admin کی تمام پوسٹیں

عبث محفل آرائے رفتار ہیں ہم

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 135
رسیدن گلِ باغ واماندگی ہے
عبث محفل آرائے رفتار ہیں ہم
تماشائے گلشن تماشائے چیدن
بہار آفرینا! گنہ گار ہیں ہم
نہ ذوقِ گریباں، نہ پروائے داماں
نگاہ آشنائے گل و خار ہیں ہم
اسدؔ شکوہ کفرِ دعا ناسپاسی
ہجومِ تمنّا سے لاچار ہیں ہم
مرزا اسد اللہ خان غالب

برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 134
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال
ہیں ورق گردانــئ نیرنگِ یک بت خانہ ہم
باوجودِ یک جہاں ہنگامہ پیرا ہی نہیں
ہیں "چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ” ہم
ضعف سے ہے، نے قناعت سے یہ ترکِ جستجو
ہیں "وبالِ تکیہ گاہِ ہِمّتِ مردانہ” ہم
دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں اسدؔ
جانتے ہیں سینۂ پُر خوں کو زنداں خانہ ہم
مرزا اسد اللہ خان غالب

رکھ لی مرے خدا نے مری بےکسی کی شرم

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 133
مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور
رکھ لی مرے خدا نے مری بےکسی کی شرم
وہ حلقۂ ہائے زلف، کمیں میں ہیں اے خدا
رکھ لیجو میرے دعوۂ وارستگی کی شرم
مرزا اسد اللہ خان غالب

بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 132
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل
بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل
آزادئ نسـیم مبارک کہ ہـر طـرف
ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہوائے گُل
جو تھا ، سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیا
اے وائے ، نالۂ لبِ خونیں نوائے گُل !
خوش حال اُس حریفِ سیہ مست کا، کہ جو
رکھتا ہو مثلِ سایۂ گُل ، سر بہ پائے گُل
ایجاد کرتی ہے اُسے تیرے لیے بہار
میرا رقیب ہے نَفَسِ عطر سائے گُل
شرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سے
مینائے بے شراب و دلِ بے ہوائے گُل
سطوت سے تیرے جلوۂ حُسنِ غیور کی
خوں ہے مری نگاہ میں رنگِ ادائے گُل
تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
بے اختیار دوڑے ہے گُل در قفائے گُل
غالب ! مجھے ہے اُس سے ہم آغوشی آرزو
جس کا خیال ہے گُلِ جیبِ قبائے گُل
مرزا اسد اللہ خان غالب

مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار ، حیف

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 131
بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوش
مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار ، حیف !
جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اِک بار جل گئے
اے ناتمامیِ نَفَسِ شعلہ بار حیف !
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہوئی ہے آتشِ گُل آبِ زندگانیِ شمع

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 130
رُخِ نگار سے ہے سوزِ جاودانیِ شمع
ہوئی ہے آتشِ گُل آبِ زندگانیِ شمع
زبانِ اہلِ زباں میں ہے مرگِ خاموشی
یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانیِ شمع
کرے ہے صِرف بہ ایمائے شعلہ قصہ تمام
بہ طرزِ اہلِ فنا ہے فسانہ خوانیِ شمع
غم اُس کو حسرتِ پروانہ کا ہے اے شعلہ@
ترے لرزنے سے ظاہر ہے ناتوانیِ شمع
ترے خیال سے رُوح اہتــزاز کرتی ہے
بہ جلوہ ریـزئ باد و بہ پرفشانیِ شمع
نشاطِ داغِ غمِ عشق کی بہار نہ پُوچھ
شگفتگی ہے شہیدِ گُلِ خزانیِ شمع
جلے ہے ، دیکھ کے بالینِ یار پر مجھ کو
نہ کیوں ہو دل پہ مرے داغِ بدگمانیِ شمع
@ نسخۂ مہر میں” شعلہ” ، نسخہ آسی میں شعلے۔ شعلہ زیادہ صحیح ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دامِ خالی ، قفَسِ مُرغِ گِرفتار کے پاس

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 129
مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہے
دامِ خالی ، قفَسِ مُرغِ گِرفتار کے پاس
جگرِ تشنۂ آزار ، تسلی نہ ہوا
جُوئے خُوں ہم نے بہائی بُنِ ہر خار کے پاس
مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہَے ہَے!
خُوب وقت آئے تم اِس عاشقِ بیمار کے پاس
مَیں بھی رُک رُک کے نہ مرتا ، جو زباں کے بدلے
دشنہ اِک تیز سا ہوتا مِرے غمخوار کے پاس
دَہَنِ شیر میں جا بیٹھیے ، لیکن اے دل
نہ کھڑے ہوجیے خُوبانِ دل آزار کے پاس
دیکھ کر تجھ کو ، چمن بسکہ نُمو کرتا ہے
خُود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس
مر گیا پھوڑ کے سر غالب وحشی ، ہَے ہَے !
بیٹھنا اُس کا وہ ، آ کر ، تری دِیوار کے پاس
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 128
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!
کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!
دل سے نکلا، پہ نہ نکلا دل سے
ہے ترے تیر کا پیکان عزیز
تاب لاتے ہی بنے گی غالب
واقعہ سخت ہے اور جان عزیز
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہے داغِ عشق، زینتِ جیبِ کفن ہنوز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 127
فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر
ہے داغِ عشق، زینتِ جیبِ کفن ہنوز
ہے نازِ مفلساں "زرِ ا ز دست رفتہ” پر
ہوں "گل فروِشِ شوخئ داغِ کہن” ہنوز
مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
خمیازہ کھینچے ہے بتِ بیدادِ فن ہنوز
مرزا اسد اللہ خان غالب

