کر کہ چاک جگر پاوے التیام
ناصح جو تونے جامہ سلایا تو کیا ہوا
جیتے تو میر ان نے مجھے داغ ہی رکھا
پھر گور پر چراغ جلایا تو کیا ہوا
میر تقی میر

ہر گام پہ جس میں سر نہ ہو گا

دیوان اول غزل 49
ایسا ترا رہگذر نہ ہو گا
ہر گام پہ جس میں سر نہ ہو گا
کیا ان نے نشے میں مجھ کو مارا
اتنا بھی تو بے خبر نہ ہو گا
دھوکا ہے تمام بحر دنیا
دیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہو گا
آئی جو شکست آئینے پر
روے دل یار ادھر نہ ہو گا
دشنوں سے کسی کا اتنا ظالم
ٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہو گا
اب دل کے تئیں دیا تو سمجھا
محنت زدوں کے جگر نہ ہو گا
دنیا کی نہ کر تو خواست گاری
اس سے کبھو بہرہ ور نہ ہو گا
آ خانہ خرابی اپنی مت کر
قحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہو گا
ہو اس سے جہاں سیاہ تد بھی
نالے میں مرے اثر نہ ہو گا
پھر نوحہ گری کہاں جہاں میں
ماتم زدہ میر اگر نہ ہو گا
میر تقی میر

اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا

دیوان اول غزل 48
اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار
سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا
ہم رہرو ان راہ فنا ہیں برنگ عمر
جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل
تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر
دیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک
پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
ہم بے خودان محفل تصویر اب گئے
آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا
گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہکن
سنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا
ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کر
پر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
میر تقی میر

لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا

دیوان اول غزل 47
رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا
لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا
نہیں ستارے یہ سوراخ پڑ گئے ہیں تمام
فلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا
گلی میں اس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا
لباس فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا
تمام زلف کے کوچے ہیں مارپیچ اس کی
تجھی کو آوے دلا چلنا ایسی راہوں کا
اسی جو خوبی سے لائے تجھے قیامت میں
تو حرف کن نے کیا گوش داد خواہوں کا
تمام عمر رہیں خاک زیر پا اس کی
جو زور کچھ چلے ہم عجز دست گاہوں کا
کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمان حال
کہ پوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا
حساب کاہے کا روز شمار میں مجھ سے
شمار ہی نہیں ہے کچھ مرے گناہوں کا
تری جو آنکھیں ہیں تلوار کے تلے بھی ادھر
فریب خوردہ ہے تو میر کن نگاہوں کا
میر تقی میر

موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا

دیوان اول غزل 46
مہر کی تجھ سے توقع تھی ستمگر نکلا
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
داغ ہوں رشک محبت سے کہ اتنا بیتاب
کس کی تسکیں کے لیے گھر سے تو باہر نکلا
جیتے جی آہ ترے کوچے سے کوئی نہ پھرا
جو ستم دیدہ رہا جاکے سو مر کر نکلا
دل کی آبادی کی اس حد ہے خرابی کہ نہ پوچھ
جانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا
اشک تر قطرئہ خوں لخت جگر پارئہ دل
ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا
کنج کاوی جو کی سینے کی غم ہجراں نے
اس دفینے میں سے اقسام جواہر نکلا
ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر
پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا
میر تقی میر

کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا

دیوان اول غزل 45
کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دل زار تھا
کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا
دم صبح بزم خوش جہاں شب غم سے کم نہ تھی مہرباں
کہ چراغ تھا سو تو دود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا
دل خستہ لوہو جو ہو گیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک
کبھو سوز سینہ سے داغ تھا کبھو درد و غم سے فگار تھا
دل مضطرب سے گذر گئی شب وصل اپنی ہی فکر میں
نہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکیب تھا نہ قرار تھا
جو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہا
کہ وہیں وہ ناوک بے خطا کسو کے کلیجے کے پار تھا
یہ تمھاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خوں چکاں
وہی آفت دل عاشقاں کسو وقت ہم سے بھی یار تھا
نہیں تازہ دل کی شکستگی یہی درد تھا یہی خستگی
اسے جب سے ذوق شکار تھا اسے زخم سے سروکار تھا
کبھو جائے گی جو ادھر صبا تو یہ کہیو اس سے کہ بے وفا
مگر ایک میر شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا
میر تقی میر

ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا

دیوان اول غزل 44
گل و بلبل بہار میں دیکھا
ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا
جل گیا دل سفید ہیں آنکھیں
یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا
جیسا مضطر تھا زندگی میں دل
ووہیں میں نے قرار میں دیکھا
آبلے کا بھی ہونا دامن گیر
تیرے کوچے کے خار میں دیکھا
تیرہ عالم ہوا یہ روز سیاہ
اپنے دل کے غبار میں دیکھا
ذبح کر میں کہا تھا مرتا ہوں
دم نہیں مجھ شکار میں دیکھا
جن بلائوں کو میر سنتے تھے
ان کو اس روزگار میں دیکھا
میر تقی میر

جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا

دیوان اول غزل 43
دل سے شوق رخ نکو نہ گیا
جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا
ہر قدم پر تھی اس کی منزل لیک
سر سے سوداے جستجو نہ گیا
سب گئے ہوش و صبر و تاب و تواں
لیکن اے داغ دل سے تو نہ گیا
دل میں کتنے مسودے تھے ولے
ایک پیش اس کے روبرو نہ گیا
سبحہ گرداں ہی میر ہم تو رہے
دست کوتاہ تا سبو نہ گیا
میر تقی میر

خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا

دیوان اول غزل 42
گذرا بناے چرخ سے نالہ پگاہ کا
خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیں
مرتا ہوں میں تو ہائے رے صرفہ نگاہ کا
صد خانماں خراب ہیں ہر ہر قدم پہ دفن
کشتہ ہوں یار میں تو ترے گھر کی راہ کا
یک قطرہ خون ہوکے پلک سے ٹپک پڑا
قصہ یہ کچھ ہوا دل غفراں پناہ کا
تلوار مارنا تو تمھیں کھیل ہے ولے
جاتا رہے نہ جان کسو بے گناہ کا
بدنام و خوار و زار و نزار و شکستہ حال
احوال کچھ نہ پوچھیے اس رو سیاہ کا
ظالم زمیں سے لوٹتا دامن اٹھا کے چل
ہو گا کمیں میں ہاتھ کسو داد خواہ کا
اے تاج شہ نہ سر کو فرو لائوں تیرے پاس
ہے معتقد فقیر نمد کی کلاہ کا
ہر لخت دل میں صید کے پیکان بھی گئے
دیکھا میں شوخ ٹھاٹھ تری صید گاہ کا
بیمار تو نہ ہووے جیے جب تلک کہ میر
سونے نہ دے گا شور تری آہ آہ کا
میر تقی میر

خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا

دیوان اول غزل 41
دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا
خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا
آنکھیں کفک سے اس کی لگاکر خاک برابر ہم بھی ہوئے
مہندی کے رنگ ان پائوں نے تو بہتوں کو پامال کیا
یوں نکلے ہے فلک ایدھر سے نازکناں جو جاتے تو
خاک سے سبزہ میری اگاکر ان نے مجھ کو نہال کیا
آگے جواب سے ان لوگوں کے بارے معافی اپنی ہوئی
ہم بھی فقیر ہوئے تھے لیکن ہم نے ترک سوال کیا
حال نہیں ہے عشق سے مجھ میں کس سے میر ؔاب حال کہوں
آپھی چاہ کر اس ظالم کو یہ اپنا میں حال کیا
میر تقی میر

ہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا

دیوان اول غزل 40
سنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کا
ہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا
ہزار رنگ کھلے گل چمن کے ہیں شاہد
کہ روزگار کے سر خون ہے ہزاروں کا
ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاں
نکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا
عرق فشانی سے اس زلف کی ہراساں ہوں
بھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا بھی تاروں کا
علاج کرتے ہیں سوداے عشق کا میرے
خلل پذیر ہوا ہے دماغ یاروں کا
تری ہی زلف کو محشر میں ہم دکھا دیں گے
جو کوئی مانگے گا نامہ سیاہکاروں کا
خراش سینۂ عاشق بھی دل کو لگ جائے
عجب طرح کا ہے فرقہ یہ دل فگاروں کا
نگاہ مست کے مارے تری خراب ہیں شوخ
نہ ٹھور ہے نہ ٹھکانا ہے ہوشیاروں کا
کریں ہیں دعوی خوش چشمی آہوان دشت
ٹک ایک دیکھنے چل ملک ان گنواروں کا
تڑپ کے مرنے سے دل کے کہ مغفرت ہو اسے
جہاں میں کچھ تو رہا نام بے قراروں کا
تڑپ کے خرمن گل پر کبھی گر اے بجلی
جلانا کیا ہے مرے آشیاں کے خاروں کا
تمھیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرور
خدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہگاروں کا
اٹھے ہے گرد کی جا نالہ گور سے اس کی
غبار میر بھی عاشق ہے نے سواروں کا
میر تقی میر

راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا

دیوان اول غزل 39
گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا
راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا
ہم خستہ دل ہیں تجھ سے بھی نازک مزاج تر
تیوری چڑھائی تونے کہ یاں جی نکل گیا
گرمی عشق مانع نشوونما ہوئی
میں وہ نہال تھا کہ اگا اور جل گیا
مستی میں چھوڑ دیر کو کعبے چلا تھا میں
لغزش بڑی ہوئی تھی ولیکن سنبھل گیا
ساقی نشے میں تجھ سے لنڈھا شیشۂ شراب
چل اب کہ دخت تاک کا جوبن تو ڈھل گیا
ہر ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قرار
یاں کون سا ستم زدہ ماٹی میں رل گیا
عریاں تنی کی شوخی سے دیوانگی میں میر
مجنوں کے دشت خار کا داماں بھی چل گیا
میر تقی میر

جگر مرغ جان سے نکلا

دیوان اول غزل 38
تیر جو اس کمان سے نکلا
جگر مرغ جان سے نکلا
نکلی تھی تیغ بے دریغ اس کی
میں ہی اک امتحان سے نکلا
گو کٹے سر کہ سوز دل جوں شمع
اب تو میری زبان سے نکلا
آگے اے نالہ ہے خدا کا ناؤں
بس تو نُہ آسمان سے نکلا
چشم و دل سے جو نکلا ہجراں میں
نہ کبھو بحر و کان سے نکلا
مر گیا جو اسیر قید حیات
تنگناے جہان سے نکلا
دل سے مت جا کہ حیف اس کا وقت
جو کوئی اس مکان سے نکلا
اس کی شیریں لبی کی حسرت میں
شہد پانی ہو شان سے نکلا
نامرادی کی رسم میر سے ہے
طور یہ اس جوان سے نکلا
میر تقی میر

گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا

دیوان اول غزل 37
خوبی کا اس کی بسکہ طلبگار ہو گیا
گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا
کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدر
میں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا
میں نودمیدہ بال چمن زاد طیر تھا
پر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا
ٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کا
سینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا
ہے اس کے حرف زیرلبی کا سبھوں میں ذکر
کیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا
تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ
وہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا
کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کی
دلدار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا
آٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمھارے ساتھ
کچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا
کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میر
ناکردہ جرم میں تو گنہگار ہو گیا
میر تقی میر

جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا

دیوان اول غزل 36
ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتا
جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا
آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اے گل
آغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا
ناکامی صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ
اب جی سے گذر جانا کچھ کام نہیں رکھتا
ہو خشک تو بہتر ہے وہ ہاتھ بہاراں میں
مانند نئے نرگس جو جام نہیں رکھتا
بن اس کی ہم آغوشی بیتاب نہیں اب ہے
مدت سے بغل میں دل آرام نہیں رکھتا
میں داڑھی تری واعظ مسجد ہی میں منڈواتا
پر کیا کروں ساتھ اپنے حجام نہیں رکھتا
وہ مفلس ان آنکھوں سے کیونکر کے بسر آوے
جو اپنی گرہ میں اک بادام نہیں رکھتا
کیا بات کروں اس سے مل جائے جو وہ میں تو
اس ناکسی سے روے دشنام نہیں رکھتا
یوں تو رہ و رسم اس کو اس شہر میں سب سے ہے
اک میر ہی سے خط و پیغام نہیں رکھتا
میر تقی میر

خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا

دیوان اول غزل 35
مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمال راہ کا
خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا
سینکڑوں طرحیں نکالیں یار کے آنے کی لیک
عذر ہی جا ہے چلا اس کے دل ناخواہ کا
گر کوئی پیرمغاں مجھ کو کرے تو دیکھے پھر
میکدہ سارے کا سارا صرف ہے اللہ کا
کاش تیرے غم رسیدوں کو بلاویں حشر میں
ظلم ہے یک خلق پرآشوب ان کی آہ کا
جو سنا ہشیار اس میخانے میں تھا بے خبر
شوق ہی باقی رہا ہم کو دل آگاہ کا
باندھ مت رونے کا تار اے ناقباحت فہم چشم
اس سے پایا جائے ہے سر رشتہ جی کی چاہ کا
شیخ مت کر ذکر ہر ساعت قیامت کا کہ ہے
عرصۂ محشر نمونہ اس کی بازی گاہ کا
شہر میں کس منھ سے آوے سامنے تیرے کہ شوخ
جھائیوں سے بھر رہا ہے سارا چہرہ ماہ کا
سرفرو لاتی نہیں ہمت مری ہر اک کے پاس
ہوں گداے آستاں میں میر حضرت شاہ کا
میر تقی میر

قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا

دیوان اول غزل 34
کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا
قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا
بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر
جو ہماری خاک پر سے ہوکے گذرا رو گیا
کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں
کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہوکر جوگیا
مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں
ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا
میر ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ
جب سے وہ دریا پہ آکر بال اپنے دھو گیا
میر تقی میر

غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا

دیوان اول غزل 33
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا
غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں
کب درمیاں سے وعدئہ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا
بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو
جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا
زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا
لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر
کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میر
اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
میر تقی میر

اک مغبچہ اتار کے عمامہ لے گیا

دیوان اول غزل 32
مفت آبروے زاہد علامہ لے گیا
اک مغبچہ اتار کے عمامہ لے گیا
داغ فراق و حسرت وصل آرزوے شوق
میں ساتھ زیر خاک بھی ہنگامہ لے گیا
پہنچا نہ پہنچا آہ گیا سو گیا غریب
وہ مرغ نامہ بر جو مرا نامہ لے گیا
اس راہزن کے ڈھنگوں سے دیوے خدا پناہ
اک مرتبہ جو میر جی کا جامہ لے گیا
میر تقی میر

فرق نکلا بہت جو باس کیا

دیوان اول غزل 31
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے
قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے
ضعف نے ہم کو مور طاس کیا
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی
کیا پتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں
سو ترے ظلم نے نراس کیا
دیکھا ڈھہتا ہے جن نے خانہ بنا
زیر افلاک سست اساس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں
میر کو تم عبث اداس کیا
میر تقی میر

یا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا

دیوان اول غزل 30
کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا
یا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا
پائمال صد جفا ناحق نہ ہو اے عندلیب
سبزئہ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشنا
کون سے یہ بحرخوبی کی پریشاں زلف ہے
آتی ہے آنکھوں میں میری موج دریا آشنا
رونا ہی آتا ہے ہم کو دل ہوا جب سے جدا
جاے رونے ہی کی ہے جاوے جب ایسا آشنا
ناسمجھ ہے تو جو میری قدر نئیں کرتا کہ شوخ
کم بہت ملتا ہے پھر دلخواہ اتنا آشنا
بلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاشکے
یک مژہ رنگ فراری اس چمن کا آشنا
کو گل و لالہ کہاں سنبل سمن ہم نسترن
خاک سے یکساں ہوئے ہیں ہائے کیا کیا آشنا
کیا کروں کس سے کہوں اتنا ہی بیگانہ ہے یار
سارے عالم میں نہیں پاتے کسی کا آشنا
جس سے میں چاہی وساطت ان نے یہ مجھ سے کہا
ہم تو کہتے گر میاں ہم سے وہ ہوتا آشنا
یوں سنا جا ہے کہ کرتا ہے سفر کا عزم جزم
ساتھ اب بیگانہ وضعوں کے ہمارا آشنا
شعر صائبؔ کا مناسب ہے ہماری اور سے
سامنے اس کے پڑھے گر یہ کوئی جا آشنا
تابجاں ما ہمرہیم و تا بمنزل دیگراں
فرق باشد جان ما از آشنا تا آشنا
داغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میر
ہو نجات اس کو بچارا ہم سے بھی تھا آشنا
میر تقی میر

مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا

دیوان اول غزل 29
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا
مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو
جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم
صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں
جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخودرفتگی میں میر
گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
میر تقی میر

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

دیوان اول غزل 28
شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا
آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا
کثرت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی طپش
کوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا
لایا مرے مزار پہ اس کو یہ جذب عشق
جس بے وفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا
دیکھا ہے صید گہ میں ترے صید کا جگر
باآنکہ چھن رہا تھا پہ ذوق خدنگ تھا
دل سے مرے لگا نہ ترا دل ہزار حیف
یہ شیشہ ایک عمر سے مشتاق سنگ تھا
مت کر عجب جو میر ترے غم میں مر گیا
جینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا
میر تقی میر

جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا

دیوان اول غزل 27
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا
جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار
ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دل گیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا
کام ہے اک تیرے منھ پر کھینچنا شمشیر کا
رہگذر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر
اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے دردسر
کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم
قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے
تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک
مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے
فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا
عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں
رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میر کا
میر تقی میر

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

دیوان اول غزل 26
ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
قسم جو کھایئے تو طالع زلیخا کی
عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا
خراب رہتے تھے مسجد کے آگے میخانے
نگاہ مست نے ساقی کی انتقام لیا
وہ کج روش نہ ملا راستے میں مجھ سے کبھی
نہ سیدھی طرح سے ان نے مرا سلام لیا
مزا دکھا دیں گے بے رحمی کا تری صیاد
گر اضطراب اسیری نے زیر دام لیا
مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں
تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا
اگرچہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میر
پہ میرے شور نے روے زمیں تمام لیا
میر تقی میر

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

دیوان اول غزل 25
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید
خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے
جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو
یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی
ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا
اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے
وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو
احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو
سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر
طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے
ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو
اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے
ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا
سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے
اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بدزباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری
کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی
گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میر سے کیا کوئی نظر پڑا ہے
چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
میر تقی میر

اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا

دیوان اول غزل 24
مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا
اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا
اس گل زمیں سے اب تک اگتے ہیں سرو مائل
مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا
یکساں ہے قتل گہ اور اس کی گلی تو مجھ کو
واں خاک میں میں لوٹا یاں لوہو میں نہایا
پوجے سے اور پتھر ہوتے ہیں یہ صنم تو
اب کس طرح اطاعت ان کی کروں خدایا
تا چرخ نالہ پہنچا لیکن اثر نہ دیکھا
کرنے سے اب دعا کے میں ہاتھ ہی اٹھایا
تیرا ہی منھ تکے ہے کیا جانیے کہ نوخط
کیا باغ سبز تونے آئینے کو دکھایا
شادابی و لطافت ہرگز ہوئی نہ اس میں
تیری مسوں پہ گرچہ سبزے نے زہر کھایا
آخر کو مر گئے ہیں اس کی ہی جستجو میں
جی کے تئیں بھی کھویا لیکن اسے نہ پایا
لگتی نہیں ہے دارو ہیں سب طبیب حیراں
اک روگ میں بساہا جی کو کہاں لگایا
کہہ ہیچ اس کے منھ کو جی میں ڈرا یہاں تو
بارے وہ شوخ اپنی خاطر میں کچھ نہ لایا
ہونا تھا مجلس آرا گر غیر کا تجھے تو
مانند شمع مجھ کو کاہے کے تیں جلایا
تھی یہ کہاں کی یاری آئینہ رو کہ تونے
دیکھا جو میر کو تو بے ہیچ منھ بنایا
میر تقی میر

القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا

دیوان اول غزل 23
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے
افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہوکر زخم رسا سے اس کے
سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں
آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھوکے روتے
جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا
جس نے جہاں میں آکر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میر سے شب
واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
میر تقی میر

تا بہ روح الامیں شکار ہوا

دیوان اول غزل 22
سنیو جب وہ کبھو سوار ہوا
تا بہ روح الامیں شکار ہوا
اس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ
ہم نے جانا کہ ہم سے یار ہوا
نالہ ہم خاکساروں کا آخر
خاطر عرش کا غبار ہوا
جو نہ کہنا تھا سو بھی میں نے کہا
دل کی بے طاقتی سے خوار ہوا
پھر گیا ہے زمانہ کیا کہ مجھے
ہوتے خوار ایک روزگار ہوا
مر چلے بے قرار ہوکر ہم
اب تو تیرے تئیں قرار ہوا
وہ جو خنجر بکف نظر آیا
میر سو جان سے نثار ہوا
میر تقی میر

نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا

دیوان اول غزل 21
مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا
نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا
پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میری
میں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا
میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ
اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا
بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا تو
پرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا
استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میں
واں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا
وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہ
آنکھوں کو غزالوں کی پائوں تلے مل جاتا
بے تاب و تواں یوں میں کا ہے کو تلف ہوتا
یاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا
اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنی
وہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا
مارا گیا تب گذرا بوسے سے ترے لب کے
کیا میر بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا
میر تقی میر

برقع سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا

دیوان اول غزل 20
گل شرم سے بہ جائے گا گلشن میں ہوکر آب سا
برقع سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا
گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہے
دیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا
وہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیا
میں شوق کی افراط سے بیتاب ہوں سیماب سا
دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیں
اب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا
سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھا
اسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا
ہم سرکشی سے مدتوں مسجد سے بچ بچ کر چلے
اب سجدے ہی میں گذرے ہے قد جو ہوا محراب سا
تھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھو
اب دیدئہ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا
بہکے جو ہم مست آگئے سو بار مسجد سے اٹھا
واعظ کو مارے خوف کے کل لگ گیا جلاب سا
رکھ ہاتھ دل پر میر کے دریافت کر کیا حال ہے
رہتا ہے اکثر یہ جواں کچھ ان دنوں بیتاب سا
میر تقی میر

پتھر تلے کا ہاتھ ہی اپنا نکالتا

دیوان اول غزل 19
فرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتا
پتھر تلے کا ہاتھ ہی اپنا نکالتا
بگڑا اگر وہ شوخ تو سنیو کہ رہ گیا
خورشید اپنی تیغ و سپر ہی سنبھالتا
یہ سر تبھی سے گوے ہے میدان عشق کا
پھرتا تھا جن دنوں میں تو گیندیں اچھالتا
بن سر کے پھوڑے بنتی نہ تھی کوہکن کے تیں
خسرو سے سنگ سینہ کو کس طور ٹالتا
چھاتی سے ایک بار لگاتا جو وہ تو میر
برسوں یہ زخم سینے کا ہم کو نہ سالتا
میر تقی میر

گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا

دیوان اول غزل 18
آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا
اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ
جوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا
قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب
دروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا
پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبول
جو تیری صیدگاہ سے ٹک دور ہو گیا
دیکھا یہ ناونوش کہ نیش فراق سے
سینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا
اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہ
اب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا
شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ
میری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا
لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہوا
جب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا
دیکھا جو میں نے یار تو وہ میر ہی نہیں
تیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا
میر تقی میر

اپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا

دیوان اول غزل 17
جب جنوں سے ہمیں توسل تھا
اپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا
بسترا تھا چمن میں جوں بلبل
نالہ سرمایۂ توکل تھا
یک نگہ کو وفا نہ کی گویا
موسم گل صفیر بلبل تھا
ان نے پہچان کر ہمیں مارا
منھ نہ کرنا ادھر تجاہل تھا
شہر میں جو نظر پڑا اس کا
کشتۂ ناز یا تغافل تھا
اب تو دل کو نہ تاب ہے نہ قرار
یاد ایام جب تحمل تھا
جا پھنسا دام زلف میں آخر
دل نہایت ہی بے تامل تھا
یوں گئی قد کے خم ہوئے جیسے
عمر اک رہرو سر پل تھا
خوب دریافت جو کیا ہم نے
وقت خوش میر نکہت گل تھا
میر تقی میر

شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا

دیوان اول غزل 16
حال دل میر کا رو رو کے سب اے ماہ سنا
شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
نابلد ہو کے رہ عشق میں پہنچوں تو کہیں
ہمرہ خضر کو یاں کہتے ہیں گمراہ سنا
کوئی ان طوروں سے گذرے ہے ترے غم میں مری
گاہ تونے نہ سنا حال مرا گاہ سنا
خواب غفلت میں ہیں یاں سب تو عبث جاگا میر
بے خبر دیکھا انھیں میں جنھیں آگاہ سنا
میر تقی میر

آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا

دیوان اول غزل 15
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ
ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ
ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں
بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب
جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی
کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوئوں کے نور آنکھوں کا گیا
بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے
دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میر
دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
میر تقی میر

جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا

دیوان اول غزل 14
بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا
جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
پودا ستم کا جس نے اس باغ میں لگایا
اپنے کیے کا ان نے ثمرہ شتاب دیکھا
دل کا نہیں ٹھکانا بابت جگر کی گم ہے
تیرے بلاکشوں کا ہم نے حساب دیکھا
آباد جس میں تجھ کو دیکھا تھا ایک مدت
اس دل کی مملکت کو اب ہم خراب دیکھا
یوں خاک میں ملا یاں اس بن کہ کچھ نہ پوچھو
اس ظلم دیدہ دل کا ہم اضطراب دیکھا
واعظ زبون مت کہہ میخانے کو کہ اس جا
پیراہن نکویاں رہن شراب دیکھا
لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو
ہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
میر تقی میر

سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا

دیوان اول غزل 13
وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہو گیا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
الجھائو پڑ گیا جو ہمیں اس کے عشق میں
دل سا عزیز جان کا جنجال ہو گیا
کیا امتداد مدت ہجراں بیاں کروں
ساعت ہوئی قیامت و مہ سال ہو گیا
دعویٰ کیا تھا گل نے ترے رخ سے باغ میں
سیلی لگی صبا کی سو منھ لال ہو گیا
قامت خمیدہ رنگ شکستہ بدن نزار
تیرا تو میر غم میں عجب حال ہو گیا
میر تقی میر

حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

دیوان اول غزل 12
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک
شیخ میخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب
ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
بحر کم ظرف ہے بسان حباب
کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا
آج دامن وسیع ہے اس کا
تاب کس کو جو حال میر سنے
حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا
میر تقی میر

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

دیوان اول غزل 11
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا
چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو
آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے
مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو
ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جاکر
تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
میر تقی میر

ہم خاک کے آسودوں کو آرام نہ آیا

دیوان اول غزل 10
تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا
ہم خاک کے آسودوں کو آرام نہ آیا
بے ہوش مئے عشق ہوں کیا میرا بھروسا
آیا جو بخود صبح تو میں شام نہ آیا
کس دل سے ترا تیر نگہ پار نہ گذرا
کس جان کو یہ مرگ کا پیغام نہ آیا
دیکھا نہ اسے دور سے بھی منتظروں نے
وہ رشک مہ عید لب بام نہ آیا
سو بار بیاباں میں گیا محمل لیلیٰ
مجنوں کی طرف ناقہ کوئی گام نہ آیا
اب کے جو ترے کوچے سے جائوں گا تو سنیو
پھر جیتے جی اس راہ وہ بدنام نہ آیا
نے خون ہو آنکھوں سے بہا ٹک نہ ہوا داغ
اپنا تو یہ دل میر کسو کام نہ آیا
میر تقی میر

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

دیوان اول غزل 9
دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا
وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
وعدہ تو کیا اس سے دم صبح کا لیکن
اس دم تئیں مجھ میں بھی اگر جان رہے گا
منعم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا
پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہے گا
چھوٹوں کہیں ایذا سے لگا ایک ہی جلاد
تاحشر مرے سر پہ یہ احسان رہے گا
چمٹے رہیں گے دشت محبت میں سر و تیغ
محشر تئیں خالی نہ یہ میدان رہے گا
جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز
تاحشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا
دل دینے کی ایسی حرکت ان نے نہیں کی
جب تک جیے گا میر پشیمان رہے گا
میر تقی میر

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

دیوان اول غزل 8
چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
فلک نے آہ تری رہ میں ہم کو پیدا کر
برنگ سبزئہ نورستہ پائمال کیا
رہی تھی دم کی کشاکش گلے میں کچھ باقی
سو اس کی تیغ نے جھگڑا ہی انفصال کیا
مری اب آنکھیں نہیں کھلتیں ضعف سے ہمدم
نہ کہہ کہ نیند میں ہے تو یہ کیا خیال کیا
بہار رفتہ پھر آئی ترے تماشے کو
چمن کو یمن قدم نے ترے نہال کیا
جواب نامہ سیاہی کا اپنی ہے وہ زلف
کسو نے حشر کو ہم سے اگر سوال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تونے
جو کچھ کہ میر کا اس عاشقی نے حال کیا
میر تقی میر

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

دیوان اول غزل 7
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
عہد جوانی رو رو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا
حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا
سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں
جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
کاش اب برقع منھ سے اٹھا دے ورنہ پھر کیا حاصل ہے
آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا
یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا
صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی
رخ سے گل کو مول لیا قامت سے سرو غلام کیا
ساعد سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لاکر چھوڑ دیے
بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیال خام کیا
کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے
استغنا کی چوگنی ان نے جوں جوں میں ابرام کیا
ایسے آہوے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
میر تقی میر

کہ ہمسائگاں پر ترحم کیا

دیوان اول غزل 6
شب ہجر میں کم تظلم کیا
کہ ہمسائگاں پر ترحم کیا
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
زمانے نے مجھ جرعہ کش کو ندان
کیا خاک و خشت سر خم کیا
جگر ہی میں یک قطرہ خوں ہے سرشک
پلک تک گیا تو تلاطم کیا
کسو وقت پاتے نہیں گھر اسے
بہت میر نے آپ کو گم کیا
میر تقی میر

چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا

دیوان اول غزل 5
اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدئہ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا مرگ کے تئیں
کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے دل سے ہم نشیں
معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل
اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میر پر
کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
میر تقی میر

دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا

دیوان اول غزل 4
جامۂ مستی عشق اپنا مگر کم گھیر تھا
دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا
دیر میں کعبے گیا میں خانقہ سے اب کی بار
راہ سے میخانے کی اس راہ میں کچھ پھیر تھا
بلبلوں نے کیا گل افشاں میر کا مرقد کیا
دور سے آیا نظر تو پھولوں کا اک ڈھیر تھا
میر تقی میر

یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

دیوان اول غزل 3
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
لطف اگر یہ ہے بتاں صندل پیشانی کا
حسن کیا صبح کے پھر چہرئہ نورانی کا
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے
حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
درہمی حال کی ہے سارے مرے دیواں میں
سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا
جان گھبراتی ہے اندوہ سے تن میں کیا کیا
تنگ احوال ہے اس یوسف زندانی کا
کھیل لڑکوں کا سمجھتے تھے محبت کے تئیں
ہے بڑا حیف ہمیں اپنی بھی نادانی کا
وہ بھی جانے کہ لہو رو کے لکھا ہے مکتوب
ہم نے سر نامہ کیا کاغذ افشانی کا
اس کا منھ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں
نقش کا سا ہے سماں میری بھی حیرانی کا
بت پرستی کو تو اسلام نہیں کہتے ہیں
معتقد کون ہے میر ایسی مسلمانی کا
میر تقی میر

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

دیوان اول غزل 2
کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا
جانا نہیں کچھ جز غزل آکر کے جہاں میں
کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا
جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرنگیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے
کل تک تو یہی میر خرابات نشیں تھا
میر تقی میر

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

دیوان اول غزل 1
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شورنشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پر توے بغیر
کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا
اس رند کی بھی رات گذر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پائوں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنے قصور تھا
میر تقی میر

عمر گریزاں کے نام

عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میں

اس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے

واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کا

داستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے

خواب ادھورے ہیں جو دُہراتا ہوں ان خوابوں کو

زخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے

اس سے کہتا ہوں تمنّا کے لب و لہجے میں

اے مری جان مری لیلیٰ تابندہ جبیں

سنتا ہوں تو ہے پری پیکر و فرخندہ جمال

سنتا ہوں تو ہے مہ و مہر سے بھی بڑھ کے حسیں

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں کہ ابھی تک میں نے

جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں

صبح اُٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں

اور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں

شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چراگاہوں سے جب

شب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی

خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں

اور کرتا رہا اپنے لیے ہموار زمیں

آج لیتا ہوں جواں سوختہ راتوں کا حساب

جن کو چھوڑ آیا ہوں ماضی کے دھندلکے میں کہیں

صرف نقصان نظر آتا ہے اس سودے میں

قطرہ قطرہ جو کریں جمع تو دریا بن جائے

ذرّہ ذرّہ جو بہم کرتا تو صحرا ہوتا

اپنی نادانی سے انجام سے غافل ہو کر

میں نے دن رات کیے جمع خسارہ بیٹھا

جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں

اے مری جان مری لیلیٰ تابندہ جبیں

یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی

خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں!

اختر الایمان

اعتراف

چند لمحے جو ترے ساتھ گزارے میں نے

ان کی یاد ان کا تصور ابھی رخشندہ نہیں

تو ابھی چھائی نہیں مجھ پر، مری دنیا پر

خود ترا حسن مرے ذہن میں تابندہ نہیں

کیا خبر کل مجھے یکسر ہی بدل ڈالے تو

یوں ترا حسن، مرا شوق بھی پایندہ نہیں

دیکھ میں ہوش میں ہوں اے غم گیتی کے شعور

تیرے ملنے کی تمنّا لیے آنکھوں میں کہاں

اپنے ظلمت کدے اے جان، سنوارے میں نے

غم چشیدہ مرے جذبات میں جذبہ پنہاں

اب کہاں پہلے گزاریں کئی راتیں میں نے

جن میں افسانے کہے چاند سے افسانے سنے

اب کہاں، پہلے برس گزرے، کسی مہوش کی

چاہ میں کتنے ہی ہنگام سحر گیت بنے

اب مگر تاب کہاں مجھ میں یہ انگور کی بیل

خون چاہے گی رگ و پے میں سما جائے گی

اختر الایمان

پس منظر

کس کی یاد چمک اٹھی ہے، دھندلے خاکے ہوئے اُجاگر

یوں ہی چند پرانی قبریں کھود رہا ہوں تنہا بیٹھا

کہیں کسی کا ماس نہ ہڈی، کہیں کسی کا رُوپ نہ چھایا

کچھ کتبوں پر دھندلے دھندلے نام کھدے ہیں میں جیون بھر

ان کتبوں، ان قبروں ہی کو اپنے من کا بھید بنا کر

مستقبل اور حال کو چھوڑے، دُکھ سکھ سب میں لیے پھرا ہوں!

ماضی کی گھنگھور گھٹا میں چپکا بیٹھا سوچ رہا ہوں

کس کی یاد چمک اُٹھی ہے دھندلے خاکے ہوئے اُجاگر؟

بیٹھا قبریں کھود رہا ہوں، ہوک سی بن کر ایک اِک مورت

درد سا بن کر ایک اِک سایا، جاگ رہے ہیں، دور کہیں سے

آوازیں سی کچھ آتی ہیں، گزرے تھے اِک بار یہیں سے

اختر الایمان

پرانی فصیل

مری تنہائیاں مانوس ہیں تاریک راتوں سے

مرے رخنوں میں ہے اُلجھا ہوا اوقات کا دامن

مرے سائے میں حال و ماضی رُک کر سانس لیتے ہیں

زمانہ جب گزرتا ہے بدل لیتا ہے پیراہن

یہاں سرگوشیاں کرتی ہے ویرانی سے ویرانی

فسردہ شمع امید و تمنّا لو نہیں دیتی

یہاں کی تیرہ بختی پر کوئی رونے نہیں آتا

یہاں جو چیز ہے ساکن، کوئی کروٹ نہیں لیتی

یہاں اسرار ہیں، سرگوشیاں ہیں، بے نیازی ہے

یہاں مفلوج تر ہیں تیز تر بازو ہواؤں کے

یہاں بھٹکی ہوئی روحیں کبھی سر جوڑ لیتی ہیں

یہاں پر دفن ہیں گزری ہوئی تہذیب کے نقشے

اختر الایمان

لغزش

جب حنائی انگلیوں کی جنبشیں آتی ہیں یاد

جذب کر لیتا ہوں آنکھوں میں لہو کی بوند سی

اب مگر ماضی کی ہر شئے پر اندھیرا چھا گیا

اور ہی راہوں سے گزری جا رہی ہے زندگی

ذہن میں ابھرے ہوئے ہیں چند بے جاں سے نقوش

اور ان میں بھی نہیں ہے کوئی ربط باہمی

یہ بھیانک خواب کیوں مغلوب کرتے ہیں مجھے

دودھیا راتیں سحر کے جھٹپٹے میں کھو گئیں

اور تیری نرم بانہیں، مجھ سے اب ناآشنا

اور ہی گردن کے حلقے میں لپٹ کر سو گئیں

مسکرا اٹھتا ہوں اپنی سادگی پر میں کبھی

کس قدر تیزی سے یہ باتیں پرائی ہو گئیں!

