فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر

اپنا زیادہ وقت ہوا نوکری کی نذر
فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر
اپنی خوشی تمہاری خوشی میں تھی اس لیے
کردی خوشی خوشی سے تمہاری خوشی کی نذر
یہ جسم ہے سو تیری امانت ہے اے اجل
وہ جاں تو کر چکے ہیں کبھی کے کسی کی نذر
کچھ نیکیاں جو اشکِ ندامت کا تھیں ثمر
صد حیف سب کی سب ہوئیں تر دامنی کی نذر
خود آگہی کے گرچہ مواقع ملے بہت
ہوتے رہے مگر وہ مری بے خودی کی نذر
باصر ؔہمارے کام نہ آیا ہمارا دل
کچھ اُن کی نذر ہو گیا کچھ شاعری کی نذر
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s