گزرے ہے آبلہ پا ابرِ گہربار ہنوز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 126
وسعتِ سعیِ کرم دیکھ کہ سر تا سرِ خاک
گزرے ہے آبلہ پا ابرِ گہربار ہنوز
یک قلم کاغذِ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
نقشِ پا میں ہے تپِ گرمئ رفتار ہنوز
مرزا اسد اللہ خان غالب

جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 125
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن
’جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر‘
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
سر جائے یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر
چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافَر کہے بغیر
مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
چلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
بہرا ہوں میں، تو چاہیئے، دونا ہوں التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر
غالب نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
ظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر
مرزا اسد اللہ خان غالب

جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 124
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر
آتش پرست کہتے ہیں اہلَ جہاں مجھے
سرگرمِ نالہ ہائے شرربار دیکھ کر
کیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفا
رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر
وا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر
بِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھ
لیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر
زُنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر
کیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرے
طوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طو ر پر
دیتے ہیں بادہ’ ظرفِ قدح خوار’ دیکھ کر
سر پھوڑنا وہ! ‘غالب شوریدہ حال’ کا
یاد آگیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
مرزا اسد اللہ خان غالب

گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 123
جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
گریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
بہ رنگِ کاغذِ آتش زدہ نیرنگِ بے تابی
ہزار آئینہ دل باندھے ہے بالِ یک تپیدن پر
فلک سے ہم کو عیشِ رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
متاعِ بُردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
ہم اور وہ بے سبب "رنج آشنا دشمن” کہ رکھتا ہے
شعاعِ مہر سے تُہمت نگہ کی چشمِ روزن پر
فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
فروغِ طالعِ خاشاک ہے موقوف گلخن پر
اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا، قاتل سے کہتا ہے
’تو مشقِ ناز کر، خونِ دو عالم میری گردن پر‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 122
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
فنا "تعلیمِ درسِ بے خودی” ہوں اُس زمانے سے
کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایسا
کہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر
مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ یاد آیا
کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلِستاں پر
بجُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہو گا
قیامت اِک ہوائے تند ہے خاکِ شہیداں پر
نہ لڑ ناصح سے، غالب، کیا ہوا گر اس نے شدّت کی
ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
مرزا اسد اللہ خان غالب

تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 121
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
مٹ جائےگا سَر ،گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ ’جاؤں؟‘
مانا کہ ھمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو ’قیامت کو ملیں گے‘
کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارف
کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور
تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کے
پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کے
کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور
مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیر سے لڑائی
بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ ’کیوں جیتے ہیں غالب‘
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
مرزا اسد اللہ خان غالب

کرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 120
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
کرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوند
ہے تیر مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور
تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم، جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
ہر چند سُبُک دست ہوئے بت شکنی میں
ہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور
ہے خوںِ جگر جوش میں دل کھول کے روتا
ہوتے جو کئی دیدۂ خو نبانہ فشاں اور
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
جلاّد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ’ہاں اور‘
لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکا
ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور
لیتا، نہ اگر دل تمھیں دیتا، کوئی دم چین
کرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رُکتی ہے مری طبع، تو ہوتی ہے رواں اور
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھّے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
مرزا اسد اللہ خان غالب

تغیر ” آبِ برجا ماندہ” کا پاتا ہے رنگ آخر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 119
صفائے حیرت آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر
تغیر ” آبِ برجا ماندہ” کا پاتا ہے رنگ آخر
نہ کی سامانِ عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
ہوا جامِ زُمرّد بھی مجھے داغ پِلنگ آخر
مرزا اسد اللہ خان غالب

نگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 118
بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار
نگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
وفورِ عشق نے کاشانہ کا کیا یہ رنگ
کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار
نہیں ہے سایہ، کہ سن کر نوید مَقدمِ یار
گئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار
ہوئی ہے کس قدر ارزانئ مئے جلوہ
کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
جو ہے تجھے سرِ سودائے انتظار، تو آ
کہ ہیں دکانِ متاعِ نظر در و دیوار
ہجومِ گریہ کا سامان کب کیا میں نے
کہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
وہ آ رہا مرے ہم سایہ میں، تو سائے سے
ہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار
نظر میں کھٹکے ہے بِن تیرے گھر کی آبادی
ہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
نہ پوچھ بے خودئِ عیشِ مَقدمِ سیلاب
کہ ناچتے ہیں پڑے سر بسر در و دیوار
نہ کہہ کسی سے کہ غالب نہیں زمانے میں
حریف رازِ محبت مگر در و دیوار
مرزا اسد اللہ خان غالب

بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 117
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد
منصبِ شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا
ہوئی معزولئ انداز و ادا میرے بعد
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
خوں ہے دل خاک میں احوالِ بتاں پر، یعنی
ان کے ناخن ہوئے محتاجِ حنا میرے بعد
درخورِ عرض نہیں جوہرِ بیداد کو جا
نگہِ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
ہے جنوں اہلِ جنوں کے لئے آغوشِ وداع
چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق
ہے مکّرر لبِ ساقی میں صلا@ میرے بعد
غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
کہ کرے تعزیتِ مہر و وفا میرے بعد
آئے ہے بے کسئ عشق پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد
@نسخۂ حمیدیہ میں ہے ’لبِ ساقی پہ‘۔ اکثر نسخوں میں بعد میں یہی املا ہے۔ @ نسخۂ مہر، آسی اور باقی نسخوں میں لفظ ‘پہ’ ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 116
گلشن میں بند وبست بہ رنگِ دگر ہے آج
قمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج
آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
تارِ نفس کمندِ شکارِ اثر ہے آج
اے عافیت! کنارہ کر، اے انتظام! چل
سیلابِ گریہ در پےِ دیوار و در ہے آج
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 115
رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
پھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت
جگر کو مرے عشقِ خوں نابہ مشرب
لکھے ہے ’خداوندِ نعمت سلامت‘
علی اللّرغمِ دشمن، شہیدِ وفا ہوں
مبارک مبارک سلامت سلامت
نہیں گر سر و برگِ ادراک معنی
تماشائے نیرنگ صورت سلامت
مرزا اسد اللہ خان غالب

جن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشت

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 114
افسوس کہ دنداں@ کا کیا رزق فلک نے
جن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشت
کافی ہے نشانی تری چھلّے کا نہ دینا
خالی مجھے دکھلا کے بوقتِ سفر انگشت
لکھتا ہوں اسدؔ سوزشِ دل سے سخنِ گرم
تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
@نسخۂ نظامی میں اگرچہ ’دیداں‘ ہے لیکن معانی کے لحاظ سے ’دنداں‘ مناسب ہے، دیداں سہوِ کتابت ممکن ہے۔ دیداں دودہ کا جمع ہے اس سے مراد کیڑے ہیں۔ تب اس کا مطلب بنتا ہے کہ انگلیوں کو قبر کی کیڑوں کا خوراک بنا دیا۔ نسخۂ مہر اور نسخہ علامہ آسی میں لفظ دیداں ہی آیا ہے ہاں البتہ نسخہ حمیدیہ میں لفظ دندان آیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دودِ شمعِ کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 113
آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
دودِ شمعِ کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست
اے دلِ ناعاقبت اندیش! ضبطِ شوق کر
کون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست
خانہ ویراں سازئ حیرت! تماشا کیجیئے
صورتِ نقشِ قدم ہوں رفتۂ رفتارِ دوست
عشق میں بیدادِ رشکِ غیر نے مارا مجھے
کُشتۂ دشمن ہوں آخر، گرچہ تھا بیمارِ دوست
چشمِ ما روشن، کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
دیدۂ پر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست
غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
بے تکلّف دوست ہو جیسے کوئی غم خوارِ دوست
تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
مجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدۂ دیدارِ دوست
جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغ
سَر کرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بارِ دوست
چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگر
ہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخئ گفتارِ دوست
مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیئے
یا بیاں کیجے سپاسِ لذّتِ آزارِ دوست
یہ غزل اپنی، مجھے جی سے پسند آتی ہےآپ
ہے ردیف شعر میں غالب! ز بس تکرارِ دوست
مرزا اسد اللہ خان غالب

دے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شراب

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 112
پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
دے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شراب
پوچھ مت وجہ سیہ مستئِ اربابِ چمن
سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہَوا موجِ شراب
جو ہوا غرقۂ مے بختِ رسا رکھتا ہے
سر پہ گزرے پہ بھی ہے بالِ ہما موجِ شراب
ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
موجِ ہستی کو کرے فیضِ ہوا موجِ شراب
چار موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سو
موجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب
جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
دے ہے تسکیں بَدَمِ آبِ بقا موجِ شراب
بس کہ دوڑے ہے رگِ تاک میں خوں ہوہوکر
شہپرِ رنگ سے ہے بال کشا موجِ شراب
موجۂ گل سے چراغاں ہے گزرگاہِ خیال
ہے تصوّر میں ز بس جلوہ نما موجِ شراب
نشّے کے پردے میں ہے محوِ تماشائے دماغ
بس کہ رکھتی ہے سرِ نشو و نما موجِ شراب
ایک عالم پہ ہیں طوفانئِ کیفیّتِ فصل
موجۂ سبزۂ نوخیز سے تا موجِ شراب
شرحِ ہنگامۂ مستی ہے، زہے! موسمِ گل
رہبرِ قطرہ بہ دریا ہے، خوشا موجِ شراب
ہوش اڑتے ہیں مرے، جلوۂ گل دیکھ، اسدؔ
پھر ہوا وقت، کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
مرزا اسد اللہ خان غالب

