admin کی تمام پوسٹیں
یا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا
ہر گام پہ جس میں سر نہ ہو گا
اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا
ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا
جھانکنا تاکنا کبھو نہ گیا
خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا
خون ہو بہ سب آپھی گیا عشق حسن و جمال کیا
ہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا
راتوں کو روتے روتے ہی جوں شمع گل گیا
جگر مرغ جان سے نکلا
گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا
جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا
خاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کا
قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا
غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
اک مغبچہ اتار کے عمامہ لے گیا
فرق نکلا بہت جو باس کیا
یا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا
مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا
جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا
القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا
تا بہ روح الامیں شکار ہوا
نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا
برقع سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا
پتھر تلے کا ہاتھ ہی اپنا نکالتا
گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا
اپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا
شب کو القصہ عجب قصۂ جانکاہ سنا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
جیتے رہے تھے کیوں ہم جو یہ عذاب دیکھا
سنبل چمن کا مفت میں پامال ہو گیا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
ہم خاک کے آسودوں کو آرام نہ آیا
وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا
جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
کہ ہمسائگاں پر ترحم کیا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
دامن تر کا مرے دریا ہی کا سا پھیر تھا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
عمر گریزاں کے نام
عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میں
اس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے
واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کا
داستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے
خواب ادھورے ہیں جو دُہراتا ہوں ان خوابوں کو
زخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے
اس سے کہتا ہوں تمنّا کے لب و لہجے میں
اے مری جان مری لیلیٰ تابندہ جبیں
سنتا ہوں تو ہے پری پیکر و فرخندہ جمال
سنتا ہوں تو ہے مہ و مہر سے بھی بڑھ کے حسیں
یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں کہ ابھی تک میں نے
جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں
صبح اُٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں
اور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں
شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چراگاہوں سے جب
شب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں
یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی
خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں
اور کرتا رہا اپنے لیے ہموار زمیں
آج لیتا ہوں جواں سوختہ راتوں کا حساب
جن کو چھوڑ آیا ہوں ماضی کے دھندلکے میں کہیں
صرف نقصان نظر آتا ہے اس سودے میں
قطرہ قطرہ جو کریں جمع تو دریا بن جائے
ذرّہ ذرّہ جو بہم کرتا تو صحرا ہوتا
اپنی نادانی سے انجام سے غافل ہو کر
میں نے دن رات کیے جمع خسارہ بیٹھا
جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں
اے مری جان مری لیلیٰ تابندہ جبیں
یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی
خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں!
اعتراف
چند لمحے جو ترے ساتھ گزارے میں نے
ان کی یاد ان کا تصور ابھی رخشندہ نہیں
تو ابھی چھائی نہیں مجھ پر، مری دنیا پر
خود ترا حسن مرے ذہن میں تابندہ نہیں
کیا خبر کل مجھے یکسر ہی بدل ڈالے تو
یوں ترا حسن، مرا شوق بھی پایندہ نہیں
دیکھ میں ہوش میں ہوں اے غم گیتی کے شعور
تیرے ملنے کی تمنّا لیے آنکھوں میں کہاں
اپنے ظلمت کدے اے جان، سنوارے میں نے
غم چشیدہ مرے جذبات میں جذبہ پنہاں
اب کہاں پہلے گزاریں کئی راتیں میں نے
جن میں افسانے کہے چاند سے افسانے سنے
اب کہاں، پہلے برس گزرے، کسی مہوش کی
چاہ میں کتنے ہی ہنگام سحر گیت بنے
اب مگر تاب کہاں مجھ میں یہ انگور کی بیل
خون چاہے گی رگ و پے میں سما جائے گی
پس منظر
کس کی یاد چمک اٹھی ہے، دھندلے خاکے ہوئے اُجاگر
یوں ہی چند پرانی قبریں کھود رہا ہوں تنہا بیٹھا
کہیں کسی کا ماس نہ ہڈی، کہیں کسی کا رُوپ نہ چھایا
کچھ کتبوں پر دھندلے دھندلے نام کھدے ہیں میں جیون بھر
ان کتبوں، ان قبروں ہی کو اپنے من کا بھید بنا کر
مستقبل اور حال کو چھوڑے، دُکھ سکھ سب میں لیے پھرا ہوں!
ماضی کی گھنگھور گھٹا میں چپکا بیٹھا سوچ رہا ہوں
کس کی یاد چمک اُٹھی ہے دھندلے خاکے ہوئے اُجاگر؟
بیٹھا قبریں کھود رہا ہوں، ہوک سی بن کر ایک اِک مورت
درد سا بن کر ایک اِک سایا، جاگ رہے ہیں، دور کہیں سے
آوازیں سی کچھ آتی ہیں، گزرے تھے اِک بار یہیں سے
پرانی فصیل
مری تنہائیاں مانوس ہیں تاریک راتوں سے
مرے رخنوں میں ہے اُلجھا ہوا اوقات کا دامن
مرے سائے میں حال و ماضی رُک کر سانس لیتے ہیں
زمانہ جب گزرتا ہے بدل لیتا ہے پیراہن
یہاں سرگوشیاں کرتی ہے ویرانی سے ویرانی
فسردہ شمع امید و تمنّا لو نہیں دیتی
یہاں کی تیرہ بختی پر کوئی رونے نہیں آتا
یہاں جو چیز ہے ساکن، کوئی کروٹ نہیں لیتی
یہاں اسرار ہیں، سرگوشیاں ہیں، بے نیازی ہے
یہاں مفلوج تر ہیں تیز تر بازو ہواؤں کے
یہاں بھٹکی ہوئی روحیں کبھی سر جوڑ لیتی ہیں
یہاں پر دفن ہیں گزری ہوئی تہذیب کے نقشے
لغزش
جب حنائی انگلیوں کی جنبشیں آتی ہیں یاد
جذب کر لیتا ہوں آنکھوں میں لہو کی بوند سی
اب مگر ماضی کی ہر شئے پر اندھیرا چھا گیا
اور ہی راہوں سے گزری جا رہی ہے زندگی
ذہن میں ابھرے ہوئے ہیں چند بے جاں سے نقوش
اور ان میں بھی نہیں ہے کوئی ربط باہمی
یہ بھیانک خواب کیوں مغلوب کرتے ہیں مجھے
دودھیا راتیں سحر کے جھٹپٹے میں کھو گئیں
اور تیری نرم بانہیں، مجھ سے اب ناآشنا
اور ہی گردن کے حلقے میں لپٹ کر سو گئیں
مسکرا اٹھتا ہوں اپنی سادگی پر میں کبھی
کس قدر تیزی سے یہ باتیں پرائی ہو گئیں!
چیخو
اتنا چلاّو کہ اِک شور سے بھر جائے فضا
گونج الفاظ کی کانوں میں دھُواں سا بن جائے
ایک دھنی روئی سی بن جائیں عقائد سارے
فلسفے، مذہب و اخلاق، سیاست، سارے
ایسے گتھ جائیں ہر اِک اپنی حقیقت کھو دے
ایسا اِک شور بپا کر دو کوئی بات بھی واضح نہ رہے
ذرہ جب ٹوٹا تھا تخلیق زمیں سے پہلے
ابتری پھیلی تھی، واضح نہ تھی کچھ بھی، ہر شے
اِک دھنی روئی کی مانند اُڑی پھرتی تھی
خود کو کم مایہ نہ سمجھو اٹھو توڑو یہ سکوت
پھر نئے دور کا آغاز ہو تاریکی سے!
