اک کھال بھی ہرن کی وہیں پر سجی ملی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 125
تحریر آشتی کی جہاں تھی لکھی ملی
اک کھال بھی ہرن کی وہیں پر سجی ملی
تیتر جہاں تھا پر تھے قفس میں وہاں پڑے
بلی زبان منہ پہ اُدھر پھیرتی ملی
ہاں بے قرار، صید گنوا کر تھا شیر بھی
نتھنوں میں بھیڑ کے بھی لگی دھونکنی ملی
تَیرا فضا میں بن کی جہاں بھی کہیں عقاب
مچتی نشیمنوں میں عجب کھلبلی ملی
سمجھے وہ چیل، دشت موافق سبھی کو ہے
چڑیوں پہ ٹوٹ کر ہے جسے تازگی ملی
یادوں کو بچپنے کی جو الٹا تو جا بجا
بہروپئے کے تن میں سمائی چھری ملی
ماجدؔ! ہوا کو جس نے دکھائی تھی سرکشی
کچھ روز میں وہ شاخ زمیں پر پڑی ملی
ماجد صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s