ہر روز ایک زخم نیا چاہئے مجھے

کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ کیا چاہئے مجھے
ہر روز ایک زخم نیا چاہئے مجھے
اپنے سکونِ دل کا پتا چاہئے مجھے
اِک دردِ لا دوا کی دوا چاہئے مجھے
وہ حبسِ التفات ہے گھٹنے لگا ہے دم
سانس آ سکے بس اتنی ہَوا چاہئے مجھے
اب چشم و گوش پر ہے فقط انحصارِ زیست
چہرہ وہی، اُسی کی صدا چاہئے مجھے
شایانِ شان ہو مرے جرم حسین کی
ایسی کوئی حسین سزا چاہئے مجھے
زاہد! ترے خدا کی ضرورت نہیں مجھے
جو میرے دل میں ہے وہ خدا چاہئے مجھے
کچھ کا خیال ہے کہ شہیدِ وفا ہوں میں
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں سزا چاہئے مجھے
تشخیص ہو چکی ہے تو اب جا چکیں طبیب
جا کر اُسے بتائیں کہ کیا چاہئے مجھے
ضامنؔ! مرے خلوص و وفا کو تَرَس نہ جائے
میرا تو کیا ہے؟ اُس کا بھلا چاہئے مجھے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s