admin کی تمام پوسٹیں

مشرق اور مغرب

پھُول کسی گلشن میں کھِلے

یا کسی کے آنگن کی کیاری میں ،

سڑک کے بیچ میں ، یا

فٹ پاتھ پہ لگے ہوئے پودے میں ،

اس کے رنگ وہی ہیں

اس کی مہک وہی۔

سُورج سُورج ہے

چاہے مشرق سے نکلے

چاہے مغرب سے۔

باصر کاظمی

دِفاع

گو صُلح اور امن سے بڑھ کر نہیں ہے کچھ

موزوں نہیں پیام یہ ہر ایک کے لیے

دشمن کو ڈھیل دی تو ہُوا سَر پہ وہ سوار

کلہاڑی اپنے پاؤں پہ ہرگز نہ ماریے

بادل کی طرح سایہ بھی دیں غیر کو ضرور

لیکن کبھی گرجنا برسنا بھی چاہیے

باصر کاظمی

نِدائے آدم

جہانِ تازہ مِرے دم قدم سے پیدا ہو

بہشت ارض پہ اُس کے کرم سے پیدا ہو

خوشی کی صُبح شبِ تارِ غم سے پیدا ہو

سکون وسوسہء بیش و کم سے پیدا ہو

زبانِ تیشہ سے ایسے ہو کچھ بیانِ حُسن

اَذانِ عشق دہانِ صنم سے پیدا ہو

نظامِ کہنہ اگر چاہیے حیاتِ نَو

یہ وقت ہے کہ تُو میرے قلم سے پیدا ہو

باصر کاظمی

خواندگی

پہلی آواز:

آؤ لکھو پڑھو

تاکہ بہتر طریقے سے خدمت کرو

مُلک اور قوم کی۔

خواندگی خواندگی ورنہ پسماندگی!

دوسری آواز:

اِتنا پڑھ لِکھ کے بھی

میری حالت وہی،

آج اِس کی تو کل اُس کی دہلیز پر

منتظر، ملتجی،

خواندگی!

باصر کاظمی

’نوعُمری اور پیری‘

کل کی بات ہے

کتنے شوق سے میں یہ نظم پڑھا کرتا تھا!

میں نوعُمر تھا،

پیِری خود سے صدیوں دُور نظر آتی تھی۔

اب میں پیِری کی دہلیز پہ آ پہنچا ہوں ،

بچپن اور جوانی مجھ کو بالکل یاد نہیں ہیں

جیسے ان اَدوار سے میں گزرا ہی نہیں ۔

باصر کاظمی

بیٹی کی دسویں سالگرہ پر

مِری اچھی وجیہہ،

میں تجھ سے خوش ہوں اِتنا

کہ اکثر سوچتا ہوں ،

اگر تجھ کو زمیں پر بھیجنے سے پہلے،

خالق مجھ سے کہتا

کہ چن لے اِن ہزاروں لاکھوں بچوں میں سے

اِک اپنے لیے،

تو میں تجھے ہی منتخب کرتا۔

میں خوش قسمت ہوں کتنا!

دعا گو ہوں

سدا جیتی رہے

اور ایسی ہی اچھی رہے تُو!

باصر کاظمی

کب سے خواہش تھی کہ میں لکھوں سلامِ شبیرؑ

مہرباں آج ہوئے مجھ پہ امامِ شبیرؑ

صبرِایّوبؑ میں ہے ضربِ علیؑ کا سا وصف

تیغ کی طرح چمکتی ہے نیامِ شبیرؑ

جائے سجدہ میں ملیں جادۂ جنّت کے سراغ

دل میں تیرے جو اُتر جائے پیامِ شبیرؑ

اہلِ ایمان کی ہر صبح ہے صبحِ عاشور

ان کی ہر شام کا عنوان ہے شامِ شبیرؑ

وقت پڑنے پہ کہیں شمر کے ہمراہ نہ ہوں

ویسے کہتے تو ہیں ہم خود کو غلامِ شبیرؑ

میرے حصّے میں بھی ہوتی یہ حیاتِ جاوید

نامۂ رشک ہے یہ خِضرؑ بنامِ شبیرؑ

آبِ زمزم کی طرح سہل نہیں اِس کا حصول

جامِ کوثر کے لیے شرط ہے جامِ شبیرؑ

شرط ہے راہبری تا بہ شہادت باصرؔ

محض ورثے میں ملا کس کو مقامِ شبیرؑ

باصر کاظمی

بوجھ اتنے صدموں کا دل اگر اُٹھا پایا

تجھ سے ہی مرے مالک اِس نے حوصلہ پایا

ٹھوکروں سے رستے کی خود کو جو بچا پایا

زندگی میں جنت کا اُس نے در کھُلا پایا

حرف حرف کا تیرے ذرّہ ذرّہ ہے شاہد

جو بھی کچھ کہا ہم نے نقش بَر ہوا پایا

اُس کی راہ پر باصرؔ آ گئے جو ہم آخِر

جس قدر گنوایا تھا اُس سے دس گُنا پایا

باصر کاظمی

غریبم شاعرم گوشہ نشینم

نہ کوئی ہمنوا میرا نہ ہمدم
غریبم شاعرم گوشہ نشینم
اب اِس سے بڑھ کے کیا نام و نَسَب ہو
مَن آدم ابنِ آدم ابنِ آدم
بہت چھوٹی سی اپنی سلطنت میں
مَنم سلطان ہم سلطان زادم
کٹی ہے زندگی لفظوں میں اپنی
سخن گویم سخن دانم دبیرم
مرا اعمال نامہ مختصر ہے
تہی دستم و لیکن شادمانم
مری دانِست میں نامِ محمدؐ
کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم
باصر کاظمی

مرے اعمال کا سارا نتیجہ سامنے تھا

صریحاَ روزِ محشر کا سا نقشہ اُس سمے تھا
مرے اعمال کا سارا نتیجہ سامنے تھا
جدا تھے راستے منزل اگرچہ ایک ہی تھی
کہانی وصل کی عنوان جس کا فاصلے تھا
کھلاڑی مجھ سے بہتر بیسیوں پیدا ہوئے ہیں
مگر شطرنج سے جو عِشق مجھ کو تھا کِسے تھا
دیا تھا اختیارِ انتخاب اُس نے مجھے سب
مجھے معلوم ہے پہلے سے تو کچھ بھی نہ طے تھا
بصارت اور سَماعت کے لیے کیا کچھ نہ تھا پر
الگ ہر رنگ ہر آواز سے اِک بَرگِ نَے تھا
باصر کاظمی

کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا

ہو کوئی بھی کاروبار دھندا
کہتے ہیں کہ آج کل ہے مندا
واعظ نے لگا دیا کہیں اور
مسجد کے لیے ملا جو چندا
راجا ترا ہار موتیوں کا
بن جائے گا کل گَلے کا پھندا
اب ہم ہی کریں گے صاف یہ شہر
ہم نے ہی اِسے کیا ہے گندا
ہیں شعر نئے سو کھُردرے ہیں
درکار ہے خواندگی کا رَندا
کاغذ پہ نہ چھپ سکا جو قول
پتھّر پہ کیا گیا ہے کندہ
باصر کاظمی

آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا

ہر دم نہیں دماغ ہمیں تیری چاہ کا
آنا تو خوب ہے ترا پر گاہ گاہ کا
تو اور آئنے میں ترا عکس رُوبرُو
نظّارہ ایک وقت میں خورشید و ماہ کا
ہے خانۂ خدا بھی وہاں بت کدے کی شکل
غلبہ ہو جس زمیں پہ کسی بادشاہ کا
گو شرع و دین سب کے لیے ایک ہیں مگر
ہر شخص کا الگ ہے تصور گناہ کا
اِک گوشۂ بِساط سے پورس نے دی صدا
میں ہو گیا شکار خود اپنی سپاہ کا
باصرؔ توعہد شِکنی کا موقع نہ دے اُسے
ویسے بھی کم ہے اُس کا ارادہ نباہ کا
باصر کاظمی

وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے

جب سے ہم رکھنے لگے ہیں کام اپنے کام سے
وہ اُدھر آرام سے ہیں ہم اِدھر آرام سے
یہ بھی کٹ جائے گی جو تھوڑی بہت باقی ہے عمر
ہم یہی کرتے رہیں گے کام اپنے عام سے
اُس درِ انصاف کے درباں بھی ہیں منصف بہت
ہم جونہی فریاد سے باز آئے وہ دشنام سے
عاشقی میں لُطف تو سارا تجسس کی ہے دین
کر دیا آغاز میں کیوں آشنا انجام سے
خاک سے بنتی ہے جیسے خِشت ہم کچھ اِس طرح
دیکھ کیا سونا بناتے ہیں خیالِ خام سے
اِس طرح مل جائے شاید باریابی کا شرف
مشورہ ہے اب کے عرضی بھیج فرضی نام سے
یا تو وہ تصویر ہے پیشِ نظر یا کچھ نہیں
ہاتھ دھو دیدوں سے باصرؔ یہ گئے اب کام سے
باصر کاظمی

اے صاحبِ فن اتار تصویر

منظر ہے کہ شاہکار تصویر
اے صاحبِ فن اتار تصویر
رہ جاتی ہے یادگار تصویر
ہر چیز سے پایدار تصویر
اب دیکھ لو ایک بار ہم کو
پھر دیکھو گے بار بار تصویر
تصویر کی یار کو ضرورت
محتاجِ جمالِ یار تصویر
معمولی سے کیمرے نے باصرِؔ
کیا کھینچی ہے شاندار تصویر
باصر کاظمی

آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری

پڑھنی تھی کتابِ زیست ساری
آنکھیں ہی چلی گئیں ہماری
تھی آج تو بات ہی کچھ اور
تصویر اُتارتے تمہاری
ہیں چار طرف کے راستے بند
گزرے گی یہاں سے اک سواری
خوش ہو گئے دو گھڑی کچھ یار
سُبکی تو بہت ہوئی ہماری
ثابت کرو اپنے دعوے باصرِؔ
شیخی تو جناب نے بگھاری
باصر کاظمی

دریا بھی سَراب ہو گئے ہیں

حالات خراب ہو گئے ہیں
دریا بھی سَراب ہو گئے ہیں
آسان سوال تھے اگرچہ
دشوار جواب ہو گئے ہیں
لیتی تھیں گھٹائیں جن سے رنگ
محتاجِ خضاب ہو گئے ہیں
راتیں ہیں پہاڑ سی اور دن
مانندِ حباب ہو گئے ہیں
جو کام کبھی گُنہ تھے باصرِؔ
اب کارِ ثواب ہو گئے ہیں
باصر کاظمی

میدان میں طِفل سے ڈریں گے

باتیں تو بڑی بڑی کریں گے
میدان میں طِفل سے ڈریں گے
سب فائدے آپ کے لیے ہیں
نقصان ہیں جتنے ہم بھریں گے
دشمن کی نہیں کوئی ضرورت
آپس ہی میں ہم لڑیں مریں گے
تصویر بنائی اُس نے لیکن
تصویر میں رنگ ہم بھریں گے
باصر کاظمی

بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی

رہِ عِشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی
بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی
سمجھتے ہیں اہلِ نظر حسن کی یہ ادائیں
گھڑی دیکھنے کے بہانے کلائی دکھائی
ہماری توجہ بھی اُس دم ذرا منقسم تھی
مداری نے کچھ ہاتھ کی بھی صفائی دکھائی
دوبارہ بھروسہ کیا آزمائے ہوئے پر
بہت آپ نے بھی طبیعت رجائی دکھائی
عجب کیا جو عاشق نے سر پھوڑ کر جان دے دی
عجب کیا جو محبوب نے بے وفائی دکھائی
باصر کاظمی

اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ

فائدہ ہو اگر ہمارا کُچھ
اِس میں جاتا نہیں تمہارا کُچھ
کل ضرورت پڑے تری شاید
آج ہو جائے گا گزارا کُچھ
دھیان میں آئی شکل وہ سرِ شام
ہو گیا صُبح تک سہارا کُچھ
آسماں کا تھا شب عجب احوال
چاند کہتا تھا کُچھ سِتارا کُچھ
باصر کاظمی

ہے خزاں بھی بہار میں مصروف

سازشِ انتشار میں مصروف
ہے خزاں بھی بہار میں مصروف
ہم نے رکھا کئی طرح خود کو
فرصتِ انتظار میں مصروف
مثلِ سیاّرگاں بنی آدم
اپنے اپنے مدار میں مصروف
عشق روتا ہے آٹھ آٹھ آنسو
حُسن سولہ سِنگھار میں مصروف
آہ وہ وقت جب لہو میرا
تھا دلِ بیقرار میں مصروف
زندگی کٹ رہی ہے باصرِؔ کی
بے ثمر کاروبار میں مصروف
باصر کاظمی

اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی

پہلے ہی زندگی تھی ہماری پہاڑ سی
اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی
دنیا اِسے خلیج بنا دے گی ایک دن
ہم دونوں کے جو بیچ پڑی ہے دراڑ سی
مشکِل ہُوا پتنگ کو اپنی سنبھالنا
الجھی ہُوئی ہے ڈور سے کوئی دُگاڑ سی
اپنی حدود کا بھی کچھ اِدراک چاہیے
اچھا ہے درمیاں میں رہے ایک باڑ سی
تھی بے اثر غزالِ شکستہ کی آہِ نرم
اب چاہیے ہے شیرِ ببر کی دہاڑ سی
باصر کاظمی

اِک نگہ نے پھِردکھا دی میری خاکستر کو آگ

کچھ قرار آنے لگا تھا مدتوں جلنے کے بعد
اِک نگہ نے پھِردکھا دی میری خاکستر کو آگ
چل رہے تھے کب سے ننگے پاؤں جلتی ریت پر
کیا عجب چڑھنے لگی ہے اب جو اپنے سر کو آگ
دوستو محفوظ مت سمجھو تم اپنے آپ کو
ایک گھر کی آگ سے لگ جائے گی ہر گھر کو آگ
باصر کاظمی

فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر

اپنا زیادہ وقت ہوا نوکری کی نذر
فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر
اپنی خوشی تمہاری خوشی میں تھی اس لیے
کردی خوشی خوشی سے تمہاری خوشی کی نذر
یہ جسم ہے سو تیری امانت ہے اے اجل
وہ جاں تو کر چکے ہیں کبھی کے کسی کی نذر
کچھ نیکیاں جو اشکِ ندامت کا تھیں ثمر
صد حیف سب کی سب ہوئیں تر دامنی کی نذر
خود آگہی کے گرچہ مواقع ملے بہت
ہوتے رہے مگر وہ مری بے خودی کی نذر
باصر ؔہمارے کام نہ آیا ہمارا دل
کچھ اُن کی نذر ہو گیا کچھ شاعری کی نذر
باصر کاظمی

لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت

اُس کے لیے کچھ بھی کریں انجام شکایت
لگتا ہے کہ اُس کا تو ہے بس کام شکایت
جو کچھ اُسے درکار ہے وہ سب ہے میسّر
کس بات کی کرتا ہے وہ گُلفام شکایت
گلشن کی فضا میں بھی ہم آزاد کہاں تھے
صیّاد سے کرتے جو تہِ دام شکایت
ہم نے ہی نہ خود کو کیا تیرے لیے تیار
تجھ سے نہیں کچھ گردشِ ایّام شکایت
ہر شخص کی کرتا ہے شکایت جو تو اے شیخ
ایسا نہ ہو پڑ جائے تِرا نام شکایت
موقع ہی نہ پایا کبھی تنہائی میں ورنہ
کرتے نہ کبھی تجھ سے سرِ عام شکایت
ہم فرش نشیں خوش ہیں اِسی بات پہ باصرِؔ
پہنچی تو کسی طور لبِ بام شکایت
باصر کاظمی

کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک

اُن کو سب کچھ ہی لگ رہا ہے ٹھیک
کیا کہوں کیا غلط ہے کیا ہے ٹھیک
کبھی لب بستگی مناسب ہے
اور کبھی عرضِ مدعا ہے ٹھیک
ڈوب جائیں گے سُنتے سُنتے ہم
سب غلط ایک ناخدا ہے ٹھیک
آج ہم ٹھیک ہیں مگر یارو
مستقل کون رہ سکا ہے ٹھیک
تھی شفا چارہ گر کی باتوں میں
ہم سمجھتے رہے دوا ہے ٹھیک
چَین سے سو رہا ہے ہمسایا
چلیے کوئی تو گھر بنا ہے ٹھیک
ایک ہی دوست رہ گیا تھا مرا
وہ بھی دُشمن سے جا مِلا ہے، ٹھیک
کر دیا تھا عدو نے کام خراب
کر کے کتنے جتن کیا ہے ٹھیک
تیرا بیمار تجھ کو بھُول گیا
کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے ٹھیک
کچھ دوا کر کہ زخمِ دل باصرِؔ
خود بخود بھی کبھی ہُوا ہے ٹھیک
باصر کاظمی

حَلف اُٹھایا مگر سچ نہ کہی کوئی بات

پڑھتا ہوں بے شک نماز بھول گیا میں صلات
حَلف اُٹھایا مگر سچ نہ کہی کوئی بات
خواہشِ زر کی سدا مجھ پہ حکومت رہی
جسم حرَم ہے مرا ذہن مگر سومنات
کتنا ہی ناپاک ہو مال سمیٹا ہُوا
پاک سمجھتا ہوں میں دے کے ذرا سی زکات
باندھوں کہ کھولوں اِنہیں رہتی ہے یہ کشمکش
اِس لیے گویا مجھے تُو نے دئیے تھے یہ ہات
مجھ سے ہیں بہتر شجر اور چرند و پرند
پاس تِرے حُکم کا کرتے ہیں دِن ہو کہ رات
اپنا کرَم کر کہ کُچھ اِن میں نَم و دَم پڑے
سوکھ چلا ہے قلم خشک ہوئی ہے دوات
باصر کاظمی

دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے

زیاں جگر کا سہی یہ جو شغلِ بادہ ہے
دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے
دکھائی دی ہے جھلک اُس کی ایک مدت بعد
یہ خواب میرے لیے خواب سے زیادہ ہے
ملائے گا یہ کسی شاہراہ سے ہم کو
مٹا مٹا سا جو قدموں میں اپنے جادہ ہے
یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بِساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے
یہ سوچ کر وہ مری بات کاٹ دیتے ہیں
کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کا اعادہ ہے
یہاں رہیں گے وہ میرے حریف کے ہمراہ
اُنہیں گماں ہے مرا دل بہت کشادہ ہے
وہ اہلِ بزم کی رنگیں نوائی اپنی جگہ
ہزار رنگ لیے میرا حرفِ سادہ ہے
اگر خدا نے نکالا بُتوں کے چکّر سے
طوافِ کعبہ کا اب کے برس اِرادہ ہے
باصر کاظمی

کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں

معلوم ہے کہ وہ تو ملے گا نہیں کہیں
کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں
شاید فلک ہی ٹوٹ پڑا تھا وگرنہ یوں
جاتا ہے چھوڑ کر کوئی اپنی زمیں کہیں
اک دوسرے کو دیکھتے ہیں آئینے کی طرح
ہو جائیں روبرو جو کبھی دو حسیں کہیں
مقصود اِس سے اہلِ نظر کا ہے اِمتحاں
وہ سامنے نہیں ہے مگر ہے یہیں کہیں
شہروں میں اپنے گویا قیامت ہی آگئی
اڑ کر مکاں کہیں گئے باصرِؔ مکیں کہیں
باصر کاظمی

وہ چہرے سے بہت معصوم ہے عیّار دل سے

بھروسہ کرکے دیکھا میں نے تو سو بار دل سے
وہ چہرے سے بہت معصوم ہے عیّار دل سے
سُنے گا شوق سے قصے زمانے بھر کے لیکن
کہاں سنتا ہے دل کی بات وہ دلدار دل سے
ہو اقلیمِ شہنشاہی کہ جمہوری ولایت
رعایا کی کبھی ہوتی نہیں سرکار دل سے
کٹا سکتے نہیں انگلی بھی اب تو اُس کی خاطر
کبھی ہم جان تک دینے کو تھے تیار دل سے
کچھ اپنے بھی تو شامل تھے عدو کے ساتھ اس میں
کروں میں کس طرح تسلیم اپنی ہار دل سے
دِکھانے کے لیے دنیا کو چاہے کچھ بھی کر دیں
کبھی بھی صلح کر سکتے نہیں اغیار دل سے
نبھائی ایک مدّت ہم نے لیکن آج کل کچھ
مرا دل مجھ سے ہے بیزار، میں بیزار دل سے
چہکتی بولتی دھڑکن ہوئی ویران کیونکر
کوئی پوچھے کبھی آ کر مرے بیمار دل سے
اُترتے ہیں کچھ اُس کے دل میں بھی یہ دیکھنا ہے
لکھے ہیں میں نے تو یہ سب کے سب اشعار دل سے
باصر کاظمی

اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا

عجب نہیں جو بنا دیں پہاڑ رائی کا
اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا
ہمیں تو آنکھوں کے دیکھے کا اعتبار نہیں
اُدھر بھروسہ ہے کتنا سنی سُنائی کا
ہمیں تو لگتی ہے دشوار بندگی بھی بہت
عجیب تھے جنہیں دعوی رہا خدائی کا
چمک سی ایک فریبِ امید کی جو نہ ہو
جو موت کا ہے وہی رنگ ہے جدائی کا
باصر کاظمی

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر

رندوں کا ہو رہا ہے گزارا پیے بغیر
احسان مانتے ہیں تمہارا پیے بغیر
مے سے زیادہ ہم کو ترا میکدہ عزیز
خوش ہو رہے ہیں کر کے نظارا پیے بغیر
گِنتے ہوئے ستارے گزرتی ہے اُس کی رات
جو دیکھتا ہے شام کا تارا پیے بغیر
اِس اجنبی دیار میں ملتی نہیں شراب
کرنا ہے اب یہ رنج گوارا پیے بغیر
پی لو گے چار گھُونٹ تو باصرِؔ کرو گے کیا
درکار ہے تمہیں تو سہارا پیے بغیر
باصر کاظمی

یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر

ممکن نہیں خموش رہوں لب سیے بغیر
یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر
انصاف کا اصولِ توازن یہ خوب ہے
دیتے نہیں وہ حق بھی مرا کچھ لیے بغیر
لگتا ہے تیرے ساتھ ملی زندگی ہمیں
گویا کہ اِس سے پہلے جیے ہم جیے بغیر
ناصح کریں گے تیری نصیحت پہ ہم عمل
ہو آئے اُس گلی سے جو تُو دل دیے بغیر
اب اُس کی ہوش مندی کی دینی پڑے گی داد
شیشے میں جس نے تجھ کو اُتارا پیے بغیر
باصر کاظمی

یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا

نہ اب ہے شعلہ مرے اختیار میں نہ ہوا
یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا
ہیں ذہن و دل مرے تیار کچھ بھی سننے کو
اگر مرض ہے مرا لاعلاج مجھ کو بتا
نہ تھا بلندی و پستی کے درمیاں کچھ بھی
پہاڑ سے جو میں لُڑھکا ڈھلان پر نہ ٹِکا
منا لیا تھا کسی طور کل جسے ہم نے
سنا ہے اب ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ خفا
ابھی بھی وقت ہے باصرِؔ ہماری بات سنو
تمہارے ساتھ نہ ہو جو ہمارے ساتھ ہوا
باصر کاظمی

کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ

اچھا کہ برا نہیں رہا کچھ
کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ
ہر چند بتا نہیں رہا کچھ
میں تجھ سے چھُپا نہیں رہا کچھ
اک ننھی سی لَو سے سب کچھ تھا
بُجھتے ہی دیا نہیں رہا کچھ
اب کس کو چمن میں ڈھونڈتی ہے
اے بادِ صبا نہیں رہا کچھ
اب ہم بھی بدل گئے ہیں باصرِؔ
اب اُن سے گِلہ نہیں رہا کچھ
باصر کاظمی

ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے

مخمور چشمِ یار نے ایسا کیا مجھے
ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے
تجھ کو تو اپنی ساکھ ہے اے چارہ گر عزیز
تو نے مرے لیے نہیں اچھا کیا مجھے
کیا کیا دکھائے رنگ مجھے تیرے ہجر نے
دریا بنا دیا کبھی صحرا کیا مجھے
جو شعر میں نے چھوڑ دیا اُن کو یاد تھا
’’شعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے‘‘
باصر کاظمی

آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح

سوئے بہت مگر کسی بیمار کی طرح
آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح
کچھ ایسی پُختہ ہو گئی دِل توڑنے کی خو
اِقرار کر رہے ہیں وہ اِنکار کی طرح
بیکار سمجھے جاتے ہیں فن کار اِس لیے
دن رات کام کرتے ہیں بیگار کی طرح
میری غزل میں کیسے تغزل ملے اُنہیں
پڑھتے ہیں اب وہ شاعری اخبار کی طرح
باصر کاظمی

سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک

صد حیف رہے خواب و خیالات کی حد تک
سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک
یہ شہر تمہارا مری بستی کے مقابل
اچھا ہے مگر صِرف عمارات کی حد تک
کر سکتے تماشا تو زمانے کو دکھاتے
لفظوں کے کمالات کرامات کی حد تک
آوارہ خرامی کی بھلا اب کسے فرصت
ہوتی ہے ملاقات ملاقات کی حد تک
خوشیوں میں تو کرتا ہوں شریک اوروں کو لیکن
رہتے ہیں مرے رنج مری ذات کی حد تک
ہوتے ہیں عموماَ یہ مِری دھُوپ کے دشمن
بادل مجھے خوش آتے ہیں برسات کی حد تک
دن دوگنی شب چوگنی کی ہم نے ترقی
کچھ راہنماؤں کے بیانات کی حد تک
افسوس کہ صاحب نے کیا اُن پہ بھروسہ
تھی جن کی وفاداری مراعات کی حد تک
اب حِکمتِ قرآن شب و روز میں اپنے
باقی ہے فقط قرأتِ آیات کی حد تک
ہر گام پہ تھا راہنما دین جو اپنا
محدود ہُوا صِرف عبادات کی حد تک
ڈرتا ہوں میں واعظ سے کہ اقبالؔ نہیں ہوں
شکوہ مرا ہوتا ہے مناجات کی حد تک
ہر چند مہذب کوئی ہم سا نہیں باصرؔ
بہکیں تو چلے جائیں خرافات کی حد تک
باصر کاظمی

یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی

نہیں کچھ فرق اب رہیے جہاں بھی
یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی
بیاباں کی شکایت کیسی یارو
ہوا پرخار اب تو گُلستاں بھی
معلق ہو گئے باصرِؔ فضا میں
زمیں چھوٹی تو روٹھا آسماں بھی
باصر کاظمی

یہ دل کرے گا کسی دن کوئی بڑی لغزش

ہوئی ہے آج تو بس ایک عام سی لغزش
یہ دل کرے گا کسی دن کوئی بڑی لغزش
بس اس قدر ہی یہ دنیا سمجھ میں آئی ہے
وہیں سزا ملی ہم کو جہاں ہوئی لغزش
ہُوا ہے کھیل جو میری گرفت سے باہر
ضرور مجھ سے ہوئی ہے کہیں کوئی لغزش
ازالۂ غلَطی کا ہے انحصار اِس پر
وہ صبح کی غلَطی ہے کہ شام کی لغزش
نہیں ہے جیتنا ممکن ترے لیے باصرِؔ
ترا حریف نہ جب تک کرے کوئی لغزش
باصر کاظمی

ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا

کہاں سیاستِ اغیار نے ہلاک کیا
ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا
کسی کی موت کا باعث تھی خانہ ویرانی
کسی کو رونقِ گلزار نے ہلاک کیا
کسی کے واسطے پھولوں کی سیج موجبِ مرگ
کسی کو جادہء پُرخار نے ہلاک کیا
کسی کو شعلہء خورشید نے جلا ڈالا
کسی کو سایہء اشجار نے ہلاک کیا
سوادِ شام کسی کے لیے پیامِ اجل
کسی کو صبح کے آثار نے ہلاک کیا
کسی کی جان گئی دیکھ کر ترا جلوہ
کسی کو حسرتِ دیدار نے ہلاک کیا
کوئی شکار ہوا اپنی ہچکچاہٹ کا
کسی کو جرأتِ اظہار نے ہلاک کیا
کسی کا تختہ بچھایا نصیبِ خُفتہ نے
کسی کو طالعِ بیدار نے ہلاک کیا
وہی ہلاکو کہ جس نے کیے ہزاروں ہلاک
اُسے بھی وقت کی یلغار نے ہلاک کیا
کسی کو مار گیا اُس کا کم سخن ہونا
کسی کو کثرتِ اشعار نے ہلاک کیا
وہی خسارہ ہے سب کی طرح ہمیں درپیش
ہمیں بھی گرمیِ بازار نے ہلاک کیا
کبھی تباہ ہوئے مشورہ نہ ملنے سے
کبھی نوشتہء دیوار نے ہلاک کیا
ملی تھی جس کے لبوں سے نئی حیات ہمیں
اُسی کی شوخیِ گفتار نے ہلاک کیا
خدا کا شکر کہ پستی نہ ہم کو کھینچ سکی
ہمیں بلندیِ معیار نے ہلاک کیا
باصر کاظمی

جو میری غزل سرائی کے تھے

وہ دن تری بے وفائی کے تھے
جو میری غزل سرائی کے تھے
دل اشکوں کی داد چاہتا تھا
سامان یہ جگ ہنسائی کے تھے
ملنے کے جتن کیے تھے جتنے
اسباب وہی جدائی کے تھے
ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی
آثار تری بڑائی کے تھے
گو تلخ زباں تھے اہلِ محفل
شیدائی سبھی مٹھائی کے تھے
نالے تو بلا کے تھے ہی باصرِؔ
نغمے بھی ترے دہائی کے تھے
باصر کاظمی

کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ

مگن ہوئے ہیں کسی اور ہی لگن میں لوگ
کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ
وہی ہیں رنگ خزاں اور بہار کے لیکن
کچھ اور دیکھنے جاتے ہیں اب چمن میں لوگ
بدل دیے ہیں زمانے نے عشق کے انداز
سو دیکھ پائیں گے کیا قیس و کوہکن میں لوگ
ترس گئے ہیں مرے کان حرفِ شیریں کو
لیے ہوئے ہیں بڑی تلخیاں دہن میں لوگ
اگرچہ نعمتیں حاصل ہیں دو جہاں کی اِنہیں
اداس رہتے ہیں یارب مرے وطن میں لوگ
کہی تھی تو نے تو ہر بات صاف صاف مگر
نجانے سمجھے ہیں کیا اپنے بھولپن میں لوگ
میں کیا بتاؤں تجھے خوب جانتا ہے تو
شریک ہوتے ہیں کیوں تیری انجمن میں لوگ
دکھائی دی تھی جو اِتنی طویل رات کے بعد
تلاش کرتے رہے مہر اُس کرن میں لوگ
مرے سُخن میں سُخن بولتا ہے ناصِر کا
مجھے بھی پائیں گے ہر محفلِ سخن میں لوگ
باصر کاظمی

آ گئے اِس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے

ہم کہ جو ہر ابر کو ابرِ کرم سمجھا کیے
آ گئے اِس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے
اُس نے اپنے منہ پہ انگلی رکھ کے آنکھیں بند کیں
میں نے کچھ کہنے کو اپنے ہونٹ جونہی وا کیے
روز لگ جاتے ہیں اُس کے صحن میں کاغذ کے ڈھیر
مستعد خط لکھنے والوں سے زیادہ ڈاکیے
ایک سورج کے لیے یہ کہکشاں در کہکشاں
اک زمیں کے واسطے سو آسماں پیدا کیے
خیر ہو چارہ گری کی میرے چارہ گر تجھے
مدتیں گزریں کسی بیمار کو اچھا کیے
باصر کاظمی

میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پُکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی سِتارا کم ہے
دوستی میں تو کوئی شک نہیں اُس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے
صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے
ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تِل ہم نے بھی
ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے
اِتنی جلدی نہ بنا رائے مِرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گُذارا کم ہے
باغ اک ہم کو مِلا تھا مگر اِس کو افسوس
ہم نے جی بھر کے بِگاڑا ہے سنوارا کم ہے
آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ
کونسا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے
باصر کاظمی

باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں
حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری
ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں
تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد
مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں
جونہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب
سارے جہاں کی اُس میں ملیں گی خرابیاں
سرکار کا ہے اپنا ہی معیارِ انتخاب
یارو کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں
آدم خطا کا پُتلا ہے گر مان لیں یہ بات
نکلیں گی اِس خرابی سے کتنی خرابیاں
اُن ہستیوں کی راہ پہ دیکھیں گے چل کے ہم
جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں
بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج
جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں
باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اُس میں ہیں
کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں
باصر کاظمی

ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب

کرتے نہ ہم جو اہلِ وطن اپنا گھر خراب
ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب
اعمال کو پرکھتی ہے دنیا مآل سے
اچھا نہ ہو ثمر تو ہے گویا شجر خراب
اک بار جو اتر گیا پٹٹری سے دوستو
دیکھا یہی کہ پھر وہ ہوا عمر بھر خراب
منزل تو اک طرف رہی اتنا ضرور ہے
اک دوسرے کا ہم نے کیا ہے سفر خراب
ہوتی نہیں وہ پوری طرح پھر کبھی بھی ٹھیک
ہو جائے ایک بار کوئی چیز گر خراب
اے دل مجھے پتہ ہے کہ لایا ہے تو کہاں
چل خود بھی اب خراب ہو مجھ کو بھی کر خراب
اِس کاروبارِ عشق میں ایسی ہے کیا کشش
پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب
اک دن بھی آشیاں میں نہ گزرا سکون سے
کرتے رہے ہیں مجھ کو مرے بال و پر خراب
رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات
کرتی ہے آرزوئے کمالِ ہنر خراب
اِس تیرہ خاکداں کے لیے کیا بِلا سبب
صدیوں سے ہو رہے ہیں یہ شمس و قمر خراب
لگتا ہے اِن کو زنگ کسی اور رنگ کا
کس نے کہا کہ ہوتے نہیں سیم و زر خراب
اک قدر داں ملا تو یہ سوچا کہ آج تک
ہوتے رہے کہاں مرے لعل و گہر خراب
خاموش اور اداس ہو باصرؔ جو صبح سے
آئی ہے آج پھر کوئی گھرسے خبر خراب
باصر کاظمی

اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام

کام سے بڑھ کر تھا جن کو جاہ و اکرام سے کام
اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام
جن کا کام بنانا چاہا اُن سے بگڑ گئی
اسی لیے اب ہم رکھتے ہیں اپنے کام سے کام
کوئی نہ کوئی نئی مصیبت روز کھڑی کرتے ہو
ایک بھی دن کرنے نہ دیا ہم کو آرام سے کام
ابھی تو اُس میں دیکھتے ہو دنیا بھر کے اوصاف
پوچھوں گا جس روز پڑے گا اُس گلفام سے کام
لوگ گلی کوچوں میں بچارے ہو جاتے ہیں خوار
تم تو فقط کہہ دیتے ہو بالائے بام سے کام
زاہد اس سے قبل کہ جانا ہو داتا کے پاس
ہو توفیق تو کچھ کر لو سَر گنگا رام سے کام
اپنی کوشش تو ہوتی ہے اچھے شعر سنائیں
ورنہ چل جاتا ہے ناصِر تیرے نام سے کام
تھوڑی دیر رُکے ہیں باصرؔ ٹھنڈی چھاؤں میں ہم
پیڑ گِنے وہ باغ ہے جس کا ہمیں تو آم سے کام
باصر کاظمی

زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ
زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ
بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی
ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ
دل و نظر کی جو بچھڑے ہوئے تھے مدت سے
ہوئی ہے آج ملاقات اک پرانی جگہ
ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگ
تصورات میں اپنے ہے ایک ایسی جگہ
یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا
کہا تھا کس نے کہ آ کر رہو پرائی جگہ
گِلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
نہیں ہے سہل کوئی جانشینِ قیس ملے
پڑی ہوئی ہے بڑی دیر سے یہ خالی جگہ
کیے ہوئے ہے فراموش تو جسے باصرِؔ
وہی ہے اصل میں تیرا مقام تیری جگہ
باصر کاظمی