اختر الایمان

چیخو

اتنا چلاّو کہ اِک شور سے بھر جائے فضا

گونج الفاظ کی کانوں میں دھُواں سا بن جائے

ایک دھنی روئی سی بن جائیں عقائد سارے

فلسفے، مذہب و اخلاق، سیاست، سارے

ایسے گتھ جائیں ہر اِک اپنی حقیقت کھو دے

ایسا اِک شور بپا کر دو کوئی بات بھی واضح نہ رہے

ذرہ جب ٹوٹا تھا تخلیق زمیں سے پہلے

ابتری پھیلی تھی، واضح نہ تھی کچھ بھی، ہر شے

اِک دھنی روئی کی مانند اُڑی پھرتی تھی

خود کو کم مایہ نہ سمجھو اٹھو توڑو یہ سکوت

پھر نئے دور کا آغاز ہو تاریکی سے!

اختر الایمان

اتفاق

دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو

شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر

کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں

کسی اِک ایسی جگہ سے ہو یوں ہی میرا گزر

جہاں ہجوم گریزاں میں تم نظر آ جاؤ

اور ایک ایک کو حیرت سے دیکھتا رہ جائے!

اختر الایمان

درد کی حد سے پرے

درد کی حد سے پرے کوئی نہیں جا سکتا

درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں

ایک سنّاٹا ہے، احساس کی ادراک کی موت

یہ کرہ، گھومتی پھرتی یہ ستم کوش زمیں

خاک اور آب کا اِک گولا ہے بے رونق سا

آؤ چھپ جائیں، چلو موت کے ڈر سے بھاگیں

تم مری بانہوں میں، میں زلفوں میں چھپ جاؤں یہیں

اور اس درد کا اظہار کریں

زندگی جس سے عبارت ہے تمام

درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں

گرمی ءِ عشق، یہ بوسوں کی حرارت، یہ سگندھ

جو پسینہ میں ہے یہ جھرجھری جو تم نے ابھی

سینہ کو چھونے سے لی، سب یہ سمو لینے کی بھوک

جسم کے ٹوٹنے اِک نشہ میں گھل جانے کا رس

رنگ میں، نغموں میں اور لمس میں ڈھلنے کی ہوس

سال، صدیاں یہ قرن، ماہ، یہ لمحے، یہ نفس

کیف، بہجت، خوشی، تسکین، مسرت سب کچھ

سب یہ اس واسطے ہے درد ہے ساتھی ہر وقت

درد پیمانہ ہے ہر چیز کا اس دنیا میں

زیست اِک واہمہ ہے ذات کے ہونے کا گماں

درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جس کا نشاں

درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں

ایک سنّاٹا ہے احساس کی ادراک کی موت

درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جان کہیں

درد کی حد سے پرے کوئی گیا بھی تو نہیں!

اختر الایمان

ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر

کون سا اسٹیشن ہے؟

’ڈاسنہ ہے صاحب جی

آپ کو اُترنا ہے؟‘

’جی نہیں، نہیں ‘ لیکن

ڈاسنہ تو تھا ہی وہ

میرے ساتھ قیصر تھی

یہ بڑی بڑی آنکھیں

اِک تلاش میں کھوئی

رات بھر نہیں سوئی

جب میں اس کو پہنچانے

اس اُجاڑ بستی میں

ساتھ لے کے آیا تھا

میں نے ان سے پھر پوچھا

آپ مستقل شاید

ڈاسنہ میں رہتے ہیں؟

’’جی، یہاں پہ کچھ میری

سوت کی دُکانیں ہیں

کچھ طعام خانے ہیں‘‘

میں سنا کیا بیٹھا

بولتا رہا وہ شخص

’’کچھ زمین داری ہے

میرے باپ دادا نے

کچھ مکان چھوڑے تھے

ان کو بیچ کر میں نے

کاروبار کھولا ہے

اس حقیر بستی میں

کون آ کے رہتا تھا

لیکن اب یہی بستی

بمبئی ہے دلّی ہے

قیمتیں زمینوں کی

اتنی بڑھ گئی صاحب

’’جیسے خواب کی باتیں‘‘

اِک زمین ہی کیا ہے

کھانے پینے کی چیزیں

عام جینے کی چیزیں

بھاؤ دس گنے ہیں اب

بولتا رہا وہ شخص

’’اس قدر گرانی ہے

آگ لگ گئی جیسے

آسمان حد ہے بس‘‘

میں نے چونک کر پوچھا

آسماں محل تھا اِک

سیدوں کی بستی میں

’’آسماں ہی ہیں صاحب

اب محل کہاں ہو گا؟

ہنس پڑا یہ کہہ کر وہ

میرے ذہن میں اس کی

بات پے بہ پے گونجی

’’اب محل کہاں ہو گا‘‘

اس دیار میں شاید

قیصر اب نہیں رہتی

وہ بڑی بڑی آنکھیں

اب نہ دیکھ پاؤں گا

ملک کا یہ بٹوارا

لے گیا کہاں اس کو

ڈیوڑھی کا سنّاٹا

اور ہماری سرگوشی

مجھ سے کتنے چھوٹے ہو‘‘

میں نے کچھ کہا تھا پھر

اس نے کچھ کہا تھا پھر

ہے رقم کہاں وہ سب

درد کی گراں جانی

میری شعلہ افشانی

اس کی جلوہ سامانی

ہے رقم کہاں وہ اب

کرب زیست سب میرا

گفتگو کا ڈھب میرا

اس کا ہاتھ ہاتھوں میں

لے کے جب میں کہتا تھا

اب چھڑاؤ تو جانوں

رسم بے وفائی کو

آج معتبر مانوں

اس کو لے کے با ہوں میں

جھک کے اس کے چہرے پر

بھینچ کر کہا تھا یہ

بولو کیسے نکلو گی

میری دسترس سے تم

میرے اس قفس سے تم

بھورے بادلوں کا دل

دور اُڑتا جاتا ہے

پیڑ پر کہیں بیٹھا

اِک پرند گاتا ہے

’چل چل‘ اِک گلہری کی

کان میں کھٹکتی ہے

ریل چلنے لگتی ہے

راہ کے درختوں کی

چھاؤں ڈھلنے لگتی ہے

’مجھ سے کتنے چھوٹے ہو‘

اور مری گراں گوشی

ڈیوڑھی کا سنّاٹا

اور ہماری سرگوشی

ہے رقم کہاں وہ سب؟

دور اس پرندے نے

اپنا گیت دُہرایا

’آج ہم نے اپنا دل

خوں کیا ہوا دیکھا

گم کیا ہوا پایا‘‘

اختر الایمان

نشاۃ ثانیہ

موسموں کے بدلنے کا منظر تو پیچھے کہیں رہ گیا

کھیت کی مینڈ پر چھاؤں میں شیشموں کی

بھرے کنڈ میں!

جامنوں کے گھنے جھنڈ میں!

کوئلوں اور پپیہوں کی آواز کے شور میں

اُمڈے جذبات کے زور میں

وقت یوں بہہ گیا جیسے آنسو کا قطرہ تھا بے مایہ سا

قہقہہ تھا جو پھولوں کی خوشبو میں گھل مل گیا

کتنے کردار ہیں سامنے

ہنستے روتے ہوئے

زندگی کی کشاکش میں اُلجھے ہوئے

عشق کرتے ہوئے آہیں بھرتے ہوئے

جان راحت پہ ہر آن مرتے ہوئے

بے خبر ساری دنیا سے اِک دوسرے کو سنبھالے ہوئے

ہاتھوں کو چومتے بوسے آنکھوں کو دیتے ہوئے

بہتے جاتے ہیں موج رواں کی طرح

ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے

ایک دیکھی ہوئی فلم کا ایسا منظر ہے یہ

جس کے کردار اب گویا افسانہ ہیں

فلم بوسیدہ اتنی ہے چلتے ہوئے ٹوٹ جاتی ہے پھر جوڑتا ہوں اسے

جوڑ کر پھر چلاتا ہوں خوش ہوتا ہوں

گاہے روتا ہوں میں

اِک بہت خوب صورت سی رنگین تصویر ہے

کتنے لمحات میرے بھی اس فلم میں بند ہیں

وہ جو دھندلا سا چہرہ نظر آ رہا تھا تمھیں

پیڑ کی آڑ میں

وہ، جہاں سادہ کپڑوں میں

اِک مہ جبیں ہنس رہی ہے کھڑی

اس کے بائیں طرف میں ہوں وہ!

اتنی دلکش کہانی ہے جی چاہتا ہے کہ پھر سے بنا لوں

ہر وہ چہرے جو اس فلم کی جان ہیں

وہ کہاں ہیں؟

انہیں کس طرح؟

کیسے لاؤں گا میں؟

اختر الایمان

کہاں تک

ہر نئی راہ سے میں پوچھتا ہوں

اے مری صبح سفر شام حیات

تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟

کیا ٹھہر جائے گی اِک موڑ پہ کچھ گام کے بعد

اور میں شام و سحر، جیسے ہیں گردش میں یوں ہی

سرگرانی بھی رہی چلتا رہوں گا پھر بھی

اے مری راہ نجات و ظلمات

تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟

عظمت صبح اندھیروں نے نگل لی ہے مگر

قصر امید میں پھیلا ہے اُجالا پھر بھی

چاند گہنا گیا افکار کا، حالات زبوں، دہر ملول

گرد اس کے ہے مگر نور کا ہالہ پھر بھی

کون سے موڑ پہ چھوڑے گی مجھے کچھ تو بتا

اے مری گرمی ءِ جذبات کہاں تک جاؤں

میں ترے ساتھ کہاں تک جاؤں

تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟

اختر الایمان

باز آمد

۔۔۔ ایک مونتاج

تتلیاں ناچتی ہیں

پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہے

جیسے اک بات ہے جو

کان میں کہنی ہے، خاموشی سے

اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!

دھُوپ میں تیزی نہیں

ایسے آتا ہے ہر اِک جھونکا ہَوا کا جیسے

دست شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کا

اور مرے شانوں کو اس طرح ہلا جاتا ہے

جیسے میں نیند میں ہوں

عورتیں چرخے لئے بیٹھی ہیں

کچھ کپاس اوٹتی ہیں

کچھ سلائی کے کسی کام میں مصروف ہیں یوں

جیسے یہ کام ہے دراصل ہر اِک شے کی اساس

ایک سے ایک چہل کرتی ہے

کوئی کہتی ہے مری چوڑیاں کھنکیں تو کھنکاری مری ساس

کوئی کہتی ہے بھری چاندنی آتی نہیں راس

رات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر

بات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر

لذت وصل ہے آزار کوئی کہتی ہے

میں تو بن جاتی ہوں بیمار کوئی کہتی ہے

میں بھی گھس آتا ہوں اس شیش محل میں دیکھو

سب ہنسی روک کے کہتی ہیں نکالو اس کو

اِک پرندہ کسی اِک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیں

ایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانب

پوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسے

اِک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئی

آمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچے

گوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہے

نازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میں

اور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلے

کوئلیں کو کتی ہیں

جامنیں پکی ہیں آموں پہ بہار آئی ہے

ارغنوں بجتا ہے یکجائی کا

نیم کے پیڑوں میں، جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھر

سانولی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سو

اور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساری

میں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوں

ایک ہی کم ہے وہی چہرہ نہیں

آخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کر

کیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟

کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ نام

لو یہ سپنے میں ہیں، اِک کہتی ہے

باؤلی سپنا نہیں شہر سے آئے ہیں ابھی

دوسری ٹوکتی ہے

بات سے بات نکل چلتی ہے

ٹھاٹھ کی آئی تھی بارات چمیلی نے کہا

بینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولی

اور دُلہن پہ ہوا کتنا بکھیر

کچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرف

اتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی کہ نہیں

جس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟

کیوں نہیں بہتی چمیلی نے کہا

اور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟

وہ بھی قائم ہے ابھی تک یوں ہی

وعدہ کر کے جو حبیبہ نہیں آتی تھی کبھی

آنکھیں دھوتا تھا ندی میں جا کر

اور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا

ماہ و سال آ کے چلے جاتے ہیں

فصل پک جاتی ہے کٹ جاتی ہے

کوئی روتا نہیں اس موقع پر

حلقہ در حلقہ نہ آہن کو تپا کر ڈھالیں

کوئی زنجیر نہ ہو!

زیست در زیست کا یہ سلسلہ باقی نہ رہے!

