کبھی ہماری بات بھی سن

تنہا عیش کے خواب نہ بن
کبھی ہماری بات بھی سن
تھوڑا غم بھی اُٹھا پیارے
پھول چنے ہیں خار بھی چن
سکھ کی نیندیں سونے والے
محرومی کے راگ بھی سن
تنہائی میں تیری یاد
جیسے ایک سریلی دُھن
جیسے چاند کی ٹھنڈی لو
جیسے کرنوں کی کن من
جیسے جل پریوں کا ناچ
جیسے پائل کی جھن جھن
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s