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
صورتِ حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر
پھر مخاطَب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو
تارِ گیسو یا رگِ گُل سے ہوئے ہم بے نیاز
دار تک جب آ گئے عاشق رسن کوئی بھی ہو
ہے وہی لا حاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے کوہکن کوئی بھی ہو
ہیں جو پُر از آرزو ہوتے نہیں محتاجِ مے
رات دن مخمور رکھتی ہے لگن کوئی بھی ہو
ہے کسی محبوب کی مانند اُس کا انتظار
دیدہ و دل فرشِ رہ مشتاقِ فن کوئی بھی ہو
شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصِر کا نشاں
ڈھونڈتے ہیں ہم اُسے بزمِ سخن کوئی بھی ہو
عادتیں اور حاجتیں باصرِؔ بدلتی ہیں کہاں
رقص بِن رہتا نہیں طاؤس بَن کوئی بھی ہو
باصر کاظمی

کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں

مری دانست میں نامِ محمد

کلیدِ ہر دو عالم اسمِ اعظم

(ب س ک)

کچھ ٹائٹل پر دیئے گئے شعر کے بارے میں

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

باصِر سلطان کاظمی کا یہ شعراور اِس کا انگریزی ترجمہ، جو شاعر اور دیبجانی چیٹرجی کی مشترکہ کاوش ہے ،دس دیگر زبانوں کے شعری نمونوں کے ساتھ ،پتھرپہ کندہ کر کے لندن سے ملحقہ شہر سلاؤ ((Slough کے میکنزی سکوائر(McKenzie Square) میں نصب کیا گیا ہے۔ شعراء میں فلسطین کے معروف شاعر محمود درویش بھی شامل ہیں ۔ اِس پروجیکٹ کے لیے آرٹس کونسل آف انگلینڈ نے اوکسفورڈشائر کے سنگ تراش Alec Peevar کی خدمات حاصل کیں ۔

باصر کاظمی

باصِر کاظمی کی غزل ۔ از پروفیسر مشکور حسین یاد

پروفیسر مشکور حسین یاد

باصِر کاظمی کی شاعری میں عوام کی روزمرّہ زندگی کے بارے میں زیادہ باتیں ہیں اور ایسی زبان اور ایسے انداز میں ہیں کہ جن کو آج کے ادب ناپسند عوام بھی سمجھ سکتے ہیں اور سمجھتے ہیں… ایسی آسان زبان جس میں معنی کی گہرائی اس انداز سے پیدا ہوئی ہو جس میں عام معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی غوطہ لگا سکے۔یعنی جہاں زبان کی سادگی کو نظر انداز کر کے عام آدمی بھی مفہوم کی طرف متوجہ ہو جائے… خالصتہَ باصِر کے اسلوبِ کی مثال ملاحظہ کیجیے:

دل چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جلتا ہے اِس لیے

ہوتے ہیں اصل بات سے ہم لوگ بے خبر

لوگ جب مِلتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کرو

جیسے رکھی ہوئی ہوتی ہو مِرے ہات پہ بات

کیا کیا وہ ہمیں سنا گیا ہے

رہ رہ کے خیال آ رہا ہے

اِک بات نہ کہہ کے آج کوئی

باتوں میں ہمیں ہرا گیا ہے

یہ ناصِر کاظمی کا اسلوب تو قطعی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باصِر اپنے اسلوبِ خاص سے ہٹتا بھی ہے تو کمال دکھاتا ہے یعنی عام آدمی کو بڑی حد تک اِس تجربہ میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے:

کچھ دکھائی نہیں دیتا ترے سودائی کو

دل کے بجھتے ہی یہ کیا ہو گیا بینائی کو

مگر اس کے اسلوب میں معنی خیزی کا کمال بھی دیکھیے۔ بڑی عام سی بات ہے:

ہے جس کا انتظار وہ ممکن ہے آ ہی جائے

تھوڑی سی دیر کے لیے بارش رکی تو ہے

اب آپ اس شعر کے ایک لفظ بارش سے جتنے چاہے معانی نکال سکتے ہیں۔ لیکن باصِر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے یعنی دوسرے دور سے تیسرے میں داخل ہوتا ہے تو اپنے خاص اسلوب کی طرف زیادہ متوجہ نظر آتا ہے:

ہم کو اپنا شہر یاد آتا نہ شاید اِس قدر

کیا کریں رہتا ہے تیرے شہر کا موسم خراب

باصِرؔ تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں

بیمار ہو پڑے رہو، مر بھی گئے تو کیا

بدنام ہے نادانی میں لیکن اِسی دل نے

میرے تو کئی بِگڑے ہوئے کام سنوارے

کہا ہم نے کہ ہو تم بے مروّت

کہا ہم بے مروّت ہی سہی، تو

باصِر عام طورپر شاعرانہ حربے استعمال نہیں کرتابلکہ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ جان بوجھ کر بڑے بڑے شاعروں کو اور بڑی بڑی قسم کی شاعری کو دور سے اپنا ٹھینگا دکھا رہا ہے اور اس طرح یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خالص شاعری میں حربے استعمال نہیں ہوا کرتے۔ یعنی خالص شاعری کو کسی طرح کے حربوں کی ضرورت نہیں البتہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے…باصِر کے دو چار شعر اور سن لیجیے:

کتنا کام کریں گے

اب آرام کریں گے

ویسے تو وہ دوست ہیں سبھی کے

کام آتے ہیں پر کسی کسی کے

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی

بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی

اللہ ایسے موقعے مجھے بار بار دے

جتنا ادھار ہے مرے سر سے اتار دے

پڑا ہے آج ہمیں ایک مطلبی سے کام

خدا کرے کہ اُسے ہم سے کام پڑ جائے

برا ہرگز نہیں اُس کا رویّہ

مگر کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے

…اب ذرا باصِر کاظمی کاشعر زندگی کے تماشے کے بارے میں سنیے۔ کسی طمطراق اور طنطنے کے بغیر باصِر زندگی کو ایک عام آدمی کی طرح بھی دیکھتا ہے اوراُس کو اِس پر غور و فکر کے لیے بھی اکسا رہا ہے لیکن کسی شورو غوغا کے ساتھ نہیں:

دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گئی ہے زندگی

ہاں مگر حیراں نہ ہو اے دل یہی ہے زندگی

موجِ خیال پڑھتے وقت مجھے بار بار قرآنِ پاک کی سورہ شعرا کی آخری آیات یاد آتی رہیں جن میں پہلی بات تو یہ کہی گئی ہے کہ شعراکی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں کیونکہ شعرا اپنے اشعار میں جو چاہتے ہیں بلا ضرورت بیان کر دیتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ و ہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں۔وہی بات کہ شعرا کی شاعری میں حقائق کا اظہار اس طرح نہیں ہوتاجس سے عام آدمی صحیح معنی میں مستفید ہو سکے۔ غالباَ باصِر کے لاشعور میں یا شعور میں یہ بات کچھ زیادہ ہی مضبوطی کے ساتھ جاگزیں ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ایسی شاعری کرے جس سے ہر آدمی مستفید ہو سکے… باصِر خواہ مخواہ کے وہم و گمان کی وادیوں میں بھٹکتا نہیں پھرتابلکہ اپنے بظاہر دھیمے لہجے میں ظلم و ستم کے خلاف آواز ہی بلند کرتا رہا ہے۔

( مطبوعہ ’علامت‘، مئی 1999ئ)