بھیڑ ہے بچوں کی چھوٹی سی گلی میں دیکھو

ایک نے گیند جو پھینکی تو لگی آ کے مجھے

میں نے جا پکڑا اسے، دیکھی ہوئی صورت تھی

کس کا ہے میں نے کسی سے پوچھا

یہ حبیبہ کا ہے، رمضانی قصائی بولا

بھولی صورت پہ ہنسی آ گئی اس کی مجھ کو

وہ بھی ہنسنے لگا، ہم دونوں یوں ہی ہنستے رہے

دیر تک ہنستے رہے

تتلیاں ناچتی ہیں

پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں

جیسے اِک بات ہے جو

کان میں کہنی ہے خاموشی سے

اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!

اختر الایمان

اذیت پرست

میں بظاہر جو بہت سادہ ہوں بے حس نظر آتا ہوں تمھیں

ایسا دریا ہوں جہاں سطح کے نیچے چپ چاپ

موجیں شوریدہ ہیں، طوفان اٹھا کرتے ہیں

ٹھہرا پانی ہوں، مگر اس میں بھنور پڑتے ہیں

زخم سب اپنے چھپائے ہیں، ہنسی کے پیچھے

صرف اس واسطے شانوں پہ ردائے تہذیب

ڈالے رہتا ہوں کہ حیواں نہ کہے کوئی مجھے

وہ ثقافت جسے کہتے ہیں، اثاثہ، ورنہ

سالہا سال کی محنت ہے جو انسانوں کی

میرے اِک فعل سے غارت نہ کہیں ہو جائے

ورنہ تم سامنے آتی ہو تو سر سے پا تک

دوڑ جاتی ہے کبھی آگ سی تیزاب سا اک شعلہ سا

تم کو معلوم ہے اس دور میں میرے دن رات

صرف اس واسطے با معنی ہیں تم سامنے ہو

تم کو معلوم ہے یہ گردش ایام مجھے

کیوں بھلی لگتی ہے، کیوں دیکھ کے تم کو آنکھیں

مسکرا اٹھتی ہیں، میں شاد نظر آتا ہوں

میں جو اس پھیلی ہوئی دنیا میں یوں جیتا تھا

جیسے یہ بستی نہیں، شہر ہے اک لاشوں کا

جس میں انسان نہیں مردے ہیں کفن پہنے ہوئے

اور ان مردوں میں لب سوختہ، میں بھی ہوں کہیں

تم نے احساس دلایا نہیں، میں لاش نہیں

اپنی گفتار کی گرمی سے حرارت بخشی

منجمد خون کو دوڑا دیا شریانوں میں

کھینچ لائیں مجھے، تنہائی کی دنیا سے یہاں

میں الف لیلیٰ کا کردار نہیں ہوں کوئی

تم بھی افسانوی محبوبہ نہیں اور نہ تھیں

پھر روایاتی ستم کیوں کیا تم نے مجھ پر؟

خود ہی وارفتہ ہوئیں، کھینچ گئیں خود ہی ایسے

جیسے میں واقعی اِک لاش ہوں چلتی پھرتی

اب تمھیں دیکھ کے میں دل سے دعا کرتا ہوں

لاش بن جاؤں میں، سچ مچ ہی، یہ بیگانہ روی

یہ نیا طرزِ وفا، تم نے جو سیکھا ہے ابھی

کچے شیشے کی طرح ٹوٹ کے ریزہ ہو جائے

اور تم مجھ سے ہر اک خوف کو ٹھکراتے ہوئے

چیخ کر ایسے لپٹ جاؤ، کلیجہ پھٹ جائے!

اختر الایمان

بنتِ لمحات

تمھارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے

اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ

غنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پر

دیار درد میں آمد کہو مسیحا کی

رواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سو

خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی

یہ ایک کہرہ سا، یہ دھند سی جو چھائی ہے

اس التہاب میں، اس سرمگیں اُجالے میں

سوا تمھارے مجھے کچھ نظر نہیں آتا

حیات نام ہے یادوں کا، تلخ اور شیریں

بھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہے

شفق کو قید میں رکھا، صبا کو بند کیا

ہر ایک لمحہ گریزاں ہے جیسے دشمن ہے

نہ تم ملو گی نہ میں، ہم بھی دونوں لمحے ہیں

وہ لمحے جا کے جو واپس کبھی نہیں آتے!

اختر الایمان

بلاوا

نگر نگر کے دیس دیس کے پربت، ٹیلے اور بیاباں

ڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو، کھیل رہے ہیں میرے ارماں

میرے سپنے، میرے آنسو، ان کی چھلنی چھاؤں میں جیسے

دھول میں بیٹھے کھیل رہے ہوں بالک باپ سے روٹھے روٹھے

دن کے اُجالے، سانجھ کی لالی، رات کے اندھیارے سے کوئی

مجھ کو آوازیں دیتا ہے، آؤ، آؤ، آؤ، آؤ

میری روح کی جوالا مجھ کو پھونک رہی ہے دھیرے دھیرے

میری آگ بھڑک اُٹھی ہے، کوئی بجھاؤ، کوئی بجھاؤ

میں بھٹکا بھٹکا پھرتا ہوں کھوج میں تیری جس نے مجھ کو

کتنی بار پکارا لیکن ڈھونڈ نہ پایا اب تک تجھ کو

میرے سنگی میرے ساتھی تیرے کارن چھوٹ گئے ہیں

تیرے کارن جگ سے میرے کتنے ناتے ٹوٹ گئے ہیں

میں ہوں ایسا پات ہوا میں پیڑ سے جو ٹوٹے اور سوچے

دھرتی میری گور ہے یا گھر، یہ نیلا آکاش جو سرپر

پھیلا پھیلا ہے اور اس کے سورج چاند ستارے مل کر

میرا دیپ جلا بھی دیں گے، یا سب کے سب رُوپ دکھا کر

ایک اِک کر کے کھو جائیں گے، جیسے میرے آنسو اکثر

پلکوں پر تھرتھرا کر تاریکی میں کھو جاتے ہیں

جیسے بالک مانگ مانگ کر نئے کھلونے سو جاتے ہیں!

اختر الایمان

شام ہوتی ہے

شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں

جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا

راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر

جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا

اشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے

جو کبھی خونِ جگر بن کے مژہ پر آیا

آج بے واسطہ یوں گزرا چلا جاتا ہے

جیسے میں کشمکش زیست میں شامل ہی نہیں!

اختر الایمان

کوزہ گر

کہیں قومیت ہے کہیں ملک و ملّت کی زنجیر ہے

کہیں مذہبیت، کہیں حریت، ہر قدم پر عناں گیر ہے

اگر میں یہ پردہ ہٹا دوں جسے لفظ ماضی سے تعبیر کرتے رہے ہیں

اگر میں حدود زماں و مکاں سب مٹا دوں

اگر میں یہ دیواریں جتنی کھڑی ہیں گرا دوں

تو ہر قید اُٹھ جائے، یہ زندگی جو قفس ہے

یوں ہی دیکھتے دیکھتے تیلیاں سب بکھیر جائیں اس کی

اور انسان اپنے صحیح رُوپ میں ہر جگہ دے دکھائی

کسی غار کے منہ پہ بیٹھا، کسی سخت اُلجھن میں غلطاں

کہیں شعلہ دریافت کر نے کی خواہش میں پیچاں

کہیں زندگی کو نظام و تسلسل میں لانے کا خواہاں

جہاں کو حسیں دیکھنے کی تمنّا میں کوشاں

زمیں دور تک ایسے پھیلی ہوئی ہے

کشادہ کوئی خوانِ نعمت ہے جیسے

جہاں کوئی پہرہ نہیں کوئی تخصیص و تفریق انساں

یہ سب کی ہے سب کے لیے ہے یہاں سب ہیں مدعو!

میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو بانیِ شر ہے

جو رشیوں، رسولوں کی محنت کو برباد کرتا رہا ہے

میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو ہر دور میں بے محابا

نئے بھیس میں سامری بن کے آتا ہے اور موہتا ہے دلوں کو

اسے ڈھونڈتا ہوں میں جس نے ہر اِک خوان نعمت یہ پہرے لگائے

زمیں کو زمیں سے الگ کر دیا سیکڑوں نام دے کر

اجارہ کی بنیاد ڈالی، کیا جاری پروانہ ءِ راہ داری

بجائے حسیں اعلیٰ قدروں کے تاسیس عالم

رکھی مصلحت پر، مفادات پر، خود پرستی پہ ساری

اور انسان کو خام اشیا میں تبدیل کر کے

بہت پہلے اس سے کہ انسان انسان بنتا

اسے ایک شطرنج کا چوبی مہرہ بنا کر

مقابل کھڑا کر دیا ایک کو دوسرے کے

کہاں ہے وہ قوت وہ ہستی جو یوں عصر کی روح بن کر

فضاؤں کو مسموم کرتی ہے لاشوں سے بھر دیتی ہے خندقوں کو

میں للکارتا ہوں اسے وہ اگر اتنا ہی جادو گر ہے

تو سورج کو مشرق کے بدلے نکالے کبھی آ کے مغرب سے اِک لمحہ بھر کو

ہواؤں کی تاثیر بدلے پہاڑوں کو لاوے میں تبدیل کر دے

سمندر سکھا دے، ہر اِک جلتے صحرا کو زرخیز میداں بنا دے

اصول مشیت بدل دے، زمین آسمانوں کے سب سلسلے توڑ ڈالے

مگر میں اسے کیسے للکار سکتا ہوں، یہ تو خدا ہے

حیات و نمو کی وہ قوت، تغیر جو خود سامری ہے

یہ وہ کوزہ گر ہے جو خود مسخ کرتا ہے چہرے بنا کر

یہ وہ کوزہ گر ہے اسی ایک مٹّی کو ہر بار متھ کر

بنا کر نئے ظرف رکھتا ہے کچھ دیر شیشیوں کے پیچھے سجا کر

انہیں خود ہی پھر توڑ دیتا ہے سب ظرف کوزے قوانین اخلاق سارے

جہاں اتنی شکلیں بنائی بگاڑی ہیں یہ زندگی کا نیا بت بھی اِک دن

فراموش گاری کے اس ڈھیر میں پھینک دے گا جہاں ایسی کتنی ہی چیزیں پڑی ہیں

کہ یہ چاک تو چل رہا ہے یوں ہی آفرینش سے گردش میں ہے اور رہے گا!

اختر الایمان

یہ دور

نہ وہ زمیں ہے، نہ وہ آسماں، نہ وہ شب و روز

کبھی سمٹتی کبھی پھیلتی ہیں غم کی حدود

ٹھہر گئی ہے اِک ایسے مقام پر دنیا

جہاں نہ رات نہ دن ہے نہ بے کلی نہ جمود

پکارتے ہیں ستارے سنبھالتی ہے زمیں

ہر ایک شئے سے گریزاں ابھی ہے میرا وجود

میں سوچتا ہوں کہیں زندگی نہ بن جائے

خزاں بدوش بہاریں، خمار زہر آلود!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اسی طور سے گرداں ہوں زمانے میں، وہی

