خیال و فکر کو رَستا سُجھانے والا کون

دل و نگاہ کے پَردے ہَٹانے والا کون
خیال و فکر کو رَستا سُجھانے والا کون
یہاں ہر اِک سے ضمیرِ بَشَر یہ سُنتا ہے
تُو میرے پاس دَبے پاوں آنے والا کون
مُجھے شُبہ ہے میں شہرِ مُنافِقیِن میں ہُوں
یہ دَستِ دوستی یک دم بڑھانے والا کون
وہ تُم نہیں ہو، میں یہ بات مان بھی لُوں اگر
تَو اَور شہر میں میرا سَتانے والا کون
مِیاں ! میں جانے سے پہلے ہی خُود کو رو لُوں گا
مِلے گا بعد میں آنسو بَہانے والا کون
خِرَد سے پُوچھیے ضامنؔ کہ دَشتِ وحشَت میں
جنوں سے بڑھ کے ہُوا گُل کِھلانے والا کون
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s