خوابِ جَوانی

قلم سے بیاں ہو نہ ہو مُنہ زبانی
عجب چیز ہوتی ہے آتی جوانی
یہی دل کی ضد ایک گاہے بہ گاہے
میں چاہوں کسی کو کوئی مجھ کو چاہے
محبت کا جویا کوئی دل جو پالوں
دیے سے دیا ایک میں بھی جلا لوں
بیاں مختصر ہو مگر لفظ سچّے
کوئی یہ کہے، آپ لگتے ہیں اچھّے
اِسی کَشمَکَش میں جوانی تھی گُم سُم
کہ اِک دن اچانک نظر آ گئیں تُم
طلسمِ جوانی میں کھوئی ہُوئی سی
’’نہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سی ‘‘
نہ منزل تھی کوئی نہ تھی فکرِ جادہ
وَرَق تھا ابھی دل کا سادے کا سادہ
نظر تم نے ملتے ہی فوراً جھکالی
لچک کر جھکے جیسے پھولوں کی ڈالی
یہ لمحہ جو صدیوں کا نعم البدل تھا
ہمیں تحفۂ نقش بندِ ازل تھا
شب و روز پھر احتیاطوں میں گزرے
تخیّل تصور سے باتوں میں گزرے
پھر اِک روزتنہائی میں تُم کو پا کر
کَڑ ا کر کے دل کو ،دبے پاؤں آ کر
جو دل میں تھا سب بر ملا کہہ دیا تھا
تُمہیں یاد ہے کچھ کہ پھر کیا ہُوا تھا
وہ جذبوں پہ صدیوں کی قدروں کا پہرہ
سفید ہو گیا تھا گلابی یہ چہرہ
تَو گھبرا کےچاروں طرف تُم نے دیکھا
مرے مُنہ پہ پھر ہاتھ رکھ کر کہا تھا
خدا کے لئے چُپ رہیں ،لب نہ کھو لیں
کہیِں کوئی سُن لے گا، آہستہ بولیں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s