آتش خاموش کی مانند، گویا جل گیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 111
دل میرا سوزِنہاں سے بے محابا جل گیا
آتش خاموش کی مانند، گویا جل گیا
دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
عرض کیجئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا
دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار
اِس چراغاں کا کروں کیا، کارفرما جل گیا
میں ہوں اور افسردگی کی آرزو، غالب! کہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا
مرزا اسد اللہ خان غالب

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 110
دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلک
ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے ‘کیا’؟
حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟
آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا
گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا
خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا
ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسدؔ
ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟
مرزا اسد اللہ خان غالب

نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 109
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے
ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
نفس موجِ محیطِ بیخودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
غمِ آوارگی ہائے صبا کیا
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ ’انا البحر‘
ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ
شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
شکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
کیا کس نے جگرداری کا دعویٰ؟
شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟
بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 108
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤ
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا
موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہ
مر گیے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 107
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا
دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بار ہا ڈھونڈھا، تم نے بارہا پایا
شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
مرزا اسد اللہ خان غالب

تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 106
شمار سبحہ،” مرغوبِ بتِ مشکل” پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا
بہ فیضِ بے دلی، نومیدئ جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
ہوائے سیرِگل، آئینۂ بے مہرئ قاتل
کہ اندازِ بخوں غلطیدن @ بسمل پسند آیا
اصل نسخۂ نظامی میں ’غلتیدن‘ ہے جو سہوِ کتابت ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل، جگر تشنۂ فریاد آیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 105
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
دل، جگر تشنۂ فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز
پھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
سادگی ہائے تمنا، یعنی
پھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا
عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!
نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گی
گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
آہ وہ جرأتِ فریاد کہاں
دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا
پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال
دلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 104
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوئے
ہوں شمعِ کشتہ درخورِ محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایانِ دست و خنجرِ قاتل نہیں رہا
بر روئے شش جہت درِ آئینہ باز ہے
یاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہینِ ستم ہاے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سواے حسرتِ حاصل نہیں رہا
بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
مرزا اسد اللہ خان غالب

تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 103
جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا
اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخئ ناز
جوہرِ آئینہ کو طوطئ بسمل باندھا
یاس و امید نے اک عرَبدہ میداں مانگا
عجزِ ہمت نے طِلِسمِ دلِ سائل باندھا
نہ بندھے تِشنگئ ذوق کے مضموں، غالب
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

رازِ مکتوب بہ بے ربطئِ عنواں سمجھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 102
وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا
رازِ مکتوب بہ بے ربطئِ عنواں سمجھا
یک الِف بیش نہیں صقیلِ آئینہ ہنوز
چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
شرحِ اسبابِ گرفتارئِ خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
بدگمانی نے نہ چاہا اسے سرگرمِ خرام
رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
عجزسے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہو گا
نبضِ خس سے تپشِ شعلۂ سوزاں سمجھا
سفرِ عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستان سمجھا
تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دمِ مرگ
دفعِ پیکانِ قضا اِس قدر آساں سمجھا
دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار، اسدؔ
غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 101
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
ہاں! کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا
بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!
بات کرتے، کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نام
ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہی
آخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہماراَدمِ تحریر بھی تھا؟
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 100
تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
چھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضا نے
خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
توفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالم
میں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا
میں سادہ دل، آزردگیِ یار سے خوش ہوں
یعنی سبقِ شوقِ مکرّر نہ ہوا تھا
دریائے معاصیُتنک آبی سے ہوا خشک
میرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
جاری تھی اسدؔ! داغِ جگر سے مری تحصیل
آ تشکدہ جاگیرِ سَمَندر نہ ہوا تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 99
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا
اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میں
جاں دادۂ ہوائے سرِ رہگزار تھا
موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

شوخئِ وحشت سے افسانہ فسونِ خواب تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 98
شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھا
شوخئِ وحشت سے افسانہ فسونِ خواب تھا
واں ہجومِ نغمہ ہائے سازِ عشرت تھا اسدؔ
ناخنِ غم یاں سرِ تارِ نفس مضراب تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

رشتۂٴ ہر شمع خارِ کِسوتِ فانوس تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 97
شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا
رشتۂٴ ہر شمع خارِ کِسوتِ فانوس تھا
مشہدِ عاشق سے کوسوں تک جو اُگتی ہے حنا
کس قدر یا رب! ہلاکِ حسرتِ پابوس تھا
حاصلِ الفت نہ دیکھا جز شکستِ آرزو
دل بہ دل پیوستہ، گویا، یک لبِ افسوس تھا
کیا کروں بیمارئِ غم کی فراغت کا بیاں
جو کہ کھایا خونِ دل، بے منتِ کیموس تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 96
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا
تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
دل تاجگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی !
دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا
احباب چارہ سازئ وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا
یہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 95
آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے
اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

تھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 94
نالۂ دل میں شب اندازِ اثر نایاب تھا
تھا سپندِبزمِ وصلِ غیر ، گو بیتاب تھا
مَقدمِ سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے !
خانۂ عاشق مگر سازِ صدائے آب تھا
نازشِ ایّامِ خاکستر نشینی ، کیا کہوں
پہلوئے اندیشہ ، وقفِ بسترِ سنجاب تھا
کچھ نہ کی اپنے جُنونِ نارسا نے ، ورنہ یاں
ذرّہ ذرّہ روکشِ خُرشیدِ عالم تاب تھا
آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے ؟
کل تلک تیرا بھی دل مہرووفا کا باب تھا
یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
انتظارِ صید میں اِک دیدۂ بیخواب تھا
میں نے روکا رات غالب کو ، وگرنہ دیکھتے
اُس کے سیلِ گریہ میں ، گردُوں کفِ سیلاب تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

تا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 93
شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا
تا محیطِ بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا
یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا
جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلےٰ کون ہے؟
خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
پوچھ مت رسوائیِ اندازِ استغنائے حسن
دست مرہونِ حنا، رخسار رہنِ غازہ تھا
نالۂ دل نے دیئے اوراقِ لختِ دل بہ باد
یادگارِ نالہ اک دیوانِ بے شیرازہ تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 92
دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا
غالب ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

شعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گرداب تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 91
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گرداب تھا
واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرام
گریے سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا
واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجومِ اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا
جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
یاں رواں مژگانِ چشمِ تر سے خونِ ناب تھا
یاں سرِ پرشور بے خوابی سے تھا دیوار جو
واں وہ فرقِ ناز محوِ بالشِ کمخواب تھا
یاں نفَس کرتا تھا روشن، شمعِ بزمِ بےخودی
جلوۂ گل واں بساطِ صحبتِ احباب تھا
فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موجِ رنگ کا
یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
ناگہاں اس رنگ سے خوں نابہ ٹپکانے لگا
دل کہ ذوقِ کاوشِ ناخن سے لذت یاب تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 90
میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤں
گر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟
ہے ایک تیر جس میں دونوں چھِدے پڑے ہیں
وہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
درماندگی میں غالب کچھ بن پڑے تو جانوں
جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 89
گر نہ ‘اندوہِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گا
بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا
زہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آب
پر توِ مہتاب سیلِ خانماں ہوجائے گا
لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہوجائے گا
دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھا
یعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہوجائے گا
سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوا
مجھ پہ گویا، اک زمانہ مہرباں ہوجائے گا
گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبط
شعلہ خس میں، جیسے خوں رگ میں، نہاں ہوجائے گا
باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
ہر گلِ تر ایک "چشمِ خوں فشاں” ہوجائے گا
وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہوجائے گا
فائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہوجائے گا
مرزا اسد اللہ خان غالب

نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 88
بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا
نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا
مِسی آلود ہے مُہرنوازش نامہ ظاہر ہے
کہ داغِ آرزوئے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
بامیّدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرت
مبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اس کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 87
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
گہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب!
مگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا
حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہی
دوامِ کلفتِ خاطر ہے عیش دنیا کا
غمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دو
مجھے دماغ نہیں خندہ@ ہائے بے جا کا
ہنوز محرمئ حسن کو ترستا ہوں
کرے ہے ہر بُنِ مو کام چشمِ بینا کا
دل اس کو، پہلے ہی ناز و ادا سے، دے بیٹھے
ہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا
نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہے
مری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اُس کو یاد اسدؔ
جفا میں اس کی ہے انداز کارفرما کا
@نسخۂ نظامی کی املا ہے ’خند ہائے‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 86
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
بے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہی
کھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا
بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھے
تِریاکئِ قدیم ہوں دُودِ چراغ کا
سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئے
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غبار
یہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دل
ابرِ بہار خمکدہ کِس کے دماغ کا!
مرزا اسد اللہ خان غالب