اتفاق
دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو
شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر
کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں
کسی اِک ایسی جگہ سے ہو یوں ہی میرا گزر
جہاں ہجوم گریزاں میں تم نظر آ جاؤ
اور ایک ایک کو حیرت سے دیکھتا رہ جائے!
درد کی حد سے پرے
درد کی حد سے پرے کوئی نہیں جا سکتا
درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں
ایک سنّاٹا ہے، احساس کی ادراک کی موت
یہ کرہ، گھومتی پھرتی یہ ستم کوش زمیں
خاک اور آب کا اِک گولا ہے بے رونق سا
آؤ چھپ جائیں، چلو موت کے ڈر سے بھاگیں
تم مری بانہوں میں، میں زلفوں میں چھپ جاؤں یہیں
اور اس درد کا اظہار کریں
زندگی جس سے عبارت ہے تمام
درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں
گرمی ءِ عشق، یہ بوسوں کی حرارت، یہ سگندھ
جو پسینہ میں ہے یہ جھرجھری جو تم نے ابھی
سینہ کو چھونے سے لی، سب یہ سمو لینے کی بھوک
جسم کے ٹوٹنے اِک نشہ میں گھل جانے کا رس
رنگ میں، نغموں میں اور لمس میں ڈھلنے کی ہوس
سال، صدیاں یہ قرن، ماہ، یہ لمحے، یہ نفس
کیف، بہجت، خوشی، تسکین، مسرت سب کچھ
سب یہ اس واسطے ہے درد ہے ساتھی ہر وقت
درد پیمانہ ہے ہر چیز کا اس دنیا میں
زیست اِک واہمہ ہے ذات کے ہونے کا گماں
درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جس کا نشاں
درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں
ایک سنّاٹا ہے احساس کی ادراک کی موت
درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جان کہیں
درد کی حد سے پرے کوئی گیا بھی تو نہیں!
ڈاسنہ اسٹیشن کا مسافر
کون سا اسٹیشن ہے؟
’ڈاسنہ ہے صاحب جی
آپ کو اُترنا ہے؟‘
’جی نہیں، نہیں ‘ لیکن
ڈاسنہ تو تھا ہی وہ
میرے ساتھ قیصر تھی
یہ بڑی بڑی آنکھیں
اِک تلاش میں کھوئی
رات بھر نہیں سوئی
جب میں اس کو پہنچانے
اس اُجاڑ بستی میں
ساتھ لے کے آیا تھا
میں نے ان سے پھر پوچھا
آپ مستقل شاید
ڈاسنہ میں رہتے ہیں؟
’’جی، یہاں پہ کچھ میری
سوت کی دُکانیں ہیں
کچھ طعام خانے ہیں‘‘
میں سنا کیا بیٹھا
بولتا رہا وہ شخص
’’کچھ زمین داری ہے
میرے باپ دادا نے
کچھ مکان چھوڑے تھے
ان کو بیچ کر میں نے
کاروبار کھولا ہے
اس حقیر بستی میں
کون آ کے رہتا تھا
لیکن اب یہی بستی
بمبئی ہے دلّی ہے
قیمتیں زمینوں کی
اتنی بڑھ گئی صاحب
’’جیسے خواب کی باتیں‘‘
اِک زمین ہی کیا ہے
کھانے پینے کی چیزیں
عام جینے کی چیزیں
بھاؤ دس گنے ہیں اب
بولتا رہا وہ شخص
’’اس قدر گرانی ہے
آگ لگ گئی جیسے
آسمان حد ہے بس‘‘
میں نے چونک کر پوچھا
آسماں محل تھا اِک
سیدوں کی بستی میں
’’آسماں ہی ہیں صاحب
اب محل کہاں ہو گا؟
ہنس پڑا یہ کہہ کر وہ
میرے ذہن میں اس کی
بات پے بہ پے گونجی
’’اب محل کہاں ہو گا‘‘
اس دیار میں شاید
قیصر اب نہیں رہتی
وہ بڑی بڑی آنکھیں
اب نہ دیکھ پاؤں گا
ملک کا یہ بٹوارا
لے گیا کہاں اس کو
ڈیوڑھی کا سنّاٹا
اور ہماری سرگوشی
مجھ سے کتنے چھوٹے ہو‘‘
میں نے کچھ کہا تھا پھر
اس نے کچھ کہا تھا پھر
ہے رقم کہاں وہ سب
درد کی گراں جانی
میری شعلہ افشانی
اس کی جلوہ سامانی
ہے رقم کہاں وہ اب
کرب زیست سب میرا
گفتگو کا ڈھب میرا
اس کا ہاتھ ہاتھوں میں
لے کے جب میں کہتا تھا
اب چھڑاؤ تو جانوں
رسم بے وفائی کو
آج معتبر مانوں
اس کو لے کے با ہوں میں
جھک کے اس کے چہرے پر
بھینچ کر کہا تھا یہ
بولو کیسے نکلو گی
میری دسترس سے تم
میرے اس قفس سے تم
بھورے بادلوں کا دل
دور اُڑتا جاتا ہے
پیڑ پر کہیں بیٹھا
اِک پرند گاتا ہے
’چل چل‘ اِک گلہری کی
کان میں کھٹکتی ہے
ریل چلنے لگتی ہے
راہ کے درختوں کی
چھاؤں ڈھلنے لگتی ہے
’مجھ سے کتنے چھوٹے ہو‘
اور مری گراں گوشی
ڈیوڑھی کا سنّاٹا
اور ہماری سرگوشی
ہے رقم کہاں وہ سب؟
دور اس پرندے نے
اپنا گیت دُہرایا
’آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا
گم کیا ہوا پایا‘‘
نشاۃ ثانیہ
موسموں کے بدلنے کا منظر تو پیچھے کہیں رہ گیا
کھیت کی مینڈ پر چھاؤں میں شیشموں کی
بھرے کنڈ میں!
جامنوں کے گھنے جھنڈ میں!
کوئلوں اور پپیہوں کی آواز کے شور میں
اُمڈے جذبات کے زور میں
وقت یوں بہہ گیا جیسے آنسو کا قطرہ تھا بے مایہ سا
قہقہہ تھا جو پھولوں کی خوشبو میں گھل مل گیا
کتنے کردار ہیں سامنے
ہنستے روتے ہوئے
زندگی کی کشاکش میں اُلجھے ہوئے
عشق کرتے ہوئے آہیں بھرتے ہوئے
جان راحت پہ ہر آن مرتے ہوئے
بے خبر ساری دنیا سے اِک دوسرے کو سنبھالے ہوئے
ہاتھوں کو چومتے بوسے آنکھوں کو دیتے ہوئے
بہتے جاتے ہیں موج رواں کی طرح
ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے
ایک دیکھی ہوئی فلم کا ایسا منظر ہے یہ
جس کے کردار اب گویا افسانہ ہیں
فلم بوسیدہ اتنی ہے چلتے ہوئے ٹوٹ جاتی ہے پھر جوڑتا ہوں اسے
جوڑ کر پھر چلاتا ہوں خوش ہوتا ہوں
گاہے روتا ہوں میں
اِک بہت خوب صورت سی رنگین تصویر ہے
کتنے لمحات میرے بھی اس فلم میں بند ہیں
وہ جو دھندلا سا چہرہ نظر آ رہا تھا تمھیں
پیڑ کی آڑ میں
وہ، جہاں سادہ کپڑوں میں
اِک مہ جبیں ہنس رہی ہے کھڑی
اس کے بائیں طرف میں ہوں وہ!
