آنکھ جب ذہن کے صحراؤں میں بوتی ہے نمی

گلشنِ شعر کی ہریالی کو دھوتی ہے نمی
آنکھ جب ذہن کے صحراؤں میں بوتی ہے نمی
اک توازن ہے جو ہر طور ہی قائم رکھے
خشک ساگر جو کرے، چرخ بھگوتی ہے نمی
منعکس نور ہر اک کونے میں کرتی جائے
رنگ اور روشنی کا آئنہ ہوتی ہے نمی
دن تمازت سے انھیں کتنا ہی تڑخا ڈالے
رات پھر آن کے شاخوں میں پروتی ہے نمی
ابر آئے تو بہار آئے نئے پھول کھلیں
خوب یوں زندگی ہر کونے میں ڈھوتی ہے نمی
کچھ تعلّق تو اُداسی کا ہے برساتوں سے
دِل جو بھر آئے تو ہمراہی میں روتی ہے نمی
کیسے صحرا میں یہ امّید کے گل کھل اٹھے
دِل کے بنجر میں کہیں چُپکے سے سوتی ہے نمی
یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s