باصر کاظمی

متفرق اشعار

1997

سُورج کا یہ رنگ نہ تھا جو وقتِ شام ہُوا ہے

دیکھو کیسا سَرکش گھوڑا کیسا رام ہُوا ہے

اِنصاف اگر کہیں ہے کچھ

جنّت کا نشاں وہیں ہے کچھ

آ جائیں گے دیکھنے تمہیں ہم

کہنا تو ہمیں نہیں ہے کچھ

ستمبر

حاضری کے واسطے سرکار کا دفتر کھُلا

کتنے چکّر کاٹنے کے بعد یہ چکّر کھُلا

دسمبر

2000

سب حسینوں کا حُسن تجھ میں ہے

اور تِرا حُسن سب حسینوں میں

12 ۱کتوبر

2001

جو منافع نہ مِل سکا باصِرؔ

اُس کو نقصان کیوں سمجھتے ہو

3دسمبر

2003

کھُلتے ہی نہیں کسی صورت

وہ ہونٹ بھی سُرخ فیتے ہیں

ہیں سارے کے سارے آدم خور

شہروں میں جو شیر چیتے ہیں

جنوری

یوں بھی کم تھی اُس کے آنے کی اُمید

اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا

28جنوری

نقصان پر جو میرے افسوس کر رہے ہیں

میں جانتا ہوں کتنا اندر سے خوش ہوئے ہیں

9مارچ

نیند میں بھی بھٹک نہیں سکتا

روز کا راستہ ہے یہ میرا

3اپریل

جس نے ماں باپ کو دیا ہو دُکھ

اُس نے اولاد سے نہ پایا سُکھ

4دسمبر

2004

گئے خط بے اثر سارے

اُسے بھیجوں گا اب سی وی

4اپریل

نکل گیا ہے مِری زندگی سے وہ شاید

کئی دنوں سے مِرے خواب میں نہیں آیا

10جون

وہاں جانے سے کیا ڈرنا

جہاں سب جائیں گے اک دن

غلط سمجھے ہیں جو ہم کو

بہت پچھتائیں گے اک دن

13جولائی

جن دنوں روتا تھا تیری یاد میں

رو رہا ہوں اُن دنوں کی یاد میں

3ستمبر

2005

کیا مشورہ کوئی دے اب ایسے آدمی کو

جانے دیا ہو جس نے گھر آئی لکشمی کو

10جولائی

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19ستمبر

شفا ہوتی دوا سے معجزہ ایسا تو کیا ہوتا

مگر بیمار کچھ دِن اور جی لیتا تو کیا ہوتا

ابھی اُس کے نہ مِلنے پر عداوت ہے زمانے کو

کسی تدبیر سے وہ ہم کو مِل جاتا تو کیا ہوتا

دسمبر

ہے اِتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے

خیالِ خلق بھی ہوتا اگر خوفِ خدا ہوتا

دسمبر

اب آ کے دیکھتے ہیں شجر ہیں وہ سایہ دار

جاتے ہوئے جو بیج یہاں بو گئے تھے ہم

19دسمبر

2006

کسی سبب سے جو وہ دے سکیں نہ میرا ساتھ

نہیں ہے اِس میں بُرا ماننے کی کوئی بات

سلوک اُس کا ترے ساتھ ٹھیک ہے باصِرؔ

کوئی تو ہو جو بتائے تجھے تِری اوقات

16فروری

گزر گئی ہے اِسی کاہلی میں عُمر تمام

یہ سوچتے رہے بس اب کریں گے کل سے کام

یہ سوچ کر کہ مِلے گا ضرور اب کے جواب

نجانے لِکھّے ہیں خط کتنی بار اپنے نام

نومبر

گو شاعری پڑھنے کا اُسے شوق بہت ہے

کیا کیجیے اِس کا کہ وہ بدذوق بہت ہے

دسمبر

ایک دشمن کی کمی تھی باصِرؔ

وہ بھی اِک دوست نے پوری کر دی

8دسمبر

2007

جب چاہیے ہو ملتی ہے تازہ ہَوا مجھے

شاید کبھی لگی تھی کسی کی دعا مجھے

5جولائی

باصر کاظمی

اچانک مہرباں ہونے کا مطلب

کہاں ملتے تھے ہم سے آپ اِس ڈھب
اچانک مہرباں ہونے کا مطلب
بتایا ہی نہیں ہم کو کسی نے
وہ آئے تھے ہمارے شہر میں؟ کب؟
چلو ہوتا رہا اب تک گزارا
کریں گے بات ہم اُن سے مگر اب
اگرچہ عشق نے اندھا کیا ہے
نظر میں ہیں تمہاری حرکتیں سب
ہمیں معلوم ہو جاتا ہے باصرِؔ
کیا دل سے کسی نے یاد جب جب
باصر کاظمی

اُن سے ہمیں جب جہاں ملاؤ

کیا کہتے ہو کب کہاں ملاؤ
اُن سے ہمیں جب جہاں ملاؤ
میں کب سے ہوں گوش بر آواز
لفظوں سے کبھی زباں ملاؤ
سَر آنکھوں پہ اختلاف لیکن
اک بار تو ہاں میں ہاں ملاؤ
کچھ یاد دلائیں آپ کو ہم
آنکھیں تو ہماری جاں ملاؤ
اب زخم ہمارے بھر گئے ہیں
ناوک سے ذرا کماں ملاؤ
باصر کاظمی

بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی
بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی
یوں بے حال نہ ہو اے دل بس آتے ہی ہوں گے وہ
کل بھی دیر لگی تھی اُن کو آج بھی دیر لگے گی
سیکھ لیا ہے میں نے اپنے آپ سے باتیں کرنا
فکر نہیں اُن کو آنے میں کتنی دیر لگے گی
صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم
ساری شرطیں پوری ہیں پھر کیسی دیر لگے گی
کون رکے اب اُس کے در پر شام ہوئی گھر جائیں
اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگے گی
اِتنی دیر میں کچھ کے کچھ ہو جائیں گے حالات
خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگے گی
مارگزیدہ کون بچا ہے باصرِؔ شکر کرو تم
ٹھیک بھی ہو جاؤ گے لیکن خاصی دیر لگے گی
باصر کاظمی

اب آرام کریں گے

کتنا کام کریں گے
اب آرام کریں گے
تیرے دیے ہوئے دُکھ
تیرے نام کریں گے
کون بچا ہے جسے وہ
زیرِ دام کریں گے
اہلِ درد ہی آخر
خوشیاں عام کریں گے
رات بھی دن جیسی ہے
کب آرام کریں گے
نوکری چھوڑ کے باصرِؔ
اپنا کام کریں گے
باصر کاظمی

اُس کو ہونا ہی تھا خفا سو ہوا

یہ تو سب ٹھیک ہے بُرا تو ہوا
اُس کو ہونا ہی تھا خفا سو ہوا
میں بھی دنیا میں دل لگاتا ہوں
بھول جا تو بھی آج تک جو ہوا
آنے والے دنوں کی فکر کرو
چلو اب تک تو جو ہوا سو ہوا
شاعری پر گمان جادو کا
کیا عجب ہے اگر کسی کو ہوا
گھر میں ہر چند کچھ نہیں باصرِؔ
سَر چھپانے کا آسرا تو ہوا
باصر کاظمی

مجھے بھی عشق کا سودا نہیں ہے

خیال اُس کو اگر میرا نہیں ہے
مجھے بھی عشق کا سودا نہیں ہے
بُرا ہرگز نہیں اُس کا رویہ
مگر کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے
تمہاری مہربانی تم نے پوچھا
ہمارا حال کچھ اچھا نہیں ہے
جو اُن کے جی میں آئے گی کریں گے
کسی کا زور تو چلتا نہیں ہے
پرانی بات اُن سے کیا کریں اب
انہیں کچھ یاد تو رہتا نہیں ہے
بُرا کہتا تو ہوں میں اُن کو باصرؔ
کبھی اُن کا بُرا چاہا نہیں ہے
باصر کاظمی

اُس نے اُتنا ہی مجھ کو خوار کیا

میں نے جتنا کسی سے پیار کیا
اُس نے اُتنا ہی مجھ کو خوار کیا
سَرسَری اُس نے کوئی کام کہا
ہم نے اعصاب پر سوار کیا
حاکمِ وقت ہی سہی باصرِؔ
وقت نے کس کا انتظار کیا
باصر کاظمی

یہ الگ بات بے سبب نہ ہوئی

مہرباں وہ نگاہ کب نہ ہوئی
یہ الگ بات بے سبب نہ ہوئی
پاس بیٹھا رہا وہ اور ہمیں
بات کرنے کی بھی طلب نہ ہوئی
کھو دیا اُس نے آخری موقع
صلح اُس سے ہماری اب نہ ہوئی
آج بارش ہوئی تو کیا باصرِؔ
جب زمیں جل رہی تھی تب نہ ہوئی
باصر کاظمی

ساتھ وہ یارِ خوش فضا بھی تھا

موسمِ ابر کا مزا بھی تھا
ساتھ وہ یارِ خوش فضا بھی تھا
ایک تو چارہ گَر مِلے ناقِص
کچھ مرا درد لادوا بھی تھا
اک تو ویسے ہی بدمزاج ہے وہ
اور اُس روز کچھ خفا بھی تھا
اب تو جینے کی بھی نہیں ہمت
کبھی مرنے کا حوصلہ بھی تھا
تو کچھ اپنا خیال کر باصرؔ
اُس نے جاتے ہوئے کہا بھی تھا
باصر کاظمی

مِری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے
مِری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے
دلِ خراب یہ خواہش تِری عجب ہے کہ وہ
سِتم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے
ابھی زمین پہ جنت نہیں بنی یارو
جہاں کے قصے سُناتے ہو ہم وہاں بھی رہے
رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنا
مسافروں کی طرح ہم رہے جہاں بھی رہے
جو ساتھ چلنے کے بھی مستحق نہ تھے باصرِؔ
کچھ ایسے لوگ یہاں میرِ کارواں بھی رہے
باصر کاظمی

کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف

بادل ہے اور پھول کھِلے ہیں سبھی طرف
کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف
تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترے
اچھا ہُوا کہ ہم نے نہ دیکھا تِری طرف
جب بھی مِلے ہم اُن سے اُنہوں نے یہی کہا
بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف
اے دل یہ دھڑکنیں تِری معمول کی نہیں
لگتا ہے آ رہا ہے وہ فِتنہ اِسی طرف
خوش تھا کہ چار نیکیاں ہیں جمع اُس کے پاس
نکلے گناہ بیسیوں اُلٹا مِری طرف
باصرِؔ عدو سے ہم تو یونہی بدگماں رہے
تھا اُن کا اِلتفات کسی اور ہی طرف
باصر کاظمی

دشمنی جس کی دوستی جیسی

پھر ہمیں جستجو ہوئی اُس کی
دشمنی جس کی دوستی جیسی
سامنے اُس کی سَرد مہری کے
کیا ہمارے مزاج کی گرمی
چھیڑنا چاہتے ہو دُکھتی رگ
بات ہو جائے گی بہت لمبی
ابھی تو صبح کا اُجالا تھا
ہو گئی شام کس قدر جلدی
تِیر تو بعد میں چلا باصرِؔ
تم نے پہلے ہی جان دے ڈالی
باصر کاظمی

