ڈرتا ہوں دوسروں کے عمل دخل سے بہت

اُمّیدِ انتظام تو ہے عقل سے بہت
ڈرتا ہوں دوسروں کے عمل دخل سے بہت
مت بدگمان ہو جو تجھے دیکھتا ہوں میں
مِلتی ہے تیری شکل کسی شکل سے بہت
قسمت شبِ فِراق کی یونہی نہیں کھلی
شکوے ہیں عاشقوں کو شبِ وصل سے بہت
جن کی اَدائے حُسن کی اب شہر میں ہے دھُوم
پہنچا ہے اُن کو فیض تِری نقل سے بہت
دیکھا دلِ خموش نے تختہ اُلٹ دیا
لینے لگے تھے کام ذرا عقل سے بہت
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s