کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ

مگن ہوئے ہیں کسی اور ہی لگن میں لوگ
کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ
وہی ہیں رنگ خزاں اور بہار کے لیکن
کچھ اور دیکھنے جاتے ہیں اب چمن میں لوگ
بدل دیے ہیں زمانے نے عشق کے انداز
سو دیکھ پائیں گے کیا قیس و کوہکن میں لوگ
ترس گئے ہیں مرے کان حرفِ شیریں کو
لیے ہوئے ہیں بڑی تلخیاں دہن میں لوگ
اگرچہ نعمتیں حاصل ہیں دو جہاں کی اِنہیں
اداس رہتے ہیں یارب مرے وطن میں لوگ
کہی تھی تو نے تو ہر بات صاف صاف مگر
نجانے سمجھے ہیں کیا اپنے بھولپن میں لوگ
میں کیا بتاؤں تجھے خوب جانتا ہے تو
شریک ہوتے ہیں کیوں تیری انجمن میں لوگ
دکھائی دی تھی جو اِتنی طویل رات کے بعد
تلاش کرتے رہے مہر اُس کرن میں لوگ
مرے سُخن میں سُخن بولتا ہے ناصِر کا
مجھے بھی پائیں گے ہر محفلِ سخن میں لوگ
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s