اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہوتا ہے ایسے ربط سے جی کا زیاں الگ
اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ
ہونے کو ہو تو جائے ادا ایک فرضِ خاص
ماں باپ بھی ہوں خاک بہ سر، بیٹیاں الگ
جاتی ہے اپنی کم نظری سے اِدھر جو آن
اُڑتی ہیں جسم و جاں کی اُدھر دھجیاں الگ
ڈالی جو خاک سر پہ ہمارے، زمین نے
برسا کیا ہے ہم پہ اُدھر آسماں الگ
توقیر بھی بدلتی ہے، تحقیر میں کبھی
حالات جس طرح کا بھی دے دیں نشاں الگ
لیکھوں میں شخص شخص کے لکّھی ملے یہاں
ناطے سے بِنت بِنت کے اِک داستاں الگ
ہم گُل بہ کف تھے، سنگ بہ کف مل گئے ہمیں
اُترا ہے اب کے آنکھ میں ماجد سماں الگ
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s