اتنی دلکش کہانی ہے جی چاہتا ہے کہ پھر سے بنا لوں
ہر وہ چہرے جو اس فلم کی جان ہیں
وہ کہاں ہیں؟
انہیں کس طرح؟
کیسے لاؤں گا میں؟
کہاں تک
ہر نئی راہ سے میں پوچھتا ہوں
اے مری صبح سفر شام حیات
تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟
کیا ٹھہر جائے گی اِک موڑ پہ کچھ گام کے بعد
اور میں شام و سحر، جیسے ہیں گردش میں یوں ہی
سرگرانی بھی رہی چلتا رہوں گا پھر بھی
اے مری راہ نجات و ظلمات
تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟
عظمت صبح اندھیروں نے نگل لی ہے مگر
قصر امید میں پھیلا ہے اُجالا پھر بھی
چاند گہنا گیا افکار کا، حالات زبوں، دہر ملول
گرد اس کے ہے مگر نور کا ہالہ پھر بھی
کون سے موڑ پہ چھوڑے گی مجھے کچھ تو بتا
اے مری گرمی ءِ جذبات کہاں تک جاؤں
میں ترے ساتھ کہاں تک جاؤں
تو مرا ساتھ کہاں تک دے گی؟
باز آمد
۔۔۔ ایک مونتاج
تتلیاں ناچتی ہیں
پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہے
جیسے اک بات ہے جو
کان میں کہنی ہے، خاموشی سے
اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!
دھُوپ میں تیزی نہیں
ایسے آتا ہے ہر اِک جھونکا ہَوا کا جیسے
دست شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کا
اور مرے شانوں کو اس طرح ہلا جاتا ہے
جیسے میں نیند میں ہوں
عورتیں چرخے لئے بیٹھی ہیں
کچھ کپاس اوٹتی ہیں
کچھ سلائی کے کسی کام میں مصروف ہیں یوں
جیسے یہ کام ہے دراصل ہر اِک شے کی اساس
ایک سے ایک چہل کرتی ہے
کوئی کہتی ہے مری چوڑیاں کھنکیں تو کھنکاری مری ساس
کوئی کہتی ہے بھری چاندنی آتی نہیں راس
رات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر
بات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر
لذت وصل ہے آزار کوئی کہتی ہے
میں تو بن جاتی ہوں بیمار کوئی کہتی ہے
میں بھی گھس آتا ہوں اس شیش محل میں دیکھو
سب ہنسی روک کے کہتی ہیں نکالو اس کو
اِک پرندہ کسی اِک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیں
ایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانب
پوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسے
اِک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئی
آمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچے
گوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہے
نازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میں
اور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلے
کوئلیں کو کتی ہیں
جامنیں پکی ہیں آموں پہ بہار آئی ہے
ارغنوں بجتا ہے یکجائی کا
نیم کے پیڑوں میں، جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھر
سانولی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سو
اور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساری
میں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوں
ایک ہی کم ہے وہی چہرہ نہیں
آخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کر
کیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟
کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ نام
لو یہ سپنے میں ہیں، اِک کہتی ہے
باؤلی سپنا نہیں شہر سے آئے ہیں ابھی
دوسری ٹوکتی ہے
بات سے بات نکل چلتی ہے
ٹھاٹھ کی آئی تھی بارات چمیلی نے کہا
بینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولی
اور دُلہن پہ ہوا کتنا بکھیر
کچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرف
اتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی کہ نہیں
جس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟
کیوں نہیں بہتی چمیلی نے کہا
اور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟
وہ بھی قائم ہے ابھی تک یوں ہی
وعدہ کر کے جو حبیبہ نہیں آتی تھی کبھی
آنکھیں دھوتا تھا ندی میں جا کر
اور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا
ماہ و سال آ کے چلے جاتے ہیں
فصل پک جاتی ہے کٹ جاتی ہے
کوئی روتا نہیں اس موقع پر
حلقہ در حلقہ نہ آہن کو تپا کر ڈھالیں
کوئی زنجیر نہ ہو!
زیست در زیست کا یہ سلسلہ باقی نہ رہے!
بھیڑ ہے بچوں کی چھوٹی سی گلی میں دیکھو
ایک نے گیند جو پھینکی تو لگی آ کے مجھے
میں نے جا پکڑا اسے، دیکھی ہوئی صورت تھی
کس کا ہے میں نے کسی سے پوچھا
یہ حبیبہ کا ہے، رمضانی قصائی بولا
بھولی صورت پہ ہنسی آ گئی اس کی مجھ کو
وہ بھی ہنسنے لگا، ہم دونوں یوں ہی ہنستے رہے
دیر تک ہنستے رہے
تتلیاں ناچتی ہیں
پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں
جیسے اِک بات ہے جو
کان میں کہنی ہے خاموشی سے
اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!
اذیت پرست
میں بظاہر جو بہت سادہ ہوں بے حس نظر آتا ہوں تمھیں
ایسا دریا ہوں جہاں سطح کے نیچے چپ چاپ
موجیں شوریدہ ہیں، طوفان اٹھا کرتے ہیں
ٹھہرا پانی ہوں، مگر اس میں بھنور پڑتے ہیں
زخم سب اپنے چھپائے ہیں، ہنسی کے پیچھے
صرف اس واسطے شانوں پہ ردائے تہذیب
ڈالے رہتا ہوں کہ حیواں نہ کہے کوئی مجھے
وہ ثقافت جسے کہتے ہیں، اثاثہ، ورنہ
سالہا سال کی محنت ہے جو انسانوں کی
میرے اِک فعل سے غارت نہ کہیں ہو جائے
ورنہ تم سامنے آتی ہو تو سر سے پا تک
دوڑ جاتی ہے کبھی آگ سی تیزاب سا اک شعلہ سا
تم کو معلوم ہے اس دور میں میرے دن رات
صرف اس واسطے با معنی ہیں تم سامنے ہو
تم کو معلوم ہے یہ گردش ایام مجھے
کیوں بھلی لگتی ہے، کیوں دیکھ کے تم کو آنکھیں
مسکرا اٹھتی ہیں، میں شاد نظر آتا ہوں
میں جو اس پھیلی ہوئی دنیا میں یوں جیتا تھا
جیسے یہ بستی نہیں، شہر ہے اک لاشوں کا
جس میں انسان نہیں مردے ہیں کفن پہنے ہوئے
اور ان مردوں میں لب سوختہ، میں بھی ہوں کہیں
تم نے احساس دلایا نہیں، میں لاش نہیں
اپنی گفتار کی گرمی سے حرارت بخشی
منجمد خون کو دوڑا دیا شریانوں میں
کھینچ لائیں مجھے، تنہائی کی دنیا سے یہاں
میں الف لیلیٰ کا کردار نہیں ہوں کوئی
تم بھی افسانوی محبوبہ نہیں اور نہ تھیں
پھر روایاتی ستم کیوں کیا تم نے مجھ پر؟
خود ہی وارفتہ ہوئیں، کھینچ گئیں خود ہی ایسے
جیسے میں واقعی اِک لاش ہوں چلتی پھرتی
اب تمھیں دیکھ کے میں دل سے دعا کرتا ہوں
لاش بن جاؤں میں، سچ مچ ہی، یہ بیگانہ روی
یہ نیا طرزِ وفا، تم نے جو سیکھا ہے ابھی
کچے شیشے کی طرح ٹوٹ کے ریزہ ہو جائے
اور تم مجھ سے ہر اک خوف کو ٹھکراتے ہوئے
چیخ کر ایسے لپٹ جاؤ، کلیجہ پھٹ جائے!