رہ رہ کے خیال آ رہا ہے

کیا کیا وہ ہمیں سُنا گیا ہے
رہ رہ کے خیال آ رہا ہے
اک بات نہ کہہ کے آج کوئی
باتوں میں ہمیں ہرا گیا ہے
تم خوش نہیں ہو گے ہم سے مِل کے
آ جائیں گے ہم ہمارا کیا ہے
ہم لاکھ جواز ڈھونڈتے ہوں
جو کام بُرا ہے وہ بُرا ہے
کیا فائدہ فائدے کا یارو
نقصان میں کیا مضائقہ ہے
تم ٹھیک ہی کہہ رہے تھے اُس دن
کچھ ہم نے بھی اِن دنوں سُنا ہے
جتنی ہے تری نگاہ قاتل
اُتنی ترے ہاتھ میں شِفا ہے
دوشاخہ ہے میرے ذہن میں کیوں
جب سامنے ایک راستا ہے
کہنے کو ہَرا بھرا ہے لیکن
اندر سے درخت کھوکھلا ہے
خوش کرنے کو جو کہی تھی تُو نے
باصرِؔ اُسی بات پر خفا ہے
باصر کاظمی

ذرا ملال نہ ہو تُو نہ گَر کہے کچھ بھی

ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی
ذرا ملال نہ ہو تُو نہ گَر کہے کچھ بھی
وہ اور وقت تھے جب انتخاب ممکن تھا
کریں گے اہلِ ہُنر کام اب ملے کچھ بھی
نہیں ہے وقت مِرے پاس ہر کسی کے لیے
مری بَلا سے وہ ہوتے ہوں آپ کے کچھ بھی
جو میرا حق ہے مجھے وہ تو دیجیے صاحب
طلب کیا نہیں میں نے جناب سے کچھ بھی
ذرا سی بات پہ تیرا یہ حال ہے باصرِؔ
ابھی تو میں نے بتایا نہیں تجھے کچھ بھی
باصر کاظمی

یہی بہتر کہ اُٹھا رکھوں ملاقات پہ بات

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
یہی بہتر کہ اُٹھا رکھوں ملاقات پہ بات
رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میں
دن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات
اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا بُرد ہوئے
اب کیا کرتے ہیں ہم صورتِ حالات پہ بات
لوگ جب ملتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کرو
جیسے رکھی ہوئی ہوتی ہو مِرے ہات پہ بات
مِل نہ سکنے کے بہانے اُنہیں آتے ہیں بہت
ڈھونڈ لیتے ہیں کوئی ہم بھی ملاقات پہ بات
دوسروں کو بھی مزا سننے میں آئے باصرِؔ
اپنے آنسو کی نہیں کیجیے برسات پہ بات
باصر کاظمی

اُسے پتا نہیں شاید کہ میں گیا تو گیا

وہ اپنے شہر سے جانے کی رہ دکھا تو گیا
اُسے پتا نہیں شاید کہ میں گیا تو گیا
مَنا بھی لیتے ہیں رُوٹھے ہوؤں کو ہم لیکن
بِلا سبب کوئی ہم سے ہُوا خفا تو گیا
یہ سوچتا ہوں کہ اب اُٹھ کے کس طرح جاؤں
میں آج بھُولے سے محفل میں تیری آ تو گیا
کبھی سزا بھی ملے گی اُسے مگر فی الحال
یہی بہت ہے بُرے کو بُرا کہا تو گیا
باصر کاظمی

جیسا لکھنا چاہا ویسا لِکھا ہے

کم لِکھا ہے لیکن جتنا لِکھا ہے
جیسا لکھنا چاہا ویسا لِکھا ہے
اب پڑھنے والے بھی تھوڑا غور کریں
لکھنے والوں نے تو کیا کیا لِکھا ہے
ٹھیک ہی سمجھے میری پریشانی کو تم
اُس نے پھر کچھ ایسا ویسا لِکھا ہے
ہم لِکھ لِکھ ہلکان ہوئے اور وہ بولے
ہاں تم نے بھی اچھا خاصا لِکھا ہے
باصرِؔ تیرا حال اسی نے کیا ہے غیر
جس نے خود کو تیرا اپنا لِکھا ہے
باصر کاظمی

آنکھ میں نم زیادہ ہوتا ہے

جن دنوں غم زیادہ ہوتا ہے
آنکھ میں نم زیادہ ہوتا ہے
کچھ تو حَساس ہم زیادہ ہیں
کچھ وہ برہم زیادہ ہوتا ہے
دردِ دل کا بھی کوئی ٹھیک نہیں
خود بخود کم زیادہ ہوتا ہے
سب سے پہلے اُنہیں جھُکاتے ہیں
جن میں دم خم زیادہ ہوتا ہے
قیس پر ظلم تو ہُوا باصرِؔ
پھر بھی ماتم زیادہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا

کچھ تو رُسوا اپنی طرزِ گفتگو نے کر دیا
کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا
کیسے کیسے ناقصوں کی بات سننی پڑ گئی
کیا سُبک سَر ہم کو زخمِ چارہ جو نے کر دیا
شہر بھر میں ایک ہی تو رہ گیا تھا ہوش مند
سنتے ہیں اُس کو بھی دیوانہ کسو نے کر دیا
دو قدم چلنا تھا مشکل اُس اندھیرے میں مگر
راہ کو روشن چراغِ آرزو نے کر دیا
اُس نے تو باصرِؔ یونہی پوچھی تھی تیری خیریت
حالِ دل کہہ کر ہمیں شرمندہ تُو نے کر دیا
باصر کاظمی

لائے گی شاخِ بید بھی اِس باغ کی ثمر

ہم آبیاری خونِ جگر سے کریں اگر
لائے گی شاخِ بید بھی اِس باغ کی ثمر
بولیں گے جب ملے گا کوئی ہم نوا اِنہیں
بیٹھے ہوئے ہیں مُرغ جو منقار زیرِ پر
دل چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جلتا ہے اس لیے
ہوتے ہیں اصل بات سے ہم لوگ بے خبر
وہ لوگ مدرسوں میں سِکھانے لگے زباں
جو عِلم کو عِلَم کہیں اور صبر کو صَبَر
باصِر نے تجربوں سے نہ سیکھا کوئی سبق
ہوتا نصیحتوں کا بھلا اس پہ کیا اثر
باصر کاظمی

گھر سے بے گھر بھی ہوئے اور نہ ملی منزل بھی

بحر پُر شور ہے نزدیک نہیں ساحل بھی
گھر سے بے گھر بھی ہوئے اور نہ ملی منزل بھی
ہم ابھی کچھ نہیں کہتے کہ جدائی ہے نئی
بھول جانا تجھے آسان بھی ہے مشکل بھی
اُس کی رحمت پہ بھروسا تو بجا ہے لیکن
یہ نہ بھولو کہ وہ قہار بھی ہے عادل بھی
باصر کاظمی

اگرچہ اب تو کسی بات کا نہیں افسوس

اُس ایک بات کا اب تک گیا نہیں افسوس
اگرچہ اب تو کسی بات کا نہیں افسوس
یہ دل کے زخم جو اب شرمسار کرتے ہیں
بہت پرانے ہیں پر لادوا نہیں، افسوس
چُنا تھا دیدہ و دانستہ رستۂ دشوار
کسی مقام پہ ہم نے کہا نہیں افسوس
فنا کے ڈر سے ہم اہلِ جفا سے آن ملے
زمانہ مونسِ اہلِ وفا نہیں افسوس
پھر اُس کے در پہ نظر آ رہے ہو باصرِؔ آج
تمہارا کام ابھی تک ہوا نہیں افسوس
باصر کاظمی

پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح

اتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح
پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح
حُسن و خوبی اک طرف اُس پر وفا بھی ختم ہے
ہم کو بہلاتا ہے محبوبِ خیالی کس طرح
ہو گیا دل کے مکاں میں اک حسیں آ کر مکیں
فکر یہ ہے اب کرائیں اِس کو خالی کس طرح
پاؤں رکھنا بھی جہاں کل تک نہ تھا زیبا اُنہیں
وقت نے لا کر بنایا ہے سوالی کس طرح
ہو گئے بے حال جو تیرے تغافل کے سبب
کس طرح ہو گی مگر ان کی بحالی کس طرح
کر گئے اپنا جگر چھلنی تِری یادوں کے تِیر
اب ہوائے غم کو روکے گی یہ جالی کس طرح
گلشنِ جاں میں ہوائے شعر پھر سے چل پڑی
جھومتی ہے پتی پتی ڈالی ڈالی کس طرح
جس کے من میں ہر گھڑی رہتا ہو تجھ سا جلوہ گَر
اُس کی باتوں میں نہ ہو روشن خیالی کس طرح
مدتیں درکار ہیں باصرِؔ حصولِ صبر کو
ایک دن میں تم نے یہ دولت کما لی کس طرح
باصر کاظمی

اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے
مِل اُن سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر
تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے
جو دن میں پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار
وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے
ہم اُن کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل
رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے
اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام
اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے
ناکامی کی صورت میں مِلے طعنۂ نایافت
اب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے
شب اہلِ ہوس ایسے پریشان تھے باصرِؔ
جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے
باصر کاظمی

