دِل پریشان ہے کہ کیا ہو گا

آج پھر اُن سے سامنا ہو گا
دِل پریشان ہے کہ کیا ہو گا
گفتگو سے کریں گے وہ بھی گریز
دل ہمیں بھی سنبھالنا ہو گا
پھر کوئی بات ہو گئی ہو گی
کچھ نگاہوں نے کہہ دیا ہو گا
کیا ہُوا ہم جو ہمسَفَر نہ ہُوئے
شہر بھر ساتھ ہو لیا ہو گا
دوستی میں تَو یہ بھی ہوتا ہے
لڑکھڑائے تو تھامنا ہو گا
ہم نے سمجھا دیا تھا دیکھ اے دِل
زندگی بھر کا سلسلہ ہو گا
پھر خیالوں میں کھو گئے ضامنؔ
کوئی چپکے سے آ گیا ہو گا
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s