بنتِ لمحات
تمھارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہے
اسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہ
غنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پر
دیار درد میں آمد کہو مسیحا کی
رواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سو
خلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائی
یہ ایک کہرہ سا، یہ دھند سی جو چھائی ہے
اس التہاب میں، اس سرمگیں اُجالے میں
سوا تمھارے مجھے کچھ نظر نہیں آتا
حیات نام ہے یادوں کا، تلخ اور شیریں
بھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہے
شفق کو قید میں رکھا، صبا کو بند کیا
ہر ایک لمحہ گریزاں ہے جیسے دشمن ہے
نہ تم ملو گی نہ میں، ہم بھی دونوں لمحے ہیں
وہ لمحے جا کے جو واپس کبھی نہیں آتے!
بلاوا
نگر نگر کے دیس دیس کے پربت، ٹیلے اور بیاباں
ڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو، کھیل رہے ہیں میرے ارماں
میرے سپنے، میرے آنسو، ان کی چھلنی چھاؤں میں جیسے
دھول میں بیٹھے کھیل رہے ہوں بالک باپ سے روٹھے روٹھے
دن کے اُجالے، سانجھ کی لالی، رات کے اندھیارے سے کوئی
مجھ کو آوازیں دیتا ہے، آؤ، آؤ، آؤ، آؤ
میری روح کی جوالا مجھ کو پھونک رہی ہے دھیرے دھیرے
میری آگ بھڑک اُٹھی ہے، کوئی بجھاؤ، کوئی بجھاؤ
میں بھٹکا بھٹکا پھرتا ہوں کھوج میں تیری جس نے مجھ کو
کتنی بار پکارا لیکن ڈھونڈ نہ پایا اب تک تجھ کو
میرے سنگی میرے ساتھی تیرے کارن چھوٹ گئے ہیں
تیرے کارن جگ سے میرے کتنے ناتے ٹوٹ گئے ہیں
میں ہوں ایسا پات ہوا میں پیڑ سے جو ٹوٹے اور سوچے
دھرتی میری گور ہے یا گھر، یہ نیلا آکاش جو سرپر
پھیلا پھیلا ہے اور اس کے سورج چاند ستارے مل کر
میرا دیپ جلا بھی دیں گے، یا سب کے سب رُوپ دکھا کر
ایک اِک کر کے کھو جائیں گے، جیسے میرے آنسو اکثر
پلکوں پر تھرتھرا کر تاریکی میں کھو جاتے ہیں
جیسے بالک مانگ مانگ کر نئے کھلونے سو جاتے ہیں!
شام ہوتی ہے
شام ہوتی ہے سحر ہوتی ہے یہ وقت رواں
جو کبھی سنگ گراں بن کے مرے سر پہ گرا
راہ میں آیا کبھی میری ہمالہ بن کر
جو کبھی عقدہ بنا ایسا کہ حل ہی نہ ہوا
اشک بن کر مری آنکھوں سے کبھی ٹپکا ہے
جو کبھی خونِ جگر بن کے مژہ پر آیا
آج بے واسطہ یوں گزرا چلا جاتا ہے
جیسے میں کشمکش زیست میں شامل ہی نہیں!
کوزہ گر
کہیں قومیت ہے کہیں ملک و ملّت کی زنجیر ہے
کہیں مذہبیت، کہیں حریت، ہر قدم پر عناں گیر ہے
اگر میں یہ پردہ ہٹا دوں جسے لفظ ماضی سے تعبیر کرتے رہے ہیں
اگر میں حدود زماں و مکاں سب مٹا دوں
اگر میں یہ دیواریں جتنی کھڑی ہیں گرا دوں
تو ہر قید اُٹھ جائے، یہ زندگی جو قفس ہے
یوں ہی دیکھتے دیکھتے تیلیاں سب بکھیر جائیں اس کی
اور انسان اپنے صحیح رُوپ میں ہر جگہ دے دکھائی
کسی غار کے منہ پہ بیٹھا، کسی سخت اُلجھن میں غلطاں
کہیں شعلہ دریافت کر نے کی خواہش میں پیچاں
کہیں زندگی کو نظام و تسلسل میں لانے کا خواہاں
جہاں کو حسیں دیکھنے کی تمنّا میں کوشاں
زمیں دور تک ایسے پھیلی ہوئی ہے
کشادہ کوئی خوانِ نعمت ہے جیسے
جہاں کوئی پہرہ نہیں کوئی تخصیص و تفریق انساں
یہ سب کی ہے سب کے لیے ہے یہاں سب ہیں مدعو!
میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو بانیِ شر ہے
جو رشیوں، رسولوں کی محنت کو برباد کرتا رہا ہے
میں اس شخص کو ڈھونڈتا ہوں جو ہر دور میں بے محابا
نئے بھیس میں سامری بن کے آتا ہے اور موہتا ہے دلوں کو
اسے ڈھونڈتا ہوں میں جس نے ہر اِک خوان نعمت یہ پہرے لگائے
زمیں کو زمیں سے الگ کر دیا سیکڑوں نام دے کر
اجارہ کی بنیاد ڈالی، کیا جاری پروانہ ءِ راہ داری
بجائے حسیں اعلیٰ قدروں کے تاسیس عالم
رکھی مصلحت پر، مفادات پر، خود پرستی پہ ساری
اور انسان کو خام اشیا میں تبدیل کر کے
بہت پہلے اس سے کہ انسان انسان بنتا
اسے ایک شطرنج کا چوبی مہرہ بنا کر
مقابل کھڑا کر دیا ایک کو دوسرے کے
کہاں ہے وہ قوت وہ ہستی جو یوں عصر کی روح بن کر
فضاؤں کو مسموم کرتی ہے لاشوں سے بھر دیتی ہے خندقوں کو
میں للکارتا ہوں اسے وہ اگر اتنا ہی جادو گر ہے
تو سورج کو مشرق کے بدلے نکالے کبھی آ کے مغرب سے اِک لمحہ بھر کو
ہواؤں کی تاثیر بدلے پہاڑوں کو لاوے میں تبدیل کر دے
سمندر سکھا دے، ہر اِک جلتے صحرا کو زرخیز میداں بنا دے
اصول مشیت بدل دے، زمین آسمانوں کے سب سلسلے توڑ ڈالے
مگر میں اسے کیسے للکار سکتا ہوں، یہ تو خدا ہے
حیات و نمو کی وہ قوت، تغیر جو خود سامری ہے
یہ وہ کوزہ گر ہے جو خود مسخ کرتا ہے چہرے بنا کر
یہ وہ کوزہ گر ہے اسی ایک مٹّی کو ہر بار متھ کر
بنا کر نئے ظرف رکھتا ہے کچھ دیر شیشیوں کے پیچھے سجا کر
انہیں خود ہی پھر توڑ دیتا ہے سب ظرف کوزے قوانین اخلاق سارے
جہاں اتنی شکلیں بنائی بگاڑی ہیں یہ زندگی کا نیا بت بھی اِک دن
فراموش گاری کے اس ڈھیر میں پھینک دے گا جہاں ایسی کتنی ہی چیزیں پڑی ہیں
کہ یہ چاک تو چل رہا ہے یوں ہی آفرینش سے گردش میں ہے اور رہے گا!
