احمد ندیم قاسمی کے تاثرات۔ ۱

جب بھی کوئی پوچھتاہے کہ گزشتہ دس بارہ سال کے اندر کون سا ایسا شاعراُبھرا ہے جس نے صحیح معنوں میں بھر پور غزل کہی ہو تو بغیر کسی تکلّف کے میں شکیب جلالی کا نام لیتا ہوں۔ شکیبؔ نظم بھی کہتاہے اور اس نے بعض ایسی نظمیں بھی کہی ہیں کہ پوری اردو نظم کا انتخاب پیش نظر ہو تو شکیبؔ کی ان نظموں کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ مگر وہ بنیادی طور پر غزل کا شاعر ہے۔ ناصر کاظمی‘ احمد فراز اور شہزاد احمد کے سے کامیاب غزل کہنے والے شعرا کی موجودگی میں کسی نئے شاعر کا غزل کے میدان میں اپنا ایک مقام پیدا کر لینا کچھ آسان کام نہ تھا۔ مگر شکیبؔ کی بے پناہ فنی اور تخلیقی قوتوں نے چند ہی برس کے اندر اسے ان غزل گو شعرا کے برابر لا کھڑا کیا ہے بلکہ میں سمجھتاہوں شکیبؔ کے دم سے اردو غزل نے ایک اور سنبھالا لیا ہے۔ آزادی کے بعد بعض ترقی پسند شعرا نے دم توڑتی ہوئی اردو غزل میں جو نئی روح پھونکی ہے‘ اسی نے وہ نئے غزل گو شعرا پیدا کیے جن کی شاعری کو غزل کی نشاۃ الثانیہ قرار دیا گیا۔ مگر پھر نہ جانے کیا ہوا کہ ان میں سے بیشتر شعرا نے کسی نہ کسی کلاسیکل غزل گو کی بیعت کر لی اور اسی رنگ میں کہنے اور سننے لگے۔ اگر اس دور میں شکیبؔ کے سے شاعر پیدا نہ ہوتے توعین ممکن تھا کہ اردو غزل ایک دم دو سو سال پیچھے چلی جاتی اور آیندہ نسل میں اس کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہتا۔ شکیبؔ کی غزل نے اردو شعر و ادب کے قاری کو بتایا کہ غزل گو بیسویں صدی کے نصف آخر کا ایک باشعور فرد ہو کر بھی غزل کہہ سکتا ہے اور ایسی غزل کہہ سکتا ہے جس میں عصر رواں کی روح بول رہی ہو اور جو اس کے باوجود غزل ہو۔

شکیبؔ کی غزل کا سب سے نمایاں حسن اس کی باشعور وجدانیت ہے۔ ممکن ہے شعور و وجدان کی اس یکجائی پر بعض حضرات چونکیں مگر اس کا کیا کیا جائے کہ شکیبؔ نے شعوری تاثرات کو غزل میں منتقل کر کے انھیں وجدان کی طرح لطیف بنا دیا ہے۔ دراصل شکیبؔ کا سب سے بڑا اور موثر ہتھیار اس کے سمبل ہیں۔ یہ روایتی سمبل نہیں ہیں اور نہ وہ جدید سمبل ہیں جن کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شاعر نے ہاتھی کے لیے کھڑکی کا سمبل پیش کیا تھا او ر وجہ یہ بتائی تھی کہ ہاتھی کے بڑ ے بڑے کان انھیں ہمیشہ کھڑکی کے پٹ معلوم ہوتے ہیں۔ شکیبؔ کے سمبلوں میں نہ وہ کہنگی ہے کہ چھولو تو بُھر جائیں ‘ نہ وہ جدت برائے جدت کہ شاعر حسن آفرینی کی ذمہ داری سے الگ ہو کر صرف چونکا نے پر کمر باندھ لے۔ یہ سمبل قاری کے ذہن میں ایک مکمل تصویر لے آتے ہیں۔ او ر اس تصویر کے پس منظر میں شعرمیں چھپا ہوا خیال یا جذبہ پورے حسن سے جگمگا اٹھتا ہے۔ یہ قوت بہت کم شاعروں کو ودیعت ہوئی ہے اور اس لیے شکیبؔ کی یہ خصوصیت مُنفرد ہے۔ احساس کی نزاکت اور تجربے سے ہمہ گیری کی مثالیں نئے غزل گو شعراء میں عام ہیں مگر اس نزاکت اور اس ہمہ گیری کو شعر میں یوں منتقل کرنا کہ یہ شعر خوب صورت بھی ہو اور میر و غالب اور اقبال و ذوق کی غزل سے بھی الگ پہچانا جا سکے اور عصر جدید کا شعر بھی کہلائے اور اس کا تاثر ہنگامی بھی نہ ہو‘ یہ شکیبؔ کا حصہ ہے اور اس لیے آج شکیبؔ اردو غزل کی اُمید گاہ ہے

(بشکریہ ’غزل نمبر 1965‘ فنون)

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s