چمن زنگار ہے آئینۂ بادِ بہاری کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 85
لطافت بےکثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
چمن زنگار ہے آئینۂ بادِ بہاری کا
حریفِ جوششِ دریا نہیں خوددارئ ساحل
جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 84
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
بے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا
بزمِ قدح سے عیشِ تمنا نہ رکھ، کہ رنگ
صید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
رحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہے
شرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
مقتل کو کس نشاط سے جا تا ہو ں میں، کہ ہے
پُرگل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا
جاں در” ہوائے یک نگہِ گرم” ہے اسدؔ
پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 83
نہ ہو حسنِ تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
ہوس گستاخئیِ آئینہ تکلیفِ نظر بازی
بہ جیبِ آرزو پنہاں ہے حاصل دلربائی کا
نظر بازی طلسمِ وحشت آبادِ پرستاں ہے
رہا بیگانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
نہ پایا درد مندِ دورئیِ یارانِ یک دل نے
سوادِ خطِ پیشانی سے نسخہ مومیائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
اسدؔ! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہے
جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 82
نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیِر پا
موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 81
پئے نذرِ کرم تحفہ ہے ‘شرمِ نا رسائی’ کا
بہ خوں غلطیدۂ صد رنگ، دعویٰ پارسائی کا
نہ ہو’ حسنِ تماشا دوست’ رسوا بے وفائی کا
بہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
زکاتِ حسن دے، اے جلوۂ بینش، کہ مہر آسا
چراغِ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا
نہ مارا جان کر بے جرم، غافل!@ تیری گردن پر
رہا مانند خونِ بے گنہ حق آشنائی کا
تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے
مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
وہی اک بات ہے جو یاں نفَس واں نکہتِ گل ہے
چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا
دہانِ ہر” بتِ پیغارہ جُو”، زنجیرِ رسوائی
عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
نہ دے نامے کو اتنا طول غالب، مختصر لکھ دے
کہ حسرت سنج ہوں عرضِ ستم ہائے جدائی کا
@نسخۂ حمیدیہ، نظامی، حسرت اور مہر کے نسخوں میں لفظ ’قاتل‘ ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 80
لب خشک در تشنگی، مردگاں کا
زیارت کدہ ہوں دل آزردگاں کا
ہمہ نا امیدی، ہمہ بد گمانی
میں دل ہوں فریبِ وفا خوردگاں کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 79
ستایش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا
بیاں کیا کیجئے بیدادِکاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرہء خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا
نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع ، میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ، ہوا ریشہ نَیَستاں کا
دکھاؤں گا تماشہ ، دی اگر فرصت زمانے نے
مِرا ہر داغِ دل ، اِک تخم ہے سروِ چراغاں کا
کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
کرے جو پرتوِ خُورشید عالم شبنمستاں کا
مری تعمیر میں مُضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولٰی برقِ خرمن کا ، ہے خونِ گرم دہقاں کا
اُگا ہے گھر میں ہر سُو سبزہ ، ویرانی تماشہ کر
مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے، میرے درباں کا
خموشی میں نہاں ، خوں گشتہ@ لاکھوں آرزوئیں ہیں
چراغِ مُردہ ہوں ، میں بے زباں ، گورِ غریباں کا
ہنوز اک "پرتوِ نقشِ خیالِ یار” باقی ہے
دلِ افسردہ ، گویا، حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا
نہیں معلوم ، کس کس کا لہو پانی ہوا ہو گا
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالب
کہ یہ شیرازہ ہے عالَم کے اجزائے پریشاں کا
نسخۂ حسرت موہانی میں ’سرگشتہ‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 78
سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 77
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا
رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا
تو اور سوئے غیر نظرہائے تیز تیز
میں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا
صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میں
طُعمہ ہوں ایک ہی نفَسِ جاں گداز کا
ہیں بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہے
ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا
کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز
ناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا
تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسدؔ!
سینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 76
درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں، کہ ہم
الٹے پھر آئے، درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
روبرو کوئی بتِ آئینہ سیما نہ ہوا
کم نہیں نازشِ ہمنامئ چشمِ خوباں
تیرا بیمار، برا کیا ہے؟ گر اچھا نہ ہوا
سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا@
ہر بُنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خونناب
حمزہ کا قِصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہوا
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے، پہ تماشا نہ ہوا
@کام کا ہے مرے وہ فتنہ کہ برپا نہ ہوا ۔ نسخۂ حسرت، نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 75
درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب ،”کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا”
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں@ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا، لہو نہ تھما
کام گر رک گیا، روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے؟
لے کے دل، "دلستاں” روانہ ہوا
کچھ تو پڑھئے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا!
@ نسخۂ مہر، نسخۂ علامہ آسی میں ‘یوں’ کے بجا ئے "یہ” آیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 74
دہر میں نقشِ وفا وجہِتسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
سبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا
میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
دل گزر گاہ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
گر نفَس جادۂ سرمنزلِ تقوی نہ ہوا
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پر بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا
کس سے محرومئ قسمت کی شکایت کیجیے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا
مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالب
ناتوانی سے حریف دمِ عیسی نہ ہوا
وسعتِ رحمتِ حق دیکھ کہ بخشا جائے
مجھ سا کافرکہ جو ممنونِ معاصی نہ ہوا
مرزا اسد اللہ خان غالب

خطِّ جامِ مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 73
قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہوا
خطِّ جامِ مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا
اعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 72
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بز مِ غیر میں یا رب
آج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا
دے وہ جس قد ر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنا
در دِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلادوں
انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا
گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلا
ننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا
تا کرے نہ غمازی، کرلیا ہے دشمن کو
دوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
مرزا اسد اللہ خان غالب

