وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
سچ کہنے پر شہر بدر ہوتے، بُوذرؓ دکھلائے گا
وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا
اِک اِک گوشۂ شہر سے تو ہم خاک جبیں پر مَل لائے
خواہش کا عفریت ہمیں اَب کون سا در دکھلائے گا
سُورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ دمکتے اِک جیسے
کون مُبارک دن ایسا، جو سارے نگر دکھلائے گا
راہبروں کی سنگ دلی سے بچ نہ سکا جو دبنے سے
کون سا ایسا عزم ہمیں مائل بہ سفر دکھلائے گا
ہم بھاڑے کے وُہ مزدور ہیں پیٹ کا یہ تنّور جنہیں
دریاؤں کی تہہ میں چھپُا اِک ایک گہر دکھلائے گا
دُور لگے وُہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں
پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھلائے گا
ہاں وُہ شہر کہ جس کا اِک اِک باسی اُونچا سُنتا ہو
ماجدؔ ایسے شہر میں تو کیا رنگِ ہُنر دکھلائے گا
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s