صبح ہے، شام ہے، گہنائی ہوئی راتیں ہیں

کوئی آغاز، نہ انجام، نہ منزل نہ سفر

سب وہی دوست ہیں، دہرائی ہوئی باتیں ہیں

چہرے اُترے ہوئے دن رات کی محنت کے سبب

سب وہی بغض و حسد، رشک و رقابت، شکوے

دام تزویر ہے، اُلجھاؤ کی سو گھاتیں ہیں

سب گلی کوچے وہی، لوگ وہی، موڑ وہی

یہ وہی سردی ہے، یہ گرمی، یہ برساتیں ہیں

زلف کی بات ہے یا زہر کہ سب ڈرتے ہیں

کوئی دل دار، نہ دل بر، نہ ملاقاتیں ہیں

کوئی بشاش ہنسی، جینے کی نوخیز اُمنگ

کچھ نہیں بس غم و اندوہ کی باراتیں ہیں

تنگ دامانی کا شکوہ ہے خدا سے ہر وقت

ہر مرض کے لیے نسخے میں مناجاتیں ہیں

جی اُلٹ جاتا ہے اس حبس مسلسل سے مرا

ذہن جاتا ہے کسی نازش خوبی کی طرف

یعنی وہ پرتو گل خانہ بر انداز چمن

ایک پروائی کا جھونکا سا گھنی بدلی سی

شاہد نکہت و انوار سحر، راحت من

رسم دلداری ہے اس سیم بدن کے دم سے

اور مرے دم سے ہے عشاق کا بے داغ چلن

۔۔۔۔۔۔۔

کس کے قدموں کی ہے یہ چاپ یقیناً ہے وہی

یہ یقیناً ہے وہی سرو چمن، بنت بہار

کوئی رُت آئے زمانہ نہیں بدلے گا اسے

جان من تم ہو؟ نہیں ! وہ لب و عارض وہ نکھار؟

نغمگی جسم کی، وہ لوچ سا نشہ سا مدام

ایک چلتا ہوا جادو سا نگاہوں کا قرار؟

سچ کہو تم ہی ہو؟ آتا نہیں آنکھوں کو یقیں؟

اختر الایمان

ہم تو لہریں ہیں

ہم تو جیسے لہریں ہیں

آسمان کو

چھونے کی خواہش میں

ہم جست لگائیں

تو لگتا ہے

پانی سے شاخیں پھوٹ پڑی ہیں

ہم تو پل چھن میں

اپنے ہونے کا مظاہرہ کر کے

اس ہیئت میں کھو جاتے ہیں

جو ہمیں بے ہیئت کر دیتی ہے

دھرتی کے تہ در تہ رازوں میں رقصاں

اس موجود میں جو موجود ہے

سب کو اپنے جال میں جکڑے ہوئے ہے

ہم سب لاکھوں تار و پود میں گندھے ہوئے ہیں

توقیر عباس

کوئی ہے؟

کوئی ہے! کوئی ہے! کی صدائیں،

لگاتے ہوئے،

میں سراپا صدا بن گیا،

لوگ آنکھوں کے گہرے گڑھوں سے

مجھے گھورتے،

ایک کیچڑ بھری لہر اُٹھتی شناسائی کی،

میری جانب لپکتی،

مگر ایک جھپکی میں معدوم پڑتی

وہ پھر اپنی گدلی خموشی سمیٹے،

کہاں، کس طرف آتے جاتے،

خبر کچھ نہیں تھی،

برسوں پہلے اسی شہر میں،

بوڑھے پیڑوں تلے آگ روشن تھی اور،

ایک خوشبو گواہی میں موجود تھی،

وہ کہ عہدِ مقدس کی تقریب تھی،

ساتھ دینے کا اک عہد تھا،

اپنی چاہت کے اقرار میں،

کہہ کے لبیک

آواز سے دستخط کر دئیے

اور پھر ایک دن

اپنے اقرار کو بھول کر

میں اسے بھول کر،

اُن دیاروں کی جانب چلا،

جن کو دینار و درہم کی خوشبو نے جکڑا ہوا تھا،

جب میں لوٹا

کھنکتی مہک کی کئی گٹھڑیاں باندھ کر،

کوئی رستہ نہ صورت شناسا ملی،

وہ شجر بھی کہیں پر نہ تھے،

اور لکیروں سے تشکیل پاتی ہوئی،

ایک بے چہرگی تھی ۔

جہاں عقل و دانش کی باتیں فقط شور تھیں

رنگوں اور خوشبوؤں کی جگہ

ایک صحرا ابھرتا نظر آ رہا تھا

اُسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے

بے خدوخال چہرہ ہوا

میری آنکھیں کہیں بہہ گئیں

اور میں

بے صدائی کی تاریک کھائی میں گرتا گیا

اور گرتا چلا جا رہا ہوں

توقیر عباس

کہانی تونے کتنی دیر کی

کہانی تونے کتنی دیر کی

کچھ دیر پہلے

بام و در روشن تھے

آنگن جگمگاتے تھے

سلامت جگنوؤں کی روشنی تھی

تتلیوں کے رنگ قائم تھے

پرندوں کی اڑانیں تک بہت محفوظ تھیں

پیڑوں کی ساری ٹہنیاں آباد تھیں

شہزادے بھی شہزادیاں بھی جاگتی تھیں

استعارے زندگی کے ضو فشاں تھے

اور صبحوں میں بھرا تھا نور سجدوں کا

اگر تو جلد آ جاتی

ترا باطن منور

تجھے سیراب کرتے

مگر اب خاک میں سب کچھ دبا ہے

توقیر عباس

عجب مزدور ہے

عجب مزدور ہے

ہر کام کرتا ہے

گھڑی کی سوئیوں میں گھومتا ہے

بہاو بن کے بہتا ہے

زمانوں سے زمانوں تک

شکست و ریخت کرتا ہے

کہیں تعمیر کرتا ہے

خزانے برد کرتا ہے

کہیں دھرتی کی تہہ سے

کوئی گنجِ گمشدہ بھی کھینچ لاتا ہے

کسی کا ساتھ دیتا ہے

کسی کوچھوڑ جاتا ہے

پہاڑوں جنگلوں میں بھی

نظر آتا ہے اپنا کام کرتا

لٹیرا بھی ہے جابر بھی

سخی بھی مہرباں بھی ہے

وہ چاروں سمت چلتا ہے

اسے تو چلتے جانا ہے

ازل کی وادیوں سے

ابد کے سبزہ زاروں تک

عجب مزدور ہے

توقیر عباس

دور پیڑوں کے سائے میں

دور پیڑوں کے سائے میں۔۔۔

حرکت، مسلسل

مرا دھیان اس کی طرف

اوردل میں کئی واہمے

دل کی دھڑکن میں دھڑکیں

کئی گردشیں

اور میں ہشت پائے کے پنجے میں جکڑا گیا

عجب خوف پیڑوں کے سائےمیں پلتا ہوا

اک تحرک

جو کھلتا نہیں

اور میں منتظر

جو بھی ہونا ہے اب ہو

اور اب ایک آہٹ نے دہلا دیا

بہت دھیمی آہٹ

اجل نے چھوا ہو

کہ دنیا اندھیرے میں ڈوبی

کہیں دور خوشبو میں مہکا سویرا

تحرک کی ہچکی سنی

اور ہر چیز اپنی جگہ تھم گئی

سیاہی کا پردہ گرا

قمقمے جل اُٹھے

اور گھر جگمگانے لگے

توقیر عباس

بھرا شہر اس دن پریشان تھا

بھرا شہر اس دن پریشان تھا

چوبداروں کی جاں پر بنی تھی

سپاہی ہراساں تھے

راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا

رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایہ جما تھا

کہانی مکمل نہیں تھی

وزیروں کے اذہان عاجز تھے

کیسے مکمل کریں اور عنوان کیا دیں

ادھورے کو پورا بھی کرنا کوئی کار آساں نہیں

منادی کرا دی گئی

لفظ و عنواں کوئی ڈھونڈ لائے تو انعام پائے

مگر وہ کہانی نجانے کہاں کھو گئی ہے

جسے ڈھونڈنے میں بھی صدیوں سے نکلا ہوا ہوں

توقیر عباس

بکھری راکھ سے۔۔۔

اور اب دھیان میں لاؤں

وہ پل

لاکھ یگوں کے یم کا رستہ جس پر

چھدے ہوئے جسموں کی دھڑکن

نوحہ کناں تھی

ٹوٹتے جڑتے سلسلے لمحوں کے

ٹھیکریاں جب ہیروں سے مس ہو کر

تاب یاب تھیں

کتنے سورج اپنی راکھ میں غلطاں تھے

سب دھاگے ٹوٹ کے بکھر گئے تھے

جسم جلاتی گرم ہوا کی لپٹیں

رنگوں کو صحرا کے پھیکے پن میں ڈھال رہی تھیں

کوندے جھماکے لاکھ نطارے

کتنی کائناتیں جو

بود نہ بود کے ایک نظام سے جڑ کر

ایک تسلسل سے مصروف عمل تھیں

چاروں جانب اڑتی راکھ تھی

دور کہیں پربجتی بانسری

جس کی دھن میں

بکھری راکھ سے روئے زماں کی

پھر تشکیل ہوئی تھی

توقیر عباس

اس دن

اس دن تو وہ خود بھی شکستہ قابلِ رحم تھا لیکن،

کون تھا جس کے لئے

اس کی ہمدردی نہیں تھی،

جس پر اس کو ترس نہیں آیا تھا،

سو اُس نے اِس لمحے کے زیر اثر،

سب اشیا ء کو دیکھا،

دریا ندی سمندر اپنے کناروں میں سمٹے بل کھاتے ہیں،

تھل میں ویرانی رقصاں ہے،

پیڑ ہیں پاگل ہوا میں ہاتھ میں ہلاتے رہتے ہیں،

پنچھی کتنا اڑتے ہیں،

کو ہ فقط تخریب کی زد پر آ کر گرتے

زلزلےپیداکرتے رہتے ہیں،

ہوا بھی اندھی ہے،

جو سب سے مراسم رکھتی ہے،

اس جیسے سب انساں

اک کاہش میں رینگتی روحیں ہیں،

اس نے دیکھا،

سب کچھ اک مربوط نظام کی جکڑن میں ہے،

سب کچھ جدا جدا ہے،

لیکن اک دوجے سے

لاکھوں رشتے جڑے ہو ئے ہیں۔

توقیر عباس

ﺭﻧﮓ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 10
ﮐﺮﺏ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺭﻧﮓ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺑﺎﺕ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮐﯽ ﻧﮑﻞ ﺁئی
ﻋﯿﺐ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﮐﺘﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﮨﻮﻧﺎ
ﭘﺎﺅﮞ زﻧﺠﯿﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﻭﺍﺭ ﺍﺗﻨﺎ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﺍ
زﺧﻢ ﺷﻤﺸﯿﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺍﺏ ﻭﮦ ﺗﻨﮩﺎ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺼﻮ ﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺩﻭﺳﺖ ﻣﺤﻔﻞ ﺳﮯ ﺍٹھ ﮔئے ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺗﺎﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺣﺒﺲ ﭨﻮﭨﺎ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺎ ﺗﻮﻗﯿﺮ
ﺷﮩﺮ ﺗﻌﺰﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
توقیر عباس

ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺴﺘﮧ ﻣﮑﺎﮞ ﺑﮭﯽ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 9
ﻣﺮﺗﯽ ﮨﻮئی ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺴﺘﮧ ﻣﮑﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺍﻧﺠﺎﻥ زﻣﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺑﮭﯽ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ
ﮨﻤﺮﺍﮦ ﻣﺮﮮ ﮨﮯ ﺧﺲ ﻭ ﺧﺎﺷﺎﮎ ﻭ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺍﺱ ﮨﺠﺮ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍﺅﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮈﺭ ﮨﮯ
ﺁﺳﯿﺐ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮئے ﭼﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ
ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﻮ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺑﮭﯽ
ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺼﺮﻋﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﭨﮭﺎ ﺩﻭﮞ
ﺍﮎ ﺳﺎتھ ﮔﺮﺍ ﮨﮯ ﺗﺮﺍ ﻣﻠﺒﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﺎﮞ ﺑﮭﯽ
توقیر عباس

ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺁﺯﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 8
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﺳﮯ ﺗﺮﮮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺁﺯﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﯾﮑﮫ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﺒﺰ ﮐﺠﺎﻭﮮ ﺗﯿﺎﺭ
ﮐﻮﻥ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﺮﮮ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﻮئی ﺁﻭﺍﺯ ﮨﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﺳﮯ ﺟﮍﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﻟﻔﻆ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﭘﯿﮍ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﮯ ﻧﻘﺶِ ﮐﻒِ ﭘﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺻﺎﺣﺐِ ﺷﯿﻮﮦ ﻭ ﺍﯾﺼﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
باﮨﺮ ﺁﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﮕﺮ
ﮐﯿﺎ ﺧﺒﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﮮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﻓﺮﺩﻭﺱ ﻧﻈﺮ ﺗﮏ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎئے ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺒﮭﯽ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﭘﺮ
ﭘﮭﻮﻝ ﺁﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮨﮯ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ
ﭘﮭﺮ ﺳﺤﺮ ﺩﻡ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﻗﯿﺮ ﺗﺠﺴﺲ ﺗﻮ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﻟﮯ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺳﺎیۂِ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
توقیر عباس

ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 7
ﻣﯿﺎﻥ ﺭﻭﻧﻖ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﺑﮑﮭﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨوںﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﮔﮩﺮﺍ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺼﻠﻮﺏ ﮐﺮﻧﺎ
ﺗﺮﯼ ﺳﻮﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﯿﮍﻭﮞ ﺗﻠﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﺑﮩﺖ ﺩﻟﮑﺶ ﮨﯿﮟ ﺳﻨﮓ ﻭ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ
ﺗﺮﯼ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻄﺎ ﺳﺮ ﺯﺩ ﮨﻮئی ﺗﮭﯽ
ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺑﺮﺳﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
توقیر عباس

پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 6
اک وقت تو ایسا تھا کہ دن رات کڑے تھے
پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے
ھم نیند کے عالم میں کوئی موڑ مڑے تھے
دیکھا تو ابد گیر زمانے میں کھڑے تھے
معلوم ہے جس موڑ پہ بچھڑے تھے اسی جا
کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے اشجار کھڑے تھے
ہر موڑ پہ ہوتا تھا یہاں قتل وفا کا
ہر موڑ پہ ٹوٹے ہوئے آئینے پڑے تھے
ڈر تھا کہ پکارا تھا تمھیں ذر کی چمک نے
میدان سے تم لوگ کہاں بھاگ پڑے تھے
اسطورۂِ بغداد کو شب خواب میں دیکھا
وہ حسن تھا شہزادے قطاروں میں کھڑے تھے
تم نے بھی بہت اشک بہائے تھے بچھڑ کر
پیڑوں سے بھی اس رات بہت پات جھڑے تھے
اک قافلہ بھٹکا تھا کسی خواب کے اندر
اک شہر کے رستے میں بہت موڑ پڑے تھے
توقیر عباس

چھو کے ساحل لہر ہٹتی جا رہی تھی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 5
زندگی کی نبض گھٹتی جا رہی تھی
چھو کے ساحل لہر ہٹتی جا رہی تھی
زندگی کی نبض گٹھتی جا رہی تھی
اک ندی ساحل سے ہٹتی جا رہی تھی
کوئی مجھ کو یاد آتا جا رہا تھا
بیل پتھر سے لپٹتی جا رہی تھی
روح پر بھی لاکھ شکلیں پڑ رہی تھیں
دھول سے چادر بھی اٹتی جا رہی تھی
چھو رہی تھی سوئی خطرے کے نشاں کو
ایک منزل تھی سمٹتی جا رہی تھی
اس کی باتیں دوستوں پر کھل رہی تھیں
ایک چادر تھی جو پھٹتی جا رہی تھی
میں اسے اپنی محبت کہہ رہا تھا
وہ کئی رستوں میں بٹتی جا رہی تھی
روح پر بھی شکنیں پڑ رہی تھیں
دھول سے چادر بھی اٹتی جا رہی تھی
دھیرے دھیرے لوگ آگے بڑھ رہے تھے
دھیرے دھیرے دھند چھٹتی جا رہی تھی
کنکوا مغرب میں ڈوبا جارہا تھا
ڈور چرخی سے لپٹتی جا رہی تھی
لوگ بھی بے سوچے سمجھے چل رہے تھے
ذیست بھی صفحے پلٹتی جا رہی تھی
کشتیوں کے بادباں لہرا رہے تھے
ساحلوں سے دھند چھٹتی جا رہی تھی
سانس کا توقیر آرا چل رہا تھا
زندگانی اپنی کٹتی جا رہی تھی
توقیر عباس

دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 4
نجانے آگ کیسی آئنوں میں سو رہی تھی
دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی
لہو میری نسوں میں بھی کبھی کا جم چکا تھا
بدن پر برف کو اوڑھے ندی بھی سو رہی تھی
چمکتے برتنوں میں خون گارا ہو رہا تھا
مری آنکھوں میں بیٹھی کوئی خواہش رو رہی تھی
ہماری دوستی میں بھی دراڑیں پڑ رہی تھیں
اجالے میں نمایاں تیرگی بھی ہو رہی تھی
دباؤ پانیوں کا ایک جانب بڑھ رہا تھا
نجانے ساحلوں پر کون کپڑے دھو رہی تھی
کسی کے لمس کا احساس پیہم ہو رہا تھا
کہ جیسے پھول پر معصوم تتلی سو رہی تھی
توقیر عباس

صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 3
ریت پہ جب تصویر بنائی پانی کی
صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی
خون کی ندیاں بہہ جانے کے بعد کھلا
دونوں کے ہے بیچ لڑائی پانی کی
کشتی کب غرقاب ہوئی معلوم نہیں
آنکھوں نے تصویر بنائی پانی کی
ہم تو خون جلا کر بھوکے رہتے ہیں
کھاتے ہیں کچھ لوگ کمائی پانی کی
اس میں جتنے لوگ بھی اترے ڈوب گئے
کون بتائے اب گہرائی پانی کی
منہ میں اب تک اس کی لذت باقی ہے
جو نمکینی تھی صحرائی پانی کی
میری خاطر خاک میں جو تحلیل ہوئے
یاد آئے تو یاد نہ آئی پانی کی
آج وہ مجھ کو ٹوٹ کے یاد آیا توقیر
آنکھوں میں پھر رت گدرائی پانی کی
توقیر عباس

ﺳﻮﭼﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺪﻭﺩ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 2
ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻻ ﻣﺤﺪﻭﺩ
ﺳﻮﭼﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺪﻭﺩ
ﺻﺤﻦ زﻧﺪﺍﮞ ﺑﮩﺖ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺪﻭﺩ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﮎ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﮯ
ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺳﺎﺭﮮ ﻻ ﻣﺤﺪﻭﺩ
ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﻮ ﮐﻮئی ﺍﻧﺖ ﻧﮧ ﺑﮭﺎ
ﻟﻔﻆ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺩﻋﺎ ﻣﺤﺪﻭﺩ
ﮔﻮﻧﺞ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺪﺍ ﺑﮑﮭﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ
ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮔئی ﺻﺪﺍ ﻣﺤﺪﻭﺩ
دیکھنے والے دیکھ سکتے ہیں
چار جانب ہے آئینہ موجود
انہی رستوں میں ان چھوا کب سے
کوئی دیکھے ہے راستہ موجود
توقیر عباس

ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺵ ﮨﯿﮟ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﻤﯿﭧ ﮐﮯ

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 1
ﮐﯿﺎ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﺎ ﺭﻧﺞ ﮐﮧ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﯿﭧ ﮐﮯ
ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺵ ﮨﯿﮟ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﻤﯿﭧ ﮐﮯ
ﮐﺘﻨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺣﺘﯿﺎﺝ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﮐﯽ
ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﺎﮌ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﻓﯿﮟ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﮯ
ﻣﮩﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺭﺩ ﺷﺒﻮﮞ ﮐﺎ ﻏﻢ
ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﭨﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺩﻥ ﮨﺎﮌ ﺟﯿﭩﮫ ﮐﮯ
ﮨﻢ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺰ ﭘﮧ ﺍﮎ ﺩﮐﮫ ﮐﮯ ﺳﺎئے ﺗﮭﮯ
ﺑﺲ ﻧﻘﺶ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﭘﻠﯿﭧ ﮐﮯ
ﭨﮭﻮﮐﺮ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺻﻒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺴﻢ ﮐﮭﻞ ﮔئے
ﺍﮎ ﺳﻤﺖ ﺭکھ ﺩﯾﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﮯ
ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮨﺠﺮ ﻧﮯ
ﺁﺭﺍﻡ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺑﯿٹھ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ ﻧﮧ ﻟﯿﭧ ﮐﮯ
ﺑﺮﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺯﺧﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﻣﻨﺪﻣﻞ ﮨﻮﺍ
ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﭘﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﮐﮯ
ﺗﻮﻗﯿﺮ ﮐﺮﭼﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﺭﮨﻮ
ﺍﮎ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﮑﺲ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺳﻤﯿﭧ ﮐﮯ
توقیر عباس

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں

یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں

میں سب تری نذر کر رہا ہوں ، یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں

جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی روز یاد آئیں

تو ایک اک حرف جی اٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں

اداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں

مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے ، یہ جانتا ہوں

ہزار غم تھے جو زندگی کی تلاش میں تھے ، یہ جانتا ہوں

مجھے خبر ہے کہ تیرے آنچل میں درد کی ریت چھانتا ہوں

مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر یہ ریت رنگِ حنا بنی ہے

یہ زخم گلزار بن گئے ہیں یہ آہِ سوزاں گھٹا بنی ہے

یہ درد موجِ صبا ہوا ہے ، یہ آگ دل کی صدا بنی ہے

اور اب یہ ساری متاعِ ہستی، یہ پھول، یہ زخم سب ترے ہیں

یہ دکھ کے نوحے ، یہ سکھ کے نغمے ، جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں

جو تیری قربت، تری جدائی میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں

وہ تیرا شاعر، ترا مغنی، وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں

وہ جس کے انداز خسروانہ تھے اور ادائیں غریب سی تھیں

وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں

نہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہ بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے

وہ کوہکن تو نہیں تھا لیکن کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے

وہ تھک چکا ہے اور اس کا تیشہ اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے

پروین شاکر

ویسٹ لینڈ

ترے بغیر سرد موسموں کے خوشگوار دن اُداس ہیں

فضا میں دُکھ رچا ہُوا ہے!

ہَوا کوئی اُداس گیت گنگنا رہی ہے

پُھول کے لبوں پہ پیاس ہے

ایسا لگتا ہے

ہَوا کی آنکھیں روتے روتے خشک ہو گئی ہوں

صبا کے دونوں ہاتھ خالی ہیں

کہ شہر میں ترا کہیں پتہ نہیں

سانس لینا کِس قدر محال ہے!

اُداسیاںِ__اُداسیاں

تمام سبز سایہ دار پیڑوں نے

ترے بغیر وحشتوں میں اپنے پیرہن کو تار تار کر دیا ہے

اب کسی شجر کے جسم پر قبا نہیں

سُوکھے زرد پتے

کُو بہ کُو تری تلاش میں بھٹک رہے ہیں

اُداسیاںِ___اُداسیاں

مرے دریچوں میں گلابی دُھوپ روز جھانکتی ہے

مگر اب اس کی آنکھوں

وہ جگمگاہٹیں نہیں

جو تیرے وقت میں زمین کے صبیح ماتھے پر

سُورجوں کی کہکشاں سجانے آتی تھیں

زمین بھی مری طرح ہے!

ترے بغیر اس کی کوکھ سے اب بھی

کوئی گُلاب اُگ نہ پائے گا

زمین بانجھ ہو گئی ہے

اور مری رُوح کی بہار آفریں کوکھ بھی!

میری سوچ کے صدف میں

فن کے سچے موتی کس طرح جنم لیا کریں

کہ میں سراپا تشنگی ہوں

اور دُور دُور تک____وصالِ اَبر کی خیر نہیں !

میرے اور تیرے درمیان

پانچ پانیوں کے دیس میں

(کچے گھڑے بھی تو میری دسترس سے دُور ہیں )

میں شعر کس طرح کہوں

میری سوچ کے بدن کو،تُو،نمو تو دے

میں ترے بغیر’’ویسٹ لینڈ‘‘ ہوں !

پروین شاکر

وہی نرم لہجہ

وہی نرم لہجہ

جو اتنا ملائم ہے ، جیسے

دھنک گیت بن کر سماعت کو چُھونے لگی ہو

شفق نرم کومل سُروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو

کِس قدر!___رنگ و آہنگ کا کِس قدر خُوبصورت سفر!

وہی نرم لہجہ

کبھی اپنے مخصوص انداز میں مُجھ سے باتیں کرے گا

تو ایسا لگے

جیسے ریشم کے جُھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہو!

وہی نرم لہجہ

کسی شوخ لمحے میں اُس کی ہنسی بن کے بکھرے

تو ایسا لگے

جیسے قوسِ قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہو،

ہنسی کی وہ رِم جھم!

کہ جیسے بنفشی چمک دار بوندوں کے گھنگرو چھنکنے لگے ہوں !

کہ پھر

اس کی آواز کا لمس پا کے

ہواؤں کے ہاتھوں میں اَن دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوں !

وہی نرم لہجہ!

مُجھے چھیڑنے پر جب آئے تو ایسا لگے

جیسے ساون کی چنچل ہوا

سبز پتوں کے جھانجھن پہن

سُرخ پُھولوں کی پائل بجاتی ہُوئی

میرے رُخسار کو

گاہے گاہے شرارت سے چُھونے لگے

میں جو دیکھوں پلٹ کے، تو وہ

بھاگ جائے____مگر

دُور پیڑوں میں چُھپ کر ہنسے

اور پھر__ننھے بچوں کی مانند خوش ہوکے تالی بجانے لگے!

وہی نرم لہجہ!

کہ جس نے مرے زخمِ جاں پر ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہے

بہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہے

جو سدا آنے والے نئے سُکھ کے موسم کا قاصد بنا ہے

اُسی نرم لہجے نے پھر مُجھ کو آواز دی ہے!