جانتے بھی ہو مزاج اِس کا بہت قہری ہے

یہ جو شیریں دہن و نرم نگہ شہری ہے
جانتے بھی ہو مزاج اِس کا بہت قہری ہے
دل میں خوں جب سے ہوا کم نہیں رو سکتے ہم
یہ زمیں آنکھوں کی بارانی نہیں نہری ہے
اِن دنوں ہے مرا صیاد عجب مشکل میں
باغ کی تازہ ہوا میری دوا ٹھہری ہے
موج میں آئے تو میٹھا بھی بہت ہے لیکن
طیش میں ہو تو مِرا یار بہت زہری ہے
کیا خبر ٹھیک نہ ہو زندگی بھر یہ باصرِؔ
تم کو اندازہ نہیں چوٹ بہت گہری ہے
باصر کاظمی

یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو

کہانی آنسوؤں نے کچھ کہی تو
یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو
کہا ہم نے کہ ہو تم بے مروت
کہا ہم بے مروت ہی سہی تو
تری ہی نذر کرنے کو ہے یہ جاں
اگر اغیار سے کچھ بچ رہی تو
ہمیں محفوظ کر رکھا ہے جس نے
یہی دیوار جب سر پر ڈہی تو
تمہاری بات سے میں متفق ہوں
ابھی میں کہہ رہا تھا کچھ یہی تو
جہالت ہی سے بچ جاؤ تو جانیں
بہت مشکل ہے باصرِؔ آگہی تو
باصر کاظمی

جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے

ہر ایک کو خوش فہمی میں رکھتے ہیں ستارے
جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے
مجنوں سے کہو کٹ چکی اک عُمر جنوں میں
باقی کسی معقول طریقے سے گزارے
بدنام ہے نادانی میں لیکن اِسی دل نے
میرے تو کئی بگڑے ہوئے کام سنوارے
کر دیں نہ کہیں ہم کو جوانی میں ہی معذور
ہم جن کو سمجھتے ہیں بڑھاپے کے سہارے
یوں تو کبھی کم آب نہ تھا آنکھوں کا دریا
سیلاب وہ آیا ہے کہ بے بس ہیں کنارے
سچ ہے کہ گُل و لالہ میں ٹھنڈک ہے تجھی سے
یہ نور ہے کس کا مگر اے چاند ہمارے
بیکار سے پتھر ہیں چمکتے ہیں جو شب کو
پوشیدہ ہیں دن میں تِری قسمت کے ستارے
باصر کاظمی

کوئی زباں دراز کوئی بے زبان ہے

لاکھوں میں کوئی کوئی یہاں خوش بیان ہے
کوئی زباں دراز کوئی بے زبان ہے
جتنے بھی تِیر تھے تِرے ترکش میں چل چکے
مدت سے تیرے ہاتھ میں خالی کمان ہے
مجھ سے زیادہ خود پہ وہ کرنے لگا ستم
جانا ہے جب سے اُس نے مِری اُس میں جان ہے
اکثر رہی ہے میرے تخیل کی سیر گاہ
وہ سَر زمین جس کے تلے آسمان ہے
کچھ تو یہ دل بھی ہو گیا کم ہمتی کا صید
اور کچھ بدن میں پچھلے سفر کی تکان ہے
ایسے پڑے ہوئے ہیں لبوں پر ہمارے قفل
ہم بھول ہی گئے ہیں کہ منہ میں زبان ہے
باصرِؔ کچھ اپنے آپ میں رہنے لگا ہے مست
اے حُسنِ بے خیال ترا امتحان ہے
باصر کاظمی

تھی ورنہ جانے کب سے طبیعت بھری ہوئی

اچھا ہوا کہ بات بہت سرسری ہوئی
تھی ورنہ جانے کب سے طبیعت بھری ہوئی
پَل میں نکال پھینکنا دل کے مکین کو
ایسی تو آج تک نہ کوئی بے گھری ہوئی
اب انتظار کیجیے اگلی بہار کا
ہے شاخ کون سی جو خِزاں میں ہری ہوئی
رہتا ہے کارواں سے الگ میرِ کارواں
اے اہلِ کارواں یہ عجب رہبری ہوئی
ہر بار تم کو اُس کا کہا ماننا پڑے
باصرِؔ یہ دوستی تو نہیں نوکری ہوئی
باصر کاظمی

اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ

اس فکرِ روزگار میں سب کھَپ گیا دماغ
اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ
اب کوئی بات ٹھیک سے رہتی نہیں ہے یاد
وہ دل کہاں چلا گیا اور کیا ہُوا دماغ
اُٹھا جو یہ سوال کہ ثالث کسے بنائیں
میں نے کہا کہ دل سہی اُس نے کہا دماغ
تھا دل تو چیز کیا صفِ مژگاں کے سامنے
اس معرکے میں شکر یہ ہے بچ گیا دماغ
باصرِؔ یہ آدمی بھی ہے کتنی عجیب چیز
اِتنے سے اِس کے سَر میں ہے کتنا بڑا دماغ
باصر کاظمی

اب کے برف بہت پگھلی ہے خیر مناؤ شہروں کی

تم بھی دیکھ رہے ہو صورت دریاؤں اور نہروں کی
اب کے برف بہت پگھلی ہے خیر مناؤ شہروں کی
جانے اِن میں سے کب کوئی اپنا کام دِکھا جائے
دل میں اک دکان لگی ہے رنگ برنگے زہروں کی
کوئی کام کی بات کرے تو ہم سو بار سنیں ورنہ
بہتر ہے بہرے بن جائیں اک نہ سنیں بے بہروں کی
آخر ہم کو بھی اک دن دریا میں اترنا ہے باصرؔ
سو اِن روزوں دیکھ رہے ہیں کیا صورت ہے لہروں کی
باصر کاظمی

ہاں مگر حیراں نہ ہو اے دل یہی ہے زندگی

دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گئی ہے زندگی
ہاں مگر حیراں نہ ہو اے دل یہی ہے زندگی
اپنا اپنا تجربہ ہے اپنی اپنی سوچ ہے
زندگی بھی موت ہے اور موت بھی ہے زندگی
تو عبث بیزار ہے یک رنگیِ ایام سے
دیکھ آنکھیں کھول کے ہر دم نئی ہے زندگی
کہہ رہا تھا کتنی حسرت سے کوئی کیا فائدہ
اب کہ آنکھیں بند ہوتی ہیں کھلی ہے زندگی
کام جتنے ہیں ترے ذمے سبھی ہو جائیں گے
اِتنی جلدی کیا پڑی باصرِؔ ابھی ہے زندگی
باصر کاظمی

ظالم کا بس چلے تو سدا رات ہی رہے

جور و ستم کی اُس کے سیاہی چھپی رہے
ظالم کا بس چلے تو سدا رات ہی رہے
چاہی تھی زندگی کے لیے کوئی آرزو
اب آرزو یہی ہے کہ بس زندگی رہے
اب چاہے دربدر ہی پھریں ہم تمام عمر
کافی ہے یہ کہ دل میں تمہارے کبھی رہے
یہ اور بات ہے کہ ہمیں کو سزا ملی
گرچہ شریکِ جرمِ تمنا سبھی رہے
باصر کاظمی

ڈرتا ہوں دوسروں کے عمل دخل سے بہت

اُمّیدِ انتظام تو ہے عقل سے بہت
ڈرتا ہوں دوسروں کے عمل دخل سے بہت
مت بدگمان ہو جو تجھے دیکھتا ہوں میں
مِلتی ہے تیری شکل کسی شکل سے بہت
قسمت شبِ فِراق کی یونہی نہیں کھلی
شکوے ہیں عاشقوں کو شبِ وصل سے بہت
جن کی اَدائے حُسن کی اب شہر میں ہے دھُوم
پہنچا ہے اُن کو فیض تِری نقل سے بہت
دیکھا دلِ خموش نے تختہ اُلٹ دیا
لینے لگے تھے کام ذرا عقل سے بہت
باصر کاظمی

احساس ہی رہا نہیں کچھ ہست و بُود کا

دل اِس قدر شکار ہُوا ہے جمود کا
احساس ہی رہا نہیں کچھ ہست و بُود کا
ہے کونسا زیاں کہ نہ ہو جس میں کوئی سُود
اور یوں زیاں ثمر نہیں کس نخلِ سُود کا
سوچو تو ہے دکھاوا چھپانے کا ایک ڈھنگ
اور پردہ داری حیلہ ہے ذوقِ نمود کا
سنتے ہیں کر لیا ہے کسی زُلف نے اسیر
منکر سدا رہا جو رسوم و قیود کا
دل کی کلی جو بند ہے باصِر تو کیا کریں
ہے کس کے اختیار میں لمحہ کشود کا
باصر کاظمی

جینے کی دوا پائی اُسی زہر میں ہم نے

کھینچا تھا کبھی غم جو تِرے شہر میں ہم نے
جینے کی دوا پائی اُسی زہر میں ہم نے
جانا یہ بالآخر کہ نبھانا نہیں ممکن
وہ عہد کیا ہو گا کسی لہر میں ہم نے
جو اِتنی کٹھن رات کی کاوش کا ثمر تھی
اُس صبح کو دیکھا نہیں دوپہر میں ہم نے
ہے کونسا گوشہ جو نظر میں نہیں اپنی
اک عُمر گزاری ہے اِسی شہر میں ہم نے
گھبرا گئے بس تم تو کنارے ہی پہ باصرِؔ
ہاں تیرنا سیکھا تھا اِسی نہر میں ہم نے
باصر کاظمی