یہ دور
نہ وہ زمیں ہے، نہ وہ آسماں، نہ وہ شب و روز
کبھی سمٹتی کبھی پھیلتی ہیں غم کی حدود
ٹھہر گئی ہے اِک ایسے مقام پر دنیا
جہاں نہ رات نہ دن ہے نہ بے کلی نہ جمود
پکارتے ہیں ستارے سنبھالتی ہے زمیں
ہر ایک شئے سے گریزاں ابھی ہے میرا وجود
میں سوچتا ہوں کہیں زندگی نہ بن جائے
خزاں بدوش بہاریں، خمار زہر آلود!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اسی طور سے گرداں ہوں زمانے میں، وہی
صبح ہے، شام ہے، گہنائی ہوئی راتیں ہیں
کوئی آغاز، نہ انجام، نہ منزل نہ سفر
سب وہی دوست ہیں، دہرائی ہوئی باتیں ہیں
چہرے اُترے ہوئے دن رات کی محنت کے سبب
سب وہی بغض و حسد، رشک و رقابت، شکوے
دام تزویر ہے، اُلجھاؤ کی سو گھاتیں ہیں
سب گلی کوچے وہی، لوگ وہی، موڑ وہی
یہ وہی سردی ہے، یہ گرمی، یہ برساتیں ہیں
زلف کی بات ہے یا زہر کہ سب ڈرتے ہیں
کوئی دل دار، نہ دل بر، نہ ملاقاتیں ہیں
کوئی بشاش ہنسی، جینے کی نوخیز اُمنگ
کچھ نہیں بس غم و اندوہ کی باراتیں ہیں
تنگ دامانی کا شکوہ ہے خدا سے ہر وقت
ہر مرض کے لیے نسخے میں مناجاتیں ہیں
جی اُلٹ جاتا ہے اس حبس مسلسل سے مرا
ذہن جاتا ہے کسی نازش خوبی کی طرف
یعنی وہ پرتو گل خانہ بر انداز چمن
ایک پروائی کا جھونکا سا گھنی بدلی سی
شاہد نکہت و انوار سحر، راحت من
رسم دلداری ہے اس سیم بدن کے دم سے
اور مرے دم سے ہے عشاق کا بے داغ چلن
۔۔۔۔۔۔۔
کس کے قدموں کی ہے یہ چاپ یقیناً ہے وہی
یہ یقیناً ہے وہی سرو چمن، بنت بہار
کوئی رُت آئے زمانہ نہیں بدلے گا اسے
جان من تم ہو؟ نہیں ! وہ لب و عارض وہ نکھار؟
نغمگی جسم کی، وہ لوچ سا نشہ سا مدام
ایک چلتا ہوا جادو سا نگاہوں کا قرار؟
سچ کہو تم ہی ہو؟ آتا نہیں آنکھوں کو یقیں؟
ہم تو لہریں ہیں
ہم تو جیسے لہریں ہیں
آسمان کو
چھونے کی خواہش میں
ہم جست لگائیں
تو لگتا ہے
پانی سے شاخیں پھوٹ پڑی ہیں
ہم تو پل چھن میں
اپنے ہونے کا مظاہرہ کر کے
اس ہیئت میں کھو جاتے ہیں
جو ہمیں بے ہیئت کر دیتی ہے
دھرتی کے تہ در تہ رازوں میں رقصاں
اس موجود میں جو موجود ہے
سب کو اپنے جال میں جکڑے ہوئے ہے
ہم سب لاکھوں تار و پود میں گندھے ہوئے ہیں
کوئی ہے؟
کوئی ہے! کوئی ہے! کی صدائیں،
لگاتے ہوئے،
میں سراپا صدا بن گیا،
لوگ آنکھوں کے گہرے گڑھوں سے
مجھے گھورتے،
ایک کیچڑ بھری لہر اُٹھتی شناسائی کی،
میری جانب لپکتی،
مگر ایک جھپکی میں معدوم پڑتی
وہ پھر اپنی گدلی خموشی سمیٹے،
کہاں، کس طرف آتے جاتے،
خبر کچھ نہیں تھی،
برسوں پہلے اسی شہر میں،
بوڑھے پیڑوں تلے آگ روشن تھی اور،
ایک خوشبو گواہی میں موجود تھی،
وہ کہ عہدِ مقدس کی تقریب تھی،
ساتھ دینے کا اک عہد تھا،
اپنی چاہت کے اقرار میں،
کہہ کے لبیک
آواز سے دستخط کر دئیے
اور پھر ایک دن
اپنے اقرار کو بھول کر
میں اسے بھول کر،
اُن دیاروں کی جانب چلا،
جن کو دینار و درہم کی خوشبو نے جکڑا ہوا تھا،
جب میں لوٹا
کھنکتی مہک کی کئی گٹھڑیاں باندھ کر،
کوئی رستہ نہ صورت شناسا ملی،
وہ شجر بھی کہیں پر نہ تھے،
اور لکیروں سے تشکیل پاتی ہوئی،
ایک بے چہرگی تھی ۔
جہاں عقل و دانش کی باتیں فقط شور تھیں
رنگوں اور خوشبوؤں کی جگہ
ایک صحرا ابھرتا نظر آ رہا تھا
اُسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے
بے خدوخال چہرہ ہوا
میری آنکھیں کہیں بہہ گئیں
اور میں
بے صدائی کی تاریک کھائی میں گرتا گیا
اور گرتا چلا جا رہا ہوں
کہانی تونے کتنی دیر کی
کہانی تونے کتنی دیر کی
کچھ دیر پہلے
بام و در روشن تھے
آنگن جگمگاتے تھے
سلامت جگنوؤں کی روشنی تھی
تتلیوں کے رنگ قائم تھے
پرندوں کی اڑانیں تک بہت محفوظ تھیں
پیڑوں کی ساری ٹہنیاں آباد تھیں
شہزادے بھی شہزادیاں بھی جاگتی تھیں
استعارے زندگی کے ضو فشاں تھے
اور صبحوں میں بھرا تھا نور سجدوں کا
اگر تو جلد آ جاتی
ترا باطن منور
تجھے سیراب کرتے
مگر اب خاک میں سب کچھ دبا ہے
عجب مزدور ہے
عجب مزدور ہے
ہر کام کرتا ہے
گھڑی کی سوئیوں میں گھومتا ہے
بہاو بن کے بہتا ہے
زمانوں سے زمانوں تک
شکست و ریخت کرتا ہے
کہیں تعمیر کرتا ہے
خزانے برد کرتا ہے
کہیں دھرتی کی تہہ سے
کوئی گنجِ گمشدہ بھی کھینچ لاتا ہے
کسی کا ساتھ دیتا ہے
کسی کوچھوڑ جاتا ہے
پہاڑوں جنگلوں میں بھی
نظر آتا ہے اپنا کام کرتا
لٹیرا بھی ہے جابر بھی
سخی بھی مہرباں بھی ہے
وہ چاروں سمت چلتا ہے
اسے تو چلتے جانا ہے
ازل کی وادیوں سے
ابد کے سبزہ زاروں تک
عجب مزدور ہے
دور پیڑوں کے سائے میں
دور پیڑوں کے سائے میں۔۔۔
حرکت، مسلسل
مرا دھیان اس کی طرف
اوردل میں کئی واہمے
دل کی دھڑکن میں دھڑکیں
کئی گردشیں
اور میں ہشت پائے کے پنجے میں جکڑا گیا
عجب خوف پیڑوں کے سائےمیں پلتا ہوا
اک تحرک
جو کھلتا نہیں
اور میں منتظر
جو بھی ہونا ہے اب ہو
اور اب ایک آہٹ نے دہلا دیا
بہت دھیمی آہٹ
اجل نے چھوا ہو
کہ دنیا اندھیرے میں ڈوبی
کہیں دور خوشبو میں مہکا سویرا
تحرک کی ہچکی سنی
اور ہر چیز اپنی جگہ تھم گئی
سیاہی کا پردہ گرا
قمقمے جل اُٹھے
اور گھر جگمگانے لگے
بھرا شہر اس دن پریشان تھا
بھرا شہر اس دن پریشان تھا
چوبداروں کی جاں پر بنی تھی
سپاہی ہراساں تھے
راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا
رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایہ جما تھا
کہانی مکمل نہیں تھی
وزیروں کے اذہان عاجز تھے
کیسے مکمل کریں اور عنوان کیا دیں
ادھورے کو پورا بھی کرنا کوئی کار آساں نہیں
منادی کرا دی گئی