پروین شاکر

وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے

تمہاری پوروں کا لمس اب تک

مری کفِ دست پر ہے

اور میں سوچتا ہوں

وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے

وہ کہہ گئے تھے

کہ اب کے جو ہاتھ تیرے ہاتھوں کو چھو گئے ہیں

تمام ہونٹوں کے سارے لفظوں سے معتبر ہیں

وہ کہہ گئے تھے

تمہاری پوریں

جو میرے ہاتھوں کو چھو رہی تھیں

وہی تو قسمت تراش ہیں

اور اپنی قسمت کو

سارے لوگوں کی قسمتوں سے بلند جانو

ہماری مانو

تو اب کسی اور ہاتھ کو ہاتھ مت لگانا

میں اُس سمے سے

تمام ہاتھوں

وہ ہاتھ بھی

جن میں پھول شاخوں سے بڑھ کے لطف نمو اٹھائیں

وہ ہاتھ بھی جو سدا کے محروم تھے

اور ان کی ہتھیلیاں زخم زخم تھیں

اور وہ ہاتھ بھی جو چراغ جیسے تھے

اور رستے میں سنگ فرسنگ کی طرح جا بجا گڑھے تھے۔

وہ ہاتھ بھی جن کے ناخنوں کے نشان

معصوم گردنوں پر مثال طوق ستم پڑے تھے

تمام نا مہربان اور مہربان ہاتھوں سے

دست کش یوں رہا ہوں جیسے

یہ مٹھیاں میں نے کھول دیں تو

وہ ساری سچائیوں کے موتی

مسرتوں کے تمام جگنو

جو بے یقینی کے جنگلوں میں

یقین کا راستہ بناتے ہیں

روشنی کی لکیر کا قافلہ بناتے ہیں

میرے ہاتھوں سے روٹھ جائیں گے

پھر نہ تازہ ہوا چلے گی

نہ کوئی شمع صدا جلے گی

میں ضبط اور انتظار کے اس حصار میں مدتوں رہا ہوں

مگر جب اک شام

اور وہ پت جھڑ کی آخری شام تھی

ہوا اپنا آخری گیت گا رہی تھی

مرے بدن میں مرا لہو خشک ہو رہا تھا

تو مٹھیاں میں نے کھول دیں

اور میں نے دیکھا

کہ میرے ہاتھوں میں

کوئی جگنو

نہ کوئی موتی

ہتھیلیوں پر فقط مری نامراد آنکھیں دھری ہوئی تھیں

اور ان میں

قسمت کی سب لکیریں مٹی ہوئی تھیں۔

پروین شاکر

وہ صورت آشنا میرا

میں اُس کے سامنے

چپ رہ کے بھی یوں بات کرتی ہوں

کہ آنکھوں کا کوئی حرفِ بدن ناآشنا

آلودۂ پیکر نہیں ہوتا

خواہ موسم پہ مرا اظہار ہو

یا ٹیلی ویژن پر

وہ میرے لمحہ موجود کا دُکھ جان لیتا ہے

مجھے پہچان لیتا ہے

مری ہر بات کا چہرہ نہ چھوکر دیکھنے پر بھی

وہ صورت آشنا میرا

مرے لہجوں کے پس منظر سمجھتا ہے

پروین شاکر

وہ شام کیا تھی

وہ شام کیا تھی جب اس نے بڑی محبت سے

کہا کہ تو نے یہ سوچا بھی ہے کبھی احمد

خدا نے کتنی تجھے نعمتیں عطا کی ہیں

وہ بخششیں کہ ہیں بالا تر از شمار و عدد

یہ خال و خد یہ وجاہت یہ تندرست بدن

گرجتی گونجتی آواز استوار جسد

بسان لالۂ صحرا تپاں تپاں چہرہ

مثال نخل کہستاں دراز قامت و قد

پروین شاکر

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں ؟

وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں

جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو!

تم کہتے تھے

مری آنکھیں ، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں

اس حُسن اور سچائی کے سوا، دُنیا میں کوئی چیز نہیں

کیا اُن آنکھوں کو دیکھ کے بھی

تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو؟

تم کہتے تھے

مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے

’’مری روح اگر اِک بار اُتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہو جائے‘‘

مُجھے اتنا بتاؤ

آج تمھاری رُوح کا رنگ پیراہن کیا ہے

کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں ؟

یہ کالی بھوری آنکھیں

جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے

’’یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں ‘‘

کیا اُن آنکھوں کے رنگ میں بھی،یوں دونوں وقت مِلا کرتے ہیں ؟

کیا سُورج ڈُوبنے کا لمحہ،اُن آنکھوں میں بھی ٹھہر گیا

یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں ؟

مری پلکیں

جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے

اِن کی چھاؤں تمھارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلا دے

تو گُزرتے خواب کے موسم لوٹ آئیں

کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں

جنھیں دیکھ کے نیند آ جاتی ہو؟

تم کہتے تھے

مری آنکھیں یُونہی اچھی ہیں

’’ہاں کاجل کی دُھندلائی ہُوئی تحریر بھی ہو__تو

بات بہت دلکش ہو گی!‘‘

وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی

کیا اُن کا کاجل خُود ہی مِٹ جاتا ہے؟

کبھی یہ بھی ہُوا

کِسی لمحے تم سے رُوٹھ کے وہ آنکھیں رو دیں

اور تم نے اپنے ہاتھ سے اُن کے آنسو خُشک کیے

پھر جُھک کر اُن کو چُوم لیا

(کیا اُن کو بھی!!)

پروین شاکر

وحی

عجیب موسم تھا وہ بھی،جب کہ

عبادتیں کورچشم تھیں

اور عقیدتیں اپنی ساری بینائی کھو چکی تھیں

خُود اپنے ہاتھوں سے ترشے پتھر کو دیوتا کہہ کے

خیر و برکت کی تعمتیں لوگ مانگتے تھے!

مگر وہ اِک شخص

جو ابھی اپنے آپ پر بھی نہ منکشف تھا

عجیب اُلجھن میں مبتلا تھا

یہ وہ نہیں ہیں ،وہ کون ہو گا کا کربِ بے نام چکھ رہا تھا!

سواپنے ان نارسادُکھوں کی صلیب اُٹھائے

غموں کی نا یافت شہریت کو تلاش کرتے

وہ شہرِ آذر سے دُور

اپنے تمام لمحے

حرا کے غاروں کے خواب آساسکوت کو سونپنے لگا تھا

یہ سوچ کا اعتکاف بھی تھا

اور ایک اَن دیکھی رُوحِ کُل کے وجود کا اعتراف بھی تھا

وہ رات بھی ارتکاز کی ایک رات تھی

جبکہ لمحہ بھرکو

فضا پہ سناٹاچھا گیا

اور ہواؤں کی سانس رُک گئی تھی

ستارۂ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی

گریزپا ساعتیں تحیر زدہ تھیں

جیسے وجود کی نبض تھم گئی ہو!

یکایک اِک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے کر

فضا میں گونجی

’’پڑھو!‘‘

’’میں پڑھ نہیں سکوں گا!‘‘

’’پڑھو!‘‘

’’میں پڑھ نہیں سکوں گا!‘‘

’’پڑھو!‘‘

’’(مگر)میں کیا پڑھوں ؟‘‘

پڑھو___تم اپنے (عظیم)پروردگار کا نام لے کے

جو سب کو خلق کرتا ہے

جس نے انسان کو بنایا ہے منجمد خون سے

پڑھو(کہ) تمھارا پروردگار بے حد کریم ہے

(اور)جس نے تم کو قلم سے تعلیم دی

اُسی نے بتائیں انسان کو وہ باتیں

کہ جن کو وہ جانتا نہیں تھا……۔۔‘‘

فضائے بے نطق جیسے اِقراء کا ورد کرنے لگی تھی

وہ سارے الفاظ،جو

تیرگی کے سیلاب میں کہیں بہہ چکے تھے

پھر روشنی کی لہروں میں

واپسی کے سفر کا آغاز کر رہے تھے

دریچۂ بے خیال میں

آگہی کے سُورج اُتر رہے تھے

اس ایک پل میں

وہ میرا اُمی ّ

مدینۃ العلم بن چکا تھا

پروین شاکر

واہمہ

تمھارا کہنا ہے

تم مجھے بے پناہ شّدت سے چاہتے ہو

تمھاری چاہت

وصال کی آخری حدوں تک

مرے فقط میرے نام ہو گی

مجھے یقین ہے مجھے یقین ہے،

مگر قسم کھانے والے لڑکے !

تمھاری آنکھوں میں ایک تِل ہے !

پروین شاکر

واٹر لُو

اُس کے کنول ہاتھوں کی خوشبو

کتنی سبز آنکھوں نے پینے کی خواہش کی تھی

کتنے چمکیلے بالوں نے

چُھوئے جانے کی آس میں خود کو، کیسا کیسا بکھرایا تھا

کتنے پُھول اُگانے والے پاؤں

اُس کی راہ میں اپنی آنکھیں بچھائے پھرتے تھے

لیکن وہ ہر خواب کے ہاتھ جھٹکتی ہُوئی

جنگل کی مغرور ہَوا کی صُورت

اپنی دُھن میں اُڑتی پھرتی

آجِ___مگر

سُورج نے کھڑکی سے جھانکا

تو اُس کی آنکھیں ،پلکیں جھپکنا بُھول گئیں

وہ مغرور سی، تیکھی لڑکی

عام سی آنکھوں ، عام سے بالوں والے

اِک اکھّڑ پردیسی کے آگے

دو زانو بیٹھی

اُس کے بوٹ کے تسمے باندھ رہی تھی

پروین شاکر

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

فقیرانہ روش رکھتے تھے

لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے

کہ اپنے خواب بیچیں

ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے

لیکن رو کشِ بازار کب تھے

ہمارے ہاتھ خالی تھے

مگر ایسا نہیں پھر بھی

کہ ہم اپنی دریدہ دامنی

الفاظ کے جگنو

لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے

“خواب لے لو خواب”

لوگو

اتنے کم پندار ہم کب تھے

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں

ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں

کہ جن کی عاشقی میں

اور ہوا خواہی میں

ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں

چلو ہم بے‌نوا

محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے

پر اپنے آسماں کی داستانیں

اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں

خریدارو!

تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو

ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو

تم ایسے دام تو ہر بار لائے ہو

مگر تم پر ہم اپنے حرف کے طاؤس

اپنے خون کے سرخاب کیوں بیچیں

ہمارے خواب بے‌وقعت سہی

تعبیر سے عاری سہی

پر دل‌زدوں کے خواب ہی تو ہیں

نہ یہ خوابِ زلیخا ہیں

کہ اپنی خواہشوں کے یوسفوں پر تہمتیں دھرتے

نہ یہ خوابِ عزیزِ مصر ہیں

تعبیر جن کی اس کے زندانی بیان کرتے

نہ یہ ان آمروں کے خواب

جو بے‌آسرا خلقِ خدا کو دار پر لائیں

نہ یہ غارت‌گروں کے خواب

جو اوروں کے خوابوں کو تہہ شمشیر کر جائیں

ہمارے خواب تو اہلِ صفا کے خواب ہیں

حرف و نوا کے خواب ہیں

مہجور دروازوں کے خواب

محصور آوازوں کے خواب

اور ہم یہ دولتِ نایاب کیوں بیچیں

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں؟

پروین شاکر

نئی رات

گہن کو اپنے نوشتہ جان کے ، میں نے

روشنیوں سے سارے ناتے توڑ لیے تھے

رات کو اپنی سکھی مان کے

اپنے سارے دُکھ بس اُس سے کہہ کے

جی ہلکا کر لیتی تھی

شام ڈھلے ، تنہائی کے بازو پر سر رکھے سو جاتی

اور نیند کے بے آباد جزیروں میں تنہا

اک تھکی ہُوئی خوشبو کی طرح بھٹکا کرتی!

آج بھی میں تنہا ہوں سفر میں

لیکن خود سے پُوچھ رہی ہوں

میرے وجود کے گرد یہ کیسا ہالہ ہے!

یوں لگتا ہے

چادرِ شب شانوں سے سرکتی جاتی ہے

چاند مرے آنچل میں ستارے ٹانک رہا ہے

آج کی رات

نیند پلکوں کی جھالر کو چُھوتی ہوئی

اوس میں اپنا آنچل بھگو کے

مرے دُکھتے ماتھے پہ رکھنے چلی ہے

مگر__آنکھ اور ذہن کے درمیاں

آج کی شب وہ کانٹے بچھے ہیں

کہ نیندوں کے آہستہ رَو، پھول پاؤں بھی چلنے سے معذور ہیں

ہر بُنِ مو میں اِک آنکھ اُگ آئی ہے

جس کی پلکیں نکلنے سے پہلے کہیں جھڑ چکی ہیں

اور اب ، رات بھر

روشنی اور کُھلی آنکھ کے درمیاں

نیند مصلوب ہوتی رہے گی!

پروین شاکر

نئی آنکھ کا پُرانا خواب

نئی آنکھ کا پُرانا خواب

آتش دان کے پاس

گُلابی حّدت کے ہالے میں سمٹ کر

تجھ سے باتیں کرتے ہوئے

کبھی کبھی تو ایسا لگاہے

جیسے اُوس میں بھیگی گھاس پہ

اُس کے بازو تھامے ہوئے

میں پھر نیند میں چلنے لگی ہوں !

پروین شاکر