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 71
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی
در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا
وائے دیوانگئ شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں@ ہونا
جلوہ از بسکہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
جوہرِ آئینہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا، مت پوچھ
عیدِ نظّارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا
عشرتِ پارۂ دل، زخمِ تمنا کھانا
لذت ریشِ جگر، غرقِ نمکداں ہونا
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
حیف اُس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب!
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
@ نسخۂ طاہر میں ” پریشاں”
مرزا اسد اللہ خان غالب

عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 70
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!
عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
ذرّہ ذرّہ ساغرِ مے خانۂ نیرنگ ہے
گردشِ مجنوں بہ چشمکہاے لیلیٰ آشنا
شوق ہے "ساماں طرازِ نازشِ اربابِ عجز”
ذرّہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دلِ وحشی، "کہ ہے
عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا”
شکوہ سنجِ رشکِ ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
میرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
کوہکن” نقّاشِ یک تمثالِ شیریں” تھا اسدؔ
سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
مرزا اسد اللہ خان غالب

درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 69
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
تجھ سے، قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجد
تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تمام
مِٹ گیا گھِسنے میں اُس عُقدے کا وا ہو جانا
اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا
ضعف سے گریہ مبدّل بہ دمِ سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
دِل سے مِٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیال
ہو گیا گوشت سے ناخن کا جُدا ہو جانا
ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھُلنا
روتے روتے غمِ فُرقت میں فنا ہو جانا
گر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچے کی ہوس
کیوں ہے گردِ رہِ جَولانِ صبا ہو جانا
تاکہ تجھ پر کھُلے اعجازِ ہوائے صَیقل
دیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
بخشے ہے جلوۂ گُل، ذوقِ تماشا غالب
چشم کو چاہئے ہر رنگ میں وا ہو جانا
مرزا اسد اللہ خان غالب

رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 68
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا
شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
اِس تکلّف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا
گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا
گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گونہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے؟ کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
منہ نہ کھلنے پرہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلا
در پہ رہنے کو کہا، اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلا
کیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزول
آج اُدھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حال
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
اس کی امّت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب! گنبدِ بے در کھلا
مرزا اسد اللہ خان غالب

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 67
شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یارب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پَرافشاں نکلا
بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا
دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد
کام یاروں کا بہ قدرٕ لب و دنداں نکلا
اے نو آموزِ فنا ہمتِ دشوار پسند!
سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سُو طوفاں نکلا
شوخئِ رنگِ حنا خونِ وفا سے کب تک
آخر اے عہد شکن! تو بھی پشیماں نکلا
مرزا اسد اللہ خان غالب

حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 66
نہ ہو گا "یک بیاباں ماندگی” سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 65
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت@ یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا
@ نسخۂ آگرہ، منشی شیو نارائن، 1863ء میں’مری قسمت‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 64
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالب مرگیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب

اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 63
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتاا
اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست نا صح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
غم اگر چہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غم روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا، کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
یہ مسائل تصّوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے ،جو نہ بادہ خوار ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب

بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 62
گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
تنگئ دل کا گلہ کیا؟ یہ وہ کافر دل ہے
کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
بعد یک عمرِ وَرع بار تو دیتا بارے
کاش رِضواں ہی درِ یار کا درباں ہوتا
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھول ہنس ہنس کے گلستاں میں فنا ہوجاتا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 61
آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہ
پھول ہنس ہنس کے گلستاں میں فنا ہوجاتا
کاش ناقدر نہ ہوتا ترا اندازِ خرام
میں غبارِ سرِ دامانِ فنا ہوجاتا
یک شبہ فرصتِ ہستی ہے اک آئینۂ غم
رنگِ گل کاش! گلستاں کی ہَـوا ہوجاتا
مستقل مرکزِ غم پہ ہی نہیں تھے ورنہ
ہم کو اندازہ ءِ آئینِ فنا ہو جاتا
دستِ قدرت ہے مرا خشت بہ دیوارِ فنا
گر فنا بھی نہ میں ہوتا تو فنا ہوجاتا
حیرت اندوزئ اربابِ حقیقت مت ہوچھ
جلوہ اک روز تو آئینہ نما ہوجاتا
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

پئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 60
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوۓ پیرَہن لائ
پئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائ
وقارِ ماتمِ شب زندہ دارِ ہجر رکھنا تھا
سپیدی صبحِ غم کی دوش پر رکھ کر کفن لائ
شہیدِ شیوۂ منصور ہے اندازِ رسوائ
مصیبت پیشگئ مدّعا دار و رسن لائ
وفا دامن کشِ پیرایہ و ہستی ہے اے غالب
کہ پھر نزہت گہِ غربت سے تا حدِّ وطن لائ
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے تکلف اے شرارِ جستہ! کیا ہوجائیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 59
کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیے
بے تکلف اے شرارِ جستہ! کیا ہوجائیے
بیضہ آسا ننگِ بال و پر ہے یہ کنجِ قفس
از سرِ نو زندگی ہو، گر رِہا ہو جائیے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مری محفل میں غالب گردشِ افلاک باقی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 58
نہ حیرت چشمِ ساقی کی، نہ صحبت دورِ ساغر کی
مری محفل میں غالب گردشِ افلاک باقی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے فائدہ یاروں کو فرقِ غم و شادی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 57
زندانِ تحّمل ہیں مہمانِ تغافل ہیں
بے فائدہ یاروں کو فرقِ غم و شادی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 56
اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

