عید

اونچے محلوں میں پائل چھنکاتی ہے عید

میری گلی میں آتے ہوئے شرماتی ہے عید

پاس آئی تو جیسے مٹّی بن جائے گی

دُور ہی دُور سے اپنی چَھب دکھلاتی ہے عید

جلتے زخموں میں اور آگ سی بھردیتی ہے

دُکھی دلوں کو اور دُکھی کرجاتی ہے عید

تن پر اُجلے کپڑے اور نہ جھولی میں لعل

ہم کنگالوں سے کیا لینے آتی ہے عید

زرّیں کنگن کیسے پہنائیں خوشیوں کو

من کو نت نئی سوچوں میں اُلجھاتی ہے عید

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s