لفظ و عنواں کوئی ڈھونڈ لائے تو انعام پائے
مگر وہ کہانی نجانے کہاں کھو گئی ہے
جسے ڈھونڈنے میں بھی صدیوں سے نکلا ہوا ہوں
بکھری راکھ سے۔۔۔
اور اب دھیان میں لاؤں
وہ پل
لاکھ یگوں کے یم کا رستہ جس پر
چھدے ہوئے جسموں کی دھڑکن
نوحہ کناں تھی
ٹوٹتے جڑتے سلسلے لمحوں کے
ٹھیکریاں جب ہیروں سے مس ہو کر
تاب یاب تھیں
کتنے سورج اپنی راکھ میں غلطاں تھے
سب دھاگے ٹوٹ کے بکھر گئے تھے
جسم جلاتی گرم ہوا کی لپٹیں
رنگوں کو صحرا کے پھیکے پن میں ڈھال رہی تھیں
کوندے جھماکے لاکھ نطارے
کتنی کائناتیں جو
بود نہ بود کے ایک نظام سے جڑ کر
ایک تسلسل سے مصروف عمل تھیں
چاروں جانب اڑتی راکھ تھی
دور کہیں پربجتی بانسری
جس کی دھن میں
بکھری راکھ سے روئے زماں کی
پھر تشکیل ہوئی تھی
اس دن
اس دن تو وہ خود بھی شکستہ قابلِ رحم تھا لیکن،
کون تھا جس کے لئے
اس کی ہمدردی نہیں تھی،
جس پر اس کو ترس نہیں آیا تھا،
سو اُس نے اِس لمحے کے زیر اثر،
سب اشیا ء کو دیکھا،
دریا ندی سمندر اپنے کناروں میں سمٹے بل کھاتے ہیں،
تھل میں ویرانی رقصاں ہے،
پیڑ ہیں پاگل ہوا میں ہاتھ میں ہلاتے رہتے ہیں،
پنچھی کتنا اڑتے ہیں،
کو ہ فقط تخریب کی زد پر آ کر گرتے
زلزلےپیداکرتے رہتے ہیں،
ہوا بھی اندھی ہے،
جو سب سے مراسم رکھتی ہے،
اس جیسے سب انساں
اک کاہش میں رینگتی روحیں ہیں،
اس نے دیکھا،
سب کچھ اک مربوط نظام کی جکڑن میں ہے،
سب کچھ جدا جدا ہے،
لیکن اک دوجے سے
لاکھوں رشتے جڑے ہو ئے ہیں۔
ﺭﻧﮓ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ
ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺴﺘﮧ ﻣﮑﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺁﺯﺍﺭ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﮞ
پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے
چھو کے ساحل لہر ہٹتی جا رہی تھی
دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی
صحرا نے پھر خاک اڑائی پانی کی
ﺳﻮﭼﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﮮ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺪﻭﺩ
ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺵ ﮨﯿﮟ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﻤﯿﭧ ﮐﮯ
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تری نذر کر رہا ہوں ، یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں
جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی روز یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں
اداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں
مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے ، یہ جانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی تلاش میں تھے ، یہ جانتا ہوں
مجھے خبر ہے کہ تیرے آنچل میں درد کی ریت چھانتا ہوں
مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر یہ ریت رنگِ حنا بنی ہے
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں یہ آہِ سوزاں گھٹا بنی ہے
یہ درد موجِ صبا ہوا ہے ، یہ آگ دل کی صدا بنی ہے
اور اب یہ ساری متاعِ ہستی، یہ پھول، یہ زخم سب ترے ہیں
یہ دکھ کے نوحے ، یہ سکھ کے نغمے ، جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں
جو تیری قربت، تری جدائی میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں
وہ تیرا شاعر، ترا مغنی، وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جس کے انداز خسروانہ تھے اور ادائیں غریب سی تھیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہ بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے
وہ کوہکن تو نہیں تھا لیکن کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے
وہ تھک چکا ہے اور اس کا تیشہ اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے
ویسٹ لینڈ
ترے بغیر سرد موسموں کے خوشگوار دن اُداس ہیں
فضا میں دُکھ رچا ہُوا ہے!
ہَوا کوئی اُداس گیت گنگنا رہی ہے
پُھول کے لبوں پہ پیاس ہے
ایسا لگتا ہے
ہَوا کی آنکھیں روتے روتے خشک ہو گئی ہوں
صبا کے دونوں ہاتھ خالی ہیں
کہ شہر میں ترا کہیں پتہ نہیں
سانس لینا کِس قدر محال ہے!
اُداسیاںِ__اُداسیاں
تمام سبز سایہ دار پیڑوں نے
ترے بغیر وحشتوں میں اپنے پیرہن کو تار تار کر دیا ہے
اب کسی شجر کے جسم پر قبا نہیں
سُوکھے زرد پتے
کُو بہ کُو تری تلاش میں بھٹک رہے ہیں
اُداسیاںِ___اُداسیاں
مرے دریچوں میں گلابی دُھوپ روز جھانکتی ہے
مگر اب اس کی آنکھوں
وہ جگمگاہٹیں نہیں
جو تیرے وقت میں زمین کے صبیح ماتھے پر
سُورجوں کی کہکشاں سجانے آتی تھیں
زمین بھی مری طرح ہے!
ترے بغیر اس کی کوکھ سے اب بھی
کوئی گُلاب اُگ نہ پائے گا
زمین بانجھ ہو گئی ہے
اور مری رُوح کی بہار آفریں کوکھ بھی!
میری سوچ کے صدف میں
فن کے سچے موتی کس طرح جنم لیا کریں
کہ میں سراپا تشنگی ہوں
اور دُور دُور تک____وصالِ اَبر کی خیر نہیں !
میرے اور تیرے درمیان
پانچ پانیوں کے دیس میں
(کچے گھڑے بھی تو میری دسترس سے دُور ہیں )
میں شعر کس طرح کہوں
میری سوچ کے بدن کو،تُو،نمو تو دے
میں ترے بغیر’’ویسٹ لینڈ‘‘ ہوں !
وہی نرم لہجہ
وہی نرم لہجہ
جو اتنا ملائم ہے ، جیسے
دھنک گیت بن کر سماعت کو چُھونے لگی ہو
شفق نرم کومل سُروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو
کِس قدر!___رنگ و آہنگ کا کِس قدر خُوبصورت سفر!
وہی نرم لہجہ
کبھی اپنے مخصوص انداز میں مُجھ سے باتیں کرے گا
تو ایسا لگے
جیسے ریشم کے جُھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہو!
وہی نرم لہجہ
کسی شوخ لمحے میں اُس کی ہنسی بن کے بکھرے
تو ایسا لگے
جیسے قوسِ قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہو،
ہنسی کی وہ رِم جھم!
کہ جیسے بنفشی چمک دار بوندوں کے گھنگرو چھنکنے لگے ہوں !
کہ پھر
اس کی آواز کا لمس پا کے
ہواؤں کے ہاتھوں میں اَن دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوں !
وہی نرم لہجہ!
مُجھے چھیڑنے پر جب آئے تو ایسا لگے
جیسے ساون کی چنچل ہوا
سبز پتوں کے جھانجھن پہن
سُرخ پُھولوں کی پائل بجاتی ہُوئی
میرے رُخسار کو
گاہے گاہے شرارت سے چُھونے لگے
میں جو دیکھوں پلٹ کے، تو وہ
بھاگ جائے____مگر
دُور پیڑوں میں چُھپ کر ہنسے
اور پھر__ننھے بچوں کی مانند خوش ہوکے تالی بجانے لگے!
وہی نرم لہجہ!
کہ جس نے مرے زخمِ جاں پر ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہے
بہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہے
جو سدا آنے والے نئے سُکھ کے موسم کا قاصد بنا ہے
اُسی نرم لہجے نے پھر مُجھ کو آواز دی ہے!
وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے
تمہاری پوروں کا لمس اب تک
مری کفِ دست پر ہے
اور میں سوچتا ہوں
وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے
وہ کہہ گئے تھے
کہ اب کے جو ہاتھ تیرے ہاتھوں کو چھو گئے ہیں
تمام ہونٹوں کے سارے لفظوں سے معتبر ہیں
وہ کہہ گئے تھے
تمہاری پوریں
جو میرے ہاتھوں کو چھو رہی تھیں
وہی تو قسمت تراش ہیں
اور اپنی قسمت کو
سارے لوگوں کی قسمتوں سے بلند جانو
ہماری مانو
تو اب کسی اور ہاتھ کو ہاتھ مت لگانا
میں اُس سمے سے
تمام ہاتھوں
وہ ہاتھ بھی
جن میں پھول شاخوں سے بڑھ کے لطف نمو اٹھائیں
وہ ہاتھ بھی جو سدا کے محروم تھے
اور ان کی ہتھیلیاں زخم زخم تھیں
اور وہ ہاتھ بھی جو چراغ جیسے تھے
اور رستے میں سنگ فرسنگ کی طرح جا بجا گڑھے تھے۔
وہ ہاتھ بھی جن کے ناخنوں کے نشان
معصوم گردنوں پر مثال طوق ستم پڑے تھے
تمام نا مہربان اور مہربان ہاتھوں سے
دست کش یوں رہا ہوں جیسے
یہ مٹھیاں میں نے کھول دیں تو
وہ ساری سچائیوں کے موتی
مسرتوں کے تمام جگنو
جو بے یقینی کے جنگلوں میں
یقین کا راستہ بناتے ہیں
روشنی کی لکیر کا قافلہ بناتے ہیں
میرے ہاتھوں سے روٹھ جائیں گے
پھر نہ تازہ ہوا چلے گی
نہ کوئی شمع صدا جلے گی
میں ضبط اور انتظار کے اس حصار میں مدتوں رہا ہوں
مگر جب اک شام
اور وہ پت جھڑ کی آخری شام تھی
ہوا اپنا آخری گیت گا رہی تھی
مرے بدن میں مرا لہو خشک ہو رہا تھا
تو مٹھیاں میں نے کھول دیں
اور میں نے دیکھا
کہ میرے ہاتھوں میں
کوئی جگنو
نہ کوئی موتی
ہتھیلیوں پر فقط مری نامراد آنکھیں دھری ہوئی تھیں
اور ان میں
قسمت کی سب لکیریں مٹی ہوئی تھیں۔
وہ صورت آشنا میرا
میں اُس کے سامنے
چپ رہ کے بھی یوں بات کرتی ہوں
کہ آنکھوں کا کوئی حرفِ بدن ناآشنا
آلودۂ پیکر نہیں ہوتا
خواہ موسم پہ مرا اظہار ہو
یا ٹیلی ویژن پر
وہ میرے لمحہ موجود کا دُکھ جان لیتا ہے
مجھے پہچان لیتا ہے
مری ہر بات کا چہرہ نہ چھوکر دیکھنے پر بھی
وہ صورت آشنا میرا
مرے لہجوں کے پس منظر سمجھتا ہے
وہ شام کیا تھی
وہ شام کیا تھی جب اس نے بڑی محبت سے
کہا کہ تو نے یہ سوچا بھی ہے کبھی احمد
خدا نے کتنی تجھے نعمتیں عطا کی ہیں
وہ بخششیں کہ ہیں بالا تر از شمار و عدد
یہ خال و خد یہ وجاہت یہ تندرست بدن
گرجتی گونجتی آواز استوار جسد
بسان لالۂ صحرا تپاں تپاں چہرہ
مثال نخل کہستاں دراز قامت و قد
وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں ؟
وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں
جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو!
تم کہتے تھے
مری آنکھیں ، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں
اس حُسن اور سچائی کے سوا، دُنیا میں کوئی چیز نہیں
کیا اُن آنکھوں کو دیکھ کے بھی
تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو؟
تم کہتے تھے
مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے
’’مری روح اگر اِک بار اُتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہو جائے‘‘
مُجھے اتنا بتاؤ
آج تمھاری رُوح کا رنگ پیراہن کیا ہے
کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں ؟
یہ کالی بھوری آنکھیں
جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے
’’یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں ‘‘
کیا اُن آنکھوں کے رنگ میں بھی،یوں دونوں وقت مِلا کرتے ہیں ؟
کیا سُورج ڈُوبنے کا لمحہ،اُن آنکھوں میں بھی ٹھہر گیا
یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں ؟
مری پلکیں
جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے
اِن کی چھاؤں تمھارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلا دے
تو گُزرتے خواب کے موسم لوٹ آئیں
کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں
جنھیں دیکھ کے نیند آ جاتی ہو؟
تم کہتے تھے
مری آنکھیں یُونہی اچھی ہیں
’’ہاں کاجل کی دُھندلائی ہُوئی تحریر بھی ہو__تو
بات بہت دلکش ہو گی!‘‘
وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی
کیا اُن کا کاجل خُود ہی مِٹ جاتا ہے؟
کبھی یہ بھی ہُوا
کِسی لمحے تم سے رُوٹھ کے وہ آنکھیں رو دیں
اور تم نے اپنے ہاتھ سے اُن کے آنسو خُشک کیے
پھر جُھک کر اُن کو چُوم لیا
(کیا اُن کو بھی!!)
وحی
عجیب موسم تھا وہ بھی،جب کہ
عبادتیں کورچشم تھیں
اور عقیدتیں اپنی ساری بینائی کھو چکی تھیں
خُود اپنے ہاتھوں سے ترشے پتھر کو دیوتا کہہ کے
خیر و برکت کی تعمتیں لوگ مانگتے تھے!
مگر وہ اِک شخص
جو ابھی اپنے آپ پر بھی نہ منکشف تھا
عجیب اُلجھن میں مبتلا تھا
یہ وہ نہیں ہیں ،وہ کون ہو گا کا کربِ بے نام چکھ رہا تھا!
سواپنے ان نارسادُکھوں کی صلیب اُٹھائے
غموں کی نا یافت شہریت کو تلاش کرتے
وہ شہرِ آذر سے دُور
اپنے تمام لمحے
حرا کے غاروں کے خواب آساسکوت کو سونپنے لگا تھا
یہ سوچ کا اعتکاف بھی تھا
اور ایک اَن دیکھی رُوحِ کُل کے وجود کا اعتراف بھی تھا
وہ رات بھی ارتکاز کی ایک رات تھی
جبکہ لمحہ بھرکو
فضا پہ سناٹاچھا گیا
اور ہواؤں کی سانس رُک گئی تھی
ستارۂ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی
گریزپا ساعتیں تحیر زدہ تھیں
جیسے وجود کی نبض تھم گئی ہو!
یکایک اِک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے کر
فضا میں گونجی
’’پڑھو!‘‘
’’میں پڑھ نہیں سکوں گا!‘‘
’’پڑھو!‘‘
’’میں پڑھ نہیں سکوں گا!‘‘
’’پڑھو!‘‘
’’(مگر)میں کیا پڑھوں ؟‘‘
پڑھو___تم اپنے (عظیم)پروردگار کا نام لے کے
جو سب کو خلق کرتا ہے
جس نے انسان کو بنایا ہے منجمد خون سے
پڑھو(کہ) تمھارا پروردگار بے حد کریم ہے
(اور)جس نے تم کو قلم سے تعلیم دی
اُسی نے بتائیں انسان کو وہ باتیں
کہ جن کو وہ جانتا نہیں تھا……۔۔‘‘
فضائے بے نطق جیسے اِقراء کا ورد کرنے لگی تھی
وہ سارے الفاظ،جو
تیرگی کے سیلاب میں کہیں بہہ چکے تھے
پھر روشنی کی لہروں میں
واپسی کے سفر کا آغاز کر رہے تھے
دریچۂ بے خیال میں
آگہی کے سُورج اُتر رہے تھے
اس ایک پل میں
وہ میرا اُمی ّ
مدینۃ العلم بن چکا تھا
واہمہ
تمھارا کہنا ہے
تم مجھے بے پناہ شّدت سے چاہتے ہو
تمھاری چاہت
وصال کی آخری حدوں تک
مرے فقط میرے نام ہو گی
مجھے یقین ہے مجھے یقین ہے،
مگر قسم کھانے والے لڑکے !
تمھاری آنکھوں میں ایک تِل ہے !
واٹر لُو
اُس کے کنول ہاتھوں کی خوشبو
کتنی سبز آنکھوں نے پینے کی خواہش کی تھی
کتنے چمکیلے بالوں نے
چُھوئے جانے کی آس میں خود کو، کیسا کیسا بکھرایا تھا
کتنے پُھول اُگانے والے پاؤں
اُس کی راہ میں اپنی آنکھیں بچھائے پھرتے تھے
لیکن وہ ہر خواب کے ہاتھ جھٹکتی ہُوئی
جنگل کی مغرور ہَوا کی صُورت
اپنی دُھن میں اُڑتی پھرتی
آجِ___مگر
سُورج نے کھڑکی سے جھانکا
تو اُس کی آنکھیں ،پلکیں جھپکنا بُھول گئیں
وہ مغرور سی، تیکھی لڑکی
عام سی آنکھوں ، عام سے بالوں والے
اِک اکھّڑ پردیسی کے آگے
دو زانو بیٹھی
اُس کے بوٹ کے تسمے باندھ رہی تھی
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں
فقیرانہ روش رکھتے تھے
لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے
کہ اپنے خواب بیچیں
ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے
لیکن رو کشِ بازار کب تھے
ہمارے ہاتھ خالی تھے
مگر ایسا نہیں پھر بھی
کہ ہم اپنی دریدہ دامنی
الفاظ کے جگنو
لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے
“خواب لے لو خواب”
لوگو
اتنے کم پندار ہم کب تھے
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں
کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں
ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں
کہ جن کی عاشقی میں
اور ہوا خواہی میں
ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں
چلو ہم بےنوا
محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے
پر اپنے آسماں کی داستانیں
اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں
خریدارو!
تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو
ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو
تم ایسے دام تو ہر بار لائے ہو
مگر تم پر ہم اپنے حرف کے طاؤس
اپنے خون کے سرخاب کیوں بیچیں
ہمارے خواب بےوقعت سہی
تعبیر سے عاری سہی
پر دلزدوں کے خواب ہی تو ہیں
نہ یہ خوابِ زلیخا ہیں
کہ اپنی خواہشوں کے یوسفوں پر تہمتیں دھرتے
نہ یہ خوابِ عزیزِ مصر ہیں
تعبیر جن کی اس کے زندانی بیان کرتے
نہ یہ ان آمروں کے خواب
جو بےآسرا خلقِ خدا کو دار پر لائیں
نہ یہ غارتگروں کے خواب
جو اوروں کے خوابوں کو تہہ شمشیر کر جائیں
ہمارے خواب تو اہلِ صفا کے خواب ہیں
حرف و نوا کے خواب ہیں
مہجور دروازوں کے خواب
محصور آوازوں کے خواب
اور ہم یہ دولتِ نایاب کیوں بیچیں
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں؟
نئی رات
گہن کو اپنے نوشتہ جان کے ، میں نے
روشنیوں سے سارے ناتے توڑ لیے تھے
رات کو اپنی سکھی مان کے
اپنے سارے دُکھ بس اُس سے کہہ کے
جی ہلکا کر لیتی تھی
شام ڈھلے ، تنہائی کے بازو پر سر رکھے سو جاتی
اور نیند کے بے آباد جزیروں میں تنہا
اک تھکی ہُوئی خوشبو کی طرح بھٹکا کرتی!
آج بھی میں تنہا ہوں سفر میں
لیکن خود سے پُوچھ رہی ہوں
میرے وجود کے گرد یہ کیسا ہالہ ہے!
یوں لگتا ہے
چادرِ شب شانوں سے سرکتی جاتی ہے
چاند مرے آنچل میں ستارے ٹانک رہا ہے
آج کی رات
نیند پلکوں کی جھالر کو چُھوتی ہوئی
اوس میں اپنا آنچل بھگو کے
مرے دُکھتے ماتھے پہ رکھنے چلی ہے
مگر__آنکھ اور ذہن کے درمیاں
آج کی شب وہ کانٹے بچھے ہیں
کہ نیندوں کے آہستہ رَو، پھول پاؤں بھی چلنے سے معذور ہیں
ہر بُنِ مو میں اِک آنکھ اُگ آئی ہے
جس کی پلکیں نکلنے سے پہلے کہیں جھڑ چکی ہیں
اور اب ، رات بھر
روشنی اور کُھلی آنکھ کے درمیاں
نیند مصلوب ہوتی رہے گی!
نئی آنکھ کا پُرانا خواب
نئی آنکھ کا پُرانا خواب
آتش دان کے پاس
گُلابی حّدت کے ہالے میں سمٹ کر
تجھ سے باتیں کرتے ہوئے
کبھی کبھی تو ایسا لگاہے
جیسے اُوس میں بھیگی گھاس پہ
اُس کے بازو تھامے ہوئے
میں پھر نیند میں چلنے لگی ہوں !