نالہ پابندِ نَے نہیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 55
فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے
نالہ پابندِ نَے نہیں ہے
کیوں بوتے ہیں باغباں تونبے؟
گر باغ گدائے مَے نہیں ہے
ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے
پَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے
ہاں ، کھائیو مت فریبِ ہستی!
ہر چند کہیں کہ "ہے” ، نہیں ہے
شادی سے گُذر کہ ، غم نہ ہووے
اُردی جو نہ ہو ، تو دَے نہیں ہے
کیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد !
مَے ہے یہ مگس کی قَے نہیں ہے
ہستی ہے ، نہ کچھ عَدم ہے ، غالب!
آخر تُو کیا ہے ، ”اَے نہیں ہے؟“
مرزا اسد اللہ خان غالب

قیامت کشتۂٴ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 54
لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
قیامت کشتۂٴ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 53
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہکشاں موجِ شفق میں تیغِ خوں آشام ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 52
مستعدِ قتلِ یک عالم ہے جلاّدِ فلک
کہکشاں موجِ شفق میں تیغِ خوں آشام ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 51
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 50
ہوں میں بھی تماشائیِ نیرنگِ تمنا
مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
مرزا اسد اللہ خان غالب

ولے مجھے تپشِ دل ، مجالِ خواب تو دے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 49
وہ آ کے ، خواب میں ، تسکینِ اضطراب تو دے
ولے مجھے تپشِ دل ، مجالِ خواب تو دے
کرے ہے قتل ، لگاوٹ میں تیرا رو دینا
تری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
دِکھا کے جنبشِ لب ہی ، تمام کر ہم کو
نہ دے جو بوسہ ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے
پلا دے اوک سے ساقی ، جو ہم سے نفرت ہے
پیالہ گر نہیں دیتا ، نہ دے شراب تو دے
اسدؔ ! خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پُھول گئے
کہا جو اُس نے ، ”ذرا میرے پاؤں داب تو دے“
مرزا اسد اللہ خان غالب

کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 48
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 47
عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر
دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ روئے غنچہ سوئے آشیاں پھر جائے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 46
صبا لگا وہ طمانچہ طرف سے بلبل کے
کہ روئے غنچہ سوئے آشیاں پھر جائے
مرزا اسد اللہ خان غالب

مر ی قسمت میں یو ں تصویر ہے شب ہائے ہجرا ں کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 45
سیاہی جیسے گِر جاوے دمِ تحریر کاغذ پر
مر ی قسمت میں یو ں تصویر ہے شب ہائے ہجرا ں کی
مرزا اسد اللہ خان غالب

تو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 44
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
تو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی
مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانی
کبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتا
کہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل جوشِ گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 43
حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
دل جوشِ گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھائے
میں بھی جلے ہؤوں میں ہوں داغِ نا تمامی
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 42
پھر اس انداز سے بہار آئی
کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاک
اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
رو کشِ سطحِ چرخِ مینائی
سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی
بن گیا روئے آب پر کائی
سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے
چشمِ نرگس کو دی ہے بینائی
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر
بادہ نوشی ہے باد پیمائی
کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالب
شاہِ دیں دار@ نے شفا پائی
@اصل نسخے میں املا ہے ’دیندار‘ جب کہ تقطیع میں نون غنہ آتا ہے اس لئے تلفّظ کی وضاحت کے لئے یہاں ’دیں دار‘ لکھا گیا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

طوطی کو” شش جہت” سے مقابل ہے آئینہ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 41
از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ
طوطی کو” شش جہت” سے مقابل ہے آئینہ
مرزا اسد اللہ خان غالب

لبوں پہ جان بھی آجائے گی جواب کے ساتھ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 40
نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھ
لبوں پہ جان بھی آجائے گی جواب کے ساتھ
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 39
میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالب
جس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 38
ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 37
ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں
غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں
وعدۂِ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوق
مژدۂ قتل مقدّر ہے جو مذکور نہیں
شاہدِ ہستئ مطلق کی کمر ہے عالَم
لوگ کہتے ہیں کہ ’ ہے‘ پر ہمیں منظور نہیں
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
ہم کو تقلیدِ تُنک ظرفئ منصور نہیں
حسرت! اے ذوقِ خرابی، کہ وہ طاقت نہ رہی
عشقِ پُر عربَدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں
ظلم کر ظلم! اگر لطف دریغ آتا ہو
تُو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیں
کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ “ ہم حور نہیں“
صاف دُردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگ
وائے! وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں
ہُوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالب
میرے دعوے پہ یہ حجّت ہےکہ مشہور نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب