خُود اُجڑنا اور ہر منظر اُجڑتے دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
دمبدم طبعِ رسا اپنی بگڑتے دیکھنا
خُود اُجڑنا اور ہر منظر اُجڑتے دیکھنا
پالنا پیڑوں کو اپنی کاوشوں سے اور پِھر
ٹہنیوں سے زرد رُو پتّوں کو جھڑتے دیکھنا
دیکھنا کھیتوں پہ پالنہار بُوندوں کا نزول
فصل کو ژالوں سے پِٹتے اور اُکھڑتے دیکھنا
دیکھنا چندا پنپتے تا بہ نصفِ مہ سدا
اور اُسے پھر تیسویں تک ماند پڑتے دیکھنا
ایک دن آئے گا، کوڑا وقت کا لپکے گا اور
کھال اپنی بھی میاں ماجِد اُدھڑتے دیکھنا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s